
سلام کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل کو،پیدل بیٹھے ہوئے کو اور کم آدمی زیادہ آدمی کو سلام کرے۔ (سلام کرنا سنت اور جواب دینا واجب ہے اور گزرنے والی ایک جماعت ہو تو سنت کفایہ ہے ایک کے سلام سے سب کی طرف سے ادائیگی ہوجائے گی اسی طرح جس کو سلام کیا گیا وہ ایک ہو تو جواب فرض عین ہے اور اگر جماعت ہو تو فرض(واجب)کفایہ ہوگا حدیث شریف میں جو بیان ہوا کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے تو یہ مستحب اس کے خلاف بھی جائز ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛ترجمہ؛سلام کا بیان؛بَابُ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ؛ترجمہ؛سوار پیدل کو اور کم آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں؛جلد٤ص١٧٠٣؛حدیث نمبر ٥٥٣٥)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مکانوں کے سامنے زمین پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا تمہیں راستوں میں مجالس منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے راستوں میں مجلسیں قائم کرنے سے بچو۔ ہم نے کہا کسی برے مقصد کے تحت نہیں بیٹھتے(بلکہ) ہم تو باہم گفتگو کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں فرمایا اگر تم نہیں مانتے(یعنی بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو)تو راستوں کا حق ادا کرو نظر جھکا کر رکھنا،سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛ترجمہ؛راستے میں بیٹھنے کے حقوق میں سلام کا جواب بھی ہے؛جلد٤ص١٧٠٣؛حدیث نمبر ٥٥٣٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے لیے راستوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہم وہاں باہم گفتگو کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کو نہیں چھوڑ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو انہوں نے عرض کیا اس کا حق کیا ہے؟آپ نے فرمایا نظریں جھکا کر رکھنا،تکلیف دہ چیز کو دور کرنا،سلام کا جواب دینا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٧)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہیں اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینا،چھینک کا جواب دینا،دعوت قبول کرنا،مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛ترجمہ؛سلام کا جواب دینا مسلمان کے حقوق میں سے ہے؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے ذمہ چھ حقوق ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کون سے حقوق ہیں؟ آپ نے فرمایا جب تم اس سے ملاقات کرو تو سلام کہو،جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو،جب تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو،جب اسے چھینک آے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو جواب میں یرحمک اللہ کہو جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی بیمار پرسی کرو،اور جب وہ مر جائے تو اس(کے جنازے)کے پیچھے چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو ان کے جواب میں(صرف) وعلیکم کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛ترجمہ؛اہل کتاب کو ابتداءً سلام کرنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ہم ان کو جواب کس طرح دیں؟آپ نے فرمایا"وعلیکم" کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے"السام علیکم"تو تم(صرف)"علیک" کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی البتہ اس میں یہ ہے کہ"وقولو علیک"(جمع کا صیغہ ہے) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٤)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی انہوں نے"السام علیکم"کہا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بلکہ تم پر سام(موت)اور لعنت ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!اللہ تعالیٰ تمام کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے انہوں نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟آپ نے فرمایا میں نے بھی"وعلیکم"کہہ دیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٥)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے"علیکم"کہہ دیا تھا۔واؤ کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آے تو انہوں نے کہا اے ابو القاسم!"السام علیکم" آپ نے فرمایا"علیکم"(ام المؤمنين)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر سام اور ذام(موت اور ذلت)ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ بدزبان نہ بنو،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟آپ نے فرمایا کیا میں نے ان کے قول کو ان کی طرف واپس نہیں کیا میں نے"وعلیکم"کہہ دیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٧)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے مقصد کو سمجھ گئی تھیں اس کے بعد انہوں نے ان لوگوں کو برا بھلا کہا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!رک جاؤ بے شک اللہ تعالیٰ،بد گوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔{وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللهُ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ(ترجمہ)"جب یہ لوگ آکر آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا" (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچھ یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو کہا"اے ابو القاسم!السام علیک آپ نے فرمایا وعلیکم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے غصہ میں آکر کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں میں نے سنا اور ان کو جواب بھی دے دیا ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوگی اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر ٥٥٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصارٰی کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب تمہاری ان سے راستے میں ملاقات ہو تو ان کو تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر٥٥٥٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں وکیع کی روایت میں ہے جب تمہاری یہودیوں سے ملاقات ہو اور جریر کی روایت میں ہے جب تمہاری ان سے ملاقات ہو کسی مشرک کا نام نہیں لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر٥٥٥١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑکوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛ترجمہ؛بچوں کو سلام کرنا مستحب ہے؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٢)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٣)
حضرت سیار فرماتے ہیں میں نے حضرت ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور حضرت ثابت نے بیان کیا کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ (بچوں کی تربیت کے لئے ان کو سلام کیا جائے تاکہ وہ سیکھ لیں نیز دیگر آداب بھی سکھاے جائیں) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارے لئے میری اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا لیا جائے اور تم میرے راز کی بات سنو جب تک میں تمہیں اس سے منع نہ کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ جَعْلِ الْإِذْنِ رَفْعُ حِجَابٍ أَوْ نَحْوِهِ مِنَ الْعَلَامَاتِ؛ترجمہ؛پردہ اٹھانے کو اجازت قرار دیا؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٥)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ جَعْلِ الْإِذْنِ رَفْعُ حِجَابٍ أَوْ نَحْوِهِ مِنَ الْعَلَامَاتِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا باپردہ ہوکر قضائے حاجت کے لیے باہر گئیں اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں دیگر خواتین سے بڑی تھیں جو شخص ان کو جانتا تھا اس پر مخفی نہ رہتی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر کہا اے سودہ!قسم بخدا!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں تو دیکھیں آپ کیسے باہر نکلیں گی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ سن کر وہ فوراً واپس آگئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں کھانا کھا رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی۔ وہ داخل ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں باہر گئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے اس طرح اس طرح کہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اسی وقت حضور پر وحی نازل ہوئی اور پھر منقطع ہوگئی اور ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے رکھی نہیں تھی آپ نے فرمایا قضائے حاجت کے لیے تمہیں باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے ابوبکر(راوی)کی روایت میں(تفرع النساء کی بجائے)"یفرع النساء جسمہا" کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں کھلے میدان میں جانے کی تصریح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛ترجمہ؛قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر جانے کی اجازت؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٧)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔اس میں یہ ہے کہ لوگوں سے ان کا جسم بلند تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے کھلے میدانوں میں جاتی تھیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے تھے کہ اپنی ازواج کو حجاب کا حکم دیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کسی وجہ سے)ان کی یہ گزارش قبول نہیں کرتے ایک رات ام المؤمنين حضرت سودہ رضی اللہ عنہا باہر نکلیں اور وہ دراز قد خاتون تھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آواز دی اے سودہ!ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے انہوں نے حجاب(کا حکم)نازل ہونے کی حرص کرتے ہوئے ایسا کیا تھا،تو اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم نازل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٦٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ ( ان احادیث سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ خداوندی میں مقبولیت واضح ہوتی ہے کہ آپ کی خواہش پر پردہ کا حکم نازل ہوا نیز اگر گھر میں قضائے حاجت کے لیے انتظام نہ ہو تو عورتیں باپردہ ہوکر ایسے مقام پر جاسکتی ہیں جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧١٠؛حدیث نمبر٥٥٦١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے البتہ یہ کہ اس کا شوہر یا محرم ہو(کنواری کا حکم تو اس سے بھی سخت ہوگا) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛اجنبی عورت کے پاس تنہائی میں جانے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧١٠؛حدیث نمبر٥٥٦٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اجنبی)عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔انصار میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!دیور کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا دیور تو موت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٤)
حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں دیور سے مراد خاوند کا بھائی یا اس کے مشابہ خاوند کے قریبی رشتہ دار جیسے اس کا چچا زاد بھائی وغیرہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٥)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان کو یہ بات ناگوار گزری اس وقت حضرت اسماء ان کے نکاح میں تھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خرابی سے دور رکھا،اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آج کے بعد کوئی شخص ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند اس وقت حاضر نہ ہو البتہ یہ کہ اس کے ایک دو آدمی اور ہوں(تو کوئی حرج نہیں) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے ساتھ تھے تو ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا آپ نے اسے بلایا وہ آیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!یہ میری بیوی ہے،اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں کسی کے بارے میں گمان بھی کرتا تو آپ کے بارے میں نہ کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛ترجمہ؛کوئی شخص اپنی بیوی یا محرم عورت کے ساتھ ہو تو بدگمانی کے ازالہ کے لئے لوگوں کو بتا دے کہ یہ فلاں ہے؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٧)
حضرت صفیہ بنت حُیَی بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لئے آئی میں نے آپ سے باتیں کیں پھر واپس جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو آپ بھی مجھے رخصت کرنے کے لئے کھڑے ہوے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی رہائش حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حویلی میں تھی(اس دوران)انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز تیز چل پڑے آپ نے فرمایا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں انہوں نے کہا سبحان اللہ!یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا شیطان انسانوں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی ڈال دے یا کوئی کلمہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٨)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے آئیں اور آپ رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں مسجد میں معتکف تھے انہوں نے کچھ دیر گفتگو کی پھر کھڑی ہوگئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوگئے اور ان کو رخصت کرنے لگے۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٦٨ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان انسانوں کی رگوں میں خون کی طرح پہنچتا ہے۔ "یجری"(دوڑتا ہے)کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٩)
حضرت ابو واقد لیثی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ہمراہ تھے کہ تین آدمی آے دو شخص(آگے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے اور ایک واپس لوٹ گیا۔ فرماتے ہیں وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوگئے پھر ان میں سے ایک نے مجلس میں کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا سب کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا واپس چلا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کی خبر نہ دوں ان میں سے ایک نے اللہ تعالیٰ کی پناہ لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پناہ دے دی دوسرے نے حیا کیا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حیا فرماے گا اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلَّا وَرَاءَهُمْ؛جلد٤ص١٧١٣؛حدیث نمبر٥٥٧٠)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں مزید بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلَّا وَرَاءَهُم؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے البتہ(مجلس میں)کشادگی اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٥٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں لیکن اس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا ذکر نہیں ہے ابن جریج کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے پوچھا جمعہ کے دن؟فرمایا جمعہ کے دن اور اس کے علاوہ بھی(یہی حکم ہے) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھتا ہے تو آپ وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے(مسلمان)بھائی کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے بلکہ یوں کہے کہ مجلس میں جگہ بناؤ۔(لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا تہذیب کے خلاف ہے لہٰذا جہاں جگہ مل جائے بیٹھ جائے البتہ اہل مجلس کی ذمہ داری ہے کہ آنے والے شخص کے لئے جگہ بنائیں اور اگر وہ کوئی روحانی علمی اعتبار سے بڑی شخصیت ہے تو اسے آگے جگہ دیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو دوسری حدیث میں ہے کہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو پھر اس جگہ واپس آے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ؛ترجمہ؛اگر کوئی شخص مجلس سے اٹھ جائے اور پھر وہ واپس آے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٨)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک مخنث(ہجڑا)بیٹھا ہوا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے۔اس مخنث نے حضرت ام سلمہ کے بھائی سے کہا اے عبد اللہ بن امیہ اگر اللہ تعالیٰ نے کل تم لوگوں پر طائف کو فتح کر دیا تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کی طرف رہنمائی کروں گا جب وہ سامنے آتی ہے تو پیٹ کی چار سلوٹیں ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتیں ہیں۔ راوی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الْأَجَانِب؛ترجمہ؛مخنث کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے منع کرنا؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور اس کو ان لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا جن کو جنسی خواہش نہیں ہوتی۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ مخنث آپ کی ایک زوجہ کے پاس بیٹھا ہوا ایک عورت کا وصف بیان کر رہا تھا اس نے کہا جب وہ سامنے آتی ہے تو(پیٹ کی)چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہیں دیکھتا کہ جو کچھ یہاں ہے یہ اس کو پہچانتا ہے اس قسم کے لوگ تمہارے پاس نہ آئے کریں ام المومنین فرماتی ہیں اس کے بعد لوگوں نے اس کو روک دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الْأَجَانِب؛جلد٤ص١٧١٦؛حدیث نمبر٥٥٨٠)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کیا اس وقت ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا کوئی مال یا غلام(وغیرہ)نہیں تھا۔میں ان کے گھوڑے کو چارا ڈالتی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس کی خبر گیری اور نگہداشت کرتی ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کوٹتی چارا ڈالتی اور ڈول سے پانی لاتی اور آٹا گوندتی لیکن میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی میرے پڑوس میں جو انصاری عورتیں تھیں وہ میرے لیے روٹیاں پکاتی تھیں وہ بہت مخلص عورتیں تھیں۔اور میں اس زمین سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دی تھی۔ گٹھلیاں سر پر اٹھا کر لاتی تھی اور یہ فاصلہ دو تہائی فرسخ تھا ایک دن میں سر پر گٹھلیاں اٹھائے آرہی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ آپ نے مجھے بلاکر فرمایا پھر(اونٹ بٹھانے کے لئے)اخ اخ فرمایا تاکہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں(اونٹ کو بٹھانے کے لئے اخ اخ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے) حضرت اسماء کہتی ہیں مجھے حیاء آئی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آگئی آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!تمہارا سر پر گٹھلیاں اٹھانا میرے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں اس واقعہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک خادمہ بھیجی جو مجھے گھوڑے کے کام میں کفایت کرنے لگی گویا اس خادمہ نے مجھے آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ؛ترجمہ؛راستے میں تھکی ہوئی عورت کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھانا؛جلد٤ص١٧١۶؛حدیث نمبر٥٥۸۱)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کے کام کرتی تھی اور ان کا ایک گھوڑا تھا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اور کوئی کام اس گھوڑے کی دیکھ بھال سے زیادہ میرے نزدیک سخت نہ تھا میں اس کے لئے گھاس لاتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ پھر مجھے ایک خادمہ مل گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئےتو آپ نے ایک لونڈی بطور خادمہ مجھے عنایت فرمائی تو اس نے گھوڑے کی دیکھ بھال کی مشقت مجھ سے دور کردی۔فرماتی ہیں ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ام عبد اللہ!میں فقیر آدمی ہوں میں چاہتا ہوں کہ تمہارے گھر کے سائے میں خرید و فروخت کروں انہوں نے فرمایا اگر میں تجھے اجازت دے بھی دوں تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانیں گے تو تم اس وقت آنا جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔ چنانچہ وہ آیا اور اس نے کہا اے عبداللہ!میں فقیر ہوں میں آپ کے گھر کے سائے میں سودا بیچنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا پورے مدینہ شریف کو چھوڑ کر صرف میرے گھر کا انتخاب کیوں؟حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھے کیا ہوا کہ تو ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے منع کرتی ہے۔ پھر وہ دوکان داری کرنے لگا حتیٰ کہ اس نے کافی کمائی کرلی اور میں نے وہ لونڈی اس پر بیچ دی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اس لونڈی کی قیمت میری گود میں تھی انہوں نے فرمایا یہ پیسہ مجھے دے دو حضرت اسماء نے فرمایا میں ان کو صدقہ کر چکی ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١۷؛حدیث نمبر۵۵۸۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ہوں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛ترجمہ؛تیسرے شخص کی موجودگی میں اس کی مرضی کے بغیر دو آدمیوں کا باہم سرگوشی کرنا؛جلد٤ص١٧١٧؛حدیث نمبر٥٥٨٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی متعدد اسناد ذکر کی ہیں جن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٧؛حدیث نمبر٥٥٨٤)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں حتیٰ کہ بہت سے لوگ جمع ہو جائیں تاکہ اس تیسرے شخص کی دل آزاری نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٥)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص باہم سرگوشی نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٧)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو حضرت جبریل علیہ السلام آکر آپ کو دم کرتے اور یہ کلمات کہتے:«بِاسْمِ اللهِ يُبْرِيكَ، وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ» (ترجمہ) اللہ کے نام سے وہ آپ کو تندرست کر دے گا اور ہر بیماری سے شفا دے گا۔اور ہر حاسد کے حسد جب وہ حسد کرے اور نظر لگانے والی آنکھ کے شرسےمحفوظ رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛ترجمہ طب،بیماری اور جھاڑ پھونک؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٨)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)آپ علیل ہیں؟فرمایا ہاں تو حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو یوں دم کیا۔ (ترجمہ)اللہ کے نام سے آپ کو ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو آپ کو اذیت پہنچاے ہر نفس کے شر اور حاسد کی نظر سے(دم کرتا ہوں)اللہ آپ کو شفا دے گا میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایات کی ہیں جن میں یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر حق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو نظر کرتی جب تم سے(نظر کے علاج کے لئے)غسل کرنے کو کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اس یہودی کو لبید بن اعصم کہا جاتا تھا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ ہوگئی کہ آپ کو خیال تھا کہ میں فلاں کام کر رہا ہوں حالانکہ آپ وہ کام نہیں کر رہے ہوتے تھے حتیٰ کہ ایک دن یا ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی پھر دعا مانگی،پھر دعا مانگی۔ اس کے بعد فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے جو کچھ پوچھا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرے میرے پاؤں کی طرف بیٹھا۔ جو میرے سرہانے تھا اس نے اس سے کہا جو پائتی کی طرف تھا یا پائتی والے نے سرہانے کی طرف بیٹھے ہوئے سے کہا اس شخص کو کیا بیماری ہے دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے اس نے کہا کس نے جادو کیا ہے دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے،اس نے پوچھا کس چیز میں؟اس نے کہا کنگھی اور کنگھی سے جھڑنے والے بالوں میں اور کہا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں۔ اس نے پوچھا وہ غلاف کہاں ہے؟دوسرے نے جواب دیا ذی اروان کے کنویں میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے پھر فرمایا اے عائشہ!اللہ کی قسم اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے ان کو جلا کیوں نہ دیا؟آپ نے فرمایا: نہیں! اللہ تعالیٰ نے مجھے اچھا کر دیا اور میں لوگوں میں فساد بھڑکانے کو برا سمجھتا ہوں پس میں نے حکم دیا تو ان کو دفن کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السِّحْرِ؛جادو کا بیان؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٢ کے مثل مروی ہے اور اس میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی طرف دیکھا اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کو نکال لیجئے اور یہ نہیں کہا کہ آپ اس کو جلا کیوں نہیں دیتے یہ بھی مذکور نہیں کہ میں نے حکم دیا تو اس کو دفن کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السحر؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا زہر آلودہ گوشت لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا پھر اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا آپ نے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا میں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے اس پر قادر نہیں کرے گا یا فرمایا مجھ پر قادر نہیں کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہم اسے قتل نہ کردیں آپ نے فرمایا نہیں۔راوی کہتے ہیں اس زہر کا اثر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوے(دہن مبارک)میں ہمیشہ پایا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السُّمِّ؛ترجمہ؛زہر کا بیان؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور وہ گوشت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السُّمِّ؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٥)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جاتا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے پھر فرماتے، (ترجمہ) اے انسانوں کے مالک!تکلیف کو دور کردے،شفا عطا فرما،تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی اور شفا نہیں ایسی شفا عطا فرما جس سے بیماری باقی نہ رہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری سخت ہو گئی تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا تاکہ وہی عمل کروں جو آپ کرتے تھے تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا پھر فرمایا۔ (ترجمہ) اے اللہ!مجھے بخش دے اور مجھےرفیق اعلیٰ کے ساتھ کردے ام المؤمنين فرماتی ہیں پھر میں نے دیکھا تو آپ وصال فرما چکے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛ترجمہ؛مریض کو دم کرنے کا بیان؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے متعدد اسناد کے ساتھ اس حدیث کو ذکر کیا شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنا ہاتھ پھیرا ثوری کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ پھیرا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ کلمات فرماتے۔ (ترجمہ) اے لوگوں کے رب!تکلیف کو دور کر دے اسے شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تو اس کے لئے دعا کرتے اور فرماتے اے لوگوں کے رب!تکلیف کو دور کردے اور شفا عطاء فرما تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ایسی شفا عطاء فرما جس سے بیماری بالکل باقی نہ رہے۔ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور فرماتے(اے اللہ)تو ہی شفا دینے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے۔ (ترجمہ)اے لوگوں کے مالک!تکلیف کو دور کردو شفاء تیرے ہی دست قدرت میں ہے تیرے سوا اس مصیبت کو دور کرنے والا کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠١)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٢)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"پڑھ کر دم کرتے۔ جب آپ مرض وصال میں مبتلا ہوے تو میں آپ پر دم کرتی اور آپ کے دست مبارک کو آپ پر پھیرتی کیونکہ آپ کے دست مبارک میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں(بالمعوذات کی جگہ)بمعوذات(الف لام کے بغیر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوے تو اپنے اوپر"قل اعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"پڑھتے اور دم کرتے تھے جب آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں آپ پر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ کے دست مبارک سے اس جگہ کو پھیرتی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں مالک کی حدیث کے علاوہ کسی میں"برکت کی امید سے"کے الفاظ نہیں ہیں نیز یونس اور زیاد کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب علیل ہوے تو سورہ فلق اور سورہ ناس اس پر پڑھ کر دم کرتے اور اپنا ہاتھ پھیرتے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٥)
حضرت اسود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دم کرانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو ہر زہریلےڈنگ کی تکلیف میں دم کرانے کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛ترجمہ؛نظر لگنے،پھوڑے،پھنسی،اور زہریلے ڈنک وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے والوں کو ہر زہریلے ڈنک کی تکلیف میں دم کرانے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب کوئی انسان بیمار ہوتا یا اس کو کوئی چھالا یازخم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس انگلی کو(سفیان نے کہا کہ آپ شہادت کی انگلی)کو زمین پر رکھ کر اٹھاتے اور اس سے اشارہ کر کے فرماتے اللہ کے نام سے ہماری زمین کی مٹی،ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے ہمارا بیمار اللہ تعالی کے اذن سے شفا پائے گا-زبیر کی روایت میں ہے کہ ہمارا بیمار شفا پائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠۸)
Muslim Sharif Kitabus Salame Hadees No# 5609
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کا حکم دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے دم کرانے کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے فرمایا زہریلے ڈنک،پھوڑے پھنسی اور نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۲)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نظر لگنے،ڈنک لگنے اور پھوڑے پھنسی کی صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرانے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۳)
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں ایک لونڈی کو دیکھا جس کے چہرے پر چھائیاں تھیں تو فرمایا اس کو نظر لگ گئی ہے اسے دم کراؤ یعنی اس کے چہرے پر زردی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپ کی تکلیف میں آل حزم کو دم کرنے کی اجازت دی اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں اپنے بھائی(حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)کے بچوں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں کیا وہ بھوکے رہتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا نہیں لیکن ان کو نظر جلدی لگ جاتی ہے آپ نے فرمایا کوئی دم کرو_فرماتی ہے میں نے دم کے کلمات آپ کے سامنے پیش کیے تو آپ نے فرمایا ان(بچوں) کو دم کر دو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عمرو کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کی اجازت دی اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا اس وقت ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ میں اس کو دم کر دوں آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں وہ اس کو فائدہ پہنچائیں_ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ اس حدیث کو ایک اور سند سے بیان کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے کہا میں اس پر دم کر دوں؟یہ نہیں کہا کہ میں دم کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے اور میں بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے(مسلمان بھائی)کو نفع پہنچا سکتا ہوں وہ اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱۸)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے_ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٩)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا پھر آل عمرو بن حزم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں ایک دم آتا ہے جس سے ہم بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے ہیں اور آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں انہوں نے وہ کلمات دم آپ پرپیش کیےتو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں تم میں سے جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے وہ اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۲۰)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ہم دور جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ!اس سلسلے میں آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے فرمایا اپنےدم کے کلمات مجھ پر پیش کرو اگر ان میں شرکیہ کلمات نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ؛جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۱)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام سفر میں تھے تو وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے انہوں نے ان سے مہمان نوازی کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی انہوں نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے یا کہا کہ اسے کوئی تکلیف ہے۔ صحابہ کرام میں سے ایک نے کہا مجھے دم کرنا آتا ہے چنانچہ انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا وہ شخص ٹھیک ہوگیا تو اس قبیلے والوں نے ان کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیاانہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا جب تک میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر نہ کروں نہیں لے سکتا چناں چہ انہوں نے آپ کی خدمت میں ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم میں نے سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا تمہیں کس نے بتایا کہ اس سے دم کیا جاتا ہے۔پھر فرمایا ان بکریوں کو لے لو اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو لو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛ترجمہ؛قرآن مجید اور اذکار مسنونہ سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا بیان؛ جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ وہ صحابی سورہ فاتحہ پڑھتے جاتے تھے اور اپنا لعاب جمع کرکے اس پر تھوکتے تھے پس وہ شخص تندرست ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۳)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک مقام پر گئے تو وہاں ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ ہمارے قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے(لفظ سلیم کا معنی یہاں بچھو کا کاٹا ہوا ہے اور نیک فال کے طور پر لفظ سلیم بولا گیا)کیا تم لوگوں میں کوئی دم کرنے والا ہے پس ہم میں سےایک شخص اس کے ساتھ چل پڑا ہمیں گمان نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کر سکتا ہے اس نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ سردار تھیک ہو گیاانہوں نے اسے بکریاں دی اور ہمیں دودھ پلایا۔ہم نے پوچھا کیا تمہیں واقعی دم کرنا آتا تھا؟اس نے کہا میں نے تو فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا ان بکریوں کو نہ چھوڑو حتی کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو جائیں۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے وہ واقعہ بیان کیا آپ نے پوچھا اس کو کیسے معلوم ہوا کہ اس(فاتحہ)سے دم ہوتا ہے ان بکریوں کو تقسیم کرو اور اپنے ساتھ میرے لیے بھی حصہ مقرر کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ ہے کہ ایک شخص اٹھ کر اس(عورت)کے ساتھ چل پڑا ہمارے خیال میں اس کو دم کرنا نہیں آتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲۵)
حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے جسم میں درد کی شکایت کی جو اس وقت سے تھا جب وہ اسلام لائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں جسم کے جس حصے میں تکلیف ہوتی ہے وہاں ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ"بسم اللہ"پڑھو اور سات مرتبہ یہ کلمات کہو"أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" اس شر سے جسے میں پاتا ہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے،میں اللہ تعالی اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ الْأَلَمِ مَعَ الدُّعَاءِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲٦)
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ بے شک شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مجھ پر قرات مشتبہ کر دیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے جب تم اسے محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار بائیں جانب تھوکو۔ فرماتے ہیں میں نے ایسا عمل کیا تو اللہ تعالی نے مجھ سے شیطان کے وسوسوں کو دور کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲۷)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک اور سند سے حضرت عثمان بن ابی العاص کی اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۲۸)
امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٢٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۲۹)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر بیماری کے لیے دوا ہے جب دوائی،بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کےاذن سے شفاء ہو جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛ترجمہ؛ہر بیماری کی دوا ہے اور علاج کرانا مستحب ہے؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۰)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مقنع کی عیادت کی فرمایا میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تم پچھنا(فصد)نہ لگا لو کیوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اس(فصد)میں شفاءہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۱)
عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور ایک شخص کو پھنسی یا زخم کی شکایت تھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں کیا تکلیف ہے؟اس نے کہا مجھے ایک زخم کی وجہ سے تکلیف ہےحضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لڑکے!فصد لگانے والے کو بلاؤ اس نے پوچھااے ابو عبداللہ!فصد لگانے والے کو کیا کرو گے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں اس نے کہا پھر مجھ پر(یا میرے زخموں پر)مکھیاں بیٹھے گی یا اس زخم پر کپڑا لگے گا اور اس سے مجھے تکلیف ہوگی جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ پچھنا لگوانے سے گھبرا رہا ہے تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر تمہاری دعاؤں میں سے کسی چیز میں خیر ہے تو پچھنے لگوانے میں یا شہد کا ایک گھونٹ پینے میں یا آگ سے داغ لگوانے میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا(راوی کہتے ہیں)کہ پھرایک حجام آیا اس نے پچھنا لگوایا اور اس کی تکلیف ختم ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۲)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پچھنا لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو پچھنا لگائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳۳)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو انھوں نے ان کی ایک رگ کاٹ کر داغ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہے لیکن اس میں رگ کاٹنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے داغ لگایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں تیر لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھالا کے ساتھ اسے داغاان کا ہاتھ سوج گیا تو آپ نے اسے دوبارہ داغا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فصد لگائی اور فصد لگانے والے کو اس کی اجرت عطا فرمائے اور ناک میں دوائی بھی چڑھائی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فصد لگوائی اور آپ کسی شخص کی اجرت میں کمی نہیں کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۹)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک بخار کی شدت جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۱)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈاکرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۵)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی بخار زدہ عورت لائی جاتی تو وہ پانی منگوا کر اس کے گریبان میں ڈالتی اور فرماتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو بے شک یہ جہنم کے جوش سے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں جہنم کے جوش کا ذکر نہیں ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦٤۷،حدیث نمبر ٥٦٤٨)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیںمیں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦٤٩)
حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو اپنے آپ سے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔ابوبکر کی روایت میں"اپنے آپ سے" کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦۵۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مرض میں ہم نے آپ کے منہ میں دوائی ڈالی تو آپنے اشارے کے ساتھ دوا ڈالنے سے منع فرما دیا۔ یا ہم نے خیال کیا شاید مرض کی وجہ سے ناپسند فرما رہے ہیں جب آپ شفایاب ہوئے تو فرمایا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا سب کے منہ میں دوا ڈال دی جائے کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے(کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کر کے منع کیا تھا لہذا بطور سزا یہ حکم فرمایا)۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦۵۱)
حضرت عکاشہ بن محصن کی بہن ام قیس بنت محصن بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ بچہ ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا پھر میں ایک اوربچے کو لے کر حاضر خدمت ہوئی جسے میں نے اس کے تالو کے ورم کی وجہ سے دبایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بچوں کا حلق کیوں دباتی ہوں تم اس پر عودھندی(کٹھ)کو لازم رکھو اس میں سات چیزوں سے شفا ہے جن میں نمونیا بھی ہے تالو کی بیماری میں ناک سے دوا ڈالی جائے اور نمونیا میں منہ سے دوا ڈالی جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ؛جلد٤ص١٧۳٤؛حدیث نمبر٥٦۵۲)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام قیس بنت محصن جو پہلے ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھی جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی اور یہ حضرت عکاشہ بن محصن کی بہن تھی جو اسد بن خزیمہ کی اولاد سے تھے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ام قیس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک بچے کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جو ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا انہوں نے تالو کی بیماری کی وجہ سے اس کا حلق دبایا تھا ان کو یہ خوف تھا کہ کہیں اس کے تالو میں ورم نہ ہو۔ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی اولاد کا حلق کیوں دباتی ہو تم اس عودھندی کو لازم کر لو اس سے قسط(کٹھ)مراد ہے کیونکہ یہ سات بیماریوں کے لئے شفا ہے جن میں سے ایک نمونیہ ہے۔ حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ام قیس نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اس بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں پیشاب کردیا تو آپ نے اس کے پیشاب پرپانی بہایا اور اس کو اچھی طرح نہیں دھویا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے چار سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵٦)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے جب ان کے ہاں کسی کا انتقال ہوتا تو عورتیں وہاں(تعزیت کے لئے)جمع ہوتیں پھر گھر والے اور خاص لوگ رہ جاتے اور باقی چلی جاتیں اس وقت وہ پتیلی میں حریرہ پکانے کا حکم دیتیںں اس کو پکایا جاتا ہے پھر ثرید بنایا جاتا اور اس پر حریرہ ڈالا جاتا پھر آپ فرماتیں اس کو کھاؤ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا حریرہ مریض کے دل کو خوش کرتا اور کچھ نہ کچھ غم کو دور کر دیتاہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵۷)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے پلایا پھر آیا اور عرض کیا کہ میں نے شہد پلایا تھا لیکن اس سے دست اور بڑھ گئے ہیں آپ نے اسے تین بار یہی بات فرمائی چوتھی مرتبہ آیا تو آپ نے فرمایااسے شہد پلاؤ اس نے عرض کیا میں نے اسے شہد پلایا تھا لیکن اس سے دست بڑھ گئے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے کہ(شہد میں شفا ہے) اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵۸)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میرے بھائی کا پیٹ بہت خراب ہے آپ نے اس سے فرمایا اس کو شہد پلاؤ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٥٨کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦۵۹)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل پر بھیجا گیا یا فرمایا تم سے پہلے لوگوں پربھیجا گیا جب تم سنو کے کسی علاقے میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کہیں یہ بیماری پھیلے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔ راوی ابو نصر کہتے ہیں"لایخرجکم"۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦٦٠)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون عذاب کی ایک علامت ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کو طاعون میں مبتلا کیا جب تم اس کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے نہ بھاگو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦٦۱)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ طاعون عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں یا(فرمایا)بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا جب یہ کسی علاقہ میں ہو تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو اور جب یہ کسی علاقہ میں ہو تو وہاں داخل نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۲)
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عذاب ہے جو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل فرمایا یا فرمایا تم سے پہلے کچھ لوگوں پر نازل فرمایاجب تم اس کے بارے میں سنو کہ وہ کسی علاقہ میں پھیلا ہوا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تمہارے علاقہ میں طاعون آجائے تو اس سے بھاگ کر نہ نکلو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی مزید دو سندی ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ درد یا بیماری ایک عذاب ہے اس کے ساتھ تم سے پہلے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا پھر یہ زمین میں باقی رہ گیاپس کبھی یہ چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتا ہے لہذا جو شخص سنے کہ فلاں جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جائے اور جو شخص کسی علاقہ میں ہو اور وہاں طاعون آجائے تو وہاں سے نہ بھاگے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۵)
امام مسلم رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦٦)
حضرت حبیب کہتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیل گیا ہے حضرت عطاء بن یسار وغیرہ نے مجھ سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں ہوں اور وہاں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلے اور جب تجھے خبر پہنچے کہ فلاں علاقے میں طاعون پھیل گیا ہے تو وہاں نہ جا میں نے پوچھا تم نے یہ کس سے سنا ہے لوگوں نے کہا عمر بن سعد اس حدیث کو بیان کرتے ہیں فرماتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ موجود نہیں ہے فرماتے ہیں میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس وقت حضرت اسامہ نے یہ حدیث حضرت سعد سے بیان کی اس وقت میں موجود تھا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ درد ایک عذاب ہے یا اس عذاب کا بقیہ ہے جو تم سے پہلے کچھ لوگوں پہ نازل ہوا جب کسی علاقہ میں یہ بیماری ہواور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں خبر پہنچے کہ فلاں جگہ پر بیماری ہے تو وہاں داخل نہ ہو۔حضرت حبیب فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کیا آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ حدیث بیان کر رہے تھے اور انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟انہوں نے کہا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۷)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے لیکن اس حدیث کے آغاز میں حضرت عطاء بن یسار کا واقعہ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۸)
حضرت سعد بن مالک،حضرت خزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے بعد حدیث نمبر٥٦٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۹)
ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہما دونوں بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٦٧کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦۷۰)
ابراہیم بن سعد بن مالک نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےحدیث نمبر ٥٦٦٧کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤٠؛حدیث نمبر٥٦۷۱)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے حتیٰ کہ مقام سرغ پر پہنچے تو اہل اجناد میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی آپ سے ملے انہوں نے بتایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اولین مہاجرین کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے مشورہ کیا اور ان کو بتایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے۔ (اس مسئلے میں)ان لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ان میں سے بعض نے کہا آپ ایک کام کے لیے نکلے ہیں ہمارے خیال میں آپ کا واپس جانا درست نہیں جبکہ دوسرے بعض نے کہا آپ کے ساتھ بعض باقی اور صحابہ کرام ہیں ہمارے خیال میں ان کو اس وباء میں لے جانا مناسب نہیں فرمایا میرے پاس سے چلے جاؤ۔ پھر فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کی طرح ان میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا فرمایا اٹھ جاؤ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا فتح مکہ کے موقع پر قریش کے جو بزرگ موجود تھے ان میں سے جو حضرات یہاں ہے ان کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو ان میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوا انہوں نے کہا ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو واپس لے جائیں اور ان کو اس وباء میں نہ لے جائیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ صبح میں سوار ہو جاؤں گا پس لوگ بھی سوار ہو گئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالی کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عبیدہ کاش یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے اختلاف کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے ہاں ہم اللہ تعالی کی تقدیر سے اس کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں فرمایا بتاؤ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم کسی ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہو ایک سرسبز و شاداب اور دوسری بنجر ویران ہو تو اگر تم سرسبزوشاداب میں چراؤ گے تو اللہ تعالی کی تقدیر سے چراؤ گے اور اگر تم بنجر علاقے میں چراؤ گے تو بھی تقدیر خداوندی سے چراؤ گے۔ راوی فرماتے ہیں اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف آ گئے جو پہلے کسی کام سے گئے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں میرے پاس علم ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی پھر واپس تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤٠؛حدیث نمبر٥٦۷۲)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یوں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر کوئی شخص سر سبز وادی چھوڑ کر خشک علاقے میں جانوروں کو چرائے تو کیا تم اسےالزام دو گے انہوں نے کہا جی ہاں فرمایا ٹھیک ہے اب چلو حتیٰ کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو فرمایا یہی تمہاری منزل ہے یا فرمایایہی محل ہے(مقام)انشاء اللہ تعالی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۱؛حدیث نمبر٥٦۷۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے البتہ اس میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن حارث نے ان سے بیان کیا عبداللہ بن عبد اللہ کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷٤)
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شام کی طرف تشریف لے گئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں وبا کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو۔چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس ہوگئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی حدیث کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ صفر اور الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے تو ایک اعرابی نے کہا یا رسول اللہ! پھر کیا وجہ ہے کہ اونٹ ریگستان میں ہرنوں کی طرح پھر رہے ہوتے ہیں۔ پھر ان میں ایک خارش زدہ داخل ہوتا ہے تو سب کو خارش میں مبتلا کر دیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ہے؟(یعنی جس نے پہلے اونٹ کو خارش لگائی اسی نے دوسرے کو بھی اس میں مبتلا کیا) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛ترجمہ؛مرض کا متعدی ہونا،بدشگونی،الو اور صفر(کی نحوست)ستارے(کے سبب سے بارش)اور غول کی کوئی اصل نہیں؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتی،نہ ہی بدشگونی ہے نہ صفراور الو کی نحوست کی کوئی اصل ہے آگے حدیث نمبر ٥٦٧٦کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہے پھر ایک اعرابی کھڑا ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٧٦ کے مثل مروی ہے ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی وسلم نے فرمایا مرض متعدی ہوتا ہے اور نہ ہی صفر اور الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۸)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں یہ دونوں حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد اس حدیث کو بیان کرنا چھوڑ دیا کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور اس حدیث پر قائم رہے کہ کسی بیمار کو کسی صحیح کے پاس نہ لایا جائے راوی کہتے ہیں حارث بن ابی ذباب جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا تھے انہوں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے آپ سے سنا تھا کہ آپ اس حدیث کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے ہیں جس کو آپ بیان کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ کہتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو پہچاننے سے انکار کر دیا اور فرمایا بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔حضرت حارث اس سے مطمئن نہ ہوے حتیٰ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان پر غضبناک ہوئےاور حبشی زبان میں کچھ کہا پھر حضرت حارث سے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے انہوں نے کہا نہیں،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نے فرمایامیں نے کہا ہے کہ میں انکار کرتا ہوں۔ حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی پس مجھے معلوم نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے یا ایک روایت نے دوسرے روایت کو منسوخ کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۹)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۰)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی نہ الو(کی نحوست)نہ ستارے(کی وجہ سے بارش)اور نہ صفر(کی نحوست)کی کوئی حقیقت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۲)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بدشگونی اور غول کی کوئی حقیقت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۳)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور غول اور صفر(کی نحوست)کی کوئی حقیقت نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفراورغول کی کوئی حقیقت نہیں اور میں نے حضرت ابو زبیر سے سنا وہ ذکر فرماتے تھے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے"لا صفر"کی وضاحت کی ہے ابو زبیر کہتے ہیں صفر سے مراد پیٹ ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اس کا کیا مطلب ہے؟توانہوں نے فرمایا پیٹ کے کیڑے،ابو زبیر نے کہا انہوں نے غول کی تفسیر نہیں کی ابو زبیر نے کہایہ غول وہ ہے جو مسافروں کو ہلاک کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں اچھا شگون نیک شگون ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ!نیک شگون کیا ہے؟فرمایااچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛ترجمہ؛بدشگونی،نیک شگون اور جن چیزوں میں نحوست ہے؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸٦)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سند بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی بدفالی ہے اور مجھے نیک شگون اچھا لگتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں آپ نے فرمایا نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے اور نہ بدشگونی ہے اور نیک شگون مجھے پسند ہے فرماتے ہیں پوچھا گیا کہ نیک شگون کیا ہے؟فرمایا"اچھی بات"۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی بدشگونی ہے اور مجھے اچھا شگون پسند ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے اور نہ الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے اور نہ ہی بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۱)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر،عورت اور گھوڑے میں نحوست ہوسکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۲)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں نحوست صرف تین چیزوں میں ہو سکتی ہے گھر،عورت اور گھوڑے۔ (یعنی اگر نحوست ہوتی تو ان چیزوں میں ہوتی ان کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے جب ان میں نہیں تو کسی چیز میں ہوگی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے متعدد سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مرض کا متعدی ہونا اور بدشگونی بے اصل باتیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی چیز میں نحوست کا ہونا برحق ہے تو وہ گھوڑے،عورت اور مکان میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹۵)
ایک اور سند میں یہ حدیث مروی ہیں لیکن اس میں"حق" کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز میں بدشگونی ہو تو وہ گھوڑے مکان اور عورت میں ہو سکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹۷)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نحوست ہوگی تو عورت گھوڑے اور رہائش گاہ میں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹٨)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٦٩٨ کےمثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹۹)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو مکان،خادم اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥۷۰۰)
حضرت معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ!کچھ ایسے کام ہے جو ہم لوگ دور جاہلیت میں کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے آپ نے فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ میں نے عرض کیا ہم بدشگونی لیتے تھے فرمایا یہ(بدشگونی)محض تمہارے دل کا خیال ہے پس تم اس کے درپے نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛ترجمہ؛کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥۷۰۱)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیعلیہ نے اس حدیث کی چار سندیں ذکر کی ہیں البتہ امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت میں بدفالی کا ذکر ہے کاہنوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٤۹؛حدیث نمبر٥۷۰۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ مختلف سندوں کے ساتھ حدیث نمبر٥٧٠١ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا(یارسول اللہ!)ہم میں کچھ لوگ زائچے بناتے ہیں آپ نے فرمایا انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی زائچہ بناتے تھے پس جو ان کے طریقے کے مطابق ہو تووہ حق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٤۹؛حدیث نمبر٥۷۰۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کاہن جو باتیں ہم سے کرتے ہیں ان میں سے بعض کو ہم حق پاتے ہیں آپ نے فرمایا یہ کلمہ حق ہوتا ہے جس کو جن اچک لیتے ہیں اور پھر اسے اپنے ولی(کاہن)کے کان میں ڈالتے ہیں اور اس میں سو جھوٹ کا اضافہ کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧۵۰؛حدیث نمبر٥۷۰٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی االلہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ان سے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں انہوں نےعرض کیا یا رسول اللہ وہ جو باتیں کرتے ہیں بعض اوقات وہ سچ نکلتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ سچی بات ہوتی ہے جس کو جن اچک لیتا ہے پس اس کو اپنے ولی(کاہن)کے کان میں پھینک دیتا ہے جیسا کہ مرغ،مرغی کو دانے کے لئے بلاتا ہے اس میں ایک سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧۵۰؛حدیث نمبر٥۷۰۵)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے خبر دی کہ ایک رات وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی پھیل گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زمانہ جاہلیت میں تم اس کے بارے میں کیا کہتے تھے جب اس طرح ستارہ ٹوٹتاتھا انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ہم کہتے تھے کہ اسرات کسی بڑے آدمی کی پیدائش ہوئی ہے اور کوئی بڑا آدمی فوت ہوا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے یہ نہیں ٹوٹتا لیکن ہمارا رب جس کا نام برکت والا اور بلند ہے جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر جو ان کے قریب آسمان کے فرشتے ہیں وہ تسبیح بیان کرتے ہیں حتی کہ اس دنیوی آسمان والوں تک ان کی تسبیح پہنچتی ہے۔ پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا تو وہ ان کو اس بات کی خبر دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے فرمائی فرمایا اسی طرح بعض آسمان والے دوسرے بعض کو خبر دیتے ہیں حتی کہ وہ خبر اس دنیوی آسمان والوں تک پہنچتی ہے پھر جن اس کی کی ہوئی بات کو لے اڑتے ہیں اور اپنے دوستوں(کاہنوں)کی طرف ڈال دیتے ہیں اگر وہ اسے اسی طرح بیان کریں تو یہ حق ہے لیکن وہ اس میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰۷)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے بعض انصار نے مجھ سے بیان کیا کہ تمہارے رب نے جو کچھ بیان کیا وہ حق ہے لیکن وہ کاہن اس میں ردوبدل کرتے اور کچھ ملا دیتے ہیں۔ اس حدیث کے الفاظ میں راویوں کا اختلاف ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥۱؛حدیث نمبر٥۷۰۸)
نبی اکرم صلی وسلم کی بعض ازواج مطہرات،آپ سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر کوئی بات پوچھے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰۹)
حضرت عمرو بن شرید،اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی شخص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا کہ تم واپس چلو ہم تم سے بیعت کر چکے ہیں۔(بعض احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی(کوڑھ والے)کے ساتھ کھانا کھایا چنانچہ دونوں قسم کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں جہاں منع کیا وہاں احتیاط کے طور پر تاکہ کسی کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے جہاں ساتھ کھایا وہاں تعلیم امت کے لئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا درس دینے کی خاطر منع کیا،١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اجْتِنَابِ الْمَجْذُومِ وَنَحْوِهِ؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۰)
سانپوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو مارنے کا بیان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو دہاریوں والے سانپ کو مارنے کا حکم دیا کیونکہ وہ بصارت کو زائل کر دیتا اور حمل کو گرا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛سانپوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۱)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں دو دہاریوں والے اور دم کٹے دونوں سانپوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۲)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر دو دہاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو کیونکہ یہ حمل کو گرا دیتے ہیں اور بصارت کوزائل کر دیتے ہیں۔ حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جس سانپ کو پاتے اسے قتل کر دیتے حضرت ابو لبانہ بن عبدالمنذر یا حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک سانپ کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیتے تھے فرماتے تھے سانپوں اور کتوں کو مارو اور دو دہاریوں والے نیز دم بریدہ سانپ کو ہلاک کرو کیونکہ یہ بصارت کو زائل کرتے اور حاملہ عورتوں کے حمل کو گرا دیتے ہیں حضرت زہری فرماتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ یہ ان کے زہر کی تاثیر ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جس سانپ کو دیکھتا اسے مار دیتا ایک دن میں گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ حضرت زید بن خطاب یاحضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہما گزرے اور میں اس سانپ کا پیچھا کر رہا تھا انہوں نے کہا عبداللہ!ٹھہر جاؤ میں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱٤)
حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا یونس کی روایت میں ہے کہ سانپوں کو مارو اس میں دو دہاری والے اور دم بریدہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱۵)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی کہ وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول دیں تاکہ وہ مسجد کے قریب ہو جائیں اتنے میں لڑکوں کو سانپ کا چمڑا ملا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کو تلاش کر کے ہلاک کر دو حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا جو گھروں میں رہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱٦)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمام سانپوں کو مار ڈالتے تھے حتیٰ کہ حضرت لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ کام چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۷)
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۸)
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۹)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر قبا میں تھا وہ مدینہ طیبہ منتقل ہو گئے ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ دیکھا ان لوگوں نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور دو دہاری والے اور دم بریدہ سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں سانپ نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے(پیٹ کے)بچوں کو گرا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۲۰)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گرے ہوئے مکان کے پاس تھے کہ انہوں نے ایک سانپ کی جھلی دیکھی(مراد پیٹھ کی چمک ہے)فرمایا اس سانپ کا پیچھا کرو اور اس کو ہلاک کر دو۔ حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے گھریلو سانپوں کو ہلاک کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ دم کٹے اور دو دہاری والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم ہے کیونکہ یہ نظرکو زائل کرتے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۲۱)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس قلعے میں سانپ تلاش کر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲۲)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غارمیں تھے کہ آپ پر"والمرسلات عرفا"(سورت) نازل ہوئی۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے یہ سورت تازہ بہ تازہ سن رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکلا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو قتل کر دو ہم اسے مارنے کے لیے جلدی کرنے لگے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل گیا۔ نبی اکرم صلی وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسا کہ تمہیں اس کے شر سے بچایا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٤)
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ سانپ کو مارے اور وہ شخص حالت احرام میں تھا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٥)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے اس کے بعد حدیث نمبر٥٧٢٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٦)
حضرت ابو السائب فرماتے ہیں وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گئے تووہ نماز پڑھ رہے تھے فرماتے ہیں میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں اتنے میں گھر کے کونے میں رکھی ہوئی لکڑیوں سے حرکت کی آواز آئی میں نے مڑ کر دیکھا تو سانپ تھا میں اسے قتل کرنے کے لیے کود پڑا تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مجھے بیٹھنے کے لئے اشارہ کیا میں بیٹھ گیا حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس مکان کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اس کوٹھڑی کو دیکھ رہے ہو؟میں نے کہا جی ہاں میں دیکھ رہا ہوں فرمایا ہمارا ایک نوجوان تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خندق کی طرف نکلے اور یہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر کی طرف جاتا تھا۔ایک دن اس نے اجازت لی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنا ہتھیار لے جاؤ کیونکہ مجھے تم پر قریظہ کا ڈر ہے۔وہ نوجوان ہتھیار لے کر چلا گیا وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے کے دونوں کناروں کے درمیان کھڑی ہے اس نے غیرت میں آکر اس کو نیزہ مارنا چاہا تو عورت نے کہا اپنا نیزہ روک لو اور اندر داخل ہو جاؤ حتی کہ تم دیکھو کہ میں کس وجہ سے باہر آئی ہوں وہ داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہےاس نے اس سانپ کو مارنے کا ارادہ کیا اور اسے نیزے میں پرو دیا۔ پھر باہر نکل کر وہ نیزہ مکان میں گاڑ دیا اس کے بعد وہ سانپ اس نوجوان پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور پتہ نہ چل سکا کہ ان میں سے کون پہلے مرا سانپ یا نوجوان؟ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا اور عرض کیا کہ اس نوجوان کے لئے اللہ تعالی سے دعا مانگے کہ وہ اسے ہمارے لئے زندہ کر دے۔ آپ نے فرمایا اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا مانگو،پھرفرمایا مدینہ طیبہ میں جن رہتے ہیں جو اسلام قبول کر چکے ہیں اگر تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک اسے خبردار کرو اس کے بعد بھی اگر وہ دکھائی دے تو اسے قتل کردو وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٦؛حدیث نمبر٥۷۲٧)
حضرت ابو السائب بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس دوران کے ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے حرکت کی آواز سنی ہم نے دیکھا تووہ سانپ تھا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٧٢٧کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان گھروں میں آباد رہنے والے سانپ ہے جب تم ان میں کسی سانپ کو دیکھو تو اسے تین دن تک تنگ کرو اگر چلا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے قتل کر دو بے شک وہ کافر ہے(اس روایت میں یہ ہے کہ)آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کرو۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٦؛حدیث نمبر٥۷۲۸)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ میں کچھ جن ہے جو اسلام قبول کر چکے ہیں تو تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین دن تک خبردار کرے اس کے بعد بھی نظر آئے تو اسے قتل کر دے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۲۹)
حضرت ام شریک کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا ابن ابی شیبہ کی روایت میں(امرھا کی بجائے)امر کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛ترجمہ؛گرگٹ کو مارنے کا استحباب؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۳۰)
حضرت ام شریک کہتی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گرگٹ کو مارنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کو مارنے کا حکم دیا۔ نوٹ:۔ام شریک بنو عامر بن لوئی کی عورتوں میں سے تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۳۱)
حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق(چھوٹا فاسق)رکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو فویسق فرمایا حرملہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں سنا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پہلی ضرب میں گرگٹ کو قتل کرے اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو شخص اسے دوسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنی نیکیاں ہوں گی پہلے سے کم کا ذکر کیا اور اگر تیسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنی اتنی اتنی نیکیاں ہوں گی جو دوسری ضرب سے کم ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے گرگٹ کو پہلی ضرب میں مار دیا اس کے لیے ایک سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے بھی کم لکھی جائیں گی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا پہلی ضرب میں ستر نیکیاں ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک چیونٹی نے انبیائے کرام میں سے کسی ایک نبی کو کاٹ دیا تو ان کے حکم سے چیونٹی کی پوری بستی کو جلا دیا گیا اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے اللہ کی مخلوق میں سےایک گروہ کو ہلاک کر دیاجواللہ تعالی کی تسبیح کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛ترجمہ؛چیونٹی کو مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی،ایک درخت کے نیچے اترے تو ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے درخت کے نیچے سے چیونٹیوں کا چھتہ نکالنے کا حکم دیا پھر ان کے حکم سے اسے جلا دیا گیا پس اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم نے ایک ہی چیونٹیوں کو جلایا ہوتا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ دیا انہوں نے حکم دیا کہ چونٹیوں کے اس چھتے کو نکال دیا جائے پھر اسے جلانے کا حکم دیا اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ نے صرف ایک چیونٹی کو مارنے پر اکتفاء کیوں نہ کیا۔(امام نووی فرماتے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ اس نبی کے زمانے میں چیونٹی کو مارنا اور جلانا جائز تھا اس لئے ان کو اصل قتل پر نہیں بلکہ ایک سے زیادہ کے قتل پر تنبیہ کی گئی ہے لیکن ہماری شریعت میں جلانا جائز نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۹)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا جس نے اسے قید کر رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مر گئی وہ عورت اس سبب سے جہنم میں چلی گئی جب اس نے اس بلی کو قید کیا تو اسے کچھ بھی کھلاتی پلاتی نہیں تھی اور نہ ہی اس نے اسے کیڑے مکوڑے کھانے کے لئے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛ترجمہ؛بلی کو مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤٠کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۱)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤٠کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا وہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ ہی اس نے اس کو کیڑے مکوڑے کھانے کے لئے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے معنی میں ایک اور روایت بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤۳کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں جا رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا تو اس نے اس میں اتر کر اس سے پانی پیا پھر باہر نکلا تو وہاں ایک کتا تھا جو پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس شخص نے سوچا پیاس کی وجہ سے اس کتے کی حالت بھی وہی ہو رہی ہے جو میری تھی وہ کنواں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑ کر اوپر آیا اور کتے کو پانی پلا کر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا پس اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہمیں ان جانوروں کے سلسلے میں اجر ملتا ہے آپ نے فرمایا ہر تر جگر میں اجر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛ترجمہ؛جانوروں کو کھلانے پلانے کی فضیلت؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دن ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اس عورت نے اپنے موزے میں پانی لے کر اسے پلایا تو اس کی بخشش کر دی گئی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک کتا کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے ہلاک کردے کہ ایک فاحشہ عورت نے اسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور(اس میں پانی بھر کر)اس کتے کو پلایا تو اس نیکی کے بدلے اس کو بخش دیا گیا۔ (جب ایک کتے کی پیاس دور کرنے کی وجہ سے انسان کی بخشش ہو جاتی ہے تو انسان پر رحم کھانا کتنی فضیلت کا باعث اور اس پر ظلم کتنا بڑا جرم ہے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔) (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۹)
عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام فاسق رکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٢)
Muslim Shareef : Kitabus Salame
|
Muslim Shareef : كِتَابُ السَّلَامِ
|
•