
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں میں نے مالک سے پوچھا کہا حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے تم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو تو کسی عادل سے غلام کی متوسط قیمت لگا کر دوسرے شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کی جائے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ جس قدر غلام اس نے آزاد کیا اسی قدر آزاد ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ترجمہ؛آزاد کرنے کا بیان؛جلد٢ص١١٣٩؛حدیث نمبر ٣٦٦٤)
امام مسلم نے آٹھ سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٣٦٦٤ کی مثل روایت کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٣٩؛حدیث نمبر ٣٦٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس غلام میں دو حصہ دار ہوں اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ(دوسرے کے لئے)ضامن ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤٠؛حدیث نمبر ٣٦٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو بقیہ غلام بھی اس کے مال سے آزاد ہوگا اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اور اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤٠؛حدیث نمبر ٣٦٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٦٧ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام پر مبنی قیمت لگا کر اس شخص کا حصہ آزاد کردیا جائے جس نے آزاد نہیں کیا لیکن محنت کے سلسلے میں اس(غلام)کو مشقت میں نہ ڈالا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں اس طرح آیا ہے کہ اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٦٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا جسے وہ آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے کہا ہم آپ پر اس شرط پر بیچیں گے کہ اس کی ولاء(یعنی جس کو آزاد کیا آزاد کرنے والا اس کا وارث ہوگا اس کو ولاء کہا جاتا ہے۔١٢ہزاروی)ہمارے پاس ہوگی۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا تم اس کو خریدنے سے مت روکو ولاء اسی کے لئے ہوگی جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛ترجمہ؛ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٧٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ ان کے پاس بدل کتابت کے سلسلے میں مدد طلب کرنے کی خاطر آئیں اور انہوں نے اپنی کتابت(مکاتبت)سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری کتابت کا بدل ادا کردوں اور تمہاری ولاء میرے لئے ہوگی اگر میں چاہوں تو ایسا کروں یہ بات حضرت بریرہ نے اپنے آقاؤں سے ذکر کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا اگر ام المؤمنين چاہے تو ثواب کی نیت سے ایسا کریں اور تمہاری ولاء ہمارے لئے ہوگی۔ام المؤمنين نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے ان سے فرمایا خرید کر آزاد کردو ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرائط رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں تو ان کو ان شرائط کا کوئی حق نہیں(اور وہ پوری نہیں کی جائیں گی)اگرچہ سو شرطیں رکھیں اللہ تعالیٰ کی شرط ہی پوری کرنے کے زیادہ لائق اور زیادہ مضبوط ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٧١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میرے پاس آئیں اور کہا اے عائشہ!میں نے اپنے مالکوں سے اس شرط پر مکاتبت کی ہے کہ میں ہرسال ایک اوقیہ کے حساب سے نو اوقیہ دوں گی۔(ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے)اس کے بعد پہلے کی طرح حدیث ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات تجھے منع نہ کرے تم خرید کر آزاد کرو۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اما بعد!...۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٢؛حدیث نمبر ٣٦٧٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ میرے مالکوں نے مجھ سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے جو ایک سال میں ایک اوقیہ کے حساب سے نو سال میں ادا کروں گی آپ میری مدد فرمائیں۔ میں نے کہا اگر تمہارے مالک چاہے کہ میں ایک مشت یہ رقم ادا کر کے تمہیں آزاد کرا دوں اور ولاء مجھے حاصل ہو تو میں ایسا کروں گی۔انہوں نے یہ بات اپنے مالکوں سے ذکر کی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ولاء ان کو ہی حاصل ہوگی حضرت بریرہ نے آکر مجھے بتایا ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے ان کو جھڑک دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو مجھ سے پوچھا میں نے آپ کو واقعہ بتایا تو آپ نے فرمایا تم خرید کر آزاد کردو اور ان کے حق میں ولاء کو مشروط کردو کیونکہ ولاء اسی کے لئے ہے جو آزاد کرے۔آپ فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جیسے اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا اما بعد!ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرائط رکھتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ذکر نہیں ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہےاگرچہ سو شرطیں ہوں اللہ کی کتاب زیادہ حق دار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہے تم میں سے ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان میں سے کوئی کہتا ہے فلاں کو آزاد کردو لیکن ولاء میرے پاس ہوگی حالانکہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٢؛حدیث نمبر ٣٦٧٣)
کچھ دیگر اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے جن میں سے حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضرت بریرہ کا خاوند غلام تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا پس اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا اور اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے اختیار نہ دیتے ان حضرات کی حدیث میں"اما بعد"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت بریرہ کے واقعہ میں تین مسائل ہیں ان کے مالکوں نے ان کو بیچنے کا ارادہ کیا اور ان کی ولاء کو اپنے حق میں رکھنے کی شرط عائد کی میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کردو اور ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔(دوسری بات یہ کہ)ان کو آزاد کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دیا پس انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا اور(تیسری بات یہ کہ)لوگ ان کو صدقہ دیتے اور وہ ہمیں بطور ہدیہ دیتی تھیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لئے ہدیہ ہے پس تم اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہوں نے حضرت بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدا اور ان لوگوں نے ولاء کی شرط رکھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کے لیے ہوگی جو ولی نعمت ہو اور حضرت بریرہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا اور ان کاخاوند غلام تھا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ گوشت دیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس گوشت سے ہمارے لئے پکاتیں تو بہتر ہوتا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یہ صدقہ کا گوشت ہے جو بریرہ کو دیا گیا آپ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ ان کو آزاد کریں تو ان کے مالکوں نے اپنے لئے ولاء کی شرط رکھی۔ ام المومنین نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا اسے خرید کر آزاد کرو بےشک ولاء اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا تو اہل خانہ نے عرض کیا یہ حضرت بریرہ کو صدقہ دیا گیا ہے آپ نے فرمایا اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔نیز حضرت بریرہ کو اختیار دیا گیا تو حضرت عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ ان کا خاوند آزاد تھا۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت عبد الرحمن سے(اس بارے میں)پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ کا خاوند غلام تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت بریرہ کے واقعہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں جب ان کو آزاد کیا گیا تو خاوند کے بارے میں ان کو اختیار دیا گیا۔اور ان کو گوشت کا تحفہ دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہنڈیا چولہے پر تھی آپ نے کھانا طلب کیا تو روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا آپ نے فرمایا کیا میں آگ پر چڑھی ہوئی دیگچی میں گوشت نہیں دیکھ رہا عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!یہ گوشت حضرت بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے تو ہم نے اس میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا پسند نہ کیا۔ آپ نے فرمایا یہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ان کی طرف سے ہدیہ ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ولاء اس کے لئے ہےجو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ اسے آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے انکار کردیا البتہ یہ ہے کہ ولاء ان کے لئے ہو ام المؤمنين نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا تمہیں اس کے خریدنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ولاء اسی کے لئے ہے جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ابراهيم فرماتے ہیں میں نے امام مسلم بن حجاج سے سنا وہ کہتے ہیں اس حدیث میں تمام لوگ عبد اللہ بن دینار کے شاگرد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَهِبَتِهِ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨٢)
امام مسلم نے پانچ سندوں سے حضرت عبد اللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٦٨٢ کی مثل روایت کیا۔البتہ عبیداللہ کی روایت میں صرف بیع کا ذکر ہے ہبہ کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَهِبَتِهِ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ ہر قبیلہ پر اس کی دیت واجب ہے پھر لکھا کہ کسی مسلمان کے آزاد شدہ غلام کے لئے آزاد کرنے والے کی اجازت کے بغیر دوسرے کا والی بننا جائز نہیں پھر مجھے بتایا گیا کہ آپ نے ایسا کرنے والے پر اپنے صحیفہ میں لعنت لکھی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو کسی قوم کی طرف منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی لعنت ہے اس کا کوئی فرض اور نفل قبول نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو دوسرے لوگوں کی طرف منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کی فرض نماز اور نوافل قبول نہیں ہوں گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٨٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں"من تولی"کی جگہ من والی" کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٧)
ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ہم کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا کوئی چیز پڑھتے ہیں جو ہمارے پاس ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں وہ صحیفہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی تلوار کی میان سے لٹکا ہوا تھا اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور چھ زخموں کی دیت کا بیان تھا اور اس میں یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ عیر سے ثور تک حرم ہے پس جو شخص اس میں بدعت کا ارتکاب کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں کرے گا۔ اور مسلمانوں کا ذمہ واحد ہے اس کے لئے ان کا ادنیٰ بھی کوشش کرسکتا ہے اور جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب ہو یا اپنے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض اور نماز قبول نہیں کرے گا۔(جس طرح باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب ہونا یا منسوب کرنا جھوٹ ہے اسی طرح آزاد کوئی کرے اور نسبت کرے کسی کی طرف کی جائے یہ بھی جھوٹ ہے لہذا اس سے منع کیا گیا ہے۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک مؤمن غلام آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس شخص کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی مؤمن غلام کو آزاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس شخص کے ہر عضو حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ جہنم سے آزاد کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی مؤمن غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس(غلام)کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد گا۔ سعید بن مرجانہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی اور حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنا غلام آزاد کردیا جس کی قیمت ابن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دے رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیٹا اپنے باپ(کے احسانات)کا بدلہ نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اس کو غلام پاے تو خرید کر آزاد کردے ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے۔ "ولد والدا"کی جگہ"ولدوالدہ" کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ عِتْقِ الْوَالِدِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے اور ان سب نے"ولد والدہ"کےالفاظ ذکر کئے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ عِتْقِ الْوَالِدِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٤)
Muslim Shareef : Kitabul Itq
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْعِتْقِ
|
•