
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرما۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛ترجمہ؛بیع ملامسہ اور منابذہ کا ابطال؛جلد ٣ص١١٥١؛حدیث نمبر ٣٦٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد ٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٦٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ٣٦٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٦٩٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٦٩٥کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٦٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ایک بیع ملابسہ اور دوسری بیع منابذہ۔بیع ملامسہ یہ ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے کپڑے کو غور کئے بغیر ہاتھ لگاے اور منابذہ یہ ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے۔(اور بیع لازم ہوجائے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٦٩٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کی بیع اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا آپ نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ بیع ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے کپڑے کو دن یا رات کے وقت ہاتھ لگاے اور اسی(بیع کے)مقصد سے اس کو پلٹ دے اور منابذہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے اور دوسرا شخص اپنا کپڑا اس(پہلے)شخص کی طرف پھینک دے اور یوں ان کے درمیان بیع نافذ ہوجائے نہ تو اس میں دیکھنا پایا جائے اور نہ رضا مندی کا اظہار ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٧٠٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٠٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ؛جلد٣ص١١٥٢؛حدیث نمبر ٣٧٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛- بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَالْبَيْعِ الَّذِي فِيهِ غَرَرٌ؛جلد٣ص١١٥٣؛حدیث نمبر ٣٧٠٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ(جانور)کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ؛جلد٣ص١١٥٣؛حدیث نمبر ٣٧٠٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دور جاہلیت میں لوگ اونٹ کا گوشت حاملہ کے حمل تک فروخت کرتے تھے اور حاملہ کے حمل سے مراد یہ ہے کہ اونٹنی سے ایک اونٹنی پیدا ہو پھر بڑی ہوکر یہ اونٹنی حاملہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ؛جلد٣ص١١٥٤؛حدیث نمبر ٣٧٠٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛ترجمہ؛کسی کی بیع اور نرخ پر بیع اور نرخ مقرر کرنے دھوکہ دینے اور تھنوں میں دودھ روکنے کی حرمت؛جلد٣ص١١٥٤؛حدیث نمبر ٣٧٠٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے نہ کوئی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے البتہ یہ کہ وہ اجازت دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٤؛حدیث نمبر ٣٧٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگاے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٤؛حدیث نمبر ٣٧٠٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگاے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٤؛حدیث نمبر ٣٧٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجارتی قافلہ سے(شہر پہنچنے سے پہلے)بیع کے لیے ملاقات نہ کی جاے اور نہ کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا کرے اور نجش(دھوکہ دہی)نہ کرو۔ شہری،دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے اونٹنی اور بکرے کے تھنوں میں دودھ نہ روکو بس جو شخص اسے دوہنے کے بعد خریدے اسے دو باتوں میں سے ایک اختیار ہے اگر راضی ہو تو روک لے اور راضی نہ ہو تو اس(جانور)کو واپس کر دے اور ایک صاع کھجوریں بھی دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٥؛حدیث نمبر ٣٧٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے نہ نجش کرے نیز آپ نے تھنوں میں دودھ روکنے اور اپنے بھائی کے نرخ پر نرخ لگانے سے بھی منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٥؛حدیث نمبر ٣٧١٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧١٠ کی مثل مروی ہے وہب کی روایت میں صرف منع کا اور عبد الصمد کی روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منع فرمانے کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٦؛حدیث نمبر ٣٧١١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٦؛حدیث نمبر ٣٧١٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودا بیچنے والوں سے ملاقات کرنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ خود بازار میں پہنچ جائیں۔ یہ ابن عمیر کی روایت کے الفاظ ہیں دوسرے حضرات کی روایت میں ہے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ؛جلد٣ص١١٥٦؛حدیث نمبر ٣٧١٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٧١٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ؛جلد٣ص١١٥٦؛حدیث نمبر ٣٧١٤)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(آگے جا کر(سوداگروں) کے ساتھ ملاقات کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ؛جلد٣ص١١٥٦؛حدیث نمبر ٣٧١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(آگے جاکر)سوداگروں سے ملنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ؛جلد٣ص١١٥٧؛حدیث نمبر ٣٧١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سودا بیچنے والے سے(آگے جاکر)نہ ملو پس جس نے آگے جاکر ملاقات کی اور سودا خریدا پھر سودے کا مالک بازار گیا تو اسے اختیار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ، وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ، وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ؛جلد٣ص١١٥٧؛حدیث نمبر ٣٧١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے زہیر کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کے ساتھ بیع سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛ترجمہ؛شہری کو دیہاتی کا مال فروخت کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١١٥٧؛حدیث نمبر ٣٧١٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو ملنے سے منع فرمایا اور شہری کو دیہاتی کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا۔طاؤس کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ شہری دیہاتی کی بیع کا کیا مطلب ہے انہوں نے فرمایا اس کا دلال نہ بنے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛جلد٣ص١١٥٧؛حدیث نمبر ٣٧١٩)
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑدو اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛جلد٣ص١١٥٧؛حدیث نمبر ٣٧٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٢٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں اس بات سے منع کردیا گیا کہ شہری،دیہاتی سے بیع کرے اگرچہ اس کا بھائی یا باپ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری دیہاتی سے بیع کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایسی بکری خریدی جس کے تھنوں میں دودھ روک دیا گیا ہو وہ اسے لے کر واپس آئے اور اس کا دودھ دوہے تو پھر اگر اس کے دودھ کی مقدار اسے پسند آئے تو اسے روک لے ورنہ اسے واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی واپس کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایسی بکری خریدی جس کا دودھ روک دیا گیا تھا اسے تین دن کا اختیار ہے اگر چاہے تو اسے روک دے اور چاہے تو اسے واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے تھنوں میں روکے گئے دودھ والی بکری خریدی تو اسے تین دن کا اختیار ہے اور اگر واپس لوٹائے تو اس کے ساتھ ایک صاع طعام(کوئی غلہ)دے گندم ہی ضروری نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے صراۃ(جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا)بکری خریدی تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو اس(بکری)کو روک لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کردے اور ایک صاع کھجوریں بھی دے گندم ضروری نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٩؛حدیث نمبر ٣٧٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٢٧کی مثل مروی ہے اور اس میں"شاۃ" کی بجائے"غنم"کا لفظ ہے(معنیٰ وہی ہے یعنی بکری)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٩؛حدیث نمبر ٣٧٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مصراۃ اونٹنی یا مصراۃ بکری خریدے تو دودھ دوہنے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے یا تو اسے رکھ لے یا واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ؛جلد٣ص١١٥٩؛حدیث نمبر ٣٧٢٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے تو جب تک اس کا وزن نہ کرے اسے نہ بیچے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛ترجمہ؛قبضہ سے پہلے کسی چیز کو بیچنا باطل ہے؛جلد٣ص١١٥٨؛حدیث نمبر ٣٧٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٠؛حدیث نمبر ٣٧٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ہر چیز کو غلہ کی طرح خیال کرتا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٠؛حدیث نمبر ٣٧٣٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طعام خریدے تو جب تک اس کا ماپ نہ کرلے اسے فروخت نہ کرے حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟انہوں نے فرمایا کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ لوگ سونے اور اناج کے ساتھ میعادی بیع کرتے ہیں ابوکریب کی روایت میں میعادی کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٠؛حدیث نمبر ٣٧٣٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے تو جب تک اس کا وزن نہ کرے اسے فروخت نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٠؛حدیث نمبر ٣٧٣٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے پھر آپ ہمارے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ ہم خریدی ہوئی چیز کو اس جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیں اس کو بیچنے سے پہلے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٠؛حدیث نمبر ٣٧٣٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غلہ خریدا وہ اسے وزن کئے بغیر نہ بیچے وہ فرماتے ہیں ہم سواروں سے بغیر ناپ تول کے اندازاً اناج خریدتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس اناج کو وزن کرنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦١؛حدیث نمبر ٣٧٣٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غلہ خریدا وہ اسے وزن کرنے اور قبضہ کرنے سے پہلے فروخت نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦١؛حدیث نمبر ٣٧٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص غلہ خریدے وہ قبضہ کرنے سے پہلے اسے فروخت نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦١؛حدیث نمبر ٣٧٣٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو اس بات پر مارا جاتا تھا کہ وہ اندازاً اناج خریدتے اور اسے منتقل کرنے سے پہلے اسے فروخت کردیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦١؛حدیث نمبر ٣٧٣٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھا کہ جب لوگ غلہ اندازے سے خرید کر اسے گھر میں منتقل کرنے سے پہلے فروخت کرتے تو اس پر ان کو مارا جاتا تھا۔ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے عبید اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ان کے والد اناج ایک ڈھیر خریدتے تھے پھر اسے اپنے گھر لے جاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦١؛حدیث نمبر ٣٧٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غلہ خریدا وہ اس کو ناپنے سے پہلے فروخت نہ کرے ابوبکر کی روایت میں"اشتری"کی بجائے"اتباع" کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٢؛حدیث نمبر ٣٧٤١)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان سے فرمایا کہ تم نے سود کی بیع کو حلال قرار دیا؟مروان نے کہا میں نے کیا کیا ہے؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے ہنڈی کی بیع کو جائز قرار دیا ہے حالانکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے پہلے اناج کی بیع کو منع کیا ہے پس مروان نے خطبہ دیا اور اس کی بیع سے منع کردیا سلیمان کہتے ہیں میں نے سپاہیوں کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے ہاتھوں سے ہنڈیاچھین رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٢؛حدیث نمبر ٣٧٤٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اناج خریدو تو اسے وزن کرنے سے پہلے فروخت نہ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ؛جلد٣ص١١٦٢؛حدیث نمبر ٣٧٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے ایسے ڈھیر کو جس کی پیمائش ناپنے کے پیمانے کے ذریعے معلوم نہ ہو،معین کھجوروں کے عوض بیچنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ صُبْرَةِ التَّمْرِ الْمَجْهُولَةِ الْقَدْرِ بِتَمْرٍ؛جلد٣ص١١٦٢؛حدیث نمبر ٣٧٤٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثل بیع کرنے سے منع فرمایا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٣٧٤٤ کی مثل مروی ہے البتہ حدیث کے آخر میں کھجوروں کا ذکر نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ صُبْرَةِ التَّمْرِ الْمَجْهُولَةِ الْقَدْرِ بِتَمْرٍ؛جلد٣ص١١٦٣؛حدیث نمبر ٣٧٤٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک بائع اور مشتری الگ الگ نہ ہوں اس وقت تک ہر ایک کو دوسرے کا عقد فسخ کرنے کا اختیار ہے البتہ جس بیع میں خیار(خیار شرط)ہو اس کو فسخ نہیں کر سکتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ؛جلد٣ص١١٦٣؛حدیث نمبر ٣٧٤٦)
حضرت امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٧٤٦ کی مثل روایت ذکر کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ؛جلد٣ص١١٦٣؛حدیث نمبر ٣٧٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کریں تو جب تک وہ جدا نہ ہو ہر ایک کو اختیارہے جب تک وہ ساتھ رہیں یا ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق کو اختیار دے اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق کو اختیار دے پھر وہ بیع کریں تو بیع واجب ہوگی اور اگر سودا کرنے کے بعد دونوں جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی نے بیع کو فسخ نہیں کیا تو بیع واجب ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ؛جلد٣ص١١٦٣؛حدیث نمبر ٣٧٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عاقدین سودا کریں تو جب تک جدا نہ ہوں ان میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے البتہ بیع شرط خیار سے ہو(تو فسخ نہیں کر سکتے)اور جب وہ اپنے اختیار سے بیع کرلیں تو بیع واجب ہوگئی۔ابن ابی عمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نافع نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب کسی سے سودا کرتے اور ان کی خواہش ہوتی کہ یہ بیع فسخ نہ ہو تو مجلس سے کھڑے ہوجاتے اور کچھ دور چل کر واپس آجاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ؛جلد٣ص١١٦٣؛حدیث نمبر ٣٧٤٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیع کرنے والے دو فریقوں کی بیع اس وقت تک لازم نہیں ہوگی جب تک وہ متفرق نہ ہو جائیں ماسوائے بیع خیار کے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ؛جلد٣ص١١٦٤؛حدیث نمبر ٣٧٥٠)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ جدا جدا نہ ہو جائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور(عیب)بیان کردیں تو ان کے سودے میں برکت ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور (عیب) چھپائیں تو ان کے سودے کی برکت مٹادی جائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ؛جلد٣ص١١٦٤؛حدیث نمبر ٣٧٥١)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٧٥١ کی مثل روایت کرتے ہیں۔لیکن امام مسلم فرماتے ہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ شریف میں پیدا ہوئے اور ایک سو بیس سال زندہ رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ؛جلد٣ص١١٦٤؛حدیث نمبر ٣٧٥٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا کہ اسے بیع میں دھوکہ ہوجاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جس شخص سے سودا کرو تو اس سے کہ دو کہ دھوکہ نہیں ہوگا وہ شخص جب بیع کرتا تو کہتا دھوکہ نہیں ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ؛جو شخص بیع میں دھوکہ کھا جائے؛جلد٣ص١١٦٥؛حدیث نمبر ٣٧٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٥٣ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں یہ نہیں کہتا تھا"لا خِیابۃ"(یعنی دھوکہ نہ ہو)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ؛جلد٣ص١١٦٥؛حدیث نمبر ٣٧٥٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کی بیع کو ناجائز قرار دیا(چنانچہ)آپ نے بیچنے والے،خریدنے والے دونوں کو اس سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٥؛حدیث نمبر ٣٧٥٥)
ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٧٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٥؛حدیث نمبر ٣٧٥٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ سرخ یا زرد نہ ہوجائیں اور سفید ہونے سے پہلے(گندم وغیرہ کی)بالیوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ آفات سے محفوظ نہ ہوجائیں بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٥؛حدیث نمبر ٣٧٥٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک پھلوں کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے اور وہ قدرتی آفات سے محفوظ نہ ہوجائیں ان کو فروخت نہ کرو آپ نے فرمایا ان کی صلاحیت کا ظہور ان کی سرخی یا زردی سے ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٥٨)
ایک اور سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے اور اس میں صرف پھلوں کی صلاحیت کا ذکر ہے اور بعد والا کلام مذکور نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٥٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٧٥٩ کی مثل روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٦٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہور صلاحیت سے پہلے پھلوں کو مت فروخت کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٦٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ پھلوں کی صلاحیت سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا وہ(قدرتی)آفات سے محفوظ ہوجائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٦؛حدیث نمبر ٣٧٦٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور صلاحیت سے پہلے پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٧؛حدیث نمبر ٣٧٦٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٧؛حدیث نمبر ٣٧٦٥)
حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجوروں کی بیع کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائیں کہ ان کو کھایا یا کھلایا جاسکے اور ان کا وزن کیا جاسکے فرماتے ہیں میں نے پوچھا وزن کے لائق ہونے کا کیا مطلب ہے تو ان کے پاس بیٹھا ہوا ایک شخص بولا کاٹ کر محفوظ رکھنے کے قابل ہوجائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٧؛حدیث نمبر ٣٧٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھلوں کو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت مت کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٧؛حدیث نمبر ٣٧٦٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور صلاحیت سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور تازہ کھجوروں کی خشک کھجوروں کے بدلے میں بیع سے بھی منع فرمایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرايا کی بیع کی اجازت دی ہے ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عرايا کو بیچنے کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٨؛حدیث نمبر ٣٧٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو مت بیچو اور تازہ کھجوروں کو خشک کھجوروں(چھوہاروں)کے بدلے میں نہ بیچو۔ ابن شہاب کہتے کہ سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے اور انہوں نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ؛جلد٣ص١١٦٨؛حدیث نمبر ٣٧٦٩)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاہنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا مزاہنہ یہ ہے کہ تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے بدلے میں فروخت کیا جائے اور محاقلہ یہ ہے کہ کھڑی فصل کو اناج کے بدلے فروخت کیا جائے اور گندم کے بدلے میں زمین کو کرایہ پر حاصل کرنے سے بھی منع فرمایا۔ اور حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کی کہ آپ نے فرمایا پھلوں کو فروخت نہ کرو حتیٰ کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہوجائے تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے فروخت نہ کرو۔ اور حضرت سالم فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرايا میں تازہ کھجوروں یا خشک کھجوروں کے بدلے میں فروخت کی اجازت دی ہے اور اس کے علاوہ میں اجازت نہیں دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٨؛حدیث نمبر ٣٧٧٠)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عرایا کو اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض تازہ کھجوروں کی بیع کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧١)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں یہ اجازت دی ہے کہ گھر والے اندازے کے ساتھ خشک کھجوریں دیں اور تازہ کھجوریں کھائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٧٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٧٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ عریہ کھجور کا درخت ہے جو لوگوں کو دیا جائے پھر اندازے سے اس کے پھلوں کو خشک کھجوروں کے بدلے میں خرید لیا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ میں اندازے سے چھوہاروں کی بیع کی اجازت دی ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں عریہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئے اندازے سے تازہ کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے میں خریدے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٥)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں اس بات کی اجازت دی کہ ناپ کے اندازے سے بیع کی جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٦٩؛حدیث نمبر ٣٧٧٧)
ایک اور سند سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں اندازے کے ساتھ بیع کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٧٨)
حضرت بشیر بن یسار،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بعض صحابہ کرام سے روایت کرتےہیں جو ان کے گھر میں رہتے تھے ان میں حضرت سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ یہ فرماتے تھے کہ تازہ کھجوروں کی چھوہاروں کے عوض بیع سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور فرمایا کہ یہ سود ہے اور یہی مزاہنہ ہے البتہ آپ نے بیع عریہ میں اجازت دی ہے کہ کھجور کے ایک درخت یا دو درختوں(کی کھجوروں)کو گھر والے چھوہارے دے کر خرید لیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٧٩)
حضرت سعید بن بشیر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ میں اندازے سے چھوہاروں کی بیع کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٨٠)
حضرت سعید بن بشیر،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں جو ان کے گھر میں رہتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ پھر حسب سابق ذکر کیا البتہ اسحاق اور ابن مثنی کی روایت میں رَبَا کی جگہ مزاہنہ کا ذکر ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں رَباَ کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٨١)
ایک اور سند سے حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٨٢)
حضرت سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاہنہ یعنی کھجوروں کی چھوہاروں کے بدلے بیع سے منع فرمایا البتہ عرایا والوں کو اس کی اجازت دے دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٠؛حدیث نمبر ٣٧٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں اندازے کے ساتھ بیع کی اجازت دی ہے جب کہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق میں ہو راوی کو شک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزاہنہ سے منع فرمایا اور مزاہنہ یہ ہے کہ درختوں پر لگی کھجوروں کو ناپ کر خشک کھجوروں کے بدلے یا انگوروں کو ناپ کر کشمش کے بدلے میں فروخت کرنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاہنہ سے منع فرمایا اور مزاہنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے عوض ناپ سے بچنا اسی طرح انگوروں کو کشمش کے ساتھ ناپ سے بیچنا نیز اندازے سے گندم کے کھیت کو گندم کے بدلے میں فروخت کرنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٨٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاہنہ سے منع فرمایا،مزاہنہ یہ ہے کہ تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے عوض ناپ کر بیچا جائے اور انگور کو کشمش کے بدلے ناپ کر فروخت کیا جائے نیز ہر پھل کو اندازے سے بیچنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزاہنہ سے منع فرمایا اور مزاہنہ یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو معروف ناپ سے چھوہاروں کے بدلے میں فروخت کیا جائے اس طرح کہ اگر وہ زیادہ ہوئیں تو نفع میرا ہے اور کم ہوئیں تو اس کا نقصان بھی مجھے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧١؛حدیث نمبر ٣٧٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٨٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٢؛حدیث نمبر ٣٧٩٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاہنہ سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے باغ کے پھل(یعنی)کھجوروں کو چھوہاروں کے عوض ناپ کر اور انگوروں کو کشمش کے عوض ناپ کر بیچے اور اگر اس کا کھیت ہو تو اس کو اناج کے عوض ناپ کر فروخت کرے آپ نے ان تمام سودوں سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٢؛حدیث نمبر ٣٧٩١)
اسی سند کے ساتھ حضرت نافع سے یہ حدیث مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا؛جلد٣ص١١٧٢؛حدیث نمبر ٣٧٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پیوندکاری کئے ہوئے کھجور کے درخت فروخت کئے تو ان کا پھل بیچنے والے کے لئے ہوگا مگر یہ کہ خریدار شرط رکھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٢؛حدیث نمبر ٣٧٩٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے پورا درخت خرید لیا دراں حالانکہ اس میں پیوند کاری کی گئی تھی تو اس کا پھل اس شخص کے لئے ہوگا جس نے پیوند لگایا مگر یہ کہ خریدنے والا شرط رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٢؛حدیث نمبر ٣٧٩٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور کے درخت میں پیوند لگاے پھر اس درخت کو فروخت کردے تو جس نے پیوند لگایا پھل اس کا ہوگا۔البتہ یہ کہ خریدنے والا شرط رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٣؛حدیث نمبر ٣٧٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٣؛حدیث نمبر ٣٧٩٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدے تو اس کا پھل بیچنے والے کے لئے ہے مگر یہ کہ خریدار شرط رکھے اور جو شخص کسی غلام کو خریدے تو اس کا مال بیچنے والے کے لئے ہے البتہ یہ کہ خریدار اس کی شرط رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٣؛حدیث نمبر ٣٧٩٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٧٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٣؛حدیث نمبر ٣٧٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٣٧٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا عَلَيْهَا ثَمَرٌ؛جلد٣ص١١٧٣؛حدیث نمبر ٣٧٩٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،اور مزابنہ اور مخابرہ سے منع فرمایا نیز صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے بھی منع فرمایا اور فرمایا کہ پھلوں کو صرف درہم اور دیناروں کے بدلے فروخت کرو البتہ عرایا میں کھجوروں کو چھوہاروں کے عوض فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛ترجمہ؛محاقلہ،مزابنہ،مخابرہ اور ظہور صلاحیت سے پہلے بیع کی حرمت اور چند سالوں کی بیع کی ممانعت؛جلد٣ص١١٧٤؛حدیث نمبر ٣٨٠٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٠٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٤؛حدیث نمبر ٣٨٠١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ،محاقلہ اور مزابنہ سے نیز ان پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جو کھانے کے قابل نہ ہوں اور عرایا کے علاوہ دینار اور درہم سے ہی سودا کیا جائے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے اس کی وضاحت فرماتے ہوئے فرمایا مخابرہ یہ ہے کہ کوئی شخص غیر آباد زمین کسی دوسرے شخص کو دے اور وہ اس پر خرچ کرے پھر وہ اس کی پیداوار میں سے حصہ لے اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ درخت پر موجود تر کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے ناپ کے ساتھ بیچنے کو کہتے ہیں اور جب کھیتی میں یہی صورت ہو تو اسے محاقلہ کہتے ہیں یعنی کھیتی میں موجود گندم کے خوشوں کا خشک گندم کے بدلے میں سودا کرنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٤؛حدیث نمبر ٣٨٠٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،مزابنہ اور مخابرہ سے منع فرمایا اور جب تک پھل سرخ یا زرد نہ ہوں یا کھانے کے قابل نہ ہوں(تو ان کا سودا بھی جائز نہیں)محاقلہ یہ ہے کہ کھیت کی فصل کو معین پیمانوں کے اناج کے عوض فروخت کیا جائے اور مزابنہ تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے چند وسق کے بدلے میں بیچنا ہے اور مخابرہ کھیت کی پیداوار کے تہائی کا چوتھائی یا اس کی مثل لینا ہے۔ حضرت زید فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے پوچھا کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو؟آپ نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٥؛حدیث نمبر ٣٨٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ،محاقلہ اور مخابرہ سے منع فرمایا نیز پھل کے سرخ یا زرد یا کھانے کے قابل ہونے سے پہلے بیچنے سے بھی منع فرمایا۔ لفظ تُشقِح کی وضاحت سرخ یا زرد یا کھانے کے قابل ہونے سے کی گئی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٥؛حدیث نمبر ٣٨٠٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،مزابنہ،معاومہ اور مخابرہ سے منع فرمایا۔ راویوں میں ایک راوی نے کہا کئی سالوں کے لئے بیچنا معاومہ ہے نیز آپ نے بیع میں استثناء سے بھی منع فرمایا البتہ عرایا میں اس کی اجازت دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٥؛حدیث نمبر ٣٨٠٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٨٠٥ کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں یہ نہیں کہ معاومہ کئی سالوں کی بیع ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٥؛حدیث نمبر ٣٨٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے،اسے کئی سالوں کے لئے بیچنے اور پھلوں میں رس آنے سے پہلے ان کو بیچنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا، وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛ترجمہ؛زمین کرایہ پر دینا؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨٠٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اور اگر وہ کاشتکاری نہ کرے تو اپنے(مسلمان)بھائی سے کاشتکاری کرائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس زائد زمین تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد زمین ہو وہ اس میں خود کاشتکاری کرے یا اپنے(مسلمان)بھائی کو عطاء کردے اور اگر وہ اس سے انکار کرے تو خود رکھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨١٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے یا اس سے کوئی فائدہ حاصل کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨١١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کے پاس زمین ہو وہ اس میں کاشتکاری کرے اور اگر کاشتکاری کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس سے عاجز ہو تو اپنے مسلمان بھائی کو عطیہ دے اور اس سے کرایہ نہ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٦؛حدیث نمبر ٣٨١٢)
سلیمان بن موسی نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آپ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کاشتکاری کرے یا اپنے(مسلمان)بھائی سے کاشتکاری کرائے اور اسے کرائے پر نہ دے حضرت عطاء نے فرمایا ہاں(بیان کی ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٧؛حدیث نمبر ٣٨١٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٧؛حدیث نمبر ٣٨١٤)
حضرت سعید بن میناء فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے(مسلمان)بھائی سے کاشتکاری کرائے اور اسے فروخت نہ کرے۔ سلیم بن حیان(راوی)فرماتے ہیں میں نے حضرت سعید سے پوچھا کیا فروخت کرنے کی ممانعت سے کرایہ پر دینے کی ممانعت مراد ہے فرمایا،ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٧؛حدیث نمبر ٣٨١٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر دیتے اور کوٹنے کے بعد خوشوں میں جو دانے رہ جاتے ان ہی سے حصہ لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کاشتکاری کرے یا اپنے بھائی سے کاشتکاری کرائے ورنہ اس زمین کو چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٧؛حدیث نمبر ٣٨١٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نہروں کے کنارے والی زمین کو تہائی یا چوتھائی پیداوار پر دیتے تھے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(خطبہ کے لئے)کھڑے ہوئے اور فرمایا جس شخص کی زمین ہو وہ اس میں کاشتکاری کرے اور اگر خود کاشتکاری نہ کرے تو اپنے(مسلمان)بھائی کو عطیہ دے اور اگر اپنے بھائی کو عطیہ نہ دے تو اسے روک لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٧؛حدیث نمبر ٣٨١٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس کے پاس زمین ہو وہ اسے ہبہ کردے یا ادھار دے دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨١٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ اس میں کاشتکاری کرے یا کسی شخص سے کاشتکاری کرائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨١٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ بکیر کہتے ہیں ہم سے حضرت نافع نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے ہم اپنی زمین کرائے پر دیتے تھے پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو ہم نے یہ عمل چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کو دو یا تین سال کے بیچنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨٢١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے کئی سالوں کے لئے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو وہ اس میں کاشتکاری کرے یا اپنے(مسلمان)بھائی کو عطیہ دے دے اور اگر وہ اس سے انکار کرے تو اپنی زمین کو روک رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٨؛حدیث نمبر ٣٨٢٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے مزابنہ اور حقول سے منع فرمایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں مزابنہ،چھوہاروں کے بدلے تازہ کھجوریں دینا اور حقول زمین کو کرائے پر دینا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو فروخت کرنا اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم زمین کو بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ جب پہلا سال آیا تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس(عمل)سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٧)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے اس حدیث کی وجہ سے بٹائی چھوڑ دی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع نے(حدیث کی وجہ سے)ہمیں زمین کی آمدنی سے روک دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٧٩؛حدیث نمبر ٣٨٢٩)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نیز حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں نیز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آغاز میں زمین کرائے پر دیتے تھے حتیٰ کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آخر ہوا حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے اس سلسلے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کے کرائے سے منع کرتے تھے چنانچہ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل چھوڑ دیا پس جب اس کے بعد ان سے پوچھا جاتا تو فرماتے حضرت ابن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨٠؛حدیث نمبر ٣٨٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور ابن علیۃ کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد یہ عمل چھوڑ دیا پس وہ کرایہ پر نہیں دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨٠؛حدیث نمبر ٣٨٣١)
حضرت نافع فرماتے ہیں میں،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا کہ وہ بلاط(مقام)میں گئے تو انہوں نے حدیث سنائی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاشت کی زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨٠؛حدیث نمبر ٣٨٣٢)
حضرت نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨٠؛حدیث نمبر ٣٨٣٣)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ زمین کرائے پر دیتے تھے پھر ان کو حضرت رافع سے مروی حدیث سنائی گئی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے کر تشریف لے گئے پس حضرت رافع نے اپنے بعض چچاؤں سے نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کرایہ پر زمین دینا ترک کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨٠؛حدیث نمبر ٣٨٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ حضرت رافع نے اپنے بعض چچاؤں سے نقل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨١؛حدیث نمبر ٣٨٣٥)
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمین کرائے پر دیتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کرائے پر دینے سے منع کرتے تھے پس ملاقات کے دوران انہوں نے پوچھا اے ابن خدیج آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کے کرائے کے بارے میں کیا بات نقل کرتے ہیں؟حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا اور دونوں غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور وہ اپنے گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے علم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کرائے پر دی جاتی تھی پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا کہ شاید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی بات فرمائی ہو جس کا انہیں علم نہ ہو بس انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ؛جلد٣ص١١٨١؛حدیث نمبر ٣٨٣٦)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو کرائے پر دیتے تھے پس ہم تہائی،چوتھائی اور معین غلے کی مقدار کے عوض کرائے پر دیتے تھے پس ایک دن میرے چچاؤں میں سے کوئی ایک آیا اور اس نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جس میں ہمارے لئے زیادہ نفع تھا لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت زیادہ نفع بخش ہے آپ نے ہمیں زمین کرائے پر دینے سے منع کردیا ہم زمین کو تہائی چوتھائی یا غلے کی خاص مقدار کے عوض کے بدلے کرائے پر دیتے تھے لیکن آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود کاشتکاری کرے یا کسی کو کاشتکاری کے لئے دے اور کرائے اور اس کے علاوہ کو مکروہ قرار دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨١؛حدیث نمبر ٣٨٣٧)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم زمین کرائے پر دیتے تھے اور تہائی پیداوار اور چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨١؛حدیث نمبر ٣٨٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨٢؛حدیث نمبر ٣٨٣٩)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں البتہ انہوں نے اپنے چچاؤں سے نقل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨٢؛حدیث نمبر ٣٨٤٠)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے روک دیا جو ہمارے لئے مفید تھا حضرت رافع فرماتے ہیں میں نے پوچھا وہ کونسا عمل ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ حق ہے انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تم اپنے کھیتوں میں کیا کرتے ہو؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اجرت پر دیتے ہیں اور یہ چوتھائی پیداوار یا کھجور یا جو کے مقررہ وسق ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم ایسا نہ کرو خود کاشت کرو یا کسی اور کو کاشت کے لئے دو یا اپنے پاس روک رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨٢؛حدیث نمبر ٣٨٤١)
ایک اور سند سے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں لیکن اس روایت میں وہ اپنے چچا ظہیر سے روایت نہیں کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالطَّعَامِ؛جلد٣ص١١٨٢؛حدیث نمبر ٣٨٤٢)
حضرت حنظله بن قیس فرماتے ہیں میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا سونے اور چاندی کے بدلے میں بھی؟انہوں نے فرمایا سونے اور چاندی کے بدلے میں(کرائے پر دینے میں)کوئی حرج نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؛جلد٣ص١١٨٣؛حدیث نمبر ٣٨٤٣)
حضرت حنظله بن قیس انصاری فرماتے ہیں میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کے عوض زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ نہروں کے کنارے اور نالوں کے ساتھ والی زمین کی پیداوار اور کچھ کھیتی کے عوض اجرت پر دیتے تھے تو اس زمین کی فصل تباہ ہوجاتی اور اس زمین کی فصل محفوظ رہتی اور کبھی اُدھر کی فصل محفوظ رہتی اور اِدھر کی فصل تباہ ہو جاتی اور لوگوں کے پاس کرایہ تو یہی ہوتا اس وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا البتہ کرایہ کا عوض معین اور قابل ضمان ہو تو کوئی حرج نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؛جلد٣ص١١٨٣؛حدیث نمبر ٣٨٤٤)
حضرت حنظله زرقی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے انصار کے کھیت زیادہ تھے اور ہم زمین کو اس طرح کرائے پر دیتے تھے کہ ہمارے لئے یہ حصہ ہے اور ان کے لئے دوسرا حصہ ہے اور بعض اوقات زمین کی ایک طرف فصل پیدا ہوتی لیکن دوسری طرف نہ ہوتی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا جہاں تک چاندی(درہم)کا تعلق ہے تو اس سے منع نہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؛جلد٣ص١١٨٣؛حدیث نمبر ٣٨٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؛جلد٣ص١١٨٣؛حدیث نمبر ٣٨٤٦)
حضرت عبداللہ بن سائب فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن معقل سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا مجھے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے اس سے روکا نیز ابن معقل کے الفاظ میں لفظ عبد اللہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٣؛حدیث نمبر ٣٨٤٧)
حضرت عبد اللہ بن سائب فرماتے ہیں ہم حضرت عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مزارعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور زمین کو اجرت پر دینے کا حکم دیا اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٤؛حدیث نمبر ٣٨٤٨)
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے حضرت طاؤس سے کہا ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلیں اور ان سے وہ حدیث سنیں جو انہوں نے اپنے باپ کے واسطے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے طاؤس نے مجاہد کو چھڑکا اور کہا اللہ کی قسم اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل(مزارعت)سے منع کیا ہے تو میں یہ عمل نہ کرتا۔ لیکن مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جو اس بات کو ان لوگوں سے زیادہ جانتا ہے ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو زمین ہبہ کردے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے معین اجرت(کرایہ)لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابُ الْأَرْضِ تُمْنَحُ؛جلد٣ص١١٨٤؛حدیث نمبر ٣٨٤٩)
حضرت عمر اور ابن طاؤس بیان کرتے ہیں کہ حضرت طاؤس اپنی زمین کو ہٹائی پر دیتے تھے عمرو نے کہا اے ابو عبد الرحمن!اگر تم بٹائی کو ترک کر دو بہتر ہے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا۔ انہوں نے فرمایا اے عمرو!مجھے اس شخص(یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ)نے خبر دی جو ان سب سے زیادہ علم والے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس(مزارعت)سے منع نہیں فرمایا بلکہ فرمایا تم میں سے کوئی اپنے(مسلمان)بھائی کو زمین ہبہ پر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے معین اجرت پر دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٤؛حدیث نمبر ٣٨٥٠)
چار سندوں سے مروی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کیا جس طرح حضرت عمر نے بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٤؛حدیث نمبر ٣٨٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو زمین ہبہ کردے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی مقررہ اجرت لے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ عمل(اجرت پر زمین دینا)حقل ہے جو انصار کی لغت میں محاقلہ کہلاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٥؛حدیث نمبر ٣٨٥٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زمین ہو اور وہ اپنے(مسلمان)بھائی کو ہبہ کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْبُيُوعِ؛بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ؛جلد٣ص١١٨٥؛حدیث نمبر ٣٨٥٣)
Muslim Shareef : Kitabul Boyou
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْبُيُوعِ
|
•