
نشہ آور مشروبات کا بیان حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے ایک اونٹنی ملی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹنی عطاء فرما دی میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو انصار کے ایک آدمی کے دروازہ پر بٹھا دیا اور میں یہ چاہتا تھا کہ میں ان پر اذخر (گھاس) لاد کر لاؤں تاکہ میں اسے بیچوں اور میرے ساتھ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی تھا الغرض میرا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کی تیاری کا ارادہ تھا اور اسی گھر میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب شراب پی رہے تھے ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو کہ شعر پڑھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی اے حمزہ ان موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ یہ سن کر اپنی تلوار لے کر ان اونٹنیوں پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ دی اور ان کی کھوکھوں کو پھاڑ ڈالا پھر ان کا کلیجہ نکال دیا میں نے ابن شہاب سے کہا کیا کوہان بھی لے گئے؟انہوں نے کہا ہاں کوہان بھی تو کاٹ لئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں نے یہ خطرناک منظر دیکھا تو میں اسی وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے میں نے آپ کو اس سارے واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور حضرت زید بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا آپ حضرت حمزہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا حضرت حمزہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ لوگ تو میرے آباؤ واجداد کے غلام ہی تو ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس لوٹ پڑے یہاں تک کہ وہاں سے چلے آئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛ترجمہ؛خمر(شراب)کی حرمت اور یہ کہ وہ انگور کے(کچے)شیرے سے بنتی ہے؛جلد٣ص١٥٦٨؛حدیث نمبر ٥٠١٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٦٩؛حدیث نمبر ٥٠١٨)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن مال غنیمت میں سے میرے حصہ میں ایک اونٹنی آئی تھی اور اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے مجھے ایک اونٹنی عطا فرمائی تھی۔ جب میں نے ارادہ کیا کہ میں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلوت کروں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار آدمی سے اپنے ساتھ چلنے کا وعدہ لے لیا تاکہ ہم اذخر گھاس لا کر سناروں کے ہاتھ فروخت کردیں اور پھر اس کی رقم سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں گا۔ اسی دوران میں اپنی اونٹنیوں کا سامان پالان کے تختے بوریاں اور رسیاں جمع کرنے لگا اور اس وقت میری دونوں اونٹنیاں انصاری آدمی کے گھر کے پاس بیٹھیں تھیں جب میں نے سامان اکٹھا کرلیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کھوکھیں بھی کٹی ہوئی ہیں اور ان کے کلیجے نکلے ہوئے ہیں۔میں دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابونہ کرسکا میں نے کہا کہ یہ کس نے کیا ہے؟لوگوں نے کہا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے اور حضرت حمزہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسی گھر میں موجود ہیں حضرت حمزہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک گانے والی عورت نے ایک شعر سنایا تھا کہ سنو اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ تلوار لے کر اٹھے اور ان اونٹینوں کے کوہان کو کاٹ دیا اور ان کی کھوکھیں کاٹ دیں اور ان کے کلیجے نکال دیئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چل پڑا یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے کے آثار سے حالات معلوم کر لئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا حمزہ نے میری اونٹینوں پر حملہ کر کے ان کے کوہان کاٹ لئے ہیں اور ان کی کھوکھیں پھاڑ ڈالی ہیں اور حمزہ اس وقت اس گھر میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ کچھ اور شراب خور بھی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر پیدل ہی چل پڑے اور میں اور حضرت زید بن حارثہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازہ میں آئے جہاں حضرت حمزہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی تو دیکھا کہ وہ سب شراب پئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کو ان کے اس فعل پر ملامت کرنا شروع کی حمزہ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا پھر حمزہ کہنے لگے کہ تم تو میرے باپ کے غلام ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ حمزہ نشہ میں مبتلا ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں باہر تشریف لائے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکل آئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٦٩؛حدیث نمبر ٥٠١٩)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی بیان کی ہے۔ (چونکہ اس وقت شراب پینا مباح تھا لہٰذا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر کوئی مواخذہ نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں کہ جس دن شراب حرام کی گئی اس دن میں حضرت ابوطلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا وہ شراب خشک کشمش اور چھوہاروں کی بنی ہوئی تھی اسی دوران میں نے آواز سنی حضرت ابوطلحہ کہنے لگے کہ باہر نکل کر دیکھو میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی آواز لگا رہا ہے آگاہ رہو کہ شراب حرام کردی گئی ہے راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی تمام گلیوں میں یہ اعلان کردیا گیا حضرت ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر اس شراب کو بہا دو تو میں نے باہر جا کر اس شراب کو بہا دیا لوگوں نے کہا یا لوگوں میں سے کسی نے کہا فلاں فلاں شہید کردیئے گئے اور ان کے پیٹوں میں تو شراب تھی راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا حصہ ہے یا نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: ٩٣] (ترجمہ)"جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے،ان پر ان چیزوں کا کوئی مواخذہ نہیں جو کھا چکے ہیں جب کہ وہ(اللہ تعالیٰ سے)ڈرتے تھے اور ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢١)
عبد العزيز بن صہیب فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیح(کچی اور پکی کھجوروں سے بنتی شراب کو فضیح کہا جاتا ہے۔) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ہمارے پاس اس فضیح کے علاوہ کوئی خمر(شراب)نہیں تھی وہ وہی شراب ہے جس کو تم فضیح کہتے ہو،میں اپنے گھر میں حضرت ابوطلحہ،حضرت ابو ایوب اور کچھ دوسرے صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم)کو یہ شراب کھڑے ہوکر پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کیا تمہیں خبر پہنچی ہے؟ہم نے کہا نہیں اس نے کہا خمر(شراب)حرام کردی گئی ہے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انس!ان مٹکوں کو بہا دو۔فرماتے ہیں اس کے بعد انہوں نے کبھی شراب نہیں پی اور اس خبر کے بارے میں سوال نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اپنے چچا زاد قبیلہ والوں کوفضیح(شراب)پلا رہا تھا اور میں عمر میں ان سب سے چھوٹا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا خمر(شراب)حرام کر دی گئی ہے تو انہوں نے کہا اے انس اسے بہا دو،چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ کس چیز کی شراب تھی انہوں نے کہا کچی اور پکی کھجوروں کی شراب تھی ابوبکر بن انس نے کہا ان دنوں ان لوگوں کی یہی شراب تھی۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اپنے قبیلے کو شراب پلا رہا تھا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠٢٣ کے مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ ابوبکر بن انس نے کہا ان دنوں ان لوگوں کی یہی شراب تھی حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے اور انہوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا ان دنوں ان لوگوں کا خمر(شراب)یہی تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٠؛حدیث نمبر ٥٠٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں،حضرت ابو طلحہ،ابو دجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کو اور انصار کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا ایک نئی خبر آئی خمر کی حرمت کا ایک حکم نازل ہوا ہے تو ہم نے اسی دن شراب کو بہا دیا اور وہ کچی کھجوروں اور چھوہاروں کی شراب تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا،خمر(شراب)حرام کی گئی اور ان دنوں ان کی عام شراب کچی اور پکی کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں،حضرت ابو طلحہ،حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضا(رضی اللہ عنہم)کو ایک مشکیزہ سے شراب پلا رہا تھا جس میں کچی اور پکی کھجوروں کی شراب تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور چھوہاروں کو ملاکر بھگونے اور پھر اس کو پینے سے منع فرمایا اور جس دن شراب حرام کی گئی اس دن ان کی عام شراب یہی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح،ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو فضیح اور چھوہاروں کی شراب پلا رہا تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہا بےشک خمر حرام ہوچکی ہے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے انس!اس گھڑے کی طرف اٹھو اور اس کو توڑ دو فرماتے ہیں میں نے پتھر کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس(گھڑے)کے نچلے حصے پر دے مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔(یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ جب شرعی حکم آیا تو فوراً اس پر عمل کیا کسی قسم کا حیلہ بہانا تلاش نہ کیا ہر مسلمان میں یہی جذبہ ہونا چاہئے اور شرعی احکام میں چوں و چرا کو دخل نہیں دینا چاہیے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧٢؛حدیث نمبر ٥٠٢٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جس میں شراب کو حرام قرار دیا تو اس وقت مدینہ طیبہ میں کھجور کے علاوہ کوئی شراب نہیں پی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَبَيَانِ أَنَّهَا تَكُونُ مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، وَمِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ، وَغَيْرِهَا مِمَّا يُسْكِرُ؛جلد٣ص١٥٧١؛حدیث نمبر ٥٠٢٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خمر(شراب)کو سرکہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں(بنا سکتے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَخْلِيلِ الْخَمْرِ؛ترجمہ؛خمر کو سرکہ بنانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٠)
حضرت طارق بن سوید جعفی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خمر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا اس کا بنانا ناپسند کیا انہوں نے عرض کیا میں اسے دوا کے لئے بناتا ہوں آپ نے فرمایا۔یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔(یہ وہ صورت ہے کہ جب حلال دوا میں شفاء پر یقین نہ ہو اور شراب کے علاوہ علاج ناممکن ہو جب شراب میں بظاہر یقینی ہو اور مسلمان متقی طبیب کی یہ رائے ہو تو اب حالت اضطرار والی کیفیت میں اس سے علاج جائز ہوگا۔در مختار جلد اول ص؛١٩٤) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّدَاوِي بِالْخَمْرِ؛ترجمہ؛خمر سے علاج کرانے کی حرمت؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خمر ان درختوں سے ہے یعنی کھجور اور انگور سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛ترجمہ؛کھجور اور انگور سے بنی ہوئی شراب کو خمر کہنا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ خمر(شراب)ان دو درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے خمر بنائی جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ مِمَّا يُتَّخَذُ مِنَ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ يُسَمَّى خَمْرًا؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٤)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش نیز کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛ترجمہ؛چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے کا حکم؛جلد٣ص١٥٧٣؛حدیث نمبر ٥٠٣٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا نیز تازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں نیز کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا نیز کچی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٨)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اسی طرح چھوہاروں اور کچی کھجوروں کو ملانے سے بھی منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٤؛حدیث نمبر ٥٠٣٩)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کشمش اور چھوہاروں کو ملانے اور کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤١)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،تم میں سے جو شخص نبیذ پینا چاہے وہ صرف کشمش کا نبیذ پئے یا صرف چھوہاروں کا یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٢)
اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے کھجوروں کو چھوہاروں سے ملانے یا کشمش کو چھوہاروں کے ساتھ ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ تم میں سے جو شخص نبیذ پئے.... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٣)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور نہ کشمش اور چھوہاروں کو ملاکر نبیذ بناؤ بلکہ ہر ایک کا الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٥)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور نہ تازہ کھجوروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بناؤ بلکہ ہر ایک کا الگ نبیذ بناؤ۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ ان کی حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٠٤٤ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٥؛حدیث نمبر ٥٠٤٦)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥٠٤٦ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں تازہ اور گدری کھجوروں اور چھوہاروں اور کشمش کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٧)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا نیز کشمش اور چھوہاروں کو ملانے اور گدری کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٠٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور چھوہاروں نیز کچی کھجوروں اور چھوہاروں کو ملانے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ان میں سے ہرایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥٠)
ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٠٥٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نیز کچھ کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور آپ نے اہل جرش کی طرف لکھا کہ چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ نہ بنائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٦؛حدیث نمبر ٥٠٥٢)
اسی سند کے ساتھ چھوہاروں اور کشمش سے متعلق ایک اور روایت بھی ہے اور اس میں کچی کھجوروں اور چھوہاروں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچی کھجوروں اور تازہ کھجوروں نیز چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچی کھجوروں اور تازہ کھجوروں کو ملاکر نبیذ بنانے نیز چھوہاروں اور کشمش کو ملاکر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ كَرَاهَةِ انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ مَخْلُوطَيْنِ؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور قیر کا روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن قیر ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٧)
ابو سلمہ کہتے ہیں انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھوکھلے کدو اور روغن قیر ملے ہوئے برتن میں نبیذ نہ بناؤ۔اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کے سبز گھڑوں سے بھی اجتناب کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن قیر ملے ہوئے برتنوں،سبز گھڑوں اور کھوکھلی لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ"حنتم"کا کیا معنیٰ ہیں انہوں نے فرمایا سبز گھڑے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٧؛حدیث نمبر ٥٠٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد القیس کے وفد سے فرمایا میں تم کو کھوکھلے کدو کے برتن،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی کے برتنوں،روغن کئے ہوئے برتنوں اور جن مشکوں کے منہ کٹے ہوئے ہوں،سے منع کرتا ہوں صرف اپنے مشکیزوں سے پیا کرو اور ان کا منہ باندھ دیا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦٠)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ عبشر اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتن سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦١)
ابراہیم فرماتے ہیں میں نے حضرت اسود سے پوچھا کہ کیا تم نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کن برتنوں میں نبیذ بنانا مکروہ ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے عرض کیا ام المؤمنين!مجھے بتائیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم اہل بیت کو کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ نے حنتم اور گھڑے کا ذکر نہیں کیا راوی نے کہا میں تم سے وہی بات بیان کروں گا جو میں نے سنی ہے کیا میں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٨؛حدیث نمبر ٥٠٦٢)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حدیث نمبر ٥٠٦٢ کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٤)
ثمامہ بن حزن القشیری فرماتے ہیں میری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد القیس کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی روغن کئے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی(کے برتن)اور روغن کئے ہوئے برتنوں(کے استعمال)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٦)
ایک اور سند سے یہ روایت مروی ہے البتہ اس میں مزفت کی جگہ مقیر کا لفظ(مفہوم میں کوئی فرق نہیں)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عبد القیس کا وفد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)اور روغن کئے برتنوں سے منع کرتا ہوں۔حماد کی روایت میں مقیر کی بجائے مزفت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،روغن گھڑوں اور کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٧٩؛حدیث نمبر ٥٠٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،روغن کئے ہوئے برتنوں(کے استعمال سے)اور کچی اور گدری کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٢)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑی اور روغن کئے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٣)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠٧٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں،کھوکھلے کدو اور کھوکھلی لکڑی(کے برتنوں)میں پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٥)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس(رضی اللہ عنہم)کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دی کہ آپ نے کھوکھلے کدو،سبز گھڑے،روغن ملے ہوئے برتن اور کھوکھلی لکڑی(کے برتن)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٠؛حدیث نمبر ٥٠٧٦)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گھڑے میں نبیذ بنانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع کیا۔ فرماتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے کہا کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات نہیں سنی انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں میں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا گھڑے کا نبیذ کیا ہوتا ہے(یعنی گھڑے سے کیا مراد ہے)فرمایا ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں لوگوں کو خطبہ دیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی اس کی طرف چل پڑا لیکن میرے پہنچنے سے پہلے خطبہ ختم ہوگیا میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تو صحابہ کرام نے بتایا کہ آپ نے کھوکھلے کدو اور روغن کئے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٨)
امام مسلم نے متعدد اسناد ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے اور سوائے مالک اور اسامہ کے کسی نے غزوہ کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨١؛حدیث نمبر ٥٠٧٩)
حضرت ثابت کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا تھا فرمایا لوگوں کا یہی کہنا ہے پھر میں نے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑے میں نبیذ سے منع فرمایا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٠)
حضرت طاؤس کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں،پھر حضرت طاؤس فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں نے ان سے(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے یہ بات سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨١)
حضرت طاؤس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٣)
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا؟انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٥)
حضرت محارب بن دثار،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٠٨٥ کے مثل روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ کھوکھلی لکڑی کا بھی ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا،اور فرمایا مشکیزوں میں نبیذ بناؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٢؛حدیث نمبر ٥٠٨٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا حنتمہ کیا ہے؟فرمایا سبز گھڑا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٨٨)
حضرت زاذان کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا شراب کے جن برتنوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان کے بارے میں آپ کی حدیث پہلے اپنی زبان میں بیان کریں پھر ہماری زبان میں اس کی تشریح کریں کیونکہ آپ کی اور ہماری زبان الگ الگ ہے۔انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے منع فرمایا اور یہ سبز گھڑا ہے اور دباء سے منع فرمایا وہ کھوکھلا کدو ہے اور مزفت سے منع فرمایا اور یہ روغن ملے ہوئے برتن ہیں اور نقیر سے منع فرمایا اور یہ کھجور کو اندر سے چھیل کر بنایا جاتا ہے اور آپ نے مشکیزے میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٨٩)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩٠)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ میں نے اس منبر کے پاس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا اور انہوں نے آپ سے مشروبات(کے برتنوں)کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو کھوکھلے کدو،کھوکھلی لکڑی اور سبز گھڑوں سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو محمد!اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے بھی؟ہمارا خیال تھا کہ شاید آپ اس کو یہاں بیان کرنا بھول گئے ہیں۔انہوں نے فرمایا میں نے اس دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ لفظ نہیں سنا اور وہ اس کو مکروہ سمجھے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩١)
حضرت جابر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کھرچ کر بناے گئے برتن،روغن ملے ہوئے برتن اور کھوکھلے کدو(میں نبیذ بنانے)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٣؛حدیث نمبر ٥٠٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے سبز گھڑے،کھوکھلے کدو اور روغن ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا۔ حضرت ابو الزبير فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے،روغن ملے ہوئے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی سے منع فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبیذ بنانے کے لئے کوئی برتن نہ ملتا تو آپ کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا جاتا تھا جب مشکیزہ نہ ملتا تو آپ کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنایا جاتا۔ کسی شخص نے کہا میں نے ابو الزبير سے سنا کہ برام پتھر کا برتن تھا،فرمایا برام کا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٥)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ تمام برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا اب ہر برتن میں پی سکتے ہو لیکن نشہ آور چیز نہ پیو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٤؛حدیث نمبر ٥٠٩٦)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں(کچھ)برتنوں سے منع کیا تھا حالانکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٧)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چمڑے کے برتنوں مشروبات سے منع کیا کرتا تھا اب ہر برتن میں پیو البتہ نشہ آور چیز نہ پیو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٨)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں میں نبیذ سے منع فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں سے ہر شخص(مشک)نہیں پاتا تو آپ نے مٹی کے اس گھڑے کی اجازت دی جسے روغن نہ کیا گیا ہے۔(چونکہ ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی اس لئے ابتدائے اسلام میں جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو ان برتنوں کا استعمال منع کر دیا گیا تاکہ شراب کی طرف توجہ نہ ہو جب یہ خطرہ باقی نہ رہا تو اجازت دے دی گئی۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرً؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥٠٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو شراب نشہ دے وہ حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛ ترجمہ؛ہر نشہ آور چیز کے خمر ہونے اور ہر خمر کے حرام ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٥٨٥؛حدیث نمبر ٥١٠٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠١)
امام مسلم نے کئی سندوں کے ساتھ روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٢)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے ہاں جو ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے جسے مزر کہتے ہیں اور شہد سے مشروب بنایا جاتا ہے جسے البتع کہتے ہیں آپ نے فرمایا ہر نشہ آور حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٣)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں سے فرمایا لوگوں کو بشارت دینا اور آسان باتوں کا حکم دینا ان کو علم دین سکھانا اور نفرت پیدا نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا دونوں اتفاق سے رہنا جب آپ نے پیٹھ پھیری تو حضرت ابو موسیٰ واپس لوٹے اور عرض کیا یارسول اللہ!وہاں شہد کو جوش دے کر ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے جو بندھ جاتا ہے اور ایک مشروب(مزر)جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مشروب نماز سے مدہوش کردے وہ حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٤)
حضرت ابوبردہ اپنے والد(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا لوگوں کو دعوت دینا ان کو خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا احکام بیان کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمیں دو شرابوں کا حکم بتائیں جن کو ہم یمن میں بناتے تھے ایک کو بتع کہا جاتا ہے اور وہ شہد سے بنائی جاتی ہے جب سخت ہوجائے اور مزر جو جوار اور جو سے تیار کی جاتی ہے ان کا نبیذ بنایا جاتا ہے جو گاڑھا ہوجاتا ہے۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت جامع مانع کلام(کا ملکہ)عطاء کیا گیا تھا پس آپ نے فرمایا میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٦؛حدیث نمبر ٥١٠٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جیشان سے آیا اور جیشان یمن کا ایک شہر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مشروب کے بارے میں سوال کیا جو ان کے علاقے میں جوار سے بنایا جاتا ہے اور اس کو مزر کہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ نشہ آور ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور مشروب حرام ہے اللہ تعالیٰ کا یہ عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پئے گا اسے طینۃ الخبال سے پلایا جاے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!طینۃ الخبال کیا ہے؟فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر(کے حکم میں)ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس نے دنیا میں خمر پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ شراب کا عادی تھا اور اس نے توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں شراب نہیں پئے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥١٠٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١٠٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کا مجھے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ہے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ؛جلد٣ص١٥٨٧؛حدیث نمبر ٥١١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛ بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہیں کی وہ اس سے آخرت میں محروم رہے گا حضرت مالک(راوی)سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حدیث مرفوع ہے( حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے)تو انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں خمر کو پیا وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا البتہ یہ کہ توبہ کر لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث روایت کی ہے۔(شراب بےشمار خرابیوں کا باعث ہے سب سے پہلی خرابی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے پھر پیسے کا ضیاع،بیماریوں کی بنیاد بننا اور نشے کی حالت میں بے شمار گناہوں کا ارتکاب اور جہنم کی سزا الگ ہے اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس سے اجتناب کریں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ إِذَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا بِمَنْعِهِ إِيَّاهَا فِي الْآخِرَةِ؛جلد٣ص١٥٨٨؛حدیث نمبر ٥١١٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے ابتدائی حصے میں نبیذ بنایا جاتا تھا اور صبح کے وقت اسے پیتے تھے پھر ان کے بعد والی رات اور اگلی صبح پیتے تھے پھر رات کو پیتے اور اگلے روز عصر تک پیتے تھے پھر اگر کچھ بچ جاتا تو غلام کو پلا دیتے یا اس کو بہا دینے کا حکم دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛ترجمہ؛جو نبیذ تیز اور نشہ آور نہ ہو اس کی اباحت کا بیان؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنایا جاتا تھا حضرت شعبہ فرماتے ہیں سوموار کی رات کو بنایا جاتا اور آپ سوموار کے دن اورمنگل کے دن عصر تک نوش فرماتے تھے اور اگر اس سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے یا بہا دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کشمش کو پانی میں ڈالا جاتا تو آپ اس نبیذ کو اس دن دوسرے دن اور تیسرے دن شام تک پیتے پھر(جو بچ جاتا)اسے کسی کو پلانے یا بہا دینے کا حکم دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں کشمش ڈال کر نبیذ بنایا جاتا پھر آپ اسے اس دن دوسرے دن اور تیسرے دن نوش فرماتے تیسرے دن کی شام ہوتی تو آپ اسے خود پیتے اور کسی کو پلاتے اور اگر کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٨)
حضرت ابو عمر نخعی فرماتے ہیں ایک قوم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خمر بیچنے،خریدنے اور اس کی تجارت کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم لوگ مسلمان ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اس کو بیچنا،خریدنا اور اس کی تجارت درست نہیں۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تشریف لے گئے واپس تشریف لائے تو اس وقت کچھ صحابہ کرام نے سبز گھڑوں،کھوکھلی لکڑیوں اور کھوکھلے کدو میں نبیذ بنایا تھا۔ آپ نے حکم دیا تو اسے گرادیا گیا پھر آپ نے ایک مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالنے کا حکم دیا آپ نے اس مشکیزے سے آئندہ روز نبیذ نوش فرمایا آئندہ رات اور اگلے دن بھی پیا حتیٰ کہ شام ہوگئی تو آپ نے اس سے پیا اور پلایا جب صبح ہوئی تو باقی ماندہ کو بہانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٨٩؛حدیث نمبر ٥١١٩)
حضرت ثمامہ کہتے ہیں میری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا انہوں نے ایک حبشی لونڈی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھو یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اس حبشی عورت نے کہا میں رات کے وقت مشک میں آپ کے لئے نبیذ بناتی اور اس مشک کا منہ بند کر کے اس کو لٹکا دیتی تھی جب صبح ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نوش فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بناتے اس کے اوپر والے حصے کو باندھ دیتے اس مشکیزے میں سوراخ تھے ہم صبح کے وقت نبیذ بناتے تو آپ اسے شام کے وقت پیتے اور شام کے وقت بناتے تو آپ صبح کے وقت پیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢١)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو اسید ساعدی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی میں دعوت دی اس دن ان کی بیوی کام کاج کر رہی تھی حالانکہ وہی دلہن تھی حضرت سہل فرماتے ہیں جانتے ہو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا اس نے رات کو ایک برتن میں کچھ چھوہارے ڈال دئے جب آپ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے آپ کو وہی پلایا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٢)
حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اس میں یہ نہیں کہ جب آپ نے کھانا کھایا تو اس(خاتون)نے آپ کو نبیذ پلایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩٠؛حدیث نمبر ٥١٢٣)
ایک اور سند سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مروی ہے اس میں پتھر کے برتن کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے اس کی سختی ختم کرکے خصوصیت کے ساتھ آپ کو نبیذ پلایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٤)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس عورت کو پیغام بھیجیں انہوں نے پیغام بھیجا تو وہ عورت آکر بنو ساعدہ کے قلعوں میں ٹھہری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپ نے فرمایا تم نے اپنے آپ کو مجھ سے محفوظ کرلیا لوگوں نے کہا جانتی ہو یہ کون ہے؟اس نے کہا نہیں انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تمہیں نکاح کا پیغام دینے آئے تھے اس نے کہا پھر تو میں بہت بدنصیب رہی۔ حضرت سہل فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن تشریف لائے حتیٰ کہ صحابہ کرام کے ہمراہ بنو ساعدہ کے چبوترے پر تشریف فرما ہوے پھر آپ نے حضرت سہل سے فرمایا مجھے پلاؤ،فرماتے ہیں میں آپ کے لئے یہ پیالہ لایا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا پھر وہ پیالہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے حضرت سہل سے مانگ لیا تو انہوں نے ان کو بطور تحفہ دے دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ اے سہل ہمیں پلاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اس پیالہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مشروبات پلاے یعنی شہد،نبیذ،پانی اور دودھ۔ (بزرگوں کے آثار سے برکت حاصل کرنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا طریقہ رہا ہے جس طرح اس مبارک پیالے سے برکت حاصل کی جاتی رہی۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا؛جلد٣ص١٥٩١؛حدیث نمبر ٥١٢٦)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ گئے تو ہم ایک چرواہے پر گزرے اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا پھر میں آپ کے پاس دودھ لایا آپ نے نوش فرمایا حتیٰ کہ میں راضی ہوگیا۔(بکریوں کے مالک کی اجازت کے بغیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دودھ لینے کی توجیہ یوں کی گئی ہے کہ آپ حالت اضطرار میں تھے یا یہ کہ ان لوگوں نے مسافروں کے لیے بلا اجازت دودھ پینا مباح قرار دیا تھا(نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛ترجمہ؛دودھ پینے کا جواز؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٧)
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لے گئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے کہا آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔راوی فرماتے ہیں آپ نے دعا کی حضرت براء فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ایک چرواہے کے پاس سے گزرے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک پیالہ لاکر اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا دودھ دوہا اور آپ کی خدمت میں لے آیا آپ نے اسے نوش فرمایا تو میں راضی ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیر کرائی گئی اس رات آپ کو بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک پیالہ شراب کا اور دوسرا دودھ کا تھا آپ نے ان کی طرف دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا اس اللہ کے لئے تعریف ہے جس نے فطرت کی طرف آپ کی رہنمائی کی اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لاے گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٢٩ کے مثل مروی ہے لیکن اس میں ایلیاء کا ذکر نہیں ہے۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ امت اجتماعی طور پر گمراہ نہیں ہوگی۔جزوی طور پر گمراہی کی نفی نہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ سواد اعظم اہل سنت کے معمولات بدعت یا گمراہی نہیں ہیں۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ جَوَازِ شُرْبِ اللَّبَنِ؛جلد٣ص١٥٩٢؛حدیث نمبر ٥١٣٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقام نقیح سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا اور وہ پیالہ ڈھکا ہوا نہ تھا آپ نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانکا کیوں نہیں؟تم اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔ حضرت ابو حمید نے کہا رات کو صرف مشکوں کا منہ باندھنے اور دروازے بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣١)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لاے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٣١ کے مثل مروی ہے۔ راوی زکریا نے حضرت ابو حمید ساعدی کی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں پلاؤ۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ شخص دوڑتا ہوا گیا اور ایک پیالہ لایا جس میں نبیذ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں اگرچہ تم اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے راوی کہتے ہیں پھر آپ نے اسے پی لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابو حمید نامی ایک شخص مقام نقیح سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ تم اس کے عرض ایک لکڑی رکھ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابٌ فِي شُرْبِ النَّبِيذِ وَتَخْمِيرِ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٥٩٣؛حدیث نمبر ٥١٣٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا برتن ڈھانپو،مشکیزے کا منہ بند کرو،دروازہ بند کرو اور چراغ بجھا دو۔کیونکہ شیطان مشکیزے کو نہیں کھولتا،دروازہ نہیں کھولتا اور نہ برتن کو ننگا کرتا ہے اگر تم میں سے کسی کو برتن ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو وہ برتن کے عرض پر ایک لکڑی رکھ دے اور بسم اللہ پڑھ لے کیوں کہ چوہا لوگوں کے گھروں کو جلا دیتا ہے۔ قتیبہ نے اپنی حدیث میں دروازہ بند کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا البتہ"واکفنوا الاناء"کہا یا ضمرو الاناء"کہا اور اس حدیث میں برتن پر لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازے بند کرو،اس کے بعد لیث کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ یہ فرمایا کہ برتن ڈھانک دو اور فرمایا چوہا گھر والوں کے کپڑے جلادیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان(مزکورہ بالا راویوں)کی مثل حدیث روایت کی اور فرمایا مکینوں سمیت گھر کو جلا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٤؛حدیث نمبر ٥١٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کی تاریکی پھیل جائے یا(فرمایا)شام ہوجائے تو بچوں کو(گھر میں)روک رکھو اس وقت شیطان باہر نکلتے ہیں اور جب رات کی ایک ساعت گزر جائے تو اب ان کو جانے کی اجازت دے سکتے ہو اور دروازے بند کرو اور بسم اللہ پڑھو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اپنی مشکوں کے منہ باندھ دو اور بسم اللہ پڑھو اور بسم اللہ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانک دو اگرچہ ان کی چوڑائی پر کوئی چیز رکھو نیز اپنے چراغ بجھا دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٣٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٣٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام لو۔(بسم اللہ پڑھو) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٤٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٥؛حدیث نمبر ٥١٤١)
Muslim Sharif Kitabul Ashreba Hadees No# 5142
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا برتنوں کو ڈھانپو اور مشکوں کے منہ بند کرو،کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہے جب وہ وبا نازل ہوتی ہے وہ اس برتن اور مشکیزے میں اترتی ہے جو ڈھانکا ہوا نہ ہو اور اس(مشکیزے)کا منہ باندھا نہ گیا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ سال میں ایک دن ایسا ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے اور حدیث کے آخر میں ہے لیث نے کہا ہمارے ہاں کے عجمی لوگ اس وباء سے کانون اول(دسمبر)میں بچتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا سوتے وقت اپنے گھروں میں جلتی ہوئی آگ نہ چھوڑا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٦)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک گھر کے لوگ رات کے وقت جل گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سوؤ تو اس کو بجھا دیا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ؛جلد٣ص١٥٩٦؛حدیث نمبر ٥١٤٧)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب ہم سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کھانے کا)آغاز نہ کرتے ہم کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے۔ ایک مرتبہ ہم آپ کے ساتھ کھانے میں حاضر تھے تو ایک لونڈی آئی گویا اس کو بھگایا جارہا ہے وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا گویا اسے بھی(آگے کی طرف)دھکیلا جا رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کھانے پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے شیطان اسے اپنے لئے حلال کر لیتا ہے اور وہ اس لونڈی کی شکل میں آیا تاکہ وہ اس کے ذریعے کھانے کو اپنے لئے حلال کر لے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کی صورت میں آیا تاکہ اس کھانے کو اپنے لئے حلال کر لے تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس(شیطان)کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛ترجمہ؛کھانے پینے کے آداب و احکام؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٤٨)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانے کی دعوت دی جاتی.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٤٨ کے مثل مروی ہے البتہ اس حدیث میں لڑکی کے آنے سے پہلے اعرابی کا ذکر ہے اور وہ دونوں اس طرح آے جس طرح کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہو اور اس کے آخر میں ہے کہ پھر بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٤٩)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥١٤٨ کے مثل مروی ہے اس میں اعرابی کے آنے سے پہلے لڑکی کا آنا بتایا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٧؛حدیث نمبر ٥١٥٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے(بسم اللہ پڑھے)تو شیطان(اپنے ساتھیوں سے)کہتا ہے تمہارے یہاں ٹھہرنے کی جگہ ہے نہ کھانا ہے۔ اور جب داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے اپنا ٹھکانہ پالیا اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے ٹھکانہ اور کھانا دونوں پالئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥١٥١ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یوں فرمایا کہ اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے اور اگر وہ داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاے تو وہ دائیں ہاتھ سے کھاے اور جب تم میں سے کوئی شخص پئے تو دائیں ہاتھ سے پئے کیوں کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٨؛حدیث نمبر ٥١٥٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھاے نہ پئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ حضرت نافع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نہ تو اس ہاتھ سے لے اور نہ دے ابو الطاہر کی روایت ہے تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٦)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا آپ نے اس سے فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا مجھے اس کی طاقت نہیں آپ نے فرمایا تو اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گا۔ اس کو دائیں ہاتھ سے کھانے سے صرف تکبر نے روکا تھا۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ اپنا ہاتھ منہ تک نہ لے جاسکا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٧)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا اور میرا ہاتھ پیالے کے تمام اطراف میں گھوم رہا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے!بسم اللہ پڑھو،دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٨)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھا رہا تھا تو میرا ہاتھ پیالے میں گھوم رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٥٩٩؛حدیث نمبر ٥١٥٩)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٠)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کا منہ الٹ کر ان کے منہ سے پینا منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں اختناث کا معنی بتایا گیا کہ مشک کے منہ کو موڑ کر اس سے پینا اختناث ہے۔ (مشک کے منہ سے پینے میں کئی خرابیاں ہیں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ممکن ہے اس کے اندر کوئی کیڑا مکوڑا ہو جو آدمی کے پیٹ میں چلا جائے اور تکلیف پہنچاے البتہ یہ مکروہ تنزیہی ہے اور کبھی ضرورت کے تحت پی سکتا ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ آدَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَأَحْكَامِهِمَا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے پر ڈانٹا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛ترجمہ؛کھڑے ہوکر پینے کی کراہت؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا۔حضرت قتادہ کہتے ہیں ہم نے پوچھا اور(کھڑے ہوکر)کھانا ہے فرمایا یہ تو زیادہ برا اور خراب ہے۔ (مسلم شریف کتاب الاشربۃ؛؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٠؛حدیث نمبر ٥١٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پینے پر ڈانٹا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٦)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص کھڑا ہوکر نہ پئے اور جو بھول کر ایسا کرے تو قے کردے(تنبیہ کے طور پر فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا تو آپ نے کھڑے ہوکر نوش فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠١؛حدیث نمبر ٥١٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے ایک ڈول سے کھڑے ہو کر پیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم سے کھڑے ہوکر پیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم سے پلایا تو آپ نے کھڑے ہوکر پیا اور آپ نے بیت اللہ شریف کے پاس کھڑے ہوکر پانی طلب فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کیں دونوں حدیثوں میں ہے کہ میں ڈول لے کر آیا۔ (بیٹھ کر کھانا پینا سنت ہے اور کسی مجبوری کے تحت کھڑے ہوکر کھانے پینے کی اجازت ہے بیٹھ کر کھانا پینا طبی اعتبار سے بھی مفید ہے اور آداب کے مطابق بھی ہے لہٰذا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا کھڑے ہو کر پینا جواز پیدا کرنے کے لئے ہے اور ممانعت کراہت تنزیہی پر محمول ہے احادیث میں تضاد نہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٣)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛ترجمہ؛پانی کے برتن میں سانس لینے کی کراہت اور برتن کے باہر تین بار سانس لینا؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے(مراد برتن سے منہ ہٹا کر سانس لینا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مشروب)نوش کرتے وقت تین بار سانس لیتے تھے اور آپ فرماتے تھے اس سے(آدمی)خوب سیر ہوتا ہے نیز پیاس بجھتی ہے اور کھانا ہضم ہوتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں پیتے وقت تین بار سانس لیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٢؛حدیث نمبر ٥١٧٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٧٦ کے مثل مروی ہے اور اس میں برتن کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّنَفُّسِ فِي نَفْسِ الْإِنَاءِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّنَفُّسِ ثَلَاثًا خَارِجَ الْإِنَاءِ؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا اور آپ کی دائیں جانب ایک دیہاتی اور بائیں طرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے آپ نے نوش فرمانے کے بعد اس دیہاتی کو دیا اور فرمایا دائیں طرف سے(ابتدا کرو)اس کے بعد بھی دائیں کو دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛ترجمہ؛دودھ یا پانی وغیرہ دائیں طرف سے پلانا مستحب ہے؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت میں دس سال کا تھا اور جب آپ کا انتقال ہوا تو میں بیس سال کا تھا میری ماں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیتی تھیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کا پانی ملایا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیجئے آپ نے اپنی دائیں جانب اعرابی کو دے دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دائیں طرف سے پھر دائیں طرف سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٣؛حدیث نمبر ٥١٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور آپ نے پانی طلب فرمایا میں نے بکری کا دودھ دوہ کر اس میں اپنے اس کنویں کا پانی ملایا۔ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اسے نوش فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی بائیں جانب تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تھے اور آپ کی دائیں جانب ایک اعرابی تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پی کر فارغ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آپ کو دکھایا(لیکن)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ اس اعرابی کو دے دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔(نہ دیا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دائیں طرف والے،دائیں طرف والے، دائیں طرف والے،حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہی سنت ہے یہی سنت ہے۔یہی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨٠)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا آپ نے اس سے نوش فرمایا۔ فرمایا اس وقت آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا اور بائیں جانب بڑی عمر کے لوگ تھے آپ نے لڑکے سے پوچھا کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان لوگوں کو دوں۔لڑکے نے کہا نہیں،اللہ کی قسم،!میں آپ کے تبرک میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨١)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٨١ کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ نہیں کہ آپ نے اس کے ہاتھ پر پیالہ رکھ دیا البتہ یعقوب کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس کو پیالہ عطاء کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَارَةِ الْمَاءِ وَاللَّبَنِ وَنَحْوِهِمَا عَنْ يَمِينِ الْمُبْتَدِئِ؛جلد٣ص١٦٠٤؛حدیث نمبر ٥١٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو جب تک اپنی انگلیاں خود چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے،اس وقت تک ہاتھوں کو صاف نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛ترجمہ؛انگلیاں اور برتن چاٹنے کا بیان؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو جب تک انگلیاں چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے اس وقت تک ہاتھوں کو صاف نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٤)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹتے تھے ابن حاتم نے تین کا ذکر نہیں کیا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں عبد الرحمن بن کعب کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٥)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے اور ان کو صاف کرنے سے پہلے چاٹتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى،وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٦)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ان کو چاٹتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٥؛حدیث نمبر ٥١٨٧)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٨٧ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٨٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تمہیں معلوم نہیں اس کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٨٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا کر اس کے ساتھ لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کر کے اس کو کھا لے اور اس لقمہ کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب تک انگلیوں کو چاٹ نہ لے اپنے ہاتھوں کو تولیہ(وغیرہ)سے صاف نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٩٠)
امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٥١٩٠ کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں روایتوں میں یہ ہے کہ اس وقت اپنے ہاتھ تولیہ سے صاف نہ کرے جب تک انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٦؛حدیث نمبر ٥١٩١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت آجاتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی آجاتا ہے پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرے تو اس پر لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کرکے اس کو کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے جب فارغ ہوجائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کھانے کی کس جز میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر پڑے۔اس حدیث میں یہ نہیں کہ تم میں سے ہر شخص کے پاس شیطان حاضر ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٣)
یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس میں لقمہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹتے وہ فرماتے ہیں آپ ارشاد فرماتے ہیں جب تم میں سے کسی ایک کا لقمہ گرے تو اس سے مٹی وغیرہ دور کرکے اسے کھا لے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پیالے کو صاف کریں آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھاے تو وہ اپنی انگلیاں چاٹ لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٦)
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں ہے تم میں سے ہر شخص پیالے کو صاف کرے اور فرمایا تمہارے کس کھانے میں برکت ہے،یا فرمایا کس کھانے میں تمہارے لئے برکت ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا؛جلد٣ص١٦٠٧؛حدیث نمبر ٥١٩٧)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار میں ابو شعیب نامی ایک شخص تھا اور اس کا ایک لڑکا تھا جو گوشت فروخت کرتا تھا اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے چہرہ انور سے بھوک کا اندازہ لگایا۔ اس نے اپنے لڑکے سے کہا جاؤ پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو کیونکہ میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ آدمیوں سمیت دعوت دینا چاہتا ہوں اس نے کھانا تیار کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر دیگر چار افراد کے ساتھ(کہ آپ پانچویں تھے)دعوت دی آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی چل پڑا جب وہ شخص دروازے پر پہنچا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ چل پڑا اگر تم چاہو تو اس کو اجازت دے دو اور اگر چاہو تو یہ واپس چلا جائے اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ!بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛ترجمہ؛اگر مہمان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی مل جائے تو وہ کیا کرے؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥١٩٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید چار سندیں ذکر کی ہیں۔اس میں ابو وائل کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥١٩٨ کے مثل روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥١٩٩)
امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے ان میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥١٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٨؛حدیث نمبر ٥٢٠٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارسی تھا اور وہ شوربا بہت اچھا بناتا تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا بنایا پھر آکر آپ کو دعوت دی آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان کی بھی(دعوت)ہے؟ وہ دوبارہ اپ کو دعوت دینے آیا تو آپ نے پوچھا ان کی دعوت بھی ہے اس نے کہا نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی قبول نہیں وہ پھر آپ کو دعوت دینے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کی بھی دعوت ہے تیسری بار اس نے کہا جی ہاں تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دونوں کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کو آگے کرنے لگے حتیٰ کہ اس شخص کے گھر تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ، وَاسْتِحْبَابِ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ؛جلد٣ص١٦٠٩؛حدیث نمبر ٥٢٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن یا رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو اچانک آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ملے آپ نے پوچھا اس وقت تم دونوں کا باہر آنا کیسے ہوا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!بھوک لگی ہے آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے باہر آنے کا سبب بھی وہی ہے جو تمہارے نکلنے کا سبب ہے اٹھو،چنانچہ وہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے آپ ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے ان کی بیوی نے ان کو دیکھا تو کہا مرحبا واھلا(خوش آمدید) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فلاں کہاں ہے اس خاتون نے کہا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں اتنے میں انصاری بھی آگئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا اور کہا الحمد للہ!آج میرے مہمانوں سے بڑھ کر کسی کے مہمان نہیں ہیں وہ گئے اور کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں کچی پکی کھجوریں،چھوہارے اور تازہ کھجوریں تھیں انہوں نے عرض کیا اس سے کھائیے اور چھری پکڑ لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والے جانور سے اجتناب کرنا چنانچہ انہوں نے مہمانوں کے لئے ایک بکری ذبح کی اور سب نے اس بکری کا گوشت اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا جب کھا پی کر سیر ہوگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا تم اپنے گھروں سے بھوک کی وجہ سے باہر آے پھر واپس نہیں لوٹے حتیٰ کہ تمہیں یہ نعمتیں حاصل ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦٠٩؛حدیث نمبر ٥٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوے تھے اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تمہیں کس چیز نے(یہاں)بٹھا رکھا ہے انہوں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم بھوک کی وجہ سے اپنے گھروں سے باہر آے ہیں.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٠؛حدیث نمبر ٥٢٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھوک کے آثار دیکھے میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں چار کلو جو تھے اور ہمارے پاس ایک پالتو بکری تھی۔فرماتے ہیں میں نے اس کو ذبح کیا اور اس نے(بیوی نے)آٹا پیسا اور میرے ساتھ ساتھ وہ بھی فارغ ہوگئی میں نے گوشت کاٹ کر دیگچی میں ڈالا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا میری بیوی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ فرماتے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سرگوشی میں عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پیسے ہیں جو ہمارے پاس تھے پس آپ چند ساتھیوں کو لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں فرمایا اے اہل خندق!بے شک حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے تمہاری دعوت کی پس تم لوگ چلو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی دیگچی نہ اتارنا اور نہ ہی گوندھے ہوئے آٹے کی روٹی پکانا جب تک میں تمہارے پاس نہ اجاؤں فرماتے ہیں پس میں آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کو لے کر تشریف لائے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے کہا تمہاری رسوائی ہوگی میں نے کہا میں نے تو وہی کیا جو تم نے کہا تھا چنانچہ اس نے اپنا گوندھا ہوا آٹا نکالا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور برکت کی دعا کی پھر ہماری دیگچی کا قصد کیا اور اس میں لعاب ڈال کر برکت کی دعا کی پھر فرمایا روٹیاں پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹیاں پکائیں اور دیگچی میں سے سالن نکالنا لیکن دیگچی کو چولہے سے نہ اتارنا۔ اس موقعے پر ایک ہزار صحابہ کرام تھے اللہ کی قسم ان سب نے کھایا اور بچ بھی گیا اور جب وہ واپس گئے تو ہماری دیگچی اسی طرح جوش کھارہی تھی جیسے پہلے تھی اور ہمارے آٹے سے روٹیاں پکائی جارہی تھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١١؛حدیث نمبر ٥٢٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں نقاہت محسوس کی ہے معلوم ہوتا ہے آپ کو بھوک لگی ہے کیا تمہارے پاس(کھانے کے لئے)کچھ ہے انہوں نے کہا ہاں! پھر انہوں نے کچھ جو کی روٹیاں نکالیں اور ان کو اپنے دو پٹہ میں لپیٹا اور ان کو میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا اور مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان روٹیوں کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ مسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد صحابہ کرام بھی ہیں میں وہاں کھڑا ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں حضرت ابو طلحہ نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں!فرمایا کھانے کے لئے؟میں نے کہا جی ہاں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں موجود تمام صحابہ کرام سے فرمایا اٹھو،حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں ان کے آگے چل پڑا حتیٰ کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر ان کو بتایا۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور ساتھ صحابہ کرام بھی ہیں اور ہمارے پاس ان سب کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں ہے حضرت ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ(استقبال کے لئے)چلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی آپ حضرت ابو طلحہ کے ساتھ تشریف لائے حتیٰ کہ گھر کے اندر داخل ہوے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ پس وہ روٹیاں لے آئیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے گھی کے کپ میں سے ان پر نچوڑا اور وہ سالن کے قائم مقام ہوگیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دعائیہ کلمات کہے جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ پڑھتے رہے اس کے بعد فرمایا دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو انہوں نے دس آدمیوں کو اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور باہر چلے گئے پھر فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو حتیٰ کہ تمام لوگوں نے سیر ہوکر کھایا اور وہ لوگ ستر یا اسی کی تعداد میں تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٢؛حدیث نمبر ٥٢٠٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ آپ کی دعوت دوں اور انہوں نے کھانا تیار کر رکھا تھا۔ فرماتے ہیں میں آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام کے ہمراہ تھے آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے شرم آئی میں نے عرض کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی دعوت قبول کیجئے۔آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا اٹھو اور چلو حضرت ابوطلحہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آپ کے لئے کچھ کھانا تیار کیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی پھر فرمایا میرے صحابہ کرام میں سے دس افراد کو آنے کے اجازت دو آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان میں سے کچھ نکالا اور فرمایا کھاؤ انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور باہر چلے گئے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ،انہوں نے بھی سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے پس مسلسل دس آدمی داخل ہوتے اور دس چلے جاتے حتیٰ کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہا سب داخل ہوتے اور کھانا کھاتے رہے پھر آپ نے کھانا منگوایا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان لوگوں کے کھانے کے وقت تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٢؛حدیث نمبر ٥٢٠٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠٦ کے مثل مروی ہے البتہ اس کے آخر میں فرمایا کہ پھر باقی بچے ہوئے کھانے کو جمع کر کے اس میں برکت کی دعا تو وہی کھانا پھر پہلے جتنا ہوگیا آپ نے فرمایا لو یہ کھانا لے لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی طور پر کھانا تیار کرو پھر مجھے آپ کے پاس بھیجا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٠٦ کے مثل مروی ہے،اس میں یہ بھی فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور اس(کھانے)پر بسم اللہ پڑھی پھر فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ چنانچہ انہوں نے کھایا اسی آدمی نے کھایا پھر اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور گھر والوں نے کھانا کھایا پھر بھی کچھ بچ گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی.... پورا واقعہ حسب سابق مذکور ہے البتہ اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہوے حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ تھوڑا سا کھانا ہے آپ نے فرمایا لاؤ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٣؛حدیث نمبر ٥٢٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کیا اور اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور گھر والوں نے کھایا اور باقی کھانا پڑوسیوں کو دیدیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹا ہوا دیکھا کہ آپ کا پیٹ مبارک پیٹھ سے لگا ہوا تھا وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا اور آپ کا پیٹ مبارک پیٹھ سے لگا ہوا تھا میرا خیال ہے کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں فرمایا کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ،حضرت ام سلیم اور حضرت انس رضی اللہ عنہم نے کھایا اور کچھ بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو دے دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور اپنے شکم مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی حضرت اسامہ(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ پٹی پتھر کے اوپر تھی میں نے بعض صحابہ کرام سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے شکم اقدس پر پٹی کیوں باندھ رکھی ہے انہوں نے فرمایا بھوک کی وجہ سے....حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور وہ ام سلیم بنت ملحان کے خاوند تھے میں نے ان سے کہا اے ابا جان!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ آپ کے شکم اطہر پر پٹی بندھی ہوئی ہے میں نے بعض صحابہ کرام سے(اس کے بارے میں)پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میری ماں(حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا)کے پاس گئے اور پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں میرے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا ہے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ کو سیر کردیں گے اور آپ کے ساتھ کوئی اور بھی آے تو یہ کھانا کم ہوجائے گا....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے کا واقعہ روایت کیا ہے۔ (ان احادیث سے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ظاہر ہونے والی برکت کا پتہ چلتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ خود بھی برداشت کی اور خندق کھودنے میں حصہ لیا جو آج کے لیڈروں اور رہنماؤں کے لئے قابل تقلید اور اسوہ حسنہ ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ، وَبِتَحَقُّقِهِ تَحَقُّقًا تَامًّا، وَاسْتِحْبَابِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٤؛حدیث نمبر ٥٢١٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور کچھ کھانا تیار کیا حضرت انس فرماتے ہیں میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس دعوت میں گیا۔ چنانچہ اس(درزی)نے آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور گوشت تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں سے کدو تلاش کر رہے تھے میں اسی دن سے کدو سے محبت کرنے لگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛ترجمہ؛شوربہ کھانے کا جواز اور کدو کھانے کا استحباب؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تو میں بھی آپ کے ہمراہ گیا وہ شخص شوربا لایا جس میں کدو تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کھا رہے تھے اور آپ کو کدو پسند تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے یہ صورت دیکھی تو میں نے خود کدو نہ کھائے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے آگے رکھنے لگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی۔ثابت فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے اس کے بعد میرے لئے جو بھی سالن پکایا گیا تو اگر ممکن ہوتا تو میں اس میں کدو ضرور ڈلواتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ، وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ، وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٦)
حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پنیر اور برنی کھجور کا حلوہ پیش کیا۔آپ نے تناول فرمایا پھر کھجوریں لائی گئیں تو آپ کھجوریں کھاکر گٹھلیاں دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو جمع کرتے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میرا بھی یہی گمان ہے اور اس حدیث میں ہے ان شاءاللہ دو انگلیوں کے درمیان گٹھلی کو ڈالنا۔ پھر مشروب لایا گیا تو آپ نے نوش فرمایا اور باقی اپنی دائیں طرف والے کو عنایت فرمایا میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑے ہوے عرض کیا ہمارے لئے دعا کیجئے تو آپ نے دعا مانگی: یااللہ!تو نے ان کو جو رزق عطاء کیا ہے اس میں ان کو برکت عطاء فرما ان کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ؛ترجمہ؛کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں الگ رکھنا،مہمان کا گھر والوں کے لئے دعا کرنا اور نیک مہمان سے دعا طلب کرنا مستحب ہے؛جلد٣ص١٦١٥؛حدیث نمبر ٥٢١٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں حضرت شعبہ سے شک کا ذکر نہیں ہے۔(اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہمان کو اچھا کھانا پیش کیا جائے نیز مہمان کو چاہیے کہ گھر والوں کے لئے خیر و برکت کی دعا کرے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ، وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ، وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢١٨)
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کھجور کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ؛ترجمہ؛کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢١٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اقعاء کے طریقے پر بیٹھے ہوئے کھجوریں کھا رہے تھے(اقعاء کا مطلب گھٹنوں کو کھڑا کر کے سرین پر بیٹھنا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الْآكِلِ، وَصِفَةِ قُعُودِهِ؛ترجمہ؛کھاتے وقت تواضع کا استحباب اور کھانے کے لئے بیٹھنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٦١٦؛حدیث نمبر ٥٢٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ ان کھجوروں کو ہمارے درمیان تقسیم کرنے لگے اور آپ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے کوئی شخص جلدی میں بیٹھتا ہو اور جلدی جلدی کھارہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الْآكِلِ،وَصِفَةِ قُعُودِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢١)
جبلہ بن سحیم فرماتے ہیں جن دونوں لوگ قحط سالی میں مبتلا تھے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے فرمایا دو،دو کھجوریں ملاکر مت کھاؤ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ملا کر کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے ہاں اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے تو پھر کوئی حرج نہیں شعیب کہتے ہیں میرے خیال میں اجازت لینے کا قول حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ان دونوں میں حضرت شعبہ کا قول نہیں ہے اور نہ یہ ہے کہ ان دنوں لوگ قحط زدہ ہوگئے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو،دو کھجوریں ملاکر کھاے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ؛جلد٣ص١٦١٧؛حدیث نمبر ٥٢٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں کھجوریں ہوں وہ لوگ بھوکے نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الْأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ؛ترجمہ؛کھجوروں اور دیگر اشیائے خوردنی کو اپنے اہل وعیال کے لئے ذخیرہ کرنا؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ لوگ بھوکے ہیں آپ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابٌ فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الْأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٦)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مدینہ طیبہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان کی کھجوریں صبح کے وقت کھاے اس کو شام تک زہر کوئی نقصان نہیں پہنچاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ کی کھجوروں کی فضیلت؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٧)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کے وقت مدینہ منورہ کی سات عجوہ کھجوریں کھالیں اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچاے گا اور نہ جادو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٨؛حدیث نمبر ٥٢٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ الفاظ نہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٢٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ کے بالائی حصہ کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے یا فرمایا صبح کے وقت ان کا استعمال تریاق(سبب شفاء)ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣٠)
حضرت عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کھُنبی من کی ایک قسم اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛ترجمہ؛کھُنبی کی فضیلت اور اس سے آنکھوں کا علاج؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣١)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦١٩؛حدیث نمبر ٥٢٣٢)
حضرت سعید بن زید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا۔شعبہ کہتے ہیں جب مجھ سے حکم نے یہ روایت بیان کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢٠؛حدیث نمبر ٥٢٣٣)
حضرت عمرو بن نفیل بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢٠؛حدیث نمبر ٥٢٣٤)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٥)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٦)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھُنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْكَمْأَةِ، وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مر الظهران کے مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیاہ پیلو تلاش کرو۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرائی ہوں آپ نے فرمایا ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں یا اس قسم کی کوئی بات فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَبَاثِ؛ترجمہ؛پیلو کے سیاہ پھل کی فضیلت؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرکہ بہترین سالن یا فرمایا سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛ترجمہ؛سرکہ کی فضیلت اور اسے سالن کی جگہ استعمال کرنا؛جلد٣ص١٦٢١؛حدیث نمبر ٥٢٣٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اور اس میں الادم(سالن)کا لفظ شک کے بغیر مذکور ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگا کر روٹی کھانا شروع کردی اور آپ فرماتے جاتے تھے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے آپ کے سامنے روٹی کے ٹکڑے لائے گئے تھے آپ نے پوچھا کوئی سالن ہے تو گھر والوں نے کہا نہیں البتہ تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ نے فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس دن سے میں سرکہ سے محبت کرتا ہوں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس دن سے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے اس دن سے میں سرکہ پسند کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اپنے گھر لے گئے یہ حدیث حدیث نمبر ٥٢٤٢ کے مثل مروی ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اور اس کے بعد کا حصہ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے مجھے اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چل پڑے حتیٰ کہ ازواج مطہرات کے حجروں میں سے کسی حجرے میں آئے آپ اندر داخل ہوے پھر مجھے اجازت دی میں داخل ہوا تو ازواج مطہرات نے پردہ کر لیا آپ نے پوچھا کھانے کے لئے کچھ ہے؟گھر والوں نے کہا،ہے اور تین روٹیاں لائی گئیں ان روٹیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا آپ نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھ دی پھر تیسری روٹی کو پکڑ کر اس کے دو ٹکڑے کئے آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھ دی۔ پھر پوچھا کیا سالن ہے؟گھر والوں نے عرض کیا نہیں البتہ تھوڑا سا سرکہ ہے آپ نے فرمایا لاؤ یہ بہترین سالن ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ؛جلد٣ص١٦٢٢؛حدیث نمبر ٥٢٤٤)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور باقی کھانا میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے کھانا بھیجا جس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا میں نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟آپ نے فرمایا نہیں لیکن میں اس کو اس کی بدبو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں میں نے عرض کیا جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٦)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں(بطور مہمان)ٹھہرے اور نچلی منزل میں رہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اوپر والی منزل میں تھے ایک رات حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوے تو سوچا کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر انور کے اوپر چل رہے ہیں چنانچہ وہ آپ کی طرف سے ہٹ گئے اور دوسری جانب سو گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا نچلی منزل میں زیادہ سہولت ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں اس چھت کے اوپر نہیں سو سکتا جس کے نیچے آپ ہوں چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی منزل میں چلے گئے اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے منتقل ہوگئے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے جب آپ کا بچا ہوا کھانا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا تو پوچھتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیاں کہاں لگی ہیں پھر وہ وہاں سے کھاتے جہاں آپ کی مبارک انگلیاں لگی ہوتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا تیار کیا جس میں لہسن تھا جب وہ کھانا ان کے پاس لوٹایا گیا تو انہوں نے پوچھا حضور علیہ السلام کی مبارک انگلیاں کہاں لگی تھیں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام اس میں سے کچھ نہیں کھایا وہ گھبرا کر اوپر والی منزل میں گئے اور پوچھا کیا یہ حرام ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے آپ ناپسند فرماتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ، وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ، وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ؛جلد٣ص١٦٢٣؛حدیث نمبر ٥٢٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فاقہ سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کی طرف ایک آدمی بھیجا تو زوجہ مطہرہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری زوجہ مطہرہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات نے یہی کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی آج رات اس مہمان کی مہمان نوازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں پھر وہ انصاری آدمی اس مہمان کو لے کر اپنے گھر کی طرف چلے اور اپنی بیوی سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے وہ کہنے لگی کہ سوائے میرے بچوں کے کھانے کے میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے انصاری نے کہا ان بچوں کو کسی چیز سے بہلا دو اور جب مہمان اندر آجائے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا گویا کہ ہم بھی کھانا کھا رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مہمان کے ساتھ سب گھر والے بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے ہی کھایا پھر جب صبح ہوئی اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے آج رات اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ؛ترجمہ؛مہمان کی تعظیم اور اس کے لیے ایثار کرنا؛جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک انصاری کے ہاں ایک مہمان نے رات گزاری اس انصاری کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا بچوں کو سلادو اور چراغ بجھا دو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے مہمان کے آگے رکھ دو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: ٩]، "اور وہ لوگ جو محتاج ہونے کے باوجود اپنے نفسوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور مہمان حاضر ہوا آپ کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ تھا آپ نے فرمایا کوئی شخص ہے جو اس شخص کی مہمان نوازی کرے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا انصار میں سے ایک شخص اٹھا جسے ابو طلحہ کہا جاتا تھا اور وہ اسے اپنے گھر لے گیا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٤٨ کے مثل مروی ہے اور اس میں نزول آیت کا بھی ذکر ہے جیسا کہ وکیع کی(گزشتہ)روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٤؛حدیث نمبر ٥٢٥٠)
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے اور تکلیف کی وجہ سے ہماری قوت سماعت اور قوت بصارت چلی گئی تھی ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ(رضی اللہ عنہم)پر پیش کیا تو اس میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے تین بکریاں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ نکالو۔ ہم ان کا دودھ نکالتے تھے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی اپنے حصے کا دودھ پیتا اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لاتے سلام کرتے کہ سونے والا بیدار نہ ہوتا اور جاگنے والا سن لیتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے اور نماز پڑھتے پھر آپ اپنے دودھ کے پاس آتے اور اسے پیتے ایک رات شیطان آیا جبکہ میں اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا شیطان کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس جاتےہیں اور وہ ان کی ضرورت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ مل جاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہوگی پھر میں آیا اور میں نے وہ دودھ پی لیا جب وہ دودھ میرے پیٹ میں چلا گیا اور مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ ملنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو شیطان نے مجھے ندامت دلائی اور کہنے لگا تیری خرابی ہو تو نے یہ کیا کیا تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کا دودھ بھی پی لیا آپ آئیں گے اور وہ دودھ نہیں پائیں گے تو ضرور تیرے خلاف دعا کریں گے تو تو ہلاک ہوجائے گا اور تیری دنیا وآخرت برباد ہوجائے گی میرے پاس ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر کھل جاتا اور جب میں اسے اپنے سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں کھل جاتے اور مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی جبکہ میرے دونوں ساتھی سو رہے تھے انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے کیا تھا بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ پایا تو آپ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا میں نے دل میں کہا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بددعا فرمائیں گے پھر میں ہلاک ہوجاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: اے اللہ!تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے(میں نے یہ سن کر)اپنی چادر مضبوط کر کے باندھ لی پھر میں چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ اس میں ایک تھن دودھ سے بھرا پڑا ہے بلکہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے اس گھر کے برتنوں میں سے وہ برتن لیا کہ جس میں دودھ دوہا جاتا تھا پھر میں نے اس برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ دودھ کی جھاگ اوپر تک آگئی پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پئیں آپ نے وہ دودھ پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہوگئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے تو میں ہنس پڑا یہاں تک کہ مارے خوشی کے میں زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے مقداد یہ تیری ایک بری عادت ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو اس طرح کا معاملہ ہوا ہے اور میں نے اس طرح کرلیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے اللہ کی رحمت کے اور کچھ نہ تھا تو نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتادیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دودھ پی لیا ہے اور میں نے بھی یہ دودھ پی لیا ہے تو اب مجھے اور کوئی پرواہ نہیں (یعنی میں نے اللہ کی رحمت حاصل کرلی ہے تو اب مجھے کیا پرواہ(بوجہ خوشی)کہ لوگوں میں سے کوئی اور بھی یہ رحمت حاصل کرے یا نہ کرے) (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٥؛حدیث نمبر ٥٢٥١)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٦؛حدیث نمبر ٥٢٥٢)
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم ایک سو تیس آدمی تھے آپ نے فرمایا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے تو ایک شخص کے پاس ایک صاع(چار کلو گرام)آٹا تھا اسے گوندا گیا پھر ایک مشرک آیا جس کے بال بکھرے ہوئے اور قد لمبا تھا وہ اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بکریاں بیچو گے یا یونہی عطیہ دو گے؟اس نے کہا بیچوں گا آپ نے اس سے ایک بکری خرید لی اس کا گوشت تیار کیا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا۔ حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں اللہ کی قسم!ان ایک سو تیس میں سے ہر ایک کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی میں سے حصہ دیا اگر موجود تھا تو عطاء فرمایا اور اگر غائب تھا تو اس کے لیے رکھ لیا اور گوشت دو پیالوں میں ڈال دیا پس ہم سب نے اس میں سے سیر ہوکر کھایا اور دونوں پیالوں میں کچھ بچ بھی گیا پھر میں نے اسے اونٹ پر رکھ لیا یا جس طرح راوی نے بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٦؛حدیث نمبر ٥٢٥٣)
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صفہ والے لوگ محتاج تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جس آدمی کے پاس دو آدمیوں کا کھانا(موجود)ہو تو وہ تین(صفہ کے ساتھیوں کو کھانا کھلانے کے لئے)لے جائے اور جس آدمی کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ پانچواں یا چھٹے کو بھی(کھانا کھلانے کے لئے ساتھ)لے جائے یا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین کو لئے آئے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس ساتھیوں کو لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تین ساتھیوں کو ساتھ لائے تھے راوی کہتے ہیں کہ وہ میں اور میرے ماں باپ تھے کہ میں نہیں جانتا کہ شاید کہ انہوں نے اپنے بیوی کو بھی کہا ہو اور ایک خادم جو میرے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر میں تھا راوی حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کا کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز ادا کی گئی(اور پھر نماز سے فارغ ہو کر)واپس آگئے پھر ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے الغرض رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واپس تشریف لے آے(اپنے گھر آئے)۔ ان کی بیوی نے کہا کہ آپ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا وہ کہنے لگیں کہ آپ کے آنے تک مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا مگر انہوں نے پھر بھی نہیں کھایا۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں بھاگ کر(ڈر کی وجہ سے) چھپ گیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا او جاہل!اور انہوں نے مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاؤ اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تو یہ کھانا نہیں کھاؤں گا۔ حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں اللہ کی قسم ہم کھانے کا جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے اس کے نیچے سے اتنا ہی کھانا اور زیادہ ہوجاتا تھا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوگئے اور جتنا کھانا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ کھانا دیکھا تو وہ کھانا اتنا ہی تھا یا اس سے بھی زیادہ ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا اے بنی خراس کی بہن یہ کیا ماجرا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم کھانا تو پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہوگیا ہے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کھانے میں سے کھایا اور فرمایا کہ میں نے جو(غصہ کی حالت میں)قسم کھائی تھی وہ صرف شیطانی فعل تھا پھر ایک لقمہ اس کھانے میں سے کھایا پھر اس کھانے کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہ کھانا صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ(اس زمانے میں)ہمارے اور ایک قوم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہوچکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ افراد مقرر فرما دیئے اور ہر افسر کے ساتھ ایک خاص جماعت تھی اللہ جانتا ہے کہ اس جماعت کی کتنی تعداد تھی اور آپ نے وہ کھانا ان کے پاس بھیج دیا اور پھر ان سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٧؛حدیث نمبر ٥٢٥٤)
حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میرے والد رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے۔حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے عبدالرحمن!مہمانوں کی خبرگیری کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب شام ہوئی تو ہم مہمانوں کے سامنے کھانا لے کر آئے تو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ جب تک گھر والے ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھائیں گے اس وقت تک ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔میں نے کہا میرے والد سخت مزاج آدمی ہیں اگر تم کھانا نہیں کھاؤں گے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مجھے ان سے کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑجائے(لیکن اس کے باوجود)مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے مہمانوں ہی کے بارے میں پوچھا اور فرمایا کیا تم اپنے مہمانوں سے فارغ ہوگئے ہو؟راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم!ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں ایک طرف ہوگیا(یعنی چھپ گیا)انہوں نے(آواز دے کر)کہا اے عبدالرحمن میں اس طرف سے ہٹ گیا(یعنی چھپ گیا)پھر انہوں نے فرمایا او نالائق!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو آجا۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر میں آگیا اور میں نے عرض کیا اللہ کی قسم!میرا کوئی گناہ نہیں یہ آپ کے مہمان موجود ہیں آپ ان سے(خود)پوچھ لیں میں نے ان کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا تھا انہوں نے آپ کے بغیر کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا حضرت ابوبکر نے ان مہمانوں سے فرمایا تمہیں کیا ہوا کہ تم نے ہمارا کھانا قبول نہیں کیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ(یہ کہہ کر)فرمانے لگے اللہ کی قسم!میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک کہ آپ کھانا نہیں کھائیں گے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے آج کی رات کی طرح بدترین رات کبھی نہیں دیکھی تم پر افسوس ہے کہ تم لوگ ہماری مہمان نوازی کیوں نہیں قبول کرتے۔(پھر کچھ دیر بعد)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا قسم کھانا شیطانی فعل تھا چلو لاؤ کھانا لاؤ۔چناں چہ کھانا لایا گیا آپ نے اللہ کا نام لے کر(یعنی بسم اللہ پڑھ کر)کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھانا کھایا پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول!مہمانوں کی قسم پوری ہوگئی اور میری قسم ٹوٹ گئی اور یہ کہ سارے واقعہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں بلکہ تمہاری قسم تو سب سے زیادہ پوری ہوئی ہے اور تم سب سے زیادہ سچے ہو۔حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ انہوں نے(قسم کا کفارہ ادا کیا تھا یا نہیں)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ جلد٣ص١٦٢٨؛حدیث نمبر ٥٢٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے اور تین کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛کھانے میں کمی کے باوجود مہمان نوازی؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو کفایت کرتا ہے دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے کافی ہوتا ہے اور چار آدمیوں کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اسحاق کی روایت میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اس میں سننے کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٥٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوتا ہے دو آدمیوں کا کھانا چار کے لئے اور چار کا کھانا آٹھ(افراد)کے لئے کافی ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ، وَأَنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ جلد٣ص١٦٣٠؛حدیث نمبر ٥٢٦٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ترجمہ؛مؤمن ایک آنت میں اور کافر سات آنتوں میں کھانا ہے؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦١ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٢)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسکین کو دیکھا تو اس کے سامنے کھانا رکھا وہ شخص بہت زیادہ کھانا کھا رہا تھا انہوں نے فرمایا یہ شخص میرے پاس نہ آئے کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦٤ کے مثل مروی ہے اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛ جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٥)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٦٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا اور وہ کافر تھا آپ نے اس کے لئے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا دودھ دوہا گیا تو وہ تمام دودھ پی گیا پھر دوسری بکری کا دودھ پی گیا۔صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا۔تو وہ سارا دودھ نہ پی سکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ؛جلد٣ص١٦٣١؛حدیث نمبر ٥٢٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا کوئی چیز پسند ہوئی تو تناول فرماتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛ترجمہ؛کھانے میں عیب نہ نکالنا؛ جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٦٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٧٠)
امام مسلم نے ایک اور سند سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٢؛حدیث نمبر ٥٢٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام کو کسی کھانے میں عیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا جب کوئی کھانا اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اچھا نہ لگتا تو چھوڑ دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٣؛حدیث نمبر ٥٢٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٧٢ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ لَا يَعِيبُ الطَّعَامَ؛جلد٣ص١٦٣٣؛حدیث نمبر ٥٢٧٣)
Muslim Shareef : Kitabul Ashreba
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ
|
•