
حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک دن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوا آپ نے پوچھا کیا تمہیں امیہ بن ابی الصلت کا کوئی شعر یاد ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا سناؤ میں نے ایک شعر سنایا فرمایا اور سناؤ میں نے ایک اور شعر سنایا فرمایا اور سناؤ چنانچہ میں نے ایک سو اشعار سنادئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛ترجمہ؛اشعار کا بیان؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷۳)
حضرت شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٧٧٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷٤)
حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کو کہا اس کے بعد حدیث نمبر٥٧٧٣ کے مثل مروی ہے۔ابراہیم بن میسرہ کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا وہ(امیہ بن صلت) مسلمان ہونے کے قریب تھا ابن مہدی کی روایت میں ہے کہ وہ اپنے اشعار میں اسلام کے قریب تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سب شعراء کے کلام میں لبید کا یہ شعرسب سے بہترین شعر ہے"أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ "(ترجمہ)سنو اللہ تعالی کے سوا ہر شی فانی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاعروں کے کلام میں لبید کا یہ شعر سب سے زیادہ اچھا ہے۔ "أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ" (ترجمہ)"سنو اللہ تعالی کے سوا سب کچھ فانی ہے" اور امیہ بن صلت اسلام لانے کے قریب تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شعراء کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا یہ شعر ہے"أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ "(ترجمہ)سنو اللہ تعالی کے سوا ہر شی فانی ہے" (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاعروں کے کلام میں لبید کا یہ شعر سب سے زیادہ سچا ہے۔ "أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ "(ترجمہ)سنو اللہ تعالی کے سوا ہر شی فانی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۷؛حدیث نمبر٥۷۷٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے پیٹ میں پیپ بھر جانا شعر بھر جانے سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۹؛حدیث نمبر٥۷۸٠)
حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۹؛حدیث نمبر٥۷۸١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرج(مقام)کی طرف جا رہے تھے کہ سامنے ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا آیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو پکڑو یا فرمایا اس شیطان کو روک لو،(فرمایا)انسان کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ شعر کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے۔(اشعار کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اچھے اشعار کہنا اور پڑھنا اچھا ہے اور برے اشعار کہنا اور پڑھنا برا ہے اور اسی طرح شعر گوئی میں مصروف رہنا اور عبادت وغیرہ سے غافل ہونا بھی منع ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛جلد٤ص١٧٦۹؛حدیث نمبر٥۷۸٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چوسر کھیلتا ہے گویا اپنے ہاتھوں کو خنزیر کے گوشت اور اس کے خون سے رنگتا ہے۔ (جس طرح خنزير کا گوشت حرام ہے یہ کھیل بھی) (مسلم شریف؛كتاب الشِّعْرِ؛بَابُ؛تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدَشِيرِ؛ترجمہ؛نردشیر(چوسر)کھیلنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٧٠؛حدیث نمبر٥۷٨٣)
Muslim Shareef : Kitabus Shere
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الشِّعْرِ
|
•