
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان شخص کے پاس کوئی وصیت کی چیز ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے وصیت لکھے بغیر دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛ترجمہ؛وصیت کا بیان؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٦)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اس کے پاس لائق وصیت چیز ہو اس میں یہ نہیں کہا کہ وہ وصیت کرنا چاہتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٧)
متعدد اسناد سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے پاس کوئی لائق وصیت چیز ہو البتہ ایوب کی روایت میں ہے کہ وہ وصیت کرنا چاہتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٤٩؛حدیث نمبر ٤٠٩٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس کی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ چیز اس کے پاس وصیت کئے بغیر تین دن بھی رہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے وصیت کئے بغیر مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛جلد٣ص١٢٥٠؛حدیث نمبر ٤٠٩٩)
دیگر تین اسناد کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛ترجمہ؛جلد٣ص١٢٥٠؛حدیث نمبر ٤١٠٠)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے درد میں مبتلا ہوا کہ میں قریب المرگ ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں اور میں مال دار ہوں جب کہ میری وارث میری ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟آپ نے فرمایا نہیں میں نے پوچھا کیا اس کا نصف صدقہ کردوں؟ فرمایا نہیں بلکہ تہائی مال صدقہ کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے اگر تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کروگے اس کا تمہیں اجر دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اپنے اصحاب سے پیچھے رہ جاؤں گا(یعنی باقی تو ابھی مدینہ طیبہ چلے جائیں گے اور میں مکہ مکرمہ میں رہ جاؤں گا)آپ نے فرمایا اگر تم پیچھے رہ گئے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر ایسا عمل کرو گے جس سے تمہارے درجات مزید بلند ہوں اور شاید کہ تم پیچھے رہ جاؤ گے۔(زندہ رہو گے) حتیٰ کہ کچھ لوگ تم سے نفع حاصل کریں گے اور دوسروں(کفار)کو نقصان ہوگا اے اللہ!میرے اصحاب کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن حضرت سعد بن خولی بیچارے پر افسوس،راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن خولہ کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا کیونکہ وہ مکہ مکرمہ میں ہی فوت ہوگئے تھے۔(اور انہیں دارالہجرت میں جانا نصیب نہ ہوا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥١؛حدیث نمبر ٤١٠١)
تین مختلف سندوں کے ساتھ یہ روایت حدیث نمبر ٤١٠١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے باقی حدیث حدیث نمبر ٤١٠١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں حضرت سعد ابن خولہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مذکور نہیں اور یہ اضافہ ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس جگہ فوت ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے جس جگہ سے انہوں نے ہجرت کی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کروں آپ نے انکار فرمایا،میں نے کہا آدھے مال کی اجازت دیجئے آپ نے انکار فرمایا،میں نے کہا تہائی مال؟حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ تہائی کا سن کر خاموش ہوگئے انہوں نے فرمایا اس کے بعد تہائی کی وصیت جائز ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٤)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ نہیں کہ اس کے بعد تہائی مال کی وصیت جائز ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٥)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کروں؟آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا نصف کی وصیت؟فرمایا نہیں میں نے عرض کیا تہائی مال کی وصیت کروں؟فرمایا ہاں اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٢؛حدیث نمبر ٤١٠٦)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو وہ رو پڑے آپ نے پوچھا کیوں رورہے ہو؟انہوں نے عرض کیا مجھے ڈر ہے کہ میں اس زمین میں انتقال کرجاؤں جہاں سے میں ہجرت کی ہے جس طرح حضرت سعد بن خولہ کا انتقال ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دعا مانگی یااللہ!حضرت سعد کو شفا عطا فرما انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے پاس بہت مال ہے اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث ہے تو کیا میں تمام مال کی وصیت کردوں؟آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے پوچھا دو تہائی کی؟فرمایا نہیں،عرض کیا نصف مال کی؟فرمایا نہیں،پوچھا تہائی مال کی وصیت؟فرمایا ہاں تہائی کی وصیت کردو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ تمہارا اپنے مال سے صدقہ کرنا بھی صدقہ ہے اور اپنے بچوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور تمہارے مال سے جو کچھ تمہاری بیوی کھاے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر تم اپنے اہل وعیال کو خوشحالی یا فرمایا بہتر معاش کے ساتھ چھوڑو تو اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو اس طرح چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٧)
حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے تینوں بیٹوں نے بیان کیا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٠٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٨)
حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٠٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کاش لوگ تہائی مال کی بجائے چوتھے حصے کی وصیت کیا کریں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہائی کی وصیت کرسکتے ہو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ؛جلد٣ص١٢٥٣؛حدیث نمبر ٤١١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو صدقہ کا ایصال ثواب؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں تو صدقہ دیتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی میرا خیال ہے اگر وہ کوئی بات کرتیں تو صدقہ کرتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کو اجر ملے گا؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٣)
دیگر چار سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١١٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ؛جلد٣ص١٢٥٤؛حدیث نمبر ٤١١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے صدقہ جاریہ،علم نافع اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ؛ترجمہ؛موت کے بعد انسان کو ملنے والا ثواب؛جلد٣ص١٢٥٥؛حدیث نمبر ٤١١٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا،آپ مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھ لو اور(اس کی پیداوار کو)صدقہ کردو(وقف کردو)فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شرط کے ساتھ اس زمین کو وقف کردیا کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے نہ خریدا جائے نہ اس میں وراثت ہو اور نہ ہی اسے ہبہ کیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء،قرابت داروں،غلاموں کی آزادی، اللہ تعالیٰ کے راستے میں،مسافروں اور مہمانوں میں صدقہ کردیا اور یہ کہ جو شخص اس کا انتظام کرے اگر وہ بھی مناسب طریقے سے کھاے اور اپنے دوستوں کو کھلاے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس سے مال جمع نہ کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت محمد بن سیرین کے سامنے بیان کی جب میں اس مقام پر پہنچا کہ وہ اس سے مال جمع نہ کرے تو انہوں نے(غیر معمول کی جگہ)غیر متاثل کا لفظ پڑھا ابن عون نے کہا میں نے اس دستاویز کو پڑھا ہے اس میں مال کے اعتبار سے"غیر متاثل"ہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛ترجمہ؛وقف کا بیان؛جلد٣ص١٢٥٥؛حدیث نمبر ٤١١٦)
مزید دوسندوں کے ساتھ یہ روایت مروی ہے البتہ اس میں ابن ابی زائد اور ازہر کی روایت"او یطعم صدیقا غیر متمول فیہ"پر ختم ہوگئی اور اس میں اس کے بعد ذکر نہیں اور ابن ابی عدی کی روایت میں سلیم کا یہ قول بھی مذکور ہے کہ میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین سے بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٧)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے خیبر کی زمین میں سے زمین ملی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ اچھا مال مجھے کبھی نہیں ملا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس میں حضرت محمد بن سیرین کا قول مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ الْوَقْفِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٨)
حضرت طلحہ بن مصرف فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟انہوں نے کہا نہیں میں نے پوچھا پھر مسلمانوں پر وصیت کیوں فرض ہے؟یا انہیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الٰہی کے مطابق وصیت کا حکم دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جس کے پاس وصیت کے لیے کچھ نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنا؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١١٩)
مزید دوسندوں سے یہ روایت مروی ہے وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے کہا لوگوں پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے اور ابن نمیر کی روایت میں ہے میں نے کہا مسلمانوں پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١٢٠)
دو سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار چھوڑا نہ درہم،بکری نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٦؛حدیث نمبر ٤١٢١)
دو سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٢١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٧؛حدیث نمبر ٤١٢٢)
حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان کے لئے کب وصیت کی آپ نے میرے سینے یا میری گود میں ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ نے ایک طشت منگوایا پھر آپ میری گود میں گر پڑے اور مجھے پتہ نہ چلا آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ نے ان کے لئے کب وصیت فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٧؛حدیث نمبر ٤١٢٣)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جمعرات کا دن بھی کیا ہولناک دن تھا جمعرات کا دن!پھر وہ اس قدر روۓ کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہوگئیں۔ میں نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن کیا واقعہ ہے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا درد زیادہ ہوگیا تو آپ نے فرمایا میرے پاس(قلم کاغذ)لاؤ کہ میں تمہیں ایسی بات بتلادوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔صحابہ کرام باہم اختلاف کرنے لگے اور نبی کے پاس اختلاف مناسب نہیں انہوں نے کہا کیا سبب ہے کیا آپ الوداع ہورہے ہیں آپ سے پوچھو،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ بہتر ہے میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں۔مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو،وفود کی اسی طرح عزت کرنا جس طرح میں کرتا ہوں،تیسری بات سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خاموش رہے یا انہوں نے بیان کی لیکن میں بھول گیا۔ حسن بن بشیر کہتے ہیں ہم سے یہ حدیث سفیان نے بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٨؛حدیث نمبر ٤١٢٤)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جمعرات کا دن!جمعرات کا دن بھی کس قدر ہولناک دن تھا،پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس قدر روے کہ ان کے رخساروں پر آنسو اسی قدر بہنے لگے جیسے موتیوں کی لڑیاں ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کندھے(کی ہڈی)اور دوات یا فرمایا تختی اور دوات لاؤ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے صحابہ کرام نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الوداع ہورہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٩؛حدیث نمبر ٤١٢٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت ہوا اور حجرہ مبارکہ میں کچھ مرد تھے جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید ہے ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے پس حجرہ مبارکہ میں موجود حضرات کے درمیان اختلاف ہوا ان میں سے کسی نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قلم اور کاغذ لادو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کچھ لکھ دیں تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور بعض حضرات وہ بات کر رہے تھے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمائی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحث اور اختلاف بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا اٹھ جاؤ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے سب سے بڑی پریشانی کی بات وہ بحث و تمحیص تھی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھوانے میں حائل ہوگئی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْوَصِيَّةِ؛بَابُ تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ؛جلد٣ص١٢٥٩؛حدیث نمبر ٤١٢٦)
Muslim Shareef : Kitabul Wasiyat
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْوَصِيَّةُ
|
•