
خوابوں کا بیان حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں خواب دیکھتا تھا جس سے بخار کی سی کیفیت ہو جاتی تھی لیکن میں چادر نہیں اوڑھتا تھا حتی کہ جب حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے ذکر کیا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا"رؤیا"(اچھا خواب)اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اور حلم(برا خواب) شیطان کی طرف سےہوتا ہے جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو تین بار اپنے بائیں جانب تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگیں بیشک یہ(خواب)اسے ضرر نہ دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛ترجمہ؛خوابوں کا بیان؛جلد٤ص١٧٧۱؛حدیث نمبر٥۷۸٤)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٧٨٤کے مثل روایت کرتے ہیں لیکن اس حدیث میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول مذکور نہیں کہ میں خواب دیکھتا تھا تو میری بخار کی سی کیفیت ہوجاتی تھی البتہ میں چادر نہیں اوڑھتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۱؛حدیث نمبر٥۷۸٥)
امام مسلم رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں لیکن ان میں بخار کی حالت کا ذکر نہیں یونس کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں جب وہ نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۱؛حدیث نمبر٥۷۸٦)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اچھا خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہےپس جب تم میں سے کوئی شخص خواب میں ناپسندیدہ بات دیکھے تو تین بار اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اسے اس خواب سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں بعض اوقات میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھ سے پہاڑ سے زیادہ بھاری ہوتے تھے اس حدیث کو سننے کے بعد پھر مجھے کسی برے خواب کی پرواہ نہیں رہی۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۱؛حدیث نمبر٥۷۸٧)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ثقفی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں خواب دیکھتا تھا لیث اور ابن نمیر کی روایت میں ابو سلمہ کا یہ قول نہیں ابن رمح کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جس کروٹ پر لیٹا ہوں اس سے پھر جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۲؛حدیث نمبر٥۷۸٨)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہے پس تم میں سے جو شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تھوک دے اور شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے یہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا اور وہ خواب کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور اگر اچھا خواب دیکھے تو اسے بیان کریں اور صرف اس سے بیان کرے جو اس سے محبت کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۲؛حدیث نمبر٥۷٨٩)
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بعض اوقات میں ایسے خواب دیکھتا تھا جن سے میں بیمار پڑ جاتا تھا فرماتے ہیں پھر میری ملاقات حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں بھی بعض اوقات خواب دیکھ کر بیمار پڑ جاتا تھا حتیٰ کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اچھے خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیںجب تم میں سے کوئی شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو صرف اسی شخص سے بیان کریں جو اس سے محبت کرتا ہوں اور اگر برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں جانب تھوک دے اور شیطان کے شر اور اس خواب کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے اور کسی شخص سے بیان نہ کرے تو اب یہ(خواب) اسے ضرر نہیں پہنچاۓ گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۲؛حدیث نمبر٥۷۹٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار بائیں طرف تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اور جس پہلو پر سویا ہوا ہے اس سے پھر جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۲؛حدیث نمبر٥۷۹١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب زمانہ(قیامت کے) قریب ہو جائے گا(اور دن رات جلد جلد گزریں گے)تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور تم میں اس شخص کا خواب سب سے زیادہ سچا ہو گا جو سب سے زیادہ سچ بولتا ہے اور مسلمان کا خواب نبوت کا پینتالیسواں حصہ ہے اور خواب تین قسم کے ہوتے ہیں اچھا خواب اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری ہوتی ہے غمگین کرنے والا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ایک خواب ان باتوں میں سے ہوتا ہے جو انسان کے خیالات اور خواہشات کا عکس ہوتا ہے۔اگر تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور یہ خواب لوگوں سے بیان نہ کرے آپ نے فرمایا میں(خواب میں)بیڑیاں دیکھنا پسند کرتا ہوں طوق دیکھنا پسند نہیں کرتا بیڑیوں سے مراد دین پر استقامت۔ راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ یہ آخری کلمات حدیث کا حصہ ہےیاحضرت ابن سیرین رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۳؛حدیث نمبر٥۷۹٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے(خواب میں)بیڑیاں اچھی لگتی ہیں اور میں طوق کو ناپسند کرتا ہوں اور بیڑیوں سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے اجزاء سے چھیالیسواں حصہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۳؛حدیث نمبر٥۷۹٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب زمانہ(قیامت کے)قریب ہو جائے گا اس کے بعد حدیث نمبر٥٧٩٢ کے مثل مروی ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۳؛حدیث نمبر٥۷۹٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں انھوں نے اپنے اس قول کو ذکر کیا کہ میں طوق کو ناپسند کرتا ہوں اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۳؛حدیث نمبر٥۷۹٥)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٤؛حدیث نمبر٥۷۹٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٧٩٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٤؛حدیث نمبر٥۷۹٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۳؛حدیث نمبر٥۷۹٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا خواب چاہے وہ خود دیکھےیااس کے بارے میں کوئی دوسرا دیکھے ابن مسہر کی روایت میں ہے صالح خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٤؛حدیث نمبر٥٧٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا نیک آدمی کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٤؛حدیث نمبر٥۸۰٠)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٤؛حدیث نمبر٥۸۰١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو حدیث نمبر ۵۸۰٠کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧۵؛حدیث نمبر٥۸۰٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا خواب نبوت کے ستر(٧٠)اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸۰٣)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸۰٤)
حضرت نافع فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جز کہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸۰٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے(واقعی)مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری مثال نہیں بن سکتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸۰٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا عنقریب وہ مجھے عالم بیداری میں بھی دیکھے گا۔ (علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی توجیہ میں کئی باتیں نقل کی ہیں تفصیل عمدۃ القاری جلد۲صفحہ نمبر۱۵۵ میں دیکھیں ایک تو یہ کہ جس نے آپ کو خواب میں دیکھا وہ واقعی آپ کو بیداری میں بھی دیکھے گا بہت سے صالحین نے آپ کی زیارت کی یہ بھی فرمایا کہ وہ قیامت میں مزید خصوصیات کے ساتھ دیکھے گا۔۱۲ہزاروی) کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸۰٧)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛جلد٤ص١٧٧٦؛حدیث نمبر٥۸۰٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو کسی شخص کو خواب میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی خبر نہ دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛جلد٤ص١٧٧٥؛حدیث نمبر٥۸٠٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي؛جلد٤ص١٧٧٦؛حدیث نمبر٥۸۱٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کٹ گیا اور میں اس کے پیچھے جا رہا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکااور فرمایا شیطان نے جو تمہارے ساتھ کھیل کھیلا ہے اس کے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ لَا يُخْبِرُ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ؛جلد٤ص١٧٧٦؛حدیث نمبر٥۸۱١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک اعرابی،بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا سر کاٹا گیا اور وہ لڑھکتا جا رہا ہے پس میں اس کے پیچھےدوڑنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا شیطان نے خواب میں تم سے جو کھیل کھیلا ہے اس کے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ خواب میں شیطان تم سے جو کھیل کھیلے اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ لَا يُخْبِرُ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ؛جلد٤ص١٧٧٦؛حدیث نمبر٥۸۱٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا سر کاٹا گیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(یہ سن کر)رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا جب شیطان تم میں سے کسی ایک کے ساتھ خواب میں چھیڑ خانی کرے تو وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے ابوبکر کی روایت میں ہے کہ جب تمہارے ساتھ کھیل کھیلا جائے۔انہوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ لَا يُخْبِرُ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ؛جلد٤ص١٧٧۷؛حدیث نمبر٥۸۱٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یاحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں(راوی کو شک ہے)کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے سے شہد اور گھی ٹپک رہا ہے میں نے دیکھا کہ لوگ اس سے چلو بھر رہے ہیں بعض زیادہ چلو بھرتے ہیں اور بعض کم اور میں نے ایک رسی کو دیکھا جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے میں نے دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔اس کے بعد اسے ایک اور شخص نے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اس کے لیے جوڑ دی گئی تو وہ بھی اوپر چڑھ گیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو قسم بخدا!آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کی تعبیر بیان کرو۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو بادل(یا سائبان)ہے وہ دین اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والا شہد اور گھی ہے وہ قرآن مجید اور اس کی نرمی اور مٹھاس ہے اور جو لوگ اس سے زیادہ یا کم چلو بھر رہے ہیں وہ قرآن کو زیادہ یا کم یاد کرنے والے لوگ ہیں۔ اور جو رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ قائم ہیں آپ اسے اختیار کرتے رہیں گے تو اللہ تعالی اس کے ذریعے آپ کو بلندی عطا کرتا رہے گا۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص اسے اختیار کرے گا تو اسے بھی اللہ تعالی بلندی عطا کرے گا پھر ایک اور شخص اسے اختیار کرے گا اللہ تعالی اسے بھی بلندی عطا کرے گا پھر ایک تیسرا شخص اسے اختیار کرے گا تو اس میں کچھ خلل آجائے گا پھر اس کے لیے اس کو ملایا جائے گا اور وہ بھی بلندی پر چلا جائے گا۔ یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو بتائیے میں نے ٹھیک کہا اس میں کوئی غلطی ہوئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض باتیں ٹھیک بیان کی اور بعد میں خطا ہوئی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!آپ میری غلطی کی نشاندہی کریں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم نہ دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛ بَابٌ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا؛جلد٤ص١٧٧٧؛حدیث نمبر٥۸۱٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آیا جب آپاحد سے واپس تشریف لائے تھے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے آج رات خواب میں ایک بادل دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہا تھا اس کے بعد حدیث نمبر ۵۸۱٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابٌ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَاِ؛جلد٤ص١٧٧۸؛حدیث نمبر٥۸۱٥)
عبدالرزاق کہتے ہیں(اس حدیث کی روایت میں)حضرت معمر کبھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام لیتے ہیں اور کبھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا۔ان سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے آج رات ایک بادل دیکھا اس کے بعدحدیث نمبر ۵۸۱٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابٌ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَاِ؛جلد٤ص١٧٧۸؛حدیث نمبر٥۸۱٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایاتم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا وہ بیان کریں میں اس کی تعبیر بتاؤں گا۔ فرماتے ہیں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے ایک بادل دیکھا اس کے بعد حدیث نمبر ۵۸۱٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابٌ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَاِ؛جلد٤ص١٧٧۸؛حدیث نمبر٥۸۱٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم حضرت عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں تو ہمارے پاس تازہ کھجوریں لائی گئیں جن(کھجوروں)کو ابن طاب کہتے ہیں تو میں نے اس کی تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی حاصل ہو گی اور آخرت بھی اچھی ہوگی کیونکہ ہمارا دین بہت عمدہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧٧٩؛حدیث نمبر٥۸۱٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں تو دو آدمیوں نے مجھے کھینچا ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا میں نے وہ مسواک ان سے چھوٹے کو دے دی تو مجھے کہا گیا بڑے کو دے دو تو میں نے بڑے کو دے دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧٧٩؛حدیث نمبر٥۸١٩)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ مکرمہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے درخت زیادہ ہیں مجھے خیال ہوا کہ شاید یہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے تووہ مدینہ طیبہ نکلا جسے یثرب کہا جاتاہے۔ اور میں نے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار چلائی تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی اس کی تعبیر وہ مصیبت تھی جو احد کے دن مسلمانوں پر نازل ہوئی پھر میں نے دوبارہ حرکت دی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہوگئی تو اس کی تعبیر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی اور مسلمانوں کو جمع فرمایا۔ میں نے اس خواب میں گاے کو دیکھا اور اللہ سب سے بہتر ہے اس کی تعبیر جنگ احد میں مسلمانوں کا شہید ہونا تھا اور خیر سے مراد وہ خیر تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد عطاء فرمائی اور یہ سچائی کا ثواب تھا جو اللہ نے بدر کے بعد عطاء فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧٧٩؛حدیث نمبر٥۸۲٠)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب مدینہ طیبہ آیا اور کہنے لگا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خلافت(نبوت) مجھے سونپ دیں تو میں آپ کی اتباع کروں گا۔وہ اپنے قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں شاخ کا ایک ٹکڑا تھا۔حتی کہ آپ مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا اگر تم مجھ سے شاخ کا یہ ٹکڑا بھی مانگو تو میں تمہیں نہیں دوں گا اور میں تیرے بارے میں اللہ تعالی کے حکم سے تجاوز نہیں کروں گا اگر تم نے میری اطاعت سے منہ موڑ لیا تو اللہ تعالی تجھے ہلاک کر دے گا اور میں تجھے وہی سمجھتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا اور یہ ثابت رضی اللہ تعالی عنہ موجود ہیں جو تجھے میری طرف سے جواب دیں گے اس کے بعد آپ تشریف لے گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مطلب معلوم کیا کہ میں تجھے وہی گمان کرتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تب مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے مجھے وہ برے معلوم ہوئےتو مجھے خواب میں ہی وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک دوں پس میں نے ان کو پھونک دیا تو دونوں اڑ گئے۔ تو میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد ظاہر ہونگے ان میں سے ایک صنعاء کا رہنے والا عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۱؛حدیث نمبر٥۸۲١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آرام فرما رہا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھ میں سونے کے کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے پریشان ہوگیا۔تو مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار دوں میں نے پھونک ماری تو وہ چلے گئے(اڑ گئے)تو میں نے اس کی تعبیر یوں کی کہ میں دو کذابوں کے درمیان ہوں ایک صنعاء کارہنے والا(اسودعنسی)اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا(مسیلمہ کذاب) ہے۔ (پھونک مارنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باطل قائم نہیں رہ سکتا اور ان دونوں کا دعویٰ نبوت بھی باطل ہے حالانکہ سونا وزنی ہوتا ہے وہ پھونک مارنے سے نہیں اڑتا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۱؛حدیث نمبر٥۸۲٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھاتے تو صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو جاتے اور فرماتے کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ شب کوئی خواب دیکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الرُّؤْيَا؛بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۱؛حدیث نمبر٥۸۲٣)
Muslim Shareef : Kitabur Ruyaa
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الرُّؤْيَا
|
•