
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کنانہ کو چن لیا اور کنانہ(بنو کنانہ)میں سے قریش کو،قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے فضیلت دی (منتخب فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ترجمہ؛فضائل کا بیان؛بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور اعلان نبوت سے پہلے آپ کو ایک پتھر کے سلام کا بیان؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں مکہ مکرمہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھے سلام کرتا تھا میں اسے آج بھی پہچانتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں اپنی قبر سے اٹھوں گا اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمِيعِ الْخَلَائِقِ؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک پھیلا ہوا(کشادہ)پیالہ لایا گیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اس سے وضو کرنے لگے میں نے اندازہ لگایا تو وہ ساٹھ سے اسی تک لوگ تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں پانی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ آپ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۲٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا لوگوں نے وضوکے لیے پانی تلاش کرنا شروع کیا لیکن نہ پایا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پانی لایا گیا۔ آپ نے اس برتن میں ہاتھ مبارک رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس سے وضو کرے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی پھوٹ رہا تھا چنانچہ لوگوں نے وضو کیا حتیٰ کہ ان میں سے آخری لوگوں نے بھی وضو کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۲٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مقام زوراء میں تھے(راوی کہتے ہیں)زورآء مدینہ طیبہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے آپ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا پھر آپ نے اس میں اپنے دست مبارک کو رکھا تو آپ کی انگلی سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے آپ کے تمام صحابہ کرام نے وضو کیا راوی حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے ابوحمزہ(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی فرمایا اندازاً تین سو آدمی ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸٢٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھےکہ آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھی یہ اتنا تھا کہ اس میں انگلیاں چھپ جائیں اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٢٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۳٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کپی میں گھی بھیجتی تھیں ان کے بیٹے آکر ان سے سالن مانگتےاور ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی تو جس کپی میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی بھیجتی تھی اس میں ان کو کچھ گھی مل جاتا تھا توان کے گھر میں اس طرح سالن حاصل ہو جاتا تھا حتیٰ کہ ایک دن انہوں نے اس کپی کو نچوڑ دیا۔ پھر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے پوچھا تم نے اس کو نچوڑ دیا؟عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اگر تو اسے اسی طرح چھوڑتی تو وہ گھی اسی طرح ہمیشہ قائم رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کھانا طلب کرنے لگا آپ نے اسے نصف وسق(تیس صاع یعنی ۱۲۰ کلوگرام)جو کے دیے وہ شخص اس کی بیوی اور مہمان اس میں سے ہمیشہ کھاتے رہے حتی کہ اس کا وزن کرلیا پھر وہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس کا ماپ (وزن)نہ کرتا تو تم لوگ اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے پاس باقی رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳٢)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اور آپ نمازوں کو جمع کرتے تھے اور آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ساتھ ساتھ پڑھیں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو(بظاہر)جمع فرمایا حتیٰ کہ آپ نے نماز کو مؤخر کیا پھر باہر تشریف لائے اور مغرب و عشاء کو اکٹھاپڑھا۔ اس کے بعد فرمایا ان شاءاللہ تم کل تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور تم دن چڑھنے سے پہلے وہاں پہنچوں گے پس تم میں سے جو شخص پہلے وہاں پہنچے تو وہ اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آجاؤں چنانچہ ہم وہاں پہنچے اور دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے اس کا پانی تسمہ کے برابر تھا اور آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے اور ان کو کہا جو اللہ تعالی نے چاہا وہ آپ کہیں۔ لوگوں نے تھوڑا تھوڑا کرکے چلؤوں میں پانی لینا شروع کیا حتی کہ کسی برتن میں کچھ پانی جمع ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا پھر اسی میں ڈال دیا۔وہ چشمہ جوش مارنے لگا حتی کہ لوگوں نے اس سے پانی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ اس کے بعدرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے معاذ!قریب ہے اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ یہ پانی باغات کو سیراب کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳٣)
حضرت ابوحمید فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےہمراہ غزوۂ تبوک کے لیے نکلے تو وادی قری میں ایک عورت کے باغ میں آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باغ کے پھلو کا اندازہ لگاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق(ساٹھ من)لگایا آپ نے اس خاتون سے فرمایا اس اندازے کو یاد رکھناحتیٰ کہ ہم ان شاء اللہ تمہارے پاس لوٹ آئیں۔ راوی فرماتے ہیں ہم چلے حتیٰ کہ تبوک پہنچے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب رات کے وقت تم پر شدید آندھی چلے گی پس تم میں سے کوئی شخص نہ اٹھے اور جس کے اونٹ ہو وہ اسے رسی کے ساتھ اچھی طرح باندھ لے۔ چنانچہ رات کے وقت آندھی چلی ایک آدمی اٹھا تو آندھی نے اسے اڑا لیا اور طَی پہاڑوں کے درمیان گرا دیا پھر ایلہ کے حاکم ابن العلماء کا قاصد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خط لے کر آیا اور اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سفید خچر پیش کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر بطور تحفہ پیش کی پھر ہم واپس ہوئے تو وادی قریٰ میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے بارے میں پوچھا کہ اس کا پھل کتنا ہوا اس نے کہا دس وسق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جلد روانہ ہوں گا جو جلد روانہ ہونا چاہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو ٹھہرنا چاہے وہ ٹھہر جائے ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے آپ نے فرمایا یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے اور یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھرفرمایا انصار کے گھروں میں سے بہترین گھر بنو نجار کے گھر ہیں پھر بنو عبدالاشہل کے گھر پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کے گھر پھر بنو ساعدہ کے گھر افضل ہیں اور انصار کے تمام گھروں میں بھلائی ہے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم سے ملے تو ابواسید نے ان سے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کے گھروں کو بہتر قرار دیا ہے اور ہمیں آخر میں قرار دیا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے انصار کے تمام گھروں کو بہتر قرار دیا اور ہمیں آخر میں کردیا آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات کافی نہیں کہ تم بہتر لوگوں میں سےہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۵؛حدیث نمبر٥۸۳٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں وہیب کی روایت میں ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیےان کا سمندر(ان کا ملک)لکھ دیااس میں یہ نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب لکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٦؛حدیث نمبر٥۸۳٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف ایک جنگ میں گئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی وادی میں دیکھا جس میں کانٹے اور درخت بہت تھے آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ کے ساتھ اپنی تلوار لٹکا دی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام وادی میں بکھر گئے اور درختوں کا سایہ تلاش کرنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے تلوار پکڑ لی میں بیدار ہوا تو وہ میرے سر کے پاس کھڑا تھا اور مجھے اس وقت احساس ہوا جب ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اس نے مجھ سے پوچھا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟میں نے کہا اللہ تعالیٰ،اس نے دوبارہ پوچھا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟میں نے کہا اللہ تعالیٰ۔ راوی فرماتے ہیں پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی اور وہ شخص بیٹھا ہوا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہ کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛ ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر توکل؛جلد٤ص١٧۸٦؛حدیث نمبر٥۸۳٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جہاد میں نجد کی طرف گئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹے،پھر ایک دن ان سب کو قائلہ نے آلیا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٣٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸۳٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے حتیٰ کہ ہم ذات الرقاع پر پہنچے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٣٦ کے مثل مروی ہے۔لیکن یہ بات مذکور نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعارض نہ کیا(یعنی کچھ نہ کہا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸۳٨)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال اس بادل جیسی ہے جو کسی زمین پر برسا۔تو اس میں کچھ حصہ اچھا تھا اس نے پانی کو قبول کیا تو اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا۔ اور زمین کا کچھ حصہ سخت تھا اس نے پانی کو روک لیا(جذب نہ ہوا اور آگے نکلا)تو اس سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو نفع دیا۔ان لوگوں نے اس سے پیا،(جانور وغیرہ کو)پلایا اور ان کو چرایا اور زمین کے ایک ایسے حصے کو پانی ملا جو چٹیل میدان تھا جس میں نہ تو پانی رکتا ہے اور نہ ہی وہاں گھاس اگتا ہے۔ تو یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو دین کی سمجھ حاصل کرتے ہیں اور اس کا فیض پہنچاتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ان لوگوں نے سیکھا اور سکھایا اور یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا گیا اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب بیان مثل ما بعث بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الھُدی والعلم؛ترجمہ؛جس علم اور ہدایت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اس کی مثال؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸٣٩)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بے شک میری مثال اور اس چیز کی مثال جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قوم کے پاس آکر کہے اے میری قوم!میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں واضح ڈر سنانے والا ہوں پس تم اپنے آپ کو بچاؤ پس اس قوم میں سے ایک گروہ نے اس کی اطاعت کی اور سر شام وہ اس مہلت میں بھاگ گئے اور ان میں سے ایک گروہ نے اسے جھٹلایا تو اپنے گھروں میں ٹھہرے رہے پس صبح کے وقت لشکر نے انہیں آلیا اور ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کردیا۔ تو یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو میری اطاعت کرتے اور میرے لاے ہوئے دین کی اتباع کرتے ہیں اور ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے میری نافرمانی کی اور میرے لاے ہوے دین کو جھٹلا دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۸؛حدیث نمبر٥۸٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی پھر حشرات الارض(کیڑے مکوڑے)اور پروانے اس آگ میں گرنے لگے پس میں تم کو کمر سے پکڑ کر روک رہا ہوں اور تم اس آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤١)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی جب اس کے ارد گرد کا حصہ روشن ہوگیا تو پروانے اور حشرات الارض اس میں گرنے لگے وہ شخص ان کو اس میں گرنے سے روکتا ہے لیکن وہ اس پر غالب آکر آگ میں دھڑادھڑ گر رہے ہیں فرمایا یہی میری اور تمہاری مثال ہے میں تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے روک رہا ہوں(اور کہتا ہوں)جہنم کے پاس سے چلے آؤ جہنم کے پاس سے چلے آؤ لیکن تم مجھ پر غالب آکر اس(آگ)میں گرتے جاتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی اور حشرات الارض اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو وہاں سے ہٹاتا ہے اور میں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر جہنم سے پیچھے ہٹاتا ہوں اور تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں دین کے راستے پر چلا کر اور دولت ایمان سے مالا مال کر کے دوزخ سے بچانا چاہتا ہوں لیکن تم اس راستے کی طرف آنے کی کوشش نہیں کرتے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری مثال اور سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمارت بنائی اور کیا ہی اچھی بنائی اب لوگ اس کے ارد گرد چکر لگانے لگے اور کہنے لگے ہم نے اس سے اچھی عمارت نہیں دیکھی البتہ اس میں ایک اینٹ نہیں ہے تو وہ اینٹ میں ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مکان بنواے اور ان کو نہایت خوبصورت اور مکمل بنایا البتہ اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے لوگ اس مکان کے گرد چکر لگانے لگے اور ان کو یہ عمارت اچھی لگی وہ کہنے لگے تم نے یہاں اینٹ کیوں نہیں لگائی تاکہ عمارت مکمل ہوجاتی۔ حضرت محمد(مصطفیٰ)صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس وہ اینٹ میں ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمارت تعمیر کی اور اسے بہت خوبصورت بنایا البتہ اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ(خالی)چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد گھوم کر خوش ہورہے تھے اور کہتے تھے یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۷)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور انبیاء سابقین کی مثال(اس طرح ہے)اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٤٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۸)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بالکل مکمل کردیا البتہ ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔اب لوگ اس میں داخل ہونے لگے اور اس کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے اس جگہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ پر انبیاء کرام(کی آمد)کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۹)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸۵٠)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کرنا چاہتا ہے تو اس امت(کی ہلاکت)سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اس نبی کو امت کے لئے اجر اور پیشرو بنا دیتا ہے۔ اور جب کسی امت کوہلاک کرنا چاہتا ہےتو اس نبی کی زندگی میں اس کے سامنے امت کو عذاب دیتا ہے اور ان کی ہلاکت سے اس(نبی)کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور ایسا تب ہوتا ہے جب اس امت نے نبی کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِذَا أَرَادَ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةَ أُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸۵١)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۲؛حدیث نمبر٥۸۵٢)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ۵۸۵٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۲؛حدیث نمبر٥۸۵٣)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا جو اس حوض پر آئے گا پئے گا اور جو پئے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔ ابو حازم کہتے ہیں جب میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا تو نعمان بن ابو عیاش بھی اس حدیث کو سن رہے تھے انہوں نے فرمایاتم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے؟میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے البتہ وہ یہ اضافہ کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے پیروکار ہیں تو کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا! میں کہوں گا جن لوگوں نے میرے بعد دین میں تبدیلی کی ان سے دوری ہو دوری ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۳؛حدیث نمبر٥۸۵٤)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ۵۸۵٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۳؛حدیث نمبر٥۸۵٥)
حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت ایک ماہ کی مسافت ہے(لمبائی چوڑائی مراد ہے)اس کے سب کونے برابر ہیں اس کا پانی چاندی سے بھی زیادہ سفید ہے۔اس کی خوشبو کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں جو شخص اس حوض سے پیئے گا کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ فرماتے ہیں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حوض پر ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اور کچھ لوگ میرے سامنے پکڑے جائیں گے میں کہوں گا اے میرے رب یہ سب میری اتباع کرنے والے اور میری امت کے لوگ ہیں تو کہا جائے گا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا اللہ کی قسم یہ لوگ آپ کے بعد فورا اپنی ایڑیوں پر پھر گئے حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے تھے۔ یا اللہ!ہم اس سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پھر جائیں اور اپنے دین میں کسی آزمائش کا شکار ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٤؛حدیث نمبر٥۸۵٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے درمیان تھے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں حوض پر انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اللہ تعالی کی قسم کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اور میری امت کے لوگ ہیں تو اللہ تعالی فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا یہ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٤؛حدیث نمبر٥۸۵٧)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہے میں لوگوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض کا ذکر کرتے تھے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی ایک دن جب کہ ایک لڑکی میرے سر میں کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اے لوگو!میں نے اس لڑکی سے کہا مجھ سے پیچھے ہٹو اس نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے عورتوں کو نہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں بھی لوگوں(الناس)میں سے ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں تو اس بات سے ڈرنا کہ کوئی تمہیں حوض پر میرے قریب آنے سے روک نہ دے جس طرح بھٹکے ہوئے کو ہٹایا جاتا ہے میں کہوں گا ایسا کیوں ہوا؟ تو کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۵؛حدیث نمبر٥۸۵٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنااس وقت وہ کنگھی کرارہی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے لوگو"؛ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے کنگھی کرنے والی سے فرمایا"میرے سر کو رہنے دو"۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٥٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٥؛حدیث نمبر٥۸٥٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور احد والوں(شہداء)کی نماز جنازہ پڑھی پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا فرمایا زمین کی چابیاں دی گئیں اور اللہ کی قسم مجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۵؛حدیث نمبر٥۸٦٠)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور اس طرح نصیحت کی جس طرح کوئی مردوں اور زندوں کو نصیحت کرتا ہے آپ نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا مقام ایلہ سے جحفہ تک فاصلہ ہے مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کروگے لیکن مجھے اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرتے ہوئے آپس میں لڑوگے اور پہلے لوگوں کی طرح ہلاک ہوجاؤ گے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار منبر پر دیکھا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦١)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض پر تم سے پہلے جاؤں گا۔میں کچھ لوگوں سے جھگڑا کروں گا پھر میں ان پر غالب آجاؤں گا میں کہوں گا اے میرے حبیب!یہ میرے صحابی ہیں یہ میرے صحابی ہیں تو کہا جاے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے نئے کام کئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٢)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس حدیث میں اصحابی،اصحابی کے الفاظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں یہ حدیث بھی حدیث نمبر٥٨٦٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے مزید دو سندیں ذکر کی اس میں اسی طرح حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٥)
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آپ کا حوض صنعاء اور مدینہ کے درمیان کی مسافت کے برابر ہے مُستَورِد نے ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے بارے میں نہیں سنا انہوں نے کہا نہیں مستورد نے کہا اس کے برتن ستاروں جتنے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٦)
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد انہوں نے حوض کے بارے میں حسب سابق ذکر کیا مستورد کا قول ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سامنے حوض ہے اس کے کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارے سامنے حوض ہے (اس کا فاصلہ)جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ جتنا ہے ابن مثنیٰ کی روایت میں"میرا حوض ہے"کہ الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٩)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں یہ اضافہ ہے عبیداللہ نے کہا میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ(جربا اور اذرح)شام کی دو بستیاں ہیں اور ان کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ابن بشر کی روایت میں تین دنوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد٥٨٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سامنے ایک حوض ہے وہ جرباء اور اذرح کےدرمیان فاصلہ جتنا بڑا ہے اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں جو شخص حوض پر گیا اور وہاں سے پیا وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ!حوض کے برتن کتنے ہیں؟آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں اور سیاروں سے زیادہ ہے وہ ستارے جو ایسی اندھیری رات میں ہوں جس میں بادل نہ ہو وہ جنت کے برتن ہے جو شخص اس حوض سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اس حوض میں جنت کے دو پر نالے بہتے ہیں جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ اس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے اور ان میں عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٣)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے حوض کے کناروں سے لوگوں کو ہٹاؤں گا اہل یمن کو لکڑی سے ماروں گا حتی کہ ان پر پانی بہنے لگے گا۔ پھر آپ سے حوض کی چوڑائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں جہاں کھڑا ہوں یہاں تک سے عمان تک جتنا فاصلہ ہے اس کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اس میں جنت سے کھینچے گئے دو پر نالے بہتے ہیں ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ میں قیامت کے دن حوض کے کنارے پر ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٥)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی ہے یہ روایت بھی حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ہٹاؤں گا جیسا کہ اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۷٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٧٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۷٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنا ایلہ اور یمن کے شہر صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے اور اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کے برابر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کرام میں سے چند افراد میرے پاس حوض پر آئیں گے حتیٰ کہ جب میں ان کو دیکھوں گا اور وہ میرے سامنے کیے جائیں گے تو ان کو میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں یہ میرے اصحاب ہیں۔پھر مجھے کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا نئے کام جاری کیے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۸۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی اور اس میں ستاروں کے برابر برتنوں کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ طیبہ کے درمیان ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل سابق روایت کی ہے البتہ ایک سند میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور عمان کے درمیان ہے اور دوسری سند میں"ما بین لا بتی حوضی"کے الفاظ ہیں(یعنی حوض کے دونوں کناروں کے درمیان) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر(حوض)آسمان کے ستاروں کی تعداد سونے اور چاندی کے کوزے دیکھو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ ہے کہ وہ تعداد میں آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۵)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سنو میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس حوض کے دونوں کناروں کے درمیان صنعاءاور ایلہ کے درمیان کا فاصلہ ہے اور اس کے کوزے ستاروں جتنے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸٦)
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط بھیجا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ مجھ سے بیان کیجئے انہوں نے جواب میں لکھا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حوض کے بارے میں احادیث صحیح ہیں اور حوض کے وجود پر ایمان لانا فرض ہے اور یہ اپنے ظاہر پر ہے تاویل کی ضرورت نہیں۔نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۷)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے احد(غزوہ احد)کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمی دیکھے جن پر سفید لباس تھا میں نےان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي قِتَالِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۸)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے(غزوہ)احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جن پر سفید کپڑے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت لڑائی لڑ رہے تھے میں نے ان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي قِتَالِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ بہادر بھی تھے۔ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہوگئے تو کچھ صحابہ کرام اس آواز کی طرف گئے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وہاں سے واپس آتے ہوئے ملے اور آپ اس آواز کی طرف ان حضرات سے پہلے تشریف لے گئے تھے آپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر تھے آپ کی گردن مبارک میں تلوار تھی اور آپ فرماتے تھے تم کو خوف زدہ نہیں کیا گیا تم کو خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ آپ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو سمندر(کی طرح رواں دواں) پایا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(حالانکہ)وہ گھوڑا بہت آہستہ چلتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۹۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بار مدینہ طیبہ میں دہشت پھیل گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ کا گھوڑا ادھار لیا جس کا نام"مندوب"تھا آپ اس پر سوار ہوے آپ نے فرمایا ہم نے کوئی ڈر اور خوف نہیں دیکھا اور بے شک ہم نے اس کو سمندر کی طرح پایا۔ (وہ گھوڑا جس کی رفتار بہت کم تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے بہت تیز ہو گیا جس طرح حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ کی وجہ سے برکات کا نزول ہوا تھا۔۱۲ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۱)
ابن جعفر کی روایت میں"ہمارے گھوڑے"کا ذکر ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں ہے اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہکی حدیث میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیر میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت ماہ رمضان میں سب سے زیادہ ہوتی تھی حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان شریف میں آپ سے ملاقات کرتے حتیٰ کہ مہینہ مکمل ہو جاتا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے۔ اور جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ بارش برسانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۳)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِِ؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دس سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اللہ کی قسم!آپ نے کبھی بھی مجھ سے "اف"(کا لفظ)نہیں کہا اور نہ ہی مجھے یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے یہ ان کاموں میں سے نہیں جن کو خادم کرتا ہے اور قسم کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۵)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥٨٩٥کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آپ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!انس ایک ذہین لڑکا ہے یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں سفر و حضر میں آپ کی خدمت میں رہا اللہ کی قسم اگر میں نے کوئی کام کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال خدمت کی تو مجھے علم نہیں کہ کبھی آپ نے مجھ سے فرمایا ہو کہ تم نے اس طرح اس طرح کیوں کیا اور آپ کسی کام کے بارے میں میرا عیب بیان نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب لوگوں سے اچھا تھا آپ نے ایک دن مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا اللہ کی قسم!میں نہیں جاؤں گا حالانکہ میرے دل میں تھا کہ میں جاؤں گا کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے۔میں باہر نکلا حتیٰ کہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میری گدی پکڑ لی میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے آپ نے فرمایااےاُنَیس!کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے تمہیں جانے کے لیے کہا تھا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!میں جا رہا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نو سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور مجھے معلوم نہیں کہ کبھی میں نے کوئی کام کیا اور آپ نے فرمایا ہو تم نے اس طرح اس طرح کیوں کیا یا میں نے کوئی کام چھوڑ دیا ہو تو آپ نے فرمایا ہو تم نے اس طرح اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۸۹۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰۰)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیاگیا توآپ نے نہ نہیں فرمائی (بشرطیکہ وہ چیز آپ کے پاس ہوتی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٩٠١کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام لانے پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ عطاء فرماتے۔فرماتے ہیں ایک شخص حاضر خدمت ہوا تو آپ نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ شخص اپنی قوم کے پاس واپس گیا اور کہا اے میری قوم!اسلام قبول کرو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر دیتے ہیں کہ فاقے کا خدشہ نہیں رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریوں کا سوال کیا تو آپ نے اسے عطاکردیں وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم!اسلام قبول کرو اللہ کی قسم!حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عطا کرتے ہیں کہ محتاجی کا خوف نہیں رہتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص صرف دنیا کے لیے مسلمان ہوتا تھا پھر اسلام لانے کے بعد اسے اسلام،دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے زیادہ محبوب ہو جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰٤)
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح میں فتح مکہ کے لیے جہاد کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور حنین میں جنگ کی پس اللہ تعالی نے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے پھر مزید ایک سو اونٹ اور پھر ایک سوعطاء کئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے حضرت سعد بن مسیب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفوان نے کہا اللہ کی قسم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا جو بھی عطاء کیا آپ میری نظروں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے(مجھے آپ سے سب سے زیادہ بغض تھا)لیکن آپ مجھے عطاء فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب بن گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اشارہ فرمایا پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا اس کے بعد وہ مال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے منادی کو حکم دیاکہ وہ اعلان کرےکہ جس شخص سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا یا اس کا قرض ہو تو وہ آئے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس بحرین کا مال آیا تو میں اس طرح اس طرح اور اس طرح دوں گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مٹھی بھری اور فرمایا اس کی گنتی کرو میں نے شمار کیا تو پانچ سو درہم تھے فرمایا اس کی دو مثل مزید لے لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض ہو یا آپ نے کوئی وعدہ فرمایا ہو تو وہ ہمارے پاس آئےاس کے بعد حدیث نمبر ٥٩٠٦ کے مثل مروی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۷؛حدیث نمبر٥۹۰۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں بچہ پیدا ہوا جس کا نام میں نے اپنے باپ(جد اعلیٰ)حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے پھر آپ نے اس بچے کو ابوسیف لوہار کی بیوی ام سیف کو دے دیا ایک دن وہاں آپ تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا ہم ابو سیف کے پاس پہنچے اور وہ بھٹی پھونک رہا تھا اور گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس کے پاس جلدی گیا اور کہااےابو سیف!رک جاؤ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلم تشریف لائے ہیں چنانچہ وہ رک گیااور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ طلب کیا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا اور جو کچھ اللہ نے چاہا آپ نے فرمایا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بچے کو دیکھا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جان دے رہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے آپ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم وہی بات کہتے ہیں جس پر ہمارا رب راضی ہو اےابراہیم!اللہ کی قسم ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ؛؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں اور گھر والوں پر شفقت اور آپ کی تواضع؛ جلد٤ص١۸۰٧؛حدیث نمبر٥۹۰۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنے عیال پر شفیق نہیں دیکھا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ کے بالائی حصہ میں دودھ پیتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں داخل ہوتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھاکیونکہ اس دایہ کا خاوند لوہار تھا آپ بچے کو اٹھاتے،بوسہ دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔حضرت عمرو فرماتے ہیں جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے دنوں میں فوت ہو گیا اور اس کے لئے دو دودھ پلانے والیاں ہیں جو جنت میں ان کو رضاعت کی مدت مکمل ہونے تک دودھ پلائیں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۰۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کچھ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا کیا آپ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟جواب دیا ہاں انہوں نے کہا لیکن ہم تو قسم بخدا!( بچوں کو بوسہ نہیں دیتے) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالی نے تم سے رحمت نکال لی ہے تو میں اس کا مالک نہیں ہوں۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۱۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اقرع بن حابس نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن کو بوسہ دے رہے ہیں تو انہوں نے کہا میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۱۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٩١١ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۲)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالی اس پر رحم نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۳)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٩١٣ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ حیا کرتے تھے جب آپ کو کوئی چیز نا پسند ہوتی تو ہم آپ کے چہرے سے جان لیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت حیا کا بیان؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۵)
حضرت مسروق کہتے ہیں جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ تکلفا فحش گوئی کرتے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں حضرت عثمان بن شبیہ نے کہا جب وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ آے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱٦)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱۷)
حضرت سماک بن حرب کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں بے شمار مرتبہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس مصلیٰ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوتا تو آپ اٹھ جاتے اور صحابہ کرام باتوں میں مشغول رہتے تھے وہ دور جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کر کے ہنستے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیتے۔(مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام کی دل جوئی ہوتی رہے آپ ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَبَسُّمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُسْنِ عِشْرَتِهِ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ہمراہ انجشہ نامی ایک لڑکا گا رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ آہستہ چلو جیسے شیشے کو لے جا رہے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں پر رحمت؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۱۹)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۲۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اس وقت انجشہ نامی غلام اونٹ ہانکنے والا ہانک رہا تھا آپ نے فرمایا اے انجشہ! اپنے اونٹوں کو آہستہ ہانکو جس طرح شیشے کو لے جا رہے ہو۔ابو قلابہ کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی ایک ایسا کلمہ کہے تو تم اس کو کھیل سمجھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۲۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ!شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش الحان حدی خوان تھا(قافلوں کے ساتھ گانے والا حدی خوان کہلاتا ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے انجشہ!آہستہ چلو شیشوں کو توڑ نہ دینا یعنی کمزور عورتوں کو تکلیف نہ دینا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت ذکر کی ہے اس میں حدی خوان کی خوش الحانی کا ذکر نہیں۔ (آج اسلام کے دامن سے وابستگی کا دعوی کرنے والے مرد حضرات پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق نہیں دیے جاتے ہیں یہ واقعات پڑھۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مطالعہ کرے جس قدر عورتوں کو عزت و احترام اور حقوق اسلام نے دیے ہیں دوسری جگہ اس کا تصور بھی نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینہ طیبہ کے خدام پانی سے بھرے ہوئے برتن لے کر آتے آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈبوتے بعض اوقات وہ سخت سرد صبح میں آتے تو آپ اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛ترجمہ؛صحابہ کرام کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب اور تبرک حاصل کرنا اور آپ کا تواضع کرنا؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حجام آپ کا سرمبارک مونڈ رہاہے اور صحابہ کرام آپ کے گرد گھوم رہے ہیں وہ چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال زمین پر گرنے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں گرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا کہنے لگی یا رسول اللہ!مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ نے فرمایا اے فلاں کی ماں!تم جس گلی میں چاہو انتظار کرو میں تمہاری حاجت کو پورا کروں گا پھر آپ نے راستے میں اس سے بات چیت کی اور اس کی حاجت کو پورا کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو باتوں میں سے ایک کو اپنانے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان بات کو اختیار کیا اگراس میں گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ تعالی کی حدود کی خلاف ورزی کی جاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۲۸)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۲۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا اور ان میں سے ایک دوسری کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتی تو آپ اس آسان کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور ہونے والے ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۳۰)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کسی چیز یا کسی عورت یا کسی خادم کو کبھی نہیں مارا البتہ اللہ کے راستے میں جہاد کے دوران لڑائی فرمائی اور جب بھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ تعالی کی حدود کی خلاف ورزی کی جاتی تو آپ اس کا بدلہ لیتے۔ (آج معاملہ اس کے خلاف ہے لوگ اپنی ذات کے لیے بدلہ لیتے ہیں لیکن شریعت کی بے حرمتی پر ٹس سے مس نہیں ہوتے اللہ تعالی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۲)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۳)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا گیا سامنے کچھ بچے آئے آپ نے ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا فرماتے ہیں میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ کے دست اقدس کی ٹھنڈک یا (فرمایا)خوشبو محسوس کی جیسے آپ نے عطار کے ڈبے سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کی ملائمت اور خوشبو؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کے جسم اقدس)کی خوشبو میں سے کسطوری،عنبر اور کسی دوسرے چیز کی خوشبو میں نے نہیں سونگھی اور میں نے کسی دیباج اور ریشم کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس سے زیادہ ملائم نہیں پایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا اور آپ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے اور جب آپ چلتے تو جھک کر چلتے اور میں نے کسی دیباج اور ریشم کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے زیادہ ملائم نہیں پایا اور میں نے آپ کے جسم مبارک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار کستوری اور عنبر کو بھی نہیں پایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو دوپہر کے وقت آرام فرمایا۔آپ کو پسینہ آیا تو میری ماں ایک شیشی لے کر آئیں اور آپ کا پسینہ مبارک پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا اے ام سلیم!یہ کیا کر رہی ہو میں نے عرض کیا یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارکہ کی خوشبو اور اس سے برکت حاصل کرنا؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے اور وہ نہیں ہوتی تھیں ایک دن آپ تشریف لائے اور ان کے بستر پر سو گئے ان کو بتایا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں آرام فرما ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ام سلیم آئیں اور آپ کو پسینہ آیا ہوا تھا وہ پسینہ بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر جمع ہوگیا حضرت ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور پسینہ پوچھ پوچھ کر اپنی اپنی شیشیوں میں بھرنے لگیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے اور فرمایا اے ام سلیم!کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے درست کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳۸)
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لاتے اور دوپہر کے وقت آرام فرماتے۔ وہ چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھا دیتی تھیں اور آپ کو پسینہ بہت آتا تھا چنانچہ آپ کا پسینہ جمع ہو جاتا تو اس کو خوشبو میں ملاتیں اور شیشیوں میں بھر لیتیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!یہ کیا ہے؟انہوں نے جواب دیا یہ آپ کا پسینہ ہے جسے میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹۳۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں سخت سردی کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتیپھر آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہنے لگتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹٤٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حارث بن ہشام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر وحی کس طرح آتی ہے آپ نے فرمایا کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے۔ پھر وحی منقطع ہو جاتی ہےحالانکہ میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹٤۱)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر کرب کی کیفیت ہوتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤۲)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ اپنے سر کو جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ کرام بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی کا سلسلہ منقطع ہو جاتا تو آپ اپنا سر اقدس اٹھا لیتے۔ (وحی مختلف صورتوں میں نازل ہوتی تھی کبھی گھنٹی کی آواز کی طرح کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا اسی طرح خواب کی صورت میں بھی وحی آتی تھی حدیث میں خواب کا ذکر اس لئے نہیں ہوا کہ سائل کا مقصود وحی تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھی اور عام لوگوں سے مخفی تھی جب تک آپ نہ بتائیں معلوم نہیں ہو سکتی تھی خواب کا معاملہ معروف تھا۔نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤۳)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکا ہوا چھوڑتے تھے اور مشرکین اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے اور جن کاموں کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خاص حکم نہ دیا ہوتاآپ ان کاموں میں اللہ کی کتاب کی موافقت فرماتے تھے۔چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع شروع میں اپنے بالوں کو لٹکا ہوا چھوڑتے پھر آپ نے مانگ نکالنا شروع کر دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي سَدْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ وَفَرْقِهِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي سَدْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ وَفَرْقِهِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤۵)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک درمیانہ تھا دونوں کندھوں کے درمیان زیادہ فاصلہ تھا(یعنی سینہ مبارک چوڑا تھا)آپ کے بال مبارک لمبے تھے جو کانوں کی لو تک آتے تھے آپ پر دو سرخ(دھاری دار)چادروں کا جوڑا تھا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤٦)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ چادروں کا جوڑا پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال مبارک کندھوں تک تھے اور دونوں کندھوں کےدرمیان زیادہ فاصلہ تھا آپ کا قد مبارک نہ بہت لمبا تھا اور نہ ہی بہت پست۔ابوکریب نے"شعر"کی جگہ "لہ شعر"روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤۷)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپ کا اخلاق بھی سب سے اچھا تھا آپ کا قد مبارک نہ بہت لمبا تھا اور نہ ہی بہت چھوٹا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹٤۸)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کیسے تھے؟انہوں نے فرمایا آپ کے بال مبارک درمیانے تھے نہ بہت گھنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے۔آپ کے بال مبارک کانوں اور کاندھوں کے درمیان تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹٤۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کاندھوں تک تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹۵۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کانوں کے نصف تک تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹۵۱)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فراخ دہن بڑی آنکھوں والے تھے آپ کے ایڑیوں پر گوشت کم تھا۔(حضرت شعبہ فرماتے ہیں)میں نے سماک سے پوچھا"ضلیع الفم" کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا منہ کا کشادہ ہونا،میں نے پوچھا"اشکل العین" کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا آنکھ کا بڑے شگاف والا ہونا،میں نے پوچھا"منھوس العقب"کاکیا مطلب ہے؟انہوں نے فرمایا ایڑیوں پر گوشت کا کم ہونا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ فَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَيْهِ وَعَقِبَيْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵۲)
حضرت جریر کہتے ہیں میں نے ابوالطفیل سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں آپ کا رنگ سرخ سفید تھا ملیح تھا(نمکین قسم کا) مسلم بن حجاج کہتے ہیں حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالی عنہ ایک سو ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے آخر میں فوت ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵۳)
حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر میرے علاوہ کوئی ایسا شخص موجود نہیں جس نے آپ کو دیکھا ہو راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسا دیکھا فرمایا سفید ملیح اور درمیانے قد والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵٤)
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال رنگے تھے انہوں نے فرمایا آپ کے سفید بال کم تھے جبکہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما مہندی اور سیاہ رنگ ملاکر رنگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۵)
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں پر خضاب لگایا تھا انہوں نے فرمایا آپ خضاب تک نہیں پہنچے تھے آپ کی داڑھی مبارک میں چند بال سفید تھے۔ ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےبال رنگے تھے فرمایا مہندی اور سیاہ رنگ ملا کر رنگے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کا بیان؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵٦)
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا انہوں نے جواب دیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۷)
حضرت ثابت فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر میں آپ کے سر نور کے سفید بال گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں وہ فرماتے ہیں آپ نے اپنے بالوں کو رنگا نہیں تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہندی اور سیاہ رنگ کے خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خالص مہندی سے رنگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سر اور داڑھی کے سفید بالوں کو نوچنا مکروہ ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا آپ کے نچلے ہونٹ کے نیچے کنپٹیوں اور سر میں چند بال سفید تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۹)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیاتو انہوں نے فرمایا اللہ تعالی نے آپ کے بالوں کو سفیدی کے ساتھ متغیر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۱)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے سفید بال دیکھے پھر راوی نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے بالوں پر اپنی انگلی رکھ کر بتایا۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم ان دنوں میں کیسے تھے انہوں نے کہا میں تیر میں پیکان اور پر لگاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۲)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کا رنگ سرخ سفید تھا اور آپ کے کچھ بال سفید ہوگئے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ کے مشابہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۳)
ایک اور سند سے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں آپ کے سفید رنگ اور سفید بالوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جب آپ سر میں تیل لگاتے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تو سفید بال نظر آتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۵)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اگلے بال اور داڑھی کے(کچھ)بال سفید ہوگئے تھے جب آپ تیل لگاتے تو وہ سفیدی معلوم نہیں ہوتی تھی اور جب آپ کے بال مبارک بکھرے ہوتے تو سفیدی معلوم ہوتی۔ آپ کی داڑھی مبارک بہت گھنی تھی ایک شخص نے کہا کیا آپ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ سورج اور چاند کی طرح اور گول تھا اور میں نے مہر نبوت آپ کے کاندھے مبارک کے پاس کبوتری کے انڈے کی مثل دیکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر(نبوت)دیکھی گویا کہ وہ کبوتری کا انڈا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦٧)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦۸)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خالہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے اس بھانجے کے سر میں درد ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی پھر آپ نے وضو فرمایا اور میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا پھر آپ کی پشت مبارک کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مسہری کی گھنڈی کی طرح مہر نبوت دیکھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦۹)
حضرت عبداللہ بن سرجِس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا یا(فرمایا)ثریدکھایا، راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ سے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے دعاے مغفرت کی تھی؟انہوں نے فرمایا جی ہاں اور تمہارے لئے بھی۔پھر یہ آیت پڑھی۔ (ترجمہ) اپنے لئے استغفار کیجئے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے طلب مغفرت کیجئے۔ حضرت عبداللہ بن سرجِس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں آپ کے پیچھے گیا اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ آپ کے بائیں کندھے کی چپٹی ہڈی کے پاس مسوں کی تل کی طرح تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹۷۰)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک نہ تو بہت لمبا تھا اور نہ ہی چھوٹا تھا۔اور آپ کا رنگ نہ تو بالکل سفید تھا اور نہ ہی بالکل گندمی اور آپ کے بال مبارک نہ تو سخت گھنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے اللہ تعالی نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا پس آپ مکہ مکرمہ میں دس سال(کسر کو چھوڑ دیا ورنہ تیرا سال ہیں) اور مدینہ طیبہ میں دس سال رہے ہے اور آپ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں صرف بیس بال سفید تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَبْعَثِهِ، وَسِنِّهِ؛جلد٤ص١۸۲٤؛حدیث نمبر٥۹۷۱)
یہ حدیث ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَبْعَثِهِ، وَسِنِّهِ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی عمر مبارک تریسٹھ سال تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۳)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۵)
حضرات عمرو فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں کتنا عرصہ قیام فرمایا؟انہوں نے فرمایا دس سال(یعنی نبوت کے بعد اور اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ ١٣ سال قیام فرمایا لیکن یہاں دس کا ذکر ہے جیسا کہ خود اس کے بعد ١٣ سال کا ذکر موجود ہے)وہ کہتے ہیں میں نے کہا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ تیرہ سال فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷٦)
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں کتنے سال رہے؟انہوں نے کہا دس سال میں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ دس سال سے اوپر بتاتے ہیں حضرت عروہ نے کہا اللہ تعالی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مغفرت کرے انہوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۷)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۷۸)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ سال رہے آپ پر وحی کی جاتی تھی اور مدینہ طیبہ میں دس سال رہے اور وصال کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۷۹)
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ لوگ آپس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے بعض حضرات نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں بڑے تھےحضرت عبداللہ نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوااور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شہادت کے وقت تریسٹھ سال کے تھے۔ راوی فرماتے ہیں ان میں سے ایک شخص جس کا نام عامر بن سعد تھا اس نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آپ کی عمر بھی تریسٹھ سال کی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۸۰)
حضرت جریر کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ میں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کا وصال بھی اسی عمر میں ہوا اور اب میں(حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ)بھی تریسٹھ سال کا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۱)
حضرت عمار فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی۔ انہوں نے فرمایا مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ آپ کی قوم سے ہونے کے باوجود تم جیسے شخص سے یہ بات مخفی ہوگی۔ میں نے کہا میں نے لوگوں سے سوال کیا تھا ان کا اس میں اختلاف تھا تو میں نے یہ بات پسند کی اس بارے میں آپ کی رائے معلوم کریں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا اچھا تمہیں حساب آتا ہے؟میں نے کہا جی ہاں فرمایا یاد رکھو چالیس سال کی عمر میں آپ کو مبعوث کیا گیا پندرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے کبھی امن کی صورت ہوتی اور کبھی خوف طاری ہوجاتا۔اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۲)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۳)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۵)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے اور آپ سات سال تک آواز سنتے تھے اور سات سال تک روشنی دیکھتے تھے اور آٹھ سال تک آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور آپ مدینہ طیبہ میں دس سال رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸٦)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں میری وجہ سے کفر مٹا دیا جائے گا اور میں حاشر ہوں(قیامت کے دن)لوگوں کو میرے قدموں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماے مبارکہ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۷)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں ماحی ہوں،جس کے ذریعے اللہ تعالی کفر کو مٹا دے گا میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالی نے آپ کا نام رؤف(اور)رحیم رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۸)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی تین سند بیان کی ہیں شعیب اور معمر کے روایت میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا عقیل کی روایت میں ہے زہری نے بیان کیا کہ عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔معمرکی روایت میں کَفَرَۃَ(کافر کی جمع)اور شعیب کی روایت میں کُفر کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۹)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کئی نام بیان کئے آپ نے فرمایا میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں مُقَفّیِ ہوں،(سب سے آخر میں آنے والے) میں حاشر ہوں,نبی التوبہ ہوں اور نبی الرحمۃ ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۹۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کو جائز قرار دیا یہ بات کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین تک پہنچی تو انہوں نے گویا اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے پرہیز کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جن کو میری طرف سے کوئی بات پہنچتی ہے جس کی میں نے اجازت دی کہ وہ اس کو ناپسند کرتے اور اس سے پرہیز کرتے ہیں اللہ کی قسم میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت خداوندی اور سخت وحشت الہیہ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۱)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کی اجازت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے پرہیز کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ کو غصہ آیا حتی کہ آپ کے چہرے انور پر غصہ ظاہر ہوگیا پھر فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ان کاموں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے اللہ تعالی کی قسم مجھے ان سب سے زیادہ اللہ کا علم اور ان میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۳)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری اورحضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان حرۃ مدینہ (پتھریلی زمین)کے پانی میں جھگڑا ہو گیا جس سے وہ لوگ کھجوروں کے باغات کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری نے کہا پانی کو چھوڑ دو تاکہ وہ بہتا رہے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا پھر انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے زبیر!زمین کو تم پانی دو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔انصاری کو غصہ آیااور کہا یا رسول اللہ!یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا پھر فرمایا اے زبیر! تم پانی دو پھر پانی کو روک دو حتیٰ کہ منڈیرتک چلا جائے۔حضرت زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میرا خیال ہے کہ یہ آیت کریمہ اسی واقعے کے بارے میں نازل ہوئی۔ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا} [النساء: ٦٥] (ترجمہ)آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو حاکم تسلیم نہ کرے پھر اپنے نفسوں میں کوئی حرج نہ پائیں(اور خوب تسلیم کرے) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں تمہیں جس بات سے روکوں اس سے رک جاؤ اور تمہیں جس کام کا حکم دوں اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛بلاضرورت سوال کرنے کی کراہت؛جلد٤ص١۸۳۰؛حدیث نمبر٥۹۹۵)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۰؛حدیث نمبر٥۹۹٦)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے متعدد اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جس چیز کو چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو(یعنی جس بات کے بارے میں بیان کروں اس کے بارے میں سوال نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہو گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٩٩٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۷)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے زیادہ جرم اس مسلمان کا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو مسلمانوں پر ابھی تک حرام نہ تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے حرام ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۸)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایسے کام کے بارے میں سوال کرے جو(ابھی تک)حرام نہ تھا پس اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر حرام ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۹)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٦٠٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کرام سے کوئی ناگوار خبر پہنچی تو آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا مجھ پر جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا پس میں نے آج کی طرح خیر اور شر نہیں دیکھی اور جو کچھ مجھے معلوم ہے اگر تمہیں اس کا علم ہوتا تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔ راوی فرماتے ہیں صحابہ کرام پر اس سے زیادہ سخت کوئی دن نہیں آیا وہ سب سر جھکائے بیٹھے تھےاور ان پر گریہ طاری تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم اللہ تعالی کے رب ہونے اسلام کے دین اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ پھر وہ شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تیرا باپ فلاں ہے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] (ترجمہ)"اے ایمان والو!ان باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تمہارے لئے ظاہر کی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٦٠٠۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!میرا باپ کون ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں ہیں اور یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] (ترجمہ)"اے ایمان والو!ان اشیاء کے بارے میں سوال نہ کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تم کو ناگوار ہو گا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۲؛حدیث نمبر٦٠٠۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ظہر کی نماز پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد ممبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اس(قیامت)سے پہلے بڑے بڑے واقعات رونما ہوں گے۔ فرمایا جو شخص مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتاہے وہ پوچھے اللہ کی قسم!تم مجھ سے جس کے بارے میں پوچھو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا جب تک میں اس مقام پر کھڑا ہوں۔حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو بہت رونا شروع کر دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے فرمانے لگے مجھ سے پوچھو۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور پوچھا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمانے لگے کہ مجھ سے پوچھو توحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا ہم اللہ تعالی کے رب ہونے اسلام کے دین ہونےاورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر راضی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس بات پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مجھ پر جنت اور دوزخ ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی میں پیش کیا گیا اور میں نے آج کی طرح خیر و شر کو نہیں دیکھا۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبردی فرماتے ہیں میں عبداللہ بن حذافہ کی ماں سے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا کبھی نہیں سناکیا تم اس بات سے بے خوف تھے کہ تمہاری ماں نے بھی وہ کام کیا ہو جو دور جاہلیت کی عورتیں کرتی تھیں تو تم لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کرتے۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے ملا دیتے تو میں اس سے مل جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۲؛حدیث نمبر٦٠۰٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۳؛حدیث نمبر٦٠٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے حتی کہ آپ ان کے سوالات سے تنگ آگئے۔ پھر ایک دن آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا مجھ سے پوچھو تم جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اس بات کا جواب دوں گا۔ جب صحابہ کرام نے یہ بات سنی تو خاموش ہو گئے اور خوفزدہ ہوئے کہ کہیں کچھ ہو نہ گیا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھا کہ ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا ہے پھر مسجد سے وہ شخص اٹھا جسےجھگڑے کے وقت اس کے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اس نے کہا اے اللہ کے نبی!میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس کے بعدحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا اللہ تعالی کی ربوبیت،اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر راضی ہیں ہم برے فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج کی طرح کبھی خیر اور شر کو نہیں دیکھامیرے سامنے اس دیوار کے قریب جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠۵)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠٦)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو آپ کو ناگوار ہوئیں،جب زیادہ سوال ہوئے تو آپ غصے میں آگئے پھرلوگوں سے فرمایا جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو۔ایک شخص نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ!میرا باپ کون ہے؟فرمایا تمہارا باپ سالم ہے جو شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے تو عرض کیا یا رسول اللہ!بے شک ہم اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا میرا باپ کون ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیبہ کا غلام سالم ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠۷)
حضرت موسی بن طلحہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میرا کھجوروں کے پاس سے کچھ لوگوں پر گزر ہوا تو آپ نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہوں نے کہا یہ لوگ کھجوروں میں قلم لگا رہے ہیںیعنی نر کھجور کو مادہ کھجور کے ساتھ ملاتے ہیں جس سے وہ پھل دار ہو جاتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے خیال میں یہ ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گا حضرت موسی فرماتے ہیں ان لوگوں کو بتایا گیا تو انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا اگر ان کو یہ عمل فائدہ دیتا ہے تو وہ اسے کرتے رہے میرا تو ایک خیال تھا تم اس گمان پر عمل نہ کرو لیکن جب میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اسے اختیار کرو کیونکہ میں اللہ تعالی پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳۵؛حدیث نمبر٦٠٠۸)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو صحابہ کرام کھجوروں میں قلم لگاتے تھے آپ نے فرمایا یہ تم کیوں کرتے ہو انہوں نے عرض کیا ہم اسی طرح کرتے تھے آپ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا چنانچہ انہوں نے یہ عمل چھوڑ دیا تو کھجوریں جھڑ گئیں یا(فرمایا)کم ہوگئیں۔ حضرت رافع فرماتے ہیں انہوں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا میں ایک بشر ہوں جب میں تمہیں کسی دینی معاملے میں حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور جب تمہیں اپنی کسی رائے سے حکم دوں تو میں بشر ہوں۔ عکرمہ کی روایت اسی طرح ہے اور معقری نے کسی شک کے بغیر کہا کہ کھجوریں جھڑگئیں(کم ہونے کا ذکر نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳۵؛حدیث نمبر٦٠٠۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو اچھا ہو گا۔ اس کے بعد ردی کھجور پیدا ہوئیں پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا گزر ان لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے پوچھا اب تمہاری کھجوروں کی کیا کیفیت ہے انہوں نے عرض کیا آپ نے اس طرح اس طرح فرمایا تھا آپ نے فرمایا تم اپنے دنیاوی معاملات کا زیادہ علم رکھتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳٦؛حدیث نمبر٦٠۱۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیںآپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے اور میری زیارت کرنا تم لوگوں کے نزدیک اہل و مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔ ابواسحاق فرماتے ہیں میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا اہل و مال کے ساتھ میری زیارت کرنا اپنے اہل و مال سے زیادہ عزیز ہوگا اور میرے نزدیک اس حدیث کے الفاظ میں تقدم وتاخر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضْلِ النَّظَرِ إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَنِّيهِ؛جلد٤ص١۸۳٦؛حدیث نمبر٦٠۱۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں دوسروں کی نسبت حضرت عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں(نظریات و عقائد سب کے ایک ہیں)اور میرے ان کے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت عیسٰی علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسرے نبیوں کی نسبت میں عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کیسے؟آپ نے فرمایا انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان)کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے سوائے حضرت ابنِ مریم اور ان کی ماں(حضرت مریم)کے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} [آل عمران: ٣٦] (ترجمہ)"میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری(اللہ)کی پناہ میں دیتی ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۵)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حضرت زہری کی سند میں ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان کے کچوکے لگانے سے وہ چیخ مار کر روتا ہے اور شعیب کی روایت میں شیطان کے چھونے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر انسان کو اس کی پیدائش کے دن شیطان چھوتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے۔ (امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات حضرت عیسی علیہ السلام اور آپ کی والدہ کے ساتھ خاص ہے لیکن قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس بات کو اختیار کیا کہ اس وصف میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام شریک ہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاولادت کے وقت بچے کا رونا شیطان کے کچوکے لگانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا تو چوری کرتا ہے؟اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا میں اللہ تعالی پر ایمان لاتا ہوں اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا"خیر البریہ"(اےمخلوق میں سے بہترین)آپ نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔(یہ ان کا لقب ہے ورنہ سب سے بہتر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا عاجزی کے طور پر فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۲۰)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٢٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۱)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم(مقام) میں ختنہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا اے رب!مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو ایمان نہیں رکھتا عرض کیا کیوں نہیں!لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے وہ ایک مضبوط قلعہ کی پناہ چاہتے تھے۔ اور اگر میں حضرت یوسف علیہ السلام جتنی لمبی قید کاٹتا تو بلانے والے کے ساتھ فوراً چلا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٠٢٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے انہوں نے ایک مضبوط قلعے کی پناہ لی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین(ظاہری طور پر)جھوٹ کے علاوہ جھوٹ نہیں بولا دواللہ تعالی کی ذات کی وجہ سے تھے ان کا قول تھا"میں بیمار ہوں"اور ان کا یہ کہنا بلکہ کسی بڑے(بت)نے کیا ہے ان کا بڑا یہ ہے اور ایک(خلاف ظاہر بات)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے علاقے میں آئے اور آپ کے ساتھ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور وہ بہت خوبصورت تھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا اگر اس ظالم بادشاہ کو پتہ چل گیا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تجھے مجھ سے چھین لیگا اگر وہ تم سے پوچھے تو تم اس کو بتانا کہ تم میری بہن ہو کیونکہ تم اسلام میں میری بہن ہو اور میرے علم کے مطابق(اس وقت)دنیا میں تیرے اور میرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں۔ جب حضرت ابراہیم اس ملک میں داخل ہوئے تو اس بادشاہ کے بعض کارندوں نے حضرت سارہ کو دیکھ لیا چناں چہ وہ بادشاہ کے پاس آئے اور کہنے لگے تمہارے ملک میں ایک خاتون آئی ہے جو تیرے علاوہ کسی کے لائق نہیں بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نماز پڑھنا شروع کر دی جب حضرت سارہ اس کے پاس گئیں تو وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھا نہ سکا اس کے ہاتھ کو سختی سے جکڑ دیا گیا۔ اس نے حضرت سارہ سےکہا کہ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ میرے ہاتھ کو ٹھیک کردے اور میں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ نے دعا کی تو(اس کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا)اس نے دوبارہ آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ جکڑا گیا اس نے پھر وہی بات کہی حضرت سارہ نے دعا مانگی لیکن اس نے پھر ہاتھ بڑھانا چاہا تو اس کا ہاتھ پہلی دو بار سے بھی زیادہ جگڑاگیا۔ اس نے کہا اللہ تعالی سے دعا کریں اگر وہ میرے ہاتھ کو کھول دے تو میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا حضرت سارہ نے اسی طرح کیا(دعا مانگی)اور اس کا ہاتھ کھل گیا تو اس نے اس شخص کو بلایا جو حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو لے کر آیا تھا اس نے کہا تم میرے پاس کسی جننی(جن عورت)کو لائے ہو کسی انسان کو نہیں لائے اسے میرے ملک سے نکال دو اور حضرت ہاجرہ بھی اس کو دے دو۔حضرت سارہ لوٹ آئیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو دیکھا تو نماز سے فارغ ہوئے پوچھا کیا ہوا؟حضرت سارہ نےفرمایا خیر ہے اللہ تعالی نے فاجر کے ہاتھ کو روک لیا اور اس نے ایک خادمہ بھی دی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اے بارش کی اولاد یہ تمہاری ماں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے تھے اور حضرت موسی علیہ السلام علحیدگی میں غسل فرماتے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام ہم سے الگ ہوکر اس لیے غسل کرتے ہیں کہ ان کو خصیوں کے سوجنے کی بیماری ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلامغسل کرنے کے لئے کپڑے پتھر پر رکھے تو وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا۔حضرت موسی علیہ السلام اس پتھرکے پیچھے بھاگنے لگے اور کہنے لگے اے پتھر!میرے کپڑے دو اےپتھر!میرے کپڑے دو حتی کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کی شرمگاہ کو دیکھ لیا اور کہنے لگے اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام میں کوئی بیماری نہیں اس کے بعد وہ پتھر ٹھہر گیا اور آپ کو دیکھ لیا گیا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پتھر کو مارنے لگے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام کے مارنے سے پتھر پر چھ سات نشان پڑ گئے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤١؛حدیث نمبر٦٠۲۸)
حضرت عبداللہ بن شفیق فرماتے ہیں ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت موسی علیہ السلام بہت باحیا مرد تھے اور ان کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا فرماتے ہیں بنی اسرائیل نے کہا ان کو خصیوں کے سوجنے کی بیماری ہے چنانچہ انہوں نے ایک دن کسی پانی پرغسل کیا اور کپڑے اتار کر پتھر پر رکھ دیئے اور پتھر بھاگ گیا آپ اپنے عصا کے ساتھ اس کے پیچھے بھاگے اور اسے مارتے ہوئے فرمانے لگے اے پتھر!میرے کپڑے دو اےپتھر میرے کپڑے دو(یہ کہتے ہوئے)آپ بنی اسرائیل کی ایک جماعت سے گزرے اور اس حوالے سے یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: ٦٩] اےایمان والو!ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو اذیت دی پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی تہمت سے بری کردیا اور آپ اللہ تعالی کے نزدیک بہت عزت والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۲؛حدیث نمبر٦٠۲۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کے پاس ملک الموت کو بھیجا گیا جب ملک الموت ان کے پاس آیا تو انھوں نے ایک تھپڑ دے مارا جس سے اس کی آنکھ نکل گئی۔ ملک الموت نے اپنے رب کے پاس جا کر کہا(اے اللہ!)تو نے مجھے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جو موت نہیں چاہتا۔چناں چہ اللہ تعالی نے ملک الموت کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ ایک بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھ دے تمہیں ہر اس بال کے بدلے ایک سال دیا جائے گا جو ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا پھر حضرت موسی علیہ السلام نے کہا اے میرے رب!پھرکیا ہوگا؟فرمایا موت ہے آپ نے عرض کیا تو ابھی سے(موت آجائے) انہوں نے دعا مانگی یا اللہ!مجھےارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکنے کے قریب کر دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو کثیب احمر(سرخ ٹیلے)کے نزدیک راستے کی ایک جانب ان کی قبر دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۲؛حدیث نمبر٦٠۳۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا موت کا فرشتہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا اپنے رب کا حکم قبول کیجئے فرماتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ نکال دی۔ملک الموت واپس اللہ کی بارگاہ میں گیا اور کہا اے اللہ!تو نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا ہےجو موت نہیں چاہتا تھا اور اس نے میری آنکھ نکال دی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ملک الموت کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کے پاس جا کر پوچھو کہ کیا وہ زندگی چاہتے ہیں؟اگر زندگی چاہتے ہیں(تو ان سے کہوکہ)ایک بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آ جائےاتنے سال مزید زندہ رہیں حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا پھر کیا ہوگا کہا پھر موت آئے گی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر اب قریب ہی(موت ٹھیک ہے) اے میرے رب مجھے ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے پر موت دینا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم!اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں سرخ ٹیلے کے پاس راستے کے کنارے پر ان کی قبر دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣۱)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی سامان بیچ رہا تھا اسے اس کا معاوضہ دیا گیا تو اسے پسند نہ آیا یا فرمایا وہ اس پر راضی نہ ہوا عبدالعزیز راوی کو شک ہے۔اس یہودی نے کہا میں نہیں لوں گا اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔فرماتے ہیں انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی تو اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور کہا تم کہتے ہو اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو باقی تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔ وہ یہودی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے ابو القاسم!مجھے امان دی گئی ہے اور فلاں شخص نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس انصار ی سے)فرمایا تم نے اس کو تھپڑ کیوں مارا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ اس نے کہا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ آپ ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ آپ کے چہرے پر اس کے آثاردکھائی دینے لگے آپ نے فرمایا انبیاء کرام علیھم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو کیونکہ صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے بے ہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ تعالی چاہے(بچاے)تو میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں یا فرمایا میں سب سے پہلے اٹھنے والوں میں سے ہوں گا میں دیکھوں گا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے عرش(کے پاے) کو پکڑا ہوا ہے مجھے معلوم نہیں کہ آیا یوم طورکی بے ہوشی میں ان کا حساب کر لیا گیا یا مجھ سے پہلے ان کو اٹھایا گیا اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی شخص حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣۳)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو شخص لڑ پڑے ان میں سے ایک یہودی اور دوسرا مسلمان تھا۔ مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مارا یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا اور اپنا اور مسلمان کا معاملہ بیان کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے موسی علیہ السلام پر فضیلت نہ دو لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا تو میں دیکھوں گا کے حضرت موسی علیہ السلام عرش کے ایک کونے کو پکڑے کھڑے ہوں گے میں نہیں جانتا آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے یا مجھ سے پہلےہوش میں آ گئے یا ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالی نے (بےہوشی سے)مستثنی کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٣٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٣٥ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے پتا نہیں کہ آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہوا یا طور پر ان کی بےہوشی سے ان پر اکتفاء کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۷)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان فضیلت مت دو۔ (اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و رسل عظام سے افضل ہیں اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فضیلت نہ دو جس کے ذریعے دوسرے انبیاء کرام کی توہین ہو یا دوسروں سے جھگڑا پیدا ہو۔)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی شب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا ایک روایت میں ہے کہ میں سرخ ٹیلے کے پاس سے گزرا اور وہ(حضرت موسی علیہ السلام) اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شب معراج)حضرت موسی علیہ السلام پر میرا گزر ہوا تو وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ معراج کی شب میرا گزر ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے کسی بندے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے میں(حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام)حضرت یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي ذِكْرِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۱)
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے تمہارے نبی کے چچازاد(حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ کسی بندے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي ذِكْرِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ!لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟آپ نے فرمایا ان میں سے جو سب سے زیادہ متقی ہے انہوں نے عرض کیاہم اس حوالے سے نہیں پوچھ رہے ہیں آپ نے فرمایا یوسف علیہ السلام جو اللہ کے نبی کے بیٹے ان کے باپ(حضرت یعقوب علیہ السلام)اللہ کے نبی(حضرت اسحاق علیہ السلام)کے بیٹے اور ان کے باپ خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھتے،آپ نے فرمایا تم قبائل عرب کے بارے میں پوچھ رہے؟تو جو لوگ دور جاہلیت میں افضل تھے وہ لوگ اسلام کے بعد بھی افضل ہیں بشرطیکہ دین کی فقاہت حاصل کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت یوسف علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ بَابٌ فِي فَضَائِلِ زَكَرِيَّاءَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت زکریا علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤۷؛حدیث نمبر٦٠٤٤)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نَوف بِکالی کا گمان ہے کہ بنی اسرائیل والےحضرت موسیٰ(علیہ السلام)اور تھے اور حضرت خضر(علیہ السلام)کے حضرت موسیٰ اور تھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کھڑے ہو کر بنی اسرائیل کو خطبہ دے رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم والا کون ہے تو حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے فرمایا میں سب سے زیادہ علم والا ہوں۔ آپ نے فرمایا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ(علیہ السلام)پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف علم کو نہیں لوٹایا(یعنی اللہ کا علم سب سے زیادہ ہے) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی کہ مجمع البحرین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے کہ جو تجھ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں تیرے اس بندہ تک کیسے پہنچوں گا تو حضرت موسیٰ(علیہ السلام)سے فرمایا گیا اپنے تھیلے میں ایک مچھلی رکھو جس جگہ وہ مچھلی گم ہوجائے گی تو وہی وہ جگہ کہ جہاں میرا وہ بندہ ہوگا جو تجھ سے زیادہ علم والا ہے یعنی حضرت خضر(علیہ السلام)پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام چل پڑے اور حضرت یوشع بن نون(علیہ السلام)بھی ان کے ساتھ چل پڑے دونوں حضرات چلتے چلتے ایک چٹان کے پاس آگئے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع(علیہ السلام) دونوں حضرات سو گئے تھیلے میں مچھلی تڑپی اور تھیلی میں سے باہر نکل کر سمندر میں جا گری اللہ تعالیٰ نے اس مچھلی کی خاطر پانی کے بہنے کو روک دیا یہاں تک کہ مچھلی کے لئے پانی میں مخروطی کی طرح ایک سرنگ بنتی چلی گئی اور مچھلی کے لئے خشک راستہ بن گیا حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع علیہما السلام دونوں حضرات کے لئے یہ ایک حیران کن منظر تھا تو باقی سارا دن اور ساری رات وہ دونوں چلتے رہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ان کو یہ بتانا بھول گئے تو جب صبح ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا ناشتہ لاؤ اس سفر نے تو ہمیں تھکا دیا ہے اور تھکاوٹ اس وقت سے شروع ہوئی جب اس جگہ سے آگے نکل گئے جس جگہ جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم صخرہ ایک چٹان تک آئے تو اور شیطان ہی نے تو ہمیں مچھلی کا ذکر کرنے سے بھلا دیا اور بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے فرمایا ہم اسی جگہ کی تلاش میں تو تھے پھر وہ دونوں حضرات اپنے قدموں کے نشانات پر واپس ہوئے پھر یہاں تک کہ وہ اس صخرہ چٹان پر آگئے اس جگہ ایک آدمی کو اپنے اوپر کپڑا اوڑھے ہوئے دیکھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان پر سلام کیا حضرت خضر(علیہ السلام)نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ہمارے علاقے میں سلام کہاں؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں حضرت خضر(علیہ السلام) نے فرمایا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا جی ہاں حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ علم دیا ہے کہ جسے میں نہیں جانتا اور مجھے وہ عطا فرمایا ہے کہ جسے آپ نہیں جانتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے خضر!میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے حضرت خضر نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے اور تمہیں اس بات پر کس طرح صبر ہو سکے گا کہ جس کا تمہیں علم نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا ہی پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود ہی وہ بات آپ سے بیان نہ کر دوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا چناں چہ حضرت خضر اور حضرت موسیٰ دونوں حضرات سمندر کے کنارے چلے ان دونوں حضرات کے سامنے سے ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ وہ ہمیں اپنی کشتی پر سوار کرلے کشتی والوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا تو انہوں نے ان دونوں حضرات کو بغیر کرایہ کے کشتی پر سوار کرلیا۔ حضرت خضر نے اس کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کو اکھاڑ پھینکا حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے فرمایا ان کشتی والوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے کشتی پر سوار کیا ہے اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا ہے تاکہ کشتی والوں کو غرق کردیا جائے یہ آپ نے تو بڑا عجیب کام کیا ہے حضرت خضر نے فرمایا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔حضرت موسیٰ نے فرمایا اس چیز کو بھی میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میری پکڑ نہ کریں اور نہ ہی میرے معاملہ میں کوئی سختی کریں پھر دونوں حضرات کشتی سے نکلے اور سمندر کے ساحل پر چلنے لگے تو انہوں نے ایک لڑکے کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا حضرت خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ حضرت موسیٰ پھر بول پڑے کہ آپ نے ایک لڑکے کو بغیر کسی وجہ کے قتل کردیا آپ نے بڑا نازیبا کام کیا حضرت خضر نے فرمایا اے موسیٰ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت خضر(علیہ السلام)کا یہ انداز پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا حضرت موسیٰ نے فرمایا اگر اب میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ میرا عذر معقول ہے۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں تک آئے انہوں نے ان گاؤں والوں سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کو مہمان رکھنے سے انکار کردیا ان دونوں حضرات نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس دیوار کو سیدھا کردیا وہ دیوار جھکی ہوئی تھی تو حضرت خضر(علیہ السلام)نے اپنے ہاتھ سے اس دیوار کو سید ھا کردیا حضرت موسیٰ فرمانے لگے کہ یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس ہم گئے تھے لیکن انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی اور ہمیں کھانا نہیں کھلایا اگر آپ چاہیں تو ان سے اس دیوار کو سیدھا کرنے کی مزدوری لے لیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام)نے فرمایا اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کے بارے میں بتاتا ہوں کہ جس پر آپ صبر نہیں کرسکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے کاش کہ وہ صبر کرتے یہاں تک کہ اللہ ہمیں ان دونوں حضرات کے مزید واقعات بیان فرماتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت موسیٰ کا پہلی مرتبہ سوال کرنا نسیان تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا(اے موسی علیہ السلام)میرے اور اور آپ کے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں فقط اتنی کمی ہے اس چڑیا کے چونچ(کے پانی)نے سمندر میں کی ہے(یعنی کوئی کمی نہیں)سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے کہ ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو چھین لیتا تھا اور وہ یہ بھی پڑھتے تھے کہ وہ لڑکا کافر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٤۷تا١٨٤٩؛حدیث نمبر٦٠٤٥)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ نوف بکالی کیا کہتا ہے کہ جو حضرت موسیٰ حضرت خضر (علیہ السلام)کے پاس علم کی تلاش میں گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے حضرت موسیٰ نہیں تھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے سعید کیا تو نے اسے یہ کہتے سنا ہے؟انہوں نے کہا جی ہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نوف جھوٹ کہتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی آزمائشوں کے بارے میں نصیحتیں فرما رہے تھے اور انہوں نے فرمایا میرے علم میں نہیں ہے کہ ساری دنیا میں کوئی آدمی مجھ سے بہتر ہو یا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میں اس آدمی کو جانتا ہوں کہ جو تجھ سے بہتر ہے یا تجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے پروردگار!مجھے اس آدمی سے ملا دے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم دیا گیا کہ ایک مچھلی کو نمک لگا کر اپنے توشہ میں رکھ جس جگہ وہ مچھلی گم ہوجائے اس جگہ پر وہ آدمی تمہیں مل جائے گا۔ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی یہ سن کر چل پڑے یہاں تک کہ صخرہ کے مقام پر پہنچ گئے اس جگہ ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی کو چھوڑ کر چلے گئے وہ مچھلی تڑپ کر پانی میں چلی گئی پانی نے اس پر بہنا چھوڑ دیا اور ایک طاق(سرنگ)کی طرح ہوگیا۔حضرت موسیٰ کے ساتھی نے کہا میں اللہ کے نبی سے ملوں اور ان کو اس کی خبر دوں پھر وہ حضرت موسیٰ سے اس واقعہ کا ذکر بھول گئے تو جب ذرا آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا ناشتہ لاؤ اس سفر نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت موسیٰ کو یہ تھکاوٹ اس جگہ سے آگے بڑھنے سے ہوئی۔ حضرت موسیٰ کے ساتھی نے یاد کیا اور کہنے لگا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم صخرہ کے مقام پر پہنچے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور سوائے شیطان کے یہ مجھے کسی نے نہیں بھلایا بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اس مقام کی تلاش تھی پھر وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس ہوئے اور انہوں نے ان کو مچھلی(کے گم ہونے)کی جگہ بتائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں یہی جگہ بتائی گئی تھی۔پھر وہ ڈھونڈنے لگے تو اچانک انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھاکہ یہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے چت لیٹے ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا السلام علیکم!حضرت خضر(علیہ السلام)نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا وعلیکم السلام!آپ کون؟حضرت موسیٰ نے فرمایا میں موسیٰ ہوں حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کون موسیٰ؟حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ۔ حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کیسے آنا ہوا؟حضرت موسیٰ نے فرمایا اے خضر!اپنے علم میں سے کچھ مجھے بھی دکھا دو حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے اور جن چیزوں کا تمہیں علم نہ ہو تو تم ان پر کیسے صبر کرسکو گے تو اگر تم صبر نہ کرسکو گے تو مجھے بتادو کہ میں اس وقت کیا کروں حضرت موسیٰ فرمانے لگے کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صبر کرنے والا ہی پاؤ گے اور میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اچھا اگر تم نے میرے ساتھ رہنا ہے تو تم نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھنا جب تک کہ میں خود ہی تمہیں اس کے بارے میں بتا نہ دوں۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے حضرت خضر(علیہ السلام)نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ بول پڑھے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہوجائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔ حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اے موسیٰ!کیا میں تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ پر آگئے کہ جہاں کچھ لڑکے کھیل رہے تھے حضرت خضر(علیہ السلام)نے بغیر سوچے سمجھے ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے کو پکڑا اوراسے قتل کردیا حضرت موسیٰ یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور فرمایا آپ نے ایک بےگنا لڑکے کو قتل کردیا یہ کام تو آپ نے بڑی ہی نازیبا کیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اور حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے اگر موسیٰ جلدی نہ کرتے تو بہت ہی عجیب عجیب باتیں ہم دیکھتے لیکن حضرت موسیٰ کو حضرت خضر سے حیا آگئی اور فرمایا اگر اب میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو آپ میرا ساتھ چھوڑ دیں کیونکہ میرا عذر معقول ہے اور اگر حضرت موسیٰ صبر کرتے تو عجیب باتیں دیکھتے اور آپ جب بھی انبیاء(علیہم السلام)میں سے کسی کو یاد فرماتے تو فرماتے کہ ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور میرے فلاں بھائی پر اللہ کی رحمت ہو پھر وہ دونوں حضرات حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے اس گاؤں کے لوگ بڑے کنجوس تھے یہ دونوں حضرات سب مجلسوں میں گھومے اور کھانا طلب کیا لیکن ان گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان دونوں حضرات کی مہمان نوازی نہیں کی پھر انہوں نے وہاں ایک ایسی دیوار کو پایا کہ جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضر(علیہ السلام)نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کردیا حضرت موسیٰ نے فرمایا اے خضر!اگر آپ چاہتے تو ان لوگوں سے اس دیوار کے سیدھا کرنے کی مزدوری لے لیتے حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کہ بس اب میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے اور حضرت خضر(علیہ السلام)حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کرسکے کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلما کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آئے گا تو وہ کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دےگا اور وہ کشتی آگے بڑھ جاے گی اور کشتی والے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کرلیں گے اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے اس کی قسمت میں کافر ہونا لکھا تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے ہیں تو جب وہ بڑا ہوگا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی کفر و سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ تھا آخر آیت تک۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۵۰تا١٨٥١؛حدیث نمبر٦٠٤٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢؛حدیث نمبر٦٠٤۷)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: "(لَتَّخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا)" (ترجمہ"آپ اس پر اجرت لیتے") (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢؛حدیث نمبر٦٠٤۸)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا اور حر بن قیس بن حصن فزاری کا اس بات میں مباحثہ ہوا کہ حضرت موسی علیہ السلام کا صاحب کون تھا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کو بلا کر فرمایا،اے ابوالطفیل!ہماری طرف آئیےمیرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں مباحثہ ہوا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا صاحب کون تھا جس سے حضرت موسی علیہ السلام نے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے اس کا معاملہ ذکر کیا ہو۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہاآپ کے علم میں آپ سے بڑھ کر کوئی عالم ہے؟حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔ اس پر اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ہمارا بندہ حضرت خضر علیہ السلام ہے پھر حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تو اللہ تعالی نے ان کے لیے مچھلی کو علامت قرار دیا اور ان سے کہا گیا کہ جب آپ مچھلی کو گم پائیں تو واپس آجائیں ان سے ملاقات ہو جائے گی پھر جس قدر اللہ تعالی نے چاہاحضرت موسی علیہ السلام چلے پھر اپنےساتھی سے فرمایا ہمارا ناشتہ لاؤ اس نے آپ کے ناشتہ طلب کرنے پر کہا دیکھئے جب ہم چٹان کے پاس پہنچے تو مجھے مچھلی کا ذکر کرنا یاد نہ رہا اور یہ بات مجھے شیطان نے بھلا دی کہ میں آپ سے ذکر کروں حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے فرمایا ہمیں اسی کی تلاش تھی پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس ہوئے اور حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا قرآن مجید نے ان دونوں کا واقعہ بیان کیا ہے البتہ یونس راوی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ مچھلی کے نشان پر جو سمندر میں تھے چلے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢،١٨٥٣؛حدیث نمبر٦٠٤۹)
Muslim Shareef : Kitabul Fazayele
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْفَضَائِلِ
|
•