
شکار،ذبیحوں اور کھاے جانے والوں جانوروں کا بیان حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں سکھاے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں تو وہ شکار کو مجھ پر روک رکھتے ہیں اور میں اس پر بسم اللہ بھی پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا جب تم سکھایا ہوا کتا چھوڑو اس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرو تو اس کو کھا سکتے ہو میں نے پوچھا گرچہ وہ(شکار کو)ہلاک کردیں؟فرمایا اگرچہ ہلاک کردیں جب تک اس کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہوا ہو میں نے عرض کیا میں اس(شکار)پر بغیر پر کے تیر مارتا ہوں اور وہ اس سے مرجاتا ہے(اس کا کیا حکم ہے)آپ نے فرمایا جب تم بغیر پر کے تیر مارو اور وہ اس کو پھاڑ دے تو تم اس کو کھالو اور اگر وہ اس تیر کے عوض(چوڑائی)سے مرے تو اس کو نہ کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٢٩؛حدیث نمبر ٤٨٦٢)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم لوگ ان کتوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم سکھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لو تو کتے نے جو شکار تمہارے لئے روکا ہے اسے کھالو اگرچہ اس نے ہلاک کردیا ہو البتہ اگر کتے نے بھی اس شکار سے کھایا ہو تو تم نہ کھاؤ مجھے ڈر ہےکہ کہیں اس نے اپنے لئے نہ روکا ہو اور اگر اس کے ساتھ کچھ دوسرے کتے بھی مل جائیں تب بھی نہ کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٢٩؛حدیث نمبر ٤٨٦٣)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(شکاری)کتے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو تو اگر وہ اس میں سے کچھ کھالے تو تم نہ کھاؤ کیوں کہ اس نے اسے اپنے لئے روکا ہے۔ (فرماتے ہیں)میں نے پوچھا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاؤں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ ان میں سے کس کتے نے شکار کیا ہے آپ نے فرمایا پھر نہ کھاؤ کیوں کہ تم نے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے دوسرے پر نہیں پڑھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٢٩؛حدیث نمبر ٤٨٦٤)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے بارے میں سوال کیا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣٠؛حدیث نمبر ٤٨٦٥)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض(بغیر پر کے تیر)کے بارے میں پوچھا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣٠؛حدیث نمبر ٤٨٦٦)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر کے تیر سے کئے ہوے شکار کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا جو اس کی دہار سے مرا ہواسے کھا لو اور اگر اس کے عرض سے مرا ہو وہ وقیذ(چوٹ سے مرا ہوا)ہے۔ اور میں نے آپ سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا جو کچھ وہ تمہارے لئے روکے اور خود نہ کھائے اسے کھا لو کیوں کہ اس کا پکڑنا ہی(شکار کا)ذبح ہے اور اس کے پاس دوسرا کتا پاؤ تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس دوسرے کتے نے بھی اس کے ساتھ پکڑا ہو پس نہ کھاؤ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے کسی دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣٠؛حدیث نمبر ٤٨٦٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣١؛حدیث نمبر ٤٨٦٨)
حضرت شعبی کہتے ہیں میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین(مقام)میں ہمارے پڑوسی اور شریک کار تھے۔انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنا کتا(شکار پر)چھوڑتا ہوں اور اپنے کتے کے ساتھ دوسرا کتا پاتا ہوں اور مجھے پتہ نہیں چلتا کہ کس کتے نے شکار کیا ہے آپ نے فرمایا پس تم(وہ شکار)نہ کھاؤ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے اور دوسرے کتے پر نہیں لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣١؛حدیث نمبر ٤٨٦٩)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٨٦٩ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣١؛حدیث نمبر ٤٨٧٠)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اس پر بسم اللہ پڑھو اگر وہ تمہارے لئے(شکار کو)روک لے اور تم اس کو زندہ پاؤ تو ذبح کرو اور اگر تم نے اسے یوں پایا کہ کتے نے اس کو ہلاک کردیا ہے اور اس میں سے کچھ نہیں کھایا تو تم اس کو کھالو۔ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی پاؤ اور اس نے شکار کو ہلاک کیا تو اسے نہ کھاؤ کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس کتے نے اس کو ہلاک کیا ہے اور اگر تم اس پر تیر مارو اور بسم اللہ پڑھو اگر وہ تم سے ایک دن غائب رہے اور تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کوئی نشان نہ پاؤ تو اسے کھالو اگر چاہو اور اگر پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣١؛حدیث نمبر ٤٨٧١)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا جب تم اپنا تیر پھینکو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے لو اگر مردہ پاؤ تو کھالو البتہ یہ کہ وہ پانی میں گرا ہوا ہو تو نہیں معلوم کہ وہ پانی سے مرا یا تمہارے تیر سے(لہٰذا اسے نہ کھاؤ)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣١؛حدیث نمبر ٤٨٧٢)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہمارے ملک میں شکار کیا جاتا ہے میں اپنی کمان اپنے سکھاے ہوئے کتے اور غیر سکھاے کتے کے ساتھ شکار کرتا ہوں آپ مجھے بتلائیے کہ ان میں سے کون سا شکار ہمارے لئے حلال ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے جو یہ بات ذکر کی ہے کہ تم لوگ اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو پس اگر تم ان برتنوں کے علاوہ پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور نہ پاؤ تو ان کو دھوکر ان میں کھالو۔ اور تم نے جو شکاری علاقہ کا ذکر کیا ہے تو جو تمہاری کمان سے شکار ہو اس پر بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور جو شکار تمہارا سکھایا ہوا کتا کرے اس پر بھی بسم اللہ پڑھ لو اور کھالو اور جو شکار تمہارے غیر سکھاے ہوئے کتے نے کیا پس اگر تم(اسے زندہ پاکر)ذبح کر لو تو کھا لو(ورنہ نہیں) (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣٢؛حدیث نمبر ٤٨٧٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ؛جلد٣ص١٥٣٢؛حدیث نمبر ٤٨٧٤)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم(شکار پر)اپنا تیر مارو پھر وہ تم سے غائب ہوجائے اس کے بعد تمہیں مل جائے تو جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ؛جلد٣ص١٥٣٢؛حدیث نمبر ٤٨٧٥)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اپنا شکار تین دن بعد ملے اور وہ بدبودار نہ ہو تو اسے کھا سکتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ؛جلد٣ص١٥٣٢؛حدیث نمبر ٤٨٧٦)
امام مسلم نے حضرت ثعلبہ کی ایک اور روایت ذکر کی ہے۔لیکن اس میں بدبوکا ذکر نہیں اور کتے کے شکار کے بارے میں فرمایا تین دن کے بعد بھی کھا لو مگر جب اس سے بدبو آے تو چھوڑ دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ؛جلد٣ص١٥٣٣؛حدیث نمبر ٤٨٧٧)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی(نوک دار دانت)والے درندے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اسحاق اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ زہری نے فرمایا کہ ہم نے شام آنے تک یہ حدیث نہیں سنی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٣؛حدیث نمبر ٤٨٧٨)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں والے درندے کھانے سے منع فرمایا۔ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی حتیٰ کہ شام کے فقہاء میں سے ابو ادریس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٣؛حدیث نمبر ٤٨٧٩)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٣؛حدیث نمبر ٤٨٨٠)
امام مسلم نے متعدد اسناد سے یہ حدیث بیان کی اور سب نے کھانے کا ذکر کیا ہے مگر صالح اور یوسف کی روایت میں یہ ہے کہ آپ نے ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کچلیوں والے درندوں کا کھانا حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کچلیوں والے درندوں اور ناخنوں والے پرندوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کچلیوں والے درندوں اور ناخنوں والے پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٨٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیر؛جلد٣ص١٥٣٤؛حدیث نمبر ٤٨٨٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک قافلے کے خلاف بھیجا اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہمیں ایک تھیلی کھجوریں بطور زاد راہ عنایت فرمائیں،اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہ تھا چنانچہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور دیتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے(جابر رضی اللہ عنہ سے)پوچھا کہ تم لوگ کیا طریقہ اختیار کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہم اسے اس طرح چوستے تھے جس طرح بچہ چوستا ہے پھر ہم اس کے اوپر پانی پی لیتے تھے۔ اور وہ ہمیں رات تک پورے دن کے لئے کافی ہوتا تھا اور ہم اپنی لاٹھیوں کے ساتھ درختوں کے پتے جھاڑتے اور ان کو پانی میں تر کر کے کھا لیتے تھے۔ فرماتے ہیں ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے تو وہاں سمندر کے کنارے ایک بڑے ٹیلے کی طرح کوئی چیز پڑی ہوئی تھی یہ ایک جانور تھا جس کو عنبر کہا جاتا تھا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ مردار ہے،پھر فرمایا نہیں،ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم لوگ حال اضطرار میں ہو پس کھالو۔ فرماتے ہیں ہم وہاں ایک مہینہ ٹھہرے اور ہم تین سو افراد تھے حتیٰ کہ ہم موٹے ہوگئے فرماتے ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھوں کے ڈھیلے سے مشکوں کے حساب چربی نکالتے تھے اور بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں تیرہ آدمیوں کو اس کی آنکھ کے ڈھیلے میں بٹھا دیا اور اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور سب سے بڑے اونٹ پر کجاوہ باندھ کر اس کے نیچے سے گزار دیا ہم نے اس کے گوشت کو ابال کر زاد راہ بھی لیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا اگر تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ،راوی فرماتے ہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور آپ نے تناول فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛باب اباحۃ میتات البحر؛ترجمہ؛سمندر میں مرے ہوئے جانور کی اباحت؛جلد٣ص١٥٣٥؛حدیث نمبر ٤٨٨٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا اور ہم تین سو سوار تھے ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ہم قریش کے قافلہ کی گھات میں تھے ہم ساحل سمندر پر ایک مہینہ ٹھہرے اور ہمیں سخت بھوک لگی حتیٰ کہ ہم نے درختوں کے پتے کھاے اس لئے اس لشکر کو"جیش الخبط"(پتوں کا لشکر)کہا جاتا ہے سمندر نے ہماری طرف ایک جانور پھینک دیا جس کو عنبر کہا جاتا ہے ہم اس سے نصف مہینہ تک کھاتے رہے اور اس کا تیل بدن پر لگاتے رہے حتیٰ کہ ہمارے جسم موٹے ہوگئے۔ فرماتے ہیں حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی پھر لشکر میں سے سب سے زیادہ لمبے آدمی اور سب سے زیادہ لمبے اونٹ کو دیکھا اور اسے اس پر سوار کیا وہ اس کے نیچے سے گزرا اور اس(مچھلی)کی آنکھ کے ڈھیلے میں کئی افراد بیٹھے اور ہم نے اس کی آنکھ کے ڈھیلے سے کئی گھڑے چربی نکالی فرماتے ہیں ہمارے پاس صرف کھجوروں کی ایک تھیلی تھی اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہم میں سے ہر شخص کو مٹھی بھر کھجوریں دیتے پھر ایک ایک کھجور دینے لگے پھر جب کھجوریں ملنا بند ہوگئیں تو ہم سمجھ گئے کہ کھجوریں ختم ہوگئی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٦؛حدیث نمبر ٤٨٨٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"جیش الخبط"(پتوں کے لشکر)میں ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے تھے پھر تین ذبح کئے پھر تین ذبح کئے اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٦؛حدیث نمبر ٤٨٩٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روانہ کیا اس وقت ہم تین سو تھے اور ہم نے اپنا زاد راہ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٧؛حدیث نمبر ٤٨٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو افراد پر مشتمل ایک سریہ(لشکر)بھیجا اور ان پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا جب ان کا خرچہ ختم ہوگیا تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے سب کا زاد راہ جمع کیا وہ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے حتیٰ کہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٧؛حدیث نمبر ٤٨٩٢)
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے کی طرف ایک چھوٹا لشکر بھیجا میں بھی اس میں شامل تھا.... اس کے بعد حسب سابق ہےالبتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دنوں تک اس کا گوشت کھایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٧؛حدیث نمبر ٤٨٩٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہینہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٣٧؛حدیث نمبر ٤٨٩٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٧؛حدیث نمبر ٤٨٩٥)
امام مسلم نے اس حدیث کو چار سندوں کے ساتھ نقل کیا تو یونس کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٨؛حدیث نمبر ٤٨٩٦)
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٨؛حدیث نمبر ٤٨٩٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٨؛حدیث نمبر ٤٨٩٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا حالانکہ لوگوں کو اس کی ضرورت تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٨؛حدیث نمبر ٤٨٩٩)
شیبانی کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا ہمیں خیبر کے دن بھوک لگی ہوئی تھی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم نے شہر سے باہر قوم(یہودیوں)کے کچھ گدھوں کو پکڑ لیا اور ان کو ذبح کردیا ہماری ہنڈیاں ابل رہی تھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہنڈیاں انڈیل دو اور پالتو گدھوں کے گوشت سے کچھ بھی نہ کھاؤ میں نے پوچھا کیا آپ نے اسے حرام قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا یا کیا بات ہے؟انہوں نے کہا آپ نے اسے قطعی طور پر حرام قرار دیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا خمس(پانچواں حصہ)نہیں نکالا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٨؛حدیث نمبر ٤٩٠٠)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیبر کی راتوں میں ہمیں سخت بھوک لگی تو ہم نے گھریلو گدھوں کو ذبح کردیا جب ان کا گوشت ہماری دیگچیوں میں ابل رہا تھا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے منادی نے اعلان کیا کہ ہنڈیاں انڈیل دو اور(گھریلو)گدھوں کے گوشت سے کچھ بھی نہ کھاؤ۔ راوی فرماتے ہیں اس وقت بعض صحابہ کرام نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا جب کہ دیگر صحابہ نے فرمایا ان کو حتمی طور پر حرام کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠١)
حضرت براء اور حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما(دونوں)فرماتے ہیں ہمیں کچھ گدھے ملے تو ہم نے ان کو پکایا(اس دوران)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہنڈیاں الٹ دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٢)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں خیبر کے دن ہمیں کچھ گدھے ملے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہنڈیوں کو الٹ دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٣)
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم گھریلو گدھوں کا کچا اور پکا گوشت پھینک دیں پھر آپ نے ہمیں کھانے کا حکم نہ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گدھوں کا گوشت کھانے سے اس لیے منع فرمایا تھا کہ وہ بوجھ اٹھانے کے کام آتے ہیں پس آپ نے ناپسند کیا کہ بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے خیبر کے ان گھریلوں گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٣٩؛حدیث نمبر ٤٩٠٧)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیبر کی فتح عطاء فرمائی تو فتح کے دن لوگوں نے شام کے وقت بہت سی آگ جلائی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس قسم کی آگ ہے اور کیا پکا رہے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا گوشت پکا رہے ہیں پوچھا کونسا گوشت؟عرض کیا گھریلو گدھوں کا گوشت،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہنڈیاں الٹ دو اور توڑ دو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم ان کو انڈیل کردھونہ لیں،فرمایا ہاں،ایسا کرلو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٤٠؛حدیث نمبر ٤٩٠٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٤٠؛حدیث نمبر ٤٩٠٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان میں سے کچھ کو پکایا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا سنو!اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان سے منع کرتے ہیں یہ ناپاکی اور شیطانی عمل ہے پس ان دیگچیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا حالانکہ ان میں گوشت ابل رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٤٠؛حدیث نمبر ٤٩١٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب خیبر کا دن آیا تو ایک آنے والا آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!(گھریلو)گدھوں کا گوشت کھا لیا گیا پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!گدھوں کو گرفتار کردیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اعلان کیا کہ بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں یہ ناپاک ہے پھر دیگچیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٤٠؛حدیث نمبر ٤٩١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛ترجمہ؛گھوڑوں کا گوشت کھانا؛جلد٣ص١٥٤٠؛حدیث نمبر ٤٩١٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے خیبر کے دنوں میں گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھریلو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٥٤١؛حدیث نمبر ٤٩١٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٥٤١؛حدیث نمبر ٤٩١٤)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑے کو ذبح کر کے کھایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٥٤١؛حدیث نمبر ٤٩١٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو مزید سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٥٤١؛حدیث نمبر ٤٩١٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛گوہ کا گوشت کھانے کی اباحت؛جلد٣ص١٥٤١؛حدیث نمبر ٤٩١٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤ؤ؛حدیث نمبر ٤٩١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کھانے کے بارے میں سوال کیا اور آپ منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے فرمایا میں اسے کھاتا ہوں نہ حرام قرار دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٢؛حدیث نمبر ٤٩١٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٢؛حدیث نمبر ٤٩٢٠)
امام مسلم نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٩١٩ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ ایوب کی روایت میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوہ(چھپکلی کی طرح ایک بڑا جانور) لائی گئی تو آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی حرام قرار دیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٢؛حدیث نمبر ٤٩٢١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے کچھ صحابہ کرام تھے اور ان میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ان حضرات کے پاس گوہ کا گوشت لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی زوجہ نے آواز دی کہ یہ گوہ کا گوشت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کھاؤ یہ حلال ہے لیکن میرا کھانا نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٢؛حدیث نمبر ٤٩٢٢)
توبہ عنبری کہتے ہیں مجھ سے حضرت شعبی نے کہا کیا تم نے حضرت حسن کی وہ روایت سنی ہے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور میں دو یا ڈیڑھ سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوں لیکن میں نے ان سے اس حدیث کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی روایت نہیں سنی وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٣؛حدیث نمبر ٤٩٢٣)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو وہاں بھنی ہوئی گوہ لائی گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ مبارک بڑھایا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر موجود عورتوں میں سے کسی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانا چاہتے ہیں اس کے بارے میں آپ کو بتا دو۔ (جب بتایا گیا تو)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ حرام ہے؟آپ نے فرمایا نہیں لیکن یہ میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتی،اس وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھالیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٣؛حدیث نمبر ٤٩٢٤)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جن کو سیف اللہ(اللہ کی تلوار)کہا جاتا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور وہ ان(حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) کی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں وہاں بھنی ہوئی گوہ لائی گئی جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں اس گوہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی کھانا پیش کیا جاتا تو بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ کو بتایا جاتا اور اس کا نام ذکر نہیں کیا جاتا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا تو وہاں موجود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ تم نے ان کی خدمت میں کیا پیش کیا ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ گوہ ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا لیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ!کیا گوہ حرام ہے؟آپ نے فرمایا نہیں،لیکن یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں ہے لہٰذا مجھے اس سے کراہت ہوتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اسے کھینچا اور کھالیا جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے اور آپ نے منع نہیں فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٣؛حدیث نمبر ٤٩٢٥)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور وہ ان کی خالہ تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا گیا جو ام حفید بنت حارث نجد سے لائی تھیں اور وہ بنو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز اس وقت تک نہیں کھاتے تھے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ یہ کیا ہے.... اس کے بعد حسب سابق ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٤؛حدیث نمبر ٤٩٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹھے ہوئے تھے کہ دو بھنی ہوئی گوہ لائی گئیں.... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٩٢٥ کے مثل مروی ہے اور یزید بن اصم نے حضرت میمونہ کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٤؛حدیث نمبر ٤٩٢٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کہ گوہ کا گوشت لایا گیا... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٩٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٤؛حدیث نمبر ٤٩٢٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میری خالہ ام حفید نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی،پنیر اور گوہ کا تحفہ بھیجا آپ نے گھی اور پنیر تناول فرمائی لیکن گوہ کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ کھائی اگر یہ حرام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٤؛حدیث نمبر ٤٩٢٩)
حضرت یزید بن اصم کہتے ہیں مدینہ طیبہ میں ایک دولہا نے ہماری دعوت کی اور تیرہ گوہ سامنے پیش کیں تو کچھ نے گوہ کھالی اور بعض نے نہ کھائی۔ دوسرے دن میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور میں نے ان کو واقعہ سنایا اس وقت ان کے گرد بہت سے لوگ تھے حتیٰ کہ ان میں سے بعض نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسے کھاتا بھی نہیں اور اس سے روکتا بھی نہیں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے بری بات کہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو حلال و حرام کرنے کے لئے ہی مبعوث ہوے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور آپ کے پاس حضرت فضل ابن عباس اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہم بھی تھے اور ایک خاتون بھی تھیں کہ دستر خوان آپ کے قریب کیا گیا جس پر گوشت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یہ گوہ کا گوشت ہے۔ پس آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا میں نے اس گوشت کو کبھی نہیں کھایا اور دوسرے لوگوں سے فرمایا تم کھاؤ پس اس میں سے حضرت فضل بن عباس،حضرت خالد بن ولید اور ایک خاتون نے کھایا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں تو صرف اس چیز سے کھاؤں گی جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تناؤل فرمائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٥؛حدیث نمبر ٤٩٣٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گوہ لائی گئی تو آپ نے اس میں سے کھانے سے انکار فرمادیا اور فرمایا مجھے معلوم نہیں شاید یہ ان قوموں میں سے نہ ہو جن کو مسخ کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٥؛حدیث نمبر ٤٩٣١)
حضرت ابو الزبير رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سے نفرت کا اظہار کیا اور فرمایا اسے مت کھاؤ اور فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے تمام چرواہوں کی خوراک صرف یہی ہے اور اگر یہ میرے پاس ہوتی تو میں اسے کھاتا۔(یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمائی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٥؛حدیث نمبر ٤٩٣٢)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں گوہ بکثرت پائی جاتی ہے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں یا کہا کیا فتویٰ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہوکر گوہ بنا دیا گیا تو میں اس کا حکم بھی نہیں دیتا اور منع بھی نہیں کرتا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس واقعہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس گوہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ بہت لوگوں کو نفع دیتا ہے اور ان چرواہوں کی عام خوراک یہی ہے اگر یہ میرے پاس ہوتی تو میں تمہیں کھلاتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کراہت کا اظہار کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٦؛حدیث نمبر ٤٩٣٣)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا میں ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور وہاں گوہ زیادہ ہوتی ہیں اور میرے گھر والوں کی عمومی غذا یہی ہے راوی فرماتے ہیں حضور علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا ہم نے کہا دوبارہ کہو اس نے دوبارہ عرض کیا مگر آپ نے تین بار تک جواب نہ دیا پھر آپ نے تیسری بار پکارا اے اعرابی!اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو جانور بنا دیا وہ زمین پر چلتے ہیں مجھے معلوم نہیں شاید یہ ان میں سے ہو پس میں اس کو کھاتا بھی نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ؛جلد٣ص١٥٤٦؛حدیث نمبر ٤٩٣٤)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات کئے جن میں ٹڈیاں کھاتے رہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْجَرَادِ؛ترجمہ؛ٹڈی کھانے کا جواز؛جلد٣ص١٥٤٦؛حدیث نمبر ٤٩٣٥)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے چھ یا سات غزوات کا ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْجَرَادِ؛جلد٣ص١٥٤٦؛حدیث نمبر ٤٩٣٦)
ابو یعفور نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ روایت کیا اس میں چھ یا سات غزوات کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْجَرَادِ؛جلد٣ص١٥٤٧؛حدیث نمبر ٤٩٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک جگہ جا رہے تھے تو(مقام)مر الظہران میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا لوگ دوڑے اور اس تک نہ پہنچ سکے پھر میں دوڑا حتیٰ کہ میں نے اسے پکڑ لیا میں اس کو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا اور انہوں نے اس کو ذبح کر کے اس کی سرین اور دو رانیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں میں ان کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو قبول فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَرْنَبِ؛جلد٣ص١٥٤٧؛حدیث نمبر ٤٩٣٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں سرین اور رانوں کا ذکر حرف"او"(شک)کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَرْنَبِ؛جلد٣ص١٥٤٧؛حدیث نمبر ٤٩٣٩)
ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو کنکر پھینکتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا کنکر مت پھینکو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے یا(فرمایا)منع کرتے تھے کیونکہ کنکر سے نہ تو کسی چیز کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے دشمن ہلاک ہوتا ہے البتہ یہ دانت کو توڑتا اور آنکھ کو پھوڑتا ہے۔ دوبارہ اس شخص کو کنکر پھینکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کنکر مارنے کو ناپسند فرماتے تھے یا آپ نے اس سے منع فرمایا پھر میں تمہیں کنکر مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں میں تم سے اتنی مدت تک بات نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ؛جلد٣ص١٥٤٧؛حدیث نمبر ٤٩٤٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ؛جلد٣ص١٥٤٨؛حدیث نمبر ٤٩٤١)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ ابن جعفر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فرمایا اس سے دشمن ہلاک نہیں ہوتا نہ شکار ہوتا ہے بلکہ یہ دانت توڑتا اور آنکھ پھوڑتا ہے ابن مہدی نے کہا یہ دشمن کو ہلاک نہیں کرتا آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ؛جلد٣ص١٥٤٨؛حدیث نمبر ٤٩٤٢)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کنکر پھینکا تو انہوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے فرمایا اس سے شکار نہیں ہوتا نہ دشمن ہلاک ہوتا ہے بلکہ یہ دانتوں کو توڑتا اور آنکھ پھوڑتا ہے۔ فرماتے ہیں اس نے دوبارہ یہی کام کیا تو حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے تم سے بیان نہیں کیا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اس کے باوجود تم نے کنکر پھینکا میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ؛جلد٣ص١٥٤٨؛حدیث نمبر ٤٩٤٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ؛جلد٣ص١٥٤٨؛حدیث نمبر ٤٩٤٤)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کی ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان لکھ دیا ہے جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تم میں سے کسی شخص کو(یعنی سب کو)چاہیے وہ چھری تیز کرے اور ذبیحہ کو آرام پہنچاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِإِحْسَانِ الذَّبْحِ وَالْقَتْلِ، وَتَحْدِيدِ الشَّفْرَةِ؛جلد٣ص١٥٤٨؛حدیث نمبر ٤٩٤٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید پانچ سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِإِحْسَانِ الذَّبْحِ وَالْقَتْلِ، وَتَحْدِيدِ الشَّفْرَةِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٤٦)
حضرت ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حکم بن ایوب کے گھر میں داخل ہوا تو وہاں کچھ لوگوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا اور وہ اسے مار رہے تھے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٤٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی تین اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٤٨)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی جاندار کو نشانہ نہ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٤٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٥٠)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے مرغی کو باندھ رکھا تھا اور اس پر تیر اندازی کر رہے تھے جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ اس سے ہٹ گئے۔ آپ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کا کام کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٤٩؛حدیث نمبر ٤٩٥١)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے اور انہوں نے پرندوں کو باندھ کر اس پر تیر اندازی شروع کر رکھی تھی اور پرندے والے سے طے کر رکھا تھا کہ جس کا نشانہ خطأ کرے گا وہ اپنا تیر اس کو دے گا جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو بکھر گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے جس نے یہ کام کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو کسی جاندار کو نشانہ بنائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٥٠؛حدیث نمبر ٤٩٥٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ؛جلد٣ص١٥٥٠؛حدیث نمبر ٤٩٥٣)
Muslim Shareef : Kitabus Saide Waj Jabayehe
|
Muslim Shareef : كِتَابٌ الصَّيْدُِ وَالذَّبَائِحُ،
|
•