
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛ترجمہ؛چوری کی حد اور اس کا نصاب؛جلد٣ص١٣١٢؛حدیث نمبر ٤٢٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٩٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٢؛حدیث نمبر ٤٢٩١)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٢؛حدیث نمبر ٤٢٩٢)
ایک اور سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے چوتھائی دینار یا اس سے زائد پر ہی ہاتھ کاٹا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٢؛حدیث نمبر ٤٢٩٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ صرف چوتھائی دینار یا اس سے زائد پر ہاتھ کاٹا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٣؛حدیث نمبر ٤٢٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٩٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٣؛حدیث نمبر ٤٢٩٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا جاتا تھا چاہے وہ حجفہ نامی ڈھال ہو یا تُرس اور یہ دونوں قیمت والی چیز ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٣؛حدیث نمبر ٤٢٩٦)
حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے اس زمانے میں ڈھال والی چیز تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٣؛حدیث نمبر ٤٢٩٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال(کی چوری)پر کاٹا اور اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٣؛حدیث نمبر ٤٢٩٨)
امام مسلم نے دس سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت بیان کی بعض راویوں نے قیمت کا لفظ کہا اور بعض نے ثمن کہا اور اس(ڈھال)کی قیمت تین درہم تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٤؛حدیث نمبر ٤٢٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت فرمائے وہ ایک بیضہ(انڈا)چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ایک رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٤؛حدیث نمبر ٤٣٠٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ اگر اس نے رسی چرائی اور اگر اس نے بیضہ چرایا۔(دس درہم کا مال محفوظ مقام سے چوری ہو تو سرقہ ہے اور اس پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا تھا اور ڈھال کی قیمت میں اختلاف ہے لہٰذا دس درہم والی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا؛جلد٣ص١٣١٤؛حدیث نمبر ٤٣٠١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قریش کو ایک مخزومی عورت نے پریشان کردیا کیونکہ اس نے چوری کی تھی۔انہوں نے کہا اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کون سفارش کرےگا پھر کہنے لگے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون جراءت کرسکتا ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا آپ نے فرمایا اے لوگو!تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی معزز چوری کرتا تو چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا ابن رمح کی روایت"من قبلکم"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ؛چور کا ہاتھ کاٹا جائے وہ معزز ہو یا غیر معزز نیز حدود میں سفارش کی ممانعت؛جلد٣ص١٣١٥؛حدیث نمبر ٤٣٠٢)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ بیان کرتی ہیں کہ قریش کو ایک عورت کے معاملے نے پریشان کر رکھا تھا جس نے عہد نبوی میں فتح مکہ کے موقع پر چوری کی تھی انہوں نے کہا اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا(پھر)وہ کہنے لگے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لاڈلے ہیں ان کے علاوہ کون اس بات کی جراءت کرسکتا ہے وہ عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کی آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا اور فرمایا کیا تو اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتا ہے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ میرے لئے استغفار کیجئے جب شام ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی تعریف کی۔پھر فرمایا حمد و صلاۃ کے بعد!تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوے کہ جب ان کا کوئی معزز چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ پھر آپ نے اس عورت کے بارے میں جس نے چوری کی تھی حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس عورت نے اچھی طرح توبہ کی اور شادی کرلی اس کے بعد وہ میرے پاس آتی جاتی تھی اور میں اس کی حاجات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ؛جلد٣ص١٣١٥؛حدیث نمبر ٤٣٠٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مخزومی عورت لوگوں سے چیزیں عاریۃ لیتی اور(بعد میں)انکار کر دیتی(ایک مرتبہ چوری کرنے پر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اس کی سفارش کے لئے کہا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ؛جلد٣ص١٣١٦؛حدیث نمبر ٤٣٠٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا وہ عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ میں آگئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم!اگر حضرت فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا۔ (اسلام عدل و انصاف کا دین ہے اور اس دین میں قانون کے نفاذ کے سلسلے میں امیر و غریب چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں اور اسی عدل کی وجہ سے اسلام میں کشش پائی جاتی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ؛جلد٣ص١٣١٦؛حدیث نمبر ٤٣٠٥)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے(سیکھ)لو،مجھ سے(سیکھ)لو اللہ تعالیٰ نے عورتوں(کی بدکاری)کا حکم بیان کردیا ہے جب کنواری عورت اور کنوارے مرد کے درمیان زنا ہو تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کے لئے ملک بدر کرنا ہے اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو ایک سو کوڑے مارنا اور رجم کرنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ الزِّنَى؛ترجمہ؛زنا کی حد؛جلد٣ص١٣١٦؛حدیث نمبر ٤٣٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر٤٣٠٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ الزِّنَى؛ترجمہ؛زنا کی حد؛جلد٣ص١٣١٦؛حدیث نمبر ٤٣٠٧)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ تکلیف محسوس کرتے اور آپ کے چہرے انور کا رنگ متغیر ہوجاتا فرماتے ہیں ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی وہی کیفیت ہوگئی جب یہ تکلیف زائل ہوئی تو آپ نے فرمایا مجھ سے سیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بارے میں حکم بیان کردیا ہے شادی شدہ مرد کا شادی شدہ عورت اور کنوارے مرد کا کنواری عورت سے زنا کرنے کا حکم بیان کیا کہ شادی شدہ عورت کو سو کوڑے مارو پھر ان کو سنگسار کرو اور کنواری عورتوں کو ایک سو کوڑے مارو اور ملک بدر کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ الزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٦؛حدیث نمبر ٤٣٠٨)
امام مسلم نے دو مختلف سندوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ کنواری کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کردیا جائے جب کہ شادی شدہ کو کوڑے بھی مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے اس روایت میں ایک سال اور سوکے عدد کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ حَدِّ الزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٧؛حدیث نمبر ٤٣٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی پس جو کچھ آپ پر اتارا گیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی ہم نے اسے پڑھا یاد کیا اور سمجھا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا مجھے خوف ہے کہ زیادہ زمانہ گزرنے کی وجہ سے کوئی کہنے والا یوں کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں رجم کا حکم نہیں پاتے تو اس طرح وہ اس فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس شخص کو سنگسار(رجم)کرنا حق ہے جو شادی شدہ ہوکر زنا کرے مرد ہو یا عورت جب اس کے خلاف گواہ قائم ہوجائیں یا وہ(عورت)حاملہ ہوجائے یا وہ اعتراف کرلیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الثَّيِّبِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٧؛حدیث نمبر ٤٣١٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣١٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الثَّيِّبِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٧؛حدیث نمبر ٤٣١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور اس نے بلند آواز سے کہا یا رسول اللہ!میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے آپ نے اس سے رخ انور پھیر لیا اس نے دوسری طرف سے آپ کے سامنے ہوکر کہا یا رسول اللہ!میں نے زنا کیا ہے آپ نے اعراض فرمایا حتیٰ کہ وہ چار مرتبہ آپ کے سامنے آیا اور جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا کیا تم پاگل ہو؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا شادی شدہ ہو؟اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور سنگسار کردو۔ ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا میں بھی سنگسار کرنے والوں میں تھا ہم نے اس شخص کو عید گاہ میں رجم کیا تھا جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ گیا ہم نے اسے حرہ(پتھریلی زمین)میں جالیا اور سنگسار کیا۔ اس سند کے ساتھ اس حدیث کو لیث نے بھی عبد الرحمن بن خالد بن مسافر سے اور انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٨؛حدیث نمبر ٤٣١٢)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی روایت کیا اس میں ہے کہ ابن شہاب نے کہا مجھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے نے بتایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٨؛حدیث نمبر ٤٣١٣)
امام مسلم نے اور تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤٣١٢ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٨؛حدیث نمبر ٤٣١٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو وہ چھوٹے قد کے مضبوط آدمی تھے ان پر چادر نہیں تھی انہوں نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تم نے(زنا کی بجائے بوسہ وغیرہ لیا ہو)انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس بدبخت نے زنا کیا ہے(اپنے بارے میں کہا)حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا سنو!جب ہمارے لوگ غازی بن کر جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ بکرے کی طرح آواز نکالتا ہے اور وہ کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے سنو!اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا تو میں ضرور ان کو عبرتناک سزا دوں گا(دودھ دینے سے زنا کی طرف اشارہ کیا اس سے انزال منی مراد ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٩؛حدیث نمبر ٤٣١٥)
حضرت سماک بن حرب فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا قد چھوٹا تھا بال بکھرے ہوئے اور بدن مضبوط تھا اس پر ایک چادر تھی اور اس نے زنا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ واپس کیا پھر آپ کے حکم سے اسے رجم کیا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے جاتی ہے تو تم میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے اور کسی عورت کے لیے دودھ نکالتا ہے(زنا کرتا ہے)اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دیا تو میں اس کو عبرتناک سزادوں گا۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار بار واپس کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣١٩؛حدیث نمبر ٤٣١٦)
امام مسلم نے دو مزید سندوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ایک حدیث میں دوبار اور دوسری میں دو یا تین بار کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٠؛حدیث نمبر ٤٣١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے متعلق جو بات ہم تک پہنچی ہے کیا وہ سچ ہے؟انہوں نے پوچھا آپ تک میرے تعلق سے کیا بات پہنچی ہے آپ نے فرمایا مجھے بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے چار مرتبہ گواہی دی پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کو رجم کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٠؛حدیث نمبر ٤٣١٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص اسلام لایا جس کا نام ماعز بن مالک تھا انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا مجھ سے زنا ہوگیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کردیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی بار واپس کیا پھر آپ نے ان کی قوم سے ان کا معاملہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا ہمیں ان میں کوئی دماغی خرابی معلوم نہیں البتہ ان سے ایسا کام سرزد ہوا جس کا کفارہ صرف حد کا نفاذ ہے فرماتے ہیں وہ دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے رجم کریں ہم اسے لے کر بقیع الغرقد میں لے گئے ہم نے نہ تو اسے باندھا اور نہ ہی کوئی گڑھا کھودا ہم اس کو ہڈیوں،ڈھیلوں(پتھروں)اور کنکریاں سے مارا وہ بھاگ کھڑا ہوا اور ہم بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑے حتیٰ کہ حرہ کے میدان میں آگیا وہ رکا تو ہم نے اسے حرہ کے پتھروں سے مارا حتیٰ کہ اس کا جسم ساکت ہوگیا۔ پھر شام کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو فرمایا ہم جب بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کوئی شخص پیچھے ہماری عورتوں میں رہ جاتا ہے مجھ پر لازم ہے کہ ہر اس شخص کو سزادوں جس نے یہ عمل کیا ہو اور اسے میرے پاس لایا جاے راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے اس کے لئے نہ بخشش طلب کی اور نہ ہی برا کہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٠؛حدیث نمبر ٤٣١٩) پھر امام مسلم نے اسی سند کے ساتھ ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ہمارے جہاد کے لئے جانے کے بعد ہمارے پیچھے رہ جاتے ہیں وہ بکرے کی طرح آوازیں نکالتے ہیں اس حدیث میں ہماری عورتوں والا جملہ نہیں فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢١؛حدیث نمبر ٤٣٢٠)
امام مسلم نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ ذکر کیا حضرت سفیان کی روایت میں ہے کہ اس نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢١؛حدیث نمبر ٤٣٢١)
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ مجھے پاک کیجئے؟آپ نے فرمایا تمہیں ہلاکت ہو جاؤ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔وہ تھوڑی دور گئے پھر واپس آے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پاک کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں ہلاکت ہو واپس جاؤ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو راوی فرماتے ہیں وہ تھوڑی دور گئے پھر حاضر ہوے اور عرض کیا یارسول اللہ!مجھے پاک کیجئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا حتیٰ کہ چوتھی بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں انہوں نے کہا زنا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے؟آپ کو بتایا گیا کہ یہ پاگل نہیں ہیں آپ نے پوچھا کیا انہوں نے شراب پی رکھی ہے؟ایک شخص نے کھڑے ہوکر ان کا منہ سونگھا تو شراب کی بو محسوس کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے زنا کیا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کو رجم کیا گیا پھر ان کے بارے میں لوگوں کی دوارائیں ہوگئیں بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت ماعز ہلاک ہوگئے ان کو انکے گناہوں نے گھیر لیا اور کسی نے کہا حضرت ماعز کی توبہ سے کسی کی توبہ افضل نہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا پھر عرض کیا مجھے پتھروں سے مار ڈالیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو یا تین صحابہ کرام کے درمیان یہی اختلاف رہا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور وہ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے سلام کیا اور تشریف فرما ہوگئے آپ نے فرمایا حضرت ماعز کے لیے مغفرت طلب کرو صحابہ کرام نے کہا اللہ تعالیٰ حضرت ماعز کی مغفرت فرمائے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ماعز نے ایسی توبہ کی ہے اگر اسے تمام امت میں تقسیم کردیا جائے تو سب کو کافی ہو۔ پھر ازد قبیلے کی شاخ غامد سے ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پاک کیجئے آپ نے فرمایا تجھے ہلاکت ہو واپس چلی جا اور اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر اس نے عرض کی میں دیکھتی ہوں کہ اپ مجھے اسی طرح واپس کررہے ہیں جس طرح آپ نے حضرت ماعز کو واپس بھیجا تھا آپ نے پوچھا تم نے کیا کیا۔ اس نے کہا وہ زنا سے حاملہ ہے آپ نے پوچھا تم؟اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا تم وضع حمل تک رک جاؤ راوی فرماتے ہیں انصار کا ایک شخص اس کا کفیل بنا حتیٰ کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ غامدیہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے آپ نے فرمایا اب ہم اسے رجم نہیں کریں گے اس کا چھوٹا بچہ اس طرح چھوڑ دیں کہ اسے دودھ پلانے والا کوئی نہ ہو چنانچہ انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کو دودھ پلوانا میرے ذمہ ہے راوی کہتے ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو رجم کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢١؛١٣٢٢؛حدیث نمبر ٤٣٢٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہنے لگے:یا رسول!میں نے ظلم کیا اپنی جان پر اور زنا کیا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ کو پاک کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھیر دیا جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئے اور کہنے لگے:یا رسول اللہ!میں نے زنا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھیر دیا بعد اس کے ان کی قوم کے پاس کسی کو بھیجا اور دریافت کرایا،ان کی عقل میں کچھ فتور ہے اور تم نے کوئی بات دیکھی۔“انہوں نے کہا:ہم تو کچھ فتور نہیں جانتے اور ان کی عقل اچھی ہے جہاں تک ہم سمجھتے ہیں،پھر تیسری بار ماعز رضی اللہ عنہ آئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے پاس پھر بھیجا اور یہی دریافت کرایا انہوں نے کہا:ان کو کوئی بیماری نہیں،نہ ان کی عقل میں کچھ فتور ہے۔جب چوتھی بار وہ آئے اور انہوں نے یہی کہا:میں نے زنا کیا ہے مجھ کو پاک کیجئے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گڑھا ان کے لیے کھدوایا پھر حکم دیا وہ رجم کیے گئے۔اس کے بعد غامد کی عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ!میں نے زنا کیا مجھ کو پاک کیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھیر دیا،جب دوسرا دن ہوا اس نے کہا:یا رسول اللہ!آپ مجھے کیوں لوٹاتے ہیں شاید آپ ایسے پھرانا چاہتے ہیں جیسے ماعز کو پھرایا تھا قسم اللہ کی!میں تو حاملہ ہوں تو اب زنا میں کیا شک ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اچھا اگر تو نہیں لوٹتی تو جا جننے کے بعد آنا۔“جب وہ جنی تو بچہ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر لائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اسی کو تو نے جنا جا اس کو دودھ پلا،جب اس کا دودھ چھٹے تو آ جب اس کا دودھ چھٹا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔اور عرض کرنے لگی:اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا۔اور یہ کھانا کھانے لگا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ ایک مسلمان کو دے دیا پرورش کے لیے۔پھر حکم دیا اور ایک گڑھا کھودا گیا،اس کے سینے تک اور لوگوں کو حکم دیا اس کے سنگسار کرنے کا۔سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا تو خون اڑ کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے منہ پر گرا،سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو برا کلمہ کہا،یہ برا کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار اے خالد!(ایسا مت کہو)قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا (جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور حقوق العباد میں گرفتار ہوتا ہے اور مسکینوں کو ستاتا ہے)ایسی توبہ کرے تو اس کا گناہ بھی بخش دیا جائے۔پھر حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور وہ دفن کی گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٣؛حدیث نمبر ٤٣٢٣)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زنا کی وجہ سے حاملہ تھی اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!میں حد کو پہنچ گئی ہوں۔مجھ پر حد قائم کیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اسے اچھا سلوک کرو اور جب اس کا بچہ پیدا ہوا تو میرے پاس لے آنا۔اس نے اسی طرح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے کپڑے باندھ دئے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کو رجم کیا گیا اس کے بعد آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے توبہ کی ہے کہ اگر ستر اہل مدینہ میں تقسیم کی جائے تو سب کو کافی ہو اور کیا تم نے اس سے افضل توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان دے دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٤؛حدیث نمبر ٤٣٢٤)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٣٢٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٤؛حدیث نمبر ٤٣٢٥)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھ پر اپنے رب اللہ کا حکم نافذ کردیں اس کے مخالف نے جو اس سے زیادہ فصیح تھا کہا آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کردیں اور مجھے(بولنے کی)کیا اجازت دیں؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو،اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی عورت سے زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کی سزا سنگسار کرنا ہے تو میں نے اس کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دے دی ہے میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس عورت کو رجم کیا جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔لونڈی اور بکریاں تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے نیز اسے شہر بدر کیا جائے گا اے انیس!اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ(زنا کا)اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔ راوی کہتے ہیں وہ صبح اس کے پاس گئے اس نے اقرار کرلیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسے رجم کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٤؛حدیث نمبر ٤٣٢٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے مزید تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤٣٢٧ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٦؛حدیث نمبر ٤٣٢٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے(علماء کے)پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تم تورات میں زانی کے بارے میں کیا حکم پاتے ہو؟انہوں نے کہا ہم ان دونوں کا منہ کالا کرکے سواری پر اس طرح بٹھاتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا منہ مخالف جانب ہوتا ہے پھر ان کو پھراتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تورات لاؤ اگر تم سچے ہو وہ تورات لائے اور اسے پڑھا حتیٰ کہ جب آیت رجم پر پہنچے تو پڑھنے والے نے اس آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے سے پڑھنے لگا حضرت عبد اللہ بن سلام،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے انہوں نے کہا اس سے فرمائیں کہ اپنا ہاتھ اٹھائے اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے آیت رجم تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان دونوں کو رجم کیا گیا۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کو رجم کیا میں نے دیکھا کہ وہ شخص اپنے آپ کو پتھروں سے بچا رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٦؛حدیث نمبر ٤٣٢٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے سلسلے میں دو یہودیوں یعنی ایک مرد اور ایک عورت کو رجم کیا تو یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٦؛حدیث نمبر ٤٣٢٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی ایک مرد اور عورت کو جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٧؛حدیث نمبر ٤٣٣٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا اور اس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور اسے کوڑے بھی مارے گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بلایا اور فرمایا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہ سزا پاتے ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں،آپ نے ان کے ایک عالم کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟اس نے کہا نہیں اور اگر آپ نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو نہ بتاتا ہماری کتاب میں زنا کی سزا رجم ہے لیکن ہمارے معزز لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی تو جب ہم کسی معزز کو پاتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور کو پاتے تو اس پر حد نافذ کرتے۔ (پھر)ہم نے کہا آؤ کسی بات پر اتفاق کرلیں جسے معزز اور غیر معزز سب پر نافذ کریں تو ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا مقرر کردی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ!سب سے پہلے میں تیرے حکم کو زندہ کروں گا جب کہ انہوں نے اس حکم کو مار دیا(مٹا دیا)ہے۔چنانچہ آپ کے حکم سے اسے رجم کیا گیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ)"اے رسول تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پر دوڑتے ہیں کچھ وہ جواپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو۔(سورہ مائدہ آیت ٤١) یعنی یہودی کہتے تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اگر وہ منہ کالا کرنےاور کوڑے مارنے کا حکم دیں تو اس حکم کو مان لو اور اگر وہ تمہیں رجم کرنے کا حکم دیں تو اس سے بچو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا۔ (ترجمہ)"اور جو شخص اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا وہ لوگ کافر ہیں اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اتارا وہ لوگ ظالم ہیں اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا وہ لوگ فاسق ہیں یہ تمام آیات کفار کے بارے میں نازل ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٧؛حدیث نمبر ٤٣٣١)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں یوں ہے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کا حکم دیا اس کے بعد نزول آیت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٧؛حدیث نمبر ٤٣٣٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلہ کے ایک شخص کو رجم کیا نیز ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو بھی رجم کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٨؛حدیث نمبر ٤٣٣٣)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں امراۃ(عورت)کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٨؛حدیث نمبر ٤٣٣٤)
حضرت ابو اسحاق شیبانی فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے؟انہوں نے فرمایا۔ ہاں کیا ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے یا بعد؟انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٨؛حدیث نمبر ٤٣٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہاری کوئی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو وہ اسے بطور حد کوڑے مارے اور اسے نہ جھڑکے پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارے اور جھڑکے مت اور اگر تیسری بار زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو اس کو فروخت کردے اگرچہ بالوں کی رسی کے بدلے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٨؛حدیث نمبر ٤٣٣٦)
متعدد اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے زنا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب تین بار زنا کرے تو چوتھی مرتبہ(زنا کرنے پر)اسے بیچ ڈالے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٨؛حدیث نمبر ٤٣٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو فرمایا اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر زنا کرے تو اسے کوڑے لگا پھر زنا کرے تو کوڑے لگا پھر اسے بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے عوض فروخت کرو۔ ابن شہاب کہتے ہیں معلوم نہیں تین بار کا فرمایا یا چوتھی بار کا قعنبی اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے فرمایا ضفیر رسی کو کہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٩؛حدیث نمبر ٤٣٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا اس کے بعد پہلی دو حدیثوں کی طرح ہے لیکن ابن شہاب کا قول ہے کہ ضفیر رسی کو کہتے ہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٩؛حدیث نمبر ٤٣٣٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کیں اور ان دونوں میں تیسری بار یا چوتھی بار بیچنے میں شک کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ رَجْمِ الْيَهُودِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي الزِّنَى؛جلد٣ص١٣٢٩؛حدیث نمبر ٤٣٤٠)
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ہے لوگو!اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو،وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ،کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا لیکن اس کے ہاں تازہ تازہ ولادت ہوئی تھی تو مجھے ڈر ہوا کہ کوڑے کھانے کی وجہ سے وہ مر نہ جاے میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ تَأْخِيرِ الْحَدِّ عَنِ النُّفَسَاءِ؛جلد٣ص١٣٣٠؛حدیث نمبر ٤٣٤١)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ،البتہ یہ اضافہ ہے کہ اسے ٹھیک ہونے تک چھوڑ دو۔ (آزاد مرد یا عورت شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کریں تو رجم کیا جائے گا اور غیر شادی کو کوڑے لگاے جائیں گے لیکن غلام یا لونڈی کی سزا چونکہ نصف ہوتی ہے اور رجم میں نصف کی کوئی صورت نہیں شادی شدہ غلام ہو یا غیر شادی شدہ دونوں صورتوں میں کوڑے لگائے جائیں گے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ تَأْخِيرِ الْحَدِّ عَنِ النُّفَسَاءِ؛جلد٣ص١٣٣٠؛حدیث نمبر ٤٣٤٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دو چھڑیوں سے چالیس بار مارا وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کم از کم حد اسی(٨٠)کوڑے ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛شراب نوشی کی حد؛جلد٣ص١٣٣٠؛حدیث نمبر ٤٣٤٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٤٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣٠؛حدیث نمبر ٤٣٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کے سلسلے میں شاخ اور جوتوں سے مارا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ سبزہ زادی اور دیہاتوں کے قریب رہنے لگے تو انہوں نے فرمایا شراب نوشی کے بارے میں تمہارا کیا مشورہ ہے حضرت عبد الرحمن نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آپ اس کی سب سے کم حد مقرر کریں فرماتے ہیں پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے مارے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣١؛حدیث نمبر ٤٣٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣٤٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣١؛حدیث نمبر ٤٣٤٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شراب نوشی پر چالیس جوتے اور چھڑیاں مارتے تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٤٥ کے مثل مروی ہے اور اس میں سبزہ زاروں اور دیہاتوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣١؛حدیث نمبر ٤٣٤٧)
حضرت حصین بن منذر ابوساسان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس لید(بن عقبہ)کو لایا گیا انہوں نے صبح کی دو رکعتیں پڑھا دی تھیں پھر فرمایا میں تمہارے لئے اس میں اضافہ کرتا ہوں(دوبارہ پڑھانا مراد ہے)دو آدمیوں نے ولید کے خلاف گواہی دی ان میں سے ایک حکمران تھا انہوں نے کہا کہ اس نے شراب پی ہے دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تک شراب نہ پی ہو قے کیسے کرسکتا ہے۔انہوں نے فرمایا اے علی!اس پر حد قائم کریں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے حسن!اٹھو اور اس کو کوڑے مارو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوڑے مارنے کی حرارت بھی اسی پر ڈالی جو اس (حکمرانی)کی ٹھنڈک حاصل کرچکا ہے۔اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ناراض ہوے اور فرمایا اے عبد اللہ بن جعفر!تم اٹھ کر اسے کوڑے لگاؤ وہ کوڑے لگا رہے تھے اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ گن رہے تھے حتیٰ کہ جب چالیس تک پہنچے تو آپ نے فرمایا رک جاؤ پھر فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگائے جب کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور سب سنت ہیں اور میرے نزدیک یہی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ علی بن حجر کی روایت میں ہے کہ اسماعیل نے کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داناج کی حدیث سنی تھی لیکن میں اسے یاد نہ رکھ سکا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣١؛حدیث نمبر ٤٣٤٨)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں کسی شخص کو حد لگاؤں اور وہ مر جائے تو مجھے ملال نہیں ہوگا البتہ شراب نوشی کی حد سے کوئی مرجاے میں اس کی دیت دوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣٢؛حدیث نمبر ٤٣٤٩)
سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث نمبر ٤٣٤٩ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛ بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٣٣٢؛حدیث نمبر ٤٣٥٠)
حضرت ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ مارے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ قَدْرِ أَسْوَاطِ التَّعْزِيرِ؛تعزیر کے کوڑوں کی مقدار؛جلد٣ص١٣٣٢؛حدیث نمبر ٤٣٥١)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں تھے،آپ نے فرمایا تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے،نہ زنا کرو گے نہ چوری کرو گے اور نہ ہی کسی نفس کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ناحق قتل کرو گے پس تم میں سے جو شخص اس کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہو اور اسے اس کی سزا دی جائے تو وہ ہی اس کے لیے کفارہ ہے اور جو ان جرائم میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈال دے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اگر چاہے تو اسے معاف کردے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا؛جلد٣ص١٣٣٣؛حدیث نمبر ٤٣٥٢)
امام مسلم نےاسی سند کے ساتھ امام زہری سے یہ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نساء کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔{أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ "کہ وہ عورتیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا؛جلد٣ص١٣٣٣؛حدیث نمبر ٤٣٥٣)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس طرح عہد کیا جس طرح عورتوں سے وعدہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں نہ چوری کریں نہ زنا کے مرتکب ہوں نہ اپنی اولاد کو قتل کریں اور نہ ہم میں سے بعض دوسرے بعض پر افتراء(جھوٹ)باندھے پس تم میں سے جو اس کو پورا کرے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے اور جس نے کسی حد(والے جرم)کا ارتکاب کیا اور اس پر حد قائم کی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا؛جلد٣ص١٣٣٣؛حدیث نمبر ٤٣٥٤)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان نقباء میں سے ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کی تھی۔وہ فرماتے ہیں ہم نے آپ کے دست حق پرست پر اس بات کی بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے نہ زنا کریں گے نہ چوری کریں گے اور نہ کسی نفس کو ناحق قتل کریں گے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا نہ ہم لوٹ مار کریں گے اور نہ ہی ہم نافرمانی کریں گے اگر ہم اس کی پابندی کریں تو ہمارے لئے جنت ہے اور اگر ہم نے ان ممنوعہ کاموں میں سے کوئی کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا پردہ رکھ لیا تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ابن رمح کہتے ہیں"قضاء الی اللہ"کےالفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا؛جلد٣ص١٣٣٣؛حدیث نمبر ٤٣٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جانور کے زخمی کرنے کا مالی معاوضہ نہیں کنویں میں گرنے کا مالی معاوضہ نہیں،(معدنیات کی)کان میں گر کر زخمی ہونے کا کوئی معاوضہ نہیں اور دفن شدہ خزانے میں خمس(پانچواں حصہ)ادا کرنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ، وَالْمَعْدِنِ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ؛ترجمہ؛جانور،کان اور کنویں کی وجہ سے زخمی ہونے والے کا معاوضہ نہیں؛جلد٣ص١٣٣٤؛حدیث نمبر ٤٣٥٦)
حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ، وَالْمَعْدِنِ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ؛جلد٣ص١٣٣٥؛حدیث نمبر ٤٣٥٧)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٣٥٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ، وَالْمَعْدِنِ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ؛جلد٣ص١٣٣٥؛حدیث نمبر ٤٣٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کنویں میں زخمی ہونے کا کوئی معاوضہ نہیں کان میں زخمی ہونے کا کوئی معاوضہ نہیں جانور کے زخمی کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں اور دفینہ میں خمس ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ، وَالْمَعْدِنِ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ؛جلد٣ص١٣٣٥؛حدیث نمبر ٤٣٥٩)
دیگر کئی اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحُدُودِ؛بَابُ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ، وَالْمَعْدِنِ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ؛جلد٣ص١٣٣٥؛حدیث نمبر ٤٣٦٠)
Muslim Shareef : Kitabul Hudud
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْحُدُود
|
•