
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طہارت ایمان کا نصف ہے اور(کلمہ)الحمد اللہ میزان کو بھر دےگا۔سبحان اللہ اور الحمد اللہ(دونوں)بھر دیں گے یا فرمایا آسمان وزمین کے درمیان کو بھر دیں گے۔نماز نور ہے،صدقہ برہان(دلیل)ہے۔صبر روشنی اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ہر نفس اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا سوداکرتا ہے پس وہ اسے آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا اسے ہلاک کرتا ہے۔(جو شخص ایمان قبول کرتا ہے اسکے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسی طرح وضو سے بھی گناہ صغیرہ جھڑ جاتے ہیں نیز ایمان تصدیق قلبی ہے اور ظاہری اطاعت اسکا اثر ہے وہ بھی ایمان کا حصہ ہے اور وضو نماز کے لئے ضروری ہے جبکہ نماز ایمان کی علامت ہے نیز سبحان اللہ وغیرہ کلمات کا پڑھنا نامہ اعمال میں نیکیوں کے اضافہ کا باعث ہے۔)مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ؛ترجمہ؛وضو کی فضیلت؛جلد١ص ٢٠٣؛حدیث نمبر٤٤٢)
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر،حضرت ابن عامر رضی اللہ عنہ کی عیادت کےلیے تشریف لے گئے اور وہ بیمار تھے۔انہوں نے فرمایا اے ابن عمر!کیا آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے؟انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا طہارت کے بغیر نماز اور خیانت کے مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا اورتم تو بصرہ پر مقرر تھے۔(مطلب یہ ہے کہ جو شخص حکمرانی کرتا ہے اسکا قومی دولت سے اپنا دامن بچانا بہت مشکل ہے ہاں اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوتو محفوظ رہ سکتا ہے)(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کے لئے طہارت فرض ہے؛جلد١ص٢٠٤؛ حدیث نمبر ٤٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٤٣کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٠٤؛حدیث نمبر ٤٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کی نماز قبول نہیں ہوتی جب وہ بےوضوہوحتی کہ وضو کر لے۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛ بَابُ وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٠٤؛حدیث نمبر٤٤٥)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت حمران نے بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کےلیے پانی طلب فرمایا۔پھر وضو فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا۔پھر کلی کی۔اسکے بعد ناک جھاڑا پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔پھر دائیں ہاتھ کو کہنیوں تک(کہنیوں سمیت)تین مرتبہ دھویا۔پھر بائیں ہاتھ کو اسی طرح دھویا پھر سر کا مسح کیا۔پھر اسکے بعد دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا۔پھر اسی طرح بائیں پاؤں کو دھویا پھر فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اسی طرح وضو کیا جیسے میں نے کیا ہے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر کھڑا ہوا اور دو رکعتیں ادا کیں ان میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی(دل میں سوچ بچار نہ کی)تو اسکے تمام سابقہ گناہ بخش دیۓ جائیں گے۔ابن شہاب فرماتے ہیں ہمارے علماء فرماتے تھے کہ نماز کے لئے جو شخص وضو کرتا ہے تو یہ سب سے کامل وضو ہے۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ وَكَمَالِهِ؛ترجمہ؛وضو کا طریقہ اور کامل وضو؛جلد١ص ٢٠٤؛حدیث نمبر۴۴٦)
حضرت حمران(حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام)روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے ایک برتن منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر اپنے دائیں ہاتھ کو برتن میں ڈالا اور کلی کی نیز ناک کو جھاڑا پھر اپنے چہرے تین مرتبہ دھویا۔ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا۔پھر سر کا مسح کیا اسکے بعد تین مرتبہ پاؤں کو دھویا۔پھر فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور دل کو تصورات سے محفوظ رکھا تو اس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ وَكَمَالِهِ؛جلد١ص٢٠٥؛حدیث نمبر٤٤٧)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت حمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا اور آپ مسجد کے صحن میں تھے کہ عصر کے وقت آپکے پاس مؤذن آیا تو آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔پھر وضو کیا اور فرمایا اللہ کی قسم!میں تم سے ایک حدیث ضرور بیان کروں گا۔اگر قرآن مجید کی ایک آیت نہ ہوتی(آیت آئندہ حدیث میں ہے)تو میں تم سے بیان نہ کرتا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی مسلمان شخص اچھی طرح وضو کرکے نماز پڑھے تو اس وضو سے بعد والی نماز تک کے تمام(صغیرہ)گناہ بخش دیۓ جاتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛ترجمہ؛وضو اور اسکے بعد نماز کی فضیلت؛ جلد١ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٤٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٤٨کی مثل مروی ہے لیکن اس میں فرض نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٦؛حدیث نمبر٤٤٩)
حضرت حمران اسی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کرلیاتو فرمایا اللہ کی قسم!میں تم سے ایک حدیث ضرور بیان کروں گا اللہ کی قسم اگر اللہ کی کتاب(قرآن مجید)کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تم سے بیان نہ کرتا۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی شخص اچھی طرح وضو کر کے اس کے بعد نماز پڑھے تو اس وضو اور اس کے بعد والی نماز کے درمیان کے(صغیرہ)گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔حضرت عروہ فرماتے ہیں وہ آیت یہ ہے۔: {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} [البقرة: ١٥٩]- إِلَى قَوْلِهِ - {اللَّاعِنُونَ} [البقرة: ١٥٩]"بےشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکےان پر اللہ کی لعنت ہےاور لعنت کرنے والوں کی لعنت"(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٦؛حدیث نمبر ٤٥٠)
حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو آپ نے وضو کے لیے پانی طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے جو مسلمان شخص فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرکے نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھے تو یہ نماز گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔جب تک کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو اور زندگی بھر یہی معاملہ رہتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٦؛حدیث نمبر٤٥١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت حمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگواکر وضو کیا۔پھر فرمایا لوگ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کرتے ہیں۔مجھے معلوم نہیں انکی کیا کیفیت ہے۔البتہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ نے وضو فرمایا جیسے میں نے وضو کیا ہے۔پھر ارشاد فرمایا جس نے اس طرح وضو کیا اسکے تمام گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور اسکی نماز اور مسجد کی طرف جانا زائد ثواب کا باعث ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٧؛حدیث نمبر ٤٥٢)
حضرت ابوانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مقاعد(وہ جگہ جو وضو کرنے اور بیٹھنے کے لئے بنائی گئی تھی)کے پاس وضو فرمایا اور پھر فرمایا کیا میں تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤں۔اس کے بعد آپ نے وضو کیا اور تین تین بار اعضاء کو دھویا۔اسی میں یہ بھی اضافہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس کئی صحابہ کرام تشریف فرماتھے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٧؛حدیث نمبر ٤٥٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت حمران بن ابان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں حضرت عثمان کے لیے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور وہ اس پانی سے غسل بھی کرتے تھے اور جب ہم اپنی نماز سے فارغ ہوئے،حضرت مسعر فرماتے ہیں،میرا خیال ہے یہ عصر کی نماز تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کرتے ہوئے فرمایا۔مجھے معلوم نہیں میں تم سے کوئی بات بیان کروں یا خاموش رہوں تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر بھلائی کی بات ہے تو بیان کیجئے اور اگر اسکے علاوہ ہے تو اللہ اور اسکارسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا جو مسلمان بھی مکمل طہارت حاصل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کی ہے۔پھر وہ یہ پانچ نمازیں پڑھتا ہے تو یہ نمازیں درمیان کے(صغیرہ)گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٧؛حدیث نمبر٤٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مکمل وضو کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو فرض نمازیں درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٨؛حدیث نمبر٤٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن آپ نے نہایت اچھے طریقے سے وضو کیا۔پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اچھی طرح وضو کیا۔پھر فرمایا جس نے اس طرح وضو کیا۔پھر مسجد کی طرف گیا اور مسجد کی طرف اسے صرف نماز لے گئی تو اسکے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٨؛حدیث نمبر٤٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے نماز کے لئے کامل وضو کیا پھر نماز کے لئے گیا اور لوگوں کے ہمراہ نماز پڑھی یا فرمایا مسجد میں نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ؛جلد١ص٢٠٨؛حدیث نمبر٤٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے لے کر جمعہ تک درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہے۔جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْجُمُعُةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانِ إِلَى رَمَضَانَ مُكفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ؛جلد١ص٢٠٩؛حدیث نمبر ٤٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْجُمُعُةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانِ إِلَى رَمَضَانَ مُكفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ؛جلد١ص٢٠٩؛حدیث نمبر٤٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے پانچ نمازیں،اور؛ جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہے جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْجُمُعُةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانِ إِلَى رَمَضَانَ مُكفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ؛جلد١ص٢٠٩؛حدیث نمبر٤٦٠)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہمارے اوپر اونٹوں کو چرانے کی ذمہ داری تھی۔میری باری آئی تو میں شام کے وقت اونٹوں کو واپس لا رہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہیں اور لوگوں سے کچھ بیان کر رہے ہیں۔میں نے آپکا یہ قول سنا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں پڑھے اور قبلہ رخ ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔فرماتے ہیں میں نے کہا یہ کتنی عمدہ بات ہے۔اتنے میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک شخص کہ رہا ہے اس سے پہلے والی بات نہایت عمدہ ہے۔میں نے دیکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ تم ابھی آئے ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے(پہلے)فرمایا۔تم میں سے جو شخص کامل وضو کرے پھر: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ پڑھے اسکے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ان میں سے جس(دروازے)سے چاہے داخل ہو۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الذِّكْرِ الْمُسْتَحَبِّ عَقِبَ الْوُضُوءِ؛ترجمہ؛وضو کے بعد مستحب ذکر؛جلد١ص٢٠٩؛حدیث نمبر ٤٦١)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤١٦کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ جس نے وضو کیا اور یوں پڑھا"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الذِّكْرِ الْمُسْتَحَبِّ عَقِبَ الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٤٦٢)
حضرت یحییٰ بن عمارہ،حضرت عبد اللہ بن زید عاصم انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں ان(حضرت عبداللہ بن زید)سے عرض کیا گیا کہ ہمارے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کریں تو انہوں نے ایک برتن منگوایا۔پھر اس سے اپنے ہاتھوں پر(پانی)ڈال کر انکو تین بار دھویا پھر اپنا ہاتھ اس(برتن)میں ڈال کر اس سے(پانی) نکالا(کر)کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ ایک ہی چلو پانی سے تین بار کیا۔(یہ بیان جواز کے لئے ہے کہ اس طرح بھی جائز ہے ورنہ احناف کے نزدیک مستحب ہے کہ کلی کے لیے الگ تین مرتبہ پانی لیا جائے اور ناک میں چڑھانے کے لیے الگ تین مرتبہ لیا جائے)پھر اپنا ہاتھ اس(برتن)میں ڈال کر(پانی)نکالا تو چہرے کو تین بار دھویا۔پھر اپنا ہاتھ داخل کیا تو(پانی)نکال کر ہاتھوں کو کہنیوں تک(کہنیوں سمیت)دودو بار دھویا پھر ہاتھ داخل کیا پانی نکالا اور سر کا مسح کیا۔اپنے ہاتھ کو آگے لے گئے اور پیچھے لاۓپھر پاؤں کو ٹخنوں تک(ٹخنوں سمیت)دھویا پھر فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح تھا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛وضو کا طریقہ؛جلد١ص٢١٠؛حدیث نمبر٤٦٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٣کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ٹخنوں کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٢١١؛حدیث نمبر ٤٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں فرمایا کہ تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا لیکن ایک چلو کا ذکر نہیں کیا۔نیز"ہاتھوں کو آگے لے گئے اور پیچھے لے گئے"کےالفاظ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ سر کے اگلے حصے سے(مسح)شروع کیا پھر ان دونوں کو پچھلے حصے کی طرف لے گئے۔پھر انکو اسی مقام کی طرف واپس لاۓجہاں سے آغاز کیا تھا اور پاؤں کو دھویا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ جلد١ص٢١١؛حدیث نمبر؛٤٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٥کی مثل مروی ہے۔اس میں تمام حدیث ذکر کی گئی اور اس میں یہ بھی ہے کہ تین چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ بھی فرمایا کہ آپ نے سر کا مسح کیا تو ایک مرتبہ آگے کی طرف لے گئے اور ایک مرتبہ پیچھے کی طرف لاۓ۔حضرت بَہْز(راوی)فرماتے ہیں۔یہ حدیث مجھے حضرت وُہَیْب نے لکھائی اور حضرت وہیب فرماتے ہیں۔عمروبن یحییٰ نے مجھے دو مرتبہ یہ حدیث لکھوائی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٢١١؛حدیث نمبر ٤٦٦)
حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو فرمایا پھر ناک کو جھاڑا پھر چہرہ انور کو تین بار دھویا اور دائیں ہاتھ کو تین بار پھر دوسرے ہاتھ کو تین بار دھویا اور سر کا مسح کیا لیکن ہاتھوں سے بچے ہوئے پانی کے ساتھ نہیں کیا اور پیروں کو دھویا حتیٰ کہ انکو صاف کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٢١١؛حدیث نمبر٤٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی استنجاکیلۓ پتھر استعمال کرے تو طاق پتھر استعمال کرے اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرے،(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛ترجمہ؛ناک جھاڑنا اور استنجا میں طاق بار کا خیال رکھنا؛جلد١ص٢١٢؛حدیث نمبر٤٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو ناک کے نتھنوں میں پانی چڑھاۓپھر اسے جھاڑکر صاف کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛جلد١ص٢١٢؛حدیث نمبر٤٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے تو وہ ناک جھاڑےاور جو استنجا کرے تو طاق بار کرے(طاق عدد میں پتھر استعمال کرے)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛جلد١ص٢١٢؛حدیث نمبر٤٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٧٠کی مثل روایت کرتےہیں۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛جلد١ص٢١٢؛حدیث نمبر ٤٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو ناک میں تین بار پانی ڈال کر جھاڑےکیوں کہ شیطان اسکے نتھنوں پر رات گزارتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛جلد١ص٢١٢؛حدیث نمبر ٤٧٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک استنجا کرے تو طاق بار کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الْإِيتَارِ فِي الَاسْتِنْثَارِ وَالَاسْتِجْمَارِ؛جلد١ص٢١٣؛حدیث نمبر٤٧٣)
حضرت سالم جو حضرت شداد کے غلام ہیں۔فرماتے ہیں جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا وصال ہواتو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف لائے تو انہوں نے ام المومنین کے پاس وضو کیا۔ام المومنین نے فرمایا اے عبدالرحمن!وضو مکمل طور پر کرو۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا(خشک)ایڑیوں کے لیے جہنم سے خرابی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛ترجمہ؛پاؤں کو مکمل دھونا واجب ہے؛ جلد١ص٢١٣؛حدیث نمبر٤٧٤)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ان سے حدیث نمبر ٤٧٤کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛؛-بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٣;حدیث نمبر ٤٧٥)
حضرت سالم مولیٰ مہری فرماتے ہیں میں اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں چلے جب ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک کے دروازے پر پہنچے تو انہوں نے ام المومنین کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث،حدیث نمبر ٤٧٤کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٣؛حدیث نمبر٤٧٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت سالم سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔پھر انہوں نے ام المومنین کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث،حدیث نمبر ٤٧٦کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر ٤٧٧)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف لوٹے حتیٰ کہ جب ہم راستے میں ایک پانی(کے چشمے)پر پہنچے تو لوگوں نے عصر(کی نماز)کے لئے جلدی کرتے ہوئے وضو کیا اور وہ لوگ جلدی میں تھے ہم ان تک پہنچے تو انکی ایڑیاں چمک رہی تھیں ان تک پانی نہیں پہنچا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایڑیاں کے لئے آگ سے خرابی ہے وضو مکمل کرو۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر٤٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٧٨کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر ٤٧٩)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے۔آپ تشریف لائے تو عصر کا وقت ہوچکا تھا۔ہم اپنے پاؤں پر پانی ملنے لگے تو آپ نے آواز دی کہ ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر٤٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی ایڑیوں کو نہیں دھویا تھا تو آپ نے فرمایا ایڑیوں کے لیے آگ سے خرابی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطھارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر ٤٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک جماعت کو دیکھا وہ ایک برتن سے وضو کر رہے تھے تو فرمایا وضو مکمل کرو۔میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا پنڈلیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٤؛حدیث نمبر ٤٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پنڈلیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔(ان مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ وضو میں پاؤں کا دھونا فرض ہے مسح نہیں نیز اگر وضو مکمل نہ ہو اور کوئی عضو خشک رہ جائے تو فرض کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے وضو نہ ہوگا لہذا نماز بھی نہ ہوگی اور یہ کوتاہی جہنم میں سزا کا باعث بنے گی اللہ تعالیٰ سب کو بچاۓ۔آمین)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا؛جلد١ص٢١٥؛حدیث نمبر٤٨٣)
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ ایک شخص نے وضو کیا تو پاؤں سے ایک ناخن کے برابر جگہ چھوڑ دی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کر وہ واپس گیا پھر(مکمل وضو کے بعد)نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ وُجُوبِ اسْتِيعَابِ جَمِيعِ أَجْزَاءِ مَحَلِّ الطَّهَارَةِ ؛جلد١ص٢١٥؛حدیث نمبر ٤٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان یافرمایامومن بندہ وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ تمام خطائیں پانی کے ساتھ ہی اتر جاتی ہے جو آنکھوں سے دیکھنے کے ذریعے کی ہوں یا فرمایا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتی ہے اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اسکے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو ہاتھوں سے پکڑنے کے ذریعے کیے پانی کے ساتھ یا(فرمایا)پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خُرُوجِ الْخَطَايَا مَعَ مَاءِ الْوُضُوءِ؛ترجمہ؛وضو کے پانی کے ساتھ ہی گناہ جھڑ جاتے ہیں؛جلد١ص٢١٥؛حدیث نمبر ٤٨٥)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اچھی طرح وضوکیا تو اسکے جسم سے اسکی خطائیں نکل جاتی ہیں حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ خُرُوجِ الْخَطَايَا مَعَ مَاءِ الْوُضُوءِ؛جلد١ص؛٢١٦؛حدیث نمبر٤٨٦)
حضرت نعیم بن عبداللہ المجمر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ وضو کر رہے تھے تو آپ نے اپنے چہرے کو اچھی طرح دھویا پھر دائیں ہاتھ کو دھویا حتیٰ کہ بازو تک پہنچ گئے پھر بائیں ہاتھ کو دھویا حتیٰ کہ بازو کو دھویا پھر سر کا مسح کیا۔اسکے بعد دائیں پاؤں کو دھویا حتیٰ کہ پنڈلی تک پہنچ گئے پھر بائیں پاؤں کو دھویا حتیٰ کہ پنڈلی تک پہنچ گئے۔پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کامل وضو کی وجہ سے قیامت کے دن تمہارے اعضاء چمکتے ہوں گے۔پس جو شخص کر سکتا ہے تو وہ اپنی چمک کو زیادہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛وضو کے ذریعے اعضاء کو زیادہ روشن کرنا؛جلد١ص٢١٦؛ حدیث نمبر٤٨٧)
حضرت نعیم بن عبداللہ فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا حتیٰ کہ قریب تھا کہ کندھوں تک پہنچ جائیں پھر پاؤں کو دھویا حتیٰ کہ پنڈلیوں تک لے گئے۔پھر فرمایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت اس طرح آئےگی کہ انکے اعضاء وضو کے اثر سے چمکتے ہوں گے۔پس تم میں سے جو شخص طاقت رکھتا ہے کہ اپنی(اعضاء کی)چمک کو بڑھاۓ تو وہ ایسا کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٦؛حدیث نمبر ٤٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا حوض عدن کے ایلہ مقام سے بھی زیادہ مسافت کا ہے۔وہ(یعنی اسکا پانی)برف سے زیادہ سفید اور دودھ ملے ہوئے شہدسے زیادہ میٹھا ہے۔اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں۔میں لوگوں کو اس سے روکوں گاجس طرح کوئی شخص اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!کیا اس دن آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا ہاں تمہارے اندر وہ علامت ہوگی جو کسی امت میں نہیں ہوگی۔تم میرے پاس یوں آؤگےکہ وضو کے اثر سے(تمہارے اجزاء وضو)چمک رہے ہوگے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٧؛حدیث نمبر ٤٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں(دوسرے)لوگوں کو وہاں سے اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور کرتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا ہاں تمہاری علامت ہوگی جو کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوگی۔تم میرے پاس اس طرح آؤ گے کہ وضو سے تمہارے اعضاء چمک رہے ہوں گے اور ایک گروہ کو مجھ سے روکا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچیں گے۔میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں تو فرشتہ مجھے جواب دیتے ہوئے کہیں گے آپکو معلوم ہے ان لوگوں نے آپکے بعد کیا کیا(یعنی مرتد ہو گئے)(امام نووی فرماتے ہیں ایک روایت میں ہے انہوں نے آپکے بعد دین کو بدل دیا۔ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ ان سے مرتد اور منافق مراد ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے انکے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہر ایک انکو پہچان لے گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو بدرجہ اولی پہچان لیں گے آپ کا سوال بطور تعجب ہوگا کہ کیا یہ میرے صحابی ہیں؟اس حدیث پاک سے بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب عطائی کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطاء کیا گیا ہوتا تو آپ محشر کے دن پہچان لیتے کہ یہ لوگ کون ہیں کیسے ہیں؟ ہم اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم غیب عطائی ثابت ہے کیونکہ محشر میں کیا ہوگا کیسے کیسے لوگ آئیں گے یہ سب غیب ہے اور اسکا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تبھی تو بتا رہے ہیں کہ ایسے ایسے لوگ آئیں گے اور پھر یہ یہ معاملات پیش آئیں گے تو یہ ساری باتیں غیب سے متعلق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا ہی میں بتا رہے ہیں تو یہ علم غیب عطائی کی دلیل ہے ناکہ نفی کی دلیل ہے )(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٧؛حدیث نمبر ٤٩٠)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا حوض عدن سے ایلہ تک کی مسافت سے بھی بڑا ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔میں اس سے(دوسرے)لوگوں کو اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی شخص کسی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سےدور کرتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟فرمایا ہاں تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ وضو کے آثار سے تمہارے چہرے چمک رہے ہوں گے۔یہ علامت تمہارے علاوہ کسی کی نہیں ہوگی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٧؛حدیث نمبر٤٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا"السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ"(اے مؤمنين کے گھر والوں تم پر سلامتی ہو ان شاءاللہ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں)میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم آپکے بھائی نہیں ہیں؟آپ نے فرمایا تم میرے اصحاب(ساتھی)ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔انہوں نے عرض کیا آپ اپنی امت کےان لوگوں کو کیسے پہچانیں گےجو ابھی تک نہیں آئے۔آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ اگر کسی شخص کے گھوڑے سفید چہروں اور سفید ٹانگوں والے ہوں اور وہ سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ!(ضرور پہچانے گا)آپ نے فرمایا وہ اس طرح آئیں گے کہ انکے چہرے وضو کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے اور سفید ہوں گے اور میں حوض پر ان سے پہلے موجود ہوں گا۔سنو!کچھ لوگوں کو میرے حوض سے دور کیا جائے گا جس طرح کسی کا بھٹکا ہوا اونٹ دور کیا جاتا ہے۔انکو آواز دونگا سنو!آگے آؤ۔کہا جائے گا انہوں نے آپ کے بعد(دین کو)بدل دیا تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ دور ہوجاؤ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٨؛حدیث نمبر ٤٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا اے مؤمنو!ان شاءاللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں اسکے بعد حدیث نمبر ٤٩٢کی مثل ہے۔کچھ الفاظ کا فرق ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٨؛حدیث نمبر ٤٩٣)
حضرت ابوحازم فرماتے ہیں۔میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے(کھڑا) تھا اور وہ نماز کے لئے وضو کر رہے تھے وہ اپنے ہاتھ کو کھینچتے حتیٰ کہ بغلوں تک پہنچاتے۔میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ!یہ کیسا وضو ہے؟آپ نے فرمایا اے بنو فروخ(چوزے کے بچے)تم کہاں ہو اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں یہ وضو نہ کرتا میں نے اپنے خلیل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)سے سنا آپ نے فرمایا مؤمن کا زیور(قیامت کے دن)وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو(کا پانی) پہنچے گا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابٌ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ؛جلد١ص٢١٩؛حدیث نمبر٤٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس بات پر تمہاری رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور اسکے سبب سے درجات بلند کرتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول!کیوں نہیں آپ نے فرمایا جب وضو کرنا مشکل ہو اس وقت کامل وضو کرنا،مساجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا(دور جانا یا زیادہ جانا)اور نماز کے بعد نماز کا منتظر رہنا(اور فرمایا)پس یہ رباط ہے(عبادت کی پابندی ہے)۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ؛ترجمہ؛تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنا؛جلد١ص٢١٩؛حدیث نمبر٤٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٩٥کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں رباط کا ذکر نہیں ہے البتہ ایک سند میں"یہ رباط "دومرتبہ ہے؛(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ؛جلد١ص٢١٩؛حدیث نمبر ٤٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اگر میں مومنوں پر باعث مشقت نہ سمجھتا ایک روایت میں ہے اپنی امت پر مشقت کا باعث نہ سمجھتا تو انکو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ السِّوَاكِ؛مسواک کرنا؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر ٤٩٧)
حضرت شریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لانے کے بعد کس کام سے ابتدا کرتے تھے۔فرمایا(پہلے)مسواک کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب السواک؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر ٤٩٨)
حضرت شریح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ اقدس میں داخل ہوتے تو مسواک کے ساتھ ابتدا کرتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ السِّوَاكِ؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر ٤٩٩)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو(دیکھا کہ)مسواک کا کنارہ آپ کی زبان مبارک پر تھا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ السِّوَاكِ؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر ٥٠٠)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو بھی مسواک فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب السواک؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر٥٠١)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت اٹھتے(آگے حدیث نمبر ٥٠١کی طرح ہے لیکن تہجد کا ذکر نہیں ہے)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب السواک؛جلد١ص٢٢٠؛حدیث نمبر٥٠٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت اٹھتے تو مسواک فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب السواک؛جلد١ص٢٢١؛حدیث نمبر٥٠٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بیدار ہوۓتوآپ باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف دیکھ کر سورہ آل عمران کی یہ آیت {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ} [البقرة: ١٦٤] حَتَّى بَلَغَ {فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [آل عمران: ١٩١]تک تلاوت کی۔"بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلمند لوگوں کے نشانیاں ہیں۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔کھڑے ہوکر بیٹھ کر اور پہلوؤں پر(لیٹے ہوئے)اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں(اور کہتے ہیں)اے ہمارے رب! تو نے اسے ناحق پیدا نہیں کیا اے رب تو پاک ہے پس ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔"پھر گھر میں تشریف لاۓمسواک کی اور وضو فرمایا۔پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اس کے بعد آرام فرما ہوئے پھر کھڑے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔آسمان کی طرف دیکھ کر یہی(مذکورہ بالا) آیت تلاوت کی پھر واپس تشریف لاکر مسواک کی اور وضو فرمایا۔پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ السواک؛جلد١ص٢٢١؛حدیث نمبر ٥٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا فطرۃ کی باتیں پانچ ہیں یا فرمایا پانچ باتیں فطرت سے ہیں۔ختنہ کرنا،زیر ناف بال صاف کرنا،ناخن کاٹنا،بغلوں کے بال اکھیڑنا(صاف کرنا)اور مونچھے پست کرنا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ: بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛ترجمہ؛فطری خصلتیں؛جلد١ص٢٢١؛حدیث نمبر٥٠٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا فطرت کی پانچ باتیں ہیں۔ختنہ کرنا،زیر ناف بال صاف کرنا،مونچھیں پست کرنا،ناخن کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھیڑنا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر٥٠٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے لئے مونچھیں پست کرنے ناخن کاٹنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر ٥٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا مونچھوں کوپست کرواور داڑھیاں بڑھاؤ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر٥٠٨)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مونچھیں پست کرنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر٥٠٩)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مونچھیں پست کرنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر٥١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھوں کو کاٹو اور داڑھی کو چھوڑ دو(اور یوں)مجوسیوں کی مخالفت کرو۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٢؛حدیث نمبر٥١١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس باتیں فطرت سے ہیں۔مونچھوں کو کاٹنا،داڑھی کو بڑھانا،مسواک کرنا،ناک میں پانی چڑھانا،ناخن کاٹنا،انگلیوں کے جوڑوں کو(اچھی طرح)دھونا،بغلوں کے بالوں کو اکھیڑنا،زیر ناف بال صاف کرنا اور استنجاکرنا۔زکریا راوی فرماتے ہیں میں دسویں بات بھول گیا البتہ یہ کہ وہ کلی کرنا ہو اور قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ حضرت وکیع فرماتے ہیں"انتقاص الماء"کا مطلب استنجا کرنا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٣؛حدیث نمبر٥١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ - بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ؛جلد١ص٢٢٣؛حدیث نمبر٥١٣)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ان سے کہا گیا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر بات سکھائی ہے حتی کہ وہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتائیں ہیں۔انہوں نے فرمایا ہاں حضور علیہ السلام نے ہمیں قضائے حاجت یا پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے یا تین پتھروں سے کم کے ساتھ یا گوبر یا ہڈی سے استنجا سے منع فرمایا۔(تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا اس وقت مکروہ یا منع ہے جب طہارت حاصل نہ ہو اگر ہوجائے تو تین پتھر استعمال کرنا مستحب ہے ضروری نہیں) ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الَاسْتِطَابَة؛ترجمہ؛استنجا؛جلد١ص٢٢٣؛حدیث نمبر٥١٤)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بعض مشرکین نے ہم سے کہا میرا خیال ہے تمہارا صاحب(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)تمہیں(سب کچھ)سکھاتے ہیں حتی کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔انہوں نے فرمایا ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم میں سے کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ ہو(یعنی قضائے حاجت وغیرہ کے وقت)اور آپ نے ہمیں لید اور ہڈیوں کے ساتھ استنجاء سے منع فرمایا اور فرمایا کہ تم میں سےکوئی شخص تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الَاسْتِطَابَة؛جلد١ص٢٢٤؛حدیث نمبر٥١٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا مینگنی کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ الَاسْتِطَابَةِ؛جلد١ص٢٢٤؛حدیث نمبر٥١٦)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت دونوں صورتوں میں(ادھر رخ نہ کرو)بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو۔(مدینہ طیبہ میں مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیوں کہ وہاں سے کعبہ شریف جنوب کی طرف ہے لیکن یہاں مغرب کی جانب ہے اس لیے مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرکے پیشاب وغیرہ کرنا جائز نہیں)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها؛ جب آپ قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنا رخ یا پیٹھ قبلہ کی جانب نہ کریں؛جلد١ص٢٢٤؛حدیث نمبر٥١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں،آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو اپنا رخ اور پیٹھ قبلہ کی طرف ہر گز نہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها؛جلد١ص٢٢٤؛ حدیث نمبر٥١٨)
حضرت محمد بن یحییٰ اپنے چچا حضرت واسع بن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اورحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قبلہ کی طرف اپنی پیٹھ کو سہارا دے رکھا تھا۔میں نے نماز مکمل کی تو میں انکی جانب مڑا۔حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کچھ لوگ کہتے ہیں جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ کی طرف اور بیت المقدس کی طرف رخ نہ کرو۔حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں مکان کی چھت پر گیا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپکا رخ بیت المقدس کی طرف تھا۔(اس حدیث کا تفصیلی جواب محدثین کرام نے دیا ہے۔ایک جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھنے میں مغالطہ ہوا ہو کیونکہ اس حال میں کوئی بھی بغور نہیں دیکھتا چہ جائیکہ حضور کو دیکھا جائے) (مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها؛جلد١ص٢٢٤؛حدیث نمبر ٥١٩)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوۓنہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ہی برتن میں سانس لے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛باب النھی عن الاستنجاءبالیمن؛دائیں ہاتھ سے استنجاء منع ہے؛جلد١ص٢٢٥؛حدیث نمبر٥٢٠)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوۓ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛_بَابُ النَّهْيِ عَنِ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ؛جلد١ص٢٢٥؛حدیث نمبر ٥٢١)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے،شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ؛جلد١ص٢٢٥؛حدیث نمبر ٥٢٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے،شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ؛جلد١ص٢٢٥؛حدیث نمبر٥٢٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وضو کرتے وقت کنگھی کرتے ہوئے اور نعلین پہنتے ہوئے دائیں طرف سے آغاز کریں۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ التَّيمُّنِ فِي الطُّهُورِ وَغَيْرِه؛جلد١ص٢٢٦؛حدیث نمبر٥٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں یعنی نعلین مبارک پہننے، کنگھی کرنے اور وضو میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ التَّيمُّنِ فِي الطُّهُورِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٢٢٦؛حدیث نمبر ٥٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو لعنت کرنے والوں(یعنی لعنت کے اسباب)سے بچو۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ دو لعنتی کون ہے فرمایا وہ جو لوگوں کے راستے میں یا انکے ساۓمیں قضائے حاجت کے لیے بیٹھتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّخلِّي فِي الطُّرُقِ، وَالظِّلَالِ؛لوگوں کے راستے میں یا انکے ساۓمیں میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھنا ممنوع ہے(درست نہیں ہے)؛جلد١ص٢٢٦؛حدیث نمبر٥٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور آپکے پیچھے ایک لڑکا بھی تھا جو ہم سب سے چھوٹا تھا۔اسکے پاس وضو کا برتن تھا اس نے اسے بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف تشریف لائے اور آپ نے پانی سے استنجا فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبرُّزِ؛جلد١ص٢٢٧؛حدیث نمبر٥٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا ایک برتن اور نیزہ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ پانی سے استنجا فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبرُّزِ؛جلد١ص٢٢٧؛حدیث نمبر٥٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپکے پاس پانی لے کر آتا اور آپ اس سے استنجا فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبرُّزِ؛جلد١ص٢٢٧؛حدیث نمبر ٥٢٩)
حضرت ہمام فرماتے ہیں حضرت جریر نے پیشاب کیا۔پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔پوچھا گیا کیا آپ یہ عمل کرتے ہیں؟(انہوں نے فرمایا)ہاں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے پیشاب کیا پھر وضو فرمایا تو موزوں پر مسح فرمایا حضرت اعمش فرماتے ہیں حضرت ابراہیم(راوی)کو یہ حدیث پسند تھی کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام لائے تھے۔(سورہ مائدہ میں پاؤں کو دھونے کا حکم ہے تو یہ عمل چوں کہ بعد کا ہے لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ پاؤں ننگے ہوں تو دھونا فرض ہے اور موزے پہنے ہوئے ہوں تو مسح بھی جائز ہے۔)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛موزوں پر مسح؛جلد١ص٢٢٧؛ حدیث نمبر٥٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٣٠کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٧؛حدیث نمبر٥٣١)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔آپ ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر تشریف لے گئے تو آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا تو میں وہاں سے ہٹ گیا۔آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ میں قریب ہوا حتیٰ کہ آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٨؛حدیث نمبر ٥٣٢)
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملے میں بہت احتیاط فرماتے تھے اور شیشی میں پیشاب کرتے آپ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص کے جسم کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اسکو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔حضرت حذیفہ نے فرمایا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھی اگر یہ سختی نہ کرتے تو اچھا تھا میں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جارہا تھا۔آپ قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر تشریف لائے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا تو آپ اس طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی ایک کھڑا ہوتا ہے۔آپ پیشاب فرمانے لگے تو میں آپ سے دور ہوگیا پس آپ نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں حاضر ہوکر آپکے پیچھے کھڑا ہوا حتیٰ کہ آپ فارغ ہوئے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٨؛حدیث نمبر٥٣٣)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ایک برتن لے کر جسمیں پانی تھا آپکے پیچھے چلے جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پانی ڈالا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٨؛حدیث نمبر٥٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یوں ہیں کہ آپ نے اپنا چہرہ انور اور ہاتھ دھوۓاورسرپر مسح کیا پھر موزوں پر مسح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٩؛حدیث نمبر٥٣٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ ایک رات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ آپ اترے اور قضائے حاجت فرمائی پھر تشریف لائے تو میں نے اس برتن سے پانی ڈالا جو میرے پاس تھا۔آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٩؛حدیث نمبر٥٣٦)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔آپ نے فرمایا اے مغیرہ!برتن پکڑو میں نے برتن پکڑا۔پھر آپکے ساتھ باہر نکلا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتیٰ کہ مجھ سے غائب ہوگئے۔آپ قضائے حاجت کے بعد تشریف لائے اور آپ پر ایک شامی جبہ تھا جسکی آستینیں تنگ تھیں۔آپ آستینوں سے ہاتھ نکالنے لگے تو وہ تنگ محسوس ہوئی چنانچہ آپ نے(اس جبہ کے)نچلے حصے سے ہاتھ نکالا میں نے پانی ڈالا تو آپ نے وضو فرمایا جیسے نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے۔پھر آپ نے موزوں پر مسح کیا اور اسکے بعد نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٩؛حدیث نمبر٥٣٧)
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔جب واپس تشریف لائے تو میں آپکے پاس برتن لے کر آیا اور اس سے پانی ڈالا۔آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا پھر چہرہ انور کو دھویا۔پھر بازوؤں کو دھونے لگے تو جبہ تنگ تھا آپ نے جبے کے نیچے کی طرف سے ہاتھوں کو نکال کر دھویا۔سر کا مسح کیا اور موزوں کا مسح فرمایا پھر ہمیں نماز پڑھائی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٢٩؛حدیث نمبر٥٣٨)
حضرت عروہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں ایک سفر کے دوران ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں!پس آپ اپنی سواری سے اترے اور چل پڑے حتیٰ کہ رات کی سیاہی میں چھپ گئے پھر تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ(کے ہاتھوں)پر پانی ڈالا تو آپ نے اپنا چہرہ انور دھویا اور آپ پر اونی جبہ تھا۔آپ اس میں سے بازوؤں کو نکال نہ سکے حتیٰ کہ جبے کی نچلی جانب سے نکالے پھر بازوؤں کو دھویا اور سر انور کا مسح کیا۔پھر میں جھکا تاکہ آپکے موزوں کو نکالوں تو آپ نے فرمایا انکو رہنے دو میں نے انکو باوضو پہنا ہے اور آپ نے ان پر مسح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٣٠؛حدیث نمبر٥٣٩)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عروہ بن مغیرہ اپنے والد(حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا اور فرمایا کہ میں نے طہارت حاصل کرنے کے بعد انہیں پہنا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٣٠؛حدیث نمبر٥٤٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور میں(دونوں)پیچھے رہ گئے۔جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟میں پانی کا برتن لایا تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور چہرے کو دھویا پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی۔پس آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھوں کو نکالا اور جبے کو کندھوں پر ڈال دیا پھر بازوؤں کو دھویا اور پیشانی پر عمامہ شریف پر اور موزوں پر مسح کیا(امام ابو حنیفہ،امام شافعی اور امام مالک علیہم الرحمۃ کے نزدیک عمامہ شریف پر مسح جائز نہیں۔ہوسکتا ہے راوی نے سر کے مسح کو عمامہ کا مسح سمجھا ہو کیونکہ ہو سکتا ہے آپ نے سر پر عمامہ رکھتے ہوئے سر کا مسح کیا ہو۔)اسکے بعد آپ سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا حتیٰ کہ صحابہ کرام سے جا ملے۔انہوں نے نماز شروع کر دی تھی۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انکی امامت فرمارہےتھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔آپ نے انکو اشارہ فرمایا تو انہوں نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی آپکے ساتھ کھڑا ہوا پس ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے پڑھی جا چکی تھی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛عمامہ اور پیشانی پر مسح کرنے کا بیان؛جلد١ص٢٣٠؛حدیث نمبر ٥٤١)
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔نیز سر کے اگلے اور عمامہ شریف پر مسح فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛جلد١ص٢٣١؛حدیث نمبر٥٤٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٤٢کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَة؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر٥٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو اپنی پیشانی،عمامہ شریف اور موزوں پر مسح فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛جلد١ص٢٣١؛حدیث نمبر٥٤٤)
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر اور چادرپر مسح فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛جلد١ص٢٣١؛حدیث نمبر٥٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٤٥کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛جلد١ص٢٣١؛حدیث نمبر٥۴٦)
حضرت شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے فرمایا،ابن ابی طالب(حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ)کے پاس جاؤ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرتے رہے ہیں۔پس ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات(کا وقت)مقرر کیا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛ترجمہ؛موزوں پر مسح کے لیے وقت کا تعین؛ جلد١ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٥٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥۴۷کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛- بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٣٢؛حدیث نمبر ٥٤٨)
حضرت شریح بن ہانی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح(کے وقت)کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا۔حضرت علی المرتضٰی کے پاس جاؤ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں(فرماتے ہیں)میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہوے حدیث نمبر ٥٤٧کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛-بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؛جلد١ص٢٣٢؛حدیث نمبر٥٤٩)
حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے تمام نمازیں ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔آج آپ نے وہ عمل کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر!میں نے جان بوجھ کر اس طرح کیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ جَوَازِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ؛ترجمہ؛ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھنا جائز ہے؛جلد١ص٢٣٢؛حدیث نمبر٥٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے یہاں تک کہ اسے تین بار دھو لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسکے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلَاثًا؛ترجمہ؛ہاتھوں کو پانی میں ڈالنے سے پہلے دھونا؛جلد١ص٢٣٣؛حدیث نمبر٥٥١)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٣٣؛حدیث نمبر٥٥٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٥١ کی مثل منقول ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٣٣؛حدیث نمبر٥٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نےبتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین بار دھوۓوہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٣٣؛حدیث نمبر٥٥٤)
متعدد طرق سے حدیث نمبر ٥٥٤کی مثل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حتی کہ ہاتھوں کو دھو لے البتہ کسی نے تین بار ذکر نہیں کیا۔ہاں اس سے پہلے والی روایات میں تین بار کا ذکر ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٣٣؛حدیث نمبر٥٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کسی ایک کے برتن میں کتا منہ مارے تو وہ اس(پانی وغیرہ)کو بہا دے۔پھر اس برتن کو سات مرتبہ دھوے۔(حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک جس برتن میں کتا منہ مارے اسے تین دفعہ دھونا واجب اور سات دفعہ دھونا مستحب ہے)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛ترجمہ؛جس برتن میں کتا منہ ڈالے؛جلد١ص٢٣٤؛حدیث نمبر٥٥٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٥٦کی مثل مروی ہے لیکن اس میں پانی کو بہانے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٤؛حدیث نمبر٥٥٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے ایک کے برتن سے کتا پی لے تو اسے چاہیے کہ اس (برتن)کو سات مرتبہ دھوۓ (مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٤؛حدیث نمبر٥٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے_فرماتےہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سےکسی ایک کے برتن سے کتا پی لے تو اسے چاہیے کہ اس(برتن)کو سات مرتبہ دھوۓ_(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٤؛حدیث نمبر٥٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث نقل کرتے ہوئے ایک حدیث میں ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کے برتن کی طہارت جب کہ اس میں کتا منہ مارے اسکو سات مرتبہ دھونا ہے_(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٤؛حدیث نمبر٥٦٠)
حضرت ابن المغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا۔پھر فرمایا ان لوگوں کو کتوں کے ہلاک کرنے سے کیا حاصل ہوگا۔اس کے بعد شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کے لئے کتا رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا جب کتا برتن میں منہ مارے تو اس کو سات مرتبہ دھولو اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے دھوؤ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٥؛حدیث نمبر٥٦١)
متعدد طرق سے حدیث نمبر ٥٦١کی مثل مروی ہے۔البتہ حضرت یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ بکریوں کی حفاظت،شکار اور کھیتی(کی حفاظت)کے لئے کتا رکھنے کی اجازت دی۔کھیتی کا ذکر صرف حضرت یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ؛جلد١ص٢٣٥؛حدیث نمبر٥٦٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنِ البوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكدِ؛ترجمہ؛کھڑے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت؛جلد١ص٢٣٥؛حدیث نمبر٥٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنِ البوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكدِ؛جلد١ص٢٣٥؛حدیث نمبر٥٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث روایت کرتے ہوئے ایک حدیث میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھڑے پانی میں جو جاری نہیں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس میں غسل کرنا شروع کردے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنِ البوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكدِ؛جلد١ص٢٣٥؛حدیث نمبر ٥٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے(جمع شدہ)پانی میں غسل نہ کرے جبکہ جنبی ہو پوچھا کیسے کرے؟فرمایا اس سے پانی لے(کر غسل کرے)اور اس کے اندر داخل ہو کر غسل نہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الَاغْتِسَالِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ؛ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا؛جلد١ص٢٣٦؛حدیث نمبر٥٦٦)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو کچھ صحابہ کرام اسکی طرف اٹھ کھڑے ہوئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکو چھوڑ دو اسکے پیشاب کو نہ روکو۔فرماتے ہیں جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے ایک ڈول پانی منگوا کر اس پر بہایا(بہانے کا حکم فرمایا)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْبَوْلِ وَغَيْرِهِ مِنَ النَّجَاسَاتِ إِذَا حَصَلَتْ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَّ الْأَرْضَ تَطْهُرُ بِالْمَاءِ، مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى حَفْرِهَا؛ترجمہ؛مسجد سے پیشاب وغیرہ کو دھونا؛جلد١ص٢٣٦؛حدیث نمبر٥٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک دیہاتی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہوا اس میں پیشاب کر دیا۔صحابہ کرام نے اسے ڈانٹنا شروع کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو جب وہ فارغ ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا اور اسے اس پر بہایا گیا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْبَوْلِ وَغَيْرِهِ مِنَ النَّجَاسَاتِ إِذَا حَصَلَتْ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَّ الْأَرْضَ تَطْهُرُ بِالْمَاءِ، مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى حَفْرِهَا؛جلد١ص٢٣٦؛حدیث نمبر ٥٦٨)
حضرت اسحاق بن ابی طلحہ فرماتے ہیں۔مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ حضرت اسحاق کے چچا ہیں فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کر دیا۔صحابہ کرام نے فرمایا رک جا رک جا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پیشاب کو نہ روکو اسکو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے اسکو چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کیا۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو بلا کر فرمایا۔یہ مساجد پیشاب اور گندگی کی جگہ نہیں ہے یہ تو ذکر خداوندی نماز اور قرآن مجید کی قرآت کیلئے ہیں یا جو کچھ آپ نے فرمایا۔اسکے بعد حاضرین میں سے ایک کو حکم دیا تو وہ پانی کا ایک ڈول لے کر آئے اور آپ نے اسکو اس پر چھڑک دیا(بہادیا)(آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب اس نے پیشاب شروع کر ہی دیا تو اسے کرنے دو روکنے سے بیماری کا خطرہ ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا تقاضا ہے)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْبَوْلِ وَغَيْرِهِ مِنَ النَّجَاسَاتِ إِذَا حَصَلَتْ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَّ الْأَرْضَ تَطْهُرُ بِالْمَاءِ، مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى حَفْرِهَا؛جلد١ص٢٣٦؛حدیث نمبر٥٦٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ انکے لئے برکت کی دعا کرتے اور کھجور نرم کر کے انکے منہ میں ڈالتے۔ایک بچہ لایا تو اس نے آپ پر پیشاب کردیا۔پس آپ نے پانی منگوایا اور اسکے پیشاب پر بہا دیا اور اسکو نہ دھویا۔(بچہ ہو یا بچی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے البتہ بچے کا پیشاب دھونے کے لیے مبالغہ کی ضرورت نہیں جبکہ بچی کا پیشاب بدبو دار ہوتا ہے لہٰذا وہاں زیادہ مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے)۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛دودھ پیتے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١ص٢٣٧؛حدیث نمبر ٥٧٠)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا جو شیر خوار تھا۔اس نے آپکی گود میں پیشاب کر دیا۔تو آپ نے پانی منگواکر اس پر بہایا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛جلد١ص٢٣٧؛حدیث نمبر٥٧١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٧١کی مثل مروی ہے ۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛جلد١ص٢٣٧؛حدیث نمبر ٥٧٢)
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ اپنے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔آپ نے اسے اپنی گود میں اٹھایا تو اس نے پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی کے چھینٹے مارنے پر اضافہ نہ فرمایا۔(یعنی آپ نے صرف پانی کا چھینٹا مارا)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛جلد١ص٢٣٨؛حدیث نمبر ٥٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی اس کی مثل مروی ہے۔اس میں فرمایا کہ آپ نے پانی منگواکر اس پر چھڑکا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛جلد١ص٢٣٨؛حدیث نمبر ٥٧٤)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ام قیس پہلی ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں۔جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور یہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور انکا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں حضرت ام قیس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک شیر خوار بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئیں وہ فرماتی ہیں انکے اس بچے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود انور میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگواکر اپنے کپڑوں پر چھڑکا اور ان کو اچھی طرح نہ دھویا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛جلد١ص٢٣٨؛حدیث نمبر ٥٧٥)
حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بطور مہمان آیا صبح وہ اپنا کپڑا دھورہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمائی۔اگر تم کوئی نشان دیکھو تو اسکا دھونا کافی ہے اور اگر نہ دیکھو تو اسکے ارد گرد پانی کے چھینٹے مارو میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے(منی کو)کھرچتی اور آپ اس میں نماز پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛ترجمہ؛منی کا حکم؛جلد١ص٢٣٨؛ حدیث نمبر ٥٧٦)
حضرت اسود اور حضرت ہمام رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منی کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔آپ فرماتی ہیں۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس سے اسے کھرچتی تھی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٨؛حدیث نمبر٥٧٧)
مختلف طرق سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچنے کے بارے میں حدیث نمبر ٥٧٦کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٩؛حدیث نمبر ٥٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٥٧٦کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٩؛حدیث نمبر ٥٧٩)
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کسی شخص کے کپڑوں کو منی لگ جائے تو کیا وہ اسی حصے کو دھوے یا(پورے) کپڑے)کو دھوۓتو انہوں نے فرمایا مجھے حضرت عائشہ نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی کو دھوتے پھر اسی لباس میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور مجھے دھونے کا نشان دکھائی دیتا۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٩؛حدیث نمبر ٥٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ام المومنین سے کچھ تغير کے ساتھ حدیث نمبر ٥٨٠کی مثل مروی ہے۔ایک روایت میں دھونے کا ذکر ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٩؛حدیث نمبر ٥٨١)
حضرت عبداللہ بن شہاب خولانی فرماتے ہیں۔میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں مہمان ہوا تو مجھے ایک کپڑے میں احتلام ہوگیا۔میں نے اسکو پانی میں ڈبویا تو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے مجھے دیکھ لیا۔اس نے ام المومنین کو خبر دی تو آپ نے بلایا اور فرمایا تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ یہ معاملہ کیوں کیا۔میں نے کہا میں اس میں وہ کچھ دیکھا جو سونے والا خواب میں دیکھتا ہے۔ام المومنین نے فرمایا تم نے ان کپڑوں میں کچھ دیکھا۔میں نے عرض کیا نہیں فرمایا۔آگ تم کوئی چیز دیکھو تو اسے دھو ڈالو۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس سے خشک منی ناخن سے کھرچ دیتی۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ حُكْمِ الْمَنِيِّ؛جلد١ص٢٣٩؛حدیث نمبر٥٨٢)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہے ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ہم میں سے کسی ایک عورت کے کپڑے میں حیض لگ جاتا ہے تو وہ کیا طریقہ اختیار کرے۔آپ نے فرمایا اسکو باہم رگڑے پھر(ناخنوں سے)کھرچے اور پانی بھی استعمال کرے۔اسکے بعد پانی ڈالے پھر اس کپڑے میں نماز پڑھے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ نَجَاسَةِ الدَّمِ وَكيْفيَّةِ غُسْلِهِ؛ترجمہ؛خون کی ناپاکی اور اسکو دھونے کی کیفیت؛جلد١ص٢٤٠؛حدیث نمبر٥٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٨٣کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛ بَابُ نَجَاسَةِ الدَّمِ وَكيْفيَّةِ غُسْلِه؛جلد١ص٢٤٠؛حدیث نمبر٥٨٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہورہا ہے بلکہ ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔راوی فرماتے ہیں آپ نے کھجور کی ایک تر شاخ منگوائی اور اسکو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک کو ایک قبر پر اور دوسرے کو دوسری قبر پر گاڑ دیا۔پھر فرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی ان دونوں سے عذاب میں تخفیف ہوگی۔(اس حدیث سے اور اس جیسی متعدد دیگر احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی باتوں پر مطلع فرمایا تبھی تو معلوم ہوا قبر اندر عذاب ہو رہا ہے اور کس سبب ہو رہا ہے وہ بھی معلوم ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے اللہ تعالیٰ اہل بدعت کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الدَّليلِ عَلَى نَجَاسَةِ الْبَوْلِ وَوُجُوبِ الَاسْتِبْرَاءِ مِنْهُ؛ ترجمہ؛پیشاب کی نجاست پر دلیل اور اس سے احتراز کا وجوب:جلد١ص٢٤٠؛حدیث نمبر٥٨٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٥٨٥کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں فرمایا کہ دوسرا شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا(عربی الفاظ کا فرق ہے)(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الدَّليلِ عَلَى نَجَاسَةِ الْبَوْلِ وَوُجُوبِ الَاسْتِبْرَاءِ مِنْهُ؛جلد١ص٢٤١؛حدیث نمبر٥٨٦)
Muslim Shareef : Kitabut Taharat
|
Muslim Shareef : کتاب الطہارۃ
|
•