asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Ashreba

From 5017 to 5273

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

نشہ آور مشروبات کا بیان حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے ایک اونٹنی ملی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹنی عطاء فرما دی میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو انصار کے ایک آدمی کے دروازہ پر بٹھا دیا اور میں یہ چاہتا تھا کہ میں ان پر اذخر (گھاس) لاد کر لاؤں تاکہ میں اسے بیچوں اور میرے ساتھ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی تھا الغرض میرا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کی تیاری کا ارادہ تھا اور اسی گھر میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب شراب پی رہے تھے ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو کہ شعر پڑھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی اے حمزہ ان موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ یہ سن کر اپنی تلوار لے کر ان اونٹنیوں پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ دی اور ان کی کھوکھوں کو پھاڑ ڈالا پھر ان کا کلیجہ نکال دیا میں نے ابن شہاب سے کہا کیا کوہان بھی لے گئے؟انہوں نے کہا ہاں کوہان بھی تو کاٹ لئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں نے یہ خطرناک منظر دیکھا تو میں اسی وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے میں نے آپ کو اس سارے واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور حضرت زید بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا آپ حضرت حمزہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا حضرت حمزہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ لوگ تو میرے آباؤ واجداد کے غلام ہی تو ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس لوٹ پڑے یہاں تک کہ وہاں سے چلے آئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛ترجمہ؛خمر(شراب)کی حرمت اور یہ کہ وہ انگور کے(کچے)شیرے سے بنتی ہے؛جلد٣ص١٥٦٨؛حدیث نمبر ٥٠١٧)

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابٌ : تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَبَيَانُ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ، وَالْبُسْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ، وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، فَقَالَتْ : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا. قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ : وَمِنَ السَّنَامِ ؟ قَالَ : قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، فَذَهَبَ بِهَا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عَلِيٌّ : فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي. فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ، حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5017

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٦٩؛حدیث نمبر ٥٠١٨)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5018

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن مال غنیمت میں سے میرے حصہ میں ایک اونٹنی آئی تھی اور اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے مجھے ایک اونٹنی عطا فرمائی تھی۔ جب میں نے ارادہ کیا کہ میں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلوت کروں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار آدمی سے اپنے ساتھ چلنے کا وعدہ لے لیا تاکہ ہم اذخر گھاس لا کر سناروں کے ہاتھ فروخت کردیں اور پھر اس کی رقم سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں گا۔ اسی دوران میں اپنی اونٹنیوں کا سامان پالان کے تختے بوریاں اور رسیاں جمع کرنے لگا اور اس وقت میری دونوں اونٹنیاں انصاری آدمی کے گھر کے پاس بیٹھیں تھیں جب میں نے سامان اکٹھا کرلیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کھوکھیں بھی کٹی ہوئی ہیں اور ان کے کلیجے نکلے ہوئے ہیں۔میں دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابونہ کرسکا میں نے کہا کہ یہ کس نے کیا ہے؟لوگوں نے کہا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے اور حضرت حمزہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسی گھر میں موجود ہیں حضرت حمزہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک گانے والی عورت نے ایک شعر سنایا تھا کہ سنو اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ تلوار لے کر اٹھے اور ان اونٹینوں کے کوہان کو کاٹ دیا اور ان کی کھوکھیں کاٹ دیں اور ان کے کلیجے نکال دیئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چل پڑا یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے کے آثار سے حالات معلوم کر لئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا حمزہ نے میری اونٹینوں پر حملہ کر کے ان کے کوہان کاٹ لئے ہیں اور ان کی کھوکھیں پھاڑ ڈالی ہیں اور حمزہ اس وقت اس گھر میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ کچھ اور شراب خور بھی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر پیدل ہی چل پڑے اور میں اور حضرت زید بن حارثہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازہ میں آئے جہاں حضرت حمزہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی تو دیکھا کہ وہ سب شراب پئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو ان کے اس فعل پر ملامت کرنا شروع کی حمزہ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا پھر حمزہ کہنے لگے کہ تم تو میرے باپ کے غلام ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ حمزہ نشہ میں مبتلا ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں باہر تشریف لائے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکل آئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٦٩؛حدیث نمبر ٥٠١٩)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ، فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ ، وَالْغَرَائِرِ، وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا. قُلْتُ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ قَالُوا : فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا. فَقَالَ عَلِيٌّ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، قَالَ : فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ ؛ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ، فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ. قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنُوا لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ حَمْزَةُ : وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي ؟ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى ، وَخَرَجَ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5019

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی بیان کی ہے۔ (چونکہ اس وقت شراب پینا مباح تھا لہٰذا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر کوئی مواخذہ نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5020

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں کہ جس دن شراب حرام کی گئی اس دن میں حضرت ابوطلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا وہ شراب خشک کشمش اور چھوہاروں کی بنی ہوئی تھی اسی دوران میں نے آواز سنی حضرت ابوطلحہ کہنے لگے کہ باہر نکل کر دیکھو میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی آواز لگا رہا ہے آگاہ رہو کہ شراب حرام کردی گئی ہے راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی تمام گلیوں میں یہ اعلان کردیا گیا حضرت ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر اس شراب کو بہا دو تو میں نے باہر جا کر اس شراب کو بہا دیا لوگوں نے کہا یا لوگوں میں سے کسی نے کہا فلاں فلاں شہید کردیئے گئے اور ان کے پیٹوں میں تو شراب تھی راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا حصہ ہے یا نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: ٩٣] (ترجمہ)"جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے،ان پر ان چیزوں کا کوئی مواخذہ نہیں جو کھا چکے ہیں جب کہ وہ(اللہ تعالیٰ سے)ڈرتے تھے اور ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢١)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ ؛ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي، فَقَالَ : اخْرُجْ فَانْظُرْ. فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي : أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. قَالَ : فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ. فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا. فَهَرَقْتُهَا، فَقَالُوا، أَوْ قَالَ بَعْضُهُمْ : قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ - قَالَ : فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ }.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5021

عبد العزيز بن صہیب فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیح(کچی اور پکی کھجوروں سے بنتی شراب کو فضیح کہا جاتا ہے۔) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ہمارے پاس اس فضیح کے علاوہ کوئی خمر(شراب)نہیں تھی وہ وہی شراب ہے جس کو تم فضیح کہتے ہو،میں اپنے گھر میں حضرت ابوطلحہ،حضرت ابو ایوب اور کچھ دوسرے صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم)کو یہ شراب کھڑے ہوکر پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کیا تمہیں خبر پہنچی ہے؟ہم نے کہا نہیں اس نے کہا خمر(شراب)حرام کردی گئی ہے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انس!ان مٹکوں کو بہا دو۔فرماتے ہیں اس کے بعد انہوں نے کبھی شراب نہیں پی اور اس خبر کے بارے میں سوال نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٢)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ ، فَقَالَ : مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا أَيُّوبَ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ ؟ قُلْنَا : لَا. قَالَ : فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ : يَا أَنَسُ، أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ. قَالَ : فَمَا رَاجَعُوهَا، وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5022

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اپنے چچا زاد قبیلہ والوں کوفضیح(شراب)پلا رہا تھا اور میں عمر میں ان سب سے چھوٹا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا خمر(شراب)حرام کر دی گئی ہے تو انہوں نے کہا اے انس اسے بہا دو،چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ کس چیز کی شراب تھی انہوں نے کہا کچی اور پکی کھجوروں کی شراب تھی ابوبکر بن انس نے کہا ان دنوں ان لوگوں کی یہی شراب تھی۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ. فَقَالُوا : اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ. فَكَفَأْتُهَا، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : بُسْرٌ وَرُطَبٌ. قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ. قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5023

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اپنے قبیلے کو شراب پلا رہا تھا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠٢٣ کے مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ ابوبکر بن انس نے کہا ان دنوں ان لوگوں کی یہی شراب تھی حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے اور انہوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا ان دنوں ان لوگوں کا خمر(شراب)یہی تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ. وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ. وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5024

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں،حضرت ابو طلحہ،ابو دجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کو اور انصار کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا ایک نئی خبر آئی خمر کی حرمت کا ایک حکم نازل ہوا ہے تو ہم نے اسی دن شراب کو بہا دیا اور وہ کچی کھجوروں اور چھوہاروں کی شراب تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا،خمر(شراب)حرام کی گئی اور ان دنوں ان کی عام شراب کچی اور پکی کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ، فَقَالَ : حَدَثَ خَبَرٌ ؛ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ. فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ. قَالَ قَتَادَةُ : وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5025

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں،حضرت ابو طلحہ،حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضا(رضی اللہ عنہم)کو ایک مشکیزہ سے شراب پلا رہا تھا جس میں کچی اور پکی کھجوروں کی شراب تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأَبَا دُجَانَةَ، وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ. بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5026

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور چھوہاروں کو ملاکر بھگونے اور پھر اس کو پینے سے منع فرمایا اور جس دن شراب حرام کی گئی اس دن ان کی عام شراب یہی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٧)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ، ثُمَّ يُشْرَبَ ؛ وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5027

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح،ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو فضیح اور چھوہاروں کی شراب پلا رہا تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہا بےشک خمر حرام ہوچکی ہے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس!اس گھڑے کی طرف اٹھو اور اس کو توڑ دو فرماتے ہیں میں نے پتھر کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس(گھڑے)کے نچلے حصے پر دے مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔(یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ جب شرعی حکم آیا تو فوراً اس پر عمل کیا کسی قسم کا حیلہ بہانا تلاش نہ کیا ہر مسلمان میں یہی جذبہ ہونا چاہئے اور شرعی احکام میں چوں و چرا کو دخل نہیں دینا چاہیے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٨)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَأَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ، فَأَتَاهُمْ آتٍ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أَنَسُ، قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا. فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا، فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ، حَتَّى تَكَسَّرَتْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5028

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جس میں شراب کو حرام قرار دیا تو اس وقت مدینہ طیبہ میں کھجور کے علاوہ کوئی شراب نہیں پی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلَّا مِنْ تَمْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5029

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خمر(شراب)کو سرکہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں(بنا سکتے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَخْلِيلِ الْخَمْرِ؛ترجمہ؛خمر کو سرکہ بنانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا، فَقَالَ : " لَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5030

حضرت طارق بن سوید جعفی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خمر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا اس کا بنانا ناپسند کیا انہوں نے عرض کیا میں اسے دوا کے لئے بناتا ہوں آپ نے فرمایا۔یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔(یہ وہ صورت ہے کہ جب حلال دوا میں شفاء پر یقین نہ ہو اور شراب کے علاوہ علاج ناممکن ہو جب شراب میں بظاہر یقینی ہو اور مسلمان متقی طبیب کی یہ رائے ہو تو اب حالت اضطرار والی کیفیت میں اس سے علاج جائز ہوگا۔در مختار جلد اول ص؛١٩٤) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّدَاوِي بِالْخَمْرِ؛ترجمہ؛خمر سے علاج کرانے کی حرمت؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ، أَوْ كَرِهَ أَنْ يَصْنَعَهَا، فَقَالَ : إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5031

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خمر ان درختوں سے ہے یعنی کھجور اور انگور سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛ترجمہ؛کھجور اور انگور سے بنی ہوئی شراب کو خمر کہنا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ؛ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5032

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ خمر(شراب)ان دو درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ؛ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5033

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے خمر بنائی جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٤)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ التَّوْءَمِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ؛ الْكَرْمَةِ، وَالنَّخْلَةِ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : " الْكَرْمِ ، وَالنَّخْلِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5034

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش نیز کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛ترجمہ؛چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے کا حکم؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٥)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ، وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5035

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا نیز تازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5036

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں نیز کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٧)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَطَاءٌ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ ، وَبَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5037

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا نیز کچی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٨)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ - مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5038

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اسی طرح چھوہاروں اور کچی کھجوروں کو ملانے سے بھی منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا، وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5039

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کشمش اور چھوہاروں کو ملانے اور کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَخْلِطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَأَنْ نَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5040

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤١)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5041

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،تم میں سے جو شخص نبیذ پینا چاہے وہ صرف کشمش کا نبیذ پئے یا صرف چھوہاروں کا یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٢)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ النَّبِيذَ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْهُ زَبِيبًا فَرْدًا، أَوْ تَمْرًا فَرْدًا، أَوْ بُسْرًا فَرْدًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5042

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے کھجوروں کو چھوہاروں سے ملانے یا کشمش کو چھوہاروں کے ساتھ ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ تم میں سے جو شخص نبیذ پئے.... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٣)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَخْلِطَ بُسْرًا بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبًا بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبًا بِبُسْرٍ، وَقَالَ : " مَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ ". فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5043

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور نہ کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ بناؤ بلکہ ہر ایک کا الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْتَبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5044

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5045

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور نہ تازہ کھجوروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بناؤ بلکہ ہر ایک کا الگ نبیذ بناؤ۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ ان کی حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٠٤٤ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ - وَهُوَ : ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَكِنِ انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ ". وَزَعَمَ يَحْيَى ، أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5046

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥٠٤٦ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں تازہ اور گدری کھجوروں اور چھوہاروں اور کشمش کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٧)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَيْنِ الْإِسْنَادَيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ، وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5047

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا نیز کشمش اور چھوہاروں کو ملانے اور گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٨)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ : " انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5048

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٩)

وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5049

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور چھوہاروں نیز کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملانے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ان میں سے ہرایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥٠)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ. وَقَالَ : " يُنْبَذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5050

ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٠٥٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥١)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ - وَهُوَ : أَبُو كَثِيرٍ الْغُبَرِيُّ - حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5051

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نیز کچھ کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور آپ نے اہل جرش کی طرف لکھا کہ چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ نہ بنائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ يَنْهَاهُمْ عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5052

اسی سند کے ساتھ چھوہاروں اور کشمش سے متعلق ایک اور روایت بھی ہے اور اس میں کچی کھجوروں اور چھوہاروں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٣)

وَحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنِ الشَّيْبَانِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَلَمْ يَذْكُرِ : الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5053

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچی کھجوروں اور تازہ کھجوروں نیز چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : قَدْ نُهِيَ أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا، وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5054

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچی کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے نیز چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدْ نُهِيَ أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا، وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5055

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور قیر کا روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5056

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن قیر ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٧)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5057

ابو سلمہ کہتے ہیں انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھوکھلے کدو اور روغن قیر ملے ہوئے برتن میں نبیذ نہ بناؤ۔اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کے سبز گھڑوں سے بھی اجتناب کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٨)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : وَأَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5058

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن قیر ملے ہوئے برتنوں،سبز گھڑوں اور کھوکھلی لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ"حنتم"کا کیا معنیٰ ہیں انہوں نے فرمایا سبز گھڑے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٩)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ . قَالَ : قِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ قَالَ : الْجِرَارُ الْخُضْرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5059

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد القیس کے وفد سے فرمایا میں تم کو کھوکھلے کدو کے برتن،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی کے برتنوں،روغن کئے ہوئے برتنوں اور جن مشکوں کے منہ کٹے ہوئے ہوں،سے منع کرتا ہوں صرف اپنے مشکیزوں سے پیا کرو اور ان کا منہ باندھ دیا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦٠)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ - وَالْحَنْتَمُ : الْمَزَادَةُ الْمَجْبُوبَةُ - وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5060

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ عبشر اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتن سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ، وَفِي حَدِيثِ عَبْثَرٍ، وَشُعْبَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5061

ابراہیم فرماتے ہیں میں نے حضرت اسود سے پوچھا کہ کیا تم نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کن برتنوں میں نبیذ بنانا مکروہ ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے عرض کیا ام المؤمنين!مجھے بتائیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم اہل بیت کو کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ نے حنتم اور گھڑے کا ذکر نہیں کیا راوی نے کہا میں تم سے وہی بات بیان کروں گا جو میں نے سنی ہے کیا میں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦٢)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ. قَالَتْ : نَهَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَمَا ذَكَرَتِ الْحَنْتَمَ وَالْجَرَّ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ، أَؤُحَدِّثُكَ مَا لَمْ أَسْمَعْ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5062

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٣)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5063

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حدیث نمبر ٥٠٦٢ کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5064

ثمامہ بن حزن القشیری فرماتے ہیں میری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد القیس کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی روغن کئے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٥)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ ، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ، فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5065

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی(کے برتن)اور روغن کئے ہوئے برتنوں(کے استعمال)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٦)

وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5066

ایک اور سند سے یہ روایت مروی ہے البتہ اس میں مزفت کی جگہ مقیر کا لفظ(مفہوم میں کوئی فرق نہیں)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٧)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ الْمُزَفَّتِ الْمُقَيَّرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5067

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عبد القیس کا وفد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)اور روغن کئے برتنوں سے منع کرتا ہوں۔حماد کی روایت میں مقیر کی بجائے مزفت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ ". وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ جَعَلَ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ : الْمُزَفَّتِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5068

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،روغن گھڑوں اور کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5069

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،روغن کئے ہوئے برتنوں(کے استعمال سے)اور کچی اور گدری کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5070

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5071

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5072

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5073

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠٧٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5074

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں،کھوکھلے کدو اور کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)میں پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٥)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمَةِ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5075

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس(رضی اللہ عنہم)کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دی کہ آپ نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑے،روغن ملے ہوئے برتن اور کھوکھلی لکڑی(کے برتن)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5076

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گھڑے میں نبیذ بنانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع کیا۔ فرماتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے کہا کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات نہیں سنی انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں میں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا گھڑے کا نبیذ کیا ہوتا ہے(یعنی گھڑے سے کیا مراد ہے)فرمایا ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٧)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ ؟ قَالَ : وَمَا يَقُولُ ؟ قُلْتُ : قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَقَالَ : صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ ؛ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ. فَقُلْتُ : وَأَيُّ شَيْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ ؟ فَقَالَ : كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5077

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں لوگوں کو خطبہ دیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی اس کی طرف چل پڑا لیکن میرے پہنچنے سے پہلے خطبہ ختم ہوگیا میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تو صحابہ کرام نے بتایا کہ آپ نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ، فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ، فَسَأَلْتُ : مَاذَا قَالَ ؟ قَالُوا : نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5078

امام مسلم نے متعدد اسناد ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے اور سوائے مالک اور اسامہ کے کسی نے غزوہ کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا : فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ. إِلَّا مَالِكٌ، وَأُسَامَةُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5079

حضرت ثابت کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا تھا فرمایا لوگوں کا یہی کہنا ہے پھر میں نے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑے میں نبیذ سے منع فرمایا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ : فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ. قُلْتُ : أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5080

حضرت طاؤس کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں،پھر حضرت طاؤس فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں نے ان سے(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے یہ بات سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : أَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ : نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ طَاوُسٌ : وَاللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5081

حضرت طاؤس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ : أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5082

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5083

حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5084

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . قَالَ : سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5085

حضرت محارب بن دثار،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٠٨٥ کے مثل روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ کھوکھلی لکڑی کا بھی ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٦)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ : وَأُرَاهُ قَالَ : وَالنَّقِيرِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5086

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا،اور فرمایا مشکیزوں میں نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ : " انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5087

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا حنتمہ کیا ہے؟فرمایا سبز گھڑا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ. فَقُلْتُ : مَا الْحَنْتَمَةُ ؟ قَالَ : الْجَرَّةُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5088

حضرت زاذان کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا شراب کے جن برتنوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان کے بارے میں آپ کی حدیث پہلے اپنی زبان میں بیان کریں پھر ہماری زبان میں اس کی تشریح کریں کیونکہ آپ کی اور ہماری زبان الگ الگ ہے۔انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے منع فرمایا اور یہ سبز گھڑا ہے اور دباء سے منع فرمایا وہ کھوکھلا کدو ہے اور مزفت سے منع فرمایا اور یہ روغن ملے ہوئے برتن ہیں اور نقیر سے منع فرمایا اور یہ کھجور کو اندر سے چھیل کر بنایا جاتا ہے اور آپ نے مشکیزے میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٨٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي زَاذَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي بِمَا نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ بِلُغَتِكَ، وَفَسِّرْهُ لِي بِلُغَتِنَا ؛ فَإِنَّ لَكُمْ لُغَةً سِوَى لُغَتِنَا. فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَهِيَ : الْجَرَّةُ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَهِيَ الْقَرْعَةُ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ ، وَعَنِ النَّقِيرِ ، وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْسَحُ نَسْحًا، وَتُنْقَرُ نَقْرًا، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5089

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩٠)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5090

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ میں نے اس منبر کے پاس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا اور انہوں نے آپ سے مشروبات(کے برتنوں)کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی اور سبز گھڑوں سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو محمد!اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے بھی؟ہمارا خیال تھا کہ شاید آپ اس کو یہاں بیان کرنا بھول گئے ہیں۔انہوں نے فرمایا میں نے اس دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ لفظ نہیں سنا اور وہ اس کو مکروہ سمجھے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ وَأَشَارَ إِلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، وَالْمُزَفَّتِ ؟ وَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَهُ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5091

حضرت جابر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کھرچ کر بناے گئے برتن،روغن ملے ہوئے برتن اور کھوکھلے کدو(میں نبیذ بنانے)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩٢)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5092

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے سبز گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ حضرت ابو الزبير فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے،روغن ملے ہوئے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی سے منع فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبیذ بنانے کے لئے کوئی برتن نہ ملتا تو آپ کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْتَبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْتَبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5093

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5094

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا جاتا تھا جب مشکیزہ نہ ملتا تو آپ کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا۔ کسی شخص نے کہا میں نے ابو الزبير سے سنا کہ برام پتھر کا برتن تھا،فرمایا برام کا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٥)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ يُنْتَبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ - وَأَنَا أَسْمَعُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ - : مِنْ بِرَامٍ ؟ قَالَ : مِنْ بِرَامٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5095

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ تمام برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا اب ہر برتن میں پی سکتے ہو لیکن نشہ آور چیز نہ پیو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ ، إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5096

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں(کچھ)برتنوں سے منع کیا تھا حالانکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٧)

وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا ضَحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ، وَإِنَّ الظُّرُوفَ - أَوْ ظَرْفًا - لَا يُحِلُّ شَيْئًا، وَلَا يُحَرِّمُهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5097

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چمڑے کے برتنوں مشروبات سے منع کیا کرتا تھا اب ہر برتن میں پیو البتہ نشہ آور چیز نہ پیو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ ، فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ، غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5098

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں میں نبیذ سے منع فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں سے ہر شخص(مشک)نہیں پاتا تو آپ نے مٹی کے اس گھڑے کی اجازت دی جسے روغن نہ کیا گیا ہے۔(چونکہ ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی اس لئے ابتدائے اسلام میں جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو ان برتنوں کا استعمال منع کر دیا گیا تاکہ شراب کی طرف توجہ نہ ہو جب یہ خطرہ باقی نہ رہا تو اجازت دے دی گئی۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي الْأَوْعِيَةِ، قَالُوا : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ. فَأَرْخَصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5099

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو شراب نشہ دے وہ حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛ ترجمہ؛ہر نشہ آور چیز کے خمر ہونے اور ہر خمر کے حرام ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥١٠٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5100

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠١)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5101

امام مسلم نے کئی سندوں کے ساتھ روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَصَالِحٍ : سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ. وَهُوَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ. وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ : أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5102

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے ہاں جو ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے جسے مزر کہتے ہیں اور شہد سے مشروب بنایا جاتا ہے جسے البتع کہتے ہیں آپ نے فرمایا ہر نشہ آور حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٣)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ. فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ : الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ. فَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5103

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں سے فرمایا لوگوں کو بشارت دینا اور آسان باتوں کا حکم دینا ان کو علم دین سکھانا اور نفرت پیدا نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا دونوں اتفاق سے رہنا جب آپ نے پیٹھ پھیری تو حضرت ابو موسیٰ واپس لوٹے اور عرض کیا یارسول اللہ!وہاں شہد کو جوش دے کر ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے جو بندھ جاتا ہے اور ایک مشروب(مزر)جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مشروب نماز سے مدہوش کردے وہ حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا : " بَشِّرَا وَيَسِّرَا، وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا ". وَأُرَاهُ قَالَ : " وَتَطَاوَعَا ". قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ، حَتَّى يَعْقِدَ، وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5104

حضرت ابوبردہ اپنے والد(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا لوگوں کو دعوت دینا ان کو خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا احکام بیان کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمیں دو شرابوں کا حکم بتائیں جن کو ہم یمن میں بناتے تھے ایک کو بتع کہا جاتا ہے اور وہ شہد سے بنائی جاتی ہے جب سخت ہوجائے اور مزر جو جوار اور جو سے تیار کی جاتی ہے ان کا نبیذ بنایا جاتا ہے جو گاڑھا ہوجاتا ہے۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت جامع مانع کلام(کا ملکہ)عطاء کیا گیا تھا پس آپ نے فرمایا میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٥)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي خَلَفٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - وَهُوَ : ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ : " ادْعُوَا النَّاسَ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ". قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ ؛ الْبِتْعُ وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ، حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْمِزْرُ وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ، حَتَّى يَشْتَدَّ. قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ، فَقَالَ : " أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5105

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جیشان سے آیا اور جیشان یمن کا ایک شہر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مشروب کے بارے میں سوال کیا جو ان کے علاقے میں جوار سے بنایا جاتا ہے اور اس کو مزر کہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ نشہ آور ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے اللہ تعالیٰ کا یہ عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پئے گا اسے طینۃ الخبال سے پلایا جاے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!طینۃ الخبال کیا ہے؟فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ، وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ، يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ؛ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ ". أَوْ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5106

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر(کے حکم میں)ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس نے دنیا میں خمر پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ شراب کا عادی تھا اور اس نے توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں شراب نہیں پئے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، فَمَاتَ، وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5107

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، كِلَاهُمَا عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5108

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥١٠٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١٠٩)

وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5109

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کا مجھے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ہے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١١٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5110

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛ بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5111

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہیں کی وہ اس سے آخرت میں محروم رہے گا حضرت مالک(راوی)سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حدیث مرفوع ہے( حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے)تو انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ، فَلَمْ يُسْقَهَا ". قِيلَ لِمَالِكٍ : رَفَعَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5112

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں خمر کو پیا وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا البتہ یہ کہ توبہ کر لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5113

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث روایت کی ہے۔(شراب بےشمار خرابیوں کا باعث ہے سب سے پہلی خرابی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے پھر پیسے کا ضیاع،بیماریوں کی بنیاد بننا اور نشے کی حالت میں بے شمار گناہوں کا ارتکاب اور جہنم کی سزا الگ ہے اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس سے اجتناب کریں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيَّ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5114

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے ابتدائی حصے میں نبیذ بنایا جاتا تھا اور صبح کے وقت اسے پیتے تھے پھر ان کے بعد والی رات اور اگلی صبح پیتے تھے پھر رات کو پیتے اور اگلے روز عصر تک پیتے تھے پھر اگر کچھ بچ جاتا تو غلام کو پلا دیتے یا اس کو بہا دینے کا حکم دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛ترجمہ؛جو نبیذ تیز اور نشہ آور نہ ہو اس کی اباحت کا بیان؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ، وَالْغَدَ، وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى، وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ، فَصُبَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5115

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا جاتا تھا حضرت شعبہ فرماتے ہیں سوموار کی رات کو بنایا جاتا اور آپ سوموار کے دن اورمنگل کے دن عصر تک نوش فرماتے تھے اور اگر اس سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے یا بہا دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ : ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ. قَالَ شُعْبَةُ : مِنْ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ، فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ، أَوْ صَبَّهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5116

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کشمش کو پانی میں ڈالا جاتا تو آپ اس نبیذ کو اس دن دوسرے دن اور تیسرے دن شام تک پیتے پھر(جو بچ جاتا)اسے کسی کو پلانے یا بہا دینے کا حکم دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ، وَالْغَدَ، وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى، أَوْ يُهَرَاقُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5117

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں کشمش ڈال کر نبیذ بنایا جاتا پھر آپ اسے اس دن دوسرے دن اور تیسرے دن نوش فرماتے تیسرے دن کی شام ہوتی تو آپ اسے خود پیتے اور کسی کو پلاتے اور اگر کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَاءِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ، وَالْغَدَ، وَبَعْدَ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ، وَسَقَاهُ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ أَهَرَاقَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5118

حضرت ابو عمر نخعی فرماتے ہیں ایک قوم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خمر بیچنے،خریدنے اور اس کی تجارت کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم لوگ مسلمان ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اس کو بیچنا،خریدنا اور اس کی تجارت درست نہیں۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تشریف لے گئے واپس تشریف لائے تو اس وقت کچھ صحابہ کرام نے سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑیوں اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنایا تھا۔ آپ نے حکم دیا تو اسے گرادیا گیا پھر آپ نے ایک مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالنے کا حکم دیا آپ نے اس مشکیزے سے آئندہ روز نبیذ نوش فرمایا آئندہ رات اور اگلے دن بھی پیا حتیٰ کہ شام ہوگئی تو آپ نے اس سے پیا اور پلایا جب صبح ہوئی تو باقی ماندہ کو بہانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ النَّخَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ قَوْمٌ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَشِرَائِهَا، وَالتِّجَارَةِ فِيهَا، فَقَالَ : أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهَا، وَلَا شِرَاؤُهَا، وَلَا التِّجَارَةُ فِيهَا. قَالَ : فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ثُمَّ رَجَعَ، وَقَدْ نَبَذَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَنَاتِمَ، وَنَقِيرٍ ، وَدُبَّاءٍ ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُهْرِيقَ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ، فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَجُعِلَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ، فَشَرِبَ مِنْهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ، وَلَيْلَتَهُ الْمُسْتَقْبَلَةَ، وَمِنَ الْغَدِ، حَتَّى أَمْسَى، فَشَرِبَ، وَسَقَى، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْهُ، فَأُهْرِيقَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5119

حضرت ثمامہ کہتے ہیں میری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا انہوں نے ایک حبشی لونڈی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھو یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اس حبشی عورت نے کہا میں رات کے وقت مشک میں آپ کے لئے نبیذ بناتی اور اس مشک کا منہ بند کر کے اس کو لٹکا دیتی تھی جب صبح ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نوش فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٠)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ - حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ - يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ - قَالَ : لَقِيتُ عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ : سَلْ هَذِهِ ؛ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتِ الْحَبَشِيَّةُ : كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ، وَأُوكِيهِ، وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5120

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بناتے اس کے اوپر والے حصے کو باندھ دیتے اس مشکیزے میں سوراخ تھے ہم صبح کے وقت نبیذ بناتے تو آپ اسے شام کے وقت پیتے اور شام کے وقت بناتے تو آپ صبح کے وقت پیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5121

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو اسید ساعدی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی میں دعوت دی اس دن ان کی بیوی کام کاج کر رہی تھی حالانکہ وہی دلہن تھی حضرت سہل فرماتے ہیں جانتے ہو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا اس نے رات کو ایک برتن میں کچھ چھوہارے ڈال دئے جب آپ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ کو وہی پلایا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ. قَالَ سَهْلٌ : تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5122

حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اس میں یہ نہیں کہ جب آپ نے کھانا کھایا تو اس(خاتون)نے آپ کو نبیذ پلایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٣)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُ : أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ : فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5123

ایک اور سند سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مروی ہے اس میں پتھر کے برتن کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے اس کی سختی ختم کرکے خصوصیت کے ساتھ آپ کو نبیذ پلایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ : فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ، فَسَقَتْهُ. تَخُصُّهُ بِذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5124

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس عورت کو پیغام بھیجیں انہوں نے پیغام بھیجا تو وہ عورت آکر بنو ساعدہ کے قلعوں میں ٹھہری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپ نے فرمایا تم نے اپنے آپ کو مجھ سے محفوظ کرلیا لوگوں نے کہا جانتی ہو یہ کون ہے؟اس نے کہا نہیں انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تمہیں نکاح کا پیغام دینے آئے تھے اس نے کہا پھر تو میں بہت بدنصیب رہی۔ حضرت سہل فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن تشریف لائے حتیٰ کہ صحابہ کرام کے ہمراہ بنو ساعدہ کے چبوترے پر تشریف فرما ہوے پھر آپ نے حضرت سہل سے فرمایا مجھے پلاؤ،فرماتے ہیں میں آپ کے لئے یہ پیالہ لایا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا پھر وہ پیالہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے حضرت سہل سے مانگ لیا تو انہوں نے ان کو بطور تحفہ دے دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ اے سہل ہمیں پلاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ سَهْلٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ : ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. قَالَ : " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي ". فَقَالُوا لَهَا : أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَتْ : لَا. فَقَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ. قَالَتْ : أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ سَهْلٌ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ : " اسْقِنَا ". لِسَهْلٍ، قَالَ : فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ، فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، قَالَ : ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ : قَالَ : " اسْقِنَا يَا سَهْلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5125

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اس پیالہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مشروبات پلاے یعنی شہد،نبیذ،پانی اور دودھ۔ (بزرگوں کے آثار سے برکت حاصل کرنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا طریقہ رہا ہے جس طرح اس مبارک پیالے سے برکت حاصل کی جاتی رہی۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ ؛ الْعَسَلَ، وَالنَّبِيذَ، وَالْمَاءَ، وَاللَّبَنَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5126

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ گئے تو ہم ایک چرواہے پر گزرے اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا پھر میں آپ کے پاس دودھ لایا آپ نے نوش فرمایا حتیٰ کہ میں راضی ہوگیا۔(بکریوں کے مالک کی اجازت کے بغیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دودھ لینے کی توجیہ یوں کی گئی ہے کہ آپ حالت اضطرار میں تھے یا یہ کہ ان لوگوں نے مسافروں کے لیے بلا اجازت دودھ پینا مباح قرار دیا تھا(نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛ترجمہ؛دودھ پینے کا جواز؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5127

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لے گئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے کہا آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔راوی فرماتے ہیں آپ نے دعا کی حضرت براء فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ایک چرواہے کے پاس سے گزرے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک پیالہ لاکر اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا دودھ دوہا اور آپ کی خدمت میں لے آیا آپ نے اسے نوش فرمایا تو میں راضی ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتْبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَاخَتْ فَرَسُهُ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي، وَلَا أَضُرُّكَ. قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ، قَالَ : فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : فَأَخَذْتُ قَدَحًا، فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَشَرِبَ، حَتَّى رَضِيتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5128

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیر کرائی گئی اس رات آپ کو بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک پیالہ شراب کا اور دوسرا دودھ کا تھا آپ نے ان کی طرف دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا اس اللہ کے لئے تعریف ہے جس نے فطرت کی طرف آپ کی رہنمائی کی اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ ؛ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5129

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لاے گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٢٩ کے مثل مروی ہے لیکن اس میں ایلیاء کا ذکر نہیں ہے۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ امت اجتماعی طور پر گمراہ نہیں ہوگی۔جزوی طور پر گمراہی کی نفی نہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ سواد اعظم اہل سنت کے معمولات بدعت یا گمراہی نہیں ہیں۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٣٠)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5130

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقام نقیح سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا اور وہ پیالہ ڈھکا ہوا نہ تھا آپ نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانکا کیوں نہیں؟تم اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔ حضرت ابو حمید نے کہا رات کو صرف مشکوں کا منہ باندھنے اور دروازے بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا، فَقَالَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : إِنَّمَا أُمِرَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلًا، وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5131

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لاے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٣١ کے مثل مروی ہے۔ راوی زکریا نے حضرت ابو حمید ساعدی کی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٢)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ، بِمِثْلِهِ، قَالَ : وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّاءُ قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ : بِاللَّيْلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5132

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں پلاؤ۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ شخص دوڑتا ہوا گیا اور ایک پیالہ لایا جس میں نبیذ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں اگرچہ تم اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے راوی کہتے ہیں پھر آپ نے اسے پی لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ فَقَالَ : " بَلَى ". قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا ". قَالَ : فَشَرِبَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5133

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابو حمید نامی ایک شخص مقام نقیح سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ تم اس کے عرض ایک لکڑی رکھ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٤)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5134

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا برتن ڈھانپو،مشکیزے کا منہ بند کرو،دروازہ بند کرو اور چراغ بجھا دو۔کیونکہ شیطان مشکیزے کو نہیں کھولتا،دروازہ نہیں کھولتا اور نہ برتن کو ننگا کرتا ہے اگر تم میں سے کسی کو برتن ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو وہ برتن کے عرض پر ایک لکڑی رکھ دے اور بسم اللہ پڑھ لے کیوں کہ چوہا لوگوں کے گھروں کو جلا دیتا ہے۔ قتیبہ نے اپنی حدیث میں دروازہ بند کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " غَطُّوا الْإِنَاءَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، وَأَغْلِقُوا الْبَابَ، وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً، وَلَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا، وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ ؛ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ". وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ : " وَأَغْلِقُوا الْبَابَ

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5135

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا البتہ"واکفنوا الاناء"کہا یا ضمرو الاناء"کہا اور اس حدیث میں برتن پر لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٦)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ " أَوْ : " خَمِّرُوا الْإِنَاءَ ". وَلَمْ يَذْكُرْ تَعْرِيضَ الْعُودِ عَلَى الْإِنَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5136

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازے بند کرو،اس کے بعد لیث کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ یہ فرمایا کہ برتن ڈھانک دو اور فرمایا چوہا گھر والوں کے کپڑے جلادیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٧)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْلِقُوا الْبَابَ ". فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ ". وَقَالَ : " تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5137

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان(مزکورہ بالا راویوں)کی مثل حدیث روایت کی اور فرمایا مکینوں سمیت گھر کو جلا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ : " وَالْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5138

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کی تاریکی پھیل جائے یا(فرمایا)شام ہوجائے تو بچوں کو(گھر میں)روک رکھو اس وقت شیطان باہر نکلتے ہیں اور جب رات کی ایک ساعت گزر جائے تو اب ان کو جانے کی اجازت دے سکتے ہو اور دروازے بند کرو اور بسم اللہ پڑھو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اپنی مشکوں کے منہ باندھ دو اور بسم اللہ پڑھو اور بسم اللہ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانک دو اگرچہ ان کی چوڑائی پر کوئی چیز رکھو نیز اپنے چراغ بجھا دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٣٩)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ ، أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5139

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٣٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام لو۔(بسم اللہ پڑھو) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٤٠)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَحْوًا مِمَّا أَخْبَرَ عَطَاءٌ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَقُولُ : " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5140

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٤١)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ كَرِوَايَةِ رَوْحٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5141

Muslim Sharif Kitabul Ashreba Hadees No# 5142

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ؛ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5142

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5143

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا برتنوں کو ڈھانپو اور مشکوں کے منہ بند کرو،کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہے جب وہ وبا نازل ہوتی ہے وہ اس برتن اور مشکیزے میں اترتی ہے جو ڈھانکا ہوا نہ ہو اور اس(مشکیزے)کا منہ باندھا نہ گیا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٤)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غَطُّوا الْإِنَاءَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ ؛ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ، أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5144

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ سال میں ایک دن ایسا ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے اور حدیث کے آخر میں ہے لیث نے کہا ہمارے ہاں کے عجمی لوگ اس وباء سے کانون اول(دسمبر)میں بچتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٥)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ ". وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : قَالَ اللَّيْثُ : فَالْأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الْأَوَّلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5145

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا سوتے وقت اپنے گھروں میں جلتی ہوئی آگ نہ چھوڑا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5146

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک گھر کے لوگ رات کے وقت جل گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سوؤ تو اس کو بجھا دیا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٧)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَةِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5147

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب ہم سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کھانے کا)آغاز نہ کرتے ہم کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے۔ ایک مرتبہ ہم آپ کے ساتھ کھانے میں حاضر تھے تو ایک لونڈی آئی گویا اس کو بھگایا جارہا ہے وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا گویا اسے بھی(آگے کی طرف)دھکیلا جا رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کھانے پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے شیطان اسے اپنے لئے حلال کر لیتا ہے اور وہ اس لونڈی کی شکل میں آیا تاکہ وہ اس کے ذریعے کھانے کو اپنے لئے حلال کر لے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کی صورت میں آیا تاکہ اس کھانے کو اپنے لئے حلال کر لے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس(شیطان)کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛ترجمہ؛کھانے پینے کے آداب و احکام؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا، حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعَ يَدَهُ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5148

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانے کی دعوت دی جاتی.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٤٨ کے مثل مروی ہے البتہ اس حدیث میں لڑکی کے آنے سے پہلے اعرابی کا ذکر ہے اور وہ دونوں اس طرح آے جس طرح کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہو اور اس کے آخر میں ہے کہ پھر بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٤٩)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَرْحَبِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ. فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ : " كَأَنَّمَا يُطْرَدُ ". وَفِي الْجَارِيَةِ : " كَأَنَّمَا تُطْرَدُ ". وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ، وَأَكَلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5149

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥١٤٨ کے مثل مروی ہے اس میں اعرابی کے آنے سے پہلے لڑکی کا آنا بتایا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٥٠)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الْأَعْرَابِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5150

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے(بسم اللہ پڑھے)تو شیطان(اپنے ساتھیوں سے)کہتا ہے تمہارے یہاں ٹھہرنے کی جگہ ہے نہ کھانا ہے۔ اور جب داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے اپنا ٹھکانہ پالیا اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے ٹھکانہ اور کھانا دونوں پالئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ. وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ. وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5151

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٥١ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یوں فرمایا کہ اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے اور اگر وہ داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٢)

وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِهِ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5152

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5153

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاے تو وہ دائیں ہاتھ سے کھاے اور جب تم میں سے کوئی شخص پئے تو دائیں ہاتھ سے پئے کیوں کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5154

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٥)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ .

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5155

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھاے نہ پئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ حضرت نافع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نہ تو اس ہاتھ سے لے اور نہ دے ابو الطاہر کی روایت ہے تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِهَا ". قَالَ : وَكَانَ نَافِعٌ يَزِيدُ فِيهَا : " وَلَا يَأْخُذُ بِهَا، وَلَا يُعْطِي بِهَا ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ : " لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5156

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا آپ نے اس سے فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا مجھے اس کی طاقت نہیں آپ نے فرمایا تو اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گا۔ اس کو دائیں ہاتھ سے کھانے سے صرف تکبر نے روکا تھا۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ اپنا ہاتھ منہ تک نہ لے جاسکا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ : " كُلْ بِيَمِينِكَ ". قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ : " لَا اسْتَطَعْتَ، مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ ". قَالَ : فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5157

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا اور میرا ہاتھ پیالے کے تمام اطراف میں گھوم رہا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے!بسم اللہ پڑھو،دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي : " يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5158

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھا رہا تھا تو میرا ہاتھ پیالے میں گھوم رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٩)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ آخُذُ مِنْ لَحْمٍ حَوْلَ الصَّحْفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ مِمَّا يَلِيكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5159

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٠)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5160

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کا منہ الٹ کر ان کے منہ سے پینا منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦١)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ ؛ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5161

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں اختناث کا معنی بتایا گیا کہ مشک کے منہ کو موڑ کر اس سے پینا اختناث ہے۔ (مشک کے منہ سے پینے میں کئی خرابیاں ہیں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ممکن ہے اس کے اندر کوئی کیڑا مکوڑا ہو جو آدمی کے پیٹ میں چلا جائے اور تکلیف پہنچاے البتہ یہ مکروہ تنزیہی ہے اور کبھی ضرورت کے تحت پی سکتا ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٢)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَاخْتِنَاثُهَا أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا، ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5162

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے پر ڈانٹا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛ترجمہ؛کھڑے ہوکر پینے کی کراہت؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٣)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5163

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا۔حضرت قتادہ کہتے ہیں ہم نے پوچھا اور(کھڑے ہوکر)کھانا ہے فرمایا یہ تو زیادہ برا اور خراب ہے۔ (مسلم شریف کتاب الاشربۃ؛؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا. قَالَ قَتَادَةُ : فَقُلْنَا : فَالْأَكْلُ ؟ فَقَالَ : " ذَاكَ أَشَرُّ ". أَوْ " أَخْبَثُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5164

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٥)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5165

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پینے پر ڈانٹا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٦)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5166

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٧)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5167

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص کھڑا ہوکر نہ پئے اور جو بھول کر ایسا کرے تو قے کردے(تنبیہ کے طور پر فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٨)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو غَطَفَانَ الْمُرِّيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا، فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5168

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا تو آپ نے کھڑے ہوکر نوش فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5169

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے ایک ڈول سے کھڑے ہو کر پیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ مِنْ دَلْوٍ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5170

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم سے کھڑے ہوکر پیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧١)

وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ يَعْقُوبُ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5171

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم سے پلایا تو آپ نے کھڑے ہوکر پیا اور آپ نے بیت اللہ شریف کے پاس کھڑے ہوکر پانی طلب فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٢)

وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ يَعْقُوبُ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5172

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کیں دونوں حدیثوں میں ہے کہ میں ڈول لے کر آیا۔ (بیٹھ کر کھانا پینا سنت ہے اور کسی مجبوری کے تحت کھڑے ہوکر کھانے پینے کی اجازت ہے بیٹھ کر کھانا پینا طبی اعتبار سے بھی مفید ہے اور آداب کے مطابق بھی ہے لہٰذا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا کھڑے ہو کر پینا جواز پیدا کرنے کے لئے ہے اور ممانعت کراہت تنزیہی پر محمول ہے احادیث میں تضاد نہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٣)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ قَائِمًا، وَاسْتَسْقَى وَهُوَ عِنْدَ الْبَيْتِ. وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5173

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛ترجمہ؛پانی کے برتن میں سانس لینے کی کراہت اور برتن کے باہر تین بار سانس لینا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5174

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے(مراد برتن سے منہ ہٹا کر سانس لینا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٥)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5175

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مشروب)نوش کرتے وقت تین بار سانس لیتے تھے اور آپ فرماتے تھے اس سے(آدمی)خوب سیر ہوتا ہے نیز پیاس بجھتی ہے اور کھانا ہضم ہوتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں پیتے وقت تین بار سانس لیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ : " إِنَّهُ أَرْوَى، وَأَبْرَأُ، وَأَمْرَأُ ". قَالَ أَنَسٌ : فَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5176

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٧٦ کے مثل مروی ہے اور اس میں برتن کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٧)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ : فِي الْإِنَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5177

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا اور آپ کی دائیں جانب ایک دیہاتی اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے آپ نے نوش فرمانے کے بعد اس دیہاتی کو دیا اور فرمایا دائیں طرف سے(ابتدا کرو)اس کے بعد بھی دائیں کو دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛ترجمہ؛دودھ یا پانی وغیرہ دائیں طرف سے پلانا مستحب ہے؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ : " الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5178

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت میں دس سال کا تھا اور جب آپ کا انتقال ہوا تو میں بیس سال کا تھا میری ماں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیتی تھیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کا پانی ملایا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیجئے آپ نے اپنی دائیں جانب اعرابی کو دے دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دائیں طرف سے پھر دائیں طرف سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ، وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ. فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5179

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور آپ نے پانی طلب فرمایا میں نے بکری کا دودھ دوہ کر اس میں اپنے اس کنویں کا پانی ملایا۔ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اسے نوش فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تھے اور آپ کی دائیں جانب ایک اعرابی تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پی کر فارغ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آپ کو دکھایا(لیکن)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ اس اعرابی کو دے دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔(نہ دیا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دائیں طرف والے،دائیں طرف والے، دائیں طرف والے،حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہی سنت ہے یہی سنت ہے۔یہی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا، فَاسْتَسْقَى، فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِي هَذِهِ، قَالَ : فَأَعْطَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ وِجَاهَهُ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شُرْبِهِ قَالَ عُمَرُ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ. يُرِيهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابِيَّ، وَتَرَكَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْمَنُونَ، الْأَيْمَنُونَ، الْأَيْمَنُونَ ". قَالَ أَنَسٌ : فَهِيَ سُنَّةٌ، فَهِيَ سُنَّةٌ، فَهِيَ سُنَّةٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5180

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا آپ نے اس سے نوش فرمایا۔ فرمایا اس وقت آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا اور بائیں جانب بڑی عمر کے لوگ تھے آپ نے لڑکے سے پوچھا کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان لوگوں کو دوں۔لڑکے نے کہا نہیں،اللہ کی قسم،!میں آپ کے تبرک میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ ؟ " فَقَالَ الْغُلَامُ : لَا، وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا. قَالَ : فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5181

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٨١ کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ نہیں کہ آپ نے اس کے ہاتھ پر پیالہ رکھ دیا البتہ یعقوب کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس کو پیالہ عطاء کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولَا : فَتَلَّهُ. وَلَكِنْ فِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، قَالَ : فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5182

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو جب تک اپنی انگلیاں خود چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے،اس وقت تک ہاتھوں کو صاف نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛ترجمہ؛انگلیاں اور برتن چاٹنے کا بیان؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ، حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5183

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو جب تک انگلیاں چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے اس وقت تک ہاتھوں کو صاف نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٤)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَاصِمٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ، حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5184

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹتے تھے ابن حاتم نے تین کا ذکر نہیں کیا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں عبد الرحمن بن کعب کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ حَاتِمٍ الثَّلَاثَ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5185

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے اور ان کو صاف کرنے سے پہلے چاٹتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى،وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، وَيَلْعَقُ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يَمْسَحَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5186

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ان کو چاٹتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٧)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5187

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٨٧ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٨٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ حَدَّثَاهُ، أَوْ أَحَدُهُمَا، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5188

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تمہیں معلوم نہیں اس کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٨٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ، وَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5189

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا کر اس کے ساتھ لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کر کے اس کو کھا لے اور اس لقمہ کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب تک انگلیوں کو چاٹ نہ لے اپنے ہاتھوں کو تولیہ(وغیرہ)سے صاف نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى، وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ، حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5190

امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٥١٩٠ کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں روایتوں میں یہ ہے کہ اس وقت اپنے ہاتھ تولیہ سے صاف نہ کرے جب تک انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٩١)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : " وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ، حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا "، وَمَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5191

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت آجاتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی آجاتا ہے پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرے تو اس پر لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کرکے اس کو کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے جب فارغ ہوجائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کھانے کی کس جز میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ، حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5192

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر پڑے۔اس حدیث میں یہ نہیں کہ تم میں سے ہر شخص کے پاس شیطان حاضر ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٣)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ". إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5193

یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس میں لقمہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5194

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹتے وہ فرماتے ہیں آپ ارشاد فرماتے ہیں جب تم میں سے کسی ایک کا لقمہ گرے تو اس سے مٹی وغیرہ دور کرکے اسے کھا لے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پیالے کو صاف کریں آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٥)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ. قَالَ : وَقَالَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى، وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ". وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5195

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو وہ اپنی انگلیاں چاٹ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5196

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں ہے تم میں سے ہر شخص پیالے کو صاف کرے اور فرمایا تمہارے کس کھانے میں برکت ہے،یا فرمایا کس کھانے میں تمہارے لئے برکت ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٧)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمُ الصَّحْفَةَ ". وَقَالَ : " فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ " أَوْ " يُبَارَكُ لَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5197

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار میں ابو شعیب نامی ایک شخص تھا اور اس کا ایک لڑکا تھا جو گوشت فروخت کرتا تھا اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے چہرہ انور سے بھوک کا اندازہ لگایا۔ اس نے اپنے لڑکے سے کہا جاؤ پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو کیونکہ میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ آدمیوں سمیت دعوت دینا چاہتا ہوں اس نے کھانا تیار کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر دیگر چار افراد کے ساتھ(کہ آپ پانچویں تھے)دعوت دی آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی چل پڑا جب وہ شخص دروازے پر پہنچا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ چل پڑا اگر تم چاہو تو اس کو اجازت دے دو اور اگر چاہو تو یہ واپس چلا جائے اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ!بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛ترجمہ؛اگر مہمان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی مل جائے تو وہ کیا کرے؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥١٩٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ : وَيْحَكَ، اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ ؛ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ. قَالَ : فَصَنَعَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ، وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ ؟ ". قَالَ : لَا، بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5198

امام مسلم نے اس حدیث کی مزید چار سندیں ذکر کی ہیں۔اس میں ابو وائل کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٩٨ کے مثل روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥١٩٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ. قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5199

امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے ان میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥٢٠٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ - وَهُوَ : ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5200

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارسی تھا اور وہ شوربا بہت اچھا بناتا تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا بنایا پھر آکر آپ کو دعوت دی آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان کی بھی(دعوت)ہے؟ وہ دوبارہ اپ کو دعوت دینے آیا تو آپ نے پوچھا ان کی دعوت بھی ہے اس نے کہا نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی قبول نہیں وہ پھر آپ کو دعوت دینے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کی بھی دعوت ہے تیسری بار اس نے کہا جی ہاں تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دونوں کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو آگے کرنے لگے حتیٰ کہ اس شخص کے گھر تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٩؛حدیث نمبر ٥٢٠١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ : " وَهَذِهِ ؟ " لِعَائِشَةَ، فَقَالَ : لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ". فَعَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذِهِ ؟ " قَالَ : لَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ". ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذِهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5201

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن یا رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو اچانک آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ملے آپ نے پوچھا اس وقت تم دونوں کا باہر آنا کیسے ہوا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!بھوک لگی ہے آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے باہر آنے کا سبب بھی وہی ہے جو تمہارے نکلنے کا سبب ہے اٹھو،چنانچہ وہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے آپ ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے ان کی بیوی نے ان کو دیکھا تو کہا مرحبا واھلا(خوش آمدید) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فلاں کہاں ہے اس خاتون نے کہا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں اتنے میں انصاری بھی آگئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا اور کہا الحمد للہ!آج میرے مہمانوں سے بڑھ کر کسی کے مہمان نہیں ہیں وہ گئے اور کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں کچی پکی کھجوریں،چھوہارے اور تازہ کھجوریں تھیں انہوں نے عرض کیا اس سے کھائیے اور چھری پکڑ لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والے جانور سے اجتناب کرنا چنانچہ انہوں نے مہمانوں کے لئے ایک بکری ذبح کی اور سب نے اس بکری کا گوشت اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا جب کھا پی کر سیر ہوگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا تم اپنے گھروں سے بھوک کی وجہ سے باہر آے پھر واپس نہیں لوٹے حتیٰ کہ تمہیں یہ نعمتیں حاصل ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦٠٩؛حدیث نمبر ٥٢٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " قَالَا : الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، قُومُوا ". فَقَامُوا مَعَهُ، فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ : مَرْحَبًا، وَأَهْلًا. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ فُلَانٌ ؟ " قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي. قَالَ : فَانْطَلَقَ، فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ، فَقَالَ : كُلُوا مِنْ هَذِهِ. وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ". فَذَبَحَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا، فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوے تھے اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تمہیں کس چیز نے(یہاں)بٹھا رکھا ہے انہوں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم بھوک کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر آے ہیں.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٠؛حدیث نمبر ٥٢٠٣)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ - يَعْنِي الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا ؟ " قَالَا : أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5203

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھوک کے آثار دیکھے میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں چار کلو جو تھے اور ہمارے پاس ایک پالتو بکری تھی۔فرماتے ہیں میں نے اس کو ذبح کیا اور اس نے(بیوی نے)آٹا پیسا اور میرے ساتھ ساتھ وہ بھی فارغ ہوگئی میں نے گوشت کاٹ کر دیگچی میں ڈالا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا میری بیوی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ فرماتے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سرگوشی میں عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پیسے ہیں جو ہمارے پاس تھے پس آپ چند ساتھیوں کو لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں فرمایا اے اہل خندق!بے شک حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے تمہاری دعوت کی پس تم لوگ چلو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی دیگچی نہ اتارنا اور نہ ہی گوندھے ہوئے آٹے کی روٹی پکانا جب تک میں تمہارے پاس نہ اجاؤں فرماتے ہیں پس میں آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کو لے کر تشریف لائے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے کہا تمہاری رسوائی ہوگی میں نے کہا میں نے تو وہی کیا جو تم نے کہا تھا چنانچہ اس نے اپنا گوندھا ہوا آٹا نکالا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور برکت کی دعا کی پھر ہماری دیگچی کا قصد کیا اور اس میں لعاب ڈال کر برکت کی دعا کی پھر فرمایا روٹیاں پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹیاں پکائیں اور دیگچی میں سے سالن نکالنا لیکن دیگچی کو چولہے سے نہ اتارنا۔ اس موقعے پر ایک ہزار صحابہ کرام تھے اللہ کی قسم ان سب نے کھایا اور بچ بھی گیا اور جب وہ واپس گئے تو ہماری دیگچی اسی طرح جوش کھارہی تھی جیسے پہلے تھی اور ہمارے آٹے سے روٹیاں پکائی جارہی تھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١١؛حدیث نمبر ٥٢٠٤)

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا، ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيَّ قَالَ : أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا ، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي، فَقُلْتُ لَهَا : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا. فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ، قَالَ : فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتْ، فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي، فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ. قَالَ : فَجِئْتُهُ، فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ. فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ، وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ ". فَجِئْتُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُ النَّاسَ، حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ : بِكَ، وَبِكَ. فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا، فَبَصَقَ فِيهَا، وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا، فَبَصَقَ فِيهَا، وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ، وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهَا ". وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ، وَانْحَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَتَنَا - أَوْ كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ - لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5204

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں نقاہت محسوس کی ہے معلوم ہوتا ہے آپ کو بھوک لگی ہے کیا تمہارے پاس(کھانے کے لئے)کچھ ہے انہوں نے کہا ہاں! پھر انہوں نے کچھ جو کی روٹیاں نکالیں اور ان کو اپنے دو پٹہ میں لپیٹا اور ان کو میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا اور مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان روٹیوں کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ مسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد صحابہ کرام بھی ہیں میں وہاں کھڑا ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں حضرت ابو طلحہ نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں!فرمایا کھانے کے لئے؟میں نے کہا جی ہاں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں موجود تمام صحابہ کرام سے فرمایا اٹھو،حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں ان کے آگے چل پڑا حتیٰ کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر ان کو بتایا۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور ساتھ صحابہ کرام بھی ہیں اور ہمارے پاس ان سب کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں ہے حضرت ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ(استقبال کے لئے)چلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی آپ حضرت ابو طلحہ کے ساتھ تشریف لائے حتیٰ کہ گھر کے اندر داخل ہوے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ پس وہ روٹیاں لے آئیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے گھی کے کپ میں سے ان پر نچوڑا اور وہ سالن کے قائم مقام ہوگیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دعائیہ کلمات کہے جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ پڑھتے رہے اس کے بعد فرمایا دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو انہوں نے دس آدمیوں کو اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور باہر چلے گئے پھر فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو حتیٰ کہ تمام لوگوں نے سیر ہوکر کھایا اور وہ لوگ ستر یا اسی کی تعداد میں تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٢؛حدیث نمبر ٥٢٠٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ : قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ. فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ. فَقَالَ : " أَلِطَعَامٍ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ : " قُومُوا ". قَالَ : فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ. فَقَالَتِ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ". فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا، فَأَدَمَتْهُ ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا، حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا، حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا، أَوْ ثَمَانُونَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5205

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ آپ کی دعوت دوں اور انہوں نے کھانا تیار کر رکھا تھا۔ فرماتے ہیں میں آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام کے ہمراہ تھے آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے شرم آئی میں نے عرض کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی دعوت قبول کیجئے۔آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا اٹھو اور چلو حضرت ابوطلحہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آپ کے لئے کچھ کھانا تیار کیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی پھر فرمایا میرے صحابہ کرام میں سے دس افراد کو آنے کے اجازت دو آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان میں سے کچھ نکالا اور فرمایا کھاؤ انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور باہر چلے گئے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ،انہوں نے بھی سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے پس مسلسل دس آدمی داخل ہوتے اور دس چلے جاتے حتیٰ کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہا سب داخل ہوتے اور کھانا کھاتے رہے پھر آپ نے کھانا منگوایا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان لوگوں کے کھانے کے وقت تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٢؛حدیث نمبر ٥٢٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقُلْتُ : أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ. فَقَالَ لِلنَّاسِ : " قُومُوا ". فَقَالَ : أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا. قَالَ : فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً ". وَقَالَ : " كُلُوا ". وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، فَخَرَجُوا، فَقَالَ : " أَدْخِلْ عَشَرَةً ". فَأَكَلُوا، حَتَّى شَبِعُوا، فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً، وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ، ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5206

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠٦ کے مثل مروی ہے البتہ اس کے آخر میں فرمایا کہ پھر باقی بچے ہوئے کھانے کو جمع کر کے اس میں برکت کی دعا تو وہی کھانا پھر پہلے جتنا ہوگیا آپ نے فرمایا لو یہ کھانا لے لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٧)

وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ، فَجَمَعَهُ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ : فَعَادَ كَمَا كَانَ. فَقَالَ : " دُونَكُمْ هَذَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5207

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی طور پر کھانا تیار کرو پھر مجھے آپ کے پاس بھیجا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠٦ کے مثل مروی ہے،اس میں یہ بھی فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور اس(کھانے)پر بسم اللہ پڑھی پھر فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ چنانچہ انہوں نے کھایا اسی آدمی نے کھایا پھر اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور گھر والوں نے کھانا کھایا پھر بھی کچھ بچ گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٨)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً، ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَسَمَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، فَقَالَ : " كُلُوا، وَسَمُّوا اللَّهَ ". فَأَكَلُوا، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ، وَتَرَكُوا سُؤْرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5208

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی.... پورا واقعہ حسب سابق مذکور ہے البتہ اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہوے حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ تھوڑا سا کھانا ہے آپ نے فرمایا لاؤ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٩)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى الْبَابِ، حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ يَسِيرٌ. قَالَ : " هَلُمَّهُ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَجْعَلُ فِيهِ الْبَرَكَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5209

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کیا اور اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور گھر والوں نے کھایا اور باقی کھانا پڑوسیوں کو دیدیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ، وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5210

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹا ہوا دیکھا کہ آپ کا پیٹ مبارک پیٹھ سے لگا ہوا تھا وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا اور آپ کا پیٹ مبارک پیٹھ سے لگا ہوا تھا میرا خیال ہے کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں فرمایا کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ،حضرت ام سلیم اور حضرت انس رضی اللہ عنہم نے کھایا اور کچھ بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو دے دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١١)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، وَأَظُنُّهُ جَائِعًا. وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5211

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور اپنے شکم مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی حضرت اسامہ(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ پٹی پتھر کے اوپر تھی میں نے بعض صحابہ کرام سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے شکم اقدس پر پٹی کیوں باندھ رکھی ہے انہوں نے فرمایا بھوک کی وجہ سے....حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور وہ ام سلیم بنت ملحان کے خاوند تھے میں نے ان سے کہا اے ابا جان!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ آپ کے شکم اطہر پر پٹی بندھی ہوئی ہے میں نے بعض صحابہ کرام سے(اس کے بارے میں)پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میری ماں(حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا)کے پاس گئے اور پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں میرے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا ہے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ کو سیر کردیں گے اور آپ کے ساتھ کوئی اور بھی آے تو یہ کھانا کم ہوجائے گا....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٢)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ، وَقَدْ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ - قَالَ أُسَامَةُ : وَأَنَا أَشُكُّ - عَلَى حَجَرٍ، فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَهُ ؟ فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ. فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهْ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا : مِنَ الْجُوعِ. فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ، عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ، وَتَمَرَاتٌ، فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ، وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ. ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5212

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کا واقعہ روایت کیا ہے۔ (ان احادیث سے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ظاہر ہونے والی برکت کا پتہ چلتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ خود بھی برداشت کی اور خندق کھودنے میں حصہ لیا جو آج کے لیڈروں اور رہنماؤں کے لئے قابل تقلید اور اسوہ حسنہ ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٣)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5213

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کچھ کھانا تیار کیا حضرت انس فرماتے ہیں میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس دعوت میں گیا۔ چنانچہ اس(درزی)نے آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور گوشت تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں سے کدو تلاش کر رہے تھے میں اسی دن سے کدو سے محبت کرنے لگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛ترجمہ؛شوربہ کھانے کا جواز اور کدو کھانے کا استحباب؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ. قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5214

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تو میں بھی آپ کے ہمراہ گیا وہ شخص شوربا لایا جس میں کدو تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کھا رہے تھے اور آپ کو کدو پسند تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے یہ صورت دیکھی تو میں نے خود کدو نہ کھائے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے آگے رکھنے لگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ، وَيُعْجِبُهُ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ، وَلَا أَطْعَمُهُ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5215

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی۔ثابت فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے اس کے بعد میرے لئے جو بھی سالن پکایا گیا تو اگر ممکن ہوتا تو میں اس میں کدو ضرور ڈلواتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٦)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَزَادَ : قَالَ ثَابِتٌ : فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلَّا صُنِعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5216

حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پنیر اور برنی کھجور کا حلوہ پیش کیا۔آپ نے تناول فرمایا پھر کھجوریں لائی گئیں تو آپ کھجوریں کھاکر گٹھلیاں دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو جمع کرتے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میرا بھی یہی گمان ہے اور اس حدیث میں ہے ان شاءاللہ دو انگلیوں کے درمیان گٹھلی کو ڈالنا۔ پھر مشروب لایا گیا تو آپ نے نوش فرمایا اور باقی اپنی دائیں طرف والے کو عنایت فرمایا میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑے ہوے عرض کیا ہمارے لئے دعا کیجئے تو آپ نے دعا مانگی: یااللہ!تو نے ان کو جو رزق عطاء کیا ہے اس میں ان کو برکت عطاء فرما ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ؛ترجمہ؛کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں الگ رکھنا،مہمان کا گھر والوں کے لئے دعا کرنا اور نیک مہمان سے دعا طلب کرنا مستحب ہے؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ : فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ، وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى - قَالَ شُعْبَةُ : هُوَ ظَنِّي، وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ - ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ : فَقَالَ أَبِي، وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ : ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5217

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں حضرت شعبہ سے شک کا ذکر نہیں ہے۔(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہمان کو اچھا کھانا پیش کیا جائے نیز مہمان کو چاہیے کہ گھر والوں کے لئے خیر و برکت کی دعا کرے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢١٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5218

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کھجور کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ؛ترجمہ؛کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5219

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اقعاء کے طریقے پر بیٹھے ہوئے کھجوریں کھا رہے تھے(اقعاء کا مطلب گھٹنوں کو کھڑا کر کے سرین پر بیٹھنا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الْآكِلِ، وَصِفَةِ قُعُودِهِ؛ترجمہ؛کھاتے وقت تواضع کا استحباب اور کھانے کے لئے بیٹھنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5220

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ ان کھجوروں کو ہمارے درمیان تقسیم کرنے لگے اور آپ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے کوئی شخص جلدی میں بیٹھتا ہو اور جلدی جلدی کھارہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الْآكِلِ،وَصِفَةِ قُعُودِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢١)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ : أَكْلًا حَثِيثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5221

جبلہ بن سحیم فرماتے ہیں جن دونوں لوگ قحط سالی میں مبتلا تھے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے فرمایا دو،دو کھجوریں ملاکر مت کھاؤ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ملا کر کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے ہاں اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے تو پھر کوئی حرج نہیں شعیب کہتے ہیں میرے خیال میں اجازت لینے کا قول حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ، وَكُنَّا نَأْكُلُ، فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ : لَا تُقَارِنُوا ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ. قَالَ شُعْبَةُ : لَا أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ، يَعْنِي الِاسْتِئْذَانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5222

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ان دونوں میں حضرت شعبہ کا قول نہیں ہے اور نہ یہ ہے کہ ان دنوں لوگ قحط زدہ ہوگئے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٣)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ، وَلَا قَوْلُهُ : وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5223

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو،دو کھجوریں ملاکر کھاے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ، حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5224

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں کھجوریں ہوں وہ لوگ بھوکے نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الْأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ؛ترجمہ؛کھجوروں اور دیگر اشیائے خوردنی کو اپنے اہل وعیال کے لئے ذخیرہ کرنا؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٥)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5225

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ لوگ بھوکے ہیں آپ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الْأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ، بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ، يَا عَائِشَةُ، بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ "، أَوْ " جَاعَ أَهْلُهُ ". قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5226

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مدینہ طیبہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان کی کھجوریں صبح کے وقت کھاے اس کو شام تک زہر کوئی نقصان نہیں پہنچاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ کی کھجوروں کی فضیلت؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّى يُمْسِيَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5227

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کے وقت مدینہ منورہ کی سات عجوہ کھجوریں کھالیں اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچاے گا اور نہ جادو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ، وَلَا سِحْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5228

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ الفاظ نہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٢٩)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، كِلَاهُمَا عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَا يَقُولَانِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5229

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ کے بالائی حصہ کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے یا فرمایا صبح کے وقت ان کا استعمال تریاق(سبب شفاء)ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ شَرِيكٍ - وَهُوَ : ابْنُ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً "، أَوْ : " إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5230

حضرت عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کھُنبی من کی ایک قسم اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛ترجمہ؛کھُنبی کی فضیلت اور اس سے آنکھوں کا علاج؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعَمْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5231

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣٢)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5232

حضرت سعید بن زید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا۔شعبہ کہتے ہیں جب مجھ سے حکم نے یہ روایت بیان کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢٠؛حدیث نمبر ٥٢٣٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ شُعْبَةُ : لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5233

حضرت عمرو بن نفیل بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢٠؛حدیث نمبر ٥٢٣٤)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5234

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٥)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5235

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ يَقُولُ : قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5236

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ الْمَلِكِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5237

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مر الظهران کے مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیاہ پیلو تلاش کرو۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرائی ہوں آپ نے فرمایا ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں یا اس قسم کی کوئی بات فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَبَاثِ؛ترجمہ؛پیلو کے سیاہ پھل کی فضیلت؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٨)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَنَحْنُ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ ". قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ رَعَيْتَ الْغَنَمَ قَالَ : " نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا ". أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5238

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرکہ بہترین سالن یا فرمایا سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛ترجمہ؛سرکہ کی فضیلت اور اسے سالن کی جگہ استعمال کرنا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٩)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ الْأُدُمُ - أَوِ الْإِدَامُ - الْخَلُّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5239

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اور اس میں الادم(سالن)کا لفظ شک کے بغیر مذکور ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٠)

وَحَدَّثَنَاهُ مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ : " نِعْمَ الْأُدُمُ ". وَلَمْ يَشُكَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5240

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگا کر روٹی کھانا شروع کردی اور آپ فرماتے جاتے تھے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ ، فَقَالُوا : مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ. فَدَعَا بِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ : " نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ، نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5241

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے آپ کے سامنے روٹی کے ٹکڑے لائے گئے تھے آپ نے پوچھا کوئی سالن ہے تو گھر والوں نے کہا نہیں البتہ تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ نے فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس دن سے میں سرکہ سے محبت کرتا ہوں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس دن سے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے اس دن سے میں سرکہ پسند کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٢)

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ : " مَا مِنْ أُدُمٍ ؟ " فَقَالُوا : لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ. قَالَ : " فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ ". قَالَ جَابِرٌ : فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ طَلْحَةُ : مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5242

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اپنے گھر لے گئے یہ حدیث حدیث نمبر ٥٢٤٢ کے مثل مروی ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اور اس کے بعد کا حصہ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ : " فَنِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ ". وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5243

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے مجھے اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چل پڑے حتیٰ کہ ازواج مطہرات کے حجروں میں سے کسی حجرے میں آئے آپ اندر داخل ہوے پھر مجھے اجازت دی میں داخل ہوا تو ازواج مطہرات نے پردہ کر لیا آپ نے پوچھا کھانے کے لئے کچھ ہے؟گھر والوں نے کہا،ہے اور تین روٹیاں لائی گئیں ان روٹیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا آپ نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھ دی پھر تیسری روٹی کو پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھ دی۔ پھر پوچھا کیا سالن ہے؟گھر والوں نے عرض کیا نہیں البتہ تھوڑا سا سرکہ ہے آپ نے فرمایا لاؤ یہ بہترین سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ، ثُمَّ أَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ. فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ، فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ، فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ، فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ مِنْ أُدُمٍ ؟ " قَالُوا : لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ. قَالَ : " هَاتُوهُ ؛ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5244

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور باقی کھانا میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے کھانا بھیجا جس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا میں نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟آپ نے فرمایا نہیں لیکن میں اس کو اس کی بدبو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں میں نے عرض کیا جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ؛ لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا، فَسَأَلْتُهُ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ ". قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5245

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5246

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں(بطور مہمان)ٹھہرے اور نچلی منزل میں رہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اوپر والی منزل میں تھے ایک رات حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوے تو سوچا کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر انور کے اوپر چل رہے ہیں چنانچہ وہ آپ کی طرف سے ہٹ گئے اور دوسری جانب سو گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا نچلی منزل میں زیادہ سہولت ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں اس چھت کے اوپر نہیں سو سکتا جس کے نیچے آپ ہوں چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی منزل میں چلے گئے اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے منتقل ہوگئے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے جب آپ کا بچا ہوا کھانا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا تو پوچھتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیاں کہاں لگی ہیں پھر وہ وہاں سے کھاتے جہاں آپ کی مبارک انگلیاں لگی ہوتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا تیار کیا جس میں لہسن تھا جب وہ کھانا ان کے پاس لوٹایا گیا تو انہوں نے پوچھا حضور علیہ السلام کی مبارک انگلیاں کہاں لگی تھیں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام اس میں سے کچھ نہیں کھایا وہ گھبرا کر اوپر والی منزل میں گئے اور پوچھا کیا یہ حرام ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے آپ ناپسند فرماتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٧)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ - وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ - فِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ : ابْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلُ - حَدَّثَنَا عَاصِمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ - مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلْوِ، قَالَ : فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً، فَقَالَ : نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَتَنَحَّوْا، فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السُّفْلُ أَرْفَقُ ". فَقَالَ : لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا. فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلْوِ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ : لَمْ يَأْكُلْ. فَفَزِعَ، وَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ ". قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ، أَوْ مَا كَرِهْتَ. قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5247

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فاقہ سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کی طرف ایک آدمی بھیجا تو زوجہ مطہرہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری زوجہ مطہرہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات نے یہی کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی آج رات اس مہمان کی مہمان نوازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں پھر وہ انصاری آدمی اس مہمان کو لے کر اپنے گھر کی طرف چلے اور اپنی بیوی سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے وہ کہنے لگی کہ سوائے میرے بچوں کے کھانے کے میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے انصاری نے کہا ان بچوں کو کسی چیز سے بہلا دو اور جب مہمان اندر آجائے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا گویا کہ ہم بھی کھانا کھا رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مہمان کے ساتھ سب گھر والے بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے ہی کھایا پھر جب صبح ہوئی اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے آج رات اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ؛ترجمہ؛مہمان کی تعظیم اور اس کے لیے ایثار کرنا؛جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٤٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنِّي مَجْهُودٌ. فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ. ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ. فَقَالَ : " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : لَا، إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي. قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ، وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ. قَالَ : فَقَعَدُوا، وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5248

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک انصاری کے ہاں ایک مہمان نے رات گزاری اس انصاری کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا بچوں کو سلادو اور چراغ بجھا دو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے مہمان کے آگے رکھ دو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: ٩]، "اور وہ لوگ جو محتاج ہونے کے باوجود اپنے نفسوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٤٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : نَوِّمِي الصِّبْيَةَ، وَأَطْفِئِي السِّرَاجَ، وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ. قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ }.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5249

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور مہمان حاضر ہوا آپ کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ تھا آپ نے فرمایا کوئی شخص ہے جو اس شخص کی مہمان نوازی کرے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا انصار میں سے ایک شخص اٹھا جسے ابو طلحہ کہا جاتا تھا اور وہ اسے اپنے گھر لے گیا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٤٨ کے مثل مروی ہے اور اس میں نزول آیت کا بھی ذکر ہے جیسا کہ وکیع کی(گزشتہ)روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٥٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ، فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو طَلْحَةَ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الْآيَةِ، كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5250

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے اور تکلیف کی وجہ سے ہماری قوت سماعت اور قوت بصارت چلی گئی تھی ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ(رضی اللہ عنہم)پر پیش کیا تو اس میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے تین بکریاں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ نکالو۔ ہم ان کا دودھ نکالتے تھے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی اپنے حصے کا دودھ پیتا اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لاتے سلام کرتے کہ سونے والا بیدار نہ ہوتا اور جاگنے والا سن لیتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے اور نماز پڑھتے پھر آپ اپنے دودھ کے پاس آتے اور اسے پیتے ایک رات شیطان آیا جبکہ میں اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا شیطان کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس جاتےہیں اور وہ ان کی ضرورت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ مل جاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہوگی پھر میں آیا اور میں نے وہ دودھ پی لیا جب وہ دودھ میرے پیٹ میں چلا گیا اور مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ ملنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو شیطان نے مجھے ندامت دلائی اور کہنے لگا تیری خرابی ہو تو نے یہ کیا کیا تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کا دودھ بھی پی لیا آپ آئیں گے اور وہ دودھ نہیں پائیں گے تو ضرور تیرے خلاف دعا کریں گے تو تو ہلاک ہوجائے گا اور تیری دنیا وآخرت برباد ہوجائے گی میرے پاس ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر کھل جاتا اور جب میں اسے اپنے سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں کھل جاتے اور مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی جبکہ میرے دونوں ساتھی سو رہے تھے انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے کیا تھا بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ پایا تو آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا میں نے دل میں کہا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بددعا فرمائیں گے پھر میں ہلاک ہوجاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: اے اللہ!تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے(میں نے یہ سن کر)اپنی چادر مضبوط کر کے باندھ لی پھر میں چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ اس میں ایک تھن دودھ سے بھرا پڑا ہے بلکہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے اس گھر کے برتنوں میں سے وہ برتن لیا کہ جس میں دودھ دوہا جاتا تھا پھر میں نے اس برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ دودھ کی جھاگ اوپر تک آگئی پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پئیں آپ نے وہ دودھ پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہوگئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے تو میں ہنس پڑا یہاں تک کہ مارے خوشی کے میں زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے مقداد یہ تیری ایک بری عادت ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو اس طرح کا معاملہ ہوا ہے اور میں نے اس طرح کرلیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے اللہ کی رحمت کے اور کچھ نہ تھا تو نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتادیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دودھ پی لیا ہے اور میں نے بھی یہ دودھ پی لیا ہے تو اب مجھے اور کوئی پرواہ نہیں (یعنی میں نے اللہ کی رحمت حاصل کرلی ہے تو اب مجھے کیا پرواہ(بوجہ خوشی)کہ لوگوں میں سے کوئی اور بھی یہ رحمت حاصل کرے یا نہ کرے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٥؛حدیث نمبر ٥٢٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِقْدَادِ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا، وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ، فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا ثَلَاثَةُ أَعْنُزٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا ". قَالَ : فَكُنَّا نَحْتَلِبُ، فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ، وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ، قَالَ : فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوقِظُ نَائِمًا، وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ، قَالَ : ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي، ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ، فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي، فَقَالَ : مُحَمَّدٌ يَأْتِي الْأَنْصَارَ، فَيُتْحِفُونَهُ، وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ، فَأَتَيْتُهَا، فَشَرِبْتُهَا، فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ، قَالَ : نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ. فَقَالَ : وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ ؟ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ ؟ فَيَجِيءُ فَلَا يَجِدُهُ، فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ، فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ. وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي، وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَايَ، وَجَعَلَ لَا يَجِيئُنِي النَّوْمُ، وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا، وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ، فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ : الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ. فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي ". قَالَ : فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ، فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ، فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ، وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ، فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ، قَالَ : فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْرَبْ. فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْرَبْ. فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ، وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ضَحِكْتُ، حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِحْدَى سَوْءَاتِكَ يَا مِقْدَادُ ". فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا، وَفَعَلْتُ كَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ إِلَّا رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ، أَفَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5251

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٦؛حدیث نمبر ٥٢٥٢)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5252

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم ایک سو تیس آدمی تھے آپ نے فرمایا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے تو ایک شخص کے پاس ایک صاع(چار کلو گرام)آٹا تھا اسے گوندا گیا پھر ایک مشرک آیا جس کے بال بکھرے ہوئے اور قد لمبا تھا وہ اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بکریاں بیچو گے یا یونہی عطیہ دو گے؟اس نے کہا بیچوں گا آپ نے اس سے ایک بکری خرید لی اس کا گوشت تیار کیا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا۔ حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں اللہ کی قسم!ان ایک سو تیس میں سے ہر ایک کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی میں سے حصہ دیا اگر موجود تھا تو عطاء فرمایا اور اگر غائب تھا تو اس کے لیے رکھ لیا اور گوشت دو پیالوں میں ڈال دیا پس ہم سب نے اس میں سے سیر ہوکر کھایا اور دونوں پیالوں میں کچھ بچ بھی گیا پھر میں نے اسے اونٹ پر رکھ لیا یا جس طرح راوی نے بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٦؛حدیث نمبر ٥٢٥٣)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، جَمِيعًا عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَحَدَّثَ أَيْضًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ " فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ، أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَيْعٌ، أَمْ عَطِيَّةٌ ؟ " أَوْ قَالَ : " أَمْ هِبَةٌ ؟ " فَقَالَ : لَا، بَلْ بَيْعٌ. فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ، مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، قَالَ : وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ، وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ، أَوْ كَمَا قَالَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5253

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صفہ والے لوگ محتاج تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جس آدمی کے پاس دو آدمیوں کا کھانا(موجود)ہو تو وہ تین(صفہ کے ساتھیوں کو کھانا کھلانے کے لئے)لے جائے اور جس آدمی کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ پانچواں یا چھٹے کو بھی(کھانا کھلانے کے لئے ساتھ)لے جائے یا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین کو لئے آئے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس ساتھیوں کو لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تین ساتھیوں کو ساتھ لائے تھے راوی کہتے ہیں کہ وہ میں اور میرے ماں باپ تھے کہ میں نہیں جانتا کہ شاید کہ انہوں نے اپنے بیوی کو بھی کہا ہو اور ایک خادم جو میرے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر میں تھا راوی حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کا کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز ادا کی گئی(اور پھر نماز سے فارغ ہو کر)واپس آگئے پھر ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے الغرض رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واپس تشریف لے آے(اپنے گھر آئے)۔ ان کی بیوی نے کہا کہ آپ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا وہ کہنے لگیں کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا مگر انہوں نے پھر بھی نہیں کھایا۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں بھاگ کر(ڈر کی وجہ سے) چھپ گیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا او جاہل!اور انہوں نے مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاؤ اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تو یہ کھانا نہیں کھاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں اللہ کی قسم ہم کھانے کا جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے اس کے نیچے سے اتنا ہی کھانا اور زیادہ ہوجاتا تھا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوگئے اور جتنا کھانا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ کھانا دیکھا تو وہ کھانا اتنا ہی تھا یا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا اے بنی خراس کی بہن یہ کیا ماجرا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم کھانا تو پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہوگیا ہے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کھانے میں سے کھایا اور فرمایا کہ میں نے جو(غصہ کی حالت میں)قسم کھائی تھی وہ صرف شیطانی فعل تھا پھر ایک لقمہ اس کھانے میں سے کھایا پھر اس کھانے کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہ کھانا صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ(اس زمانے میں)ہمارے اور ایک قوم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ افراد مقرر فرما دیئے اور ہر افسر کے ساتھ ایک خاص جماعت تھی اللہ جانتا ہے کہ اس جماعت کی کتنی تعداد تھی اور آپ نے وہ کھانا ان کے پاس بھیج دیا اور پھر ان سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٧؛حدیث نمبر ٥٢٥٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ : قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا نَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلَاثَةٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ، بِسَادِسٍ ". أَوْ كَمَا قَالَ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ. قَالَ : فَهُوَ وَأَنَا وَأَبِي وَأُمِّي - وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ : وَامْرَأَتِي - وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ : وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ ؟ - أَوْ قَالَتْ : ضَيْفِكَ ؟ - قَالَ : أَوَمَا عَشَّيْتِهِمْ ؟ قَالَتْ : أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ. قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، وَقَالَ : يَا غُنْثَرُ . فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ : كُلُوا لَا هَنِيئًا، وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا. قَالَ : فَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا. قَالَ : حَتَّى شَبِعْنَا، وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ، قَالَ لِامْرَأَتِهِ : يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ. قَالَ : فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ - يَعْنِي يَمِينَهُ - ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ. قَالَ : وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ، فَعَرَّفْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ، إِلَّا أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ، أَوْ كَمَا قَالَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5254

حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میرے والد رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے۔حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے عبدالرحمن!مہمانوں کی خبرگیری کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب شام ہوئی تو ہم مہمانوں کے سامنے کھانا لے کر آئے تو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ جب تک گھر والے ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھائیں گے اس وقت تک ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔میں نے کہا میرے والد سخت مزاج آدمی ہیں اگر تم کھانا نہیں کھاؤں گے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مجھے ان سے کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑجائے(لیکن اس کے باوجود)مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے مہمانوں ہی کے بارے میں پوچھا اور فرمایا کیا تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہوگئے ہو؟راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم!ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں ایک طرف ہوگیا(یعنی چھپ گیا)انہوں نے(آواز دے کر)کہا اے عبدالرحمن میں اس طرف سے ہٹ گیا(یعنی چھپ گیا)پھر انہوں نے فرمایا او نالائق!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو آجا۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر میں آگیا اور میں نے عرض کیا اللہ کی قسم!میرا کوئی گناہ نہیں یہ آپ کے مہمان موجود ہیں آپ ان سے(خود)پوچھ لیں میں نے ان کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا تھا انہوں نے آپ کے بغیر کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا حضرت ابوبکر نے ان مہمانوں سے فرمایا تمہیں کیا ہوا کہ تم نے ہمارا کھانا قبول نہیں کیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ(یہ کہہ کر)فرمانے لگے اللہ کی قسم!میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک کہ آپ کھانا نہیں کھائیں گے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے آج کی رات کی طرح بدترین رات کبھی نہیں دیکھی تم پر افسوس ہے کہ تم لوگ ہماری مہمان نوازی کیوں نہیں قبول کرتے۔(پھر کچھ دیر بعد)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا قسم کھانا شیطانی فعل تھا چلو لاؤ کھانا لاؤ۔چناں چہ کھانا لایا گیا آپ نے اللہ کا نام لے کر(یعنی بسم اللہ پڑھ کر)کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھانا کھایا پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول!مہمانوں کی قسم پوری ہوگئی اور میری قسم ٹوٹ گئی اور یہ کہ سارے واقعہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں بلکہ تمہاری قسم تو سب سے زیادہ پوری ہوئی ہے اور تم سب سے زیادہ سچے ہو۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ انہوں نے(قسم کا کفارہ ادا کیا تھا یا نہیں)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٨؛حدیث نمبر ٥٢٥٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ : وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ : فَانْطَلَقَ، وَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ. قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ، قَالَ : فَأَبَوْا، فَقَالُوا : حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا. قَالَ : فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى. قَالَ : فَأَبَوْا، فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ، فَقَالَ : أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ ؟ قَالَ : قَالُوا : لَا وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا. قَالَ : أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ. قَالَ : فَتَنَحَّيْتُ، قَالَ : فَقَالَ : يَا غُنْثَرُ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلَّا جِئْتَ. قَالَ : فَجِئْتُ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ، هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ، فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا، حَتَّى تَجِيءَ. قَالَ : فَقَالَ : مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَوَاللَّهِ، لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ. قَالَ : فَقَالُوا : فَوَاللَّهِ، لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ. قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ كَالشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ. وَيْلَكُمْ مَا لَكُمْ أَنْ لَا تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ. هَلُمُّوا قِرَاكُمْ. قَالَ : فَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَسَمَّى، فَأَكَلَ، وَأَكَلُوا، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ. قَالَ : فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ : " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ، وَأَخْيَرُهُمْ ". قَالَ : وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5255

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے اور تین کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛کھانے میں کمی کے باوجود مہمان نوازی؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5256

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو کفایت کرتا ہے دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے کافی ہوتا ہے اور چار آدمیوں کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اسحاق کی روایت میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اس میں سننے کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ ". وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ : سَمِعْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5257

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5258

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5259

حضرت جابر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے اور چار کا کھانا آٹھ(افراد)کے لئے کافی ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " طَعَامُ الرَّجُلِ يَكْفِي رَجُلَيْنِ، وَطَعَامُ رَجُلَيْنِ يَكْفِي أَرْبَعَةً، وَطَعَامُ أَرْبَعَةٍ يَكْفِي ثَمَانِيَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5260

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ترجمہ؛مؤمن ایک آنت میں اور کافر سات آنتوں میں کھانا ہے؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5261

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦١ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٢)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5262

حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسکین کو دیکھا تو اس کے سامنے کھانا رکھا وہ شخص بہت زیادہ کھانا کھا رہا تھا انہوں نے فرمایا یہ شخص میرے پاس نہ آئے کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا ، قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ مِسْكِينًا، فَجَعَلَ يَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ : فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، قَالَ : فَقَالَ : لَا يُدْخَلَنَّ هَذَا عَلَيَّ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5263

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5264

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦٤ کے مثل مروی ہے اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٥)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ : ابْنَ عُمَرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5265

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5266

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5267

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا اور وہ کافر تھا آپ نے اس کے لئے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا دودھ دوہا گیا تو وہ تمام دودھ پی گیا پھر دوسری بکری کا دودھ پی گیا۔صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا۔تو وہ سارا دودھ نہ پی سکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ، فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلَابَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى، فَشَرِبَهُ، ثُمَّ أُخْرَى، فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ، فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ، فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5268

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا کوئی چیز پسند ہوئی تو تناول فرماتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛ترجمہ؛کھانے میں عیب نہ نکالنا؛ جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ؛ كَانَ إِذَا اشْتَهَى شَيْئًا أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5269

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٧٠)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5270

امام مسلم نے ایک اور سند سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٧١)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5271

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام کو کسی کھانے میں عیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا جب کوئی کھانا اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اچھا نہ لگتا تو چھوڑ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٣؛حدیث نمبر ٥٢٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالُوا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى - مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ؛ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5272

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٧٢ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٣؛حدیث نمبر ٥٢٧٣)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 5273

Muslim Shareef : Kitabul Ashreba

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ

|

•