
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے تو آپ نے فرمایا قمیص،دستاریں،شلواریں،ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو مگر یہ کہ کوئی شخص جوتے نہ پائے تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے اور ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس(ایک خوشبودار گھاس کا رنگ یا خوشبو)ہو۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛حج یا عمرہ کے محرم کے لباس وغیرہ کا حکم؛جلد٢ص٨٣٤؛حدیث نمبر٢٦٨٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کونسا لباس پہن سکتا ہے تو آپ نے فرمایا محرم نہ قمیص پہنے نہ پگڑی باندھے نہ ٹوپی پہنے اور نہ ہی شلوار پہنے اور کوئی ایسا کپڑا بھی نہ پہنے جس میں ورس(خوشبودار گھاس)اور زعفران(کی خوشبو)ہو اور موزے بھی نہ پہنے مگر جب اسے جوتا نہ ملے تو ان موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی محرم ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس کا رنگ ہواور فرمایا جو آدمی جوتیاں نہ پائے وہ موزے پہن لے لیکن ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے جو چادر نہ پائے اور موزے وہ پہن سکتا ہے جو جوتیاں نہ پائے اس سے محرم مراد ہے۔(حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ شلوار کو پھاڑ کر چادر کی طرح کرے جس طرح موزوں کو کاٹ دیا جاتا ہے اگر اسی طرح شلوار پہنے گا تو دم لازم آئے گا یعنی قربانی وغیرہ کرنی ہوگی(عمدۃ القاری بحوالہ شرح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٣ص٢٤٦)(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٩٢ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ آپ عرفات میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٩٣ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں عرفات میں خطبہ دینے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جوتے نہ پائے وہ موزے پہن لے اور جسے چادر میسر نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٥)
حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ(مقام)جعرانہ میں تھے اس شخص نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر خوشبو یا زردی کا اثر تھا اس نے کہا آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں میں اپنے عمرہ میں کیا طریقہ اختیار کروں راوی فرماتے ہیں اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہورہی تھی اور آپ کو کپڑا اوڑھا دیا گیا تھا۔حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتے ہوئے دیکھوں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟چنانچہ انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے دیکھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے تھے۔راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے وہ آواز اونٹ کے خراٹوں جیسی تھی فرماتے ہیں جب وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے(پھر فرمایا)اپنے آپ سے زردی کا رنگ دھولو یا فرمایا خوشبو کا اثر دور کر دو اور جبہ بھی اتار دو۔اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو(مطلب یہ ہے کہ جس طرح حج کے احرام میں ان امور سے بچتے ہو جو اس حالت میں حرام ہیں اس طرح عمرے میں بھی بچو یا دونوں میں جو مشترک امور ہیں۔مثلا احرام باندھنا،طواف اور سعی وغیرہ امور ادا کرو(تمام افعال حج مراد نہیں(١٢ہزاروی) ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٦)
حضرت صفوان بن یعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جعرانہ(مقام)میں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں بھی بارگاہ نبوی میں حاضر تھا اس شخص نے جبہ(بڑا کوٹ)پہنا ہوا تھا اور اس نے خوشبو لگا رکھی تھی اس نے کہا میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر جبہ ہے اور میں نے خوشبو لگائی ہوئی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا حج میں کیا کیا کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا میں اپنے کپڑے اتار دیتا ہوں اور اپنے آپ سے خوشبو دھو ڈالتا ہوں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ حج میں کرتے ہو وہی عمرہ میں کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٧)
حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ روایت کرتےہیں کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ کاش میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو پس جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعران میں تھے اور آپ پر کپڑا تھا جس سے آپ پر سایہ کیا گیا تھا آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام تھے جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ ایک شخص آیا جس نے بڑا کوٹ پہن رکھا تھا اور اس نے خوشبو لگا رکھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا پھر خاموش ہوگئے پس آپ پر وحی نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آؤ حضرت یعلی آے اور انہوں نے اپنا سر(کپڑے کے اندر)داخل کیا تو دیکھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہے آپ کچھ دیر خراٹے لینے لگے پھر یہ کیفیت دور ہوگئی۔ آپ نے فرمایا وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھا تھا اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا تو آپ نے فرمایا اپنے آپ سے خوشبو تین مرتبہ دھوڈالو اور کوٹ اتار دو پھر عمرہ میں وہی کچھ کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٧؛حدیث نمبر٢٦٩٨)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جعران مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے داڑھی اور سر میں زرد رنگ لگایا ہوا تھا جب کہ کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کوٹ اتار لو اور اپنے آپ سے زرد رنگ دھو ڈالو اور جو کچھ حج میں کرتے ہو اپنے عمرہ میں بھی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٧؛حدیث نمبر٢٦٩٩)
حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے کوٹ پہن رکھا تھا اور اس پر خوشبو کا اثر تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کیا کروں؟آپ خاموش رہے اور جواب نہ دیا اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کو کپڑا اوڑھا دیتے تھے۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب آپ پر وحی نازل ہو تو میں آپ کے ساتھ کپڑے میں سر داخل کروں جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑے سے ڈھانپا تو میں نے آپ کے ساتھ کپڑے میں سر داخل کیا اور آپ کو دیکھا جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا جس شخص نے ابھی عمرے کے بارے میں سوال کیا تھا وہ کہاں ہے تو وہ شخص کھڑا ہوا آپ نے فرمایا یہ جبہ اتار دو اور اپنے آپ سے خوشبو کا اثر دور کردو اور اپنے عمرہ میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٨؛حدیث نمبر٢٧٠٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ،اہل شام کے لئے جحفہ اہل نجد کے لئے قرن اور اہل یمن کے لئے یلملم کو مقرر فرمایا۔آپ نے فرمایا یہ مقامات ان علاقہ والوں کے لئے بھی جو دوسرے علاقوں سے وہاں آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ کریں اور جو ان کے اندر ہوں وہ اپنے مقام سے احرام باندھیں حتیٰ کہ اہل مکہ،مکہ مکرمہ سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛ترجمہ؛حج اور عمرہ کی مواقيت؛جلد٢ص٨٣٨؛حدیث نمبر٢٧٠١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ،شام کے لئے جحفہ،اہل نجد کے لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو(میقات)مقرر فرمایا اور فرمایا یہ وہاں کے رہنے والوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے ہیں یعنی جو حج اور عمرہ کا ارادہ کریں اور جو ان کے اندر ہیں وہ اسی جگہ سے احرام باندھیں حتیٰ کہ اہل مکہ،مکہ مکرمہ سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٣٩؛حدیث نمبر٢٧٠٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مدینہ،ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں،اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٣٩؛حدیث نمبر٢٧٠٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو حکم دیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اہل مدینہ کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے۔اہل شام کے لئے مَہیعہ یعنی جحفہ۔اور اہل نجد کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے لیکن میں نے خود آپ سے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا اہل یمن کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مدینہ،ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں،اہل شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور مجھے یہ بات بتائی گئی اور میں نے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی کہ آپ نے فرمایا اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٦)
حضرت ابوالزبیر سے مروی ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ سے میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں نے سنا ہے۔پھر ابوالزبیر نے بیان کرتے ہوئے فرمایا میرا خیال ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعاً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے، اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اور اہل نجد کی میقات قرن ہے جب کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا۔ «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ»(ترجمہ:میں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بےشک تعریف اور نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔) اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس میں یہ اضافہ فرماتے: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ"(ترجمہ)"میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرے احکام کی تعمیل کے لئے موجود ہوں تمام بھلائیاں تیرے قبضے میں ہے میں حاضر ہوں رغبت اور عمل تیری طرف ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛ترجمہ؛تلبیہ اس کا طریقہ اور وقت؛جلد٢ص٨٤١؛حدیث نمبر٢٧٠٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر سوار ہوے اور وہ آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس کھڑے ہوئی تو آپ نے احرام باندھا اور کہامیں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بےشک تعریف اور نعمت تیرے لیے ہے اور بادشاہی بھی تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے اور حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ یہ اضافہ بھی فرماتے۔ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیری اطاعت کے لئے مستعد ہوں تمام بھلائیاں تیرے قبضے میں ہے اور رغبت و عمل بھی تیری طرف ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے بالوں کو(مہندی یا گوند سے)چپکاتے ہوئے تلبیہ کہ رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے بالوں کو(مہندی یا گوند سے)چپکاتے ہوئے تلبیہ کہ رہے تھے۔ میں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں بےشک تعریف نعمت اور بادشاہی تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں آپ ان الفاظ پر اضافہ نہیں فرماتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ہی بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس کھڑی ہوگئی تو آپ نے ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہ کر احرام باندھا۔اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہتے تھے جن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے اور وہ کلمات اس طرح ہیں:لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ۔(ترجمہ گزر چکا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مشرکین یوں کہتے تھے"لبیک لاشریک لک"تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تمہارے لئے خرابی ہو اس سے آگے نہ کہو(یہی کافی ہے)تو وہ کہتے۔"الا شریکا ھو لک تملکہ وملک"مگر وہ شریک جس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی جس کا وہ مالک ہے وہ لوگ یہ بات طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٣)
حضرت سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے یہ تمہارا بیدا(مقام)ہے جس میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام صرف مسجد ذوالحلیفہ سے باندھا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ؛ترجمہ؛اہل مدینہ کو مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا حکم؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٤)
حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا کہ احرام(مقام)بیداء سے ہے تو وہ فرماتے ہیں وہی بیدا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام درخت کے پاس باندھا جب آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔(مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے ذوالحلیفہ پہلے اور مقام بیدا بعد میں آیا ہے چونکہ کوئی بستی اور عمارات وغیرہ نہیں اس لئے اسے بیدا(بیابان)کہا جاتا ہے ان احادیث میں بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ سے احرام باندھتے تھے کیونکہ وہ میقات اہل مدینہ ہے اور میقات سے احرام کے بغیر گزرنا منع ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٥)
حضرت عبید بن جریج فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابو عبد الرحمن!میں آپ کو ایسے چار کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔انہوں نے فرمایا اے ابن جریج!وہ کون سے کام ہیں؟انہوں نے عرض کیا آپ رکن یمانی کے علاوہ کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بغیر بالوں کے چمڑے کی جوتیاں پہنتے ہیں۔میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ کے ساتھ رنگتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ مکہ مکرمہ ہوتے تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے اور آپ آٹھ ذوالحجہ کو احرام باندھے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جہاں تک ارکان کا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وہ جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہ ہوں اور اس میں وضو کرتے تھے پس میں ان کو پہننا پسند کرتا ہوں جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اسی رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اس وقت احرام باندھتے تھے جب آپ کی اونٹنی کھڑی ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٤؛حدیث نمبر٢٧١٦)
حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا تو میں نے پوچھا اے ابو عبد الرحمن میں نے آپ میں چار باتیں دیکھی ہیں۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٧١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں جب رکاب میں پاؤں رکھا اور آپ کی سواری کھڑی ہوگئی تو آپ نے احرام باندھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بتاتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوے پھر آپ نے احرام باندھا(نیت کی)جب وہ سیدھی کھڑی ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧٢٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ ذِي الحُلَيْفَةِ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧٢١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی جب آپ نے احرام باندھا اور جب طواف سے پہلے آپ نے احرام کھولا تو اس وقت بھی آپ کو خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛ترجمہ؛احرام سے پہلے خوشبو لگانا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے احرام کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی جب آپ نے احرام باندھا اور جب آپ نے بیت اللہ شریف کے طواف سے پہلے احرام کھولا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی وجہ سے آپ کو احرام سے پہلے اور احرام کھولنے کے لئے طواف سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے اور کھولنے کے لیے خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے اور کھولنے کے سلسلے میں ذَرِیرہ خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٦)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں جب آپ احرام باندھتے تو وہ فرماتی تھیں سب سے اچھی خوشبو(لگائی تھی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٧)
حضرت عروہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے پہلے سب سے اچھی خوشبو جو میسر ہوتی لگاتی تھی پھر آپ احرام باندھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھتے وقت اور جب طواف افاضہ(فرض طواف)سے پہلے آپ احرام کھولتے سب سے اچھی خوشبو جو مجھے ملتی،لگاتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ حالت احرام میں تھے راوی خلف نے یہ نہیں کہا کہ آپ محرم تھے البتہ یہ کہا کہ وہ خوشبو احرام کی وجہ سے تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ کہ رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں کہ خوشبو چمک رہی ہے اور آپ تلبیہ کہ رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں دیکھ رہی ہوں پھر حسب سابق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں کہ خوشبو چمک رہی ہے اور آپ حالت احرام میں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مانگ میں خوشبو چمک رہی ہے۔اور آپ حالت احرام میں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو سب سے اچھی خوشبو جو حاصل ہوتی لگاتے پھر میں آپ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں تیل کی چمک دیکھتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی خوشبو چمک رہی ہے اور آپ حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے پہلے اور قربانی کے دن طواف سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٩)
حضرت محمد بن منتشر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو خوشبو لگاتا ہے۔پھر صبح احرام باندھتا ہے انہوں نے فرمایا میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں صبح اس حالت میں احرام باندھوں کہ میرے بدن سے خوشبو پھیل رہی ہو۔مجھے اس عمل کے مقابلے میں تارکول ملنا زیادہ پسند ہے۔ محمد بن منتشر فرماتے ہیں پھر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اس حالت میں صبح احرام باندھوں کہ میرے بدن سے خوشبو مہک رہی ہو مجھے اس مقابلے میں تارکول ملنا زیادہ پسند ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے وقت آپ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور پھر صبح احرام باندھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٤٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے پھر صبح احرام باندھتے اور اس سے خوشبو پھیل رہی ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٤١)
حضرت محمد بن منتشر فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے مجھے اس حالت میں صبح کرنا کہ مجھے تارکول ملا ہوا ہے. اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس حالت میں احرام باندھوں کہ مجھ سے خوشبو پھیل رہی ہو۔راوی فرماتے ہیں پھر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا تو انہوں نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور پھر صبح احرام باندھتے۔(ان تمام حدیث سے ثابت ہوتا کہ احرام باندھنے سے اور طواف افاضہ سے پہلے طواف کھولنے کے بعد خوشبو لگانا مستحب ہے البتہ احرام کی حالت میں خوشبو لگانا منع اور ناجائز ہے۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٢)
حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقام ابواء یا ودّوان میں ایک جنگلی دراز گوش پیش کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ملال کا اثر دیکھا تو فرمایا ہم نے صرف اس لئے یہ واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛ترجمہ؛محرم کے لئے شکار کی ممانعت؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے فرماتے ہیں میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا گوشت پیش کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش پیش کیا اور آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے واپس کردیا اور فرمایا اگر ہم محرم نہ ہوتے تو تم سے قبول کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٦)
حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا ایک پاؤں پیش کیا شعبہ کی حکم سے روایت میں ہے کہ اس کے جسم کا پچھلا حصہ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا جبکہ شعبہ کی حبیب سے روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا ایک پہلو پیش کیا تو آپ نے رد دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا بتایا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ حالت احرام میں تھے۔انہوں نے فرمایا آپ کی خدمت میں شکار کے گوشت کا ایک حصہ پیش کیا گیا تو آپ نے رد فرما دیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاتے کیوں کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٨)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے حتیٰ کہ جب وادی قاحہ میں پہنچے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور کچھ غیر محرم تھے اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں میں نے دیکھا تو جنگلی گدھا تھا میں نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی۔اپنا نیزہ سنبھالا اور سوار ہوگیا۔اتفاقاً میرا چابک گر گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو محرم تھے کہ مجھے چابک پکڑائیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اس سلسلے میں تیری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔فرماتے ہیں میں نے اتر کر اسے پکڑ لیا پھر سوار ہوا اور میں نے اس جنگلی گدھے کو پیچھے سے جا پکڑا اور وہ ٹیلے کے پیچھے تھا میں نے اسے نیزے سے مارتے ہوئے زخمی کردیا پھر اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو ان میں سے بعض نے کہا اسے کھاؤ اور بعض نے کہا نہ کھاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا آپ نے فرمایا وہ حلال ہے اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٩)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ جب مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے۔جنہوں نے احرام باندھا ہوا تھا جب کہ خود وہ(حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ)غیرمحرم تھے۔پس انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا چابک ان کو پکڑا دیں تو انہوں نے انکار کر دیا انہوں نے اپنے نیزے کے بارے میں کہا تو ان لوگوں نے انکار کردیا انہوں نے خود(اپنا نیزہ)پکڑا اور گدھے(جنگلی گدھا)پر حملہ کر کے اسے ہلاک کردیا ان میں سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٢؛حدیث نمبر٢٧٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥٠ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس گوشت میں سے کچھ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٢؛حدیث نمبر٢٧٥١)
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد(حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ)حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تو آپ کے بعض صحابہ کرام نے فرمایا دشمن غَیقہ(مقام)میں ہے پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے فرماتے ہیں اس دوران کہ میں بعض صحابہ کرام کے ساتھ تھا اور ان میں سے بعض مجھے دیکھ کر ہنس رہے تھے کہ اچانک مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں اس پر حملہ کیا اور نیزہ مار کر اسے روک لیا میں نے ان حضرات سے مدد طلب کی تو انہوں نے مدد کرنے سے انکار کردیا پس ہم نے اس کے گوشت سے کھایا اور ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بچھڑ نہ جائیں پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب میں نکلا میں اپنے گھوڑے کو کبھی دوڑاتا اور کبھی آہستہ چلاتا۔رات کے درمیانی حصے میں میری ملاقات بنو غفار قبیلے کے ایک شخص سے ہوئی۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کہاں کی ہے اس نے کہا میں نے آپ کو مقام تعھِن میں چھوڑا اور آپ مقام سقیا میں قیلولہ فرما رہے تھے میں آپ تک پہنچ گیا اور عرض کیا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کے صحابہ کرام آپ کو السلام علیکم کہتے ہیں اور ان میں ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ سے بچھڑ نہ جائیں۔پس آپ ان کا انتظار فرمائیں چنانچہ آپ نے انتظار فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے شکار کیا ہے اور میرے پاس اس سے بچا ہوا گوشت ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کھاؤ اور وہ حالت احرام میں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٣؛حدیث نمبر٢٧٥٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے آپ نے بعض صحابہ کرام کو ایک طرف موڑ دیا جن میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ نے فرمایا تم ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو فرماتے ہیں کہ وہ ساحل سمندر پر چلے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھا۔انہوں نے احرام نہ باندھا اس دوران کہ یہ حضرات چل رہے تھے۔انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ ڈالیں وہ اترے اور گوشت کھانے لگے پھر کہا ہم نے یہ گوشت کھایا حالانکہ ہم حالت احرام میں ہیں فرماتے ہیں انہوں نے اس گدھی کا بقیہ گوشت اٹھایا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم حالت احرام میں تھے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کرکے ایک گدھی کو زخمی کردیا(پاؤں کاٹ دئے)۔ پس ہم اتر کر اس کا گوشت کھانے لگے پھر ہم نے سوچا کہ ہم اس کا گوشت کھا رہے ہیں حالانکہ ہم حالت احرام میں ہیں تو ہم اس کا باقی گوشت اٹھا لائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی نے ان کو حکم دیا یا کسی چیز کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا جو گوشت باقی ہے وہ کھا سکتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥٣ کی مثل مروی ہے اور شیبان کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے ان کو کہا ہے کہ ان پر حملہ کریں کیا تم نے اشارہ کیا یا مدد کی یا تم نے خود شکار کیا۔ حضرت شعبہ کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے پوچھا کیا تم نے مدد کی یا فرمایا کیا تم نے خود شکار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٤)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی۔فرماتے ہیں میرے علاوہ سب نے عمرہ کے لئے احرام باندھا۔میں نے جنگلی گدھے کا شکار کیا اور اپنے احباب کو کھلایا حالانکہ وہ محرم تھے۔ پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر دی کہ ہمارے پاس اس کا بچا ہوا گوشت ہے آپ نے فرمایا اسے کھا سکتے ہو اور وہ سب محرم تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٥)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ان سب نے احرام باندھا ہوا تھا جب کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔آگے حسب سابق حدیث ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں کچھ بچاہوا ہے؟ہم نے عرض کیا اس کی ایک ٹانگ ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور کھایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٦)
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کچھ محرم حضرات میں تھے اور خود انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا آگے حدیث نمبر ٢٧٥٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ کیا اس کی طرف تم میں سے کسی انسان نے اشارہ کیا یا کسی چیز کا حکم دیا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نہیں آپ نے فرمایا پس اسے کھا سکتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٧)
حضرت عبد الرحمن تیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے اور ہم سب محرم تھے ان کی خدمت میں ایک پرندہ بطور تحفہ پیش کیا گیا اور حضرت طلحہ اس وقت سو رہے تھے۔ہم میں سے بعض نے اسے کھایا اور بعض نے پرہیز کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوے تو انہوں نے کھانے والو کی موافقت کی اور فرمایا کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا۔(جب محرم نے شکار پر دلالت بھی نہ کی ہو اور کسی طرح اس کی معاونت نہ بھی کی اور نہ ہی حکم دیا ہو اور غیر محرم شکار کرے تو محرم اسے کھا سکتا ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا چار جانور فاسق(موزی)ہیں ان کو حل و حرم میں قتل کیا جائے،چیل،کوا،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔حضرت عبیداللہ بن مقسم فرماتے ہیں میں نے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے پوچھا سانپ کے متعلق بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس کی ذلت کی وجہ سے قتل کیا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يَنْدُبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ؛ترجمہ؛محرم اور غیر محرم کے لیے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کو مارنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٥٦؛حدیث نمبر٢٧٥٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے۔سانپ،سیاہ وسفید رنگ والا کوا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٦؛حدیث نمبر٢٧٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ(جانور)فاسق ہیں(موذی ہیں)حرم میں قتل کیے جائیں،بچھو، چوہا، چیل،کوا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ(جانور)فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے،چوہا،بچھو،کوا،چیل اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٣)
اس سند سے مزید مروی ہے اس میں ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ فاسق جانوروں کو حل و حرم میں قتل کرنے کا حکم دیا پھر گزشتہ احادیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ وہ تمام فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے کوا،چیل،کاٹنے والا کتا،بچھو اور چوہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو حرم میں اور حالت احرام میں قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔چوہا،چیل،کوا،بچھو اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ وہ تمام کے تمام فاسق ہیں ان کو مارنے میں کوئی حرج نہیں بچھو،کوا چیل،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٧)
حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا محرم کون کون سے جانوروں کو مارسکتا ہے۔انہوں نے فرمایا مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے بتایا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا یا آپ کو حکم دیا گیا کہ چوہا،بچھو،چیل،کاٹنے والا کتا اور کوا قتل کئے جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٨)
حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص حالت احرام میں کن کن جانوروں کو قتل کر سکتا ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاٹنے والے کتے،چوہے،بچھو،چیل،کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے اور فرمایا کہ نماز میں بھی ان کو قتل کردیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو قتل کرنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں۔کوا،چیل،بچھو،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٧٠)
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت نافع سے پوچھا کہ آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کیا سنا کہ محرم کے لئے کن کن جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے تو حضرت نافع نے مجھ سے فرمایا حضرت عبداللہ(بن عمر)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جس کو قتل کرنے میں قتل کرنے والے پر کوئی حرج نہیں۔کوا، چیل،بچھو،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٧١)
متعدد اسانید سے امام مسلم روایت فرماتے ہیں وہ تمام راوی بواسطہ حضرت نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٢)
حضرت نافع اور حضرت عبیداللہ بن عبداللہ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو حرم میں قتل کرنے پر کوئی گناہ نہیں پھر پہلے کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٣)
حضرت عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو محرم آدمی قتل کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ان میں بچھو،چوہا،کاٹنے والا کتا،کوا اور چیل شامل ہیں۔(بعض احادیث میں چار موذی جانوروں کا ذکر ہے اور بعض روایات میں پانچ کا ذکر ہے اس طرح یہ چھ جانور بن جاتے ہیں۔چیل، کوا،چوہا،کاٹنے والا کتا،سانپ، بچھو ان چھ جانوروں کو حرم یا غیر حرم میں مارنے کا حکم ہے اور محرم کو بھی ان کے قتل کی اجازت ہے۔١٢ہزاروی)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٤)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا تمہارے سر کے جانور تمہیں اذیت نہیں پہنچاتے میں نے عرض کیا جی ہاں پہنچاتے ہیں آپ نے فرمایا سر منڈوالو اور تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ،یا ایک قربانی کردو۔ایوب(راوی)فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے پہلے کس چیز کا ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛ترجمہ؛تکلیف کے باعث محرم کا سر منڈانا اور اس کے فدیہ کا وجوب اور مقدار؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٦)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦](ترجمہ)"پس تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے"۔ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا قریب ہوجاؤ میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں ابن عون راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں،تو حضرت کعب فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ کا حکم دیا وہ روزے ہوں یا صدقہ یا قربانی جو بھی آسان ہو(کرو)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٧)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا یہ جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہے؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اپنا سر منڈوا لو فرماتے ہیں۔یہ آیت(حدیث نمبر ٢٧٧٨ میں درج ہے)میرے حق میں نازل ہوئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تین دن کے روزے رکھو یا تین صاع صدقہ دو جو آدمیوں(فقراء)میں تقسیم کرو یا قربانی کرو جو آسان ہو کر لو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٨)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ حدیبیہ میں تھے وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے پوچھا یہ جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا سر منڈاؤ اور ایک فرق(غلہ)چھ مسکینوں کو دو۔فرق تین صاع کا ہوتا ہے(چار کیلو سے کچھ اوپر)یا تین دن کے روزے رکھو،یا قربانی کرو۔ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے کہ ایک بکری ذبح کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٧٩)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں اذیت پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سر منڈاؤ پھر ایک بکری ذبح کر کے قربانی دو یا تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجوریں کھلاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٨٠)
حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور وہ مسجد میں تھے اور میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا:{فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے میرے سر میں تکلیف تھی مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا درآں حالیکہ جوئیں میرے چہرے پر جھڑ رہی تھیں۔آپ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بہت تکلیف ہورہی ہے میرے خیال میں تمہیں بکری نہیں مل سکتی۔میں نے کہا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔اس کا فدیہ روزے ہیں یا صدقہ یا قربانی ہے فرمایا تین دن کے روزے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہر مسکین کے لیے نصف صاع(دو کیلو سے کچھ زائد)وہ فرماتے ہیں یہ خاص میرے حق میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تم سب کو شامل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٨١)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حالت احرام میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑ گئیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان کو بلایا اور ایک حجام کو بھی بلایا جس نے اس کا سر منڈا۔ پھر فرمایا کیا تمہارے پاس قربانی(کا جانور)ہے۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس کی طاقت نہیں آپ نے ان کو تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ہر مسکین کے لئے نصف صاع ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت خاص ان کے لیے نازل فرمائی:{فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦]"اور پس جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو(آخر تک)پھر یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔(محرم کے سر میں تکلیف ہو تو وہ سر منڈا سکتا ہے لیکن اسے فدیہ دینا ہوگا۔یہ فدیہ قربانی،صدقہ یا روزوں کی صورت میں ہوگا۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ؛ترجمہ؛محرم پچھنے لگا سکتا ہے؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٣)
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے راستے میں سر کے درمیان میں پچھنہ لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔(عذر کی صورت میں حالت احرام میں پچھنہ لگوانا جائز ہے اور اس کے لیے سر کے بال بھی کاٹے جاسکتے ہیں لیکن بال کاٹنے کی صورت میں فدیہ دینا ہوگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی بنیاد پر پچھنہ لگوایا۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٤)
حضرت نُبیہ بن وہب کا بیان ہے فرماتے ہیں ہم ابان بن عثمان کے ہمراہ نکلے حتیٰ کہ جب مقام ملل پر پہنچے تو حضرت عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی پھر جب مقام روحاء میں پہنچے تو تکلیف زیادہ ہوگئی۔انہوں نے حضرت ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھنے کے لیے کسی کو بھیجا تو انہوں نے جواب بھیجا کہ ایلوے کا لیپ لگاؤ کیوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک محرم شخص کی آنکھیں دکھتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ایلوے کا لیپ لگایا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ؛ترجمہ؛محرم کے لئے آنکھوں کا علاج کروانا جائز ہے؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٥)
حضرت نبیہ بن وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں۔انہوں نے سرمہ لگانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابان بن عثمان نے ان کو روک دیا اور فرمایا کہ ایلوے کا لیپ لگاؤ اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔(علاج کے طور پر لیپ لگانے کی اجازت ہے لیکن فدیہ ادا کرنا ضروری ہے(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ؛جلد٢ص٨٦٣؛حدیث نمبر٢٧٨٦)
حضرت عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں ابواء کے مقام پر حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت مسور بن مخرمہ(رضی اللہ عنہم)کے درمیان اختلاف ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا محرم اپنے سر کو دھو سکتا ہے اور حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں دھو سکتا۔ حضرت عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے اس بارے میں پوچھوں تو میں نے ان کو دیکھا کہ وہ دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کئے ہوئے غسل کر رہے تھے۔میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا کون ہے؟میں نے کہا میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ سے پوچھوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے تھے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے نیچے کیا حتیٰ کہ ان کا سر میرے سامنے ظاہر ہوگیا۔پھر انہوں نے پانی ڈالنے والے سے فرمایا پانی ڈالو اس نے پانی ڈالا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سر کو حرکت دی اور ہاتھوں کو سر پر پھیرتے ہوئے آگے لاے اور پیچھے لے گئے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ؛ترجمہ؛محرم کے لئے بدن اور سر دھونے کا جواز؛جلد٢ص٨٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٨٧ کی مثل مروی ہے۔اس میں فرمایا کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے پورے سر پر پھیرا پس ان کو آگے لاے اور پیچھے لے گئے۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ میں کبھی بھی آپ سے بحث نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ؛جلد٢ص٨٦٤؛حدیث نمبر٢٧٨٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص اونٹ سے گرا تو اس کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا آپ نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں کفن پہنا دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہ رہا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛ترجمہ؛محرم فوت ہوجائے تو اس کے احکام؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٨٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں کھڑا تھا کہ اچانک اونٹنی سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں کفن پہنا دو اسے خوشبو بھی نہ لگانا اور سر بھی نہ ڈھانپنا۔اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہتا ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھڑا تھا اور اس نے احرام باندھا ہوا تھا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٧٩١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حالت احرام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آیا تو وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا پس اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں اسے کفن دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا کیوں کہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے آے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٦؛حدیث نمبر٢٧٩٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک محرم شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آیا پھر حدیث نمبر ٢٧٩٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو اس کی اونٹنی نے گرایا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ محرم تھا وہ فوت ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے انہی کپڑوں میں کفن دے دو لیکن اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپنا کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اور اس نے احرام باندھا ہوا تھا وہ اونٹنی سے گرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر انہی دو کپڑوں میں کفن پہناو لیکن اسے نہ تو خوشبو لگانا اور نہ اس کا سر ڈھانپنا کیوں کہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھے گا کہ اس کے بال چمٹے ہوئے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے(گراکر)اس کی گردن توڑدی اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حالت احرام میں تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ اسے پانی اور بیری(کے پتوں)کے ساتھ غسل دیا جائے اور خوشبو نہ لگائی جائے اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے قیامت کے دن یہ اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چمٹے ہوئے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ محرم تھا پس وہ اپنی اونٹنی سے گرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور دو کپڑوں میں کفن دیا جائے لیکن خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر اور چہرہ باہر رہے کیونکہ قیامت کے دن یہ چمٹے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٧٩٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرایا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے نیز اس کے چہرے کو کھلا رکھیں۔راوی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ سر کا بھی ذکر کیا اور فرمایا قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٧٩٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص تھا اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو غسل دو لیکن نہ تو خوشبو لگانا اور نہ ہی اس کا چہرہ ڈھانپنا یہ(قیامت کے دن)تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٨٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم!مجھے درد ہو رہا ہے آپ نے فرمایا حج کرو اور شرط رکھو اور یوں کہو یا اللہ!جہاں تو مجھے روک لے گا میں احرام کھول لوں گی اور یہ حضرت مقدار رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛محرم کا شرط لگانا کہ اگر میں بیمار ہوگیا تو احرام کھول دوں گا؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٨٠٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے حج کا ارادہ کیا اور مجھے تکلیف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج کرو اور یہ شرط رکھو کہ(یا اللہ)تو مجھے جہاں روکے گا میں احرام کھول دوں گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سےحدیث نمبر ٢٨٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے عرض کیا میں بیمار ہوں اور میں حج کا ارادہ کرتی ہوں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں،آپ نے فرمایا حج کا احرام باندھو اور شرط رکھو کہ(یااللہ)تو مجھے جہاں روک لے گا میں وہاں احرام کھول لوں گی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے حج کر لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ نے حج کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شرط رکھنے کا حکم دیا انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضباعہ سے فرمایا حج کرو اور شرط رکھو کہ اے اللہ جہاں تو مجھے روک لے گا(میں احرام کھول دوں گی)اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا حکم دیا تھا۔(علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں احناف کے نزدیک یہ شرط صحیح نہیں اور یہ اجازت صرف حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھی۔(شرح مسلم جلد٣ص٣٧٦)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٩؛حدیث نمبر٢٨٠٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام ذوالحلیفہ میں حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی پیدائش کی وجہ سے نفاس(کا خون)شروع ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کو کہیں کہ غسل کریں اور احرام باندھ لیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلْإِحْرَامِ، وَكَذَا الْحَائِضُ؛ترجمہ؛نفاس والی عورتوں کے احرام کا بیان نیز احرام کے لئے انکا غسل کرنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ذوالحلیفہ میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو غسل کا حکم دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلْإِحْرَامِ، وَكَذَا الْحَائِضُ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس ہدی(قربانی کا جانور)ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں کے احرام سے نکل نہ جائے آپ فرماتی ہیں پس ہم مکہ مکرمہ میں آے اور میں حیض سے تھی اس لئے میں نے بیت اللہ شریف کا طواف نہ کیا اور نہ ہی صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا سر کے بال کھول دو اور کنگھی کر کے حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دوام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا پس میں نے عمرہ کیا آپ نے فرمایا یہ تیرے اس عمرے کی جگہ ہے پس جنہوں نے اس عمرے کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔پھر احرام کھول دیا پھر جب منی سے واپس آئے تو حج کا طواف کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٠؛حدیث نمبر٢٨٠٨)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کے لئے نکلے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ہدی(قربانی کا جانور)کو ساتھ نہیں لیا وہ احرام کھول لے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور ہدی ساتھ لی ہے وہ جانور کی قربانی دینے تک احرام نہ کھولے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہے وہ اپنے حج کو پورا کرے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا حتیٰ کہ نو ذوالحجہ کا دن ہوا اور میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول کر کنگھی کرلوں حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ ترک کردوں فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا حتی کہ جب میں نے حج کر لیا تو آپ نے مجھے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ میں تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھوں اور یہ اس عمرہ کی جگہ تھا جس کے دوران حج آگیا اور میں اس کو پورا نہ کرسکی اور(عمرہ)کا احرام نہیں کھولا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٠؛حدیث نمبر٢٨٠٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن میں ہدی نہیں لے گئی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھے اور وہ اس وقت احرام سے نہیں نکلے گا جب تک دونوں کے احرام سے نہ نکلے۔ فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا جب نو ذوالحجہ کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟آپ نے فرمایا اپنے سر(کے بالوں)کو کھول لو،کنگھی کرو اور عمرہ سے رک جاؤ اور حج کا احرام باندھو۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نے حج پورا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔انہوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور تنعیم سے عمرہ کروایا اور یہ اس عمرے کی جگہ تھا جس سے میں رک گئی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو آپ نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ دونوں کے احرام کا ارادہ کرتا ہے وہ ایسا کرے اور جو صرف عمرہ کا احرام باندھنا چاہتا ہے وہ عمرہ کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور صحابہ کرام میں سے بعض نے بھی آپ کے ساتھ حج کا احرام باندھا اور کچھ حضرات نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا بعض نے صرف عمرہ کا احرام باندھا اور میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ذوالحجہ کے چاند کے مطابق نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھے اگر میں نے ہدی کا جانور ساتھ نہ لیا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ تو کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔پس ہم نکلے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ میں آے تو وہ ذوالحجہ کا دن ہوگیااور میں حالت حیض میں تھی میں نے عمرہ کا احرام نہ کھولا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی آپ نے فرمایا تم اپنا عمرہ چھوڑ دو سر کے بال کھولو کنگھی کرو حج کا احرام باندھ لو۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا جب محصب کی رات آئی(وادی محصب میں ٹھہرنے کی رات)اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے تنعیم کی طرف لے گئے پس میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا کردیا اس میں نہ تو قربانی تھی نہ صدقہ اور نہ ہی روزہ تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٢؛حدیث نمبر٢٨١٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو پسند کرے وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨١٢ کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم ذوالحجہ کے چاند کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیے ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا جب کہ کچھ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور میں ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔اس کے بعد انہوں نے گزشتہ روایات کی مثل ذکر کیا۔راوی فرماتے ہیں اس میں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ام المومنین رضی اللہ عنہ کا حج اور عمرہ پورا کروادیا۔ حضرت ہشام فرماتے ہیں اس میں نہ ہدی واجب ہوئی نہ روزے اور نہ ہی صدقہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٢؛حدیث نمبر٢٨١٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بعض نے صرف حج کا احرام باندھا جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تو انہوں نے(عمرہ کے بعد)احرام کھول دیا اور جس نے(صرف)حج یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم نحر(قربانی کے دن)تک احرام نہیں کھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں یا اس کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رورہی تھی۔آپ نے فرمایا تجھے حیض(ماہواری کا خون)آگیا ہے۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لئے مقدر کر دی ہے پس تم وہ عمل کرو جو حج کرنے والا کرتا ہے لیکن بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرو حتیٰ کہ غسل کرلو۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گاے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہم صرف حج کا ذکر کرتے تھے حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں آے تو مجھے حیض(کا خون) آگیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ نے پوچھا تم کیوں رو رہی ہو؟میں نے عرض کیا اللہ کی قسم!مجھے یہ پسند ہے کہ(کاش)میں اس سال نہ آتی آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا شاید حیض آیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے وہ کچھ کرو جو جی کرتا ہے البتہ پاک ہونے تک بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرو۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں جب میں مکہ مکرمہ میں آئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل دو تو جن لوگوں کے پاس ہدی تھی ان کے علاوہ سب نے احرام کھول دیا آپ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے مالدار لوگوں کے پاس ہدی تھی پھر جب قربانی کا دن ہوا تو میں پاک ہوگئی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف زیارت کا حکم دیا پھر ہمیں گاے کا گوشت پیش کیا گیا تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟تو صحابہ کرام نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گاے ذبح کی ہے جب(وادی)محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ حج اور عمرہ کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی تو آپ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھا کر لے گئے۔ام المؤمنين فرماتی ہیں مجھے یاد ہے کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور مجھے(سواری)پر نیند اجاتی تھی اور پالان کی پچھلی لکڑی میرے چہرے پر لگتی تھی۔حتیٰ کہ ہم مقام تنعیم میں آے اور میں نے اس عمرہ کی جگہ جو صحابہ کرام نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے حج کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔اس کے بعد ماجشون(راوی)کی حدیث کے مطابق ہے(حدیث نمبر ٢٨١٧ کی مثل)لیکن حماد کی حدیث میں یہ بات نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور دیگر مالدار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہدی تھی اور پھر انہوں نے احرام باندھا جب چلنے لگے اور اس میں ام المؤمنين کا یہ قول بھی نہیں کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور مجھے نیند اجاتی تھی حتیٰ کہ پالان کے پچھلے حصے کی لکڑی میرے چہرے پر لگتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٤؛حدیث نمبر٢٨١٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧؛حدیث نمبر٢٨١٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حج کے مہینوں میں اور حج کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر نکلے حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ اس احرام کو عمرہ میں بدلنا چاہے تو وہ ایسا کر لے اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اس طرح نہیں کرسکتا تو جن کے پاس ہدی نہیں تھی ان میں سے بعض نے اس پر عمل کر لیا اور بعض نے نہیں کیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جن صحابہ کرام کو طاقت تھی ان کے پاس ہدی تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ نے پوچھا تم کیوں رو رہی ہو؟میں نے عرض کیا میں نے آپ کا کلام سنا ہے جو آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا اور میں نے عمرہ کے بارے میں بھی سنا ہے آپ نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟میں نے عرض کیا میں نماز نہیں پڑھ سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا تم اپنے حج کے اعمال ادا کرو۔عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی عطاء کرے گا تم آدم علیہ السلام کے بیٹیوں میں سے ایک ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھی وہ کچھ مقدر فرمایا ہے جو ان کے لیے مقدر فرمایا۔ ام المؤمنين رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس میں اپنے حج کے سلسلے میں نکلی حتیٰ کہ جب ہم منی میں اترے تو میں پاک ہوگئی پھر ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں اترے تو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بلاکر فرمایا اپنی بہن کو حرم شریف(کی حد)سے باہر لے جاؤ تاکہ وہ عمرہ کا احرام باندھیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں پس ہم وہاں سے نکلے اور میں نے احرام باندھا پھر بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی مقام پر آدھی رات کے وقت پہنچی۔آپ نے پوچھا کیا تم فارغ ہو گئی ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے صحابہ کرام کو چلنے کا حکم دیا آپ بھی تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو صبح کی نماز سے پہلے طواف کیا پھر مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٥؛حدیث نمبر٢٨٢٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم میں سے بعض نے صرف حج کا احرام باندھا بعض نے قرآن کا احرام باندھا اور بعض نے تمتع کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حج کا احرام باندھ کر آئی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٢)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ذی القعده کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا حج کے سوا کوئی ارادہ نہیں تھا حتیٰ کہ جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہ ہو جب وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے تو احرام کھول دے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں دسویں ذوالحجہ(یوم نحر)کو ہمارے پاس گاے کا گوشت آیا تو میں نے پوچھا کیا ہے؟کہا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گاے ذبح کی ہے۔ یحییٰ(راوی)کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم تم نے یہ حدیث بعینہ بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٢٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٤)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ دوعبادتوں کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں ایک عبادت کے ساتھ واپس جاؤں گی؟آپ نے فرمایا انتظار کرو پس جب تم(حیض سے)پاک ہو تو تنعيم کی طرف چلی جانا اور وہاں سے احرام باندھ لینا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا کل اور تمہارے اس عمرہ کا ثواب تمہاری تکلیف یا فرمایا تمہارے خرچ کے مطابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٥)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ دو عبادتوں(حج اور عمرہ)کے ساتھ لوٹیں گے پھر حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٧؛حدیث نمبر٢٨٢٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا جب ہم آے اور ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے۔ام المومنین فرماتی ہیں جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی پس انہوں نے بھی احرام کھول دیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا پس میں بیت اللہ شریف کا طواف نہ کر سکی جب(وادی)محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ حج اور عمرہ کے ساتھ لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ جاؤں گی۔آپ نے پوچھا کیا تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا جب ہم مکہ مکرمہ میں آے تھے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ تنعيم کی طرف جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا۔حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرا خیال ہے کہ میں(حیض کی وجہ سے)تم لوگوں کو روکنے والی ہوں آپ نے فرمایا زخمی اور سرمنڈی(پیار سے یہ کلمات فرمائے)کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا۔انہوں نے عرض کیا جی ہاں کیا تھا فرمایا(اب)کوئی حرج نہیں چلو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری ملاقات آپ سے اس وقت ہوئی جب آپ مکہ مکرمہ سے بلندی پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں اوپر جارہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٧؛حدیث نمبر٢٨٢٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہم تلبیہ کہ رہے تھے ہم نے(خاص طور)حج کا ارادہ کیا نہ عمرہ کا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٢٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٨؛حدیث نمبر٢٨٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اور میرے پاس غصے کی حالت میں آے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کو کس نے ناراض کیا ہے اللہ اسے جہنم میں لے جائے آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا لیکن وہ اس(کی بجا آوری)میں تردد کر رہے ہیں۔(صحابہ کرام کے تردد کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احرام نہ کھولا تھا اور صحابہ کرام چاہتے تھے کہ وہ آپ کی اتباع کریں اس لیے یہ نافرمانی نہ تھی۔١٢ہزاروی) راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا جس چیز کا مجھے علم ہوا اگر پہلے علم ہوتا تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا حتیٰ کہ میں ہدی خریدتا پھر احرام کھول لیتا جیسا کہ انہوں نے کھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٣٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور تشریف لائیں اور ابھی طواف کعبہ نہ کیا تھا کہ حیض آگیا پس انہوں نے تمام افعال ادا کئے اور حج کا احرام باندھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کے دن فرمایا حج اور عمرہ کے لئے تمہارا طواف کافی ہے وہ اس پر راضی نہ ہوئیں تو آپ نے ان کو حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٣١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہیں مقام سرف میں حیض آگیا اور عرفات میں وہ اس سے پاک ہوگئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہارے لیے صفا اور مروہ کی سعی تمہارے حج اور عمرہ دونوں سے کفایت کرے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا لوگ دو ثوابوں کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں ایک ثواب کے ساتھ واپس لوٹوں گی؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ ان کو تنعیم کی طرف لے جائیں۔فرماتی ہیں انہوں نے مجھے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا فرماتی ہیں میں اپنے دو پٹہ کو گردن سے ہٹا دیتی تھی اور وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے تھے میں ان سے کہتی کیا تمہیں یہاں کوئی نظر آرہا ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم آے اور وادی حصبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٣)
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے(بٹھا کر)لے جائیں اور تنعیم سے عمرہ کروائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج افراد کا احرام باندھ کر آے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا احرام باندھ کر آئی تھیں حتیٰ کہ جب ہم سرف میں پہنچے تو وہ حائضہ ہوگئیں یہاں تک کہ ہم نے آکر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے ہم نے پوچھا اس احرام کھولنے سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا مکمل طور پر احرام سے نکل جائے پس ہم اپنی عورتوں کے قریب گئے،خوشبو لگائی اور(سلا ہوا)لباس پہنا۔اب یوم عرفہ(نو ذی الحجہ)تک چار دن باقی تھے پھر ہم نے آٹھ ذوالحجہ کو احرام باندھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا کہ مجھے حیض آگیا ہے اور لوگوں نے احرام کھول دیا جب کہ میں نے نہیں کھولا اور نہ ہی میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا جب کہ لوگ اب حج کے لیے جارہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا اور تمام مواقف(ٹھہرنے کی جگہ)میں وقوف کیا حتیٰ کہ جب وہ پاک ہو گئیں تو انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان چکر لگاے پھر آپ نے فرمایا تم حج اور عمرہ دونوں کے احرام سے نکل آئی ہو۔ام المومنین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے دل میں خلش ہے کہ میں نے حج سے پہلے طواف نہیں کیا تو آپ نے فرمایا اے عبدالرحمن ان کو لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کراؤ اور یہ وادی حصب کی رات تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث نمبر٢٨٣٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ رو رہی تھیں اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث نمبر٢٨٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا۔اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ سے کچھ فرمائش کرتیں تو آپ اسے پورا کرتے تھے چنانچہ آپ نے ان کو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھیجا اور انہوں نے تنعیم سے عمرہ کیا۔حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث ننمبر٢٨٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر نکلے ہمارے ساتھ عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی جب مکہ مکرمہ پہنچ چکے تو ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے فرماتے ہیں ہم نے کہا کس طریقے پر؟فرمایا مکمل طورپر احرام سے نکل آئے فرماتے ہیں پھر ہم عورتوں کے قریب گئے اور ہم نے(سلے ہوئے)کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی۔پس جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہوا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور ہمارے لئے صفا ومروه کے درمیان کی گئی پہلی سعی کافی ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گاے میں شریک ہوں ہم میں سے سات سات افراد ایک ایک گاے یا اونٹ میں شریک ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٢؛حدیث نمبر٢٨٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم نے احرام کھول دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم منی کی طرف جائیں تو احرام باندھ لیں۔پس ہم نے مقام ابطح میں احرام باندھ لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٢؛حدیث نمبر٢٨٣٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے صفا مروہ کے درمیان صرف ایک سعی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٣؛حدیث نمبر٢٨٤٠)
حضرت عطا فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور میرے ساتھ کچھ اور حضرات بھی تھے انہوں نے فرمایا ہم صحابہ کرام نے صرف حج کا احرام باندھا،(پھر)چار ذوالحجہ کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں یہ حکم ان پر واجب نہ تھا البتہ ان کی عورتوں کو ان پر حلال کردیا تھا ہم نے سوچا کہ جب عرفہ تک پانچ دن رہ گئے ہیں تو آپ نے ہمیں بیویوں کے پاس جانے کا حکم دیا۔پس ہم عرفات میں اس حالت میں جائیں گے کہ ہم سے جنسی عمل کے آثار ظاہر ہوں گے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں یہ کہتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ ہلاتے تھے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ نیکی کرنے والا ہوں اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح احرام کھول دیتا اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوجاتا جس کا علم اب ہوا ہے تو میں ہدی ساتھ نہ لیتا پس احرام کھول دو چنانچہ ہم نے احرام کھول دئے اور ہم نے حکم سنا اور اطاعت کی۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت علی کرم اللہ وجہ صدقات وصول کر کے تشریف لائے تو ان سے پوچھا آپ نے کون سا احرام باندھا ہے فرمایا جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہدی لے لو اور احرام کی حالت میں رہو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدی لاے تھے۔ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ حکم ہمارے اسی سال کے لئے ہے؟آپ نے فرمایا نہیں ہمیشہ کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ مکرمہ میں آے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا یہ بات ہم پر گراں گزری اس سے سینوں میں گھٹن محسوس ہوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے کوئی خبر آئی یا لوگوں سے معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا اے لوگو!احرام کھول دو اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح تم کرتے ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس ہم نے احرام کھول دیا حتیٰ کہ ہم نے بیویوں سے قرب حاصل کیا اور وہ کام کئے جو غیر محرِم کرتا ہے حتیٰ کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا اور ہم نے مکہ مکرمہ سے پیٹھ پھیری تو ہم نے حج کا احرام باندھا(اور تلبیہ)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤٢)
حضرت موسی بن نافع فرماتے ہیں میں آٹھ ذوالحجہ سے چار دن پہلے تمتع کے ارادے سے مکہ مکرمہ آیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارا حج اہل مکہ کے حج کی طرح ہوگیا پس میں حضرت عطاء بن رباح کے پاس گیا کہ ان سے مسئلہ پوچھوں تو حضرت عطاء نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا جس سال آپ نے اپنے ساتھ ہدی لی تھی ان سب حضرات نے حج افراد کا احرام باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اپنے احرام کھول دو بیت اللہ شریف کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر کے بال کٹواو۔ اور بغیر احرام کے رہو حتیٰ کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہو تو احرام باندھ کر اسے تمتع کرو انہوں نے عرض کیا ہم اسے کس طرح تمتع بنائیں۔ہم نے تو حج کی نیت کی تھی آپ نے فرمایا میں نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرو اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اس طرح کرتا جس طرح تمہیں حکم دیا ہے۔لیکن جب تک ہدی اپنی قربان گاہ تک پہنچ نہ جاتی میں احرام کھول نہیں سکتا لہٰذا تم احرام کھول دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں اور آپ کے ساتھ ہدی تھی لہٰذا آپ اسے عمرہ میں بدل نہ سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٥؛حدیث نمبر٢٨٤٤)
حضرت قتادہ حضرت ابونضرہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تمتع کا حکم دیتے تھے جبکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے روکتے تھے۔ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث تو میرے ہاتھوں میں ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمرہ کیا پھر جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور حکومت آیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس چیز کو جیسے چاہتا ہے حلال فرماتا ہے اور قرآن مجید اپنے مقام پر نازل ہوا پس حج اور عمرہ پوراکرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا اور ان عورتوں سے نکاح کرو تو میرے پاس جو ایسا شخص لایا گیا جس نے ایک خاص مدت کے لئے نکاح کیا(متعہ کیا)میں اسے سنگسار کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٥؛حدیث نمبر٢٨٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اپنے حج کو عمرہ سے الگ کرو اس طرح تمہارا حج بھی پورا ہوگا اور تمہارا عمرہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٦؛حدیث نمبر٢٨٤٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آے اور ہم حج کا تلبیہ کہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں۔(ان تمام احادیث میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان صحابہ کرام نے جن کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا حج کو عمرہ میں بدل دیا تو یہ عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے ساتھ خاص تھا اب ایسا نہیں کر سکتے۔امام ابو حنیفہ،امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھیےشرح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی،جلد ٣ص٤٢٢) (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٦؛حدیث نمبر٢٨٤٧)
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور انہوں نے سب کی خیریت دریافت کی یہاں تک کہ جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ میں محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم ہوں۔سوانہوں نے میری طرف(شفقت سے)ہاتھ بڑھایا اور میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے اوپر کی بٹن کھولی پھر نیچے کی بٹن کھولی اور پھر اپنی ہتھیلی رکھی میرے سینے پر دونوں چھاتیوں کے بیچ میں اور میں ان دنوں جوان لڑکا تھا،پھر کہا:شاباش خوش رہو۔اے میرے بھتیجے اور پوچھو مجھ سے جو چاہو۔پھر میں نے ان سے پوچھا اور وہ نابینا تھے اور اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور وہ کھڑے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر کہ جب اس کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں پر رکھتے تھے تو وہ نیچے گر جاتے تھے اس چادر کے چھوٹے ہونے کے سبب سے اور ان کی چادر بڑی تپائی پر رکھی تھی۔پھر نماز پڑھائی انہوں نے ہم کو(یعنی امامت کی) اور میں نے کہا کہ خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج سے(یعنی حجۃ الوداع سے)تو جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ٹوکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں رہے اور حج نہیں کیا،پھر دسویں سال صحابہ کرام میں اعلان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جارہے ہیں،پھر جمع ہو گئے مدینہ میں بہت سے لوگ اور سب چاہتے تھے کہ پیروی کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ویسا ہی کام کریں(حج کرنے میں)جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں غرض ہم لوگ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے،یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں حضرت محمد بن ابی بکر(رضی اللہ عنہم)کی پیدائش ہوئی۔اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”غسل کر لو اور لنگوٹ باندھ لو ایک کپڑے کا اور احرام باندھ لو۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھیں مسجد میں اور سوار ہوئے قصواء اونٹنی پر یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وہ سیدھی ہوئی بیداء پر(وہ ایک مقام ہے مثل ٹیلہ کے)تو میں نے دیکھا آگے کی طرف جہاں تک کہ میری نظر گئی کہ سوار اور پیادے ہی نظر آتے تھے اور اپنے داہنی طرف بھی ایسی ہی بھیڑ تھی اور بائیں طرف بھی ایسی ہی بھیر تھی اور پیچھے بھی ایسی ہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف اترتا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مراد کو اچھی طرح جانتے تھے اور جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہی ہم نے بھی کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے ساتھ لبیک پکاری اور کہا«لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ» اور لوگوں نے بھی یہی لبیک پکاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا اور یہی تلبیہ پڑھتے رہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم حج کے سوا اور کچھ ارادہ نہیں رکھتے تھے اور عمرہ کو پہچانتےہی نہ تھےیہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن کی تعظیم کی(یعنی حجر اسود کو بوسہ دیا)پھر آپ نے تین چکروں میں رمل کیا۔(پہلوانوں کی طرح چلے)اور چار بار عادت کے موافق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور یہ آیت پڑھی«وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» یعنی(اور بناؤ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ)اور مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے سامنے رکھا،پھر میرے والد کہتے تھے اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ذکر کیا ہو مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ذکر کیا ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں دو رکعتیں اور ان میں«قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھی۔پھر لوٹ کر گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس اور اس کو بوسہ دیا اور نکلے اس دروازہ سے جو صفا کی طرف ہے پھر جب صفا کے قریب پہنچے(وہ ایک پہاڑ کا نام ہے جو کعبہ کے دروازے سے بیس پچیس قدم پر ہے)تو یہ آیت پڑھی«ِاِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» یعنی ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ”ہم شروع کرتے ہیں جس سے شروع کیا اللہ تعالیٰ نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اس کی بڑائی بیان کی(یعنی «لاالٰه الا الله» اور «الله اكبر» کہا اور کہا «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ») یعنی کوئی معبود لائق عبادت نہیں سوا اللہ تعالیٰ کے،اکیلا ہے وہ، پورا کیا اس نے اپنا وعدہ (یعنی دین کے پھیلانے کا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا)اور مدد کی اس نے اپنے بندے کی اور شکست دی اس نے اکیلے سب لشکروں کو۔“پھر اس کے بعد دعا کی،پھر ایسا ہی کہا،پھر دعا کی غرض کہ تین بار ایسا ہی کیا پھر اترے اور مروہ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم میدان کے بیچ میں اترے تو دوڑے یہاں تک کہ مروہ پر پہنچے پھر مروہ پر بھی ویسا ہی کیا جیسے کہ صفا پر کیا تھا یعنی وہ کلمات کہے اور دعا کی قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہاں تک کہ جب طواف تمام ہوا مروہ پر (یعنی سات شوط ہو چکے)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اگر پہلے سے معلوم ہوتا اپنا کام جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا(اور مکہ ہی میں خرید لیتا) اور اپنے اس احرام حج کو عمرہ کر ڈالتا اب تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے(یعنی طواف و سعی تو ہو چکی اور عمرہ کے افعال پورے ہو گئے) اور اس کو عمرہ کر لے۔“پھر سراقہ بن مالک جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ!یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان میں ہیں جنہوں نے احرام کھول ڈالا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئی ہیں اور سرمہ لگائے ہوئی ہیں تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے برا مانا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ابا نے حکم فرمایا اس کا۔پھر راوی نے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں فرماتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا غصہ کرتا ہوا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر اس کے احرام کھولنے کے سبب سے جو انہوں نے کیا تھا پوچھنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات کو جو اس نے ذکر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی میں نے برا جانا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”فاطمہ نے سچ کہا سچ کہا۔“(یعنی میں نے ہی ان کو احرام کھولنے کا حکم دیا ہے)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم نے کیا کہا جب حج کا قصد کیا؟“تو میں نے عرض کی کہ میں نے کہا:یااللہ!میں اہلال کرتا ہوں اس کا جس کا اہلال کیا ہے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے ساتھ ہدی ہے (اس لیے میں نے احرام نہیں کھولا)اب تم بھی احرام نہ کھولو۔“کہا جابر رضی اللہ عنہ نے کہ پھر وہ اونٹ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ لائے تھے اورجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لائے سب مل کر سو اونٹ ہو گئے،کہا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہ پھر سب لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور بال کترائے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جن کے ساتھ قربانی تھی(کہ وہ محرم ہی رہے)پھر جب ترویہ کا دن ہوا (یعنی آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی)تو سب لوگ منیٰ کو چلے اور حج کی لبیک پکاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے اور منیٰ میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اور فجر(پانچ نمازیں)پڑھیں۔پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور حکم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیمہ کاجو بالوں کا بنا ہوا تھا کہ لگایا جائے نمرہ میں(کہ نام ہے ایک مقام کا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش یقین کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم المشعر الحرام میں وقوف کریں گے جیسے سب قریش کے لوگوں کی عادت تھی ایام جاہلیت میں اور آپ وہاں سے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ اپنا نمرہ میں لگایا اور اس میں اترے یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: قصواء اونٹنی تیار کرنے کااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے بیچ میں پہنچےاور لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے شہر میں قابل احترام ہے۔سنو!زمانہ جاہلیت کا ہر عمل میرے ان قدموں کے نیچے پامال ہے۔زمانہ جاہلیت کے ایک دوسرے پر خون پامال ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں ضائع قرار دیتا ہوں وہ حضرت ربیعہ بن حارث کا خون ہے وہ بنو سعد قبیلہ میں دودھ پیتے تھے تو ان کو ہذیل قبیلے نے قتل کر دیا۔ اور جاہلیت کا سود پامال اور ضائع ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سب کا سب پامال ہے۔پس عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو بےشک تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے ان کے ذمے تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کوایسی سزا دو جس سے چوٹ نہ آئے اور تمہارے ذمے ان کا حق ہے کہ معروف طریقے سے ان کو رزق اور لباس دو میں نے تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑو تو میرے بعد گناہ گار نہیں ہوگے اور وہ اللہ کی کتاب ہے۔قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دوگے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے(دین)پہنچا دیا۔فریضہ ادا کردیا اور(امت کی)خیر خواہی فرمائی۔ پھر آپ نے شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف کرتے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور تین بار فرمایا یا اللہ!تو گواہ ہوجا۔پھر اذان و اقامت ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھی پھر اقامت ہوئی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر موقف(ٹھہرنے کی جگہ)کے پاس تشریف لائے اور اپنی قصوا اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پیدل چلنے والوں کی پہاڑی کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہوے آپ سورج غروب ہونے تک مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج کی زردی چلی گئی اور اس کی ٹیکہ غروب ہوگئی تو آپ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور واپس تشریف لے گئے۔قصوا اونٹنی کا لگام اس تیزی کے ساتھ کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوے کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا اور آپ دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے اے لوگو!سکون اختیار کرو،سکون اختیار کرو۔اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے (جہاں بھیڑ کم پاتے)تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء پڑھی ایک اذان سےاور دو اقامتوں سے اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے(یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے یہاں تک کہ صبح برآمد ہوئی پھر فجر کی نماز ادا کی(سبحان اللہ! کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ رات دن،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے،اٹھنے جاگنے،کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یاد داشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ رحمت کرے ان پر)جب فجر خوب ظاہر ہو گئی اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز پڑھی،پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ المشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لاالٰہ الااللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اور لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے قبل طلوع آفتاب کے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا خوبصورت جوان تھا۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو ایک گروہ عورتوں کا ایسا چلا جاتا تھا کہ ایک ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی چاتی تھیں اور فضل ان کی طرف دیکھنے لگے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا(اور زبان سے کچھ نہ فرمایا سبحان اللہ! یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا)اور فضل نے منہ اپنا دوسری جانب پھیر لیا اور دیکھنے لگے(یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل پھر دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلی ہے یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے(اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں)اور سات کنکریاں اس کو ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ایسی کنکریں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں(اور دانہ باقلا کے برابر ہوں)اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں(کہ منٰی اور عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا)پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے باقی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ جس کو انہوں نے نحر کئیے اور شریک کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ہدی میں پھر حکم فرمایا کہ ہر اونٹ میں سے ایک ٹکڑا لیں اور ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی اور بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پانی بھرو اے اولاد عبدالمطلب کی اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا۔“(یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی)اور ان کی سقایت جاتی رہتی،پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہوسلم؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حج؛جلد٢ص٨٨٦ تا ٨٩١؛حدیث نمبر٢٨٤٨)
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔پھر انہوں نے حاتم بن اسماعیل کی طرح حسب سابق بیان کیا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ذکر کیا کہ اہل عرب کا دستور تھا کہ ابو سیارہ نامی ایک شخص گدھا کی ننگی پشت پر ان لوگوں کو(مزدلفہ سے)واپس لاتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے مشعر حرام کی طرف بڑھے اور قریش کو یقین ہوگیا کہ آپ مشعر حرام پر قیام فرمائیں گے اور آپ کی منزل یہی مقام ہوگا لیکن آپ آگے بڑھ گئے اور اس جگہ کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی حتیٰ کہ آپ عرفات میں تشریف لائے اور وہاں اترے۔ (مسلم شریف؛بَابُ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٢ص٨٩٢؛حدیث نمبر٢٨٤٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہاں جانور ذبح کیا اور منی پورے کا پورا ذبح کی جگہ ہے میں نے یہاں وقوف کیا اور عرفات سارے کا سارا وقوف(ٹھہرنے)کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا لیکن تمام کے لئے مزدلفہ قیام کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ؛جلد٢ص٨٩٢؛حدیث نمبر٢٨٥٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا پھر اپنی دائیں طرف چلے تو تین چکروں میں رمل فرمایا(پہلوانوں کی طرح چلے)اور چار چکروں میں عام حالت میں چلے۔ (مسلم شریف؛بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ؛جلد٢ص٨٩٣؛حدیث نمبر٢٨٥١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں قریش اور جو لوگ ان کے دین کے قریب تھے مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور اس عمل کو حمس کہتے تھے اور باقی تمام لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ عرفات میں تشریف لاکر وہاں وقوف فرمائیں تو آپ وہاں وقوف فرما کر وہاں سے واپس تشریف لاتے تھے۔قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں آیا۔{ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]"پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں"۔(مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٣؛حدیث نمبر٢٨٥٢)
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اہل عرب ننگے ہوکر بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے سوائے حمس کے اور حمس قریش اور ان کی اولاد کو کہتے ہیں تو باقی لوگ ننگے ہوکر طواف کرتے البتہ جن کو قریش کپڑے دیتے(وہ ایسا نہیں کرتے تھے)تو مرد،مردوں کو اور عورتیں،عورتوں کو لباس دیتی تھیں اور حمس(قریش)مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ باقی لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حمس وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں ام المؤمنين فرماتی ہیں لوگ عرفات سے واپس آئے اور حمس(قریش)مزدلفہ سے واپس لوٹتے تھے وہ کہتے تھے ہم حرم کے علاوہ کسی جگہ سے نہیں لوٹتے جب آیت کریمہ{أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩] نازل ہوئی تو وہ عرفات سے لوٹنے لگے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٣)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا اونٹ گم ہوگیا میں عرفہ کے دن(نو ذوالحجہ کو)اس کی تلاش میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں صحابہ کرام کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑے ہیں تو میں نے کہا اللہ کی قسم!یہ تو حمس سے ہیں تو یہاں کیوں کھڑے ہیں قریش حمس میں شمار ہوتے تھے۔(چونکہ قریش ایک ممتاز قبیلہ تھا اس لئے وہ مزدلفہ سے آگے نہ جاکر امتیازی شان کا اظہار کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لاے اس سے انصاف اور مساوات کا وہ نمونہ پیش کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو بھی باقی لوگوں کے ساتھ عرفات جانے کا حکم ہوا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٤)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی بطحاء میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے آپ نے پوچھا تم نے حج کی نیت کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ میں نے کہا میں نے اس چیز کی نیت کی جس کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا بیت اللہ شریف کا طواف کرو،صفا مروہ کی سعی کرو اور احرام کھول لو۔ وہ فرماتے ہیں میں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا،صفا مروہ کے چکر لگاے پھر بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا جس نے میرے سر کی صفائی کی۔پھر میں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں میں لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا ہوں حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آگیا تو مجھ سے ایک شخص نے کہا اے ابو موسیٰ یا اے عبداللہ بن قیس! یہ فتویٰ دینا چھوڑ دو تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے بعد!امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا نئے احکام جاری کئے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لوگو!ہم نے جن لوگوں کو فتویٰ دیا ہے وہ ٹھہر جائیں امیرالمومنین آنے والے ہیں پس تم ان کی اقتداء کرنا فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر ہم کتاب اللہ کی پیروی کریں تو کتاب اللہ ہمیں حج اور عمرہ پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک ہدی قربان گاہ پہنچ نہیں گئی۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛ترجمہ؛احرام سے نکلنے کا حکم منسوخ ہوگیا اور اسے پورا کرنے کا حکم؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٥٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٥؛حدیث نمبر٢٨٥٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ بطحاء میں اونٹوں کو بٹھائے ہوے تھے آپ نے پوچھا تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا میں نے نیت کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کا احرام باندھا ہے میرا بھی وہی احرام ہے۔آپ نے پوچھا کیا تم ہدی لاے ہو؟میں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول دو پس میں نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا جس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں لوگوں کو اسی بات کا فتویٰ دیتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا احکام جاری کئے ہیں تو میں نے کہا اے لوگو!میں نے جن کو کوئی فتویٰ دیا ہے وہ ٹھہر جائیں امیر المومنین آنے والے ہیں پس ان کی اقتداء کرنا۔ جب وہ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین!آپ نے احکام حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری فرمایا ہے؟انہوں نے فرمایا اگر ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو اور اگر ہم اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اختیار کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک ہدی(کے جانور)کو ذبح نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٥؛حدیث نمبر٢٨٥٧)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا فرماتے ہیں میں اس سال واپس آیا جس سال آپ نے حج کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابو موسیٰ!تم نے احرام باندھتے وقت کیا کہا ہے؟میں نے عرض کیا کہ میں نے نیت کی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احرام باندھا ہے میرا بھی وہی احرام ہے آپ نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ ہدی ہے؟میں نے عرض کیا نہیں فرمایا پس چلو بیت اللہ شریف کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرکے احرام کھول دو۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٥٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٥٨)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے ایک شخص نے ان سے کہا کہ آپ اپنے بعض فتاویٰ سے رک جائیں کیونکہ آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد امیر المومنین نے احکام حج سے متعلق کیا حکم صادر فرمایا ہے۔امیر المومنین سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سلسلے میں سوال کیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے یہ عمل کیا لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ازدواجی عمل کریں پھر حج کے لئے چلے جائیں اس حال میں کہ ان کے سروں سے(غسل جنابت کے باعث)پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں۔(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حج تمتع سے منع کرنا کس بنیاد پر تھا اس سلسلے میں قاضی عیاض علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج کو فسخ کرکے عمرہ کرنے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ اسے حجۃ الوداع کے ساتھ خاص سمجھتے تھے۔تفصیل کے لیے دیکھیے شرح مسلم علامہ سعیدی جلد ٣ص٤٢٥)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج،بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٥٩)
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمتع سے منع فرماتے تھے اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اس کی اجازت دیتے تھے پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے ایک بات کہی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا؟انہوں نے فرمایا ہاں معلوم ہے لیکن ہم اس وقت خوف زدہ تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج، بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٦٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦١)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مقام عسفان میں اکٹھے ہوئے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج تمتع یا عمرہ سے منع کیا کرتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا بات ہے آپ اس کام سے منع کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو انہوں نے فرمایا میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔پھر جب حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت پر دیکھا تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حج تمتع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے ساتھ خاص تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٣)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہی بیان ہے کہ ہمیں حج تمتع کے لئے رخصت تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عورتوں سے متعہ اور حج کا متعہ دونوں ہمارے ساتھ خاص تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٥)
حضرت عبد الرحمن بن ابو شعشاء فرماتے ہیں میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابراہیم تیمی کے پاس گیا تو میں نے کہا کہ میں اس سال حج اور عمرہ کو جمع کرنا چاہتا ہوں اس پر حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا لیکن آپ کے والد تو حج اور عمرہ ملاکر نہیں کرتے تھے نیز حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ربذہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا یہ ہمارے ساتھ خاص ہے دوسروں کے لئے نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٦)
حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے یہ عمل کیا ہے اور یہ(حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ)ان دنوں مکہ مکرمہ کے مکانوں میں حالت کفر میں تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اور اس میں حج تمتع کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٩)
حضرت مطرف فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا،آج میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں آج کے بعد نفع دے گا اور جان لو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے ایک گروہ کے ہمراہ ذوالحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا اور اس کے بعد کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اسے منسوخ کیا ہواور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اس کے بعد جس نےجو کچھ کیا اپنی رائے سے کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ ایک شخص نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا تو اس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٧١)
حضرت مطرف فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے تمہیں نفع عطا کرے گا وہ یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا پھر اس سے منع نہیں فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اور قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اسے حرام قرار دیا ہو اور مجھے(فرشتوں کی طرف سے)سلام کیا جاتا تھا حتیٰ کہ میں نے(مرض کی شدت کے باعث)داغ لگوایا تو یہ سلام موقوف ہوگیا پھر میں نے داغ لگانا چھوڑ دیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٧٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٣)
حضرت مطرف فرماتے ہیں جب عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس مرض میں مبتلا ہوے جس میں ان کا وصال ہوا تو انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا میں تمہیں کچھ احادیث بتاتا ہوں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے نفع عطاء کرے گا اگر میں زندہ رہا تو اس بات کو مخفی رکھنا(کیوں کہ یہ شہرت کے زمرے میں آجائے گا)اور اگر میرا وصال ہوجائے تو بیان کرنا اگر تم چاہو بات یہ ہے کہ مجھے سلام کیا جاتا تھا اور جان لو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس میں اس سے منع کیا گیا ہو اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع کیا اس کے خلاف جس نے بھی بات کی اپنی رائے سے کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع فرمایا پھر اس سلسلے میں قرآن مجید میں کوئی حکم(ممانعت کا حکم)نازل نہیں ہوا اور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اس سلسلے میں جس نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٥)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمتع کیا اور اس سلسلے میں قرآن مجید میں کوئی حکم(ممانعت کا)نازل نہیں ہوا ایک شخص نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج تمتع کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں حج تمتع کے بارے میں آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا پھر کوئی ناسخ آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اس کے بعد ایک شخص نے جو چاہا کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج اور عمرہ کو ملاکر تمتع کیا اور ہدی دی آپ ہدی(قربانی کے جانور)کو ذوالحلیفہ سے ساتھ لے گئے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے تلبیہ سے آغاز کیا پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور صحابہ کرام نے بھی آپ کے ساتھ حج تمتع کیا بعض صحابہ کرام کے پاس ہدی تھی تو ہدی(کا جانور)ساتھ لے گئے۔ اور بعض کے پاس ہدی نہیں تھی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ حج کی ادائیگی تک ان چیزوں سے حلال نہ ہو جو(احرام کی وجہ سے)اس پر حرام ہوچکی ہیں اور جس نے ہدی نہیں چلائی وہ بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور بال کٹواکراحرام سے نکل جائے پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے اور جس کو قربانی کی طاقت نہ ہو وہ حج کے ایام میں تین دن روزے رکھے اور جب گھر واپس آے تو سات روزے رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ جب تشریف لائے تو آپ نے طواف کیا اور سب سے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا پھر سات پھیروں میں سے تین چکر دوڑ کر لگائے اور چار چکروں میں عام رفتار میں چلے پھر طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد صفا پر تشریف لائے اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگاے پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی سے حلال نہیں ہوے جو حرام ہوئی تھیں حتیٰ کہ حج ادا کیا اور قربانی کے دن قربانی کی بیت اللہ شریف کا فرض طواف کیا اور پھر وہ تمام چیزیں حلال ہوگئیں جو(احرام کی وجہ سے)جوحرام ہوئی تھیں۔ اور جن لوگوں نے ہدی چلائی تھی انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح عمل کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ، وَأَنَّهُ إِذَا عَدَمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ؛ترجمہ؛تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے اور جب نہ پائے تو حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور گھر واپس آکر سات روزے رکھے؛جلد٢ص٩٠١؛حدیث نمبر٢٨٨٠)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ ملاکر کیا اور لوگوں نے بھی تمتع کیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا آپ نے فرمایا میں نے اپنے بالوں کو چپکا لیا اور ہدی کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے پس میں قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛ترجمہ؛قارن اس وقت احرام کھولے جب حج افراد والا احرام کھولتا ہے؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٢)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے آپ نے احرام نہیں کھولا؟اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٣)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ سے احرام نہیں کھولا آپ نے فرمایا میں نے اپنی ہدی(کے جانور)کے گلے میں قلادہ ڈالا اور سر کو چپکایا ہے پس میں جب تک حج نہ کر لوں احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٨٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ احرام کھول دیں۔ام المؤمنين حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کیا وجہ ہے کہ آپ احرام نہیں کھولتے؟آپ نے فرمایا میں نے اپنے سر کو چپکایا ہے اور ہدی کا جانور ساتھ لایا ہوں پس جب تک قربانی نہ کروں احرام نہیں کھول سکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٦)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ فتنہ کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کی غرض سے تشریف لے گئے اور فرمایا اگر ہمیں بیت اللہ شریف سے روک دیا گیا تو ہم اسی طرح کریں گے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پھر وہ تشریف لے گئے اور عمرہ کا احرام باندھا حتیٰ کہ جب مقام بیدا پر پہنچے تو اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تو فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے پس جب آپ بیت اللہ شریف کے پاس آئے تو اس کا طواف سات چکروں میں کیا اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگاے(سعی کی)اور اس پر اضافہ نہ کیا انہوں نے خیال کیا کہ یہ سات چکر کافی ہیں اور پھر انہوں نے قربانی کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛ترجمہ؛احصار کے وقت احرام کھولنے اور قِران کا جواز (نوٹ:احصار رک جانے کو کہتے ہیں جو شخص حج کے لئے رک جائے اور اسے راستے میں کوئی رکاوٹ ہو وہ محصر ہے)؛ جلد٢ص٩٠٣؛حدیث نمبر٢٨٨٧)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اور حضرت سالم بن عبداللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کلام کیا جب حجاج،حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے آیا،ان دونوں حضرات نے کہا اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہوجائے اور بیت اللہ شریف تک پہنچ نہ سکیں۔ انہوں نے فرمایا اگر میرے اور بیت اللہ شریف کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوئی تو میں اسی طرح کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا جب کفار قریش آپ کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان حائل ہوے تھے۔ (فرمایا)میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کی ہے پھر آپ تشریف لے گئے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ کیا پھر فرمایا اگر میرا راستہ صاف رہا تو عمرہ کروں گا اور رکاوٹ ہوگئی تو اس طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ہمراہ تھا آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]،"بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔ پھر تشریف لے گئے جب مقام بیدا پر پہنچے تو فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے اگر میرے لئے عمرہ میں رکاوٹ ہوئی تو حج میں بھی رکاوٹ ہوگی میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے پھر آپ نے مقام قدید میں ہدی خریدی اور پھر دونوں(حج اور عمرہ)کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر دونوں سے حلال نہ ہوے یہاں تک کہ قربانی کے دن حج کے احرام سے نکلے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٣؛حدیث نمبر٢٨٨٨)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا جب حجاج نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٨ کی مثل مروی ہے اور حدیث کے آخر میں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے اسے ایک طواف کافی ہے اور وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک دونوں سے حلال نہ ہوجائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٨٩)
حضرت نافع سے مروی ہے فرماتے ہیں جس سال حجاج نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اس سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان جنگ ہونے والی ہے اور ہمیں ڈر کہ آپ کو رکاوٹ پیش آئے انہوں نے فرمایا:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١]"تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے" میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے پھر آپ تشریف لے گئے حتیٰ کہ جب مقام ظاہر البیداء پر پہنچے تو فرمایا حج اور عمرہ کا ایک ہی معاملہ ہے تم گواہ رہو۔ابن رمح نے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے اور انہوں نے ہدی چلائی جو مقام قدید میں خریدی۔پھر دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی لیکن اس پر اضافہ نہ کیا قربانی بھی نہ کی،سر بھی نہ منڈایا اور نہ ہی بال کٹواے اور احرام کی وجہ سے جو امور حرام ہوے تھے ان سے حلال نہ ہوے حتیٰ کہ جب قربانی کا دن آیا تو انہوں نے قربانی کی اور سر منڈایا اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ذریعے حج اور عمرہ دونوں کا طواف کرلیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٠)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف شروع میں کیا جب آپ سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ شریف سے روک دیں گے تو آپ نے فرمایا میں اس وقت اس طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا جس طرح حضرت لیث نے ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج افراد کا احرام باندھا۔ابن عون کی روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛ترجمہ؛حج افراد اور قران؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے تھے حضرت بکر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ کہا تھا پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے«لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا»"میں حج اور عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں"(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٥؛حدیث نمبر٢٨٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع فرمایا۔راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے حج کا احرام باندھا تھا پھر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا تو انہوں نے فرمایا گویا ہم اس وقت بچے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٤)
حضرت وبرہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کیا میرے لیے عرفات میں آنے سے پہلے بیت اللہ شریف کا طواف درست ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اس نے کہا ہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیت اللہ شریف کا طواف عرفات میں جانے سے پہلے نہ کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ شریف کا طواف کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا صحیح ہے یا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر اگر تم اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہو۔(مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع سب سے مقدم ہے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَلْزَمُ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ؛جلد٢ص٩٠٥؛حدیث نمبر٢٨٩٥)
حضرت وبرہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میں بیت اللہ شریف کا طواف کرسکتا ہوں حالانکہ میں نے حج کا احرام باندھا ہے انہوں نے فرمایا تجھے کیا رکاوٹ ہے اس نے کہا میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتا ہے اور آپ ہمارے لیے اس سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا کہ اسے دنیا کی محبت نے غافل کردیا ہے انہوں نے فرمایا ہم میں اور تم میں کون ایسا ہے جسے دنیا نے غافل نہ کیا ہو۔ پھر فرمایا ہم نےرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔پس فلاں کے طریقے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتباع کے زیادہ لائق ہے اگر تم دعویٰ ایمان میں سچے ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٦)
حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عمرہ کے لئے آتا ہے اور بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے لیکن صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا کیا وہ اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے؟انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے بیت اللہ شریف کے سات چکر لگاے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں پھر صفا مروہ کے درمیان سات چکر سعی کے لگائے اور تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٨٩٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٨)
حضرت محمد بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میرے لئے یہ مسئلہ پوچھو کہ ایک شخص حج کا احرام باندھتا ہے تو کیا بیت اللہ شریف کے طواف کے بعد وہ احرام کھول سکتا ہے؟اگر وہ فرمائیں کہ نہیں کھول سکتا تو ان سے کہیں کہ ایک شخص یہ مسئلہ بیان کرتا ہے۔ حضرت محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ احرام سے نہیں نکل سکتا جب تک حج نہ کر لے میں نے کہا ایک شخص کہتا ہے(کہ وہ احرام کھول سکتا ہے) انہوں نے فرمایا اس نے بری بات کہی وہ فرماتے ہیں پھر وہ عراقی مجھے ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا میں نے اسے بتا دیا۔اس نے کہا آپ ان سے پوچھیں کہ وہ شخص اس بات کی خبر دیتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے اور حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کیا۔وہ فرماتے ہیں میں نے جاکر ان کو بتایا تو انہوں نے پوچھا وہ کون ہے؟میں نے کہا مجھے معلوم نہیں انہوں نے فرمایا اسے کیا ہے کہ وہ خود میرے پاس آکر نہیں پوچھتا میرا خیال ہے وہ عراقی ہے۔ فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے معلوم نہیں انہوں نے فرمایا اس نے جھوٹ کہا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے وضو کیا پھر بیت اللہ شریف کا طواف کیا پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو انہوں نے بھی پہلے طواف کیا پھر حج کے سوا کچھ نہ کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو میں نے ان کو دیکھا انہوں نے بیت اللہ شریف کے طواف سے آغاز کیا پھر کچھ اور عمل نہ کیا پھر حضرت معاویہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے حج کیا تو انہوں نے سب سے پہلے طواف کیا اور پھر کوئی دوسرا عمل نہ کیا پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا وہ اس کے سوا کچھ نہ کرتے تھے پھر میں نے سب سے آخر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے انہوں نے بھی عمرہ کے بعد حج کا احرام نہیں کھولا۔ اور یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس ہیں وہ اس سے سوال کیوں نہیں کرتے اسی طرح جو صحابہ کرام گزر چکے ہیں جب وہ مکہ مکرمہ جاتے تو سب سے پہلے طواف کرتے تھے پھر وہ احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی والدہ(حضرت اسماء)اور اپنی خالہ(حضرت عائشہ)رضی اللہ عنہما کو دیکھا جب وہ مکہ مکرمہ آتی تھیں تو سب سے پہلے طواف کرتیں پھر احرام نہیں کھولتی تھیں اور میری ماں نے مجھے بتایا کہ وہ اور ان کی ہمشیرہ حضرت زبیر اور فلاں فلاں نے فقط عمرہ کیا جب انہوں نے حجرہ اسود کو تعظیما ہاتھ لگایا تو احرام سے نکل گئے عراقی نے اس مسئلہ میں جو کچھ کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٩)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم احرام کی حالت میں نکلے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنا احرام برقرار رکھے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے میرے پاس ہدی نہیں تھی تو میں نے احرام کھول دیا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی تھی تو انہوں نے احرام نہ کھولا۔ فرماتی ہیں میں نے کپڑے پہن لئے پھر میں باہر آکر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئی تو انہوں نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ میں نے کہا کیا آپ کو خوف ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٧؛حدیث نمبر٢٩٠٠)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ آے پھر حدیث نمبر ٢٩٠٠ کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا مجھ سے دور جاؤ تو میں نے کہا کیا آپ کو ڈر ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٨؛حدیث نمبر٢٩٠١)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام حضرت عبد اللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے سنا جب بھی وہ مقام حَجون سے گزرتیں تو فرماتیں،اللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے تھے اور ان دنوں ہمارے پاس سامان کم تھا اور سواریاں بھی کم تھیں تو میں نے میری بہن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،حضرت زبیر اور فلاں فلاں رضی اللہ عنہم نے عمرہ کیا جب ہم بیت اللہ شریف کے طواف سے فارغ ہوئے تو ہم نے احرام کھول دیا پھر شام کے وقت ہم نے حج کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٨؛حدیث نمبر٢٩٠٢)
حضرت مسلم القری سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی جب کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے روکتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حضرت ابن زبیر کی والدہ ہیں جو بیان کرتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں اجازت دی ہے پس ان کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں پوچھو۔راوی فرماتے ہیں ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو وہ بھاری جسم کی نابینا خاتون تھیں انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں بعض راویوں نے صرف متعہ کا لفظ استعمال کیا متعۃ الحج کا لفظ نہیں۔ امام مسلم نے فرمایا معلوم نہیں کہ متعۃ الحج مراد ہے یا متعۃ النساء؟ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٤)
حضرت مسلم القری سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جن صحابہ کرام نے ہدی چلائی تھی۔احرام نہ کھولا جب کہ دوسرے حضرات نے احرام کھول دیا۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی ہدی لے جانے والوں میں سے تھے پس انہوں نے احرام نہ کھولا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٥)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں آیا ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور ایک شخص کے پاس ہدی نہیں تھی پس انہوں نے احرام کھول دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا خیال تھا کے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے چنانچہ وہ محرم کے مہینے کو صفر کا مہینہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹنیوں کی پیٹھیں ٹھیک ہو جائیں، نشانات مٹ جائیں اور صفر نکل جائے، تو عمرہ کرنے والے کے لئے عمرہ جائز ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام چارذوالحجہ کی صبح حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ اسے عمرہ میں بدل دیں ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم کس طرح حلال ہوں تو آپ نے فرمایا پورے حلال ہو جاؤ۔(احرام سے مکمل طور پر نکل جاؤ)(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٧)
حضرت ابو العالیہ البراء سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا آپ ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھی اور نماز کے بعد فرمایا جو شخص اسے عمرہ میں بدلنا چاہے اسے عمرہ میں بدل دے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١٠؛حدیث نمبر٢٩٠٨)
ایک اور سند سے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے روح اور یحییٰ نے نصر کی طرح بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب کہ ابوشہاب کی روایت میں ہے کہ ہم حج کا احرام باندھ کر نکلے پھر ان سب کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز بطحاء میں ادا کی البتہ جہضمی نے یہ بات ذکر نہیں کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١٠؛حدیث نمبر٢٩٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی چار راتیں گزرنے پر تشریف لائے اور وہ سب حج کا تلبیہ کہ رہے تھے تو آپ نے ان کو حکم دیا اس کو عمرہ(کےتلبیہ) میں بدل دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز مقام ذی طوی میں ادا کی اور ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر تشریف لائے آپ صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرہ میں بدل دیں سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ہدی چلائی ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عمرہ جس کے ذریعے ہم نے تمتع کیا پس جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ مکمل طور پر احرام کی پابندیوں سے نکل جائے کیونکہ عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٢)
حضرت ابوجمرہ الضبعی فرماتے ہیں میں نے تمتع کیا تو کچھ لوگوں نے مجھے اس سے روکا میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کی اجازت دی پھر میں بیت اللہ شریف کے پاس چلا گیا اور سو گیا تو کوئی شخص خواب میں آیا اور اس نے کہا حج اور عمرہ مقبول ہیں فرماتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھائی پھر اپنی اونٹنی طلب فرمائی اور اس کی کوہان کی دائیں جانب اشعار دیا(چیر دیا)جس سے خون جاری ہوا پھر اس کے گلے میں دو جوتوں کا قلادہ ڈال دیا اس کے بعد آپ اپنی سواری پر سوار ہوے جب مقام بیدا میں آپ اس پر اچھی طرح سوار ہوئے تو احرام کا تلبیہ کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛ترجمہ؛احرام کے وقت قربانی کو اشعار کرنا اور قلادہ ڈالنا؛جلد٢ص٩١٢؛حدیث نمبر٢٩١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے البتہ اس میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ تشریف لائے اس میں نماز ظہر پڑھنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٢؛حدیث نمبر٢٩١٥)
حضرت ابو حسان اعرج فرماتے ہیں بنو ھجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ فتویٰ ہے جس کی وجہ سے آپ نے لوگوں کو پریشان کردیا کہ جو شخص خانہ کعبہ کا طواف کرے وہ احرام سے نکل آیا انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی کی سنت ہے چاہے تمہیں ناگوار گزرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٦)
حضرت ابو احسان فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اس مسئلہ سے شور مچ گیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرے وہ عمرہ کے طواف سے فارغ ہوگیا تو انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار گزرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٧)
حضرت عطاء سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حاجی یا غیر حاجی جب بیت اللہ شریف کا طواف کرے تو وہ احرام سے نکل جاتا ہے۔ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا یہ بات کہاں سے فرمارہے ہیں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے(کہ رہا ہوں){ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٣٣]"قربانی کے ذبح ہونے کی جگہ بیت اللہ شریف ہے" راوی کہتے ہیں میں نے کہا قربانی تو عرفات سے واپسی کے بعد ہوتی ہے تو انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ عرفات سے واپسی کے بعد اور پہلے دونوں طرح ہے اور انہوں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی جب آپ نے صحابہ کرام کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٨)
حضرت طاؤس فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس تیر کے پیکان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور مونڈا وہ فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے معلوم نہیں اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے ان کو خبر دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تیر کے پیکان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور مروہ پر مونڈایا کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا آپ کا سر انور تیر کے پیکان سے مونڈا جارہا تھا اور آپ مروہ پر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩٢٠)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہم حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں البتہ جس نے ہدی چلائی ہو(وہ پہلے والی حالت میں رہے) جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہوا تو ہم حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف چلے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢١)
حضرت جابر اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے اور ہم حج کا تلبیہ کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٢)
Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 2923
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کس چیز کا احرام باندھا ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے وہی احرام باندھا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے آپ نے فرمایا اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے یوں فرمایا"لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "(میں حج و عمرہ کے لئے حاضر ہوں) (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک عمرۃ وحجا کہتے ہوئے سنا ایک اور روایت میں بھی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک عمرۃ وحج کہتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے حضرت ابن مریم(عیسی)علیہ السلام مقام فج الروحا میں حج یا عمرہ یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٢٨ کی مثل مروی ہے اس میں ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں آپ کے اسم گرامی کی بجائے"والذی نفسی بیدہ"(اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٣٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور یہ تمام عمرے ذی قعدہ میں کئے سوائے اس عمرہ کے جو حج کے ساتھ کیا۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے میں ذی قعدہ میں کیا۔دوسرا عمرہ آئندہ سال ذی قعدہ میں کیا تیسرا عمرہ جعرانہ سے جب ذی قعدہ کے مہینے میں غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد اور ان کا وقت؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣١)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے انہوں نے فرمایا آپ نے صرف ایک حج کیا اور عمرے چار کئے،تفصیل حدیث نمبر ٢٩٣١ کی مثل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٢)
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی انہوں نے فرمایا سات غزوات میں،اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج یعنی حجۃ الوداع فرمایا،ابو اسحاق فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں دوسرا حج کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٣)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ام المومنین کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابو عبد الرحمن!(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں کیا ہے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اماں جان!کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات سنی ہے انہوں نے پوچھا کیا کہتے ہیں میں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن کی مغفرت فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ نہیں کیا اور آپ نے جب بھی عمرہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ساتھ تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سن رہے تھے انہوں نے نہ ہاں کہا اور نہ انکار کیا بلکہ خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٤)
حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں اور حضرت عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ہم نے ان سے لوگوں کی اس نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ بدعت ہے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا اے ابو عبد الرحمن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں انہوں نے جواب دیا آپ نے چار عمرے کئے ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہم نے ان کو جھٹلانا یا ان کی بات کو رد کرنا نا پسند خیال کیا اور ہم نے حجرہ مبارکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا اے ام المومنین!کیا آپ حضرت ابو عبدالرحمن کی بات سن رہی ہیں؟انہوں نے پوچھا وہ کیا کہتے ہیں انہوں نے کہا وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے جن میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا۔ام المومنین نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن پر رحم فرماۓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا وہ آپ کے ہمراہ تھے اور آپ نے رجب میں عمرہ کبھی نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورت سے فرمایا راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس نے اس کا نام بھی لیا تھا لیکن میں بھول گیا(آپ نے فرمایا)ہمارے ساتھ حج کرنے میں تمہیں کیا رکاوٹ ہے اس نے کہا ہمارے پاس پانی لانے کے لئے دو ہی اونٹنیاں تھیں ایک پر میرا شوہر اور میرا بیٹا حج کرنے گئے ہیں اور دوسرا اونٹ ہمارے پاس چھوڑ گئے ہیں جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آے تو عمرہ کرلینا کیونکہ اس مہینے میں عمرہ حج کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ؛ترجمہ؛رمضان شریف میں عمرہ کرنے کی فضیلت؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون جسے ام سنان کہا جاتا تھا،فرمایا تمہیں کس چیز نے منع کیا کہ ہمارے ساتھ حج کرو اس نے کہا فلاں(یعنی اس کے شوہر)کے پاس پانی لانے کے دو اونٹ تھے وہ اور اس کا بیٹا حج کرنے گئے ہیں اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی لاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا فرمایا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درخت والے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے داخل ہوتے اور جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو بالائی گھاٹی سے داخل ہوتے اور جب باہر نکلتے تو نچلی گھاٹی سے نکلتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٤٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٣٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو اوپر والی جانب سے داخل ہوتے اور جب تشریف لے جاتے تو نچلی جانب سے نکلتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٤٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کے بالائی حصے کداء سے داخل ہوئے،ہشام فرماتے ہیں میرے والد ان دونوں راستوں سے داخل ہوتے تھے اور اکثر کداء کی جانب داخل ہوتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی طوی میں گزاری حتیٰ کہ صبح ہوگئی پھر آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوے حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے ابن سعید کی روایت میں ہے حتیٰ کہ آپ نے صبح کی نماز پڑھی یحییٰ فرماتے ہیں یا فرمایا حتیٰ کہ صبح کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛دخول مکہ کے وقت ذی طوی میں رات گزارنا،داخل ہونے کے لئے غسل کرنا اور دن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٢)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں صرف ذی طوی کی طرف سے آتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی تو آپ غسل کرکے دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوے اور وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٣)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں اترتے اور وہاں رات گزارتے حتیٰ کہ صبح کی نماز وہیں اداکرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ ایک بڑے ٹیلے پر ہے اس مسجد میں نہیں جو بعد میں بنائی گئی بلکہ اس سے نیچے بڑے ٹیلے پر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٤)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ کی دو چوٹیوں کے درمیان قبلہ رخ ہوتے جو طویل پہاڑ ہے اور وہاں بنی ہوئی اس مسجد کو بائیں طرف کرتے جو ٹیلے کے کنارے پر ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اس سے نیچے سیاہ ٹیلے کے کنارے پر تھی آپ ٹیلے سے دس ہاتھ یا کم و بیش چھوڑ دیتے پھر اس طویل پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے درمیان قبلہ رخ ہوتے جو آپ کے اور کعبہ شریف کے درمیان ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز دوڑتے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلتے اور جب صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تو دو سبز میلوں کے درمیان دوڑتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛ترجمہ؛عمرہ کے طواف اور حج کے پہلے طواف میں رمل کا بیان؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مکہ مکرمہ آنے کے بعد)جب حج اور عمرہ کا پہلا طواف کرتے تو بیت اللہ شریف کے طواف میں پہلے تین چکروں میں دوڑ لگاتے پھر چار چکروں میں عام طریقے پر چلتے پھر دو رکعتیں پڑھ کر صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو حجرہ اسود کو بوسہ دیتے اور پہلے طواف میں سات چکروں میں سے تین میں دوڑتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(طواف کے)تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک تین حالت رمل میں چکر لگاے اور چار میں عام رفتار میں چلے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٩)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا(دوڑ لگائی)اور فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٥٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے طواف کے تین چکروں میں حجر اسود سے رمل شروع کیا اور اسی پر ختم کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے(پہلے)تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥٢)
حضرت ابو الطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے بتائے کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی میں معمول کے مطابق چلنا سنت ہے کیونکہ آپ کی قوم اسے سنت سمجھتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا،فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا؟فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکین نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کمزور ہونے کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتے اور وہ آپ سے حسد کرتے تھے تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ(طواف کے)تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلیں۔راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے صفا مروہ کے درمیان سعی کے بارے میں بتائیں کہ یہ سواری کی حالت میں سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنت ہے فرمایا انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ بھی بولا میں نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے کہ سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں کا ہجوم ہوگیا اور وہ کہنے لگے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حتیٰ کہ کنواری لڑکیاں بھی گھر سے نکل آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اپنے سامنے سے نہیں ہٹاتے تھے جب ہجوم زیادہ ہوا تو آپ سوار ہوگئے اب پیدل چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٥٣ کی مثل مروی ہے سوائے اس کے وہاں یہ الفاظ ہیں وکان اھل مکۃ قوم حسد اور یہ نہیں ہے یحسدونہ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٤)
حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کے طواف میں رمل کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی ہے اور یہ سنت ہے فرمایا انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٥)
حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے بیان کرو فرماتے ہیں میں نے کہا میں نے آپ کو مروہ کے پاس اونٹنی پر دیکھا اور آپ کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے کیونکہ صحابہ کرام کی عادت تھی کہ وہ آپ کو چھوڑتے تھے اور نہ آپ سے دور ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور مدینہ طیبہ کے بخار نے ان کو کمزور کردیا تھا تو مشرکین نے کہا کل تمہارے پاس ایک جماعت آے گی جن کو بخار نے کمزور کردیا ہے اور انہیں اس سے سخت تکلیف پہنچی ہے پس وہ حطیم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ تین چکروں میں رمل کریں اور دو رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلیں تاکہ آپ مشرکین کو صحابہ کرام کی توانائی دکھائیں۔ تو مشرکین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تمہارا خیال تھا کہ بخار نے ان کو کمزور کردیا ہے حالانکہ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کو تمام چکروں میں رمل کا حکم ان کی تھکاوٹ کے پیش نظر نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٣؛حدیث نمبر٢٩٥٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی اور بیت اللہ شریف کے طواف میں رمل کیا تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔(کفار کہتے تھے کہ ان لوگوں کو یثرب کے بخار نے کمزور کردیا ہے اس لئے ان کے سامنے پہلوانوں کی طرح چلنے کا حکم فرمایا۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٣؛حدیث نمبر٢٩٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی رکنوں کے علاوہ بیت اللہ شریف(کے کسی حصے)کو ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٥٩)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے ارکان میں سے صرف حجر اسود اور اس کے ساتھ والے رکن کی تعظیم کرتے تھے جو بنو جمحیین کے مکانوں کی طرف ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کی تعظیم کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکنوں کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھا میں نے شدت اور آسانی کی صورت میں بھی ان کی تعظیم کو نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٢)
حضرت نافع فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے حجر اسود کو ہاتھ لگایا پھر اسے بوسہ دیا اور فرمایا میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عمل کرتے دیکھا ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے نہیں دیکھا سوا ان دو رکن یمانی کے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا سنو!اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے تو ایک پتھر ہے اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ؛ترجمہ؛طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا حکم جلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تجھے بوسہ دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٦)
حضرت عبداللہ بن سرجس فرماتے ہیں میں نے اصلح یعنی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ کی قسم میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تو نقصان دے سکتا ہے نہ نفع، اور اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٧)
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور فرماتے تھے میں تجھے بوسہ دیتا ہوں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٨)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجھے بہت چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تجھے بہت چاہتے تھے اور اس میں چمٹنے کا ذکر نہیں۔(اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند اور عمل سے بہت زیادہ لگاؤ تھا اور دوسری بات یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں وہ اپنے قیاس اور سوچ کو بھی ترک کر دیتے تھے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر(سوار ہوکر)طواف کیا(اور)آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے(چھڑی حجر اسود سے لگا کر اسے بوسہ دیتے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛ترجمہ؛اونٹ وغیرہ پر سوار ہوکر طواف کرنا اور حجر اسود کا لاٹھی وغیرہ سے استلام کرنا؛ِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ شریف کا طواف اپنی سواری پر کیا اور آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کی تعظیم فرماتے ہیں(سوار ہونے کا مقصد یہ تھا)تاکہ آپ بلند ہوں اور لوگ آپ کو دیکھ کر سوال کرسکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ شریف کا طواف سواری پر کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی اسی طرح کی تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور بلند ہونے کی وجہ سے آپ سے سوالات بھی کرسکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد طواف اپنی اونٹنی پر کیا اور اسی حالت میں حجر اسود کا استلام کیا آپ نے یہ بات ناپسند فرمائی کہ لوگوں کو آپ سے ہٹایا جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٤)
حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ بیت اللہ شریف کا طواف اور حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے(چھڑی کو حجر اسود سے لگا کر)اسے بوسہ دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٥)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا لوگوں کے پیچھے سے سوار ہوکر طواف کرو فرماتی ہیں میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور اس میں سورہ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٦)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کیا میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو کوئی حرج نہیں ام المؤمنين نے فرمایا تم یہ بات کس وجہ سے کہ رہے ہو قرآن مجید میں تو ہے۔{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨]("بے شک صفااورمروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں ہیں")پھر ام المؤمنين نے فرمایا جو شخص صفااور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کے حج کو پورا نہیں کرتا۔اور اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو(قرآن پاک میں)یوں ہوتا"فلاجناح علیہ ان لا یطوف بھما"(اس پر کوئی حرج نہیں اگر ان کے درمیان سعی نہ کرے)تم جانتے ہو کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے جاہلیت کے دور میں سمندر کے کنارے دو بت تھے جن کے نام اساف اور ارنالہ تھے انصار ان کے نام کا احرام باندھتے پھر آکر صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے اور سر منڈاتے جب اسلام آیا تو انہوں نے ان کے درمیان سعی کو ناپسند کیا اور دور جاہلیت کی سعی ان کے پیش نظر تھی فرماتی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] إِلَى آخِرِهَا،(بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں(آخر تک)ام المؤمنين فرماتی ہیں اس کے بعد انہوں نے سعی کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ ؛ترجمہ؛صفا مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج صحیح نہیں ہوتا؛جلد٢ص٩٢٨؛حدیث نمبر٢٩٧٧)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کیا میں اس بات میں حرج نہیں سمجھتا کہ میں صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں ام المؤمنين نے پوچھا کیوں؟میں نے عرض کیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک)ام المؤمنين نے فرمایا اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو یو ہوتا"پس اس پر حرج نہیں کہ وہ ان کے درمیان سعی نہ کرے"یہ آیت ان انصار کے بارے میں نازل ہوئی جو دور جاہلیت میں مناۃ(بت)کا احرام باندھتے تھے پس وہ صفا مروہ کے درمیان سعی کو جائز نہیں سمجھتے تھے جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لئے آے تو انہوں نے یہ بات ذکر کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پس مجھے اپنی جان کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کے حج کو مکمل نہیں کرتا جب تک وہ صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٨)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ جو شخص صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے میں اس پر کوئی حرج نہیں سمجھتا اور میں اس سعی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ام المؤمنين نے فرمایا اے بھانجے!تم نے غلط کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی اور صحابہ کرام نے بھی کی لہٰذا یہ سنت(واجب)ہے اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگ مُشلِّل میں مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے اور وہ صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے جب اسلام کا دور آیا تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"ترجمہ"بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے اس پر حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے اور اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو یوں فرمایا جاتا"پس اس پر حرج نہیں اگر وہ ان کے درمیان سعی نہ کرے" حضرت زہری فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن ہشام کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا یہ علم ہے۔. اور میں نے بہت سے اہل علم سے سنا وہ کہتے تھے کہ جو اہل عرب صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے درمیان ہماری سعی جاہلیت کے کام سے ہے اور انصار کے دوسرے لوگ کہتے تھے ہمیں بیت اللہ شریف کے طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کا حکم نہیں دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک) حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٢٩؛حدیث نمبر٢٩٧٩)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا پھر حدیث نمبر ٢٩٧٩ کی مثل بیان کیا اور اس حدیث میں فرمایا کہ جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم صفا مروہ کے درمیان سعی میں حرج سمجھتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "بے شک صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص حج اور عمرہ کرے اس پر حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے۔" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان سعی کا طریقہ جاری فرمایا پس کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ ان کے درمیان سعی کو چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٩؛حدیث نمبر٢٩٨٠)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ اسلام لانے سے پہلے انصار اور غسان مناۃ(بت)کے لئے احرام باندھتے تھے پس انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج خیال کیا اور ان کے باپ دادا سے یہ طریقہ چلاآرہاتھا کہ جو شخص مناۃ کے لئے احرام باندھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرسکتا انہوں نے اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے اور جو اپنی طرف سے نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ شکر کا بدلہ دینے والا جاننے والا ہے"۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار،صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی"بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک)(صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک واجب ہے اس کے ترک کرنے سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے اور دم(قربانی)دینے سے نقصان پورا ہوجاتا ہے جن احادیث میں سنت کا لفظ آیا ہے تو اس سے مراد سنت سے ثابت ہونا مراد ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے صفا مروہ کے درمیان سعی صرف ایک ایک بار کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لَا يُكَرَّرُ؛ترجمہ؛سعی میں تکرار نہیں؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٨٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لَا يُكَرَّرُ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں عرفات سے سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی بائیں جانب گھاٹی کے نیچے پہنچے تو اونٹنی کو بٹھایا اور پیشاب فرمایا پھر تشریف لائے تو میں نے آپ کو وضو کرایا آپ نے ہلکا سا وضو کیا پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ نماز(پڑھیں گے)فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز پڑھی پھر مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے۔حضرت کریب فرماتے ہیں مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت فضل(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ(ستون جسے کنکریاں مارتے ہیں)تک مسلسل تلبیہ(لبیک اللھم لبیک۔آخر تک)کہتے رہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛ترجمہ؛قربانی کے دن جمرہ عقبی کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہنا؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تو وہ فرماتے ہیں حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٦)
حضرت ابن عباس،حضرت فضل بن عباس(رضی اللہ عنہم)سے روایت کرتے ہیں اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے تھے وہ فرماتے ہیں عرفات کی شام اور مزدلفہ کی صبح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرماتے تھے آرام سے چلو اور آپ اپنی اونٹنی کو روکتے ہوے جاتے تھے حتیٰ کہ وادی محسر میں داخل ہوئے اور وہ منی میں ہے آپ نے فرمایا جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لیے کنکریاں چن لو وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٨٧ کی مثل مروی ہے اس میں مسلسل تلبیہ کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرماتے تھے جیسے انسان چٹکی سے پکڑ کر مارتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٨٨)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور اس وقت ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی آپ اس مقام پر"لبیک اللھم لبیک"کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٨٩)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دیہاتی ہیں اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہوگئے ہیں میں نے اس ذات سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی آپ اس مقام پر لبیک اللھم لبیک کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩١)
حضرت عبد الرحمن بن یزید اور حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس شخصیت سے سنا جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی کہ آپ اس مقام پر لبیک اللھم لبیک کہ رہے تھے پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلبیہ کہا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں منی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات کی طرف گئے تو ہم میں سے بعض تلبیہ کہ رہے تھے اور بعض تکبیر کہتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ کو منی سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنا؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ فرماتے ہیں ہم عرفہ کی صبح(نو ذوالحجہ کی صبح)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعض تکبیر کہنے والے اور بعض لا الہ الا اللہ پڑھنے والے تھے پس ہم تکبیر کہتے تھے حضرت عبد اللہ بن ابو سلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم پر تعجب ہے تم نے ان سے کیوں نہیں پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٤)
حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور وہ دونوں منی سے عرفات کی طرف جارہے تھے کہ اس دن تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا طریقہ اختیار کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہم سے کوئی لا الہ الا اللہ پڑھتا تو اس پر اعتراض نہ کیا جاتا اور کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی اعتراض نہ کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٥)
حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرفہ کی صبح پوچھا اس دن تلبیہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں،انہوں نے فرمایا میں اس سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ساتھ تھا تو ہم میں سے بعض اللہ اکبر کہتے اور کچھ لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے اور کوئی کسی دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٦)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے حتیٰ کہ جب گھاٹی میں اتر کر پیشاب فرمایا تو ہلکا سا وضو فرمایا میں نے عرض کیا"نماز"آپ نے فرمایا نماز آگے پڑھیں گے پس آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اتر کر کامل وضو کیا پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو آپ نے نماز مغرب پڑھی پھر ہر آدمی نے اپنے اونٹ کو اس کے مقام پر بٹھا دیا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے نماز پڑھی اور دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛ترجمہ؛عرفات سے مزدلفہ کی طرف لوٹنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنا؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٧)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی پر قضائے حاجت کے لیے ایک گھاٹی میں تشریف لے گئے پھر میں نے آپ کو وضو کروایا اور عرض کیا کیا آپ نماز پڑھیں گے؟آپ نے فرمایا نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٨)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اتر کر پیشاب فرمایا اس روایت میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے وضو کرانے کا ذکر نہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"نماز" آپ نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ مزدلفہ میں پہنچے تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں(عشاء کے وقت میں)پڑھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٢٩٩٩)
حضرت کریب فرماتے ہیں انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب آپ سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے تو عرفہ کی شام آپ لوگوں نے کیا طریقہ اختیار کیا؟ انہوں نے فرمایا ہم اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ مغرب(کی نماز)کے لئے اونٹ بٹھاتے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور پیشاب فرمایا(اس میں حضرت اسامہ کے وضو کرانے کا ذکر نہیں)پھر پانی منگواکر خفیف سا وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز؟فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پس آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ میں آے تو مغرب کی اقامت ہوئی پھر لوگوں نے اپنے اونٹوں کو اپنے ٹھکانوں پر بٹھایا اور انہوں نے کھولا نہیں تھا کہ عشاء کی اقامت ہوئی آپ نے نماز پڑھائی پھر ان حضرات نے اونٹوں کو کھولا،راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا صبح کے وقت تم نے کیا کیا؟فرمایا حضرت فضل رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کے آگے جانے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٣٠٠٠)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس گھاٹی پر تشریف لائے جہاں امراء اترتے ہیں پس آپ اترے اور پیشاب کیا انہوں نے وضو کرانے کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ نے پانی منگواکر خفیف سا وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!نماز؟فرمایا نماز آگے چل کر ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٣٠٠١)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے تو میں سواری پر آپ کے پیچھے تھا جب آپ گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے پانی لے کر آپ کو وضو کروایا پھر آپ سوار ہوکر مزدلفہ پہنچے اور مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ میں پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٣)
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں موجود تھا کہ میرے سامنے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا،پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی پر کیسے چلتے تھے انہوں نے فرمایا آہستہ آہستہ جارہے تھے جب کچھ گنجائش پاتے تو سواری کو تیز چلاتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٠٤ کی مثل مروی ہے حضرت ہشام کہتے ہیں"النص"وہ رفتار ہے جو"العنق"سے ذرا تیز ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٥)
حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مزدلفہ میں ادا کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٦)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٠٠٦ کی مثل مروی ہے اور ابن رمح نے عبداللہ بن یزید خطمی کی روایت میں بیان کیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں کوفہ کے امیر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٨)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان کے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ملاکر پڑھا اور ان کے درمیان نوافل بالکل نہیں پڑھے آپ نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں(بطور مسافر)پڑھیں پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح کرتے تھے حتیٰ کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٩)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ پڑھی پھر انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی تھی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠١٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠١١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء(کی نمازوں)کو جمع کیا مغرب کی تین اور عشاء کی چار رکعتیں ایک ہی اقامت سے پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٢)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئےحتی کہ ہم مزدلفہ میں آے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھائی پھر واپس لوٹے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔(مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں اس طرح جمع کر کے پڑھنا واجب ہے کہ درمیان میں نفل نہ پڑھے ہدایہ میں ہے کہ اگر نفل پڑھے تو ان نمازوں کو دوبار پڑھے۔) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کے،اور آپ نے فجر کی نماز اس دن وقت سے پہلے پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٤ کی مثل مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے صبح کی نماز(اس کے معروف)وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی۔(اس حدیث سے احناف کے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ عام دنوں میں صبح کی تاخیر مستحب ہے)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ سے پہلے چلی جائیں تاکہ لوگوں کے ہجوم سے بچ جائیں اور وہ بھاری جسم کی خاتون تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی اور وہ آپ سے پہلے چلی گئیں اور ہمیں روک لیا گیا حتیٰ کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اگر میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح اجازت طلب کرتی اور آپ کی اجازت سے چلی جاتی تو یہ بات میرے لئے اس سے بہتر تھی جس پر میں خوش ہو رہی تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيْلِ قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ، وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم کی خاتون تھیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات(جانے کی)اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کاش میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مزدلفہ سے امام کے ساتھ ہی جایا کرتی تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں مجھے یہ بات پسند آئی کہ کاش میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی تھی اور صبح کی نماز منی میں پڑھ کو لوگوں کے آنے سے پہلے کنکریاں مارتی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی؟فرمایا ہاں اور ان کا جسم بھاری تھا پس انہوں نے اجازت مانگی اور آپ نے اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠١٩)
حضرت اسماء کے غلام عبد اللہ فرماتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کیا چاند غروب ہوگیا ہے اس وقت وہ دار مزدلفہ کے نزدیک تھیں میں نے کہا نہیں چنانچہ انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی پھر فرمایا بیٹے!کیا چاند غروب ہوگیا ہے میں نے کہا جی ہاں فرمایا مجھے لے چلو چنانچہ ہم گئے اور انہوں نے کنکریاں ماریں پھر اپنی منزل میں نماز پڑھی میں نے کہا مائی صاحبہ!ہم نے اندھیرے میں نماز نہیں پڑھی؟فرمایا ہر گز نہیں اے بیٹے!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(عورتوں کو)کوچ کرنے کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٠)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٠٢١ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا نہیں اے بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢١)
حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت ابن شوال(حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام)نے ان کو خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مزدلفہ سے(منی کی طرف)رات کو ہی بھیج دیا تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٢)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ کے دور میں اندھیرے میں ہی مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر ٣٠٢٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات مجھے کمزور لوگوں کے ساتھ ہی بھیج دیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے جن کمزورافراد کو(مزدلفہ سے)آگے بھیجا ان میں میں بھی تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے جن کمزور افراد کو آگے بھیجا میں بھی ان میں شامل تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامان کے ساتھ مزدلفہ کی رات سحری کے وقت بھیج دیا حضرت ابن جریج نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رات کے وقت بہت پہلے بھیج دیا تھا انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ سحری کا ذکر کیا تھا۔ میں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم نے فجر سے پہلے کنکریاں ماریں تو فجر کی نماز کہاں پڑھی تھی،فرمایا انہوں نے اور کچھ نہیں کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٧)
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیتے تھے پس وہ رات کے وقت مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ٹھہرتے اور جس قدر ہوسکتا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے پھر امام کے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے چلے جاتے تو ان میں سے بعض نماز فجر کے وقت منی میں پہنچے اور بعض اس کے بعد پہنچتے اور جب وہاں پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے۔(عذر کی وجہ سے اب بھی ایسا ہوسکتا ہے)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٨)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے دمن سے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے فرماتے ہیں آپ سے کہا گیا کہ لوگ تو اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ وہی مقام ہے جہاں سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛ترجمہ؛بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنامکہ مکرمہ اس کی بائیں جانب ہو اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر ہے؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٢٩)
حضرت اعمش کہتے ہیں میں نے حجاج بن یوسف کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہ رہا تھا قرآن پاک اس طرح جمع کرو جس طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے جمع کیا وہ سورت جس میں سورہ بقرہ(گاے)کا ذکر ہے وہ سورت جس میں عورتوں کا ذکر ہے(سورہ نساء)وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر ہے حضرت اعمش فرماتے ہیں میں نے ابراہیم سے ملاقات کی تو میں نے ان کو حجاج بن یوسف کے اس قول کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا اور فرمایا مجھ سے عبد الرحمن بن یزید نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور وادی کے دامن میں چلے گئے اور جمرہ عقبہ کے سامنے ہو کر وہاں سے سات کنکریاں ماریں آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں میں نے کہا اے عبد الرحمن!لوگ تو اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ وہی مقام ہے جہاں سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٣٠)
حضرت اعمش نے کہا کہ میں نے حجاج کو کہتے ہوئے سنا کہ سورہ بقرہ نہ کہو اس کے بعد حدیث نمبر ٣٠٣٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٣١)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کیا تو آپ نے سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں جانب رکھا جب کہ منی آپ کی دائیں جانب تھا اور فرمایا اسی مقام پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں جمرہ عقبہ کے پاس آنے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٣)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ عقبہ کے اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں فرماتے ہیں حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے کنکریاں ماریں پھر فرمایا اللہ کی قسم جس ذات پر سورہ بقرہ نازل ہوئی انہوں نے یہاں سے ہی کنکریاں ماری تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٤)
حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن سواری پر تھے اور کنکریاں مارتے تھے آپ نے فرمایا مجھ سے حج کے احکام سیکھو کیونکہ مجھے معلوم ہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»ترجمہ؛یوم نحر میں سوار ہو کر جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول"اپنے احکام حج سیکھ لو"؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٥)
حضرت ام الحصین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کیا تو میں نے آپ کو دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں آپ واپس ہوئے تو آپ سواری پر تھے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما بھی تھے ان میں ایک آپ کی سواری کی مہار پکڑ کر چل رہے تھے اور دوسرے نے کپڑے سے آپ کے سر انور پر دھوپ سے سایہ کر رکھا تھا اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی باتیں فرمائیں پھر میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا اگر تم پر ایک ناک کٹا حبشی بھی امیر بنا دیا جائے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور تسلیم کرو۔راوی فرماتے ہیں میرے خیال میں حضرت ام الحصین نے سیاہ رنگ کا ذکر کیا(کہ وہ سیاہ رنگ کا ہو) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٦)
حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا ان میں سے ایک نے آپ کی سواری کی مہار پکڑ رکھی تھی اور دوسرے نے اپنے کپڑے کو اٹھا کر دھوپ سے آپ پر سایہ کر رکھا تھا حتیٰ کہ آپ جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ٹھیکریوں کے برابر کنکریاں جمرہ پر ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ كَوْنِ حَصَى الْجِمَارِ بِقَدْرِ حَصَى الْخَذْفِ؛ترجمہ؛ٹھیکری کے برابر کنکری مارنا مستحب ہے؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت اور دوسرے دنوں میں زوال آفتاب کے بعد کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛کنکریاں مارنے کا مستحب وقت؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ اس طرح رمی کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ڈھیلوں سے استنجاء طاق مرتبہ ہے جمرات کو کنکریاں مارنا طاق بار ہے صفا مروہ کے درمیان سعی طاق مرتبہ ہے اور جب تم میں سے کوئی استنجاء کرے تو طاق بار کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دوبار فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے پھر فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر(بھی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛ترجمہ؛سر منڈانا،بال کٹوانے سے افضل ہے اور کٹوانا بھی جائز ہے؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: "یا اللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹوانے والے،آپ نے پھر یوں دعا کی یااللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹوانے والے؟فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر بھی" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال کٹوانے والوں پر،فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!بال کٹوانے والوں پر بھی؟فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹوانے والوں پر بھی؟آپ نے فرمایا (ہاں)بال کٹوانے والوں پر بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٤٤ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں یوں ہے کہ چوتھی بار آپ نے فرمایا اور بال کٹانے والے پر بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ!سر منڈانے والوں کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹانے والوں کو بھی،آپ نے پھر دعا مانگی یا اللہ!سر منڈانے والوں کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹانے والے کو بھی،آپ نے پھر دعا کی یااللہ!سر منڈانے والے کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹانے والوں کو بھی،آپ نے فرمایا اور بال کٹانے والوں کو بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٤٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٧)
حضرت یحییٰ بن حسین کی دادی بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے تین بار سر منڈانے والوں کے لیے اور ایک بار بال کٹوانے والوں کے لئے دعا مانگی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر مبارک مونڈوایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٤٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں تشریف لائے توجمرہ کے پاس جاکر اسے کنکریاں ماریں پھر اپنی رہائش گاہ میں تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام کو سر کی دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے مونڈنے کا حکم دیا پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا پھر(وہ بال مبارک)صحابہ کرام کو عطاء فرمانے لگے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛ترجمہ؛قربانی کے دن پہلے کنکریاں مارنا پھر قربانی کرنا پھر سر منڈوانا اور منڈوانے میں سر کی داہنی جانب سے آغاز کرنا سنت ہے؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت آئی ہے کہ حجام کو دائیں طرف کا اشارہ فرمایا اور وہاں موجود حضرات میں بال تقسیم فرمائے پھر حجام کو بائیں جانب اشارہ کیا اس نے بال مبارک مونڈے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطاء فرمائے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ دائیں جانب سے آغاز کیا تو آپ نے ایک ایک اور دو دو بال لوگوں میں تقسیم فرمایا پھر بائیں جانب کا حکم دیا اس نے اس طرف بھی اسی طرح کیا پھر فرمایا یہاں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں اس کے بعد وہ بال ان کو عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر اونٹوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو ذبح کیا حجام بیٹھا ہوا تھا آپ نے اپنے سر انور کی دائیں جانب اشارہ کیا تو اس نے دائیں جانب کے بال مونڈے آپ نے قریب والوں میں تقسیم کر دئے پھر فرمایا بائیں جانب کے بال مونڈو اور فرمایا ابوطلحہ کہاں ہیں؟پھر ان کو عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں قربانی کا جانور ذبح کیا اور سر انور منڈانے لگے دائیں جانب حجام کی طرف کی اس نے سر انور کے بال مونڈے تو آپ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ بال ان کو عطاء فرمائے پھر بائیں جانب اس کے قریب کی اور فرمایا مونڈو،اس نے آپ کا سر انور مونڈا تو آپ نے یہ بال مبارک حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائے اور فرمایا یہ لوگوں میں تقسیم کردو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منی میں لوگوں کے لئے کھڑے ہوے اور لوگ آپ سے سوال کرنے لگے ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پتا نہ چل سکا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا ذبح کرو کوئی حرج نہیں پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پتا نہ چل سکا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیا آپ نے فرمایا کنکریاں مارو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس عمل کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس میں تقدیم وتأخير ہوگئی تو آپ نے فرمایا اسے بجا لاؤ کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ٹھہرے ہوئے تھے تو لوگوں نے سوالات شروع کر دئے ان میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ رمی،قربانی سے پہلے ہوتی ہے تو میں نے رمی سے پہلے قربانی کردی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں دوسرے شخص نے کہا مجھے معلوم نہ تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے ہوتی ہے تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا قربانی کرو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں اس دن میں نے جس کام کے بارے میں بھی سنا کہ کسی شخص نے بھول کر افعال حج میں تقدیم و تاخیر کردی تو آپ نے فرمایا اسے بجا لاؤ،کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے معلوم نہ تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہے دوسرا آیا اور اس نے عرض کیا میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہے آپ نے تینوں کے بارے میں فرمایا کرلو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٧)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے لیکن اس میں تین آدمیوں کا ذکر نہیں یحییٰ اموی کی روایت میں ہے کہ میں نے قربانی سے پہلے سر مونڈایا(اور)کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی اور اس طرح کے سوالات تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا میں نے ذبح سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا ذبح کرلو کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ کنکریاں مارنے سے پہلے ذبح کرلیا فرمایا کنکریاں مارو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٩)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منی میں اونٹنی پر دیکھا تو آپ کے پاس ایک شخص آیا....... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٦٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس حال میں کہ آپ کے پاس ایک شخص قربانی کے دن آیا اور آپ جمرہ کے پاس کھڑے تھے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں اور ایک شخص آیا اس نے کہا میں نے رمی سے پہلے جانور ذبح کرلیا فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا میں نے رمی سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کر لیا فرمایا رمی کرلو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس دن آپ سے جس عمل کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے فرمایا کرلو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذبح،حلق(سر منڈانے)اور رمی کے سلسلے میں تقدیم و تاخیر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔(حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک ان افعال میں ترتیب واجب ہے اور ترتیب چھوڑنے پر دم لازم آتا ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف اضافہ کیا پھر واپس تشریف لاکر ظہر کی نماز منی میں پڑھی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی قربانی کے دن طواف اضافہ کرتے پھر واپس آکر ظہر کی نماز منی میں پڑھتے اور بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛؛ترجمہ؛قربانی کے دن طواف اضافہ کرنا؛ جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٣)
حضرت عبد العزيز بن رفیع فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توریہ کے دن(آٹھ ذوالحجہ کو)نماز کہاں پڑھی تھی اس سلسلے میں آپ کو جو احادیث یاد ہوں بتائے انہوں نے فرمایا منی میں،میں نے عرض کیا واپسی پر نماز کہاں پڑھی؟فرمایا وادی ابطح میں پڑھی، پھر فرمایا وہی کرو جو تمہارے امرا کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم وادی ابطح میں اترتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٥)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ وادی محصب میں جانا سنت سمجھتے تھے اور واپسی کے دن ظہر کی نماز وادی محصب میں پڑھتے تھے حضرت نافع فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء وادی محصب میں جاتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں وادی ابطح میں اترنا سنت نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لیے اترے تھے کہ مکہ مکرمہ جاتے ہوئے آپ کے لئے وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٨)
حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم ابطح میں اترتے تھے حضرت عروہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،وادی محصب میں نہیں جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لئے اترے تھے کہ وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وادی محصب میں جانا حج کی کوئی مقررہ عبادت نہیں یہ ایک منزل ہے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اترے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٠)
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منی سے تشریف لے گئے تو آپ نے مجھے وادی ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا لیکن میں آیا اور میں نے وہاں خیمہ لگایا اور آپ وہاں آکر ٹھہر گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو رافع،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر مقرر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ کل ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں کفار نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم منی میں تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کل ہم خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں کفار نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں قریش اور بنو کنانہ نے قسم کھائی کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب سے اس وقت تک نکاح اور خرید وفروخت نہیں کریں گے جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سپرد نہ کردیں۔ اس جگہ سے مراد وادی محصب ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ان شاء اللہ جب اللہ تعالیٰ فتح عطاء فرمائے گا تو ہماری منزل وہ جگہ ہوگی جہاں کفار نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ منی کی راتیں مکہ مکرمہ میں گزاریں کیونکہ وہ اب زمزم پلاتے تھے تو آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٠٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٦)
حضرت بکر بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں آپ کے چچا زاد شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور تم لوگ نبیذ(کھجور کا رس)پلاتے ہو اس کی وجہ غربت ہے یا بخل(کنجوسی)؟حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمد للہ!ہمیں کوئی حاجت(غربت)اور بخل نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تشریف لائے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے آپ نے پانی طلب کیا تو ہم نے کھجور کا نبیذ پیش کیا آپ نے خود نوش فرمایا اور باقی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا۔ پھر فرمایا تم نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا پس اسی طرح کرو تو ہم اس چیز کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتے جس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٧)
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ،حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں قربانی کے جانوروں کے پاس کھڑا ہوں اور ان کا گوشت چمڑے اور جھول صدقہ کردوں اور اس میں قصاب کو(بطور اجرت)نہ دوں۔وہ فرماتے ہیں ہم(اجرت)اپنی طرف سے دیں گے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛ترجمہ؛قربانی کا گوشت،کھال اور جھول وغیرہ صدقہ کرنا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں لیکن اس میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں۔ مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨٠)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں پر کھڑے ہوں اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنے اونٹوں کے گوشت،کھالوں اور جھولوں کو مساکین میں تقسیم کردیں اور اس میں سے قصاب کو(بطور اجرت)کوئی چیز نہ دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٨١ کی مثل مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گاے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گاے کی قربانی میں سات سات افراد شریک ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا تو ہم نے اونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے اور گاے کی قربانی سات افراد کی طرف سے کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حج اور عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سات سات افراد ایک جانور میں شریک ہوئے ایک شخص نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا ہم جس طرح قربانی کے جانور میں شریک ہوسکتے ہیں اسی طرح بعد میں خریدے گئے جانور میں بھی شریک ہوسکتے ہیں؟انہوں نے فرمایا یہ بھی تو بڑے جانوروں میں سے ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے موقعہ پر موجود تھے وہ فرماتے ہیں ہم نے اس دن ستر اونٹ ذبح کئے اور ہر اونٹ میں سات افراد شریک تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جب قربانی کر لیں تو احرام کھول دیں اور فرمایا کہ چند آدمیوں کی ایک جماعت قربانی میں شریک ہو آپ نے یہ حکم اس وقت دیا جب ان کو حج کا احرام کھولنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کرتے تو ہم ایک گاے میں سات افراد شریک ہوتے اور ان کی طرف سے ذبح کرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک گاے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حج کے موقعہ پر ایک گاے کی قربانی دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر ٣٠٩٠)
حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا انہوں نے فرمایا اس کو اٹھا کر کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر ذبح کرو یہ تمہارے نبی کی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَحْرِ الْبُدْنِ قِيَامًا مُقَيَّدَةً؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٩١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے قربانی کے جانور(ہدی)روانہ کیا کرتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار خود بناتی تھی پھر آپ ان کاموں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے(مطلب یہ کہ ہدی بھیجنے سے محرم نہیں ہوتے تھے)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٩٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے ہار بناتی ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے ہار بناتی تھی پھر آپ کسی کام سے پرہیز نہ کرتے اور اسے نہ چھوڑتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے لئے ہار بناے پھر آپ نے ان جانوروں کو نشان لگا کر اور ہار ڈالکر بیت اللہ شریف کی طرف بھیجا اور خود مدینہ طیبہ میں تشریف فرمارہے اور آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو حرام قرار نہ دیتے جو آپ کے لیے حلال تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٦)
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور بھیجتے تو میں اپنے ہاتھوں سے ان کے لئے ہار بناتی پھر آپ ان کاموں کو نہ چھوڑتے جن کو حلال(غیر محرم)نہیں چھوڑتا)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں یہ ہار اون سے بِنتی تھی جو ہمارے پاس تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس غیر محرم رہتے اور جس طرح وہ شخص جس نے احرام نہیں باندھا اپنی اہلیہ سے متمتع ہوتا ہے آپ بھی اسی طرح متمتع ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں دیکھتی ہوں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے ہار بکری کی اون سے بنتی تھی پھر آپ ان(جانوروں)کو بھیجتے اور خود ہمارے درمیان احرام کے بغیر ٹھہرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے ہار اکثر میں بناتی تھی پھر آپ ان جانوروں کے گلے میں ڈال کر ان کو بھیجتے اور خود ٹھہرتے رہتے اور کسی ایسے کام سے پرہیز نہ کرتے جس سے احرام والا پرہیز کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣١٠٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف قربانی کے لیے بکریاں بھیجیں تو ان کے گلے میں ہار ڈالا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣١٠١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم بکریوں کے گلے میں ہار ڈال کر بھیجتے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے بغیر ٹھہرتے اور کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٢)
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص قربانی کا جانور(حرم کی طرف)بھیجتا ہے تو اس پر وہ کام حرام ہو جاتے ہیں جو حج کرنے والے پر حرام ہوتے ہیں حتی کہ قربانی کا جانور ذبح کردیا جائے اور میں نے جانور بھیجا ہے تو مجھے اپنی رائے لکھ کر بھیجیں۔ حضرت عمرہ فرماتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بات اس طرح نہیں جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہی ہے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لئے اپنے ہاتھ سے ہار بناتی تھی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے ان کے گلے میں ڈالتے اور پھر ان کو میرے والد کے ہمراہ مکہ مکرمہ بھیجتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے ذبح ہونے تک اپنے اوپر کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٣)
حضرت مسروق فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ پردے کے پیچھے سے دستک دیتے ہوئے فرما رہی تھیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لئے خود اپنے ہاتھ سے ہار بنتی تھی پھر آپ ان کو بھیجتے اور قربانی ذبح ہونے تک کسی ایسے کام سے اجتناب نہ کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٣١٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے قربانی کے جانور کو ہنکاتا ہوا لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ قربانی کا جانور ہے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ دوسری یا تیسری بار فرمایا تمہیں خرابی ہو(یہ بدعا نہیں ہے محاورتاً فرمایا) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٠٦ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ اس اونٹ کے گلے میں ہار تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس دوران کہ ایک شخص اونٹ کو ہنکاتا ہوا لے جا رہا تھا اور اس کے گلے میں ہار تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے فرمایا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اونٹ کو چلا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا یہ(قربانی کا)اونٹ ہے آپ نے دو یا تین بار فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص اونٹ یا قربانی کا جانور لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے کہا یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١١٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اونٹ لے کر گزرا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٣١١٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قربانی کے جانور پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس پر مناسب طریقے سے سواری کر سکتے ہو جب تم اس کے لیے مجبور ہو حتیٰ کہ سواری پاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس پر مناسب طریقے سے سوار ہوسکتے ہو حتیٰ کہ سواری پاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٣)
حضرت موسیٰ بن سلمہ ہزلی فرماتے ہیں میں اور سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے گئے اور حضرت سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ بھی لے گئے جسے وہ ہانک رہے تھے راستے میں اونٹ تھک کر ٹھہر گیا تو حضرت سنان پریشان ہو گئے کہ اگر یہ تھک کر ٹھہر گیا تو وہ اس کے ساتھ کیا کریں گے انہوں نے سوچا کہ وہ شہر جاکر اس کے بارے میں مسئلہ معلوم کریں فرماتے ہیں دوپہر کے وقت ہم پہنچے اور بطحاء(وادی)میں اترے تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلو تاکہ ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں پھر ان کے پاس جاکر واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ایک جاننے والے سے سوال کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ سولہ اونٹ روانہ کئے تھے اور ان کے بارے میں اسے حکم دیا فرماتے ہیں وہ چلا گیا پھر واپس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو میں کیا کروں آپ نے فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کے گلے میں پڑے ہوئے جوتے کو اس کے خون سے رنگ دو اور اس کی کوہان پر مارو اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھاے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٢؛حدیث نمبر٣١١٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ اٹھارہ اونٹ بھیجے اس کے بعد حدیث نمبر ٣١١٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوقبیصہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک جائے اور تمہیں اس کی ہلاکت کا خوف ہو تو اس کو ذبح کردو پھر اس کے جوتے کو اس کے خون میں لت پت کرکے اس کی کوہان پر مارو اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھاے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں لوگ حج کے بعد بہر طور واپس جاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بیت اللہ شریف کا طواف کئے بغیر نہ جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ شریف کا طواف ہو البتہ حیض والی عورت کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٨)
حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حیض والی عورت طواف وداع کے بغیر جاسکتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ میرے فتویٰ پر یقین نہیں رکھتے تو فلاں انصاریہ(خاتون)سے پوچھیں کہ آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ نہیں۔ راوی فرماتے ہیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ہنستے ہوئے لوٹے اور فرمایا مجھے یقین ہے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت صفیہ بنت حی کو طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے حیض کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کیا وہ ہمیں روکنے والی ہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!انہوں نے طواف افاضہ کرلیا ہے تو ان کو حیض آیا ہے تو آپ نے فرمایا چلو(یعنی اب کوئی رکاوٹ نہیں) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حجۃ الوداع کے موقع پر طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا.... آگے حدیث نمبر٣١٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا ہے.... آگے حدیث نمبر٣١٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہمیں خدشہ تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو طواف افاضہ سے پہلے حیض آجائے گا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ حضرت صفیہ ہمارے لیے رکاوٹ بنیں گی ہم نے عرض کیا کہ وہ طواف اضافہ کر چکی ہیں آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا ہے آپ نے فرمایا شاید ان کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا انہوں نے تمہارے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کیا؟سب نے کہا ہاں کیا ہے فرمایا پس چلو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے وہ ارادہ کیا جو مرد اپنی زوجہ سے کرتا ہے تو بتایا کہ وہ حیض والی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والی ہیں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ قربانی کے دن طواف زیارت کرچکی ہیں فرمایا اب وہ تمہارے ساتھ جاسکتی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مکہ مکرمہ سے)واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمگین کھڑی ہوگئیں تو آپ نے فرمایا زخمی!سر منڈی!تم ہمیں روکنے والی ہو؟پھر فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کرلیا تھا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا پس چلو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٢٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ان کے غمگین ہونے کا ذکر نہیں۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر حیض والی عورت طواف افاضہ(فرض طواف)کر چکی ہو تو طواف وداع اس سے ساقط ہوجائے گا اور وہ اس(آخری)طواف کے بغیر ہی اپنے وطن واپس جا سکتی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ،حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کا دروازہ بند کر کے اندر ٹھہر گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب باہر تشریف لائے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اندر)کیا عمل کیا تھا انہوں نے فرمایا آپ نے دو ستونوں کو بائیں جانب،ایک ستون کو اپنی دائیں جانب اور تین ستون کو اپنے پیچھے رکھا اور ان دنوں بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر تھا،پھر آپ نے نماز پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛ترجمہ؛حجاج وغیرہ کا کعبۃ اللہ میں داخل ہونا اور نماز پڑھنا؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے اور کعبہ شریف کے صحن میں اترے تو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا وہ چابی لے کر آئے اور دروازہ کھولا،فرماتے ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت بلال،حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور آپ کے حکم سے دروازہ بند کردیا گیا وہاں کچھ دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جھپٹ کر سب لوگوں سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہاں؟فرمایا اپنے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٦؛حدیث نمبر٣١٢٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوکر تشریف لائے حتیٰ کہ اسے بیت اللہ شریف کے صحن میں بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایااور فرمایا چابی مجھے دو۔ وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے دینے سے انکار کردیا انہوں نے کہا اللہ کی قسم یا تم چابی دو گی یا میں اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نے چابی دے دی اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور آپ کو دے دی اور آپ نے دروازہ کھولا پھر حدیث نمبر ٣١٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٦؛حدیث نمبر٣١٣٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت اسامہ،حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے انہوں نے دیر تک دروازہ بند رکھا پھر کھول دیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے میں داخل ہوا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرکے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا اگلے دو ستونوں کے درمیان لیکن میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھی تھیں۔؟ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣١)
حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ کعبہ شریف تک پہنچ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت بلال اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہم بھی اندر داخل ہوئے تھے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا فرماتے ہیں وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرے پھر دروازہ کھولا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں سیڑھیاں چڑھ کر بیت اللہ شریف میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی تھی۔؟ انہوں نے فرمایا یہاں،اور میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٢)
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت اسامہ بن زید،حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کردیا جب دروازہ کھولا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا اور میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا جی ہاں آپ نےدو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٣)
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ،حضرت اسامہ بن زید،حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور ان حضرات کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہوا پھر ان پر دروازہ بند کردیا گیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یا حضرت عثمان بن طلحہ نے مجھے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے درمیان دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٤)
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا لیکن کعبہ شریف میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا انہوں نے فرمایا اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے مجھے حضرت اسامہ بن زید نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور نماز نہیں پڑھی جب باہر تشریف لائے تو بیت اللہ شریف کی طرف رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ قبلہ ہے۔ راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا نواحی سے کیا مراد ہے کیا کونے مراد ہیں فرمایا نہیں بلکہ بیت اللہ شریف کی ہر جانب قبلہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور اس میں چھ ستون تھے آپ ایک ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعا مانگی لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٦)
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں میں نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ کے موقع پر بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے؟انہوں نے فرمایا نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ شریف کو گرا کر اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قائم کردہ بنیادوں پر کردیتا کیوں کہ قریش نے کعبہ شریف کی تعمیر کرتے ہوئے کچھ حصہ چھوڑ دیا اور میں اس کی پچھلی جانب دروازہ بناتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب نقض الکعبۃ وبنائھا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٣٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتی کہ تمہاری قوم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے اسے ابراہیمی بنیادوں سے چھوٹا بنا دیا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ ابراهيمی بنیادوں پر لوٹا نہیں دیتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا(تو میں ایسا کرتا)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر(حطیم)سے ملے ہوئے دو کونوں کی تعظیم اسی لئے چھوڑی کہ یہ ابراہیمی بنیادوں پر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا دور جاہلیت قریب نہ ہوتا یا فرمایا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کا خزانہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیتا اس کا دروازہ زمین سے ملا دیتا اور حطیم کو کعبہ شریف میں داخل کردیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!اگر تمہاری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبۃ اللہ کو گرا کر اسے زمین سے ملا دیتا اور اس کے دروازے بناتا ایک مشرقی دروازہ اور دوسرا مغربی دروازہ، اور میں اس میں حطیم سے چھ گز داخل کرتا کیونکہ قریش نے کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤٢)
حضرت عطاء فرماتے ہیں جب یزید بن معاویہ کے زمانے میں بیت اللہ شریف اہل شام کی یہاں جنگ کی وجہ سے جل گیا اور اس کا وہ حال ہوا جو ہونا تھا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی حالت پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ لوگ حج کے موسم میں آے۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ لوگوں کو اہل شام کے خلاف برانگیختہ کریں یا ان کے خلاف اشتعال دلائیں۔ جب لوگ واپس ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا اے لوگو!مجھے کعبہ شریف کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر نئے سرے سے بناؤں یا اس کو مرمت وغیرہ کرکے ٹھیک کردوں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے جو مجھ پر منکشف ہوتی ہے یہ ہے کہ آپ اس کی اصلاح ومرمت کردیں اور اس کو اسی حالت پر چھوڑ دیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں تھا اور انہی پتھروں کو رہنے دیں جو لوگوں کے اسلام لانے کے وقت تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ جب تک نئے سرے سے نہ بنائے راضی نہیں ہوتا رب کا گھر کیوں نہ نیا بنایا جائے میں تین بار استخارہ کرنے کے بعد اپنے ارادے کو پکا کروں گا جب تین بار استخارہ کر لیا تو انہوں نے اس کو توڑنے کا ارادہ کر لیا لوگوں کو ڈر ہوا کہ جو شخص توڑنے کے لئے پہلے اس پر چڑھے گا اس پر آسمان سے بلا نازل نہ ہو جائے۔ حتیٰ کہ ایک شخص اوپر چڑھا اور اس نے اس سے ایک پتھر نیچے پھینکا جب لوگوں نے دیکھا کہ کوئی آفت نہیں پہنچی تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے چنانچہ انہوں نے اسے زمین تک توڑ دیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ستون کھڑے کرکے ان پر پردے ڈال دئے حتیٰ کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کا زمانہ کفر قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچہ بھی نہیں جس سے میں اس کی تعمیر کرسکوں ورنہ میں حطیم سے پانچ گز اس میں داخل کردیتا اور میں اس میں ایک دروازہ لوگوں کے داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ ان کے نکلنے کے لیے بناتا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج میرے پاس خرچہ ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے چنانچہ انہوں نے حطیم سے پانچ گز جگہ اس میں داخل کردی حتیٰ کہ اس جگہ بناے ابراہیمی ظاہر ہوگئی اور لوگوں نے اسے دیکھا انہوں نے اسے اس بنیاد پر تعمیر کیا خانہ کعبہ کی لمبائی اٹھارہ گز(ہاتھ)تھی جب اس میں اضافہ کیا تو لمبائی کم نظر آنے لگی پس لمبائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے دروازے بناے ایک داخل اور دوسرا نکلنے کے لیے۔جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو خط لکھ کر اس بات کی خبر دی اور یہ بات بھی بتائی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بناے ابراہیمی پر بنیاد رکھی ہے اور اسے اہل مکہ کے معتبر(عادل)لوگوں نے دیکھا ہے۔ عبد الملک نے اس کی طرف لکھا ہمیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے تغیر وتبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے لمبائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رکھواور جو کچھ حطیم سے اس میں ڈالا ہے اسکو پہلی بنیاد پر قائم کرو اور انہوں نے جو دروازہ کھولا ہے اسے بھی بند کر دو چنانچہ اس نے خانہ کعبہ کو شہید کرکے پہلے کی طرح بنادیا (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٠؛حدیث نمبر٣١٤٣)
حضرت عبداللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ،عبد الملک بن مروان کی خلافت کے دوران اس کے پاس وفد لے کر گئے۔ تو عبدالملک نے کہا میرا خیال نہیں کہ ابو خبیب یعنی حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ بات سنی ہے جس کا وہ دعوا کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا ہے حضرت حارث نے فرمایا ہاں میں نے بھی ام المؤمنين سے سنا ہے اس نے پوچھا آپ نے کیا سنا بتائیے انہوں نے فرمایا کہ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم نے بیت اللہ شریف میں کمی کردی اگر تمہاری قوم کا زمانہ شرک قریب نہ ہوتا تو انہوں نے جو کچھ چھوڑا ہے میں اسے دوبارہ شامل کر لیتا اگر میرے بعد تمہاری قوم اسے بنانا چاہے تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس تعمیر سے کیا چھوڑا ہے تو آپ نے ان کو سات ہاتھ(شرعی گز)کے قریب دکھایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧١؛حدیث نمبر٣١٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٤٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٢؛حدیث نمبر٣١٤٥)
حضرت ابوقزعہ کا بیان ہے کہ عبد الملک بن مروان بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا کہ اس نے کہا اللہ تعالیٰ(حضرت)ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے انہوں نے ام المومنین پر جھوٹ باندھا کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ شریف کو شہید کرکے اس میں حطیم میں سے اضافہ کردیتا تمہاری قوم نے تعمیر کو چھوٹا کردیا۔ حارث بن عبداللہ بن ربیعہ نے کہا امیر المومنین ایسا نہ کہو میں نے خود ام المومنین کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ عبد الملک نے کہا اگر میں بیت اللہ شریف کو شہید کرنے سے پہلے یہ بات سنتا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کو قائم رکھتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٢؛حدیث نمبر٣١٤٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حطیم کی دیوار بیت اللہ شریف میں شامل ہے آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے پوچھا کہ ان(قریش)نے اس کو بیت اللہ شریف میں شامل کیوں نہیں کیا؟آپ نے فرمایا تمہاری قوم کے پاس خرچہ کم تھا میں نے پوچھا اس کا دروازہ کیوں اونچا رکھا آپ نے فرمایا تمہاری قوم نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ جسے چاہے داخل ہونے کی اجازت دیں اور جس کو چاہے روک دیں۔اگر تمہاری قوم کا دور جہالت قریب قریب نہ گزرا ہوتا اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ وہ اس کو ناپسند کریں گے تو میں حطیم کی دیواروں کو کعبہ شریف میں داخل کردیتا اور اسکے دروازے کو زمین سے ملا دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں پوچھا...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣١٤٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی پوچھا اس کا دروازہ اونچا کیوں ہے کہ سیڑھی کے بغیر نہیں چڑھ سکتے آپ نے جواب دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ مجھے ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا ڈر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ خشعم قبیلے کی ایک عورت حاضر ہوئی آپ سے مسئلہ پوچھنے لگی حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف پھیرنے لگے اس عورت نے پوچھا یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور میرا باپ بہت بوڑھا ہوچکا ہے وہ سواری پر ٹھہر نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ نے فرمایا ہاں(حج کرو)اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهَرَمٍ وَنَحْوِهِمَا، أَوْ لِلْمَوْتِ؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٩)
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خشعم قبیلے کی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور اس پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہوچکا ہے جب کہ وہ اپنے اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طرف سے حج کرو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهَرَمٍ وَنَحْوِهِمَا، أَوْ لِلْمَوْتِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام روحاء میں کچھ سواروں نے ملاقات کی تو آپ نے پوچھا تم کون ہو؟انہوں نے عرض کیا ہم مسلمان ہیں انہوں نے کہا آپ کون ہیں؟آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو ایک خاتون نے بچے کو اٹھا کر پوچھا کیا اس کا حج ہوجائے گا؟فرمایا ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛ترجمہ؛بچے کے حج کا صحیح ہونا؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس کا حج بھی ہے،فرمایا ہاں اور تمہارے لئے اجر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٢)
حضرت کریب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے بچہ اٹھایا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس کا حج بھی ہے؟فرمایا ہاں اور تمہارے لئے ثواب ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو!تحقیق کہ تم پر حج فرض ہوگیا ہے پس حج کرو ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہر سال(فرض ہے)آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ پوچھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو(ہر سال)فرض ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے پھر فرمایا جن باتوں کو میں چھوڑ دوں تم بھی چھوڑ دیا کرو(سوال نہ کیا کرو)بےشک تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور(پھر)اپنے انبیاء کرام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے پس جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو جس قدر طاقت ہو اور جس کام سے میں روک دوں اس سے رک جاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّةً فِي الْعُمُرِ؛ترجمہ؛زندگی میں حج ایک بار فرض ہوتا ہے؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛ترجمہ؛عورت کا محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنا؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٥٦ کی مثل مروی ہے اس میں بھی محرم کے ساتھ تین دن کے سفر کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین راتوں(دن رات)کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٨)
حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث سنی تو وہ مجھے بہت پسند آئی حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرتا ہوں جو میں نے آپ سے سنی نہ ہو۔فرماتے ہیں میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا"تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف(زیادہ ثواب کی نیت سے)سفر نہ کیا جائے میری مسجد،مسجد حرام اور مسجد اقصٰی۔اور میں نے آپ کو یہ بات فرماتے بھی سنا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر کسی محرم یا خاوند کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٩)
حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں اور مجھے ان پر بہت یقین ہے آپ نے عورت کو منع کیا کہ وہ دو دن کا سفر خاوند یا محرم کے بغیر نہ کرے باقی حدیث حدیث نمبر ٣١٥٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین راتوں سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن سے زائد کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک رات کا سفر کرے مگر اس حالت میں(جائز ہے)کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم مرد ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ ایک دن کا سفر(بھی)کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد(مسافت)کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ باپ یا بیٹا یا خاوند یا بھائی یا کوئی بھی محرم ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٦٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ علیحدگی میں نہ ہو مگر یہ کہ اس عورت کے ساتھ اس کا محرم ہو اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے اور فلاں فلاں جہاد میں میرا نام لکھا ہوا ہے آپ نے فرمایا اپنی بیوی کے ساتھ جاؤ اور حج کرو ۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧٠کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧١ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ نہیں کہ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٢)
حضرت علی ازدی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھایا کہ جب اونٹ پر بیٹھ کر سفر کے لیے نکل پڑے تو تین بار"اللہ اکبر"کہنے کے بعد یہ کلمات پڑھیں(آیت کریمہ)«سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ" " وہ ذات پاک ہے جس نے ہمارے لئے اس(سواری)کو مسخر کردیا ہم اس کو مسخر کرنے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں" (پھر یہ دعا) اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ»، "یا اللہ!ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور اس عمل کا سوال کرتے ہیں،جس پر تو راضی ہو یا اللہ!تو ہم پر یہ سفر آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہمارے لیے لپیٹ دے یا اللہ!اس سفر میں تو ہمارا رفیق اور گھر میں نگہبان ہے یااللہ!ہم سفر کی مشقت اور اہل و مال میں برے منظر سے تیری پناہ چاہتے ہیں" اور جب واپس لوٹے تو یہی کلمات کہے اور ان میں یہ اضافہ کرے «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» " ہم لوٹنے والے ہیں،توبہ کرنے،عبادت کرنے والے اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں"۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛ترجمہ؛حج وغیرہ کا سفر کرنے کے لئے سوار ہو تو کیا پڑھے؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٣)
حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو سفر کی شدت و مشقت اور بری چیزیں دیکھنے سے،برے انجام سے،مظلوم کی بدعا سے اور اہل و مال میں برے انجام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٩؛حدیث نمبر٣١٧٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧٤ کی مثل مروی ہے البتہ کچھ الفاظ کا تغیر و تبدل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٩؛حدیث نمبر٣١٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر،جہاد،حج یا عمرہ سے واپس تشریف لائے یا جب کسی ٹیلے یا ہموار میدان میں تشریف لاتے تو تین بار"اللہ اکبر"کہتے پھر یہ کلمات پڑھتے:«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے،سجدہ کرنے والے اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا،اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا تمام لشکروں کو بھگا دیا۔ "(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛حج وغیرہ کے سفر سے واپسی پر پڑھی جانے والی دعائیں؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٧٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آرہے تھے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے آپ کی اونٹنی پر تھیں حتیٰ کہ جب ہم ظہر المدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: "ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں" آپ یہ کلمات مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ ہم مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین میں اپنا اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛حج یا عمرہ سے واپسی پر رات کے آخری حصے میں ذوالحلیفہ میں اترنا اور نماز پڑھنا؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٠)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ذوالحلیفہ کی پتھریلی زمین میں اونٹ بٹھاتے تھے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اونٹ بٹھاتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨١)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ سے واپسی پر ذوالحلیفہ کی کنکریلی جگہ پر اونٹ بٹھاتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ بٹھایا کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٢)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں ذوالحلیفہ میں پہنچ گئے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا جب آپ رات کے پچھلے حصے میں وادی کے دامن میں ذوالحلیفہ میں اترے تو آپ سے کہا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ(راوی)فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مسجد کے پاس اس جگہ اونٹ بٹھایا جہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اونٹ بٹھاتے تھے اور وہ اس جگہ کو تلاش کرتے تھے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اترے تھے اور یہ مقام وادی کے دامن میں مسجد کی نچلی جانب ہے اور یہ مسجد اور قبلہ کے درمیان ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حجۃ الوداع سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنایا تھا اس حج کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے قربانی کے دن ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ ہوکر طواف کرے۔ حمید بن عبدالرحمن،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے پیش نظر کہتے تھے کہ یوم نحر ہی یوم حج اکبر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا يَحُجُّ الْبَيْتَ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَبَيَانُ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ؛جلد٢ص٩٨٢؛حدیث نمبر٣١٨٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بندوں سے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ بندے کس ارادے سے آے ہیں۔(ذوالحجہ کی نو تاریخ یوم عرفہ ہے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ کی فضیلت؛جلد٢ص٩٨٢؛حدیث نمبر٣١٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ سے عمرہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٨٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص بیت اللہ شریف آے اور وہ بیہودہ باتیں اور گناہ نہ کرے وہ اس طرح واپس ہوتا ہے جیسے وہ آج ہی اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٨٩ کی مثل مروی ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ جس نے حج کیا اور کوئی بیہودہ بات اور گناہ نہ کیا ۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٨٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩١)
حضرت اسامہ بن زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر میں اتریں گے؟آپ نے فرمایا کیا عقیل نے مکہ مکرمہ میں ہمارا کوئی مکان یا زمین چھوڑی ہے عقیل اور طالب،ابوطالب کے وارث ہوئے تھے حضرت جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو ان کے ترکہ سے کچھ نہ ملا اس لئے کہ وہ دونوں مسلمان تھے جب کہ عقیل اور طالب کافر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛ترجمہ؛حجاج کا مکہ مکرمہ میں اترنا اور مکہ مکرمہ کے گھروں کی وراثت؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٢)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کل آپ کہاں اتریں گے اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے،آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٣)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان شاء الله!کل آپ کہاں اتریں گے؟اور یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے مکان چھوڑا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٤)
حضرت عبد الرحمن بن حمید فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ حضرت سائب بن یزید(رضی اللہ عنہ)سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے مکہ مکرمہ میں اقامت اختیار کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے حضرت سائب نے فرمایا میں نے حضرت علاء بن حضرمی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہاجر منی سے لوٹنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں رہ سکتا ہے گویا آپ نے فرمایا زیادہ دن قیام نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٥)
حضرت عبدالرحمن بن حمید فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے مکہ مکرمہ میں قیام کے بارے میں کیا سنا ہے تو حضرت سائب بن یزید نے فرمایا میں نے حضرت علاء سے سنایا حضرت علاء بن حضرمی نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہاجر مناسک حج ادا کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں تین دن ٹھہرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٦)
حضرت عبد الرحمن بن حمید سے مروی ہے انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے تو حضرت سائب نے فرمایا میں نے حضرت علاء بن حضرمی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہاجر(منی سے)واپسی پر مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٧)
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا مناسک حج کے بعد مہاجر کے لئے مکہ مکرمہ میں تین دن ٹھہرنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣١٩٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٩٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣١٩٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اب(مکہ مکرمہ سے)ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت باقی ہے پس جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو جاؤ اور آپ نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا مکہ مکرمہ فتح ہوگیا بےشک اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن حرم بنایا جب آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا پس یہ اللہ تعالیٰ کے حرم قرار دینے سے قیامت تک حرم ہے مجھ سے پہلے کسی کے لے مکہ مکرمہ میں جنگ جائز نہ تھی اور میرے لیے بھی صرف دن کی ایک ساعت جنگ کرنا جائز ہوا پس یہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم ہے اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور کوئی شخص اس میں گری پڑی چیز نہ اٹھائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے(اور مالک تک پہنچائے)اور اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اذخر گھاس کو مستثنیٰ کردیں یہ لوہاروں اور گھروں کے کام آتی ہے آپ نے فرمایا ہاں اذخر گھاس مستثنیٰ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛مکہ مکرمہ میں شکار وغیرہ کی حرمت؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣٢٠٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٠٠ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر نہیں اور قتال کی جگہ قتل کا لفظ ہے البتہ«لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا»کے الفاظ مذکور ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣٢٠١)
حضرت سعید بن ابی سعید فرماتے ہیں جب عمرو بن سعید(حاکم مدینہ)مکہ مکرمہ کی طرف فوج روانہ کر رہا تھا تو حضرت ابن شریح عدوی نے کہا اے امیر!مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں وہ حدیث بتاؤں جو فتح مکہ کے دن حضور علیہ السلام نے فرمائی تھی اسے میرے کانوں نے سنا میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب آپ نے کلام فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ حرم بنایا اسے لوگوں نے حرم نہیں بنایا پس کسی ایسے شخص کے لئے وہاں خون بہانا اور وہاں کے درخت کاٹنا جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔اگر کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں جنگ کرنے کی وجہ سے جنگ کو جائز سمجھتا ہے تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی اجازت دی اور آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی، اور چاہئے کہ حاضر لوگ،غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔" حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید نے تمہیں کیا جواب دیا تو فرمایا اس نے کہا اے ابو شریح مجھے یہ بات تم سے زیادہ معلوم ہے بےشک حرم کسی گناہ گار کو پناہ نہیں دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٧؛حدیث نمبر٣٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ عطاء فرمائی تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھی کو روکا اور اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطاء فرمایا اور مکہ مکرمہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے بھی دن کی ایک ساعت حلال ہوا اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں پس اس کے شکار کو بھگایا نہ جائے اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز بھی صرف اس کے لئے حلال ہے(یعنی اٹھانا)جو اس کا اعلان کرے اور جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا فدیہ(خون بہا)وصول کر لے یا اسے(قصاص میں)قتل کردے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اذخر گھاس کو مستثنیٰ کردیجئے کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں ڈالتے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اذخر مستثنٰی ہے اس وقت یمن کے ایک شخص ابو شاہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے لکھ کر دیجئے تو آپ نے فرمایا ابو شاہ کو لکھ کر دو ولید بیان کرتے ہیں میں نے حضرت اوزاعی سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول"اس کو لکھ کردو"کا کیا مطلب ہے؟فرمایا وہ خطبہ جو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٨؛حدیث نمبر٣٢٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں خزاعہ(قبیلہ کے لوگوں)نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں بنو لیث کا ایک شخص قتل کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "بےشک اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھی کو روک دیا اور اس پر اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنوں کو غلبہ عطاء فرمایا سنو!یہ(مکہ مکرمہ)مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں سنو!یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی حلال ہوا سنو!اب مکہ حرام ہے،اس کے کانٹے اور درخت نہ کاٹے جائیں یہاں کی گری پڑی چیز کو وہی اٹھا سکتا ہے جو اس کا اعلان کرے(اور مالک تک پہنچائے) جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو اس کو دیت دی جائے گی یا وہ قاتل سے قصاص لے گا۔" راوی فرماتے ہیں پھر یمن کا ایک شخص آیا جس کا نام ابوشاہ تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے لکھ دیجیے آپ نے فرمایا ابوشاہ کے لئے لکھ دو،قریش کے ایک شخص نے عرض کیا اذخر(گھاس)کو مستثنٰی کردیں کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں ڈالتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہتھیار اٹھائے۔(یعنی وہاں کے باشندوں کو ہرا ساں کرے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ حَمْلِ السِّلَاحِ بِمَكَّةَ بِلَا حَاجَةٍ؛ترجمہ؛مکہ مکرمہ میں حاجت کے بغیر ہتھیار اٹھانے کی ممانعت؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٥)
حضرت یحییٰ فرماتے ہیں میں نے حضرت مالک سے پوچھا آپ کو ابن شہاب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو آپ کے سر پر خود تھا جب آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آکر عرض کیا ابن خطل کعبۃ اللہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے ہے آپ نے فرمایا اسے قتل کردو۔(چونکہ ابن خطل گستاخ رسول تھا اور اس کی لونڈیاں بھی یہ قبیح حرکت کرتی تھیں نیز وہ مرتد ہوگیا تھا اس لئے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔١٢ہزاروی) حضرت امام مالک علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہاں بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو آپ پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ احرام کے بغیر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے تو آپ کے سر انور پر سیاہ عمامہ مبارکہ تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٨)
حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٩)
حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں آپ پر سیاہ عمامہ ہے اور آپ نے اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رکھے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢١٠)
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور اس میں رہنے والوں کے لئے دعا کی اور میں نے مدینہ طیبہ کو حرم بنایا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور بےشک میں اس کے صاع اور مد(غلہ کے دو پیمانے)کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے دو گنا دعا کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ کی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں برکت کے لئے دعا کرنا اس کو حرم قرار دینا اس کا شکار کرنے اور درختوں کا کاٹنے کی حرمت اور حرم مدینہ کی حدود؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١١)
وھیب کی روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جتنی دعائیں مانگی ہیں ان کی دو چند دعا کرتا ہوں جب کہ سلیمان بن بلال اور عبد العزيز بن مختار کی روایت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مثل ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٢)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں اس(یعنی مدینہ طیبہ)کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٣)
حضرت نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ مکرمہ اور اہل مکہ نیز اس کی حرمت کا ذکر کیا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اسے آواز دی اور فرمایا کیا بات ہے کہ میں تم سے مکہ،اہل مکہ اور حرمت مکہ کا ذکر سنتا ہوں اور تم مدینہ طیبہ اہل مدینہ اور حرمت مدینہ کا ذکر نہیں کرتے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پتھریلی زمین کے دو کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیا۔ ہمارے پاس یہ حکم خولانی چمڑے میں لکھا ہوا ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں پڑھ کر سناؤں۔راوی کہتے ہیں مروان خاموش ہوگیا اور پھر کہنے لگا میں نے بھی اس میں سے کچھ سنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ طیبہ کی دو پتھریلی جانبوں کے درمیان کو حرم قرار دیا اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کسی جانور کو شکار نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٥)
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلی کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں کو نہ کاٹا جائے اور نہ ہی اس کے شکار کو قتل کیا جائے اور آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے اگر وہ جان لیں جو شخص مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے اس کی سکونت کو ترک کرے اللہ تعالیٰ اس میں ایسے لوگوں کو ٹھہراے گا جو اس سے بہتر ہوں گے اور جو لوگ اس کی محنت و مشقت پر صبر کریں میں قیامت کے دن ان کی شفاعت کروں گا اور ان کے حق میں گواہی دوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢١٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں اس قدر اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف پہچانے کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلاے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے یا جس طرح پانی نمک میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٧)
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سوار ہوکر مقام عقیق میں اپنے مکان کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں ایک غلام کو دیکھا جو درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے کانٹے توڑ رہا تھا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا سامان چھین لیا جب آپ واپس تشریف لائے تو غلام کے مالکوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی کہ اس کا جو سامان لیا ہے وہ اس غلام کو یا ان لوگوں کو واپس کردیں۔ انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ!میں وہ چیزیں واپس کردوں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے اور آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کردیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢١٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے اپنے لڑکوں میں سے کوئی لڑکا میرے لئے لاؤ تاکہ وہ میری وہ خدمت کرے(حضرت انس فرماتے ہیں)حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر لے گئے تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترتے تو میں آپ کی خدمت کرتا۔ وہ اپنی حدیث میں مزید بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ تشریف لائے حتیٰ کہ جب احد پہاڑ آپ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب آپ مدینہ طیبہ کے سامنے تشریف لائے تو دعا کی یااللہ!میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان جگہ کو اس طرح حرم بناتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا یااللہ!ان لوگوں کے مد اور صاع(غلے کے پیمانے)میں برکت عطاء فرما۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢١٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٢١٩ کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے فرمایا بےشک میں اس کے پتھریلے کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢٢٠)
حضرت عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیا؟ انہوں نے فرمایا فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک(کو حرم قرار دیا)پس جو شخص اس میں کوئی بدعت جاری کرے پھر مجھ سے فرمایا یہ سخت گناہ ہے جو اس میں بدعت جاری کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور نفل قبول نہیں کرے گا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢١)
حضرت عاصم احول فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیا ہے؟ فرمایا ہاں یہ حرم ہے اس کی گھاس نہیں کاٹی جائے گی پس جو شخص ایسا کام کرے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: "یا اللہ!ان لوگوں کے پیمانے میں برکت عطاء فرما ان کے صاع میں برکت دے اور ان کے مد میں برکت عطاء فرما۔" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: "یا اللہ!مدینہ طیبہ کو مکہ مکرمہ کی برکتوں کا دو گنا عطاء فرما۔" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٤)
حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص بھی یوں خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب جسے ہم پڑھتے ہیں اور اس صحیفے کے علاوہ آپ نے تلوار کی نیام میں لٹکے ہوئے صحیفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا،کچھ اور ہے تو اس نے جھوٹ بولا۔ اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں کی دیت کا بیان ہے اور اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ،عیر پہاڑ سے ثور(پہاڑ)تک حرم ہے۔پس جو شخص اس میں کوئی بدعت(بدعت سیئہ)جاری کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں فرمائے گا اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے اس کے لیے اس کا ادنیٰ بھی کوشش کر سکتا ہے(پناہ دے سکتا ہے)اور جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی طرف منسوب کرے یا جو غلام اپنے مالکوں کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو اس کی فرض نماز قبول کرے گا اور نہ نفل، ابوبکر کی روایت یہاں ختم ہوگئی اور زہیر کی روایت وہاں ختم جہاں یہ فرمایا کہ ان میں سے ادنیٰ بھی اس(پناہ دینے)کے لئے کوشش کر سکتا ہے اس کے بعد اس میں ذکر نہیں اور دونوں کی روایت میں تلوار کی میان میں لٹکنے کا ذکر بھی نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤تا ٩٩٨؛حدیث نمبر٣٢٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت کریب کی روایت حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پناہ توڑے اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے قیامت کے دن اس کی کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں ہوگی۔ ان دونوں روایتوں میں یہ بات نہیں کہ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب ہو اور وکیع کی روایت میں قیامت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٢٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں غلام کے کسی دوسرے کو اپنا مالک بنانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مدینہ(طیبہ)حرم ہے پس جو شخص اس میں کوئی(بری)بدعت جاری کرے اس پر اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کی کوئی فرض اور نفل عبادت قبول نہ ہوگی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت اعمش سے روایت ہے اس میں قیامت کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ان میں سے ادنیٰ بھی اس کے لئے کوشش کرسکتا ہے پس جو شخص کسی مسلمان کا عہد توڑے اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس سے کوئی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے تھے اگر میں مدینہ طیبہ میں ہِرنیا چرتے ہوئے دیکھوں تو ان کو منع نہیں کروں گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو پتھریلی زمینوں کے درمیان جگہ حرم ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی دو پتھریلی جگہوں کے درمیان حرم قرار دیا اگر میں ان پتھریلی جگہوں کے درمیان ہرنیوں کو دیکھوں تو ان کو ہراساں نہیں کروں گا مدینہ طیبہ کے ارد گرد بارہ میل کا علاقہ حرم قرار دیا گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑتے تو یوں دعا فرماتے: یا اللہ!ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا کردے ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال دے اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت پیدا کردے۔ یا اللہ!بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے،تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور نبی ہوں اور انہوں نے تجھ سے مکہ مکرمہ کے لئے دعا فرمائی اور میں تجھ سے مدینہ(طیبہ)کے لئے دعا کرتا ہوں اسی طرح جس طرح انہوں نے مکہ کے لئے دعا کی اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی... حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلا کر وہ پھل اسے عطاء فرماتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ فرماتے یااللہ!ہمارے پھلوں،ہمارے مد اور صاع میں برکت پیدا فرما پھر وہ پھل موجود بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو عطاء فرماتے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣٣)
مہری کے غلام ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو مدینہ طیبہ میں سخت قحط اور تنگی برداشت کرنی پڑی اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ان کے بچے زیادہ ہیں اور ہم لوگوں کو سخت تکلیف ہے پس میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے بچوں کو کسی سر سبز و شاداب جگہ لے جاؤں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا(بلکہ)مدینہ طیبہ میں ہی ٹھہرے رہنا کیونکہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا حتیٰ کہ ہم مقام عسفان میں پہنچے وہاں کچھ راتیں ٹھہرے لوگ کہنے لگے یہاں تو ہمارے پاس کچھ نہیں اور ہمارے بچوں کی نگہداشت کے لئے کوئی نہیں اور ہم ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو فرمایا تمہاری طرف سے مجھے کیسی باتیں پہنچ رہی ہیں راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے کیا الفاظ فرمائے تھے(آپ نے فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے یا فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا یا آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اپنی اونٹنی پر پالان کسنے کا حکم دوں پھر اس وقت تک نہ کھولوں جب تک مدینہ طیبہ نہ پہنچ جاؤں اور آپ نے فرمایا یااللہ!حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ طیبہ کو حرم بناتا ہوں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان حرم ہے اس میں خون نہ بہایا جائے نہ لڑائی کے لیے اسلحہ اٹھایا جائے اور چارہ کے علاوہ درختوں کے پتے نہ کاٹے جائیں یااللہ!ہمارے مدینہ میں برکت پیدا فرما اے اللہ!ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال دے یااللہ!ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت پیدا فرما یااللہ!ہمارے لئے ہمارے مدینے میں برکت پیدا فرما یا اللہ!ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا فرما۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مدینہ منورہ کی ہر گھاٹی اور ہر درے پر دو فرشتے رہتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں حتی کہ تم وہاں پہنچ جاؤ۔ پھر لوگوں سے فرمایا کوچ کرو پس ہم نے کوچ کیا اور مدینہ طیبہ کی طرف چل پڑے پس اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے(حماد راوی کو شک ہے)ہم نے مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد ابھی سامان نہیں اتارا تھا کہ عطفانیوں نے حملہ کر دیا حالانکہ اس سے پہلے ان میں کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠١؛حدیث نمبر٣٢٣٤)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یااللہ!ہمارے مد اور صاع میں برکت پیدا فرما اور(مکہ مکرمہ کی)ایک برکت کے مقابلے میں دو برکتیں عطاء فرما۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٦)
ابوسعید مولیٰ مہری کہتے ہیں کہ وہ جنگ حرہ کے دنوں میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مدینہ طیبہ سے چلے جانے کے بارے میں مشورہ کیا اور ان سے مدینہ طیبہ کی مہنگائی اور بچوں کی کثرت کی شکایت کی اور ان کو بتایا کہ مدینہ طیبہ کی مشکلات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تجھے یہ مشورہ نہیں دوں گا کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ طیبہ کی تکالیف پر صبر کرے اور اسی حالت میں فوت ہوجائے تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا بشرطیکہ وہ مسلمان(فوت ہوا)ہو۔(یزید نے جب مدینہ طیبہ پر حملہ کیا تو اسے جنگ حرہ کہتے ہیں)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ کی دو پتھریلی جگہوں کے درمیان والی جگہوں کو حرم قرار دیا ہے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ میں جب کسی کے ہاتھ میں پرندہ دیکھ لیتے تو اس کے ہاتھ سے چھڑا کر آزاد کردیتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٣٨)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ طیبہ کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا یہ حرم اور امن کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٣٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم مدینہ طیبہ آے تو وہاں وبائی بخار آیا ہوا تھا چنانچہ ابوبکر صدیق اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما بیمار ہوگئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی بیماری کو دیکھا تو دعا فرمائی: یااللہ!مدینہ طیبہ کوہمارے لئے محبوب بنادے جس طرح تو نے مکہ مکرمہ کو محبوب بنایااس سے بھی زیادہ اسے مقام صحت بنادے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما اور اس کے بخار کو جحفہ مقام کی طرف منتقل کردے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کی تکالیف پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٢)
يُحَنَّسَ مولیٰ زبیر فرماتے ہیں کہ میں فتنہ کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں آزاد کردہ لونڈی آئی اس نے اس کو سلام کیا اور عرض کیا کہ اے ابو عبد الرحمن!میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں کیونکہ حالات زیادہ خراب ہوگئے ہیں تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے وقوف عورت یہیں رہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص مدینہ طیبہ کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا گواہ یا فرمایا شفاعت کرنے والا ہوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص مدینہ طیبہ کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔(مدینہ طیبہ وہ عظمت والا شہر ہے جس سے غلبہ اسلام کی تحریک ہوئی،فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ان احادیث مبارکہ میں اس مقدس شہر کی فضیلت کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ اس کی عظمتوں اور شرف میں اضافہ فرمائے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٢٤٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مدینہ طیبہ کے مصائب پر صبر کرے... آگے حدیث نمبر٣٢٤٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ، وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ طاعون اور دجال سے محفوظ ہے؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسیح دجال مشرق سے آے گا اور وہ مدینہ طیبہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا حتیٰ کہ احد(پہاڑ)کے پیچھے اترے گا پھر فرشتے اس کا منہ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہوگا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ، وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آے گا کہ ایک شخص اپنے چچا زاد بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کو بلا کر کہے گا آؤ خوشحالی کی جگہ چلیں حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو شخص اس سے اعراض کرتے ہوئے باہر جاے گا اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کو لے آئے گا سنو!مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو نکال دیتی ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ طیبہ خبیث لوگوں کو نکال نہ دے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بستی(کی طرف ہجرت)کا حکم دیا گیا وہ مدینہ طیبہ ہے وہ(خبیث)لوگوں کو اس طرح باہر نکال دے گی جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو نکالتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٥١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں میل کچیل کا ذکر ہے لیکن لوہے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی پھر اس اعرابی کو مدینہ طیبہ میں سخت بخار ہوگیا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیعت توڑ دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا وہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا میری بیعت توڑ دیں آپ نے پھر انکار کیا وہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد!صلی اللہ علیہ وسلم میری بیعت توڑ دیں آپ نے انکار فرمایا پس اعرابی چلا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ بھٹی کی طرح ہے یہ میل کچیل کو دور کرتا ہے اور پاک چیز کو صاف اور خالص کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٣)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا یہ(مدینہ طیبہ)طیبہ ہےاور میل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس شہر(مدینہ طیبہ)والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلادے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛ترجمہ؛جو شخص اہل مدینہ کو ایذا پہنچانے کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو پگھلا دے گا؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کے رہنے والوں سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٥٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دیتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٥٩)
Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3260
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یااللہ!اہل مدینہ کو ان کے مد میں برکت عطاء فرما اور اس حدیث میں یہ بھی ہے جو شخص یہاں کے رہنے والوں سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٦١)
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام فتح ہوگا تو مدینہ طیبہ سے ایک جماعت اپنے اہل وعیال کے ساتھ اونٹ ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے پھر یمن فتح ہوگا تو ایک قوم مدینہ طیبہ سے اپنے اہل وعیال کے ہمراہ اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے پھر عراق فتح ہوگا تو مدینہ طیبہ سے ایک قوم اپنے اہل وعیال کے ہمراہ اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ الْأَمْصَارِ؛شہروں کی فتوحات کے زمانے میں مدینہ طیبہ میں رہنے کی ترغیب؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٦٢)
حضرت سفیان بن زہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یمن فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی پس وہ اپنے اہل وعیال اور اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر جاے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔ پھر شام فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی وہ اپنے اہل وعیال اور خدام کو لے کر جائیں گے حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے پھر عراق فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی اور وہ اپنے گھر والوں اور اپنے خدام کو لے کر جائیں گے حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ الْأَمْصَارِ؛جلد٢ص١٠٠٩؛حدیث نمبر٣٢٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں کے لوگ اس کے خیر اور بہتر ہونے کے باوجود اسے درندوں اور پرندوں کے لئے چھوڑ دیں گے۔ امام مسلم فرماتے ہیں ابوصفیان عبداللہ بن عبد الملک(راوی)یتیم تھے اور انہوں نے دس سال حضرت ابن جریج کے ہاں پرورش پائی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا؛جلد٢ص١٠٠٩؛حدیث نمبر٣٢٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ مدینہ طیبہ کے بہتر ہونے کے باوجود اسے چھوڑ جائیں گے اور اس میں درندے اور پرندے رہیں گے پھر مزینہ قبیلے کے دو چرواہے مدینہ طیبہ پہنچنے کے ارادے سے اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے تو وہاں وحشی جانور دیکھیں گے حتیٰ کہ جب ثنیۃ الوداع پر پہنچیں گے تو اپنے چہرے کے بل گر پڑیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٥)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛ترجمہ؛قبر انور اور منبر شریف کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٦)
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٦٨)
Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3269
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا تو فرمایا بے شک احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛ترجمہ؛مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت؛ جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز مسجد حرام کے علاوہ کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٣)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت ابوعبد اللہ الاغر دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نمازوں کی نسبت زیادہ افضل ہے بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ سب سے آخری مسجد ہے ابو سلمہ اور ابو عبداللہ فرماتے ہیں ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے لیکن ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس بات کی تصدیق نہ کرا سکے حتیٰ کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو ہم نے اس سلسلے میں باہم گفتگو کی تو ہمیں افسوس ہوا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تحقیق کیوں نہ کی تاکہ وہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے اگر انہوں نے آپ سے سنی ہوتی۔ ہم اس سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابراہیم قارظ ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے ہم نے یہ حدیث ذکر کی اور اس کوتاہی کا بھی ذکر کیا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کے سلسلے میں کی تو حضرت عبداللہ بن إبراهيم بن قارظ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٤)
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوصالح سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں کچھ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا نہیں،البتہ مجھے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے یا فرمایا ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٦)
Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3277
حضرت عبیداللہ اسی سند کے ساتھ حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٧٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت بیمار ہوگئی تو اس نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوں گی پس وہ ٹھیک ہوگئی پھر جانے کی تیاری کرنے لگی اس کے بعد ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان کو واقعہ بتایا ام المؤمنين نے فرمایا بیٹھو اور جو کھانا تم نے پکایا ہے اسے کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس میں ایک نماز مسجد کعبہ کے علاوہ مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف کجاوے نہ کسے جائیں(سفر کا ارادہ نہ کیا جائے)میری یہ مسجد(نبوی) ،مسجد حرام اور مسجد اقصٰی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ ان تین مساجد کے لئے کجاوے کسے جائیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد کعبہ،میری مسجد(مسجد نبوی)اور مسجد ایلیاء(بیت المقدس) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٤)
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان سے پوچھا آپ نے اپنے والد سے اس مسجد کے بارے میں کیا سنا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی ایک کے ہاں گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی،فرماتے ہیں آپ نے کنکریوں کی ایک مٹھی لے کر زمین پر ماری پھر فرمایا وہ تمہاری یہ مسجد ہے یعنی مدینہ منورہ کی مسجد۔ وہ فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ کے والد سے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ؛ترجمہ؛وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی وہ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء شریف کی زیارت کے لئے سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛ترجمہ؛مسجد قباء کی فضیلت اس میں نماز پڑھنا اور اس کی زیارت کرنا؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٨٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے اور وہاں دورکعتیں پڑھتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٨٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء شریف میں سوار اور پیدل تشریف لے جاتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٩٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد)قباء میں سوار اور پیدل تشریف لے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٩١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد)قباء میں سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٩٢)
حضرت عبداللہ بن دینار سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ(مسجد)قباء میں ہر ہفتہ کے دن تشریف لے جاتے اور آپ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء میں تشریف لے جاتے اور آپ(کبھی)سوار ہوکر اور(کبھی)پیدل تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن دینار فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت سفیان ابن دینار سے حدیث نمبر ٣٢٩٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ہر ہفتہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٥)
Muslim Shareef : Kitabul Haj
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْحَجِّ
|
•