
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے بندہ مجھے اپنے گمان کے مطابق پاتا ہےاور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہےاگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو تنہا یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں(رحمت مراد ہے)۔ (مسلم شریفكتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛ترجمہ؛ذکر،دعا،توبہ اور استغفار؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛ذکرِ الٰہی کی ترغیب؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸۵)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ مذکور نہیں کہ اگر وہ ایک ہاتھ کا اندازہ میرے قریب ہو تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب جاتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب بندہ ایک بالشت کی مقدار میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک بالشت کی مقدار بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ کی مقدار بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار ہاتھ کی مقدار جاتا ہوں اور اگر وہ چار ہاتھ کی مقدار بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف تیزی سے جاتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۱؛حدیث نمبر؛٦٦۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے راستے پر چل رہے تھے کہ آپ ایک پہاڑ پر گزرے جس کو جمدان کہا جاتا ہے آپ نے فرمایا چلتے رہو یہ جمدان ہے مفردون سبقت لے گیے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ! مفردون کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۲؛حدیث نمبر؛٦٦۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ننانوے اسمائے مبارکہ ہےجس نے ان کو یاد کیا وہ جنت میں جائے گا اور اللہ تعالی وتر ہے(ایک ہے)اور وتر(طاق)کو پسند کرتا ہے ابن عمر کی روایت میں ہے جس نے ان ناموں کو شمار کیا۔ (مسلم شریف:كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ اور ان کو یاد کرنے کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰٦۲؛حدیث نمبر؛٦٦۸٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ننانوے نام (یعنی)ایک کم سو نام ہیں جس نے ان کو شمار کیا(یاد کیا)وہ جنت میں داخل ہوگا۔ہمام نے یہ اضافہ کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالی وتر(ایک) ہے اور وہ وتر(طاق کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دعا کرے تو دعا میں اصرار کرے اور یہ نہ کہے یا اللہ اگر تو چاہے تو عطا کر کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛ترجمہ؛دعا میں اصرار کرنا اور یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو عطا کر؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دعا مانگے تو یہ نہ کہے یا اللہ اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے بلکہ وہ اصرار اور(یقین کے)ساتھ سوال کرے اور بہت رغبت رکھے کیونکہ اللہ تعالی کے لیے کوئی چیز دینا مشکل نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ کہے یا اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے یا اللہ!اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما دعا میں اصرار کرے کیونکہ اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ إِنْ شِئْتَ؛جلد٤ص۲۰٦۳؛حدیث نمبر؛٦٦۹۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی کسی آنے والی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے اور اگر تمنا کرنا ضروری ہو تو یوں کہے یا اللہ!مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے دینا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛ترجمہ؛کسی مصیبت پر موت کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ٦٦٩٤ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس روایت میں"نزل"کی جگہ"اصابہ"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۵)
حضرت نضر بن انس نے اس وقت روایت کیا جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ زندہ تھے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایاہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹٦)
حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگائے تھے انہوں نے فرمایا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۷)
امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦٤؛حدیث نمبر؛٦٦۹۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی موت کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن کی عمر زیادہ ہونے سے خیر میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهَِ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦٦۹۹)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالی سے ملنے کو محبوب رکھے اللہ تعالی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالی سے ملنے کو ناپسند کرے اللہ تعالی اسے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف,كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛ترجمہ؛جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو محبوب رکھے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۰)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ٦٧٠٠ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف, كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملنے کو پسند فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (ام المؤمنين فرماتی ہیں)میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا موت کی ناپسندیدگی بھی؟ہم میں سے ہر شخص موت کو ناپسند کرتا ہے آپ نے فرمایا اس طرح نہیں ہے بلکہ مؤمن کو جب اللہ تعالیٰ کی رحمت،اس کی رضا اور اس کی جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ تعالیٰ عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۵؛حدیث نمبر؛٦۷۰۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت،اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث نمبر ٦٧٠٤ کے مثل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت شریح بن ہانی فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا اے ام المؤمنين!میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ اگر واقعی اسی طرح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے جو ہلاک ہوا وہ واقعی ہلاک ہوا۔وہ کیا حدیث ہے۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور ہم میں کوئی ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا تھا لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو تم سمجھے ہو لیکن جب آنکھیں اوپر اٹھ جائیں سینہ میں دم گھٹنے لگے،رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو جائیں اس وقت جو شخص اللہ تعالیٰ کے ملاقات کو پسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦٦؛حدیث نمبر؛٦۷۰٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۷)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں(بندہ جس طرح گمان کرے اللہ تعالیٰ کو اسی طرح پاتا ہے) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۰۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے جب بندہ مجھ سے ایک بالشت کے برابر قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ(گز)اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک ہاتھ کی مقدار قریب ہوتا ہے میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور وہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے تنہا یاد کرے تو میں بھی اسے تنہا یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت کے مقدار میرے قریب آے تو میں ایک ہاتھ کا اندازہ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ کی مقدار میرے قریب آئے تو میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۷؛حدیث نمبر؛٦۷۱۲)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے اس کا دس گنا ہے اور میں(اس سے)زیادہ بھی دیتا ہوں اور جو شخص برائی کا ارتکاب کرے اس کا بدلہ اس کی مثل ہے یا میں اس کو معاف کردیتا ہوں۔ اور جو آدمی ایک بالشت کے مقدار میرے قریب آے تو میں ایک ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کا اندازہ میرے قریب آتا ہے میں چار ہاتھ کی مقدار اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو شخص میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں اور جو شخص تمام روے زمین کے برابر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملاقات کرے اور اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں اس کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس کے دس مثل اجر ملتا ہے اور میں مزید اجر دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت فرمائی جو چوزے کی طرح لاغر ہوگیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتا تھا یا اس سے کوئی سوال کرتا تھا؟ اس نے عرض کیا جی ہاں! میں کہتا تھا یا اللہ!تو نے مجھے جو عذاب آخرت میں دینا ہے وہ دنیا میں ہی دے دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!تم اس کی طاقت نہیں رکھتے یا فرمایا اس کی استطاعت نہیں رکھتے تم نے یہ کیوں نہیں کہا۔ یا اللہ مجھے دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھلائی عطاء کرنا اور مجھے آگ کے عذاب سے بچانا۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے اس کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطاء فرمائی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ كَرَاهَةِ الدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۰٦۸؛حدیث نمبر؛٦۷۱۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی اس میں"ہمیں دوزخ سے بچا"تک حدیث ہے اس کے بعد زیادتی نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں سے ایک کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور وہ چوزے کی طرح ہوگیا تھا...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧١٥ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ بات مذکور نہیں کہ آپ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ کراھۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے گشت کرنے والے ہیں وہ مجالس ذکر کو تلاش کرتے ہیں اور جب کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ان فرشتوں میں سے بعض دوسرے بعض فرشتوں کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں حتیٰ کہ زمین سے آسمان تک جگہ بھر جاتی ہے۔ جب ذاکرین مجلس اٹھ جاتے ہیں تو یہ بھی اوپر آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ علم والا ہے،کہ تم کہاں سے آئے ہو؟وہ کہتے ہیں ہم تیرے کچھ بندوں کے پاس سے آے ہیں جو زمین میں تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری بڑائی بیان کرتے ہیں اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں۔ (سبحان اللہ الحمد للہ لا الہ الا اللہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں) نیز وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں؟اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے وہ مجھ سے کس بات کا سوال کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے۔وہ کہتے ہیں اے میرے رب!انہوں نے نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب تیری آگ سے(جہنم سے)اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے میری آگ کو دیکھا ہے؟وہ عرض کرتے ہیں نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ میری آگ کو دیکھ لیتے تو کیا حالت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے بخشش طلب کرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس کو بخش دیا اور انہوں نے جو کچھ مانگا میں نے ان کو عطاء کردیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ مانگی میں نے ان کو پناہ دے دی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے کہتے ہیں اے رب!ان میں فلاں خطأ کار بندہ بھی تھا وہ وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان کو بخش دیا یہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ؛ترجمہ؛مجالس ذکر کی فضیلت؛جلد٤ص۲۰٦۹؛حدیث نمبر؛٦۷۱۹)
حضرت قتادہ نے حضرت انس(رضی اللہ عنہ)سے سوال کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کونسی دعا مانگا کرتے تھے انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار" "اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا" حضرت قتادہ فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی جب بھی دعا کا ارادہ کرتے تو یہی دعا مانگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ بِاللهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؛جلد٤ص۲۰٧٠؛حدیث نمبر؛٦۷۲۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعاء کرتے تھے۔(ترجمہ)اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں اچھائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ بِاللهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دن میں سو مرتبہ پڑھا: "لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر" "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے" اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اس کے لیے ایک سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے ایک سو گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور اس دن اسے شیطان سے حفاظت حاصل ہوتی ہے حتیٰ کہ شام ہوجائے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں کرسکتا ماسوائے اس شخص کے جو ان کلمات کو اس سے زیادہ پڑھے۔ اور جو آدمی"سبحان اللہ وبحمدہ"ایک دن میں ایک سو مرتبہ پڑھے اس کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح اور شام کے وقت یہ کلمات ایک سو بار پڑھے۔"سبحان اللہ وبحمدہ"تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں لا سکتا البتہ یہ کہ کوئی شخص اس کے برابر یا اس سے زیادہ بار یہ کلمات کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲۳)
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں جس شخص نے دس بار یہ"کلمات پڑھے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر"اس کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ سلیمان نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ ربیع بن خثیم سے روایت کیا شعبی کہتے ہیں میں نے ربیع سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے انہوں نے کہا حضرت عمرو بن میمون سے سنی ہے فرماتے ہیں پھر میں عمرو بن میمون کے پاس گیا اور پوچھا آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ابن ابی لیلا سے سنی ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے۔ انہوں نے فرمایا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۱؛حدیث نمبر؛٦۷۲٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے اور میزان پر بھاری ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں"سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا"سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"کہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲٦)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا مجھے کچھ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " "ترجمہ"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بہت تعریف ہے اللہ پاک ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے نیکی کرنے اور برائی سے رکنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب حکمت والا ہے۔" اس نے کہا یہ کلمات تو میرے رب کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے فرمایا یوں کہو: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی "یا اللہ!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطاء فرما۔" راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے"عافنی"کا لفظ بھی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اس راوی کا قول ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۲؛حدیث نمبر؛٦۷۲٧)
حضرت ابو مالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو جو اسلام قبول کرتا یہ کلمات سکھاتے: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۲۸)
ابو مالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز کی تعلیم دیتے پھر اسے ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیتے: "الھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وارزقنی" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۲۹)
حضرت ابو مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!میں اپنے رب سے سوال کرتے ہوئے کیا کہوں تو آپ نے فرمایا یوں کہو: "الھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی" آپ نے انگوٹھے کے علاوہ تمام انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا یہ کلمات تمہارے لئے دنیا اور آخرت کے جامع ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۰)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کماے۔اہل مجلس میں سے ایک شخص نے سوال کیا ہم میں سے کوئی ایک کس طرح ایک ہزار نیکیاں کما سکتا ہے؟فرمایا ایک سو بار سبحان اللہ کہے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی یا اس سے ایک ہزار گناہ مٹا دئے جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی مشکلات میں سے کسی مشکل کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کرے گا اور جو آدمی کسی تنگ دست کو کوئی آسانی مہیا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے(مسلمان)بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔اور جو شخص طلب علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر کچھ لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر سکون نازل کرتا ہے،ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور جس کا عمل تاخیر کرے اس کا نسب اس کے لیے جلدی نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٤؛حدیث نمبر؛٦۷۳۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧٣٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس کی ایک سند کے ساتھ تنگ دست پر آسانی کرنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان دونوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ نے فرمایا جب کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھتی ہے تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں،یا رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے ان پر سکون نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۳؛حدیث نمبر؛٦۷۳٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧٤؛حدیث نمبر؛٦۷۳۵)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد کے حلقے میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر گزرے تو پوچھا تم لوگ کیوں بیٹھے ہو؟انہوں نے فرمایا بخدا!تم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہو۔انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم!ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو!میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے کم بیان کرنے والا کوئی نہیں بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے پر گزرہوا تو پوچھا کیوں بیٹھے ہو؟انہوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے لئے بیٹھے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور ہم پر احسان فرمایا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا!تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم!ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!میں نے تم پر کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی بلکہ میرے پاس جبرئیل آے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں تم پر فخر کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِِ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳٦)
حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل پر کبھی(انوار الٰہی کے غلبے سے)ابر چھا جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں ایک سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو!اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو بےشک میں ایک دن میں ایک سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧۵؛حدیث نمبر؛٦۷۳۸)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷۳۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مغرب سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِغْفَارِ وَالِاسْتِكْثَارِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷٤٠)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو!اپنے نفسوں پر نرمی کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو تم سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے قریب ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت میں آپ کے پیچھے"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"(گناہوں سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت اللہ تعالیٰ کی عطاء ہے)کے بغیر ممکن نہیں)کہ رہا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!کیا میں جنت کے خزانوں میں سے کسی خزانے پر تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیوں نہیں،آپ نے فرمایا"لاحول ولا قوۃ الا باللہ"پڑھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٦؛حدیث نمبر؛٦۷٤۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٢)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ایک شخص جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتا بلند آواز سے"لا الہ الا اللہ واللہ اکبر"کہتا۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو پھر فرمایا اے ابو موسیٰ یا فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!کیا میں جنت کے خزانوں میں سے کسی خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کیا ہے؟فرمایا"لاحول ولا قوۃ الا باللہ" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤۳)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے...پھر حدیث نمبر ٦٧٤٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٤)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے...پھر حدیث نمبر ٦٧٤٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤۵)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے....پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں یہ ہے کہ جس کو تم پکار رہے ہو وہ تمہاری اونٹنی کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۷؛حدیث نمبر؛٦۷٤٦)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے یا فرمایا جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟میں نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں،آپ نے فرمایا"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٩،حدیث نمبر؛٦۷٤۷)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں آپ نے فرمایا یہ کہا کرو: "الہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا" "یا اللہ!میں نے اپنے نفس پر بہت بڑا ظلم کیا ہے" قتیبہ کی روایت میں کبیرا کی جگہ کثرا ہے(اس کے بعد یوں ہے) "ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحيم" "اور گناہوں کو صرف تو بخشتا ہے پس تو مجھے اپنی طرف سے بخشش عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما تو بہت بخشنے والا مہربان ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧۸؛حدیث نمبر؛٦۷٤۸)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں مانگو...پھر اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں"ظلما کثیرا"ہے(کبیرا نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ؛جلد٤ص۲۰٧٩؛حدیث نمبر؛٦۷٤۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے۔ «اللهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ» (ترجمہ)"یا اللہ!میں آگ کے فتنہ سے،آگ کے عذاب سے،قبر کے فتنہ سے،قبر کے عذاب سے،مالدار کے فتنہ سے اور فقر کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ!میری خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے اور میرے قلب کو خطاؤں سے پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کردیا میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اس طرح دوری کردے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ہے۔ یااللہ!میں،سستی،بڑھاپے،گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص۲۰٧۸؛حدیث نمبر؛٦۷۵۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ وَغَيْرِهَاِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۱)
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: یااللہ میں کمزوری،سستی،بزدلی،بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کیا البتہ اس میں زندگی اور موت کی آزمائشوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰٧۹؛حدیث نمبر؛٦۷۵۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں سے پناہ مانگی انہوں نے ان کا ذکر کیا اور بخل سے بھی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے اے اللہ میں بخل، سستی،ارذل عمر(بہت بڑھاپا)عذاب قبر اور زندگی و موت کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بری تقدیر سے بد بختی کے پانےدشمنوں کی خوشی سے اور سخت آزمائش سے پناہ مانگتے تھے۔ابوسفیان کہتے ہیں مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں ایک بات کا اضافہ کیا(دشمن کسی پر خوش ہوا اس کو"شماتت اعداء"کہتے ہیں) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٦)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہاسے سنا وہ فرماتی ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی منزل پر اترنے کے بعد یہ کلمات پڑھے،تو جب تک اس جگہ سے روانہ نہ ہوا کوئی چیز نقصان نہیں دےگی۔ "میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر مخلوق کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔" (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۰؛حدیث نمبر؛٦۷۵٧)
حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی منزل پر اترے تو یہ کلمات کہے۔ میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔ تو جب تک وہاں سے رخصت نہ ہواسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷۵۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یارسول اللہ!مجھے گزشتہ رات بچھو نے کاٹ لیا ہے آپ نے فرمایا شام کے وقت تم یہ کلمات کہ دیتے تو تمہیں بچھو ضرر نہ دیتا۔ "میں اللہ تعالی کے کلمات تامہ کے ساتھ ہر مخلوق کے شر سے پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷۵۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کو بچھو نے کاٹ لیا تھا اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷٦٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی خوابگاہ میں جانے لگو تو نماز کے وضو جیسا وضو کرلو پھر دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ کلمات کہو۔ "یااللہ!میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اپنی پشت تیری پناہ میں دے دی تجھ سےبچنے کے لیے تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے اتارا اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا"۔ یہ دعا تمہارا آخری کلام ہونا چاہیے اگر تمہیں اس رات موت آجائے تو فطرت (اسلام)پر مروگے۔حضرت براء فرماتے ہیں میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے دہرایا تومیں نے کہا"انت برسولک الذی ارسلت"آپ نے فرمایا یوں کہو"انت بنبیک الذی ارسلت" (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۱؛حدیث نمبر؛٦۷٦۱)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اس حدیث کو روایت کیا ہے اس روایت میں یہ اضافہ ہے اگر تم صبح کو اٹھو گے تو تمہیں خیر حاصل ہوگی۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦۲)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹنے لگے تو یوں کہے: اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کردیا اپنی پیٹھ کو تیری پناہ میں دے دیا اور تیری طرف رغبت کرتے ہوئے تجھ سے ڈرتے ہوئے اپنے معاملات کو تیرے حوالے کردیا تجھ سے بچنے کیلئے پناہ گاہ بھی توہی ہے میں تیری نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا اور تیرے رسول پر ایمان لایا جس کو تو نے بھیجا۔" پس اگر وہ شخص مر گیا تو فطرت پر مرے گا ابنِ بشار نے اپنی حدیث میں رات کا ذکر نہیں کیا۔(فطرت سے مراد اسلام ہے) (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦۳)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اے فلاں!جب تم اپنے بستر پر جاؤ... اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس روایت میں ہے"اور میں اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا"اگر تم اس رات فوت ہوگئے تو فطرت پر فوت ہوگے اور اگر صبح اٹھوگے تو خیر پاؤ گے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۲؛حدیث نمبر؛٦۷٦٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا پھر اس کے بعد حدیث نمبر٦٧٦٣کے مثل روایت ہے۔ اس میں یہ بات مذکور نہیں"اگر صبح اٹھوگے تو خیر پاؤ گے"۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦۵)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ،حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں تشریف لے جاتے تو یہ کلمات پڑھتے: "اے اللہ!میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا"۔ اورجب بیدار ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے: "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں وفات دینے سونے کے بعد(زندہ)بیدار کیا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کریں: یااللہ!تو نے میرے نفس کو پیدا کیاتو ہی اس کو فوت کرے گا اس کی موت اور زندگی تیرے لئے ہے اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کر اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کو بخش دینا،یا اللہ!میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔" ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ دعا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے اس ذات سے سنی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۳؛حدیث نمبر؛٦۷٦۷)
حضرت سہیل کہتے ہیں ابو صالح ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر سوے اور یوں کہے: اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے تورات انجیل اور قرآن مجید کو اتارنے والے میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے دور کوئی چیز نہیں ہم سےقرض کو دور کر دے اور ہمیں فقر سے بے نیاز کر دے۔" حضرت ابوصالح یہ حدیث بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷٦۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سونے کے لئے جائیں تو یہ دعا کریں....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ اور فرمایا میں ہر اس جانور کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کو تو نے پیشانی سے پکڑا ہوا ہے(یعنی تیرے قبضے اور کنٹرول میں ہے) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷٦۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے خادم مانگا آپ نے فرمایا تم کہواےسات آسمانوں کے رب!اس کے بعد حدیث نمبر ٦٧٦٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷۷۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر آئے تو تہبند کے اندرونی حصے کو پکڑے اور اس کے ساتھ بستر کو جھاڑے اور بسم اللہ پڑھے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس کے بستر پر کون(جانور) آیا تھا پھر جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یوں کہے: "اے اللہ!تو پاک ہے تو میرا رب ہے تیرے نام پر میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیرے نام پر اٹھاؤں گا اگر تو میرے نفس کو روک دے تو اسے بخش دینا اور اگر اس کو چھوڑ دے(زندہ رکھے)تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸٤؛حدیث نمبر؛٦۷۷۱)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں ہے کہ یہ دعا کرے: "میں نے اپنے رب کے نام پر اپنا پہلو رکھا اگر تو میرے نفس کو زندہ رکھے تو اس پر رحم فرما" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو یہ دعا مانگتے: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا ہمیں کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانہ دیا کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو کفایت کرنے والا اور ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۳)
حضرت فروۃ بن نوفل اشجعی فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کون سی دعائیں مانگتے تھے انہوں نے فرمایا آپ یوں کہتے تھے: "یا اللہ!میں اپنے عمل کے شر سے اور جو عمل میں نے نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷٤)
حضرت فروہ بن نوفل فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں پوچھا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے انہوں نے فرمایا آپ یوں دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میں نے جو کام کیا اس کے شر سے اور جو کام نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷۵)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں ایک سند کےساتھ"ومن شر مالم اعمل"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۵؛حدیث نمبر؛٦۷۷٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہتے ہیں: "میں اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا اور اس کے شر سے جو نہیں کیا تیری پناہ چاہتا ہوں" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: "اےاللہ!میں تیرے لیے اسلام لایا،تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر بھروسہ کیا،تیری طرف رجوع کیا تیری مدد سے جنگ کی۔ یا اللہ!میں تیرے گمراہ کرنے سے (بندہ خود اپنے عمل سے گمراہ ہوتا ہے لیکن چونکہ افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے اس کی طرف نسبت کی گئی)تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو زندہ ہے جس کے لیے موت نہیں جب کہ جن اور انسان مر جائیں گے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں صبح اٹھتے تو فرماتے: سننے والے نے اللہ تعالی کی حمد اور اس کی ہم پر آزمائش کے حسن کو سن لیا اےہمارے رب!ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر فضل فرما ہم جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸٦؛حدیث نمبر؛٦۷۷۹)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میری خطا،میری نادانی،میرے معاملے میں میری زیادتی اور جس بات کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے،بخش دے۔ یا اللہ!جو کام میں نے سنجیدہ کئے،مذاق میں کئے،خطاًکئے یا جان بوجھ کر کئے اور ہر وہ کام جو میرے نزدیک گناہ ہے،معاف فرما دے۔ یا اللہ!جو کام میں نے پہلے کئے،جو میں نے بعد کئے،جو میں نے چھپ کر کئےاور جو ظاہراً کئے اور جن کاموں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب بخش دے تو مقدم کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے رکھنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہے آپ نے امت کی تعلیم کے لیے یہ کلمات فرمائے۔) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۰)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: "یا اللہ!میرے دین کو درست کر دے جو میرے معاملے کا محافظ ہے میری دنیا کو درست کر دے جس میں میری روزی ہے اور میرے آخرت کو درست کر دے جس میں میرا تیری طرف لوٹنا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں میرے لئے زیادتی کا باعث بنا اور میری وفات کو ہر شر سے میری راحت بنا دے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۲)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: یااللہ!میں تجھ سے ہدایت،تقویٰ،پاک دامنی اور غناء کا سوال کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸۳)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں عفت کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۷؛حدیث نمبر؛٦۷۸٤)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تم سے اس طرح کہتا ہوں جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا آپ فرماتے تھے: یااللہ!میں عاجزی،سستی،بزدلی،بخل، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ "یااللہ!میرے نفس کو اس کا تقوی عطاءفرما اور اس کو پاک کردے تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے یا اللّٰہ!میں نفع نہ دینے والے علم،نہ ڈرنے والے دل،نہ سیر ہونے ہونے والے نفس اور ایسی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو قبول نہ ہو"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۸؛حدیث نمبر؛٦۷۸۵)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا کرتے تھے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لئے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "اسی کے لیے ملک ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۸؛حدیث نمبر؛٦۷۸٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لیے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے ان کلمات میں یہ بھی فرمایا: اللہ کے لیے ملک ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا اور اس رات کے شر اور اس رات کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں یا اللہ!میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" اور جب صبح اٹھتے تو بھی یہی دعا کرتے اے اللہ!ہم نے صبح کی اور ملک نے اللہ کے لیے صبح کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۷)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے: ہم نے شام کی،ملک نے اللہ کے لیے شام کی،اللہ کے لیے حمد ہے،اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ یا اللہ!میں اس رات کی بھلائی اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے اس رات کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ!میں سستی اور بڑھاپے اور بڑھاپے کی خرابی،دنیا کے فتنےاور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔" ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسکی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا کیا،اپنے بندےکی مدد کی اور تنہا لشکروں کو مغلوب کیا اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۸۹؛حدیث نمبر؛٦۷۸۹)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یوں کہو: یا اللہ!مجھے ہدایت عطا فرما اور سیدھا رکھ اور ہدایت کی دعا کے وقت اپنے راستے کی ہدایت اور سیدھا رکھنے کی دعا کے وقت تیر کے سیدھا ہونے کو یاد کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۰)
اسی سند کے ساتھ مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یوں کہو: "اے اللہ!میں تجھ سے ہدایت اور راہ راست پر رہنے کا سوال کرتا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۱)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ہی ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اس وقت اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھیں پھر آپ دن چڑھے تشریف لائے تو وہ اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی آپ نے فرمایا جب سے میں تمہارے پاس سے گیا ہوں تم مسلسل اسی حالت میں ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین بار کہے ہیں اگر ان کا وزن اس سے کیا جائے جو تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے یہ بھاری ہو جائیں وہ کلمات یہ ہیں:"سبحان اللہ"الخ" (ترجمہ)"اللہ تعالی کی حمد اور تسبیح ہے اس کی مخلوق کی تعداد اس کی رضا، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۰؛حدیث نمبر؛٦۷۹۲)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد ان کے پاس سے گزرے اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں اس طرح ہےاللہ تعالی کے لیےتسبیح ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر،اللہ تعالی کے لیے تسبیح ہے اس کی رضا کے برابر اللہ تعالی کے لیے پاکیزگی ہے اس کے عرش کے وزن کے برابر اللہ تعالی کے لیے پاکیزگی ہے اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹۳)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں چکی پیسنے کی وجہ سے کچھ نشانات پڑ گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے حضرت خاتون جنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے گئیں لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئی البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی تو ان کو بتایا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کے بارے میں بتایا۔ (فرماتی ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم اپنے بستروں میں لیٹے ہوئے تھے ہم اٹھنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ ٹھہرے رہو پس آپ ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے اور میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی پھر فرمایا تم نے جس چیز کا سوال کیا کیا میں تمہیں اس سے اچھی چیز نہ سکھاؤں۔جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو،تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور تینتیس بار الحمد للہ کہو یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹۵)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل ذکر کیا اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے اس کا پڑھنا ترک نہیں کیا کہا گیا صفین کی رات بھی ترک نہیں کیا؟آپ نے فرمایا صفین کی رات بھی ترک نہیں کیا۔ابو لیلیٰ نے کہا میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا صفین کی رات بھی نہیں؟ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۱؛حدیث نمبر؛٦۷۹٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کرتے ہوئے خادم کا سوال کیا آپ نے فرمایا ہمارے پاس خادم تو نہیں کیا میں وہ چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو،تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو، (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو کیوں کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ عِنْدَ صِيَاحِ الدِّيكِ؛ترجمہ؛مرغ کی بانگ کے وقت دعا کا استحباب؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۷۹۹)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے: "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عظیم و حلیم ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا رب ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمانوں کا رب ہے،زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛مصیبت کے وقت دعا؛جلد٤ص۲۰۹۲؛حدیث نمبر؛٦۸۰۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۱)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے اور پریشانی کے وقت یہ کلمات کہتے تھے۔ (جیسا کہ حدیث نمبر۲۸۰۰ میں مذکور ہوا) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپ فرماتے اس کے بعد حسب سابق کلمات ہیں۔اس روایت میں یہ کلمات زائد ہیں "اللہ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں جو عرش کریم کا رب ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ دُعَاءِ الْكَرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰۳)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا کلام افضل ہے؟آپ نے فرمایا جس کلام کو اللہ تعالی نے فرشتوں یا اپنے بندوں کے لئے منتخب فرمایا"سبحان اللہ وبحمدہ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤ کہ اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب کلام کونسا ہے؟میں نے عرض کیا یارسول اللہ!مجھے بتائے کے اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین کلام کون سا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب کلام"سبحان اللہ وبحمدہٖ"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؛جلد٤ص۲۰۹۳؛حدیث نمبر؛٦۸۰٥)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛ترجمہ؛مسلمان کے لئے پس پشت دعا کرنا؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٦)
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے آقا(خاوند)نے مجھ سے بیان کیا انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرتا ہے تو جو فرشتہ اس کے لیے مقرر ہے وہ کہتا ہے آمین اور تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٧)
صفوان بن عبداللہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے گھر گیا وہ گھر میں نہ تھے حضرت ام درداء وہاں موجود تھیں انھوں نے کہاتم اس سال حج کرنا چاہتے ہو؟میں نے کہا جی ہاں!انہوں نے فرمایا ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مسلمان کی اس کے بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔ حضرت صفوان فرماتے ہیں میں بازار گیا تو وہاں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی۔(اور دعا کا کہا) (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹٤؛حدیث نمبر؛٦۸۰٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بندے کے اس عمل پر راضی ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھا کر اس کا شکر ادا کرے یا کوئی مشروب پیے تو اس کا شکر ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ حَمْدِ اللهِ تَعَالَى بَعْدَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ اسْتِحْبَابِ حَمْدِ اللهِ تَعَالَى بَعْدَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک جلدی نہ کرے (یعنی)یوں نہ کہے میں نے دعا کی لیکن قبول نہ ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ:دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک جلدی کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی قبول نہ ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹۵؛حدیث نمبر؛٦۸۱۳)
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کسی گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کرے اور جلدی نہ کرے عرض کیا گیاجلدی کرنا کیا ہے؟فرمایا وہ کہتا ہے میں نے دعا کی میں نے دعا کی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی پھر وہ ناامید ہو کر دعا مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي؛جلد٤ص۲۰۹٦؛حدیث نمبر؛٦۸۱٤)
Muslim Shareef : Kitabuz Jikre Wad Duwaye Wat Taobate Wal Istegfare
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
|
•