asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Imarate

From 4592 to 4861

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس معاملے(خلافت و حکومت)میں قریش کے تابع ہیں مسلمان،قریشی مسلمانوں کے اور کافر قریشی کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛امارت(حکومت)کا بیان؛تربَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛ترجمہ؛لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِيَانِ الْحِزَامِيَّ - ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ عَمْرٌو رِوَايَةً : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ؛ مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ لِكَافِرِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4592

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس معاملے میں قریش کے تابع ہیں ان کے مسلمان قریش مسلمانوں کے اور ان کے کافر قریش کافروں کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ؛ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4593

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھلائی اور برائی میں قریش کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٤)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4594

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز(خلافت)ہمیشہ قریش میں رہے گی چاہے دو آدمی ہی رہ جائیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٢؛حدیث نمبر ٤٥٩٥)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4595

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے سنا آپ فرماتے تھے یہ خلافت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ان میں بارہ خلیفہ پورے نہ ہو جائیں فرماتے ہیں پھر آپ نے کچھ فرمایا جو مجھ پر پوشیدہ رہا فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟تو انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ وہ تمام(خلفاء)قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ. ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ". قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4596

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا خلافت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بارہ خلفاء پورے نہ ہوجائیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو مجھ سے پوشیدہ رہی میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٢؛حدیث نمبر ٤٥٩٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ". ثُمَّ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ أَبِي : مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4597

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ حکومت ہمیشہ جاری رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٥٩٨)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4598

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بارہ خلیفہ ہونے تک اسلام غالب رہے گا۔ پھر ایک کلمہ فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ یہ سب قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٥٩٩)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ". ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ فَقَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4599

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ معاملہ(یعنی اسلام)ہمیشہ غالب رہے گا حتیٰ کہ بارہ خلفاء پورے ہوجائیں فرماتے ہیں اس کے بعد آپ نے کلام فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ". قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ فَقَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4600

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے والد بھی ہمراہ تھے میں نے سنا آپ فرما رہے تھے یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا حتیٰ کہ بارہ خلفاء مکمل ہوجائیں۔ فرماتے ہیں آپ نے ایک اور کلمہ بھی فرمایا جو لوگوں نے مجھے سننے نہیں دیا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا آپ نے فرمایا کہ وہ تمام قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠١)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي أَبِي، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ". فَقَالَ كَلِمَةً صَمَّنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4601

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط بھیجا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ فرماتے ہیں انہوں نے میری طرف لکھا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کے دن سنا جس شام ماعز اسلمی کو رجم کیا گیا۔ آپ نے فرمایا دین قیامت تک قائم رہے گا یا فرمایا تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ تمام قریش میں سے ہوں گے اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کی ایک قلیل جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کے سفید محل کو فتح کرے گی میں نے آپ سے یہ بھی سنا آپ نے فرمایا قیامت سے پہلے کچھ جھوٹے لوگ ہوں گے ان سے بچو اور میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال عطا کرے تو وہ اپنے آپ اور اپنے گھر والوں سے شروع کرے اور میں نے آپ کو یہ بات فرماتے ہوئے بھی سنا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ : ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ : أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عُصَيْبَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الْأَبْيَضَ بَيْتَ كِسْرَى، أَوْ آلِ كِسْرَى ". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ ". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ ". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4602

حضرت عامر بن سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن سمرہ عدوی کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ہمیں بتلائیں انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٤؛حدیث نمبر ٤٦٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِيِّ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4603

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میرے والد(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)زخمی ہوئے تو میں وہاں حاضر ہوا لوگوں نے آپ کی تعریف کی اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی جزا دے آپ نے فرمایا مجھے(اللہ تعالیٰ کی رحمت کی)امید ہے اور(اس کے عذاب کا)خوف بھی ہے انہوں نے عرض کیا آپ کسی کو اپنا جانشین بنا دیں آپ نے فرمایا میں نے زندگی میں تمہارا بوجھ اٹھایا تو کیا اب مرنے کے بعد بھی یہ بوجھ اٹھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری یہ خدمات میرے لئے برابر برابر ہوں جائیں نہ میرے ذمہ کچھ ہوا اور نہ میرے لئے کچھ ہو۔ اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو انہوں نے خلیفہ مقرر کیا جو مجھ سے بہتر ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،اور اگر میں اس عمل کو چھوڑ دوں(خلیفہ مقرر نہ کروں)تو انہوں نے یہ معاملہ چھوڑ دیا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہوا کہ جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے تو وہ جانشین مقرر نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَتَرْكِهِ؛ترجمہ؛خلیفہ بنانے اور اسے ترک کرنے کا بیان؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، وَقَالُوا : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا. فَقَالَ : رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ. قَالُوا : اسْتَخْلِفْ. فَقَالَ : أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ، لَا عَلَيَّ، وَلَا لِي، فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4604

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے ہیں میں نے کہا وہ ایسا نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا وہ ایسا ہی کریں گے فرماتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ میں اس مسئلے پر ضرور گفتگو کروں گا خاموش رہا حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور میں نے آپ سے گفتگو نہ کی مجھے قسم اٹھانے کے باعث یوں لگتا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھ پر پہاڑ اٹھایا ہوا ہے حتیٰ کہ میں واپس آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا اور میں نے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا۔ فرماتے ہیں پھر میں نے ان سے کہا کہ میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی اور میں نے قسم کھائی تھی کہ وہ بات آپ سے ضرور بیان کروں گا لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے اور بات یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے اونٹوں کا چرواہا ہو یا بکریوں کا چرواہا ہو پھر آپ کے پاس آئے اور ان(اونٹوں یا بکریوں)چھوڑ آئے تو آپ ہی کہیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کیا پس لوگوں کی نگرانی زیادہ ضروری ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے میری اس بات کی موافقت کی اور کچھ دیر سر جھکاے بیٹھے رہے پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمایا اور اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں اللہ کی قسم!جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو جان گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور وہ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَتَرْكِهِ؛جلد٣ص١٤٥٥؛حدیث نمبر ٤٦٠٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ إِسْحَاقُ، وَعَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ : أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا كَانَ لِيَفْعَلَ. قَالَتْ : إِنَّهُ فَاعِلٌ. قَالَ : فَحَلَفْتُ أَنِّي أُكَلِّمُهُ فِي ذَلِكَ. فَسَكَتُّ حَتَّى غَدَوْتُ، وَلَمْ أُكَلِّمْهُ. قَالَ : فَكُنْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّى رَجَعْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَسَأَلَنِي عَنْ حَالِ النَّاسِ، وَأَنَا أُخْبِرُهُ. قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ لَهُ : إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ ؛ زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ، وَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي إِبِلٍ، أَوْ رَاعِي غَنَمٍ، ثُمَّ جَاءَكَ، وَتَرَكَهَا رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ. فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ. قَالَ : فَوَافَقَهُ قَوْلِي، فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً، ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَيَّ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ، وَإِنِّي لَئِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ ؛ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ. قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَعْدِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4605

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا حکومت کا سوال نہ کرو اگر تمہیں مانگنے پر دی جائے تو تم اس کے سپرد کردئے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگنے کے بغیر ملے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛حکومت طلب کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ؛ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4606

امام مسلم علیہ الرحمہ نے تین مختلف سندوں کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4607

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اور میرے دو چچازاد(بھائی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ملک عطاء کیا ہے اس میں سے بعض پر ہمیں حکومت عطاء کیجئے دوسرے نے بھی اس قسم کی بات کہی۔آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!ہم اس عمل پر کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے اور نہ اسے جو اس کی حرص رکھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ : " إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ، وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4608

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعریوں میں سے دو آدمی تھے ان میں سے ایک میرے دائیں جانب اور دوسرا بائیں طرف تھا ان دونوں نے مجھ سے منصب کا سوال کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اے ابو موسیٰ کیا کہتے ہو یا فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!تم کیا کہ رہے ہو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم!جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ان دونوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی اور مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دونوں کس منصب کا سوال کریں گے۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی مسواک آپ کے ہونٹے کے نیچے تھی اور وہ گھس چکی تھی آپ نے فرمایا میں کسی ایسے شخص کو کسی منصب پر مقرر نہیں کرتا جو خود اس کا ارادہ رکھتا ہو لیکن اے ابو موسیٰ یا(فرمایا)اے عبد اللہ بن قیس تم یمن جاؤ چنانچہ آپ نے ان کو یمن بھیج دیا پھر ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت معاذ بن جبل وہاں پہنچے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آئیے اور ان کے لئے گدا بچھا دیا وہاں ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا فرمایا یہ کیا ہے؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا یہ یہودی تھا اس نے اسلام قبول کیا پھر اپنے برے دین کی طرف لوٹ گیا اور یہودی بن گیا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اس کو قتل نہ کیا جائے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا آپ بیٹھیں ہم اسے قتل کرتے ہیں لیکن انہوں نے تین بار یہی فرمایا کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کیا جائے میں نہیں بیٹھوں گا چنانچہ اسے قتل کردیا گیا۔ پھر ان دونوں میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو ہونے لگی تو ان میں سے ایک یعنی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں سوتا بھی ہوں قیام بھی کرتا ہوں اور اپنی نیند میں اس اجر کی امید رکھتا ہوں جس کی امید اپنے قیام میں رکھتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَقَالَ : " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى ". أَوْ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ". قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ. قَالَ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ، فَقَالَ : " لَنْ - أَوْ لَا - نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى ". أَوْ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ". فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ : انْزِلْ. وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا، فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ، فَتَهَوَّدَ. قَالَ : لَا أَجْلِسُ، حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ : اجْلِسْ نَعَمْ. قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا، مُعَاذٌ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ، وَأَقُومُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4609

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟آپ نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بے شک تم کمزور ہو اور یہ امانت ہے اور قیامت کے دن یہ ذلت اور شرمندگی کا باعث ہوگی البتہ جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ؛جلد٣ص١٤٥٧؛حدیث نمبر ٤٦١٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي. قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4610

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر!میں تمہیں کمزور پاتا ہوں اور میں تیرے لئے وہ بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ ہی کسی یتیم کے مال کا ولی بننا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ؛جلد٣ص١٤٥٧؛حدیث نمبر ٤٦١١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي ؛ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ، وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4611

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں اللہ کے دائیں جانب نور کے منبر پر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی دونوں جانبیں دائیں ہی ہیں یہ لوگ وہ ہوں گے جو(دنیا میں)اپنے اہل و عیال اور رعایا میں عدل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛ ترجمہ؛عادل حاکم کی فضیلت اور ظالم حاکم کی مذمت؛جلد٣ص١٤٥٨؛حدیث نمبر ٤٦١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : وَأَبُو بَكْرٍ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ ؛ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4612

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کوئی بات پوچھنے کے لئے آیا انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟میں نے کہا میں ایک مصری ہوں ام المؤمنين نے پوچھا تمہارا حاکم جہاد میں کس طرح پیش آتا ہے میں نے کہا ہمیں اس سے کوئی بات ناگوار نہیں گزری اگر ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تو وہ اسے اونٹ دیتا ہے اگر غلام مر جائے تو اسے غلام دیتا ہے اگر خرچ کی ضرورت ہو تو خرچ دیتا ہے۔ ام المومنین نے فرمایا میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس نے جو کیا ہے وہ مجھے اس حدیث کے بیان سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے آپ سے سنا آپ نے میرے اس گھر میں فرمایا اے اللہ!میری امت کو جو شخص ان کے کسی معاملے کا ولی بنے پس وہ اس پر سختی کرے تو اس پر سختی کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ولی بنے اور وہ ان پر نرمی کرے تو بھی اس سے نرمی کے ساتھ پیش آ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٨؛حدیث نمبر ٤٦١٣)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَتْ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ. فَقَالَتْ : كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا، إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ، وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ، وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ. فَقَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا : " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4613

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور روایت روایت نمبر ٤٦١٣ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٩؛حدیث نمبر ٤٦١٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4614

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تم سب حاکم ہو اور تم سب سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا اور لوگوں پر مقرر امیر حاکم ہے اس سے بھی اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ہر شخص اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا سنو!تم سب حاکم ہو اور تم سب سے اس کی رعایا(ما تحت لوگوں)کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٩؛حدیث نمبر ٤٦١٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4615

امام مسلم نے متعدد سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤٦١٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي الْقَطَّانَ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4616

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آدمی اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس(مال)کے بارے میں سوال ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ : " الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ، وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4617

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٦١٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٨)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4618

حضرت حسن بیان کرتے ہیں حضرت عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس بیماری میں عیادت کی جس میں وہ انتقال کر گئے تھے حضرت معقل نے کہا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ میں مزید زندہ رہوں گا تو میں آپ سے بیان نہ کرتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندے کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حاکم بنایا ہو اور وہ ان سے خیانت کرتا ہوا مرے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٩)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4619

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن زیاد،حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں درد تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦١٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن زیاد نے کہا آپ نے اس سے پہلے مجھ سے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی۔انہوں نے فرمایا میں نے یہ تم سے بیان نہیں کی یا فرمایا میں تمہارے لئے بیان نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦٢٠)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ. بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ، وَزَادَ، قَالَ : أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : مَا حَدَّثْتُكَ، أَوْ : لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4620

ابو الملیح بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد،حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لئے گیا حضرت معقل نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو امیر مسلمانوں کا حاکم ہو پھر ان کے لئے کوشش نہ کرے اور نہ ان کی خیر خواہی کرے وہ ان کے ساتھ جنت میں نہیں جاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦٢١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ، وَيَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4621

ابوالاسود بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیا اس کے بعد حسن کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٢)

وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ. نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4622

حسن کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے بیٹے!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بدترین حاکم،ظالم حاکم ہے تم ان لوگوں میں سے ہونے سے بچنا۔ اس نے کہا بیٹھو تم تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں بھوسہ ہو انہوں نے فرمایا کیا صحابہ کرام میں بھوسہ(یا تلچھٹ)ہے یہ تو بعد والے لوگوں میں ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٣)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ". فَقَالَ لَهُ : اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ ؟ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4623

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے خیانت کا ذکر کرتے ہوئے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن تم سے کسی ایک کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہوکر بڑ بڑا رہا ہو اور وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے اور میں کہوں میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں(دین اسلام کا پیغام)پہنچا دیا میں تم میں سے کسی ایک کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں تبلیغ کردی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنے کندھے پر سوار بکری کے ساتھ آے اور وہ منمنا رہی ہو وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں نے تمہیں(دین کا پیغام)پہنچا دیا۔میں تم میں سے کسی کو یوں نہ پاؤں کہ قیامت کے دن آے اور اس کی گردن پر کسی کی جان سوار ہو وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں میں نے تمہیں تبلیغ کردی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑے لدے ہوئے ہل رہے ہوں اور وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں(اسلام کا پیغام)پہنچا دیا تھا میں کسی کو ہر گز اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آے اور اس کی گردن پر سونا چاندی(صامت یعنی خاموش دولت)ہو اور کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں میں تمہیں تبلیغ کرچکا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛ترجمہ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے پر عذاب کی وعید؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَذَكَرَ الْغُلُولَ ، فَعَظَّمَهُ، وَعَظَّمَ أَمْرَهُ، ثُمَّ قَالَ : " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَغِثْنِي. فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ؛ قَدْ أَبْلَغْتُكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4624

امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4625

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر کیا اور اس کی سخت سزا بیان فرمائی اس کے بعد پوری حدیث بیان کی حضرت حماد کہتے ہیں پھر میں نے یحییٰ سے سنا انہوں نے اس حدیث کو ایوب کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٦)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَهُ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ. قَالَ حَمَّادٌ : ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَى بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ، فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4626

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٦٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٧)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4627

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد(قبیلے)کے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عامل مقرر کیا جس کو ابن اللتیبیہ کہتے تھے جب وہ آیا تو اس نے کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اس عامل کا کیا حال ہے جسے میں بھیجتا ہوں پھر وہ آکر کہتا ہے یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے وہ اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر کیوں بیٹھ نہیں گیا۔حتیٰ کہ وہ دیکھتا کہ اسے کوئی تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس میں سے کوئی چیز بھی لے گا تو قیامت کے دن وہ مال اس کی گردن پر سوار ہوگا وہ اونٹ ہوگا جو بڑ بڑا رہا ہوگا یا گاے ہوگی اور آواز نکال رہی ہوگی یا بکری منمنا رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ ہم نے آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی اس کے بعد فرمایا اے اللہ!میں نے تبلیغ کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ هَدَايَا الْعُمَّالِ؛سرکاری ملازمین کو ہدیہ لینے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ - قَالَ عَمْرٌو، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ - فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي. قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ : " مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ، فَيَقُولُ : هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ، أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ، حَتَّى يَنْظُرَ، أَيُهْدَى إِلَيْهِ، أَمْ لَا ؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ". مَرَّتَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4628

حضرت ابو حمید ساعدی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شخص ابن اللتیبیہ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عامل مقرر فرمایا اس نے مال لاکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا اور کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ گئے بس تم دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٢٩)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ بِالْمَالِ، فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ، وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ، أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لَا ؟ " ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4629

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ایک شخص کو جس کو ابن الاتبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا،بنو سلیم(قبیلے)کے صدقات پر مقرر کیا جب وہ آیا تو حساب کرنے لگا اور اس نے کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ گئے حتیٰ کہ تمہارے پاس تمہارا ہدیہ آتا اگر تم سچے ہو۔ اس کے بعد حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اما بعد!میں تم میں سے کسی شخص کو اس پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے تو وہ آکر کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے تو وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں جاکر کیوں نہیں بیٹھا حتیٰ کہ اس کے پاس اس کا ہدیہ آتا اگر وہ سچا ہے اللہ کی قسم!تم میں سے جو شخص اس میں سے کچھ بھی ناحق طور پر لے گا قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ اس چیز کو گردن پر اٹھائے ہوگا میں تم میں سے کسی شخص کو ضرور پہچانوں گا کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس نے اونٹ اٹھا رکھا ہوگا جو بڑ بڑا رہا ہوگا یا گاے ہوگی جو اپنی آواز نکالے گی یا بکری منمنا رہی ہوگی پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھایا حتیٰ کہ آپ کی بغلیں مبارک دکھائی دینے لگیں پھر آپ نے فرمایا یااللہ!کیا میں نے تبلیغ کردی،(راوی کہتے ہیں)اس واقعہ کو میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْأُتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ : هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ؟ ". ثُمَّ خَطَبَنَا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ : هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي. أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، إِنْ كَانَ صَادِقًا ؟ وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ". بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِي.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4630

امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا کہ جب وہ شخص آیا تو اس نے حساب کیا اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تم جان لوگے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے جو شخص بھی کسی چیز سے لے گا.... سفیان کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ بھی میرے ساتھ تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٤؛حدیث نمبر ٤٦٣١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ، وَابْنِ نُمَيْرٍ : فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ : " تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ". وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، قَالَ : بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنَايَ، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِي.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4631

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقہ(کی وصولی)پر مقرر کیا وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ دیا گیا ہے۔آگے حسب سابق ہے۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول سے(خود)سنا ہے؟انہوں نے کہا میں نے یہ حدیث آپ کے دہن مبارک سے اپنے اپنے کانوں میں سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٤؛حدیث نمبر ٤٦٣٢)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ - وَهُوَ : أَبُو الزِّنَادِ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ : هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ عُرْوَةُ : فَقُلْتُ لِأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4632

حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ سے سنا آپ نے فرمایا ہم،تم میں سے جس شخص کو کسی عمل پر مقرر کرتے ہیں تو اگر وہ سوئی یا اس سے بھی کم چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے قیامت کے دن وہ اس چیز کو لے کر آئے گا۔ فرماتے ہیں انصار میں سے ایک سیاہ فام شخص اٹھ کر کھڑا ہوا گویا میں(اب بھی)اس کی طرف دیکھ رہا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ!آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیں آپ نے پوچھا تجھے کیا ہوا اس نے کہا میں نے آپ سے سنا آپ نے اس طرح فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا میں اب بھی یہی بات کہتا ہوں کہ ہم نے تم سے جس شخص کو عامل بنایا وہ ہر چھوٹی بڑی چیز کو لے کر آئے اس کے بعد اسے جو کچھ دیا جائے اسے لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے اس سے رک جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ. قَالَ : " وَمَا لَكَ ؟ " قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : كَذَا وَكَذَا. قَالَ : " وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4633

امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حدیث نمبر ٤٦٣٣ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4634

حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٣٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٥)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4635

ابن جریج کہتے ہیں(قرآن مجید کی آیت){يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: ٥٩] "اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور ارباب اختیار کی اطاعت کرو۔" (یہ آیت)حضرت عبد اللہ بن حزافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر میں(امیر بناکر)بھیجا تھا۔ ابن جریج نے اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛غیر معصیت میں حاکم کی اطاعت واجب اور معصیت میں حرام ہے؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٦)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : نَزَلَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ } فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ ؛ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ. أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4636

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4637

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ بات نہیں کہ جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٨)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4638

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے میرا حکم مانا اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم مانا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے(مقررہ کردہ)امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٩)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4639

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٣٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٤٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4640

مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٤١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4641

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٦٤٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٢)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4642

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتےہیں اور اس میں فرمایا جس نے امیر کی اطاعت کی"امیری"(میرا امیر)کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٣)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ - مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - حَدَّثَهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ : " مَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ " وَلَمْ يَقُلْ : " أَمِيرِي ". وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4643

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر(اپنے امیر کی)اطاعت تنگی اور فراخی،خوشی اور ناخوشی(تمام حالتوں میں)واجب ہے اور اس وقت بھی جب تم پر کسی کو ترجیح دی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٤)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ ، قَالَ سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ، وَيُسْرِكَ، وَمَنْشَطِكَ، وَمَكْرَهِكَ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4644

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بےشک میرے خلیل(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے(امیر کی بات)سننے اور ماننے کا حکم دیا ہے اگرچہ وہ اعضاء بریدہ غلام ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ .

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4645

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اور اس میں اس طرح ہے کہ اگرچہ اعضاء بریدہ حبشی غلام ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا فِي الْحَدِيثِ : عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4646

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ اگرچہ اعضاء بریدہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٧)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4647

حضرت یحییٰ بن حصین فرماتے ہیں میں نے اپنے دادا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے اگر تم پر کوئی غلام بھی حاکم مقرر کردیا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدَّتِي تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ : " وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4648

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث منقول ہے اس میں حبشی غلام کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٩)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " عَبْدًا حَبَشِيًّا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4649

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ناک کٹے حبشی غلام کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4650

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی گئی ہے اس میں ناک کٹے حبشی غلام کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منی یا عرفات میں سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥١)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا "، وَزَادَ : أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، أَوْ بِعَرَفَاتٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4651

حضرت ام حصین بیان کرتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں فرمائیں پھر میں نے سنا آپ نے فرمایا اگر تم پر کوئی ناک کٹا غلام حاکم مقرر کیا جائے(راوی کہتے ہیں میرے خیال میں آپ نے سیاہ بھی فرمایا)جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥٢)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ : سَمِعْتُهَا تَقُولُ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ : " أَسْوَدُ " - يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4652

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر حاکم کی بات سننا اور ماننا لازم ہے پسند کرے یا نہ،البتہ یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے،اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو(اب)نہ سننا ہے اور نہ ماننا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ، وَلَا طَاعَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4653

امام مسلم نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٤)

وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4654

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ جلائی اور کہا اس میں داخل ہوجاؤ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا ہم آگ سے ہی تو بھاگے ہیں یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی گئی تو آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا فرمایا اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے اور دوسروں کی تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اطاعت صرف اچھے کاموں میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ : ادْخُلُوهَا. فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا : " لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4655

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر انصار میں سے ایک شخص کو امیر بنایا آپ نے ان لوگوں کو امیر کی بات سننے اور ماننے کا حکم دیا۔ وہ(امیر لشکر کی وجہ سے)ان پر غضب ناک ہوگیا اس نے کہا میرے لئے لکڑیاں جمع کرو انہوں نے جمع کیں پھر اس نے کہا آگ جلاؤ انہوں نے آگ جلائی اس نے کہا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ تم میری بات سننا اور ماننا؟انہوں نے کہا ہاں فرمایا تھا اس نے کہا اس آگ میں داخل ہوجاؤ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا ہم آگ سے بھاگ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آے ہیں یہی صورت تھی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ جب یہ لوگ واپس آے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا آپ نے فرمایا اگر وہ اس(آگ)میں داخل ہوتے تو اس سے(کبھی)نہ نکلتے،فرمانبرداری اچھے کاموں میں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ - وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ - قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ، وَيُطِيعُوا، فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ : اجْمَعُوا لِي حَطَبًا. فَجَمَعُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ : أَوْقِدُوا نَارًا. فَأَوْقَدُوا، ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي، وَتُطِيعُوا ؟ قَالُوا : بَلَى. قَالَ : فَادْخُلُوهَا. قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا : إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ. فَكَانُوا كَذَلِكَ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ، وَطَفِئَتِ النَّارُ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4656

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4657

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی کہ تنگی اور آسانی،خوشی اور ناخوشی،اور ہم پر(کسی کو)ترجیح دئے جانے کی صورت میں(یعنی ہر حالت میں)امیر کی بات سنیں گے اور مانیں گے اور ہم کسی شخص سے اس کے اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے سچ بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4658

امام مسلم ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٦٥٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٩)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4659

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٦٥٩ کے مثل روایت نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٦٠)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ : ابْنُ الْهَادِ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4660

حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطاء فرمائے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں جس میں ہمارے لئے نفع ہو۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے آپ کی بیعت لی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں پر ہم سے بیعت لی ان میں یہ بات بھی تھی کہ ہم خوشی اور ناخوشی،تنگی اور آسانی اور جب ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے ان تمام حالتوں میں حاکم کی بات سنیں اور مانیں گے اور یہ کہ ہم کسی صاحب اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے فرمایا ہاں یہ کہ تم کھلم کھلا کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف دلیل ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، قَالَ : " إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4661

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کی پشت پناہی میں جنگ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے بچاؤ اختیار کیا جاتا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس پر اس کو اجر ملے گا اور اس کے علاوہ بات کا حکم دے تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي الْإِمَامِ إِذَا أَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ أَجْرٌ؛؛جلد٣ص١٤٧١؛حدیث نمبر ٤٦٦٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ، وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ، وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4662

ابو حازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پانچ سال رہا تو میں نے ان سے سنا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرام کرتے تھے ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عنقریب خلفاء ہوں گے اور زیادہ ہوں گے صحابہ کرام نے پوچھا آپ اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا پہلے کی بیعت کو پورا کرو پھر جو اس کے بعد ہو اور ان کا حق ادا کرو بےشک اللہ تعالیٰ ان سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧١؛حدیث نمبر ٤٦٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ ". قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4663

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٦٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4664

امام مسلم نے متعدد اسناد کے ساتھ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میرے بعد ناحق ترجیح ہوگی اور ایسے کام ہوں گے جو تمہیں پسند نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے جو اس حالت کو پائے اس کے لیے آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا تم ان کا حق ادا کرو جو تمہارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ مِنَّا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4665

عبد الرحمن بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کعبہ شریف کے ساے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے میں بھی ان لوگوں کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔انہوں نے فرمایا ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم ایک منزل میں اترے تو ہم میں سے کچھ مسلمان خیمہ درست کرنے لگے بعض تیر اندازی کرنے لگے اور کچھ اپنے جانوروں میں رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی نماز کھڑی ہونے والی ہے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے ہر نبی پر لازم تھا کہ وہ اپنی امت کی اس بھلائی کی طرف رہنمائی کرے جو اس کے علم میں(بھلائی)ہے اور جس برائی کو جانتا ہے اس سے ان کو ڈراے اور تمہاری اس امت کے پہلے لوگوں میں عافیت ہے اور بعد والے لوگوں کو مصیبتیں،آزمائش اور ایسے امور پہنچیں گے جن کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اور ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جن کے مقابلے میں دوسرے فتنے ہلکے معلوم ہوں گے۔ ایک فتنہ رونما ہوگا تو مومن کہے گا یہ فتنہ میری تباہی کا باعث ہے پھر وہ فتنہ دور ہوجائے گا اور دوسرا فتنہ آے گا یہی فتنہ ہے یہی فتنہ ہے۔ پس جو شخص جہنم کی آگ سے دور رہنا اور جنت میں جانا چاہتا ہے تو اسے موت اس حالت میں آے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور جو شخص کسی امام کی بیعت کرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے اور دل کی گہرائی سے بیعت کرے تو جس قدر ہوسکے اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن مار دو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے تو انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ بات میرے کانوں نے سنی اور دل نے یاد رکھی ہے۔ میں نے کہا یہ آپ کے چچازاد معاویہ ہیں جو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھائیں اور دوسرے کو ناحق قتل کریں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ایمان والو!ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو بےشک اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمانے والا ہے۔ فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ان کی بات نہ مانو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُمْ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّلَاةَ جَامِعَةً. فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا، وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي. ثُمَّ تَنْكَشِفُ، وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ هَذِهِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ، وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ ". فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ، وَقَالَ : سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. فَقُلْتُ لَهُ : هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَاللَّهُ يَقُولُ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا }. قَالَ : فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ : أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4666

امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٦٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4667

حضرت عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ الصائدی فرماتے ہیں میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا...... پھر حسب سابق بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٦٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4668

حضرت اسید بن حضیر فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نے تنہائی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کیا آپ مجھے فلاں شخص کی طرح عامل نہیں بناتے؟آپ نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد اپنے اوپر ترجیح دیکھو گے پس صبر کرو حتیٰ کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ؟ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4669

حضرت اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں عرض کیا.... پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٦٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٧٠)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4670

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ نہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے تنہائی میں عرض کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٧١)

وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُلْ : خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4671

حضرت علقمہ بن وائل حضرمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمیٰ بن یزید جعفی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے نبی!یہ بتلائے اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوں جو ہم سے اپنے حق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حقوق ادا نہ کریں تو(اس صورت میں)آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے اعراض فرمایا،انہوں نے پھر سوال کیا آپ نے پھر اعراض فرمایا پھر دوسری یا تیسری مرتبہ سوال کیا تو حضرت اشعث بن قیس نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا فرمایا سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کا بوجھ ان پر اور تمہارا بوجھ تم پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ، وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ - أَوْ فِي الثَّالِثَةِ - فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ. وَقَالَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ؛ فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4672

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث بن قیس نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو بےشک ان پر ان کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارا بوجھ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ؛جلد٣ص١٤٧٥؛حدیث نمبر ٤٦٧٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ : فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ؛ فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4673

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں اس میں مبتلا نہ ہوجاؤں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس یہ خیر لایا تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں،میں نے پوچھا کیا اس شر کے بعد خیر ہوگی آپ نے فرمایا ہاں! ہوگی، اور اس میں کچھ کدورت ہوگی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیسی ہوگی آپ نے فرمایا کچھ لوگ میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میری ہدایت کے خلاف عمل کریں گے ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری باتیں بھی۔ میں نے پوچھا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگی آپ نے فرمایا ہاں! کچھ لوگ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مانے گااس کو جہنم میں ڈالیں گے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان کی صفت(پہچان)بیان کیجئے! آپ نے فرمایا: ان کا(ظاہری)رنگ ہماری طرح ہوگا اور وہ ہماری زبان بولتے ہوں گے، میں نے عرض کیا! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لئے کیا ہدایت ہے! آپ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کیا اگر ان کی جماعت اور امام نہ ہو تو؟آپ نے فرمایا فرقوں سے الگ رہنا اگرچہ تمہیں موت آنے تک درخت کی جڑیں چبانا پڑیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٥؛حدیث نمبر ٤٦٧٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ : كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ؛ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". فَقُلْتُ : هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ ". قُلْتُ : وَمَا دَخَنُهُ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ". فَقُلْتُ : هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ". فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ : " نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ". قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ". فَقُلْتُ : فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ، وَلَا إِمَامٌ ؟ قَالَ : " فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4674

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم لوگ برائی میں تھے تو اللہ تعالیٰ بھلائی(اسلام)لایا اور اب ہم اس میں ہیں تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی شر ہوگی؟آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا! کیا اس شر کے بعد خیر بھی ہوگی؟ فرمایا ہاں! میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی؟آپ نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کیسے ہوگی،آپ نے فرمایا میرے بعد حکمران ہوں گے جو میری ہدایت پر عمل نہیں کریں گے جن کے دل شیطانوں کے دلوں جیسے ہوں گے لیکن جسم انسانوں کی طرح ہوں گے میں نے عرض کیا میں اس وقت کیا کروں یا رسول اللہ!اگر میں وہ پاؤں؟ آپ نے فرمایا :امیر کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگر تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال لے لیا جائے پھر بھی سنو اور اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٦؛حدیث نمبر ٤٦٧٥)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قُلْتُ : هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قُلْتُ : فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قُلْتُ : كَيْفَ ؟ قَالَ : " يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ ". قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4675

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس شخص نے اطاعت چھوڑی اور جماعت سے الگ ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھی تقلید میں کسی جھنڈے کے نیچے جنگ کرے یا کسی مصیبت کی بنا پر اسے غصہ آئے یا وہ مصیبت کی طرف دعوت دے یا عصبیت کی خاطر کسی کی مدد کرے اور قتل کیا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص میری امت پر خروج کرے اور اچھوں بروں سب کو قتل کرے کسی مؤمن کا لحاظ نہ کرے اور نہ کسی عہد کو پورا کرے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٦؛حدیث نمبر ٤٦٧٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ ، يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4676

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٧٦ کے مثل مروی ہے اس میں یوں ہے کہ "کسی مؤمن کی پرواہ نہ کرے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٧)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ : " لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4677

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے الگ ہوجائے پھر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھی تقلید کے نیچے لڑتا ہوا قتل کیا جائے جو عصبیت کی بنیاد پر غضب ناک ہوا اور عصبیت کی خاطر لڑ پڑا وہ میری امت میں سے نہیں اور میری امت کا جو شخص میری امت کے خلاف خروج کرے اور ان کے نیک و بد سب کو مارے کسی مؤمن کی پرواہ نہ کرے یا عہد کی پابندی نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ، وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي، وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4678

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے ابن مثنی نے اپنی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا لیکن ابن بشار نے دوسری روایتوں کی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّى فَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ، وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4679

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے امیر سے ناپسندیدہ بات دیکھی تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص اپنی جماعت سے ایک بالشت جدا ہوکر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٨٠)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ ؛ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4680

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے اپنے امیر سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھی تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ لوگوں میں سے جو شخص اپنے امیر(کی اطاعت)سے ایک بالشت بھی الگ ہوا اور پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨١)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا، فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4681

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے مر گیا یعنی جو عصبیت کی دعوت دیتا تھا یا بطور عصبیت کسی کی مدد کرتا تھا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٢)

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4682

حضرت نافع فرماتے ہیں جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مطیع کے پاس گئے ابن مطیع نے کہا ابو عبد الرحمن(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت)کے لئے غالیچہ بچھاؤ انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس بیٹھنے نہیں آیا میں اس لئے تمہارے پاس آیا ہوں کہ تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے(حکمران کی)اطاعت سے ایک بالشت بھی ہاتھ کھینچ لیا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہوگی اور جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہیں تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ - وَهُوَ : ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ : اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً. فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ، وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4683

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ابن مطیع کے پاس گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث ذکر کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4684

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٨٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4685

حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا عنقریب فتنے ہوں گے سنو!جو شخص اس امت کی جمعیت کو توڑنے کا ارادہ کرے اس کو تلوار سے مار دو وہ جو بھی ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٧٩؛حدیث نمبر ٤٦٨٦)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4686

امام مسلم نے متعدد سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حدیث نمبر ٤٦٨٦ کے مثل روایت کیا سب روایات میں(فاضربوہ کی بجائے)"فاقتلوا" ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٧٩؛حدیث نمبر ٤٦٨٧)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ح وَحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَرَجُلٌ سَمَّاهُ، كُلُّهُمْ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا : " فَاقْتُلُوهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4687

حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب تم ایک شخص کی امامت پر متفق ہو اور وہ(تمہارے اتحاد کی)لاٹھی کو توڑنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کو قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٨٨)

وَحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4688

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ؛ترجمہ؛دو خلیفوں سے بیعت کا حکم؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٨٩)

وَحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخِرَ مِنْهُمَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4689

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب کچھ امراء ہوں گے تم ان کی اچھی اور بری دونوں باتیں دیکھو گے جس نے برے کاموں کو پہچان لیا وہ بری الذمہ ہوگیا اور جس نے(ان برے کاموں کا)انکار کیا وہ محفوظ ہوگیا لیکن جو راضی ہوا اور ان کی پیروی کی(وہ محفوظ نہیں رہے گا) صحابہ کرام نے عرض کیا ہم ان سے لڑائی نہ لڑیں آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛خلاف شرع امور میں حکام کا رد کرنا واجب ہے اور جب تک نماز پڑھتے رہیں ان سے لڑنا ممنوع ہے؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٠)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ، فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". قَالُوا : أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا، مَا صَلَّوْا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4690

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر حکمران مقرر کئے جائیں گے تم ان میں اچھی باتیں بھی دیکھو گے اور بری باتیں بھی جس نے ان برے کاموں کو ناپسند کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ان برے کاموں کو ناپسند کیا وہ محفوظ ہوگیا لیکن جو راضی ہوا اور اس نے پیروی کی(وہ محفوظ نہ رہا)صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم ان کو قتل نہ کریں؟فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں(مطلب یہ ہے کہ دل سے ناپسند کیا اور دل سے مسترد کیا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨١؛حدیث نمبر ٤٦٩١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُقَاتِلُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا، مَا صَلَّوْا ". أَيْ : مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ، وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4691

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٩١ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ فرمایا جس نے انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ناپسند کیا وہ محفوظ ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٢)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4692

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...... اس کے بعد حدیث ٤٦٩١ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں"کہ جو راضی ہوا اور پیروی کی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٣)

وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ : " وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". لَمْ يَذْكُرْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4693

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کریں اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم ان کو تلوار کے ذریعے معزول نہ کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی برائی دیکھو تو ان کے عمل کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ خِيَارِ الْأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ". قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ ؟ فَقَالَ : " لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ، وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4694

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں اور تم ان کے ساتھ نماز پڑھو اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو وہ تم سے نفرت کرے تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔صحابہ کرام فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس صورت میں ہم ان کو معزول نہ کردیں آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ سنو!جن لوگوں پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا پھر وہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا دیکھیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کو برا جانیں لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچیں۔ ابن جابر فرماتے ہیں جب رزیق بن حیان نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو میں نے ان سے کہا اے ابو المقدام!میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے یا تم نے خود مسلم بن قرظہ سے سنی ہے جو کہتے ہیں میں نے حضرت عوف سے سنی اور وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت رزیق گھٹنوں کے بل جھک گئے اور قبلہ رخ ہو کر کہنے لگے اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے یہ حدیث مسلم بن قرظہ سے سنی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عوف بن مالک سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ خِيَارِ الْأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٨٢؛حدیث نمبر ٤٦٩٥)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ - وَهُوَ : رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ - أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ". قَالُوا : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ، فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ". قَالَ ابْنُ جَابِرٍ : فَقُلْتُ - يَعْنِي لِرُزَيْقٍ - حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ : آللَّهِ، يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَكَ بِهَذَا - أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ - يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4695

امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت عوف بن مالک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٢؛حدیث نمبر ٤٦٩٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ. قَالَ مُسْلِمٌ : وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4696

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حدیبیہ کے دن چودہ سو افراد تھے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ(سمرہ)درخت کے نیچے آپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ہم نے آپ کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛ترجمہ؛جنگ کے وقت مجاہدین سے بیعت لینے کا استحباب اور بیعت رضوان کا بیان؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ، وَقَالَ : بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4697

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی تھی ہم نے اس بات پر آپ کی بیعت کی تھی ہم بھاگیں گے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4698

ابو الزبير کہتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے پوچھا گیا کہ حدیبیہ میں آپ لوگوں کی کتنی تعداد تھی انہوں نے فرمایا ہم چودہ سو افراد تھے ہم نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاتھ پر سمرہ درخت کے نیچے بیعت کی جد بن قیس انصاری کے علاوہ سب نے بیعت کی،وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ : كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ : كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ، فَبَايَعْنَاهُ، غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4699

ابو الزبير فرماتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟انہوں نے فرمایا نہیں آپ نے وہاں صرف نماز پڑھی آپ نے حدیبیہ کے درخت کے سوا کسی درخت کے نیچے بیعت نہیں لی۔ ابوالزبیر فرماتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا فرمائی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٧٠٠)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ - مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ - قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ : هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ؟ فَقَالَ : لَا، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ، إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4700

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو افراد تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تم آج تمام اہل زمین سے بہترین لوگ ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر مجھے دکھائی دیتا(چونکہ آپ نابینا ہوچکے تھے)تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالَ سَعِيدٌ، وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ". وَقَالَ جَابِرٌ : لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4701

حضرت سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ(بیعت رضوان والے صحابہ کرام)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرتا۔ لیکن ہم پندرہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٢)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ : لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا ؛ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4702

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرتا لیکن ہم پندرہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي الطَّحَّانَ - كِلَاهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا ؛ كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4703

حضرت سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس دن تم کتنے تھے؟انہوں نے فرمایا چودہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٤)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4704

حضرت عبید اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو - يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَمِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4705

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٦)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4706

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے بیعت رضوان کے دن دیکھا حضور علیہ الصلاۃ والسلام لوگوں کو بیعت فرما رہے تھے اور میں درخت کی ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے ہٹا رہا تھا اس دن ہم چودہ سو افراد تھے وہ فرماتے ہیں ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ، وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ : لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4707

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٨)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4708

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد بھی ان لوگوں میں تھے جو درخت کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کر رہے تھے فرماتے ہیں جب ہم اگلے سال حج کے لئے گئے تو وہ جگہ ہمیں معلوم نہ ہو سکی اگر تمہیں وہ جگہ معلوم ہو تو تم زیادہ جانتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٩)

وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ، فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4709

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بیعت رضوان کے وقت وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پھر وہ اگلے سال اس درخت کو بھول گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧١٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ، قَالَ : فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4710

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے اس درخت کو دیکھا تھا پھر اس کے بعد وہاں آیا تو اس کو پہچان نہ سکا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١١)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4711

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبیدہ کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کس چیز کی بیعت کی تھی،انہوں نے فرمایا موت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٢)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ - مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ - قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4712

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٣)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4713

حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا ابن حنظله لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں پوچھا کس چیز پر؟کہا موت پر،انہوں نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٤)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ : هَا ذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ. فَقَالَ : عَلَى مَاذَا ؟ قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ. قَالَ : لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4714

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھا اے ابن اکوع!کیا تم اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ گئے ہو اور جنگلوں میں رہنے لگ گئے ہو؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگلوں میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ رُجُوعِ الْمُهَاجِرِ إِلَى اسْتِيطَانِ وَطَنِهِ؛ترجمہ؛ہجرت کے بعد پھر اس جگہ کو وطن بنانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ ؟ قَالَ : لَا، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4715

حضرت مجاشع بن مسعود سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ ہجرت پر آپ کی بیعت کروں تو آپ نے فرمایا ہجرت،اہل ہجرت کے لئے ختم ہوچکی ہے لیکن اسلام،جہاد اور بھلائی پر بیعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛ترجمہ؛فتح مکہ کے بعد اسلام،جہاد اور خیر پر بیعت کرنا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کی تاویل؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ : " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا، وَلَكِنْ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْجِهَادِ، وَالْخَيْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4716

حضرت مجاشع بن مسعود سلمی فرماتے ہیں میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی ابو معبد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہجرت پر ان سے بیعت لیجیے آپ نے فرمایا ہجرت کے اہل لوگوں کی ہجرت ختم ہوچکی ہے میں نے عرض کیا پھر آپ کس بات پر ان کی بیعت لیں گے آپ نے فرمایا اسلام،جہاد اور بھلائی پر(بیعت لوں گا) ابو عثمان کہتے ہیں میری حضرت ابو معبد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٧)

وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ : " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا ". قُلْتُ : فَبِأَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ ؟ قَالَ : " عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْجِهَادِ، وَالْخَيْرِ ". قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ : صَدَقَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4717

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ اس میں ہے کہ میری حضرت مجاشع کے بھائی سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا اس نے سچ کہا اس میں ابو معبد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ : فَلَقِيتُ أَخَاهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4718

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا(اب مکہ مکرمہ سے)ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں(جہاد کے لیے)بلایا جائے تو نکلا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4719

امام مسلم نے اس حدیث کی مزید تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ - يَعْنِي ابْنَ مُهَلْهِلٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4720

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا فتح کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں(جہاد کے لیے)بلایا جائے تو فوراً چل پڑو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4721

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہجرت تو بہت مشکل کام ہے کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تو ان کی زکوٰۃ دیتا ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا سمندر کے پار عمل کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4722

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا اور یہ اضافہ بھی ہے کہ جس دن اونٹنیاں گھاٹ(یا چشمے)پر آتی ہیں تو تم،لوگوں کو ان کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتے ہو؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٣)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ". وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ : " فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4723

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مؤمنہ عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتیں تو اس آیت کی بنا پر ان کا امتحان لیا جاتا ہے۔ "اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں آئیں اور اس بات پر آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کی مرتکب ہوں گی"(آخر تک) ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جن مؤمنہ عورتوں نے اس بات کا اقرار کیا انہوں نے اپنے آپ کو امتحان میں ڈال دیا اور جب وہ عورتیں ان باتوں کا اقرار کرلیتی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے جاؤ میں تمہیں بیعت کرچکا ہوں اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا آپ صرف زبان سے ان کو بیعت کرتے تھے۔ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان ہی باتوں کی بیعت لی جن باتوں کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا بلکہ آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرماتے میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛ترجمہ؛عورت کو بیعت کرنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٤٨٩؛حدیث نمبر ٤٧٢٤)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ : كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ }. إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ ". وَلَا وَاللَّهِ، مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ. قَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ، مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ : " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ ". كَلَامًا.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4724

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا البتہ آپ ان سے زبانی عہد لیتے تھے جب آپ ان سے عہد لے لیتے تو فرماتے جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛جلد٣ص١٤٨٩؛حدیث نمبر ٤٧٢٥)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ هَارُونُ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ، قَالَتْ : مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا، فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا، فَأَعْطَتْهُ قَالَ : " اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4725

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَاعَ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَيُّوبَ - قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4726

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے غزوہ احد میں اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ مجھے اجازت نہیں دی کیونکہ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی اور خندق کے موقع پر پیش کیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے اجازت دے دی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان دنوں وہ خلیفہ تھے میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان حد ہے چنانچہ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو شخص پندرہ سال کا ہو اس کا حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو اس کو بچوں میں شمار کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ سِنِّ الْبُلُوغِ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي. قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ. فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4727

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں چودہ سال کا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ سِنِّ الْبُلُوغِ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ : وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4728

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛ترجمہ؛کفار کے ہاتھوں لگنے کا ڈر ہو تو قرآن مجید کو کفار کی زمین میں لے جانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4729

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ سے روایت کرتےہیں کہ آپ دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے آپ اس بات کا خوف محسوس کرتے تھے کہ کہیں قرآن مجید دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٠)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4730

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید لے کر(دشمن کے ملک میں)سفر نہ کرو کیونکہ میں اس کے دشمن کے ہاتھ لگنے سے بے خوف نہیں ہوں۔ ایوب فرماتے ہیں قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ اس کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ ؛ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ". قَالَ أَيُّوبُ : فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ، وَخَاصَمُوكُمْ بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4731

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خوف ہے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں"دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف ہے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَالثَّقَفِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَالثَّقَفِيِّ : " فَإِنِّي أَخَافُ ". وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ : " مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4732

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضمار شدہ(اضمار کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑے کا چارہ کم کر کے اسے ایک گرم جھول پہنا کر کسی کوٹھری میں بند کردیا جائے تاکہ اسے خوب پسینہ آے اور اس کا گوشت کم ہو اور زیادہ تیز دوڑ سکے)گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیہ الوداع تک دوڑ کامقابلہ کرایا اور جن میں اضمار نہیں کیا گیا تھا ان میں ثنیہ سے مسجد زریق کا مقابلہ کرایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی دوڑ میں حصہ لینے والوں میں شامل تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُسَابَقَةِ بَيْنَ الْخَيْلِ وَتَضْمِيرِهَا؛ترجمہ؛گھڑدوڑ میں مقابلہ اور اس کی تیاری کا بیان؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4733

امام مسلم علیہ الرحمہ نے متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ایک روایت میں ہے کہ میں آگے نکل گیا اور گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں چڑھ گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُسَابَقَةِ بَيْنَ الْخَيْلِ وَتَضْمِيرِهَا؛جلد٣ص١٤٩٢؛حدیث نمبر ٤٧٣٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ : ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ، وَابْنِ عُلَيَّةَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَجِئْتُ سَابِقًا، فَطَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ الْمَسْجِدَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4734

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے برکت رکھی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4735

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٦)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4736

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے گھوڑے کی پیشانی کے بال مل رہے تھے اور فرما رہے تھے کے خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں مرکوز ہے یعنی اجر و غنیمت۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٧)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ الْجَهْضَمِيُّ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِي نَاصِيَةَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؛ الْأَجْرُ، وَالْغَنِيمَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4737

امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4738

حضرت عروہ بارقی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک خیر و برکت(یعنی)اجر و غنیمت گھوڑوں کی پیشانی میں باندھ دی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؛ الْأَجْرُ، وَالْمَغْنَمُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4739

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی مرکوز ہے آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ!یہ کس صورت میں ہے فرمایا قیامت تک اجر اور غنیمت۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٤٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْرُ مَعْقُوصٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ ". قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " الْأَجْرُ، وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4740

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤١)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ .

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4741

امام مسلم نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت کی سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، جَمِيعًا عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرِ : " الْأَجْرَ، وَالْمَغْنَمَ ". وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4742

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے اس میں اجر اور غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٣)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرِ : " الْأَجْرَ، وَالْمَغْنَمَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4743

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٤)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4744

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٧٤٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4745

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شکال گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٦)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4746

ایک اور سند سے حدیث نمبر ٤٧٤٦ کے مثل مروی ہے اور عبد الرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ شکال وہ گھوڑا ہے جس کا دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ یا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں سفید ہو۔(اس گھوڑے کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاؤں میں دوڑنے کی زیادہ قوت نہیں ہوتی شرعی کراہت مراد نہیں۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَالشِّكَالُ أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَى بَيَاضٌ، وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَى، أَوْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى، وَرِجْلِهِ الْيُسْرَى.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4747

ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٧٤٧ کے مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَفِي رِوَايَةِ وَهْبٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ : وَلَمْ يَذْكُرِ النَّخَعِيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4748

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے جو شخص صرف میرے راستے میں جہاد کے لئے نکلے وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہو۔ تو میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اس کو جنت میں داخل کروں گا(یعنی شہادت کا مقام پائے گا)یا اسے اس کے گھر اجر و غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اسے جو بھی زخم لگے گا قیامت کے دن وہ اسی حالت میں اٹھے گا جس حالت میں اسے زخم لگا تھا اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کرسکوں اور ان پر یہ بات گراں گزرے گی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جاؤں پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ - وَهُوَ : ابْنُ الْقَعْقَاعِ - عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانًا بِي، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ مِسْكٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو، فَأُقْتَلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4749

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4750

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اس کا گھر سے نکلنا صرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے اور اس کے کلمہ کی تصدیق کی خاطر ہو تو اللہ تعالیٰ اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ(اگر وہ شہید ہوجائے تو)اسے جنت میں داخل کرے یا اجر و غنیمت کے ساتھ اس کو اس گھر کی طرف لوٹاے جہاں سے نکلا تھا اور اس کو اجر و غنیمت بھی عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥١)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4751

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کون زخمی ہوتا ہے تو وہ شخص قیامت کے دن اس طرح آے گا کہ اس کا زخم بہ رہا ہوگا اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٢)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ - إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4752

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے قیامت تک وہ زخم اسی حالت میں ہوگا جیسا زخم لگتے وقت تھا اس سے خون ابل رہا ہوگا جس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور خوشبو کستوری کی طرح ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اگر میں اپنی امت پر مشقت(کا باعث)نہ سمجھتا تو میں کسی لشکر سے پیچھے بیٹھ نہ جاتا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے لیکن میرے پاس اتنی فراخی نہیں کہ ان(سب)کو سواری میسر کرسکوں اور نہ ہی گنجائش رکھتے ہیں کہ میرے ساتھ جاسکیں اور وہ مجھ سے پیچھے رہ جانے پر خوش بھی نہیں ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٧؛حدیث نمبر ٤٧٥٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4753

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر میں یہ مومنوں پر باعث مشقت نہ سمجھتا تو کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٥٣ کے مثل مروی ہے اور اسی سند کے ساتھ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اس کے بعد ابوزرعہ کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ ". بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا ". بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4754

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر دشوار خیال نہ کرتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں..... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ ". نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4755

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے اس کے بعد حسب سابق ہے یہاں تک کہ فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے میں اس سے پیچھے نہ رہتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٦)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ". إِلَى قَوْلِهِ : " مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4756

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص فوت ہوتا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا اچھا اجر ہوتا ہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور نہ یہ کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے لئے ہو،مگر شہید تمنا کرے گا کہ وہ پھر دنیا میں جاے اور اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا ؛ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4757

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ دنیا میں واپس جانا پسند نہیں کرے گا اور نہ اس بات کو کہ اسے دنیا کی ہر چیز مل جاے البتہ شہید یہ تمنا کرے گا کہ وہ پھر دنیا میں جاے اور دس بار قتل کیا جائے اس کی وجہ وہ عزت و کرامت ہے جو دیکھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ؛ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4758

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے برابر عبادت کونسی ہے آپ نے فرمایا تم اس عبادت کی طاقت نہیں رکھتے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے دو یا تین بار یہی سوال کیا ہر بار آپ نے یہی جواب دیا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تیسری بار فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو روزہ دار ہو (رات کو)قیام کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے جھکنے والا(عمل کرنے والا)ہو وہ روزے اور نماز میں کمی نہ کرے حتیٰ کہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ". قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ". وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ، وَلَا صَلَاةٍ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4759

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4760

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف کے پاس تھا ایک شخص نے عرض کیا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد صرف حجاج کرام کو پانی پلاؤں دوسرے شخص نے کہا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد صرف مسجد حرام کو آباد کروں تیسرے شخص نے کہا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا تمہارے بیان کردہ اعمال سے افضل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ (فرمایا)جمعہ کا دن تھا میں جمعہ کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس مسئلہ میں تمہارا اختلاف ہے اس کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص(کے عمل)کی طرح قرار دیا جو اللہ تعالیٰ کی اور آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا۔[التوبة: ١٩] (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦١)

حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ. وَقَالَ آخَرُ : مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ. وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ. فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، وَقَالَ : لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ - وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ } الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4761

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا...... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٦١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٢)

وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4762

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛ترجمہ؛صبح و شام اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4763

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا صبح کے وقت بندے کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے،سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " وَالْغَدْوَةُ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4764

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا ومافيها سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " غَدْوَةٌ، أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4765

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہو..... آگے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا البتہ صبح یا شام کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں دنیاو مافيها سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ أُمَّتِي ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : " وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4766

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا یا شام کے وقت نکلنا اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَإِسْحَاقَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4767

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4768

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو سعید!جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے،اسلام کے دین اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!دوبارہ فرمائے،آپ نے دوبارہ اسی طرح فرمایا پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے جس کے ذریعے جنت میں بندے کے ایک سو درجات بلند ہوتے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فیصلہ ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد،اللہ کے راستے میں جہاد۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ مَا أَعَدَّهُ اللهُ تَعَالَى لِلْمُجَاهِدِ فِي الْجَنَّةِ مِنَ الدَّرَجَاتِ؛ترجمہ؛جنت میں مجاہد کے درجات؛جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٦٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ : أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ : " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ ؛ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ". قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4769

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں کھڑے ہوکر ذکر کیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیے جاؤ اور تم صبر کرنے والے،ثواب کی نیت رکھنے والے اور آگے بڑھنے والے ہو پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کس طرح کہا تھا۔ اس نے عرض کیا آپ بتائیے اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جاؤں تو یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں(کفارہ ہوگا)اگر تم صبر کرنے والے ثواب کی نیت کرنے والے آگے بڑھنے والے ہو پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو البتہ قرض(معاف نہ ہوگا)حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھ سے یہ بات کہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ إِلَّا الدَّيْنَ؛جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٧٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ، فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ، إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ، وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إِلَّا الدَّيْنَ ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِي ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4770

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے عرض کیا مجھے بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ، إِلَّا الدَّيْنَ,جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4771

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے کچھ کمی اور کچھ اضافہ کے ساتھ یہ روایت بھی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ منبر پر تھے اس نے کہا بتلائیے اگر میں اپنی تلوار سے مارا جاؤں...... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٢)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي. بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4772

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کے سوا شہید کا ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٣)

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عَيَّاشٍ - وَهُوَ : ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ، إِلَّا الدَّيْنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4773

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہوجانا قرض کے علاوہ ہر گناہ کا کفارہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ، إِلَّا الدَّيْنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4774

حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی۔(ترجمہ آیت کریمہ) "اور ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں،مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔" حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے بھی اس کی تفسیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ نے فرمایا ان(شہداء)کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں ان کے لئے عرش میں قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہیں چرتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہوکر فرماتا ہے تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے تو وہ کہتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں چرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تین بار یہ بات دریافت فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کو سوال کے بغیر چھوڑا نہیں جارہا تو عرض کرتے ہیں اے رب!ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے حتیٰ کہ ہم دوبارہ تیرے راستے میں شہید ہوجائیں۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھتا ہے کہ ان کو کوئی حاجت نہیں تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ؛ترجمہ؛شہداء کی ارواح جنت میں ہوتی ہے شہداء زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : { وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ }، قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ : هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا ؟ قَالُوا : أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا ؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا : يَا رَبِّ، نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا، حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى. فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4775

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا کہ لوگوں میں افضل کون شخص ہے؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔ پوچھا پھر کون؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے جو اس کا رب ہے اور لوگوں کو اپنی شر سے محفوظ رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛ترجمہ؛جہاد اور سرحدوں پر پہرہ دینے کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٦)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : " رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ ". قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4776

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ لوگوں میں افضل کون شخص ہے؟آپ نے فرمایا وہ مؤمن جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس نے پوچھا پھر کون؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو لوگوں سے الگ تھلگ گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں ہو اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ، وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4777

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے"گھاٹی میں ایک شخص" "ثم رجل" کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٨)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ : " وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ ". وَلَمْ يَقُلْ : " ثُمَّ رَجُلٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4778

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی بہترین زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل جائے اور اس کی پیٹ پر اڑتا پھرے جب دشمن کی آہٹ یا خوف محسوس کرے تو اس طرف نکل جائے اور قتل یا موت کی تلاش کرے یا وہ شخص جو بکریاں لے کر پہاڑ کی کسی چوٹی یا کسی وادی میں نکل جائے نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کے معاملات میں بھلائی کے علاوہ کسی معاملے میں نہ پڑے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَعْجَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً ، أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ ، أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ، أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4779

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں"من ھذہ الشعاب" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨٠)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَيَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ : عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ وَقَالَ : " فِي شُعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ". خِلَافَ رِوَايَةِ يَحْيَى.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4780

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٧٧٩ کے مثل روایت کرتے ہیں اور اس حدیث میں"فی شعب من الشعاب" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ بَعْجَةَ، وَقَالَ : " فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4781

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر خوش ہوتا ہے کیونکہ ایک دوسرے آدمی کو قتل کرے گا اور یہ دونوں جنت میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)یہ کیسے ہوگا آپ نے فرمایا ایک شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہوگا پھر اللہ تعالیٰ قاتل کی توبہ قبول کرے گا اور وہ اسلام قبول کرلے گا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہوجائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛ترجمہ؛قاتل اور مقتول کا جنت میں داخل ہونا؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ". فَقَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ، فَيُسْلِمُ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُسْتَشْهَدُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4782

ایک اور سند سے بھی یہ روایت حدیث نمبر ٤٧٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4783

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو بندوں کی طرف دیکھ کر خوش ہوتا ہے(راضی ہونا مراد ہے)ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کرے گا اور وہ دونوں جنت میں جائیں گے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!یہ کس طرح ہوگا فرمایا یہ(ایک)شہید ہوکر جنت میں جاے گا پھر اللہ تعالیٰ دوسرے کی توبہ قبول کر کے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ". قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ، فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُسْتَشْهَدُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4784

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا قاتل مسلمان جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوں گے۔(یعنی اگر مسلمان کسی جرم کی وجہ سے جہنم میں جائے گا تو ہمیشہ وہاں نہیں رہے گا یعنی عدم جمع کی مخصوص صورت مراد ہے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ أَسْلَمَ؛ترجمہ؛کافر کو قتل کرنے کے بعد نیک اعمال پر قائم رہنا؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4785

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ایک دوسرے کو ضرر پہنچائیں پوچھا گیا یا رسول اللہ!کون؟فرمایا وہ مؤمن جس کسی کافر کو قتل کرے اور پھر نیکی پر قائم رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ". قِيلَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4786

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص اونٹنی کی مہار پکڑ کر لایا اور اس نے عرض کیا یہ اللہ کی راہ میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں سات سو اونٹنیاں ملیں گی ان سب کو نکیل ڈالی گئی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَتَضْعِيفِهَا؛ترجمہ؛اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ، فَقَالَ : هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُمِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4787

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَتَضْعِيفِهَا؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4788

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا جانور ضائع ہوگیا ہے آپ مجھے کوئی سواری عنایت فرمائیں آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری نہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کو ایک ایسا شخص بتاتا ہوں جو اس کو سوار کردے گا آپ نے فرمایا جو شخص کسی نیکی کا راستہ بتاے گا اس کے لیے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٨٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي. فَقَالَ : " مَا عِنْدِي ". فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4789

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩٠)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4790

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلہ کے ایک نوجوان نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے جہاد کا ارادہ کیا ہے لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا فلاں شخص کے پاس جاؤ اس نے سامان جہاد تیار کیا تھا پھر وہ بیمار ہوگیا،چنانچہ وہ شخص اس کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے جو سامان تیار کیا ہے وہ مجھے دے دو اس نے(اپنی بیوی سے)کہا اے فلاں خاتون!جو سامان میں نے تیار کیا ہے وہ ان کو دے دیں اور اس میں سے کچھ بھی اپنے پاس نہ رکھیں اللہ تعالیٰ کی قسم!اگر تم اس میں سے کچھ اپنے پاس رکھو گی تو اس میں تمہارے لیے برکت نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ، وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ ؟ قَالَ : " ائْتِ فُلَانًا ؛ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ، فَمَرِضَ ". فَأَتَاهُ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ : أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ. قَالَ : يَا فُلَانَةُ، أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ، وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا، فَوَاللَّهِ لَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَكَ لَكِ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4791

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی غازی کو سامان دیا اس نے(گویا)جہاد کیا اور جس شخص نے غازی کے گھر کی اچھی طرح دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩٢)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَقَالَ سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، مَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4792

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی مجاہد کے لئے سامان مہیا کیا اور جس نے کسی مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4793

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہذیل(قبیلہ)کی شاخ بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا(ہر گھر میں سے)دو مردوں میں سے ایک نکلے اور ثواب دونوں کو ملے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٤)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ - مَوْلَى الْمَهْرِيِّ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ، فَقَالَ : " لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4794

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٩٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٥)

وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ - مَوْلَى الْمَهْرِيِّ - حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا، بِمَعْنَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4795

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٦)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4796

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو لحیان کی طرف لشکر بھیجا اور فرمایا ہر دو مردوں میں سے ایک نکلے پھر پیچھے رہنے والوں سے فرمایا تم میں سے جو بھی جہاد پر جانے والوں کے گھر اور مال کی اچھی طرح حفاظت کرے گا اسے جانے والے شخص کا آدھا اجر ملے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٧)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ - مَوْلَى الْمَهْرِيِّ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ : " لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ". ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ : " أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4797

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھروں میں بیٹھنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی عزت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی عزت و حرمت ہے اور پیچھے رہنے والوں میں سے جو کسی مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال رکھے اور پھر ان میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کے مال سے جو کچھ چاہے گا لے لےگا اب تمہارا کیا خیال ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛ترجمہ؛مجاہدین کی عورتوں کی عزت اور ان میں خیانت کا گناہ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٧٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ، فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ، فَمَا ظَنُّكُمْ ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4798

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.........اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٧٩٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4799

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ مجاہد سے کہا جائے گا جو چاہو لے لو پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھ کر فرمایا اب تمہارا کیا خیال ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٨٠٠)

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ : " فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ". فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " فَمَا ظَنُّكُمْ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4800

حضرت اسحاق کہتے ہیں انہوں نے حضرت براء سے سنا وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے تھے۔ "مومنوں میں سے(گھروں میں) بیٹھنے والے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں"[النساء: ٩٥] کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک شانہ کی ہڈی لے کر آئیں وہ بازو لے کر آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی نابینائی کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مومنوں میں سے گھروں میں بیٹھنے والے(مجاہدین کے)برابر نہیں،ماسوائے معذور لوگوں کے"[النساء: ٩٥] ایک اور سند کے ساتھ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر اسی طرح مذکور ہے ایک اور سند سے بھی ان سے اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ سُقُوطِ فَرْضِ الْجِهَادِ عَنِ الْمَعْذُورِينَ؛ترجمہ؛معذور لوگوں سے جہاد ساقط ہونا؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٨٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : ( لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ) فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، فَجَاءَ بِكَتِفٍ يَكْتُبُهَا، فَشَكَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ ، فَنَزَلَتْ : { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ }. قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ }. بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ. وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ : سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ .

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4801

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] ("گھروں میں) بیٹھنے والے مومن(اور جہاد کرنے والے) برابر نہیں" تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام سے گفتگو کی اس پر "(ما سوا معذوروں کے)الفاظ نازل ہوۓ۔ (جو لوگ کسی عزر کی وجہ سے جہاد کے لیے نہیں جا سکے ان کو اجر ملے گا البتہ بلا عذر نہ جانے والے کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا وہ مقام نہیں جو مجاہدین کا ہوگا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ سُقُوطِ فَرْضِ الْجِهَادِ عَنِ الْمَعْذُورِينَ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ } كَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَنَزَلَتْ : { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ }.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4802

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر میں شہید ہو جاؤں تو کہاں ہوں گا؟آپ نے فرمایا"جنت میں"اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں پھینک دیں پھر لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔حضرت سوید کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛ترجمہ؛شہید کے لئے جنت کا ثبوت؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ ". فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ، حَتَّى قُتِلَ. وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4803

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو نبیث کا ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔پھر آگے بڑھ کر لڑا حتیٰ کہ شہید ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے بہت کم عمل کیا اور اس کو اجر زیادہ دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ تَقَدَّمَ، فَقَاتَلَ، حَتَّى قُتِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4804

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو ابوسفیان کے قافلے کی خبر لانے کے لئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں تھا(راوی کہتے ہیں)مجھے یاد نہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کی بعض ازواج مطہرات کا استثناء کیا یا نہیں۔ حضرت انس کہتے ہیں اس جاسوس نے آکر رپورٹ پیش کی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا ہمیں ایک چیز کی طلب ہے پس جس شخص کی سواری حاضر ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہوکر چلے۔ بعض صحابہ کرام نے آپ سے اجازت طلب کی کہ مدینہ طیبہ کے بالائی مقام سے اپنی سواریاں لے آئیں آپ نے فرمایا نہیں صرف وہی لوگ چلیں جن کی سواریاں موجود ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام چلے حتیٰ کہ مشرکین سے پہلے"بدر"میں پہنچ گئے پھر مشرکین بھی آگئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص میرے بغیر پیش قدمی نہ کرے مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی میں آسمان اور زمین سماے ہیں۔ حضرت عمیر بن حمام انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جنت کا عرض آسمان اور زمین ہے آپ نے فرمایا ہاں،اس نے کہا واہ،واہ آپ نے فرمایا یہ کلمہ تحسین کس وجہ سے کہا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!اس امید پر کہا کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہوجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت میں سے ہو حضرت عمیر نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا پھر کہا اگر میں کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ لمبی زندگی ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کو پھینکا پھر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ (اس حدیث سے یہ درس ملتا ہے کہ نیکی کے کاموں میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیا پتہ موت کس وقت آجائے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١٠؛حدیث نمبر ٤٨٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - وَهُوَ : ابْنُ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ - قَالَ : فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ : " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً ، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا ". فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ : " لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا ". فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ ". فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ". قَالَ : يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قَالَ : بَخٍ بَخٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ : بَخٍ بَخٍ ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ : " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا ". فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ : فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ، حَتَّى قُتِلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4805

حضرت عبد اللہ بن قیس فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے دروازے تلواروں کے ساے میں ہیں(یہ سن کر)ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہا اے ابو موسیٰ کیا آپ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے کہا ہاں۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا میں تمہیں"السلام علیکم"کہتا ہوں پھر اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور اپنی تلوار لے کر دشمنوں میں گھس گیا حتیٰ کہ شہید کردیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١١؛حدیث نمبر ٤٨٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ". فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى، آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ. ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4806

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ افراد کو بھیجیں جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں آپ نے ان کی طرف انصار کے ستر افراد بھیجے جن کو قراء کہا جاتا تھا(حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)ان میں میرے ماموں حضرت حرام بھی تھے۔ یہ لوگ(رات کے وقت)قرآن مجید پڑھتے اور درس و تدریس میں مصروف رہتے اور سیکھتے جب کہ دن کے وقت پانی لاتے اور پانی مسجد میں رکھ دیتے لکڑیاں لاکر بیچتے اور اس کے عوض اصحاب صفہ اور فقراء کے لئے کھانا لاتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اصحاب صفہ کو کفار کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی ان پر حملہ کرکے شہید کردیا۔ اس وقت انہوں نے کہا یا اللہ!ہماری طرف سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی ہے پس ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے میرے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے آکر نیزہ مارا کہ آر پار ہوگیا تو حضرت حرام نے فرمایا رب کعبہ کی قسم!میں کامیاب ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا تمہارے بھائی قتل کر دئے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے یا اللہ ہماری طرف سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچا دے کہ بے شک ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی پس ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمُ : الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ، فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ، وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ، وَلِلْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَعَرَضُوا لَهُمْ، فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ، وَرَضِيتَ عَنَّا. قَالَ : وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ، حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ حَرَامٌ : فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا، وَإِنَّهُمْ قَالُوا : اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ، وَرَضِيتَ عَنَّا ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4807

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے بدر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر نہیں ہو ۓ اور یہ غیر حاضر ان پر بہت شاق گزری اور کہنےلگے یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ تعالیٰ دکھاۓگا کہ میں کیا کرتا ہوں وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی بات کہنے سے ڈرے۔پھر وہ غزوہ احد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آرہے تو(میرے چچا)حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عمرو!کہاں جارہے ہو؟انہوں نے کہا مجھے احد کے پہاڑوں سے جنت کی خوشبو ارہی ہے فرماتے ہیں پھر وہ کفار کے خلاف لڑائی میں گھس گئے حتیٰ کہ شہید ہوگئے چنانچہ ان کے جسم میں تلواروں،نیزوں اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پاے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی بہن(میری پھوپھی)الربیع بنت نضر فرماتی ہیں میں نے اپنے بھائی کی لاش کو انگلیوں کے پوروں سے پہچانا اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ "کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا پس ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کر چکے ہیں اور بعض منتظر ہیں اور انہوں نے (اپنے وعدے میں)کوئی تبدیلی نہیں کی۔"[الأحزاب: ٢٣] حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت(ان کے چچا)حضرت انس اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١٢؛حدیث نمبر ٤٨٠٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، قَالَ : فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ : أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ، وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ. قَالَ : فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، قَالَ : فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ : يَا أَبَا عَمْرٍو، أَيْنَ ؟ فَقَالَ : وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ. قَالَ : فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ : فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ. قَالَ : فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ : فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ . وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا }، قَالَ : فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، وَفِي أَصْحَابِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4808

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ!کوئی شخص مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے کوئی شخص اپنی شہرت کے لئے لڑتا ہے کوئی شخص اپنی شجاعت کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں(لڑنے والا)کون ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہی(در حقیقت)اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٢؛حدیث نمبر ٤٨٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4809

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو شجاعت کے لئے لڑتا ہے اور ایک شخص جو تعصب کی بنیاد پر لڑتا ہے اور ایک شخص ریاکاری کے طور پر لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4810

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے ایک شخص اظہار شجاعت کے لئے لڑتا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨١٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١١)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً. فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4811

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ ایک شخص غضب کی بنیاد پر لڑتا ہے اور کوئی شخص تعصب کی وجہ سے لڑتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور آپ نے صرف اس لئے سر اٹھا کر دیکھا کہ وہ شخص کھڑا تھا پھر فرمایا جوشخص اس لئے لڑتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں(لڑتا)ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٢)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً. قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ؛ وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4812

حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں جب لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بچھڑ گئے تو اہل شام میں سے ناتل نامی ایک شخص نے کہا اے شیخ!آپ ہمیں وہ حدیث سنائے جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی انہوں نے فرمایا ہاں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن جس شخص کا سب سے پہلے فیصلہ ہوگا وہ شہید ہوگا اس کو لایا جاے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ پہچان لے گا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا وہ کہے گا میں تیرے راستے میں لڑا حتیٰ کہ شہید ہوا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تو صرف اس لئے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تمہیں کہا گیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور ایک شخص نے علم سکھایا اور قرآن مجید پڑھا ہوگا اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے اس سلسلے میں کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور تیرے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تم نے اس لیے علم حاصل کیا کہ لوگ تمہیں عالم کہیں اور قرآن کی قرأت کی تاکہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ کہا گیا پس اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے(مالی)کشادگی عطاء کی اور ہر قسم کا مال عطاء کیا اس کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں کی پہچان کراے گا وہ پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے ان نعمتوں میں کیا عمل کیا۔وہ کہے گا میں نے ہر اس راستے میں خرچ کیا جہاں خرچ کیا جانا تجھے پسند ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے یہ عمل اس لئے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہا گیا پھر حکم دیا جائے گا تو اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ : أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ. قَالَ : كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ : جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ. ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ، وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ، وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ. قَالَ : كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ : عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ : هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ. ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ. قَالَ : كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ : هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ. ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4813

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جب لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو شام کے ایک ناتل نامی شخص نے کہا:اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (مسلم شریف کتاب الامارۃ،بَابٌ : مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ،حدیث نمبر ٤٨١٤)

وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4814

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لشکر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے جاتا ہے اور ان لوگوں کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اسے اجر آخرت کا دو تہائی حصہ مل جاتا ہے اور ان کے لئے ایک تہائی باقی رہتا ہے اور اگر ان کو مال غنیمت نہ ملے تو ان کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ، وَمَنْ لَمْ يَغْنَمْ؛جلد٣ص١٥١٤؛حدیث نمبر ٤٨١٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4815

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں اور ان کو مال غنیمت مل جائے اور سلامتی سے لوٹ آئیں ان کو دو تہائی اجر فوری طور پر مل جاتا ہے اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی لوٹ آئیں اور نقصان اٹھائیں ان کو آخرت میں پورا اجر ملے گا۔(اگرچہ دنیا میں کچھ نہ ملا لیکن آخرت میں دو تہائی کی بجائے پورے اجر کے مستحق ہوں گے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ، وَمَنْ لَمْ يَغْنَمْ؛جلد٣ص١٥١٥؛حدیث نمبر ٤٨١٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ غَازِيَةٍ ، أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فَتَغْنَمُ، وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ، وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ، وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4816

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال(کے ثواب)کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لئے ہو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہی(معتبر)ہوگی جس کی طرف ہجرت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ»، وَأَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْغَزْوُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَعْمَالِ؛جلد٣ص١٥١٦؛حدیث نمبر ٤٨١٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4817

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید چھ سندیں ذکر کی ہیں بعض احادیث میں یوں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ»، وَأَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْغَزْوُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَعْمَالِ؛جلد٣ص١٥١٦؛حدیث نمبر ٤٨١٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، وَمَعْنَى حَدِيثِهِ. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4818

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سچے دل سے شہادت طلب کرے اسے شہادت کا ثواب دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہادت حاصل نہ کر سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨١٩)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4819

حضرت سہل بن حنیف فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کرے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مقام تک پہنچا دیتا ہے اگرچہ اپنے بستر پر فوت ہوجائے۔ابو الطاہر کی روایت میں"صدق"(سچے دل)کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨٢٠)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ ". وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ : " بِصِدْقٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4820

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ اس نے جہاد نہ کیا اور نہ اس کے دل میں اس کی تمنا پیدا ہوگی تو اس کی موت منافقت کے ایک شعبہ پر ہوگی حضرت عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں ہمارے خیال میں یہ حکم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ذَمِّ مَنْ مَاتَ، وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ ". قَالَ ابْنُ سَهْمٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4821

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ میں کچھ لوگ ہیں تم جس راستے پر چلتے،جس وادی کو طے کرتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ان کو بیماری نے روک رکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثَوَابِ مَنْ حَبَسَهُ عَنِ الْغَزْوِ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ آخَرُ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4822

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ثواب میں شریک ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثَوَابِ مَنْ حَبَسَهُ عَنِ الْغَزْوِ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ آخَرُ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4823

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ)کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھانا کھلاتی تھیں حضرت ام حرام،حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا پھر آپ کے سر انور میں ہاتھ پھیرنے لگیں اور آپ آرام فرما ہوگئے پھر آپ بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور وہ کشتیوں پر سوار بادشاہ یا بادشاہوں کی مثل سوار سمندر میں جارہے ہیں(راوی کو شک ہے کہ بادشاہ یا بادشاہ کی مثل فرمایا) حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کردے آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔ پھر آپ سر انور رکھ کر سو گئے پھر بیدار ہوے تو مسکرارہے ہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں،مجھ پر پیش کیے گئے جس طرح پہلے فرمایا تھا،فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کردے آپ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو پس حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر(کے جہاد)میں سوار ہوئیں اور جب ندر سے نکلیں تو گر کر فوت ہوگئیں۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ آئندہ پیش آنے والے امور پرمطلع فرما دیتا تھا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ". أَوْ " مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ " - يَشُكُّ أَيَّهُمَا قَالَ - قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ : " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4824

حضرت انس بن مالک اپنی خالہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہمارے یہاں قیلولہ فرمایا(دو پہر کو آرام فرمایا)آپ بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کیوں مسکرا رہے ہیں میرے ماں باپ اور پر قربان ہوں،پھر آپ نے فرمایا مجھے ایک قوم دکھائی گئی ہے جو میری امت میں سے ہے وہ سمندر میں اس طرح سواری کر رہے ہیں جس طرح بادشاہ اپنے تختوں پر ہوتے ہیں۔ حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ)اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر آرام فرما ہوے جب بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے میں نے پوچھا تو پہلے کی طرح فرمایا میں نے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کردے آپ نے فرمایا تم پہلے گروہ میں سے ہو۔ اس کے بعد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا اور انہوں نے سمندر کے راستے کے جہاد کیا اور حضرت ام حرام کو بھی ساتھ لے گئے جب وہ واپس لوٹیں تو خچر ان کے قریب کی گئی وہ سوار ہوئیں تو خچر نے ان کو گرا دیا جس سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٩؛حدیث نمبر ٤٨٢٥)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ - وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ - قَالَتْ : أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ قَالَ : " أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ، كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ". فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ : " فَإِنَّكِ مِنْهُمْ ". قَالَتْ : ثُمَّ نَامَ، فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَكُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ : " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ". قَالَ : فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ، فَغَزَا فِي الْبَحْرِ، فَحَمَلَهَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ، فَرَكِبَتْهَا، فَصَرَعَتْهَا، فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4825

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے ہاں آرام فرما ہوۓ پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے وہ اس سبز سمندر پر سوار ہوکر جائیں گے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٩؛حدیث نمبر ٤٨٢٦)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ ". ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4826

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انکی خالہ بنت ملحان کے پاس تشریف لائے اور وہاں سر انور رکھ کر سو گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٧)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4827

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرا دینا،ایک مہینے کے روزے اور قیام سے زیادہ بہتر ہے اور اگر وہ مر جاے تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کرتا تھا اور اس کا رزق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کو قبر کے فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، وَأَمِنَ الْفُتَّانَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4828

حضرت سلمان خیر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث نمبر ٤٨٢٨ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٩)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4829

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس نے اس کو وہاں سے ہٹا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اس کو بخش دیا پھر آپ نے فرمایا شہداء پانچ قسم کے لوگ ہیں۔ (١)طاعون کی بیماری میں مرنے والا۔ (٢)پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔ (٣)ڈوبنے والا۔ (٤)کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا۔ (٥)اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛ترجمہ؛شہداء کا بیان؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ". وَقَالَ : " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ ؛ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4830

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کس کو شہید سمجھتے ہو؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ نے فرمایا اس وقت میری امت کے شہداء بہت کم ہوں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ کون لوگ ہیں؟آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے اور جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے جو طاعون کی بیماری میں فوت ہوجائے وہ شہید ہے جو پیٹ کی بیماری سے مر جائے وہ شہید ہے۔ ابن مقسم فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے باپ نے یہ بھی کہا تھا کہ جو ڈوب کر مر جائے وہ بھی شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ. قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لَقَلِيلٌ ". قَالُوا : فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطَنِ فَهُوَ شَهِيدٌ ". قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ : " وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4831

عبید اللہ بن مقسم نے کہا میں تیرے بھائی پر گواہی دیتا ہوں اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ جو غرق ہوجائے وہ بھی شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٢)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ سُهَيْلٌ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ : أَشْهَدُ عَلَى أَخِيكَ أَنَّهُ زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4832

امام مسلم نے ایک اور سند سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے کہ جو غرق ہوجائے وہ شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4833

حضرت حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضرت یحییٰ بن ابی عمرہ کس سبب سے فوت ہوئے فرماتی ہیں میں نے کہا طاعون سے،فرماتی ہیں انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون پر مسلمان کی شہادت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٤)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : بِالطَّاعُونِ. قَالَتْ : فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4834

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٥)

وَحَدَّثَنَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4835

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے۔ "{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: ٦٠] "کفار کے خلاف جس قدر ممکن ہو طاقت حاصل کرو" سنو!قوت تیر اندازی ہے سنو!قوت تیر اندازی ہے سنو!قوت تیر اندازی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛ترجمہ؛تیر اندازی کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " { وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ }، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4836

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب فتوحات حاصل ہوں گی پس تم میں سے کوئی شخص تیر اندازی کی مشق سے غافل نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٧)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ، وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ فَلَا يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4837

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٨٣٧ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٨)

وَحَدَّثَنَاهُ دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4838

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر سے کہا آپ بوڑھے ہونے کے باوجود دو نشانوں کے درمیان آ جاتے ہیں یہ چیز آپ پر دشوار ہوگئی۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا۔ (حارث بن یعقوب فرماتے ہیں)میں نے ابن شماسہ سے پوچھا وہ کیا حدیث ہے؟انہوں نے کہا آپ نے فرمایا جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس کو ترک کردے وہ ہم میں سے نہیں یا فرمایا کہ اس نے نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ. قَالَ عُقْبَةُ : لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ. قَالَ الْحَارِثُ : فَقُلْتُ لِابْنِ شُمَاسَةَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَالَ : " مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " أَوْ " قَدْ عَصَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4839

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا جو شخص اس کو رسوا کرنا چاہے گا وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا وہ اسی حالت پر رہیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ : ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ : " وَهُمْ كَذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4840

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا حتیٰ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا حکم(قیامت)آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے(غالب ہوں گے)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4841

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٤١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤٢)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4842

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین ہمیشہ قائم رہے گا حتیٰ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک جہاد کرے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4843

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کا ایک گروہ دین حق کی خاطر ہمیشہ جنگ کرتا رہے گا اور وہ ہمیشہ لوگوں پر غالب رہیں حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٤)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4844

حضرت عمیر بن ہانی کہتے ہیں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ان کو رسوا کرنے یا مخالفت کرنے والا ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم(قیامت)آجائے اور وہ غالب رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٥)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4845

یزید بن اصم کہتے ہیں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا یہ حدیث میں نے کسی اور سے منبر پر نہیں سنی انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطاء کرتا ہے۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور وہ اپنے مخالفین پر قیامت تک قائم رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٦)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ - وَهُوَ ابْنُ بُرْقَانَ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ حَدِيثًا غَيْرَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4846

عبد الرحمن شماسہ مہری فرماتے ہیں میں حضرت مسلم بن مخلد کے پاس تھا اور ان کے پاس حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہوگی۔وہ اہل جاہلیت میں سے بدترین لوگ ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ اسے رد کردے گا۔ اسی دوران حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آے تو حضرت مسلم نے ان سے کہا اے عقبہ!سنو!حضرت عبد اللہ کیا فرمارہے ہیں حضرت عقبہ نے کہا وہ زیادہ جانتے ہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر لڑتا رہے گا اور وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ان کے مخالفین ان کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے وہ اسی حالت پر رہیں گے حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی اور چھونے میں ریشم کی طرح ہوگی اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اس کو قبض کرلےگی پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٧)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ ؛ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، لَا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ : يَا عُقْبَةُ، اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ. فَقَالَ عُقْبَةُ : هُوَ أَعْلَمُ، وَأَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَجَلْ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا كَرِيحِ الْمِسْكِ مَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ، فَلَا تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ، ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4847

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مغرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے حتیٰ کہ قیامت قائم ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٤٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4848

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہریالی میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی(قحط)کے موسم میں سفر کرو تو ان کو تیز تیز چلاؤ اور جب تم رات کے آخری حصے میں اترو تو راستے سے بچو کیونکہ رات کے وقت یہ حشرات الارض(کیڑے مکوڑے)کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ، وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٤٩)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ؛ فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4849

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سر سبز و شاداب جگہ میں سفر کرو تو اس سے اونٹوں کو ان کا حق دو اور جب قحط زدہ علاقہ میں سفر کرو تو ان کو جلدی جلدی لے جاؤ تاکہ وہ کمزور نہ ہو جائیں اور جب رات کے آخری حصے میں اترو تو راستے میں ٹھہرنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں اور حشرات الارض کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ، وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٥٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ؛ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4850

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے وہ تمہیں سونے،کھانے اور پینے سے روکتا ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنا کام پورا کرلے تو گھر آنے میں جلدی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ الْمُسَافِرِ إِلَى أَهْلِهِ بَعْدَ قَضَاءِ شُغْلِهِ؛جلد٣ص١٥٢٦؛حدیث نمبر ٤٨٥١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ، وَطَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4851

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنے گھر تشریف لاتے تھے بلکہ آپ صبح یا شام کے وقت تشریف لاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٢)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا، وَكَانَ يَأْتِيهِمْ غُدْوَةً، أَوْ عَشِيَّةً.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4852

ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٨٥٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں(لا یطرق کی جگہ)لا یدخل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٣)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ لَا يَدْخُلُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4853

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہرو تاکہ بکھرے ہوئے بالوں والی اپنے بال درست کرے اور جس کا شوہر غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کر لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٤)

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا - أَيْ : عِشَاءً - كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4854

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک رات کے وقت آے تو اچانک جاکر دروازہ نہ کھٹکھٹاے بلکہ(اتنی تاخیر کرے کہ)جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کرلے اور جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں وہ ان کو ٹھیک کرلے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا ، حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ، وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4855

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٨٥٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٦)

وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4856

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کی اپنے گھر سے غیر حاضری طویل ہوجائے تو وہ اچانک رات کے وقت گھر نہ جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٧)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا .

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4857

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٨٥٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٨)

وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4858

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کے وقت گھر پہنچے اور ان کا تجسس کرے یا ان کی کمزوریوں پر مطلع ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا ؛ يَتَخَوَّنُهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4859

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں راوی کہتے ہیں کہ گھر میں تجسس کرے یا ان کمزوریوں پر مطلع ہو"کے الفاظ کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ حدیث میں ہیں یا نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٦٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي هَذَا فِي الْحَدِيثِ، أَمْ لَا ؟ يَعْنِي : أَنْ يَتَخَوَّنَهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4860

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کو اچانک گھر آنے کی کراہت نقل کرتے ہیں اور آخری الفاظ یعنی حالات کا تجسس اور گھر والوں کی کمزوریوں پر اطلاع ذکر نہیں کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٦١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : يَتَخَوَّنُهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Imarate, Hadees No. 4861

Muslim Shareef : Kitabul Imarate

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْإِمَارَۃِ

|

•