asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe

From 6380 to 6602

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہارا باپ۔قتیبہ کی(اس)حدیث میں صرف یہ ہے کہ میرے حسن سلوک کا کون زیادہ حقدار ہے"لوگوں میں سے کون"کے الفاظ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ؟ قَالَ : " أُمُّكَ ". قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أُمُّكَ ". قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أُمُّكَ ". قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ : مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ؟ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6380

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگوں میں کون میرے حسن اخلاق کا زیادہ حق دار ہے؟فرمایا:تمہاری ماں،پھر تمہاری ماں،پھر تمہاری ماں،پھر تمہارا باپ،پھر جو زیادہ قریب ہو،پھر جو زیادہ قریب ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۱)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أَبُوكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6381

حضرت ابوزرعہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت روایت نمبر٦٣٨٠ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں یہ اضافہ ہے جو کہ آپ نے فرمایا ہاں تمہارے باپ کی قسم عنقریب تمہیں خبر دی جائے گی۔ (نوٹ)باپ کی قسم اس وقت کھائی جب اس طرح قسم کھانا جائز تھا اب منع ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، وَابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَزَادَ : فَقَالَ : " نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6382

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں وہیب کی روایت میں"ابر"کا لفظ ہے اور محمد بن طلحہ کی روایت میں حسن صحبت کا ذکر ہے(دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۳)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : مَنْ أَبَرُّ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ : أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6383

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد کی اجازت طلب کرنے لگا آپ نے پوچھا تمہارے والدین زندہ ہیں؟اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا ان کے حق میں جہاد کرو(یعنی ان کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6384

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا....اس کے بعد حسب سابق ہے امام مسلم فرماتے ہیں ابو العباس(راوی)کا نام سائب بن فروخ مکی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸۵)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ. قَالَ مُسْلِمٌ : أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَكِّيُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6385

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6386

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ کے دست اقدس پر ہجرت اور جہاد کے لئے بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کا طالب ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟اس نے کہا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہو اس نے کہا جی ہاں فرمایا واپس اپنے والدین کے پاس جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸۷)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ ؛ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ. قَالَ : " فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا. قَالَ : " فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6387

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جریج راہب اپنے عبادت خانے میں عبادت کر رہے تھے کہ ان کی ماں آگئی حمید کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس طرح صفت بیان کی جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صفت بیان کی تھی جس وقت ان کی ماں نے ان کو بلایا تو انہوں نے اپنی ہتھیلی اپنی پلکوں پر رکھی ہوئی تھی پھر اپنا سر جریج کی طرف اٹھا کرجریج کو آواز دی اور کہنے لگیں اے جریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر جریج اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جریج نے کہا اے اللہ ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز ہے پھر جریج نے نماز کو اختیار کیا۔ پھر ان کی ماں نے کہا اے اللہ!یہ جریج میرا بیٹا ہے میں اس سے بات کرتی ہوں تو یہ میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیتا ہے اے اللہ!جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر جریج کی ماں اس پر یہ دعا کرتی کہ وہ فتنہ میں پڑجائے تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھیڑوں کا ایک چرواہا تھا جو جریج کے عبادت خانہ میں ٹھہرتا تھا(ایک دن) گاؤں سے ایک عورت نکلی تو اس چرواہے نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا تو وہ عورت حاملہ ہوگئی(جس کے نتیجہ میں) اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس عورت سے پوچھا گیا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ہے اس عورت نے کہا اس عبادت خانہ میں جو رہتا ہے یہ اس کا لڑکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(یہ سنتے ہی اس گاؤں کے لوگ)کلہاڑی اور پھاؤڑے لے کر آئے اور انہیں(جریج کو)آواز دی وہ نماز میں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے اس کا عبادت خانہ گرانا شروع کردیا جب جریج نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ اترا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس عورت سے پوچھ یہ کیا کہتی ہے جریج ہنسا اور پھر اس نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے کہا تیرا باپ کون ہے؟اس بچے نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چراوہا ہے جب لوگوں نے اس بچے کی آواز سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے آپ کا جتنا عبادت خانہ گرایا ہے ہم اس کے بدلے میں سونے اور چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے پہلے کی طرح مٹی ہی کا بنادو اور پھرجریج اوپر چلے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلَاةِ وَغَيْرِهَاِ؛جلد٤ص١۹۷٦؛حدیث نمبر؛٦۳۸٨)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ، قَالَ حُمَيْدٌ : فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ، كَيْفَ جَعَلَتْ كَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ، أَنَا أُمُّكَ، كَلِّمْنِي. فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي. فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَرَجَعَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ، أَنَا أُمُّكَ، فَكَلِّمْنِي. قَالَ : اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي. فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ، وَهُوَ ابْنِي، وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ . قَالَ : وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ. قَالَ : وَكَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ، قَالَ : فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَرْيَةِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي، فَحَمَلَتْ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقِيلَ لَهَا : مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ. قَالَ : فَجَاءُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَنَادَوْهُ، فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ، قَالَ : فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا لَهُ : سَلْ هَذِهِ ؟ قَالَ : فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ، فَقَالَ : مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ. فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْهُ قَالُوا : نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ. قَالَ : لَا، وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ. ثُمَّ عَلَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6388

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پنگھوڑے میں سوائے تین بچوں کے اور کسی نے کلام نہیں کیا حضرت عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج اور جریج ایک عبادت گزار آدمی تھا اس نے ایک عبادت خانہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ نماز پڑھتا تھا جریج کی ماں آئی اور وہ نماز میں تھا اس کی ماں نے کہا اے جریج!(جریج نے اپنے دل میں)کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے پھر وہ نماز کی طرف متوجہ رہا اور اس کی ماں واپس چلی گئی پھر اگلے دن آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا تو وہ کہنے لگی اے جریج!(جریج نے اپنے دل میں)کہا اے میرے پروردگار!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میں نماز میں ہوں پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا۔ پھر اس کی ماں نے کہا اے اللہ جب تک جریج فاحشہ عورتوں کا چہرہ نہ دیکھ لے اس وقت تک اسے موت نہ دینا بنی اسرائیل(کے لوگ)جریج اور اس کی عبادت کا بڑا تذکرہ کرتے تھے بنی اسرائیل کی ایک عورت بڑی خوبصورت تھی جس کے حسن کی مثال دی جاتی تھی۔ وہ کہنے لگی کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اسے تمہارے لئے کسی فتنے میں مبتلا کر دوں وہ عورت جریج کی طرف گئی لیکن جریج نے اس عورت کی طرف توجہ نہ کی ایک چرواہا جریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا اس عورت نے اس چرواہے کو اپنی طرف بلایا۔اس چرواہے نے اس عورت سے اپنی خواہش پوری کی جس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی تو جب اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی تو اس نے کہا یہ جریج کا لڑکا ہے(یہ سن کر)لوگ آئے اور انہوں نے جریج کو اس کے عبادت خانہ سے نکالا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور لوگوں نے جریج کو مارنا شروع کردیا جریج نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے؟لوگوں نے جریج سے کہا تو نے اس عورت سے بدکاری کی ہے اور تجھ سے لڑکا پیدا ہوا ہے جریج نے کہا وہ بچہ کہاں ہے تو لوگ اس بچے کو لے کر آئے جریج نے کہا مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں جریج نے نماز پڑھی پھر وہ نماز سے فارغ ہو کر اس بچے کے پاس آیا اور اس بچے کے پیٹ میں انگلی چبھوکر کہا اے لڑکے!تیرا باپ کون ہے؟اس لڑکے نے کہا فلاں چرواہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگ جریج کی طرف متوجہ ہوئے اس کو بوسہ دینے لگے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے اسی طرح مٹی کا بنادو پھر لوگوں نے اسی طرح بنادیا اور تیسرا وہ بچہ کہ جس نے پن گھوڑے میں بات کی اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا تو ایک آدمی ایک عمدہ سواری پر بہترین لباس پہنے ہوئے وہاں سے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے پھر وہ بچہ دودھ چھوڑ کر اس سوار کی طرف مڑا اور اسے دیکھتا رہا پھر وہ بچہ کہنے لگا اے اللہ!مجھے اس جیسا نہ بنانا پھر وہ بچہ دودھ کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکایت بیان کر رہے ہیں اس کے دودھ پینے کو اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو چوسنا شروع کردیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ ایک لونڈی کے پاس سے گزرے جسے لوگ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے اور وہ کہتی ہے حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے اور بہتر کار ساز ہے۔ تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس عورت کی طرح نہ بنانا تو اس بچے نے دودھ پینا چھوڑ کر اس باندی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ!مجھے اس جیسا بنا دے پس اس موقع پر ماں اور بیٹے کے درمیان ایک مکالمہ ہوا ماں نے کہا اے سر منڈے!ایک خوبصورت شکل والا آدمی گزرا تو میں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے تو نے کہا اے اللہ!مجھے اس جیسا نہ بنا اور لوگ اس باندی کے پاس سے گزرے تو لوگ اسے مارتے ہوئے کہہ رہے تھے تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو نے کہا اے اللہ!مجھے اس عورت جیسا بنا دے بچے نے کہا بیشک وہ آدمی ظالم تھا تو میں نے کہا اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنا اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا اور تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی میں نے کہا اے اللہ!مجھے اس جیسا بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١۹۷٦سے۱۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳۸۹)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً، فَكَانَ فِيهَا، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ. فَقَالَ : يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي. فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَانْصَرَفَتْ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ. فَقَالَ : يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي. فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَانْصَرَفَتْ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ. فَقَالَ : أَيْ رَبِّ، أُمِّي وَصَلَاتِي. فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ . فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا، فَقَالَتْ : إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ. قَالَ : فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ. فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ، وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ مِنْكَ. فَقَالَ : أَيْنَ الصَّبِيُّ ؟ فَجَاءُوا بِهِ، فَقَالَ : دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ. فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ، فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ : يَا غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : فُلَانٌ الرَّاعِي. قَالَ : فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، وَقَالُوا : نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ : لَا، أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ. فَفَعَلُوا، وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ، فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا. فَتَرَكَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ، فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ "، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ، فَجَعَلَ يَمُصُّهَا، قَالَ : " وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا، وَيَقُولُونَ : زَنَيْتِ، سَرَقْتِ. وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. فَقَالَتْ أُمُّهُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا. فَتَرَكَ الرَّضَاعَ، وَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا. فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ : حَلْقَى ، مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ؟ وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ، وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ : زَنَيْتِ، سَرَقْتِ. فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ؟ قَالَ : إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا : زَنَيْتِ، وَلَمْ تَزْنِ، وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6389

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔پھر اس کی ناک خاک آلود ہو پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)وہ کون شخص ہے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور(ان کی خدمت کر کے)جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩٠)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ". قِيلَ : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6390

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔پھر اس کی ناک خاک آلود ہو کہا گیا یا رسول اللہ!کس کی ناک خاک آلود ہو؟فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَغِمَ أَنْفُهُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ". قِيلَ : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6391

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَغِمَ أَنْفُهُ ". ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6392

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی ان سے مکہ مکرمہ کے راستے میں ملا حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا اور دراز گوش پر بٹھا دیا جس پر آپ خود سوار تھے اور اسے وہ عمامہ شریف دے دیا جو آپ کے سر انور پر تھا۔ ابنِ دینار فرماتے ہیں ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یہ تو دیہاتی لوگ ہیں معمولی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا باپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے دوستوں سے نیکی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٣)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ، وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ : فَقُلْنَا لَهُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ، إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ، وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6393

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے دوستوں سے نیکی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٤)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6394

حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ کی طرف جاتے تو سہولت کے لیے اپنے دراز گوش کو ساتھ لے جاتے جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو اس پر سوار ہوجاتے اور آپ اپنےسر پر عمامہ باندھتے تھے ایک دن آپ اپنے درازگوش پر سوار تھے کہ وہاں سے ایک دیہاتی گزرا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم فلاں کے بیٹے فلاں نہیں ہوں؟اس نے کہا جی ہاں میں وہی ہوں آپ نے اسے درازگوش دے دیا اور فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ شریف دے دیا اور فرمایا اسے سر پر لپیٹ لو۔آپ کے ساتھیوں نے عرض کیا اللہ تعالی آپ کی بخشش فرمائے اس اعرابی کو آپ نے دراز گوش دے دیا جس سے آپ آرام وسہولت حاصل کرتے تھے اور عمامہ دے دیا جسے آپ اپنے سر انور پر باندھتے تھے۔ حضرت ‌عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے وصال کے بعد اس کے دوستوں سے نیکی کرے اور اس شخص کا باپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٥)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ، وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ، إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ : أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ؟ قَالَ : بَلَى. فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ، وَقَالَ : ارْكَبْ هَذَا. وَالْعِمَامَةَ قَالَ : اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ. فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ، وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ، وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6395

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اچھے اخلاق نیکی ہے اورگناہ وہ چیز ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؛ترجمہ؛نیکی اور گناہ کی تفسیر؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ : " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6396

حضرت نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک مدینہ طیبہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا اور مجھے آپ سے سوالات کرنے کے سوا کوئی چیز ہجرت سے رکاوٹ نہ تھی ان میں سے جو شخص بھی ہجرت کر لیتا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا۔ حضرت نواس فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور برائی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٧)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ : أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً، مَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْهِجْرَةِ إِلَّا الْمَسْأَلَةُ، كَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6397

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا جب ان سے فراغت ہوئی تو رحم نے کھڑے ہو کر کہا یہ قطع رحمی سے پناہ مانگنے والے کا سوال ہے۔اللہ تعالی نے فرمایاکیا تم اس سے راضی نہیں کہ جو تمہیں ملائے گا میں اس سے واصل ہوں گا اور جو تجھ سے قطع تعلق کرے گامیں اس سے قطع کروں گا،رحم نے کہا ہاں کیوں نہیں اللہ تعالی نے فرمایا یہ تمہارا حق ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو پڑھو، {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [محمد: ٢٣] "تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تم حکومت حاصل کر لو تو زمین میں فسادپھیلاؤ اور اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرو۔ان ہی لوگوں پر اللہ تعالی نے لعنت بھیجی ہے پس ان کو بہرہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ تو کیا وہ قرآن مجید میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُعَاوِيَةَ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ. قَالَ : نَعَمْ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَتْ : بَلَى. قَالَ : فَذَاكِ لَكِ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ } { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ }، { أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا } ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6398

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ جو مجھ سے تعلق جوڑے گا اللہ تعالی اس کو اپنے ساتھ ملائے گا اور جو مجھ سے قطع تعلق کرے گا اللہ تعالی اس سے تعلق منقطع کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦۳٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَقُولُ : مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6399

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سفیان کہتے ہیں اس سے قاطع رحم مراد ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠٠)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ". قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6400

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠١)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6401

اسی سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6402

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق کو کشادہ کیا جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے وہ صلہ رحمی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠٣)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ ؛ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6403

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر لمبی ہو تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٤)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ ؛ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6404

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!میرے(بعض)رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں لیکن وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں تو وہ میرے ساتھ برائی سے پیش آتے ہیں میں ان سے بردباری کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ مجھ سے جہالت کا سلوک کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بات اسی طرح ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو جب تک تم اس حالت پر ہوں گے اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے ساتھ مددگار رہے گا۔ (آپ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب تم سے حسن سلوک نہ ہو اور تم رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو تو تم فائدے میں ہو وہ نقصان میں ہیں لہٰذا یہ نہ دیکھا جائے کہ وہ حسن سلوک کریں گے تو میں بھی ایسا کروں گا یہ تو محض بدلہ ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ. فَقَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6405

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو۔ اور اللہ کے بندوں!بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے تین دن تک چھوڑے رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٦)

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6406

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٧)

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. ح وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6407

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اور اس میں"لا تقاطعوا"(قطع تعلق نہ کرو)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : " وَلَا تَقَاطَعُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6408

یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی زہری سے روایت ہے اور اس میں(مذکورہ بالا)چاروں خصلتوں کا ذکر ہے البتہ عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ حسد نہ کرو،ترک تعلق نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے روگردانی کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ عَنْهُ فَكَرِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَذْكُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : " وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6409

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد کرو نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی قطع تعلق کرو۔اور اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤١٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6410

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے "جیسا کہ تمہیں اللہ تعالی نے حکم دیا" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۱)

حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَزَادَ : كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6411

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے دونوں آپس میں ملے اور یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6412

امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں اور بیان کی ہیں سب میں یہ الفاظ ہیں"فیعرض ھذا ویعرض ھذا"( یعنی ایک دوسرے سے پھر جانا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ : " فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا "، فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ غَيْرَ مَالِكٍ : " فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6413

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے(مسلمان)بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ - عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6414

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے بعد ترک تعلق جائز نہیں۔(غصہ انسانی فطرت میں داخل ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے لہذا تین دن کے بعد یہ صورتحال نہ رہی تو اب ایک دوسرے سے روگردانی فطری نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل ہے اس لئے منع فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۵)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6415

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش نہ کرو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اے اللہ کے بندوں!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6416

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے ترک تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو کسی کا عیب تلاش نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَهَجَّرُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6417

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کی ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور تناجش نہ کرو(یعنی خریدنا مقصود نہ ہو تو دوسروں کو پھنسانے کے لیے بولی نہ لگاؤ)اور اللہ تعالی کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱۸)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6418

اسی سند سے روایت ہے کہ ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرواور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو۔اور بھائی بھائی بن جاؤ جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا۔ (جب کوئی شخص کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ کہے یا اللہ اس سے واپس لے کر مجھے دے دیں تو یہ حسد ہے جو جائز نہیں اور اگر یہ تمنا ہوکہ یا اللہ اسی طرح مجھے بھی دے دے اس کے پاس بھی رہے تو یہ رشک ہے جو جائز ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۱۹)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : " لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6419

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور حرص نہ کرو اور اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۰)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6420

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اے اللہ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔(تناجش کا معنی یہ ہے کہ سودا خریدنا مقصود نہ ہو اور بولی لگانا)مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر جانتا ہے آپ نے اپنا سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقوی یہاں ہے تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کسی شخص کے براہونے کے لئے اس قدر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۱)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ؛ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا - وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ ؛ دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6421

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۲)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ، وَزَادَ وَنَقَصَ، وَمِمَّا زَادَ فِيهِ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ". وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6422

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف دلوں کو مزین کرتے تھے لباس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے جب کہ آج کے دور میں لباس پر توجہ زیادہ ہے اور دل کی طرف کوئی توجہ نہیں اور نہ اعمال صالحہ کی فکر ہے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲٣)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6423

Muslim Sharif Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe Hadees No# 6424

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6424

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک روایت میں"متھاجرین"اور دوسری میں"متھجرین" کا لفظ ہے۔(ایک دوسرے کو چھوڑنے والے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲۵)

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، نَحْوَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ : " إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ "، مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : " إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6425

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)کہ ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس دن ہر اس شخص کی بخشش فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراے سواے اس شخص کے جو اپنے بھائی سے کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے ان کو مہلت دو حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں ان کو مہلت دو حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ مَرَّةً - قَالَ : " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6426

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو بار(یعنی)سوموار اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس ہر مؤمن بندے کی بخشش ہوتی ہے مگر دو بندے جن کے درمیان کینہ ہو پس کہا جاتا ہے ان کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ رجوع کرلیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲۷)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ ؛ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا - أَوِ ارْكُوا - هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6427

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرماے گا میرے جلال کی وجہ سے(باہم)محبت کرنے والے کہاں ہیں آج میں ان کو سایہ عطاء کروں گا آج میرے ساے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۸؛حدیث نمبر؛٦٤۲۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6428

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسری بستی میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں فرشتے کو اس کے انتظار میں بٹھا دیا جب وہ شخص وہاں آیا تو اس(فرشتے)نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟اس نے کہا اس بستی میں میرا بھائی ہے۔اس سے ملنے کا ارادہ ہے اس نے پوچھا کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کی تکمیل مقصود ہے؟اس نے کہا نہیں اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ میں اس سے اللہ عزوجل کے لیے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے لئے اس شخص سے محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۸؛حدیث نمبر؛٦٤۲۹)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ. قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لَا، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6429

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۰)

قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَهِ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6430

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۱)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6431

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6432

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6433

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہے گا پوچھا گیا خرفہ جنت کیا ہے؟فرمایا"جنت کا باغ" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ - وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ - عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ ". قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " جَنَاهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6434

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۵)

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6435

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرماے گا اے ابن آدم!میں بیمار ہوا تو تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی وہ عرض کرے گا اے میرے رب!میں تیری بیمار پرسی کیسے کرتا حالانکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا پس تو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی تجھے معلوم نہیں اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے(میری رحمت کو)اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم!میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے میرے رب!میں تجھے کس طرح کھانا کھلاتا جب کہ تو تمام جہانوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو تو اس(کھانے)کو میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم!میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہیں پلایا وہ کہے گا اے میرے رب!میں تجھے کس طرح پلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا تجھ سے میرے بندے نے پانی مانگا تو تو نے اسے نہیں پلایا اگر تو اسے پلاتا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي. قَالَ : يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي. قَالَ : يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي. قَالَ : يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6436

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی دوسرے شخص میں سخت درد نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۷)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَكَانَ الْوَجَعِ : وَجَعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6437

امام مسلم نے اس حدیث کی پانچ سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۸)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ، مِثْلَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6438

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کو سخت بخار تھا میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو سخت بخار ہے آپ نے فرمایا ہاں!مجھے تم میں سے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا بےشک آپ کے لیے دوگنا اجر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔پھر آپ نے فرمایا جس مسلمان کو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں کہ میں نے آپ کو ہاتھ لگایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤۳۹)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ". قَالَ : فَقُلْتُ : ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6439

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ہاں!اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روے زمین پر جو بھی مسلمان.....اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح مکمل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ : قَالَ : " نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6440

حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ قریش کے کچھ نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ ہنس رہے تھے۔ام المومنین نے پوچھا اچھا تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو۔انہوں نے کہا کہ فلاں شخص خیمے کی رسی پر گرپڑا قریب تھا کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی یا آنکھ ضائع ہو جاتی ام المومنین نے فرمایا مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اس سے بھی اوپر کوئی تکلیف ہو اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤۱)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى عَائِشَةَ ، وَهِيَ بِمِنًى وَهُمْ يَضْحَكُونَ، فَقَالَتْ : مَا يُضْحِكُكُمْ ؟ قَالُوا : فُلَانٌ خَرَّ عَلَى طُنُبِ فُسْطَاطٍ ، فَكَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ. فَقَالَتْ : لَا تَضْحَكُوا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6441

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھے یا اس سے بھی اوپر ہو اللہ تعالی اس کے ذریعے اس شخص کا درجہ بلند کرتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤۲)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6442

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کو جب بھی کوئی کانٹا چبھےیا اس سے کم تکلیف ہو تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6443

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6444

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے اللہ تعالی اس کے سبب سے اس کے ایک گناہ مٹا دیتا ہے خواہ اسے ایک کانٹا ہی چبھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۵)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6445

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کو کوئی مصیبت پہنچے چاہے ایک کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے یا(فرمایا)اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یزید(راوی)کو معلوم نہیں کہ حضرت عروہ نے ان میں سے کون سے الفاظ فرماے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةِ، إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ". لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6446

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۷)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ - إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6447

حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مومن کو کوئی تھکاوٹ، تکلیف،بیماری اور غم پہنچتا ہے حتی کہ اسے یہ بات پریشان کرتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ ، وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ - إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6448

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ترجمہ)"جس شخص نے جو برائی کمائی اسے اس کی سزا دی جائے گی" تو اس سے مسلمانوں کو سخت تشویش ہوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے راستے پر قائم رہومسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچے وہ اس کے لئے کفارہ ہے حتیٰ کہ اسے ٹھوکر لگے یا کانٹے چبھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۹)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ، حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا، أَوِ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ". قَالَ مُسْلِمٌ : هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6449

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے ام السائب یا ام المسیب!تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ!بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو یہ تو انسان کی خطاؤں کو لے جاتا ہے جس طرح بھٹی،لوہے کے زنگ کو لے جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۳؛حدیث نمبر؛٦٤۵۰)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ - أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ - فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ - أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ - تُزَفْزِفِينَ ؟ " قَالَتِ : الْحُمَّى، لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا. فَقَالَ : " لَا تَسُبِّي الْحُمَّى ؛ فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6450

حضرت عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تم کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤ؟میں نے کہا ہاں کیوں نہیں۔انہوں نے فرمایا یہ سیاہ رنگ کی عورت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا(یا رسول اللہ)مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اللہ سے میرے لئے دعا کریں آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہیں جنت مل جائے گی اور اگر چاہو تو میں اللہ تعالی سے دعا کروں تجھے صحت عطاء کرے اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں پھر اس نے کہا میرا ستر کھل جاتا ہے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ میرا ستر نہ کھلے چنانچہ اپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹٤؛حدیث نمبر؛٦٤۵۱)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي. قَالَ : " إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ ". قَالَتْ : أَصْبِرُ. قَالَتْ : فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ. فَدَعَا لَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6451

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اللہ عزوجل نے فرمایا اے میرے بندو!میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو!تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے کہ جسے میں ہدایت دوں تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا اے میرے بندو!تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو!تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو!تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔اے میرے بندو!تم میرے لئے نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے لئے نفع کے مالک بھی نہیں کہ مجھے نفع پہچاؤ۔ اے میرے بندو!اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہوجاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہوجاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کرسکتے۔ اے میرے بندو!اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔(یعنی کچھ بھی کم نہیں ہوگا) اے میرے بندو!یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِ بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٤؛حدیث نمبر؛٦٤٥٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا رَوَى عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَنَّهُ قَالَ : " يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ ". قَالَ سَعِيدٌ : كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6452

امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵۳)

حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6453

امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵٤)

قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ابْنَا بِشْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6454

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا اور اپنے بندوں پر بھی حرام کر دیا پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اس کے بعد حسب سابق پوری حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵۵)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ، وَعَلَى عِبَادِي، فَلَا تَظَالَمُوا "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6455

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیااور بخل نے ان کو خون ریزی کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر برانگیختہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اتَّقُوا الظُّلْمَ ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ ؛ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ؛ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6456

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵۷)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6457

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے،نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے کسی دوسرے کے حوالے کرتا ہے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں رہتا ہے اللہ تعالی اس کی حاجت کو پورا کرتا ہے اور جو آدمی کسی مسلم سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالی اس سے قیامت کے مصائب میں سے کوئی مصیبت دور کرےگا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ . مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6458

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ ہے جس کے درہم اور کوئی سامان نہ ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزے اور زکات کے ساتھ آئے گا اور یوں آئے گا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا پیٹا ہوگا پس اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دی جائیں گی اور کچھ دوسرے کو اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور ابھی ان لوگوں کے حقوق پورے نہ ہو تو اس کے گناہوں میں سے اس شخص پر ڈالے جائیں گے اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤۵٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ : " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا ؛ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ ؛ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6459

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے حقدار لوگوں کے حقوق وصول کیے جائیں گے حتی کہ بے سینگ بکرے کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤٦٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6460

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: (ترجمہ)"اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بےشک اس کی پکڑ سخت درد ناک ہے" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ، فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". ثُمَّ قَرَأَ : " { وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ } ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6461

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو لڑکوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصارمیں سے تھا،مہاجر یا مہاجرین چلائے اے مہاجرو!اور انصاری پکارا اے انصاریو!اچانک رسول اکرم صلی اللہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا یہ کیا دور جاہلیت کی طرح پکارنا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ان میں سے ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں انسان کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہئے وہ ظالم ہو چاہے مظلوم اگر وہ ظالم ہے تو اسے روکے یہ اس کی مدد ہے اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛ترجمہ؛(مسلمان)بھائی کی مدد کرنا خواہ ظالم ہو یا مظلوم؛جلد٤ص١۹۹۸؛حدیث نمبر؛٦٤٦۲)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَنَادَى الْمُهَاجِرُ، أَوِ الْمُهَاجِرُونَ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ. وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ". قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا، فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ. قَالَ : " فَلَا بَأْسَ، وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ ؛ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6462

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا تو انصاری نے پکارا اے انصار!اور مہاجر نے کہااے مہاجرین! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا زمانہ جاہلیت کی پکار ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار میں سے ایک شخص کی سرین پر مارا ہے آپ نے فرمایا اس بات کو چھوڑ دو یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے۔عبداللہ بن ابی نے سنا تو کہنے لگا اچھا!انہوں نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم!جب ہم مدینہ طیبہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں(کیونکہ بظاہر وہ مسلمان کہلاتا تھا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛جلد٤ص١۹۹۸؛حدیث نمبر؛٦٤٦۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ. وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ. فَقَالَ : " دَعُوهَا ؛ فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ". فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ، { لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ }. قَالَ عُمَرُ : دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ : " دَعْهُ ؛ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6463

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ کی درخواست کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے ابن منصور کی روایت میں ہے عمرو نے کہا میں نے حضرت جابر سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ". قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَمْرٌو قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6464

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت(کی دیوار)کی طرح ہے کہ اس کی بعض اینٹیں دوسری بعض کو مضبوط کرتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛ترجمہ؛مومنوں کے درمیان باہمی رحمت،مہربانی اور مدد؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6465

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہم محبت،رحم دلی اور مہربانی کے اعتبار سے مومنوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے جب ان میں سے کسی ایک عضو میں بیماری ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کا شکار ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6466

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۷)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6467

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک شخص کی طرح ہے اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو تمام جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ، إِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6468

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامسلمان،ایک شخص کی طرح ہے اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو پورے جسم میں تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو پورے جسم میں تکلیف ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۹)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ ؛ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6469

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٤٦٩ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤۷۰)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6470

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو شخص ایک دوسرے کو گالی دے تو اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہےجب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ السِّبَابِ؛گالی دینے کی ممانعت؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤۷۱)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6471

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا بندے کے معاف کرنے سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ اسْتِحْبَابِ الْعَفْوِ وَالتَّوَاضُعِ؛ترجمہ؛در گزر کرنے اور انکساری کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۰۱؛حدیث نمبر؛٦٤۷۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6472

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر کرو جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ عرض کیا گیابتائے اگر وہ عیب میرے بھائی میں ہوں جس کا ذکر میں کروں؟آپ نے فرمایا اگر وہ عیب اب اس میں ہو جس کا ذکر تم کر رہے ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الْغِيبَةِ؛ترجمہ؛غیبت کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۰۱؛حدیث نمبر؛٦٤۷۳)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ". قِيلَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6473

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی جس شخص(کے عیبوں)پر دنیا میں پردہ ڈالتا ہے قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِشَارَةِ مَنْ سَتَرَ اللهُ تَعَالَى عَيْبَهُ فِي الدُّنْيَا، بِأَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ جس شخص کی دنیا میں پردہ پوشی کرتا ہے اس کے لیے آخرت میں پردہ پوشی کی بشارت؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷٤)

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6474

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی(کے عیب)کا پردہ رکھے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِشَارَةِ مَنْ سَتَرَ اللهُ تَعَالَى عَيْبَهُ فِي الدُّنْيَا، بِأَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6475

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا اسے اجازت دو یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے جب وہ شخص آیا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے اس کے متعلق وہ فرمایا جو فرمایا تھا پھر اس سے نرمی سے بات کی آپ نے فرمایا اے عائشہ!قیامت کے دن اللہ تعالی کے ہاں سب سے برا شخص وہ ہوگا جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگ اسے ترک کر دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ؛ترجمہ؛جس شخص سے درشت کلامی کا خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنا؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ، فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " أَوْ " بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ ". فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ - أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ - اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6476

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں بئس اخوالقوم اور ابن العشیرہ کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۷)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ، وَابْنُ الْعَشِيرَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6477

حضرت جریر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛ترجمہ؛نرمی کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6478

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6479

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸۰)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ حُرِمَ الْخَيْرَ " أَوْ " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6480

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!بےشک اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے وہ نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطاء کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطاء نہیں فرماتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸۱)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ - يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6481

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال لی جاتی ہے اس کو بدصورت بنا دیتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ - وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6482

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک سرکش اونٹ پر سوار ہوئیں اور اس کو چکر دینے لگیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!نرمی کرو اس کے بعد حدیث نمبر ٦٤٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٣)

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا، فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6483

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر تھی اچانک اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت کی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا‌اونٹنی پرجو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔(بطور تنبیہ فرمایا) حضرت حصین فرماتے ہیں گویا میں اس اوٹنی کو دیکھ رہا ہوں وہ لوگوں کے درمیان چل رہی تھی اور کوئی شخص بھی اس سے تعرض نہیں کر رہا تھا۔(اس کی طرف توجہ نہیں کر رہا تھا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ، فَضَجِرَتْ، فَلَعَنَتْهَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا ؛ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ ". قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَرَاهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6484

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند سے مروی ہے حضرت عمران نے کہا میں اس خاکی اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں۔دوسرے سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ جو سامان اس اونٹنی پر ہے وہ لے لو اور اس کی پیٹھ کو خالی کر کے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ نَحْوَ حَدِيثِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ : قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ. وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ : فَقَالَ : " خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا ؛ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6485

حضرت ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک لونڈی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا اچانک اس نے‌ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا درآں حالانکہ ان لوگوں کے درمیان پہاڑ کا تنگ درہ تھا اس نے کہا "چل"اےاللہ!اس پر لعنت کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ وہ اوننی نہ رہے جس پر لعنت کی گئی ہے۔ (لعنت کا معنی رحمت سے دوری ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات سے روکنے کے لئے یہ حکم دیا مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ سوچ کر کہ اس اونٹنی کو چھوڑنا پڑے گا اس پر لعنت نہیں کریں گے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَقَالَتْ : حَلِ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا. قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصَاحِبْنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6486

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ آپ کا یہ ارشاد مروی ہے اللہ کی قسم!ہمارے ساتھ وہ اوٹنی نہ رہے جس پر اللہ تعالی کی طرف سے لعنت ہے یا جس طرح آپ نے فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ : " لَا، ايْمُ اللَّهِ، لَا تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ ". أَوْ كَمَا قَالَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6487

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی صدیق کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ - عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6488

امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۸٩)

حَدَّثَنِيهِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6489

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان‌نے اپنے پاس سے ام الدرداء رضی اللہ عنہا کی طرف گھر کا کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر ایک رات عبدالملک اٹھا اور اپنے خادم کو آواز دی اس نے دیر کردی عبدالملک نے اس پر لعنت کی۔ صبح ہوئی تو حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا میں نے رات کو سنا کے تم نے خادم پر لعنت کی ہے جب تم نے اسے بلایا اور میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کریں گے نہ گواہی دیں گے۔(اس درجہ سے محروم ہو جائیں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤٩٠)

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ، فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَلَعَنَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6490

امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6491

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شہادت دیں گے نہ شفاعت کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَأَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ، وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6492

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ!مشرکین کے خلاف دعا کیجئے آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا مجھے صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6493

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے آپ سے کسی مسئلہ پر گفتگو کی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا۔اس(گفتگو)کے نتیجے میں آپ کو غصہ آیا تو آپ نے ان دونوں پر لعنت کی اور ان کی مذمت فرمائی جب وہ دونوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو جو بھلائی پہنچی وہ ان دونوں کو نہیں پہنچی آپ نے فرمایا وہ کیا؟میں نے عرض کیا آپ نے ان دونوں پر لعنت کی اور ان کو سخت الفاظ فرماے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے میں نے اپنے رب سے کیا شرط رکھی ہے؟میں نے کہا اے اللہ!میں بھی ایک انسان ہوں میں جس مسلمان پر لعنت کروں یا اس کی مذمت کروں تو اس کو اس کے لئے گناہوں سے پاگیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے۔ (یعنی بشری تقاضوں کے مطابق کسی کو برا بھلا کہ سکتا ہوں لیکن،اللہ!یہی کلمات اس شخص کے لئے رحمت بنا دے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے اور رحمت للعالمین ہونے کا اظہار ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹٤)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَأَغْضَبَاهُ، فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ. قَالَ : " وَمَا ذَاكِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا. قَالَ : " أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6494

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں عیسیٰ کی سند سے مروی ہے آپ نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ان پر برائی بیان کی(برا بھلا کہا)ان پر لعنت کرکے ان کو نکال دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹۵)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى : فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6495

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ!میں صرف بشر ہوں(اللہ نہیں ہوں)میں جس مسلمان شخص کو سب کروں،(برا بھلا کہوں)اس پر لعنت کروں یا اس کو سزا دوں تو اس(عمل)کو اس کے لئے گناہوں کی معافی اور رحمت بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6496

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مثل روایت کیا اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹۷)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ " زَكَاةً وَأَجْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6497

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند سے اجر اور دوسری سند سے رحمت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦٤۹۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، مِثْلَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ " وَأَجْرًا " فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ " وَرَحْمَةً " فِي حَدِيثِ جَابِرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6498

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ!میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو عہد کے خلاف نہیں کرتا میں صرف ایک بشر ہوں میں جس مسلمان کو تکلیف دوں اس کو سب(برا بھلا)کروں اس پر لعنت کروں اسے ماروں تو اس عمل کو اس کے لئے گناہوں کی معافی اور ایسا درجہ قرب بنا دے کہ اس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦٤۹۹)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، شَتَمْتُهُ، لَعَنْتُهُ، جَلَدْتُهُ ؛ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6499

ابو الزناد نے کہا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت میں"جلدہ"ورنہ یہ"جلدۃ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰۰)

حَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَوْ جَلَدُّهُ ". قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6500

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰١)

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6501

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اے اللہ!بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)ایک بشر ہیں جس طرح بشر کو غصہ آتا ہے ان کو بھی غصہ آیا ہے اور میں نے تجھ سے ایک عہد لیا تو اس کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کو تکلیف دوں یا اس کو سب(برا بھلا)کروں یا اس کو سزا دوں تو اسے اس کے لئے کفارہ اور ایسے قرب کا ذریعہ بنا دے جس کے باعث وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰۲)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ، يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ ؛ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6502

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ!میں جس مومن بندے کو سب وشتم کروں تو اسے اس کے لیے قیامت کے دن قرب بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰۳)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6503

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یا اللہ!میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کو سب و شتم کروں یا اس کو سزا دوں تو اسے اس کے لیے قیامت کے دن کفارہ بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ؛ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6504

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک میں بشر ہوں اور میں نے اپنے رب سے شرط رکھی ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب وشتم کروں تو اس سب وشتم کو اس کے لئے پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰۵)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ، أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6505

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٦)

حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6506

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہ(ام سلیم)حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یتیم لڑکی کو دیکھا تو فرمایا تو وہی ہے تو تو بڑی ہو گئی ہے تیری عمر زیادہ نہ ہو وہ یتیم لڑکی حضرت ام سلیم کے پاس روتی ہوئی واپس گئی حضرت ام سلیم نے پوچھا بیٹی!کیا ہوا۔اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی کہ میری عمر زیادہ نہ ہو میری عمر کبھی بھی بڑی نہ ہوگی یا(اس نے کہا)اب میرا زمانہ زیادہ نہیں ہوگا حضرت ام سلیم جلدی سے دوپٹہ اوڑھتی ہوئی نکلیں حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے ام سلیم!تمہیں کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ نے میری یتیمہ کے خلاف دعا کی آپ نے فرمایا ام سلیم وہ کیا؟انہوں نے کہا اس کا خیال ہے کہ آپ نے دعا کی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو اور اس کا زمانہ نہ بڑھے۔ راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا اے ام سلیم!کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے عہد لیا ہے اور کہا ہے کہ میں بشر ہوں جس طرح بشر راضی ہوتے ہیں میں بھی راضی ہوتا ہوں اور مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح دوسرے انسانوں کو غصہ آتا ہے میں اپنی امت میں سے کسی کے خلاف دعا کروں جس کا وہ مستحق نہ ہو تو اسے اس کے لیے پاکیزگی،رحمت اور ایسا قرب بنادے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو جائے۔ راوی ابو معن کہتے ہیں تینوں جگہ حدیث میں یتیمہ تصغیر کے ساتھ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ - فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ، فَقَالَ : " آنْتِ هِيَهْ ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لَا كَبِرَ سِنُّكِ ". فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ : دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ : قَرْنِي. فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " قَالَتْ : زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا، وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا. قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي، أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ، لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَقَالَ أَبُو مَعْنٍ : يُتَيِّمَةٌ. بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6507

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ فرماتے ہیں میں آیا اور کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں فرماتے ہیں آپ نے دوبارہ فرمایا جاؤ اور ان کو بلا کر لاؤ اور میں نے پھر آکر کہا وہ کھانا کھا رہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے" ابن المثنی ؛کہتے ہیں میں نے امیہ سے"حطانی"کا معنی پوچھا تو انہوں نے کہا آپ نے مجھے تھپکی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۱۰؛حدیث نمبر؛٦۵۰٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ، قَالَ : فَجَاءَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، وَقَالَ : " اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ". قَالَ : فَجِئْتُ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ. قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِيَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ". قَالَ : فَجِئْتُ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ. فَقَالَ : " لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ". قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قُلْتُ لِأُمَيَّةَ : مَا حَطَأَنِي ؟ قَالَ : قَفَدَنِي قَفْدَةً.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6508

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں چھپ گیا اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۱۰؛حدیث نمبر؛٦۵۰٩)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6509

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سے سب سے برا آدمی وہ ہے جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛ترجمہ؛دو رخے آدمی کی مذمت؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ؛ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6510

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین شخص وہ ہے جو دو چہروں والا ہو جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ ؛ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6511

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دیکھو گے لوگوں میں بدترین شخص وہ ہے جو دو چہروں والا ہے کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١٢)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ؛ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6512

حضرت حمید بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ان کی ماں حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط جوان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی،نے بتایا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کراتا ہے اچھی بات کہتا ہے دوسروں کی طرف اچھی بات منسوب کرتا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے لوگوں کے ساتھ تین مواقع پر جھوٹ کی اجازت کے بارے میں سنا ہے لڑائی(کے دوران)لوگوں کے درمیان صلح کرانا اور مرد کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے خاوند سے جھوٹ بولنا۔ (مثلاً میاں بیوی میں بد گمانی کی وجہ سے جھگڑا اور اختلاف پیدا ہوجائے تو یہ مرد سے عورت کے بارے میں کہے کہ وہ تیرے بارے میں اچھے جذبات رکھتی ہے اسی طرح عورت سے مرد کے بارے میں کہے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵۱۳)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ : الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6513

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس سند کے ساتھ ان تین میں جھوٹ کی اجازت حضرت ام کلثوم بنت عقبہ سے مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ : وَقَالَتْ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6514

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں دوسرے کی طرف خیر کی نسبت کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد حدیث کا باقی حصہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱۵)

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ : " وَنَمَى خَيْرًا ". وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6515

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت ترین حرام ہے وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے اور بےشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ؛ترجمہ؛چغلی کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ ؛ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ ". وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6516

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور بےشک جھوٹ فسق کی طرف لے جاتا ہے اور فسق جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ(اللہ تعالیٰ کے ہاں)اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛ترجمہ؛جھوٹ کی قباحت اور سچ کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱۷)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا. وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6517

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور بے شک بندہ سچ کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور بےشک جھوٹ فسق ہے اور فسق جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بےشک بندہ جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں"عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۱۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا. وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ". قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6518

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر سچ بولنا لازم ہے بےشک سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو بے شک جھوٹ فسق کی طرف لے جاتا ہے اور فسق جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۱۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ؛ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ؛ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6519

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ صدق کا قصد کرتا ہے اور کذب کا قصد کرتا ہے اور ابن مسہر کی روایت میں ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسکو لکھ لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۲۰)

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى : " وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ " " وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ " وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ : " حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6520

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم لوگ رقوب کا کیا مطلب لیتے ہو؟ہم نے عرض کیا وہ شخص جس کی اولاد نہ ہو آپ نے فرمایا یہ(رقوب نہیں بلکہ(رقوب)وہ شخص ہے(جس نے آخرت میں استقبال کے لئے) پہلے اولاد کو نہ بھیجا ہو آپ نے پوچھا تم پہلوان کسے کہتے ہو؟فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ نے فرمایا یہ پہلوان نہیں بلکہ وہ شخص(پہلوان)ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛ترجمہ؛غصہ کے وقت نفس پر قابو پانے کی فضیلت اور کس چیز کے ساتھ غصہ جاتا رہتا ہے؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۱)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ. قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ، وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا ". قَالَ : " فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ. قَالَ : " لَيْسَ بِذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6521

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6522

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص طاقت ور نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۳)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَا كِلَاهُمَا : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6523

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص طاقت ور نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے صحابہ کرام نے پوچھا پھر طاقت ور کون ہے؟یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲٤)

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ". قَالُوا : فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6524

امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کونقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۵)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6525

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے ایک دسرے کو گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ کہ دے تو اس کا غصہ چلا جاے وہ کلمہ یہ ہے۔ "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" اس شخص نے کہا آپ کے خیال میں میں پاگل ہوں؟ابن العلاء کی روایت میں فقط"ھل تری" کے الفاظ ہیں لفظ رجل نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ". فَقَالَ الرَّجُلُ : وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ ؟ قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ : فَقَالَ : وَهَلْ تَرَى، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6526

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا پس ان میں سے ایک کو غصہ آیا اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا مجھے ایک کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ پڑھ لے تو اس سے یہ(غصہ)چلا جاے وہ کلمہ"اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم" ہے۔ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تھی ان میں سے ایک شخص اس آدمی کی طرف اٹھا اور کہا تمہیں معلوم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کیا فرمایا یہ(فرمایا)کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ کہ لے تو اس کی یہ حالت دور ہو جائے وہ کلمہ"اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم"ہے اس شخص نے کہا تمہارے خیال میں میں پاگل ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۷)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ". فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا ؟ قَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ". فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَمَجْنُونًا تَرَانِي ؟

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6527

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۸)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6528

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالٰی نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو جب تک چاہا ان(کے جسم اقدس)کو وہاں رکھا ابلیس اس کے گرد گھوم کر دیکھنے لگا جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ یہ ایسی فطرت پر کیا گیا ہے کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۲۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ، يَنْظُرُ مَا هُوَ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6529

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6530

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛چہرے پر مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۱)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ "

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6531

ایک اور سند سے یہ الفاظ مروی ہے"جب تم میں سے کوئی شخص مارے" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۲)

حَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6532

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۳)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6533

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6534

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳۵)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6535

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ چونکہ چہرہ حسن ‌کا مقام ہے اور اس کے اعضاء کمزور ہیں اور علم سے متعلق اعضاء(حواس)اسی میں جمع ہے اور یہ تخلیق خداوندی کا شاہکار ہے اور اللہ تعالی جو صورت سے پاک ہے اس کے حسن کا مظہر ہے لہذا اس پر مارنے سے منع فرمایا۔۱۲ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ - وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6536

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ملک شام میں کچھ لوگوں پر گزرے جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو خراج(نہ دینے)کی وجہ سے یہ سزا دی جا رہی ہے انہوں نےفرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں(ناحق)سزا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛ترجمہ؛انسان کو ناحق عذاب دینے پر سخت وعید؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قِيلَ : يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6537

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا شام میں کچھ قبطیوں پر گزر ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا ان کو یہ عذاب کیوں ہو رہا ہے۔لوگوں نے کہا ان کو جزیہ(نہ دینے)کی وجہ سے قید کیا گیا ہے۔ حضرت ہشام نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵۳۸)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ : مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالُوا : حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ. فَقَالَ هِشَامٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6538

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے ایک سند میں ہے کہ اس وقت فلسطین میں ان کے امیر عمیر بن سعد تھے ہشام ان کے پاس گئے اور ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کو چھوڑنے کا حکم دیا پس ان کو چھوڑ دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵۳۹)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : قَالَ : وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6539

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حمص کے حاکم نے جزیہ کے سلسلے میں کچھ قبطیوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہےتو انھوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (اس سے مراد ناحق عذاب دینا ہے اگر قصاص یا حدود وغیرہ کے سلسلے میں سزا دی جائے تو اس کا یہ حکم نہیں ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵٤٠)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6540

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تیر لے کر مسجد میں گزرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ان تیروں کے پیکان کو پکڑ لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵٤۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بِسِهَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6541

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کچھ تیر لے کر مسجد میں سے گزرا جن کے پیکان کھلے ہوئے تھے تو آپ نے ان کے پیکان پکڑنے کا حکم دیا تاکہ مسلمان کو چبھ نہ جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ قَدْ أَبْدَى نُصُولَهَا، فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا ؛ كَيْ لَا يَخْدِشَ مُسْلِمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6542

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص کو جو مسجد میں تیر صدقہ کر رہا تھا حکم دیا کہ وہ ان کے پیکان پکڑ کر گزرے۔ابن رمح نے(یتصدق کی جگہ)"یصدق بالنبل"کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ ؛ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا. وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : كَانَ يَصَّدَّقُ بِالنَّبْلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6543

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں یا بازار میں گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہو تو ان کے پیکان کو پکڑے پھر ان کے پیکان کو پکڑے پھر ان کے پیکان کو پکڑے(تاکید فرمائی) حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا(ہماری حالت یہ ہے کہ)اللہ کی قسم ہم میں سے بعض لوگ زندگی بھر ایک دوسرے کے چہروں پر تیر مارتے رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤٤)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسٍ أَوْ سُوقٍ وَبِيَدِهِ نَبْلٌ ؛ فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ". قَالَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ مَا مُتْنَا حَتَّى سَدَّدْنَاهَا، بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6544

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو وہ اس کے پیکان کو پکڑے تاکہ کسی مسلمان کو کوئی چیز چبھ نہ جائے یا فرمایا اس کے پیکان کو اپنے قبضہ میں رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۵)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ ؛ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ "، أَوْ قَالَ : " لِيَقْبِضَ عَلَى نِصَالِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6545

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارے کو ترک نہیں کرتا اگرچہ اس کا سگا بھائی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤٦)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6546

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٣٦ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6547

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں یہ حدیث ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی ایک نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین کر کسی کو لگا دے اور وہ جہنم کے گڑھے میں جاگرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6548

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں چل رہا تھا کہ اس نے ایک خاردار شاخ دیکھی اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا تو اللہ تعالی نے اس کی نیکی قبول کرتے ہوئے اسے بخش دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛ترجمہ؛راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵٤۹)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6549

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گذرا تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو تکلیف نہ دے پھر وہ شخص جنت میں داخل کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۰)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ ؛ لَا يُؤْذِيهِمْ، فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6550

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے جنت میں ایک شخص کو پھرتے ہوئے دیکھا کیونکہ اس نے راستے میں گرے ہوئے درختوں کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛ترجمہ؛راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۱)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ، فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ، كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6551

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت مسلمانوں کو ایذاء دیتا تھا تو ایک شخص آیا اور اس نے اسے کاٹ دیا پس وہ جنت میں چلا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۲)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ شَجَرَةً كَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَطَعَهَا، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6552

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائے جس کے ذریعہ میں نفع حاصل کروں آپ نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۳)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَازِعِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ. قَالَ : " اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6553

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نہیں جانتا شاید آپ دنیا سے تشریف لے جائیں اور میں آپ کے بعد رہ جاؤں پس آپ مجھے آخرت کے لئے کوئی زاد راہ بتائے جس سے اللہ تعالی مجھے نفع دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرو اس طرح کرو ابوبکر اس عمل کو بھول گئے(جو فرمایا تھا)اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَسَى أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَى بَعْدَكَ، فَزَوِّدْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ كَذَا، افْعَلْ كَذَا - أَبُو بَكْرٍ نَسِيَهُ - وَأَمِرَّ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6554

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کیونکہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مر گئی جس سے وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی وہ اس بلی کو کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی۔اور نہ ہی اسے کھولتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛ترجمہ؛بلی اور دیگر ایذاء نہ دینے والے جانور کو عذاب دینے کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۵)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ - يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ - عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا، إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6555

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٥٥ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵٦)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، جَمِيعًا عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6556

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اسے باندھ رکھا تھا وہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ ہی چھوڑتی تھی کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۷)

وَحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَوْثَقَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6557

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٥٧ کے مثل روایت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۸)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6558

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت اپنی بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی اس نے اس کو باندھ رکھا تھا اسے کھانے پینے کو کچھ نہ دیتی اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے حتیٰ کہ وہ کمزوری کی وجہ سے مر گئی۔ (جب حیوانات کے بارے میں یہ صورت حال ہے تو انسان کو بھوکا رکھنے والے اور اذیت پہنچانے والوں کا کیا حال ہوگا جن لوگوں کا رزق اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ہاتھ میں رکھا ہے مثلاً حکمران اور مختلف اداروں کے سربراہ وغیرہ اور وہ معمولی تنخواہیں دیتے ہیں مہنگائی کا تدارک نہیں کرتے تو ان کو ان احادیث کی روشنی میں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲٣؛حدیث نمبر؛٦۵۵۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا - أَوْ هِرٍّ - رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تُرَمِّمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6559

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عزت اللہ تعالیٰ کی ازار ہے اور کبریائی اس کی چادر ہے(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)جو شخص مجھ سے ان صفات کو لینے کی کوشش کرے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب تحریم الکبر؛ترجمہ؛تکبر کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۲٣؛حدیث نمبر؛٦۵٦٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِزُّ إِزَارُهُ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهُ. فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6560

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون شخص ہے جو میرے بارے میں قسم کھاتا ہے کہ فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا میں نے فلاں شخص کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع کردیا۔یا جس طرح فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الْإِنْسَانِ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰۲۳؛حدیث نمبر؛٦۵٦١)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ : " أَنَّ رَجُلًا قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ. وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ : مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ ؛ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ ". أَوْ كَمَا قَالَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6561

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت سے غبار آلود بکھرے بالوں والے دروازوں سے دھتکارے جانے والے اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الضُّعَفَاءِ وَالْخَامِلِينَ؛ترجمہ؛ضعیفوں اور تنگ دست لوگوں کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦۲)

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6562

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔(یعنی اس گناہ کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ؛یہ کہنا منع ہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦۳)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ : هَلَكَ النَّاسُ. فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ ". { 7 قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : لَا أَدْرِي " أَهْلَكَهُمْ " بِالنَّصْبِ، أَوْ " أَهْلَكُهُمْ " بِالرَّفْعِ. }

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6563

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6564

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنادیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛ترجمہ؛ہمسایہ سے حسن سلوک اور خیر خواہی؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۵)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ - أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثَنَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6565

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٦٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦٦)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6566

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مسلسل مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۷)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6567

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۸)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ - قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6568

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل نے وصیت کی جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربہ زیادہ رکھو پھر اپنے ہمسائے کے گھر والوں کو دیکھو اور اس کے ذریعہ ان سے حسن سلوک کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا : " فَأَكْثِرْ مَاءَهُ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6569

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگرچہ اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے ملنا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵۷۰)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ - يَعْنِي الْخَزَّازَ - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6570

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہمنشینوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جو چاہے حکم جاری کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الشفاعۃ فیما لیس بحرام؛ترجمہ؛جوکام حرام نہ ہوں ان میں شفاعت کا استحباب؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ، فَقَالَ : " اشْفَعُوا، فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6571

حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کسطوری اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے مشک والا ہاتھ تمہیں ویسے ہی مشک دے دے گا یا تم اس‌سے خریدو گے ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو تو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا ہاتھ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم کو اس سے بدبو آئے گی۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عمدہ مثال کے ذریعے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور بروں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیا حقیقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنا کر ہی امت فلاح پاسکتی ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب استحباب مُجالسۃ الصالحین ومُجانبۃقرناء السوء؛ ترجمہ؛نیکوں کی صحبت اختیار کرنا اور بروں کی صحبت سے بچنا مستحب ہے؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ؛ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6572

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا اور میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے وہ کھجور اس کو دے دیں اس نے اس کو لے کر اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا پھر کھڑی ہوئی اور چلی گئی اور اس کی بیٹیاں بھی چلی گئیں(اس دوران)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے اس خاتون کا واقعہ بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیٹیوں کی پرورش سے آزمایا جائے پس وہ ان سے اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے حجاب ہوں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب فضل الاحسان الی البنات؛ ترجمہ؛بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا، فَأَخَذَتْهَا، فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ؛ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6573

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں میرے پاس ایک مسکین خاتون آئی جس نے اپنی دو بیٹیوں کو اٹھایا ہوا تھا میں نے اس کو تین کھجوریں دیں اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دیں پھر اس کھجور کو کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھایا لیکن اس کی بیٹیوں نے اس سے وہ کھجور کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو جسے وہ کھانا چاہتی تھی دو ٹکڑے کرکے تقسیم کر دیا۔ ام المومنین فرماتی ہے مجھے اس کے اس عمل پر تعجب ہوا تو میں نے اس کا یہ عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لئے جنت کو واجب کر دیا یا اس کو دوزخ سے بچا لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ؛جلد٤ص۲۰۲۷؛حدیث نمبر؛٦۵۷٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا، فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا، فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا، فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ، أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6574

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دو لڑکیوں کی بلوغت تک پرورش کی قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ (دور جاہلیت میں عورتوں پر ظلم ہوتا تھا حتیٰ کہ بچیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات مبارکہ بلکہ اپنے عمل کے ذریعے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ؛جلد٤ص۲۰۲۷؛حدیث نمبر؛٦۵۷۵)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا ؛ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ ". وَضَمَّ أَصَابِعَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6575

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اس کو آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔ (قرآن مجید میں ہے"وان منکم الا واردھا"(ترجمہ)"اور ہر ایک نے اس آگ پر سے گزرنا ہے"تو اس آیت پر عمل کے طور پر وہ وہاں سے گزرے گا ورنہ وہ جہنم سے محفوظ ہوگا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛ترجمہ؛بچوں کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6576

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے سفیان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے آگ میں داخل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : " فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6577

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے انصار کے کچھ عورتوں سے فرمایا تم میں سے کسی ایک کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوں گی ان میں سے ایک عورت نے کہا یا دو(بچے)یا رسول اللہ!؟آپ نے فرمایا دو(بچے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ، إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " أَوِ اثْنَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6578

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کی احادیث تو مرد لے گئے ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرما دے جن کی اللہ تعالی نے آپ کو تعلیم دی ہے آپ نے فرمایا فلاں فلاں دن جمع ہو جانا جب وہ اکٹھی ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو وہ باتیں سکھائیں جو اللہ تعالی نے آپ کو علم دیا تھا پھر فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے گی وہ اس کے لیے(جہنم کی)آگ سے حجاب ہوگی ایک عورت نے کہا اور دو،اور دو،اور دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دو،اور دو،اور دو(بھی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۹)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ. قَالَ : " اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ". فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مِنْكُنَّ مِنِ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً ؛ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6579

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے شعبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین ایسے بچے جو بالغ نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَزَادَا جَمِيعًا : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6580

ابو حسان کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا میرے دو بچے فوت ہوگئے کیا آپ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث سنائیں گے جس سے ہمیں اپنے فوت شدہ لوگوں کے بارے میں تسلی ہو۔ انہوں نے فرمایا ہاں!چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہیں ان میں سے جس کی ملاقات اپنے باپ سے ہوگی یا(فرمایا)ماں باپ سے ہوگی تو وہ اس کے کپڑے یا (فرمایا)اس کے ہاتھ کو پکڑے گا جس طرح میں تمہارا یہ دامن پکڑتا ہوں پھر وہ اسے اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۱)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : قَالَ : نَعَمْ " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ، يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ - أَوْ قَالَ : أَبَوَيْهِ - فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ - أَوْ قَالَ : بِيَدِهِ - كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا، فَلَا يَتَنَاهَى - أَوْ قَالَ : فَلَا يَنْتَهِي - حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6581

اسی سند سے مروی ہے کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جس سے ہمیں اپنے فوت شدہ لوگوں کے بارے میں تسلی ہوجائے؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۲)

وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنِ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6582

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے نبی اس کے لئے دعا کیجئے میں تین بچے دفن کر چکی ہوں آپ نے فرمایا تم نے تین بچے دفن کئے ہیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تمہارے لئے جہنم سے مضبوط بندش ہوگئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ - ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً. قَالَ : " دَفَنْتِ ثَلَاثَةً ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ. قَالَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ : عَنْ جَدِّهِ، وَقَالَ الْبَاقُونَ : عَنْ طَلْقٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6583

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ!یہ بیمار ہے اور مجھے اس(کی موت)کا خدشہ ہے میں تین بچے دفن کر چکی ہوں آپ نے فرمایا تم نے جہنم سے مضبوط آڑ حاصل کرلی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَشْتَكِي، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ، قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً. قَالَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". قَالَ زُهَيْرٌ : عَنْ طَلْقٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6584

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو پس حضرت جبریل ان سے محبت کرتے ہیں وہ آسمان میں ندا کرتے ہیں اور کہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو پس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں پھر اس کے لئے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبریل کو بلاکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو پس حضرت جبریل اس سے بغض رکھتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ بےشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہے تم بھی اس سے بغض رکھو،فرماتے ہیں پس وہ لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں پھر اس کے لئے زمین میں بغض رکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛ترجمہ؛جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو اس سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے پھر آسمان و زمین والے اس سے محبت کرتے ہیں؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸۵)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ. قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ، فَيَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ. فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ : ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ. وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فَيَقُولُ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ. قَالَ : فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ. قَالَ : فَيُبْغِضُونَهُ، ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6585

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ابن مسیب کی روایت میں بغض کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - ح وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6586

سہیل بن صالح کہتے ہیں ہم عرفات میں تھے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہ حج کے لئے امیر تھے لوگ کھڑے ہوکر دیکھنے لگے تو میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان!میں گمان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟میں نے کہا اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ہے انہوں نے کہا تمہیں اپنے باپ کی قسم!تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوگی۔پھر حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸۷)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : كُنَّا بِعَرَفَةَ، فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ : لِأَبِي يَا أَبَتِ، إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ : لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ. فَقَالَ : بِأَبِيكَ أَنْتَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6587

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام روحیں باہم مجتمع تھیں جن کا(اس وقت)تعارف تھا ان میں الفت پیدا ہوگئی اور جو(اس وقت)اجنبی تھیں ان میں اختلاف رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6588

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات ہیں ان میں جو دور جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں(اور مؤمن ہوں)اور روحیں باہم مجتمع تھیں جن کا(اس وقت)تعارف تھا ان میں الفت ہوگئی اور جو(اس وقت اجنبی تھیں وہ(ایک دوسرے سے مختلف رہیں) (اسلام کے بغیر اچھائی کا کوئی تصور نہیں اور جب اسلام قبول کیا جائے تو خاندانی برتری کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں لہذا دین سے محبت ہی عزت کا اصل معیار ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸٩)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، إِذَا فَقُهُوا، وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6589

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ!قیامت کب ہوگی آپ نے اس سے پوچھا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت،آپ نے فرمایا تم اسی کے ساتھ رہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛ترجمہ؛آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے گا؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۰)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6590

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ قیامت کب ہوگی؟آپ نے پوچھا تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے اس نے بڑی عبادت کا ذکر نہیں کیا اور یہ کہا لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوں گے جس سے محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " فَلَمْ يَذْكُرْ كَبِيرًا، قَالَ : وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6591

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کے بعدحسب سابق ہے البتہ اس روایت میں یہ ہے کہ میں نے اتنی زیادہ تیاری نہیں کی جس پر اپنی تعریف کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۲)

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6592

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے پوچھا قیامت کب ہوگی آپ نے اس سے دریافت فرمایا تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بڑھ کر کسی بات پر خوشی نہیں ہوئی کہ آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میں اللہ تعالٰی،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان کے اعمال کی طرح نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۳)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ ؟ " قَالَ : حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ". قَالَ أَنَسٌ : فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحًا، أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ". قَالَ أَنَسٌ : فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6593

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو روایت کیا اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول میں ان سے محبت کرتا ہوں اور اس کے بعد والا جملہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹٤)

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَنَسٍ : فَأَنَا أُحِبُّ، وَمَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6594

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا یا رسول اللہ قیامت کب ہوگی؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا وہ شخص خاموش ہوگیا پھر عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے قیامت کے لیے زیادہ(نفلی)نماز زیادہ(نفلی)روزے اور زیادہ(نفلی)صدقات تیار نہیں کیے لیکن میں اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹۵)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَيْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَقِينَا رَجُلًا عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ وَلَا صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6595

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6596

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6597

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے اور ابھی تک ان سے نہیں ملا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦۵۹۸)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6598

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٨ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦۵۹۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6599

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٥٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦٦٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6600

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ بتائیں ایک شخص اچھا عمل کرتا ہے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں آپ نے فرمایا یہ مومن کی فوری بشارت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أُثْنِيَ عَلَى الصَّالِحِ فَهِيَ بُشْرَى وَلَا تَضُرُّهُ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦٦٠۱)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6601

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أُثْنِيَ عَلَى الصَّالِحِ فَهِيَ بُشْرَى وَلَا تَضُرُّهُ؛جلد٤ص۲۰۳۵؛حدیث نمبر؛٦٦٠۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنْ شُعْبَةَ، غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ : " وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ " وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ : " وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ " كَمَا قَالَ حَمَّادٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe, Hadees No. 6602

Muslim Shareef : Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ

|

•