
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے زمین کی نصف پیداوار کے عوض عمل کروایا خواہ وہ پھل ہو یا غلہ۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛ترجمہ؛پھلوں اور کھیتی کے کچھ حصے کے بدلے معاملہ کرنا؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں یا غلہ کے نصف پیداوار کے عوض خیبر کی زمین دی پس آپ اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال ایک سو وسق دیتے تھے جس میں سے اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو ہوتے تھے۔ پھر حضرت عمر فاروق خلیفہ بنے اور خیبر(کے اموال)کو تقسیم کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ ان کے لئے زمین اور پانی میں سے حصہ مقرر کیا جائے یا وہ ہر سال مقرر وسق لے لیں ازواج مطہرات میں اختلاف ہوگیا بعض نے زمین اور پانی لینا پسند کیا اور بعض نے اوساق(غلہ کے وسق)لینا پسند فرمایا کہ ہر سال لے لیں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن ان ازواج مطہرات میں شامل ہیں جنہوں نے زمین اور پانی لینا پسند کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے نصف پیداوار کے عوض عمل کروایا خواہ وہ پھل ہو یا غلہ۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٥٥ کی مثل مروی ہے اس روایت میں یہ بات مذکور نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی لینا پسند فرمایا البتہ اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کو زمین لینے کا اختیار دیا اور پانی کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبرفتح ہوگیا تو یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو خیبر میں رہنے دیں اور وہ پھلوں اور کھیتی کی نصف پیداوار کے بدلے میں عمل کریں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس عمل پر اس وقت تک برقرار رکھوں گا جب تک ہم چاہیں گے۔ اس کے بعد حسب سابق کی طرح ہے البتہ اس میں یہ زائد ہے کہ خیبر سے حاصل شدہ نصف حصہ کی تقسیم کی جاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خمس(پانچواں حصہ)لیتے تھے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے باغات اور خیبر کی زمین پر اس شرط پر عمل کروایا کہ وہ اس زمین میں کاشتکاری کریں اور اس کی نصف پیداوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں گے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سرزمین حجاز سے یہود ونصاریٰ کو نکال دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا اور یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور وہ زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی تو یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ان کو خیبر میں رہنے دیں اور وہ نصف پیداوار کے عوض کاشتکاری کریں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہیں اس پر برقرار رکھتے ہیں جب تک ہم چاہیں پس ان کو برقرار رکھا گیا حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق نے ان کو(مقام)تیماء یا اریحا کی طرف جلا وطن کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی درخت لگائے تو اس سے جو کچھ کھایا جاے گا وہ صدقہ ہوگا اور جو کچھ اس سے چوری ہو جائے گا وہ بھی صدقہ ہے جو کچھ اس سے درندے کھائیں وہ بھی صدقہ ہے اور اس میں پرندے جو کچھ کھائیں وہ بھی صدقہ ہے اور جو شخص اس میں سے کم کرے گا وہ بھی صدقہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛ترجمہ؛کاشتکاری اور درخت لگانے کی فضیلت؛جلد٣ص١١٨٨؛حدیث نمبر ٣٨٦٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ کھجور کا درخت کس شخص نے لگایا تھا مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کیا مسلمان نے لگایا تھا۔آپ نے فرمایا مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے یا کوئی چیز کھاتی ہے تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٨؛حدیث نمبر ٣٨٦١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے پس اس سے کوئی درندہ یا پرندہ یا کوئی اور چیز کھاتی ہے تو اس میں اس شخص کے لئے ثواب ہے ابن ابی خلف کی روایت میں طَائِرٌ شَيْءٌ کذا کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام معبد کے باغ میں تشریف لے گئے آپ نے فرمایا اے ام معبد یہ کھجور کا درخت کس نے لگایا ہے مسلمان نے یا کافر نے؟ حضرت ام معبد نے عرض کیا مسلمان نے؟آپ نے فرمایا جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے اور اس سے انسان،چوپائے یا درندے یا جو بھی کھاے وہ اس کا قیامت تک صدقہ ہو جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٣)
امام مسلم نے چار مختلف سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اس میں بعض راویوں نے ام مبشر کا قصہ بیان کیا اور بعض راویوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کا قصہ بیان کیا۔ اسحاق نے ابو معاویہ سے روایت کیا کہ حضرت ام مبشر،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں اور تمام راویوں نے حضرت عطاء حضرت ابوالزبیر اور حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہم کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے پس اس سے کوئی پرندہ یا انسان یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ ہوجاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر کے کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے جو انصاری خاتون تھیں تو آپ نے پوچھا یہ درخت کس نے لگاے ہیں کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے کہا مسلمان نے،اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے بھائی کو پھل فروخت کرو پھر ان پھلوں کو کوئی آفت لاحق ہو جاے تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ اس کا کوئی عوض لو تم کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کا مال کیسے لو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا پھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا جب تک اس پر رنگ نہ آجائے راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رنگ آنے کا کیا مطلب ہے؟تو انہوں نے فرمایا سرخ یا زرد ہو جائے۔بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک لے تو تم کس چیز کے عوض اپنے بھائی کا مال حلال قرار دو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو رنگ آنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا،لوگوں نے پوچھا رنگ آنے کا کیا مطلب ہے؟فرمایا سرخ ہوجانا پھر فرمایا جب اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے حلال قرار دو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اس میں پھلوں کو پیدا نہ کرے تو تم میں سے ایک کس چیز کے بدلے اپنے بھائی کے مال کو حلال قرار دے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٧١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرتی آفات سے(ہونے والے)نقصان کو وضع کرنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے پھل خریدے اور وہ پھل(قدرتی آفات سے)ضائع ہوگئے اور اس پر قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا لیکن وہ قرض کی ادائیگی کو نہ پہنچ سکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو مل جائے وہ لے لو اور تمہارے لئے صرف یہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٧٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارکہ کے دروازے پر جھگڑنے والوں کی اونچی آوازیں سنیں ان میں سے ایک قرض میں کچھ کمی اور نرمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہ رہا تھا اللہ تعالیٰ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا وہ شخص کہاں ہے جو یہ قسم کھا رہا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا اس نے کہا یا رسول اللہ! میں ہوں اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٥)
حضرت عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابن ابی حدرد سے قرض کا مسجد میں تقاضا کیا جو ان کے ذمہ تھا پس ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ میں آواز سنی آپ نے حجرے کا دروازہ کھولا اور ان دونوں کی طرف تشریف لائے آپ نے حضرت کعب بن مالک کو آواز دی اور فرمایا اے کعب بن مالک!انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حاضر ہوں آپ نے دست مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا نصف کم کردو حضرت کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آدھا کم کردیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اٹھو اور ان کا قرض ادا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٢؛حدیث نمبر ٣٨٧٦)
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالک نے ابن حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٧٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٢؛حدیث نمبر ٣٨٧٧)
حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی کے ذمہ ان کا قرض تھا وہ ان سے ملے تو انہوں نے ان کو پکڑ لیا اور ان کے درمیان تکرار ہوگئی حتیٰ کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے کعب!پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا گویا آپ فرما رہے تھے نصف لے لو تو انہوں نے اس قرض کا نصف وصول کیا اور باقی نصف چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا میں نے آپ سے سنا(راوی کو شک ہے)کہ جس شخص کو دیوالیہ قرار دیا گیا اگر کوئی شخص اپنی چیز بعینہ اس کے پاس پائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛ترجمہ؛خریدار دیوالیہ ہو جاے اور خریدی ہوئی چیز اس کے پاس موجود ہو تو بائع واپس لے سکتا ہے؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٧٩)
متعدد اسناد سے یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ کوئی شخص مفلس قرار دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو معدوم المال(یعنی مفلس)قرار دیا گیا فرمایا کہ اگر اس کے پاس چیز ہو جس میں تصرف نہ کیا گیا ہو تو یہ اس شخص کا حق ہے جس نے اسے بیچا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس کسی شخص کو دیوالیہ قرار دیا جائے اور اس کے پاس کسی شخص کی کوئی چیز بعینہ پائی جاے تو وہ شخص دوسروں کی نسبت اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٢)
اسی سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٨٨٢ کی مثل مروی ہے کہ وہ شخص دوسروں کی نسبت اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی شخص کو دیوالیہ قرار دیا جائے اور کوئی شخص اس کے پاس سامان بعینہ پاے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٤)
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے؟اس نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا یاد کرو اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ پس میں اپنے ملازمین سے کہتا کہ تنگ دستوں کو مہلت دینا اور(سکوں کی پرکھ میں)مالدار سے در گزر کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سے تجاوز کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٥)
حضرت ربعی حراش کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہما کی باہم ملاقات ہوئی تو حضرت حذیفہ نے کہا ایک شخص کی اپنے رب عز وجل سے ملاقات ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے کیا عمل کیا ہے؟اس شخص نے کہا میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا البتہ یہ کہ میں مالدار تھا اور لوگ مجھ سے مال طلب کرتے تھے میں مالدار سے قرض(واپس)لے لیتا اور تنگ دست سے در گزر کرتا۔اللہ تعالی نے فرمایا میرے بندے سے در گزر کرو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص فوت ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوا اور اس سے پوچھا گیا تو کیا عمل کرتا تھا۔راوی کہتے ہیں اسے خود یاد آیا یا اسے یاد دلایا گیا اس نے کہا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا پس میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکوں کو پرکھنے میں اس سے در گزر کرتا تھا پس اس کو بخش دیا گیا۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(یہ حدیث)میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٧)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ اس کے پاس لایا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطاء کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟راوی کہتے ہیں لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے(چنانچہ)اس نے کہا اے میرے رب!تو نے مجھے مال عطاء کیا پس میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اور میری عادت تھی کہ میں در گزر کرتا۔ پس میں مال دار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے اس بات(در گزر کرنے)کا تجھ سے زیادہ حق ہے(اے میرے فرشتوں!)میرے بندے سے در گزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے اسی طرح سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٨)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ پائی گئی البتہ یہ کہ وہ لوگوں سے گھل مل کر رہتا تھا اور وہ امیر شخص تھا چنانچہ وہ اپنے ملازموں کو حکم دیتا کہ تنگ دست سے گزر کریں آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم اس سے زیادہ در گزر کے حق دار ہیں لہذا اس(کے گناہوں)سے در گزر کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا پس وہ اپنے سے کہتا جب تم کسی غریب آدمی کے پاس جاؤ تو اس سے در گزر کرنا شاید اللہ تعالیٰ ہم سے در گزر فرمائے پس اس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تو اس نے اس سےدر گزر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضور علیہ السلام سے سنا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩١)
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک قرض دار سے قرض کا مطالبہ کیا تو ان سے چھپ گیا پھر جب حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اس سے ملے تو وہ کہنے لگا میں غریب ہوں۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!اس نے کہا(ہاں)اللہ کی قسم،آپ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے تو وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٩٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہارا قرض کسی مال دار کے حوالے کردیا جائے تو اسی سے مانگا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ، وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ، وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ؛ترجمہ؛قرض کی ادائیگی میں مالدار کا تاخیر کرنا حرام اور حوالہ جائز ہے؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٨٩٤ کی مثل روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ، وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ، وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فالتو پانی بیچنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛ترجمہ؛جنگلات کے فاضل پانی کو بیچنے،اس کے استعمال کو منع کرنے اور جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کی بیع،پانی کی بیع اور کاشت کے لئے زمین کی بیع سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی نہ روکا جائے کہ اس کے واسطے سے گھاس کو روکا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٨٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی کو نہ روکو کہ اس طرح تم گھاس کو روکو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٨٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زائد پانی نہ بیچا جائے کہ اس طرح گھاس کی بیع کی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٩٠٠)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،فاحشہ کی اجرت اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛ترجمہ؛کتوں کی قیمت،فاحشہ عورت اور نجومی کی اجرت اور بلی کی بیع کا حرام ہونا؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٩٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور ابن ابی رافع کی حضرت ابن رمح سے روایت میں ہے کہ انہوں نے ابومسعود سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٢)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سب سے بری کمائی فاحشہ کی اجرت،کتے کی قیمت اور سینگی لگانے والے کی اجرت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتے کی قیمت خبیث ہے،فاحشہ کی کمائی خبیث ہے اور سینگی(پچھنے)لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٠٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٥)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٦)
حضرت ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛کتوں کے قتل کا حکم اور پھر منسوخ ہونے کا بیان نیز شکار یا کھیت اور جانوروں کی حفاظت کے لئے کتا پالنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩٠٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اطراف مدینہ میں کتوں کو قتل کرنے کے لئے آدمی روانہ فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩٠٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے پھر مدینہ طیبہ اور اس کے اطراف میں کتوں کا پیچھا کرنے کا حکم دیا گیا پس ہم نے کسی کتے کو قتل کئے بغیر نہ چھوڑا حتیٰ کہ ہم نے دیہاتیوں کی اونٹنی کے ساتھ رہنے والے کتے کو بھی قتل کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا بھی استثناء کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں یا مویشیوں کی حفاظت کے کتے کے علاوہ(تمام)کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا بھی استثناء کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا حضرت ابوہریرہ کے پاس کھیت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا حتیٰ کہ عورت دیہات سے اپنا کتا لے کر آئی تو ہم نے اس کتے کو بھی قتل کردیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا اس کالے سیاہ کتے کو قتل کرو جو دو نقطے والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٢)
حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا تمہیں کتوں سے کیا غرض اس کے بعد آپ نے شکاری کتے اور بکریوں(کی حفاظت)کے کتوں کی اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٣)
امام مسلم متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے کتوں،شکار کے کتوں اور کھیت کے کتوں کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے شکاری کتے اور جانوروں کی حفاظت کے سوا کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔(قیراط دینار کا بیسواں حصہ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٥)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے کتے کے علاوہ کتا رکھا تو ہر دن اس کے اجر سے دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کوئی کتا رکھا تو اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جانوروں کی حفاظت سے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیتی کے کتے کا بھی ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیتی کے کتے کو بھی مستثنیٰ قرار دیا اور وہ کاشتکاری کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩١٩)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر والوں نے جانور کی حفاظت یا شکار کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے یومیہ دو قیراط کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩٢٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے کھیتی یا بکریوں(کی حفاظت)یا شکار کے علاوہ کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے ایسا کتا رکھا جو شکار یا جانوروں یا زمین کی حفاظت کے لیے نہیں تو اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے ابو الطاہر کی حدیث میں زمین کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جانوروں کی حفاظت یا شکار یا کھیتی کے علاوہ کوئی کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے وہ کھیت والے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا البتہ کھیتی یا جانوروں(کی حفاظت)کے کتے کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٤)
ایک اور سند سے بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا بکریوں( کی حفاظت) کے کتے کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٧)
حضرت سفیان بن ابی زہیر جو قبیلہ شنوہ سے تعلق رکھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں فرماتے ہیں جس نے کتا رکھا جو کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود یہ بات سنی ہے؟انہوں نے کہا ہاں اس مسجد کے رب کی قسم۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٢٨)
حضرت سفیان بن ابی زہیر الشنی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٩٢٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٢٩)
حمید کہتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنہ لگوایا ابو طیبہ نے آپ کو پچھنا لگایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دو صاع غلہ کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے سفارش کی کہ اس کے خراج سے کچھ کم کر دیں آپ نے فرمایا تمہاری دواؤں میں سے بہترین چیز پچھنا لگوانا ہے یا فرمایا یہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛پچھنا لگانے کی اجرت کا حلال ہونا؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٣٠)
حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے حدیث نمبر ٣٩٣٠ کی مثل مروی ذکر کیا البتہ انہوں نے فرمایا کہ تمہاری دواؤں میں بہترین دواء پچھنا لگوانا اور اور عودھندی ہے پس اپنے بچوں کے گلے دباکر تکلیف نہ دو(گلے دباکر علاج کرنے کی بجائے عودھندی(کٹھ)استعمال کرو یہ حلق کے لئے مفید ہے)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٣١)
حضرت حمید فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک غلام کو بلایا جو پچھنے لگاتا تھا اس نے آپ کو پچھنا لگایا تو آپ نے اس کے لئے ایک صاع یا ایک مد یا دو مد(غلے)کا حکم دیا اور اس کے خراج میں کمی کی سفارش کی تو اس کے خراج میں کمی کردی گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فصد لگوائی اور فصد لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور ناک میں دوا ڈالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فصد لگائی تو آپ نے اس کو اجرت دی اور اس کے مالک سے سفارش کی کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کردے اور اگر(فصد کی کمائی)حرام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اجرت عطاء نہ کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے مدینہ طیبہ میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کا اشارہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے بارے میں حکم نازل فرمائے گا پس جس شخص کے پاس اس(شراب)سے کوئی چیز ہو وہ اسے بیچ کر اس کی(قیمت)سے نفع اٹھائے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چند دن ہی گزرے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا پس جس شخص کو حرمت شراب کی آیت معلوم ہو اور اس کے پاس اس سے کچھ ہو تو وہ نہ پئے اور نہ بیچے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر جن لوگوں کے پاس شراب تھی انہوں نے لاکر اسے مدینہ طیبہ کے راستوں میں بہا دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛ترجمہ؛شراب کی خرید و فروخت حرام ہے؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٥)
حضرت عبد الرحمن بن وعلہ سبائی مصری حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے انگور کے شیرے کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی ایک مشک بطور ہدیہ پیش کی تو آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟اس نے کہا نہیں۔پھر اس نے کسی دوسرے شخص سے سر گوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس سے سرگوشی کیوں کی ہے؟اس نے کہا میں نے اسے شراب بیچنے کا کہا ہے آپ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے اسی نے اس کو فروخت کرنا بھی حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٣٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام کے سامنے یہ آیات پڑھیں پھر شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح کے موقع پر مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ!مردار کی چربی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیونکہ اس کو کشتیوں پر ملا جاتا ہے،کھالوں پر لگایا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ روشن کرتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں،یہ بھی حرام ہے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر اس(مردار)کی چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛ترجمہ؛شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کا حرام ہونا؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٠)
متعدد اسانید سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ٣٩٤٠ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت سمرہ کو ہلاک کرے کیا انہیں معلوم نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت بھیجے ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٢)
حضرت عمرو بن دینار سے بھی یہ روایت حدیث نمبر ٣٩٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے ان پر چربی حرام کی گئی تھی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر برابر فروخت کرو اور بعض سونے کے عوض کم سونا فروخت نہ کرو اور چاندی کو بھی چاندی کے بدلے صرف برابر برابر ہی فروخت کرو اور بعض چاندی کو کم چاندی کے عوض فروخت نہ کرو اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار فروخت نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛ترجمہ؛سود کا بیان؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٦)
حضرت نافع فرماتے ہیں بنو لیث کے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتےہیں قتیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ اور حضرت نافع اس شخص کے پاس گئے اور ابن رمح کی حدیث میں ہے حضرت نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ہمراہ تھا حتیٰ کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا کہ یہ(حضرت نافع)مجھے بتاتے ہیں کہ آپ خبر دیتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے بدلے برابر برابر کے علاوہ فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے بیچو مگر یہ کہ برابر برابر ہوں اور بعض کے بدلے بعض کو کم کرکے نہ دو اور نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو بلکہ نقد سودا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛ترجمہ؛سود کا بیان؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٧)
امام مسلم نے یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٤٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر یہ کہ ناپ اور تول میں برابر برابر ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٤٩)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے اور ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے فروخت نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٥٠)
حضرت مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں میں یہ بات کہتا ہوا آیا کہ دراہم کون فروخت کرتا ہے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے فرمانے لگے اپنا سونا دکھاؤ اور پھر ہمارے پاس آنا جب ہمارا خادم آے گا تو ہم تمہیں تمہاری چاندی دیں گے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں تم اس کو چاندی ابھی دو ورنہ اس کا سونا واپس کردو کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے چاندی سود ہے مگر جو نقد ونقد ہو گندم کے بدلے گندم سود ہے مگر یہ کہ نقد ہو جو کے بدلے جو سود ہے مگر یہ کہ نقد ہو اور کھجور کے بدلے کھجور سود ہے مگر یہ کہ نقد بہ نقد ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٥١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٠؛حدیث نمبر ٣٩٥٢)
حضرت ابوقلابہ فرماتے ہیں،میں شام میں لوگوں کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ بھی تھے پس حضرت ابوالاشعث تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے کہا حضرت ابو الاشعث آگئے پس وہ بیٹھ گئے تو میں نے کہا ہمارے ان بھائیوں کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سناؤ۔ انہوں نے فرمایا ہم نے ایک جہاد کیا اور ہم نے بہت سی غنیمت حاصل کی تو ہم نے جب مال غنیمت حاصل کیا تو اس میں چاندی کا برتن تھا بس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں کی تنخواہوں میں فروخت کردیں تو لوگوں نے اس کو لینے میں جلدی کی۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے سونے کے بدلے سونے،چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم،جو کے بدلے جو،کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک فروخت کرنے سے منع فرمایا البتہ یہ کہ برابر برابر ہوں اور نقد بہ نقد ہوں۔ پس جو شخص زیادہ دے یا زیادہ لے تو یہ سود ہے چنانچہ لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس کردیا یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوے اور فرمایا سنو!ان لوگوں کا کیا حال ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث نقل کرتے ہیں حالانکہ ہم آپ کے پاس حاضر اور ہم مجلس رہے لیکن ہم نے آپ سے ایسی احادیث نہیں سنیں۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر واقعہ دوبارہ بیان کیا اور فرمایا ہم وہ حدیث بیان کریں گے جو ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اگرچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ناپسند کریں یا فرمایا اگرچہ ان کی ناک خاک آلود ہو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں تاریک رات میں ان کے لشکر کے ساتھ نہ رہوں۔ حضرت حماد نے بھی یہی یا اس کی مثل کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٠؛حدیث نمبر ٣٩٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٤)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،سونے کی بیع سونے کے بدلے میں چاندی کی بیع چاندی کے عوض،گندم کی بیع گندم کے عوض،جو کی بیع جو کے بدلے میں،کھجور کی بیع کھجور کے عوض اور نمک کی بیع نمک کے بدلے میں برابر برابر اور نقد بہ نقد ہو۔اور جب یہ اقسام مختلف ہو جائیں تو جس طرح چاہو بیچو جب کہ نقد سودا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٥)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے سونا،چاندی کے بدلے چاندی،گندم کے بدلے گندم،جو کے بدلے جو،کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد بہ نقد فروخت کرو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا کاروبار کیا اس میں دینے والا اور لینے والا(دونوں)برابر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا،سونے کے بدلے برابر ہو،آگے مکمل حدیث ذکر کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور،کھجور کے بدلے،گندم،گندم کے بدلے،جو،جو کے بدلے اور نمک،نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد و نقد ہو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سودی کاروبار کیا مگر یہ کہ ان کی اقسام مختلف ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٨)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں نقد بہ نقد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا،سونے کے بدلے تول کر برابر برابر،چاندی،چاندی کے بدلے تول کر برابر برابر فروخت کرو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،دینار کے بدلے دینار فروخت کرو اور دونوں کے درمیان کمی زیادتی نہ ہو اور درہم کے بدلے درہم(یوں فروخت کرو)کہ کسی کو زیادہ نہ دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٦١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٢)
حضرت ابو المنہال کہتے ہیں میرے ایک شریک نے(حج کے)موسم یا حج تک چاندی ادھار بیچی پھر اس نے آکر مجھے خبر دی میں نے کہا یہ معاملہ ٹھیک نہیں اس نے کہا میں نے بازار میں اس کا سودا کیا لیکن مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔ پس میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہم یہ کاروبار کرتے تھے آپ نے فرمایا جو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو وہ سود ہے اور تم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ مجھ سے زیادہ تجارت کرتے ہیں میں ان کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے ایسا ہی فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٣)
حضرت ابو المنہال کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیع صرف(سونے چاندی کی بیع)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ زیادہ علم والے ہیں پس میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ زیادہ علم والے ہیں پھر ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی سونے کے بدلے میں ادھار بیع سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٤)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا مگر یہ کہ برابر برابر ہو اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں۔ فرماتے ہیں ایک شخص نے سوال کیا تو کہا نقد بہ نقد ہو اور کہا کہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٥)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٣٩٦٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٦)
حضرت فضالہ بن عبید اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت کا ایک ہار لایا گیا جس میں پتھر کے نگینے اور سونا تھا اور یہ بیچا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار سے سونا نکالنے کا حکم دیا تو صرف سونا نکالا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر تول کر فروخت کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٧)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے غزہ خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار کے بدلے خریدا جس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے جب میں نے ہار سے سونا الگ کیا تو سونا بارہ دینار سے زیادہ تھا میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا سونے کو جدا کئے بغیر نہ بیچا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٦٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٦٩)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیبر کے دن ہم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہم ایک اوقیہ سونے کی یہودیوں سے دو اور تین دینار سونے کے بدلے بیع کر رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر وزن کے بغیر نہ بیچو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧٠)
حضرت حنش فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا،چاندی اور جواہر تھے میں نے اسے خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا انہوں نے فرمایا اس کا سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا ایک پلڑے میں رکھو پھر برابر برابر کے سوا مت لو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ برابر برابر کے سوا نہ لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧١)
حضرت معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو ایک صاع گندم دے کر بھیجا اور کہا کہ اس کو بیچ کر اس کے بدلے میں جو خرید لینا،غلام گیا اور اس نے ایک صاع سے زیادہ جو خریدے جب اس نے حضرت معمر کے پاس حاضر ہوکر خبر دی تو حضرت معمر نے اس سے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا جاؤ اور واپس کرو اور برابر برابر ہی لو میں خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا آپ فرماتے تھے غلے کے بدلے غلہ صرف برابر برابر لو اور ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا ان سے کہا گیا کہ(جو اور گندم)مثل تو نہیں انہوں نے فرمایا مجھے اس کے مشابہ ہونے کا خوف ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی انصاری کے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ کھجوریں لے کر آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!ہم دو صاع(ردی)کھجوریں دے کر ایک صاع(عمدہ کھجوریں)خریدتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر بیچو،یا اس کو بیچ کر اس کی قیمت کے بدلے دوسری کھجوریں خرید لو اسی طرح تول میں بھی برابری رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا تو وہ عمدہ کھجوریں لے کر آیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ کی قسم!ہم دو صاع(ردی)کھجوروں کے بدلے یہ کھجوریں ایک صاع اور تین کے بدلے دو صاع کھجوریں لیتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو ردی کھجوروں کو درہموں کے بدلے بیچو پھر درہموں کے بدلے عمدہ کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجوریں لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ کھجوریں کہاں سے لائے ہو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا میرے پاس ردی کھجوریں تھیں تو میں نے ان میں دو صاع کھجوریں بیچ کر ایک صاع(عمدہ)کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لئے لی ہیں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو عین سود ہے ایسا مت کرو بلکہ جب کھجوریں خریدنا چاہو تو ان کو بیچ کر دوسری کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ نے فرمایا ہماری کھجوروں کے مقابلے میں یہ کتنی اچھی کھجوریں ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر یہ کھجوریں ایک صاع لی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سود ہے لہٰذا یہ واپس کردو پھر اپنی کھجوریں بیچ کر ہمارے لئے یہ کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں"تمر الجمع"(کھجوریں)دی جاتی تھیں اور یہ ملی جلی(ردی)کے عوض ایک صاع(عمدہ)کھجوریں لیتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا دو صاع کھجوریں ایک صاع کھجوروں کے بدلے دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے اور ایک درہم دو درہم کے بدلے فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٧)
حضرت ابونضرہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف(سونے چاندی کی باہم فروخت)کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا نقد ونقد ہے،میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی اور کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نقد ونقد ہے میں نے عرض کیا جی ہاں تو انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واقعی انہوں نے یہ بات فرمائی ہے ہم ان کی طرف لکھتے ہیں وہ تمہیں یہ فتویٰ دیں گے۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!کچھ نوجوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کھجوریں دیکھ کر تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا یہ کھجوریں ہماری زمین کی نہیں ہیں تو انہوں نے یہ کھجوریں لیں اور کچھ زیادہ کھجوریں دیں آپ نے فرمایا تم نے زیادہ کھجوریں دیں تم نے سودی کاروبار کیا اس کے قریب نہ جانا جب تمہیں اپنی کھجوروں میں کوئی کمی محسوس ہو تو ان کو بیع کردہ کھجوریں خریدو جو تم چاہتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٨)
حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا جو زائد ہو وہ سود ہے میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے جو کچھ سنا تھا اس کی بنیاد پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے قول کا انکار کیا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تمہیں وہی بات بتائی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کھجور والا ایک صاع اچھی کھجوریں لے کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں بھی اسی رنگ کی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہیں یہ کھجوریں کہاں سے حاصل ہوئیں اس نے کہا تین دو صاع کھجوریں لے کر گیا اور ان کے بدلے یہ ایک صاع کھجوریں خریدیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر افسوس تم نے سودی کاروبار کیا جب تم اس طرح کرنا چاہو تو اپنی کھجوریں سامان کے بدلے فروخت کرو اور پھر اس سامان کے بدلے جو کھجوریں چاہو خریدو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا بتاؤ کیا کھجوروں کے بدلے میں کھجور سود ہونے کی زیادہ حقدار ہے یا چاندی کے بدلے چاندی؟ ابونضرہ کہتے ہیں پھر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اس(سودے)سے منع کیا اور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نہ گیا۔راوی کہتے ہیں مجھ سے ابو الصہباء نے بیان کیا کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٧؛حدیث نمبر ٣٩٧٩)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دینار،دینار کے بدلے اور درہم،درہم کے بدلے برابر برابر ہوں پس جو زیادہ دے اور زیادہ لے اس نے سودی کاروبار کیا ابو صالح راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کے علاوہ بات کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں کیا یہ بات آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے۔انہوں نے فرمایا میں نے اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا اور نہ ہی اللہ کی کتاب میں پایا بلکہ مجھ سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٧؛حدیث نمبر ٣٩٨٠)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨١)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نقد بہ نقد ہو تو سود نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٢)
حضرت عطاء بن ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف کے بارے میں کچھ سنا ہے یا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کچھ پایا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں میں ان میں سے کوئی بات نقل نہیں کرتا۔ جہاں تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو تم لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہو اور کتاب اللہ میں مجھے اس کا علم نہیں مجھ سے تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے(دونوں)پر لعنت فرمائی (راوی)فرماتے ہیں میں نے پوچھا اور اس کے لکھنے والے اور گواہوں پر بھی(لعنت فرمائی)؟انہوں نے فرمایا ہم اتنی ہی بات بیان کرتے ہیں جتنی ہم نے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے اسے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا یہ سب(گناہ میں)برابر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ؛جلد٣ص١٢١٩؛حدیث نمبر ٣٩٨٥)
حضرت شعبی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں بےشمار لوگ اس کا علم نہیں رکھتے پس جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنےدین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو سرکاری چراگاہ کے قریب چراتا ہے قریب ہے وہ جانور اس(ممنوعہ سرکاری) چراگاہ میں چرے سنو!ہر بادشاہ کی ایک(ممنوع)چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی (ممنوعہ)چراگاہ اس کے حرام کردہ چیزیں ہیں۔ اور سنو!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو تمام جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہےسنو!وہ دل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛ترجمہ؛حلال لینا اور مشتبہ چیزوں کو ترک کر دینا؛جلد٣ص١٢١٩؛حدیث نمبر ٣٩٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٨٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٠؛حدیث نمبر ٣٩٨٧)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں البتہ زکریا راوی کی حدیث دیگر راویوں کی حدیثوں سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٠؛حدیث نمبر ٣٩٨٨)
حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حمص میں خطبہ دیتے ہوئے فرماتے تھے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے پھر انہوں نے زکریا کی روایت(٣٩٨٦)کی طرح "قریب ہے کہ اس چراگاہ میں پڑ جائے"تک روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٨٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک گیا تھا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آملے اور آپ نے میرے لئے دعا فرمائی نیز اونٹ کو ایک ضرب لگائی اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلا تھا آپ نے فرمایا اسے مجھ پر ایک اوقیہ(چالیس درہم)کے بدلے بیچو میں نے عرض کیا نہیں(بلکہ آپ کی خدمت میں ہدیہ ہے)پھر فرمایا اسے مجھ پر بیچو(فرماتے ہیں)میں نے آپ پر ایک اوقیہ(چاندی)کے بدلے میں بیچ دیا اور گھر تک اس پر سواری کا استثناء کیا جب میں(گھر میں)پہنچا تو اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا آپ نے مجھے اس کی قیمت ادا فرمائی اور واپس لوٹ آیا تو آپ نے میرے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا کیا تم نے خیال کیا کہ میں نے تم سے کم قیمت لگائی ہے اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور یہ دراہم بھی تمہارے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛ترجمہ؛اونٹ کی خریداری اور سواری کا استثناء کرنا؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩٠)
ایک اور سند سے بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٩٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ مجھے آملے اور میں اپنے سواری والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک چکا تھا اور چلنے کے قریب نہ تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے اونٹ کا کیا ہوا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا بیمار ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوگئے اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی تو وہ اونٹ چلنے لگا اور تمام اونٹ سے آگے نکل گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے مجھ سے پوچھا اپنے اونٹ کو کیسا پاتے ہو؟میں نے عرض کیا بہتر پاتا ہوں اسے آپ کی برکت سے فائدہ ہوا ہے آپ نے فرمایا اسے مجھ پر فروخت کرو گے پس مجھے حیا آئی اور میرے پاس پانی لانے کے لئے دوسرا اونٹ نہیں تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پس میں نے آپ پر یہ اونٹ بیچ دیا اور یہ شرط رکھی کہ مدینہ طیبہ تک میں اس کی پشت پر سواری کروں گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری نئی نئی شادی ہوئی ہے پس میں نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور میں سب لوگوں سے پہلے مدینہ طیبہ پہنچ گیا میرے ماموں کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا پس میں نے بتایا کہ میں اونٹ کے متعلق کیا کر چکا ہوں تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ اور جب میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جانے کی اجازت طلب کی تھی تو آپ نے پوچھا تھا کہ تم نے کنواری لڑکی سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے،آپ نے فرمایا تم نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے والد فوت ہوگئے ہیں یا فرمایا شہید ہوگئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اور میں نے یہ بات پسند نہ کی کہ ان جیسی لڑکی سے شادی کروں اور وہ ان کی تربیت نہ کرسکے اور نہ وہ اس کی نگرانی کر سکے پس میں نے بیوہ عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھاے۔ فرماتے ہیں جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو صبح کے وقت میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا آپ نے مجھے اس کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی واپس کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف آے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا پھر انہوں نے مکمل واقعہ حسب سابق بیان کیا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے فرمایا اپنا یہ اونٹ مجھ پر فروخت کردو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نہیں بلکہ یہ آپ کا ہی ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھ پر بیچو میں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!یہ آپ ہی کا ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھ پر بیچو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)میں نے ایک شخص کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے اس کے عوض یہ اونٹ لے لیں آپ نے فرمایا میں نے لے لیا اور تم اس اونٹ پر مدینہ طیبہ چلے جانا فرماتے ہیں جب میں مدینہ طیبہ پہنچا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کو ایک اوقیہ(سونا)دے دو اور ایک قیراط زیادہ عطاء فرمایا اور وہ زائد قیراط مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوا فرماتے ہیں وہ سونا ہمیشہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ یوم الحرۃ کو اہل شام(شامی یزیدی فوج) نے مجھ سے لے لیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٢؛حدیث نمبر ٣٩٩٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو میرا اونٹ پیچھے رہ گیا اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ہے اور فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو لکڑی سے ٹھوکا لگایا پھر مجھ سے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پر سوار ہو جاؤ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل دعا دیتے رہے اور اس میں اضافہ کرتے رہے اور فرماتے اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرا اونٹ عاجز آگیا تھا آپ نے اسے ایک ٹھوکر لگائی تو وہ کودنے لگا پھر میں آپ کی بات سننے کے لئے اس کی نکیل کھینچتا تھا لیکن اس پر قادر نہ ہوسکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور فرمایا یہ اونٹ مجھ پر فروخت کردو۔ پس میں نے پانچ اوقیہ کے بدلے اونٹ فروخت کردیا۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا میری شرط ہے کہ میں مدینہ طیبہ جانے تک اس پر سواری کروں گا آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ تک تم اس پر سواری کرسکتے ہو فرماتے ہیں جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ مجھے بطور ہبہ عطا فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سفر جہاد تھا اس میں اسی واقعہ کو بیان کیا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا اے جابر!کیا تم نے پوری قیمت لے لی؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ قیمت بھی تمہاری اور اونٹ بھی تمہارا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کے بدلے میں خریدا فرماتے ہیں جب ہم مقام صرار میں پہنچے تو آپ گاے ذبح کرنے کا حکم دیا گاے ذبح کی گئی اور تمام لوگوں نے اسے کھایا پھر جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں نماز پڑھوں پھر آپ نے اونٹ کی قیمت وزن کرکے مجھے عطاء فرمائی اور وزن زیادہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی واقعہ نقل کرتے ہیں البتہ اس میں یہ فرمایا کہ آپ نے وہ اونٹ مجھ سے قیمت کے بدلے میں خریدا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمت مقرر فرمائی اس میں دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں کا ذکر نہیں اور فرمایا کہ آپ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا وہ ذبح کی گئی اور اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٣٩٩٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں نے تمہارا اونٹ چار دینار کے بدلے لیا اور تم اس کی پشت پر سوار ہوکر مدینہ طیبہ جاسکتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٣٩٩٩)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا پھر اس کے پاس صدقے کے اونٹ آے تو آپ نے حضرت ابورافع کو حکم دیا کہ اس شخص کا قرض لیا ہوا اونٹ واپس کردیں حضرت رافع نے آپ کی خدمت میں واپس آکر عرض کیا کہ ان میں اچھے ساتویں سال کے اونٹ ہیں(اس کے برابر نہیں)فرمایا وہی دے دو بےشک بہترین لوگ وہی ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛ترجمہ؛کیا کوئی چیز بطور قرض لینا اور بدلے میں بہتر جانور دینا مستحب ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو ادائیگی اچھی طرح کرے؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٤٠٠٠)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠٠٠ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٤٠٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا حق تھا وہ آپ سے سختی سے پیش آیا صحابہ کرام نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صاحب حق کو بات کرنے کا حق ہے چنانچہ آپ نے فرمایا اس کے لئے ایک اونٹ خریدو اور اسے دے دو صحابہ کرام نے عرض کیا ہمیں اس اونٹ سے بہتر ہی ملا ہے(اس کے برابر کا نہیں)آپ نے فرمایا وہی خرید کر اسے دے دو بےشک تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا تھا پھر آپ نے اس سے بڑی عمر کا اونٹ عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین انسان وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے لگا آپ نے فرمایا اس کے اونٹ سے بڑی عمر کا اونٹ دے دو اور فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارکہ پر بیعت کی آپ نے یہ خیال نہ فرمایا کہ یہ غلام ہے پھر اس کا مالک اسے لینے آگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس کو مجھ پر بیچ دو چنانچہ آپ نے اسے دو سیاہ غلاموں کےبدلے خریدا پھر اس کے بعد آپ کی بیعت اس وقت تک نہ لیتے جب تک اس سے پوچھ نہ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ جَوَازِ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مِنْ جِنْسِهِ مُتَفَاضِلًا؛ترجمہ؛حیوان کو حیوان کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ بطور ادھار خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛ترجمہ؛سفر و حضر میں گروی رکھنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اس کے پاس لوہے کی زرہ گروی رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے معینہ مدت تک کے لئے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٤٠٠٨ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال اور دو سال کے ادھار پر پھلوں کی بیع کرتے تھے آپ نے فرمایا جو شخص کھجوروں میں بیع سلم کرے تو وہ معین ماپ،معین وزن سے اور معین مدت تک بیع کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛ترجمہ؛بیع سلم؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠١٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ طیبہ)تشریف لائے تو لوگ بیع سلم کرتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جو شخص بیع کرے تو وہ صرف معین وزن اور معین ماپ میں کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠١١)
ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت ٤٠١١ کی مثل مروی ہے اور اس میں معین مدت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛ترجمہ؛بیع سلم؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٢)
ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت ابن عیینہ کی روایت(٤٠١١)کے مطابق مروی ہے اور اس میں معین کا ذکر نہیں۔(رقم پہلے ادا کی جائے اور غلہ وغیرہ بعد میں لیا جائے تو یہ بیع سلم کہلاتی ہے یہ جائز قرار دی گئی کہ اس میں بائع اور مشتری دونوں کا فائدہ ہے بائع کو ضرورت کے لئے فوراً رقم مل جاتی ہے اور خریدار کو غلہ مناسب دام پر مل جاتا ہے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٣)
حضرت معمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ذخیرہ اندوزی کی وہ خطا کار ہے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اس حدیث کے راوی حضرت معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛ترجمہ؛کھانے پینے کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی حرام ہے؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٤)
حضرت معمر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ذخیرہ اندوزی گناہ گار شخص ہی کرتا ہے۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٥)
عدی بن کعب(قبیلہ)کے ایک فرد معمر بن ابی معمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠١٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قسم سودے کو بڑھانے والی اور برکت کو مٹانے والی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ؛ترجمہ؛بیع میں قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٧)
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ سودے میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ یہ(پہلے)سودا بکواتی ہے اور پھر اس کو(برکت کو)مٹاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ساتھ کوئی(دوسرا)مکان یا باغ میں شریک ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شریک کو خبردار کئے بغیر سودا کرے اگر وہ(شریک)چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛ترجمہ؛شفع کا بیان؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠١٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسی شرکت میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ ہوتی ہو مکان ہو یا باغ،اس کے لئے جائز نہیں کہ شریک کو اطلاع کئے بغیر فروخت کرے پس اگر وہ چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اور اگر وہ اس کو خبردار کئے بغیر بیچ دے تو وہ(شریک)اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مشترک مال میں شفعہ(کا حق)ہے خواہ وہ زمین ہو یا گھر یا باغ،کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ اپنے ساتھی پر پیش کئے بغیر اسے فروخت کرے اب اس کی مرضی لے یا چھوڑ دے اور اگر وہ انکار کرے(اطلاع نہ کرے)تو جب تک وہ اسے اطلاع نہ کرے یہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛ترجمہ؛شفع کا بیان؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اس بات سے منع نہ کرے کہ وہ اس کی دیوار پر شہتیر رکھے،راوی فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کیا سبب ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اللہ کی قسم!میں یہ شہتیر تمہارے کندھوں پر رکھ دوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ غَرْزِ الْخَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ؛ترجمہ؛پڑوسی کی دیوار میں لکڑی گاڑنا؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٢)
دیگر تین اسانید سے بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٠٢٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ غَرْزِ الْخَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٣)
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین بھی بطور ظلم لی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس زمین کو اس کے گلے میں سات طبقوں تک ڈالے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛ظلم کرنا اور زمین وغیرہ غصب کرنا حرام ہے؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٤)
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اروی نے ان کے گھر کے بعض حصے میں ان سے جھگڑا کیا تو انہوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور یہ اسے دے دو۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے ایک بالشت زمین ناحق طور پر لی قیامت کے دن یہ زمین سات طبقوں تک اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ اے اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اس کی قبر اسی گھر میں بنا دے راوی فرماتے ہیں میں نے اس عورت کو دیکھا کہ وہ اندھی ہوگئی تھی اور دیواروں کو ٹٹولتی پھرتی تھی۔ وہ کہتی تھی مجھے حضرت سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے اس اثناء میں کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر کے اندر ایک کنویں کے پاس سے گزری اور اس میں گرگئی پس وہی(کنواں)اس کی قبر بن گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٥)
حضرت ہشام اپنے والد حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں کہ اروی بنت اویس نے حضرت سعید بن زید پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین سے کچھ لیا ہے پس وہ اپنا مقدمہ مروان بن حکم کے پاس لے گئی۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سننے کے بعد اس کی زمین لے سکتا ہوں؟مروان نے کہا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص بطور زیادتی ایک بالشت زمین بھی لے گا سات زمینوں تک وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی اس پر مروان نے آپ سے کہا اس کے بعد میں آپ سے کسی دلیل کا سوال نہیں کروں گا۔ حضرت سعید نے دعا مانگی یا اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اسے موت نہ آئے اور ایک دن وہ اس زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٦)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین بھی بطور ظلم لی اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک طوق بنا کر(اس کے گلے میں)ڈالا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص ایک بالشت زمین بھی ناحق طور پر لے گا تو قیامت کے دن یہ زمین طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٨)
حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے اور ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جھگڑا تھا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے فرمایا اے ابو سلمہ!زمین سے اجتناب کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک بالشت کے برابر زمین ظلم کے طور پر لی اسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٩)
حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣٢؛حدیث نمبر ٤٠٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف ہو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ رکھو۔(دوسروں کی زمینوں اور مکانات وغیرہ پر قبضہ کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے دنیا میں کسی غلط فیصلے کے تحت وہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کر بھی لیں تو آخرت کے عذاب سے کیسے بچیں گے بلکہ اس عورت کی طرح دنیا میں بھی سزا مل سکتی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ قَدْرِ الطَّرِيقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ؛جلد٣ص١٢٣٢؛حدیث نمبر ٤٠٣١)
Muslim Shareef : Kitabul Mosaqat
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْمُسَاقَات
|
•