
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم غار میں تھے تو میں نے اپنے سروں کی جانب مشرکین کے پاؤں دیکھے میں نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ!اگر ان میں سے کوئی ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا آپ نے فرمایا اے ابوبکر!تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛ترجمہ؛فضائل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ترجمہ؛حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل؛جلد٤ص١۸۵٤؛حدیث نمبر٦٠۵۰)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا ایک بندے کو اللہ تعالی نے اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالی اسے دنیا کی نعمتیں عطا کرے(اور وہ ان کو لے لے)یا اللہ تعالی کے پاس رہے یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روے اور خوب روئے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا جس شخص کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم والے تھے۔اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مال اور صحبت کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا۔لیکن اسلامی بھائی چارہ قائم ہے(حضرت)ابوبکر(رضی اللہ عنہ)کی مسجد کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے علاوہ کوئی کھڑکی باقی نہ رہے(یعنی بند کر دی جائیں)۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنہ؛جلد٤ص١۸۵٤؛حدیث نمبر٦٠۵١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٥١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۵؛حدیث نمبر٦٠۵۲)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن وہ میرے(دینی)بھائی اور ساتھی ہیں اور اللہ تعالی نے تمہارے صاحب(حضور علیہ السلام)کو خلیل بنایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۵؛حدیث نمبر٦٠۵۳)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرکو بناتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۵؛حدیث نمبر٦٠۵٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو خلیل بناتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۵؛حدیث نمبر ٦٠۵٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو خلیل بناتا لیکن تمہارے صاحب(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالی کے خلیل ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۵؛حدیث نمبر٦٠٥٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو میں ہر خلیل کی خلت سے بری ہوتا ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا بےشک تمہارا صاحب(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے خلیل ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵٦؛حدیث نمبر٦٠۵۷)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لشکر ذات السلاسل میں سالار بنا کر بھیجا۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ لوگوں میں کون شخص آپ کو زیادہ محبوب ہے؟آپ نے فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،میں نے پوچھا مردوں میں سے کون؟فرمایا ان کے باپ(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) میں نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا(حضرت)عمر(رضی اللہ عنہ)پھر انہوں نے کئی نام لیے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵٦؛حدیث نمبر٦٠۵۸)
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیااور میں سن رہا تھاکہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کو خلیفہ بناتے۔انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو،ان سے پوچھا گیا ان کے بعد؟فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو،پوچھا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد؟فرمایا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو،اس کے بعد ام المومنین خاموش ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵٦؛حدیث نمبر٦٠۵۹)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک خاتون نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا پھر آنا اس نے کہا یارسول اللہ!مجھے بتائیے اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں اس کی مراد یہ تھی کہ اگر آپ کا انتقال ہو جائے تو؟ فرمایا اگر مجھے نہ پاؤ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵٦؛حدیث نمبر٦٠٦٠)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کسی معاملے میں آپ سے گفتگو کی تو آپ نے اس کو(پھر آنے کا)حکم دیا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٦٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۷؛حدیث نمبر٦٠٦۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ان کے بارے میں ایک مکتوب لکھ دوں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کہے کہ میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں اور اللہ تعالیٰ اور مومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر ایک کی خلافت کا انکار کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۷؛حدیث نمبر٦٠٦۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں ہوں آپ نے پوچھا آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں گیا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نےآپ نے پوچھاآج تم میں سے کس نے کسی بیمار کی عیادت کی ہے؟حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں یہ صفات جمع ہوں گی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۷؛حدیث نمبر٦٠٦۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص گاے پر بوجھ لاد کر لے جا رہا تھا کہ اچانک گاے مڑ کر اس کی طرف دیکھی اور اس نے کہا مجھے اس مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا گیا مجھے کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا۔صحابہ کرام نے تعجب اور خوفزدہ ہو کر"سبحان اللہ"کہا کیا گائے نے کلام کیا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا بھی اس پر ایمان ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ان پر بھیڑیے نے حملہ کیا اور ایک بکری اٹھا کر لے گیا چرواہے نے اسے تلاش کیا حتیٰ کہ اسے اس سے چھڑا لیا بھیڑیاں اس(چرواہے)کی طرف متوجہ ہوا اور کہا درندوں کے دن جب میرے سوا کوئی چرواہا نہ ہوگا اسے کون بچائے گا۔ صحابہ کرام نے"سبحان اللہ"کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر میرا بھی ایمان ہے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی ایمان رکھتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۷؛حدیث نمبر٦٠٦٤)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں بکری اور بھیڑیے کا ذکر ہے گائے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۸؛حدیث نمبر٦٠٦۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یہ روایت بھی حدیث نمبر ٦٠٦٤کے مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس وقت موجود نہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۸؛حدیث نمبر٦٠٦٦)
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت نقل کی ہے۔ (یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان ساتھیوں پر زیادہ اعتماد تھا۔اس لئے ان کی عدم موجودگی میں ان کے ایمان کا اظہار فرمایا۔) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۸؛حدیث نمبر٦٠٦۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جنازہ تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے وہ ان کے حق میں دعا کرتے کلمات تحسین کہتے اور میت کو اٹھائے جانے سے پہلے ان کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ اچانک ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں نے گھبراتے ہوئے مڑ کر دیکھا وہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا(اے عمر!)آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے کیے ہوئے اعمال کے ساتھ مجھے اللہ تعالی کے ساتھ ملاقات کرنا پسند ہو۔ اللہ کی قسم!مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی آپ کا درجہ آپ کے دونوں صاحبوں کے ساتھ کر دے گا کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سنتا تھا۔(آپ فرماتے تھے) "میں،ابوبکر اور عمر آئے"میں،ابوبکراور عمر داخل ہوئے" میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے"(صلی اللہ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہم)اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی آپ کو آپ کے دونوں صاحبوں کے ساتھ رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۸؛حدیث نمبر٦٠٦۸)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۹؛حدیث نمبر٦٠٦۹)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کیے جا رہے ہیں اور ان پر قمیص ہیں بعض کی قمیصیں پستانوں تک تھیں اور بعض کیاس سے نیچے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گزرے تو وہ اپنی قمیص کو گھسیٹ رہے تھے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے فرمایا "دین" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۹؛حدیث نمبر٦٠۷۰)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا اس میں دودھ تھا میں نے اس سے پیا حتیٰ کہ میں نے دیکھا سیرابی میرے ناخنوں کے نیچے سے نکل رہی ہے پھر میں نے باقی دودھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے۔آپ نے فرمایا"علم" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۵۹؛حدیث نمبر٦٠۷۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٠؛حدیث نمبر٦٠۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ایک ڈول تھا میں نے اس سے(پانی)نکالا جس قدر اللہ تعالیٰ نے چاہا،پھر ابن ابی قحافہ نے وہ ڈول لے لیا اور اس میں سے ایک یا دو ڈول نکا لے اللہ ان کی مغفرت کرے ان کے نکالنے میں کمزوری تھی۔ پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لے لیا میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا عبقری(نہایت با صلاحیت)شخص نہیں دیکھا جو ان کی طرح ڈول کھینچتا ہو۔حتیٰ کہ لوگوں نے اونٹوں کو سیراب کر کے بٹھا دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٠؛حدیث نمبر٦٠۷۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٠؛حدیث نمبر٦٠۷٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٧٣کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۱؛حدیث نمبر٦٠۷۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ مجھے دکھایا گیا میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آے اور انہوں نے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا تاکہ مجھے آرام پہنچائیں۔حتیٰ کہ انہوں نے دو ڈول نکالے۔اور ان کے نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آے اور ان سے ڈول لے لیا میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ لوگ واپس ہوگئے اور حوض ابھی بھی بھر پور طریقے سے بہ رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۱؛حدیث نمبر٦٠۷٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دکھایا گیا کہ میں صبح کے وقت ایک کنویں سے ڈول کے ساتھ پانی نکال رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے ان کے نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی معفرت فرماے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آے اور وہ ڈول بڑا ہوگیا میں نے کسی عبقری(تعجب انگیز)شخص کو نہیں دیکھا انہوں نے حیران کردیا حتیٰ کہ لوگ سیراب ہوگیے اور انہوں نے اونٹوں کو پانی پلا کر بٹھا دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۲؛حدیث نمبر٦٠۷۷)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۲؛حدیث نمبر٦٠۷۸)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ایک گھر یا محل دیکھا میں نے پوچھا یہ کس کے لیے ہے حاضرین نے کہا یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ!کیا میں آپ سے غیرت کروں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۲؛حدیث نمبر٦٠۷۹)
ایک اور سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۲؛حدیث نمبر٦٠۸۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ فرماتے ہیں اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا میں نے دیکھا کہ وہاں ایک عورت تھی جو ایک محل کی ایک جانب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے حاضرین نے کہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آگئی تو میں پیٹھ پھیر کر چل پڑا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(یہ سن کر)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رو پڑے اس وقت ہم سب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ سے غیرت کروں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۳؛حدیث نمبر٦٠۸۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۳؛حدیث نمبر٦٠۸۲)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے(اندر داخل ہونے کی)اجازت مانگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں موجود تھیں اور وہ عورتیں آپ سے بہت ہی زیادہ باتیں کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں بھی بلند تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ عورتیں پردے میں دوڑ پڑیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت عطا فرما دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اللہ تعالیٰ آپ کو ہنستا رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا کہ جو میرے پاس بیٹھی تھیں(اے عمر!)جب انہوں نے تیری آواز سنی تو وہ پردے میں دوڑ پڑیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ عورتیں آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے فرمایا اے اپنی جان کی دشمنو!کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟وہ عورتیں کہنے لگیں جی ہاں!آپ سخت ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غصہ والے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،شیطان جب تجھے کسی راستے پر چلتا ہوا ملتا ہے تو شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے،کہ جس راستے پر(اے عمر!)تو چلتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۳؛حدیث نمبر٦٠۸۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت آپ کے پاس کچھ عورتیں تھیں جن کی آوازیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند ہو رہی تھیں جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی جلدی پردے میں چلی گئیں.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٨٣کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٤؛حدیث نمبر٦٠۸٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ فرماتے تھے تم سے پہلی امتوں میں کچھ محدث(دال پر زبر)ہوتے تھے اگر اس امت میں کوئی محدث ہوگا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ابن وہب کہتے ہیں محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الہام کیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٤؛حدیث نمبر٦٠۸۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٤؛حدیث نمبر٦٠۸٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تین چیزوں میں اپنے رب کی موافقت کی مقام ابراہیم میں،حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۵؛حدیث نمبر٦٠۸۷)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ مانگا کہ جس میں اس کے باپ کو کفن دیا جائے تو آپ نے اپنا کرتہ اسے دے دیا۔پھر اس نے عرض کیا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع فرما دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے آپ ان کے لئے طلب بخشش کریں یا نہ کریں اگر ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں اور میں ستر پر اضافہ کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ تو منافق ہے،بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھ لی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی،(وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ ) "اور ان میں سے کوئی مرجائے تو ان پر کبھی نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں۔" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۵؛حدیث نمبر٦٠۸٨)
ابو اسامہ سے یہ حدیث مروی ہے اس کے بعد آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۵؛حدیث نمبر٦٠۸۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے،اس حال میں کہ آپ کی رانیں یا پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں(اسی دوران)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت پر رہے وہ گفتگو کرنے لگے،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں رہے اور وہ آپ سے گفتگو کرنے لگے،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سیدھا کرلیا۔ روای کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک دن کی بات ہے۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے تو جب وہ سب حضرات نکل گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ کوئی پرواہ کی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو بھی آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پرواہ کی،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑو وں کو درست کیا(اس کی کیا وجہ ہے) تو آپ نے فرمایا(اے عائشہ!)کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛ بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛؛ترجمہ؛حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائلجلد٤ص١۸٦٦؛حدیث نمبر٦٠۹۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ اپنے بستر پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی اور آپ اسی حالت میں رہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی حاجت پوری کر کے چلے گئے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی آپ نے ان کو بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور وہ اپنی حاجت پوری کر کے چلے گئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا اپنے کپڑے درست کر لو میں بھی اپنی حاجت پوری کر کے چلا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ!کیا وجہ ہے میں نے آپ کو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے لیے اتنا گھبرایا ہوا نہیں دیکھا جس قدرحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے دیکھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حیادار مرد ہے اور مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے ان کو اسی حالت میں اجازت دے دی تو وہ مجھ سےاپنی حاجت بیان نہیں کر سکیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦٦؛حدیث نمبر٦٠۹۱)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اس کے بعد حدیث نمبر٦٠٩١کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۷؛حدیث نمبر٦٠۹۲)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دوران کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے ایک باغ میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے اور ایک لکڑی سے کیچڑ کھرچ رہے تھے کہ ایک شخص نے دروازہ کھلوایا آپ نے فرمایا دروازہ کھول کر اس کو جنت کی بشارت دو۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ آنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی فرماتے ہیں ایک اور شخص نے دروازہ کھلوایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ کھولو اور اسے جنت کی خوشخبری دو فرماتے ہیں میں گیا تو دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی۔ پھرایک اور آدمی نے دروازہ کھلوایا فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا دروازہ کھولو اور اسے مصیبتوں کے برداشت کرنے پر جنت کی خوشخبری دو جو اس پر نازل ہوگی فرماتے ہیں میں گیا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے میں نے دروازہ کھولا اور جنت کی خوشخبری دی اور میں نے وہ کلمات بھی کہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایے تھے اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ!مجھے صبر عطا کرنا یا(یہ کہا)اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کی جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۷؛حدیث نمبر٦٠۹۳)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ دروازہ کی حفاظت کرنا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٩٣کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۷؛حدیث نمبر٦٠۹٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہوں گا اور سارا دن آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا،پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم)نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف نکلے ہیں،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس دروازے پر بیٹھ گیا اور وہ دروازہ لکڑی کا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے اور آپ نے وضو فرمایا تو میں آپ کی طرف گیا،دیکھا کہ آپ بئر اریس پر تشریف فرما ہیں اور اس کے کنارے پر اپنی پنڈلیاں مبارک کھول کر کنوئیں میں لٹکائی ہوئی ہیں،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ پر سلام کیا پھر میں واپس ہو کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے(اپنے دل میں)کہا کہ آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان بنوں گا(اسی دوران)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا،میں نے کہا کون؟ انہوں نے فرمایا ابوبکر،میں نے کہا،ٹھہریں،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں گیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اجازت مانگ رہے ہیں،آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو،راوی کہتے ہیں کہ پھر میں آیا اور میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا تشریف لے آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو جنت کی خوشبخری دیتے ہیں،راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کنوئیں کے کنارے آپ کے دائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے،جس طرح کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہوا تھا اور اپنی پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے،پھر میں واپس لوٹا(اور دروازے پر)بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ آیا تھا اور وہ میرے پاس آنے والا تھا تو میں نے(اپنے دل میں کہا)کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے اس بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے گا تو وہ اسے بھی لے آئے گا،تو میں نے دیکھا کہ ایک انسان نے دروازہ کو ہلایا،میں نے کہا کون؟انہوں نے کہا عمر بن خطاب میں نے عرض کیا ٹھہریں،پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ پر سلام کیا اور میں نے عرض کیا یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ سے اجازت مانگتے ہیں،آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی دے دو،پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہاآپ کو اجازت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے،راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنوئیں کے کنارے پر آپ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے پھر میں لوٹ گیا(اور دروازے پر)بیٹھ گیا اور میں نے کہا اگر اللہ فلاں کے ساتھ(ساتھ)میرے بھائی سے بھی بھلائی چاہے گا تو اسے بھی لے آئے گا،پھر ایک انسان آیا اور اس نے دروازے کو ہلایا تو میں نے کہا کون؟انہوں نے کہا عثمان بن عفان،میں نے عرض کیا ٹھہریں!حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر دی تو آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو،اور جو مصائب ان کو لاحق ہوں ان(کو برداشت کرنے)پر۔ فرماتے ہیں وہ اندر آے اور دیکھا کہ منڈیر بھر چکی ہے تو وہ دوسری جانب ان کے سامنے بیٹھ گئے۔شریک کہتے ہیں حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کی قبریں اس طرح ہوں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۸؛حدیث نمبر٦٠۹۵)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کر کے گھر سے نکلا تھا کہ آپ باغات کی طرف نکل گئے میں آپ کے پیچھے چلا میں نے دیکھا کہ آپ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں آپ نے پنڈلیاں کھولی ہوئی ہیں اور ان کو کنویں میں لٹکا رکھا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٩٥کے مثل مروی ہے۔ اس میں حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تعبیر لی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۹؛حدیث نمبر٦٠۹٦)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ طیبہ کے ایک باغ کی طرف کسی کام کے غرض سے گئے میں بھی آپ کے پیچھے چلا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٩٥کے مثل مروی ہے۔حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کے ساتھ ہوں گی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبر الگ ہوں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸٦۹؛حدیث نمبر٦٠۹۷)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ کا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہے البتہ یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چاہتا تھا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کروں اور بالمشافہ یہ حدیث سنوں فرماتے ہیں میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے وہ حدیث بیان کی جو حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کی تھی اور کہا تھا کہ یہ حدیث میں نے خود سنی ہے انہوں نے کہا آپ نے خود سنی ہے؟انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں پر رکھیں اور کہا اگر میں نے خود نہ سنی ہو تو میرے کان بہرے ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۰؛حدیث نمبر٦٠۹۸)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غزوۂ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیبہ میں(اپنا نائب بنا کر)چھوڑا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ علی بن ابی طالب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۰؛حدیث نمبر٦٠۹۹)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۱؛حدیث نمبر٦۱۰۰)
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر بنایا تو فرمایا تمہیں ابوتراب رضی اللہ عنہ کو برا کہنے سے کس چیز نے منع کیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تین چیزیں یاد ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اس لیے میں ان کو کبھی برا نہیں کہتا ان میں سے ایک بھی میرے لیے ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سناجب آپ نے ان کو جہاد کے بعض مواقع پر چھوڑ دیا اور حضرت علی المرتضی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام کے لیے تھے البتہ یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں۔ اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خیبر کے دن فرمایا میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالی اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سب اسی انتظار میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤ ان کو لایا گیا اس حال میں کہ ان کی آنکھیں دکھتی تھیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور ان کو جھنڈا عطا فرمایا چنانچہ اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح فرمایا۔ اور جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ( ترجم)"آپ فرمادیجئے اور ہم اپنے بیٹوں کو لائے اور تم اپنے بیٹوں کو لاؤ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضی حضرت فاطمہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا اے اللہ!یہ میرے اہل ہیں۔" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۱؛حدیث نمبر٦۱۰۱)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۱؛حدیث نمبر٦۱۰۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں فتح فرماے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن کے علاوہ میں نے کبھی بھی امارت(امیر بننے)کی تمنا نہیں کی اور میں اس امید پر آپ کے سامنے آیا کہ آپ مجھے بلالیں گے لیکن حضور علیہ السلام نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو جھنڈا عطاء کیا اور فرمایا چلتے جاؤ ادھر اُدھر نہ دیکھنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمادے۔فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کچھ دور گئے پھر ٹھہر گئے اور ادھر اُدھر توجہ نہ کی پھر انہوں نے زور سے آواز دی یا رسول اللہ!میں کس بنیاد پر لوگوں سے جنگ کروں آپ نے فرمایا لڑو حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے تم سے اپنے خون اور نالوں کو بچا لیا البتہ ان پر کسی کا حق ہواور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۱؛حدیث نمبر٦۱۰۳)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے رات اس حال میں گزاری کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کس کو جھنڈا عطاء فرماتے ہیں جب صبح ہوئی تو صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے ہر ایک کو امید تھی کہ آپ اسے عطاء فرمائیں گے آپ نے فرمایا(حضرت)علی(رضی اللہ عنہ)کہاں ہیں؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آنکھیں دکھتی ہیں فرمایا ان کو بلاؤ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور ان کے لئے دعا کی حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہوگئے۔گویا انہیں کوئی تکلیف نہ تھی۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ!میں ان سے لڑتا رہوں گا حتیٰ کہ وہ ہماری مثل ہوجائیں۔آپ نے فرمایا نرمی سے روانہ ہونا حتیٰ کہ جب تم ان کے میدان میں اتر جاؤ تو ان کو اسلام کی دعوت دینا اور ان کو بتانا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق واجب ہے پس اللہ تعالیٰ کی قسم!تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تمہارے لئے سرخ اونٹ ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۲؛حدیث نمبر٦۱۰٤)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے اور ان کی آنکھیں دکھتی تھیں پھر انہوں نے کہا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا۔چنانچہ وہ نکلے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے جب وہ شام آئی جس کی صبح اللہ تعالیٰ نے خیبر کی فتح عطاء فرمائی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا یا فرمایا وہ شخص جھنڈا لے گا جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں خیبر کو فتح کردے گا۔ پھر اچانک ہم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ہمیں اس کی توقع نہ تھی صحابہ کرام نے کہا یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطاء فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح دے دی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۲؛حدیث نمبر٦۱۰۵)
یزید بن حیان کہتے ہیں،میں حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم،حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے جب ان کے پاس بیٹھے تو حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کو خیر کثیر حاصل ہے۔آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی آپ کی حدیث سنی اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ بیشک اے زید!آپ نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کی۔اےزید!آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث سنی ہے تو کوئی حدیث ہمیں بھی سنائے۔انہوں نے فرمایا اے بھتیجے اللہ کی قسم میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور ایک زمانہ گزر گیا ہے اور میں نے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا تھا اس میں سے بعض کو بھول گیا ہوں میں تم سے جو کچھ بیان کرو اسے قبول کرو اور اس سلسلے میں مجھے کسی بات کا مکلف نہ بناؤ۔ پھرفرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمیں خطبہ دینے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان اس پانی کے پاس کھڑے ہوئے جسے خم کہا جاتا ہے آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی اور وعظ و نصیحت کی پھر فرمایا اما بعد!اے لوگو!میں ایک انسان ہوں قریب ہے کہ اللہ تعالی کا فرشتہ میرے پاس آئے اور میں اس کو لبیک کہوں(وصال کی طرف اشارہ ہے)میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں سے پہلی چیز اللہ تعالی کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس اللہ تعالی کی کتاب کو اختیار کرو اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھو آپ نے قرآن مجید کے بارے میں برانگیختہ کیا اور ترغیب دی۔پھر فرمایا اور میرے اہل بیت ہیں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالی کو یاد دلاتا ہوں میں اپنے اہل بیت کے بارے تمہیں اللہ تعالی کو یاد دلاتا ہوں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں اللہ تعالی کو یاد دلاتا ہوں۔ حضرت حصین رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ حضور علیہ السلام کے اہل بیت کون ہے انہوں نے فرمایا آپ کی ازواج مطہرات آپ کی اہل بیت میں سے ہیں لیکن آپ کے اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے۔انھوں نے پوچھا وہ کون ہے فرمایا "ال علی،ال عقیل ال جعفر اور آل عباس"پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷۳؛حدیث نمبر٦۱۰٦)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦١٠٦کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷٤؛حدیث نمبر٦۱۰۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہےجریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اور نور ہے جس نے اس کو مضبوطی سے پکڑا وہ ہدایت پر ہوگا اور جس نے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷٤؛حدیث نمبر٦۱۰۸)
یزید بن حیان کہتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا آپ نے بہت بھلائی دیکھی ہے آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کیااور آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے....البتہ اس میں یہ فرمایا۔(کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)سنو میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں ایک کتاب اللہ یہ اللہ تعالی کی رسی ہے جو اس کے پیچھے چلے گا وہ ہدایت پر ہوگا اور جو اس کو چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ہم نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہے آپ کی ازواج مطہرات؟آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!نہیں ایک عورت ایک زمانہ تک مرد کے ساتھ رہتی ہے پھر وہ اس کو طلاق دے دیتا ہے اور وہ اپنے باپ اور قوم کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے آپ کے والد گرامی اور آپ کےعصبات ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷٤؛حدیث نمبر٦۱۰۹)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ال مروان میں سے ایک شخص کو مدینہ کا امیر بنایا گیا اس نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ کو گالی دو تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اس نے کہا اگر تم انکار کرتے ہو تو یوں کہو اللہ تعالی ابو تراب پر لعنت کرے،حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب نام سب سے زیادہ پسند تھا ان کو جب اس نام کے ساتھ پکارا جاتا تو وہ خوش ہوتے۔ راوی نے کہا ہمیں وہ واقعہ بتاؤ جس کی وجہ سے آپ کا نام ابوتراب رکھا گیا انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خاتون جنت کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا پوچھا تمہارے چچازاد کہاں ہیں حضرت خاتون جنت نے عرض کیا میرے اور ان کے درمیان کچھ شکر رنجی ہوگئی جس سے وہ غضب ناک ہوے اور باہر تشریف لے گئے اور میرے پاس قیلولہ نہ فرمایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے فرمایا جاؤ دیکھو وہ کہاں ہیں؟وہ آیا اور عرض کیا یارسول اللہ!وہ مسجد میں سوے ہوے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ لیٹے ہوے تھے اور ایک جانب سے چادر ڈھکی ہوئی تھی اور ان پر مٹی لگی ہوئی تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے اے ابو تراب اٹھو اے ابو تراب اٹھو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُُ؛جلد٤ص١۸۷٤؛حدیث نمبر٦۱۱۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی آپ نے فرمایا کاش میرے صحابہ کرام میں سے کوئی صالح شخص آج میری حفاظت کرتا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کی حفاظت کے لئے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۵؛حدیث نمبر٦۱۱۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مدینہ منورہ آنے کے بعد ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوے آپ نے فرمایا کاش میرے صحابہ کرام میں سے کوئی صالح شخص آج رات میری حفاظت کرے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کی جھنجھناہٹ سنی آپ نے پوچھا کون ہے؟عرض کیا سعد بن وقاص۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں آئے ہو؟عرض کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میرے دل میں اندیشہ ہوا تو میں آپ کی حفاظت کے لئے آیا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعا دی پھر آرام فرما ہوگئے۔ ابن رمح کی روایت میں ہے ہم نے کہا یہ کون ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۵؛حدیث نمبر٦۱۱۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦١١٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱۳)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا آپ غزوہ احد کے دن ان سے فرما رہے تھے"تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱۵)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱۷)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا مشرکوں میں سے ایک نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں تیر مارو۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بغیر پر کے تیر اس کے پہلو پر مارا جس سے وہ گر پڑا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(اس کے گرنے پر)ہنس پڑے حتیٰ کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱۸)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید کی کئی آیات نازل ہوئی ہیں فرماتے ہیں ان کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے اس وقت تک کلام نہیں کریں گے جب تک وہ دین اسلام کو چھوڑ نہ دے انہوں نے کھانا پینا چھوڑنے کی بھی قسم کھائی۔ان کی والدہ نے کہا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ہے اور میں تمہاری ماں ہوں اور میں تمہیں اس بات کا حکم دیتی ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تین دن تک اسی طرح رہی یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوگئی تو اس کا ایک بیٹا کھڑا ہوا جسے عمارہ کہا جاتا ہے اس نے اپنی والدہ کو پانی پلایا تو حضرت سعد کو بد دعا دینے لگی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: "{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي} وَفِيهَا {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: ١٥](ترجمہ)"ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ تجھ سے اس بات پر جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر" راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت سا غنیمت کا مال آیا جس میں ایک تلوار بھی تھی تو میں نے وہ تلوار پکڑی اور اسے رسول اللہ کی خدمت میں لے کر آیا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے انعام کے طور پر عنایت فرما دیں کیونکہ میں وہ ہوں جس کا حال آپ کو معلوم ہے کون تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں سے تونے لیا ہے وہیں لوٹا دے تو میں چلا یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس تلوار کو گودام میں رکھ دوں لیکن میرے دل نے مجھے ملامت کی اور پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں آپ نے مجھے اپنی آواز کی سختی سے فرمایا جہاں سے تو نے یہ تلوار لی ہے اس کو وہیں لوٹا دے تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ نال فرمائی:(ترجمہ)"آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں مال غنیمت کے حکم کے بارے میں" حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں اپنے مال جس طرح چاہوں تقسیم کروں حضرت سعد کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا میں نے عرض کیا آدھا مال تقسیم کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار فرما دیا میں نے عرض کیا تہائی مال تقسیم کر دوں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے پھر اس کے بعد یہی حکم ہوا کہ تہائی مال تقسیم کرنے کی اجازت ہے حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے کہا آئیں ہم آپ کو کھانا کھلاتے ہیں اور ہم آپ کو شراب پلاتے ہیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس اونٹ کے سر کا گوشت بھنا ہوا پڑا ہے اور شراب کی ایک مشک بھی رکھی ہوئی ہے حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ گوشت بھی کھایا اور شراب بھی پی حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ان کے ہاں مہاجرین اور انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا مہاجر لوگ انصار سے بہتر ہیں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ایک آدمی نے سری کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے مجھے مارا تو میری ناک زخمی ہوگئی پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سارے واقعہ کی خبر دی تو اللہ عزوجل نے میری وجہ سے شراب کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ( اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ )۵۔المائدہ:۹۰) "شراب، جُوا، بت اورفال کے تیر ناپاک ہے اور شیطان کے کام ہیں" ۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷٦؛حدیث نمبر٦۱۱۹)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے متعلق چار آیت کریمہ نازل ہوئیں.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦١١٩ کے مثل مروی ہے۔شعبہ کی روایات میں یہ اضافہ ہے کہ جب لوگ میری ماں کو کھلانے چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھول کر اس میں کھانا ڈالتے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر اس نے لکڑی ماری جس سے ان کی ناک پھٹ گئی اور وہ ہمیشہ پھٹی رہی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۸؛حدیث نمبر٦۱۲۰)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی۔ {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ} [الأنعام: ٥٢] "اور ان(مساکین مومنین)کو دور نہ کریں جو صبح و شام صرف اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں"۔ یہ آیت چھ مسکینوں سے متعلق نازل ہوئی میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے تھے مشرکین آپ سے کہتے تھے کہ آپ ان لوگوں کو اپنے قریب کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۸؛حدیث نمبر٦۱۲۱)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ان لوگوں کو دور کر دیجئے یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور ابن مسعود (رضی اللہ عنہما)بھی ان میں سے تھے ایک شخص قبیلہ ہزیل سے تعلق رکھتا تھا ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اور دو دوسرے آدمی تھے جن کے نام میں نے نہیں لیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو آیا سو آیا تو انھوں نے اپنے دل میں کچھ سوچا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی۔ "اور ان(مساکین مومنین)کو دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور صرف اسی کی رضا چاہتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۷۸؛حدیث نمبر٦۱۲۲)
حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جن ایام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کر رہے تھے تو بعض اوقات آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛ترجمہ؛حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے فضائل؛جلد٤ص١۸۷۹؛حدیث نمبر٦۱۲۳)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن صحابہ کرام کو جہاد کی ترغیب دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں حاضر ہوں پھر ترغیب دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں حاضر ہوں پھر ترغیب دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں حاضر ہوں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری(خصوصی مددگار)ہوتے ہیں اور میرے حواری حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۷۹؛حدیث نمبر٦۱۲٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦١٢٤ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۷۹؛حدیث نمبر٦۱۲۵)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنگ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ(رضی اللہ عنہ)حضرت حسان کے قلعے میں عورتوں کے ساتھ تھے کبھی وہ میرے لئے جھک جاتے اور میں دیکھ لیتا اور کبھی میں ان کے لئے جھک جاتا اور وہ دیکھ لیتے(مطلب یہ کہ ان کی پیٹھ پر چڑھ کر باہر دیکھتے) جب میرے والد ہتھیار باندھے ہوئے گھوڑے پر سوار ہوکر بنو قریظہ کی طرف نکلے تو میں نے ان کو پہچان لیا میں نے اس کا تذکرہ اپنے والد سے کیا تو انہوں نے کہا اے بیٹے!کیا تو نے مجھے دیکھا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا سنو!اللہ کی قسم اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۷۹؛حدیث نمبر٦۱۲٦)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کے دن میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں تھیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات... اس کے بعد حدیث نمبر ٦١٢٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۰؛حدیث نمبر٦۱۲٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق،حضرت عثمان غنی،حضرت علی المرتضٰی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ہمراہ تھے کہ ایک پتھر نے حرکت کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا تجھ پر صرف نبی ہے یا صدیق یا شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۰؛حدیث نمبر٦۱۲۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے وہ ہلنے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حراء ٹھہر جا تجھ پر صرف نبی ہے یا صدیق یا شہید ہے۔ اس پہاڑ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق،حضرت عثمان غنی، حضرت علی،حضرت طلحہ،حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۰؛حدیث نمبر٦۱۲۹)
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ کی قسم!تمہارے والدین ان لوگوں میں سے تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے: "وہ لوگ جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانا"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۰؛حدیث نمبر٦۱۳۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۱؛حدیث نمبر٦۱۳۱)
حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تمہارے والدین ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۱؛حدیث نمبر٦۱۳۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے(میری) امت!ہمارے امین حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۸۱؛حدیث نمبر٦۱۳۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۸۱؛حدیث نمبر٦۱۳٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نجران والے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے پاس ایک امین شخص کو بھیجیں تو آپ نے فرمایا عنقریب میں ایک امین شخص کو تمہارے پاس بھیجوں گا جو یقیناً امین ہے جو یقیناً امین ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگ اس شخص کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھنے لگے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۸۲؛حدیث نمبر٦۱۳۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۸۸۲؛حدیث نمبر٦۱۳٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا اللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو اس سے بھی محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اس سے محبت رکھ۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۲:حدیث نمبر٦۱۳۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں دن کے کسی وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا آپ نے مجھ سے کوئی بات نہ کہی اور نہ میں نے آپ سے کوئی بات کی حتیٰ کہ بنو قینقاع کے بازار میں تشریف لائے اور فرمایا کیا یہاں بچہ ہے کیا یہاں بچہ ہے یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا ہم نے سوچا کہ ان کی والدہ نے ان کو غسل کرانے اور ہار پہنانے کے لیے روک رکھا ہے تھوڑی دیر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آے حتیٰ کہ ہر ایک نے ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال دی(حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ مراد ہیں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی یا اللہ!میں اس(بچے)سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور اس سےبھی جو اس سے محبت کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۲؛حدیث نمبر٦۱۳۸)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے مبارک پر دیکھا اور آپ یوں دعا فرما رہے تھے یا اللہ!بے شک میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۳؛حدیث نمبر٦۱۳۹)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے مبارک پر دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے اے اللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۳؛حدیث نمبر٦۱٤٠)
حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سوار تھے حتیٰ کہ میں نے ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں داخل کیا یہ آگے تھے اور وہ پیچھے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۳؛حدیث نمبر٦۱٤۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک صبح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اون کے ساتھ کجاووں کے نقش تھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آے تو آپ نے ان کو چادر میں داخل کر دیا پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آے تو ان کو بھی داخل کر دیا پھر حضرت خاتون جنت آئیں تو ان کو بھی داخل کر دیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آے تو ان کو بھی داخل کر دیا پھر یہ آیت پڑھی: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] " (ترجمہ)"بےشک اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ اے اہل بیت!تم سے نجاست کو دور رکھے اور تمہیں خوب پاک کردے۔"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛ بَابُ فَضَائِلِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۸۳؛حدیث نمبر٦۱٤۲)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو صرف زید بن محمد کہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ قرآن مجید میں یہ حکم نازل ہوا۔ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ} [الأحزاب: ٥] "ان کو ان کے آباء کی طرف منسوب کر کے پکارو یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ انصاف والی ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸٤؛حدیث نمبر٦۱٤۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸٤؛حدیث نمبر٦۱٤٤)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر طعن کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا اگر تم لوگ اس کی امارت پر طعن کرتے ہو تو(یہ نئی بات نہیں)اس سے پہلے تم ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو۔ بےشک اس کا باپ امارت کے لائق تھا اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا ان کے بعد یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸٤؛حدیث نمبر٦۱٤۵)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا اگر تم لوگ اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو آپ کی مراد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے،تو(کون سی نئی بات ہے)تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر اعتراض کر چکے ہو اللہ کی قسم وہ اس منصب کے لائق تھے اور قسم بخدا!وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھے اور اللہ کی قسم!یہ(اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ)اس منصب کے زیادہ لائق ہیں اور اللہ کی قسم ان کے بعد مجھے یہ سب سے زیادہ پسند ہیں تو میں تمہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے صالح لوگوں میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸٤؛حدیث نمبر٦۱٤٦)
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ میری،تمہاری اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی؟انہوں نے جواب دیا ہاں(یاد ہے) حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار کرلیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۵؛حدیث نمبر٦۱٤۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۵؛حدیث نمبر٦۱٤۸)
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ کے گھر کے بچے آپ سے ملاقات کے لئے لاے جاتے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لاے تو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامان پر سوار کر لیا پھر حضرت خاتون جنت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے لاے گئے تو آپ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھایا فرماتے ہیں(اسی طرح)ہم تینوں ایک سواری پر مدینہ طیبہ میں داخل ہوے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۵؛حدیث نمبر٦۱٤۹)
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو ہماری ملاقات کرائی جاتی۔ فرماتے ہیں پس میری اور حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہم کی ملاقات کرائی گئی پس آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنے سامنے سوار کیا اور دوسرے کو پیچھے سوار کیا حتیٰ کہ ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸۵؛حدیث نمبر٦۱۵۰)
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے بٹھایا پھر چپکے سے مجھے ایک بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۸۸٦؛حدیث نمبر٦۱۵۱)
حضرت عبد اللہ بن جعفر فرماتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت مریم بنت عمران(اپنے زمانے کی)تمام عورتوں سے افضل ہیں اور سب سے افضل حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں حضرت وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸٦؛حدیث نمبر٦۱۵۲)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوے اور عورتوں میں سے حضرت مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا کوئی کامل نہیں۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری عورتوں پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸٦؛حدیث نمبر٦۱۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ!یہ خدیجہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا(فرمایا)کھانا یا کوئی اور مشروب ہے۔ جب یہ آپ کے پاس آتیں تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور ان کو جنت میں ایسے گھر کی خوشخبری دیں جو خول دار موتیوں کا بنا ہوگا اور اس میں کسی قسم کا شور و شغب نہ ہوگا اور نہ کوئی تھکاوٹ ہوگی۔ دوسری روایت میں"میری طرف سے"کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸٦؛حدیث نمبر٦۱۵٤)
حضرت اسماعیل کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں گھر کی خوش خبری دی تھی؟انہوں نے کہا،آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسے گھر کی خوشخبری دی تھی جو خول دار موتیوں سے بنا ہوگا اس میں شور شغب ہوگا نہ کوئی تکلیف۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۷؛حدیث نمبر٦۱۵۵)
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٦١٥٥ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۷؛حدیث نمبر٦۱۵٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ بنت خویلد(رضی اللہ عنہا)کو جنت میں ایک گھر کی بشارت دی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۸؛حدیث نمبر٦۱۵۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا)کسی زوجہ پر اتنا رشک نہیں تھا جس قدر رشک مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر تھا میرے نکاح سے تین سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا لیکن میں اکثر سنتی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کرتے تھے اور رب عز وجل نے آپ کو حکم دیا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایسے گھر کی خوش خبری دیں جو خول دار موتیوں سے بنا ہوگا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری ذبح کرتے تو اس کا گوشت حضرت ام المؤمنين کی سہیلیوں کی طرف بھیجتے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۸؛حدیث نمبر٦۱۵۸)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا رشک مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آیا حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا۔ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے اس(کے گوشت)کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کے پاس بھیجو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن میں نے غصہ سے کہا کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں؟آپ نے فرمایا مجھے اس کی محبت عطاء کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۸؛حدیث نمبر٦۱۵۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے ایک اور سند سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں بکری کا ذکر ہے بعد کا واقعہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۸؛حدیث نمبر٦۱٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے جو رشک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ کسی پر نہ تھا کیونکہ آپ اکثر ان کا ذکر کرتے تھے،(حالانکہ)میں نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۹؛حدیث نمبر٦۱٦۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک دوسری شادی نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۹؛حدیث نمبر٦۱٦۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن حضرت ہالہ بنت خویلد نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت مانگی تو آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا آپ نے فرمایا یا اللہ!یہ تو ہالہ بنت خویلد ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے ان پر رشک آیا تو میں نے کہا آپ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی کو یاد کرتے ہیں جس کی پنڈلیاں پتلی تھیں۔جو زمانے میں ہلاک ہوگئی تو اللہ نے اس سے بہتر آپ کو بدل عطاء فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۸۹؛حدیث نمبر٦۱٦۳)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں آپ نے فرمایا ایک فرشتہ تمہیں(تمہاری صورت)ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیا اور اس نے کہا یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کا چہرہ کھولئے پس میں نے دیکھا تو وہ تم تھیں میں نے کہا اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛ترجمہ؛حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فضائل؛جلد٤ص١۸۸۹؛حدیث نمبر٦۱٦٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱٦۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو فرماتی ہیں میں نے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوجاتا ہے؟آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے رب کی قسم!اور جب تم ناراض ہو تو کہتی ہو ربِ ابراہیم کی قسم!ام المؤمنين نے عرض کیا ہاں قسم بخدا یا رسول اللہ!(لیکن)میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱٦٦)
یہ حدیث اور سند سے بھی مروی ہے اور اس میں"رب ابراہیم"والا جملہ نہیں ہے اور نہ اس کے بعد کا کلام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱٦۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں فرماتی ہیں میری سہیلیاں آتیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر غائب ہوجاتیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیج دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱٦۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں سے کھیلتی تھیں اور کھیلنے والی سہیلیاں ہوتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱٦۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس دن ان کی باری ہوتی تھی تو صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی کیلئے اس دن تحائف بھیجتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۰؛حدیث نمبر٦۱۷۰)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ(رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اجازت عطا فرما دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کی بیٹی(حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)کے بارے میں(محبت وغیرہ)میں آپ انصاف کریں اور میں خاموش تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے فرمایا اے بیٹی!کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا کیوں نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان سے(حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)سےمحبت رکھو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو وہ کھڑی ہوگئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی طرف آئیں اور انہیں اس بات کی خبر دی جو انہوں نے کہا اور اس بات کی بھی جو ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو وہ ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ تم ہمارے کسی کام نہ آئیں اس لئے رسول اللہ کی طرف پھر جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات حضرت ابوبکر کی بیٹی(حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انصاف چاہتی ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہنے لگیں لیکن اللہ کی قسم میں تو اس بارے میں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہیں کروں گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنت جحش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور رسول اللہ کے نزدیک مرتبہ میں میرے برابر وہی تھیں۔ اور میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا سے زیادہ دیندار اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی اور سب سے زیادہ سچ بولنے والی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والی عورت نہیں دیکھی اور نہ ہی حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بڑھ کر تواضع اختیار کرنے والی اور اپنے اعمال کو کم سمجھنے والی کوئی عورت دیکھی البتہ زبان کی تیز تھیں لیکن اس سے بھی وہ بہت جلد رجوع کر لیتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس حال میں اجازت عطا فرما دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ انہی کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تھے جس حال میں حضرت فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں۔ حضرت زینب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کی بیٹی(حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)کے بارے میں ہم سے انصاف کریں(حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں)کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا یہ کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئیں اور انہوں نے مجھے بہت کچھ کہا اور میں رسول اللہ کی نگاہوں کو دیکھ رہی تھیں کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بارے میں حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بولنے کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ میں نے پہچان لیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے جواب دینے کو ناپسند نہیں سمجھیں گے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں کہ پھر میں بھی ان پر متوجہ ہوئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو چپ کرا دیا حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(یہ دیکھتے ہوئے)مسکرائے اور فرمایا یہ حضرت ابوبکر کی بیٹی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۱؛حدیث نمبر٦۱۷۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ جب میں ان کی طرف متوجہ ہوتی تو وہ مجھ پر غالب نہ آسکتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۲؛حدیث نمبر٦۱۷۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مرض الموت میں)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی باری معلوم کرنے کے لئے پوچھتے تھے کہ میں آج کہاں رہوں گا اور کل کہاں رہوں گا پھر جس دن میری باری تھی تو آپ کی روح کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح قبض کیا کہ آپ کا سر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۳؛حدیث نمبر٦۱۷۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ آپ ان کے سینے سے ٹیک لگاے ہوے تھے انہوں نے غور سے سنا آپ نے فرمایا یا اللہ!مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما اے اللہ!مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۳؛حدیث نمبر٦۱۷٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین اور سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۳؛حدیث نمبر٦۱۷۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں فرماتی ہیں میں نے سنا تھا کہ کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک اس کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار نہ دیا جائے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں آپ سے سنا اس وقت آپ نے فرمایا ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا جو انبیاء کرام صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں وہی اچھے رفیق ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے گمان کیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۳؛حدیث نمبر٦۱۷٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹٤؛حدیث نمبر٦۱۷۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صحت کے زمانے میں فرمایا کہ کوئی نبی اس وقت تک انتقال نہیں کرتا جب تک جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے پھر اسے اختیار دیا جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت آیا تو اس وقت آپ کا سر انور میرے زانو پر تھا۔ آپ پر کچھ دیر بیہوشی طاری ہوئی پھر افاقہ ہوا آپ نے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں پھر فرمایا اے اللہ!مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس وقت میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے وہ حدیث یاد آئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت صحت میں ہم سے بیان کی تھی جب آپ حالت صحت میں تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں ہوتی جب تک وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ نہ لے پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلمہ سب سے آخر میں کہا وہ کلمہ تھا۔ (اللہم الرفیق الاعلی) "اے اللہ!رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹٤؛حدیث نمبر٦۱۷۸)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر(سفر پر)تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے تھے ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنھما کے نام قرعہ نکلا تو دونوں آپ کے ساتھ ہوگئیں۔ جب رات کا وقت ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان سے گفتگو فرماتے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو جانا اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہوجاؤں گی پھر تم بھی دیکھنا اور میں بھی دیکھوں گی انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہوگئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں آپ نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتیٰ کہ جب اترےاورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو انہیں رشک آیاجب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں مارے اور کہنے لگیں اے میرے رب!مجھ پر بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں ان کی خدمت میں کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹٤؛حدیث نمبر٦۱۷۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عورتوں پر فضیلت اس طرح ہے جس طرح ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۵؛حدیث نمبر٦۱۸۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦١٨٠ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۵؛حدیث نمبر٦۱۸۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں فرماتے ہیں میں نے"وعلیہ السّلام ورحمت اللہ" کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۵؛حدیث نمبر٦۱۸۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا....اس کے بعد حدیث نمبر ٦١٨٢کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۵؛حدیث نمبر٦۱۸۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹۵؛حدیث نمبر٦۱۸٤)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!یہ جبرائیل ہے جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں میں نے کہا"وعلیہ السلام ورحمت اللہ" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کو میں نہیں دیکھتی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا؛جلد٤ص١۸۹٦؛حدیث نمبر٦۱۸۵)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان تمام نے یہ اقرار کیا اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی۔پہلی عورت نے کہا:میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے۔دوسری عورت نے کہا:میں اپنے خاوند کی خبر کو بھلا نہیں سکتی۔مجھے خوف ہے کہ میں اپنے خاوند کی کوئی بات نہ چھوڑوں پھر میں اس کا ظاہر و باطن سب بیان کروں گی۔تیسری عورت نے کہا:میرا خاوند ہے اگر میں بیان کروں تو مجھ کو طلاق دے دے گا اور چپ رہوں تو معلق رہوں گی۔ چوتھی نے کہا:میرا خاوند تو ایسا ہے جیسے تہامہ(حجاز اور مکہ)کی رات نہ گرم ہے نہ سرد(یعنی معتدل المزاج ہے)نہ ڈر ہے نہ رنج(یہ اس کی تعریف کی یعنی اس کے عمدہ اخلاق ہیں اور نہ وہ میری صحبت سے ملول ہوتا ہے۔)پانچویں عورت نے کہا:میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا ہے(یعنی پڑ کر سو جاتا ہے اور کسی کو نہیں ستاتا)اور جب باہر نکلتاہےتو شیر ہے اور جو مال اسباب گھر چھوڑ جاتا ہے اس کو نہیں پوچھتا۔ چھٹی عورت نے کہا:میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب تمام کر دیتا ہے اور پیتا ہے تو تلچھٹ تک نہیں چھوڑتا اور لیٹتا ہے تو بدن لپیٹ لیتا ہے اور مجھ پر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ اور درد پہچانے۔ ساتویں عورت نے کہا:میرا خاوند نامرد ہے یا شریر نہایت احمق ہے کہ کلام نہیں کرنا جانتا سب جہاں بھر کے عیب اس میں موجود ہیں ایسا ظالم کہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ توڑے یا سر اور ہاتھ دونوں مروڑے۔ آٹھویں عورت نے کہا:میراخاوند بو میں زرنب ہے(زرنب ایک خوشبودار گھاس ہے)اور چھونے میں نرم جیسے خرگوش(یہ تعریف ہے یعنی اس کا ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہیں)۔ نویں عورت نے کہا:میرا خاوند اونچے محل والا لمبے پر تلے والا(یعنی قدآور) بڑی راکھ والا(یعنی سخی ہے اس کا باورچی خانہ ہمیشہ گرم رہتا ہے تو راکھ بہت نکلتی ہے)اس کا گھر نزدیک ہے مجلس اور مسافر خانہ سے(یعنی سردار اور سخی ہے اس کا لنگر جاری ہے)۔ دسویں عورت نے کہا:میرے خاوند کا نام مالک ہے مالک افضل ہے میری اس تعریف سے،اس کے اونٹوں کے بہت شترخانے ہیں اور کمتر چراگاہیں ہیں(یعنی ضیافت میں اس کے یہاں اونٹ بہت ذبح ہوا کرتے ہیں اس سبب سے شترخانوں سے جنگل میں کم چرنے جاتے ہیں)جب کہ اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو اپنے ذبح ہونے کا یقین کر لیتے ہیں(ضیافت میں راگ اور باجے کا معمول تھا اس سبب سے باجے کی آواز سن کر اونٹوں کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا تھا)۔ گیارھویں عورت نے کہا:میرے خاوند کا نام ابوزرع ہے،سو واہ! کیا خوب ابوزرع ہے،اس نے زیور سے میرے دونوں کان جھلائے اور چربی سے میرے دونوں بازو بھرے(یعنی مجھ کو موٹا کیا اور مجھ کو بہت خوش کیا)سو میری جان بہت چین میں رہی۔مجھ کو اس نے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے سو اس نے مجھ کو گھوڑے اور اونٹ اور کھیت اور خرمن کا مالک کر دیا (یعنی میں نہایت ذلیل اور محتاج تھی اس نے مجھ کو باعزت اور مالدار کر دیا)میں اس کی بات کرتی ہوں وہ مجھ کو برا نہیں کہتا سوتی ہوں تو فجر کر دیتی ہوں(یعنی کچھ کام نہیں کرنا پڑتا)اور پیتی ہوں تو سیراب ہو جاتی ہوں۔ماں ابوزرع کی!سو کیا خوب ہے ماں ابوزرع کی اس کی بڑی بڑی گٹھڑیاں اور کشادہ گھر۔بیٹا ابوزرع کا!سو کیا خوب ہے بیٹا ابوزرع کا اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کی میان اس کو آسودہ کر دیتا ہے حلوان کا ہاتھ۔(یعنی کم خور ہے)بیٹی ابوزرع کی!سو کیا خوب ہے بیٹی ابوزرع کی،اپنے ماں باپ کی تابعدار اپنے لباس کے بھرنے والی(یعنی موٹی ہے)اور سوکن کا غصہ۔ لونڈی ابوزرع کی!کیا خوب ہے لونڈی ابوزرع کی ہماری بات مشہور نہیں کرتی ظاہر کر کے اور ہمارا کھانا نہیں لے جاتی اٹھا کر اور ہمارا گھر آلودہ نہیں رکھتی کوڑے سے۔ ابوزرع باہر نکلا جب کہ مشکوں میں دودھ متھا جاتا تھا(گھی نکالنے کے واسطے)سو وہ ملا ایک عورت سے،جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے تھے سو ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کیا۔ پھر میں نے اس کے بعد ایک سردار مرد سے نکاح کیا عمدہ گھوڑے کا سوار اور نیزہ باز۔اس نے مجھ کو چوپائے جانور بہت دیے اور اس نے مجھ کو ہر مویشی سے جوڑا جوڑا دیا سو اس نے مجھ سے کہا کہ اے ام زرع!اور کھلا اپنے لوگوں کو سو اگر میں جمع کروں جو دوسرے خاوند نے دیا تو ابوزرع کے چھوٹے برتن کے برابر بھی نہ پہنچے(یعنی دوسرے خاوند کا احسان پہلے خاوند کے احسان سے نہایت کم ہے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:”میں تیرے لیے ایسا ہوں جیسے ابوزرع تھا ام زرع کے لیے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ زَرْع؛جلد٤ص١۸۹٦سے١٩٠٢؛حدیث نمبر٦۱۸٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں الفاظ کا معمولی سا فرق ہے اس میں"عیایا طباقا" اور"قلیلات المسارح" ہے اور اسی طرح دیگر الفاظ میں کچھ تبدیلی ہے۔ یعنی میں اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہوں جس طرح ابو زراع کرتا تھا؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلے میں سب سے آگے تھے۔۱۲ہزاروی (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ زَرْعٍ؛جلد٤ص١۹۰۲؛حدیث نمبر٦۱۸۷)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ علیہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر پر(تشریف فرما کر)فرما رہے تھے کہ بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی کہ اپنی بیٹی کی حضرت علی بن ابی طالب سے شادی کردیں میں اس کی اجازت نہیں دیتامیں اس کی اجازت نہیں دیتا میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰۲؛حدیث نمبر٦۱۸۸)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ میرے ہی گوشت کا ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے اذیت پہنچاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰۳؛حدیث نمبر٦۱۸۹)
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ منورہ آئے تو ان کی حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام ہو تو بتائے حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں میں نے ان سے کہا"نہیں" انہوں نے کہا کیا آپ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عطاء فرمائیں گے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ قوم آپ پر غالب آجاے گی اللہ کی قسم!اگر آپ مجھے یہ تلوار دیں گے تو جب تک میرے جسم میں جان ہے اس کو مجھ سے کوئی نہیں لے سکے گا۔ بےشک جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ابوجھل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا منبر پر خطبہ دے رہے تھے اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا آپ نے فرمایا بیشک فاطمہ مجھ سے ہے اور مجھے خوف ہے کہ اسے دین کے حوالے سے کوئی فتنہ میں ڈالے۔ فرماتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس میں اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا اور اس کی تعریف کی آپ نے فرمایا اس نے مجھ سے جو کچھ کہا سچ کہا اور مجھ سے جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال چیز کو حرام اور حرام چیز کو حلال نہیں کرتا لیکن اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن(ابو جھل)کی بیٹی ایک جگہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰۳؛حدیث نمبر٦۱۹۰)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں تو جب حضرت فاطمہ نے یہ بات سنی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کرنے لگیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹیوں کے لئے غصے میں نہیں آتے اور علی رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور فرمایا اما بعد!میں نے ابوالعاص بن ربیع سے اپنی بیٹی زینب کا نکاح کردیا اس نے جو بات مجھ سے بیان کی سچ بیان کی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہے میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور میں اسے کسی فتنہ میں مبتلا ہوتے نہیں دیکھ سکتا اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک شخص کے ہاں جمع نہیں ہوسکتیں۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے منگنی کا پیغام دینا ترک کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰۳؛حدیث نمبر٦۱۹۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰٤؛حدیث نمبر٦۱۹۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ رو پڑیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ ہنس پڑیں سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ تمہارے کان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا جس کی وجہ سے تم رو پڑیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا تو تم ہنس پڑیں حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ پہلے آپ نے میرے کان میں خبر دی کہ میری موت قریب ہے تو میں رو پڑی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں مجھے خبر دی کہ آپ کے خاندان میں سے میں سب سے پہلے آپ سے ملوں گی تو اس پر میں ہنس پڑی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰٤؛حدیث نمبر٦۱۹۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں ان میں سے کوئی بھی زوجہ مطہرہ غیر حاضر نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور حضرت فاطمہ کے چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کی طرح تھا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو دیکھا تو آپ نے ان کو خوش آمدید اے میری بیٹی فرمایا پھر آپ نے حضرت فاطمہ کو اپنی دائیں یا اپنی بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کے کان میں خاموشی سے کوئی بات فرمائی تو وہ بہت سخت رونے لگی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کا یہ حال دیکھا تو پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں۔ (حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں کہ)میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ہٹ کر تجھ سے کیا خاص باتیں کی ہیں پھر تم رو پڑیں۔ پھر جب رسول اللہ کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا ہے؟حضرت فاطمہ کہنے لگیں کہ میں رسول اللہ کا راز فاش نہیں کروں گی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ وفات پا گئے تو میں نے حضرت فاطمہ کو اس حق کی قسم دی جو میرا ان پر تھا کہ مجھ سے وہ بات بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی۔ حضرت فاطمہ کہنے لگی کہ اب میں بیان کروں گی وہ یہ کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں پہلی مرتبہ بات بیان فرمائی کہ حضرت جبریئل(علیہ السلام)ہر سال میرے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ حضرت جبریئل نے دو مرتبہ دور کیا ہے جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ وصال کا وقت قریب اچکا ہے پس تو اللہ سے ڈرنااور صبر کرنا بےشک میں تمہارا اچھا پیش رو ہوں میں رو پڑی جس طرح کہ آپ نے مجھے روتے ہوئے دیکھا۔تو پھر آپ نے دوبارہ میرے کان میں جو بات فرمائی(وہ یہ ہے کہ)اے فاطمہ!کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہوجاتی کہ تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔ حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں ہنس پڑی جس طرح کہ آپ نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰٤؛حدیث نمبر٦۱۹٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات اکٹھی ہوئی ان میں سے کوئی زوجہ مطہرہ بھی غائب نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں ان کے چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کے انداز جیسا تھا۔آپ نے فرمایا اے میری بیٹی خوش آمدید حضرت فاطمہ کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کوئی بات فرمائی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں پھر آپ نے اس طرح حضرت فاطمہ کے کان میں کوئی بات فرمائی تو پھر وہ ہنس پڑیں۔ میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کس وجہ سے روئیں تو حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ کا زار فاش نہیں کروں گی میں نے کہا میں نے آج کی طرح کوئی خوشی اور غم کے اتنے قریب نہیں دیکھی۔ پھر میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بغیر خصوصیت کے ساتھ آپ سے کوئی بات فرمائی ہے پھر تم رو پڑی ہو اور میں نے حضرت فاطمہ سے اس بات کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنے والی ہوں۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ نے مجھ سے بیان فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیل(علیہ السلام)ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ دو مرتبہ دور کیا ہے میرا خیال ہے کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے اور تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی اور میں تیرے لئے بہترین پیش رو ہوں اس وجہ سے میں رو پڑی پھر آپ نے میرے کان میں فرمایا:(اے فاطمہ!)کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو مومن عورتوں کی سردار ہے یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہے تو پھر میں ہنس پڑی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ؛جلد٤ص١۹۰۵؛حدیث نمبر٦۱۹۵)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو,تو سب سے پہلے بازار میں داخل نہ ہو اور نہ ہی سب کے بعد بازار سے نکل کیونکہ بازار شیطان کا معرکہ ہے اور وہاں اسی کا جھنڈا نصب ہوتا ہےحضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل(علیہ السلام)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل(علیہ السلام)آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگے پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ کون تھے؟حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں تو انہیں حضرت دحیہ کلبی ہی سمجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے اللہ کے نبی کا خطبہ سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر ان سے بیان فرما رہے تھے یا جیسا بھی آپ نے فرمایا۔ راوی حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے انہوں نے فرمایا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؛جلد٤ص١۹۰٥؛حدیث نمبر٦۱۹٦)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ لاحق ہوگی جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر سب نے اپنے اپنے ہاتھ ناپنا شروع کر دئے کہ کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے تو ہم میں سب سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور صدقہ خیرات دیتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ زَيْنَبَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؛جلد٤ص١۹۰۷؛حدیث نمبر٦۱۹۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ گیا انہوں نے آپ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ روزے سے تھے یا آپ نے اسے پینا پسند نہیں فرمایا تو حضرت ام ایمن چلانے اور غصہ کرنے لگیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؛ترجمہ؛حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے فضائل؛جلد٤ص١۹۰۷؛حدیث نمبر٦۱۹۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے گھر چلیں تاکہ ہم ان کی زیارت کریں جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے(فرماتے ہیں)جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ ان دونوں نے پوچھا آپ کیوں رو رہی ہو؟اللہ تعالیٰ کے پاس جو اجر ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے ام ایمن نے کہا میں اس لیے نہیں رو رہی کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے بلکہ میں تو اس لئے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا آنا بند ہوگیا پھر ان دونوں پر بھی گریہ طاری ہوگیا اور وہ بھی رونے لگے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؛جلد٤ص١۹۰۷؛حدیث نمبر٦۱۹۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے علاوہ صرف حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تھے آپ ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور جب آپ سے پوچھا جاتا تو فرماتے مجھے اس پر رحم آتا ہے اس کا بھائی میرے ساتھ شہید کیا گیا۔ (نوٹ)حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبِلَالٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۰۷؛حدیث نمبر٦۲۰۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں کسی کے چلنے کی آہٹ سنی میں نے پوچھا کون ہے؟تو اہل جنت نے کہا غُمَیصاء بنت مِلحان ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں(رضی اللہ عنہا) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبِلَالٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۰۸؛حدیث نمبر٦۲۰۱)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو دیکھا پھر اپنے آگے آہٹ سنی تو دیکھا کہ وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبِلَالٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۰۸؛حدیث نمبر٦۲۰۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جو کہ حضرت ام سلیم سے تھا فوت ہوگیا تو حضرت ام سلیم نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ابوطلحہ کو اس کے بیٹے کی خبر نہ بیان کرنا بلکہ میں خود ان سے بات کروں گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابوطلحہ آئے تو ام سلیم ان کے سامنے شام کا کھانا لائیں انہوں نے کھانا کھایا اور پیا پھر ام سلیم نے ان کے لئے خوب بناؤ سنگھار کیا یہاں تک کہ حضرت ابوطلحہ نے ام سلیم سے ہم بستری کی۔ تو جب حضرت ام سلیم نے دیکھا کہ وہ خوب سیر ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ صحبت بھی کرلی ہے تو پھر حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کچھ لوگ کسی کو کوئی چیز ادھار دے دیں پھر وہ لوگ اپنی چیز واپس مانگیں تو کیا وہ ان کو واپس کرنے سے روک سکتے ہیں؟حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا"نہیں" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا تو اپنے بیٹے کے بارے میں یہی گمان کرلیں یہ سن کر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے فرمایا تم نے میرے بیٹے کے بارے میں مجھے خبر نہیں دی کہ میں(جنسی عمل سے)آلودہ ہوا پھر تو نے مجھے میرے بیٹے کی خبر دی۔ پھر حضرت ابوطلحہ چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری گزری رات میں برکت عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ام سلیم حاملہ ہوگئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور حضرت ام سلیم بھی آپ کے ساتھ تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس مدینہ منورہ آتے تھے تو رات کو مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوتے تھے جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم کو درد زہ شروع ہوگیا اور حضرت ابوطلحہ ان کے پاس ٹھہر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ حضرت ابوطلحہ کہنے لگے اے میرے پروردگار تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنا پسند ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونا پسند ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوں(اے پروردگار!)تو جانتا کہ جس کی وجہ سے میں رک گیا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ مجھے اب اس طرح درد نہیں ہے جس طرح پہلے درد تھی چلو ہم بھی چلتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت وہ دونوں مدینہ میں آگئے تو پھر حضرت ام سلیم کو وہی درد زہ شروع ہوگئی پھران کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا اے انس کوئی اس بچے کو دودھ نہ پلائے یہاں تک کہ جب صبح ہوجائے تو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کے جانا پھر جب صبح ہوئی تو میں نے اس بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغ دینے کا آلہ ہے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ام سلیم کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور میں نے وہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گودمیں ڈال دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور پھر اسے اپنے منہ میں چبایا یہاں تک کہ جب وہ نرم ہوگئی تو وہ اس بچے کے منہ میں ڈالی بچہ اس کو چوسنے لگا۔ حضرت انس کہتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انصار کو کھجور سے کس قدر محبت ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۰۹؛حدیث نمبر٦۲۰۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا انتقال کر گیا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۰؛حدیث نمبر٦۲۰٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا بلال!مجھے وہ عمل بتاؤ جس کی تمہیں اسلام میں سب سے زیادہ نفع کی امید ہو۔کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ انہوں نے عرض کیا اور کسی عمل کی امید اتنی نہیں جو میں نے حالت اسلام میں کیا البتہ یہ کہ جب میں رات اور دن میں مکمل وضو کرتا ہوں تو اس کے ساتھ اتنی رکعات نماز پڑھ لیتا ہوں جتنی رکعات اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقدر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ بِلَالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ترجمہ؛حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے فضائل؛جلد٤ص١۹۱۰؛حدیث نمبر؛٦۲۰٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا} [المائدة: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، (ترجمہ)"جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے پرہیزگاری کے ساتھ کیا۔" (آخر آیت تک) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مجھے بتایا گیا کہ تم بھی ان لوگوں میں سے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۰؛حدیث نمبر؛٦۲۰٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بکثرت آنے جانے اور آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۱؛حدیث نمبر؛٦۲۰۷)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اور میرا بھائی یمن سے آے..... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٠٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۱؛حدیث نمبر؛٦۲۰۸)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں یہ گمان کرتا تھا کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اہل بیت میں سے ہیں۔یا اس کے قریب بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۱؛حدیث نمبر؛٦۲۰۹)
ابو الاحوص کہتے ہیں جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا تمہارے خیال میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بعد کوئی شخص ان جیسا ہے دوسرے نے کہا تم یہ بات پوچھتے ہو انہیں اس وقت بھی اجازت ہوتی تھی جب ہم سے پردہ ہوتا تھا اور وہ اس وقت بھی(بارگاہ نبوی میں)شرف بازیابی حاصل کرتے تھے جب ہم غائب ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۱؛حدیث نمبر؛٦۲۱۰)
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے چند اصحاب کے ہمراہ قرآن مجید کا ایک نسخہ دیکھ رہے تھے اسی دوران حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں نہیں جانتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس کھڑے شخص سے زیادہ کوئی عالم قرآن چھوڑا ہو۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم یہ بات کہتے ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت بھی(بارگاہ نبوی میں)حاضر ہوتے تھے جب ہم غائب ہوتے تھے اور ان کو اجازت ہوتی تھی جب تمہیں اجازت نہیں ہوتی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۲؛حدیث نمبر؛٦۲۱۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۲؛حدیث نمبر؛٦۲۱۲)
حضرت شقیق فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس(خیانت شدہ)چیز کو لے کر حاضر ہوگا پھر فرمایا مجھے کس شخص کی قرأت کے مطابق قرأت کرنے کا کہتے ہیں؟میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے کچھ زائد قرأتیں کی ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام جانتے ہیں کہ میں ان سب میں سے زیادہ اللہ کی کتاب کا علم رکھنے والا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے بھی زیادہ علم والا ہے تو میں اس کی طرف چلا جاتا۔ حضرت شفیق فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے حلقے میں بیٹھا ہوں اور میں نے نہیں سنا کہ کسی نے حضرت ابن مسعود کا رد کیا ہو یا ان کی مذمت کی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۲؛حدیث نمبر؛٦۲۱۳)
حضرت مسروق،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں وہ ذات جس کے سوا کوئی معبود نہیں قرآن پاک کی کوئی ایسی سورت نہیں جس کا مجھے علم نہ ہو کہ وہ کب نازل ہوئی ہے اور قرآن پاک کی ہر آیت کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی اور اگر مجھے معلوم ہوجاے کہ کوئی شخص مجھ سے زائد کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹوں پر سفر کر کے اس کے پاس جانا ممکن ہوتا تو میں سوار ہوکر اس کے پاس چلا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۳؛حدیث نمبر؛٦۲۱٤)
حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو کے پاس جاتے ابن نمیر کہتے ہیں ایک دن ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کا ذکر کیا تو انہوں نے(عبداللہ بن عمرو نے)فرمایا تم لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے کہ جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ان کا ذکر ہمیشہ کرتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار آدمیوں سے قرآن(کا علم) حاصل کرو۔ابن ام عبد(عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)سے،آپ نے پہلے ان کا ذکر کیا(پھر فرمایا)معاذ بن جبل،ابی بن کعب اور حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم(رضی اللہ عنہم)سے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۲؛حدیث نمبر؛٦۲۱۵)
حضرت مسروق فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بیان کی انہوں نے فرمایا وہ ایسے شخص ہیں کہ جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ چار شخصوں سے قرآن سیکھو،میں ان سے محبت کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا ابن ام عبد سے آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ابتدا کی۔پھر فرمایا حضرت ابی ابن کعب سے،حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم سے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے۔ زہری نے اپنی روایت میں"یقولہ"کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۲؛حدیث نمبر؛٦۲۱٦)
حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۱۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔شعبہ کی روایت میں چاروں(صحابہ کرام)کی ترتیب میں اختلاف ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۱۸)
حضرت مسروق فرماتے ہیں لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا میں اس شخص سے اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے آپ نے فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن مجید سیکھو،(حضرت)ابن مسعود سے(حضرت)سالم سے جو حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام ہیں حضرت ابی بن کعب سے اور حضرت معاذ بن جبل(رضی اللہ عنہم)سے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۱۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے شعبہ نے کہا آپ نے ان دونوں کے ناموں سے ابتدا کی میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کے نام سے ابتداء کی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۲۰)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چار شخصوں نے قرآن جمع کیا اور یہ تمام کے تمام انصار سے تعلق رکھتے تھے حضرت معاذ بن جبل،حضرت ابی بن کعب،حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو زید(رضی اللہ عنہم) حضرت قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ابو زید کون ہیں؟فرمایا وہ میرے ایک چچا ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۲۱)
حضرت ہمام کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن مجید کس نے جمع کیا تھا؟انہوں نے فرمایا چار آدمیوں نے جمع کیا اور ان چاروں کا تعلق انصار سے ہے۔ حضرت ابی بن کعب،حضرت معاذ بن جبل،حضرت زید بن ثابت اور ایک دوسرے انصاری ہیں جن کی کنیت ابو زید ہے۔(رضی اللہ عنہم) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۲٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی(بن کعب)رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا(یا رسول اللہ)کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھ سے تمہارا نام لیا ہے(یہ سن کر) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۱٤؛حدیث نمبر؛٦۲۲۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید کی یہ سورت پڑھوں: {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} [البينة: ١] (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۱۵؛حدیث نمبر؛٦۲۲٤)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٢٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَجَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۱۵؛حدیث نمبر؛٦۲۲۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراں حالانکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ آپ کے سامنے تھا کہ ان(کی وفات)کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا۔ (چونکہ مؤمن کی روح اعلیٰ علیین کی طرف جاتی ہے لہٰذا عرش خوشی میں جھومنے لگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۵؛حدیث نمبر؛٦۲۲٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش جنبش میں آگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۵؛حدیث نمبر؛٦۲۲۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا)جنازہ رکھا ہوا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد کی موت کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱٦؛حدیث نمبر؛٦۲۲۸)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی حلہ بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا آپ کے صحابہ کرام اس کو چھو ر ہے تھے اور اس کی نرمی اور ملائمت پر تعجب کر رہے تھے آپ نے فرمایا تم اس کی ملائمت پر تعجب کرتے ہوجنت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ اچھے اور نرم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۵؛حدیث نمبر؛٦۲۲۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱٦؛حدیث نمبر؛٦۲۳۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱٦؛حدیث نمبر؛٦۲۳۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک جبہ بطور ہدیہ پیش کیا گیا حالانکہ آپ ریشم پہننے سے منع فرماتے تھے صحابہ کرام نے اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر اس پر تعجب کا اظہار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے بےشک جنت میں(حضرت)سعد بن معاذ(رضی اللہ عنہ)کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱٦؛حدیث نمبر؛٦۲۳۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دومتہ الجندل کے بادشاہ اکیدر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ ہدیہ کیا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٣٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ نہیں کہ آپ ریشم سے منع کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۷؛حدیث نمبر؛٦۲۳۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار لی اور فرمایا مجھ سے یہ تلوار کون لیتا ہے ہر شخص نے اپنے ہاتھ پھیلا دئے آپ نے فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون لیتا ہے(یہ سن کر)سب نے ہاتھ پیچھے ہٹا لئے حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ نے عرض کیا میں اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں پھر انہوں نے یہ تلوار لی اور اس کے ساتھ مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۷؛حدیث نمبر؛٦۲۳٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب احد کا دن ہوا تو میرے والد کو اس حالت میں لایا گیا کہ ان کو کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا اور ان کو مثلہ کیا گیا تھا(ان کے اعضاء کاٹ دئے گئے تھے)فرماتے ہیں میں نے ارادہ کیا کہ ان سے کپڑا اٹھاؤں تو میری قوم نے مجھے روک دیا میں نے دوبارہ کپڑا اٹھانے کا ارادہ کیا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ پھر فوراً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اٹھایا یا کسی کو حکم دیا(کہ وہ کپڑا اٹھائے)تو کپڑا اٹھایا گیا پھر آپ نے ایک رونے والی یا چلانے والی کی آواز سنی۔فرمایا یہ کون ہے؟حاضرین نے بتایا یہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی بیٹی یا ان کی بہن ہے آپ نے پوچھا کیوں رو رہی ہو ان کا جنازہ اٹھنے تک فرشتے ان پر سایہ کرتے رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۷؛حدیث نمبر؛٦۲۳۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد شہید ہوگئے میں ان کے چہرے سے پردہ اٹھانے لگا اور رو رہا تھا کہ ان لوگوں نے مجھے روک دیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہ کیا اور حضرت فاطمہ بنت عمرو رونے لگیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روؤ یا نہ روؤ فرشتے ان کے جنازہ اٹھنے تک اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتے رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۸؛حدیث نمبر؛٦۲۳٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ابن جریر کی سند میں فرشتوں کا اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۸؛حدیث نمبر؛٦۲۳۷)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو لایا گیا دراں حالانکہ ان کے ناک اور کان کٹے ہوئے تھے.... باقی حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۱۸؛حدیث نمبر؛٦۲۳۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال عطاء فرمایا آپ نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا کوئی غائب ہے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں یا فلاں اور فلاں غائب ہے۔ پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی غائب ہے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں،فلاں اور فلاں(غائب ہے) آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کوئی غائب ہے؟عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا میں تو(حضرت)جُلَیبِیب کو غائب پاتا ہوں ان کو تلاش کرو ان کو شہداء میں تلاش کیا گیا تو ان کو سات آدمیوں کے پہلو میں پایا گیا جن کو حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا پھر ان لوگوں نے ان کو شہید کردیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا انہوں نے سات آدمیوں کو قتل کیا پھر انہوں نے(کفار نے)ان کو شہید کیا۔یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں پھر آپ نے ان کی نعش کو اپنے بازوؤں پر اٹھایا آپ کے علاوہ کسی نے اٹھایا ہوا نہیں تھا پھر ان کے لئے قبر کھودی گئی اور ان کو قبر میں رکھا گیا غسل کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جُلَيْبِيبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۸؛حدیث نمبر؛٦۲۳۹)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے پس ہم اپنے ماموں کے ہاں اترے پس ہمارے ماموں نے اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا تو انہوں نے کہا(ماموں سے)کہ جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے۔ پس ہمارے ماموں آئے اور انہیں جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگا میں نے کہا تو نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے تو نے اس الزام کے وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا۔ پس ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کردیا پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پس انیس نے ہمارے اونٹوں اور اتنے ہی اور اونٹوں پر شرط لگائی(شاعری میں)کہ کس کے اونٹ عمدہ ہیں پس وہ دونوں کاہن کے پاس گئے تو اس نے انہیں کے اونٹوں کو پسند کیا۔ پس انیس ہمارے پاس ہمارے اونٹوں کو اور اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے ہی اے میرے بھیجتے نماز پڑھا کرتا تھا۔حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کس کے لئے انہوں نے کہا اللہ کے لئے میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا؟انہوں نے کہا جہاں میرا رب رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تم یہاں رہو میں جاتا ہوں تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا پس انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے(رسول بنا کر)بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں؟اس نے کہا لوگ اسے شاعر،کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں پس اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موزانہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی مناسب نہیں۔اللہ کی قسم!وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں۔ میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں پس میں مکہ میں آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی کو مل کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ دین بدلنے والا ہے پس وادی والوں میں سے ہر ایک سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا پس جب میں بےہوشی سے ہوش میں آ کر اٹھا تو میں گویا سرخ بت(خون میں لت پت)تھا میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے تین رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے لئے زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوراک نہ تھی پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی۔ پس اس دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سو گئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا اور ان میں سے دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں)کو پکار رہی تھیں پس وہ جب اپنے طواف کے دوران میری طرف آئیں تو میں نے کہا ان میں سے ایک(بت)کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو(اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ کے مطابق یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے)لیکن وہ اپنی بات سے باز نہیں آئیں پس جب وہ دوبارہ میرے پاس آئیں تو میں نے کہا لکڑی کی مثل شرمگاہ میں کنایہ میں بات نہیں کرتا تھاپس وہ چلاتی اور یہ کہتی ہوئی گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا راستہ میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ وہ کہنے لگیں ایک صابی آیا ہے جو کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ حجر اسود کا بوسہ لیا اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا میں وہ پہلا آدمی ہوں جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا میں نے کہا"السلام علیک یا رسول اللہ"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"وعلیک ورحمت اللہ"پھر پوچھا تم کون ہو؟میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا قبیلہ غفار سے ہونا ناپسند ہوا ہے پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نے مجھے پکڑ لیا اور وہ مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واقفیت رکھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تو یہاں کب سے ہے میں نے عرض کیا میں یہاں تین دن رات سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کھانا کون کھلاتا ہے میں نے عرض کیا میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں ہے پس اس سے موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑ گئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر دیتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کے رات کے کھانے کی اجازت دے دیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چلا پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور میرے لئے طائف کی کشمش نکالی۔ یہ مکہ مکرمہ میں میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا پھر میں رہا جب تک رہا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب کے علاوہ کوئی اور علاقہ نہیں ہے کیا تو میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرے گا عنقریب اللہ انہیں تیری وجہ سے فائدہ عطا کرے گا اور تمہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا تو نے کیا کیا؟میں نے کہا میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور تصدیق کرچکا ہوں اس نے کہا مجھے بھی تجھ سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کر چکا ہوں اور تصدیق کر چکا ہوں۔ پھر ہم نے اپنا سامان لادا اور اپنی قوم غفار کے پاس آئے تو ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ان کے سرادر ایماء بن رحضہ انصاری کراتے تھے اور باقی آدھے لوگوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے۔ پس جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے تو باقی آدھے لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور قبیلہ اسلم کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم بھی اس بات پر اسلام قبول کرتے ہیں جس پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے ہیں پس وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ غفار ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۱۸سے۱۹۲۲؛حدیث نمبر؛٦۲٤٠)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ اس میں اس قول کے بعد"تم ٹھہرو حتیٰ کہ میں جاکر ان کو دیکھ آؤں"یہ اضافہ ہے کہ انیس نے کہا اچھا جاؤ لیکن اہل مکہ سے بچتے رہنا وہ اس شخص کے دشمن ہیں اور اس سے اپنا منہ بناتے ہیں(ناپسندیدگی ظاہر کرتے ہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۳؛حدیث نمبر؛٦۲٤١)
حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے!میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے میں نے پوچھا آپ کس طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا جس طرف بھی اللہ تعالیٰ میرا منہ کر دیتا تھا۔ اس کے بعد سلیمان بن مغیرہ کی روایت کی طرح ہے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ وہ دونوں ایک کاہن کے پاس گئے اور ان کا بھائی انیس ان کی مدح کرتا رہا حتیٰ کہ اس پر غالب آگیا۔ ہم اس کے اونٹ لے کر اس کے اونٹ کے ساتھ ملا لئے۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام(مقام ابراہیم)کے پیچھے دو رکعت(نماز)پڑھی پھر میں آپ کے پاس آگیا میں پہلا شخص تھا جس نے آپ کو اسلام کے طریقے پر سلام کیا میں نے کہا"السلام علیک یا رسول اللہ"اپ نے فرمایا"وعلیک السلام"تم کون ہو؟اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آج رات مجھے اس کی مہمان نوازی کرنے دیجئے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۳؛حدیث نمبر؛٦۲٤۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا اس وادی کے طرف سوار ہو کر جاؤ اور میرے لئے اس آدمی کے بارے میں معلومات لے کر آؤ جو دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور اس کی گفتگو سن کر میرے پاس واپس آ۔ وہ چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے اور کہا میں نے انہیں عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے اور کلام ایسا ہے جو شعر نہیں ہے۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس چیز کا میں نے ارادہ کیا تھا تم اس کی تسلی بخش جواب نہیں لائے ہو پھر انہوں نے زاد راہ لیا اور ایک مشکیزہ جس میں پانی تھا لادا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے مسجد میں پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنا مناسب نہ سمجھا یہاں تک کہ رات ہوگئی اور لیٹ گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو اندازہ لگایا کہ یہ مسافر ہے پس وہ انہیں دیکھنے ان کے پیچھے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کوئی گفتگو نہ کی یہاں تک کہ صبح ہوگئی انہوں نے پھر اپنی مشک اور زاد راہ اٹھایا اور مسجد کی طرف چل دئیے پس یہ دن بھی اسی طرح گزر گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے یہاں تک کہ شام ہوگئی اور اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹے پس علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو کہا اس آدمی کو ابھی تک اپنی منزل کا علم نہیں ہوسکا پس انہیں اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھا یہاں تک کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے کہا کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ تم اس شہر میں کس غرض سے آئے ہو۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کرو کہ تم میری صحیح راہنمائی کرو گے تو میں بتادیتا ہوں پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کرلیا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مقصد بیان کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے اور اللہ کے رسول ہیں جب صبح ہوئی تو تم میرے ساتھ چلنا اگر میں نے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ محسوس کیا تو میں کھڑا ہوجاؤں گا گویا کہ میں پانی بہا رہا ہوں اور اگر میں چلتا رہا تو تم میری اتباع کرنا یہاں تک کہ جہاں میں داخل ہوں تم بھی داخل ہوجانا۔پس انہوں نے ایسا ہی کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورحضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنی اور اسی جگہ اسلام قبول کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی طرف لوٹ جا اور انہیں اس(دین کی)تبلیغ کر یہاں تک کہ تیرے پاس میرا حکم پہنچ جائے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں تو یہ بات مکہ والوں کے سامنے پکار کر کروں گا پس وہ نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے اور اپنی بلند آواز سے کہا: (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ) (ترجمہ)میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ پھر قوم ان پر ٹوٹ پڑی انہیں مارنا شروع کردیا یہاں تک کہ انہیں لٹا دیا پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر جھک گئے اور کہا تمہارے لئے افسوس ہے کیا تم جانتے نہیں ہو کہ یہ قبیلہ غفار سے ہیں اور تمہاری شام کی طرف تجارت کا راستہ ان کے پاس سے گزرتا ہے پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان سے چھڑا لیا۔ انہوں نے اگلی صبح پھر اسی جملہ کو دہرایا اور مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کردیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان پر جھک کر انہیں بچایا اور چھڑا کرلے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۳؛۱۹۲٤؛حدیث نمبر؛٦۲٤۳)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی نہیں روکا(یعنی میں جب بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ مجھے اجازت دیتے تھے)اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تبسم فرماتے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۵؛حدیث نمبر؛٦۲٤٤)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تبسم فرماتے۔ ابن نمیر نے اپنی حدیث میں جو ابن ادریس سے روایت کی یہ اضافہ ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹھہر نہیں سکتا تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا فرمائی"اے اللہ!اسے گھوڑے پر قائم رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ رکھنا۔" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۵؛حدیث نمبر؛٦۲٤۵)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دور جاہلیت میں ایک مکان تھا جس کو ذو الخلصہ کہا جاتا تھا اور اس کو کعبہ یمانیہ یا کعبہ شامیہ بھی کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جریر!کیا تم مجھے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی فکر سے نجات دلا دو گے۔ (فرماتے ہیں)پس میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو لوگوں کے ساتھ اس کی جانب روانہ ہوا اور اس بت خانہ کو توڑ دیا اور جو لوگ وہاں تھے ان کو قتل کردیا پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو واقعہ بتایا تو آپ نے ہمارے لئے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۵؛حدیث نمبر؛٦۲٤٦)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمایا اے جریر!کیا تم مجھے خثعم(قبیلہ)کے بت خانے ذوالخلصہ کی فکر سے نجات نہیں دو گے جس کو کعبہ یمانیہ کہا جاتا ہے فرماتے ہیں میں ڈیرھ سو سواروں کو لے کر گیا میں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا تھا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنا دست مبارک اپنا سینے پر مارا اور یوں دعا کی۔ "اے اللہ!اس کو گھوڑے پر قائم رکھ اور اس کو ہادی اور مہدی بنا دے۔" حضرت جریر فرماتے ہیں پھر وہ روانہ ہوے اور اس بت خانے کو آگ سے جلا دیا پھر حضرت جریر نے ابو ارطاۃ کنیت والے ایک شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوش خبری دینے کے لئے بھیجا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ہم ذوالخلصہ کے بت خانے کو ایک خارش زدہ اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپ کے پاس آے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لیے پانچ مرتبہ دعا کی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲٦؛حدیث نمبر؛٦۲٤۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں دوسری سند میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت جریر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس شخص کو خوش خبری کے لیے روانہ کیا تھا اس کا نام ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲٦؛حدیث نمبر؛٦۲٤۸)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے وضو کے لیے پانی رکھا جب آپ باہر تشریف لائے تو فرمایا یہ کس نے رکھا ہے حضرت زہیر کی روایت میں ہے کہ حاضرین نے کہا اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ میں نے کہا حضرت ابن عباس نے رکھا ہے آپ نے دعا مانگی(ترجمہ)"اللہ ان کو دین کی سمجھ عطاء فرما"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۲۷؛حدیث نمبر؛٦۲٤۹)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں استبرق(ریشم)کا ایک ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس جگہ بھی جانا چاہتا ہوں وہ ٹکڑا اڑ کر اس جگہ اجاتا ہے میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا میرا گمان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صالح آدمی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۲۷؛حدیث نمبر؛٦۲۵۰)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جو شخص بھی خواب دیکھتا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا فرماتے ہیں میں ایک کنوار نوجوان تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے جہنم کی طرف لے گئے میں نے دیکھا کہ دوزخ کنوئیں کی طرح گہری ہے اور کنوئیں کی طرح اس پر دو لکڑیاں رکھی ہوئی ہیں اور اس میں کچھ لوگوں کو میں جانتا ہوں میں یوں کہنے لگا میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں میں دوزخ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ ملا اور مجھ سے کہا تمہیں اس سے کوئی ڈر نہیں ہے(فرماتے ہیں)میں نے یہ واقعہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس کی تعبیر میں)فرمایا(حضرت)عبد اللہ اچھے آدمی ہیں اگر یہ رات کے وقت نماز پڑھیں۔ حضرت سالم فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت بہت کم وقت سوتے تھے(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کیا) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۲۷؛حدیث نمبر؛٦۲۵۱)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سوتا تھا اور اس وقت میری شادی نہیں ہوئی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مجھے ایک کنویں کی طرف لایا گیا۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٥١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹۲۸؛حدیث نمبر؛٦۲۵۲)
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی: "اے اللہ!اس کے مال اور اولاد میں اضافہ فرما اور جو کچھ اس کو دیا ہے اس میں برکت دے۔" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۸؛حدیث نمبر؛٦۲۵۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم انس آپ کا خادم ہے....پھر حدیث نمبر ٦٢٥٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۸؛حدیث نمبر؛٦۲۵٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۸؛حدیث نمبر؛٦۲۵۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اس وقت گھر میں،میں، میری ماں اور میری خالہ حضرت ام حرام(رضی اللہ عنہم)تھیں میری ماں نے عرض کیا یارسول اللہ!یہ آپ کا خادم ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ہر بھلائی کی دعا مانگی اور اس دعا کے آخر میں فرمایا اے اللہ!اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس میں اس کو برکت دے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۹؛حدیث نمبر؛٦۲۵٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں اور آپ نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر نصف دو پٹے کو میری ازار بنا دیا اور دوسرا نصف میرے جسم پر ڈال دیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ اُنَیس!میرے بیٹے ہیں میں ان کو آپ کے پاس لے کر آئی ہوں کہ یہ آپ کی خدمت کریں پس آپ ان کے لئے دعا مانگیں۔ پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی یا اللہ!اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کردے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!بےشک میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد اس وقت ایک سو کے قریب ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۹؛حدیث نمبر؛٦۲۵۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سنی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں یہ چھوٹا انس ہے چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے تین دعائیں مانگیں ان میں سے دو(کی قبولیت)کو میں نے دنیا میں دیکھ لیا ہے اور مجھے تیسری بات کی آخرت میں امید ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۹؛حدیث نمبر؛٦۲۵۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل کود رہا تھا فرماتے ہیں آپ نے ہم لوگوں کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا چنانچہ مجھے میری والدہ کے پاس آنے میں تاخیر ہوگئی۔جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا کہ دیر ہونے کا کیا سبب ہے میں نے عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟میں نے کہا یہ ایک راز ہے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ہرگز کسی سے بیان نہ کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!اگر میں یہ بات کسی سے بیان کرتا تو اے ثابت!تم سے بیان کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۲۹؛حدیث نمبر؛٦۲۵۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات فرمائی میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا میری ماں ام سلیم نے اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے ان کو بھی نہیں بتایا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۰؛حدیث نمبر؛٦۲٦٠)
حضرت عامر بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سنا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے زمین پر چلنے والے کے بارے میں نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۰؛حدیث نمبر؛٦۲٦۱)
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ میں میں کچھ لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن میں سے بعض رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی تھے پس ایک آدمی جس کے چہرے پر اللہ کے خوف کے آثار نمایاں تھے تو بعض لوگوں نے کہا یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے۔ اس نے دو رکعتیں ادا کیں لیکن ان میں اختصار کیا پھر چل دیا میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا وہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور میں بھی داخل ہوگیا پھر اس نے ہم سے گفتگو کی جب اس سے مانوسیت ہوگئی تو میں نے اس سے کہا جب آپ اس سے پہلے مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی نے اس طرح اس طرح کہا۔انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ!کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی بات کرے جس کے بارے میں علم نہیں رکھتا اور میں ابھی بتاتا ہوں کہ یہ کیوں ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا میں نے اپنے خواب میں دیکھا اور پھر اسے اس کی وسعت پیداوار اور سرسبزی کو بیان کیا اور باغ کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا اس کا نچلا حصہ زمین اور اوپر کا حصہ آسمانوں میں اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو میں نے اس سے کہا کہ میں تو چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا پس میرے پاس ایک مِنصَف آیا ابن عون نے کہا مِنصَف خادم کو کہتے ہیں اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے اور بیان کیا کہ اس نے اس کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا پس میں چڑھ گیا یہاں تک کہ اس ستون کی بلندی تک پہنچ گیا۔پس میں نے اس حلقہ کو پکڑ لیا پھر مجھے کہا گیا اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو پھر میں بیدار ہوگیا اور وہ حلقہ میرے ہاتھ میں ہی تھا میں نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ عروہ الوثقی یعنی مضبوط حلقہ ہے اور تم تاحیات اسلام پر قائم رہو گے وہ شخص حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۰؛حدیث نمبر؛٦۲٦۲)
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تشریف فرما تھے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے پس میں کھڑا ہوا اور اس سے کہا انہوں نے اس طرح اس طرح کہا ہے۔ انہوں نے فرمایا سبحان اللہ!ان لوگوں کو سزاوار نہیں کہ وہ بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک سبز باغ میں ایک ستون رکھا گیا ہے اس ستون کی چوٹی پر ایک حلقہ ہے اور اس کے نیچے ایک منصف یعنی خدمت گزار کھڑا ہے پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو پس میں چڑھا یہاں تک کہ اس حلقہ کو پکڑ لیا میں نے یہ سارا قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وصال اس حال میں ہوگا کہ انہوں نے عروہ وثقی کو پکڑا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۱؛حدیث نمبر؛٦۲٦۳)
حضرت خرشہ بن حُر سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس مجلس میں ایک بزرگ خوبصورت شکل و صورت والے بھی تھے جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے اور انہوں نے لوگوں سے عمدہ باتیں کرنا شروع کردیں جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا جس آدمی کو یہ پسند ہو کہ وہ جنتی آدمی کو دیکھے اسے چاہئے کہ وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے پیچھے پیچھے جاؤں گا تاکہ اس کے گھر کا پتہ کرسکوں پس میں ان کے پیچھے چلا وہ چلتے رہے یہاں تک کہ مدینہ سے نکلنے کے قریب ہوئے پھر اپنے گھر میں داخل ہوگئے میں نے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی پھر فرمایا اے بھیجتے تجھے کیا کام ہے میں نے کہا میں نے لوگوں سے آپ کے بارے میں کہتے ہوئے سنا کہ جب آپ کھڑے ہوئے کہ جسے یہ بات پسند ہو کہ جنتی آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھ لے تو مجھے پسند آیا کہ میں آپ کے ساتھ ہی رہوں۔ انہوں نے کہا اہل جنت کے بارے میں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور میں تمہیں بیان کرتا ہوں جس وجہ سے انہوں نے یہ کہا ہے اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے مجھے کہا کھڑا ہوجا میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا مجھے راستہ میں اپنی بائیں طرف کچھ راہیں ملی جن میں میں نے جانا چاہا تو اس نے مجھے کہاں مت جاؤ کیونکہ یہ بائیں طرف(کفار)کے راستے ہیں پھر دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا تو اس نے مجھ سے کہا اس میں چلے جاؤ پھر وہ ایک پہاڑ پر لے چلا پھر مجھ سے کہا اس پر چڑھ جاؤ پس میں نے چڑھنا شروع کیا لیکن جب میں چڑھنے کا ارادہ کرتا تو سیرین کے بل گرپڑتا یہاں تک کہ مجھے ایک ستون کے پاس لایا جس کا(اوپر والا)سرا آسمان میں اور نچلا حصہ زمین میں تھا اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا تو اس نے مجھے کہا اس کے اوپر چڑھو۔میں نے کہا میں اس پر کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے پس اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر چڑھا دیا میں نے دیکھا کہ میں حلقہ کو پکڑے ہوئے کھڑا ہوں پھر اس نے اس ستون پر ایک ضرب ماری جس سے وہ گرگیا لیکن میں حلقہ کے ساتھ ہی لٹکا رہا یہاں تک کہ میں نے صبح کی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سارا قصہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ راستے جو تو نے اپنے طرف دیکھے وہ تو بائیں طرف(جہنم)والوں کے راستے تھے اور وہ راستے جو تو نے اپنی دائیں طرف دیکھے وہ دائیں طرف(جنت)والوں کے راستے تھے اور وہ پہاڑ شہداء کا مقام ہے جسے تم حاصل نہ کرسکو گے اور ستون اسلام کا ستون ہے اور اور جو حلقہ دیکھا وہ عروہ اسلام(اسلام کی رسی)ہے اور تم مرتے دم تک اسے تھامے رکھو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۱؛حدیث نمبر؛٦۲٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو گھور کر دیکھا تو انہوں نے فرمایا میں اس میں(اس وقت بھی)اشعار پڑھتا تھا جب اس میں بہتر شخصیت تھی(حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں) پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کی آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرماتے تھے(اے حسان)میری طرف سے(کفار کو)جواب دو یا اللہ!اس کی روح القدس(حضرت جبریل علیہ السلام)کے ذریعے مدد فرما۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۲؛حدیث نمبر؛٦۲٦۵)
حضرت(سعید)بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک حلقہ میں جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے،فرمایا اے ابوہریرہ!کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا... اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۳؛حدیث نمبر؛٦۲٦٦)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کرتے ہوے فرما رہے تھے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے حسان!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو(پھر یوں دعا مانگتے) "اے اللہ!اس کی روح القدس کے ذریعے مدد فرما"۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں(میں نے سنا ہے) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۳؛حدیث نمبر؛٦۲٦۷)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے ان(کفار کی)ہجو کرو اور حضرت جبریل(علیہ السلام)بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۳؛حدیث نمبر؛٦۲٦۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۳؛حدیث نمبر؛٦۲٦۹)
حضرت ہشام اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بہت کچھ کہا کرتے تھے تو میں نے ان کو برا کہا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے بھتیجے!اس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۳؛حدیث نمبر؛٦۲۷۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳٤؛حدیث نمبر؛٦۲۷۱)
حضرت مسروق فرماتے ہیں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ان کو اپنے اشعار سنا رہے تھے انہوں نے کہا(اشعار کا ترجمہ) وہ پاکیزہ اور عقلمند ہیں ان پر کسی عیب کی تہمت نہیں وہ صبح غافلوں کے گوشت سے بھوکی اٹھتی ہیں کسی کی غیبت نہیں کرتیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا لیکن تم تو ایسے نہیں تھے حضرت مسروق نے کہا آپ کو ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ "اور جس نے ان میں سے اس بہتان باندھنے میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب ہے"(سورہ نور آیت نمبر١١) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اندھا ہونے سے بڑا عذاب کیا ہوسکتا ہے؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کفار کو جواب دیتے تھے یا(فرمایا)ان کی ھجو کرتے تھے۔(حضرت حسان رضی اللہ عنہ تائب ہوگئے تھے) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳٤؛حدیث نمبر؛٦۲۷۲)
اسی سند کے ساتھ مروی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت حسان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے اس روایت میں"حسان رزان"کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳٤؛حدیث نمبر؛٦۲۷۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابو سفیان(کی ھجو)کے بارے میں مجھے اجازت دیجئے آپ نے فرمایا میری قرابت کا کیا کرو گے؟(یعنی وہ بھی قریشی ہیں)حضرت حسان نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو کرامت دی ہے میں آپ کو اس سے اس طرح نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئےآٹے سے بال نکالا جاتا ہے پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ قصیدہ کہا۔ بنو ہاشم کی بزرگی کی کوہان آل ہاشم قبیلہ بنو بنت مخزوم میں سے ہیں بنت مخزوم کی اولاد ہے اور تیرا باپ تو غلام تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳٤؛حدیث نمبر؛٦۲۷٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی اور ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا اور خمیر کی بجائے عجین کا لفظ ہے(گوندھا ہوا آیا)۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۵؛حدیث نمبر؛٦۲۷۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش کی ہجو کرو کیونکہ یہ انہیں تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ سخت محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا تو فرمایا ان کی ہجو کرو انہوں نے ہجو بیان کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش نہ ہوئے پھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا پھر حسان بن ثابت کو بلوایا جب حسان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس دم ہلاتے ہوئے شیر کو تم میری طرف چھوڑ دو پھر اپنی زبان کو نکالا اور اسے حرکت دینا شروع کردیا اور عرض کیا اس ذات کی قسم!جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں انہیں اپنی زبان سے چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو چیر دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی مت کرو بیشک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قریش کے نسب کو خوب جانتے ہیں اور میرا نسب قریش کے نصب سے بالکل واضح کردیں گے۔پس حضرت حسان رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پھر واپس گئے تو عرض کیا اے اللہ کے رسول تحقیق انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب واضح کردیا ہے اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حضرت حسان کے بارے میں فرمایا جب تک اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتا رہے گا روح القدس برابر تیری نصرت و مدد کرتے رہیں گے اور کہتی ہیں میں نے رسول اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو بیان کر کے مسلمانوں کو شفاء یعنی خوشی دی اور کفار کو بیمار کردیا ہے۔ حضرت حسان نے کہا۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو(برائی بیان)کی ہے ان کی طرف سے میں جواب دیتا ہوں اور اس میں اللہ ہی کے پاس جزا اور بدلہ ہوگا۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی جو نیک اور ادیان باطلہ سے اعراض کرنے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ان کی خصلت وفا کرنا ہے۔ بیشک میرے باپ اور میری ماں اور میری عزت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے۔ میں خود پر گریہ کروں اگر تم گھوڑوں کو مقام کداء کی طرف گرد اڑاتے ہوئے نہ دیکھو۔ وہ گھوڑے جو تمہاری طرف دوڑتے ہیں ان کے کندھے پر پیاسے نیزے ہیں۔ ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کی تھوتھنیوں کو عورتیں دوپٹے سے صاف کریں گے۔ اگر تم ہم سے رو گردانی کرو گے تو ہم عمرہ کرلیں گے فتح حاصل ہوگی اور پردہ اٹھ جائے گا۔ ورنہ اس دن کا انتظار کرو جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عزت دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو رسول بنایا جو حق کہتا ہے اور اس میں کوئی پوشیدگی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ایک لشکر بنایا ہے جو انصار ہیں اور ان کا مقصد صرف دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔ وہ لشکر ہر روز مذمت،جنگ اور ھجو کرنے کے لئے تیار ہے۔ پس تم میں سے جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے،تعریف کرے یا آپ کی مدد کرے سب برابر ہے۔ ہم میں اللہ کے پیغام پر جبرئیل علیہ السلام موجود ہیں وہ روح القدس ہیں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۵سے۱۹۳۸؛حدیث نمبر؛٦۲۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ مشرکہ تھیں۔ میں نے ایک دن انہیں دعوت دی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسے الفاظ مجھے سنائے جنہیں میں گورا نہ کرتا تھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ انکار کرتی تھی۔ میں نے آج انہیں دعوت دی تو اس نے ایسے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے سنائے جنہیں(سننا)مجھے گوارا نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: "یااللہ!ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما" میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لے کر خوشی سے نکلا جب میں آیا اور دروازہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بند کیا ہوا ہے پس میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہا اے ابوہریرہ اپنی جگہ پر رک جاؤ اور میں نے پانی گرنے کی آواز سنی۔ پس اس نے غسل کیا اور اپنی قمیض پہنی اور اپنا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے جلدی سے باہر آئیں اور دروازہ کھولا پھر کہا اے ابوہریرہ(أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ )"میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور میں خوشی سے رو رہا تھا۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!خوشخبری ہو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرما لیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما دی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کی حمد وثناء کی اور کلمات خیر کہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور انہیں ہمارا محبوب بنا دے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: یا اللہ!اپنے بندے(آپ کی مراد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)اور اس کی ماں کو مؤمن بندوں کا محبوب بنا دے اور ان کے دل میں مومنوں کی محبت ڈال دے" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرا ذکر سنا یا مجھے دیکھا ہواور اس نے مجھ سے محبت نہ کی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۸؛حدیث نمبر؛٦۲۷٧)
حضرت اعرج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتا ہے اور اللہ حساب لینا والا ہے میں غریب و مسکین آدمی تھاپیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا اور مہاجرین کو بازار کے معاملات میں مشغولیت رہتی تھی اور انصار اپنے اموال کی حفاظت میں مصروف رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو کپڑا بچھائے پس وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی حدیث کبھی نہیں بھولے گا میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا حتیٰ کہ آپ نے اپنی حدیث پوری کر لی پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اس کے بعد آپ سے سنی ہوئی بات کبھی نہیں بھولا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹۳۹؛حدیث نمبر؛٦۲۷۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک نہیں کہ کون اپنا کپڑا پھیلاتا ہے...آخر حدیث تک۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٤٠؛حدیث نمبر؛٦۲۷۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کرتے وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک طرف بیٹھ کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیثیں سنانے لگے اور میں تسبیح کر رہی تھی اور میری تسبیح پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اٹھ کر چلے گئے اور اگر میں ان کو پالیتی تو تردید کرتی کہ رسول اللہ تمہاری طرح جلدی جلدی احادیث بیان نہ کرتے تھے۔ابن مسیب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ بیشک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتے ہیں اور اللہ ہی حساب لینے والا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس کے مثل(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)احادیث روایت نہیں کرتے میں ابھی تمہیں اس بارے میں خبر دوں گا میرے انصاری بھائیوں کو زمین(کھیتی باڑی)کی مصروفیت تھی اور میرے مہاجرین بھائی بازار اور تجارت میں مشغول تھے اور میں نے اپنے آپ کو پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لازم کرلیا تھا جب یہ لوگ غائب ہوتے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے میں یاد کرتا تھا۔ اور ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون اپنا کپڑا بچھا کر میری اس حدیث سے لیتا ہے پھر اس(چادر)کو سینے سے چمٹاے وہ جو کچھ سنے گا اسے نہیں بھولے گا۔ پس میں نے اپنی چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات سے فارغ ہوگئے اور پھر میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینہ سے چمٹا لیا اور اس کے بعد آج تک میں کوئی حدیث نہ بھولا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کی اور اگر اللہ نے اپنی کتاب میں یہ دو آیات مبارکہ نہ نازل کی ہوتیں تو میں کبھی بھی کوئی حدیث روایت نہ کرتا۔ ترجمہ"بےشک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ دلیلوں اور ہدایات کو چھپاتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرتا ہے اور(تمام)لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٤٠؛حدیث نمبر؛٦۲۸۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت احادیث بیان کرتے ہیں..... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٨٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٤٠؛حدیث نمبر؛٦۲۸۱)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے،حضرت زبیر اورحضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو بھیجا اور فرمایا کہ خاخ باغ کی طرف جاؤ وہاں ایک اونٹ سوار عورت ملے گی جس کے پاس خط ہوگا پس تم وہ خط اس سے لے لینا۔پس ہم لوگ گھوڑے دوڑاتے ہوئے چل پڑے جب اس عورت کے پاس پہنچے تو اس سے کہا خط نکالو اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا خط نکال دے ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔پس اس نے وہ خط اپنے سر کی مینڈھیوں سے نکال کر دے دیا ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تو اس میں یہ لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکین لوگوں کی طرف اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معاملات کی خبر دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حاطب یہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!میرے متعلق جلدی میں کوئی فیصلہ نہ کریں میں قریش سے ملا ہوا یعنی ان کا حلیف تھا سفیان راوی نے کہا کہ وہ قریش کے حلیف تھے لیکن ان کے خاندان سے نہ تھے(انہوں نے کہا)جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین میں سے صحابہ ہیں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں اور انہی رشتہ داریوں کی وجہ سے وہ ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے پس میں نے پسند کیا کہ ان کے ساتھ میرا نسبی تعلق تو ہے نہیں کہ میں ان پر ایک احسان ہی کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں گے اور میں نے ایسا نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اپنے دین سے مرتد ہونے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد کفر پر راضی رہنے کی وجہ سے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اہل بدر میں سے ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اہل بدر کے حالات سے واقف ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی؛ "اے ایمان والو!میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔"۔ ابوبکر کی روایت میں آیت کا ذکر نہیں اور اسحاق نے اپنی روایت میں سفیان کی تلاوت کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَقِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ؛جلد٤ص١۹٤۱؛حدیث نمبر؛٦۲۸۲)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے،حضرت ابو مرثد غنوی اور حضرت زبیر بن عوام(رضی اللہ عنہم)کو روانہ کیا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ نے فرمایا تم خاخ کے ایک باغ کی طرف روانہ ہو وہاں ایک عورت مشرکہ ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے جسے حاطب نے مشرکین کی طرف لکھا ہے۔اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَقِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةُ؛جلد٤ص١۹٤۲؛حدیث نمبر؛٦۲۸۳)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاطب کا ایک غلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ!حاطب دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا وہ بدر اور حدیبیہ میں موجود تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَقِصَّةِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةُ؛جلد٤ص١۹٤۲؛حدیث نمبر؛٦۲۸٤)
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ان شاء اللہ اصحابہ شجرہ میں کوئی بھی جہنم میں نہیں جاے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ نے ان کو جھڑکا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا(اللہ تعالیٰ نے فرمایا)تم میں سے ہر ایک نے اس میں داخل ہونا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے"۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَهْلِ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۲؛حدیث نمبر؛٦۲۸٥)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جعرانہ پر قیام پذیر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی نے حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کریں گے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا خوش ہوجاؤ تو اس اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کثرت کے ساتھ کہا خوش ہوجاؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوموسی اور بلال کی طرف غصہ کی حالت میں متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ وہ آدمی ہے جس نے بشارت کو رد کردیا ہے تم دونوں قبول کرلو۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے قبول کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی بھی کی پھر فرمایا اس میں سے تم دونوں پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر انڈیل لو اور خوش ہوجاؤ پس انہوں نے پیالہ لے کر اسی طرح کیا جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا پھر انہیں پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آواز دی کہ اپنی والدہ کے لئے بھی اپنے برتنوں سے بچا لینا پس انہوں نے انہیں بھی اس سے بچا ہوا دے دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي مُوسَى وَأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيَّيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹٤۳؛حدیث نمبر؛٦۲۸٦)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعامر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کے ہمراہ اوطاس کی طرف بھیجا پس درید بن صمہ سے ان کا مقابلہ ہوا تو درید کا قتل کیا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست سے دوچار کیا ابوموسی نے کہا مجھے بھی ابوعامر کے ہمراہ بھیجا تھا پس ابوعامر کے گھٹنے میں تیر مارا گیا جو کہ بنو جشم کے ایک آدمی نے پھینکا تھا اور وہ تیر آ کر ان کے گھٹنے میں گھس گیا۔میں ان کی طرف بڑھا تو میں نے کہا اے چچا جان!آپ کو کس نے تیر مارا ہے تو ابوعامر نے اشارہ کے ذریعہ ابوموسی کو بتایا کہ وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ میرا قاتل ہے اور اسی نے مجھے تیر مارا ہے ابوموسی نے کہا میں اسے(مارنے)کے ارادہ سے چل دیا اور وہاں جا پہنچا۔پس اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کردیا میں بھی اس کے پیچھے چل دیا اور اسے کہنا شروع کردیا کیا تجھے حیاء نہیں آتی کیا تو عربی نہیں ہے کیا تو نہیں ٹھہرے گا وہ رک گیا پھر میرا اور اس کا مقابلہ ہوا پس اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا بالآخر میں نے اسے قتل کردیا اس کے بعد حضرت ابو عامر نے کہا یہ تیر نکالو میں نے اسے نکالا تو اس کی جگہ سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تو انہوں نے کہا اے بھتیجے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا اور آپ کو میری طرف سے سلام عرض کر اور آپ سے عرض کر کہ ابوعامر آپ سے عرض کرتا ہے کہ میرے لئے مغفرت طلب فرمائیں۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں ابوعامر نے مجھے لوگوں پر امیر مقرر کردیا پھر وہ تھوڑی ہی دیر کے بعد شہید ہوگئے۔ فرماتے ہیں پس جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بان کی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے جس پر بستر نہ تھا اس وجہ سے چارپائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلؤوں اور کمر پر نمایاں تھے۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اور ابوعامر کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ابوعامر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس سے وضو فرمایا پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ عبید ابوعامر کی مغفرت فرما یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا اے اللہ اسے قیامت کے دن اپنی بہت سی مخلوق یا لوگوں سے بلندی و عظمت عطا فرمانا" میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اور میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرما دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: "اے اللہ!عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو معاف فرما دے اور اسے قیامت کے دن معزز جگہ میں داخل فرما" ابوبردہ نے کہا ان میں ایک دعا ابوعامر اور دوسری دعا ابوموسی کے لئے تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي مُوسَى وَأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيَّيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛جلد٤ص١۹٤۲؛حدیث نمبر؛٦۲۸٧)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اشعری رفقاء کی قرآن مجید پڑھنے کی آواز کو پہچان لیتا ہوں جب وہ رات کے وقت آتے ہیں اور رات کو ان کی قرآن مجید پڑھنے کی آواز سے ان کے گھروں کو بھی پہچان لیتا ہوں اگرچہ دن کے وقت ان کے گھروں کو نہ دیکھا ہو(گھروں سے مراد سفر میں اترنے کی جگہ یعنی منازل ہیں)ان میں سے ایک شخص حکیم ہے جب وہ گھوڑسواروں یا(فرمایا)دشمنوں سے مقابلہ کرتا ہے تو ان سے کہتا ہے میرے ساتھی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَشْعَرِيِّينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤٤؛حدیث نمبر؛٦۲۸٨)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشعری جب جہاد میں نادار ہوں یا مدینہ طیبہ میں ان کے بچوں کا کھانا کم ہو تو وہ اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں پھر آپس میں ایک برتن کے ذریعے برابر تقسیم کر لیتے ہیں پس وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَشْعَرِيِّينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤٤؛حدیث نمبر؛٦۲۸٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضرت ابو سفیان کی طرف نہ دیکھتے تھے اور نہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری تین باتیں قبول فرمائیں آپ نے فرمایا اچھا۔ انہوں نے کہا حضرت ام حبیبہ بنت سفیان عرب کی نہایت حسینہ جمیلہ لڑکی ہیں میں ان کو آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے،پھر انہوں نے کہا آپ مجھے ایک لشکر کا امیر بنادیں تاکہ میں کفار سے اس طرح لڑوں جس طرح مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا،ابو زميل کہتے ہیں اگر وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست نہ کرتے تو آپ یہ کام نہ کرتے لیکن آپ کی عادت کریمہ یہ تھی کہ کسی سائل کا سوال رد نہیں کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٤۵؛حدیث نمبر؛٦۲۹۰)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روانہ ہونے کی خبر پہنچی(خیبر کی طرف روانگی کی)تو ہم یمن میں تھے پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئے روانہ ہوگئے میں اور میرے دو بھائی تھے اور میں ان دونوں سے چھوٹا تھا ان میں سے ایک کا نام ابوبردہ اور دوسرے کا نام ابورہم تھا ہمارے ساتھ چند آدمی یا کہا ترپن یا باون آدمی ہمارے قبیلہ کے بھی تھے پس ہم کشتی میں سوار ہوئے ہمیں ہماری کشتی نے حبشہ میں نجاشی کے پاس جا چھوڑا۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں قیام کرنے کا حکم دیا ہے تم بھی ہمارے ساتھ رہو پس ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو کر آئے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب خبیر فتح ہوچکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے حصہ مقرر کیا یا ہمیں بھی خیبر سے عطا کیا اور فتح خیبر میں شریک لوگوں کے علاوہ غائب لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے مال غنیمت میں سے کچھ بھی عطا نہیں کیا تھا اور ہماری کشتی والوں کو بھی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ فتح خیبر میں شریک لوگوں کے ساتھ تقسیم غنیمت میں حصہ عطا فرمایا۔ پس لوگوں میں بعض نے ہمیں یعنی کشتی والوں سے کہا ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت کی ہے فرماتے ہیں حضرت اسماء بنت عمیس ان لوگوں میں سے تھی جو ہمارے ساتھ آئی تھیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے گئیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بھی ہجرت کرنے والوں کے ساتھ نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کے پاس حضرت اسماء رضی اللہ عنہاکو دیکھا تو کہا یہ کون ہے؟سید حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ حبشہ بحریہ ہے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا ہاں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہم تم سے زیادہ رسول اللہ کے حقدار ہیں وہ ناراض ہوگئیں اور ایک بات کہی کہ اے عمر آپ نے غلط کہا ہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم تم رسول اللہ کے ساتھ تھے جو تمہارے بھوکوں کو کھلاتے اور تمہارے جاہلوں کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایسے علاقے میں تھے جو دور دراز اور دشمن ملک حبشہ میں تھے اور وہاں صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے تھے اللہ کی قسم میں اس وقت تک نہ کوئی کھانا کھاؤں گی اور نہ پینے کی کوئی چیز پیوں گی جب تک آپ کی کہی بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کرلوں۔ حبشہ میں ہمیں تکلیف دی جاتی تھی اور ڈرایا جاتا تھا میں عنقریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کروں گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کروں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی نہ کج بخشی کروں گی۔اور نہ ہی اس پر کوئی زیادتی کروں گی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسماء نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح اس طرح کہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تم سے زیادہ میرے(قرب کے)حقدار نہیں اس نے اس کے ساتھیوں نے ایک مرتبہ ہجرت کی تمہارے اور کشتی والوں کے لئے دو ہجرتیں ہیں اسماء نے کہا تحقیق میں نے ابوموسی اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس گروہ در گروہ آتے اور وہ یہ حدیث سنتے تھے دنیا کی کوئی چیز انہیں اس سے زیادہ خوش کرنے والی اور اس فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عظمت والی ان کے ہاں نہ تھی۔ حضرت ابوبردہ فرماتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے یہ حدیث بار بار سنتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَأَهْلِ سَفِينَتِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤٦؛حدیث نمبر؛٦۲٩١)
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت سلمان،حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے پاس چند لوگوں کی موجودگی میں حضرت سفیان آے تو ان حضرات نے کہا اللہ کی قسم!اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردنوں میں اپنی جگہ پر نہیں پہنچی ہیں۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کیا تم قریش کے اس شیخ اور ان کے سردار کے بارے میں ایسے کہتے ہو؟پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بات کی خبر دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر شاید تو نے ان کو ناراض کردیا ہو اگر تو نے انہیں ناراض کردیا؟تو تیرا رب تجھ پر ناراض ہوجائے گا۔ پھر ابوبکر ان کے پاس آئے تو کہا اے میرے بھائیوں!میں نے تمہیں ناراض کردیا انہوں نے کہا نہیں اے میرے بھائی!اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ سلمان،و صہیب،وبلال رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤٦؛حدیث نمبر؛٦۲۹۲)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ (ترجمہ)"جب تم سے دو جماعتوں نے بزدلی کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے" یہ آیت بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہوئی اور ہماری خواہش یہ نہ تھی کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۷؛حدیث نمبر؛٦۲۹۳)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی: "اے اللہ!انصار کی مغفرت فرما انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما انصار کے پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۸؛حدیث نمبر؛٦۲۹٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۸؛حدیث نمبر؛٦۲۹۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لئے استغفار کیا۔ راوی نے کہا میرا گمان ہے آپ نے فرمایا انصار کی اولاد اور انصار کے غلاموں کی مغفرت فرما۔اس میں کوئی شک نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۸؛حدیث نمبر؛٦۲۹٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ سیدھے کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ تم محبوب ہو آپ کی مراد انصار تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۸؛حدیث نمبر؛٦۲۹۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ نے اس سے علیحدگی میں بات کی اور آپ نے تین بار فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ پسند ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۸؛حدیث نمبر؛٦۲۹۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۹؛حدیث نمبر؛٦۲۹۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا معدہ اور نبیل ہیں(میرے قابل اعتماد میں)بیشک لوگ بڑھتے رہیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے۔ پس تم ان کی نیکیوں کو قبول کرنا اور ان کی لغزشوں سے در گزر کرنا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْأَنَصَارِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٤۹؛حدیث نمبر؛٦۳۰۰)
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کے گھرانوں میں سے سب سے بہتر بنو النجار ہیں پھر بنو عبد الاشھل ہیں پھر بنو حارث بن خزرج ہیں پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھروں میں بھلائی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر(دوسرے لوگوں کو)فضیلت دی ہے ان سے کہا گیا کہ آپ کو بھی بہت لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹٤۹؛حدیث نمبر؛٦۳۰۱)
حضرت ابو اسید انصار رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٣٠١ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۰؛حدیث نمبر؛٦۳۰۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث حدیث نمبر ٦٣٠١ کے مثل روایت کیا البتہ اس حدیث میں حضرت سعد کا قول نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۰؛حدیث نمبر؛٦۳۰۳)
حضرت ابو اسید نے ابن عتبہ کے پاس خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کے گھر ہیں بنو عبد الاشھل کے گھر،بنو حارث بن خزرج کے گھر اور بنو ساعدہ کے گھر ہیں اور اللہ کی قسم!اگر میں انصار پر کسی خاندان کو ترجیح دیتا تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۰؛حدیث نمبر؛٦۳۰٤)
حضرت ابو سلمہ نے اس بات کی گواہی دی کہ حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ گواہی دیتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں پھر عبد الاشھل پھر بنو حارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی ہے۔ حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں ابو اسید نے کہا کیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کر رہا ہوں اگر میں جھوٹ بولتا تو اپنی قوم بنو ساعدہ سے شروع کرتا۔ یہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا انہوں نے کہا ہم کو(ہمارے گھرانے کو)پیچھے کر دیا گیا ہمیں چاروں کے آخر میں رکھا گیا میرے دراز گوش پر زین کسو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتا ہوں۔ان کے بھتیجے سہل نے کہا کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو مسترد کرنے جا رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں کیا آپ کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں پھر وہ لوٹ گئے اور کہنے لگے اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانے والے ہیں یہ کہ کر اپنے دراز گوش سے زین اتارنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۰؛حدیث نمبر؛٦۳۰۵)
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا انصار میں سے سب سے بہتر یا انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھرانہ.....اس کے بعد حسب سابق ہے اور اس میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۱؛حدیث نمبر؛٦۳۰٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ایک عظیم مجلس میں فرمایا کہ میں تم سے انصار کے بہترین گھرانے کے بارے میں بیان کروں؟صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ!آپ نے فرمایا بنو عبد الاشھل ہیں،انہوں نے عرض کیا ان کے بعد کون ہیں؟فرمایا پھر بنو نجار ہیں،انہوں نے عرض کیا پھر کون ہیں؟بنو حارث بن خزرج ہیں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان کے بعد کون ہیں آپ نے فرمایا بنو ساعدہ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان کے بعد کون ہیں؟ فرمایا پھر انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں کھڑے ہوے اور عرض کیا کیا ہم(بنو ساعدہ)چار میں سے چوتھے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھروں کا ذکر کیا۔(اس سلسلے میں)وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہتے تھے تو ان کی قوم کے چند افراد نے کہا بیٹھ جاؤ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن گھرانوں کا ذکر کیا ہے تم ان میں سے چوتھے ہو۔ حالانکہ آپ نے جن گھرانوں کا نام نہیں لیا ان کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے سے باز رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي خَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْْ؛جلد٤ص١۹۵۱؛حدیث نمبر؛٦۳۰۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں گیا وہ اس سفر میں میری خدمت کرتے تھے میں نے ان سے کہا ایسا نہ کیا کرو۔ انہوں نے کہا میں نے انصار کو جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے تو میں نے قسم کھائی ہے کہ میں جب بھی کسی انصاری کے ساتھ جاؤں گا اس کی خدمت کروں گا۔ ابن مثنی اور ابن بشار نے اپنی حدیثوں میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حضرت جریر،حضرت انس(رضی اللہ عنہم)سے بڑے تھے۔ ابن بشار نے"اَسَنَّ"کا لفظ بھی ذکر کیا ہے(معنیٰ وہی ہے یعنی ان سے بڑے تھے) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنھم؛بَابٌ فِي حُسْنِ صُحْبَةِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹۵۱؛حدیث نمبر؛٦۳۰۸)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غفار(قبیلہ)کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائےاور اسلم(قبیلہ)کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵٢؛حدیث نمبر؛٦۳۰۹)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو اللہ تعالیٰ اسلم(قبیلہ)کو سلامت رکھے اور غفار(قبیلہ)کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵٢؛حدیث نمبر؛٦۳۱۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵٢؛حدیث نمبر؛٦۳۱۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے سات سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور غفار کی اللہ مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵٢؛حدیث نمبر؛٦۳۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسلم(قبیلہ)کو سلامت رکھے اور غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے یہ بات میں نہیں کہتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵۳؛حدیث نمبر؛٦۳۱۳)
خفاف بن ایماء الغفاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دعا کی: "اے اللہ!بنو لحیان،رعل،ذکوان اور عصیہ(قبائل)پر لعنت بھیج جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے" (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵۳؛حدیث نمبر؛٦۳۱٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ غفار کی مغفرت فرمائے اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور عُصَیَّہ نے اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی نافرمانی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵۳؛حدیث نمبر؛٦۳۱۵)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مثل روایت کی ہے صالح اور اسامہ کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر پر ارشاد فرمائی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵۳؛حدیث نمبر؛٦۳۱٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا....پھر حدیث نمبر ٦٣١٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ؛جلد٤ص١۹۵٤؛حدیث نمبر؛٦۳۱۷)
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار،مزینہ،جہنیہ،غفار،اشجع اور وہ جو عبد اللہ کی اولاد سے ہیں وہ لوگوں کے علاوہ میرے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کا مددگار ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٤؛حدیث نمبر؛٦۳۱۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش،انصار،مزینہ،جہنیہ،اسلم، غفار اور اشجع میرے مددگار ہیں اور ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٤؛حدیث نمبر؛٦۳۱۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۵؛حدیث نمبر؛٦۳۲۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسلم،غفار،مزینہ،اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یا(فرمایا)جہینہ،بنو تمیم سے بہتر ہیں نیز بنو عامر اور دو حلیف اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۵؛حدیث نمبر؛٦۳۲۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے غفار،اسلم،مزینہ اور جو جہینہ سے ہیں یا آپ نے فرمایا جہینہ اور جو مزینہ سے ہیں قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد،طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۵؛حدیث نمبر؛٦۳۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلم اور غفار،جہینہ اور مزینہ میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ہیں فرماتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا قیامت کے دن اسد،غطفان،ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۵؛حدیث نمبر؛٦۳۲۳)
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور کہا کہ اسلم،غفار اور مزینہ(راوی)کو شک ہے وہ کہتے ہیں)اور میرا خیال ہے کہ جہینہ بھی کہا یہ لوگ حاجیوں کا مال چرانے والے ہیں انہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اسلم،غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ بھی فرمایا،اگر اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ ناکامی اور نقصان میں رہیں گے؟انہوں نے کہا ہاں،آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک یہ لوگ ان سے بہتر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۵؛حدیث نمبر؛٦۳۲٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں جہینہ کا ذکر کسی شک کے بغیر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٦؛حدیث نمبر؛٦۳۲۵)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلم،غفار،مزینہ اور جہینہ،بنو تمیم اور بنو عامر اور دو حلیف بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٦؛حدیث نمبر؛٦۳۲٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں. (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٦؛حدیث نمبر؛٦۳۲۷)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ،اسلم اور غفار بنو تمیم اور عبد اللہ بن غطفان اور عامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں؟آپ نے آواز بلند کی صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!پھر وہ نامرادی اور نقصان میں ہوں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک وہ ان سے بہتر ہوں گے۔ابو کریب کی روایت میں ہے یہ بتاؤ کہ اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار.. (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵٦؛حدیث نمبر؛٦۳۲۸)
عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے کہا سب سے پہلا وہ صدقہ جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو روشن کردیا تھا وہ بنی طی کے صدقہ کا مال تھا جس کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۷؛حدیث نمبر؛٦۳۲۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت طفیل اور ان کے اصحاب آے اور عرض کیا یارسول اللہ!(قبیلہ)دوس نے کفر کیا اور انکار کیا ہے ان کے خلاف دعا کیجئے کہا گیا کہ اب دوس ہلاک ہوگئے آپ نے فرمایا اے اللہ!دوس کو ہدایت دے اور ان کو یہاں لےآ۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۷؛حدیث نمبر؛٦۳۳۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بنو تمیم کے متعلق تین باتیں سنی ہیں جس کی وجہ سے میں ہمیشہ ان سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں،ایک مرتبہ ان کے صدقات آے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی ایک لونڈی تھی آپ نے فرمایا اس کو آزاد کردو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۷؛حدیث نمبر؛٦۳۳۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تین باتیں سنی ہیں ان کی وجہ سے میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٣٣١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۷؛حدیث نمبر؛٦۳۳۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے بارے میں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سنی ہیں جن کی وجہ سے میں ہمیشہ ان سے محبت کرتا ہوں....اس کے بعد حدیث نمبر٦٣٣١ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں دجال کا ذکر نہیں اور یہ کہ یہ لڑائی میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، وَجُهَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَمُزَيْنَةَ، وَتَمِيمٍ، وَدَوْسٍ، وَطَيِّئٍ؛جلد٤ص١۹۵۷؛حدیث نمبر؛٦۳۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤ گے پس ان میں سے جو لوگ دور جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ(دین میں)فقیہ ہوں اور اس سلسلے میں تم اس شخص کو سب سے بہتر پاؤ گے جو اس امر میں واقع ہونے سے پہلے اس سے سب سے زیادہ متنفر تھا اور تم لوگوں میں سے سب سے برا اس کو پاؤ گے جس کے دو چہرے ہوں گے جو اس کے پاس ایک چہرے کے ساتھ اور اس(دوسرے)کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ آتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ خِيَارِ النَّاسِ؛ترجمہ؛بہترین لوگ؛جلد٤ص١۹۵۸؛حدیث نمبر؛٦۳۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم،لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤ گے۔ یہ حدیث زہری کی طرح ہے البتہ ابو زرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے کہ تم اس امر میں سب سے بہتر پاؤ گے جو جاہلیت میں اس سے سب سے زیادہ متنفر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ خِيَارِ النَّاسِ؛جلد٤ص١۹۵۸؛حدیث نمبر؛٦۳۳۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں بہترین وہ ہیں ایک راوی نے کہا قریش کی صالح عورتیں اور دوسرے راوی نے(صرف)قریش کی وہ عورتیں ہیں جو یتیم بچے پر اس کے بچپن میں زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹۵۸؛حدیث نمبر؛٦۳۳٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی البتہ اس میں یہ ہے کہ جو اپنی اولاد کی ان کی کم سنی میں زیادہ حفاظت کرتی ہیں اس میں یتیم کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹۵۹؛حدیث نمبر؛٦۳۳۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہتر ہیں وہ بچوں پر زیادہ شفیق ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹۵۹؛حدیث نمبر؛٦۳۳۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ!میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میرے بچے ہیں تو اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین عورتیں جو سوار ہوتی ہیں....اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ جو اپنے بچوں پر ان کی کم سنی میں زیادہ شفیق ہوتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹۵۹؛حدیث نمبر؛٦۳۳۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورتیں اونٹوں پر سفر کرتی ہیں ان میں بہترین قریش کی نیک عورتیں ہیں جو اپنی اولاد پر کم سنی میں زیادہ شفیق ہوتی ہیں اور خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹۵۹؛حدیث نمبر؛٦۳٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٣٤٠ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ نِسَاءِ قُرَيْشٍ؛جلد٤ص١۹٦٠؛حدیث نمبر؛٦۳٤۱)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہم کو آپس میں بھائی بنایا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کو آپس میں بھائی بنانا؛جلد٤ص١۹٦٠؛حدیث نمبر؛٦۳٤۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں حلف(حلیف بننا)نہیں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے مکان میں قریش اور انصار کو(ایک دوسرے کا)حلیف بنایا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٠؛حدیث نمبر؛٦۳٤۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں اپنے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٠؛حدیث نمبر؛٦۳٤٤)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں حلف نہیں جس شخص نے جاہلیت میں کوئی حلف کیا تھا اسلام میں وہ اور مضبوط ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۱؛حدیث نمبر؛٦۳٤۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم نے مغرب کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر ہم نے(دل میں)کہا کہ اگر ہم بیٹھ جائیں اور عشاء کی نماز بھی آپ کے ساتھ پڑھیں(تو بہتر ہوگا)ہم بیٹھے رہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا تم اس وقت سے یہاں بیٹھے ہو؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم نے مغرب کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی پھر ہم نے کہا ہم بیٹھ جاتے ہیں حتی کہ عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھیں۔ آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے اپنا سر انور آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ آسمان کی طرف اکثر سر اٹھاتے تھے آپ نے فرمایا ستارے آسمان کے لئے امن کا باعث ہیں جب ستارے چلیں جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آے گی جس سے ڈرایا گیا۔اور میں صحابہ کرام کے لیے امان ہوں جب میں پردہ کر جاؤں گا تو میرے صحابہ کرام پر وہ فتنے آئیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا اور میرے اصحاب میری امت کے لئے امان ہیں اور جب وہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ(فتنے)آئیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لِأَصْحَابِهِ، وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلْأُمَّةِ؛جلد٤ص١۹٦۱؛حدیث نمبر؛٦۳٤٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آے گا کہ لوگوں کی چند جماعتیں جہاد کے لیے جائیں گی۔تو ان سے پوچھا جاے گا کیا تم میں کوئی ایک شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو؟وہ کہیں گے ہاں پس اس کو فتح حاصل ہوں گی پھر لوگوں کی کچھ جماعتیں جہاد کے لیے جائیں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو دیکھا ہو؟وہ کہیں گے ہاں:پس ان کو فتح دی جائے گی پھر لوگوں میں سے کچھ جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کیا تم سے کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی زیارت کرنے والے کی زیارت کی ہو؟تو وہ کہیں گے ہاں تو ان کو فتح دی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم؛صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین کے فضائل؛جلد٤ص١۹٦۲؛حدیث نمبر؛٦۳٤۷)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آے گا وہ ایک جنگ کے لئے لشکر روانہ کریں گے تو کہیں گے دیکھو کیا تم اپنے اندر کسی صحابی رسول کو پاتے ہو؟پس کوئی شخص مل جاے گا تو اس کے وسیلے سے ان کی فتح حاصل ہوجائے گی۔ پھر ایک دوسرا لشکر روانہ ہو جاے گا تو پوچھا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو دیکھا ہو پس ان کے لئے اس(تابعی)کی برکت سے فتح ہوگی پھر تیسرا لشکر روانہ کیا جائے گا تو کہا جائے گا کہ کیا تم ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی صحابی کو دیکھنے والے کو دیکھا ہے؟پھر چوتھا لشکر روانہ ہوگا تو کہا جاے گا کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے اس کو دیکھا ہے جس نے کسی صحابی کو دیکھنے والے کو دیکھا ہو پس اس کے ذریعے ان کو فتح دی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۱؛حدیث نمبر؛٦۳٤۸)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو اس قرن(زمانے)میں ہیں جو میرے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک کی شہادت اس کی قسم پر اور اس کی قسم اس کی شہادت پر سبقت لے جاے گی۔ ہناد کی حدیث میں اس جگہ قرن کا ذکر نہیں اور قتیبہ نے قوم کی بجائے اقوام کا لفظ نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۱؛حدیث نمبر؛٦۳٤۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا لوگوں میں سے کون بہتر ہے آپ نے فرمایا میرا قرن(میرے زمانے کے لوگ)اور پھر وہ جو ان سے ملے ہوئے ہیں پھر وہ جو ان سے ملے ہوئے ہیں پھر ایک ایسی قوم آے گی کہ ان میں سے ایک کی گواہی اس کے قسم سے اور اس کی قسم اس کی گواہی سے سبقت کرے گی۔ حضرت ابراہیم(راوی)کہتے ہیں جب ہم نو عمر تھے تو لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۳؛حدیث نمبر؛٦۳۵۰)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ان حدیثوں میں یہ نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۳؛حدیث نمبر؛٦۳۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین لوگ میرا قرن ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں مجھے یاد نہیں تیسری اور چوتھی بار فرمایا کہ ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی شہادت قسم سے پہلے ہوگی اور کسی ایک کی قسم،شہادت سے پہلے ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۳؛حدیث نمبر؛٦۳۵۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں جس میں،میں مبعوث ہوا پھر وہ جو ان کے قریب ہیں اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ تیسری بار ذکر فرمایا یا نہیں(پھر)فرمایا ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونے کو پسند کریں گے وہ شہادت کے مطالبے سے پہلے شہادت دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۳؛حدیث نمبر؛٦۳۵۳)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٤؛حدیث نمبر؛٦۳۵٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں پھر جو ان کے قریب ہیں۔ حضرت عمران فرماتے ہیں حضور صلی اللہ وسلم نے دو یا تین بار کے بعد فرمایا اس کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو طلب شہادت کے بغیر شہادت دیں گے اور خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے۔ وہ نذر مانگے اور اس کو پورا نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٤؛حدیث نمبر؛٦۳۵۵)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں ایک روایت میں ہے مجھے یاد نہیں ایک قرن یا دو قرنوں یا تین قرنوں کے بعد فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ نذر مانیں گے اور اس کو پورا نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٤؛حدیث نمبر؛٦۳۵٦)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے دو سندیں مزید بیان کی ہیں۔حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اس امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں جس میں،میں مبعوث ہوا پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ابو عوانہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے۔اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ نے تیسری بار کا ذکر کیا یا نہیں اور قتادہ کی روایت میں ہے وہ حلف طلب کیے جانے کے بغیر حلف اٹھائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۵؛حدیث نمبر؛٦۳۵۷)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون لوگ سب سے بہتر ہیں آپ نے فرمایا جس زمانے میں میں ہوں پھر دوسرے(زمانے)اور پھر تیسرے (زمانے)کے لوگ۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۵؛حدیث نمبر؛٦۳۵٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات اپنی زندگی کے آخری دنوں میں عشاء کی نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا تم نے اپنی اس رات میں غور کیا۔ جو لوگ اس وقت روئے زمین پر ہیں ایک سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا ٹھیک مطلب نہیں سمجھے وہ ان احادیث میں ایک سو سال کی باتیں کرتے تھے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ اس وقت زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ یہ زمانہ ختم ہو جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ، وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ»؛جلد٤ص١۹٦۵؛حدیث نمبر؛٦۳۵۹)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٦؛حدیث نمبر؛٦۳٦٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے اپنے وصال سے ایک مہینہ پہلے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو اس کا علم اللہ کے پاس ہے(اس کے بتائے بغیر کوئی نہیں جانتا)اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس وقت زمین پر ایسا کوئی ذی روح نہیں جس پر سو سال گزر جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٦؛حدیث نمبر؛٦۳٦۱)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٦؛حدیث نمبر؛٦۳٦۲)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے تقریبا ایک ماہ پہلے فرمایا آج ایسا کوئی ذی روح نہیں ہے جو سو سال گزرنے کے بعد بھی اس وقت زندہ رہے۔حضرت عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل روایت کیا اور حضرت عبدالرحمن نے اس کی تفسیر یوں کی ہے کہ لوگوں کی عمریں کم ہو جائیں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦٦؛حدیث نمبر؛٦۳٦۳)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۷؛حدیث نمبر؛٦۳٦٤)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو لوگوں نے آپ سے قیامت کے متعلق سوال کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذی روح آج زمین پر زندہ ہے اس پر سو سال نہیں گزریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۷؛حدیث نمبر؛٦۳٦۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ذی روح سو سال تک نہیں پہنچے گا۔ حضرت سالم فرماتے ہیں ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس حدیث کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ انسان ہے جو اس وقت پیدا ہو چکے تھے (امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث سے بعض لوگوں نے استدلال کیا کہ حضرت خضر علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں جب کہ جمہور کے نزدیک زندہ ہے اور اس حدیث کی تاویل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین پر جب کہ وہ سمندر پر تھے یا مخصوص البعض ہے) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۷؛حدیث نمبر؛٦۳٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کرام کو برا مت کہو میرے صحابہ کرام کو برا مت کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کرے تو وہ صحابہ کرام کے(خیرات کیے ہوئے)ایک مد(ایک کلوگرام)بلکہ اس کے نصف کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۷؛حدیث نمبر؛٦۳٦۷)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے درمیان کوئی مناقشہ تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو برا بھلا کہا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا نہ کہو اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا(راہ خدا میں)خرچ کرے تو ان کے(خرچ کیے گئے)ایک مد(ایک کلو گرام)بلکہ اس کے نصف کو بھی نہیں پہنچتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۷؛حدیث نمبر؛٦۳٦۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین اور سندیں ذکر کی ہے شعبہ اور وکیع کی روایت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے۔ (حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت اور آپ کی صحبت کی برکت کے باعث صحابہ کرام کو جو مقام حاصل ہوا وہ کسی بھی شخص کو چاہے وہ کتنا بڑا عابد و زاہد ہو حاصل نہیں ہو سکتا نیز تمام صحابہ کرام قابل احترام و تعظیم ہے ان میں تفریق کرناخبث باطنی کی علامت ہے ہاں فضائل میں تفریق خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مبارکہ سے واضح ہے۔۱۲ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ؛جلد٤ص١۹٦۸؛حدیث نمبر؛٦۳٦۹)
حضرت اُسیر بن جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ کا ایک وفد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ان میں ایک ایسا آدمی تھا جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے مذاق کرتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھاکیا یہاں کوئی قرن کا رہنے والا ہے تو وہ شخص پیش خدمت ہوا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایارسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا جس کو اویس کہا جاتا ہے یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہ ہوگا اسے برص کی بیماری تھی تو اس نے اللہ تعالی سے دعا کی پس اللہ تعالی نے اس کی بیماری کو دور کر دیا البتہ ایک درہم یا دینار کی جگہ(پر وہ بیماری)باقی ہے پس تم میں سے جو شخص ان سے ملاقات کرے تو اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کر والے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٦۸؛حدیث نمبر؛٦۳۷۰)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے تابعین میں سے بہترین ایک شخص ہے جس کو اویس کہا جاتا ہے اور اس کی صرف ایک والدہ ہے اسے برص کی بیماری تھی اسے کہو کہ وہ تمہارے لیے بخشش کی دعا مانگے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٦۸؛حدیث نمبر؛٦۳۷۱)
حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن سے کوئی جماعت آتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ کیا تم میں کوئی اویس بن عامر ہے یہاں تک کہ ایک جماعت میں حضرت اویس آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟انہوں نے کہا جی ہاں!حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ قبیلہ مراد سے اور قرن سے ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو کہ ایک درہم کی جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی؟انہوں نے فرمایا جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کی والدہ ہیں انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس حضرت اویس بن عامر یمن کی ایک جماعت کے ساتھ آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی جو ایک درہم کی تعداد کے علاوہ باقی ٹھیک ہوچکی ہوگی ان کی صرف والدہ ہوگی اور وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا۔تو آپ میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیں۔حضرت اویس قرنی رحمت اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کردی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟حضرت اویس علیہ الرحمہ فرمانے لگے کوفہ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں وہاں کے حکام کو لکھ دوں۔حضرت اویس علیہ الرحمہ فرمانے لگے کہ مجھے مسکین لوگوں میں رہنا زیادہ پسند ہے۔ پھر جب آئندہ سال آیا تو کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لئے آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے حضرت اویس علیہ الرحمہ کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں حضرت اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کا گھر ٹوٹا پھوٹا اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس یمن کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت اویس بن عامر آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی ایک درہم کے علاوہ باقی سب ٹھیک ہوگئی ہوگی۔ان کی والدہ ہوں گی وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے اگر آپ سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا تو اس آدمی نے اسی طرح کیا کہ حضرت اویس علیہ الرحمہ کی خدمت میں آیا اور ان سے کہا:میرے لئے دعائے مغفرت کردیں۔حضرت اویس علیہ الرحمہ نے فرمایا تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو تم میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔اس آدمی نے کہا کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں۔حضرت اویس علیہ الرحمہ پھر فرمانے لگے کہ تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو،تم میرے لئے دعائے مغفرت کرو۔ حضرت اویس علیہ الرحمہ نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیا تم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملے تھے؟اس آدمی نے کہا ہاں۔تو پھر حضرت اویس علیہ الرحمہ نے اس آدمی کے لئے دعائے مغفرت فرما دی۔ پھر لوگ حضرت اویس قرنی علیہ الرحمہ کا مقام سمجھے اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ راوی اسیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اویس کو ایک چادر اوڑھا دی تھی تو جب بھی کوئی آدمی حضرت اویس کو دیکھتا تو کہتا کہ حضرت اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛جلد٤ص١۹٦۹؛حدیث نمبر؛٦۳۷۲)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم ایک علاقے کو فتح کروگے جس میں قیراط کا ذکر ہوتا ہے تم اس جگہ کے رہنے والو سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ تم پر ان کا حق اور رشتہ ہے۔ جب تم دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے لڑتا دیکھو تو وہاں سے چلے جانا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ شرحبیل کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبد الرحمن کے پاس سے گزرے اور وہ ایک اینٹ کی جگہ کے لئے لڑ رہے تھے وہ وہاں سے چلے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِ مِصْرَ؛جلد٤ص١۹۷۰؛حدیث نمبر؛٦۳۷۳)
حضرت ابوذر فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تم مصر کو فتح کروگے اور یہ وہ سرزمین ہے جہاں قیراط کا لفظ بولا جاتا ہے جب تم اسے فتح کرو تو وہاں کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنا بےشک ان کے لئے حق اور رشتہ داری ہے اور فرمایا ان کا حق اور سسرالی رشتہ ہے اور جب دیکھو کہ وہاں دو آدمی اینٹ کی جگہ پر لڑتے ہیں تو وہاں سے نکل آنا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر میں نے عبد الرحمن بن شرحبیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے لڑتے دیکھا تو وہاں سے نکل آیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِ مِصْرَ؛جلد٤ص١۹۷۰؛حدیث نمبر؛٦۳۷٤)
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے کسی قبیلہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے اسے گالیاں دی اور مارا پیٹا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا تو آپ نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمہیں گالی دیتے نہ مارتے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ أَهْلِ عُمَانَ؛جلد٤ص١۹۷۱؛حدیث نمبر؛٦۳۷۵)
حضرت ابو نوفل سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی ایک گھاٹی پر(سولی لٹکتے ہوئے)دیکھا۔ حضرت ابو نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش اور دوسرے لوگ بھی اس طرف سے گزرتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس طرف سے گزرے تو وہاں پر کھڑے ہو کر فرمایا اے ابوخبیب!تجھ پر سلامتی ہو۔اے ابو خبیب!تجھ پر سلامتی ہو۔اے ابو خبیب!تجھ پر سلامتی ہو۔ اللہ کی قسم!میں آپ کو اس اقدام سے (خلافت کے اصول)پہلے ہی روکتا تھا۔اللہ کی قسم!میں آپ کو اس سے پہلے ہی روکتا تھا۔ اللہ کی قسم!میں آپ کی طرح روزہ دار شب زندہ دار اور صلہ رحم کسی کو نہیں جانتا۔اللہ کی قسم!(دشمن کی نظر میں)آپ کا جو گروہ برا تھا وہ بہت اچھا گروہ تھا۔پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ چلے آئے۔حجاج کو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے یہاں کھڑے ہونے اور کلام کرنے کی اطلاع پہنچی تو حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی نعش اس گھاٹی سے اتروا کر یہود کے قبرستان میں پھنکوا دی۔ پھر اس نے حضرت عبداللہ کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی طرف آدمی بھیج کر ان کو بلوایا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے آنے سے انکار کردیا۔حجاج نے دوبارہ بلوانے بھیجا اور کہنے لگا کہ میرے پاس آؤ ورنہ میں تیری طرف ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا کہ جو تیرے بالوں کو کھینچتا ہوا تجھے میرے پاس لے آئے گا۔حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے پھر انکار کردیا اور فرمانے لگیں اللہ کی قسم میں تیرے پاس نہیں آؤں گی یہاں تک کہ تو میری طرف ایسے آدمی کو بھیجے کہ وہ میرے بالوں کو کھینچتا ہوا لائے۔راوی کہتے ہیں کہ بالآخر حجاج کہنے لگا کہ میری جوتیاں لاؤ وہ جوتیاں پہن کر اکڑتا ہوا حضرت اسماء کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا تو نے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا ہے؟حضرت اسماء نے فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ تو نے اس کی دنیا خراب کردی ہے اور اس نے تیری آخرت خراب کردی ہے۔(حضرت اسماء رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں)مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے عبداللہ کو(طنزیہ انداز میں) دو کمر بندوں والی کا بیٹا کہاہے؟اللہ کی قسم!میں دو کمر بندوں والی ہوں۔ایک کمر بند سے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کھانا(ہجرت کے موقع پر) باندھا تھا اور دوسرا کمر بند وہی تھا کہ جس کی عورت کو ضرورت ہوتی ہے اور(اے حجاج)سن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک حدیث بیان فرمائی تھی(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہوگا کہ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا(یعنی مختار بن ابی عبید ثقفی)اور ظالم میں تیرے علاوہ کسی کو نہیں سمجھتی۔راوی کہتے ہیں کہ حجاج(یہ سن کر)اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ ذِكْرِ كَذَّابِ ثَقِيفٍ وَمُبِيرِهَا؛جلد٤ص١۹۷۱؛حدیث نمبر؛٦۳۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دین ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو فارس کا ایک شخص اسے(وہاں سے)لے آتا یا فرمایا فارس کے باشندوں میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ فَارِسَ؛جلد٤ص١۹۷٢؛حدیث نمبر؛٦۳۷۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سورہ جمعہ نازل ہوئی تو ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب آپ نے پڑھا {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} [الجمعة: ٣] (ترجمہ)"اور کچھ لوگ ہیں جو ان ہی میں سے ہیں اور ابھی تک ان سے واصل نہیں ہوے۔" ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا حتیٰ کہ اس نے ایک یا دو یا تین بار سوال کیا فرماتے ہیں ہمارے درمیان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر رکھا پھر فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے تک چلا جاتا تو ان کے علاقے کے کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عنہم؛بَابُ فَضْلِ فَارِسَ؛جلد٤ص١۹۷٢؛حدیث نمبر؛٦۳۷۸)
Muslim Sharif Kitabul Fazailis Shahabate Hadees No# 6379
Muslim Shareef : Kitabo Fazailis Sahabate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ
|
•