
ابن عون کہتے ہیں میں نے حضرت نافع کو خط لکھ کر جنگ سے پہلے کفار کو دعوت دینے سے متعلق سوال کیا۔تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ اسلام کے آغاز میں تھا کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر بے خبری میں حملہ کیا اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے آپ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور باقی کو قید کرلیا اور اسی دن جویریہ آپ کے ہاتھ لگی تھیں راوی کہتے ہیں یا حارث کی بیٹی،یہ حدیث مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْإِغَارَةِ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ بَلَغَتْهُمْ دَعْوَةُ الْإِسْلَامِ، مِنْ غَيْرِ تَقَدُّمِ الْإِعْلَامِ بِالْإِغَارَةِ؛ترجمہ؛جن کفار کو دعوت اسلام دی گئی ان کو دوبارہ دعوت دئے بغیر جنگ کرنے کا جواز؛جلد٣ص١٣٥٦؛حدیث نمبر ٤٤١٠)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں کسی شک کے بغیر جویریہ بنت حارث کا ذکر ہے۔(حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے حرم پاک میں داخل کرکے شرف عطاء فرمایا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْإِغَارَةِ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ بَلَغَتْهُمْ دَعْوَةُ الْإِسْلَامِ، مِنْ غَيْرِ تَقَدُّمِ الْإِعْلَامِ بِالْإِغَارَةِ؛جلد٣ص١٣٥٦؛حدیث نمبر ٤٤١١)
حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کے ساتھیوں کو نیکی کی وصیت کرتے تھے پھر فرماتے اللہ تعالیٰ کے نام سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اس سے لڑو خیانت نہ کرنا نہ عہد شکنی کرنا،نہ کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل بگاڑنا اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کرنا،جب تمہارا اپنے مشرکین دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جسے مان لیں قبول کرلینا اور ان کے ساتھ جنگ سے رک جانا۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان سے قبول کرنا اور جنگ سے رک جانا پھر ان کو اپنے علاقے سے مہاجرین کے شہر کی طرف پھر جانے کی دعوت دینا اور ان کو بتانا کہ اگر وہ ایسا کرلیں تو ان کو وہ سہولتیں حاصل ہوں گی جو مہاجرین کو ملیں گی اور ان پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔اور اگر وہ اس شہر میں آنے سے انکار کردیں تو ان کو بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کے حکم میں رہیں گے ان پر وہی حکم جاری ہوگا جو دوسرے مسلمانوں پر جاری ہوگا اور ان کے لئے مال غنیمت اور مال فئے میں کچھ حصہ نہ ہوگا البتہ یہ کہ وہ کچھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں اور اگر وہ اس دعوت(اسلام)کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا سوال کرو اگر وہ مان جائیں تو ان سے رک جانا اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرکے ان سے جہاد کرنا۔ اور جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات کا ضامن بناؤ تو تم اللہ اور اس کے رسول کو ضامن نہ بنانا بلکہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا کیونکہ اگر وہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ذمہ کو توڑیں اس بات سے آسان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کو توڑیں۔ اور جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہے کہ تم ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اتارو تو تم ان کو اللہ کے حکم کے مطابق نہ اتارنا بلکہ اپنے حکم کے مطابق نکالنا کیوں تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری رائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا یہ یا اس کی مثل ہے اور اسحاق نے حدیث کے آخر میں یحییٰ بن آدم سے اضافہ نقل کیا وہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت مقاتل بن حیان سے ذکر کی۔ انہوں نے کہا مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن سے نقل کرتے ہوئے بیان کی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛کسی شخص کو امیر جہاد بنانا اور اسے وصیت کرنا کہ لوگوں کو جہاد کے آداب سکھاے؛جلد٣ص١٣٥٧؛حدیث نمبر ٤٤١٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر یا کسی لشکر کو بھیجتے تو اسے بلا کر نصیحت فرماتے اس کے بعد حضرت سفیان کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٣)
ایک اور سند سے بھی امام مسلم نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٤)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی مہم پر روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے لوگوں کو خوش کرو،متنفر نہ کرو اور فرماتے آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٥)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا آسانی پیدا کرنا تنگی میں نہ ڈالنا،خوش کرنا،متنفر نہ کرنا،آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٦)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس حدیث میں«وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(لوگوں پر)آسانی کرو ان کو مشکل میں نہ ڈالو اور ان کو آرام پہنچاو متنفر نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہلو اور پچھلوں کو جمع فرماے گا تو ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛عہد شکنی کی حرمت؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٤١٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤٢٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عہد شکنی کے لئے ایک جھنڈا نصب کرے گا اور کہا جائے گا سنو!یہ فلاں شخص کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛عہد شکنی کی حرمت؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢٢)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں اور فرمایا کہ عبد الرحمن کی روایت میں یہ الفاظ نہیں کہ کہا جائے گا "يُقَالُ:هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٤)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا کہا جائے گا یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٦)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا اس کی سرین کے پاس(نصب)ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٧)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا اس کی عہد شکنی کے حساب سے بلند کیا جائے گا اور امیر مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ دھوکہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْخِدَاعِ فِي الْحَرْبِ؛جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کا جواز؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ دھوکہ ہے۔ (یہاں دھوکہ سے مراد جنگی چال ہے یعنی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے دشمن قابو میں آجائے البتہ عہد شکنی جائز نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْخِدَاعِ فِي الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو لیکن ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَالْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛جلد٣ص١٣٦٢؛حدیث نمبر ٤٤٣١)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عمر بن عبید اللہ مقام حروریہ میں گئے تو انہوں نے ان کو(حضرت عمر بن عبید اللہ کو)خط لکھ کر یہ حدیث بیان کی کہ جن دنوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمنوں سے مقابلہ ہوا تو آپ نے انتظار کیا حتیٰ کہ سورج ڈھل گیا تو آپ نے صحابہ کرام کے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا اے لوگو!دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو لیکن جب ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور یہ دعا مانگی اے اللہ!کتاب نازل کرنے والے،بادلوں کو چلانے والے اور(دشمنوں کی)جماعتوں کو شکست دینے والے ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَالْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛جلد٣ص١٣٦٢؛حدیث نمبر ٤٤٣٢)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب(کفار کے گروہوں)کے خلاف دعا مانگی اور یوں فرمایا اے اللہ!کتاب نازل کرنے والے،جلد حساب لینے والے احزاب کو شکست دے یا اللہ!ان کو شکست دے اور ان کو ہلاک کر دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛ترجمہ؛دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٣)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی۔خالد کی روایت کی طرح ہے البتہ اس میں"اللھم"کے الفاظ نہیں«هَازِمَ الْأَحْزَابِ»(گروہوں کو شکست دینے والے)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٤)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی روایت کرتے ہیں اس میں"بادلوں کے چلانے والے"کےالفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن یوں فرما رہے تھے"یااللہ"یا اللہ!اگر تو چاہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی جہاد میں ایک عورت مقتول پائی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کو برا قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ؛ترجمہ؛جنگ میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کسی جہاد میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ اگر وہ شبخون میں مارے جائیں تو کیا حکم ہے آپ نے فرمایا وہ ان لوگوں میں سے ہی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛ترجمہ؛شبخون میں عورتوں اور بچوں کے بلا قصد قتل کا جواز؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٩)
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!شب خون مارتے وقت ہمارے ہاتھوں مشرکین کے بچے بھی مارے جاتے ہیں؟آپ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٠)
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اگر کوئی لشکر رات کے وقت حملہ کرے اور مشرکین کے بچے بھی مارے جائیں(تو کیا حکم ہے)فرمایا وہ اپنے باپ دادا(مشرکین)میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بُویرہ میں بنو نضیر کے باغات جلا دئے اور کٹوا دئے قتیبہ اور رمح کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} (ترجمہ)"جن درختوں کو تم نے کاٹا یا ان کو جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو رسوا کرے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے باغات کاٹنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا اس موقع پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک شعر کہا تھا۔ (ترجمہ)"بنو لوئی کے سرداروں کے نزدیک بُویرہ میں آگ لگا دینا معمولی بات ہے" اور اسی واقعہ سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ) جن درختوں کو تم نے کاٹا یا ان کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت جلوادئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٦؛حدیث نمبر ٤٤٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کیا تو اپنی قوم سے فرمایا جس شخص نے ابھی نکاح کیا ہو اور وہ ابھی تک شب زفاف نہ گزار سکا اور ایسا کرنا چاہتا ہو وہ میرے ساتھ نہ جائے اور وہ شخص جس نے مکان کی دیواریں کھڑی کی ہوں لیکن ابھی چھت نہ ڈالی ہو وہ بھی میرے ساتھ نہ جائے اور نہ وہ شخص جائے جس نے حاملہ بکریاں اور اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے جہاد کیا اور عصر کے وقت یا اس کے قریب ایک دیہات میں پہنچے اور سورج سے فرمایا تو بھی حکم(خدا وندی)کا پابند ہے اور میں بھی مامور ہوں یااللہ!اس کو میرے لئے کچھ دیر روک دے چنانچہ وہ ان پر روک دیا گیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطاء فرمائی۔آپ نے فرمایا پھر ان لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا اور اسے کھانے کے لئے آگ آئی لیکن اس نے اسے نہ کھایا اس نبی نے فرمایا تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے پس ہر قبیلے کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے انہوں نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ میرے ہاتھ سے چمٹ گیا انہوں نے فرمایا خیانت کرنے والا تمہارے قبیلے میں ہے لہٰذا تمام قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے چنانچہ اس(قبیلے)نے بیعت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا اس بہانے فرمایا تم لوگوں میں خائن ہے اور تم نے خیانت کی ہے بالآخر وہ گاے کے سر کے برابر سونا لاے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو مال غنیمت میں اونچی جگہ رکھ دو اس کے بعدآگ نے آکر اسے کھا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔اور جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْلِيلِ الْغَنَائِمِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ خَاصَّةً؛ترجمہ؛مال غنیمت حلال ہونے کے ساتھ اس امت کی فضیلت؛جلد٣ص١٣٦٦؛حدیث نمبر ٤٤٤٥)
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میرے والد نے خمس میں سے ایک تلوار نکالی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں آپ نے انکار فرما دیا اس موقعہ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] ترجمہ..."لوگ آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے انفال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛ترجمہ؛غنیمت کا بیان؛جلد٣ص١٣٦٧؛حدیث نمبر ٤٤٤٦)
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں میرے حق میں چار آیات نازل ہوئیں میں نےایک تلوار پائی تو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا اور عرض کیا یارسول اللہ!یہ تلوار. مجھے عطاء فرمادیں آپ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر جب میں کھڑا ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے اٹھائی ہے انہوں نے پھر کھڑے ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرمادیں آپ نے فرمایا اسے رکھ دو انہوں نے پھر کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار مجھے دے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں ان لوگوں کی طرح کردیا جاؤں جن کا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جہاں سے اٹھائی ہے وہیں رکھ دیں فرماتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٧؛حدیث نمبر ٤٤٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ(چھوٹا لشکر)نجد کی طرف بھیجا اور میں بھی اس میں تھا ان لوگوں کو وہاں سے بہت زیادہ اونٹ بطور غنیمت حاصل ہوے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آے اور ایک ایک اونٹ زائد ملا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک چھوٹا لشکر بھیجا اور وہ(ابن عمر رضی اللہ عنہ)بھی ان میں تھے ان لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ اور اس کے علاوہ بھی ایک ایک اونٹ ملا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٤٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا میں بھی ان لوگوں میں گیا پس ہمیں اونٹ اور بکریاں حاصل ہوئیں تو ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٥٠)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٥١)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو مزید تین سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٢)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے ہمارے حصے کے علاوہ بھی عطاء فرمایا اور مجھے ایک شارف ملا، شارف بڑے اونٹ کو کہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ(چھوٹے لشکر)کو مال غنیمت عطا فرمایا۔باقی حدیث ابن رجاء کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٤)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے بعض مجاہدین کو مال غنیمت میں سے ان کے حصے کے علاوہ بھی عطاء فرماتے تھے اور خمس(پانچواں حصہ)پورے لشکر کے لئے واجب تھا۔ (اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران بعض فوجیوں کو ان کی خصوصی انعامات سے نواز سکتا ہے جب کہ دوسروں کے حق سے نہ دے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٥)
حضرت ابومحمد انصاری جو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے فرماتے ہیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب استخفاف القاتل سلب القتیل؛ ترجمہ؛مقتول کے سلب کئے ہوئے مال پر قاتل کا حق ہے؛جلد٣ص١٣٧٠؛حدیث نمبر ٤٤٥٦)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب استخفاف القاتل سلب القتیل؛جلد٣ص١٣٧٠؛حدیث نمبر ٤٤٥٧)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے جب مقابلہ ہوا تو مسلمانوں نے ایک بار بھاگنے کے بعد دوبارہ حملہ کیا میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر چھایا ہوا ہے میں گھوم کر اس کی طرف گیا اور اس کے پیچھے کی طرف سے آکر اس کے شانے پر تلوار مارا وہ میری طرف مڑا اور مجھے پکڑ کر اس طرح دبوچا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا ہے میں نے کہا اللہ کا حکم،پھر لوگ واپس آے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو قتل کیا اور اس پر گواہ ہو تو اس کا چھینا ہوا مال اسی کا ہوگا وہ فرماتے ہیں میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا میرا گواہ کون ہوگا پھر میں بیٹھ گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات فرمائی میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا میرا گواہ کون ہوگا؟پھر میں بیٹھ گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار وہی بات فرمائی تو میں کھڑا ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوقتادہ تمہیں کیا ہوا میں نے تمام واقعہ بیان کردیا تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا یارسول اللہ!اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے انہوں نے سچ کہا ہے۔آپ ان کو ان کے حق کے حوالے سے راضی کردیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم!ہر گز نہیں اللہ کا ایک شیر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑے اور چھینا ہوا مال تمہیں دے دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا تو اس کا سامان اس کے حوالے کردے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چنانچہ اس نے وہ سامان مجھے دے دیا فرماتے میں نے وہ زرہ فروخت کی اور اس کے بدلے میں بنو سلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا یہ سب سے پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔ حضرت لیث کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں ایسا نہیں ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی ایک لومڑی کو مال دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں اور لیث کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ پہلا مال تھا جسے میں نے حاصل کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧١؛حدیث نمبر ٤٤٥٨)
حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں انصار کے دو نوجوانوں کو دیکھا میرے دل میں خیال آیا کاش میں دو طاقتور آدمیوں کے درمیان میں ہوتا اتنے میں ان میں سے ایک لڑکے نے مجھے اشارہ کرکے کہا اے چچا!کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟میں نے کہا ہاں پہچانتا ہوں اے بھتیجے!تجھے اس سے کیا کام ہے اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت اس سے جدا نہیں ہوں گا جب تک ہم میں سے وہ مر نہ جاے جس کی موت پہلے لکھی ہوئی ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس سے تعجب ہوا تو دوسرے نے اسی طرح اشارہ کر کے وہی بات کہی۔فرماتے ہیں زیادہ دیر نہ گزری کہ ابوجہل پر میری نظر پڑگئی جو لوگوں کے درمیان گشت کر رہا تھا میں نے کہا دیکھتے ہو یہ شخص تمہارا مطلوب ہے جس کے بارے میں تم پوچھتے ہو۔فرماتے ہیں وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے اور اسے اپنی تلواروں سے مارا حتیٰ کہ اسے قتل کردیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آے اور آپ کو اس بات کی خبر دی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنے تلواروں سے خون پونچھ لیا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے اور اس کے چھینے ہوئے کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں کیا اور وہ دونوں نوجوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٢؛حدیث نمبر ٤٤٥٩)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حمیر قبیلے کے ایک شخص نے دشمنوں کے ایک شخص کو قتل کر دیا اور اس کے سلب(چھینے ہوے مال) کو لینے کا ارادہ کیا لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور وہ اس لشکر کے امیر تھے۔حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا تو آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے سلب دینے میں کیا رکاوٹ پیش آئی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس سلب کو بہت زیادہ سمجھا فرمایا یہ سلب اسے دے دو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ،حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے حضرت خالد کی چادر کھینچی اور فرمایا کیا میں نے تم سے جو کچھ کیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا نہیں کرایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو آپ ناراض ہوے اور فرمایا اے خالد مت دو،اے خالد!اسے مت دو کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں کی اطاعت چھوڑنے والے ہو؟بےشک تمہاری اور ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ یا بکریاں خریدتا ہے اور ان کو چراتا ہے پھر ان کو پانی پلانے کا وقت آتا ہے تو ان کا ایک حوض پر لے جاتا ہے وہ صاف صاف پانی پی لیتی ہیں اور تلچھٹ(گدلا پن)چھوڑ دیتی ہیں تو کیا صاف چیزیں تمہارے لئے ہیں اور تلچھٹ امیروں کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٣؛حدیث نمبر ٤٤٦٠)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ موتہ کے موقعہ پر ان لوگوں کے ساتھ نکلا جو حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے اور یمن سے بھی مجھے مدد پہنچی۔اس کے بعد حسب سابق حدیث بیان کی البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ بات بیان کی کہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا کیا تمہیں علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں(مجھے معلوم ہے)لیکن میں اسے زیادہ خیال کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٤؛حدیث نمبر ٤٤٦١)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قبیلہ ہوازن کے خلاف جہاد کے لیے گئے صبح کے وقت ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ کر رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر(سوار)ایک شخص آیا اس نے اس(اونٹ)کو بٹھایا پھر اپنی کمر سے ایک تسمہ نکال کر اس اونٹ کو باندھا پھر آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ہم کچھ لوگ کمزور تھے کچھ سواریوں سے خالی تھے اور کچھ پیدل تھے اتنے میں وہ تیزی سے دوڑا اور اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کا تسمہ کھولا اور اسے بیٹھا کر اس پر سوار ہوگیا اس نے اونٹ کو دوڑایا تو وہ دوڑ پڑا۔ایک شخص نے خاکی رنگ کے اونٹ پر اس کا تعاقب کیا حضرت سلمہ فرماتے ہیں میں بھی اس کے پیچھے دوڑتا ہوا بھاگا پہلے میں اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس تھا پھر میں آگے بڑھ گیا حتیٰ کہ میں نے اونٹ کی لگام پکڑ لی میں نے اس اونٹ کو بٹھایا جب اس نے اپنا گھٹنہ زمین پر رکھا تو میں نے اس آدمی کے سر پر تلوار سے ایک اور وار کیا وہ آدمی گر پڑا تو میں اس کے اونٹ کو کجاوے اور باقی سامان کے ساتھ لے آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مجھے سامنے سے آتے ہوئے ملے آپ نے پوچھا اس شخص کو کس نے قتل کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے قتل کیا آپ نے فرمایا اس کا تمام سلب(چھینا ہوا سامان)ابن اکوع کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٤؛حدیث نمبر ٤٤٦٢)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے قبیلہ فزارہ سے جہاد کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اوپر امیر مقرر کیا تھا جب ہمارے اور پانی(چشمے)کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم رات کے پچھلے حصے میں اترے پھر ہر طرف سے حملے کا حکم دیا اور(ان لوگوں کے) پانی پر پہنچے اور وہاں ان لوگوں کو قتل کیا جن کو قتل کرنا تھا اور(کچھ کو)قیدی بنایا۔ میں کفار کے ایک گروہ کو دیکھ رہا تھا جس میں کفار بچے اور عورتیں تھیں مجھے ڈر ہوا کہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا جب انہوں نے تیر دیکھا تو رک گئے اور میں ان سب کو گھیر کر آیا ان میں بنوفزارہ(قبیلہ)کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کی کھال اوڑھ رکھی تھی اور اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین دو شیزہ تھی میں نے ان کو آگے لگایا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور میں نے اس لڑکی کا کپڑا اٹھایا بھی نہ تھا کہ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی۔آپ نے فرمایا اے سلمہ!وہ لڑکی مجھے ہبہ کردو میں نے کہا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند ہے اور میں نے ابھی تک اس کا لباس نہیں اتارا پھر دوسرے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بازار میں ملے اور مجھ سے فرمایا اے سلمہ وہ لڑکی مجھے دے دو تمہارا باپ بہت اچھا تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ آپ کی ہے اللہ کی قسم!میں نے اس کا لباس نہیں اتارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی مکہ مکرمہ میں بھیج دی اور اس کے بدلے میں کئی مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا جو مکہ مکرمہ میں قید ہو گئے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ التَّنْفِيلِ، وَفِدَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِالْأَسَارَى؛جلد٣ص١٣٧٥؛حدیث نمبر ٤٤٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جس کسی بستی میں جاؤ اور وہاں ٹھہرو تو تمہارا حصہ اس بستی میں ہوگا اور جو بستی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور باقی تمہارا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٦؛حدیث نمبر ٤٤٦٤)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بنونضیر کے مال ان اموال میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر لوٹا دئے تھے مسلمانوں نے ان کے حصول کے لئے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ،یہ اموال خاص طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں تھے پس آپ ان أموال میں سے اپنے اہل کے لئے ایک سال کا نفقہ نکالتے اور جو باقی بچتا تھا اسے جہاد کی سواریوں اور ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٦؛حدیث نمبر ٤٤٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٤٦٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٧؛حدیث نمبر ٤٤٦٦)
حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں اس وقت حاضر ہوا جب سورج بلند ہوگیا تھا میں نے دیکھا کہ آپ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کا تکیہ لگائے بیٹھے ہیں(فرمایا کہ اے مالک) تیری قوم کے کچھ آدمی جلدی جلدی میں آئے تھے میں نے ان کو کچھ سامان دینے کا حکم کردیا ہے اب تم وہ مال لے کر ان کے درمیان تقسیم کردو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین!آپ میرے علاوہ کسی اور کو اس کام پر مقرر فرما دیں آپ نے فرمایا اے مالک تم ہی لے لو اسی دوران(آپ کا غلام) یرفاء اندر آیا اور اس نے عرض کیا اے امیر المومنین!حضرت عثمان،حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ علیھم اجمعین حاضر خدمت ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کے لئے اجازت ہے وہ اندر تشریف لائے پھر وہ غلام آیا اور عرض کیا کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما تشریف لائے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا انہیں بھی اجازت دے دو حضرت عباس کہنے لگے اے امیر المومنین میرے اور اس جھوٹے گناہ گار دھوکے باز خائن کے درمیان فیصلہ کر دیجئے لوگوں نے کہا ہاں اے امیر المومنین ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کو ان سے راحت دلائیں۔ حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات یعنی حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان حضرات کو اسی لئے پہلے بھیجا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم (پیغمبروں) کے مال میں سے ان کے وارثوں کو کچھ نہیں ملتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے سب کہنے لگے کہ جی ہاں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ،حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں تم دونوں کو قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خاص کی تھی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی سے نہیں کی ارشاد خداوندی ہے"{مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} [الحشر: ٧] " اللہ تعالیٰ نے بستیوں والوں کے اموال سے جو کچھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹا دیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہے"۔(یہ مال فئے ہے) راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے کی آیت بھی انہوں نے پڑھی ہے یا نہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کے درمیان بنی نضیر کا مال تقسیم کردیا ہے اور اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو تم سے زیادہ نہیں سمجھا اور ایسے بھی نہیں کیا کہ وہ مال خود لے لیا ہو اور تم کو نہ دیا ہو یہاں تک کہ یہ مال باقی رہ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنے ایک سال کا خرچ نکال لیتے پھر جو باقی بچ جاتا وہ بیت المال میں جمع ہوجاتا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم کو یہ معلوم ہے انہوں نے کہا جی ہاں پھر اسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو قسم دی انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا لوگوں نے کہا کیا تم دونوں کو اس کا علم ہے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا والی ہوں اور تم دونوں اپنی وراثت لینے آئے ہو حضرت عباس رضی اللہ عنہ تو اپنے بھتیجے کا حصہ اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کا حصہ ان کے باپ کے مال سے مانگتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور تم ان کو جھوٹا،گناہ گار،دھوکے باز اور خائن سمجھتے ہو؟اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے نیک اور ہدایت یافتہ تھے اور حق کے تابع تھے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا گیا اور تم نے مجھے بھی جھوٹا،گناہ گار، دھوکے باز اور خائن خیال کیا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا،نیک،ہدایت یافتہ ہوں اور میں اس مال کا بھی والی ہوں اور پھر تم میرے پاس آئے تم بھی ایک ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے کہ اس مال میں تم وہی کچھ کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور تم نے یہ مال اسی شرط سے مجھ سے لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے ان دونوں حضرات نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم دونوں اپنے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے میرے پاس آئے ہو اللہ کی قسم میں قیامت تک اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا اگر تم سے اس کا انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر یہ مال مجھے لوٹا دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٨؛حدیث نمبر ٤٤٦٧)
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اس کے بعد حضرت مالک کی روایت کی طرح ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال میں سے ایک سال کا خرچ نکالتے تھے۔ حضرت معمر کی روایت میں ہے کہ اپنے اہل کے لئے ایک سال کا خرچ روک لیتے تھے اور باقی کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٩؛حدیث نمبر ٤٤٦٨)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»؛جلد٣ص١٣٧٩؛حدیث نمبر ٤٤٦٩)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ اور فدک کے فئی اور خیبر کے خمس سے حصہ میں ملا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا اس صورت سے جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی اور میں اس میں وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کوئی بھی چیز حضرت فاطمہ کو دینے سے انکار کردیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قطع تعلق کرلیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہوگئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی دفن کردیا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے پڑھایا اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہوگئیں تو علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آنے کا ناپسند کرنے کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر سے کہا اللہ کی قسم آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر ان کے پاس تشریف لے گئے تو علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر کہا اے ابوبکر تحقیق کہ ہم آپ کی فضیلت پہچان چکے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ہم اسے جانتے ہیں اور جو بھلائی آپ کو عطا کی گئی ہے ہم اس کی رغبت نہیں کرتے اللہ نے آپ ہی کے سپرد کی ہے لیکن آپ نے خود ہی(ہمارے مشورے کے بغیر)یہ خلافت حاصل کرلی اور ہم اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کی وجہ سے(خلافت)کا حق سمجھتے تھے پس اسی طرح وہ حضرت علی حضرت ابوبکر سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئےجب حضرت علی حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے بہرحال ان اموال کا معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان واقعہ ہوا ہے اس میں بھی میں نے کسی کے حق کو ترک نہیں کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس معاملہ میں جس طرح کرتے دیکھا میں نے بھی اس معاملہ کو اسی طرح سر انجام دیا حضرت علی نے حضرت ابوبکر سے کہا آج سہ پہر کے وقت آپ سے بیعت کرنے کا وقت ہے حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز ادا کی منبر پر چڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے معاملہ اور بیعت سے رہ جانے کا قصہ اور وہ عذر بیان کیا جو حضرت علی نے ان کے سامنے پیش کیا پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے استغفار کیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت کا اقرار کیا اور بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر شک تھا اور نہ اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے بلکہ ہم اس امر(خلافت) میں اپنا حصہ خیال کرتے تھے اور ہمارے مشورہ کے بغیر ہی حکومت بنا لی گئی جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رنج پہنچا مسلمان یہ سن کر خوش ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست کیا ہے اور مسلمان پھر حضرت علی کے قریب ہونے لگے جب انہوں نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»؛جلد٣ص١٣٨٠؛حدیث نمبر ٤٤٧٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما(دونوں)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے گئے اور وہ اس وقت فدک اور خیبر کے حصے سے مطالبہ کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٧٠کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی ان کی فضیلت اور(دین میں)ان کی سبقت کا ذکر کیا پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کی بیعت کی تو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے اور کہا آپ نے درست اور اچھا کام کیا ہے۔چنانچہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ معروف طریقے سے قریب ہوے تو لوگ آپ کے قریب ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨١؛حدیث نمبر ٤٤٧١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مال اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال چھوڑا ہے اس میں سے ان کا حق وراثت ان کو دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنے حصے کا سوال کرتی رہیں جو آپ کو فدک،خیبر اور مدینہ کے صدقات سے حاصل تھا۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کو جہاں جہاں خرچ کرتے تھے میں آپ کے اس طریقے کو چھوڑ نہیں سکتا مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس طریقے پر عمل ترک کردیا تو بھٹک جاؤں گا۔ مدینہ طیبہ کے صدقات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی تولیت میں دئے جبکہ خیبر اور فدک کو انہوں نے روک لیا اور فرمایا یہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حقوق اور ریاست کے امور میں خرچ کرتے تھے لہٰذا ان کا معاملہ اس شخص کے سپرد ہوگا جو مسلمان کا خلیفہ ہوگا چنانچہ آج تک یہی معمول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨١؛حدیث نمبر ٤٤٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے وارث ترکہ میں سے ایک دینار بھی خرچ نہیں کر سکتے میری ازواج اور میرے عامل کے خرچ کے بعد جو کچھ بچے گا وہ صدقہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٢؛حدیث نمبر ٤٤٧٣)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٤٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے گھوڑے کو دو حصے اور آدمی کو ایک حصہ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب کیفیۃ قسمۃالغنیمۃ بین الحاضرین؛ترجمہ؛ مجاہدین میں مال غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٦)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں مال غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب کیفیۃ قسمۃالغنیمۃ بین الحاضرین؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین سو انیس تھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے بآواز بلند دعا مانگنا شروع کردی اے اللہ! میرے لئے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو پورا فرما, اے اللہ!اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما اے اللہ!اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کئے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ سے گر پڑی پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہوچکی عنقریب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "(اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰئِكَةِ مُرْدِفِيْنَ )(۔الانفال:9) " (ترجمہ)جب تم اپنے رب سے دعا کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار لگاتار فرشتوں سے کروں گا" پس اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں کے ذریعہ امداد فرمائی حضرت ابوزمیل نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس دن بیان کی جب مسلمانوں میں ایک آدمی مشرکین میں سے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی ضرب لگنے کی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ کوئی گھوڑ سوار یہ کہہ رہا ہے،اے حیزوم!آگے بڑھ پس اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چت گرا پڑا ہے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو اس کا ناک زخم زدہ تھا اور اس کا چہر پھٹ چکا تھا،کوڑے کی ضرب کی طرح اور اس کا پورا جسم نیلا ہوچکا تھا۔پس اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی پس اس دن ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے ابوزمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا جب قیدیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ وصول کرلیں اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے؟میں نے عرض کیا نہیں!اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں عقیل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں،وہ اس کی گردن اڑائیں اور فلاں آدمی میرے سپرد کردیں۔اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا تاکہ میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے جب آئندہ روز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ)"کسی نبی کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کفار کا خون زمین پر بہانے سے پہلے ان کو قیدی بناے۔پس تمہیں جو غنیمت ملی ہے اسے کھاؤ اس حال میں کہ وہ حلال پاکیزہ ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب الامداد باالملائکۃ فی غزوۃ بدر،واباحۃالغنائم؛غزوہ بدر میں فرشتوں کی امداد اور غنیمتوں کے مباح ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٣٨٣ تا ١٣٨٥؛حدیث نمبر ٤٤٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو لائے جسے ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کا سردار کہا جاتا تھا صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے؟اس نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خیر ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال کا ارادہ فرماتے ہیں تو سوال کیجئے آپ جو مال چاہیں گے آپ کو مل جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کرچکا ہوں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ ناپسند ہو پس اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور قسم بخدا!مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسند کوئی دین نہیں تھا لیکن اب آپ کا دین میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ دین ہےاور اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مشورہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم نے دین بدل لیا ہے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت نہ فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب ربط الاسیر وحبسہ وجواز المن علیہ؛ ترجمہ؛قیدیوں کو گرفتار کرنا اور احسان کے طور پر رہا کرنا؛جلد٣ص١٣٨٦؛حدیث نمبر ٤٤٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نجد کی طرف کچھ گھوڑ سواروں کو بھیجا تو وہ ایک شخص کو لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال حنفی تھا اور وہ اہل یمامہ کا سردار تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٧٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک معزز شخص کو قتل کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب ربط الاسیر وحبسہ وجواز المن علیہ؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو پس ہم آپ کے ساتھ چلے اور یہودیوں کے پاس پہنچ گئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان سے بہ آواز بلند فرمایا اے یہودیوں!اسلام قبول کرو سلامتی میں رہو گے انہوں نے کہا اے ابوالقاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)آپ نے تبلیغ کردی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی ارادہ تھا تم اسلام قبول کرو سلامت رہو گے انہوں نے کہا آپ نے تبلیغ کردی آپ نے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں اسلام قبول کرو سلامت رہو گے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار یہی بات فرمائی اور فرمایا جان لو!بےشک زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے میں تمہیں اس سرزمین سے نکالنا چاہتا ہوں پس تم میں سے جو شخص اپنا مال بیچنا چاہے وہ بیچ دے ورنہ جان لو کہ بےشک زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛یہودیوں کو سرزمین حجاز سے نکال دینے کا بیان؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو آپ نے بنو نضیر کو جلاوطن کر دیا اور بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان فرمایا،حتیٰ کہ اس کے بعد بنوقریظہ نے جنگ کی تو آپ نے ان کے مردوں کو قتل کر دیا اور ان کی عورتوں،بچوں اور مالوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا البتہ ان میں سے بعض یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے اور آپ نے ان کو امن دیا چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کردیا ان میں سے بنو قینقاع جو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی نیز بنو حارثہ اور باقی تمام یہود مدینہ کو بھی جلا وطن کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٤٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں جزیرہ عرب سے یہود و نصارٰی کو نکال دوں گا اور وہاں مسلمانوں کے سوا کسی کو رہنے نہیں دوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٥)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنوقریظہ،حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر قلعے سے نکل آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا تو وہ دراز گوش پر آے جب مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا اپنے افضل کی طرف کھڑے ہو جاؤ پھر فرمایا یہ لوگ تمہارے فیصلے پر قلعے سے نکلے ہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ان میں سے جو لڑائی کے قابل ہیں ان کو قتل کر دیجئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنالیں۔ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے کبھی فرمایا تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ابن مثنی کی روایت میں یہ آخری جملہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛ترجمہ؛عہد شکن کرنے والوں کو قتل کرنا اور کسی عادل شخص کے فیصلہ پر اہل قلعہ کو نکالنے کی اجازت؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٦)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک سند کے ساتھ بھی ذکر کیا ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ جنگ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قریش کے ایک شخص نے تیر مارا اور اس شخص کا نام ابن العرقہ تھا۔یہ تیر آپ کے بازو کی ایک رگ میں لگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں خیمہ لگوادیا اور آپ وہیں قریب سے ان کی عیادت کرتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے تو ہتھیار اتار کر غسل فرمایا اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔انہوں نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دئے ہیں اللہ کی قسم ہم نے ہتھیار نہیں اتارے ان لوگوں کی طرف روانہ ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہاں؟انہوں نے بنوں قریظہ کی طرف اشارہ کیا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی اور وہ آپ کے فیصلہ پر قلعے سے نکل آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے ان کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کردیا جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٨)
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے)فرمایا کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھرنے کے قریب تھا تو انہوں نے یہ دعا کی۔اے اللہ!تو جانتا ہے کہ مجھے اس بات سے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں ان لوگوں کے خلاف جہاد کروں جنہوں نے تیرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور(شہر سے)نکالا۔ یا اللہ!اگر قریش کے خلاف جنگ میں سے کچھ باقی ہے تو مجھے ابھی زندہ رکھ تاکہ میں ان کے خلاف جہاد کرسکوں،کیونکہ میرا گمان یہ ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے اور اگر تو نے جنگ ختم کردی ہے تو میرے زخم کو جاری کردے اور اس میں میری موت واقع کردے پس وہ زخم ہنسلی کےمقام سے بہنے لگا اور وہ ان کے پاس جلدی جلدی آے اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا وہ خون ان کی طرف بہ رہا تھا انہوں نے کہا اے خیمہ والو!تمہاری طرف سے ہمارے پاس کیا چیز آرہی ہے انہوں نے دیکھا تو حضرت سعد کا زخم بہ رہا تھا پس اسی میں فوت ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٩٠؛حدیث نمبر ٤٤٩٠)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اسی رات سے زخم جاری ہوگیا اور مسلسل خون جاری رہا حتیٰ کہ آپ فوت ہوگئے ایک حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شاعر نے کہا۔(ترجمہ) اے سعد!بنو معاذ کے سعد!قریظہ اور بنو نضیر نے کیا کیا جس صبح سعد بن معاذ نے مصائب برداشت کئے وہ بڑے صبر والی(صبح)ہے تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی جب کہ قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے نیک شخص ابو حباب نے کہا اے قینقاع!ٹھہرو اور مت جاؤ حالانکہ وہ اپنے شہر میں وزن والے تھے جیسا کہ میطان پہاڑی کے پتھر وزنی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٩١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوہ احزاب سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آواز دی کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی شخص نماز نہ پڑھے بعض صحابہ کرام نے وقت نکل جانے کے خوف سے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی جبکہ دوسرے حضرات نے کہا ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں(نماز پڑھنے)کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ ہم سے وقت فوت ہوجائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی گروہ کو ملامت نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْمُبَادَرَةِ بِالْغَزْوِ، وَتَقْدِيمِ أَهَمِّ الْأَمْرَيْنِ الْمُتَعَارِضَيْنِ؛جلد٣ص١٣٩١؛حدیث نمبر ٤٤٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب مہاجرین مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ آے تو ان کے ہاتھ خالی تھے اور انصار زمینوں اور کھیتوں کے مالک تھے چنانچہ انصار نے مہاجرین کو اس شرط پر زمینیں دیں کہ وہ ہر سال پیداوار کا نصف انصار کو دیں گے اور انصار کی جگہ زمینوں پر کام کریں گے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ جن کو ام سلیم کہا جاتا تھا اور وہ حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ کی بھی والدہ تھیں ابو طلحہ ماں کی طرف سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کا ایک درخت دیا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت اپنی آزاد کردہ لونڈی ام ایمن کو دے دیا جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ابن شہاب زہری فرماتے ہیں مجھے حضرت انس بن مالک نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر والوں کی لڑائی سے فارغ ہوئے اور مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے عطیات واپس کردیئے جو انہوں نے اپنے پھلوں سے ان کو دئے تھے۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھجور کا درخت میری ماں کو واپس کردیا اور ام ایمن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باغ سے ایک درخت دے دیا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں حضرت ام ایمن جو حضرت اسامہ بن زید کی والدہ تھیں حضرت عبد المطلب کی لونڈی تھیں اور وہ حبشہ کی رہنے والی تھیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہوے تو آپ نے ان کو آزاد کرکے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا حضرت ام ایمن،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پانچ ماہ بعد فوت ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ رَدِّ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ حِينَ اسْتَغْنَوْا عَنْهَا بِالْفُتُوحِ؛جلد٣ص١٣٩١؛حدیث نمبر ٤٤٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی زمین کے(کھجور کے)درخت پیش کرتے تھے حتیٰ کہ جب قریظہ اور نضیر فتح ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دئے ہوئے درخت واپس کردئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر آپ سے یہ سوال کرو کہ ہمارے گھر والوں نے آپ کو جو درخت دئے تھے وہ سب یا بعض واپس کردیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخت حضرت ام ایمن کو دئے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا تو آپ نے وہ وہ درخت مجھے دے دئے حضرت ام ایمن آئیں اور انہوں نے اپنا کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہا کہ اللہ کی قسم!حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ درخت تمہیں نہیں دیں گے وہ مجھے دے چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام ایمن!وہ درخت چھوڑ دو تمہیں اتنے درخت مل جائیں گے وہ کہنے لگیں ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں آپ فرمانے لگے میں تمہیں اس قدر دوں گا حتیٰ کہ آپ نے ان کو دس گنا یا دس گنا کے قریب زیادہ درخت عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ رَدِّ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ حِينَ اسْتَغْنَوْا عَنْهَا بِالْفُتُوحِ؛جلد٣ص١٣٩٢؛حدیث نمبر ٤٤٩٤)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیبر کے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے رکھ لیا اور کہا کہ یہ تھیلی میں آج کسی کو نہیں دوں گا میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے مسکرا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛ترجمہ؛دارالحرب میں مال غنیمت کے طعام سے کھانے کا جواز؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٥)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کسی نے ہماری طرف ایک تھیلی پھینکی جس میں طعام اور چربی تھی میں اس کو اٹھانے کے لئے دوڑا مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے تو مجھے آپ سے شرم آئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں تھیلی کے اندر چربی کا ذکر اور کھانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسے روبرو خبر دی کہ میں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مدت معاہدہ کے دوران شام کی طرف چلا ہم شام میں قیام پذیر تھے کہ اسی دوران شام کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لایا گیا جسے حضرت دحیہ کلبی لائے تھے پس انہوں نے یہ بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا اور بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو پیش کیا تو ہرقل نے کہا کیا یہاں کوئی آدمی اس کی قوم کا آیا ہوا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی ہے لوگوں نے کہا جی ہاں چناچہ مجھے قریش کے چند آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا پھر کہا تم میں کون نسب کے اعتبار سے اس آدمی کے قریب ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ابوسفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں ہوں تو اس نے مجھے اپنے سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اپنے ترجمان کو بلایا پھر اس سے کہا ان سے کہو میں اس آدمی کے بارے میں پوچھنے والا ہوں جس کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کرنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ اس کا خاندان تم میں کیسا ہے؟میں نے کہا وہ ہم میں نہایت شریف النسب ہے۔اس نے کہا کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا کیا تم اسے اس بات کا دعوی کرنے سے پہلے جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا اس کی اتباع کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں یا کمزور و غریب؟میں نے کہا بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں۔اس نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا:نہیں بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔اس نے کہا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد ناراض ہوکر اس دین سے پھرا ہے؟میں نے کہا نہیں اس نے کہا کیا۔ تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی؟میں نے کہا جی ہاں ہرقل نے کہا اس سے تمہاری جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟میں نے کہا جنگ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ڈول کی طرح ہے کبھی وہ ہم سے چھین لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے چھین لیتے ہیں اس نے کہا کیا وہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے؟میں نے کہا نہیں اور ہم اس سے ایک معاہدہ میں ہیں ہم نہیں جانتے وہ اس بارے میں کیا کرنے والے ہیں۔ ابوسفیان کہنے لگے اللہ کی قسم اس نے مجھے اس ایک کلمہ کے سوا کوئی بات اپنی طرف سے شامل کرنے کی گنجائش ہی نہیں دی ہرقل نے کہا کیا اس سے پہلے بھی کسی نے یہ دعویٰ کیا تھا؟میں نے کہا نہیں اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے کہو میں نے تجھ سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا اور تیرا گمان ہے کہ وہ تم میں سے اچھے خاندان والا ہے اور رسولوں کو اسی طرح اپنی قوم کے اچھے خاندانوں سے بھیجا جاتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے اور تیرا خیال ہے کہ نہیں تو میں نے سوچا کہ اگر ان کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ گمان ہوسکتا تھا کہ وہ اپنے آباء کی حکومت حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ اور میں نے تجھ سے اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں پوچھا کیا وہ ضعیف طبقہ کے لوگ ہیں یا بڑے آدمی ہیں تو نے کہا بلکہ وہ کمزور ہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم اسے اس دعوی سے قبل جھوٹ کی تہمت لگائی ہے اور تو نے کہا نہیں تو میں نے پہچان لیا جو لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کیسے کرسکتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا ان لوگوں میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد ان سے ناراضگی کی وجہ سے پھرا ہے تو نے کہا نہیں اور اسی طرح ایمان کی حلاوت ہوتی ہے جب دل اس سے لطف اندوز ہوجائیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں تو حقیقت میں ایمان کے درجہ تکمیل تک پہنچنے میں یہی کیفیت ہوتی ہے میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی اور تو نے کہا ہم اس سے جنگ کرچکے ہیں اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے کبھی وہ تم پر غالب اور کبھی تم اس پر غالب رہے۔ رسولوں کا معاملہ اسی طرح رہا ہے وہ آزماے جاتے ہیں پھر آخر فتح انہی کی ہوتی ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس نے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کی؟تو نے کہا:نہیں اور رسل (علیہم السلام) اسی طرح عہد شکنی نہیں کرتے۔ میں نے تجھ سے پوچھا کیا یہ دعوی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تو تم نے کہا نہیں تو میں کہتا ہوں اگر یہ دعوی اس سے پہلے کیا جاتا تو کہتا یہ ایسا آدمی ہے جو اپنے سے پہلے کئے گئے دعوی کی تکمیل کر رہا ہے ابوسفیان نے کہا پھر ہرقل نے کہا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں میں نے کہا وہ ہم رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ واقعتا نبی ہے اور مجھے علم تھا کہ وہ تشریف لائیں گے لیکن میرا خیال نہیں تھا کہ وہ تم لوگوں میں سے ہوں گے اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں مبارک دھوتا اور ان کی حکومت یہاں تک ضرور پہنچے گی۔ راوی فرماتے ہیں پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک منگوا کر پڑھا تو اس میں یہ تھا۔ "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"یہ (مکتوب)اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بادشاہ روم ہرقل کی طرف۔اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا۔اما بعد!میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اور اسلام قبول کرلے اللہ تجھے دوہرا ثواب عطا کرے گا اور اگر تم نے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا اور اے اہل کتاب!آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر (مطفق)ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں گے اور نہ ہمارے بعض دوسرے بعض کو اللہ کے سوا رب بنائیں گے۔ "پس اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں" جب خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے سامنے چیخ و پکار ہونے لگی اور بکثرت آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور اس نے ہمیں باہر لے جانے کا حکم دیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھیوں سے اس وقت کہا جب کہ ہمیں نکالا گیا کہ اب تو ابن ابی کبشہ(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کی بات بہت بڑھ گئی ہے کہ اس سے تو شاہ روم بھی خوف کرتا ہے اور اسی وقت سے مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہوں گے حتی کہ رب العزت نے اپنی رحمت سے مجھے اسلام میں داخل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ؛ترجمہ؛دعوت اسلام کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کے نام مکتوب؛جلد٣ص١٣٩٣تا ١٣٩٦؛حدیث نمبر ٤٤٩٨)
حضرت امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ فارس(ایران)کو شکست دینے کے بعد جب قیصر روم حمص سے ایلیاء(بیت المقدس)کی طرف روانہ ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے امتحان میں کامیابی عطاء کی اور اس حدیث میں الفاظ یوں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں نیز اریسیین کی جگہ یریسین کا لفظ ہے اسی طرح دعایۃ اسلام کی جگہ بداعیۃ الاسلام کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٧؛حدیث نمبر ٤٤٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر،کسریٰ،نجاشی اور ہر بادشاہ کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی اور یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛دعوت اسلام کے لئے غیر مسلم بادشاہوں کے نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے خطوط؛جلد٣ص١٣٩٧؛حدیث نمبر ٤٥٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٥٠٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ البتہ اس میں یہ نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٥٠٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ البتہ اس میں یہ نہیں ذکر ہے کہ یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠٢)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں اور سفیان بن حارث بن عبد المطلب،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ سے جدا نہیں ہوے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید خچر پر تھے جو آپ کی خدمت میں فردہ بن نفاثہ جذامی نے بطور ہدیہ پیش کی تھی جب مسلمان اور کفار کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر کو کفار کی طرف دوڑا رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی لگام تھام رکھی تھی اور اسے تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور حضرت ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑ رکھی تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عباس أصحاب سمرہ کو آواز دو حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو بلند آواز تھے فرماتے ہیں میں نے بآواز بلند کہا اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!یہ سن کر وہ اس طرح پلٹے جس طرح گاے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے اور انہوں نے لبیک لبیک کہا اور کفار سے لڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے انصار کی جماعت کو بلانا شروع کیا اور کہا اے انصار کی جماعت!اے انصار کی جماعت!پھر بنو حارث بن خزرج کو بلایا گیا اور انہوں نے کہا:اے بنو حارث بن خزرج!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن اٹھا کر جنگ کا منظر دیکھا اور اس وقت آپ خچر پر سوار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تنور گرم ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں لیکر کفار کے منہ پر ماریں اور فرمایا رب محمد کی قسم!یہ لوگ شکست کھا گئے حضرت عباس فرماتے ہیں میں دیکھ رہا تھا کہ لڑائی اسی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اسی طرح دیکھ رہا تھا کہ اچانک آپ نے کنکریاں پھینکیں تو اللہ کی قسم!میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛ترجمہ؛غزوہ حنین کا بیان؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠٣)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:رب کعبہ کی قسم!یہ ہار گئے رب کعبہ کی قسم!یہ ہار گئے اور اس حدیث میں اضافہ ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنی خچر دوڑارہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٣٩٩؛حدیث نمبر ٤٥٠٤)
حضرت کثیر بن عباس اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے البتہ یونس اور معمعر کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٠؛حدیث نمبر ٤٥٠٥)
حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا کیا غزوہ حنین کے دن تم لوگ بھاگ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا نہیں،اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ آپ کے اصاب میں سے چند جلد باز اور نہتے نوجوان آگے نکلے اور ان کا مقابلہ ہوازن اور بنو نضیر کے ایسے تیر اندازوں سے ہوا جن کا کوئی تیر خطأ نہیں جاتا تھا انہوں نے اس طرح دیکھ دیکھ کر تیر مارے کہ ان کا کوئی تیر خطأ نہ گیا پھر یہ نوجوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹے اور آپ اپنی سفید خچر پر تشریف فرما تھے اور حضرت ابوسفیان حارث بن عبد المطلب اس کے آگے آگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور یوں فرمایا: "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا (پوتا) ہوں،پھر آپ نے ان کی صف بندی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٠؛حدیث نمبر ٤٥٠٦)
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت براء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا اے ابو عمارہ!یکا یک تم لوگ غزوہ حنین کے موقع پر بھاگ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری لیکن چند جلدباز اور نہتے نوجوان اس قبیلے ہوازن کی طرف بڑھے اور وہ تیر انداز لوگ تھے انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھار کی جس طرح ٹڈی دل ہو تو یہ لوگ(نوجوان صحابہ کرام)ان کے سامنے سے ہٹ گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اس وقت ابوسفیان بن حارث آپ کی خچر کے آگے تھے آپ اترے دعا مانگی اور یہ فرمایا۔ "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا(پوتا)ہوں،یا اللہ!اپنی مدد فرما" حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!جب جنگ تیز ہوتی تو میں ہم آپ کی پناہ میں چلے جاتے اور ہم میں سے بہادر شخص وہ ہوتا جو جنگ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٧)
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں قبیلہ قیس کے ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا غزوہ حنین کے دن تم لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پیٹھ نہیں پھیری اور اس دن ہوازن(قبیلہ کے لوگ)تیر اندازی کر رہے تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے ہم پر تیر اندازی کی میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی سفید خچر پر تھے اور ابو سفیان بن حارث آگے آگے اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے۔ "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٨)
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عمارہ!اس کے بعد حسب سابق ہے اس روایت کے الفاظ کم ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں دوسری روایات کے الفاظ زیادہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٩)
حضرت ایاس بن سلمہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہم دشمن کے مقابل ہوے تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا دشمن کا ایک شخص میرے سامنے آیا تو میں نے اس پر تیر پھینکا وہ مجھ سے چھپ گیا مجھے پتہ نہ چل سکا کہ اس نے کیا کیا ہے۔میں نے قوم کی طرف دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور حضور کے صحابہ کا مقابلہ ہوا۔پس صحابہ کرام پشت پھیر کر گئے اور میں بھی شکست خوردہ واپس ہوا میرے اوپر دو چادریں تھیں ایک کو بطور تہبند باندھ رکھا تھا اور دوسری اوپر اوڑھی ہوئی تھی میری چادر کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شکست خوردہ گزرا اور آپ اپنی خچر شہباء پر تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن رکوع خوف زدہ ہوکر دیکھ رہا ہے جب دشمنوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تو آپ خچر سے نیچے اترے پھر آپ نے مٹی کی مٹھی لے کر ان کے چہروں پر ماری اور فرمایا ان کے چہرے قبیح ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر شخص کی آنکھوں کو اس مٹھی بھر مٹی سے بھر دیا اور وہ شکست خوردہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔اللہ تعالی نے ان کو شکست دی اور اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٢؛حدیث نمبر ٤٥١٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور وہاں سے کچھ حاصل نہ ہوا آپ نے فرمایا ان شاء اللہ ہم لوٹ جائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہم فتح کے بغیر لوٹ جائیں گے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل صبح ان سے جنگ کرنا صحابہ کرام نے صبح حملہ کیا اور وہ زخمی ہو گئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کل صبح ہم واپس جائیں گے اس پر وہ خوش ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ؛غزوہ طائف؛جلد٣ص١٤٠٢؛حدیث نمبر ٤٥١١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب ابوسفیان(کے قافلے کے آنے)کی خبر پہنچی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(صحابہ کرام سے)مشورہ کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوئی بات فرمائی تو آپ نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی مشورہ دیا تو آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں گے کہ سمندر میں گھوڑے دوڑائیں تو ہم ان کو دوڑادیں گے اور آپ برک الغماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم ایسا کریں گے تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور وہ چلے حتیٰ کہ بدر میں اترے وہاں قریش کے پانی پلانے والے ملے ان میں بنی حجاج کا ایک سیاہ فام غلام تھا پس انہوں نے اسے پکڑ لیا صحابہ کرام اس سے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے اس نے کہا مجھے ابوسفیان کا علم نہیں لیکن یہ ابو جہل،عتبہ،شیبہ اور امیہ بن خلف ہیں۔ جب اس نے یہ بات بتائی تو انہوں نے اسے پیٹنا شروع کردیا اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کے بارے میں بتاتا ہوں انہوں نے اسے چھوڑ کر ابو سفیان کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کا پتہ نہیں البتہ ابو جہل،عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں موجود ہیں جب اس نے یہ بات کہی تو انہوں نے دوبارہ مارنا شروع کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب اس نے سچ کہا تو تم اسے مارنے لگے اور جب اس نے جھوٹ بولا تم نے اسے چھوڑ دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں کافر کے گرنے کی جگہ ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر اس جگہ ہاتھ رکھتے جاتے تھے فرماتے ہیں پھر کوئی کافر اس جگہ سے متجاوز نہ ہوا جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ رکھا تھا۔(یعنی جس جگہ ہاتھ رکھا وہاں ہی گرا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ؛ترجمہ؛غزوہ بدر؛جلد٣ص١٤٠٤؛حدیث نمبر ٤٥١٢)
حضرت عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں۔پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ سے)چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اور دوسری جانب خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا۔وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ایک حصے میں تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس صرف انصاری آتے ہیں دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو۔پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا:ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو،تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی جماعت ختم ہو رہی ہے آج کے بعد کوئی قریش نہ ہوں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس(انصار)روتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونے میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونا چبھونا شروع کردیا اور فرماتے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد وثناء شروع کردی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛ترجمہ؛فتح مکہ ؛جلد٣ص١٤٠٥تا ١٤٠٦؛حدیث نمبر ٤٥١٣)
امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا ان کو کھیتی کی طرح کاٹ دو۔ ایک حدیث میں ہے صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ!ہم نے یہ بات کہی ہے آپ نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا،ہرگز نہیں،میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد٣ص١٤٠٧؛حدیث نمبر ٤٥١٤)
حضرت عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ ہمارا وفد حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھیوں کے لئے ایک دن کھانا تیار کرتا۔جب میری باری آئی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج میری باری ہے۔سب لوگ ہمارے ٹھکانے پر آے اور ابھی کھانا تیار نہیں ہوا تھا میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب تک کھانا تیار ہوتا ہے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں انہوں نے فرمایا ہم فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو میمنہ(دائیں)جانب پر حضرت زبیر کو میسرہ پر(بائیں جانب)اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادہ پر مقرر فرمایا اور وادی کے اندر روانہ کیا۔ پھر فرمایا اے ابوہریرہ!انصار کو میرے پاس بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آے آپ نے پوچھا اے گروہ انصار!کیا تم قریش کے اوباش(کمینے)لوگوں کو دیکھ رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا دیکھو!صبح جب مقابلہ ہو تو ان کو(کھیتی کی طرح)کاٹ کر رکھ دو اور آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر(قتل کا)اشارہ کیا اور فرمایا صفا پر ملاقات ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ان کو جو بھی دکھائی دیا اسے سلا دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر تشریف لے گئے انصار آے اور انہوں نے طواف کیا پھر حضرت ابوسفیان آے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!قریش کی جماعت ختم ہوگئی اور آج کے بعد کوئی قریش نہیں رہے گا ابوسفیان فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اسے امن ہے جو ہتھیار ڈال دے اسے بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کردے اسے بھی امن ہے۔ انصار نے کہا ان پر رشتہ داروں کے ساتھ نرمی اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے(اس وقت)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا تم لوگوں نے کہا ہے کہ اس شخص پر خاندان سے شفقت اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے آپ نے فرمایا تم جانتے ہو میرا نام کیا ہے آپ نے تین بار فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی بھی تمہاری زندگی(کے ساتھ)ہے اور میری موت بھی تمہاری موت(کے ساتھ)ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے تو یہ بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری تصدیق کرتے اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد٣ص١٤٠٧؛حدیث نمبر ٤٥١٥)
حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے آپ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی آپ اس کے ساتھ ان بتوں کو چھوتے اور فرماتے حق آگیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل مٹنے کے لئے ہے حق آگیا اور باطل نہ کسی چیز کو بناتا ہے اور نہ ہی لوٹاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِزَالَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ حَوْلِ الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٤٠٨؛حدیث نمبر ٤٥١٦)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی ذکر کیا ہے لیکن اس میں صرف"زھوقا" تک ہے اس کے بعد والی آیت نہیں اور "نصب" کی جگہ صنم کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِزَالَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ حَوْلِ الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٧)
حضرت عبد اللہ بن مطیع اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج کے بعد قیامت تک کسی قریش کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٨)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ قریش کے جن لوگوں کا نام عاص تھا ان میں عاص بن اسود کے علاوہ کوئی مسلمان نہیں ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح نامہ لکھا انہوں نے یوں لکھا کہ وہ معاہدہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہے۔ قریش نے کہا رسول(کا لفظ)مت لکھو اگر ہمیں علم(یقین)ہوتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے نہ لڑتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ لفظ مٹا دیں انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان لوگوں کی شرائط میں یہ بات بھی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام(آئندہ سال)مکہ مکرمہ میں داخل ہوں تو وہاں تین دن ٹھہریں اور ہتھیار لے کر نہ آئیں۔البتہ یہ کہ ہتھیار غلافوں میں رکھ کر لا سکتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛ترجمہ؛صلح حدیبیہ کا بیان؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥٢٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان صلح نامہ لکھا فرماتے ہیں انہوں نے"محمد رسول اللہ" لکھا۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے البتہ اس میں"ھذا ما کاتب علیہ" کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢١)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تو اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کردو۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔آپ سے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرلیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں تو اسے نہ مٹاؤں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس(لفظ)کی جگہ مجھے دکھاؤ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تین دن رہے جب تیسرا دن ہوا تو مشرکین نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے کہا یہ تمہارے صاحب(حضور صلی اللہ علیہ وسلم)کی شرط کا آخری دن ہے ان کو روانگی کے لئے کہو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔ ایک روایت میں "تابعنا" کی جگہ "بایعناک" لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ان لوگوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو"بسم اللہ الرحمن الرحیم"سہیل نے کہا ہمیں معلوم نہیں"بسم اللہ الرحمن الرحیم" کیا ہے۔ آپ وہ الفاظ لکھیں جو ہم جانتے ہیں آپ"باسمک الھم"لکھیں پھر آپ نے فرمایا یوں لکھو"محمد رسول اللہ"کی طرف سے،انہوں نے کہا اگر ہمیں آپ کی نبوت پر یقین ہوتا تو ہم آپ کی اتباع کرتے آپ اپنے والد کا نام لکھیں۔آپ نے فرمایا یوں لکھ دیں.محمد بن عبد اللہ"(محمد بن عبد اللہ کی طرف سے)انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرائط طے کیں کہ تمہارے لوگوں میں سے جو شخص ہمارے پاس جاے گا ہم اسے تم لوگوں کی طرف نہیں لوٹائیں گے اور ہم میں سے جو تمہارے پاس جاے گا تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم یہ شرائط لکھیں؟آپ نے فرمایا ہاں لکھو۔ہم میں سے جو ان لوگوں کے پاس جاے گا اللہ تعالیٰ اسے دور رکھے گا اور ان میں سے جو شخص ہمارے پاس اے گا اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے لئے فراخی اور کوئی سبیل پیدا کردے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١١؛حدیث نمبر ٤٥٢٣)
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوکر کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو قصوروار قرار دو۔ حدیبیہ کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑتے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح کا ذکر ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ انہوں نے عرض کیا کیا ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟آپ نے فرمایا ہاں(اسی طرح ہے)انہوں نے عرض کیا پھر ہم دین میں جھکنا کیوں قبول کریں اور واپس چلے جائیں حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ صادر نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب!بےشک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرماے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے اور وہ اپنے غصے کو قابو میں نہ رکھ سکے چنانچہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آے اور کہا اے ابوبکر!کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟انہوں نے فرمایا ہاں کیوں نہیں،پوچھا کیا ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟انہوں نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہوگا۔ فرمایا پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ کیوں قبول کریں اور یوں واپس جائیں کہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن خطاب!بےشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ فتح نازل ہوئی تو آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کے سامنے یہ سورت پڑھی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ فتح ہے؟فرمایا ہاں!اس پر وہ خوش ہوکر واپس ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢٤)
حضرت شقیق فرماتے ہیں میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا وہ جنگ صفین کے دن کہہ رہے تھے اے لوگو!اپنی رائے کی غلطی مان لو،اللہ کی قسم!میں نے ابوجندل کے دن اپنے آپ کو دیکھا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مسترد کرنے کی طاقت رکھتا تو آپ کے حکم کو مسترد کردیتا اللہ کی قسم ہم نے جب بھی اپنے کاندھوں پر تلواریں اس وقت اٹھائی ہیں جب کوئی معروف اور اچھا کام مقصود تھا مگر تمہارا یہ عمل باہمی جنگ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٢؛حدیث نمبر ٤٥٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٥٢٥ کے مثل مروی ہے اس میں ہےإِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٢؛حدیث نمبر ٤٥٢٦)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے دن فرمایا اے لوگو!تم اس دینی مسئلہ میں اپنی خطا تسلیم کرو کیونکہ میں نے ابوجندل کے دن اپنے آپ کو دیکھا اور اگر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مسترد کرسکتا تو رد کردیتا(تمہاری رائے ایسی ہے کہ)اگر ہم ایک کونہ کھولتے ہیں تو دوسرا کونہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ"انا فتحنا لک فتحا مبینا"نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹ کر آرہے تھے اور صحابہ کرام کو بہت غم اور ملال تھا آپ نے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا اور فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ پسند ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٨)
حضرت امام مسلم نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٩)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جنگ بدر میں میری عدم شمولیت کی صرف یہ وجہ تھی کہ میں اور میرے والد حسیل دونوں نکلے تو کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا انہوں نے کہا تم(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا ہم ان کے پاس جانا نہیں چاہتے ہم تو مدینہ طیبہ جانا چاہتے ہیں انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم مدینہ طیبہ جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے۔ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا واپس لوٹ جاؤ ہم ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ؛ترجمہ؛عہد کو پورا کرنا؛جلد٣ص١٤١٤؛حدیث نمبر ٤٥٣٠)
حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم ایسے کرتے؟ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو قوم کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان کافروں کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حذیفہ کھڑے ہوجاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر پکارا تو میرے لئے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا پس میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا میں واپس لوٹا اور میں حمام ہی کی طرح چل رہا تھا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قوم کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھ کر نماز ادا کرتے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا۔ پس جب صبح ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بہت سونے والے اٹھ جاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ؛ترجمہ؛غزوہ احزاب کا بیان؛جلد٣ص١٤١٤؛حدیث نمبر ٤٥٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن تنہا رہ گئے اور آپ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو قریشی تھے جب کفار نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا ان کو ہم سے کون دور کرے گا اور اس کے لیے جنت ہوگی یا(فرمایا)وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا کہ وہ شہید ہوگیا انہوں نے پھر گھیر لیا تو آپ نے فرمایا کون شخص ان لوگوں کو مجھ سے دور کرے گا اس کے لیے جنت ہوگی یا(فرمایا)وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور شہید ہوگیا۔مسلسل اسی طرح ہوتا رہا حتیٰ کہ سات افراد شہید ہوگئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان(قریشی)ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں(انصار)کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛ترجمہ؛غزوہ احد کا بیان؛جلد٣ص١٤١٥؛حدیث نمبر ٤٥٣٢)
حضرت حازم فرماتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد سے سنا ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کے بارے میں پوچھا گیا جو احد کے دن پہنچے تھے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور زخمی ہوگیا اور آپ کے سامنے کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور سر انور پر خود ٹوٹ گیا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لاکر ڈال رہے تھے۔ جب حضرت خاتون جنت نے دیکھا کہ پانی سے تو خون میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا حتیٰ کہ وہ راکھ بن گیا تو اسے زخموں پر لگایا جس سے خون انا بند ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٣)
حضرت ابو حازم کہتے ہیں انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا سنو!خدا کی قسم!میں اس شخصیت کو جانتا ہوں جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو دھویا اور اسے بھی جو پانی ڈال رہا تھا نیز کس دوا کے ساتھ آپ کے زخم کا علاج کیا گیا۔ پھر گزشہ حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ کا چہرہ انور زخمی ہوگیا اور ھُشمت کی جگہ کُسرت کا لفظ ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٤)
امام مسلم نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ابن ابی ہلال کی سند میں"اصیب وجھہ"ہے جب کہ ابن مطرف کی سند میں"جرح وجھہ"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور آپ کے سر انور میں زخم بھی آیا آپ اس سے خون پونچھ رہے تھے اور فرماتے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کرے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا اور سامنے کا دانت توڑ دیا حالانکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨](اس معاملے میں آپ کے اختیار میں کچھ نہیں) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ انبیاء کرام میں سے کسی نبی کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے ان کو زدوکوب کیا اور وہ اپنے چہرے سے خون پوچھتے ہوے کہہ رہے تھے یا اللہ!میری قوم کو بخش دے یہ لوگ جانتے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ پیشانی سے خون پونچھتے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر سخت ہوگا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کرے اس وقت آپ اپنے دانتیں مبارک کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غضب زیادہ ہوتا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اشْتِدَادِ غَضَبِ اللهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں اس پر غضب الٰہی کا نزول؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٩)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ روز ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی۔ابوجہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو فلاں قبیلہ کی اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آئے اور(حضرت)محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا اور وہ اوجھڑی اٹھاکر لے آیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ اوجھڑی آپ کے کاندھوں پر رکھ دی راوی فرماتے ہیں وہ لوگ ہنستے ہوئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کھڑا دیکھ رہا تھا اگر مجھے طاقت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے وہ اوجھڑی گرادیتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز رہے حتیٰ کہ کسی شخص نے جاکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی اور ابھی آپ چھوٹی عمر کی تھیں انہوں نے آپ کی پشت سے اوجھڑی گرا دیا پھر ان لوگوں کے پاس آکر ان کو برا بھلا کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے بلند آواز سے ان کے خلاف دعا کی اور آپ جب دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے تھے اور جب آپ(اللہ تعالیٰ سے)سوال کرتے تو تین بار سوال کرتے اور اس کے بعد آپ نے یوں دعا کی یا اللہ! یااللہ!قریش کی گرفت فرما"جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ آپ کی دعا سے خوف زدہ ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے یوں دعا کی۔ اے اللہ!ابوجہل بن ہشام کی گرفت فرما،عقبہ بن ربیعہ،ولید بن عقبہ،امیہ بن خلف،اور عقبہ بن ابی معیط کی گرفت فرما۔ راوی کہتے ہیں حضور علیہ الصَّلَاة والسلام نے ساتویں آدمی کا نام بھی لیا لیکن مجھے یاد نہیں رہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں نے غزوہ بدر کے دن دیکھا کہ آپ نے جن لوگوں کی گرفت کی دعا کی تھی وہ سب اس دن قتل ہوئے پھر بدر کے کنویں میں اوندھے پڑے ہوے تھے۔ ابو إسحاق نے کہا کہ ولید بن عقبہ کے نام میں راوی سے غلطی ہوئی(صحیح)ولید بن عتبہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٨؛حدیث نمبر ٤٥٤٠)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت سجدہ میں تھے اور آپ کے گرد قریش کے کچھ لوگ تھے کہ اس دوران عقبہ بن ابی معید اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے آپ کے پشت مبارک پر ڈال دیا آپ نے اپنا سر مبارک نہ اٹھایا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور اس اوجھڑی کو آپ کے پشت مبارک سے اتارا اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی ان کے خلاف دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی۔ اے اللہ!قریش کی جماعت پر گرفت فرما،ابوجہل بن ہشام،عتبہ بن ربیعہ،عقبہ بن ابی معیط،شیبہ بن ربیعہ،امیہ بن خلف فرمایا یا ابی بن خلف فرمایا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کے بدر کے دن یہ سب لوگ قتل ہوے اور ان کو کنویں میں ڈالا گیا۔ البتہ امیہ یا ابی کو کنویں میں نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جوڑ کٹ چکے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٩؛حدیث نمبر ٤٥٤١)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ تین مرتبہ دعا کرنا پسند فرماتے تھے اور آپ نے یوں دعا کی اے اللہ!قریش کی گرفت فرما(تین بار فرمایا)اور ان میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی ذکر کیا اور اس میں راوی کا شک ذکر نہیں کیا گیا ابواسحاق کہتے ہیں میں ساتویں آدمی کا نام بھول گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٩؛حدیث نمبر ٤٥٤٢)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرکے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف دعا کی ان میں ابوجہل،امیہ بن خلف،عتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل ہیں۔ پس میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو میدان بدر میں گرا ہوا پایا اور ان کے رنگ بدل چکے تھے کیونکہ وہ سخت گرم دن تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٠؛حدیث نمبر ٤٥٤٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ پر احد کے دن سے زیادہ سخت دن بھی آیا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے تمہاری قوم کی طرف سے تکلیف پہنچی اور سب سے زیادہ تکلیف عقبہ کے دن پہنچی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا(اسلام لانے کی دعوت دی)تو اس نے وہ بات قبول نہ کی جو میں چاہتا تھا میں حالت غم میں اپنے منہ واپس چلا آیا اور مجھے قرن ثعالب(مقام)پر پہنچ کر افاقہ ہوا میں نے سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کا وہ قول بھی سن لیا جو آپ نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا جواب بھی سن لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ اسے ان لوگوں کے بارے میں جو چاہے حکم دیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرماتے ہیں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی اور سلام کے بعد کہا اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا قول سن لیا ہے اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے کوئی حکم دیں تو آپ کیا چاہتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اخشبین پہاڑوں کو ان پر بچھا دوں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(نہیں بلکہ)مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ان لوگوں کو نکالے گا جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٠؛حدیث نمبر ٤٥٤٤)
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ»،تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی اور تو نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٥)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور وہاں آپ کی انگلی زخمی ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٦)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کے آنے میں تاخیر ہوگئی تو مشرکین نے کہا(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کو چھوڑ دیا گیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ والضحى نازل کی فرمایا قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٧)
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوگئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے تو ایک عورت نے آکر کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے امید ہے کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ دو یا تین راتوں سے آپ کے پاس نہیں آیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب چھا جائے آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٢؛حدیث نمبر ٤٥٤٨)
امام مسلم نے یہ حدیث مزید دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٤٥٤٩ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٢؛حدیث نمبر ٤٥٤٩)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوے اس کے اوپر پالان تھا جس کے نیچے فدک(کے علاقہ)کی ایک چادر تھی آپ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو سوار کیا آپ بنو حارث بن خزرج قبیلے میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جارہے تھے اور یہ واقعہ،غزوہ بدر سے پہلے کا ہے حتیٰ کہ جب آپ ایک مجلس سے گزرے جس میں مسلمان مشرکین بت پرست اور یہودی ملے جلے تھے۔ ان میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا اور اسی مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے جب سواری اس مجلس کے گرد پہنچی تو عبد اللہ بن ابی نے اپنی ناک کو چادر سے ڈھاپ لیا اور کہنے لگا ہمیں گردو غبار نہ پہنچاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا پھر نیچے اترے اور وہاں ٹھہر کر ان کو اسلام کی دعوت دی اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا اے شخص!اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں ہے اگر یہ بات حق ہے جو تم کہ رہے ہو تم بھی ہمیں مجلس میں آکر تکلیف نہ دیا کرو اور اپنے گھر لوٹ جاؤ پس جو شخص تمہارے پاس آے اسے وعظ کیا کرو۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ ہماری مجلس میں تشریف لے آئیں ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں پھر مسلمان،مشرکین اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کو ٹھنڈا کرتے تھے پھر اپنی سواری پر سورا ہوے اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے سعد!کیا آپ نے سنا ابو حباب یعنی عبد اللہ بن ابی نے کیا کہا،اس نے یہ بات کہی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اسے معاف کیجئے اور در گزر کریں اللہ کی قسم،اللہ نے آپ کو جو مرتبہ دیا ہے وہ دیا ہے۔ اس شہر والوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کے سر پر تاج رکھیں گے(سرداری کا)عمامہ باندھیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کرکے اور یہ مرتبہ عطاء کرکے اسے رد کردیا تو وہ اس وجہ سے جل بھن گیا تو اس نے جو کچھ کیا اس کی وجہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٣؛حدیث نمبر ٤٥٥٠)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت تک عبد اللہ بن ابی نے(بظاہر)اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٣؛حدیث نمبر ٤٥٥١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس جائیں فرماتے ہیں پس آپ دراز گوش پر سوار ہوکر تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی گئے اور وہ زمین شور والی(زمین)تھی جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کہا مجھ سے دور ہٹو،اللہ کی قسم!تمہارے دراز گوش کی بو سے مجھے اذیت پہنچ رہی ہے انصار میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دراز گوش کی بو تم سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر عبد اللہ کی قوم کے ایک شخص کو غصہ آگیا پھر دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ ایک دوسرے کو کھجور کی چھڑیوں،ہاتھوں اور جوتوں سے مارنے لگے۔ راوی کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرایا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٤؛حدیث نمبر ٤٥٥٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو جہل کی خبر کون لاے گا؟تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ چلے گئے انہوں نے اسے یوں پایا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے اسے قتل کردیا تھا حتیٰ کہ جب اس کا جسم ٹھنڈا ہونے کے قریب تھا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی کو پکڑا اور فرمایا تو ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے اتنے بڑے کسی اور شخص کو بھی قتل کیا ہے یا اس نے کہا اس کی قوم نے اتنے بڑے شخص کو قتل کیا ہے۔؟ ابومجلز کہتے ہیں ابوجہل نے یہ بھی کہا تھا کہ کاش مجھے کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ؛ترجمہ؛ابو جہل کا قتل؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کون بتائے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٥٥٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں اس سے کچھ بات تعریضا کہو(ایسی بات جسکا ظاہر کچھ اور بتائے اور مقصود کچھ اور ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہہ لے وہ اس(کعب بن اشرف) کے پاس آئے اور اس سے کہا اور اپنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک فرضی بیان کیا اور کہا یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے جب کعب نے سنا تو اس نے کہا اللہ کی قسم ابھی اور لوگ بھی اس سے تنگ ہوں گے ابن مسلمہ نے کہا اب تو ہم ان کی اتباع کرچکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملہ کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے مزید کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ تو مجھے کچھ دے دے کعب نے کہا تم میرے پاس رہن کیا چیز رکھو گے ابن مسلمہ نے کہا جو تم چاہو گے کعب نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا تو تو عرب کا خوبصورت آدمی ہے کیا ہم تیرے پاس اپنی عورتیں رہن رکھیں کعب نے کہا اچھا تم اپنی اولاد گروی رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا ہمارے بیٹوں کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا وہ دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھا گیا ہے البتہ ہم اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے آئے گا پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اسے اس کی بیوی نے کہا میں آواز سنتی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہے اور معزز آدمی کو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو اسے بھی قبول کرلیتا ہے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ جب وہ آئے گا میں اس کے سر کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھاؤں گا جب میں اسے قبضہ میں لے لوں تو تم حملہ کردینا پس جب نیچے اترا تو اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ان حضرات نے کہا ہم آپ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں اس نے کہا ہاں میری بیوی فلاں ہے جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے ابن مسلمہ نے کہا کیا تو مجھے خوشبو سونگھنے کی اجازت دے گا اس نے کہا سونگھو پھر دوبارہ کہا کیا تو مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دے گا اس مرتبہ انہوں نے اس کے سر کو قابو میں لیا اور کہا حملہ کردو پس انہوں نے اسے قتل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ طَاغُوتِ الْيَهُودِ؛ترجمہ؛یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کا قتل؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے جنگ کی پس ہم نے خیبر کے قریب پہنچ کر فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سوار ہوگئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے میں سوار ہوگیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری خیبر کی گلیوں کی طرف دوڑائی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے لگ جاتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چادر جدا ہوگئی تھی اور میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی دیکھی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا کیونکہ ہم جب کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے اس جملہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اور اہل خیبر اس وقت اپنے اپنے کاموں کی طرف نکلے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بعض راویوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے خیبر کو جنگ کے ذریعے فتح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٦؛حدیث نمبر ٤٥٥٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو لگ رہا تھا پس ہم ان کے پاس اس وقت آئے جب سورج نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنے جانوروں کو نکال لیا تھا اور خود درانیتاں اور ٹوکریاں اور درختوں پر چڑھنے کے لئے رسیاں لے کر باہر نکل رہے تھے انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بمع لشکر آگئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا کیونکہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٧؛حدیث نمبر ٤٥٥٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا"جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو عذاب سے ڈراے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٧؛حدیث نمبر ٤٥٥٨)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ!اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے پس تو ہمیں معاف کر دے یہی ہماری طلب ہے۔ اور ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو آواز دی جاتی ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور آواز دینے کے ساتھ ہی لوگ ہم پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حدی خوان کون ہے صحابہ نے عرض کیا عامر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس پر رحمت واجب ہوگئی کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے۔ ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کرلیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کردیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کیسی ہے اور کس چیز پر تم جلا رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کونسا گوشت صحابہ نے عرض کیا گھریلو گدھے کا گوشت۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے انڈیل دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک صحابی نے عرض کیا کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرلو۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی پس وہ اس سے شہید ہوگئے۔ پس جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہے؟میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، لوگوں نے گمان کیا ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہوگئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے یہ بات کہی جھوٹ کہا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے جو اس راستہ میں اسی طرح چلا ہو۔ قتیبہ نے دو حرفوں میں حدیث کے راوی محمد کی مخالفت کی ہے اور ابن عباد کی روایت میں ہے کہ"الق سکینیۃ علینا" (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٨؛حدیث نمبر ٤٥٥٩)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب خیبر کا دن ہوا تو میرے بھائی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بڑی شدید جنگ کی مگر اتفاق سے ان کی تلوار ان کی طرف پلٹ گئی اور وہ شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ان کے بارے میں کچھ گفتگو کی اور اس شخص کی شہادت کے بارے میں شک کیا جو اپنی تلوار سے قتل ہوجائے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے بارے میں کچھ رجز یہ کلام کہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا سوچ کرکہنا۔ فرماتے ہیں میں نے یہ اشعار کہے؛ اللہ کی قسم!اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت حاصل نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا۔ (پھر کہا)اور ہم پر سکینہ(رحمت)نازل فرما اور کفار کے مقابلے میں ہمیں ثابت قدم رکھنا بےشک کفار نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں رجز پورا کرچکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس کے اشعار ہیں؟میں نے عرض کیا یہ میرے بھائی کا کلام ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہچکچا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ہتھیا سے مرا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مجاہد ہے اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا۔ ابن شہاب زہری فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو اس نے اپنے والد سے یہ روایت اسی طرح بیان کی البتہ یہ فرمایا کہ جب میں نے کہا لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہچکچا رہے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ مجاہد ہیں اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہوے اور آپ نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کے لئے دو اجر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٩؛حدیث نمبر ٤٥٦٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غزوہ خندق کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ ہمارے ساتھ مٹی لا رہے تھے اور گرد و غبار نے آپ کے شکم انور کی سفیدی کو چھپا رکھا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے۔ اللہ کی قسم!(اے اللہ)اگر تیری مدد نہ ہوتی تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے اور نہ صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما بےشک دشمن ہم پر حملہ آور ہوا ہے۔ اور کبھی یوں فرماتے ان کفار نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا ہے اور جب وہ فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اور آپ لفظ"ابینا"(انکار کرتے ہیں)کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٠؛حدیث نمبر ٤٥٦١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت مروی ہے۔البتہ اس میں"إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٠؛حدیث نمبر ٤٥٦٢)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کاندھوں پر مٹی لاد رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اے اللہ!زندگی تو بس آخرت کی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٣)
Muslim Sharif Kitabul Jihade Was Siyare Hadees No# 4564
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے،اے اللہ!زندگی تو بس اخروی زندگی ہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں یا یوں فرمایا: اے اللہ!زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کو عزت و احترام عطاء فرما۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رجز کرتے تھے اور ان کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رجز فرماتے تھے اور وہ یوں کہتے تھے: اے اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔ شیبان کی روایت میں"" فانصر"کی جگہ" فاغفر"ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام خندق کے دن یہ کلمات کہتے تھے۔ ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ کے ہاتھ پر اسلام کے لئے تاحیات بیعت کی ہے۔ حماد کو شک ہے کہ روایت میں اسلام کی بجائے جہاد کا لفظ ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات کہتے تھے: اے اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٢؛حدیث نمبر ٤٥٦٧)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں پہلی آذان سے پہلے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں مقام ذی قرد میں چر رہی تھیں فرماتے ہیں وہاں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ملاقات ہوئی اس نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑی گئی ہیں میں نے پوچھا کس نے پکڑی ہیں اس نے کہا غطفان(قبیلے)نے، حضرت سلمہ فرماتے ہیں میں نے تین مرتبہ چینخ کر کہا یا صباحاہ!میری یہ آواز مدینہ طیبہ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچی۔ پھر میں اپنی سیدھ پر چل پڑا حتیٰ کہ ان کو مقام ذی قرد میں پایا وہ ان کو وہاں پانی پلا رہے تھے میں نے ان کو تیر مارنا شروع کئے اور میں تیر اندازی کرتے ہوئے یہ کہ رہا تھا۔ "میں اکوع کا بیٹا ہوں،اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے میں رجز پڑھتا رہا حتیٰ کہ میں نے ان سے اونٹنیاں چھڑا لیں اور ان سے تیس چادریں بھی لے لیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!میں نے ان کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ وہ پیاسے ہیں آپ اسی وقت ان کے پاس کسی کو بھیج دیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن اکوع!تم اپنی چیزیں لے کر مالک بنو اور ان کو جانے دو۔ فرماتے ہیں ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھایا حتیٰ کہ ہم مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٤٣٢؛حدیث نمبر ٤٥٦٨)
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئےاور آپ نے دعا مانگی یا کنویں میں لعاب مبارک ڈالا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسلمہ بیعت کرو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی(اس کے بعد)پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمہ کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا!اے سلمہ رضی اللہ عنہ وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ابن زقیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے حضرت عامر رضی اللہ عنہ جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے،الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ "اور وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ مکرمہ کی وادی میں روکا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا" پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے قبیلے کے درمیان ایک پہاڑ تھا اور وہ(بنو لحیان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے پہرہ دے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کردیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پھر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے ملتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا۔ اور میں کہتا کہ یہ وار پکڑ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوجاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ اسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو حضرت سلمہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے نشان رکھ دیتا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور فلاں بن بدر فزاری بھی ان کے پاس آگیا سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فزاری کہنے لگا کہ یہ کون ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف جائیں حضرت سلمہ کہتے ہیں ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا نہیں اور تم کون ہو میں نے جواب میں کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نہ آجائیں۔اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا۔اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور پھر عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اسی دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے(جب انہوں نے یہ منظر دیکھا)تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فزاری کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا( اور پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا جس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اسی گھاٹی سے پانی پئیں کیونکہ وہ پیاسے تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آ رہا تھا بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹٰ کی طرف نکلے میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا،میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لیٹروں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اور تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھونا۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لٹیروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمہ اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں اس انصاری شخص نے کہا نہیں،سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو ٹھیک ہے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا فرماتے ہیں ایک یا دو چڑہائیاں چڑھنے کے بعد میں سانس لینے کے لئے رکا پھر اس کے پیچھے دوڑ پڑا پھر ایک دو چڑھائوں کے بعد میں نے سر بلند کیا حتیٰ کہ میں اس سے جا ملا اور اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک گھونسا مارا۔اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے رجزیہ اشعار پڑھنا شروع کردیے۔اللہ کی قسم اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے۔ اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ اشعار سنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا میں عامر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور کہتا ہے۔ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح،بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا عامر اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور انہوں نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر رضی اللہ عنہ نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود اپنے ہی لگ گئی جس سے ان کہ شہ رگ کٹ گئی اور اسی نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عامر کا عمل ضائع ہوگیا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے۔میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی کو پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔تو پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے جو جنگلوں کے شیروں کی طرح رعب و دبدبہ والا ہے میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٣تا١٤٤١؛حدیث نمبر ٤٥٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٦٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٤١؛حدیث نمبر ٤٥٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے اسی افراد جبل تنعیم سے مسلح ہوکر اترے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو دھوکہ دے کر غفلت میں حملہ کرنا چاہتے تھے آپ نے ان کو پکڑ کر قید کر لیا اور پھر چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "اور وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا جب مکہ مکرمہ میں تمہیں ان پر کامرانی عطاء فرمائی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ} [الفتح: ٢٤] الْآيَةَ؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر لیا جو ان کے پاس تھا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ خنجر دیکھا عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ خنجر کیسا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ اس لئےلیا ہے اگر کوئی مشرک میرے قریب آے تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ حضرت ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے بعد جو طلقاء ہیں(جو مکہ کے دن مسلمان ہوے)اور آپ سے شکست کھا چکے ہیں ان کو قتل کر دوں؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور اس نے اچھا کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛ترجمہ؛مردوں کے ہمراہ عورتوں کا جہاد کرنا؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ام سلیم کے واقعہ میں حدیث نمبر ٤٥٧٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کرتے تو آپ کے ساتھ حضرت ام سلیم اور انصاری کی کچھ دیگر خواتین بھی ہوتی تھیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٣؛حدیث نمبر ٤٥٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب(غزوہ)احد کا دن ہوا تو کئی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال سے آڑ کئے ہوئے تھے حضرت ابوطلحہ زبردست تیر انداز تھے اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑی تھیں۔ جب کوئی شخص تیروں کا ترکش لے کر نکلتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے یہ تیر حضرت ابوطلحہ کے لئے رکھ دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گردن اٹھا کر کفار کی طرف دیکھتے تو حضرت ابوطلحہ عرض کرتے اللہ کے نبی!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ان کو نہ دیکھیں کہیں آپ کو ان کا کوئی تیر نہ لگ جائے میرا سینہ آپ کے سینے کے سامنے ہے(تاکہ مجھے تیر لگے) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم(رضی اللہ عنہما)کو دیکھا ان دونوں نے اپنی شلواریں اوپر کی ہوئی تھیں اور میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیب کو دیکھا وہ دونوں اپنی پیٹھ پر مشکیں بھر کر لاتیں اور لوگوں کے مونہوں میں ڈالتی تھیں پھر واپس جاتیں اور دوبارہ بھر کر لاتیں اور ان کے مونہوں میں ڈالتی اور اس دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اونگھ کی وجہ سے دو یا تین بار تلوار گر گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٣؛حدیث نمبر ٤٥٧٥)
حضرت یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آپ سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا تھا حمد و صلاۃ کے بعد!مجھے بتائے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے اور کیا ان کے لئے(مال غنیمت میں سے)حصہ مقرر کرتے،کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے نیز یتیم کب تک یتیم رہتا ہے اور خمس(مال غنیمت کا پانچواں حصہ)کس کے لیے ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے! تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں اور ان کو مال غنیمت سے حصہ بھی ملتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے لہٰذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو تم نے مجھے لکھا اور پوچھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو مجھے اپنی زندگی کی قسم!بعض لوگوں کی داڑھی آجاتی لیکن ان کو کسی چیز کے لینے اور دینے کی سمجھ نہیں ہوتی جب اسے دوسرے لوگوں کی طرح کوئی چیز لینے کا شعور حاصل ہوجائے تو اس کا دور یتیمی ختم ہوجاتا ہے تم نے مجھے لکھا اور خمس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس کے لیے ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم اس بات کو نہیں مانتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛ترجمہ؛جہاد میں شریک ہونے والی عورتوں کو مال غنیمت میں سے باقاعدہ حصہ دینے کی ممانعت اور کچھ عطیہ دینے کا حکم اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٤٤؛حدیث نمبر ٤٥٧٦)
حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور کچھ باتوں کے بارے میں سوال کیا اس کے بعد گزشتہ حدیث کے مثل ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو البتہ یہ کہ تمہیں ایسی بات کا علم ہو جائے جس کی بنیاد حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کیا تھا اسحاق نے اپنے حدیث میں حاتم سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ تم اس بات کی تمیز کرلو کہ یہ بچہ مؤمن ہوگا یا کافر:پس تم کافر کو قتل کردو اور مؤمن کو چھوڑدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٥؛حدیث نمبر ٤٥٧٧)
یزید بن ہرمز کہتے ہیں نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے پوچھا کہ اگر جنگ میں غلام اور عورت شریک ہوں تو ان کو حصہ ملے گا؟کیا بچوں کو قتل کرنا جائز ہے؟نیز یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ذوی القربى(اہل قرابت)کون ہیں؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید بن ہرمز سے فرمایا اسے جواب لکھو اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں پڑے گاتو میں اس کو جواب نہ لکھتا اسے لکھو کہ تم نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوں تو ان کو مال غنیمت سے حصہ دیا جائے گا؟تو ان کے لئے کوئی حصہ نہیں البتہ ان کو عطیہ دیا جاسکتا ہے۔ اور تم نے مجھے لکھا اور بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قتل نہیں کرتے تھے لہٰذا تم بھی قتل نہ کرو مگر یہ کہ تم ان کے بارے میں وہ بات جان لو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی(حضرت خضر علیہ السلام)نے اس لڑکے کے بارے میں معلوم کی جس کو انہوں نے قتل کیا تھا۔ تم نے مجھے لکھا اور پوچھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور اس سے سمجھ داری معلوم نہ ہو،اس سے یتیمی کا لفظ ختم نہیں ہوتا۔تم نے مجھے لکھ کر قرابت داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں تو ہماری راے یہ ہے کہ ہم لوگ قرابت دار ہیں لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٥؛حدیث نمبر ٤٥٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٧٨کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٦؛حدیث نمبر ٤٥٧٩)
یزید بن ہرمز کہتے ہیں نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جب انہوں نے وہ خط پڑھا اور اس کا جواب لکھا میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو(کسی برے کام)میں پڑ جائے گا تو میں اسے کبھی جواب نہ لکھتا۔ پس آپ نے اس کی طرف لکھا کہ تم نے قرابت داروں کے حصے کے بارے میں پوچھا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ہمارے خیال میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار لوگ ہیں اور وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تم نے یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اس سے سمجھ داری معلوم ہوجائے اور اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا ۔ تم نے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے بچوں میں سے کسی ایک کو قتل کرتے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو قتل نہیں کرتے تھے اور تم بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو۔مگر یہ کہ انہیں وہ بات معلوم ہو جو حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے میں معلوم ہوئی جسے آپ نے قتل کیا تھا۔تم نے پوچھا کہ عورت اور غلام کے لئے معلوم حصہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں،تو ان کے لئے کوئی حصہ نہیں البتہ یہ کہ قوم کے مال غنیمت سے ان کو عطیہ دیا جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٦؛حدیث نمبر ٤٥٨٠)
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی مجاہدین کے پیچھے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا پکاتی،زخموں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٨١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٢)
ابو اسحاق کہتے ہیں عبداللہ بن یزید نماز استسقاء پڑھانے نکلے تو انہوں نےدو رکعت نماز پڑھا کر بارش کے لئے دعا کی۔ اس دن حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی تھا میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت فرمائی انہوں نے جواب دیا انیس غزوات میں،میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں آپ نے شرکت کی انہوں نے فرمایا سترہ غزوات میں،فرماتے ہیں میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا۔انہوں نے فرمایا ذات العسیر یا ذات العشیر۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٣)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات میں شریک فرمائی اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج کیا اور حجۃ الوداع کے علاوہ کوئی حج نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی البتہ بدر اور احد میں شریک نہ ہوا،غزوہ احد میں میرے والد شہید ہوگئے تھے اور اس کے بعد میں نے کوئی غزوہ نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٥)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انیس غزوات میں تشریف لے گئے اور آپ نے ان میں سے آٹھ غزوات میں جنگ کی(راوی)ابوبکر نے"منھن"(ان میں سے)کے الفاظ ذکر نہیں کئے اور انہوں نے اپنی روایت میں کہا کہ مجھ سے عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٦)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شریک ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٧)
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک تھا، اور لشکر آپ نے روانہ کیے ان میں نو مرتبہ شریک رہا ایک مرتبہ ہمارے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ (مسلم شریف کتاب الجہاد والسیرۃ،بَابٌ : عَدَدُ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ,حدیث نمبر ٤٥٨٨)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے اس کی دونوں جگہ سات کا عدد مزکور ہے۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن جنگوں میں بذات خود شریک ہوئے ان کو غزوات کہتے ہیں ان کی تعداد میں اختلاف ہے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب شرح صحیح مسلم جلد ٥ص٧٠١ پر ان غزوات کی تفصیل طبقات ابن سعد سے نقل کی ہے جن کی تعداد ٢٧ ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٩)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں گئے اور ہم چھ افراد تھے اور ہم ایک اونٹ میں شریک تھے جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ فرماتے ہیں ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے اور میرا پاؤں بھی زخمی ہوا اور ناخن بھی نکل گئے ہم نے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹے،اس وجہ سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع(ٹکڑوں والا)ہوگیا کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹ رہے تھے۔ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوموسیٰ نے یہ حدیث بیان کی پھر اس(بیان)کو ناپسند کیا شاید وہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ حضرت ابو اسامہ فرماتے ہیں حضرت بریدہ کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محنت کا اجر دے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ؛جلد٣ص١٤٤٩؛حدیث نمبر ٤٥٩٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب آپ حرۃ الوبرہ(یہ وہ مقام ہے جو مدینہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے)میں پہنچے تو ایک شخص ملا جس کی جرات اور بہادری کا بہت تذکرہ تھا۔صحابہ کرام نے اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ جاؤں اور مال سے حصہ پاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے؟اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔ وہ شخص چلا گیا حتیٰ کہ جب ہم شجرہ(درخت)کے پاس پہنچے تو وہ شخص ملا اور اس نے پہلے کی درخواست کی،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔ وہ شخص واپس چلا گیا پھر آپ نے اسے مقام بیداء میں پایا اور پہلے کی طرح پوچھا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اس نے کہا جی ہاں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الِاسْتِعَانَةِ فِي الْغَزْوِ بِكَافِرٍ؛ترجمہ؛جہاد میں کافر سے مدد لینا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣ص١٤٥٠؛حدیث نمبر ٤٥٩١)
Muslim Shareef : Kitabul Jihade Was Siyare
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
|
•