
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے آباء(واجداد)کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اپنے آباء کی قسم نہیں کھائی نہ تو خود ذکر کرتے ہوئے اور نہ کسی سے نقل کرتے ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٦)
دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٤٦ کی مثل مروی ہے البتہ عقیل کی روایت میں ہے کہ جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے اس سے منع فرمایا میں نے نہ تو خود یہ قسم کھائی اور نہ کسی کی قسم کا ذکر کیا نہ جان بوجھ کر اور نہ بھولے سے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٨)
حضرت ابو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سواروں کی ایک جماعت میں دیکھا اس حال میں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھارہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دی سنو!اللہ عزوجل نے تم کو اپنے آباء کی قسم کھانے سے منع کیا ہے پس جو شخص قسم کھاے تو وہ اللہ کی قسم کھاے یا خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٤٩)
دیگر متعدد اسانید کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٤٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھانے کا ارادہ کرے وہ صرف اللہ کی قسم کھاے قریش اپنے آباء(واجداد)کی قسم کھاتے تھے آپ نے فرمایا اپنے آباء کی قسم مت کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص نے اپنی قسم میں کہا لات کی قسم اسے چاہیے کہ کہے"لاالہ الااللہ" اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے(کیونکہ اس نے گناہ کی طرف رغبت دی بطور تنبیہ صدقہ کے بارے میں فرمایا صدقہ واجب نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥٢)
دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ روایت منقول ہے البتہ معمر کی روایت میں ہے کہ وہ کوئی چیز صدقہ کرے اور اوزاعی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص لات و عزی کی قسم کھاے۔ ابوالحسین مسلم کہتے ہیں یہ حرف یعنی"آو جوا کھیلیں کہے تو وہ صدقہ دے" اسے زہری کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا نیز امام مسلم فرماتے ہیں امام زہری نوے کے قریب احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں جن کی اسانید عمدہ ہیں اور ان میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٣)
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتوں کی قسم نہ کھاؤ اور نہ اپنے آباء کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٤)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں چند اشعریوں کے ساتھ سواری طلب کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس سواری ہے فرماتے ہیں جس قدر اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے پھر آپ کے پاس اونٹ لاے گئے تو آپ نے ہمارے لئے سفید کوہان کے تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم جانے لگے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہ دے ہم رسول اکرم کے پاس سے سواری مانگتے آے آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی۔ اس کے ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری دی۔اور بخدا میں کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر مجھے خیال آئے کہ اس کے خلاف بہتر ہے تو ان شاءاللہ میں اس بہتر کام کو کروں گا اور قسم کفارہ ادا کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ حَلَفَ يَمِينًا فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، أَنْ يَأْتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَيُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٥)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے کے لئے بھیجا کیونکہ وہ جیش عسرت یعنی غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس سواریاں لینے کے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواریاں نہیں دوں گا آپ اس وقت غصے میں تھے اور مجھے اس بات کا علم نہیں تھا پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے غمگین ہوا اور اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ناراض نہ ہوے ہوں پس میں اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ان کو بتایا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی(انہوں نے کہا)اے عبداللہ بن قیس!میں نے ان کو جواب دیا تو انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلارہے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ جب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ جوڑا لو،یہ جوڑا لو اور یہ جوڑا لو۔میں نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے وہ اونٹ خریدے ہیں تم ان کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ بےشک اللہ تعالیٰ یا فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ سواریاں دی ہیں ان پر سوار ہوجاؤ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان اونٹوں کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا اور کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ سواریاں دی ہیں لیکن اللہ کی قسم میں انہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میں سے کوئی شخص میرے ساتھ ان لوگوں کے پاس نہیں جائے گا جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سنا جب میں نے آپ سے تمہارے لئے سوال کیا اور آپ نے پہلی بار منع فرمایا پھر مجھے یہ اونٹ عطاء فرمائے تم یہ گمان نہ کرنا کہ میں نے تمہیں وہ بات سنائی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔ انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم!بےشک تم ہمارے نزدیک سچے ہو اور ہم ضرور بضرور وہ کام کریں گے جو تم چاہتے ہو پس حضرت ابو موسیٰ ان میں سے کچھ لوگوں کو لے کر گئے حتیٰ کہ ان لوگوں کے پاس پہنچے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سنا تھا کہ آپ نے پہلے منع فرمایا پھر اس کے بعد ان کو عطاء فرمایا چنانچہ انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا جیسے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٩؛حدیث نمبر ٤١٥٦)
حضرت زہدم جرمی سے مروی ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے تو انہوں نے دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا اتنے میں بنو تیم اللہ(قبیلے)کا ایک آدمی آیا جو سرخ رنگ کا تھا اور غلاموں کے مشابہ تھا،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا آؤ،وہ ہچکچانے لگا تو آپ نے فرمایا آگے بڑھو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مرغ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔اس شخص نے کہا میں نے اسے کچھ (گندگی)کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے مجھے اس سے گھن آئی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا انہوں نے فرمایا آؤ میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناؤں میں اشعریوں کے ایک گروہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے سواری مانگیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ ہی میرے پاس سواری ہے۔ پس جس قدر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لاے گئے تو آپ نے ہمیں طلب فرمایا اور ہمیں سفید کوہان کے پانچ اونٹ عطاء فرمائے فرماتے ہیں جب ہم چلے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم یاد نہیں دلائی لہٰذا ہمیں ان اونٹوں میں برکت نہیں ہوگی چنانچہ ہم دوبارہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ آپ سے سواریاں طلب کریں تو آپ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواریاں نہیں دوں گا پھر آپ نے ہمیں سواریاں عطاء کردیں تو یا رسول اللہ!کیا آپ بھول گئے؟آپ نے فرمایا بخدا!میں کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر اس کے علاوہ کام کو کرنا اچھا سمجھوں تو ان شاءاللہ اس بہتر کام کو کروں گا اور قسم کا کفارہ دوں گا جاؤ!تمہیں اللہ تعالیٰ نے سواریاں دی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٠؛حدیث نمبر ٤١٥٧)
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ جرم قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ تھا اور ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پس ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٥٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٠؛حدیث نمبر ٤١٥٨)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے مختلف تین سندوں کے ساتھ زہدم جرمی سے روایت کیا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان تینوں سندوں کے ساتھ حماد بن زید کی روایت(٤١٥٨)کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٥٩)
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ مرغی کا گوشت تناول فرمارہے تھے۔اس کے بعد سابقہ روایت کی طرح ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا بخدا!میں اس قسم کو نہیں بھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٠)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے کے لئے گئے آپ نے فرمایا میرے پاس تمہارے لئے سواری نہیں ہے اور اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین اونٹ بھیجے جن کی کوہانیں سفید تھیں تو ہم نے کہا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے حاضر ہوئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ پس ہم نے آپ کے پاس حاضر ہوکر آپ کو قسم یاد دلائی تو آپ نے فرمایا بےشک میں جب کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر مجھے خیال آئے کہ اس کے خلاف کرنا بہتر ہے تو میں وہ کام کروں گا جو اس سے بہتر ہے(اور قسم کا کفارہ دوں گا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦١)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم پیادہ تھے تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سواریاں طلب کیں اس کے بعد حضرت جریر کی روایت نمبر ٤١٦١ کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیر ہوگئی جب وہ اپنے گھر گیا تو بچے سوگئے تھے اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لے کر آئی تو اس نے بچوں کی وجہ سے قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھاے گا پھر اسے خیال آیا تو اس نے کھانا کھالیا اس کے بعد اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھاے پھر اسے خیال آئے کہ اس کے خلاف کرنا بہتر ہے تو وہ اس بہتر کام کو کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کو بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر خیال کیا تو اس بہتر کام کو کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے اور اس میں ہے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اس بہتر کام کو کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٦)
حضرت تمیم بن طرفہ کہتے ہیں ایک سائل حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ایک غلام کی قیمت کا کچھ حصہ طلب کیا انہوں نے فرمایا میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں البتہ ایک زرہ اور خود(لوہے کی ٹوپی)ہے میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دیں مگر وہ راضی نہ ہوا اس پر حضرت عدی کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا سنو!اللہ کی قسم!میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا پھر وہ شخص راضی ہوگیا تو حضرت عدی نے کہا اللہ کی قسم!اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نے قسم کھائی پھر اس نے خیال کیا کہ اس کے خلاف میں اللہ تعالیٰ کا تقوی زیادہ ہے تو وہ اس تقوی والے کام کو کرے تو میں نے اپنی قسم نہ توڑتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٧)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اس بہتر کام کو کرے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٦٨)
حضرت عدی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک قسم کھاے پس اس کے خلاف کو اس سے بہتر خیال کرے تو اس قسم کا کفارہ ادا کرے اور اس کام کو کرے جو بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٦٩)
حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ(مندرجہ بالا بات) فرماتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٠)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص ایک سو درہم مانگنے کے لئے آیا حضرت عدی نے کہا تو مجھ سے ایک سو درہم مانگتا ہے حالانکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں اللہ کی قسم میں تجھے نہیں دوں گا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوا ہے کہ جو شخص کسی کام کرنے کی قسم کھاے پھر اس سے بہتر کام کو دیکھے تو اس بہتر کام کو کرے(اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہوتی تو تمہیں نہ دیتا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧١)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ان سے سوال کیا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم میری عطاء سے چار سو درہم لے لو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٢)
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد الرحمن!حکومت کا سوال نہ کرنا اگر تمہیں سوال کرنے سے حکومت ملی تو تم اس کے سپرد کردیئے جاؤ گے اور اگر تمہیں سوال کے بغیر ملی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام کی قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف کو بہتر خیال کرو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اس بہتر کام کو کرے۔ ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٣)
چار مختلف سندوں کے ساتھ بھی حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے ایک سند سے مروی روایت میں حکومت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قسم میں اس چیز کا اعتبار ہوگا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا عمر کی روایت میں"یصدقک بہ صاحبک" کے الفاظ(یعنی علیہ کی جگہ بہ کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ يَمِينِ الْحَالِفِ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ؛ترجمہ؛قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہے؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھانے والے کی نیت کے لحاظ سے قسم ہوگی۔(مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے دوسرے آدمی سے کہا تم قسم اٹھاؤ فلاں بات اس طرح ہے تو اسی بات کے لئے قسم ہوگی اب قسم اٹھانے والا کہے کہ میں نے فلاں بات کے لئے قسم کھائی ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔١٢ہزاروی)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ يَمِينِ الْحَالِفِ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ ازواج تھیں انہوں نے قسم کھائی کہ میں آج رات تمام ازواج کے پاس جاؤں گا جس سے ہر زوجہ حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے ایک شہسوار بچہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا لیکن ان میں سے صرف ایک حاملہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی آدھا(ناتمام)بچہ پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ استثناء کرتے(ان شاء اللہ کہتے)تو ہر عورت کے ہاں ایک شہسوار لڑکا پیدا ہوتا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛ترجمہ؛قسم میں استثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا آج میں ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا ہر ایک کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا تو ان کے کسی ساتھی فرشتے نے کہا آپ"ان شاء اللہ"کے الفاظ کہیں لیکن وہ بھولنے کی وجہ سے نہ کہ سکے پس ان کی ایک زوجہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی آدھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ"ان شاء اللہ"کہتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور ان کا مقصد پورا ہوجاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛ترجمہ قسم میں استثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٨)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤١٧٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا آج رات میں ستر ازواج کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑے گا ان سے عرض کیا گیا کہ آپ"ان شاء اللہ"کہیں لیکن انہوں نے یہ کلمات نہ کہے پس ان ازواج سے صرف ایک خاتون کے ہاں نصف بچہ پیدا ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ"ان شاء اللہ"کہتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور وہ اپنی حاجت کو پالیتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا آج رات میں نوے بیویوں کے ہاں جاؤں گا ان میں سے ہر ایک ہاں ایک شہسوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا"ان شاء اللہ"کے الفاظ کہیں لیکن انہوں نے"ان شاء اللہ"نہ کہا پس وہ تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے لیکن ان میں سے صرف ایک خاتون حاملہ ہوئیں اور ان کے ہاں بھی ایک ناتمام بچہ پیدا ہوا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر وہ"انشاء اللہ"کہتے تو وہ سب شہسوار ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ ہر عورت سے لڑکا پیدا ہوتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے بارے میں قسم پر اصرار کرے تو اللہ تعالیٰ نے جس کفارے کو فرض کیا ہے اس کی ادائیگی کے مقابلے میں(قسم پر)اصرار کرنا زیادہ گناہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِصْرَارِ عَلَى الْيَمِينِ، فِيمَا يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ الْحَالِفِ، مِمَّا لَيْسَ بِحَرَامٍ؛اگر قسم سے اہل خانہ کو نقصان ہو تو قسم پر اصرار منع ہے بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف بیٹھوں گا آپ نے فرمایا اپنی نذر کو پورا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛ترجمہ؛کافر کی نذر اور اسلام لانے کے بعداس نذر کو پورا کرنا؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٤)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے چار مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ابواسامہ اور ثقفی کی روایت میں ایک رات کے اعتکاف کا ذکر ہے اور شعبہ کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر ماننے کا ذکر ہے اور حفص کی روایت میں دن اور رات کسی کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طائف سے واپسی کے بعد مقام جعرانہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ!میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف بیٹھوں گا تو آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے فرمایا جاؤ ایک دن اعتکاف بیٹھوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خمس میں سے ایک لونڈی دی تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کیا تو انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ہے پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبد اللہ(بن عمر)جاؤ اور اس لونڈی کو آزاد کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن اعتکاف کی نذر کے بارے میں سوال کیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٨٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٧)
حضرت نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ جعرانہ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا آپ نے جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زمانہ جاہلیت میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر کا ذکر کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٨٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٨)
امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے بارے میں اس حدیث کو روایت کیا اور ان دونوں سندوں میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٩)
زاذان ابوعمر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے ایک غلام آزاد کیا تھا انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی اور چیز اٹھا کر کہا اس(غلام آزاد کرنے)میں اتنا ثواب بھی نہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے یا اسے پیٹے تو اس کا کفارہ اسے آزاد کرنا ہے۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛ترجمہ؛غلاموں سے برتاؤ اور غلام کو تھپڑ مارنے کا کفارہ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٩٠)
حضرت زاذان کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھے اور اس سے پوچھا کہ میں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے؟اس نے کہا نہیں فرمایا تم آزاد ہو۔ فرماتے ہیں پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا میرے لئے اس میں اس کے برابر بھی ثواب نہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے غلام کو کسی جرم کے بغیر پیٹے یا اسے تھپڑ مارے تو اس کا کفارہ اس کو آزاد کرنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩١)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ابن مہدی کی روایت میں«حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ»، کے الفاظ ہیں اور وکیع کی روایت میں«مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ» کے الفاظ ہیں اور حد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٢)
معاویہ بن سوید کہتے ہیں میں نے ایک غلام کو تھپڑ مارا پھر میں بھاگ گیا اور ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا میں نے اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی میرے والد نے مجھے اور اس غلام کو بلایا پھر غلام سے فرمایا بدلہ لو لیکن اس نے معاف کردیا۔ پھر سوید نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم بنو مقرن کے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ ماردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے آزاد کردو،انہوں نے کہا ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں آپ نے فرمایا اچھا یہ اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس کی خدمت کی ضرورت نہ رہے تو اس کو آزاد کردیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٣)
بلال بن یساف کہتے ہیں ایک شخص نے جلدی کی اور اپنے غلام کو تھپڑ ماردیا تو سوید بن مقرن نے ان سے کہا تمہیں اس کے چہرے کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ملی تھی میں نے دیکھا کہ بنو مقرن کا ساتواں بیٹا ہوں اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی چھوٹے نے اس کو تھپڑ ماردیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٤)
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے گھر کپڑا بیچا کرتے تھے ایک لونڈی آئی اور اس نے ہمارے کسی شخص سے کچھ کہا اس شخص نے اس لونڈی کو تھپڑ ماردیا سوید غضبناک ہوگئے اس کے بعد ابن ادریس کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٥)
سوید بن مقرن سے روایت ہے کہ ان کی لونڈی کو کسی نے تھپڑ ماردیا تو سوید نے اس سے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ قابل احترام ہے پھر انہوں نے کہا مجھے یاد ہے میں اپنے بھائیوں میں سے ساتواں تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی شخص نے اس خادم کو ایک تھپڑ لگا دیا۔ پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٦)
شعبہ کہتے ہیں مجھ سے محمد بن منکدر نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٩٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٧)
حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غلام کو چابک سے مار رہا تھا اچانک میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی کہ اے ابو مسعود!جان لو،لیکن مجھے غصے کی وجہ سے آواز کا پتہ نہ چلا،لیکن جب وہ میرے قریب ہوے تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ فرما رہے تھے اے ابو مسعود جان لو!اے ابو مسعود جان لو!حضرت ابومسعود کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے چابک پھینک دیا تو آپ نے فرمایا اے ابو مسعود!جان لو کہ جس قدر تم اس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر تم پر قادر ہے فرماتے ہیں میں نے کہا میں آئندہ کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٨)
دیگر تین سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ جریر کی سند میں اس طرح ہے کہ آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے چابک گر گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤١٩٩)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے غلاموں کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی کہ اے ابومسعود!تمہیں علم ہونا چاہئے کہ جس قدر تم اس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر قادر ہے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ اللہ تعالیٰ کے لئے آزاد ہے آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو تم جہنم کی آگ میں ڈالے جاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠٠)
حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا اللہ کی پناہ!وہ اسے پھر مارنے لگے تو اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ!(یہ سن کر)اسے چھوڑ دیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس قدر تم اس پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر تم پر قادر ہے راوی فرماتے ہیں پس انہوں نے اسے آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠١)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی پناہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی قیامت کے دن اس پر حد قائم کی جائے گی(عذاب دیا جائے گا)مگر یہ کہ وہ سچا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ ہیں کہ میں نے أبوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٤)
حضرت معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ربذہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ایک چادر پہن رکھی تھی اور ان کے غلام نے بھی ویسی ہی چادر پہنی ہوئی تھی۔ہم نے کہا اے ابوذر!اگر تم یہ دونوں چادریں پہنتے تو یہ حلہ(جوڑا)ہوجاتا۔انہوں نے کہا میرے اور میرے ایک بھائی کے درمیان لڑائی ہوئی تھی اور اس کی ماں عجمی تھی میں نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی تو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لگائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا اے ابوذر!تم ایسے شخص ہو جس میں زمانہ جاہلیت کی عادت ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جو شخص لوگوں کو گالی دے گا تو لوگ اس کے باپ اور ماں کو گالی دیں گے آپ نے فرمایا اے ابوذر!تم میں دور جاہلیت کی عادت ہے یہ لوگ تمہارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کیا ہے پس جو کچھ کھاؤ اس سے ان کو کھلاؤ اور جو کچھ خود پہنو اس سے ان کو پہناؤ اور ان کو ایسے کام کا مکلف نہ بناؤ جو ان پر غالب آجائے اور اگر تم ان کو(ایسے کام کی)تکلیف دو تو ان کی مدد کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ إِطْعَامِ الْمَمْلُوكِ مِمَّا يَأْكُلُ، وَإِلْبَاسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٥)
مزید دو سندوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ان الفاظ کے بعد کہ"تم میں زمانہ جاہلیت کی عادت ہے"یہ زائد ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عرض کیا میرے اس بڑھاپے کے حال میں؟آپ نے فرمایا"ہاں" ابو معاویہ کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے بڑھاپے کے حال میں بھی،عیسی کی روایت میں ہے اگر وہ اسے کام کی تکلیف دے جو اس پر غالب آجائے تو اسے بیچ دے اور زہیر کی روایت میں ہے کہ اس سلسلے میں اس کی مدد کرے اور ابو معاویہ کی روایت میں اس کو فروخت کرنے کا ذکر نہیں اور نہ ہی اس کی اعانت کا ذکر ہے بلکہ"اسے ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر غالب آے"کے الفاظ پر روایت مکمل ہوجاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٣؛حدیث نمبر ٤٢٠٦)
حضرت معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک حلہ(جوڑا)پہنے ہوئے دیکھا اور ان کے غلام نے بھی ایسا ہی حلہ پہنا ہوا تھا میں نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی۔ فرماتے ہیں وہ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں جاہلیت کی عادت پائی جاتی ہے یہ تمہارے بھائی اور تمہارے خادم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کردیا ہے پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے اس میں سے کھلاے جو خود کھاتا ہے اور اسے اس لباس میں سے پہناے جو خود پہنتا ہے اور ان کو ایسے کاموں کی تکلیف نہ دو جو ان پر غالب آجائیں اور اگر تم ان کو تکلیف دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٣؛حدیث نمبر ٤٢٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کو کھانا اور کپڑا دو اور اسے اسی کام کی تکلیف دی جائے جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے لئے اس کا خادم کھانا تیار کرے پھر وہ اسے لے کر آئے درآں حالیکہ اس نے کھانا پکانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا تو وہ اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھلاے اور اگر کھانا بہت کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے رکھ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢٠٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھی طرح کرے تو اس کے لئے دو گنا اجر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١٠)
چار سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١١)
حضرت سعید بن مسیب،حضرت ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا نیک غلام کے لئے دو اجر ہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ،حج اور ماں کے ساتھ سلوک کی عبادات نہ ہوتیں تو میں یہ بات پسند کرتا کہ مجھے غلامی کی حالت میں موت آئے۔ راوی کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے ان کی وفات تک حج نہیں کیا او طاہر نے اپنی حدیث میں نیک غلام کا ذکر کیا ہے محض غلام کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١٢)
اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔اور اس میں یہ الفاظ نہیں کہ"ہمیں خبر پہنچی ہے"اور اس کے بعد کے الفاظ بھی نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں،راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت کعب کو سنائی انہوں نے فرمایا اس غلام سے حساب نہیں ہوگا اور نہ اس مؤمن سے حساب ہوگا جو دنیا سے بےرغبتی رکھتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢١٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٥)
ہمام بن منبہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں انہوں نے اس سلسلے میں روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیا ہی اچھا غلام ہے جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہو اور اپنے مالک کی خیر خواہی بھی کرتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی قیمت کے برابر مال ہو تو اس غلام کی ٹھیک ٹھاک قیمت لگائی جائے پھر وہ اپنے شرکاء کو ان کا حصہ ادا کردے تو وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا ورنہ اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جس قدر اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے تو اس پر لازم ہے کہ پورے غلام کو آزاد کرے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس(غلام)کی قیمت کو پہنچتا ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جس قدر اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال تھا جو اس کی قیمت کو پہنچتا تھا تو اس کی مناسب قیمت لگائی جائے گی ورنہ اسی قدر غلام آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٩)
متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے لیکن ان حضرات کی روایت میں یہ ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا البتہ ایوب اور یحییٰ بن سعید کی حدیث میں یہ الفاظ مذکور ہیں اور وہ فرماتے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ آیا یہ الفاظ حدیث کے ہیں یا حضرت نافع(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی)نے اپنی طرف سے کہا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد کے علاوہ کسی کی حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢٢٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو اس کے مال میں سے اس(غلام)کی مناسب قیمت لگائی جائے نہ کمی ہو نہ زیادتی پھر وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا اگر کشادہ حال ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کیا تو جو باقی ہے وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا جب اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اسے آزاد کر دے تو(دوسرا)اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت شعبہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا وہ اس کے مال سے آزاد کیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کی آزادی اسی شخص کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے کمائی کرائی جائے لیکن اسے(زیادہ)مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٥)
دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور عیسی کی روایت میں ہے کہ جس شخص کے حصہ کو آزاد نہیں کیا گیا اس کے حصہ میں غلام سے کمائی کرائی جائے لیکن(زیادہ)مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلاکر ان کے تین حصے کئے پھر ان میں قرعہ اندازی کرکے دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رہنے دیا اور اس شخص کے بارے میں سخت کلمہ کہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٧)
دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے ایک روایت میں ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے اپنی موت کے وقت چھ غلاموں کو آزاد کرنے کی وصیت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٢٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر کردیا(کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گا)اور اس کے پاس اس کے علاوہ مال نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درہم اس شخص کو دے دئے۔ راوی کہتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ غلام قبطی تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ جَوَازِ بَيْعِ الْمُدَبِّرِ؛ترجمہ؛مدبر غلام کی بیع کا جواز؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر کردیا اور اس غلام کے سوا اس کا کوئی اور مال نہ تھا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس(غلام)کو فروخت کردیا۔حضرت جابر فرماتے ہیں ابن نحام نے اس قبطی غلام کو خریدا تھا اور وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ مدبر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٣١ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣٢)
تین مختلف سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مدبر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٩٠؛حدیث نمبر ٤٢٣٣)
Muslim Shareef : Kitabul Aiman
|
Muslim Shareef : كِتَابٌ الْأَيْمَانُ
|
•