asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabus Siyam

From 2393 to 2677

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛ترجمہ؛فضائل ماہ رمضان؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٣

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2393

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان(کا مہینہ آتا ہے)تو رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں دی جاتی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٤

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2394

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے آگے حدیث نمبر ٢٣٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٥

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ» بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2395

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ رکھنا نہ چھوڑو اگر تم پر بادل ہوجائیں تو گنتی کر لو۔(تیس دن پورے کرلو)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛ترجمہ؛چاند دیکھ کر روزہ رکھنا واجب ہو جاتا ہے اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑنا(جائز ہوجاتا ہے)اور جب شروع یا آخر میں چاند بادلوں میں چھپ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کیے جائیں؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٦

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2396

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہینہ اس طرح ہے اس طرح ہے پھر تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کیا(دو مرتبہ دس دس اور تیسری مرتبہ نو کا اشارہ دیا)فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اگر تم پر بادل ہوجائیں تو تیس دن پورے کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٧

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2397

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٨

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ» نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ،

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2398

حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کا ذکر کیا تو فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا اس طرح،اس طرح اور اس طرح،اور فرمایا اس کی مدت کو پورا کرو لیکن آپ نے تیس کا لفظ نہیں فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٩

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَقَالَ: «فَاقْدِرُوا لَهُ» وَلَمْ يَقُلْ «ثَلَاثِينَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2399

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پس روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ چھوڑو اور جب مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٤٠٠

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2400

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پس جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو۔اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠١

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2401

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب(عید کا)چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٢

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2402

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ چھوڑو اور اگر بادل چھاے ہوں تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٣

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2403

Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2404

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2404

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٥

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2405

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے دس دس کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح ہوتا ہے اور تیسری بار نو کا اشارہ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٦

وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا وَهَكَذَا، عَشْرًا، وَعَشْرًا، وَتِسْعًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2406

حضرت جبالہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ اس طرح،اس طرح ہوتا ہے۔آپ نے دو مرتبہ ہاتھ کھول کر اشارہ کیا اور تیسری بار دائیں یابائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٧

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ كَذَا، وَكَذَا، وَكَذَا» وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2407

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے حضرت شعبہ(راوی)نے تین مرتبہ ہاتھوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کرلیا اور حضرت عقبہ(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے فرمایا مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور انہوں نے تین بار اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٨

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ» وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ عُقْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: «الشَّهْرُ ثَلَاثُونَ» وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2408

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہم اُمی لوگ ہیں۔نہ لکھتے ہیں اور نہ مہینے کا حساب کرتے ہیں۔مہینہ اس طرح،اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پورے تیس دن کا(ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٩۔ تشریح:لفظ ام اُمٌّ سے بنا،بمعنی اصل یا ماں اس میں اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔امی کے معنی ہیں ام القرے یعنی مکہ یا حجاز والا یا بے پڑھا ہوا شخص کہ جیسے ماں کے شکم سے پیدا ہو ویسے ہی رہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم امی لوگ ہیں یعنی ہم حجازی جماعت والے عموماً حساب کتاب نہیں کیا کرتے یا عام صحابہ بے پڑھے ہیں حساب نہیں لگاتے مگر قیامت تک سارے مسلمان انہیں بے پڑھوں کے تابع ہیں۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ امی کے معنی بے پڑھا ہے بے علم نہیں ﷲ تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ایسا عالم بنایا کہ جہان بھر کے علما ان کی شاگردی کریں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنی امی ہیں کہ پیدائشی عالم،عارف،معلم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔جو باتیں فلسفیوں سے حل نہ ہوئے اور نکتہ وروں سے کھل نہ سکےوہ راز اک امی لقبی نے سمجھا دیئے چند اشاروں میں اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ چاند میں حساب،جنتری،چاند کی رفتار کا قیاس،چاند کا چھوٹا بڑا ہونا،اٹھائیس تاریخ کو نظر نہ آنا وغیرہ کچھ بھی معتبر نہیں صرف رؤیت کا اعتبار ہے اگر انتیس کو رؤیت نہ ہو تو تیس دن پورے کرنا لازم ہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج ٣،ص ١٩٧،باب رؤيۃ الہلال،حدیث نمبر ١٩٧ کی تشریح کے تحت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ «وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا» يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2409

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور دوسری بار مہینے کا ذکر کرتے ہوئے تیس دن کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤١٠

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلَاثِينَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2410

حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے سنا جو کہ رہا تھا کہ آج رات مہینہ نصف ہوگیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ آج رات مہینہ نصف ہوگیا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہینہ ایسا ایسا ہوتا ہے۔آپ نے دس انگلیوں کا دوبار اشارہ دیا اور تیسری بار بھی اسی طرح انگلیوں سے اشارہ کیا۔آپ نے تمام انگلیوں سے اشارہ کیا اور انگوٹھے کو بند کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤١١

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، - وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ - وَهَكَذَا - فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ -»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2411

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم چاند دیکھو تو روزہ چھوڑو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو تیس دن روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٢

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2412

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی(تیس دن)پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٣

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2413

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اور اگر بادل چھاے ہوئے ہیں تو تیس دن پورے کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٤

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2414

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم چاند دیکھو تو روزہ(رکھنا)چھوڑ دو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو تیس دن شمار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٥

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2415

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو۔البتہ جو شخص پہلے سے روزہ رکھ رہا ہو وہ روزہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٦

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا، فَلْيَصُمْهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2416

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٧

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2417

حضرت زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ ایک مہینہ اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے۔حضرت زہری فرماتے ہیں مجھے حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں اور میں ان کو گن رہی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے آغاز فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے جب کہ آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لائے اور میں گن رہی تھی آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛باب الشہر یکون تسعا وعشرين؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٨

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ بَدَأَ بِي - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2418

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات سے علیحدہ رہے۔پھر انتیس دنوں کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کیا آج انتیسواں دن ہے آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ ہلاے اور آخری بار ایک انگلی بند کرلی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الشَّهْرُ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2419

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک ماہ الگ رہے۔انتیسویں دن کی صبح ہمارے پاس تشریف لائے تو بعض حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ انتیسویں دن کی صبح تشریف لائے؟آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین بار ہلایا اور تیسری بار نو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤٢٠

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا: مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا، وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2420

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ اپنی بعض ازواج(مطہرات)کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صبح یا شام کے وقت ان کے پاس تشریف لے گئے۔آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے نبی!صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینے تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢١

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ، يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، قَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2421

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٢

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2422

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح بھی ہوتا ہے پھر تیسری مرتبہ ایک انگلی بند کرلی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٣

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2423

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح ہوتا ہے،دس دس اور نو(یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٤

وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، عَشْرًا، وَعَشْرًا، وَتِسْعًا مَرَّةً»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2424

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٥

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2425

حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے ان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملک شام میں بھیجا فرماتے ہیں شام میں آیا اور ان کا کام مکمل کیا تو وہاں رمضان کا چاند نظر آگیا اور ابھی میں شام ہی میں تھا پس میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا۔پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ طیبہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا اور پھر چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ہے؟میں نے کہا ہم نے جمعہ کی رات دیکھا ہے فرمایا تم نے خود دیکھا ہے؟میں نے کہا جی ہاں اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔انہوں نے فرمایا لیکن ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے پس ہم روزہ رکھیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں۔ حضرت کریب فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤيت(چاند دیکھنا)اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں؟فرمایا نہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ بِبَلَدٍ لَا يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ؛ترجمہ؛ہر شہر کے لئے اسی جگہ کی رویت معتبر اور جب ایک شہر کے لوگ چاند دیکھیں تو جو لوگ ان سے دور ہیں ان کے لیے(چاند کا)حکم ثابت نہیں ہوتا؛جلد٢ص٧٦٥؛حدیث نمبر٢٤٢٦

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2426

حضرت ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے جب ہم وادئ بطن نخلہ میں پہنچے تو ہم نے چاند دیکھنا شروع کر دیا۔بعض نے کہا یہ تیسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا دو راتوں کا ہے۔فرماتے ہیں پھر ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ہم نے کہا ہم نے چاند دیکھا ہے اور کچھ لوگ اسے تیسری رات کا اور بعض لوگ دوسری رات کا چاند بتاتے ہیں۔انہوں نے پوچھا تم نے اسے کس رات کا دیکھا ہے؟آپ نے عرض کیا فلاں رات دیکھا ہے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑھایا وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا اعْتِبَارَ بِكُبْرِ الْهِلَالِ وَصِغَرِهِ، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكْمَلْ ثَلَاثُونَ؛ترجمہ؛چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کا اعتبار نہیں بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑا کیا پس اگر چاند چھپ جائے تو تیس دن مکمل کیے جائیں؛جلد٢ص٧٦٥؛حدیث نمبر٢٤٢٧

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالَ فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2427

حضرت ابوالبختری کا بیان ہے فرماتے ہیں ہم نے ذات عرق(مقام)پر رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے ایک شخص کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑھایا ہے پس تم گنتی پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا اعْتِبَارَ بِكُبْرِ الْهِلَالِ وَصِغَرِهِ، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكْمَلْ ثَلَاثُونَ؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٢٨

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2428

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے یعنی ایک رمضان کا اور دوسرا حج کا(مہینہ)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ»؛ترجمہ؛"عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے"کا مطلب؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٢٩

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2429

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے حضرت خالد کی(گزشتہ)روایت میں ہے عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔(امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کا ثواب کم نہیں ہوتا اگر چہ دونوں کے اعتبار سے کم ہوجائیں بعض نے کہا کہ ایک سال میں دونوں مہینے(رمضان اور ذوالحجہ)دنوں کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ»جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، وَخَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ» فِي حَدِيثِ خَالِدٍ «شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2430

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے جب آیت کریمہ:{حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧](ترجمہ:حتیٰ کہ تمہارے لئے سفید دھاگہ،سیاہ دھاگے سے ظاہر جائے یعنی فجر ہوجائے)نازل ہوئی تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو رسیاں رکھ لی ہیں ایک سفید اور دوسری سیاہ اس کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلوں گا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے(کہ اس کے نیچے رات اور دن آگیے)اس سے رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛طلوع فجر سے روزے کا آغاز اور سحری کے اختیار کا بیان اور جب تک فجر طلوع نہ ہو کھانا وغیرہ جائز ہے اور اس فجر کا بیان جس کے ساتھ احکام کا تعلق ہے یعنی روزے کا شروع ہونا،نماز فجر کا وقت ہوجاناوغیرہ؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٣١

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧] مِنَ الْفَجْرِ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2431

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی{وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧] (کھاؤ اور پئو حتیٰ کہ تمہارے لیے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ممتاز ہوجائے)تو ایک صاحب سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور کھاتے رہتے جب تک ان میں فرق ظاہر نہ ہوجائے حتیٰ کہ اللہ نے"من الفجر"کےالفاظ نازل فرمائے تو اس سے وضاحت فرمائی کہ دن اور رات مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٧؛حدیث نمبر٢٤٣٢

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧] قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: ١٨٧] فَبَيَّنَ ذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2432

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی:{وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧](ترجمہ"کھاؤ اور پئو حتیٰ کہ تمہارے لئے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے")تو ایک شخص جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اپنے پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگہ باندھ لیتااور وہ کھانا پینا جاری رکھتا حتیٰ کہ اس کے لیے ان میں فرق ظاہر ہوجاتا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے"من الفجر"کےالفاظ فرمائے کہ انہیں معلوم ہوا کہ اس سے رات اور دن مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٧؛حدیث نمبر٢٤٣٣

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧] قَالَ: " فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ: {مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: ١٨٧] فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2433

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا،بے شک حضرت بلال رات کے وقت آذان دیتے ہیں پس تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی آذان سنو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٤

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2434

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت آذان دیتے ہیں تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٥

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2435

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن مکتوم نابینا تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت آذان دیتے ہیں پس تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آذان دیں وہ فرماتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٦

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2436

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٢٤٣٦ کی مثل ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٧

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2437

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٨

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2438

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان ہرگز سحری(کھانے پینے)سے نہ روکے وہ اس لیے آذان دیتے ہیں کہ تم میں سے جو نماز میں مشغول ہے وہ کھانے پینے کے لئے چلا جائے اور سویا ہوا جاگ جائے اور فرمایا صبح وہ نہیں جو اس طرح ہے آپ نے ہاتھوں کو سیدھا کر کے اوپر کی طرف اشارہ کیا حتیٰ کہ اس طرح ہوجاؤ(اس کے ساتھ)آپ نے انگلیوں کو کھول دیا۔(جب روشنی اوپر کو جاتی ہے تو وہ صبح کاذب ہے اور ابھی سحری کا وقت ہے اور جب دائیں بائیں پھیلے تو یہ صبح صادق ہے اور اس وقت سے روزہ شروع ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٩

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلَالٍ - مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - بِلَيْلٍ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ» وَقَالَ: «لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا - وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا» - وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ -

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2439

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٣٩ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا فجر وہ نہیں جو ایسی ہو آپ نے اپنی انگلیوں کو جمع کیا پھر زمین کی طرف جھکا دیا بلکہ وہ اس طرح ہے اور آپ نے انگشت شہادت کو(دوسرے ہاتھ کی)انگشت شہادت پر رکھ کر پھیلا دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٠

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ - وَلَكِنِ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا - وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ -»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2440

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے جس میں فرمایا کہ حضرت بلال کی آذان اس لئے ہوتی ہے کہ نماز پڑھنے والا لوٹ آئے اور سویا ہوا جاگ جائے اور حضرت جریر نے اپنی حدیث میں فرمایا کہ صبح ایسی ہے یعنی جو(روشنی)اور چوڑائی میں پھیلے لمبائی میں نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤١

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ: «يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ» وقَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ «وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا» - يَعْنِي الْفَجْرَ - هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2441

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت محمد(مصطفیٰ)صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تم میں سے کسی ایک کو سحری کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ یہ سفیدی حتیٰ کہ پھیل جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٢

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، حَدَّثَنِي وَالِدِي، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2442

ایک اور سند سے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور یہ سفیدی جو صبح کے وقت ستون کی طرح ہوتی ہے دھوکہ نہ دے حتیٰ کہ وہ پھیل جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٣

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2443

ایک اور سند کے ساتھ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کے بارے میں تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور افق کی لمبی سفیدی سے دھوکہ نہ ہو حتیٰ کہ وہ اس طرح پھیل نہ جائے حضرت حماد نے اپنے ہاتھ سے بتایا یعنی چوڑائی میں ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٤

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا» وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ، قَالَ: يَعْنِي مُعْتَرِضًا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2444

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہوۓ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے حتیٰ کہ فجر ظاہر ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٥

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ - أَوْ قَالَ - حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2445

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر حدیث نمبر ٢٤٤٥ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٦

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ هَذَا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2446

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھاؤ بے شک سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛ترجمہ؛سحری کی فضیلت اور استحباب نیز سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی مستحب ہے؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٧

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2447

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٨

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ، أَكْلَةُ السَّحَرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2448

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٤٩

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2449

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز(نماز فجر)کے لئے کھڑے ہوگئے(حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)میں نے پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا فرمایا پچاس آیات پڑھنے کے برابر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٠

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ» قُلْتُ: كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: خَمْسِينَ آيَةً

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2450

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥١

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2451

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب تک(وقت پر)افطاری میں جلدی کرتے رہیں وہ بھلائی پر رہیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٢

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2452

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٣

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2453

حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا اے ام المؤمنين!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص جلد افطار کرتا اور جلد ہی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا تاخیر سے افطار کرتا اور تاخیر سے نماز پڑھتا ہے تو انہوں نے پوچھا کون جلد افطار کرتا اور جلد نماز پڑھتا ہے؟ہم نے کہا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ابوکریب کی روایت میں ہے کہ دوسرے صاحب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٤

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ " قَالَ: قُلْنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ: «كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2454

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق نے ان سے عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے"دو شخص ہیں جو دونوں نیکی اور بھلائی میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب اور افطار میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا مغرب(کی نماز)اور افطار میں تاخیر کرتا ہے"ام المومنین نے پوچھا کون مغرب اور افطار میں جلدی کرتا ہے تو انہوں نے کہا حضرت عبداللہ(بن مسعود)رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٥

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ، فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ، فَقَالَتْ: «هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2455

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات آجائے اور دن چلا جاے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرلے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛ترجمہ؛روزہ پورا ہونے اور دن کے چلے جانے کا وقت؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٦

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ» لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ: «فَقَدْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2456

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ماہ رمضان کے دوران ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو پس انہوں نے اتر کر ستو گھولے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ جب سورج یہاں سے غائب ہوجائے اور وہاں سے(مشرق سے)رات آجائے تو روزہ دار کو افطار کرنا چاہیے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٧

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: «يَا فُلَانُ، انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: فَنَزَلَ فَجَدَحَ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهِ «إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2457

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب سورج غائب ہوا تھا آپ نے ایک شخص سے فرمایا اتر کر ہمارے لئے ستو گھولو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر آپ شام ہونے دیں (تو اچھا ہے)آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو پس اس نے اتر کر ستو گھولے اور آپ نے نوش فرماۓ۔پھر فرمایا جب تم رات کو اس جانب سے آتا ہوا دیکھو آپ نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٥٨

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2458

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے اور آپ روزے سے تھے جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا اے فلاں اتر کر ہمارے لئے ستو گھولو۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٥٩

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: «يَا فُلَانُ، انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2459

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٩ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں ماہ رمضان کا ذکر نہیں اور یہ الفاظ بھی نہیں کہ رات ادھر سے آجائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٦٠

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادٍ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَلَا قَوْلُهُ «وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا» إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2460

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔(دو دن یا زیادہ مسلسل اس طرح روزہ رکھنا کہ درمیان میں نہ کھائے اور نہ پئے صوم وصال کہلاتا ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛ترجمہ؛صوم وصال کی ممانعت؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦١

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2461

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں وصال کیا(افطار کے بغیر روزے رکھے)تو صحابہ کرام نے بھی روزوں میں وصال شروع کردیا آپ نے ان کو منع فرمایا عرض کیا گیا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں مجھے کھلایا پلایا جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٢)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ، فَنَهَاهُمْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2462

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٦٢ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں رمضان کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٣)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: فِي رَمَضَانَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2463

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزوں سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ بھی تو روزوں میں وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں سے کون میری مثل ہے میں رات اس طرح گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔جب وہ وصال کے روزوں سے نہ رکے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر دوسرے دن اسی طرح روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر چاند نکلنے میں تاخیر ہوتی تو میں تمہارے لئے اور زیادہ وصال کرتا گویا آپ نے ان کے باز نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٤

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ: «لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ» كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2464

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صوم وصال نہ رکھو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا تم میری مثل نہیں ہو میں اپنے رب کے ہاں رات گزارتا ہوں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم وہ کام کرو جس کی تمہیں طاقت ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٥

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ» قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2465

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٦٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٦

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2466

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٤٦٥کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٧

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2467

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا ایک اور شخص بھی آکر کھڑا ہوا حتیٰ کہ ہماری ایک جماعت ہوگئی جب آپ نے محسوس کیا کہ ہم آپ کے پیچھے ہیں تو آپ نے نماز میں تخفیف فرما دی پھر آپ گھر تشریف لے گئے اور ایسی نماز پڑھی جو ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا رات آپ کو ہمارا پتہ چل گیا تھا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے میں نے وہ کام کیا(نماز مختصر کی)فرماتے ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع کیے اور یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے تو آپ کے کئی صحابہ کرام نے بھی صوم وصال شروع کئے۔آپ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ وصال کے روزے رکھتے ہیں تم میری مثل نہیں ہو اللہ کی قسم اگر مہینہ لمبا ہوتا تو میں روزوں میں وصال کرتا کہ یہ ضدی لوگ اپنی ضد چھوڑ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٨

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَامَ أَيْضًا حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ، فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ: فَقَالَ: «نَعَمْ، ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ» قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللهِ، لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2468

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے آغاز میں افطار کے بغیر روزے رکھنا شروع کئے تو کچھ مسلمانوں نے بھی یہ عمل شروع کردیا آپ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا اگر ہمارے لیے مہینہ لمبا ہوتا تو ہم اس قدر وصال کرتے کہ یہ ضدباز اپنی ضد چھوڑ دیتے(فرمایا)تم میری مثل نہیں ہو یا فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٦٩

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْنَا وِصَالًا، يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، - أَوْ قَالَ - إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2469

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے روزوں میں وصال سے منع فرمایا انہوں نے عرض کیا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٠

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2470

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی کا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے یہ فرما کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہنستی تھیں۔(روزے کی حالت میں جماع حرام ہے بوسہ لینا اور بیوی کے ساتھ لیٹنا جائز ہے۔لیکن جو شخص اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکتا ہو اور جماع تک اگر پہنچنے کا خطرہ ہو وہ بوسہ لینے اور بیوی کے ساتھ لیٹنے سے باز رہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛ترجمہ ؛روزے کی حالت میں(بیوی کا)بوسہ لینا اس شخص پر حرام نہیں جس کو شہوت کی حرکت نہ ہو؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧١

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ إِحْدَى نِسَائِهِ، وَهُوَ صَائِمٌ» ثُمَّ تَضْحَكُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2471

حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالرحمن بن قاسم(رضی اللہ عنہ)سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے تھے اس پر وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٢

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ» فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2472

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے تھے اور آپ روزے سے ہوتے لیکن تم میں سے کون ہے جسے اپنے جذبات پر قابو ہو جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جذبات پر قابو تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2473

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور روزے کی حالت میں(کسی زوجہ کو)چمٹا لیتے لیکن آپ علیہ السلام تم لوگوں سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٤

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2474

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور آپ علیہ السلام کو تم لوگوں سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٥

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2475

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی زوجہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٦

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2476

حضرت اسود فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں(کسی زوجہ کو)اپنے ساتھ چمٹا لیتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں لیکن آپ علیہ السلام تم سب سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو پانے والے تھے یا فرمایا تم میں سے کس کو اپنے جذبات پر قابو ہے۔ابوعاصم(راوی)کو شک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٧

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْنَا لَهَا: " أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لِإِرْبِهِ " شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2477

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٨

وحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لِيَسْأَلَانِهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2478

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٧٩

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2479

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٠

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2480

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨١

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2481

ایک دوسری سند سے ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٢

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2482

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٣

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2483

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٤

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2484

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٢٤٨٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٥

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2485

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا روزہ دار بوسہ لے سکتاہے؟تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مسئلہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھو،تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولی کام کو معاف کر دئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سنو!اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں۔(مطلب یہ ہے کہ میں اس لئے یہ عمل نہیں کرتا کہ میرے لئے یہ عمل ناجائز ہونے کے باوجود جائز ہے بلکہ یہ عمل گناہ نہیں بشرطیکہ جذبات پر قابو ہواور جماع تک نہ پہنچے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٦

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ هَذِهِ» لِأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَاللهِ، إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2486

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ اپنی روایات میں بیان کرتے تھے کہ جو شخص صبح کے وقت جنبی(ناپاک)ہو تو وہ روزہ رکھے میں نے اس کا ذکر حضرت عبد الرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور میں اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے پس حضرت عبد الرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے جو احتلام کی وجہ سے نہ ہوتی تھی۔پھر آپ روزہ رکھ لیتے وہ فرماتے ہیں ہم دونوں چلے اور مروان سے ذکر کیا۔مروان نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ضرور جاؤ اور ان کے قوم کی تردید کرو فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور (راوی)ابوبکر تھے وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے تمام واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنایا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ان دونوں(حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما)نے تم سے یہ بات بیان کی ہے انہوں نے کہا جی ہاں فرمایا وہ دونوں اس بات کا زیادہ علم رکھتی ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے یہ قول حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس قول سے رجوع کرلیا ابن جریج فرماتے ہیں میں نے عبد الملک سے پوچھا کہ کیا یہ قول رمضان کے بارے میں فرمایا فرمایا ہاں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر حالت جنابت میں صبح کرتے پھر روزے کی نیت کر لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٧

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُصُّ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: «مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ»، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ - لِأَبِيهِ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، ثُمَّ يَصُومُ» قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ: قَالَ: فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: أَقَالَتَا: فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ: كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2487

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں حالت جنابت میں صبح اٹھتے لیکن احتلام کی وجہ سے یہ حالت نہ ہوتی پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٨٨

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ، مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2488

حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو حالت جنابت میں صبح کرتا ہے تو کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اٹھتے اور جماع کی وجہ سے جنبی ہوتے تو احتلام کی وجہ سے نہیں پھر روزہ نہ چھوڑتے اور نہ قضا کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٨٩

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا، أَيَصُومُ؟ فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، لَا مِنْ حُلُمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2489

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میں صبح کے وقت جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی ہوتے پھر آپ روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٩٠

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ يَصُومُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2490

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مسئلہ پوچھنے لگا اور ام المومنین کواڑ کے پیچھے سے سن رہی تھیں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں تو کیا میں روزے کی نیت کرسکتا ہوں؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی بعض اوقات نماز کے وقت جنبی ہوتا ہوں تو روزہ رکھ لیتا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہماری مثل نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے ذنب (خلاف اولی کاموں)کی مغفرت فرمادی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور بچنے والے کاموں کا تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩١

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ، وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ، أَفَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ» فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: «وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2491

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو صبح کے وقت جنبی ہوتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر صبح کے وقت جنبی ہوتے پھر آپ روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩٢

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2492

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں ہلاک ہوگیا آپ نے پوچھا تو کس وجہ سے ہلاک ہوا؟) اس آدمی نے عرض کیا کہ)میں رمضان شریف میں (دن کے وقت)اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام(یالونڈی)ہے؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کیا تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہے؟عرض کیا نہیں فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟اس نے کہا نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر وہ بیٹھ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرہ آیا آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو اس نے عرض کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی حاجت مند ہے مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کے درمیان؟کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ ضرورت مند نہیں ہیں اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی مبارک داڑھیں نظر آنے لگیں پھر فرمایا جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛ترجمہ؛ماہ رمضان میں دن کے وقت روزے دار کا جماع کرنا سخت حرام ہے اور اس میں بڑا کفارہ واجب ہوتا ہے نیز کفارہ ہر کشادہ حال اور تنگ دست پر واجب ہے اور تنگ دست کے ذمے ثابت ہوجاتا ہے(تو ادا کرے)حتیٰ کہ اسے طاقت حاصل ہوجائے؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩٣

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» قَالَ: أَفْقَرَ مِنَّا؟ فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2493

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں کھجوروں کے ٹوکرے کا ذکر ہے اور یہ نہیں ہے کہ آپ کھلکھلا کر ہنسے اور آپ کی مبارک ڈاڑھیں دکھائی دینے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٤

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2494

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ماہ رمضان میں(دن کے وقت)اپنی بیوی سے عمل زوجیت کیا۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تو کوئی غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے کہا نہیں فرمایا کیا دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟عرض کیا نہیں فرمایا پس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٥

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2495

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٩٥ کی مثل مروی ہے کہ ایک شخص نے رمضان شریف میں روزہ توڑ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٦

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2496

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جس نے رمضان شریف میں(جان بوجھ کر)روزہ توڑ دیا تھا حکم دیا کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٧

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2497

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٤٩٨

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2498

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں تو جل گیا آپ نے پوچھا کیوں؟اس نے عرض کیا میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔آپ نے فرمایا صدقہ کرو،صدقہ کرو اس نے کہا میرے پاس کچھ نہیں آپ نے اسے بیٹھنے کا حکم دیا پھر آپ کے پاس کھانے کے دو ٹکرے آے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ صدقہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٤٩٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ» قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: «تَصَدَّقْ، تَصَدَّقْ» قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2499

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤٩٩ کی مثل مروی ہے اس میں صدقہ کرنے اور دن کے وقت کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٥٠٠

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ «تَصَدَّقْ، تَصَدَّقْ» وَلَا قَوْلُهُ: نَهَارًا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2500

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص ماہ رمضان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں جل گیا(دو مرتبہ کہا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس کا معاملہ کیا ہے؟اس نے کہا میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا(جماع کیا)آپ نے فرمایا صدقہ کرو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!اللہ کی قسم میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے اور میں اس پر قادر نہیں ہوں۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ پس وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک دراز گوش ہانکتا ہوا لایا جس پر کھانا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ جلنے والا کہاں ہے وہ شخص کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا اس کو صدقہ کردو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اپنے علاوہ پر صدقہ کریں؟اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں آپ نے فرمایا پس اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٥٠١

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، احْتَرَقْتُ، احْتَرَقْتُ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا شَأْنُهُ؟» فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، قَالَ: «تَصَدَّقْ» فَقَالَ: وَاللهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ، مَالِي شَيْءٌ، وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسَ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟» فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَغَيْرَنَا؟ فَوَاللهِ، إِنَّا لَجِيَاعٌ، مَا لَنَا شَيْءٌ، قَالَ: «فَكُلُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2501

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان شریف میں سفر پر تشریف لے گئے تو آپ نے روزہ رکھا جب مقام کدید پر پہنچے تو آپ نے روزہ کھول لیا۔فرماتے ہیں صحابہ کرام آپ کے ہر نئے سے نئے عمل میں آپ کی پیروی کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٢

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ» قَالَ: وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2502

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے سفیان فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ قول کس کا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول پر عمل کیا جاتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٣

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ؟ يَعْنِي: وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2503

زہری کہتے ہیں کہ روزہ کھول لینا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل پر ہی عمل کرنا چاہئے زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ رمضان کو پہنچے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٤

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَصَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ، مِنْ رَمَضَانَ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2504

حضرت ابن شہاب زہری سے حدیث نمبر ٢٥٠٤ کی مثل مروی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام آپ کے ہر نئے کام پر عمل کرتے اور آپ کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٥

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2505

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں سفر فرمایا حتیٰ کہ جب مقام عسفان میں پہنچے تو ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا تو دن کے وقت اسے نوش فرمایا تاکہ لوگ اسے دیکھیں پھر آپ نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے تک روزہ نہیں رکھا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(سفر میں)روزہ رکھا اور نہیں بھی رکھے پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٦

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2506

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم(سفر کی حالت میں)روزہ رکھنے والے اور روزہ چھوڑنے والے کسی کو بھی برا نہیں کہتے کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حالت سفر میں)روزہ رکھا بھی اور چھوڑا بھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٧

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ، وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2507

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان شریف میں سفر پر تشریف لے گئے تو آپ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ کُراع الغمیم مقام پر پہنچے تو صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا تو اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھا پھر آپ نے نوش فرمایا اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا وہ لوگ نافرمان ہیں وہ لوگ نافرمان ہیں۔(اگرچہ سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار دیا گیا لیکن ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مخالفت کی تھی اس لیے ان کو نافرمان قرار دیا ورنہ سفر میں روزہ رکھنا گناہ نہیں ہے یا یہ کہ یہ روزہ باعث مشقت تھا)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٨

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2508

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کو بتایا گیا کہ صحابہ کرام پر روزہ رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور وہ آپ کے عمل کے منتظر ہیں تو آپ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا..... آگے حدیث نمبر ٢٥٠٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥٠٩

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ جَعْفَرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمِ الصِّيَامُ، وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2509

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپ نے دیکھا لوگ ایک شخص کے مابین جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے آپ نے پوچھا اسے کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا یہ روزہ دار شخص ہے آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٠

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَهُ؟» قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2510

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١١

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ. وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ: قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ» قَالَ: فَلَمَّا سَأَلْتُهُ، لَمْ يَحْفَظْهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2511

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی اس کو اختیار کرنا تم پر لازم ہے۔راوی کہتے ہیں میں نے ان سے دوبارہ پوچھا تو ان کو یہ جملہ یاد نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٢

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2512

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم سولہ رمضان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے لئے گئے تو ہم میں سے بعض لوگ روزے سے تھے اور بعض کا روزہ نہیں تھا تو روزہ دار نے روزہ چھوڑنے والے اور روزہ چھوڑنے والے نے روزہ دار کی مذمت نہ کی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٣

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ، وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، وَهِشَامٍ، لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَشُعْبَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2513

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور تاریخ میں راویوں کا اختلاف ہے تیمی،عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ ہے۔سعید کی روایت میں بارہ اور شعبہ کی روایت میں سترہ یا انیس تاریخ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٤

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ، وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2514

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رمضان المبارک میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے تو کسی روزہ دار کو روزہ رکھنے اور چھوڑنے والے کی چھوڑے پر مذمت نہ کی جاتی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٥

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا، فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2515

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رمضان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض نے روزہ نہ رکھا ہوتا تو روزہ دار چھوڑنے والے کو اور روزہ چھوڑنے والا روزہ دار کو کچھ نہ کہتا ان کا خیال تھا کہ جو روزہ رکھ سکتا ہے اور روزہ رکھتا ہے تو یہ بہتر ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہے اور روزہ نہیں رکھتا تو یہ بھی اچھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٦

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَا: «سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَصُومُ الصَّائِمُ، وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2516

حضرت ابوسعید خدری اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ دونوں فرماتے ہیں ہم نے رمضان کے مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا تو کسی روزہ رکھنے والے نے روزہ چھوڑنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہ لگایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٧

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: «سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2517

حضرت حمید سے مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رمضان میں سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا،چھوڑنے والے کی اور روزہ نہ رکھنے والا،روزہ رکھنے والے کی مذمت نہیں کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٨

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ فَصُمْتُ، فَقَالُوا لِي: أَعِدْ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «كَانُوا يُسَافِرُونَ، فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ» فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَأَخْبَرَنِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2518

حضرت حمید فرماتے ہیں میں سفر میں گیا تو میں نے روزہ رکھا تو لوگوں نے کہا دوبارہ روزہ رکھو تو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سفر کرتے تھے تو روزہ رکھنے والا،چھوڑنے والے کی اور روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی مذمت نہیں کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥١٩

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ، أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ، وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2519

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا فرماتے ہیں ہم ایک منزل میں اترے اور وہ گرم دن تھا اور ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا وہ شخص تھا جس کے پاس چادر تھی اور کوئی ہاتھ کے ذریعے دھوپ سے بچ رہا تھا۔ پھر روزہ دار گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ کھڑے رہے انہوں نے خیمے نصب کئے اور اونٹوں کو پانی پلایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج روزہ چھوڑنے والے اجر لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥٢٠

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَامَ بَعْضٌ، وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ، عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، قَالَ: فَقَالَ فِي ذَلِكَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2520

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا اب روزہ چھوڑنے والے خدمت پر کمربستہ ہوگئے اور روزہ رکھنے والے کام نہ کرسکے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ چھوڑنے والے اجر لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥٢١

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَامَ بَعْضٌ، وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ، عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، قَالَ: فَقَالَ فِي ذَلِكَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2521

حضرت قزعہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کے پاس بہت سے لوگ تھے جب لوگ چلے گئے تو میں نے کہا میں آپ سے وہ بات نہیں پوچھوں گا جو یہ لوگ پوچھ رہے تھے میں نے ان سے سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا جب ہم ایک منزل پر اترے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اب تمہارے لیے روزہ نہ رکھنا زیادہ قوت بخش ہوگا۔ تو یہ ہمارے لئے رخصت تھی پس ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا پھر ہم ایک اور منزل پر اترے تو آپ نے فرمایا تم صبح کے وقت دشمن کے پاس ہوگے روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ طاقت کا باعث ہے پس روزہ نہ رکھو تو یہ آپ کی طرف سے لازمی حکم تھا تو ہم نے روزہ نہ رکھا۔اس کے بعد حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٢

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ سَأَلْتُهُ: عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ» فَكَانَتْ رُخْصَةً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا» وَكَانَتْ عَزْمَةً، فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ، مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فِي السَّفَرِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2522

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٣

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2523

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں روزہ رکھوں آپ نے فرمایا چاہو تو رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا جب کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی تو علماء کرام فرماتے ہیں جس کو اس کی طاقت ہو اس کے لئے درست ہے اور جو ضعیف وناتواں ہواسے منع کیا گیا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٤

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: «صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2524

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٢٤کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٥

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2525

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا سفر کے دوران روزہ رکھوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٦

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ حَمْزَةَ قَالَ: " إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2526

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حالت سفر میں روزہ کی طاقت پاتا ہوں تو کیا اس میں کوئی حرج ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے پس جو اس پر عمل کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ہارون کی روایت میں صرف رخصت کا ذکر ہے"اللہ کی طرف سے"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٧

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا، فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ «هِيَ رُخْصَةٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنَ اللهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2527

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رمضان کے مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر گئے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا حتیٰ کہ ہم سے کوئی سخت گرمی کی وجہ سے اپنا ہاتھ سر پر رکھتا اور ہم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٩٠؛حدیث نمبر٢٥٢٨

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ، إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2528

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے دیکھا کہ ہم ایک سفر میں سخت گرمی کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اور ہم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٩٠؛حدیث نمبر٢٥٢٩

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ، إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2529

حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرفہ(ذوالحجہ)کے دن کچھ لوگوں نے ان کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں شک وشبه کا اظہار کیا۔ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ نے روزہ رکھا ہے اور کچھ نے کہا کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا تو میں نے آپ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے پس آپ نے اسے نوش فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ میں حاجی کے لئے عرفات میں روزہ نہ رکھنا مستحب ہے؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٠

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ، فِي صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2530

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٣٠ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں اونٹ پر کھڑے ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣١

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2531

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٢

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2532

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا سے سنا آپ فرماتی ہیں کچھ صحابہ نے عرفہ کے دن اس بات پر شک کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے یا نہیں اور ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسی مقام پر تھے پس میں نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ میدان عرفات میں تھے تو آپ نے نوش فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٣

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: «شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ، وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2533

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں صحابہ کرام نے عرفہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے میں شک کیا تو ام المؤمنين نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک برتن پیش کیا آپ عرفات میں کھڑے تھے پس آپ نے صحابہ کرام کے سامنے دودھ نوش فرمایا۔(اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور مقتدا وپیشوا جس طرح اپنے قول کے ذریعے تبلیغ کرتا ہے اور احکام بتاتا ہے اسی طرح اگر وہ عمل کر کے بھی دکھائے تو یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٤

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ، وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2534

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قریش دور جاہلیت میں عاشورہ(دس محرم الحرام)کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے جب مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا پس جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوے تو فرمایا جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛ترجمہ؛یوم عاشورہ کا روزہ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٥

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2535

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کے شروع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کا ذکر نہیں اور حدیث کے آخر میں ہے کہ عاشورہ کا روزہ(بطور فرض)چھوڑ دیا پس جو شخص چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے لیکن پہلی روایت کی طرح ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار نہیں دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٦

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2536

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھا جاتا تھا پس جب اسلام(کا دور)آیا تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٧

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2537

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رمضان المبارک(کے روزے)فرض ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔جب رمضان فرض ہوا تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٨

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2538

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا حتیٰ کہ رمضان(کا روزہ)فرض ہوگیا تو آپ نے فرمایا جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٩

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2539

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی رمضان المبارک کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا جب رمضان(کا روزہ)فرض ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دن اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ہے پس جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٤٠

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ، وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللهِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2540

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤١

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2541

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یوم عاشورہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے پس تم میں سے جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو اس دن روزہ چھوڑنا پسند کرے وہ نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٢

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2542

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشورہ کے بارے میں سنا آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے پس اس دن جو روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ چھوڑ دے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دن کا روزہ اسی صورت میں رکھتے جب یہ دن ان کے روزہ رکھنے کے دنوں میں آتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٣

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ» وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2543

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٤

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2544

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے روزے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا دور جاہلیت میں لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے پس جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٥

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2545

حضرت عبد الرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبد اللہ کے پاس گئے اور وہ ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابو محمد!آؤ ناشتہ کرو۔انہوں نے پوچھا کیا آج یوم عاشورہ نہیں۔حضرت عبداللہ نے فرمایا یوم عاشورہ کی حقیقت جانتے ہو حضرت اشعث نے پوچھا وہ کیا ہے حضرت عبد اللہ نے پوچھا یہ وہ دن ہے کہ فرضیت رمضان سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے پس جب رمضان(کا روزہ)فرض ہوا تو اسے(بطور فرض)ترک کردیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٦

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ» وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ تَرَكَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2546

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٧

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2547

حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن حضرت اشعث بن قیس،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔انہوں نے فرمایا اے ابو محمد!قریب ہوکر کھانا کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم اس دن روزہ رکھتے تھے پھر(بطور فرض)اسے ترک کردیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٨

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: «كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2548

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اشعث بن قیس عاشورہ کے دن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے انہوں نے کہا اے ابو عبدالرحمن(حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)آج یوم عاشورہ ہے۔انہوں نے فرمایا رمضان(میں روزہ رکھنے کے حکم)سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا جاتا تھا پس جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو اسے ترک کر دیا گیا اگر تمہارا روزہ نہیں تو کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٩

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: «قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2549

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کے روزے کا حکم دیتے اور ہمیں اس کی ترغیب دیتے اور اہتمام فرماتے تھے تو جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوۓ تو آپ نے نہ تو ہمیں حکم دیا نہ منع فرمایا اور نہ ہی اس کا اہتمام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٥٠

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2550

حضرت حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ آے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے اہل مدینہ!تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا کہ یہ یوم عاشورہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا لیکن میں روزے سے ہوں پس تم سے جو اس دن روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥١

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ - يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا - خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ - لِهَذَا الْيَوْمِ - «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَكْتُبِ اللهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2551

Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2552

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2552

حضرت زہری اسی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اس قسم کے دن کے بارے میں فرماتے تھے کہ جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھے۔حدیث کا باقی حصہ نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥٣

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ: «إِنِّي صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ» وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ، وَيُونُسَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2553

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا پس ہم اس دن کی تعظیم کے طور پر روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہمارا تعلق زیادہ ہے پس آپ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللهُ فِيهِ مُوسَى، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2554

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٥

وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2555

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اس دن روزہ رکھنے کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہا یہ عظیم دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی جب کہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا۔اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں پس آپ نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٦

وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2556

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٧

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَمْ يُسَمِّهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2557

Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2558

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ، وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوهُ أَنْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2558

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل خیبر عاشورہ کے دن روزہ رکھتے اسے عید بناتے اور اس دن اپنی عورتوں کو زیورات پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مسلمانوں سے)فرمایا تم بھی روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٩

وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ، فَذَكَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ، فَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصُومُوهُ أَنْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2559

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دنوں پر فضیلت کے طور پر یوم عاشورہ کے علاوہ کسی دن کا اور باقی مہینوں پر فضیلت کے طور پر رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا روزہ رکھا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٦٠

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: «مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ». يَعْنِي رَمَضَانَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2560

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦١

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2561

حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ زمزم کے کنارے اپنی چادر کو تکیہ بناے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا مجھے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں بتائے۔انہوں نے فرمایا جب محرم کا چاند دیکھو تو(دنوں کا)شمار کرو اور نویں تاریخ کو صبح روزہ رکھو میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روزہ رکھتے تھے؟فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٢

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا»، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَالَ: «نَعَمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2562

ایک اور سند سے حضرت ابن حکم بن اعرج سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ زمزم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے تو میں نے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ، عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2563

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہودی ونصرانی اس دن تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا جب آئندہ سال آے گا تو ان شاءاللہ ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے پس آئندہ سال آنے سے پہلے آپ کا وصال ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٤)

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ» قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2564

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں آئندہ سال(ظاہری زندگی کے ساتھ)زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ ضرور رکھوں گا۔ایک روایت میں ہے یعنی عاشورہ کے دن۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ: - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ» وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2565

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ جس نے روزہ رکھا ہو وہ اسے جاری رکھے اور جس نے کھانا کھا لیا ہو وہ رات تک اپنے روزے کو پورا کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: «مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ، فَلْيَصُمْ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ، فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2566

حضرت ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح انصار کے ان گاؤں کی طرف جو مدینہ طیبہ کے گرد تھا یہ پیغام بھیجا کہ جس نے صبح روزہ رکھا ہے وہ اسے پورا کر لے اور جس نے صبح کھایا وہ دن کے باقی حصے میں نہ کھائے وہ فرماتی ہیں اس کے بعد ہم اس دن روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں سے روزہ رکھواتیں اور ہم مسجد کی طرف جاتیں اور ان کے لیے روئی کی گڑیاں بناتیں جب ان میں سے کوئی(بچہ)کھانے کے لئے روتا تو ہم افطار تک اسے گڑیاں دیتیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ، الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ: «مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ» فَكُنَّا، بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2567

حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں میں حضرت ربیع بنت معوذ سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصدوں کو انصار کے دیہات میں بھیجا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥٦٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ ہم ان (بچوں)کے لئے اون کے کھلونے بناتیں اور ہم ان کو ساتھ لے جاتیں جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم ان کو گڑیاں دے دیتیں اور وہ ان سے کھیلتے یہاں تک کہ اپنا روزہ پورا کرتے۔(بچوں پر روزہ فرض نہیں لیکن یہ تربیت اور مشق ہے تاکہ بچے بڑے ہوکر عبادت سے مانوس ہوں اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ عبادات اور اخلاقیات کے حوالے سے بچوں کی تربیت کرتے رہیں۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٦٨)

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا، فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2568

ابن ازہر کے غلام ابو عبید فرماتے ہیں میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو وہ تشریف لائے اور انہوں نے نماز پڑھی پھر فراغت پر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا یہ دو دن(عید کے دن)ایسے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ایک وہ دن جب تم روزہ رکھنا چھوڑتے ہو اور دوسرا وہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛ترجمہ؛عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ، نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2569

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں (یعنی)یوم الاضحٰی اور یوم الفطر کے روزے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2570

حضرت قزعہ کہتے ہیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بہت اچھی لگی۔میں نے ان سے پوچھا آپ خود یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے انہوں نے فرمایا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرسکتا ہوں؟جو میں نے نہ سنی ہو تو آپ نے فرمایا دو دنوں میں روزہ رکھنا درست(جائز)نہیں۔اضحی کا دن اور رمضان المبارک کی عید الفطر کے دن۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ، مِنْ رَمَضَانَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2571

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دودنوں یوم فطر اور یوم اضحی کے روزے سے منع کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ، يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2572

حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نزر مانی تھی تو وہ دن عید الاضحٰی یا عید الفطر کے دن آرہا ہے(تو کیا کروں)۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نزر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔(اس شخص کی نزر صحیح ہے لیکن وہ عید الفطر یا عید الاضحٰی کی بجائے کسی اور دن روزہ رکھے تاکہ نزر کو پورا کرنا اور عید کے دنوں میں روزہ نہ رکھنا دونوں قسم کے احکامات پر عمل ہو جائے۔البتہ عید کے دن روزہ رکھا تو جائز ہوجائے گا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا(١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَمَرَ اللهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2573

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں(یعنی)عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٤)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2574

حضرت ابو ملیح،حضرت نبیشہ ہذلی سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق(گیارہ،بارہ،تیرہ ذوالحجہ)کھانے پینے کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛ترجمہ؛ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٥)

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2575

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٧٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ: فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ، فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ «وَذِكْرٍ لِلَّهِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2576

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور اوس بن حدثان کو ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جنت میں صرف ایمان دار داخل ہوگا اور منی کے ایام(ایام تشریق)کھانے اور پینے کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَنَادَى «أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2577

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٧٨ کی مثل مروی ہے اس میں یہ ہے کہ تم دونوں جاکر اعلان کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٧٨)

وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَنَادَيَا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2578

حضرت محمد بن عباد بن جعفر فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور وہ طواف کر رہے تھے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟فرمایا ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدً؛ترجمہ؛جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٧٩)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ " أَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2579

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٨٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2580

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص(صرف)جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کا روزہ بھی رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ، أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2581

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جمعہ کے رات کو قیام کے لئے اور جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو۔البتہ کوئی شخص کسی خاص تاریخ کو روزہ رکھتا ہو اور اس دن جمعہ ہو۔(علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ جمعہ عبادت،دعا اور ذکر وغیرہ کا دن ہے لہذا اس دن روزہ نہ رکھنا عبادت پر زیادہ معاونت ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2582

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی:{وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤](جو لوگ روزے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہر دن کے بدلے مسکین کو کھانا کھلا دیں)تو جو شخص روزہ چھوڑ کر فدیہ دینا چاہتا وہ فدیہ دیتا حتیٰ کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔(آیت کریمہ حدیث نمبر ٢٥٨٥ میں ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ نَسْخِ قَوْله تَعَالَى {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} [البقرة: ١٨٤] بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤] كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ، حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2583

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں رمضان المبارک میں اس حالت میں ہوتے کہ جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ کر فدیہ دیتا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔{فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥](تم میں سے جو اس مہینے(رمضان کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے)۔(چونکہ اب روزے کی جگہ فدیہ کا مطلق حکم منسوخ ہو چکا ہے لہذا اب وہی شخص فدیہ دے سکتا ہے جو دائمی مریض ہو اور کبھی روزہ رکھنے کی ہمت نہ پائے لہٰذا جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت کے باوجود فدیہ دیتے ہیں ان کی طرف سے فدیہ قبول نہیں ہوتا۔لہٰذا ان کے لیے روزہ رکھنا ہی ضروری ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ نَسْخِ قَوْله تَعَالَى {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} [البقرة: ١٨٤] بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٤)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ»، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2584

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تھے تو میں ان کو صرف شعبان میں قضا کر سکتی تھی کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصرف رہتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: «كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2585

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ تاخیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خاطر کی وجہ سے ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2586

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں راوی کا یہ کہنا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تاخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خاطر کی وجہ سے ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٧)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْيَى يَقُولُهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2587

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ آپ کی وجہ سے یہ تاخیر ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2588

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ہم میں سے ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ(باری کے دنوں)میں روزہ چھوڑ دیتی تھیں اور روزہ رکھنے پر صرف شعبان کے مہینے میں قادر ہوتی تھیں۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ روزے کی قضاء میں تاخیر بھی جائز ہے اور چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شعبان میں بکثرت روزے رکھتے تھے اس لئے ازواج مطہرات بھی اس مہینے میں قضا کرتی تھیں اور اس سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2589

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کی طرف سے روزے کی قضاء؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٩٠)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2590

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا تو تم ادا کرتیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩١)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَقَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2591

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں تو کیا اس کی طرف سے قضاء کروں؟آپ نے فرمایا اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٢)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ: «لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2592

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2593

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمے نذر کا روزہ تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ نے فرمایا بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٤)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ، أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2594

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس دوران کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے کہا میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ کے طور پر دی تھی اور اب میری ماں فوت ہوچکی ہے آپ نے فرمایا تمہارا اجر ثابت ہوگیا اور وہ وراثت میں تمہاری طرف لوٹا دی گئی۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟فرمایا اس کی طرف سے روزے رکھو اس نے عرض کیا اس نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٥)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: «وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: «صُومِي عَنْهَا» قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «حُجِّي عَنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2595

ایک اور سند سے بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں دو ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٦)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2596

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٧)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2597

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے جس میں دوماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٨)

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2598

ایک اور سند کے ساتھ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(بدنی عبادت میں نیابت نہیں ہوتی اس لئے حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک اس صورت میں میت کا ولی اس کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا بلکہ وہ فدیہ دے۔کیونکہ موطا امام مالک میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی طرف سے روزہ رکھنے اور کسی کی طرف سے نماز پڑھنے سے منع فرمایا(تفصیل کے لیے شرح صحیح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٣ص١٣٨تا١٤٢ دیکھیں)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٩)

وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2599

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزہ دار ہو تویوں کہے کہ میں روزے سے ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الصَّائِمِ يُدْعَى لِطَعَامٍ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ؛ترجمہ؛جب روزے دار کو دعوت دی جائے تو یوں کہے کہ"میں روزے سے ہوں"؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٦٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: رِوَايَةً، وقَالَ عَمْرٌو: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ زُهَيْرٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2600

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم سے کوئی شخص روزے کی حالت میں صبح کرے تو وہ بیہودہ باتوں اور جہالت کے کاموں سے باز رہے اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہ دے میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں۔(اگر نفلی روزہ ہو اور دعوت دینے والا اصرار کرے تو روزہ توڑ کر اس کی دعوت قبول کرے اور بعد میں اس کی قضاء کرے البتہ فرض واجب چھوڑنا حرام اور گناہ ہے نیز روزے کی حالت میں برے کاموں سے بچنا بھی ضروری ہے۔(١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ لِلصَّائِمِ؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠١)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رِوَايَةً، قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2601

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزے کے علاوہ انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے البتہ روزہ خاص طور پر میرے لیے رکھا اور میں ہی اس کی خصوصی جزا دوں گا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔روزہ دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛باب فضل الصیام؛روزے کی فضیلت؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ «فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2602

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2603

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ خاص طور پر میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی خصوصی جزا دوں گا اور روزہ ڈھال ہے پس جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اس دن بیہودہ گفتگو نہ کرے اور نہ فحش کلامی کرے۔اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو کہ دے کہ میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے البتہ روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہوگی اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔روزہ افطار کرتے وقت اور جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے پر خوش ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٤)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»" وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2604

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انسان کے ہر عمل کا ثواب دس سے سات سوگنا تک ملتا ہے لیکن روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ خاص میرے لئے ہے اور میں اس کی خصوصی جزا دوں گا(روزہ دار)میری رضا کی خاطر کھانا پینا چھوڑتا ہے(اور)روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت اور اس کے منہ کی خوشبو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي " " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ "«وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2605

حضرت ابوہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا روزہ خاص طور پر میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا بےشک روزہ دار کے لئےدو خوشیاں ہیں جب روزہ افطار کرتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے اور جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اسے خوشی ہوگی البتہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " " إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللهَ فَرِحَ "«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2606

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں فرمایا جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اجر دے گا تو وہ خوش ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٧)

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَقَالَ: «إِذَا لَقِيَ اللهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2607

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتاہے۔قیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟تو وہ اس سے داخل ہوں گے جب ان کا آخری آدمی داخل ہوگا تو دروازہ بند کردیا جائے گا پس اس سے کوئی بھی داخل نہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ، أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2608

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور رکھے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛ترجمہ؛ضرر نہ ہو اور کسی کا حق بھی نہ مارے اور روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اللہ کی راہ میں روزہ رکھنا فضیلت کا باعث ہے؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللهُ، بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2609

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١٠)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2610

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور رکھے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١١)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ، بَاعَدَ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2611

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ!کیا تمہارے پاس(کھانے کی)کوئی چیز ہے؟فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس کچھ نہیں آپ نے فرمایا اچھا تو میں روزے سے ہوں آپ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا یا کچھ مہمان بھی آگئے۔فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا ہمارے پاس ہدیہ آیا یا ہمارے پاس مہمان آئے(اور ہدیہ بھی لاۓ)میں نے اس میں کچھ آپ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟میں نے عرض کیا حیس(کھجور،گھی اور ستو سے تیار کیا ہوا کھانا)ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لے آؤ پس میں لے کر حاضر ہوئی تو آپ نے تناول فرمایا۔فرمایا میں نے صبح روزے کی نیت کی تھی۔ حضرت طلحہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت مجاہد سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالے اب اس کی مرضی دے یا نہ دے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ، وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ؛ترجمہ؛زوال سے پہلے نفلی روزہ کی نیت کرنا جائز ہے اور بلا عذر نفلی روزہ توڑنا جائز ہے؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاتَ يَوْمٍ «يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ قَالَ: «فَإِنِّي صَائِمٌ» قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: «هَاتِيهِ» فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2612

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ہم نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر میں روزے سے ہی ہوں پھر آپ دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا ہمارے پاس حیس(کھانا)بطور تحفہ آیا ہے۔ فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے صبح روزے سے کی تھی پس آپ نے تناول فرمایا۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دن کے وقت زوال سے پہلے پہلے روزے کی نیت کی جاسکتی ہے۔نیز نفلی روزہ بلاعذر بھی توڑا جاسکتا ہے البتہ اب اس کی قضاء ضروری ہو جاتی ہے۔١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ، وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ» ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ: «أَرِينِيهِ، فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» فَأَكَلَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2613

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھاے یا پئے وہ اپنے روزے کو پورا کرے بےشک اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَكْلُ النَّاسِي وَشُرْبُهُ وَجِمَاعُهُ لَا يُفْطِرُ؛بھول کر کھانے پینے اور جماع سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٤)

وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2614

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں پورے روزے رکھتے تھے؟انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!آپ رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے اسی طرح کسی ماہ میں آپ نے مکمل روزے ترک بھی نہیں فرمائے(کچھ دن روزہ رکھا)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛ترجمہ؛رمضان شریف کے علاوہ مہینوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان نیز مستحب یہ ہے کہ کوئی مہینہ روزے سے خالی نہ ہو؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: «وَاللهِ، إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2615

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا میرے علم کے مطابق آپ نے سوائے رمضان کے کسی مہینے میں پورے روزے نہیں رکھے اور نہ ہی پورا مہینہ روزے چھوڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاوصال ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٦)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: «مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2616

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ روزے رکھنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے ہی رکھ رہے ہیں(ترک نہیں فرماتے)اور روزے رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے نہیں رکھ رہے، وہ فرماتی ہیں میں نے آپ کو مدینہ طیبہ آنے کے بعد رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ - قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ -، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2617

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٨)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، بِمِثْلِهِ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا وَلَا مُحَمَّدًا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2618

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ ترک نہیں کریں گے اور روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں پورے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں زیادہ دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2619

حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ روزہ رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ ہی رکھیں گے اور آپ روزہ رکھنے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے آپ کو ماہ شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا آپ شعبان کا مہینہ مکمل روزے رکھتے یعنی شعبان میں چند دنوں کے علاوہ باقی دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ، أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2620

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے مہینوں میں شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں بکثرت روزے نہیں رکھتے تھے اور فرماتے اتنا عمل کرو جس قدر تمہیں طاقت ہو اللہ تعالیٰ(اجروثواب عطاء کرنے سے) نہیں تھکتا لیکن تم (عمل سے)تھک جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جسے عمل کرنے والا ہمیشہ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ "وَكَانَ يَقُولُ: «خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا»وَكَانَ يَقُولُ: «أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ قَلَّ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2621

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزے نہیں رکھے اور جب آپ روزہ رکھنا شروع کرتے تو کہنے والا کہتا اللہ کی قسم آپ روزے نہیں چھوڑیں گے اور آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے تو اس قدر چھوڑتے کہ کہنے والا کہتا اللہ کی قسم آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ، إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يَصُومُ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2622

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٢٢ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی فرمایا کہ مدینہ طیبہ آنے کے بعد آپ نے کسی مہینے میں مسلسل روزے نہیں رکھے(ماسوائے رمضان کے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2623

حضرت عثمان بن حکیم انصاری فرماتے ہیں میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے رجب کے بارے میں پوچھا اور اس وقت رجب کا مہینہ ہی تھا انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے رکھنا ترک نہیں فرمائیں گے اور آپ روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2624

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٢٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٥)

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2625

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا اب آپ روزہ ہی رکھیں گے۔اور آپ روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ کہا جاتا آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٦)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2626

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ میں کہتا ہوں جب تک میری زندگی ہے میں رات بھر قیام کروں گا اور دن کو روزہ رکھوں گا تو آپ نے فرمایا تم نے یہ کہی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے کہی ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس کی طاقت نہیں پس روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو۔سوؤ اور قیام بھی کرو ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب اس کی دس مثل ہوتا ہے اور یہ عمر بھر روزہ رکھنے کی طرح ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑ دو اور یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور یہ روزوں کا بہترین طریقہ ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے افضل چیز کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین روزوں والا ارشاد گرامی قبول کرلیتا تو یہ مجھے میری اہل اور میرے مال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔(مسلم شریف كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛ترجمہ؛جس شخص کو تکلیف ہوتی ہو یا کسی کا حق فوت ہونے کا خوف ہو یا وہ عیدوں اور ایام تشریق میں بھی روزہ نہ چھوڑے اس کو زمانہ بھر کے روزوں سے منع کرنا نیز ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑنے کی فضیلت؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ، مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟» فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2627

حضرت یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس گئے اور ہم نے ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ ہمارے پاس باہر آے ان کے مکان کے دروازے پر مسجد تھی اور ہم اس میں تھے حتیٰ کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے فرمایا اگر چاہو تو اندر(گھر میں)آؤ چاہو تو یہاں ہی بیٹھو ہم نے کہا نہیں،ہم یہاں ہی بیٹھے ہیں پس آپ ہم سے حدیث بیان کیجئے۔انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں روزانہ روزہ رکھا کرتا تھا۔اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا۔فرماتے ہیں یا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا۔یا آپ نے مجھے بلوایا۔میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور پوری رات قرآن مجید پڑھتے ہو،میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور میرا مقصد تو نیکی کرنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا کافی ہے۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے(پھر)فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو وہ سب سے زیادہ عبادت گزار بندے تھے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کیا ہیں؟آپ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور فرمایا مہینہ میں ایک بار قرآن مجید ختم کرو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہےفرمایا بیس دن میں قرآن مجید ختم کرو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا دس دنوں میں قرآن مجید ختم کرو۔فرماتے ہیں مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات دنوں میں قرآن مجید ختم کرو اور اس پر زیادہ نہ کرو۔کیوں کہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میں نے اپنے اوپر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں شاید تمہاری عمر زائدہ ہو جائے حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں میں اس عمر تک پہنچ گیا جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے سوچا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت قبول کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ؛جلد٢ص٨١٣؛حدیث نمبر٢٦٢٨)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا، أَنْ تَدْخُلُوا، وَإِنْ تَشَاءُوا، أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ فَقُلْنَا: لَا، بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ؟» فَقُلْتُ: بَلَى، يَا نَبِيَّ اللهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ «فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟ قَالَ: «كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا» قَالَ: «وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» قَالَ: فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ. قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ» قَالَ: «فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2628

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہر ماہ تین دن کے روزوں(کے ذکر)کے بعد یوں آیا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ہے اور یوں یہ عمر بھر کے روزوں کا ثواب ہوگا اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا نصف زمانہ اور اس حدیث میں قرآن پڑھنے کا ذکر نہیں اور نہ یہ فرمایا کہ تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے البتہ یہ فرمایا کہ تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٢٩)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ، بَعْدَ قَوْلِهِ: «مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ»: «فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ» وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ؟ قَالَ: «نِصْفُ الدَّهْرِ» وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، وَلَمْ يَقُلْ «وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» وَلَكِنْ قَالَ: «وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2629

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مہینے میں ایک بار قرآن ختم کرو میں نے عرض کیا مجھے(اس سے زیادہ کی طاقت ہے)آپ نے فرمایا تو بیس دنوں میں ختم کرو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے(اس سے زیادہ کی)طاقت ہے فرمایا پس سات دنوں میں ختم کرو اور اس پر اضافہ نہ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣٠)

حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: - وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» قَالَ قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً» قَالَ قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2630

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ!فلاں آدمی کی طرح نہ ہو جاؤ وہ رات کو قیام کرتا تھا پس اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣١)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قِرَاءَةً قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ، لَا تَكُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2631

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا ہوں تو آپ نے مجھے بلوایا یا میری آپ سے ملاقات ہوئی۔تو آپ نے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزہ رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے(یعنی کسی دن روزہ ترک نہیں کرتے)اور رات بھر نماز پڑھتے ہو پس تم اس طرح نہ کرو تمہاری آنکھوں کا حصہ ہے تمہارے نفس کا حصہ ہے اور تمہارے گھر والوں کا حصہ ہے(یعنی حق ہے)۔روزہ بھی رکھو اور ترک بھی کرو نماز بھی پڑھو اور نیند بھی کرو۔ اور ہر دس دن کے بعد ایک روزہ رکھو اور یہ نو دنوں کا اجر ہوگا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام والے روزے رکھو انہوں نے پوچھا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کی کیا کیفیت تھی۔آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور دشمن کے مقابلے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!یہ میرے لیے کیسے ممکن ہے۔(یعنی دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہنا) حضرت عطاء فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں صوم دہر(عمر بھر کے روزوں)کا ذکر کیسے آیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے(مقبول)روزے نہیں رکھے(تین بار یہ کلمات فرمائے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ؟ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ» قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: «فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ؟ يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: «كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى» قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ؟ يَا نَبِيَّ اللهِ، - قَالَ عَطَاءٌ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2632

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٥؛حدیث نمبر٢٦٣٣)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ. قَالَ مُسْلِم: «أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2633

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو۔جب تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں خراب اور کمزور ہوجائیں گی۔ جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے(مقبول)روزے نہیں رکھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا عمر بھر کے روزے رکھنا ہے۔(فرماتے ہیں)میں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور دشمن سے مقابلے کے وقت پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٥؛حدیث نمبر٢٦٣٤)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ» قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2634

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٣٤ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں یوں ہے کہ کمزور ہوجاؤ گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٥)

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ «وَنَفِهَتِ النَّفْسُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2635

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا مجھے تمہارے بارے میں خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔انہوں نے عرض کیا میں ایسا کرتا ہوں آپ نے فرمایا اگر ایسا کروگے تو تمہاری آنکھیں خراب اور جسم کمزور ہوجائے گا تمہاری آنکھوں کا حق ہے تمہارے نفس کا حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے(رات کو)قیام بھی کرو نیند بھی کرو روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟» قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَإِنَّكَ، إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2636

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ آدھی رات آرام فرماتے ہیں اور رات کا تہائی حصہ نماز کے لئے قیام کرتے پھر چھٹا حصہ آرام کرتے،اور آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ، صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ، صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2637

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ نصف رات آرام فرماتے پھر کھڑے ہوتے پھر سو جاتے اور آپ نصف رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام فرماتے تھے۔ابن جریج کہتے ہیں میں نے حضرت عمرو بن دینار سے پوچھا کیا عمرو بن اوس فرماتے تھے کہ وہ نصف رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٨)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ، يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ» قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ: يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2638

حضرت ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوالملیح نے خبر دی وہ فرماتے ہیں۔میں تمہارے والد کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے روزوں کا ذکر کیا گیا۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کے لیے چمڑے کا گدا بچھایا جس میں چھال بھری ہوئی تھی آپ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپ کے درمیان تھا۔آپ نے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے کے تین روزے کافی نہیں؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا پانچ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا سات میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا نو،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا گیارہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں وہ عمر بھر کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٣٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي: «أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «خَمْسًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «سَبْعًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «تِسْعًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَحَدَ عَشَرَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرُ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2639

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا اجر مل جائے گا۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا دو روزے رکھو۔تمہارے باقی دنوں کا اجر ہوگا انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا تین دن کے روزے رکھو تمہارے لیے باقی دنوں کا اجر ہوگا۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا چار دن روزہ رکھو باقی دنوں کا اجر مل جائے گا عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا روزہ رکھو جو اللہ تعالیٰ کے یہاں افضل ہے اور وہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «صُمْ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ» قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ يَوْمَيْنِ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ» قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ» قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ» قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللهِ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2640

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبد اللہ بن عمرو!مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم(روزانہ)دن کے وقت روزہ رکھتے ہو اور رات کو(نماز کے لئے)کھڑے ہوتے ہو۔تو ایسا نہ کرو بےشک تمہارے جسم کا تمہارے اوپر حق ہے تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ہر مہینے میں تین روزے رکھو یہ ہمیشہ کے روزے ہیں۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس عمل کی طاقت حاصل ہے آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کاش میں رخصت پر عمل کرتا۔(مطلب یہ ہے کہ پہلے مجھے اس عمل کی طاقت تھی اب نہیں رہی لہٰذا رخصت پر عمل کرتا تو عمل دائمی ہوتا۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٤١)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " فَكَانَ يَقُولُ: «يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2641

حضرت معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں(رکھتے تھے)فرماتی ہیں میں نے پوچھا مہینے کے کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے تو فرمایا اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ وہ کون سے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛ترجمہ؛ہر مہینے کے تین روزے نیز نوذوالحجہ یوم عاشورہ،سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٢)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟» قَالَتْ: «نَعَمْ»، فَقُلْتُ لَهَا: «مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟» قَالَتْ: «لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2642

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یا کسی اور شخص سے فرمایا اور سن رہے تھے کہ اے فلاں!کیا تم نے اس مہینے کے درمیان میں روزے رکھے ہیں اس نے کہا نہیں فرمایا جب تم افطار کرچکو تو دو روزے اور رکھنا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٣)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: - أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ - «يَا فُلَانُ، أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2643

حضرت‌‌‌‏ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور عرض کیا کہ آپ کیسے رکھتے ہیں روزہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو عرض کرنے لگے:«رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِہم»”راضی ہوئے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر،اسلام کے دین ہونے پر،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے۔“ غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار ان کلمات کو کہتے تھے یہاں تک کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھنڈا ہوگیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول!جو ہمیشہ روزہ رکھے وہ کیسا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“پھر کہا جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی طاقت کس کو ہے۔یعنی اگر طاقت ہو تو خوب ہے پھر کہا:جو ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا،پھر کہا:جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت حاصل ہے(علماء فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کاش میری امت کو طاقت ہو ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ طاقت حاصل تھی)۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین روزے ہر ماہ میں اور رمضان کے روزے ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان تک یہ ہمیشہ کا روزہ ہے یعنی ثواب میں اور عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں ایک سال اگلے کا کفارہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، غَضَبَهُ، قَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ» - أَوْ قَالَ - «لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ» قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: «وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟» قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: «ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام» قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2644

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ کو غصہ آیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت پر راضی ہیں۔فرماتے ہیں آپ سے دہر(ہمیشہ کے روزوں)کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہ یہ روزہ ہے اور نہ ہی افطار۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس بات کی طاقت کسے حاصل ہے۔فرماتے آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن روزہ نہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں(امت) کو اس کی طاقت عطاء فرماتا۔ اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے فرماتے ہیں آپ سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی۔(یعنی یہ میرا یوم میلاد ہے) اس دن مجھےمبعوث کیا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن مجید نازل کیا گیا۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہر مہینے کے تین روزے اور رمضان سے رمضان تک یہ صوم دہر ہیں۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا گزشتہ ایک سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے فرماتے ہیں آپ سے عاشورہ کےمتعلق روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ امام مسلم کہتے ہیں اس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔تو ہم نے جمعرات کے ذکر کو چھوڑ دیا کیونکہ ہمارے خیال میں اس میں وہم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٩؛حدیث نمبر٢٦٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً. قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ؟ فَقَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ - أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ -» قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؟ قَالَ: «وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: «لَيْتَ أَنَّ اللهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؟ قَالَ: «ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَام -» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ - أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ -» قَالَ: فَقَالَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ، صَوْمُ الدَّهْرِ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: «يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: «يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ» وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؟ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2645

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٦)

وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2646

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٤٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں سوموار کا ذکر ہے جمعرات کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٧)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2647

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن مجید نازل کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٨)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ فَقَالَ: «فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2648

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا(راوی کو شک ہے)کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزہ رکھا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں فرمایا(عید کے بعد)تم دو دن کے روزے رکھ لینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛ترجمہ؛شعبان کے آخری دنوں کے روزے؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٩)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ - وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ - أَوْ لِآخَرَ -: «أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2649

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں کوئی روزہ رکھا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ان کی جگہ دو روزے رکھ لینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٥٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟» قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2650

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں یعنی شعبان میں روزہ رکھا ہے اس نے عرض کیا نہیں۔راوی فرماتے ہیں آپ نے اس سے فرمایا جب رمضان المبارک کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک یا دو دن کے روزے رکھ لینا۔حضرت شعبہ جن کو اس روایت میں شک ہے کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ دو دن کا ذکر کیا(حدیث شریف میں سُرر کا لفظ آیا ہے جس سے مراد مہینے کا درمیان ہے اور بعض نے آخری دنوں کو قرار دیا اور اسے ہی مشہور قول قرار دیا کہ اگر کسی شخص کی عادت ہو کہ مہینے کے آخری دنوں میں روزے رکھتا ہو تو جن احادیث میں رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے رکھنے سے منع کیا گیا وہ اس نہی میں داخل نہیں اب اگر وہ ان دنوں میں روزہ نہ رکھ سکا ہوتو عید کے بعد رکھ لے۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟» يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: «إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ» - شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ - قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: يَوْمَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2651

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُؤِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2652

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف کے بعد افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی(نفل)نماز ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ؛محرم کے روزے کی فضیلت؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٣)

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2653

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد افضل نماز کونسی ہے؟اور ماہ رمضان کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں؟آپ نے فرمایا فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز(تہجد کی نماز)ہے اور ماہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: سُئِلَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ، صِيَامُ شَهْرِ اللهِ الْمُحَرَّمِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2654

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2655

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ عمر بھر کے روزوں کی طرح ہیں۔(ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے رمضان کے روزے کا ثواب دس ماہ اور چھ دنوں کے روزوں کا ثواب دوماہ کے روزوں کی مثل ہونے کی وجہ سے یہ سال بھر کے روزے ہوے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛ترجمہ؛رمضان شریف کے بعد شوال کے چھ روزوں کی فضیلت؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2656

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٢٦٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2657

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٦٥٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٨)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2658

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کو خواب میں(رمضان المبارک کے)آخری ہفتہ میں لیلتہ القدر دکھائی گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات دنوں کے موافق ہے پس جو شخص اس(لیلۃ القدر)کو تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات دنوں میں تلاش کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا؛ترجمہ؛لیلتہ القدر کی فضیلت،اس کی تلاش کی ترغیب،وقوع اور اس کی طلب کے کون سے وقت کی امید زیادہ ہے؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ، فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2659

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا لیلتہ القدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2660

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رمضان المبارک کی ستائیسویں رات میں لیلتہ القدر کو خواب میں دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری دس دنوں میں واقع ہوا پس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦١)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2661

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لیلتہ القدر کے بارے میں فرمایا کہ کچھ لوگوں کو یہ دکھایا گیا کہ لیلتہ القدر پہلے سات دنوں میں ہے اور کچھ لوگوں کو آخری سات دنوں میں دکھائی گئی۔پس تم اسے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ: «إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْأُوَلِ، وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2662

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری عشرہ میں تلاش کرو یعنی لیلتہ القدر کو،اگر تم سے کوئی کمزور پڑ جائے یا عاجز ہوجائے تو باقی سات دنوں میں تلاش کرنے میں سستی نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2663

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اس(لیلۃ القدر)کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ(رمضان شریف کے)آخری عشرہ میں تلاش کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2664

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلتہ القدر کو(رمضان شریف کے)آخری عشرہ میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ، وَمُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ» أَوْ قَالَ «فِي التِّسْعِ الْأَوَاخِرِ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2665

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی پھر مجھے بعض اہل خانہ نے جگا دیا تو مجھے وہ بھلادی گئی پس تم آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي، فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ» وقَالَ حَرْمَلَةُ: «فَنَسِيتُهَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2666

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے درمیان والے حصے میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات آتی تو آپ گھر تشریف لے جاتے اور آپ کے ساتھ جو صحابہ کرام ہوتے وہ بھی واپس چلے جاتے۔ پھر آپ نے ایک مہینے میں اس رات میں اعتکاف کیا جس میں آپ گھر چلے جاتے تھے(اکیسویں رات)اور صحابہ کرام کو خطبہ دیتے ہوئے آپ نے ان کو ان باتوں کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر فرمایا پہلے میں اس درمیانے عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتا تھا پھر مجھ پر واضح ہوا کہ میں آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھوں پس جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھا ہے وہ اپنے مقام اعتکاف میں رات گزارے میں نے یہ رات دیکھی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی پس تم آخری عشرہ کی ہر طاق رات میں اسے تلاش کرو اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اکیسویں رات کو بارش ہوئی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز پر پانی ٹپکا جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ کو دیکھا آپ کا چہرہ انور مٹی اور پانی سے تر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ، جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي كُلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2667

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مہینے کے درمیان والے حصے میں اعتکاف کرتے تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٦٦٧ کی مثل مروی ہے۔اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا(جس نے اعتکاف کیا)وہ اعتکاف کی جگہ رہے اور یہ بھی فرمایا کہ آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی لگا ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٦٨)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ، فِي رَمَضَانَ، الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ» وَقَالَ: وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2668

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا پھر درمیان والے عشرہ میں ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف فرمایا۔(اس خیمے)کی دروازے پر چٹائی تھی آپ نے چٹائی کو ہاتھ سے پکڑ کر خیمہ کی ایک جانب کر دیا پھر سر انور باہر نکال کر صحابہ کرام سے گفتگو فرمائی صحابہ کرام قریب ہوگئے تو آپ نے فرمایا میں نے اس رات کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف میں گزارا۔پھر درمیان والا عشرہ اعتکاف میں بیٹھا پھر میرے پاس کوئی(فرشتہ)آیا اور مجھے کہا گیا کہ یہ آخری عشرہ میں ہے پس تم میں سے جو اعتکاف میں بیٹھنا چاہے وہ اعتکاف میں بیٹھے۔ چنانچہ صحابہ کرام آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے آپ نے فرمایا مجھے یہ رات طاق راتوں میں دکھائی گئی ہے اور اس کی صبح میں نے مٹی اور پانی میں سجدہ کیا تو اکیسویں رات کو آپ نے قیام کیا اور صبح ہوئی تو بارش ہوگئی جس سے مسجد ٹپکنے لگی پس میں نے مٹی اور پانی کو دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو آپ کی پیشانی اور ناک کی چوٹی کے کنارے پر مٹی اور پانی لگا ہوا تھا اور یہ آخری عشرہ کی اکیسویں رات تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٦٩

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ، فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ، أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: «وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ» فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2669

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے لیلتہ القدر کے بارے میں باہم گفتگو کی پھر میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ میرے دوست تھے میں نے کہا کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ تک نہیں چلتے پس وہ تشریف لے گئے اور ان پر ایک چادر تھی میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلتہ القدر کا ذکر سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں،ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان شریف کے درمیان والے عشرہ میں اعتکاف کیا پس جب بیس رمضان کی صبح ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی اور میں اسے بھول گیا یا فرمایا مجھے وہ بھلا دی گئی پس اسے آخری عشرہ کے طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں نے(اس رات کی صبح)پانی اور مٹی میں سجدہ کیا لہذا جس شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ لوٹ جائے۔حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم واپس چلے گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی دکھائی نہیں دیتا تھا ان میں پھر بادل آئے اور ہم پر بارش ہوئی حتیٰ کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور وہ کھجوروں کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور مٹی میں سجدہ کیا حتیٰ کہ میں نے آپ کی پیشانی میں گارے کا نشان دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٧٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ؟ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنِّي نَسِيتُهَا - أَوْ أُنْسِيتُهَا -، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَرْجِعْ» قَالَ: فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، قَالَ: وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا، حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2670

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٧٠ کی مثل مروی ہے۔اس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی(گارے)کا نشان تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٦؛حدیث نمبر٢٦٧١)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2671

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے درمیان عشرے میں اعتکاف کیا اور آپ لیلتہ القدر تلاش کر رہے تھے اور ابھی آپ کو اس کا علم نہیں دیا گیا تھا جب درمیانہ عشرہ مکمل ہوا تو آپ نے خیمہ کھولنے کا حکم دیا پھر آپ پر واضح کیا گیا کہ لیلتہ القدر آخری عشرے میں ہے تو آپ نے دوبارہ خیمہ لگانے کا حکم دیا۔پھر صحابہ کرام کی طرف تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو!مجھے لیلتہ القدر بتائی گئی تھی اور میں تمہیں بتانے کے لئے آیا تو دو شخص لڑتے ہوئے آے ان دونوں کے ساتھ شیطان تھا تو مجھے وہ بھلا دی گئی۔پس تم اسے رمضان شریف کے آخری عشرے میں تلاش کرو اس کو نویں،ساتویں اور پانچویں راتوں میں ڈھونڈو۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو سعید!ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انہوں نے فرمایا تمہاری نسبت ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں۔راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا نویں،ساتویں اور پانچویں راتیں کیا ہیں؟انہوں نے فرمایا جب اکیسویں رات گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی رات بائسویں رات ہیں اور یہی نویں ہے اور جب تئیس گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی رات پانچویں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٦؛حدیث نمبر٢٦٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ، فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ» قَالَ قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: «أَجَلْ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ»، قَالَ قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: «إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ، فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ، فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ» - وقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ مَكَانَ يَحْتَقَّانِ: يَخْتَصِمَانِ -

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2672

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلادی گئی اور میں نے اس کی صبح دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کرتا ہوں فرماتے ہیں پس تیسویں رات کو ہمارے اوپر بارش ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا اور حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تئیسویں رات کو لیلتہ القدر کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٧؛حدیث نمبر٢٦٧٣)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ - وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ» قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2673

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْتَمِسُوا وَقَالَ وَكِيعٌ - «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2674

حضرت زر بن حبیش فرماتے ہیں میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص سال بھر قیام کرے وہ لیلتہ القدر کو پالیتا ہے۔انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے انہوں نے ارادہ کیا کہ لوگ(ایک رات پر)تکیہ کر کے بیٹھ نہ جائے ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ(رات)رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے(یعنی ان شاء اللہ کے بغیر کہا)۔ حضرت زر بن حبیش فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابالمنذر(ابی بن کعب)آپ کس بنیاد پر یہ بات کہتے ہیں؟انہوں نے فرمایا اس علامت کی بنیاد پر جس کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے۔آپ نے فرمایا اس رات کے بعد طلوع ہونے والے سورج میں شعائیں نہیں ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ رَحِمَهُ اللهُ: أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي، أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ؟ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، قَالَ: بِالْعَلَامَةِ، أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي «أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ، لَا شُعَاعَ لَهَا»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2675

حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ،حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں اس رات کو جانتا ہوں۔حضرت شعبہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ وہی رات ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں(نماز کے لئے)قیام کا حکم دیا اور یہ ستائیسویں رات ہے۔حضرت شعبہ کو حضرت ابی کے ان الفاظ میں شک ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کا ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا میرے ایک دوست نے حضرت شیخ سے اسی طرح روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: وَاللهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُهَا، - قَالَ شُعْبَةُ: - «وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ» وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ: هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ "

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2676

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لیلتہ القدر کے بارے میں گفتگو کی تو آپ نے فرمایا تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوتا ہے۔تو وہ طشت(تھال)کے ایک ٹکڑے کی طرح ہوتا ہے۔(لیلۃ القدر نہایت بابرکات رات ہے قرآن مجید کے مطابق یہ رات ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے صحابہ کرام اسی رات کی تلاش میں عبادت کرتے رہے اور ان کو علامات کے ذریعے رات مل جاتی ہے۔اس رات کا تعین نہیں کیا گیا تاکہ لوگ ایک ہی رات پر بھروسہ نہ کریں۔لہٰذا آخری عشرہ رمضان کی طاق راتوں میں سے کوئی رات لیلتہ القدر ہوتی ہے راتوں میں قیام کرنے اور عبادت کے ذریعے لیلتہ القدر کی برکات حاصل ہوجاتی ہیں۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٩؛حدیث نمبر٢٦٧٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ؟»

Muslim Shareef, Kitabus Siyam, Hadees No. 2677

Muslim Shareef : Kitabus Siyam

|

Muslim Shareef : كِتَاب الصِّيَامِ

|

•