asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Loqatate

From 4389 to 4409

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے گری پڑی چیز(لقطہ)کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس(تھیلی)کو باندھنے کی رسی اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ جو چاہو کرو۔ اس نے پوچھا گم شدہ بھیڑ کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا وہ تمہارے لئے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑئے کے لئے ہے۔ اس نے پوچھا گم شدہ اونٹ کا ایک حکم ہے؟آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا مطلب اس کی مشک(پیٹ میں پانی)اور اس کا جوتا(پاؤں)اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جاے گا اور درختوں سے کھاے گا حتیٰ کہ اس کا مالک آکر اسے پکڑ لے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛ترجمہ؛گری پڑی چیزوں کے احکام؛جلد٣ص١٣٤٥؛١٣٤٧؛حدیث نمبر ٤٣٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا ، وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا. قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ. قَالَ : فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا. قَالَ يَحْيَى : أَحْسِبُ قَرَأْتُ : عِفَاصَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4389

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اس کی رسی اور تھیلی کی پہچان کرلو پھر اسے خرچ کرو اس کے بعد اگر اس کا مالک آجائے تو اسے یاد کردینا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا اسے لے لو وہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے ہے یا بھیڑئے کے لیے۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا(فرمایا کہ)آپ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا پھر فرمایا تمہارا اس سے کیا مطلب ہے اس کے جوتے اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے حاصل کرلے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا ، وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ ". قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا حِذَاؤُهَا ، وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4390

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا اس نے آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا۔اس حدیث کے آخر میں ہے جب اس چیز کو مانگنے والا نہ آئے تو اسے خرچ کرڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ : قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ. قَالَ : وَقَالَ عَمْرٌو فِي الْحَدِيثِ : " فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4391

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٩٠ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ کا چہرہ انور اور پیشانی سرخ ہوگئی اور آپ کو غصہ آگیا نیز اس میں یوں ہے کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تمہارے پاس امانت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩٢)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ - وَهُوَ : ابْنُ بِلَالٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ، وَجَبِينُهُ، وَغَضِبَ. وَزَادَ - بَعْدَ قَوْلِهِ : " ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً " - " فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4392

رسول اکرم کے صحابی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے یا چاندی کی صورت میں لقطہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی رسی اور تھیلی کی پہچان یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر بھی شناخت نہ ہو تو اسے خرچ کرو۔وہ تمہارے پاس امانت ہوگئی پھر کسی دن اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو۔اس شخص نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا تعلق؟اسے چھوڑ دو اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشک ہے وہ پانی پر جاے گا اور درختوں کے پتے کھاے گا حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پا لے،اس شخص نے گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ وہ تمہارے لئے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے ہے یا بھیڑئے کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ، أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ : " اعْرِفْ وِكَاءَهَا ، وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ". وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا، دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا ، وَسِقَاءَهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ". وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ : " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4393

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ربیعہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوگئے حتیٰ کہ آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے۔اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تھیلی،(پیسوں کی)تعداد اور تھیلی کی رسی کو پہچان لے سو اسے دے دو ورنہ تمہارے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٤)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، زَادَ رَبِيعَةُ : فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ : " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَعَرَفَ عِفَاصَهَا، وَعَدَدَهَا، وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4394

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کی پہچان نہ ہو سکے تو اس کی تھیلی اور سر بند کی پہچان یاد رکھو اور اسے کھا لو اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا ، وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4395

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اگر اس کی پہچان ہوجائے تو اسے دے دو ورنہ اس تھیلی کو اور اس کے سر بند اور عدد کی پہچان کو یاد رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٦)

وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : " فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4396

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لئے گئے مجھے ایک چابک پڑا ہوا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا ان دونوں نے کہا اس کو چھوڑ دو میں نے کہا میں اس کا اعلان کروں گا اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس سے نفع حاصل کروں گا اور میں نے ان دونوں کی بات نہ مانی جب ہم جہاد سے واپس آئے تو میں حکم خداوندی سے حج کے لیے چلا گیا پھر جب مدینہ طیبہ آیا اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرکے ان کو چابک کا معاملہ بتایا اور ان دونوں حضرات کی بات بھی بتائی تو انہوں نے فرمایا میں نے ایک تھیلی پائی تھی جس میں ایک سو دینار تھے یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی بات ہے پس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو میں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس کی شناخت کے لئے کوئی نہ آیا پھر میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔میں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس کی پہچان کے لئے کوئی نہ یا پھر حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو میں نے اس کا اعلان کیا تو اس کی شناخت کرنے والا کوئی نہ پایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی تعداد،تھیلی اور سربند کی شناخت کو یاد رکھو اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے نفع حاصل کرو میں نے اس سے نفع حاصل کیا اس کے بعد مکہ مکرمہ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا مجھے یاد نہیں تین سال تھے یا ایک سال۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٧)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَا لِي : دَعْهُ. فَقُلْتُ : لَا، وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ، وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ. قَالَ : فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ، وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ". قَالَ : فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ". فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ". فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ : " احْفَظْ عَدَدَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ". فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ، أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4397

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو میں نے ایک چابک پائی اس کے بعد انہوں نے ان الفاظ تک حدیث نمبر ٤٣٩٧ کے مثل بیان کیا کہ میں نے اس سے فائدہ اٹھایا حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے دس سال بعد ان سے سنا انہوں نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٨)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ : سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا. قَالَ شُعْبَةُ : فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ : عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4398

حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی چار سندیں ذکر کی ہیں حماد بن سلمہ کے علاوہ سب نے تین کا ذکر کیا انہوں نے دو سال یا تین سال(شک کے ساتھ)ذکر کیا ہے۔سفیان، زید بن ابی اُنیسہ اور حماد بن سلمہ کی روایت میں یوں ہے کہ اگر کوئی شخص آے اور تمہیں اس کے عدد تھیلی اور سر بند کی خبر دے تو اسے دے دو ابن نمیر کی روایت میں ہے ورنہ تم اس سے نفع حاصل کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا : ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ. إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ : عَامَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةً. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ : " فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا، وَوِعَائِهَا، وَوِكَائِهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ ". وَزَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ : " وَإِلَّا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ : " وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4399

حضرت عبد الرحمن بن عثمان تیمی سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠٠)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4400

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس کسی نے کسی کی گمشدہ چیز کو رکھ لے تو وہ شخص گمراہ ہے جب تک اس کا اعلان نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ، مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4401

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں گھس کر اس کا خزانہ توڑا جائے اور اس کا کھانا منتقل کیا جائے جانوروں کے تھنوں میں ان لوگوں کا کھانا ذخیرہ ہوتا ہے پس کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دوہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَالِكِهَا؛ترجمہ؛مالک کی اجازت کے بغیر دودھ دوہنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ؛ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ ؟ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4402

امام مسلم نے اس حدیث کی متعدد سندیں ذکر کی ہیں لیث کی سند کے سوا سب میں"فَيُنْتَقَلَ"کا لفظ ہے جب کہ ان کی روایت میں «فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ» کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَالِكِهَا؛جلد٣ص١٣٥٢؛حدیث نمبر ٤٤٠٣)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا : " فَيُنْتَثَلَ ". إِلَّا اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ : " فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ ". كَرِوَايَةِ مَالِكٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4403

حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت اور خاطر داری کرے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!خاطر داری کب تک کرے؟فرمایا ایک دن اور ایک رات تک،تین دن اور تین رات تک اس کی مہمان نوازی کرے اس کے بعد بھی رہے تو وہ اس پر صدقہ ہے اور آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٢؛حدیث نمبر ٤٤٠٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ". قَالُوا : وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَوْمُهُ، وَلَيْلَتُهُ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ ". وَقَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا، أَوْ لِيَصْمُتْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4404

حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ضیافت تین دن اور جائزہ(خاطر اور مدارات)ایک دن اور ایک رات ہے اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کردے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اسے کیسے گناہ گار کرے گا۔فرمایا اس کے پاس ٹھہرے اور اس کے پاس مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ ؟ قَالَ : " يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4405

حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے کانوں سے سنا میری آنکھوں نےدیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٠٥ کے مثل مروی ہے اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ تم میں سے کسی ایک کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس رہے حتیٰ کہ اسے گناہ گار کردے جیسا کہ وکیع کی روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٦)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَبَصُرَ عَيْنِي، وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَذَكَرَ فِيهِ : " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ". بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4406

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہمیں بھیجتے ہیں اور ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو آپ کیا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اگر تم کسی قوم کے پاس ٹھہرو اور وہ تمہارے لئے ایسی ضیافت کا اہتمام کریں جو مہمان کے لئے مناسب ہے تو اسے قبول کرو اور اگر ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان نوازی کا وہ حق وصول کرو جو ان کے لئے مناسب ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ، فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4407

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دفعہ ہم سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک شخص اونٹنی پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں گھورنے لگا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس زاید سواری ہو وہ اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہو وہ اسے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قسم کے مالوں کا ذکر کیا حتیٰ کہ ہم نے خیال کیا کہ کسی شخص کا اس کے(اپنے)زائد مال میں کوئی حق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمُؤَاسَاةِ بِفُضُولِ الْمَالِ؛ترجمہ؛زائد مال کو مسلمانوں کی خیر خواہی پر خرچ کرنا؛جلد٣ص١٣٥٤؛حدیث نمبر ٤٤٠٨)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، قَالَ : فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ ". قَالَ : فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4408

حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں گئے تو ہمیں سخت تنگی پیش آئی حتیٰ کہ ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اپنی بعض سواریوں کو ذبح کردیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تو ہم نے اپنا اپنا زاد راہ جمع کیا اور چمڑے کا ایک دسترخوان بچھایا جس پر سب کے زاد راہ جمع ہو گئے راوی کہتے میں اس چمڑے کے ٹکڑے کا اندازہ کرنے آگے بڑھا تو میرے اندازے کے مطابق وہ بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے۔ وہ فرماتے ہیں ہم سب نے سیر ہوکر کھایا پھر ہم اپنی اپنی تھیلی کو بھر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وضو کے لئے پانی ہے؟تو ایک شخص لوٹے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے ایک پیالے میں ڈال دیا اور ہم سب نے وضو کیا چودہ سو آدمیوں نے اچھی طرح پانی بہایا پھر آٹھ سو آدمی آے اور انہوں نے پوچھا کیا وضو کے لئے پانی ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو سے فراغت ہوچکی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب اللقطه؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَلْطِ الْأَزْوَادِ إِذَا قَلَّتْ، وَالْمُؤَاسَاةِ فِيهَا؛ترجمہ؛کمی کی صورت میں سب کے زاد راہ کو ملا نا اور باہم غم خواہی کرنا؛جلد٣ص١٣٥٤؛حدیث نمبر ٤٤٠٩)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ : ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا، فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ، قَالَ : فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ، فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ : فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ ؟ " قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ، فَأَفْرَغَهَا فِي قَدَحٍ، فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، فَقَالُوا : هَلْ مِنْ طَهُورٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَرِغَ الْوَضُوءُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Loqatate, Hadees No. 4409

Muslim Shareef : Kitabul Loqatate

|

Muslim Shareef : كِتَابُ اللُّقَطَۃِ

|

•