
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایاابن آدم زمانے کو برا بھلا کہتا ہے اور میں زمانہ(کا خالق)ہوں دن اور رات کی گردش میرے قبضے میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛ادب وغیرہ کے الفاظ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ؛ترجمہ؛زمانے کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤ص١٧٦۲؛حدیث نمبر٥۷۵۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ انسان مجھے ایذا پہنچاتا ہے وہ زمانے کوبرا بھلا کہتا ہے اور میں ہی زمانہ(کاخالق)ہوں میں دن اور رات کو بدلتا رہتا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ؛جلد٤ص١٧٦۲؛حدیث نمبر٥۷۵۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے وہ کہتا ہے"ہائے زمانے کی نامرادی"تو تم سے کوئی شخص"ہائے زمانے کی نامرادی"نہ کہے میں ہی زمانہ(کا خالق)ہوں میں رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں اور جب میں چاہوں گا اس کو قبض کر لوں گا(ختم کر دوں گا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ؛جلد٤ص١٧٦۲؛حدیث نمبر٥۷۵۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص"ہائے زمانے کی خرابی"نہ کہے بے شک اللہ ہی زمانہ(کاخالق)ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا زمانے کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ تعالی ہی زمانے(کا خالق)ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ برائی زمانے میں نہیں ہوتی کیونکہ زمانہ کوئی حسی چیز نہیں بلکہ برائی انسان کے اپنے عمل میں ہوتی ہے لہذا زمانے کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے آپ کو کہنا چاہیے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص زمانہ کو برا بھلا نہ کہے کیونکہ اللہ تعالی ہی زمانے(کاخالق)ہے اور تم میں سے کوئی شخص انگور کو کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛ترجمہ؛انگور کو کرم کہنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا(انگور کو)کرم نہ کہو کرم تو مومن کا دل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کا نام کرم نہ رکھو کیونکہ کرم(کریم)تو مسلمان آدمی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک(انگور کو)کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مومن کا دل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی ایک انگور کو کرم نہ کہےبے شک کرم تو مسلمان مرد ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦۳؛حدیث نمبر٥۷۵٩)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کرم نہ کہو بلکہ حبلۃ یعنی انگور کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦٤؛حدیث نمبر٥۷٦٠)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرم نہ کہو بلکہ عنب اور حبلۃ(انگور)کہو۔ (علماےکرام فرماتے ہیں اہل عرب انگور کے درخت اور انگور پر کرم کا لفظ استعمال کرتے تھےنیز انگور سے بنائی گئی شراب پر بھی لفظ کرم کا اطلاق کرتے تھےکیونکہ وہ انگور سے بنائی جاتی تھی چونکہ جب وہ لفظ کرم بولتے تو شراب کی یاد آ جاتی اور اس کی رغبت پیدا ہوتی تھی اس لئے اس اطلاق سے منع کیا گیا۔) (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًاِ؛جلد٤ص١٧٦٤؛حدیث نمبر٥۷٦۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی"عبدی"(میرا بندہ)اور امتی(میری بندی)نہ کہے تم سب اللہ تعالی کے بندے ہو اور تمہاری سب عورتیں اللہ تعالی کی بندیاں ہیں بلکہ میرا غلام،میری لونڈی(جاریہ)میرا ملازم اور میری نوکرانی کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةِ، وَالْمَوْلَى، وَالسَّيِّدِِ؛ترجمہ؛لفظ عبد،امۃ،مولیٰ اور سید کا اطلاق؛جلد٤ص١٧٦٤؛حدیث نمبر٥۷٦۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی کو میرا بندہ نہ کہے تم سب اللہ تعالی کے بندے ہو بلکہ یوں کہے میرا نوکر اور غلام"میرا رب"کے الفاظ(کسی انسان کے لیے)نہ کہے بلکہ میرا سید(مالک) کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةِ، وَالْمَوْلَى، وَالسَّيِّدِِ؛جلد٤ص١٧٦٤؛حدیث نمبر٥۷٦۳)
ایک روایت میں ہے کہ غلام اپنے سردار کو میرا مولا نہ کہے کیونکہ تم سب کا مولا اللہ عزوجل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةِ، وَالْمَوْلَى، وَالسَّيِّدِِ؛جلد٤ص١٧٦٤؛حدیث نمبر٥۷٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے اپنے رب کو پلا اپنے رب کو کھلا اپنے رب کو وضوکرا اور نہ کسی کو اپنا رب کہے بلکہ میرا سردار کے الفاظ کہے اور تم میں سے کوئی ایک کسی شخص کو میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے بلکہ میرا نوکر اور میری نوکرانی کہے۔(چونکہ حقیقتاً ربوبیت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے وہی حقیقی مالک اور پالنے والا ہے اس کے بندوں پر اس کا اطلاق نہ کیا جائے البتہ جائز ہے یعنی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةِ، وَالْمَوْلَى، وَالسَّيِّدِِ؛جلد٤ص١٧٦۵؛حدیث نمبر٥۷٦۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ بات نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا بلکہ یوں کہے کہ میرا نفس سست اور کاہل ہوگیا۔ راوی ابو بکر نے اس روایت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا اور اس میں«لَكِنْ»کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي؛ترجمہ؛"میرا نفس خبیث ہوگیا"کہنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٦۵؛حدیث نمبر٥۷٦٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي؛جلد٤ص١٧٦۵؛حدیث نمبر٥۷٦٧)
حضرت سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا بلکہ یوں کہے کہ میرا نفس سست ہو گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي؛جلد٤ص١٧٦۵؛حدیث نمبر٥۷٦۸)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک پست قد عورت تھی جو دو لمبے قد کی عورتوں کے درمیان چلتی تھی تو اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں اور سونے کے خول کی ایک انگوٹھی بنائی پھر اس میں مشک کی خوشبو بھری اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے وہ ان دونوں عورتوں کے درمیان چلیں تو انہوں نے اس کو نہ پہچانا اس نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا،حضرت شعبہ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ؛ترجمہ؛کستوری کا استعمال اور ریحان اور خوشبو کو مسترد کرنے کی کراہت؛جلد٤ص١٧٦۵؛حدیث نمبر٥۷٦۹)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا جس نے انگوٹھی میں مشک بھری تھی اور مشک(کستوری)تمام خوشبوؤں میں سے اچھی خوشبو ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ؛جلد٤ص١٧٦٦؛حدیث نمبر٥۷۷۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو ریحان(پھول) پیش کیا جائے وہ اس کو واپس نہ کرے کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور خوشبو اچھی ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ؛جلد٤ص١٧٦٦؛حدیث نمبر٥۷۷۱)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ جب خوشبو کی دھونی لیتے توعود(اگربتی) کی دھونی لیتے جس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہوتی یا عود میں کافور ملا کر ڈالتے پھر بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح دھونی لیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا؛ِبَابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ؛جلد٤ص١٧٦٦؛حدیث نمبر٥۷۷۲)
Muslim Shareef : Kitabul Alfaze Minal Adabe
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا
|
•