
آداب کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بقیع میں ایک شخص نے دوسرے آدمی کو"یا ابا القاسم"کہہ کر آواز دی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ!میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا۔(اس پر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ترجمہ؛آداب کا بیان؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛ترجمہ؛ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ناموں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔اس کی قوم نے کہا تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے وہ شخص خود اپنے بچے کو اپنی پشت پر اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا یا رسول اللہ!میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے لیکن میری قوم کہتی ہے ہم انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔میں قاسم ہوں کیونکہ میں تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا ہم نے کہا جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لو ہم تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی کنیت نہیں رکھنے دیں گے۔ فرماتے ہیں وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور میں اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے لیکن میری قوم نے مجھے یہ کنیت(نام)رکھنے سے منع کیا ہے تاوقتیکہ آپ سے اجازت نہ لے لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ رکھو مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٧٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام کے ساتھ نام رکھو(لیکن)میری کنیت نہ رکھو میں ابو القاسم ہوں کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے اور"ولا تکتنوا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے کہ میں قاسم بنا گیا ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام"محمد"رکھنا چاہا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا انصار نے اچھا کیا میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٢)
امام مسلم نے متعدد اسناد کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا حصین کی روایت میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے بے شک میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمارے ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا ہم نے کہا ہم تمہیں اس کی کنیت ابو القاسم نہیں رکھنے دیں گے اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا اس کا نام عبد الرحمن رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٤؛حدیث نمبر ٥٤٨٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں یہ نہیں کہ ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہونے دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٤؛حدیث نمبر ٥٤٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو حضرت عمرو نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے"سمعت"(میں نے سنا)کے الفاظ نہیں کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٦)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نجران میں آیا تو لوگوں نے مجھ سے سوال کیا انہوں نے کہا تم لوگ"یااخت ھارون"(اے ہارون کی بہن)پڑھتے ہو حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسٰی علیہ السلام سے اتنا عرصہ پہلے گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا وہ لوگ گزشتہ انبیاے کرام علیہم السلام اور صالحین کے ناموں پر نام رکھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٧)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلام کے لئے چار نام رکھنے سے منع فرمایا،افلح،رباح،یسار اور نافع۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛برے نام رکھنے کی کراہت؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٨)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام رباح،یسار،افلح اور نافع نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٩)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ترین کلام چار کلمات ہیں،سبحان اللہ،الحمد للہ، لا الہ الا اللہ،اللہ اکبر۔ ان میں سے جس کلمہ کو پہلے کہو کوئی حرج نہیں اور تم اپنے لڑکے کا نام یسار،رباح،نجیح اور افلح نہ رکھنا کیوں کہ تم پوچھو گے فلاں وہاں ہے وہ نہیں ہوگا تو کہنے والا کہے گا"نہیں" یہ چار ہی کلمات ہیں ان سے زائد مجھ سے نقل نہ کرنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٩٠)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں ان میں شعبہ کی روایت میں صرف لڑکے کا نام رکھنے کا ذکر ہے اور چار کلمات کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یعلی،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان جیسے دوسرے نام رکھنے سے منع فرمایا پھر میں نے دیکھا کہ اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور کچھ نہ فرمایا اس کے بعد آپ کا وصال ہوگیا اور آپ نے ان ناموں سے منع نہ فرمایا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن اسے ترک کر دیا(عمل نہ کیا)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام تبدیل کیا اور فرمایا تم جمیلہ ہو۔ امام احمد بن حنبل نے"اخبرنی"کی جگہ"عن"کا لفظ ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛ترجمہ؛برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلنے کا استحباب؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کا نام عاصیہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جویریہ کا پہلا نام برہ تھا آپ نے اس کا نام تبدیل کرکے جویریہ رکھا آپ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کہا جائے کہ فلاں شخص برہ(نیکی)کے پاس سے نکل گیا کریب کی روایت میں"سمعت ابن عباس"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت زینب کا نام برہ تھا ان سے کہا گیا کہ تم اپنی پارسائی بیان کرتی ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٦)
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرا نام برہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا وہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ام المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا آئیں ان کا نام بھی پہلے برہ تھا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٧)
حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے اور میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے؟انہوں نے عرض کیا ہم اس کا کیا نام رکھیں فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا نام"شہنشاہ"رکھے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔سفیان نے کہا"ملک الاملاک"کا مطلب شہنشاہ ہے اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں نے ابو عمرو سے لفظ"اخنع" کا معنیٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا سب سے زیادہ ذلیل۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ، وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ؛ترجمہ؛" شہنشاہ"نام رکھنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٨٨؛حدیث نمبر ٥٤٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کی ہیں ان میں سے یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض اور خبیث وہ شخص ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلاتا ہے۔اللہ تعالی کے سوا(حقیقی)مالک کوئی نہیں۔ (مسلمانوں کو شروع میں بچوں کے اچھے نام رکھنے چاہیے اور اگر کسی وجہ سے ایسا نام رکھ دیا جائے جو مناسب نہ ہو تو اسے بدل دیا جائے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ، وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ؛جلد٣ص١٦٨٨؛حدیث نمبر ٥٥٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ پیدا ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چادر اوڑھے ہوئے اونٹوں کو روغن مل رہے تھے آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس کھجوریں ہیں?میں نے عرض کیا جی ہاں!چنانچہ میں نے آپ کو کھجوریں پکڑا دیں تو آپ نے ان کو منہ میں ڈال کر چبایا پھر آپ نے بچے کا منہ کھول کر کھجور اس کے منہ میں ڈال دی بچہ اسے چوسنے لگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کھجوروں سے محبت ہے اور آپ نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛ولادت کے وقت بچے کو گھٹی دینا،پیدائش کے دن نام رکھنا عبداللہ اور ابراہیم نام رکھنا نیز دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنا مستحب ہیں؛جلد٣ص١٦٨٩؛حدیث نمبر ٥٥٠١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔حضرت ابو طلحہ کا ایک بیٹا بیمار تھا وہ باہر گئے تو بچہ فوت ہوگیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ واپس آے تو پوچھا میرے بیٹے کا کیا حال ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا وہ پہلے کی نسبت پرسکون ہے انہوں نے ان کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا پھر ام سلیم سے عمل زوجیت کیا جب فارغ ہوے تو ام سلیم نے کہا جاکر بچے دفن کردو جب صبح ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی آپ نے پوچھا کیا تم نے رات کو عمل زوجیت کیا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے دعا مانگی یا اللہ!ان دونوں کو برکت عطا فرما۔ پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا اسے اٹھا کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجی تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو لیا اور پوچھا کیا اس کے ساتھ کوئی چیز ہے حاضرین نے کہا جی ہاں! کچھ کھجوریں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو لے کر چبایا پھر وہ کھجوریں اس بچے کے منہ میں ڈال دیں اور ان کی گھٹی دی آپ نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٨٩؛حدیث نمبر ٥٥٠٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٣)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا میں اس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا تو آپ نے اس کا نام ابراهيم رکھا اور اسے کھجور کی گھٹی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٤)
حضرت عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی تو اس وقت وہ حاملہ تھیں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے وہ قبا میں پہنچیں تو حضرت عبد اللہ پیدا ہوئے وہ اس بچے کو گھٹی دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بچے کو لیا اور اپنی گود میں رکھ دیا پھر کھجوریں منگوائیں۔راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم کھجوریں ملنے سے پہلے کچھ دیر تلاش کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو چبا کر اس بچے کے منہ میں لعاب ڈال دیا تو اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک پہنچا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے پر ہاتھ پھیرا،اس کے حق میں دعا کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب حضرت عبداللہ سات یا آٹھ سال کے ہوے تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کے دست حق پرست پر بیعت کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھ کر مسکراے پھر ان کو بیعت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٥)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ مکہ میں حاملہ تھیں اور حضرت عبد اللہ بن زبیر ان کے پیٹ میں تھے حضرت اسماء فرماتی ہیں جب میں مکہ مکرمہ سے نکلی تو میرے(حمل کے)دن پورے ہوچکے تھے۔ میں مدینہ طیبہ میں آئی اور قباء میں اتری تو بچے کی پیدائش ہوئی پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے بچے کو گود میں لیا آپ نے کھجوریں منگوائیں اور ان کو چبا کر لعاب مبارک بچے کے منہ میں ڈالا تو ان کے پیٹ میں جو چیز سب سے پہلے داخل ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا پھر آپ نے ان کھجور کی گھٹی دی اس کے بعد ان کے لئے دعا کی اور برکت کی دعا دی وہ پہلے بچے تھے(جو ہجرت کے بعد)اسلام میں پیدا ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٦)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٠٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کو برکت کی دعا دیتے اور گھٹی دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم(حضرت)عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے آپ نے ان کو گھٹی دی پھر ہم نے کھجور تلاش کی اور ہمیں اس کی تلاش میں دشواری ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٩)
حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ران پر رکھا اور ابو اسید بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کسی کام میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابو اسید نے اپنے بیٹے کو اٹھانے کا حکم دیا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا بچہ کہاں ہے، حضرت اسید نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے اس کو اٹھا لیا تھا آپ نے فرمایا اس کا نام کیا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کا نام فلاں ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے پھر آپ نے اس کا منذر رکھ دیا۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو گھٹی دلانے کے لئے لاے اور آپ کسی حیل و حجت کے بغیر ان کو گھٹی دیتے صحابہ کرام یہ بات جانتے تھے کہ جس بچے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں گے اسے برکات حاصل ہوں گے اس لیے بچوں کو بزرگان دین کے پاس لے جانا اور گھٹی یا دم وغیرہ کے ذریعے برکات حاصل کرنا کوئی نیا کام نہیں صحابہ کرام کی سنت ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٢؛حدیث نمبر ٥٥١٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اچھے اخلاق والے تھے اور میرا ایک بھائی تھا جس کو ابو عمیر کہا جاتا تھا۔ (راوی کہتا ہے)میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ اس وقت(دودھ چھوڑ کر)ٹھوس غزا کھانے لگا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اسے دیکھ کر فرماتے اے ابو عمیر!نُغَیر(پرندے کا نام)نے کیا کیا وہ بچہ اس پرندے سے کھیلا کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٢؛حدیث نمبر ٥٥١١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا"اے بیٹے!" (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛کسی اور کے بیٹے کو بطور شفقت بیٹا کہنے کا جواز؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٢)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جس قدر سوال میں نے کئے ہیں کسی دوسرے نے نہیں کئے تو آپ نے فرمایا اے میرے بیٹے!تمہیں اس (دجال)سے کچھ ضرر نہیں ہوگا۔ میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہر اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے آپ نے فرمایا وہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں ان میں یزید کی روایت کے سوا کسی روایت میں یہ نہیں کہ آپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بیٹا فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں مدینہ طیبہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ خوفزدہ اور سہمے ہوئے آئے ہم نے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟انہوں نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا تھا میں آپ کے دروازے پر آیا اور تین مرتبہ سلام کیا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا میں واپس چلا گیا انہوں نے فرمایا تم کیوں نہیں آے؟میں نے کہا میں آیا اور میں نے آپ کے دروازے پر(کھڑے ہوکر)تین بار سلام کیا لیکن مجھے کوئی جواب نہ دیا گیا چنانچہ میں واپس چلا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک تین بار اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ واپس چلا جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر کوئی گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کے ساتھ وہ شخص جائے گا جو سب سے چھوٹا ہو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا میں سب سے چھوٹا ہوں فرمایا اچھا تم جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛ترجمہ؛اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٥)
امام مسلم ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں آئے حتیٰ کہ کھڑے ہوگئے انہوں نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم میں سے کسی ایک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اجازت طلب کرنا تین بار ہے اگر تمہیں اجازت دی جائے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا ہوا انہوں نے فرمایا میں نے کل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی چنانچہ میں واپس چلا گیا پھر آج ان کے پاس آیا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں کل حاضر ہوا تھا پس میں نے تین بار سلام کیا اور(جواب نہ آنے پر)واپس چلا گیا۔ انہوں نے فرمایا ہم نے تمہارے سلام کی آواز سنی تھی لیکن اس وقت ہم کسی کام میں مشغول تھے کاش تم مسلسل اجازت طلب کرتے رہتے حتیٰ کہ تمہیں اجازت دی جاتی۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اتنی بار ہی اجازت طلب کی جتنی بار اجازت طلب کرنے کے بارے میں،میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہاری پیٹھ پر یا پیٹ پر سزا دوں گا ورنہ تمہیں اس حدیث پر گواہ پیش کرنا ہوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹا جائے گا اے ابو سعید!اٹھو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اٹھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ ایک بار ہوئی پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ دوبار ہوئی پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تین بار ہوئی۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیج کر ان کو واپس بلایا اور فرمایا اس سلسلے میں تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث یاد ہے تو پیش کرو ورنہ میں تمہیں عبرتناک سزا دوں گا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اجازت تین بار طلب کرنا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگ ہنسنے لگے میں نے کہا تمہارے پاس تمہارا بھائی مصیبت میں گرفتار ہوکر آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو میں نے کہا چلیے میں اس مصیبت میں تمہارا ساتھی ہوں پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا یہ حضرت ابو سعید ہیں(جو اس حدیث کے گواہ ہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥١٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥١٩)
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اندر آنے کی تین بار اجازت طلب کی تو گویا ان کو مشغول پایا اور واپس چلے گئے(اس کے بعد)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے عبد اللہ بن قیس کی آواز سنی ان کو آنے کی اجازت دو حضرت ابو موسیٰ(حضرت عبد اللہ بن قیس آپ کا نام ہے)کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا واپس کیوں لوٹ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا ہمیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ قائم کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے انہوں نے کہا تمہارے اس موقف پر ہم میں سے چھوٹی عمر کا ہی گواہی دے سکتا ہے چنانچہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اٹھےاور جاکر کہا ہمیں اس بات کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مخفی رہا بازار میں سودا خریداری نے مجھے اس سے مشغول رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥٢٠)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ نہیں کہ بازار میں سودا کی خریداری نے مجھے اس سے مشغول رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٦؛حدیث نمبر ٥٥٢١)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا السلام علیکم یہ عبد اللہ بن قیس حاضر ہے انہوں نے جواب نہ دیا انہوں نے(پھر کہا)السلام علیکم یہ عبد اللہ بن قیس حاضر ہے السلام علیکم یہ اشعری ہے۔اس کے بعد واپس چلے گئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کو میرے پاس لاؤ وہ حاضر ہوئے تو فرمایا اے ابو موسیٰ!تمہیں کس بات نے واپس کیا ہم مشغول تھے۔انہوں نے کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اجازت تین بار طلب کی جائے اگر تمہیں اجازت دی جائے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ لاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ چلے گئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر حضرت ابو موسیٰ کو گواہ مل گیا تو تم شام کے وقت منبر کے پاس پاؤ گے اور اگر انہیں گواہ نہ ملا تو تم ان کو نہیں پاؤ گے۔جب شام کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت ابو موسیٰ کو موجود پایا فرمایا اے ابو موسیٰ کیا کہتے ہو کیا تم نے گواہ پالیا انہوں نے کہا جی ہاں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں فرمایا وہ نیک آدمی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو الطفیل(حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت)یہ کیا کہ رہے ہیں انہوں نے فرمایا اے ابن خطاب!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے یہی بات فرمائی ہے آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے لئے عذاب نہ بنیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا سبحان اللہ!میں نے تو ایک حدیث سنی اور اس کی تحقیق کرنا مناسب سمجھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٦؛حدیث نمبر ٥٥٢٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابو المنذر!کیا تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟انہوں نے کہا جی ہاں اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ!آپ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے لئے وبال نہ بنیں۔اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں نے ایک حدیث سنی اور اس کی تحقیق کو ضروری سمجھا،مذکور نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آواز دی آپ نے پوچھا کون ہے؟میں نے کہا"میں ہوں"فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے"میں،میں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛ترجمہ؛اجازت طلب کرنے والے کا"کون"ہے کے جواب میں"میں ہوں"کہنا ناپسند ہے؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کون ہے؟میں نے کہا میں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"میں،"میں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٥)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے ان احادیث کی تین سندیں بیان کی ہیں ان روایات میں ہے کہ آپ"میں ہوں"کہنے کو ناپسند فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٦)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا اور آپ کے پاس ایک آلہ تھا جس سے سر کھجا رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا اگر مجھے علم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔ (پھر آپ نے فرمایا)اجازت لینے کا حکم دیکھنے ہی کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛ترجمہ؛اجنبی کے مکان میں جھانکنے کی مذمت؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٧)
حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ(جھری)میں سے جھانک رہا تھا اور آپ کے ہاتھ میں کنگھا تھا جس سے سر انور کو کنگھی کر رہے تھے آپ نے اس شخص سے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم دیکھ رہے تو میں اس کو تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم نظر کی وجہ سے ہی تو دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بواسطہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٥٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے(دروازے کے)سوراخ سے جھانکا تو آپ ایک تیر یا کئی تیر لے کر اس کی طرف اٹھے میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آنکھوں میں تیر چبھونے کی تدبیر کر رہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں کو جھانکتے ہیں تو ان کے لئے جائز ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص بلااجازت تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو کہ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (ان احادیث میں کسی کے گھر میں جھانکنے کی برائی اور اس کی شدت کا بیان ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٢)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے مجھے نظر ہٹانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ؛ترجمہ؛اچانک نگاہ پڑ جانے کا حکم؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ؛جلد٣ص١٧٠٠؛حدیث نمبر ٥٥٣٤)
Muslim Shareef : Kitabul Adaabe
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْآدَابِ
|
•