asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Qadre

From 6603 to 6654

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق اور مصدوق ہیں،نے ہم سے بیان کیا کہ بے شک تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن جمع ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے تو وہ اس میں روح پھونکتے ہیں اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے اس کا رزق اس کی مدتِ حیات،اس کا عمل،اور وہ بدبخت ہے یا نیک،پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک تم میں سے ایک شخص اہل جنت والا عمل کرتا ہےحتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو وہ جہنمیوں والے کام کرتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا ہے حتی کہ اس شخص اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ترجمہ؛تقدیر کا بیان؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛ترجمہ؛ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کی کیفیت اس کے رزق،مدت حیات،عمل اور سعادت و شقاوت کا لکھا جانا؛جلد٤ص۲۰۳٦؛حدیث نمبر؛٦٦٠۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ : بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ؛ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا. وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ؛ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6603

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید تین سندیں اور بیان کی ہے وکیع کی روایت میں ہے کہ تم میں سے ہر شخص کی خلقت اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس راتوں تک جمع ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس راتوں یا چالیس دنوں کا ذکر نہیں جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دنوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳٦؛حدیث نمبر؛٦٦٠٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً "، وَقَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ : " أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا "، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَى " أَرْبَعِينَ يَوْمًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6604

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب چالیس یا پینتالیس راتوں میں نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے تو فرشتہ رحم میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہےاے میرے رب!کیا یہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟پھر یہ بات لکھ دی جاتی ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب!یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟پھر یہ امر لکھ دیے جاتے ہیں اور اس کا عمل اور اس کا ذکر،مدت حیات اور اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے پھر صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں پس ان میں کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ کوئی کمی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ، أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيُكْتَبَانِ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ، أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيُكْتَبَانِ، وَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6605

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا شقی وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں شقی ہو اور سعید وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت قبول کرے۔ حضرت عامر بن واثلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام حذیفہ بن اسید غفاری تھا،کے پاس آئے اور ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول سنایا انہوں نے فرمایا کوئی شخص عمل کے بغیر کیسے شقی ہو سکتا ہے ایک شخص نے ان سے کہا کیا آپ اس بات پر تعجب کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہے تو اللہ تعالی اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے تو وہ اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان،آنکھیں،کھال،گوشت اور ہڈیاں بناتاہے۔ پھر پوچھتا ہے اے میرے رب!یہ لڑکا ہے یا لڑکی تو تمہارا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اورفرشتہ لکھ لیتا ہے پھر کہتا ہے اے میرے رب اس کی مدت حیات(کتنی ہے)؟تو تمہارا رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اورفرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ پوچھتا ہے کہ اے میرے رب!اس کا رزق؟تو تمہارا رب جو چاہے فیصلہ فرماتا ہے اورفرشتہ اسے لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں کتاب لے کر نکل جاتا ہے پس جو فیصلہ ہوا اس پر زیادہ کرتا ہے نہ کم۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ. فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ : وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ ؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا، فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ، أَجَلُهُ. فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ، رِزْقُهُ. فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ، فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6606

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠۷)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6607

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں کانوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس دن ٹہرتا ہے پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے۔ زہیر(راوی)نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے صورت بنانے کی بجائے تخلیق کرنے کا ذکر کیا،پھر فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب! یہ مذکر ہے یا مونث پس اللہ تعالی اس کو مذکر یا مونث بناتا ہے۔پھر وہ کہتا ہے اےمیرے رب!اس کو کامل الاعضاء بناؤں یا ناقص الاعضاء؟پھر اللہ تعالیٰ اس کو کامل الاعضاء یا ناقص الاعضاء بناتا ہےفرشتہ پوچھتا ہے اس کا رزق کتنا ہے اور اس کی مدت حیات کتنی ہے نیز اس کا اخلاق کیسا ہے پھراللہ تعالی اس کو شقی یا سعید بناتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦٠۸)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَكُ - قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ قَالَ : الَّذِي يَخْلُقُهَا - فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ، أَسَوِيٌّ أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ، مَا رِزْقُهُ ؟ مَا أَجَلُهُ ؟ مَا خُلُقُهُ ؟ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6608

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مرفوعاً روایت کرتے ہیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)کہ رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہے جب اللہ تعالی اپنےاذن سے کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو چالیس اور کچھ راتیں گزرنے کے بعد اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦٠۹)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلْثُومٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِالرَّحِمِ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ، لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ". ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6609

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے وہ کہتا ہے اے میرے رب!یہ نطفہ ہےاے میرے رب!یہ جما ہوا خون ہے اے میرے رب!یہ گوشت کا لوتھڑا ہے پس جب اللہ تعالی کوئی مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب!مذکر یا مونث؟شقی یا سعید؟(اس کا رزق)کیا ہے اس کی زندگی کتنی ہے پس اس کے مطابق اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦۱۰)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ، نُطْفَةٌ. أَيْ رَبِّ، عَلَقَةٌ . أَيْ رَبِّ، مُضْغَةٌ . فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا، قَالَ : قَالَ الْمَلَكُ : أَيْ رَبِّ، ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَمَا الرِّزْقُ ؟ فَمَا الْأَجَلُ ؟ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6610

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی پس آپ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کو کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں سے کوئی جان(نفس)ایسا نہیں جس کا مکان جنت یا دوزخ میں اللہ نے نہ لکھ دیا ہو اور شقاوت وسعادت بھی لکھ دی جاتی ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا ہم اپنے متعلق لکھے ہوئے پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل ہی کی طرف ہوجائے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ اہل شقاوت ہی کے عمل کی طرف جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرو ہر چیز آسان کردی گئی ہے اہل سعادت کے لئے اہل سعادت کے سے اعمال کرنا آسان کردیا ہے اور اہل شقاوت کے لیے برے اعمال آسان کردیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: ٦] (ترجمہ)"جس نے صدقہ کیا،اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور نیکی کی تصدیق کی پس ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا،لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا ہم عنقریب اس کے لئے برائیوں کو آسان کر دیں گے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۹؛حدیث نمبر؛٦٦۱۱)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ ، فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ ، إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا وَقَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً ". قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ الْعَمَلَ ؟ فَقَالَ : مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ. فَقَالَ : " اعْمَلُوا ؛ فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ". ثُمَّ قَرَأَ : " { فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى } { وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى } { فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى } { وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى } { وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى } { فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى } ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6611

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(آیت کریمہ کو)پڑھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ، وَقَالَ : فَأَخَذَ عُودًا، وَلَمْ يَقُلْ : مِخْصَرَةً، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ : ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6612

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے سر اقدس کو اٹھایا اور فرمایا تم میں سے ہر ذی روح کا جنت یا دوزخ میں مقام معلوم ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم پس ہم عمل کیوں کریں کیا ہم(اسی لکھے ہوئے پر)بھروسہ نہ کریں آپ نے فرمایا نہیں،تم عمل کرو ہر شخص کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: (ترجمہ)"پس جس نے صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور نیکی کی تصدیق کی ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کر دیتے ہیں اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا اس کے لئے برائیوں کو آسان کر دیتے ہیں۔" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ، إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَ نَعْمَلُ ؟ أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " لَا، اعْمَلُوا ؛ فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ". ثُمَّ قَرَأَ : " { فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى } { وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى }، إِلَى قَوْلِهِ : { فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى } ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6613

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٦١٣ کے مثل روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6614

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا یارسول اللہ!ہمارے لیے ہمارا دین بیان فرمائیں گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہم جو عمل کرتے ہیں کیا یہ ان چیزوں سے متعلق ہے جن کو لکھ کر قلم خشک ہوگیے ہیں اور تقدیر الٰہی میں مقرر ہوچکے ہیں یا اس عمل کا تعلق مستقبل سے ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ان چیزیں سے متعلق ہے جس کے ساتھ قلم خشک ہوگئے اور تقدیریں جاری ہوگئیں انہوں نے پوچھا پھر عمل کس کے لیے ہے؟ زہیر کہتے ہیں پھر ابو الزبیر نے کوئی کلمہ کہا جس کو میں سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا تھا،انہوں نے کہا آپ نے فرمایا عمل کرو ہر ایک کے لئے آسان کر دیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۵)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ، أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ؟ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ ؟ قَالَ : " لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ". قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ زُهَيْرٌ : ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ : مَا قَالَ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6615

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا عمل آسان کردیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى، وَفِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6616

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرض کیا گیا یارسول اللہ!کیا اہل جہنم سے اہل جنت کا علم متعین ہوگیا(امتیاز ہوگیا)آپ نے فرمایا ہاں،فرماتے ہیں پوچھا گیا عمل کرنے والے عمل کس کے لیے تیار کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر شخص کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا جس کے لئے اسے پیدا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " نَعَمْ ". قَالَ : قِيلَ : فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6617

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں عبد الوارث کی سند میں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم.....(اگے حسب سابق ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۸)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ : قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6618

حضرت ابو الاسود دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا مجھے بتاؤ آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس میں مشقت برداشت کرتے ہیں کیا یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور ان پر تقدیر الٰہی مقرر ہوچکی ہے یا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دلائل ثابتہ کے مطابق نئے سرے سے عمل کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں میں نے کہا بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر ثابت ہوگئی ہے انہوں نے فرمایا کیا یہ ظلم نہیں،کہتے ہیں میں اس بات سے بہت خوفزدہ ہوگیا اور میں نے کہا ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی ملکیت اس کے قبضے میں ہے پس جو کچھ وہ کرے اس کے بارے میں پوچھا نہیں جاے گا حالانکہ مخلوق سے سوال ہوگا۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے میں تم سے پوچھا تو میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کی عقل کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ مزینہ(قبیلہ)کے دو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ!آپ بتائے آج لوگ عمل کرتے ہیں اور مشقت برداشت کرتے ہیں کیا اس کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر مقرر ہوچکی ہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دلائل ثابتہ کے مطابق از سر نو عمل کر رہے ہیں؟آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ان کا عمل اس کے مطابق ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کی تقدیر ثابت ہوچکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ثابت ہوچکی ہے۔ "قسم ہے انسان کی اور جس نے اس کو بنایا اور اس کو نیکی اور بدی کا الہام فرمایا" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۹)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ : أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ، أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ. قَالَ : فَقَالَ : أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا ؟ قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ : كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، فَـ { لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ }، فَقَالَ لِي : يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ، إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ، أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ : " لَا، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : { وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا } { فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا } ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6619

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص طویل مدت تک اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کا اہل جہنم کے عمل پر خاتمہ ہوتا ہے اور ایک شخص عرصہ دراز تک جہنمیوں والے کام کرتا ہے پھر اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6620

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص لوگوں کے نزدیک جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے اور وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص لوگوں کے سامنے جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت سے ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲۱)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ _ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6621

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام کا مباحثہ ہوا حضرت موسی علیہ السلام نے کہا اے آدم(علیہ السلام)آپ ہمارے باپ ہیں آپ نے ہمیں نامراد کیا اور جنت سے نکلوا دیا،حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایاآپ موسی(علیہ السلام) ہیں اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام کے ساتھ منتخب فرمایا اور اپنے دست قدرت سے آپ کے لیے تورات لکھی کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالی نےمیری پیدائش سے چالیس سال پہلے مقرر فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس حضرت آدم علیہ السلام(اس مباحثے میں)حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے پس حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ ایک روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام کے کلام میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے دست قدرت سے آپ کے لیے تورات لکھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ دِينَارٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ؛ فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ. فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً ؟ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَابْنِ عَبْدَةَ قَالَ أَحَدُهُمَا : " خَطَّ "، وَقَالَ الْآخَرُ : " كَتَبَ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6622

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام میں مباحثہ ہوا پس حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا آپ حضرت آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا آپ وہ ہیں جن کو اللہ تعالی نے ہر چیز کا علم دیا اور اپنی رسالت کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت دی،انہوں نے کہا ہاں،فرمایا پس آپ مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے مقرر کردی گئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۳؛حدیث نمبر؛٦٦۲۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ، وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6623

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام کااپنے رب کے ہاں مباحثہ ہوا تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا آپ حضرت آدم ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر آپ کی خطا کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر آنا پڑاحضرت آدم علیہ السلام نے کہا ہاں تم وہ موسی ہو جسے اللہ تعالی نے اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ فضیلت دی اور تمہیں وہ تختیاں دیں جن پر ہر چیز کا بیان ہے اور تمہیں سرگوشی کے لئے اپنا مقرب بنایا۔ تو تم بتاؤ میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے اللہ تعالی نے تورات کو لکھا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا چالیس سال پہلے،حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا آپ نے اس میں یہ بات پائی کہ حضرت آدم نے(بظاہر)اپنے رب کی معصیت کی اور وہ(صورتا)بھٹک گیا؟انہوں نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر مجھے اس عمل پر ملامت کر رہے ہو کہ جس کو اللہ تعالی نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۳؛حدیث نمبر؛٦٦۲٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ - وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَا : سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ؛ قَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ، ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ قَالَ مُوسَى : بِأَرْبَعِينَ عَامًا. قَالَ آدَمُ : فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا { وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى } ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً ؟ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6624

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام میں بحث ہوئی حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تم وہ آدم ہو جس کی خطا نے اسے جنت سے نکال دیا حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا تم وہ موسی ہو جسے اللہ تعالی نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ فضیلت دی پھر تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو میری تخلیق سے پہلے میرے مقدر میں لکھ دی گئی(اسی طرح)حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۵)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6625

امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٦٢٥کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲٦)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6626

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے حدیث نمبر ٦٦٢٥کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۷)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6627

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے مخلوق کی تقدیرآسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی فرمایا(اس وقت)اس کا عرش پانی پر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۸)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ : وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6628

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی اس میں یہ نہیں کہ عرش پانی پر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۹)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا : وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6629

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہے وہ جس طرح چاہتا ہے دلوں کو پھیر دیتا ہے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: "اے اللہ!دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ تَصْرِيفِ اللهِ تَعَالَى الْقُلُوبَ كَيْفَ شَاءَ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۰)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6630

حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اصحاب سے ملاقات کی وہ سب کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہےفرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز تقدیر سے متعلق ہے حتی کہ عجز اور قدرت یا قدرت اور عجز۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ بَابُ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۱)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ : كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ. قَالَ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ ". أَوِ : " الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6631

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے متعلق بحث کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ، إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] "جس دن جہنم میں اوندھے گھسیٹے جائیں گے دوزخ کا عذاب چکھوں بے شک ہم نے ہر چیز تقدیر کے ساتھ بنائی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ بَابُ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ : { يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ } { إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ }.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6632

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے نزدیک"لمم" کی بہترین تفسیر وہ ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ابن آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا ہےوہ لا محالہ اسے پائے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا(حرام بات)کہنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ قُدِّرَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٦؛حدیث نمبر؛٦٦۳۳)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ - قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى، أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ؛ فَزِنَى الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ ". قَالَ عَبْدٌ فِي رِوَايَتِهِ : ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6633

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر آدمی پر اس کے زنا کا جو حصہ لکھا گیا ہے وہ اس سے لا محالہ ملے گا پس آنکھوں کا زنا(حرام چیزوں کو)دیکھنا ہے کانوں کا زنا(حرام باتوں کو)سننا ہے زبان کا زنا(حرام باتیں)کہنا ہے،ہاتھ کا زنا پکڑنا اور پاؤں کا زناچلنا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ قُدِّرَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَى، مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6634

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور کے ہاں کامل الاعضاء بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تمہیں اس میں کوئی کٹا ہوا جانور محسوس ہوتا ہے پھرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھو: {فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ} [الروم: ٣٠] "اپنے اوپر اللہ کی بنائی ہوئی فطرت(سرشت)کو لازم کر لو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیااللہ کی پیدا کی ہوئی سرشت میں سے کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳۵)

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ " ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : { فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ }، الْآيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6635

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سند اور بیان کی ہیں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں"جیسے جانور کے ہاں جانور پیدا ہوتا ہے"اس میں کامل الاعضاء کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً "، وَلَمْ يَذْكُرْ : جَمْعَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6636

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا یہ آیت پڑھو: {فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ} [الروم: ٣٠] "اپنے اوپر اللہ کی بنائی ہوئی فطرت(سرشت)کو لازم کر لو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیااللہ کی پیدا کی ہوئی سرشت میں سے کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی یہی دین مستقیم ہے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳۷)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ". ثُمَّ يَقُولُ : اقْرَءُوا : { فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ }.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6637

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مولود،فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی،عیسائی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! بتائیے اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟فرمایا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦۳۸)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشَرِّكَانِهِ ". فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6638

امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں۔ ہر مولودملت پر پیدا ہوتا ہے اور دوسری سند کے ساتھ ہے اس ملت پر پیدا ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ زبان سے اس چیز کا اظہار کرے۔ابومعاویہ کی روایت میں ہے ہر مولود اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے حتیٰ کہ اس کی زبان اس کی تعبیر کر دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦۳۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ " إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ، حَتَّى يُبِينَ عَنْهُ لِسَانُهُ " وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ " لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ، حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6639

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو(بچہ)پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی اور عیسائی بنا دیتے ہیں جس طرح اونٹ کا بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی کان کٹا پاتے ہو؟بلکہ تم اس کے کان کاٹ دیتے ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! بتائیے جو بچہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے؟فرمایا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ، فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6640

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں اور اگر ماں باپ مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے ہر انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کی کوکھوں میں ٹھونگ لگاتا ہے سوائے حضرت مریم اور اس کے بیٹے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦٤۱)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ، فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6641

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۲)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6642

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں اس حدیث میں اولاد کی بجائے مشرکین کی ذریت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۳)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ح وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْقِلٍ : سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6643

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مشرکین کے جو بچے بچپن میں فوت ہوجائیں(ان کا کیا انجام ہو گا)آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6644

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۵)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6645

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام قتل کئے تھے اس کے دل پر کفر کی مہر لگی ہوئی تھی اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں مبتلا کردیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6646

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک بچہ فوت ہوگیا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشی ہے یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بےشک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور جہنم کو پیدا کیا اس کے لئے بھی کچھ بنایا اور اس کے لئے کچھ لوگوں کو بنایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۷)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : تُوُفِّيَ صَبِيٌّ، فَقُلْتُ : طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا وَلِهَذِهِ أَهْلًا ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6647

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچے کا جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا تو میں نے کہا اس بچے کے لئے خوشی ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ اس کا زمانہ پایا۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا اس کے علاوہ کچھ ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے بنایا اور وہ ابھی اپنے آبا کی پشتوں میں تھے اور کچھ لوگوں کو جہنم کا اہل بنایا دراں حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ : دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ. قَالَ : " أَوَغَيْرَ ذَلِكِ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا، خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا، خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6648

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ح وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ، نَحْوَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6649

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی۔ اے اللہ!مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،اپنے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نفع عطاء کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا جو مقرر ہیں جو دن معین ہیں اور جو رزق تقسیم ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی چیز کو اس کے وقت سے مقدم نہیں کرے گا اور نہ اس کے وقت سے مؤخر کرے گا اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتیں کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ دے تو یہ بہتر اور افضل بات تھی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی نے ان بندروں کا ذکر کیا یا شاید خنزیروں کا ذکر کیا جن کے چہرے مسخ کئے گئے تھے(کہ آیا یہ ان لوگوں کی نسل ہے یا الگ مخلوق ہے)آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسخ شدہ قوم کی نسل آگے نہیں چلائی بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛ترجمہ؛عمر اور رزق وغیرہ تقدیر میں مقرر ہیں ان میں کمی زیادتی نہیں ہوتی؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦۵۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ. قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ، أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ؛ كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ ". قَالَ : وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ - قَالَ مِسْعَرٌ : وَأُرَاهُ قَالَ : وَالْخَنَازِيرُ - مِنْ مَسْخٍ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا ، وَقَدْ كَانَتِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6650

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں عذاب نار اور عذاب قبر کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۱؛حدیث نمبر؛٦٦۵۱)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ بِشْرٍ وَوَكِيعٍ جَمِيعًا " مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6651

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی۔ اے اللہ!مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میرے والد حضرت ابوسفیان اور میرے بھائی حضرت معاویہ سے نفع عطاء فرمانا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا جو مقرر ہیں ان قدموں کا سوال کیا جو چلاے ہوئے معین ہیں اور ان رزقوں کا جو تقسیم ہو چکے ہیں ان میں سے کوئی چیز وقت پورا ہونے سے پہلے نہیں ہوگی اور نہ وقت پورا ہونے کے بعد مؤخر ہوگی۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!کیا یہ بندر اور خنزیر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے چہرے مسخ کئے گئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو ہلاک کیا یا عذاب دیا اس کی نسل کو آگے نہیں چلایا بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛جلد٤ص۲۰۵۱؛حدیث نمبر؛٦٦۵۲)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ - وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ حَجَّاجٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ، وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ؛ لَكَانَ خَيْرًا لَكِ ". قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا، أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6652

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛جلد٤ص۲۰۵۲؛حدیث نمبر؛٦٦۵۳)

حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ "، قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ : وَرَوَى بَعْضُهُمْ " قَبْلَ حِلِّهِ " أَيْ نُزُولِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6653

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوی مؤمن،کمزور مومن سے بہتر اور َزیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بہتری ہے جو چیز تمہیں نفع دے اس میں حرص کرو اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو اور تھک کر بیٹھ نہ جاؤ اور اگر تمہیں کوئی مصیبت آے تو یوں نہ کہو کاش میں ایسا ایسا کر لیتا البتہ یہ یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اس نے جو چاہا کردیا یہ لفظ کاش شیطان کا عمل کھولتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْقُوَّةِ وَتَرْكِ الْعَجْزِ وَالِاسْتِعَانَةِ بِاللهِ وَتَفْوِيضِ الْمَقَادِيرِ لِلَّهِ؛جلد٤ص۲۰۵۲؛حدیث نمبر؛٦٦۵٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ : لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا. وَلَكِنْ قُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ. فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qadre, Hadees No. 6654

Muslim Shareef : Kitabul Qadre

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْقَدَرِ

|

•