asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare

From 5758 to 6814

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے بندہ مجھے اپنے گمان کے مطابق پاتا ہےاور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہےاگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو تنہا یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں(رحمت مراد ہے)۔ (مسلم شریفكتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛ترجمہ؛ذکر،دعا،توبہ اور استغفار؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛ذکرِ الٰہی کی ترغیب؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸۵)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6685

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ مذکور نہیں کہ اگر وہ ایک ہاتھ کا اندازہ میرے قریب ہو تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب جاتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6686

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب بندہ ایک بالشت کی مقدار میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک بالشت کی مقدار بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ کی مقدار بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار ہاتھ کی مقدار جاتا ہوں اور اگر وہ چار ہاتھ کی مقدار بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف تیزی سے جاتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6687

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے راستے پر چل رہے تھے کہ آپ ایک پہاڑ پر گزرے جس کو جمدان کہا جاتا ہے آپ نے فرمایا چلتے رہو یہ جمدان ہے مفردون سبقت لے گیے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ! مفردون کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۲؛حدیث نمبر؛٦٦۸۸)

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ : جُمْدَانُ، فَقَالَ : " سِيرُوا، هَذَا جُمْدَانُ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ ". قَالُوا : وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6688

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ننانوے اسمائے مبارکہ ہےجس نے ان کو یاد کیا وہ جنت میں جائے گا اور اللہ تعالی وتر ہے(ایک ہے)اور وتر(طاق)کو پسند کرتا ہے ابن عمر کی روایت میں ہے جس نے ان ناموں کو شمار کیا۔ (مسلم شریف:كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ اور ان کو یاد کرنے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰٦۲؛حدیث نمبر؛٦٦۸٩)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ " مَنْ أَحْصَاهَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6689

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ننانوے نام (یعنی)ایک کم سو نام ہیں جس نے ان کو شمار کیا(یاد کیا)وہ جنت میں داخل ہوگا۔ہمام نے یہ اضافہ کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالی وتر(ایک) ہے اور وہ وتر(طاق کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۰)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". وَزَادَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6690

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دعا کرے تو دعا میں اصرار کرے اور یہ نہ کہے یا اللہ اگر تو چاہے تو عطا کر کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛ترجمہ؛دعا میں اصرار کرنا اور یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو عطا کر؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ، وَلَا يَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6691

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دعا مانگے تو یہ نہ کہے یا اللہ اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے بلکہ وہ اصرار اور(یقین کے)ساتھ سوال کرے اور بہت رغبت رکھے کیونکہ اللہ تعالی کے لیے کوئی چیز دینا مشکل نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6692

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ کہے یا اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے یا اللہ!اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما دعا میں اصرار کرے کیونکہ اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۳)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ. لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6693

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی کسی آنے والی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے اور اگر تمنا کرنا ضروری ہو تو یوں کہے یا اللہ!مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے دینا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛ترجمہ؛کسی مصیبت پر موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹٤)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6694

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ٦٦٩٤ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس روایت میں"نزل"کی جگہ"اصابہ"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۵)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6695

حضرت نضر بن انس نے اس وقت روایت کیا جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ زندہ تھے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایاہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹٦)

حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ، قَالَ أَنَسٌ : لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ". لَتَمَنَّيْتُهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6696

حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگائے تھے انہوں نے فرمایا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فِي بَطْنِهِ، فَقَالَ : لَوْمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ ؛ لَدَعَوْتُ بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6697

امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۸)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6698

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی موت کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن کی عمر زیادہ ہونے سے خیر میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦٦۹۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ، مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُهُ إِلَّا خَيْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6699

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالی سے ملنے کو محبوب رکھے اللہ تعالی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالی سے ملنے کو ناپسند کرے اللہ تعالی اسے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف,كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛ترجمہ؛جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو محبوب رکھے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۰)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6700

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ٦٧٠٠ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف, كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۱)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6701

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملنے کو پسند فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (ام المؤمنين فرماتی ہیں)میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا موت کی ناپسندیدگی بھی؟ہم میں سے ہر شخص موت کو ناپسند کرتا ہے آپ نے فرمایا اس طرح نہیں ہے بلکہ مؤمن کو جب اللہ تعالیٰ کی رحمت،اس کی رضا اور اس کی جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ تعالیٰ عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ". فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ. فَقَالَ : " لَيْسَ كَذَلِكِ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ ؛ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ. وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ ؛ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6702

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰۳)

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6703

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت،اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6704

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث نمبر ٦٧٠٤ کے مثل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰۵)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6705

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت شریح بن ہانی فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا اے ام المؤمنين!میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ اگر واقعی اسی طرح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے جو ہلاک ہوا وہ واقعی ہلاک ہوا۔وہ کیا حدیث ہے۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور ہم میں کوئی ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا تھا لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو تم سمجھے ہو لیکن جب آنکھیں اوپر اٹھ جائیں سینہ میں دم گھٹنے لگے،رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو جائیں اس وقت جو شخص اللہ تعالیٰ کے ملاقات کو پسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ". قَالَ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا. فَقَالَتْ : إِنَّ الْهَالِكَ مَنْ هَلَكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ". وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ. فَقَالَتْ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ، وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ، وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، وَتَشَنَّجَتِ الْأَصَابِعُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6706

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۷)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6707

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6708

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں(بندہ جس طرح گمان کرے اللہ تعالیٰ کو اسی طرح پاتا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۹)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6709

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے جب بندہ مجھ سے ایک بالشت کے برابر قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ(گز)اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک ہاتھ کی مقدار قریب ہوتا ہے میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ - وَهُوَ التَّيْمِيُّ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا - أَوْ بُوعًا - وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6710

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6711

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور وہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے تنہا یاد کرے تو میں بھی اسے تنہا یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت کے مقدار میرے قریب آے تو میں ایک ہاتھ کا اندازہ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ کی مقدار میرے قریب آئے تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6712

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے اس کا دس گنا ہے اور میں(اس سے)زیادہ بھی دیتا ہوں اور جو شخص برائی کا ارتکاب کرے اس کا بدلہ اس کی مثل ہے یا میں اس کو معاف کردیتا ہوں۔ اور جو آدمی ایک بالشت کے مقدار میرے قریب آے تو میں ایک ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کا اندازہ میرے قریب آتا ہے میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو شخص میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں اور جو شخص تمام روے زمین کے برابر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملاقات کرے اور اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں اس کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6713

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس کے دس مثل اجر ملتا ہے اور میں مزید اجر دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، أَوْ أَزِيدُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6714

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت فرمائی جو چوزے کی طرح لاغر ہوگیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتا تھا یا اس سے کوئی سوال کرتا تھا؟ اس نے عرض کیا جی ہاں! میں کہتا تھا یا اللہ!تو نے مجھے جو عذاب آخرت میں دینا ہے وہ دنیا میں ہی دے دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!تم اس کی طاقت نہیں رکھتے یا فرمایا اس کی استطاعت نہیں رکھتے تم نے یہ کیوں نہیں کہا۔ یا اللہ مجھے دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھلائی عطاء کرنا اور مجھے آگ کے عذاب سے بچانا۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے اس کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطاء فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ الدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱۵)

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ ، فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ، أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ، مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ - أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ - أَفَلَا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6715

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی اس میں"ہمیں دوزخ سے بچا"تک حدیث ہے اس کے بعد زیادتی نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱٦)

حَدَّثَنَاهُ عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : " وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6716

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں سے ایک کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور وہ چوزے کی طرح ہوگیا تھا...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧١٥ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ بات مذکور نہیں کہ آپ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۷)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ، وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ ". وَلَمْ يَذْكُرْ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6717

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6718

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے گشت کرنے والے ہیں وہ مجالس ذکر کو تلاش کرتے ہیں اور جب کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ان فرشتوں میں سے بعض دوسرے بعض فرشتوں کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں حتیٰ کہ زمین سے آسمان تک جگہ بھر جاتی ہے۔ جب ذاکرین مجلس اٹھ جاتے ہیں تو یہ بھی اوپر آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ علم والا ہے،کہ تم کہاں سے آئے ہو؟وہ کہتے ہیں ہم تیرے کچھ بندوں کے پاس سے آے ہیں جو زمین میں تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری بڑائی بیان کرتے ہیں اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں۔ (سبحان اللہ الحمد للہ لا الہ الا اللہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں) نیز وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں؟اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے وہ مجھ سے کس بات کا سوال کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے۔وہ کہتے ہیں اے میرے رب!انہوں نے نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب تیری آگ سے(جہنم سے)اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے میری آگ کو دیکھا ہے؟وہ عرض کرتے ہیں نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ میری آگ کو دیکھ لیتے تو کیا حالت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے بخشش طلب کرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کو بخش دیا اور انہوں نے جو کچھ مانگا میں نے ان کو عطاء کردیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ مانگی میں نے ان کو پناہ دے دی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے کہتے ہیں اے رب!ان میں فلاں خطأ کار بندہ بھی تھا وہ وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان کو بخش دیا یہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ؛ترجمہ؛مجالس ذکر کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا ، يَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ، حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ : فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، وَيَسْأَلُونَكَ. قَالَ : وَمَاذَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالُوا : يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ. قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا : لَا، أَيْ رَبِّ. قَالَ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا : وَيَسْتَجِيرُونَكَ. قَالَ : وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي ؟ قَالُوا : مِنْ نَارِكَ، يَا رَبِّ. قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا : لَا. قَالَ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا : وَيَسْتَغْفِرُونَكَ. قَالَ : فَيَقُولُ : قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا، وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا. قَالَ : فَيَقُولُونَ : رَبِّ، فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ، إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ. قَالَ : فَيَقُولُ : وَلَهُ غَفَرْتُ ؛ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6719

حضرت قتادہ نے حضرت انس(رضی اللہ عنہ)سے سوال کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کونسی دعا مانگا کرتے تھے انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار" "اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا" حضرت قتادہ فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی جب بھی دعا کا ارادہ کرتے تو یہی دعا مانگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ بِاللهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؛جلد٤ص۲۰٧٠؛حدیث نمبر؛٦۷۲۰)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - قَالَ : سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا : أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ ؟ قَالَ : كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ : وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6720

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعاء کرتے تھے۔(ترجمہ)اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں اچھائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ بِاللهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۱)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " { رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6721

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دن میں سو مرتبہ پڑھا: "لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر" "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے" اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اس کے لیے ایک سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے ایک سو گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور اس دن اسے شیطان سے حفاظت حاصل ہوتی ہے حتیٰ کہ شام ہوجائے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں کرسکتا ماسوائے اس شخص کے جو ان کلمات کو اس سے زیادہ پڑھے۔ اور جو آدمی"سبحان اللہ وبحمدہ"ایک دن میں ایک سو مرتبہ پڑھے اس کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ - كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ. فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6722

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح اور شام کے وقت یہ کلمات ایک سو بار پڑھے۔"سبحان اللہ وبحمدہ"تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں لا سکتا البتہ یہ کہ کوئی شخص اس کے برابر یا اس سے زیادہ بار یہ کلمات کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۳)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ. مِائَةَ مَرَّةٍ - لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ، أَوْ زَادَ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6723

حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں جس شخص نے دس بار یہ"کلمات پڑھے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر"اس کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ سلیمان نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ ربیع بن خثیم سے روایت کیا شعبی کہتے ہیں میں نے ربیع سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے انہوں نے کہا حضرت عمرو بن میمون سے سنی ہے فرماتے ہیں پھر میں عمرو بن میمون کے پاس گیا اور پوچھا آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ابن ابی لیلا سے سنی ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے۔ انہوں نے فرمایا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ - حَدَّثَنَا عُمَرُ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ : مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. عَشْرَ مِرَارٍ - كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ. وَقَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ. قَالَ : فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ؟ قَالَ : مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى. قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ؟ قَالَ : مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6724

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے اور میزان پر بھاری ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں"سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6725

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا"سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"کہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6726

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا مجھے کچھ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " "ترجمہ"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بہت تعریف ہے اللہ پاک ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے نیکی کرنے اور برائی سے رکنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب حکمت والا ہے۔" اس نے کہا یہ کلمات تو میرے رب کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے فرمایا یوں کہو: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی "یا اللہ!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطاء فرما۔" راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے"عافنی"کا لفظ بھی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اس راوی کا قول ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ. قَالَ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ". قَالَ : فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي ". قَالَ مُوسَى : أَمَّا عَافِنِي، فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَى.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6727

حضرت ابو مالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو جو اسلام قبول کرتا یہ کلمات سکھاتے: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۲۸)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6728

ابو مالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز کی تعلیم دیتے پھر اسے ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیتے: "الھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وارزقنی" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۲۹)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6729

حضرت ابو مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!میں اپنے رب سے سوال کرتے ہوئے کیا کہوں تو آپ نے فرمایا یوں کہو: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی" آپ نے انگوٹھے کے علاوہ تمام انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا یہ کلمات تمہارے لئے دنیا اور آخرت کے جامع ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۰)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي - وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ - فَإِنَّ هَؤُلَاءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6730

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کماے۔اہل مجلس میں سے ایک شخص نے سوال کیا ہم میں سے کوئی ایک کس طرح ایک ہزار نیکیاں کما سکتا ہے؟فرمایا ایک سو بار سبحان اللہ کہے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی یا اس سے ایک ہزار گناہ مٹا دئے جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ " فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ : " يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6731

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی مشکلات میں سے کسی مشکل کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کرے گا اور جو آدمی کسی تنگ دست کو کوئی آسانی مہیا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے(مسلمان)بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔اور جو شخص طلب علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر کچھ لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر سکون نازل کرتا ہے،ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور جس کا عمل تاخیر کرے اس کا نسب اس کے لیے جلدی نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٤؛حدیث نمبر؛٦۷۳۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا ؛ نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ ؛ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا ؛ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ. وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ؛ سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ؛ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ. وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ ؛ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6732

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧٣٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس کی ایک سند کے ساتھ تنگ دست پر آسانی کرنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِرِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6733

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان دونوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ نے فرمایا جب کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھتی ہے تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں،یا رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے ان پر سکون نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6734

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧٤؛حدیث نمبر؛٦۷۳۵)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6735

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد کے حلقے میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر گزرے تو پوچھا تم لوگ کیوں بیٹھے ہو؟انہوں نے فرمایا بخدا!تم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہو۔انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم!ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو!میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے کم بیان کرنے والا کوئی نہیں بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے پر گزرہوا تو پوچھا کیوں بیٹھے ہو؟انہوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے لئے بیٹھے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور ہم پر احسان فرمایا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا!تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم!ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!میں نے تم پر کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی بلکہ میرے پاس جبرئیل آے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں تم پر فخر کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ : مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ. قَالَ : آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ. قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ " قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا. قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ " قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ. قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6736

حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل پر کبھی(انوار الٰہی کے غلبے سے)ابر چھا جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں ایک سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ "

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6737

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو!اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو بےشک میں ایک دن میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَغَرَّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى اللَّهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6738

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷۳۹)

حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6739

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مغرب سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ؛ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6740

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو!اپنے نفسوں پر نرمی کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو تم سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے قریب ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت میں آپ کے پیچھے"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"(گناہوں سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت اللہ تعالیٰ کی عطاء ہے)کے بغیر ممکن نہیں)کہ رہا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!کیا میں جنت کے خزانوں میں سے کسی خزانے پر تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیوں نہیں،آپ نے فرمایا"لاحول ولا قوۃ الا باللہ"پڑھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷٤۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا، وَهُوَ مَعَكُمْ ". قَالَ : وَأَنَا خَلْفَهُ، وَأَنَا أَقُولُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6741

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6742

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ایک شخص جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتا بلند آواز سے"لا الہ الا اللہ واللہ اکبر"کہتا۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو پھر فرمایا اے ابو موسیٰ یا فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!کیا میں جنت کے خزانوں میں سے کسی خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کیا ہے؟فرمایا"لاحول ولا قوۃ الا باللہ" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤۳)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَى : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ : فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ". قَالَ : فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6743

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے...پھر حدیث نمبر ٦٧٤٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6744

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے...پھر حدیث نمبر ٦٧٤٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤۵)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6745

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے....پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں یہ ہے کہ جس کو تم پکار رہے ہو وہ تمہاری اونٹنی کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ : " وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6746

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے یا فرمایا جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟میں نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں،آپ نے فرمایا"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٩،حدیث نمبر؛٦۷٤۷)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ - أَوْ قَالَ : عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى. فَقَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6747

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں آپ نے فرمایا یہ کہا کرو: "الہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا" "یا اللہ!میں نے اپنے نفس پر بہت بڑا ظلم کیا ہے" قتیبہ کی روایت میں کبیرا کی جگہ کثرا ہے(اس کے بعد یوں ہے) "ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحيم" "اور گناہوں کو صرف تو بخشتا ہے پس تو مجھے اپنی طرف سے بخشش عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما تو بہت بخشنے والا مہربان ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۸؛حدیث نمبر؛٦۷٤۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي. قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا - وَقَالَ قُتَيْبَةُ : كَثِيرًا - وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6748

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں مانگو...پھر اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں"ظلما کثیرا"ہے(کبیرا نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٩؛حدیث نمبر؛٦۷٤۹)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : ظُلْمًا كَثِيرًا.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6749

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے۔ «اللهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ» (ترجمہ)"یا اللہ!میں آگ کے فتنہ سے،آگ کے عذاب سے،قبر کے فتنہ سے،قبر کے عذاب سے،مالدار کے فتنہ سے اور فقر کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ!میری خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے اور میرے قلب کو خطاؤں سے پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کردیا میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اس طرح دوری کردے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ہے۔ یااللہ!میں،سستی،بڑھاپے،گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰٧۸؛حدیث نمبر؛٦۷۵۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6750

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ وَغَيْرِهَاِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۱)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6751

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: یااللہ میں کمزوری،سستی،بزدلی،بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6752

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کیا البتہ اس میں زندگی اور موت کی آزمائشوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ يَزِيدَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلُهُ : " وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6753

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں سے پناہ مانگی انہوں نے ان کا ذکر کیا اور بخل سے بھی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَعَوَّذَ مِنْ أَشْيَاءَ ذَكَرَهَا، وَالْبُخْلِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6754

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے اے اللہ میں بخل، سستی،ارذل عمر(بہت بڑھاپا)عذاب قبر اور زندگی و موت کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6755

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بری تقدیر سے بد بختی کے پانےدشمنوں کی خوشی سے اور سخت آزمائش سے پناہ مانگتے تھے۔ابوسفیان کہتے ہیں مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں ایک بات کا اضافہ کیا(دشمن کسی پر خوش ہوا اس کو"شماتت اعداء"کہتے ہیں) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٦)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ، وَمِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ، وَمِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَمِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ. قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ : قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ أَنِّي زِدْتُ وَاحِدَةً مِنْهَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6756

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہاسے سنا وہ فرماتی ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی منزل پر اترنے کے بعد یہ کلمات پڑھے،تو جب تک اس جگہ سے روانہ نہ ہوا کوئی چیز نقصان نہیں دےگی۔ "میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر مخلوق کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔" (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6757

حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی منزل پر اترے تو یہ کلمات کہے۔ میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔ تو جب تک وہاں سے رخصت نہ ہواسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷۵۸)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 5758

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یارسول اللہ!مجھے گزشتہ رات بچھو نے کاٹ لیا ہے آپ نے فرمایا شام کے وقت تم یہ کلمات کہ دیتے تو تمہیں بچھو ضرر نہ دیتا۔ "میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر مخلوق کے شر سے پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷۵۹)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ، قَالَ يَعْقُوبُ : وَقَالَ الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ. قَالَ : " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. لَمْ تَضُرَّكَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6759

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کو بچھو نے کاٹ لیا تھا اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷٦٠)

وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6760

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی خوابگاہ میں جانے لگو تو نماز کے وضو جیسا وضو کرلو پھر دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ کلمات کہو۔ "یااللہ!میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اپنی پشت تیری پناہ میں دے دی تجھ سےبچنے کے لیے تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے اتارا اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا"۔ یہ دعا تمہارا آخری کلام ہونا چاہیے اگر تمہیں اس رات موت آجائے تو فطرت (اسلام)پر مروگے۔حضرت براء فرماتے ہیں میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے دہرایا تومیں نے کہا"انت برسولک الذی ارسلت"آپ نے فرمایا یوں کہو"انت بنبیک الذی ارسلت" (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷٦۱)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ؛ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ". قَالَ : فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ، فَقُلْتُ : آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. قَالَ : قُلْ : " آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6761

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اس حدیث کو روایت کیا ہے اس روایت میں یہ اضافہ ہے اگر تم صبح کو اٹھو گے تو تمہیں خیر حاصل ہوگی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦۲)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ : وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6762

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹنے لگے تو یوں کہے: اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کردیا اپنی پیٹھ کو تیری پناہ میں دے دیا اور تیری طرف رغبت کرتے ہوئے تجھ سے ڈرتے ہوئے اپنے معاملات کو تیرے حوالے کردیا تجھ سے بچنے کیلئے پناہ گاہ بھی توہی ہے میں تیری نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا اور تیرے رسول پر ایمان لایا جس کو تو نے بھیجا۔" پس اگر وہ شخص مر گیا تو فطرت پر مرے گا ابنِ بشار نے اپنی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔(فطرت سے مراد اسلام ہے) (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ؛ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ". وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ : مِنَ اللَّيْلِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6763

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اے فلاں!جب تم اپنے بستر پر جاؤ... اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس روایت میں ہے"اور میں اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا"اگر تم اس رات فوت ہوگئے تو فطرت پر فوت ہوگے اور اگر صبح اٹھوگے تو خیر پاؤ گے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " يَا فُلَانُ، إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6764

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا پھر اس کے بعد حدیث نمبر٦٧٦٣کے مثل روایت ہے۔ اس میں یہ بات مذکور نہیں"اگر صبح اٹھوگے تو خیر پاؤ گے"۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦۵)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6765

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ،حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں تشریف لے جاتے تو یہ کلمات پڑھتے: "اے اللہ!میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا"۔ اورجب بیدار ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں وفات دینے سونے کے بعد(زندہ)بیدار کیا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ ". وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6766

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کریں: یااللہ!تو نے میرے نفس کو پیدا کیاتو ہی اس کو فوت کرے گا اس کی موت اور زندگی تیرے لئے ہے اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کر اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کو بخش دینا،یا اللہ!میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔" ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ دعا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے اس ذات سے سنی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦۷)

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي، وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ ". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ ؟ فَقَالَ : مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : سَمِعْتُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6767

حضرت سہیل کہتے ہیں ابو صالح ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر سوے اور یوں کہے: اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے تورات انجیل اور قرآن مجید کو اتارنے والے میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے دور کوئی چیز نہیں ہم سےقرض کو دور کر دے اور ہمیں فقر سے بے نیاز کر دے۔" حضرت ابوصالح یہ حدیث بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷٦۸)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ ". وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6768

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سونے کے لئے جائیں تو یہ دعا کریں....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ اور فرمایا میں ہر اس جانور کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو نے پیشانی سے پکڑا ہوا ہے(یعنی تیرے قبضے اور کنٹرول میں ہے) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷٦۹)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ : " مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6769

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے خادم مانگا آپ نے فرمایا تم کہواےسات آسمانوں کے رب!اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧٦٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷۷۰)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ لَهَا : " قُولِي : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6770

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر آئے تو تہبند کے اندرونی حصے کو پکڑے اور اس کے ساتھ بستر کو جھاڑے اور بسم اللہ پڑھے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس کے بستر پر کون(جانور) آیا تھا پھر جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یوں کہے: "اے اللہ!تو پاک ہے تو میرا رب ہے تیرے نام پر میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرے نام پر اٹھاؤں گا اگر تو میرے نفس کو روک دے تو اسے بخش دینا اور اگر اس کو چھوڑ دے(زندہ رکھے)تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷۷۱)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، وَلْيُسَمِّ اللَّهَ ؛ فَإِنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، وَلْيَقُلْ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6771

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں ہے کہ یہ دعا کرے: "میں نے اپنے رب کے نام پر اپنا پہلو رکھا اگر تو میرے نفس کو زندہ رکھے تو اس پر رحم فرما" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۲)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " ثُمَّ لْيَقُلْ : بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6772

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو یہ دعا مانگتے: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا ہمیں کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانہ دیا کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو کفایت کرنے والا اور ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُئْوِيَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6773

حضرت فروۃ بن نوفل اشجعی فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کون سی دعائیں مانگتے تھے انہوں نے فرمایا آپ یوں کہتے تھے: "یا اللہ!میں اپنے عمل کے شر سے اور جو عمل میں نے نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ، قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6774

حضرت فروہ بن نوفل فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں پوچھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے انہوں نے فرمایا آپ یوں دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میں نے جو کام کیا اس کے شر سے اور جو کام نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6775

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں ایک سند کےساتھ"ومن شر مالم اعمل"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ " وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6776

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہتے ہیں: "میں اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا اور اس کے شر سے جو نہیں کیا تیری پناہ چاہتا ہوں" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۷)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6777

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: "اےاللہ!میں تیرے لیے اسلام لایا،تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر بھروسہ کیا،تیری طرف رجوع کیا تیری مدد سے جنگ کی۔ یا اللہ!میں تیرے گمراہ کرنے سے (بندہ خود اپنے عمل سے گمراہ ہوتا ہے لیکن چونکہ افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے اس کی طرف نسبت کی گئی)تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو زندہ ہے جس کے لیے موت نہیں جب کہ جن اور انسان مر جائیں گے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۸)

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6778

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں صبح اٹھتے تو فرماتے: سننے والے نے اللہ تعالی کی حمد اور اس کی ہم پر آزمائش کے حسن کو سن لیا اےہمارے رب!ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر فضل فرما ہم جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۹)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ : " سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6779

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میری خطا،میری نادانی،میرے معاملے میں میری زیادتی اور جس بات کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے،بخش دے۔ یا اللہ!جو کام میں نے سنجیدہ کئے،مذاق میں کئے،خطاًکئے یا جان بوجھ کر کئے اور ہر وہ کام جو میرے نزدیک گناہ ہے،معاف فرما دے۔ یا اللہ!جو کام میں نے پہلے کئے،جو میں نے بعد کئے،جو میں نے چھپ کر کئےاور جو ظاہراً کئے اور جن کاموں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب بخش دے تو مقدم کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے رکھنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہے آپ نے امت کی تعلیم کے لیے یہ کلمات فرمائے۔) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۰)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6780

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۱)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6781

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میرے دین کو درست کر دے جو میرے معاملے کا محافظ ہے میری دنیا کو درست کر دے جس میں میری روزی ہے اور میرے آخرت کو درست کر دے جس میں میرا تیری طرف لوٹنا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں میرے لئے زیادتی کا باعث بنا اور میری وفات کو ہر شر سے میری راحت بنا دے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۲)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْقُطَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6782

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: یااللہ!میں تجھ سے ہدایت،تقویٰ،پاک دامنی اور غناء کا سوال کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6783

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں عفت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى قَالَ فِي رِوَايَتِهِ : " وَالْعِفَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6784

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تم سے اس طرح کہتا ہوں جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا آپ فرماتے تھے: یااللہ!میں عاجزی،سستی،بزدلی،بخل، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ "یااللہ!میرے نفس کو اس کا تقوی عطاءفرما اور اس کو پاک کردے تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے یا اللّٰہ!میں نفع نہ دینے والے علم،نہ ڈرنے والے دل،نہ سیر ہونے ہونے والے نفس اور ایسی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو قبول نہ ہو"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۸؛حدیث نمبر؛٦۷۸۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6785

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا کرتے تھے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لئے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "اسی کے لیے ملک ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۸؛حدیث نمبر؛٦۷۸٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ". قَالَ الْحَسَنُ : فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6786

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لیے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے ان کلمات میں یہ بھی فرمایا: اللہ کے لیے ملک ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا اور اس رات کے شر اور اس رات کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" اور جب صبح اٹھتے تو بھی یہی دعا کرتے اے اللہ!ہم نے صبح کی اور ملک نے اللہ کے لیے صبح کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۷)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ". قَالَ : أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ : " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ". وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا : " أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6787

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لیے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے اس رات کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے اور بڑھاپے کی خرابی،دنیا کے فتنےاور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسکی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ". قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رَفَعَهُ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6788

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا کیا،اپنے بندےکی مدد کی اور تنہا لشکروں کو مغلوب کیا اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۹)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6789

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یوں کہو: یا اللہ!مجھے ہدایت عطا فرما اور سیدھا رکھ اور ہدایت کی دعا کے وقت اپنے راستے کی ہدایت اور سیدھا رکھنے کی دعا کے وقت تیر کے سیدھا ہونے کو یاد کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۰)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي. وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6790

اسی سند کے ساتھ مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یوں کہو: "اے اللہ!میں تجھ سے ہدایت اور راہ راست پر رہنے کا سوال کرتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۱)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6791

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ہی ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اس وقت اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھیں پھر آپ دن چڑھے تشریف لائے تو وہ اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی آپ نے فرمایا جب سے میں تمہارے پاس سے گیا ہوں تم مسلسل اسی حالت میں ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین بار کہے ہیں اگر ان کا وزن اس سے کیا جائے جو تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے یہ بھاری ہو جائیں وہ کلمات یہ ہیں:"سبحان اللہ"الخ" (ترجمہ)"اللہ تعالی کی حمد اور تسبیح ہے اس کی مخلوق کی تعداد اس کی رضا، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۲)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ : " مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6792

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد ان کے پاس سے گزرے اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں اس طرح ہےاللہ تعالی کے لیےتسبیح ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر،اللہ تعالی کے لیے تسبیح ہے اس کی رضا کے برابر اللہ تعالی کے لیے پاکیزگی ہے اس کے عرش کے وزن کے برابر اللہ تعالی کے لیے پاکیزگی ہے اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ : مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ - أَوْ بَعْدَمَا صَلَّى الْغَدَاةَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6793

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں چکی پیسنے کی وجہ سے کچھ نشانات پڑ گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے حضرت خاتون جنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے گئیں لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئی البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو ان کو بتایا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کے بارے میں بتایا۔ (فرماتی ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم اپنے بستروں میں لیٹے ہوئے تھے ہم اٹھنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ ٹھہرے رہو پس آپ ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے اور میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی پھر فرمایا تم نے جس چیز کا سوال کیا کیا میں تمہیں اس سے اچھی چیز نہ سکھاؤں۔جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو،تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور تینتیس بار الحمد للہ کہو یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ، وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى مَكَانِكُمَا ". فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6794

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹۵)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ " أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6795

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل ذکر کیا اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے اس کا پڑھنا ترک نہیں کیا کہا گیا صفین کی رات بھی ترک نہیں کیا؟آپ نے فرمایا صفین کی رات بھی ترک نہیں کیا۔ابو لیلیٰ نے کہا میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا صفین کی رات بھی نہیں؟ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹٦)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : قَالَ عَلِيٌّ : مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قِيلَ لَهُ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ. وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى : قَالَ : قُلْتُ لَهُ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6796

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کرتے ہوئے خادم کا سوال کیا آپ نے فرمایا ہمارے پاس خادم تو نہیں کیا میں وہ چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو،تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو، (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۷)

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، وَشَكَتِ الْعَمَلَ، فَقَالَ : " مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا ". قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6797

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۸)

وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6798

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو کیوں کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ عِنْدَ صِيَاحِ الدِّيكِ؛ترجمہ؛مرغ کی بانگ کے وقت دعا کا استحباب؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۹)

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ؛ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ؛ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6799

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے: "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عظیم و حلیم ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا رب ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمانوں کا رب ہے،زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛مصیبت کے وقت دعا؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۸۰۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ سَعِيدٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6800

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ أَتَمُّ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6801

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے اور پریشانی کے وقت یہ کلمات کہتے تھے۔ (جیسا کہ حدیث نمبر۲۸۰۰ میں مذکور ہوا) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۲)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6802

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپ فرماتے اس کے بعد حسب سابق کلمات ہیں۔اس روایت میں یہ کلمات زائد ہیں "اللہ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں جو عرش کریم کا رب ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۳)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ، وَزَادَ مَعَهُنَّ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6803

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا کلام افضل ہے؟آپ نے فرمایا جس کلام کو اللہ تعالی نے فرشتوں یا اپنے بندوں کے لئے منتخب فرمایا"سبحان اللہ وبحمدہ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰٤)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ، أَوْ لِعِبَادِهِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6804

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤ کہ اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب کلام کونسا ہے؟میں نے عرض کیا یارسول اللہ!مجھے بتائے کے اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین کلام کون سا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب کلام"سبحان اللہ وبحمدہٖ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ مِنْ عَنَزَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6805

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛ترجمہ؛مسلمان کے لئے پس پشت دعا کرنا؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٦)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ : وَلَكَ بِمِثْلٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6806

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے آقا(خاوند)نے مجھ سے بیان کیا انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرتا ہے تو جو فرشتہ اس کے لیے مقرر ہے وہ کہتا ہے آمین اور تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَرْوَانَ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : حَدَّثَنِي سَيِّدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ دَعَا لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ : آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6807

صفوان بن عبداللہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے گھر گیا وہ گھر میں نہ تھے حضرت ام درداء وہاں موجود تھیں انھوں نے کہاتم اس سال حج کرنا چاہتے ہو؟میں نے کہا جی ہاں!انہوں نے فرمایا ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مسلمان کی اس کے بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔ حضرت صفوان فرماتے ہیں میں بازار گیا تو وہاں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی۔(اور دعا کا کہا) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ صَفْوَانَ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ - قَالَ : قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَتْ : أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ؛ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ : آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6808

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸٠٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ : عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6809

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بندے کے اس عمل پر راضی ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھا کر اس کا شکر ادا کرے یا کوئی مشروب پیے تو اس کا شکر ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ حَمْدِ اللهِ تَعَالَى بَعْدَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6810

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ حَمْدِ اللهِ تَعَالَى بَعْدَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۱)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6811

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک جلدی نہ کرے (یعنی)یوں نہ کہے میں نے دعا کی لیکن قبول نہ ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ:دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَلَا - أَوْ فَلَمْ - يُسْتَجَبْ لِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6812

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک جلدی کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی قبول نہ ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۳)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ لَيْثٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ، وَأَهْلِ الْفِقْهِ - قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6813

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کسی گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کرے اور جلدی نہ کرے عرض کیا گیاجلدی کرنا کیا ہے؟فرمایا وہ کہتا ہے میں نے دعا کی میں نے دعا کی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی پھر وہ ناامید ہو کر دعا مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹٦؛حدیث نمبر؛٦۸۱٤)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ ". قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الِاسْتِعْجَالُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ، وَقَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ أَرَ يَسْتَجِيبُ لِي. فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ، وَيَدَعُ الدُّعَاءَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare, Hadees No. 6814

Muslim Shareef : Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ

|

•