
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہاری ماں!اس نے پوچھا پھر کون؟فرمایا:تمہارا باپ۔قتیبہ کی(اس)حدیث میں صرف یہ ہے کہ میرے حسن سلوک کا کون زیادہ حقدار ہے"لوگوں میں سے کون"کے الفاظ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگوں میں کون میرے حسن اخلاق کا زیادہ حق دار ہے؟فرمایا:تمہاری ماں،پھر تمہاری ماں،پھر تمہاری ماں،پھر تمہارا باپ،پھر جو زیادہ قریب ہو،پھر جو زیادہ قریب ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۱)
حضرت ابوزرعہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت روایت نمبر٦٣٨٠ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں یہ اضافہ ہے جو کہ آپ نے فرمایا ہاں تمہارے باپ کی قسم عنقریب تمہیں خبر دی جائے گی۔ (نوٹ)باپ کی قسم اس وقت کھائی جب اس طرح قسم کھانا جائز تھا اب منع ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں وہیب کی روایت میں"ابر"کا لفظ ہے اور محمد بن طلحہ کی روایت میں حسن صحبت کا ذکر ہے(دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷٤؛حدیث نمبر؛٦۳۸۳)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد کی اجازت طلب کرنے لگا آپ نے پوچھا تمہارے والدین زندہ ہیں؟اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا ان کے حق میں جہاد کرو(یعنی ان کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا....اس کے بعد حسب سابق ہے امام مسلم فرماتے ہیں ابو العباس(راوی)کا نام سائب بن فروخ مکی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸٦)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ کے دست اقدس پر ہجرت اور جہاد کے لئے بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کا طالب ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟اس نے کہا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہو اس نے کہا جی ہاں فرمایا واپس اپنے والدین کے پاس جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۵؛حدیث نمبر؛٦۳۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جریج راہب اپنے عبادت خانے میں عبادت کر رہے تھے کہ ان کی ماں آگئی حمید کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس طرح صفت بیان کی جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صفت بیان کی تھی جس وقت ان کی ماں نے ان کو بلایا تو انہوں نے اپنی ہتھیلی اپنی پلکوں پر رکھی ہوئی تھی پھر اپنا سر جریج کی طرف اٹھا کرجریج کو آواز دی اور کہنے لگیں اے جریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر جریج اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جریج نے کہا اے اللہ ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز ہے پھر جریج نے نماز کو اختیار کیا۔ پھر ان کی ماں نے کہا اے اللہ!یہ جریج میرا بیٹا ہے میں اس سے بات کرتی ہوں تو یہ میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیتا ہے اے اللہ!جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر جریج کی ماں اس پر یہ دعا کرتی کہ وہ فتنہ میں پڑجائے تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھیڑوں کا ایک چرواہا تھا جو جریج کے عبادت خانہ میں ٹھہرتا تھا(ایک دن) گاؤں سے ایک عورت نکلی تو اس چرواہے نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا تو وہ عورت حاملہ ہوگئی(جس کے نتیجہ میں) اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس عورت سے پوچھا گیا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ہے اس عورت نے کہا اس عبادت خانہ میں جو رہتا ہے یہ اس کا لڑکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(یہ سنتے ہی اس گاؤں کے لوگ)کلہاڑی اور پھاؤڑے لے کر آئے اور انہیں(جریج کو)آواز دی وہ نماز میں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے اس کا عبادت خانہ گرانا شروع کردیا جب جریج نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ اترا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس عورت سے پوچھ یہ کیا کہتی ہے جریج ہنسا اور پھر اس نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے کہا تیرا باپ کون ہے؟اس بچے نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چراوہا ہے جب لوگوں نے اس بچے کی آواز سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے آپ کا جتنا عبادت خانہ گرایا ہے ہم اس کے بدلے میں سونے اور چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے پہلے کی طرح مٹی ہی کا بنادو اور پھرجریج اوپر چلے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلَاةِ وَغَيْرِهَاِ؛جلد٤ص١۹۷٦؛حدیث نمبر؛٦۳۸٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پنگھوڑے میں سوائے تین بچوں کے اور کسی نے کلام نہیں کیا حضرت عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج اور جریج ایک عبادت گزار آدمی تھا اس نے ایک عبادت خانہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ نماز پڑھتا تھا جریج کی ماں آئی اور وہ نماز میں تھا اس کی ماں نے کہا اے جریج!(جریج نے اپنے دل میں)کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے پھر وہ نماز کی طرف متوجہ رہا اور اس کی ماں واپس چلی گئی پھر اگلے دن آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا تو وہ کہنے لگی اے جریج!(جریج نے اپنے دل میں)کہا اے میرے پروردگار!ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میں نماز میں ہوں پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا۔ پھر اس کی ماں نے کہا اے اللہ جب تک جریج فاحشہ عورتوں کا چہرہ نہ دیکھ لے اس وقت تک اسے موت نہ دینا بنی اسرائیل(کے لوگ)جریج اور اس کی عبادت کا بڑا تذکرہ کرتے تھے بنی اسرائیل کی ایک عورت بڑی خوبصورت تھی جس کے حسن کی مثال دی جاتی تھی۔ وہ کہنے لگی کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اسے تمہارے لئے کسی فتنے میں مبتلا کر دوں وہ عورت جریج کی طرف گئی لیکن جریج نے اس عورت کی طرف توجہ نہ کی ایک چرواہا جریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا اس عورت نے اس چرواہے کو اپنی طرف بلایا۔اس چرواہے نے اس عورت سے اپنی خواہش پوری کی جس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی تو جب اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی تو اس نے کہا یہ جریج کا لڑکا ہے(یہ سن کر)لوگ آئے اور انہوں نے جریج کو اس کے عبادت خانہ سے نکالا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور لوگوں نے جریج کو مارنا شروع کردیا جریج نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے؟لوگوں نے جریج سے کہا تو نے اس عورت سے بدکاری کی ہے اور تجھ سے لڑکا پیدا ہوا ہے جریج نے کہا وہ بچہ کہاں ہے تو لوگ اس بچے کو لے کر آئے جریج نے کہا مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں جریج نے نماز پڑھی پھر وہ نماز سے فارغ ہو کر اس بچے کے پاس آیا اور اس بچے کے پیٹ میں انگلی چبھوکر کہا اے لڑکے!تیرا باپ کون ہے؟اس لڑکے نے کہا فلاں چرواہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگ جریج کی طرف متوجہ ہوئے اس کو بوسہ دینے لگے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے اسی طرح مٹی کا بنادو پھر لوگوں نے اسی طرح بنادیا اور تیسرا وہ بچہ کہ جس نے پن گھوڑے میں بات کی اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا تو ایک آدمی ایک عمدہ سواری پر بہترین لباس پہنے ہوئے وہاں سے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے پھر وہ بچہ دودھ چھوڑ کر اس سوار کی طرف مڑا اور اسے دیکھتا رہا پھر وہ بچہ کہنے لگا اے اللہ!مجھے اس جیسا نہ بنانا پھر وہ بچہ دودھ کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکایت بیان کر رہے ہیں اس کے دودھ پینے کو اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو چوسنا شروع کردیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ ایک لونڈی کے پاس سے گزرے جسے لوگ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے اور وہ کہتی ہے حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے اور بہتر کار ساز ہے۔ تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس عورت کی طرح نہ بنانا تو اس بچے نے دودھ پینا چھوڑ کر اس باندی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ!مجھے اس جیسا بنا دے پس اس موقع پر ماں اور بیٹے کے درمیان ایک مکالمہ ہوا ماں نے کہا اے سر منڈے!ایک خوبصورت شکل والا آدمی گزرا تو میں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے تو نے کہا اے اللہ!مجھے اس جیسا نہ بنا اور لوگ اس باندی کے پاس سے گزرے تو لوگ اسے مارتے ہوئے کہہ رہے تھے تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ!میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو نے کہا اے اللہ!مجھے اس عورت جیسا بنا دے بچے نے کہا بیشک وہ آدمی ظالم تھا تو میں نے کہا اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنا اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا اور تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی میں نے کہا اے اللہ!مجھے اس جیسا بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١۹۷٦سے۱۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳۸۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔پھر اس کی ناک خاک آلود ہو پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)وہ کون شخص ہے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور(ان کی خدمت کر کے)جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔پھر اس کی ناک خاک آلود ہو کہا گیا یا رسول اللہ!کس کی ناک خاک آلود ہو؟فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ؛جلد٤ص١۹۷۸؛حدیث نمبر؛٦۳٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی ان سے مکہ مکرمہ کے راستے میں ملا حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا اور دراز گوش پر بٹھا دیا جس پر آپ خود سوار تھے اور اسے وہ عمامہ شریف دے دیا جو آپ کے سر انور پر تھا۔ ابنِ دینار فرماتے ہیں ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یہ تو دیہاتی لوگ ہیں معمولی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا باپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے دوستوں سے نیکی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے دوستوں سے نیکی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٤)
حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ کی طرف جاتے تو سہولت کے لیے اپنے دراز گوش کو ساتھ لے جاتے جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو اس پر سوار ہوجاتے اور آپ اپنےسر پر عمامہ باندھتے تھے ایک دن آپ اپنے درازگوش پر سوار تھے کہ وہاں سے ایک دیہاتی گزرا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم فلاں کے بیٹے فلاں نہیں ہوں؟اس نے کہا جی ہاں میں وہی ہوں آپ نے اسے درازگوش دے دیا اور فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ شریف دے دیا اور فرمایا اسے سر پر لپیٹ لو۔آپ کے ساتھیوں نے عرض کیا اللہ تعالی آپ کی بخشش فرمائے اس اعرابی کو آپ نے دراز گوش دے دیا جس سے آپ آرام وسہولت حاصل کرتے تھے اور عمامہ دے دیا جسے آپ اپنے سر انور پر باندھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے وصال کے بعد اس کے دوستوں سے نیکی کرے اور اس شخص کا باپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ صِلَةِ أَصْدِقَاءِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَنَحْوِهِمَا؛جلد٤ص١۹۷۹؛حدیث نمبر؛٦۳٩٥)
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اچھے اخلاق نیکی ہے اورگناہ وہ چیز ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؛ترجمہ؛نیکی اور گناہ کی تفسیر؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٦)
حضرت نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک مدینہ طیبہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا اور مجھے آپ سے سوالات کرنے کے سوا کوئی چیز ہجرت سے رکاوٹ نہ تھی ان میں سے جو شخص بھی ہجرت کر لیتا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا۔ حضرت نواس فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور برائی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا جب ان سے فراغت ہوئی تو رحم نے کھڑے ہو کر کہا یہ قطع رحمی سے پناہ مانگنے والے کا سوال ہے۔اللہ تعالی نے فرمایاکیا تم اس سے راضی نہیں کہ جو تمہیں ملائے گا میں اس سے واصل ہوں گا اور جو تجھ سے قطع تعلق کرے گامیں اس سے قطع کروں گا،رحم نے کہا ہاں کیوں نہیں اللہ تعالی نے فرمایا یہ تمہارا حق ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو پڑھو، {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [محمد: ٢٣] "تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تم حکومت حاصل کر لو تو زمین میں فسادپھیلاؤ اور اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرو۔ان ہی لوگوں پر اللہ تعالی نے لعنت بھیجی ہے پس ان کو بہرہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ تو کیا وہ قرآن مجید میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۰؛حدیث نمبر؛٦۳٩٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ جو مجھ سے تعلق جوڑے گا اللہ تعالی اس کو اپنے ساتھ ملائے گا اور جو مجھ سے قطع تعلق کرے گا اللہ تعالی اس سے تعلق منقطع کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦۳٩٩)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سفیان کہتے ہیں اس سے قاطع رحم مراد ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠٠)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠١)
اسی سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق کو کشادہ کیا جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے وہ صلہ رحمی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۱؛حدیث نمبر؛٦٤٠٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر لمبی ہو تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!میرے(بعض)رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں لیکن وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں تو وہ میرے ساتھ برائی سے پیش آتے ہیں میں ان سے بردباری کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ مجھ سے جہالت کا سلوک کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بات اسی طرح ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو جب تک تم اس حالت پر ہوں گے اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے ساتھ مددگار رہے گا۔ (آپ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب تم سے حسن سلوک نہ ہو اور تم رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو تو تم فائدے میں ہو وہ نقصان میں ہیں لہٰذا یہ نہ دیکھا جائے کہ وہ حسن سلوک کریں گے تو میں بھی ایسا کروں گا یہ تو محض بدلہ ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا؛جلد٤ص١۹۸۲؛حدیث نمبر؛٦٤٠٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو۔ اور اللہ کے بندوں!بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے تین دن تک چھوڑے رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٧)
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اور اس میں"لا تقاطعوا"(قطع تعلق نہ کرو)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٨)
یزید کی روایت اسی طرح ہے جس طرح سفیان کی زہری سے روایت ہے اور اس میں(مذکورہ بالا)چاروں خصلتوں کا ذکر ہے البتہ عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ حسد نہ کرو،ترک تعلق نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے روگردانی کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤٠٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد کرو نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی قطع تعلق کرو۔اور اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸۳؛حدیث نمبر؛٦٤١٠)
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے "جیسا کہ تمہیں اللہ تعالی نے حکم دیا" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْي عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۱)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے دونوں آپس میں ملے اور یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۲)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں اور بیان کی ہیں سب میں یہ الفاظ ہیں"فیعرض ھذا ویعرض ھذا"( یعنی ایک دوسرے سے پھر جانا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۳)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے(مسلمان)بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے بعد ترک تعلق جائز نہیں۔(غصہ انسانی فطرت میں داخل ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے لہذا تین دن کے بعد یہ صورتحال نہ رہی تو اب ایک دوسرے سے روگردانی فطری نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل ہے اس لئے منع فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْهَجْرِ فَوْقَ ثَلَاثٍ بِلَا عُذْرٍ شَرْعِيٍّ؛جلد٤ص١۹۸٤؛حدیث نمبر؛٦٤۱۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش نہ کرو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اے اللہ کے بندوں!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے ترک تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو کسی کا عیب تلاش نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کی ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور تناجش نہ کرو(یعنی خریدنا مقصود نہ ہو تو دوسروں کو پھنسانے کے لیے بولی نہ لگاؤ)اور اللہ تعالی کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸۵؛حدیث نمبر؛٦٤۱۸)
اسی سند سے روایت ہے کہ ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرواور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو۔اور بھائی بھائی بن جاؤ جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا۔ (جب کوئی شخص کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ کہے یا اللہ اس سے واپس لے کر مجھے دے دیں تو یہ حسد ہے جو جائز نہیں اور اگر یہ تمنا ہوکہ یا اللہ اسی طرح مجھے بھی دے دے اس کے پاس بھی رہے تو یہ رشک ہے جو جائز ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۱۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور حرص نہ کرو اور اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اے اللہ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔(تناجش کا معنی یہ ہے کہ سودا خریدنا مقصود نہ ہو اور بولی لگانا)مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر جانتا ہے آپ نے اپنا سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقوی یہاں ہے تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کسی شخص کے براہونے کے لئے اس قدر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸٦؛حدیث نمبر؛٦٤۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف دلوں کو مزین کرتے تھے لباس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے جب کہ آج کے دور میں لباس پر توجہ زیادہ ہے اور دل کی طرف کوئی توجہ نہیں اور نہ اعمال صالحہ کی فکر ہے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ، وَخَذْلِهِ، وَاحْتِقَارِهِ وَدَمِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَالِهِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲٣)
Muslim Sharif Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe Hadees No# 6424
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک روایت میں"متھاجرین"اور دوسری میں"متھجرین" کا لفظ ہے۔(ایک دوسرے کو چھوڑنے والے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)کہ ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس دن ہر اس شخص کی بخشش فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراے سواے اس شخص کے جو اپنے بھائی سے کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے ان کو مہلت دو حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں ان کو مہلت دو حتیٰ کہ آپس میں صلح کرلیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو بار(یعنی)سوموار اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس ہر مؤمن بندے کی بخشش ہوتی ہے مگر دو بندے جن کے درمیان کینہ ہو پس کہا جاتا ہے ان کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ رجوع کرلیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ؛جلد٤ص١۹۸۷؛حدیث نمبر؛٦٤۲۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرماے گا میرے جلال کی وجہ سے(باہم)محبت کرنے والے کہاں ہیں آج میں ان کو سایہ عطاء کروں گا آج میرے ساے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۸؛حدیث نمبر؛٦٤۲۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسری بستی میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں فرشتے کو اس کے انتظار میں بٹھا دیا جب وہ شخص وہاں آیا تو اس(فرشتے)نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟اس نے کہا اس بستی میں میرا بھائی ہے۔اس سے ملنے کا ارادہ ہے اس نے پوچھا کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کی تکمیل مقصود ہے؟اس نے کہا نہیں اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ میں اس سے اللہ عزوجل کے لیے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لایا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے لئے اس شخص سے محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۸؛حدیث نمبر؛٦٤۲۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللهِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۰)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کے باغ میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳۲)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت میں رہتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳٣)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہے گا پوچھا گیا خرفہ جنت کیا ہے؟فرمایا"جنت کا باغ" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۸۹؛حدیث نمبر؛٦٤۳٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرماے گا اے ابن آدم!میں بیمار ہوا تو تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی وہ عرض کرے گا اے میرے رب!میں تیری بیمار پرسی کیسے کرتا حالانکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا پس تو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی تجھے معلوم نہیں اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے(میری رحمت کو)اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم!میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے میرے رب!میں تجھے کس طرح کھانا کھلاتا جب کہ تو تمام جہانوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو تو اس(کھانے)کو میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم!میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہیں پلایا وہ کہے گا اے میرے رب!میں تجھے کس طرح پلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا تجھ سے میرے بندے نے پانی مانگا تو تو نے اسے نہیں پلایا اگر تو اسے پلاتا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِِِ؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی دوسرے شخص میں سخت درد نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۷)
امام مسلم نے اس حدیث کی پانچ سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۰؛حدیث نمبر؛٦٤۳۸)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کو سخت بخار تھا میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو سخت بخار ہے آپ نے فرمایا ہاں!مجھے تم میں سے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا بےشک آپ کے لیے دوگنا اجر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔پھر آپ نے فرمایا جس مسلمان کو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں کہ میں نے آپ کو ہاتھ لگایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤۳۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ہاں!اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روے زمین پر جو بھی مسلمان.....اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح مکمل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤٠)
حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ قریش کے کچھ نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ ہنس رہے تھے۔ام المومنین نے پوچھا اچھا تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو۔انہوں نے کہا کہ فلاں شخص خیمے کی رسی پر گرپڑا قریب تھا کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی یا آنکھ ضائع ہو جاتی ام المومنین نے فرمایا مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اس سے بھی اوپر کوئی تکلیف ہو اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھے یا اس سے بھی اوپر ہو اللہ تعالی اس کے ذریعے اس شخص کا درجہ بلند کرتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۱؛حدیث نمبر؛٦٤٤۲)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کو جب بھی کوئی کانٹا چبھےیا اس سے کم تکلیف ہو تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے اللہ تعالی اس کے سبب سے اس کے ایک گناہ مٹا دیتا ہے خواہ اسے ایک کانٹا ہی چبھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۵)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کو کوئی مصیبت پہنچے چاہے ایک کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے یا(فرمایا)اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یزید(راوی)کو معلوم نہیں کہ حضرت عروہ نے ان میں سے کون سے الفاظ فرماے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۷)
حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مومن کو کوئی تھکاوٹ، تکلیف،بیماری اور غم پہنچتا ہے حتی کہ اسے یہ بات پریشان کرتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ترجمہ)"جس شخص نے جو برائی کمائی اسے اس کی سزا دی جائے گی" تو اس سے مسلمانوں کو سخت تشویش ہوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے راستے پر قائم رہومسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچے وہ اس کے لئے کفارہ ہے حتیٰ کہ اسے ٹھوکر لگے یا کانٹے چبھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۲؛حدیث نمبر؛٦٤٤۹)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے ام السائب یا ام المسیب!تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ!بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو یہ تو انسان کی خطاؤں کو لے جاتا ہے جس طرح بھٹی،لوہے کے زنگ کو لے جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹۳؛حدیث نمبر؛٦٤۵۰)
حضرت عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تم کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤ؟میں نے کہا ہاں کیوں نہیں۔انہوں نے فرمایا یہ سیاہ رنگ کی عورت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا(یا رسول اللہ)مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اللہ سے میرے لئے دعا کریں آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہیں جنت مل جائے گی اور اگر چاہو تو میں اللہ تعالی سے دعا کروں تجھے صحت عطاء کرے اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں پھر اس نے کہا میرا ستر کھل جاتا ہے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ میرا ستر نہ کھلے چنانچہ اپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ حُزْنٍ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛جلد٤ص١۹۹٤؛حدیث نمبر؛٦٤۵۱)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اللہ عزوجل نے فرمایا اے میرے بندو!میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو!تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے کہ جسے میں ہدایت دوں تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا اے میرے بندو!تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو!تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو!تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔اے میرے بندو!تم میرے لئے نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے لئے نفع کے مالک بھی نہیں کہ مجھے نفع پہچاؤ۔ اے میرے بندو!اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہوجاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہوجاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کرسکتے۔ اے میرے بندو!اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔(یعنی کچھ بھی کم نہیں ہوگا) اے میرے بندو!یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِ بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٤؛حدیث نمبر؛٦٤٥٢)
امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵۳)
امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا اور اپنے بندوں پر بھی حرام کر دیا پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اس کے بعد حسب سابق پوری حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۵؛حدیث نمبر؛٦٤۵۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کی تاریکیوں میں سے ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیااور بخل نے ان کو خون ریزی کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر برانگیختہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵۷)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے،نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے کسی دوسرے کے حوالے کرتا ہے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں رہتا ہے اللہ تعالی اس کی حاجت کو پورا کرتا ہے اور جو آدمی کسی مسلم سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالی اس سے قیامت کے مصائب میں سے کوئی مصیبت دور کرےگا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹٦؛حدیث نمبر؛٦٤۵۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ ہے جس کے درہم اور کوئی سامان نہ ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزے اور زکات کے ساتھ آئے گا اور یوں آئے گا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا پیٹا ہوگا پس اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دی جائیں گی اور کچھ دوسرے کو اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور ابھی ان لوگوں کے حقوق پورے نہ ہو تو اس کے گناہوں میں سے اس شخص پر ڈالے جائیں گے اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤۵٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے حقدار لوگوں کے حقوق وصول کیے جائیں گے حتی کہ بے سینگ بکرے کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤٦٠)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: (ترجمہ)"اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بےشک اس کی پکڑ سخت درد ناک ہے" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ؛جلد٤ص١۹۹۷؛حدیث نمبر؛٦٤٦١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو لڑکوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور دوسرا لڑکا انصارمیں سے تھا،مہاجر یا مہاجرین چلائے اے مہاجرو!اور انصاری پکارا اے انصاریو!اچانک رسول اکرم صلی اللہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا یہ کیا دور جاہلیت کی طرح پکارنا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ان میں سے ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں انسان کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہئے وہ ظالم ہو چاہے مظلوم اگر وہ ظالم ہے تو اسے روکے یہ اس کی مدد ہے اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛ترجمہ؛(مسلمان)بھائی کی مدد کرنا خواہ ظالم ہو یا مظلوم؛جلد٤ص١۹۹۸؛حدیث نمبر؛٦٤٦۲)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا تو انصاری نے پکارا اے انصار!اور مہاجر نے کہااے مہاجرین! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا زمانہ جاہلیت کی پکار ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار میں سے ایک شخص کی سرین پر مارا ہے آپ نے فرمایا اس بات کو چھوڑ دو یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے۔عبداللہ بن ابی نے سنا تو کہنے لگا اچھا!انہوں نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم!جب ہم مدینہ طیبہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن ماردوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں(کیونکہ بظاہر وہ مسلمان کہلاتا تھا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛جلد٤ص١۹۹۸؛حدیث نمبر؛٦٤٦۳)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ کی درخواست کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے ابن منصور کی روایت میں ہے عمرو نے کہا میں نے حضرت جابر سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ نَصْرِ الْأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦٤)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت(کی دیوار)کی طرح ہے کہ اس کی بعض اینٹیں دوسری بعض کو مضبوط کرتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛ترجمہ؛مومنوں کے درمیان باہمی رحمت،مہربانی اور مدد؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦۵)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہم محبت،رحم دلی اور مہربانی کے اعتبار سے مومنوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے جب ان میں سے کسی ایک عضو میں بیماری ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کا شکار ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص١۹۹۹؛حدیث نمبر؛٦٤٦٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۷)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک شخص کی طرح ہے اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو تمام جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۸)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامسلمان،ایک شخص کی طرح ہے اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو پورے جسم میں تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو پورے جسم میں تکلیف ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤٦۹)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٤٦٩ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤۷۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو شخص ایک دوسرے کو گالی دے تو اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہےجب تک مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ السِّبَابِ؛گالی دینے کی ممانعت؛جلد٤ص۲۰۰۰؛حدیث نمبر؛٦٤۷۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا بندے کے معاف کرنے سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ اسْتِحْبَابِ الْعَفْوِ وَالتَّوَاضُعِ؛ترجمہ؛در گزر کرنے اور انکساری کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۰۱؛حدیث نمبر؛٦٤۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر کرو جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ عرض کیا گیابتائے اگر وہ عیب میرے بھائی میں ہوں جس کا ذکر میں کروں؟آپ نے فرمایا اگر وہ عیب اب اس میں ہو جس کا ذکر تم کر رہے ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛ِبَابُ تَحْرِيمِ الْغِيبَةِ؛ترجمہ؛غیبت کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۰۱؛حدیث نمبر؛٦٤۷۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی جس شخص(کے عیبوں)پر دنیا میں پردہ ڈالتا ہے قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِشَارَةِ مَنْ سَتَرَ اللهُ تَعَالَى عَيْبَهُ فِي الدُّنْيَا، بِأَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ جس شخص کی دنیا میں پردہ پوشی کرتا ہے اس کے لیے آخرت میں پردہ پوشی کی بشارت؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی(کے عیب)کا پردہ رکھے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ بِشَارَةِ مَنْ سَتَرَ اللهُ تَعَالَى عَيْبَهُ فِي الدُّنْيَا، بِأَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷۵)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا اسے اجازت دو یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے جب وہ شخص آیا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے اس کے متعلق وہ فرمایا جو فرمایا تھا پھر اس سے نرمی سے بات کی آپ نے فرمایا اے عائشہ!قیامت کے دن اللہ تعالی کے ہاں سب سے برا شخص وہ ہوگا جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگ اسے ترک کر دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ؛ترجمہ؛جس شخص سے درشت کلامی کا خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنا؛جلد٤ص۲۰۰٢؛حدیث نمبر؛٦٤۷٦)
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں بئس اخوالقوم اور ابن العشیرہ کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۷)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛ترجمہ؛نرمی کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۸)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۷۹)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸۰)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!بےشک اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے وہ نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطاء کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطاء نہیں فرماتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال لی جاتی ہے اس کو بدصورت بنا دیتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰۳؛حدیث نمبر؛٦٤۸٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک سرکش اونٹ پر سوار ہوئیں اور اس کو چکر دینے لگیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!نرمی کرو اس کے بعد حدیث نمبر ٦٤٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّفْقِ؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٣)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر تھی اچانک اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت کی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایااونٹنی پرجو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔(بطور تنبیہ فرمایا) حضرت حصین فرماتے ہیں گویا میں اس اوٹنی کو دیکھ رہا ہوں وہ لوگوں کے درمیان چل رہی تھی اور کوئی شخص بھی اس سے تعرض نہیں کر رہا تھا۔(اس کی طرف توجہ نہیں کر رہا تھا) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند سے مروی ہے حضرت عمران نے کہا میں اس خاکی اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں۔دوسرے سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ جو سامان اس اونٹنی پر ہے وہ لے لو اور اس کی پیٹھ کو خالی کر کے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٤؛حدیث نمبر؛٦٤۸٥)
حضرت ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک لونڈی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا اچانک اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا درآں حالانکہ ان لوگوں کے درمیان پہاڑ کا تنگ درہ تھا اس نے کہا "چل"اےاللہ!اس پر لعنت کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ وہ اوننی نہ رہے جس پر لعنت کی گئی ہے۔ (لعنت کا معنی رحمت سے دوری ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات سے روکنے کے لئے یہ حکم دیا مقصد یہ تھا کہ لوگ یہ سوچ کر کہ اس اونٹنی کو چھوڑنا پڑے گا اس پر لعنت نہیں کریں گے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ آپ کا یہ ارشاد مروی ہے اللہ کی قسم!ہمارے ساتھ وہ اوٹنی نہ رہے جس پر اللہ تعالی کی طرف سے لعنت ہے یا جس طرح آپ نے فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی صدیق کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰۵؛حدیث نمبر؛٦٤۸٨)
امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۸٩)
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مرواننے اپنے پاس سے ام الدرداء رضی اللہ عنہا کی طرف گھر کا کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر ایک رات عبدالملک اٹھا اور اپنے خادم کو آواز دی اس نے دیر کردی عبدالملک نے اس پر لعنت کی۔ صبح ہوئی تو حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا میں نے رات کو سنا کے تم نے خادم پر لعنت کی ہے جب تم نے اسے بلایا اور میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کریں گے نہ گواہی دیں گے۔(اس درجہ سے محروم ہو جائیں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤٩٠)
امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹١)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شہادت دیں گے نہ شفاعت کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ!مشرکین کے خلاف دعا کیجئے آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا مجھے صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰۰٦؛حدیث نمبر؛٦٤۹۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے آپ سے کسی مسئلہ پر گفتگو کی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا۔اس(گفتگو)کے نتیجے میں آپ کو غصہ آیا تو آپ نے ان دونوں پر لعنت کی اور ان کی مذمت فرمائی جب وہ دونوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو جو بھلائی پہنچی وہ ان دونوں کو نہیں پہنچی آپ نے فرمایا وہ کیا؟میں نے عرض کیا آپ نے ان دونوں پر لعنت کی اور ان کو سخت الفاظ فرماے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے میں نے اپنے رب سے کیا شرط رکھی ہے؟میں نے کہا اے اللہ!میں بھی ایک انسان ہوں میں جس مسلمان پر لعنت کروں یا اس کی مذمت کروں تو اس کو اس کے لئے گناہوں سے پاگیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے۔ (یعنی بشری تقاضوں کے مطابق کسی کو برا بھلا کہ سکتا ہوں لیکن،اللہ!یہی کلمات اس شخص کے لئے رحمت بنا دے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے اور رحمت للعالمین ہونے کا اظہار ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں عیسیٰ کی سند سے مروی ہے آپ نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ان پر برائی بیان کی(برا بھلا کہا)ان پر لعنت کرکے ان کو نکال دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ!میں صرف بشر ہوں(اللہ نہیں ہوں)میں جس مسلمان شخص کو سب کروں،(برا بھلا کہوں)اس پر لعنت کروں یا اس کو سزا دوں تو اس(عمل)کو اس کے لئے گناہوں کی معافی اور رحمت بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مثل روایت کیا اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۷؛حدیث نمبر؛٦٤۹۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند سے اجر اور دوسری سند سے رحمت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦٤۹۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ!میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو عہد کے خلاف نہیں کرتا میں صرف ایک بشر ہوں میں جس مسلمان کو تکلیف دوں اس کو سب(برا بھلا)کروں اس پر لعنت کروں اسے ماروں تو اس عمل کو اس کے لئے گناہوں کی معافی اور ایسا درجہ قرب بنا دے کہ اس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦٤۹۹)
ابو الزناد نے کہا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت میں"جلدہ"ورنہ یہ"جلدۃ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اے اللہ!بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)ایک بشر ہیں جس طرح بشر کو غصہ آتا ہے ان کو بھی غصہ آیا ہے اور میں نے تجھ سے ایک عہد لیا تو اس کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کو تکلیف دوں یا اس کو سب(برا بھلا)کروں یا اس کو سزا دوں تو اسے اس کے لئے کفارہ اور ایسے قرب کا ذریعہ بنا دے جس کے باعث وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۸؛حدیث نمبر؛٦۵۰۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ!میں جس مومن بندے کو سب وشتم کروں تو اسے اس کے لیے قیامت کے دن قرب بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یا اللہ!میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کو سب و شتم کروں یا اس کو سزا دوں تو اسے اس کے لیے قیامت کے دن کفارہ بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک میں بشر ہوں اور میں نے اپنے رب سے شرط رکھی ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب وشتم کروں تو اس سب وشتم کو اس کے لئے پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہ(ام سلیم)حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یتیم لڑکی کو دیکھا تو فرمایا تو وہی ہے تو تو بڑی ہو گئی ہے تیری عمر زیادہ نہ ہو وہ یتیم لڑکی حضرت ام سلیم کے پاس روتی ہوئی واپس گئی حضرت ام سلیم نے پوچھا بیٹی!کیا ہوا۔اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی کہ میری عمر زیادہ نہ ہو میری عمر کبھی بھی بڑی نہ ہوگی یا(اس نے کہا)اب میرا زمانہ زیادہ نہیں ہوگا حضرت ام سلیم جلدی سے دوپٹہ اوڑھتی ہوئی نکلیں حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے ام سلیم!تمہیں کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ نے میری یتیمہ کے خلاف دعا کی آپ نے فرمایا ام سلیم وہ کیا؟انہوں نے کہا اس کا خیال ہے کہ آپ نے دعا کی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو اور اس کا زمانہ نہ بڑھے۔ راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا اے ام سلیم!کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے عہد لیا ہے اور کہا ہے کہ میں بشر ہوں جس طرح بشر راضی ہوتے ہیں میں بھی راضی ہوتا ہوں اور مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح دوسرے انسانوں کو غصہ آتا ہے میں اپنی امت میں سے کسی کے خلاف دعا کروں جس کا وہ مستحق نہ ہو تو اسے اس کے لیے پاکیزگی،رحمت اور ایسا قرب بنادے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو جائے۔ راوی ابو معن کہتے ہیں تینوں جگہ حدیث میں یتیمہ تصغیر کے ساتھ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۰۹؛حدیث نمبر؛٦۵۰٧)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ فرماتے ہیں میں آیا اور کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں فرماتے ہیں آپ نے دوبارہ فرمایا جاؤ اور ان کو بلا کر لاؤ اور میں نے پھر آکر کہا وہ کھانا کھا رہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے" ابن المثنی ؛کہتے ہیں میں نے امیہ سے"حطانی"کا معنی پوچھا تو انہوں نے کہا آپ نے مجھے تھپکی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۱۰؛حدیث نمبر؛٦۵۰٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں چھپ گیا اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً؛جلد٤ص۲۰۱۰؛حدیث نمبر؛٦۵۰٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سے سب سے برا آدمی وہ ہے جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛ترجمہ؛دو رخے آدمی کی مذمت؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین شخص وہ ہے جو دو چہروں والا ہو جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دیکھو گے لوگوں میں بدترین شخص وہ ہے جو دو چہروں والا ہے کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵١٢)
حضرت حمید بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ان کی ماں حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط جوان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی،نے بتایا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کراتا ہے اچھی بات کہتا ہے دوسروں کی طرف اچھی بات منسوب کرتا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے لوگوں کے ساتھ تین مواقع پر جھوٹ کی اجازت کے بارے میں سنا ہے لڑائی(کے دوران)لوگوں کے درمیان صلح کرانا اور مرد کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے خاوند سے جھوٹ بولنا۔ (مثلاً میاں بیوی میں بد گمانی کی وجہ سے جھگڑا اور اختلاف پیدا ہوجائے تو یہ مرد سے عورت کے بارے میں کہے کہ وہ تیرے بارے میں اچھے جذبات رکھتی ہے اسی طرح عورت سے مرد کے بارے میں کہے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۱؛حدیث نمبر؛٦۵۱۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس سند کے ساتھ ان تین میں جھوٹ کی اجازت حضرت ام کلثوم بنت عقبہ سے مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں دوسرے کی طرف خیر کی نسبت کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد حدیث کا باقی حصہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱۵)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت ترین حرام ہے وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے اور بےشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ؛ترجمہ؛چغلی کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱٦)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور بےشک جھوٹ فسق کی طرف لے جاتا ہے اور فسق جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ(اللہ تعالیٰ کے ہاں)اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛ترجمہ؛جھوٹ کی قباحت اور سچ کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۱۲؛حدیث نمبر؛٦۵۱۷)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور بے شک بندہ سچ کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور بےشک جھوٹ فسق ہے اور فسق جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بےشک بندہ جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں"عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۱۸)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر سچ بولنا لازم ہے بےشک سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو بے شک جھوٹ فسق کی طرف لے جاتا ہے اور فسق جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۱۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ صدق کا قصد کرتا ہے اور کذب کا قصد کرتا ہے اور ابن مسہر کی روایت میں ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسکو لکھ لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ؛جلد٤ص۲۰۱۳؛حدیث نمبر؛٦۵۲۰)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم لوگ رقوب کا کیا مطلب لیتے ہو؟ہم نے عرض کیا وہ شخص جس کی اولاد نہ ہو آپ نے فرمایا یہ(رقوب نہیں بلکہ(رقوب)وہ شخص ہے(جس نے آخرت میں استقبال کے لئے) پہلے اولاد کو نہ بھیجا ہو آپ نے پوچھا تم پہلوان کسے کہتے ہو؟فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں آپ نے فرمایا یہ پہلوان نہیں بلکہ وہ شخص(پہلوان)ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛ترجمہ؛غصہ کے وقت نفس پر قابو پانے کی فضیلت اور کس چیز کے ساتھ غصہ جاتا رہتا ہے؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص طاقت ور نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص طاقت ور نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے صحابہ کرام نے پوچھا پھر طاقت ور کون ہے؟یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱٤؛حدیث نمبر؛٦۵۲٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کونقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۵)
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے ایک دسرے کو گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ کہ دے تو اس کا غصہ چلا جاے وہ کلمہ یہ ہے۔ "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" اس شخص نے کہا آپ کے خیال میں میں پاگل ہوں؟ابن العلاء کی روایت میں فقط"ھل تری" کے الفاظ ہیں لفظ رجل نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲٦)
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا پس ان میں سے ایک کو غصہ آیا اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا مجھے ایک کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ پڑھ لے تو اس سے یہ(غصہ)چلا جاے وہ کلمہ"اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم" ہے۔ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تھی ان میں سے ایک شخص اس آدمی کی طرف اٹھا اور کہا تمہیں معلوم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کیا فرمایا یہ(فرمایا)کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص وہ کلمہ کہ لے تو اس کی یہ حالت دور ہو جائے وہ کلمہ"اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم"ہے اس شخص نے کہا تمہارے خیال میں میں پاگل ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ؛جلد٤ص۲۰۱۵؛حدیث نمبر؛٦۵۲۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالٰی نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو جب تک چاہا ان(کے جسم اقدس)کو وہاں رکھا ابلیس اس کے گرد گھوم کر دیکھنے لگا جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ یہ ایسی فطرت پر کیا گیا ہے کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۲۹)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛چہرے پر مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۱)
ایک اور سند سے یہ الفاظ مروی ہے"جب تم میں سے کوئی شخص مارے" (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱٦؛حدیث نمبر؛٦۵۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے(پر مارنے)سے بچے۔ چونکہ چہرہ حسن کا مقام ہے اور اس کے اعضاء کمزور ہیں اور علم سے متعلق اعضاء(حواس)اسی میں جمع ہے اور یہ تخلیق خداوندی کا شاہکار ہے اور اللہ تعالی جو صورت سے پاک ہے اس کے حسن کا مظہر ہے لہذا اس پر مارنے سے منع فرمایا۔۱۲ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳٦)
حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ملک شام میں کچھ لوگوں پر گزرے جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو خراج(نہ دینے)کی وجہ سے یہ سزا دی جا رہی ہے انہوں نےفرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں(ناحق)سزا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛ترجمہ؛انسان کو ناحق عذاب دینے پر سخت وعید؛جلد٤ص۲۰۱۷؛حدیث نمبر؛٦۵۳۷)
حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا شام میں کچھ قبطیوں پر گزر ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا ان کو یہ عذاب کیوں ہو رہا ہے۔لوگوں نے کہا ان کو جزیہ(نہ دینے)کی وجہ سے قید کیا گیا ہے۔ حضرت ہشام نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵۳۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے ایک سند میں ہے کہ اس وقت فلسطین میں ان کے امیر عمیر بن سعد تھے ہشام ان کے پاس گئے اور ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کو چھوڑنے کا حکم دیا پس ان کو چھوڑ دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵۳۹)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حمص کے حاکم نے جزیہ کے سلسلے میں کچھ قبطیوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہےتو انھوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (اس سے مراد ناحق عذاب دینا ہے اگر قصاص یا حدود وغیرہ کے سلسلے میں سزا دی جائے تو اس کا یہ حکم نہیں ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَعِيدُ الشَّدِيدُ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍِّ؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵٤٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تیر لے کر مسجد میں گزرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ان تیروں کے پیکان کو پکڑ لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۸؛حدیث نمبر؛٦۵٤۱)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کچھ تیر لے کر مسجد میں سے گزرا جن کے پیکان کھلے ہوئے تھے تو آپ نے ان کے پیکان پکڑنے کا حکم دیا تاکہ مسلمان کو چبھ نہ جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۲)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص کو جو مسجد میں تیر صدقہ کر رہا تھا حکم دیا کہ وہ ان کے پیکان پکڑ کر گزرے۔ابن رمح نے(یتصدق کی جگہ)"یصدق بالنبل"کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۳)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں یا بازار میں گزرے اور اس کے ہاتھ میں تیر ہو تو ان کے پیکان کو پکڑے پھر ان کے پیکان کو پکڑے پھر ان کے پیکان کو پکڑے(تاکید فرمائی) حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا(ہماری حالت یہ ہے کہ)اللہ کی قسم ہم میں سے بعض لوگ زندگی بھر ایک دوسرے کے چہروں پر تیر مارتے رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤٤)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو وہ اس کے پیکان کو پکڑے تاکہ کسی مسلمان کو کوئی چیز چبھ نہ جائے یا فرمایا اس کے پیکان کو اپنے قبضہ میں رکھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ أَمْرِ مَنْ مَرَّ بِسِلَاحٍ فِي مَسْجِدٍ أَوْ سُوقٍ أَوْ غَيْرِهِمَا مِنَ الْمَوَاضِعِ الْجَامِعَةِ لِلنَّاسِ أَنْ يُمْسِكَ بِنِصَالِهَا؛جلد٤ص۲۰۱۹؛حدیث نمبر؛٦۵٤۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارے کو ترک نہیں کرتا اگرچہ اس کا سگا بھائی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٣٦ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں یہ حدیث ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی ایک نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین کر کسی کو لگا دے اور وہ جہنم کے گڑھے میں جاگرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ؛جلد٤ص۲۰۲۰؛حدیث نمبر؛٦۵٤۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں چل رہا تھا کہ اس نے ایک خاردار شاخ دیکھی اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا تو اللہ تعالی نے اس کی نیکی قبول کرتے ہوئے اسے بخش دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛ترجمہ؛راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵٤۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گذرا تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو تکلیف نہ دے پھر وہ شخص جنت میں داخل کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے جنت میں ایک شخص کو پھرتے ہوئے دیکھا کیونکہ اس نے راستے میں گرے ہوئے درختوں کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛ترجمہ؛راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت مسلمانوں کو ایذاء دیتا تھا تو ایک شخص آیا اور اس نے اسے کاٹ دیا پس وہ جنت میں چلا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائے جس کے ذریعہ میں نفع حاصل کروں آپ نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۱؛حدیث نمبر؛٦۵۵۳)
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نہیں جانتا شاید آپ دنیا سے تشریف لے جائیں اور میں آپ کے بعد رہ جاؤں پس آپ مجھے آخرت کے لئے کوئی زاد راہ بتائے جس سے اللہ تعالی مجھے نفع دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرو اس طرح کرو ابوبکر اس عمل کو بھول گئے(جو فرمایا تھا)اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ إِزَالَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيق؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵٤)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کیونکہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مر گئی جس سے وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی وہ اس بلی کو کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی۔اور نہ ہی اسے کھولتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛ترجمہ؛بلی اور دیگر ایذاء نہ دینے والے جانور کو عذاب دینے کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۵)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٥٥ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اسے باندھ رکھا تھا وہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ ہی چھوڑتی تھی کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٥٧ کے مثل روایت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲۲؛حدیث نمبر؛٦۵۵۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت اپنی بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی اس نے اس کو باندھ رکھا تھا اسے کھانے پینے کو کچھ نہ دیتی اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے حتیٰ کہ وہ کمزوری کی وجہ سے مر گئی۔ (جب حیوانات کے بارے میں یہ صورت حال ہے تو انسان کو بھوکا رکھنے والے اور اذیت پہنچانے والوں کا کیا حال ہوگا جن لوگوں کا رزق اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ہاتھ میں رکھا ہے مثلاً حکمران اور مختلف اداروں کے سربراہ وغیرہ اور وہ معمولی تنخواہیں دیتے ہیں مہنگائی کا تدارک نہیں کرتے تو ان کو ان احادیث کی روشنی میں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْحَيَوَانِ الَّذِي لَا يُؤْذِي؛جلد٤ص۲۰۲٣؛حدیث نمبر؛٦۵۵۹)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عزت اللہ تعالیٰ کی ازار ہے اور کبریائی اس کی چادر ہے(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)جو شخص مجھ سے ان صفات کو لینے کی کوشش کرے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب تحریم الکبر؛ترجمہ؛تکبر کی حرمت؛جلد٤ص۲۰۲٣؛حدیث نمبر؛٦۵٦٠)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون شخص ہے جو میرے بارے میں قسم کھاتا ہے کہ فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا میں نے فلاں شخص کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع کردیا۔یا جس طرح فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الْإِنْسَانِ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰۲۳؛حدیث نمبر؛٦۵٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت سے غبار آلود بکھرے بالوں والے دروازوں سے دھتکارے جانے والے اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الضُّعَفَاءِ وَالْخَامِلِينَ؛ترجمہ؛ضعیفوں اور تنگ دست لوگوں کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔(یعنی اس گناہ کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ؛یہ کہنا منع ہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ؛جلد٤ص۲۰۲٤؛حدیث نمبر؛٦۵٦٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنادیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛ترجمہ؛ہمسایہ سے حسن سلوک اور خیر خواہی؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٦٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦٦)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مسلسل مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۷)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۸)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل نے وصیت کی جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربہ زیادہ رکھو پھر اپنے ہمسائے کے گھر والوں کو دیکھو اور اس کے ذریعہ ان سے حسن سلوک کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵٦۹)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگرچہ اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے ملنا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ؛جلد٤ص۲۰۲۵؛حدیث نمبر؛٦۵۷۰)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہمنشینوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جو چاہے حکم جاری کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الشفاعۃ فیما لیس بحرام؛ترجمہ؛جوکام حرام نہ ہوں ان میں شفاعت کا استحباب؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۱)
حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کسطوری اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے مشک والا ہاتھ تمہیں ویسے ہی مشک دے دے گا یا تم اسسے خریدو گے ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو تو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا ہاتھ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم کو اس سے بدبو آئے گی۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عمدہ مثال کے ذریعے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور بروں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیا حقیقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنا کر ہی امت فلاح پاسکتی ہے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب استحباب مُجالسۃ الصالحین ومُجانبۃقرناء السوء؛ ترجمہ؛نیکوں کی صحبت اختیار کرنا اور بروں کی صحبت سے بچنا مستحب ہے؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۲)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا اور میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے وہ کھجور اس کو دے دیں اس نے اس کو لے کر اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا پھر کھڑی ہوئی اور چلی گئی اور اس کی بیٹیاں بھی چلی گئیں(اس دوران)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے اس خاتون کا واقعہ بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیٹیوں کی پرورش سے آزمایا جائے پس وہ ان سے اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے حجاب ہوں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛باب فضل الاحسان الی البنات؛ ترجمہ؛بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک؛جلد٤ص۲۰۲٦؛حدیث نمبر؛٦۵۷۳)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں میرے پاس ایک مسکین خاتون آئی جس نے اپنی دو بیٹیوں کو اٹھایا ہوا تھا میں نے اس کو تین کھجوریں دیں اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دیں پھر اس کھجور کو کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھایا لیکن اس کی بیٹیوں نے اس سے وہ کھجور کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو جسے وہ کھانا چاہتی تھی دو ٹکڑے کرکے تقسیم کر دیا۔ ام المومنین فرماتی ہے مجھے اس کے اس عمل پر تعجب ہوا تو میں نے اس کا یہ عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لئے جنت کو واجب کر دیا یا اس کو دوزخ سے بچا لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ؛جلد٤ص۲۰۲۷؛حدیث نمبر؛٦۵۷٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دو لڑکیوں کی بلوغت تک پرورش کی قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ (دور جاہلیت میں عورتوں پر ظلم ہوتا تھا حتیٰ کہ بچیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات مبارکہ بلکہ اپنے عمل کے ذریعے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ؛جلد٤ص۲۰۲۷؛حدیث نمبر؛٦۵۷۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اس کو آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔ (قرآن مجید میں ہے"وان منکم الا واردھا"(ترجمہ)"اور ہر ایک نے اس آگ پر سے گزرنا ہے"تو اس آیت پر عمل کے طور پر وہ وہاں سے گزرے گا ورنہ وہ جہنم سے محفوظ ہوگا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛ترجمہ؛بچوں کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے سفیان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے آگ میں داخل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے انصار کے کچھ عورتوں سے فرمایا تم میں سے کسی ایک کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوں گی ان میں سے ایک عورت نے کہا یا دو(بچے)یا رسول اللہ!؟آپ نے فرمایا دو(بچے)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۸)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کی احادیث تو مرد لے گئے ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرما دے جن کی اللہ تعالی نے آپ کو تعلیم دی ہے آپ نے فرمایا فلاں فلاں دن جمع ہو جانا جب وہ اکٹھی ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو وہ باتیں سکھائیں جو اللہ تعالی نے آپ کو علم دیا تھا پھر فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے گی وہ اس کے لیے(جہنم کی)آگ سے حجاب ہوگی ایک عورت نے کہا اور دو،اور دو،اور دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دو،اور دو،اور دو(بھی) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۸؛حدیث نمبر؛٦۵۷۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے شعبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین ایسے بچے جو بالغ نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۰)
ابو حسان کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا میرے دو بچے فوت ہوگئے کیا آپ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث سنائیں گے جس سے ہمیں اپنے فوت شدہ لوگوں کے بارے میں تسلی ہو۔ انہوں نے فرمایا ہاں!چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہیں ان میں سے جس کی ملاقات اپنے باپ سے ہوگی یا(فرمایا)ماں باپ سے ہوگی تو وہ اس کے کپڑے یا (فرمایا)اس کے ہاتھ کو پکڑے گا جس طرح میں تمہارا یہ دامن پکڑتا ہوں پھر وہ اسے اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۱)
اسی سند سے مروی ہے کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جس سے ہمیں اپنے فوت شدہ لوگوں کے بارے میں تسلی ہوجائے؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۲۹؛حدیث نمبر؛٦۵۸۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے نبی اس کے لئے دعا کیجئے میں تین بچے دفن کر چکی ہوں آپ نے فرمایا تم نے تین بچے دفن کئے ہیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تمہارے لئے جہنم سے مضبوط بندش ہوگئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ!یہ بیمار ہے اور مجھے اس(کی موت)کا خدشہ ہے میں تین بچے دفن کر چکی ہوں آپ نے فرمایا تم نے جہنم سے مضبوط آڑ حاصل کرلی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبَہُِ؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو پس حضرت جبریل ان سے محبت کرتے ہیں وہ آسمان میں ندا کرتے ہیں اور کہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو پس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں پھر اس کے لئے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبریل کو بلاکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو پس حضرت جبریل اس سے بغض رکھتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ بےشک اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہے تم بھی اس سے بغض رکھو،فرماتے ہیں پس وہ لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں پھر اس کے لئے زمین میں بغض رکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛ترجمہ؛جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو اس سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے پھر آسمان و زمین والے اس سے محبت کرتے ہیں؛جلد٤ص۲۰۳۰؛حدیث نمبر؛٦۵۸۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ابن مسیب کی روایت میں بغض کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸٦)
سہیل بن صالح کہتے ہیں ہم عرفات میں تھے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہ حج کے لئے امیر تھے لوگ کھڑے ہوکر دیکھنے لگے تو میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان!میں گمان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟میں نے کہا اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ہے انہوں نے کہا تمہیں اپنے باپ کی قسم!تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوگی۔پھر حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا حَبَّبَهُ لِعَبَادِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام روحیں باہم مجتمع تھیں جن کا(اس وقت)تعارف تھا ان میں الفت پیدا ہوگئی اور جو(اس وقت)اجنبی تھیں ان میں اختلاف رہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات ہیں ان میں جو دور جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں(اور مؤمن ہوں)اور روحیں باہم مجتمع تھیں جن کا(اس وقت)تعارف تھا ان میں الفت ہوگئی اور جو(اس وقت اجنبی تھیں وہ(ایک دوسرے سے مختلف رہیں) (اسلام کے بغیر اچھائی کا کوئی تصور نہیں اور جب اسلام قبول کیا جائے تو خاندانی برتری کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں لہذا دین سے محبت ہی عزت کا اصل معیار ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ؛جلد٤ص۲۰۳۱؛حدیث نمبر؛٦۵۸٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ!قیامت کب ہوگی آپ نے اس سے پوچھا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت،آپ نے فرمایا تم اسی کے ساتھ رہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛ترجمہ؛آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھے گا؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۰)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ قیامت کب ہوگی؟آپ نے پوچھا تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے اس نے بڑی عبادت کا ذکر نہیں کیا اور یہ کہا لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوں گے جس سے محبت کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کے بعدحسب سابق ہے البتہ اس روایت میں یہ ہے کہ میں نے اتنی زیادہ تیاری نہیں کی جس پر اپنی تعریف کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے پوچھا قیامت کب ہوگی آپ نے اس سے دریافت فرمایا تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی اس نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بڑھ کر کسی بات پر خوشی نہیں ہوئی کہ آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میں اللہ تعالٰی،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان کے اعمال کی طرح نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۲؛حدیث نمبر؛٦۵۹۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو روایت کیا اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول میں ان سے محبت کرتا ہوں اور اس کے بعد والا جملہ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا یا رسول اللہ قیامت کب ہوگی؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا وہ شخص خاموش ہوگیا پھر عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے قیامت کے لیے زیادہ(نفلی)نماز زیادہ(نفلی)روزے اور زیادہ(نفلی)صدقات تیار نہیں کیے لیکن میں اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٥ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳۳؛حدیث نمبر؛٦۵۹۷)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے اور ابھی تک ان سے نہیں ملا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦۵۹۸)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٥٩٨ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦۵۹۹)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٥٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦٦٠٠)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ بتائیں ایک شخص اچھا عمل کرتا ہے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں آپ نے فرمایا یہ مومن کی فوری بشارت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أُثْنِيَ عَلَى الصَّالِحِ فَهِيَ بُشْرَى وَلَا تَضُرُّهُ؛جلد٤ص۲۰۳٤؛حدیث نمبر؛٦٦٠۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ؛بَابُ إِذَا أُثْنِيَ عَلَى الصَّالِحِ فَهِيَ بُشْرَى وَلَا تَضُرُّهُ؛جلد٤ص۲۰۳۵؛حدیث نمبر؛٦٦٠۲)
Muslim Shareef : Kitabul Birre Was Silate Wal Adaabe
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
|
•