asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Wasiyat

From 4096 to 4126

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان شخص کے پاس کوئی وصیت کی چیز ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے وصیت لکھے بغیر دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛ترجمہ؛وصیت کا بیان؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٦)

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4096

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اس کے پاس لائق وصیت چیز ہو اس میں یہ نہیں کہا کہ وہ وصیت کرنا چاہتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا : وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ. وَلَمْ يَقُولَا : يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4097

متعدد اسناد سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے پاس کوئی لائق وصیت چیز ہو البتہ ایوب کی روایت میں ہے کہ وہ وصیت کرنا چاہتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَقَالُوا جَمِيعًا : لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ ؛ فَإِنَّهُ قَالَ : يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ كَرِوَايَةِ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4098

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس کی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ چیز اس کے پاس وصیت کئے بغیر تین دن بھی رہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے وصیت کئے بغیر مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٥٠؛حدیث نمبر ٤٠٩٩)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو - وَهُوَ : ابْنُ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4099

دیگر تین اسناد کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛ترجمہ؛جلد٣ص١٢٥٠؛حدیث نمبر ٤١٠٠)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4100

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے درد میں مبتلا ہوا کہ میں قریب المرگ ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں اور میں مال دار ہوں جب کہ میری وارث میری ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟آپ نے فرمایا نہیں میں نے پوچھا کیا اس کا نصف صدقہ کردوں؟ فرمایا نہیں بلکہ تہائی مال صدقہ کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے اگر تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کروگے اس کا تمہیں اجر دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اپنے اصحاب سے پیچھے رہ جاؤں گا(یعنی باقی تو ابھی مدینہ طیبہ چلے جائیں گے اور میں مکہ مکرمہ میں رہ جاؤں گا)آپ نے فرمایا اگر تم پیچھے رہ گئے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر ایسا عمل کرو گے جس سے تمہارے درجات مزید بلند ہوں اور شاید کہ تم پیچھے رہ جاؤ گے۔(زندہ رہو گے) حتیٰ کہ کچھ لوگ تم سے نفع حاصل کریں گے اور دوسروں(کفار)کو نقصان ہوگا اے اللہ!میرے اصحاب کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن حضرت سعد بن خولی بیچارے پر افسوس،راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن خولہ کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا کیونکہ وہ مکہ مکرمہ میں ہی فوت ہوگئے تھے۔(اور انہیں دارالہجرت میں جانا نصیب نہ ہوا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥١؛حدیث نمبر ٤١٠١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَنِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : قُلْتُ : أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ ؟ قَالَ : " لَا، الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ ". قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يُنْفَعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ". قَالَ : رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4101

تین مختلف سندوں کے ساتھ یہ روایت حدیث نمبر ٤١٠١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4102

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے باقی حدیث حدیث نمبر ٤١٠١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں حضرت سعد ابن خولہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مذکور نہیں اور یہ اضافہ ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس جگہ فوت ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے جس جگہ سے انہوں نے ہجرت کی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٣)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ يَعُودُنِي، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4103

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کروں آپ نے انکار فرمایا،میں نے کہا آدھے مال کی اجازت دیجئے آپ نے انکار فرمایا،میں نے کہا تہائی مال؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ تہائی کا سن کر خاموش ہوگئے انہوں نے فرمایا اس کے بعد تہائی کی وصیت جائز ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرِضْتُ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ. فَأَبَى، قُلْتُ : فَالنِّصْفُ. فَأَبَى، قُلْتُ : فَالثُّلُثُ. قَالَ : فَسَكَتَ بَعْدَ الثُّلُثِ، قَالَ : فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4104

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ نہیں کہ اس کے بعد تہائی مال کی وصیت جائز ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٥)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ : فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4105

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کروں؟آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا نصف کی وصیت؟فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی مال کی وصیت کروں؟فرمایا ہاں اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٦)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا ". قُلْتُ : فَالنِّصْفُ ؟ قَالَ : " لَا ". فَقُلْتُ : أَبِالثُّلُثِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4106

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو وہ رو پڑے آپ نے پوچھا کیوں رورہے ہو؟انہوں نے عرض کیا مجھے ڈر ہے کہ میں اس زمین میں انتقال کرجاؤں جہاں سے میں ہجرت کی ہے جس طرح حضرت سعد بن خولہ کا انتقال ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دعا مانگی یااللہ!حضرت سعد کو شفا عطا فرما انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے پاس بہت مال ہے اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث ہے تو کیا میں تمام مال کی وصیت کردوں؟آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے پوچھا دو تہائی کی؟فرمایا نہیں،عرض کیا نصف مال کی؟فرمایا نہیں،پوچھا تہائی مال کی وصیت؟فرمایا ہاں تہائی کی وصیت کردو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ تمہارا اپنے مال سے صدقہ کرنا بھی صدقہ ہے اور اپنے بچوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور تمہارے مال سے جو کچھ تمہاری بیوی کھاے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر تم اپنے اہل وعیال کو خوشحالی یا فرمایا بہتر معاش کے ساتھ چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو اس طرح چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ، فَبَكَى، قَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " فَقَالَ : قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ". ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَإِنَّمَا يَرِثُنِي ابْنَتِي، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَبِالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَالنِّصْفُ ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّ صَدَقَتَكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ نَفَقَتَكَ عَلَى عِيَالِكَ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مَا تَأْكُلُ امْرَأَتُكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ، وَإِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِخَيْرٍ - أَوْ قَالَ : بِعَيْشٍ - خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ". وَقَالَ بِيَدِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4107

حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے تینوں بیٹوں نے بیان کیا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٠٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٨)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ قَالُوا مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4108

حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٠٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُنِيهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ : مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4109

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کاش لوگ تہائی مال کی بجائے چوتھے حصے کی وصیت کیا کریں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی کی وصیت کرسکتے ہو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١١٠)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " كَبِيرٌ "، أَوْ : " كَثِيرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4110

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو صدقہ کا ایصال ثواب؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَبِي، مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4111

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں تو صدقہ دیتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٢)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا ، وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَلِي أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4112

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی میرا خیال ہے اگر وہ کوئی بات کرتیں تو صدقہ کرتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کو اجر ملے گا؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا ، وَلَمْ تُوصِ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4113

دیگر چار سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١١٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ - وَهُوَ : ابْنُ الْقَاسِمِ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَرَوْحٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا : فَهَلْ لِي أَجْرٌ. كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. وَأَمَّا شُعَيْبٌ، وَجَعْفَرٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا : أَفَلَهَا أَجْرٌ. كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4114

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے صدقہ جاریہ،علم نافع اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ؛ترجمہ؛موت کے بعد انسان کو ملنے والا ثواب؛جلد٣ص١٢٥٥؛حدیث نمبر ٤١١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - هُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ ؛ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4115

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا،آپ مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھ لو اور(اس کی پیداوار کو)صدقہ کردو(وقف کردو)فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شرط کے ساتھ اس زمین کو وقف کردیا کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے نہ خریدا جائے نہ اس میں وراثت ہو اور نہ ہی اسے ہبہ کیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء،قرابت داروں،غلاموں کی آزادی، اللہ تعالیٰ کے راستے میں،مسافروں اور مہمانوں میں صدقہ کردیا اور یہ کہ جو شخص اس کا انتظام کرے اگر وہ بھی مناسب طریقے سے کھاے اور اپنے دوستوں کو کھلاے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس سے مال جمع نہ کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت محمد بن سیرین کے سامنے بیان کی جب میں اس مقام پر پہنچا کہ وہ اس سے مال جمع نہ کرے تو انہوں نے(غیر معمول کی جگہ)غیر متاثل کا لفظ پڑھا ابن عون نے کہا میں نے اس دستاویز کو پڑھا ہے اس میں مال کے اعتبار سے"غیر متاثل"ہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛ترجمہ؛وقف کا بیان؛جلد٣ص١٢٥٥؛حدیث نمبر ٤١١٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ . أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ". قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُبْتَاعُ، وَلَا يُورَثُ، وَلَا يُوهَبُ. قَالَ : فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْقُرْبَى، وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ مُحَمَّدٌ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4116

مزید دوسندوں کے ساتھ یہ روایت مروی ہے البتہ اس میں ابن ابی زائد اور ازہر کی روایت"او یطعم صدیقا غیر متمول فیہ"پر ختم ہوگئی اور اس میں اس کے بعد ذکر نہیں اور ابن ابی عدی کی روایت میں سلیم کا یہ قول بھی مذکور ہے کہ میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین سے بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٧)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَزْهَرَ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ : أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. وَلَمْ يُذْكَرْ مَا بَعْدَهُ. وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فِيهِ مَا ذَكَرَ سُلَيْمٌ قَوْلُهُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا إِلَى آخِرِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4117

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے خیبر کی زمین میں سے زمین ملی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ اچھا مال مجھے کبھی نہیں ملا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس میں حضرت محمد بن سیرین کا قول مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا أَحَبَّ إِلَيَّ وَلَا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ : فَحَدَّثْتُ مُحَمَّدًا، وَمَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4118

حضرت طلحہ بن مصرف فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟انہوں نے کہا نہیں میں نے پوچھا پھر مسلمانوں پر وصیت کیوں فرض ہے؟یا انہیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کے مطابق وصیت کا حکم دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جس کے پاس وصیت کے لیے کچھ نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنا؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى : هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : لَا. قُلْتُ : فَلِمَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ، أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ ؟ قَالَ : أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4119

مزید دوسندوں سے یہ روایت مروی ہے وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے کہا لوگوں پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے اور ابن نمیر کی روایت میں ہے میں نے کہا مسلمانوں پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١٢٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : قُلْتُ : فَكَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ ؟ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ : قُلْتُ : كَيْفَ كُتِبَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4120

دو سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار چھوڑا نہ درہم،بکری نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4121

دو سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٢١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٧؛حدیث نمبر ٤١٢٢)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى - وَهُوَ : ابْنُ يُونُسَ - جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4122

حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان کے لئے کب وصیت کی آپ نے میرے سینے یا میری گود میں ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ نے ایک طشت منگوایا پھر آپ میری گود میں گر پڑے اور مجھے پتہ نہ چلا آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ نے ان کے لئے کب وصیت فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٧؛حدیث نمبر ٤١٢٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ : مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ ؟ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ : حَجْرِي - فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4123

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جمعرات کا دن بھی کیا ہولناک دن تھا جمعرات کا دن!پھر وہ اس قدر روۓ کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہوگئیں۔ میں نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن کیا واقعہ ہے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا درد زیادہ ہوگیا تو آپ نے فرمایا میرے پاس(قلم کاغذ)لاؤ کہ میں تمہیں ایسی بات بتلادوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔صحابہ کرام باہم اختلاف کرنے لگے اور نبی کے پاس اختلاف مناسب نہیں انہوں نے کہا کیا سبب ہے کیا آپ الوداع ہورہے ہیں آپ سے پوچھو،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ بہتر ہے میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں۔مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو،وفود کی اسی طرح عزت کرنا جس طرح میں کرتا ہوں،تیسری بات سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خاموش رہے یا انہوں نے بیان کی لیکن میں بھول گیا۔ حسن بن بشیر کہتے ہیں ہم سے یہ حدیث سفیان نے بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٨؛حدیث نمبر ٤١٢٤)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ. ثُمَّ بَكَى، حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ : اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ : " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي ". فَتَنَازَعُوا، وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، وَقَالُوا : مَا شَأْنُهُ، أَهَجَرَ ؟ اسْتَفْهِمُوهُ. قَالَ : " دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ، أُوصِيكُمْ بِثَلَاثٍ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ". قَالَ : وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَوْ قَالَهَا، فَأُنْسِيتُهَا. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4124

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جمعرات کا دن!جمعرات کا دن بھی کس قدر ہولناک دن تھا،پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس قدر روے کہ ان کے رخساروں پر آنسو اسی قدر بہنے لگے جیسے موتیوں کی لڑیاں ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کندھے(کی ہڈی)اور دوات یا فرمایا تختی اور دوات لاؤ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے صحابہ کرام نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الوداع ہورہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٩؛حدیث نمبر ٤١٢٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ. ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ. قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ - أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ - أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ". فَقَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4125

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت ہوا اور حجرہ مبارکہ میں کچھ مرد تھے جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے پس حجرہ مبارکہ میں موجود حضرات کے درمیان اختلاف ہوا ان میں سے کسی نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قلم اور کاغذ لادو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کچھ لکھ دیں تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور بعض حضرات وہ بات کر رہے تھے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمائی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحث اور اختلاف بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا اٹھ جاؤ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے سب سے بڑی پریشانی کی بات وہ بحث و تمحیص تھی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھوانے میں حائل ہوگئی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٩؛حدیث نمبر ٤١٢٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ ". فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ. فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ. وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ. فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ، وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا ". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Wasiyat, Hadees No. 4126

Muslim Shareef : Kitabul Wasiyat

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْوَصِيَّةُ

|

•