
*لباس اور زینت کا بیان* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ترجمہ؛لباس اور زینت کا بیان؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛ترجمہ؛پینے اور دیگر مقاصد کے لئے سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا مردوں اور عورتوں سب پر حرام ہے؛جلد٣ص١٦٣٤؛حدیث نمبر ٥٢٧٤)
امام مسلم نے اس حدیث کو متعدد اسناد سے روایت کیا ہے ایک سند میں یہ اضافہ ہے کہ جو شخص چاندی اور سونے کے برتنوں میں کھاتا اور پیتا ہے دیگر کسی سند میں سونے کے برتنوں اور کھانے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛ جلد٣ص١٦٣٤؛حدیث نمبر ٥٢٧٥)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹا غٹ بھرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛ جلد٣ص١٦٣٥؛حدیث نمبر ٥٢٧٦)
حضرت سوید بن مقرن فرماتے ہیں میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے سنا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا۔ آپ نے ہمیں مریض کی عیادت کرنے،جنازے کے ساتھ جانے،چھینک کا جواب دینے،قسم پوری کرنے،مظلوم کی مدد کرنے،دعوت قبول کرنے اور بکثرت سلام کرنے کا حکم دیا۔ اور آپ نے ہمیں انگوٹھی پہننے یا(فرمایا)سونے کی انگوٹھی پہننے،چاندی کے برتنوں میں پینے،ریشمی گدوں پر بیٹھنے،قسی(ریشمی لباس)پہننے،(خالص)ریشم پہنے،استبرق اور دیباج(ریشم کی قسمیں ہیں)پہننے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ترجمہ؛سونے اور چاندی کے برتن مردوں اور عورتوں سب پر حرام ہیں،جب کہ سونے کی انگوٹھی اور ریشم کا استعمال مردوں کے لئے حرام اور عورتوں کے لئے جائز ہے؛جلد٣ص١٦٣٤؛حدیث نمبر ٥٢٧٧)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں قسم پوری کرنے کا ذکر نہیں اس کی بجائے گم شدہ چیز تلاش کرنے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٦؛حدیث نمبر ٥٢٧٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں اس میں قسم پوری کرنے کا ذکر ہے اور چاندی کے برتن میں پینے کے متعلق یہ ہے کہ جس نے دنیا میں چاندی کے برتن میں پیا وہ آخرت میں چاندی کے برتن میں نہیں پئے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٦؛حدیث نمبر ٥٢٧٩)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اور اس میں آخری بات کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٦؛حدیث نمبر ٥٢٨٠)
امام مسلم نے اس حدیث کو مزید تین سندوں کے ساتھ ذکر کیا اس میں سلام کی اشاعت کی جگہ سلام کا جواب دینے کا ذکر ہے اور فرمایا کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی اور سونے کے چھلے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٦؛حدیث نمبر ٥٢٨١)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے اس میں سلام پھیلانے اور سونے کی انگوٹھی کا بغیر شک کے ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛جلد٣ص١٦٣٦؛حدیث نمبر ٥٢٨٢)
حضرت عبد اللہ بن عُکَیم کہتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لایا انہوں نے اسے دے مارا اور فرمایا میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میں اس سے پہلے کہ چکا تھا کہ مجھے چاندی کے برتن میں نہ پلانا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پئو اور نہ ہی دیباج اور حریر(ریشمی)پہنو بے شک یہ دنیا میں ان(کفار)کے لئے ہے اور تمہارے لئے آخرت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٧؛حدیث نمبر ٥٢٨٣)
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر حدیث نمبر ٥٢٨٣ کے مثل مروی ہے اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٧؛حدیث نمبر ٥٢٨٤)
ابن عکیم کہتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر حدیث نمبر ٥٢٨٣ کے مثل مروی ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٧؛حدیث نمبر ٥٢٨٥)
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ان کے پاس ایک شخص چاندی کا برتن لے کر آیا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٨٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛جلد٣ص١٦٣٧؛حدیث نمبر ٥٢٨٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں ان میں معاذ کے علاوہ کسی روایت میں یہ بات نہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا صرف اتنا ذکر ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ؛ جلد٣ص١٦٣٧؛حدیث نمبر ٥٢٨٧)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٢٨٣ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٨؛حدیث نمبر ٥٢٨٨)
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے چاندی کے برتن میں پیش کیا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا ریشم نہ پہنو،دیباج نہ پہنو اور سونے چاندی کے برتنوں میں نہ پئو اور نہ ہی ان کی پلیٹوں میں کھاؤ یہ برتن دنیا میں کفار کے لیے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٨؛حدیث نمبر ٥٢٨٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ(جوڑا)فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر آپ اسے خرید لیں اور عام لوگوں کے لئے جمعہ کے دن پہنیں نیز اس دن پہنیں جب آپ کے پاس کوئی وفد ملاقات کے لئے آے(تو اچھا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی حلے آے تو آپ نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے یہ حلہ مجھے پہننے کے لئے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد کے حلہ کے بارے یوں فرمایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہ حلہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ حلہ مکہ مکرمہ میں اپنے مشرک بھائی کو دے دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٨؛حدیث نمبر ٥٢٩٠)
مزید دو سندوں کے ساتھ امام مسلم نے حدیث نمبر ٥٢٩٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٨؛حدیث نمبر ٥٢٩١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ لئے بیٹھا ہے یہ شخص بادشاہوں کے پاس جاتا اور ان سے کچھ نہ کچھ وصول کرتا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عطارد کو دیکھا ہے کہ وہ بازار میں ریشمی حلہ لئے بیٹھا ہے اگر آپ اس کو خرید لیں اور عربی وفود کے آنے پر زیب تن فرمائیں(تو اچھا ہے)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ اسے جمعہ کے دن پہنیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی حلے آے تو آپ نے ایک حلہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس اور ایک حلہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمایا اور فرمایا اس کو پھاڑ کر عورتوں کے دو پٹے بنالو۔ حضرت عمر فاروق اپنا حلہ اٹھاتے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے یہ حلہ میری طرف بھیجا ہے حالانکہ کل آپ نے عطارد کے حلے کے بارے میں کیا فرمایا تھا آپ نے فرمایا میں نے یہ حلہ تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو۔میں نے اس لئے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ حاصل کرو۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ وہ حلہ پہن کر حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کو پسند نہیں فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں جب کہ آپ نے یہ حلہ خود میرے پاس بھیجا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو بلکہ میں نے اس لئے بھیجا تھا کہ اسے پھاڑ کر خواتین کے دو پٹے بنا لو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٩؛حدیث نمبر ٥٢٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے استبرق(ریشم)کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا دیکھا تو وہ اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!اسے خرید لیں اور اس کے ذریعے عید کے دن اور وفود کی آمد پر بطور زینت اسے زیب تن فرمایا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ فرماتے ہیں جس قدر اللہ نے چاہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ٹھہرے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیجا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ جبہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا تھا کہ یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو بیچ کر اس کے پیسے اپنے کام میں لاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٣٩؛حدیث نمبر ٥٢٩٣)
امام مسلم اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٠؛حدیث نمبر ٥٢٩٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے کسی شخص پر دیباج یا ریشم کی قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ اسے خرید لیں تو اچھا ہے آپ نے فرمایا اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی حلہ بطور تحفہ آیا تو انہوں نے میری طرف بھیج دیا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ نے یہ میری طرف بھیجا ہے حالانکہ میں اس کے بارے میں آپ سے سن چکا ہوں جو آپ نے فرمایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نےیہ تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ تم اس سے نفع اٹھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٠؛حدیث نمبر ٥٢٩٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک شخص کے پاس ایک حلہ دیکھا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٢٩٥ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس سے نفع حاصل کرو پہننے کے لئے نہیں بھیجا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٠؛حدیث نمبر ٥٢٩٦)
حضرت یحییٰ بن ابی اسحاق فرماتے ہیں حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے استبرق کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا موٹا اور سخت ریشم استبرق ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس استبرق کا حلہ دیکھا تو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہ حلہ تمہارے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کے ذریعے مال حاصل کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٠؛حدیث نمبر ٥٢٩٧)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام کا نام عبد اللہ تھا اور وہ حضرت عطاء کے لڑکے کے ماموں تھے وہ کہتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں کپڑوں میں نقش و نگار کو،سرخ گدوں کو اور ماہ رجب کے مکمل روزے رکھنے کو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے جو رجب کے متعلق کہا ہے تو جو شخص پورے رجب کے روزے رکھتا ہو وہ ان کو حرام کیسے کہ سکتا ہے اور جو کچھ کپڑوں پر نقش و نگار کے بارے میں کہا ہے تو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے ریشم وہ(مرد)پہنتا ہے جس کا(آخرت میں)کوئی حصہ نہیں تو مجھے ڈر ہے کہ نقش و نگار کا اسی سے تعلق نہ ہو۔ اور جہاں تک سرخ گدوں کی بات ہے تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا گدا بھی سرخ ہے راوی کہتے ہیں میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آیا اور ان کو تمام بات بتائی تو انہوں نے فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حبہ ہے چنانچہ انہوں نے ایک طیالسی کسروانی جبہ مجھے دکھایا جس کی آستینوں اور گریبان پر ریشمی نقش و نگار بنے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا یہ جبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا جب ان کا وصال ہوا تو یہ میرے قبضہ میں آگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنتے تھے اور ہم اسے دھوکر مریضوں کو پلاتے ہیں اور اس کے ذریعے شفاء طلب کی جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤١؛حدیث نمبر ٥٢٩٨)
خلیفہ بن کعب ابی زیبان کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ۔ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریشم نہ پہنو جو شخص دنیا میں اسے (ریشم)پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤١؛حدیث نمبر ٥٢٩٩)
حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا اور اس وقت ہم آذر بائی جان میں تھے کہ اے عتبہ بن فرقد!تمہارے پاس جو مال ہے اس میں تمہاری کوشش کا دخل نہیں نہ تیرے باپ کی کوشش کا اور نہ ہی تیری ماں کی کوشش کا دخل ہے پس مسلمانوں کو ان کے گھروں میں اس چیز سے پیٹ بھر کر کھلاؤ جس سے تم اپنے گھر میں پیٹ بھرتے ہو عیش و عشرت،مشرکین کے لباس اور ریشم پہننے سے بچتے رہنا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا مگر ریشم کی اتنی مقدار جائز ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملاکر بلند فرمایا اور حضرت زبیر نے بھی اپنی انگلیاں بلند کیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٢؛حدیث نمبر ٥٣٠٠)
امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٥٣٠٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٢؛حدیث نمبر ٥٣٠١)
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مکتوب نامہ پہنچا ہمیں پہنچا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریشم وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں البتہ ریشم کی اتنی مقدار جائز ہے ابو عثمان نے اپنے انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا پھر جب میں نے طیالسہ چادر کو دیکھا تو ان انگلیوں کو طیالسہ کی چادر میں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٢؛حدیث نمبر ٥٣٠٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٣؛حدیث نمبر ٥٣٠٣)
ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذر بائی جان میں حضرت عتبہ بن فرقد کے پاس تھے یا شام میں تھے۔اس خط میں لکھا تھا۔حمد و صلاۃ کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع کیا لیکن دو انگلیوں کی مقدار کو مستثنٰی فرمایا حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں پھر ہمیں اس سے نقش و نگار سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٣؛حدیث نمبر ٥٣٠٤)
امام مسلم اس حدیث کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں لیکن اس میں ابو عثمان کا قول ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٣؛حدیث نمبر ٥٣٠٥)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا البتہ دو یا تین یا چار انگلیوں کا استثناء فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٣؛حدیث نمبر ٥٣٠٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٤؛حدیث نمبر ٥٣٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج(ایک قسم کا ریشم)کا ایک جبہ زیب تن فرمایا جو آپ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا پھر آپ نے اسے اتارا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور فرمایا مجھے حضرت جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کیا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے جو چیز ناپسند کی وہ مجھے دے دی میں اسے کیا کروں؟آپ نے فرمایا میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اس کو پہنو میں نے اس لئے دیا ہے کہ تم اس کو بیچو پس انہوں نے اس کو دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٤؛حدیث نمبر ٥٣٠٨)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا آپ نے وہ جوڑا میری طرف بھیج دیا میں نے اسے پہنا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے آپ نے فرمایا میں نے جوڑا تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہنو میں نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ اس کو پھاڑ کر عورتوں کے دو پٹے بنا دو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٤؛حدیث نمبر ٥٣٠٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔اس میں یہ ہے کہ آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا اور دوسری سند میں یہ ہے کہ میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا اس میں یہ نہیں کہ آپ نے مجھے حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٤؛حدیث نمبر ٥٣١٠)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُکیدر دومہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی کپڑا بطور تحفہ بھیجا تو آپ نے وہ کپڑا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمایا اور ارشاد فرمایا حضرت فاطمہ بنت اسد(حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ)اور حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور فاطمہ بنت حمزہ(رضی اللہ عنہا)کی اوڑھنیا بنا دو۔دوسری روایت میں(ناموں کی بجائے)عورتوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٥؛حدیث نمبر ٥٣١١)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی حلہ دیا میں اسے پہن کر نکلا تو آپ کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے فرماتے ہیں پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٥؛حدیث نمبر ٥٣١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سندس کا ایک جبہ بھیجا تو انہوں نے عرض کیا آپ نے یہ جبہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ اس کے بارے میں ایسا فرما چکے ہیں(کہ یہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہ جبہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا میں نے تو اس لئے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ اس کی قیمت سے نفع اٹھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٥؛حدیث نمبر ٥٣١٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٥؛حدیث نمبر ٥٣١٤)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣١٥)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں ریشم کی ایک قبا دی گئی آپ نے اسے پہنا پھر اس میں نماز پڑھی سلام پھیرنے کے بعد اسے اس سختی سے اتارا کہ گویا آپ اسے ناپسند کرتے ہیں پھر فرمایا یہ(ریشم)متقی لوگوں کے لئے مناسب نہیں(مسلمان مردوں کے لئے جائز نہیں) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣١٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ایک سفر میں ریشم پہننے کی اجازت دی کیونکہ انہیں خارش یا کوئی اور تکلیف تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا؛ترجمہ؛خارش یا کسی اور عزر کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت؛جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣١٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے اس میں سفر کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا؛جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣١٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا؛جلد٣ص١٦٤٦؛حدیث نمبر ٥٣٢٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا؛جلد٣ص١٦٤٧؛حدیث نمبر ٥٣٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ نے ان کو جنگ کے دوران ریشم پہننے کی اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا؛جلد٣ص١٦٤٧؛حدیث نمبر ٥٣٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا یہ کفار کے لباس سے ہیں پس تم ان کو نہ پہنو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛ترجمہ؛مردوں کو زرد رنگ کے کپڑے پہننے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٤٧؛حدیث نمبر ٥٣٢٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛جلد٣ص١٦٤٧؛حدیث نمبر ٥٣٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو پوچھا کیا تمہاری ماں نے ان کپڑوں کو پہننے کا حکم دیا ہے؟میں نے عرض کیا میں ان کو ڈالوں گا آپ نے فرمایا بلکہ ان کو جلا دو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛ترجم؛جلد٣ص١٦٤٧؛حدیث نمبر ٥٣٢٥)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑے اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے نیز سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرأت کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛ترجم؛جلد٣ص١٦٤٨؛حدیث نمبر ٥٣٢٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرأت کرنے،سونا پہننے اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛ترجم؛جلد٣ص١٦٤٨؛حدیث نمبر ٥٣٢٧)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے،ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع و سجود میں قرآن مجید پڑھنے نیز زرد رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ؛ترجم؛جلد٣ص١٦٤٨؛حدیث نمبر ٥٣٢٨)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسا لباس زیادہ پسند تھا انہوں نے فرمایا دھاری دار یمنی چادر۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ فَضْلِ لِبَاسِ ثِيَابِ الْحِبَرَةِ؛ترجمہ؛دھاری دار یمنی چادروں کی فضیلت؛جلد٣ص١٦٤٨؛حدیث نمبر ٥٣٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لباس میں دھاری دار یمنی چادر سب سے زیادہ پسند تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابُ فَضْلِ لِبَاسِ ثِيَابِ الْحِبَرَةِ؛جلد٣ص١٦٤٨؛حدیث نمبر ٥٣٣٠)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا موٹے کپڑے کا ایک تہبند نکالا اور ایک چادر نکالی جسے ملبدہ کہا جاتا ہے پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کپڑوں میں اپنے رب کے حضور حاضری دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ترجمہ؛لباس میں انکسار اور موٹے کپڑے پہننے کا بیان؛ جلد٣ص١٦٤٩؛حدیث نمبر ٥٣٣١)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک تہبند اور ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکالی اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان ہی کپڑوں میں ہوا ابن حاتم کی روایت میں موٹی چادر کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٤٩؛حدیث نمبر ٥٣٣٢)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے اس میں موٹے کپڑے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٤٩؛حدیث نمبر ٥٣٣٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کالے بالوں کا بنا ہوا کمبل اوڑھ کر باہر تشریف لائے جس پر پلان کے نقشے بنے ہوئے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٤٩؛حدیث نمبر ٥٣٣٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگاتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٥٠؛حدیث نمبر ٥٣٣٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بستر(گدا)جس پر آپ آرام فرماتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٥٠؛حدیث نمبر ٥٣٣٦)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں بستر کے لئے ضجاع کا لفظ آیا ہے۔ (بنیادی بات تو واضح ہے اگر عمدہ کپڑا پہن کر بھی تکبر پیدا نہ ہو تو جائز ہے اور اگر معمولی لباس پہن کر بھی تکبر پیدا ہو تو وہ ناجائز ہے اس لئے آجکل کے دور میں علماے کرام کو معاشرتی زندگی میں عظمت دین کے اظہار کی خاطر اچھا لباس پہننا چاہیے لیکن تواضع برقرار رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا، وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ، وَمَا فِيهِ أَعْلَامٌ؛ جلد٣ص١٦٥٠؛حدیث نمبر ٥٣٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب میں نے شادی کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے غالیچے(قالین)بناے ہیں؟میں نے عرض کیا ہمارے پاس غالیچے کہاں فرمایا اب عنقریب ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ جَوَازِ اتِّخَاذِ الْأَنْمَاطِ؛ترجمہ؛قالین(وغیرہ)کا جواز؛جلد٣ص١٦٥٠؛حدیث نمبر ٥٣٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میری شادی ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے غالیچے بناے ہیں؟میں نے عرض کیا ہمارے پاس غالیچے کہاں،فرمایا عنقریب ہوں گے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری بیوی کے پاس ایک غالیچے ہے میں نے اس سے کہا اس کو مجھ سے دور رکھو اس نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا عنقریب قالین ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ جَوَازِ اتِّخَاذِ الْأَنْمَاطِ؛جلد٣ص١٦٥٠؛حدیث نمبر ٥٣٣٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ جَوَازِ اتِّخَاذِ الْأَنْمَاطِ؛جلد٣ص١٦٥١؛حدیث نمبر ٥٣٤٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بستر مرد کے لئے،ایک اس کی بیوی کے لئے اور تیسرا بستر مہمان کے لئے ہے اور چوتھا بستر شیطان کے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ مَا زَادَ عَلَى الْحَاجَةِ مِنَ الْفِرَاشِ وَاللِّبَاسِ؛ترجمہ؛ضرورت سے زائد بستر اور لباس بنانے کی کراہت؛جلد٣ص١٦٥١؛حدیث نمبر ٥٣٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف(نظر رحمت سے)نہیں دیکھتا جو تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛ترجمہ؛تکبر سے کپڑا لٹکا کر چلنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٥١؛حدیث نمبر ٥٣٤٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید سات سندیں بیان کی ہیں ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥١؛حدیث نمبر ٥٣٤٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر سے کپڑا لٹکا کر(یا گھسیٹ کر)چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے تکبر سے کپڑا لٹکایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر(رحمت)نہیں فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٣٤٦ کے مثل روایت ہے البتہ اس میں ثیاب(کپڑے)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٧)
حضرت مسلم بن یناق فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو اس نے اپنا نسب بیان کیا تو معلوم ہوا کہ وہ شخص بنو لیث سے ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا میں نے اپنے ان دونوں کانوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص تکبر کے طور پر اپنی چادر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف(رحمت کی)نظر نہیں فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٣٤٨ کے مثل روایت کیا ہے ایک روایت میں ہے جس نے اپنی چادر گھسیٹی اور کپڑے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٢؛حدیث نمبر ٥٣٤٩)
عباد بن جعفر کہتے ہیں میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار کو حکم دیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کریں اور اس وقت میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کچھ سنا ہے جو اپنی چادر بطور تکبر لٹکاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٣؛حدیث نمبر ٥٣٥٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور میری چادر لٹک رہی تھی آپ نے فرمایا اے عبداللہ!اپنی چادر اٹھاؤ میں نے چادر اٹھالی پھر فرمایا کچھ اور اٹھاؤ میں نے کچھ اور اٹھائی پھر میں اوپر کرتا رہا حتیٰ کہ بعض لوگوں نے عرض کیا کہاں تک اٹھائیں آپ نے فرمایا نصف پنڈلیوں تک۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٣؛حدیث نمبر ٥٣٥١)
محمد بن زیاد رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے ایک شخص کو اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے دیکھا وہ شخص بحرین کا امیر تھا وہ شخص زمین پر پاؤں مار کر کہ رہا تھا امیر آگیا امیر اگیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اتراتے ہوئے(بطور تکبر)چادر لٹکاے اللہ تعالیٰ اس کی طرف(رحمت کی)نظر نہیں کرے گا (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٣؛حدیث نمبر ٥٣٥٢)
ابن جعفر کی روایت میں ہے مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیبہ کا حاکم بنایا تھا ابن مثنی کی روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ کے حاکم تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلَاءَ، وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ؛جلد٣ص١٦٥٣؛حدیث نمبر ٥٣٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص اپنے سر کے بالوں اور اپنی پہنی ہوئی چادروں پر اتراتے ہوے چل رہا تھا کہ اچانک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّبَخْتُرِ فِي الْمَشْيِ مَعَ إِعْجَابِهِ بِثِيَابِهِ؛ترجمہ؛کپڑوں میں اترانے یا اکڑ کر چلنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٥٣؛حدیث نمبر ٥٣٥٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّبَخْتُرِ فِي الْمَشْيِ مَعَ إِعْجَابِهِ بِثِيَابِهِ؛جلد٣ص١٦٥٤؛حدیث نمبر ٥٣٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص اپنی چادروں میں اتراتا ہوا چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّبَخْتُرِ فِي الْمَشْيِ مَعَ إِعْجَابِهِ بِثِيَابِهِ؛جلد٣ص١٦٥٤؛حدیث نمبر ٥٣٥٦)
Muslim Sharif Kitabul Libase Waz Zinate Hadees No# 5357
Muslim Sharif Kitabul Libase Waz Zinate Hadees No# 5358
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی(پہننے)سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛ترجمہ؛مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٥٤؛حدیث نمبر ٥٣٥٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛جلد٣ص١٦٥٤؛حدیث نمبر ٥٣٦٠)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا تم میں کوئی شخص آگ کے انگارے کا قصد کرتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں لیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی لو اور اس سے نفع حاصل کرو اس نے کہا خدا کی قسم!میں اس چیز کو کبھی بھی نہیں اٹھاؤں گا جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛جلد٣ص١٦٥٥؛حدیث نمبر ٥٣٦١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی آپ اسے پہنتے وقت اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرتے تھے پس لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوا لیں پھر آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اس انگوٹھی کو اتار دیا آپ نے فرمایا میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو اس کے نگینے کا رخ اندر کی طرف کردیتا تھا پھر آپ نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا اور فرمایا اللہ کی قسم!میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا اس کے بعد لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛جلد٣ص١٦٥٥؛حدیث نمبر ٥٣٦٢)
امام مسلم نے متعدد سندوں کے ساتھ سونے کی انگوٹھی پہننے سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛جلد٣ص١٦٥٥؛حدیث نمبر؛٥٣٦٣)
امام مسلم نے تین سندوں کے ساتھ سونے کی انگوٹھی سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ طَرْحِ خَاتَمِ الذَّهَبِ؛جلد٣ص١٦٥٥؛حدیث نمبر؛٥٣٦٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی وہ انگوٹھی پہلے آپ کے ہاتھ میں تھی پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ آپ سے کنویں میں گر گئی اس پر محمد رسول اللہ کے کلمات نقش تھے۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے حتیٰ کہ کنویں میں گر گئی اس میں یہ نہیں کہ ان سے گر گئی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ؛جلد٣ص١٦٥٦؛حدیث نمبر ٥٣٦٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی پھر اس کو پھینک دیا پھر چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول اللہ کے کلمات نقش کروائے اور فرمایا کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش نہ بنواے آپ جب اس کو پہنتے تھے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرتے تھے اور یہی وہ انگوٹھی ہے جو مُعَیقیب کے ہاتھ سے اَریس کنویں میں گر گئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ؛جلد٣ص١٦٥٦؛حدیث نمبر ٥٣٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں محمد رسول اللہ کندہ کروایا اور آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے جس میں میں نے محمد رسول اللہ کندہ کروایا ہے تو کوئی شخص اس نقش کی طرح نقش کندہ نہ کرواے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ؛جلد٣ص١٦٥٦؛حدیث نمبر ٥٣٦٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں محمد رسول اللہ(کلمات)کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ؛جلد٣ص١٦٥٦؛حدیث نمبر ٥٣٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم(کے بادشاہ)کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا وہ لوگ اس خط کو نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ ہو۔فرماتے ہیں تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی مہر بنوائی گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں اس میں محمد رسول اللہ کا نقش کندہ تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ؛جلد٣ص١٦٥٧؛حدیث نمبر ٥٣٦٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا عجمی لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر ہو تو آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ؛جلد٣ص١٦٥٧؛حدیث نمبر ٥٣٧٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ،قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو کہا گیا وہ لوگ مہر کے بغیر خط کو قبول نہیں کرتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کا نقش کندہ تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ؛جلد٣ص١٦٥٧؛حدیث نمبر ٥٣٧١)
Muslim Sharif Kitabul Libase Waz Zinate Hadees No# 5372
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی تو تمام لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں بنوا کر پہن لیں اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی کو پھینک دیا تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ؛جلد٣ص١٦٥٨؛حدیث نمبر ٥٣٧٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ؛جلد٣ص١٦٥٨؛حدیث نمبر ٥٣٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی(حبشہ کا بنا ہوا) تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ؛جلد٣ص١٦٥٨؛حدیث نمبر ٥٣٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی پہنی جس میں نگینہ حبشی تھا آپ اس نگینے کو ہتھیلی کے رخ رکھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ؛جلد٣ص١٦٥٨؛حدیث نمبر ٥٣٧٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ؛جلد٣ص١٦٥٨؛حدیث نمبر ٥٣٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی(یہ کہ کر)انہوں نے بائیں کی چھنگلی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛ بَابٌ فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْخِنْصِرِ مِنَ الْيَدِ؛جلد٣ص١٦٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٧٨)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا راوی کو یاد نہیں رہا کہ کن دو انگلیوں کا ذکر کیا تھا اور مجھے قسی کپڑے(ریشم کی ایک قسم)پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔قسی وہ چار خانے والے کپڑے ہیں جو مصر اور شام سے آتے ہیں اس میں کچھ شبہیں ہوتی ہیں اور ریشمی گدے وہ ہیں جو عورتیں اپنے شوہروں کے لئے پلان پر بچھاتی ہیں جیسے ارجوانی چادر بھی ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا؛جلد٣ص١٦٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٣٧٩ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا؛جلد٣ص١٦٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٨٠)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٣٧٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا؛جلد٣ص١٦٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٨١)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا آپ نے درمیانی اور اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ (دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک ہاتھ میں انگوٹھی پہنی جاسکتی ہے البتہ چھنگلی انگلی میں پہننا سنت ہے درمیان یا اس کے ساتھ والی انگلی میں پہننا مکروہ تنزیہی ہے حرام نہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا؛جلد٣ص١٦٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٨٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں گئے تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بکثرت جوتیاں پہنا کرو کیونکہ جب تک کوئی شخص جوتی پہنے ہوئے ہو وہ سوار رہتا ہے۔ (جس طرح سوار بھی کانٹوں سے محفوظ رہتا ہے اسی طرح جوتا پہننے والا بھی محفوظ رہتا ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي الانْتِعَالِ وَالاسْتِكْثَارِ مِنَ النِّعَالِ؛جلد٣ص١٦٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جوتی پہنے تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب جوتی اتارے تو بائیں پاؤں سے آغاز کرے اور دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتارے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ إِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدأْ بِالشِّمَالِ؛جلد٣ص١٦٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک،ایک جوتی میں نہ چلے یا دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ إِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدأْ بِالشِّمَالِ؛جلد٣ص١٦٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٨٥)
حضرت ابورزین فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارکر فرمایا کیا تم لوگ بیان کرتے ہو کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہوں تاکہ تم ہدایت پاؤ اور میں گمراہ رہ جاؤں سنو!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس کو ٹھیک کرنے سے پہلے دوسری جوتی نہ پہنے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ إِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدأْ بِالشِّمَالِ؛جلد٣ص١٦٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٣٥٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ إِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدأْ بِالشِّمَالِ؛جلد٣ص١٦٦١؛حدیث نمبر ٥٣٨٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانے،ایک جوتی پہن کر چلنے اور صماء پہننے اور ایک کپڑے میں احتباء کرنے سے منع فرمایا جس سے اس کی شرم گاہ کھل جائے۔(اس طرح کپڑا پہننا یا اس کا پلو اٹھانا کہ شرمگاہ کھل جائے یہ صماء اور احتباء ہے) (اسلام اپنے ماننے والوں کو وقار اور عزت عطاء کرتا ہے اور ہر بات میں اس کا خیال رکھا جاتا ہے جب آدمی ایک جوتا پہنتا ہے اور اس کا دوسرا پاؤں ننگا ہوتا ہے تو یہ اس کے وقار کے خلاف ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؛ترجمہ؛ایک کپڑے کو بطور صماء اور احتباء پہننے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٦١؛حدیث نمبر ٥٣٨٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آپ سے سنا کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے یا (فرمایا) اس کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتی میں نہ چلے حتیٰ کہ اپنے تسمے کو درست کر لے ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے اور بائیں ہاتھ سے نہ کھاے اور نہ ایک کپڑے کو بطور صماء پہنے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ؛بَابُ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؛جلد٣ص١٦٦١؛حدیث نمبر ٥٣٨٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو بطور صماء اور بطور احتباء پہننے سے منع فرمایا اور یہ کہ کوئی شخص ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری پر رکھے اور وہ پیٹھ کے بل لیٹا ہوا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي مَنْعِ الِاسْتِلْقَاءِ عَلَى الظَّهْرِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى؛جلد٣ص١٦٦١؛حدیث نمبر ٥٣٩٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جوتی میں نہ چلو اور ایک چادر میں بطور احتباء نہ بیٹھو بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ اور صماء کے طور پر کپڑا نہ پہنو ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ نہ رکھو جب پیٹھ کے بل لیٹنا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي مَنْعِ الِاسْتِلْقَاءِ عَلَى الظَّهْرِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى؛جلد٣ص١٦٦٢؛حدیث نمبر ٥٣٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص چت لیٹ کر ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ نہ رکھے۔ (اس طرح ستر کھلنے کا خدشہ ہوتا ہے البتہ ٹانگیں پھیلا کر پاؤں پر پاؤں رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي مَنْعِ الِاسْتِلْقَاءِ عَلَى الظَّهْرِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى؛جلد٣ص١٦٦١؛حدیث نمبر ٥٣٩٢)
حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں دیکھا کہ وہ چت لیٹے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي إِبَاحَةِ الِاسْتِلْقَاءِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى؛جلد٣ص١٦٦٢؛حدیث نمبر ٥٣٩٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی تین سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي إِبَاحَةِ الِاسْتِلْقَاءِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى؛جلد٣ص١٦٦٢؛حدیث نمبر ٥٣٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ سے منع فرمایا حماد فرماتے ہیں یعنی مردوں کو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ؛ترجمہ؛مردوں کو زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٦٢؛حدیث نمبر ٥٣٩٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ سے منع فرمایا۔(صحیح بخاری میں زعفرانی رنگ کی ممانعت محرم کے لیے بیان ہوئی ہے اور دیگر کئی احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے لہٰذا یہ محرم کے ساتھ خاص ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ؛جلد٣ص١٦٦٣؛حدیث نمبر ٥٣٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایا گیا یا وہ خود آے اور ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ(سفید پھولوں)کی طرح سفید تھے تو آپ نے ان کی عورتوں کو یہ حکم دیا کہ ان کی سفیدی کو کسی چیز سے بدل دو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي صَبْغِ الشَّعْرِ وَتَغْيِيرِ الشَّيْبِ؛جلد٣ص١٦٦٣؛حدیث نمبر ٥٣٩٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایا گیا اور ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ کی طرح سفید تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي صَبْغِ الشَّعْرِ وَتَغْيِيرِ الشَّيْبِ؛جلد٣ص١٦٦٣؛حدیث نمبر ٥٣٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصارٰی خضاب نہیں لگاتے پس تم ان کی مخالفت کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابٌ فِي مُخَالَفَةِ الْيَهُودِ فِي الصَّبْغِ؛جلد٣ص١٦٦٣؛حدیث نمبر ٥٣٩٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معین وقت میں آنے کا وعدہ کیا۔وہ وقت آگیا اور حضرت جبریل علیہ السلام نہیں آئے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک عصاء تھا آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول اپنے وعدہ کا مخالفت نہیں کرتے پھر آپ نے ادھر اُدھر دیکھا تو تخت کے نیچے کتے کا ایک بچہ دکھائی دیا آپ نے پوچھا اے عائشہ!یہ کتا یہاں کس وقت داخل ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں چنانچہ آپ کے حکم سے اسے نکال دیا گیا۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا پس میں آپ کے انتظار میں بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے انہوں نے عرض کیا گھر میں جو کتا تھا وہ میرے آنے میں رکاوٹ بنا بے شک ہم(فرشتے)اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛ترجمہ؛جاندار کی تصویر بنانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٦٤؛حدیث نمبر ٥٤٠٠)
امام مسلم نے ایک اور سند سے یہ حدیث روایت کی ہے حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا وعدہ کیا لیکن اس حدیث میں حدیث نمبر ٥٤٠٠ کی طرح تفصیل نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٤؛حدیث نمبر ٥٤٠١)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک صبح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ اٹھے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج میں آپ کو کچھ پریشان دیکھ رہی ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے اور قسم بخدا!انہوں نے مجھ سے کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کی چنانچہ سارا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح غمگین رہے پھر آپ کے دل میں اس کتے کے بچے کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا چنانچہ آپ کے حکم سے اسے نکال دیا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا جہاں کتا تھا جب شام ہوئی تو حضرت جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے گزشتہ رات ملاقات کا وعدہ کیا تھا انہوں نے کہا جی ہاں!لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔اس صبح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا حتیٰ کہ آپ نے چھوٹے باغ کے کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا البتہ بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٤؛حدیث نمبر ٥٤٠٢)
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٥؛حدیث نمبر ٥٤٠٣)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٤؛حدیث نمبر ٥٤٠٤)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٥؛حدیث نمبر ٥٤٠٥)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو حضرت بسر فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہوگئے ہم ان کی عیادت کے لئے گئے تو دیکھا کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر تھی ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی نے کہا کیا پہلے دن حضرت زید نے ہمیں تصویر سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تھی۔حضرت عبید اللہ نے کہا کیا تم نے ان سے سنا نہیں تھا کہ کپڑے پر بنی ہوئی(غیر ذی روح کی)تصویریں اس حکم سے مستثنٰی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٥؛حدیث نمبر ٥٤٠٦)
حضرت بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان کے ساتھ عبید اللہ خولانی بھی تھے۔کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے۔جس میں تصویر ہو حضرت بسر فرماتے ہیں جب زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی عیادت کی ہم نے دیکھا کہ ان کے گھر میں ایک پردہ تھا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔حضرت بسر فرماتے ہیں میں نے حضرت عبید اللہ خولانی سے کہا کیا انہوں نے ہم سے تصاویر کے بارے میں بیان نہیں کیا تھا انہوں نے کہا حضرت خالد نے کپڑے پر بنی ہوئی(غیر ذی روح کی)تصاویر کو مستثنیٰ کیا تھا کیا تم نے ان سے یہ بات نہیں سنی تھی؟فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا ہاں انہوں نے استثناء کا ذکر کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٦؛حدیث نمبر ٥٤٠٧)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ،حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا(رحمت کے)فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا یا مجسمے ہوں۔ فرماتے پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یہ(حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ)مجھے بتاتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔انہوں نے فرمایا میں نے سنا نہیں لیکن میں تم سے اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتی ہوں میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے ہیں میں نے ایک(با تصویر)نمدہ لے کر دروازے پر لٹکا دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور نمدہ دیکھا تو مجھے آپ کے چہرہ انور پر ناگواری کے اثرات دکھائی دئے آپ نے اسے کھینچا اور پھاڑ دیا یا کاٹ دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا کہ ہم پتھروں اور گارے کو لباس پہنائیں۔آپ فرماتی ہیں ہم نے اس پردہ کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے اور اس میں کھجوروں کی چھال بھر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٦؛حدیث نمبر ٥٤٠٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس پر پرندوں کی تصویریں تھیں جب کوئی شخص اندر آتا تو یہ تصویریں اس کے سامنے ہوتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو بدل دو کیونکہ میں جب بھی داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں ہمارے پاس ایک چادر تھی ہم کہتے تھے اس کے نقوش ریشمی ہیں پس ہم اسے پہنتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٦؛حدیث نمبر ٥٤٠٩)
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کے کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک ریشمی کپڑا لٹکایا ہوا تھا جس میں پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں آپ نے اس کو اتارنے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١١)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے تصویروں والا پردہ لٹکا ہوا تھا آپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا پھر آپ نے وہ پردہ پکڑ کر پھاڑ دیا اس کے بعد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کی مشابہت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٤١٣ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا پھر آپ جھکے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے پردہ پھاڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١٤)
امام مسلم نے دو سندیں ذکر کی ہیں اس حدیث میں ان اشد الناس عذابا کے الفاظ ہیں لفظ"من" نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٧؛حدیث نمبر ٥٤١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے اپنے ایک طاق پر تصویروں والا پردہ لٹکا رکھا تھا آپ نے اسے دیکھا توپھاڑ ڈالا اور آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا آپ نے فرمایا اے عائشہ!قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس ہم نے اس(پردے)کو کاٹ کر اس سے ایک یا دو تکئے بنا لئے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤١٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں وہ کپڑا ایک طاق پر لٹکا ہوا تھا اور نبی ﷺ اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو میرے سامنے سے ہٹا دو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کاٹ کر اس کے تکیے بنا لئے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤١٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں وہ کپڑا ایک طاق پر لٹکا ہوا تھا اور نبی ﷺ اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو میرے سامنے سے ہٹا دو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کاٹ کر اس کے تکیے بنا لئے۔ شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤١٨) امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤١٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں نے ایک تصویروں والا پردہ لٹکایا ہوا تھا آپ نے اس کو ہٹا دیا اور میں نے اسکے دو تکیے بنا لئے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤٢٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک تصویر والا پردہ لٹکایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے اسے اتار دیا پھر اس کے دو تکیے بنا لئے(جب راوی نے یہ حدیث بیان کی تو)مجلس میں سے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطاء کہا جاتا تھا اور وہ بنو زہرہ قبیلے کا آزاد کردہ غلام تھا۔کہا کیا تم نے ابو محمد سے نہیں سنا وہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تکیوں پر آرام کرتے تھے۔ ابن قاسم نے کہا نہیں لیکن میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٨؛حدیث نمبر ٥٤٢١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک تصویروں والا تکیہ خریدا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہیں ہوے۔پس میں نے جان لیا یا آپ کے چہرے سے ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوے ام المؤمنين نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہاں توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدَّا کیسا ہے انہوں نے عرض کیا میں نے اسے خریدا ہے تاکہ اس پر آپ تشریف فرما ہوں اور ٹیک لگائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا جن چیزوں کو تم نے بنایا تھا ان کو زندہ کرو۔پھر فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں(رحمت کے)فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٩؛حدیث نمبر ٥٤٢٢)
امام مسلم نے پانچ مختلف سندوں سے اس روایت کو ذکر کیا ایک روایت میں یہ اضافہ ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں کہ میں نے ان کے دو تکیے بنا لئے جن پر آپ گھر میں آرام فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٩؛حدیث نمبر ٥٤٢٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا جو کچھ تم نے بنایا تھا ان کو زندہ کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٦٩؛حدیث نمبر ٥٤٢٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٤٢٤ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٠؛حدیث نمبر ٥٤٢٥)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔ اشج راوی نے"اِنَّ" کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٠؛حدیث نمبر ٥٤٢٦)
حضرت ابو معاویہ سے مروی ہے کہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٠؛حدیث نمبر ٥٤٢٧)
مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک گھر میں تھا جس میں حضرت مریم کی مورتیاں تھیں حضرت مسروق نے فرمایا کسری کی مورتیاں ہیں۔میں نے کہا نہیں بلکہ یہ حضرت مریم علیہ السلام کی مورتیاں ہیں۔ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو تصویریں بناتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٠؛حدیث نمبر ٥٤٢٨)
حضرت سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں تصویریں بناتا ہوں آپ مجھے اس کے بارے میں فتوی دیں آپ نے فرمایا میرے قریب ہوجاؤ وہ(مزید)قریب ہو گیا حتیٰ کہ آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے آپ نے فرمایا ہر تصویر بنانے والا جہنم میں جاے گا اس نے جو بھی تصویر بنائی ہوگی اس کے بدلے میں ایک جاندار بنایا جائے گا جو اس شخص کو جہنم میں عذاب دے گا اور فرمایا اگرتم نے یہ کام کرنا ہی ہے تو درختوں اور بےجان چیزوں کی تصویریں بناؤ نصر بن علی(راوی)نے اس حدیث کو برقرار رکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٠؛حدیث نمبر ٥٤٢٩)
حضرت نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو وہ فتویٰ دیتے تھے اور یہ نہیں فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حتیٰ کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں مصور ہوں یہ تصویر بناتا ہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا قریب ہوجاؤ،وہ شخص قریب ہوگیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص دنیا میں کوئی تصویر بناے گا اسے قیامت کے دن اس میں روح پھونکنے کا مکلف بنایا جائے گا اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧١؛حدیث نمبر ٥٤٣٠)
حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٤٣٠ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧١؛حدیث نمبر ٥٤٣١)
حضرت ابو زرعہ کہتے ہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مروان کے گھر میں تصویر دیکھیں فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ان سے بڑا ظالم کون ہے جو میری تخلیق کی مثل مخلوق بناتے ہیں تو وہ ایک ذرہ یا جو کا ایک دانہ ہی پیدا کر کے دکھائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧١؛حدیث نمبر ٥٤٣٢)
حضرت ابوزرعہ کہتے ہیں میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ کے ایک گھر میں داخل ہوئے جو سعید یا مروان کے لئے بنایا جارہا تھا پس وہاں ایک مصور کو دیکھا جو گھر میں تصویریں بنا رہا تھا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٤٣٢ کے مثل مروی ہے لیکن اس حدیث میں جو کا دانہ پیدا کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧١؛حدیث نمبر ٥٤٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں مورتیاں یا تصاویر ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؛جلد٣ص١٦٧٢؛حدیث نمبر ٥٤٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(رحمت کے فرشتے)ان مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ؛ترجمہ؛سفر میں گھنٹی اور کتا رکھنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٧٢؛حدیث نمبر ٥٤٣٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ؛جلد٣ص١٦٧٢؛حدیث نمبر ٥٤٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھنٹی شیطان کی بانسری ہے(گانے بجانے کا آلہ مراد ہے) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ؛جلد٣ص١٦٧٢؛حدیث نمبر ٥٤٣٧)
حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد بھیجا حضرت عبد اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا لوگ اپنے سونے کی جگہوں میں تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار نہ چھوڑا جائے یا فرمایا اس ہار کو کاٹ دیا جائے حضرت امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ لوگ نظر کے ڈر سے ہار ڈالتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ قِلَادَةِ الْوَتَرِ فِي رَقَبَةِ الْبَعِيرِ؛جلد٣ص١٦٧٢؛حدیث نمبر ٥٤٣٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ؛ترجمہ؛جانور کے منہ پر مارنے اور منہ کو داغنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٧٣؛حدیث نمبر ٥٤٣٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٤٣٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ؛جلد٣ص١٦٧٣؛حدیث نمبر ٥٤٤٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرے کو داغا گیا تھا تو آپ نے فرمایا اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جس نے اسے داغا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ؛جلد٣ص١٦٧٣؛حدیث نمبر ٥٤٤١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو داغا گیا تھا تو آپ نے اس عمل کو ناپسند فرمایا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تو صرف اس عضو کو داغا ہوں جو چہرے سے بہت دور ہو پھر آپ نے ایک گدھے کو داغنے کا حکم دیا تو اس کی سرین پر(پچھلے حصے)کو داغا گیا تو سب سے پہلے آپ نے ہی(جانور کی)سرین کو داغا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ؛جلد٣ص١٦٧٣؛حدیث نمبر ٥٤٤٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے فرمایا اے انس!اس بچے کا خیال رکھو یہ کوئی چیز کھانے نہ پائے حتیٰ کہ صبح اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانا کہ آپ کوئی چیز چبا کر اسے کھانے کے لئے دیں۔فرماتے ہیں صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ قبیلہ حویتیہ کی (بنی حوتی) چادر اوڑھے ہوے باغ میں تھے اور جو اونٹ فتح مکہ میں حاصل ہوے تھے آپ ان کو داغ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ؛جلد٣ص١٦٧٤؛حدیث نمبر ٥٤٤٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے کہا اس بچے کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تاکہ آپ کوئی چیز چبا کر اس کو کھانے کے لئے دیں فرماتے ہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں تھے اور بکریوں کو داغ رہے تھے حضرت شعبہ کہتے ہیں میرا غالب گمان یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ بکریوں کے کانوں کو داغ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ؛جلد٣ص١٦٧٤؛حدیث نمبر ٥٤٤٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکریوں کے باڑے میں حاضر ہوئے تو آپ بکریوں کو داغ رہے تھے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا آپ ان کے کانوں کو داغ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ؛جلد٣ص١٦٧٤؛حدیث نمبر ٥٤٤٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ؛جلد٣ص١٦٧٤؛حدیث نمبر ٥٤٤٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں داغنے(نشان لگانے)کا آلہ دیکھا اور آپ صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الْآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ، وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ؛جلد٣ص١٦٧٤؛حدیث نمبر ٥٤٤٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا(حضرت عمر بن نافع فرماتے ہیں)میں نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا قزع کیا ہے؟انہوں نے فرمایا بچے کے سر کا بعض حصہ مونڈایا جائے اور بعض حصہ چھوڑ دیا جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْقَزَعِ؛ترجمہ؛سر پر کچھ بال رکھنے اور کچھ کٹانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٤٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے جس میں قزع کی تفسیر کو حضرت عبید اللہ کا قول قرار دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْقَزَعِ؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٤٩)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں اور دونوں راویوں نے اس حدیث کے ساتھ قزع کی تفسیر بھی ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْقَزَعِ؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٥٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْقَزَعِ؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٥١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے لئے راستوں میں بیٹھنا ضروری ہے ہم وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم(راستے میں)بیٹھے بغیر نہ مانو تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا نگاہیں پست رکھنا،تکلیف دہ چیز کو دور کرنا،سلام کا جواب دینا،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٥٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ؛جلد٣ص١٦٧٦؛حدیث نمبر ٥٤٥٣)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیٹی دلہن بنی ہوئی ہے اور اس کو چیچک نکل آئی ہے جس سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا اس کے بالوں کے ساتھ بال ملاکر پیوند کردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛ بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٥؛حدیث نمبر ٥٤٥٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں وکیع اور شعبہ کی روایت میں"فتمرَّط شعرہا" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٦؛حدیث نمبر ٥٤٥٥)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اس کے بال جھڑ گئے ہیں اور اس کا خاوند بالوں کو پسند کرتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا سکتی ہوں۔آپ نے منع فرمادیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٦؛حدیث نمبر ٥٤٥٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی اور وہ بیمار ہوئی جس سے اس کے بال جھڑ گئے ان لوگوں نے بالوں کے ساتھ بالوں کو پیوند کرانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی پر لعنت فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٧؛حدیث نمبر ٥٤٥٧)
ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی پھر وہ لڑکی بیمار پڑ گئی اور اس کے بال جھڑ گئے وہ خاتون رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اس(لڑکی)کا خاوند اس کو بلانے کا قصد کرتا ہے کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ پیوند لگا دوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(بالوں میں)جوڑ لگانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٧؛حدیث نمبر ٥٤٥٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں بھی ہے کہ جوڑ لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٧؛حدیث نمبر ٥٤٥٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی،جوڑ لگوانے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٧؛حدیث نمبر ٥٤٦٠)
امام مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٤٦٠کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٧؛حدیث نمبر ٥٤٦١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں،گدوانے والیوں،بالوں کو نوچنے والیوں اور نوچوانے والیوں خوبصورتی کے لئے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں(اور یوں)اللہ کی خلقت میں تبدیل کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ یہ بات بنو اسد قبیلے کی ایک عورت ام یعقوب کو پہنچی اور وہ قرآن مجید پڑھتی تھی وہ آپ کے پاس حاضر ہوئی اور کہا میرے پاس آپ کی یہ کیسی حدیث پہنچی ہے آپ نے گودنے والیوں گدوانے والیوں،بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں کو کشادگی کرنے والیوں اور اللہ کی خلقت(بناوٹ)کو تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے کیا ہے کہ اس پر لعنت نہ کروں جس پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور وہ لعنت اللہ کی کتاب میں ہے۔ اس خاتون نے کہا میں نے تو قرآن مجید مکمل پڑھا ہے لیکن اس میں یہ لعنت نہیں دیکھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم قرآن مجید پڑھتیں تو ضرور اس میں پالیتیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ "اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں جو احکام دیں ان کو مانو(ان پر عمل کرو)اور جن کاموں سے تمہیں روکیں ان سے باز رہو" اس عورت نے کہا میرا خیال ہے کہ ان ممنوعہ کاموں میں کچھ کام تو آپ کی زوجہ بھی کرتی ہیں انہوں نے فرمایا جاکر دیکھ لو،وہ خاتون حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ کے پاس گئیں اور وہاں کچھ نہ دیکھا پھر آپ کے پاس آئیں اور کہا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر وہ ان ممنوعہ کاموں کو کرتی تو ہم اس سے مجامعت نہ کرتے(اس کے قریب نہ جاتے) (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٨؛حدیث نمبر ٥٤٦٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں سفیان کی روایت میں واشمات اور مستوشمات ہے اور مفضل کی روایت میں واشمات اور موشمات کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٨؛حدیث نمبر ٥٤٦٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں ام یعقوب کے ذکر کو ترک کر کے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ کو ذکر کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٨؛حدیث نمبر ٥٤٦٤)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٤٦٢ کے مثل بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٩؛حدیث نمبر ٥٤٦٥)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو اسی طرح ذکر کرتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اپنے بالوں میں بالوں کی پیوند کاری سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٩؛حدیث نمبر ٥٤٦٦)
حضرت حمید بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جس سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا اس سال انہوں نے منبر پر بیٹھ کر بالوں کا ایک گچھا لیا جوان کے غلام کے ہاتھ میں تھا پھر فرمایا اے اہل مدینہ!تمہارے علما کہاں ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٩؛حدیث نمبر ٥٤٦٧)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں البتہ معمر کی روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل کو عذاب دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٧٩؛حدیث نمبر ٥٤٦٨)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ طیبہ آکر خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھا نکال کر فرمایا مجھے یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہودیوں کے علاوہ کوئی اس قسم کے چٹلے بناتا ہوگا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹی زیبائش قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٨٠؛حدیث نمبر ٥٤٦٩)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں نے برا لباس اختیار کر لیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے۔پھر ایک شخص ایسی لاٹھی لے کر آیا جس کے سرے پر چیتھڑا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سن یہی جھوٹ ہے حضرت قتادہ نے اس کی تفسیر میں کہا یعنی عورتیں کپڑے باندھ کر اپنے بالوں کو لمبے کرتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقِ اللهِ؛جلد٣ص١٦٨٠؛حدیث نمبر ٥٤٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو قسم کے جہنمیوں کو میں نے نہیں دیکھا ایک وہ لوگ جن کے ہاتھ میں گاے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ وہ لوگوں کو ماریں گے اور کچھ عورتیں ہوں گی جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ خود بھی راہ حق سے ہٹی ہوئی ہوں گی اور دوسروں کو بھی ہٹائیں گی۔ان کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوں گے وہ جنت میں نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلَاتِ الْمُمِيلَاتِ؛ترجمہ؛جو عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی اور راہ حق سے متجاوز ہوں گی؛جلد٣ص١٦٨١؛حدیث نمبر ٥٤٧١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں کہتی ہوں کہ میرے خاوند نے مجھے کچھ چیزیں دی ہیں حالانکہ اس نے نہیں دی ہوتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ظاہر کرے کہ میرے پاس فلاں چیز ہے حالانکہ اس کے پاس نہیں ہے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلَاتِ الْمُمِيلَاتِ؛جلد٣ص١٦٨١؛حدیث نمبر ٥٤٧٢)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا میری ایک سوکن ہے اگر میں اس کے سامنے یہ بات ظاہر کروں کہ میرے خاوند نے مجھے فلاں چیز دی ہے حالانکہ اس نے نہیں دی(تو کیا یہ درست ہے)(اسلام سچ کی تعلیم دیتا ہے اور جھوٹ سے منع کرتا ہے لہذا انسان کو وہی کچھ ظاہر کرنا چاہیئے جو اس کے پاس ہے البتہ غیر مسلم کے سامنے فخر و مباہات کا اظہار دین کی برتری کی نیت سے ہو تو کوئی حرج نہیں۔) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کے پاس کوئی چیز نہ ہو اور وہ ظاہر کرے کہ اس کے پاس فلاں چیز ہے وہ جھوٹ کا لباس پہننے والے کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلَاتِ الْمُمِيلَاتِ؛جلد٣ص١٦٨١؛حدیث نمبر ٥٤٧٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب اللِّبَاسِ وَالزینۃ؛بَابُ النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلَاتِ الْمُمِيلَاتِ؛جلد٣ص١٦٨١؛حدیث نمبر ٥٤٧٤)
Muslim Shareef : Kitabul Libase Waz Zinate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ
|
•