
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا ان سے کہیں کہ وہ رجوع کریں پھر اسے(اسی حالت پر)چھوڑ دیں پھر اس کو حیض آے پھر پاک ہو پھر حیض آے پھر پاک ہو پھر چاہیں تو اس کے بعد اسے روک لیں اور اگر چاہیں تو جماع سے پہلے طلاق دے دیں تو یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ عورتوں کو طلاق دی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٣؛حدیث نمبر ٣٥٥٠)
حضرت عبداللہ(بن عمر)رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی اور وہ حالت حیض میں تھیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ رجوع کر کے اس کو روک رکھیں حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے پھر اسے ان کے ہاں دوسرا حیض آے پھر اس حیض کے گزرنے تک مہلت دیں جب پاک ہوجائے تو اگر طلاق دینا چاہیں تو پاک ہونے کے بعد جماع سے پہلے طلاق دے دیں یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس وقت عورتوں کو طلاق دی جائے۔ ابن رمح کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس سلسلے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے جب تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور اگر تم تین طلاقیں دو تو تم پر وہ حرام ہوگئی حتیٰ کہ وہ تمہارے علاوہ کسی(مرد)سے نکاح کرے اور تم نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔امام مسلم فرماتے ہیں لیث نے اپنی روایت میں ایک طلاق کا لفظ عمدگی سے ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٣؛حدیث نمبر ٣٥٥١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور وہ حیض والی تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان سے کہو کہ وہ رجوع کریں پھر پاک ہونے تک چھوڑے رکھیں پھر جب دوسرا حیض آے اور اس سے پاک ہوجائے تو جماع سے پہلے طلاق دے دیں یا روک لیں اللہ تعالیٰ نے جس عدت کا حکم دیا ہے کہ اس وقت عورتوں کو طلاق دی جاے وہ یہی ہے۔ عبید اللہ فرماتے ہیں میں نے حضرت نافع(راوی)سے پوچھا ایک طلاق کا کیا بنا انہوں نے فرمایا اس کو شمار کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٤؛حدیث نمبر ٣٥٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٣٥٥٢ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں عبیداللہ کا سوال و جواب مزکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٤؛حدیث نمبر ٣٥٥٣)
Muslim Shareef Kitabut Talaq Hadees No# 3554
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میں نے اپنے بیوی کو طلاق دی اور وہ حیض سے تھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ غصے میں آگئے پھر فرمایا ان سے کہو رجوع کر لیں حتیٰ کہ ان کو اس حیض کے علاوہ جس میں طلاق دی ہے دوسرا حیض آجائے پھر اگر ضروری سمجھیں تو ان کو طلاق دیں اور یہ طلاق اس حیض سے پاک ہونے کے بعد جماع سے پہلے دیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طلاق دینے کا یہی وقت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک طلاق دی تھی اور وہ شمار کی گئی اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق رجوع کر لیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٥؛حدیث نمبر ٣٥٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٥٥ کی مثل مروی ہے انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا ان سے کہیں کہ وہ رجوع کرلیں پھر حالت طہر یا حالت حمل میں طلاق دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٥؛حدیث نمبر ٣٥٥٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا ان سے کہیں کہ وہ رجوع کرلیں پھر حالت طہر یا حالت حمل میں طلاق دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٥؛حدیث نمبر ٣٥٥٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حالت حیض میں تھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا ان سے کہو کہ رجوع کرلیں حتیٰ کہ جب وہ پاک ہوجائے پھر دوسرا حیض آے پھر پاک ہوجائے تو اس کے بعد طلاق دے دیں یا روک لیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٥،؛حدیث نمبر ٣٥٥٨)
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں ایک ثقہ(معتبر)آدمی بیس سال تک مجھ سے یہ حدیث بیان کرتا رہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور وہ حیض سے تھیں پس ان کو رجوع کا حکم دیا گیا میں اس راوی پر بدگمانی تو نہیں کرتا تھا لیکن مجھے اس حدیث کی پہچان نہ تھی حتیٰ کہ میں نے ابو غلاب یونس بن جبیر باھلی سے ملاقات کی وہ بہت مستند تھے انہوں نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دی تھی تو ان کو رجوع کا حکم دیا گیا پوچھا گیا کیا وہ طلاق شمار کی گئی تھی؟فرمایا کیوں نہیں کیا وہ ناسمجھ تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٥،؛حدیث نمبر ٣٥٥٩)
ایک اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٦،؛حدیث نمبر ٣٥٦٠)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے رجوع کا حکم دیا حتیٰ کہ طہر کی حالت میں طلاق دیں جب کہ اس سے پہلے جماع نہ کیا ہو اور فرمایا اس عدت کے شروع میں طلاق دیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٦،؛حدیث نمبر ٣٥٦١)
حضرت یونس بن جبیر کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی انہوں نے پوچھا کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی خدمت میں ماجرا عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے کہیں کہ رجوع کریں اور فرمایا دوبارہ عدت شروع کریں(راوی کہتے ہیں)پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے تو وہ طلاق شمار ہوگئی؟انہوں نے فرمایا کیوں نہیں وہ عاجز یا بیوقوف ہے(کہ اس طلاق کو شمار نہ کرے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٦،؛حدیث نمبر٣٥٦٢)
یونس کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حالت حیض میں تھی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات ذکر کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں چاہیے کہ رجوع کریں پھر جب پاک ہو جائے تو اگر چاہیں تو طلاق دے دیں۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا یہ طلاق شمار ہوگی انہوں نے فرمایا اس میں رکاوٹ ہے؟کیا تمہارے خیال میں وہ عاجز یا بےوقوف ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٣)
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی کی طلاق کے بارے میں پوچھا تھا انہوں نے فرمایا میں نے اسے حالت حیض میں طلاق دی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کیا آپ نے فرمایا ان سے کہیں کہ رجوع کریں پھر جب وہ پاک ہوجائے تو طہر کے دنوں میں طلاق دیں فرماتے ہیں میں نے رجوع کیا اور حالت طہر میں طلاق دی ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا جو آپ نے حالت حیض میں دی تھی۔ انہوں نے فرمایا مجھے کیا ہوا کہ میں شمار نہ کرتا یا کیا میں عاجز اور احمق تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٤)
ابن سیرین فرماتے ہیں انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ بتایا آپ نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ رجوع کریں پھر جب وہ خاتون پاک ہو جائے تو طلاق دے دیں۔ (فرماتے ہیں)میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا یہ طلاق شمار ہوئی؟تو انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٥)
امام مسلم نے یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ روایت کی البتہ پہلی روایت میں ہے کہ ان کو رجوع کرنا چاہیے اور دوسری حدیث میں ہے کہ میں نے پوچھا کیا وہ طلاق شمار ہوگی فرمایا کیوں نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٦)
حضرت طاؤس کہتے ہیں انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ان سے اس عورت کا حکم پوچھا گیا جسے حالت حیض میں طلاق دی گئی انہوں نے فرمایا کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو کہا ہاں جانتا ہوں فرمایا انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بتایا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کریں۔ ابن طاؤس کہتے ہیں انہوں نے یہ حدیث اپنے باپ سے نہیں سنی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٧)
حضرت عبد الرحمن بن ایمن(عروہ کے آزاد کردہ غلام)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کر رہے تھے اور حضرت ابو الزبير سن رہے تھے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی(اس کا کیا حکم ہے)انہوں نے فرمایا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں چاہیے کہ رجوع کریں اور مزید فرمایا کہ جب وہ پاک ہوجائے تو طلاق دے دیں یا روک لیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:«يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» "اے نبی!(صلی اللہ علیہ وسلم)جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٧،؛حدیث نمبر ٣٥٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٦٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٨،؛حدیث نمبر ٣٥٦٩)
حضرت عروہ کے غلام حضرت عبد الرحمن بن ایمن نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور ابو زبیر سن رہے تھے اس کے بعد کچھ اضافہ کے ساتھ حدیث نمبر ٣٥٦٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا؛جلد٢ص١٠٩٨،؛حدیث نمبر ٣٥٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے(ابتدائی)دو سالوں میں(بیک وقت دی گئی)تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کیا جاتا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں نے اس کام میں جلدی شروع کردی جس میں ان کے لیے مہلت تھی پس اگر ہم بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو نافذ کردیں تو بہتر ہوگا پس انہوں نے ان کو نافذ کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ طَلَاقِ الثَّلَاثِ؛ترجمہ؛تین طلاقیں؛جلد٢ص١٠٩٩،؛حدیث نمبر ٣٥٧١)
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ابوصھباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا"ہاں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ طَلَاقِ الثَّلَاثِ؛جلد٢ص١٠٩٩،؛حدیث نمبر ٣٥٧٢)
طاؤس فرماتے ہیں ابو صھباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو اس بارے میں کیا علم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں انہوں نے فرمایا یہ بات تھی لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے متواتر طلاقیں دینا شروع کردیں تو آپ نے تین طلاقوں کو نافذ کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ طَلَاقِ الثَّلَاثِ؛جلد٢ص١٠٩٩،؛حدیث نمبر ٣٥٧٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے تھے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کہنا قسم ہے اس کا کفارہ دے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يَنْوِ الطَّلَاقَ؛جلد٢ص١١٠٠،؛حدیث نمبر ٣٥٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دے تو یہ قسم ہے اسکا کفارہ ادا کرے اور فرمایا تمہارے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يَنْوِ الطَّلَاقَ؛جلد٢ص١١٠٠،؛حدیث نمبر ٣٥٧٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے تو وہاں شہد نوش فرماتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اور حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہا)دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جس کے پاس پہلے تشریف لائیں وہ یوں کہے کہ آپ کے دہن مبارک سے مغافیر(ایک قسم کا گوند جس کی بو ناپسند تھی)کی بو آتی ہے پس آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے یہ بات عرض کی آپ نے فرمایا میں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ایسا ہرگز نہیں کروں گا اس پر یہ کریمہ نازل ہوئی:{لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنْ تَتُوبَا} [التحريم: ٤] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣]، لِقَوْلِهِ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا» ترجمہ"آپ ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی ہیں"۔("ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما" تک) یہ آیت حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی اور"{وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣]، لِقَوْلِهِ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا» سے مراد آپکا یہ فرمانا ہے کہ(مغافیر)نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يَنْوِ الطَّلَاقَ؛جلد٢ص١١٠٠،؛حدیث نمبر ٣٥٧٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد پسند تھا اور جب آپ نماز عصر ادا کرتے تو اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے قریب ہوتے چنانچہ آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو وہاں معمول سے زیادہ ٹھہرے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو مجھے بتایا گیا کہ حضرت حفصہ کے قوم کی ایک عورت نے انہیں شہد کی ایک کپی بھیجی تو انہوں نے اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے سوچا اب ہم کوئی تدبیر کریں گے چنانچہ میں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ذکر کی اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس تشریف لائیں گے اور تمہارے قریب ہوں گے تو تم کہنا یارسول اللہ!آپ نے مغافیر کھایا ہے تو آپ جواب دیں گے نہیں تو تم کہنا یہ بو کیسی ہے؟ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بو سخت ناپسند تھی(فرماتی ہیں میں نے ان سے کہا)حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے شہد پلایا ہے تو تم کہنا شاید شہد کی مکھیوں نے عرفطہ درخت کا رس چوسا ہے اور میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ تم بھی یہی بات کہنا۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو حضرت سودہ فرماتی ہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں(تمہارے ڈر سے)میں نے وہ بات کہنے کا ارادہ کیا جو تم نے کہی تھی اور ابھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر تھے جب آپ قریب ہوے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے مغافیر کھایا ہے؟آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کیا یہ بو کیسی؟فرمایا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے شہد پلایا ہے انہوں نے کہا شہد کی مکھیوں نے عرفطہ(درخت)کا رس چوسا ہوگا۔ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں)جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ اس کے بعد جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا حضور!آپ کو شہد نہ پلاؤں؟آپ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم!ہم آپ پر شہد حرام کر دیا تو میں نے ان سے کہا چپ رہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يَنْوِ الطَّلَاقَ؛جلد٢ص١١٠١،؛حدیث نمبر ٣٥٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يَنْوِ الطَّلَاقَ؛جلد٢ص١١٠٢،؛حدیث نمبر ٣٥٧٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنی ازواج مطہرات کو(دنیا یا آخرت میں سے ایک لینے کا)اختیار دے دو تو آپ نے مجھ سے آغاز کیا اور فرمایا میں تجھ سے ایک چیز کا ذکر کرنے لگا ہوں اگر تم اس کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرو اور اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لو تو کوئی حرج نہیں۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ سے علیحدگی کا مشورہ نہیں دیں گے فرماتی ہیں پھر آپ نے فرمایا"اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی!اپنی ازواج سے کہ دو کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں دنیوی سامان دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے بہت اجر تیار کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا میں اپنے باپ سے کس بات میں مشورہ لوں؟میں تو اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں۔ فرماتی ہیں پھر دیگر ازواج نے بھی وہی کہا جو میں نے کہا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٣؛حدیث نمبر ٣٥٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب ہم میں سے کسی زوجہ کی باری ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت طلب کرتے اور یہ اس آیت کے نزول کے بعد کی بات ہے(ترجمہ) "آپ ان میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں۔" تو حضرت معاذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ سے اجازت طلب کرتے تو آپ کیا جواب دیتی تھیں انہوں نے فرمایا میں کہتی تھی اگر یہ بات میرے اختیار میں دی گئی ہے تو میں کسی ایک کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گی ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٣؛حدیث نمبر ٣٥٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٨٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٣؛حدیث نمبر ٣٥٨١)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا پس ہم اس(اختیار)کو طلاق شمار کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٣؛حدیث نمبر ٣٥٨٢)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں اپنی بیوی کو ایک بار یا ایک سو یا ایک ہزار بار اختیار دوں اس کے بعد وہ مجھے اختیار کرے اور میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو کیا یہ طلاق تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیا تو وہ طلاق نہ تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا پس آپ نے اسے ہم پر کچھ شمار نہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا پس آپ نے اسے ہم پر کچھ شمار نہ کیا(طلاق قرار نہ دیا)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٨٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اندر داخل ہوے تو لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھا ہوا پایا ان میں سے کسی کو اجازت نہ دی گئی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی تو آپ اندر داخل ہوے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اجازت طلب کی تو ان کو بھی اجازت دی گئی انہوں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی ازواج مطہرات آپ کے گرد خاموش بیٹھی ہوئی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سوچا کہ میں ایسی بات کروں گا جس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا چنانچہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں دیکھو کہ بنت خارجہ(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زوجہ)مجھ سے نفقہ طلب کرتی ہے تو میں اس کی طرف اٹھ کر اس کی گردن مروڑ دوں گا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا یہ جو میرے ارد گرد ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں مجھ سے نفقہ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف کھڑے ہوئے اور ان کا گلا دبانے لگے۔اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف کھڑے ہوئے تاکہ ان کا گلا دبا دیں وہ دونوں فرما رہے تھے تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیز مانگ رہی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے۔انہوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی کوئی ایسی چیز نہیں مانگیں جو آپ کے پاس نہیں ہے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان(ازواج مطہرات)سے ایک مہینہ یا انتیس دن الگ رہے پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی:{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: ٢٨] حَتَّى بَلَغَ {لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: ٢٩]، "اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم!اپنی ازواج مطہرات سے فرمادیں"(الأحزاب آیت نمبر ٢٩تک) تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آغاز کرتے ہوئے فرمایا اے عائشہ!اگر میں تمہارے پاس کوئی بات پیش کرنا چاہوں تو یہ بات پسند کروں گاکہ تم جلدی نہ کرو حتیٰ کہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ کیا ہے تو آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ام المومنین نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا میں آپ کے بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں بلکہ میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نیز آخرت کے گھر کو اختیار کیا اور اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ کسی دوسری زوجہ مطہرہ کو اس بات کی خبر نہ دیں جو میں نے کہی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے جس بیوی نے یہ سوال کیا میں نے اسے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دشواری اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا ہے بلکہ مجھے سکھانے والا،آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ؛جلد٢ص١١٠٤؛حدیث نمبر ٣٥٨٨)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے الگ ہوے تو میں مسجد میں داخل ہوا میں نے صحابہ کرام کو دیکھا وہ کنکریوں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہےاور یہ بات پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا میں آج ضرور معلوم کروں گا فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا اے ابوبکر رضی اللہ عنہا کی بیٹی!کیا تیری وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچی ہے انہوں نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کا مجھ سے کیا واسطہ اپنی بیٹی کو نصیحت کیجئے فرماتے ہیں پس میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا اے حفصہ!اب تمہارا یہ حال ہوگیا ہے کہ تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہو اللہ کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں کرتے اگر میں نہ ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ روئیں۔ میں نے ان سے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ بالا خانے کے گودام میں ہیں میں وہاں گیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت رباح بالا خانے کی چوکھٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے سیڑھی کے ڈنڈے پر دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سیڑھی سے چڑھتے اترتے تھے میں نے آواز دی اے رباح!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری حاضری کی اجازت طلب کرو رباح نے بالا خانے کی طرف دیکھا اور خاموش رہے میں نے پھر بلند آواز سے کہا رباح!میرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاضر ہونے کی اجازت طلب کرو۔حضرت رباح نے بالا خانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کچھ نہ کہا میں نے پھر بلند آواز سے کہا رباح!میرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت طلب کرو میرا خیال ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید یہ خیال فرمایا کہ میں حضرت حفصہ کے سلسلے میں آیا ہوں اللہ کی قسم!اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن مارنے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن ماردوں گا اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی آواز کو بلند کیا حضرت رباح نے مجھے اشارہ کیا کہ میں سیڑھی کے ذریعے چلا آؤں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے میں بیٹھ گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اپنے اوپر کرلی اور آپ پر اس کے علاوہ کوئی کپڑا نہ تھا اور آپ کے جسم پر چٹائی کے نشانات پڑگئے تھے۔ اور آپ کا یہ گودام میرے سامنے تھا جس میں ایک صاع کے لگ بھگ مٹھی بھر جو تھے ایک کونے میں درخت سلم کے اسی قدر پتے پڑے ہوئے تھے اور ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا تھا جس کو اچھی طرح دباغت نہیں دی گئی تھی۔ (یہ منظر دیکھ کر)میری آنکھوں میں آنسو آگئے آپ نے پوچھا اے ابن خطاب!تم کیوں رو رہے ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!میں کیوں نہ روؤں؟آپ کے پہلو میں چٹائی کے نشانات پڑ گئے ہیں اور یہ آپ کا گودام ہے اور اس میں جو کچھ ہے میں دیکھ رہا ہوں جب کہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں سے مالا مال ہیں آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے برگزیدہ بندے ہیں اور یہ آپ کا گودام ہے۔؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر!کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ ہمارے لئے آخرت اور ان کے لیے دنیا ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں راضی ہوں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں داخل ہوا تو آپ کے چہرہ مبارکہ پر غضب کے آثار تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کو اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں کیوں پریشانی ہے اگر آپ نے ان کو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے اس کے فرشتے(خاص طور پر)حضرت جبریل حضرت میکائیل،میں اور حضرت ابوبکر صدیق اور تمام مومنین آپ کے ساتھ ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں جب بھی کوئی بات کرتا یا اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا تو اللہ تعالیٰ میری تائید میں قرآن مجید کی کوئی آیت نازل کردیتا اور اب یہ آیت تخییر نازل ہوگئی۔ "اگروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا رب تمہارے بدلے میں ان کو بہتر بیویاں عطا کرے گا اور اگر تم دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت نہ کی تو اللہ تعالیٰ آپ کا مولیٰ ہے اور حضرت جبرئیل اور ان کے بعد تمام فرشتے اور نیک مسلمان ان کے مددگار ہیں" حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہن)نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج مطہرات پر زور ڈالا تھا میں نے پوچھا یا رسول اللہ!کیا آپ نے ان سب کو طلاق دے دی ہے؟فرمایا نہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جب میں مسجد میں آیا تو تمام صحابہ کرام کنکریوں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے تو میں اتر کر ان سب کو اطلاع نہ کروں کہ آپ نے طلاق نہیں دی فرمایا ہاں اگر تم چاہو۔ پھر میں آپ سے مسلسل باتیں کرتا رہا حتیٰ کہ آپ کے چہرے انور سے غصہ دور ہوگیا اور آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگیے آپ ہنسنے لگے اور ہنستے وقت آپ کے مبارک دانت سب لوگوں کے دانتوں سے خوبصورت تھے میں کھجور کے تنے کو پکڑ کر نیچے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترے گویا آپ زمین پر چل رہے ہوں آپ نے اس لکڑی کو چھوا تک نہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ بالا خانے میں انتیس دن رہے ہیں؟(مہینہ مکمل نہیں ہوا) آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(حضرت فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)میں نے دروازے پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ "جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اس کو پھیلاتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا اہل علم(یا ارباب اختیار)کے پاس لے جاتے تو اس(حقیقت)کو وہ لوگ جان لیتے جو خبر سے(حقیقت کا)استنباط کرتے ہیں تو میں نے اس حقیقت کا کھوج نکالا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابٌ فِي الْإِيلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: ٤]؛جلد٢ص١١٠٥ تا ١١٠٧؛حدیث نمبر ٣٥٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ایک سال تک ارادہ کرتا رہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کروں اور نہ کر سکا ان کے ڈر سے یہاں تک کہ وہ حج کو نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ نکلا پھر جب لوٹے اور کسی راستہ میں تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف تشریف لے گئے میں آپ کے انتظار میں کھڑا رہا۔یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے۔اور میں ان کے ساتھ چلا۔اور میں نے کہا:اے امیرالمؤمنین!وہ دونوں عورتیں کون ہیں جنہوں نے موافقت نہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں سے تو انہوں نے فرمایا کہ وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن ہیں۔سو میں نے ان سے عرض کی کہ اللہ کی قسم!میں آپ سے اس سوال کو پوچھنا چاہتا تھا ایک سال سے اور آپ کی ہیبت سے پوچھ نہ سکتا تھا۔تو انہوں نے فرمایا:کہ نہیں ایسا مت کرو جو بات تم کو خیال آئے کہ مجھے معلوم ہے اس کو تم مجھ سے دریافت کر لو کہ میں اگر جانتا ہوں تو تم کو بتا دوں گا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کہ اللہ تعالیٰ کی قسم!ہم پہلے جاہلیت میں گرفتار تھے اور عورتوں کی کچھ حقیقت نہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ادائے حقوق میں اتارا جو اتارا اور ان کے لیے وہ حقوق مقرر کئے جو مقرر کئے چنانچہ ایک دن ایسا ہوا کہ میں کسی کام میں مشورہ کر رہا تھا کہ میری عورت نے کہا تم ایسا کرتے ویسا کرتے تو خوب ہوتا تو میں نے اس سے کہا کہ تجھے میرے کام میں کیا دخل ہے جس کا میں ارادہ کرتا ہوں سو اس نے مجھ سے کہا کہ تعجب ہے اے ابن خطاب!تم تو چاہتے ہو کہ کوئی تم کو جواب ہی نہ دے۔حالانکہ تمہاری صاحبزادی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ وہ دن بھر غصہ میں رہتے ہیں۔سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اپنی چادر لی اور میں گھر سے نکلا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر داخل ہوا اور اس سے کہا کہ اے میری چھوٹی بیٹی!تو جواب دیتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں تک وہ دن بھر غصہ میں رہتے ہیں۔سوحفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم!میں تو ان کو جواب دیتی ہوں۔سو میں نے اس سے کہا کہ تو جان لے میں تجھ کو ڈراتا ہوں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور اس کے رسول کے غضب سے۔اے میری بیٹی!تو اس بیوی کے دھوکے میں مت رہو جو اپنے حسن پر اتراتی ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر پھر میں وہاں سے نکلا۔اور داخل ہوا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر بسبب اپنی قرابت کے جو مجھے ان کے ساتھ تھی اور میں نے ان سے بات کی اور مجھ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:کہ تعجب ہے تم کو اے ابن خطاب! کہ تم ہر چیز میں دخل دیتے ہو یہاں تک کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی بیبیوں کے معاملات میں بھی دخل دو۔اور مجھے ان کی بات سے اتنا غم ہوا کہ اس غم نے مجھے اس نصیحت سے باز رکھا جو میں کیا چاہتا تھا اور میں ان کے پاس سے نکلا۔اور میرا ایک رفیق تھا انصار میں سے کہ جب میں غائب ہوتا تو وہ مجھے خبر دیتا اور جب وہ غائب ہوتا (یعنی محفل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) تو میں اس کو خبر دیتا اور ہم ان دنوں خوف رکھتے تھے ایک بادشاہ کا غسان کے بادشاہوں میں سے اور ہم میں چرچا تھا کہ وہ ہماری طرف آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور ہمارے سینے اس کے خیال سے بھرے ہوئے تھے کہ اتنے میں میرا رفیق آیا اور اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ کھولو میں نے کہا:کیا غسانی آیا؟اس نے کہا کہ نہیں اس سے بھی زیادہ ایک پریشانی کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں سے جدا ہو گئے۔سو میں کہا کہ حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک آلود ہو۔پھر میں نے اپنے کپڑے لیے اور میں نکلا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جھروکے میں تھے کہ اس کے اوپر ایک کھجور کی جڑ سے چڑھتے تھے اور ایک غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاہ فام اس سیڑھی کے سرے پر تھا۔سو میں نے کہا کہ یہ عمر ہے اور مجھے اذن دو۔سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر میں نے یہ سب قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا پھر جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حصیر پر تھے کہ ان کے اور حصیر کے بیچ میں اور کوئی بچھونا نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے نیچے ایک تکیہ تھا چمڑے کا اور اس میں کھجور کا چھلکا بھرا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں کی طرف کچھ پتے سلم کے ڈھیر تھے(جس سے چمڑے کو دباغت کرتے ہیں)اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے ایک چمڑا تھا جسے دباغت نہیں دی گئی تھی اور میں نے اثر اور نشان حصیر کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دیکھا اور رونے لگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ کس نے رلایا تم کو؟“میں نے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول! بیشک کسریٰ اور قیصر کیسی عیش میں ہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ”کیا تم راضی نہیں ہوتے ان کے لیے دنیا ہے اور تمہارے لیے آخرت ہو۔“۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛باب فی الایلاء والاعتزال النساء و تخییرھن وقولہ تعالیٰ:"وان تظاہراعلیہ" (التحریم:٤)؛جلد٢ص١٠١٧ تا ١١٠٩؛حدیث نمبر ٣٥٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا حتیٰ کہ جب ہم مقام مرالظہران میں تھے..... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٥٩٠ کی مثل بیان کیا البتہ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا میں نے پوچھا وہ دو عورتیں کون ہیں؟حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ میں حجروں کے پاس آیا تو ہر حجرے سے رونے کی آواز آرہی تھی یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ تک نہ ملنے کی قسم کھائی جب انتیس دن ہوئے تو آپ ان کی طرف تشریف لاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابٌ فِي الْإِيلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: ٤]؛جلد٢ص١١١٠؛حدیث نمبر ٣٥٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے موافقت نہیں کی تھی میں ایک سال تک انتظار کرتا رہا اور مجھے موقعہ نہ مل سکا حتیٰ کہ مکہ مکرمہ کی طرف جاتے ہوئے میں ان کا ہم سفر ہوا جب مر الظهران میں پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور مجھ سے پانی کا لوٹا طلب کیا میں پانی لے کر حاضر ہوا جب قضائے حاجت سے فارغ ہوکر واپس ہوئے تو میں ان پر پانی ڈالنے لگا مجھے وہ بات یاد آگئی پس میں نے کہا اے امیر المومنین وہ دو عورتیں کون ہیں؟تو میری بات مکمل ہونے سے پہلے انہوں نے فرمایا حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ(رضی اللہ عنہن)ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابٌ فِي الْإِيلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: ٤]؛جلد٢ص١١١٠؛حدیث نمبر ٣٥٩٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں مدت سے آرزو رکھتا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو بیبیوں کا حال پوچھوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں سے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» (۶۶-التحریم:۴) کہ ”تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں میں توبہ کرو تمہارے دلوں میں کچھ جھکاؤ آگیا ہے۔“ یہاں تک کہ حج کیا انہوں نے اور میں نے بھی ان کے ساتھ پھر جب ہم ایک راہ میں تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راہ سے کنارے ہوئے۔اور میں بھی ان کے ساتھ کنارے ہوا۔پانی کا برتن لے کر اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر میرے پاس آئے۔اور میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا اور میں نے کہا:اے امیرالمؤمنین!وہ کون سی دو عورتیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں سے جن کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» ”تم دونوں توبہ کرو اللہ کی بارگاہ میں تمہارے دلوں میں کچھ جھکاؤ آگیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:بڑے تعجب کی بات ہے اے ابن عباس!(یعنی اب تک تم نے یہ کیوں نہ دریافت کیا) زہری نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کا نہ پوچھنا اتنی مدت ناپسند ہوا اور یہ ناپسند ہوا کہ اتنے دن کیوں اس سوال کو چھپا رکھا پھر فرمایا کہ وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن ہیں، پھر لگے حدیث بیان کرنے اور کہا کہ ہم گروہ قریش کے ایک ایسی قوم تھے کہ عورتوں پر غالب رہتے تھے،پھر جب مدینہ میں آئے تو ایسے گروہ کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب تھیں۔سو ہماری عورتیں ان کی خصلتیں سیکھنے لگیں اور میرا مکان ان دنوں بنی امیہ کے قبیلہ میں تھا مدینہ کی بلندی پر سو ایک دن میں نے اپنی بیوی پر کچھ غصہ کیا سو وہ مجھے جواب دینے لگی۔اور میں نے اس کے جواب دینے کو برا مانا تو وہ بولی کہ تم میرے جواب دینے کو برا مانتے ہو اور اللہ کی قسم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں ان کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک آپ کو چھوڑ رکھتی ہے صبح سے شام تک میں۔سو میں چلا اور داخل ہوا حفصہ پر اور میں نے کہا:کہ تم جواب دیتی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔انہوں نے کہا:ہاں اور میں نے کہا:محروم ہوئیں تم میں سے جس نے ایسا کیا اور بڑے نقصان میں آئی کیا تم میں سے ہر ایک ڈرتی اس سے کہ اللہ اس پر غصہ کرے اس کے رسول کے غصہ دلانے سے اور ناگہاں وہ ہلاک ہو جائے(اس سے قوت ایمان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معلوم ہوتی ہے اور جو عظمت و شان ان کے سینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے بخوبی واضح ہوتی ہے)پھر کہا: کہ ہرگز جواب نہ دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان سے کوئی چیز طلب نہ کر اور مجھ سے فرمائش کیا کر کہ جو تیرا جی چاہے اور تو دھوکا نہ کھائیو اس بی بی سے جو تیری ہمسائی یعنی سوتن ہے کہ وہ زیادہ حسین ہے تجھ سے اور زیادہ پیاری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ نسبت تیرے(غرض تو اس کے بھروسہ میں نہ رہیو کہ تیری اس سے برابری نہیں ہو سکتی اس میں اقرار ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت اور محبوبیت کا)مراد لیتے تھے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اور کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ ہمارا ایک ہمسایہ تھا انصار میں سے کہ میں اور وہ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔سو ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں اور وہ مجھے وحی وغیرہ کی خبر دیتا تھا اور میں اسے،اور ہم میں چرچا ہوتا تھا کہ غسان کا بادشاہ اپنے گھوڑوں کی نعلیں لگاتا ہے کہ ہم سے لڑے سو ایک دن میرا رفیق نیچے گیا (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) اور پھر عشاء کو میرے پاس آیا اور میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی اور میں نکلا اور اس نے کہا:بڑا غضب ہوا۔میں نے کہا:کیا ملک غسان آیا؟اس نے کہا:نہیں اس سے بھی بڑی مہم پیش آئی اور بڑی لمبی کہ طلاق دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کو۔میں نے کہا:حفصہ خسارے اور نقصان میں ہوگئی بے اور میں پہلے یقین رکھتا تھا کہ ایک دن یہ ہونے والا ہے یہاں تک کہ جب میں نے صبح کی نماز پڑھی اپنے کپڑے پہنے اور میں نیچے آیا اور حفصہ کے پاس گیا اور اس کو دیکھا کہ وہ رو رہی ہے،پھر میں نے کہا کہ طلاق دی تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟سو اس نے کہا:میں نہیں جانتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں۔سو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کی طرف آیا جو سیاہ فام تھا اور میں نے کہا کہ اجازت لو عمر کے لیے اور وہ اندر گیا اور پھر نکلا اور کہا کہ میں نے تمہارا ذکر کیالیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے میں منبر شریف کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور وہاں ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا جن میں سے بعض رو رہے تھے میں تھوڑی دیر بیٹھا پھر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں غلام کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے اجازت طلب کرو وہ اندر گیا پھر باہر آیا اور کہا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے میں واپس ہوگیا تو غلام مجھے آواز دینے لگا کہ آجائیں آپ کو اجازت مل گئی ہےپھر میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور آپکے پہلو میں اس کے نشانات تھے،پھر میں نے عرض کی کیا آپ نے طلاق دی اپنی بیبیوں کو اے اللہ کے رسول! سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سر اٹھایا اور فرمایا:”کہ نہیں۔“پھر میں نے کہا:اللہ اکبر!اے اللہ کے رسول!کاش آپ دیکھتے کہ ہم لوگ قریش ہیں اور ایسی قوم تھے کہ غالب رہتے تھے عورتوں پر پھر جب مدینہ منورہ میں آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب ہیں اور ہماری عورتیں بھی ان کی عادتیں سیکھنے لگیں اور میں اپنی عورت پر غصہ ہوا ایک دن سو وہ مجھے جواب دینے لگی اور میں نے اس کے جواب دینے کو بہت برا مانا تو اس نے کہا:کہ تم کیا برا مانتے ہو میرے جواب دینے کو اس لیے کہ اللہ کی قسم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں ان کو جواب دیتی ہیں اور ایک ان میں کی آپ کو چھوڑ دیتی ہے دن سے رات تک سو میں نے کہا کہ محروم ہو گئی اور نقصان میں پڑ گئی جس نے ان میں سے ایسا کیا۔ کیا تم میں سے ہر ایک بے خوف ہو گئی ہے اس سے کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ کرے بسبب غصہ اس کے رسول کے اور وہ اسی دم ہلاک ہو جائے،سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراۓ اور میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں داخل ہوا حفصہ کے پاس اور میں نے کہا کہ تم دھوکا نہ کھانا اپنی سوکن کی حالت دیکھ کر کہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ پیاری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ مسکرائے پھر میں نے عرض کی کہ کچھ جی بہلانے کی باتیں کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“پس میں بیٹھ گیا اور سر اٹھا کر گھر کا جائزہ لینا شروع کیا لیکن مجھےگھر میں کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جس پر نظر ٹھہرتی ہو سواے تین کھالوں کے جن کو رنگا نہیں گیا تھا ۔سو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ آپ کی امت کو فراغت اور کشادگی عنایت کرے (یہ کمال ادب کی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے واسطے نہیں مانگتے اور امت کی کشادگی طلب فرمائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ البال رہیں)اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کو بڑی کشادگی دے رکھی ہے حالانکہ وہ اللہ کو نہیں پوجتے ہیں(بلکہ آتش پرست اور بت پرست ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور کہا: ”اے ابن خطاب! کیا شک میں ہو وہ لوگ تو ایسے ہیں کہ ان کو طیبات دنیا کی زندگی میں دے دیئے گئے۔“ سو میں نے عرض کی کہ مغفرت مانگئیے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے اے اللہ کے رسول! اور کیفیت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ بیبیوں کے پاس نہ جائیں گے ایک مہینے تک اور یہ قسم ان پر نہایت غصہ کے سبب کھائی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی طرف متوجہ کر دیا۔ حضرت زہری فرماتے ہیں:خبر دی مجھ کو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے آپ نے فرمایا(یہ)مہینہ انتیس دن کا ہے پھر فرمایا اے عائشہ!میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور تم اس کے جواب دینے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ مشورہ لے لو اپنے ماں باپ سے تو کچھ تمہارا حرج نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ» (۳۳-الأحزاب: ۲۸) سے «أَجْرًا عَظِيمًا» (۳۳-الأحزاب: ۲۵) تک یعنی ”اے نبی! کہہ دو تم اپنی بیبیوں سے۔“ ”بہت بڑا اجر ہے“ تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کا حکم نہ دیں گے، پھر فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اس میں کیا مشورہ لوں میں اپنے ماں باپ سے میں نے اللہ تعالیٰ،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے گھر کو اختیار کیا۔معمر نے کہا:مجھے ایوب نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مت خبر دو آپ اپنی اور بیبیوں کو اس سے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہ”اللہ تعالیٰ نے مجھے پیغام پہنچانے کو بھیجا ہے نہ مشکل میں ڈالنے کو۔“ قتادہ نے کہا: «صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» (التحریم: ۴: ۶۶) کا معنیٰ یہ ہے کہ تم دونوں کے دل جھک گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابٌ فِي الْإِيلَاءِ، وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: ٤]؛جلد٢ص١١١١ تا١١١٣؛حدیث نمبر ٣٥٩٣)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابو عمرو بن حفص نے ان کو طلاق بائنہ دی اور وہ غائب تھے ان کے وکیل نے ان(حضرت فاطمہ)کی طرف کچھ جو بھیجے تو وہ اس پر ناراض ہوگئیں وکیل نے کہا اللہ کی قسم ہم پر تمہارا کوئی حق واجب نہیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور واقعہ سنایا آپ نے فرمایا تمہارے لیے اس پر کوئی نفقہ واجب نہیں پس آپ نے ان کو ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا۔پھر فرمایا اس خاتون کے ہاں میرے اصحاب بکثرت جمع ہوتے ہیں تو حضرت ابن مکتوم کے ہاں عدت گزارو وہ نابینا ہیں ان کے ہاں تم کپڑے اتار سکتی ہو جب تمہاری عدت پوری ہو تو مجھے بتا دینا۔ حضرت فاطمہ فرماتی ہیں جب میری عدت ختم ہوگئی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت معاویہ بن سفیان اور حضرت ابو جہم(رضی اللہ عنہما)نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مفلس ہیں ان کے پاس مال نہیں تم حضرت اسامہ بن زید سے نکاح کرلو میں نے اس بات کو ناپسند کیا آپ نے پھر فرمایا حضرت اسامہ سے نکاح کرو پس میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں بھلائی رکھ دی اور مجھ پر شک کیا جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛ترجمہ؛جس کو تین طلاقیں دیں اس کے لئے نفقہ نہ ہونے کا بیان؛جلد٢ص١١١٤؛حدیث نمبر ٣٥٩٤)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی اور انہوں نے ان کو معمولی سا نفقہ دیا۔جب انہوں نے اس کو دیکھا تو کہا اللہ کی قسم میں یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گی اگر میرے لئے نفقہ ہے تو میں اس قدر لوں گی جس سے میری ضروریات پوری ہوں اور اگر میرے لیے نفقہ نہ ہوا تو کچھ بھی نہیں لوں گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٤؛حدیث نمبر ٣٥٩٥)
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے خاوند مخزومی نے ان کو طلاق دی تو ان کو نفقہ دینے سے انکار دیا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو واقعہ سنایا آپ نے فرمایا تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے تو یہاں سے منتقل ہوکر حضرت ابن مکتوم کے ہاں چلی جا اور ان کے پاس ہی ٹھہر جا کیوں کہ وہ نابینا آدمی ہیں تو وہاں لباس اتار سکتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٥؛حدیث نمبر ٣٥٩٦)
حضرت فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں کہ ابو حفص مغیرہ مخزومی نے ان کو تین طلاقیں دے دی پھر وہ یمن کی طرف چلے گئے تو ان کے گھر والوں نے کہا تمہارے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں اس پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کچھ دیگر افراد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے انہوں نے کہا کہ ابو حفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں کیا اس کے نفقہ ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں اور اس پر عدت ہے نیز آپ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ تم میرے مشورہ کے بغیر نکاح نہ کرنا اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ حضرت ام شریک کے گھر چلی جائیں۔ پھر پیغام بھیجا کہ ام شریک کے گھر قدیم مہاجرین آتے ہیں تم حضرت ابن ام مکتوم کے ہاں چلی جاؤ وہ نابینا ہیں جب تمہارا دو پٹہ اترے گا تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے چنانچہ وہ وہاں سے چلی گئیں جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٥؛حدیث نمبر ٣٥٩٧)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بائن دے دی تو میں نے اس کے گھر والوں کو پیغام بھیج کر نفقہ کا مطالبہ کیا باقی روایت حدیث نمبر ٣٥٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٦؛حدیث نمبر ٣٥٩٨)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں تو انہوں نے ان کو تین طلاقیں دے دیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا ابن مکتوم کے گھر چلی جاؤ۔ مروان نے مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے بارے میں اس روایت کی تصدیق نہیں کی اور حضرت عروہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حضرت فاطمہ بنت قیس سے اس روایت کا انکار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٦؛حدیث نمبر ٣٥٩٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اور اس میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی اس روایت کا انکار کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٦؛حدیث نمبر ٣٦٠٠)
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ روایت کرتےہیں کہ عمرو بن حفص بن مغیرہ،حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یمن کی طرف تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنے قاصد کے ہاتھ فاطمہ بنت قیس کو تیسری طلاق بھیج دی جو باقی تھی۔اور حارث بن ہشام اور عباس بن ربیعہ کو پیغام بھیجا کہ ان کو نفقہ دے دینا ان دونوں حضرات نے فاطمہ بنت قیس سے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم!تمہارے لیے نفقہ نہیں مگر یہ کہ تم حاملہ ہوتیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان دونوں کی بات بتائی آپ نے بھی فرمایا تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں انہوں نے(اس گھر سے)منتقل ہونے کے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت دے دی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ!میں کہاں رہوں؟آپ نے فرمایا ابن ام مکتوم کے گھر رہو،وہ نابینا ہیں تم وہاں لباس(دو پٹہ وغیرہ)اتار سکتی ہو وہ تمہیں دیکھ نہیں سکیں گے ۔ جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ (حاکم مدینہ)مروان نے قبیصہ بن ذویب کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کریں انہوں نے حدیث بیان کی تو مروان نے کہا ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ہم اسی فیصلے کو اختیار کریں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا۔ جب مروان کی یہ بات حضرت فاطمہ بنت قیس کو پہنچی تو انہوں نے کہا میرے اور تمہارے درمیان قرآن کا فیصلہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو" فاطمہ بنت قیس نے کہا یہ آیت ان مطلقہ عورتوں کے بارے میں ہے جن کو طلاق رجعی دی گئی اور تین طلاقوں کے بعد کونسا رجوع ہے۔پس تم کس طرح کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے لئے نفقہ نہیں اور تم اس کو کس دلیل کے تحت روکو گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٧؛حدیث نمبر ٣٦٠١)
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقدمہ میں کیا فیصلہ کیا تھا؟انہوں نے کہا میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو میں مکان اور نفقہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں مکان اور نفقہ کا فیصلہ نہ فرمایا اور مجھے حضرت ابن مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٧؛حدیث نمبر ٣٦٠٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٣٦٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٧؛حدیث نمبر ٣٦٠٣)
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں رطب ابن طاب نامی تازہ کھجوریں کھلائیں اور سکت(پیغمبری جو)کے ستو پلاے میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں وہ عدت کہاں گزارے انہوں نے کہا میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھر والوں کے ہاں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٨؛حدیث نمبر ٣٦٠٤)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں جسے تین طلاقیں دی گئی،روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا اس کے لیے مکان اور نفقہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٨؛حدیث نمبر ٣٦٠٥)
حضرت فاطمہ بنت قیس فرماتی ہیں مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں تو میں نے اس گھر سے منتقل ہونے کا ارادہ کیا چنانچہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا اپنے چچا زاد بھائی ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر جاؤ اور وہاں عدت گزارو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٨؛حدیث نمبر ٣٦٠٦)
ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں مسجد اعظم میں اسود بن یزید کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ حضرت شعبی بھی تھے چنانچہ حضرت شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث بیان کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مکان اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا پھر اسود نے مٹھی میں کنکریاں لے کر حضرت شعبی کی طرف پھینکیں اور کہا افسوس!تم اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم ایک عورت کے قول پر اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ نہیں سکتے ہمیں معلوم نہیں اسے یاد رہا یا بھول گئی اس کے لیے مکان بھی ہے اور نفقہ بھی،ارشاد خداوندی ہے: "ان(مطلقہ)عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں" (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٨؛حدیث نمبر ٣٦٠٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٠٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٩؛حدیث نمبر ٣٦٠٨)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ان کے خاوند نے ان کو تین طلاقیں دیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مکان اور نفقہ معین نہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے بتانا۔ انہوں نے آپ کو اطلاع دی کہ حضرت معاویہ اور حضرت ابو جہم اور حضرت اسامہ(رضی اللہ عنہم)نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک حضرت معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں اور حضرت ابو جہم عورتوں کو بہت مارتے ہیں البتہ حضرت اسامہ سے نکاح کر لو حضرت فاطمہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے انکار کیا اور کہا اسامہ اسامہ(یعنی نہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری تمہارے لیے بہتر ہے فرماتی ہیں پس میں نے ان سے نکاح کرلیا اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٩؛حدیث نمبر ٣٦٠٩)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ ابن ابی ربیعہ نے مجھے طلاق بھجوائیں تو ساتھ ہی پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جو بھیجے میں نے کہا کیا میرے لئے اسی قدر نفقہ ہے؟اور میں تمہارے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی۔ فرماتی ہیں میں نے اپنے کپڑے لپیٹے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ نے پوچھا اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟میں نے عرض کیا تین طلاقیں،آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے اور تم اپنے چچازاد بھائی حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارو۔کیوں کہ وہ نابینا ہیں تم وہاں اپنا کپڑا اتار سکتی ہو۔جب تمہاری عدت ختم ہوجائے تو مجھے بتانا۔ فاطمہ بنت قیس فرماتی ہیں پس مجھے کئی لوگوں نے منگنی کا پیغام دیا جن میں حضرت معاویہ اور حضرت ابو الجہم عورتوں پر بہت سخت یا فرمایا ان کو بہت مارنے والے ہیں یا اسی قسم کا کوئی لفظ فرمایا تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١١٩؛حدیث نمبر ٣٦١٠)
ابو بکر بن ابی جہم بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا انہوں نے بتایا کہ میں ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی اور وہ غزوہ نجران کے لئے چلے گئے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦١٠ کی مثل مروی ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ میں نے ابو زید سے شادی کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے ساتھ شادی کی وجہ سے عزت و شرف عطا کیا(ابو زید،حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢٠؛حدیث نمبر ٣٦١١)
ابوبکر کہتے ہیں میں اور ابو سلمہ،حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے خاوند نے ان کو بائنہ مغلظہ طلاق دی(تین طلاقیں)اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢٠؛حدیث نمبر ٣٦١٢)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے مکان اور نفقہ مقرر نہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢٠؛حدیث نمبر ٣٦١٣)
ہشام کے والد بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی سے نکاح کیا پھر اس کو طلاق دے کر اپنے گھر سے نکال دیا حضرت عروہ نے ان کے اس عمل کو ناپسند کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بھی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں حضرت عروہ فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان کو اس بات کی خبر دی انہوں نے فرمایا حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لئے یہ حدیث بیان کرنا اچھا نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢٠؛حدیث نمبر ٣٦١٤)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ مجھ سے سختی کریں تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ دوسری جگہ چلی جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢١؛حدیث نمبر ٣٦١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لیے یہ حدیث بیان کرنا بہتر نہیں یعنی یہ بات کہنا کہ ان کے لئے رہائش اور نفقہ نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢١؛حدیث نمبر ٣٦١٦)
حضرت قاسم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حکم کی بیٹی فلانہ کو ان کے خاوند نے تین طلاقیں دے دی ہیں اور وہ گھر سے چلی گئی ہیں انہوں نے فرمایا اس نے برا کیا ہے حضرت عروہ نے کہا کیا آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی بات نہیں سنی؟حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی بھلائی نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لَا نَفَقَةَ لَهَا؛جلد٢ص١١٢١؛حدیث نمبر ٣٦١٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی اور انہوں نے اپنے باغ کی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے ان کو باہر نکلنے پر جھڑک دیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں!تم اپنے باغ کا پھل توڑ سکتی ہو ہوسکتا ہے تم اس سے صدقہ کرو یا کوئی اور نیکی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ جَوَازِ خُرُوجِ الْمُعْتَدَّةِ الْبَائِنِ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي النَّهَارِ لِحَاجَتِهَا؛جلد٢ص١١٢١؛حدیث نمبر ٣٦١٨)
حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے حضرت عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے پاس جاکر ان کی حدیث کے بارے میں اور اس بات کے بارے میں پوچھیں کہ جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا تھا تو آپ نے کیا جواب دیا تو حضرت عمر بن عبداللہ نے حضرت عبد اللہ بن عتبہ کو لکھا اور ان کو بتایا کہ حضرت سبیعہ نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھیں جن کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے تھا وہ بدر میں بھی حاضر ہوئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر ان کا انتقال ہوگیا اس وقت وہ(حضرت سبیعہ)حاملہ تھیں ان کے وفات کے چند دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔نفاس سے پاک ہونے کے بعد انہوں نے منگنی کرنے والوں کے لئے بناؤ سنگھار کیا۔اس دوران بنو عبد الدار کے ابو السنابل بن بعکک نامی ایک شخص ان کے پاس آئے اور پوچھا کیا بات ہے میں تجھے بناؤ سنگھار کے ساتھ دیکھ رہا ہوں شاید تم نے نکاح کا ارادہ کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کر سکتیں۔حضرت سبیعہ فرماتی ہیں جب اس شخص نے یہ بات کہی تو میں اپنے کپڑے سنبھال کر شام کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ بچہ پیدا ہوتے ہی میری عدت پوری ہو گئی ہے چنانچہ آپ نے مجھے نکاح کرنے کی اجازت دے دی اگر میں چاہوں۔ابن شہاب فرماتے ہیں میں اس بات میں حرج نہیں جانتا کہ کوئی عورت بچہ پیدا ہوتے ہی نکاح کر لے چاہے اس کا خون جاری ہی کیوں نہ ہو البتہ اس کا خاوند اس کے قریب نہیں جا سکتا جب تک(خون سے)پاک نہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛ بَابُ انْقِضَاءِ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَغَيْرِهَا بِوَضْعِ الْحَمْلِ؛جلد٢ص١١٢١؛حدیث نمبر ٣٦١٩)
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور ابن عباس(رضی اللہ عنہم)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے وہ دونوں اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ کسی عورت کے خاوند کی وفات کے چند دن بعد اس کا بچہ پیدا ہوجائے(تو کیا حکم ہے)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی عدت وہ مدت ہے جو دو مدتوں(وضع حمل اور عدت وفات)میں سے زیادہ ہو۔اور ابو سلمہ نے کہا وضع حمل کے بعد اس کی عدت پوری ہوجاتی ہے وہ دونوں اس بات میں اختلاف کر رہے تھے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا فرماتی ہیں سبیعہ اسلمیہ نے بتایا کہ ان کے خاوند کی وفات کے چند دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ انْقِضَاءِ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَغَيْرِهَا بِوَضْعِ الْحَمْلِ؛جلد٢ص١١٢٢؛حدیث نمبر ٣٦٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٢٠ کی مثل مروی ہے البتہ حضرت لیث کی روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کی خدمت میں کسی کو روانہ کیا حضرت کریب کا نام نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ انْقِضَاءِ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَغَيْرِهَا بِوَضْعِ الْحَمْلِ؛جلد٢ص١١٢٣؛حدیث نمبر ٣٦٢١)
حضرت حمید بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے ان سے یہ تین احادیث بیان کی ہیں فرماتے ہیں حضرت زینب نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جب ان کے والد حضرت ابوسفیان کا انتقال ہوا۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے پیلے رنگ کی خوشبو منگوائی چنانچہ لونڈی نے ان کے رخسار پر یہ خوشبو لگائی پھر انہوں نے کہا مجھے خوشبو کی حاجت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے منبر پر فرمایا کہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ مناے البتہ خاوند کی موت پر چار ماہ دس دن سوگ مناے۔ حضرت زینب بنت ابو سلمہ فرماتی ہیں پھر میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے بھی خوشبو منگواکر لگائی اس کے بعد فرمایا اللہ کی قسم مجھے اس کی حاجت نہ تھی لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو،جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ مناے البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ مناے۔ حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے اپنی ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی ہیں ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا ہم اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمایا نہیں پھر فرمایا یہ(عدت)چار ماہ دس دن ہیں اور جاہلیت کے زمانے میں تم سے ایک عورت(خاوند کے فوت ہونے کے)ایک سال بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔ حضرت حمید فرماتے ہیں میں نے حضرت زینب سے پوچھا کہ سال کے بعد مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو حضرت زینب نے فرمایا جب کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک تنگ مکان میں چلی جاتی اور بدترین لباس پہنتی اور وہ خوشبو وغیرہ کچھ نہیں لگاتی تھی حتیٰ کہ جب ایک سال گزر جاتا تو کسی جانور مثلا گدھے یا پرندے کو اس کے پاس لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ جس پر ہاتھ پھیرتی وہ مر جاتا پھر وہ باہر نکلتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی اس کے بعد وہ خوشبو یا کوئی اور چیز استعمال کرتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؛جلد٢ص١١٢٣؛حدیث نمبر ٣٦٢٢)
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے کسی رشتہ دار کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے خوشبو منگوا کر اپنے بازوؤں پر لگائی اور فرمایا میں نے یہ کام اس لئے کیا ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ مناے البتہ اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٥؛حدیث نمبر ٣٦٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے حضرت زینب بنت اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث اپنی والدہ(حضرت ام سلمہ)اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت زینب یا کسی دوسری ام المومنین سے روایت کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٥؛حدیث نمبر ٣٦٢٤)
حضرت حمید بن نافع فرماتے ہیں میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ سے سنا وہ اپنی والدہ سے روایت کر رہی تھیں کہ ایک عورت کے خاوند کا انتقال ہوگیا اور لوگوں کو اس کی آنکھوں میں تکلیف کا خدشہ ہوا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت طلب کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(زمانہ جاہلیت سے)تم میں سے کوئی عورت ایک سال کے لئے بدترین کوٹھڑی میں چلی جاتی اور اس پر بدترین چادر ہوتی اس کے بعد جب کوئی کتا گزرتا تو وہ اسے مینگنی سے مارتی اور باہر نکل آتی اب تم سے چار ماہ دس دن ٹھہرا نہیں جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٥؛حدیث نمبر ٣٦٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت حمید بن نافع،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ سے دونوں حدیثیں حدیث نمبر ٣٦٢٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں محمد بن جعفر کی حدیث کی طرح زینب کا نام نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٦؛حدیث نمبر ٣٦٢٦)
حضرت حمید بن نافع سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے سنا وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہن سے روایت کرتے ہیں وہ دونوں ذکر کرتی ہے کہ ایک عورت نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیٹی کے شوہر کا انتقال ہوگیا اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے اور وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(دور جاہلیت میں)تم میں سے ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکتی اور یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٦؛حدیث نمبر ٣٦٢٧)
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابو سفیان کے انتقال کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگواکر اپنے بازوؤں اور رخساروں پر لگائی اور فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ(میت پر)تین دن سے زیادہ سوگ مناے البتہ اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٦؛حدیث نمبر ٣٦٢٨)
نافع کہتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید نے حضرت حفصہ یا حضرت عائشہ یا دونوں(رضی اللہ عنہن)سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ مناے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٦؛حدیث نمبر ٣٦٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٦؛حدیث نمبر ٣٦٣٠)
حضرت حفصہ بنت عمر(رضی اللہ عنہا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ آپ سے حدیث نمبر ٣٦٢٩ کی طرح بیان کرتی ہیں اس میں یہ اضافہ ہے کہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٧؛حدیث نمبر ٣٦٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی صفیہ بنت ابی عبید کے واسطہ سے بعض ازواج مطہرات سے حدیث نمبر ٣٦٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٧؛حدیث نمبر ٣٦٣٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٧؛حدیث نمبر ٣٦٣٣)
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ مناے البتہ اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے رنگ کئے ہوئے اور رنگین بنے ہوئے کپڑے نہ پہنے نہ سرمہ لگاے اور نہ خوشبو لگاے البتہ حیض سے طہارت کے وقت کچھ خوشبو لگا سکتی ہے۔(قُسط اوراَظفار خوشبو کی دو قسمیں ہیں) (مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٧؛حدیث نمبر ٣٦٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٣٧ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ طہارت کے وقت کچھ خوشبو لگا سکتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٨؛حدیث نمبر ٣٦٣٥)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہمیں اس بات سے روکا جاتا تھا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرنے کا حکم ہے نہ تو ہم سرمہ لگائیں اور نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنیں البتہ عورت کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ جب وہ حیض سے پاک ہو تو قسط یا اظفار(خوشبو)سے کچھ لگا لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الطَّلَاقِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ، وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّام؛جلد٢ص١١٢٨؛حدیث نمبر ٣٦٣٦)
Muslim Shareef : Kitabut Talaq
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الطَّلَاقِ
|
•