
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق اور مصدوق ہیں،نے ہم سے بیان کیا کہ بے شک تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن جمع ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے تو وہ اس میں روح پھونکتے ہیں اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے اس کا رزق اس کی مدتِ حیات،اس کا عمل،اور وہ بدبخت ہے یا نیک،پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک تم میں سے ایک شخص اہل جنت والا عمل کرتا ہےحتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو وہ جہنمیوں والے کام کرتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا ہے حتی کہ اس شخص اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ترجمہ؛تقدیر کا بیان؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛ترجمہ؛ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کی کیفیت اس کے رزق،مدت حیات،عمل اور سعادت و شقاوت کا لکھا جانا؛جلد٤ص۲۰۳٦؛حدیث نمبر؛٦٦٠۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید تین سندیں اور بیان کی ہے وکیع کی روایت میں ہے کہ تم میں سے ہر شخص کی خلقت اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس راتوں تک جمع ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس راتوں یا چالیس دنوں کا ذکر نہیں جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دنوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳٦؛حدیث نمبر؛٦٦٠٤)
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب چالیس یا پینتالیس راتوں میں نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے تو فرشتہ رحم میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہےاے میرے رب!کیا یہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟پھر یہ بات لکھ دی جاتی ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب!یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟پھر یہ امر لکھ دیے جاتے ہیں اور اس کا عمل اور اس کا ذکر،مدت حیات اور اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے پھر صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں پس ان میں کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ کوئی کمی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠۵)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا شقی وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں شقی ہو اور سعید وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت قبول کرے۔ حضرت عامر بن واثلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام حذیفہ بن اسید غفاری تھا،کے پاس آئے اور ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول سنایا انہوں نے فرمایا کوئی شخص عمل کے بغیر کیسے شقی ہو سکتا ہے ایک شخص نے ان سے کہا کیا آپ اس بات پر تعجب کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب نطفہ پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہے تو اللہ تعالی اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے تو وہ اس کی صورت بناتا ہے اور اس کے کان،آنکھیں،کھال،گوشت اور ہڈیاں بناتاہے۔ پھر پوچھتا ہے اے میرے رب!یہ لڑکا ہے یا لڑکی تو تمہارا رب جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اورفرشتہ لکھ لیتا ہے پھر کہتا ہے اے میرے رب اس کی مدت حیات(کتنی ہے)؟تو تمہارا رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اورفرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ پوچھتا ہے کہ اے میرے رب!اس کا رزق؟تو تمہارا رب جو چاہے فیصلہ فرماتا ہے اورفرشتہ اسے لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں کتاب لے کر نکل جاتا ہے پس جو فیصلہ ہوا اس پر زیادہ کرتا ہے نہ کم۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۷؛حدیث نمبر؛٦٦٠۷)
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں کانوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس دن ٹہرتا ہے پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے۔ زہیر(راوی)نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے صورت بنانے کی بجائے تخلیق کرنے کا ذکر کیا،پھر فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب! یہ مذکر ہے یا مونث پس اللہ تعالی اس کو مذکر یا مونث بناتا ہے۔پھر وہ کہتا ہے اےمیرے رب!اس کو کامل الاعضاء بناؤں یا ناقص الاعضاء؟پھر اللہ تعالیٰ اس کو کامل الاعضاء یا ناقص الاعضاء بناتا ہےفرشتہ پوچھتا ہے اس کا رزق کتنا ہے اور اس کی مدت حیات کتنی ہے نیز اس کا اخلاق کیسا ہے پھراللہ تعالی اس کو شقی یا سعید بناتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦٠۸)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مرفوعاً روایت کرتے ہیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)کہ رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہے جب اللہ تعالی اپنےاذن سے کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو چالیس اور کچھ راتیں گزرنے کے بعد اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦٠۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے وہ کہتا ہے اے میرے رب!یہ نطفہ ہےاے میرے رب!یہ جما ہوا خون ہے اے میرے رب!یہ گوشت کا لوتھڑا ہے پس جب اللہ تعالی کوئی مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب!مذکر یا مونث؟شقی یا سعید؟(اس کا رزق)کیا ہے اس کی زندگی کتنی ہے پس اس کے مطابق اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۸؛حدیث نمبر؛٦٦۱۰)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ بقیع الغرقد میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی پس آپ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کو کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں سے کوئی جان(نفس)ایسا نہیں جس کا مکان جنت یا دوزخ میں اللہ نے نہ لکھ دیا ہو اور شقاوت وسعادت بھی لکھ دی جاتی ہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا ہم اپنے متعلق لکھے ہوئے پر بھروسہ کرکے عمل کو چھوڑ نہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل ہی کی طرف ہوجائے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ اہل شقاوت ہی کے عمل کی طرف جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرو ہر چیز آسان کردی گئی ہے اہل سعادت کے لئے اہل سعادت کے سے اعمال کرنا آسان کردیا ہے اور اہل شقاوت کے لیے برے اعمال آسان کردیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: ٦] (ترجمہ)"جس نے صدقہ کیا،اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور نیکی کی تصدیق کی پس ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا،لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا ہم عنقریب اس کے لئے برائیوں کو آسان کر دیں گے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰۳۹؛حدیث نمبر؛٦٦۱۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(آیت کریمہ کو)پڑھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۲)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے آپ نے سر اقدس کو اٹھایا اور فرمایا تم میں سے ہر ذی روح کا جنت یا دوزخ میں مقام معلوم ہے،صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم پس ہم عمل کیوں کریں کیا ہم(اسی لکھے ہوئے پر)بھروسہ نہ کریں آپ نے فرمایا نہیں،تم عمل کرو ہر شخص کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: (ترجمہ)"پس جس نے صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور نیکی کی تصدیق کی ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کر دیتے ہیں اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا اس کے لئے برائیوں کو آسان کر دیتے ہیں۔" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۳)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٦١٣ کے مثل روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا یارسول اللہ!ہمارے لیے ہمارا دین بیان فرمائیں گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہم جو عمل کرتے ہیں کیا یہ ان چیزوں سے متعلق ہے جن کو لکھ کر قلم خشک ہوگیے ہیں اور تقدیر الٰہی میں مقرر ہوچکے ہیں یا اس عمل کا تعلق مستقبل سے ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ان چیزیں سے متعلق ہے جس کے ساتھ قلم خشک ہوگئے اور تقدیریں جاری ہوگئیں انہوں نے پوچھا پھر عمل کس کے لیے ہے؟ زہیر کہتے ہیں پھر ابو الزبیر نے کوئی کلمہ کہا جس کو میں سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا تھا،انہوں نے کہا آپ نے فرمایا عمل کرو ہر ایک کے لئے آسان کر دیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٠؛حدیث نمبر؛٦٦۱۵)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا عمل آسان کردیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عرض کیا گیا یارسول اللہ!کیا اہل جہنم سے اہل جنت کا علم متعین ہوگیا(امتیاز ہوگیا)آپ نے فرمایا ہاں،فرماتے ہیں پوچھا گیا عمل کرنے والے عمل کس کے لیے تیار کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر شخص کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا جس کے لئے اسے پیدا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں عبد الوارث کی سند میں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم.....(اگے حسب سابق ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۸)
حضرت ابو الاسود دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا مجھے بتاؤ آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس میں مشقت برداشت کرتے ہیں کیا یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور ان پر تقدیر الٰہی مقرر ہوچکی ہے یا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دلائل ثابتہ کے مطابق نئے سرے سے عمل کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں میں نے کہا بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر ثابت ہوگئی ہے انہوں نے فرمایا کیا یہ ظلم نہیں،کہتے ہیں میں اس بات سے بہت خوفزدہ ہوگیا اور میں نے کہا ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی ملکیت اس کے قبضے میں ہے پس جو کچھ وہ کرے اس کے بارے میں پوچھا نہیں جاے گا حالانکہ مخلوق سے سوال ہوگا۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے میں تم سے پوچھا تو میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کی عقل کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ مزینہ(قبیلہ)کے دو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ!آپ بتائے آج لوگ عمل کرتے ہیں اور مشقت برداشت کرتے ہیں کیا اس کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے اور تقدیر مقرر ہوچکی ہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دلائل ثابتہ کے مطابق از سر نو عمل کر رہے ہیں؟آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ان کا عمل اس کے مطابق ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کی تقدیر ثابت ہوچکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ثابت ہوچکی ہے۔ "قسم ہے انسان کی اور جس نے اس کو بنایا اور اس کو نیکی اور بدی کا الہام فرمایا" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۱؛حدیث نمبر؛٦٦۱۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص طویل مدت تک اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کا اہل جہنم کے عمل پر خاتمہ ہوتا ہے اور ایک شخص عرصہ دراز تک جہنمیوں والے کام کرتا ہے پھر اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲۰)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص لوگوں کے نزدیک جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے اور وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص لوگوں کے سامنے جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت سے ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام کا مباحثہ ہوا حضرت موسی علیہ السلام نے کہا اے آدم(علیہ السلام)آپ ہمارے باپ ہیں آپ نے ہمیں نامراد کیا اور جنت سے نکلوا دیا،حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایاآپ موسی(علیہ السلام) ہیں اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام کے ساتھ منتخب فرمایا اور اپنے دست قدرت سے آپ کے لیے تورات لکھی کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالی نےمیری پیدائش سے چالیس سال پہلے مقرر فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس حضرت آدم علیہ السلام(اس مباحثے میں)حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے پس حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ ایک روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام کے کلام میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے دست قدرت سے آپ کے لیے تورات لکھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۲؛حدیث نمبر؛٦٦۲٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام میں مباحثہ ہوا پس حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا آپ حضرت آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا آپ وہ ہیں جن کو اللہ تعالی نے ہر چیز کا علم دیا اور اپنی رسالت کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت دی،انہوں نے کہا ہاں،فرمایا پس آپ مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے مقرر کردی گئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۳؛حدیث نمبر؛٦٦۲۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام کااپنے رب کے ہاں مباحثہ ہوا تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا آپ حضرت آدم ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر آپ کی خطا کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر آنا پڑاحضرت آدم علیہ السلام نے کہا ہاں تم وہ موسی ہو جسے اللہ تعالی نے اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ فضیلت دی اور تمہیں وہ تختیاں دیں جن پر ہر چیز کا بیان ہے اور تمہیں سرگوشی کے لئے اپنا مقرب بنایا۔ تو تم بتاؤ میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے اللہ تعالی نے تورات کو لکھا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا چالیس سال پہلے،حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا آپ نے اس میں یہ بات پائی کہ حضرت آدم نے(بظاہر)اپنے رب کی معصیت کی اور وہ(صورتا)بھٹک گیا؟انہوں نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر مجھے اس عمل پر ملامت کر رہے ہو کہ جس کو اللہ تعالی نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤۳؛حدیث نمبر؛٦٦۲٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام میں بحث ہوئی حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تم وہ آدم ہو جس کی خطا نے اسے جنت سے نکال دیا حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا تم وہ موسی ہو جسے اللہ تعالی نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ فضیلت دی پھر تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو میری تخلیق سے پہلے میرے مقدر میں لکھ دی گئی(اسی طرح)حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٦٢٥کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے حدیث نمبر ٦٦٢٥کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۷)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے مخلوق کی تقدیرآسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی فرمایا(اس وقت)اس کا عرش پانی پر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی اس میں یہ نہیں کہ عرش پانی پر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۰٤٤؛حدیث نمبر؛٦٦۲۹)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہے وہ جس طرح چاہتا ہے دلوں کو پھیر دیتا ہے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: "اے اللہ!دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیر دے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ تَصْرِيفِ اللهِ تَعَالَى الْقُلُوبَ كَيْفَ شَاءَ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۰)
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اصحاب سے ملاقات کی وہ سب کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہےفرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز تقدیر سے متعلق ہے حتی کہ عجز اور قدرت یا قدرت اور عجز۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ بَابُ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے متعلق بحث کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ، إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] "جس دن جہنم میں اوندھے گھسیٹے جائیں گے دوزخ کا عذاب چکھوں بے شک ہم نے ہر چیز تقدیر کے ساتھ بنائی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛ بَابُ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ؛جلد٤ص۲۰٤۵؛حدیث نمبر؛٦٦۳۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے نزدیک"لمم" کی بہترین تفسیر وہ ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ابن آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا ہےوہ لا محالہ اسے پائے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا(حرام بات)کہنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ قُدِّرَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٤٦؛حدیث نمبر؛٦٦۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر آدمی پر اس کے زنا کا جو حصہ لکھا گیا ہے وہ اس سے لا محالہ ملے گا پس آنکھوں کا زنا(حرام چیزوں کو)دیکھنا ہے کانوں کا زنا(حرام باتوں کو)سننا ہے زبان کا زنا(حرام باتیں)کہنا ہے،ہاتھ کا زنا پکڑنا اور پاؤں کا زناچلنا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ قُدِّرَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور کے ہاں کامل الاعضاء بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تمہیں اس میں کوئی کٹا ہوا جانور محسوس ہوتا ہے پھرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھو: {فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ} [الروم: ٣٠] "اپنے اوپر اللہ کی بنائی ہوئی فطرت(سرشت)کو لازم کر لو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیااللہ کی پیدا کی ہوئی سرشت میں سے کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سند اور بیان کی ہیں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں"جیسے جانور کے ہاں جانور پیدا ہوتا ہے"اس میں کامل الاعضاء کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا یہ آیت پڑھو: {فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ} [الروم: ٣٠] "اپنے اوپر اللہ کی بنائی ہوئی فطرت(سرشت)کو لازم کر لو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیااللہ کی پیدا کی ہوئی سرشت میں سے کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی یہی دین مستقیم ہے" (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۷؛حدیث نمبر؛٦٦۳۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مولود،فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی،عیسائی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! بتائیے اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟فرمایا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦۳۸)
امام مسلم رحمت اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں۔ ہر مولودملت پر پیدا ہوتا ہے اور دوسری سند کے ساتھ ہے اس ملت پر پیدا ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ زبان سے اس چیز کا اظہار کرے۔ابومعاویہ کی روایت میں ہے ہر مولود اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے حتیٰ کہ اس کی زبان اس کی تعبیر کر دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦۳۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو(بچہ)پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی اور عیسائی بنا دیتے ہیں جس طرح اونٹ کا بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی کان کٹا پاتے ہو؟بلکہ تم اس کے کان کاٹ دیتے ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! بتائیے جو بچہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے؟فرمایا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں اور اگر ماں باپ مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے ہر انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کی کوکھوں میں ٹھونگ لگاتا ہے سوائے حضرت مریم اور اس کے بیٹے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۸؛حدیث نمبر؛٦٦٤۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں اس حدیث میں اولاد کی بجائے مشرکین کی ذریت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مشرکین کے جو بچے بچپن میں فوت ہوجائیں(ان کا کیا انجام ہو گا)آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰٤۹؛حدیث نمبر؛٦٦٤۵)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام قتل کئے تھے اس کے دل پر کفر کی مہر لگی ہوئی تھی اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں مبتلا کردیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤٦)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک بچہ فوت ہوگیا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشی ہے یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بےشک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور جہنم کو پیدا کیا اس کے لئے بھی کچھ بنایا اور اس کے لئے کچھ لوگوں کو بنایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۷)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچے کا جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا تو میں نے کہا اس بچے کے لئے خوشی ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور نہ اس کا زمانہ پایا۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا اس کے علاوہ کچھ ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے بنایا اور وہ ابھی اپنے آبا کی پشتوں میں تھے اور کچھ لوگوں کو جہنم کا اہل بنایا دراں حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦٤۹)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی۔ اے اللہ!مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،اپنے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نفع عطاء کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا جو مقرر ہیں جو دن معین ہیں اور جو رزق تقسیم ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی چیز کو اس کے وقت سے مقدم نہیں کرے گا اور نہ اس کے وقت سے مؤخر کرے گا اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتیں کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ دے تو یہ بہتر اور افضل بات تھی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی نے ان بندروں کا ذکر کیا یا شاید خنزیروں کا ذکر کیا جن کے چہرے مسخ کئے گئے تھے(کہ آیا یہ ان لوگوں کی نسل ہے یا الگ مخلوق ہے)آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسخ شدہ قوم کی نسل آگے نہیں چلائی بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛ترجمہ؛عمر اور رزق وغیرہ تقدیر میں مقرر ہیں ان میں کمی زیادتی نہیں ہوتی؛جلد٤ص۲۰۵۰؛حدیث نمبر؛٦٦۵۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں عذاب نار اور عذاب قبر کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ؛جلد٤ص۲۰۵۱؛حدیث نمبر؛٦٦۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی۔ اے اللہ!مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میرے والد حضرت ابوسفیان اور میرے بھائی حضرت معاویہ سے نفع عطاء فرمانا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا جو مقرر ہیں ان قدموں کا سوال کیا جو چلاے ہوئے معین ہیں اور ان رزقوں کا جو تقسیم ہو چکے ہیں ان میں سے کوئی چیز وقت پورا ہونے سے پہلے نہیں ہوگی اور نہ وقت پورا ہونے کے بعد مؤخر ہوگی۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!کیا یہ بندر اور خنزیر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے چہرے مسخ کئے گئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو ہلاک کیا یا عذاب دیا اس کی نسل کو آگے نہیں چلایا بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛جلد٤ص۲۰۵۱؛حدیث نمبر؛٦٦۵۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْآجَالَ وَالْأَرْزَاقَ وَغَيْرَهَا لَا تَزِيدُ وَلَا تَنْقُصُ عَمَّا سَبَقَ بِهِ الْقَدَرُ؛جلد٤ص۲۰۵۲؛حدیث نمبر؛٦٦۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوی مؤمن،کمزور مومن سے بہتر اور َزیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بہتری ہے جو چیز تمہیں نفع دے اس میں حرص کرو اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو اور تھک کر بیٹھ نہ جاؤ اور اگر تمہیں کوئی مصیبت آے تو یوں نہ کہو کاش میں ایسا ایسا کر لیتا البتہ یہ یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اس نے جو چاہا کردیا یہ لفظ کاش شیطان کا عمل کھولتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْقَدَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْقُوَّةِ وَتَرْكِ الْعَجْزِ وَالِاسْتِعَانَةِ بِاللهِ وَتَفْوِيضِ الْمَقَادِيرِ لِلَّهِ؛جلد٤ص۲۰۵۲؛حدیث نمبر؛٦٦۵٤)
Muslim Shareef : Kitabul Qadre
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْقَدَرِ
|
•