asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Haiz

From 587 to 740

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب ہم(ازواج مطہرات)میں سے کوئی ایک حالت حیض میں ہوتیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حکم دیتے وہ چادر باندھ لیتیں پھر ان کے ساتھ لیٹ جاتے۔(مسلم شریف كِتَابُ الْحَيْضِ؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛ترجمہ؛ملبوس حائضہ کے ساتھ لیٹنا؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر٥٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْتَزِرُ بِإِزَارٍ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 587

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔جب ہم(ازوج مطہرات) میں سے کوئی حائضہ ہوتی اور اسکا خون جوش سے نکل رہا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسکو چادر باندھنے کا حکم دیتے پھر اسکو اپنے ساتھ لٹا لیتے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور تم میں سے کون اپنی خواہش کو ضبط کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح قادر ہے (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر ٥٨٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عليُّ بْنُ مُسْهرٍ، عَنِ الشَّيْبانيِّ ح، وَحَدَّثَنِي عليُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْديُّ، - واللَّفْظُ لهُ - أَخْبَرَنَا عليُّ بْنُ مُسْهرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الْأَسْودِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِها، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» قَالَتْ: «وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 588

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے چادر باندھنے کے بعد انکو ساتھ لٹاتے جبکہ وہ حیض والی ہوتی۔(بیوی سے حالت حیض میں جماع کرنا حرام ہے البتہ اس کے ساتھ لیٹ جانا اور بوس وکنار حرام نہیں لیکن یہ بھی اس شخص کے لئے جائز ہے جو اپنے اوپر کنٹرول اور ضبط رکھتا ہو ورنہ جماع کا خطرہ ہے لہذا بچنا چاہیے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛جلد١ص٢٤٣؛حدیث نمبر٥٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 589

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ لیٹ جاتے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔اور ہمارے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاضْطِجَاعِ مَعَ الْحَائِضِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ؛ترجمہ؛حائضہ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹنا؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر٥٩٠)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْطَجِعُ مَعِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 590

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں ایک چادر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا۔میں خاموشی سے نکل گئی اور اپنے حیض والے کپڑے لے لئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کیا تمہیں حیض آگیا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے مجھے بلا لیا اور میں ایک چادر میں آپکے ساتھ لیٹ گئی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن میں جنابت کا غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاضْطِجَاعِ مَعَ الْحَائِضِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ؛جلد١ص٢٤٣؛حدیث نمبر٥٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيْضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ. قَالَتْ: «وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ، مِنَ الْجَنَابَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 591

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف فرماتے تو اپنا سر انور میرے قریب کرتے۔پس میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ انسانی حاجت(پیشاب وغیرہ)کے علاوہ گھر میں تشریف نہ لاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛ترجمہ؛حائضہ عورت کے لئے اپنے خاوند کا سر دھونے،بالوں میں کنگھی کرنے کا جواز،اسکے جھوٹے کا پاک ہونا،اسکی گود میں سر رکھنے اور اسکی گود میں قرآن پڑھنے کا جواز؛ جلد١ص ٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 592

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،فرماتی ہیں(حالت اعتکاف میں)میں حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی اور گھر میں مریض ہوتا لیکن میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کرتی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر انور میرے قریب کرتے اور آپ مسجد میں ہوتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور جب آپ معتکف ہوتے تو گھر میں صرف حاجت کے لیے تشریف لاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٣)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا» وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 593

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے اپنا سر انور میری طرف کرتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی حالانکہ میں حالت حیض ہوتی۔(مسلم شریف كِتَابُ الْحَيْضِ بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٤)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 594

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر انور میرے قریب کرتے اور میں اپنے حجرے میں ہوتی پس میں آپکے سر انور میں کنگھی کرتی جبکہ میں حالت حیض میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 595

ایک دوسری سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور دھوتی اور میں حالت حیض میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 596

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے مسجد سے جائےنماز اٹھا دو میں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوں آپ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، - قَالَ: يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ»، قَالَتْ فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 597

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپکو مسجد سے جانماز پکڑا دوں۔میں نے عرض کیا کہ میں حالت حیض میں ہوں آپ نے فرمایا مجھے یہ پکڑا دو تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٥٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 598

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے تو آپ نے فرمایا اے عائشہ مجھے کپڑا پکڑا دو۔انہوں نے عرض کیا میں حیض کی حالت میں ہوں۔آپ نے فرمایا تمہارا حیض ہاتھ میں نہیں(فرماتی ہیں)پس میں نے آپکو وہ کپڑا پکڑا دیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٥٩٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ: نَاوِلِينِي الثَّوْبَ " فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ» فَنَاوَلَتْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 599

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں(پانی)پیتی اور میں حالت حیض میں ہوتی پھر میں وہ(برتن)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ اس جگہ منہ مبارک لگاتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا پس آپ نوش فرماتے اور میں ہڈی سے گوشت(دانتوں کے ساتھ)نوچتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ اسی جگہ دہن مبارک لگاتےجو میرے منہ لگانے کی جگہ ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٦٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ» وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فَيَشْرَبُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 600

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور میں حیض کی حالت میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٦؛حدیث نمبر ٦٠١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 601

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ لوگ اسکے ساتھ نہ کھانا کھاتے نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے ہوتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ،("اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئے یہ ناپاکی ہے پس حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو") تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماع کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو۔یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا یہ شخص ہماری ہر بات کی مخالفت کرتا ہے اس پر حضرت اسید بن حفیراور حضرت بشر بن عباد رضی اللہ عنہما نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ یہودی اس طرح اس طرح کہتے ہیں تو کیا ہم عورتوں سے جماع نہ کیا کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا آپ ان دونوں سے ناراض ہوگئے ہیں۔وہ دونوں نکل کھڑے ہوئے تو ان کے سامنے سے دودھ کا تحفہ بارگاہ رسالت میں لایا جارہا تھا۔آپ نے ان دونوں کو بلاکر دودھ پلایا تو پتہ چلا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٦؛حدیث نمبر ٦٠٢)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ، فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 602

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے مذی(محض خیالات یا تصورات سے انسان کی شرمگاہ سے جو مادہ نکلتا ہے اور اس میں اچھل کود نہیں ہوتی اسے مذی کہتے ہیں)بہت آتی تھی پس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں جھجھک محسوس کرتا تھا۔کیونکہ آپکی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں۔انہوں نے پوچھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور وضو کریں(غسل کی ضرورت نہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛ترجمہ؛مذی کا حکم؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى، - وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى - عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 603

ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھتے ہوئے حیا محسوس کرتا تھا تو میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا انہوں نے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو لازم ہے۔(غسل نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «مِنْهُ الْوُضُوءُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 604

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں پوچھیں جو انسان سے نکلتی ہے کہ اسکا کیا حکم ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرو اور شرمگاہ کو دھوؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٥)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الْإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 605

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوۓ تو قضائے حاجت فرمانے کے بعد اپنا چہرہ انور اور ہاتھ دھوۓ پھر آرام فرما ہوئے۔(قضائے حاجت کے بعد بہتر تو یہ ہے کہ وضو کیا جائے اور اگر جماع ہو تو غسل کیا جائے پھر سو جاۓایسا نہ ہوسکے تو وضو کر لیں ورنہ منہ ہاتھ ہی دھو لیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل جواز کے طور پر تھا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ غَسْلِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ؛ترجمہ؛بیدار ہونے پر چہرے اور ہاتھوں کو دھونا؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 606

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آرام فرما ہونے کا ارادہ فرماتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے تو سونے سے پہلے نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛ترجمہ؛جنوبی کے لیے سونے کا جواز اور اسکے لئے کھانے پینے کے وقت یا جماع سے پہلے استنجاءاور وضو کرنے کا استحباب؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث ٦٠٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، قَبْلَ أَنْ يَنَامَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 607

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کچھ تناول فرمانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو نماز کے وضو جیسا وضو کرتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَوَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 608

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٦٠٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر٦٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 609

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے۔فرمایا ہاں جب وضو کرے(وضو کرنا بہتر ہے)۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦١٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 610

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں اسے چاہیے کہ وضو کر کے سو جائے پھر جب چاہے غسل کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، لِيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيَنَمْ، حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 611

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ رات کے وقت جنبی ہو جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا وضو کرو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو پھر سو جاؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٢)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 612

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے حدیث ذکر کی۔میں نے کہا کہ آپ جنابت کی حالت میں کیا کرتے تھے کیا آرام فرما ہونے سے پہلے غسل فرماتے یا غسل کرنے سے پہلے آرام فرماتے۔ام المؤمنين نے فرمایا دونوں طرح کرتے تھے۔بعض اوقات غسل کرکے آرام فرماتے اور کبھی وضو کرکے آرام فرما ہوجاتے۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے لیے تعریف(اور اسکا شکر)ہے کہ اس نے(دین کے)معاملے میں آسانی رکھی ہے۔(بہتر یہی ہے کہ غسل کرے لیکن ایسا نہ ہو سکے تو بھی کوئی حرج نہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر٦١٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ؟ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 613

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦١٣کی مثل مروی ہے۔(بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر٦١٤)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 614

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کے پاس جاۓ پھر دوبارہ جانا چاہے تو وضو کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ،وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح، وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَتَوَضَّأْ» زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَهُمَا وُضُوءًا، وَقَالَ: ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُعَاوِدَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 615

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازوج مطہرات کے پاس ایک غسل کے ساتھ تشریف لے جاتے(یعنی آخر میں غسل فرماتے)(اگر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ وضو کرلے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٦)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 616

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم جو اسحاق بن طلحہ راوی کی دادی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں موجود تھیں۔حضرت ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے اور اپنے نفس سے وہ بات دیکھے جو مرد اپنے نفس سے دیکھتا ہے(احتلام مراد ہے)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے ام سلیم!تم نے عورتوں کو رسوا کر دیا تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو(اس لفظ کو اچھے معنیٰ میں استعمال کیا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!بلکہ تیرا ہاتھ خاک آلود ہو(مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مسئلہ پوچھ کر اچھا کیا لہٰذا ان پر ناراضگی ظاہر نہ کرے۔)ہاں عورت کو غسل کرنا چاہیے جب یہ حالت دیکھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛ترجمہ؛احتلام کی صورت میں عورت پر بھی غسل فرض ہے؛جلد١ص٢٥٠؛ حدیث نمبر ٦١٧)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، - وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاقَ -، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ، وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: «بَلْ أَنْتِ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ، نَعَمْ، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا رَأَتْ ذَاكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 617

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت یہ بات دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔حضرت ام سلیم نے شرماتے ہوئے پوچھا کیا ایسا ہوتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہوتا ہے۔بچے کی(ماں سے)مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔مرد کا مادہ منویہ گاڑھا سفید اور عورت کا مادہ منویہ پتلا زرد رنگ کا ہوتا ہے ان میں سے جو اوپر ہوجائے یا(فرمایا)سبقت کر جاۓاسی سے مشابہت ہوتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥٠؛حدیث نمبر ٦١٨)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، حَدَّثَتْ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ» فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أَوْ سَبَقَ، يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 618

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سےوہ بات ہو جو مرد سے ہوتی ہے (احتلام ہو)تو وہ غسل کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥٠؛حدیث نمبر ٦١٩)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 619

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں فرماتا کیا عورت پر غسل(فرض)ہے جب اسے احتلام آۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب وہ پانی(مادہ منویہ)دیکھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟آپ نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں کس وجہ سے بچہ اس (ماں)کے مشابہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهِ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 620

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٠کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے عورتوں کو رسوا کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 621

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٠کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت ام المومنین نے فرمایا۔میں نے اس سے کہا تجھ پر افسوس ہے۔کیا عورت بھی یہ(احتلام)دیکھی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٢)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقُلْتُ لَهَا أُفٍّ لَكِ أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 622

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل فرض ہوجاتا ہے۔جب اسکو احتلام آئے اور پانی دیکھے۔آپ نے فرمایا ہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خاتون سے فرمایا۔تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں اور زخمی ہوں فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو۔بچہ اسی وجہ سے ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔جب اسکا مادہ منویہ خاوند کے مادہ پر غالب آجانا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کی شکل پر ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی اس کے پانی پر غالب آتے تو بچہ چچاؤں کے زیادہ مشابہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَ سَهْلٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعِيهَا. وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 623

‌‌‌‏ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو مولیٰ (آزاد غلام) تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ انہوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ اتنے میں یہود کے عالموں میں سے ایک عالم آیا اور بولا:«السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ»!میں نے اس کو ایک دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔ وہ بولا:تو کیوں دھکا دیتا ہے۔میں نے کہا: تو (نام لیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور) رسول اللہ کیوں نہیں کہتا۔ وہ بولا: ہم ان کو اس نام سے پکارتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے رکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام جو گھر والوں نے رکھا وہ محمد ہے۔“ یہودی نے کہا کہ میں آپکے پاس کچھ پوچھنے کو آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا میں اگر تجھے کچھ بتلاؤں تو تجھ کو فائدہ ہو گا۔“ اس نے کہا: میں کان سے سنوں گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اس سے زمین کو کریدنا شروع کردیا اور فرمایا پوچھو یہودی نے کہا: جب زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان لپیٹ دیے جائیں گے تو لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس وقت اندھیرے میں پل صراط کے پاس کھڑے ہوں گے۔“ اس نے پوچھا: پھر سب سے پہلے کون لوگ اس پل سے پار ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین میں جو محتاج ہیں۔“ (مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھر بار چھوڑ کر نکل گئے اور فقر و فاقہ کی تکلیف پر صبر کیا اور دنیا پر لات ماری) یہودی نے کہا: پھر جب وہ لوگ جنت میں جائیں گے تو ان کا پہلا ناشتہ کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا ٹکڑا۔ (جو نہایت مزیدار اور مقوی ہوتا ہے) اس نے کہا: پھر صبح کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیل کاٹا جائے گا ان کے لئے جو جنت کے کنارے چرا کرتا تھا۔“ پھر اس نے پوچھا: یہ کھا کر وہ کیا پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چشمہ کا پانی جس کا نام سلسبیل ہے۔“ اس یہودی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جس کو زمین والوں میں کوئی نہیں جانتاسوائے نبی کے شاید اور ایک دو آدمی جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں یہ بات تجھے بتا دوں تو تجھے فائدہ ہو گا“؟ اس نے کہا: میں اپنے کان سے سن لوں گا۔ پھر اس نے کہا میں بچہ کے متعلق پوچھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کا پانی سفید ہے اور عورت کا پانی زرد ہے جب یہ دونوں اکھٹے ہوتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اور جب عورت کی منی غالب ہوتی ہے مرد کی منی پر تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اللہ کے حکم سے۔“ یہودی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔ پھروہ چلا گیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھ سے یہ باتیں پوچھی ہیں مجھے(پہلے)ان باتوں کا علم نہ تھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کا علم عطاء فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ بَيَانِ صِفَةِ مَنِيِّ الرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْوَلَدَ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِمَا؛ترجمہ؛مرد اور عورت کی منی کی خصوصیات اور یہ کہ بچہ ان دونوں کے منی سے پیدا ہوتا ہے؛ جلد١ص٢٥٢؛ حدیث نمبر ٦٢٤)

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حِبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، فَقَالَ: «سَلْ» فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ» قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ: «فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» قَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ»، قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ: «يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا» قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا» قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ. قَالَ: «يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ. قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ؟ قَالَ: «مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا، فَعَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ، أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللهِ، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ، آنَثَا بِإِذْنِ اللهِ». قَالَ الْيَهُودِيُّ: لَقَدْ صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ لَنَبِيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَذَهَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ، وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى أَتَانِيَ اللهُ بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 624

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور کچھ الفاظ کا اختلاف ہے(مفہوم وہی ہے) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ بَيَانِ صِفَةِ مَنِيِّ الرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْوَلَدَ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِمَا؛جلد١ص٢٥٣؛حدیث نمبر ٦٢٥)

وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ، وَقَالَ: أَذْكَرَ وَآنَثَ وَلَمْ يَقُلْ أَذْكَرَا وَآنَثَا

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 625

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو آغاز یوں کرتے کہ اپنے ہاتھوں کو دھوتے۔پھر دائیں سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور شرمگاہ کو دھوتے پھر نماز کے وضو جیسا وضو کرتے پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے یہاں تک کہ جب دیکھتے کہ تمام بال تر ہوگئے ہیں تو دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر تین بار تمام جسم پر ڈالتے پھر پاؤں مبارک دھوتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛ترجمہ؛غسل جنابت کا طریقہ؛جلد١ص٢٥٣؛ حدیث نمبر ٦٢٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 626

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب صفۃ غسل الجنابۃ؛جلد١ص٢٥٣؛حدیث نمبر ٦٢٧)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 627

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت سے غسل فرمایا تو آغاز کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا پھر حدیث ٦٢٦ کی مثل ذکر کیا لیکن پاؤں دھونے کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب صفۃ غسل الجنابۃ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٢٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَبَدَأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الرِّجْلَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 628

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو ابتدا کرتے ہوئے ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سےپہلےدھو لیتے پھر نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر٦٢٩)

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ. ثُمَّ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 629

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا۔وہ فرماتی ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے لیے پانی آپکے قریب کیا آپ نے اپنے ہاتھوں کو دو یا تین مرتبہ دھویا پھر برتن میں ہاتھ ڈالا پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا اور اسے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر اچھی طرح رگڑا پھر نماز کے وضو جیسا وضو کیا۔اسکے بعد دونوں ہاتھوں سے سر انور پر تین چلو پانی ڈالے۔اسکے بعد تمام جسم مبارک کو دھویا پھر اپنی جگہ سے الگ ہو کر پاؤں مبارک دھوۓ(ام المومنین فرماتی ہیں)پھر میں نے آپکو رومال(تولیہ)پیش کیا تو آپ نے واپس کردیا۔(جلدی کی وجہ سے شاید ایسا کیا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣٠)

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: «أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ، وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ، فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 630

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٣٠ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں سر انور پر تین چلو پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔اس میں وضو کے طریقے کا بیان ہے اور دوسری سند میں رومال کا(تولیہ) کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَالْأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ، كُلُّهُمْ عَنْ وَكِيعٍ ح، وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا إِفْرَاغُ ثَلَاثِ حَفَنَاتٍ عَلَى الرَّأْسِ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَصْفُ الْوُضُوءِ كُلِّهِ يَذْكُرُ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ فِيهِ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ذِكْرُ الْمِنْدِيلِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 631

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال(تولیہ) لایا گیا تو آپ نے اسے نہ چھوا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ: بِالْمَاءِ هَكَذَا يَعْنِي يَنْفُضُهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 632

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ غسل جنابت فرماتے تو دودھ دوہنے کے برتن جیسا برتن منگواتے اور چلو میں پانی لے کر سر کی داہنی جانب سے آغاز فرماتے پھر دونوں چلوؤں میں پانی لیتے اور اسے سر انور پر بہاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر٦٣٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ، بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 633

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرق(ایک برتن ہے جسمیں تین صاع یعنی ساڑھے تیرہ لیٹر پانی آتا ہے) سے غسل جنابت فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛ترجمہ؛غسل جنابت کے لیے پانی اور مرد و عورت کا ایک برتن سے غسل کرنا؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ هُوَ الْفَرَقُ، مِنَ الْجَنَابَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 634

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیالے سے غسل فرماتے اور وہ فرق ہے اور میں اور آپ دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔حضرت سفیان فرماتے ہیں فرق تین صاع(ساڑھے تیرہ لیٹر)کا ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٥)

حَدَّثَنَا قُتيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتيْبةُ بْنُ سَعِيدٍ، وأَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيانُ كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ» وَفِي حَدِيثِ سُفْيانَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَالَ قُتيْبةُ: قَالَ سُفْيانُ: «وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 635

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ام المومنین کے ایک رضاعی بھائی بھی ساتھ تھے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو ام المؤمنين نے ایک صاع کے برابر ایک برتن منگوایا اور اپنے اور ہمارے درمیان پردہ ڈال کر غسل کرنے لگیں انہوں نے تین مرتبہ سر پر پانی ڈالا۔راوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سر کے بال کاٹ دیتی تھیں حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر رہ جاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٦)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ العَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثلَاثًا» قَالَ: «وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 636

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو دائیں ہاتھ سے شروع فرماتے۔اس پر پانی ڈال کر دھوتے پھر دائیں ہاتھ سے نجاست(جو آپکی ذات کی مناسبت سے ہوتی)پر پانی ڈالتے اور بائیں ہاتھ سے دھوتے حتیٰ کہ جب اس سے فارغ ہوتے تو سر مبارک پر پانی ڈالتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے حالانکہ ہم دونوں جنبی ہوتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر ٦٣٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ بَدَأَ بِيَمِينِهِ، فَصَبَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَغَسَلَهَا، ثُمَّ صَبَّ الْمَاءَ عَلَى الْأَذَى الَّذِي بِهِ بِيَمِينِهِ، وَغَسَلَ عَنْهُ بِشِمَالِهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 637

حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم جو حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔روایت کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ وہ(ام المؤمنين)اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے جو تین مد کا(مد ایک سیر کو کہتے ہیں)یا اس کے قریب تھا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر٦٣٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ - أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَسَعُ ثَلَاثَةَ أَمْدَادٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 638

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر٦٣٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 639

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے جو ہمارے درمیان ہوتا تو آپ مجھ سے جلدی کرتے حتیٰ کہ میں کہتی میرے لئے چھوڑیں میرے لئے چھوڑیں اور دونوں حالت جنابت میں ہوتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَاحِدٍ، فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ: دَعْ لِي، دَعْ لِي. قَالَتْ: وَهُمَا جُنُبَانِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 640

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر٦٤١)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 641

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے(غسل سے)بچے ہوئے پانی سے غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٢)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ -، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَكْبَرُ عِلْمِي، وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ، أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 642

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ وہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جنابت کا غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: «كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 643

حضرت عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک(پونے سات لیٹر)سے غسل کرتے تھے اورایک مکوک سے(ایک لیٹر)وضو فرماتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث ٦٤٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيكَ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ» وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ، وَقَالَ ابْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جَبْرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 644

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضو اور ایک صاع یعنی پانچ مد تک سے غسل فرماتے تھے (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ ابْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 645

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، كِلَاهُمَا عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَسِّلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْمَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيُوَضِّئُهُ الْمُدُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 646

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع(چار کیلو)پانی سے غسل فرماتے اور ایک(ایک کیلو)سے وضو فرماتے تھے (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ، أَوْ قَالَ: وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ، وَقَالَ: وَقَدْ كَانَ كَبِرَ وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 647

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کا غسل کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔بعض حضرات نے کہا کہ میں تو اتنے اتنے پانی سے اپنا سر دھوتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے سر پر(دونوں ہاتھوں سے بھر کر)تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛ترجمہ؛سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی بہانا مستحب ہے؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر٦٤٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - قَالَ: يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أَغْسِلُ رَأْسِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 648

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٤٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 649

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ ثقیف کے وفد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں تو غسل کے لئے کیا کریں۔آپ نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٥٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ بِالْغُسْلِ؟ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا» قَالَ ابْنُ سَالِمٍ: فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ وَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 650

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل فرماتے تو اپنے سر انور پر تین چلو پانی ڈالتے۔حضرت حسن بن محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا تیرے بال زیادہ ہیں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تمہارے بالوں سے بھی زیادہ تھے اور نہایت پاکیزہ بھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٥١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ " فَقَالَ لَهُ: الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ. قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي «كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 651

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے مینڈھیوں کو سخت کر کے باندھتی ہوں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انکو کھولوں؟آپ نے فرمایا نہ بلکہ تیرے لئے تین چلو پانی ڈالنا کافی ہے۔پھر اپنے اوپر پانی بہا کر پاک ہو جاؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛ترجمہ؛غسل میں مینڈھیوں کا حکم؛جلد١ص٢٥٩؛ حدیث نمبر ٦٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: «لَا. إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ».

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 652

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٥٢ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں آیا ہے کہ کیا میں حیض اور جنابت(کے غسل)کے لئے انکو کھولوں(آگے حدیث نمبر ٦٥٢ کی طرح ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٣)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ، فَقَالَ: «لَا.» ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 653

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٥٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ کیا میں انکو کھول کر غسل جنابت کروں حیض کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥۴)

وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَقَالَ: أَفَأَحُلُّهُ فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَيْضَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 654

حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت اپنے سروں کے بالوں کو کھولیں تو انہوں نے فرمایا ابن عمر پر تعجب ہے۔وہ عورتوں کو اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ سروں کے بالوں کو کھولیں اور انکو سر منڈوانے کا حکم نہیں دیتے(پھر فرمایا)میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اپنے سر پر صرف تین چلو پانی ڈالتی تھی اس پر کچھ اضافہ نہیں کرتی تھی۔(چونکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا تھا اس لئے انہوں نے یہ بات فرمائی اگر بالوں کی جڑوں تک پانی نہ پہنچے تو مینڈھیوں کو کھولنا ضروری ہوگا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ. فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ. أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، «لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. وَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 655

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے پوچھا کہ وہ حیض سے کیسے غسل کریں ام المؤمنين فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو غسل کا طریقہ بتایا اور فرمایا پھر وہ خوشبو لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس کے ساتھ طہارت حاصل کرے اس نے پوچھا میں اس کے ساتھ طہارت کس طرح حاصل کروں۔آپ نے فرمایا اس کے ساتھ طہارت حاصل کرو اور اسکے ساتھ ہی آپ نے سبحان اللہ کہتے ہوئے(شرم سے)اپنا چہرہ چھپا لیا۔(سفیان راوی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اشارے سے سمجھایا)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچا اور میں سمجھ گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے تو میں نے کہا اس کے کپڑے کے ساتھ خون کا اثر دور کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں کچھ الفاظ کا فرق ہے معنیٰ وہی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛ترجمہ؛حیض والی عورت کا خوشبو استعمال کرنا؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَيْضَتِهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ. ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا. قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: «تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللهِ» وَاسْتَتَرَ - وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ - قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 656

ایک اور سند کے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں(حیض سے)پاکیزگی حاصل ہونے پر غسل کیسے کروں۔آپ نے فرمایا ایک کپڑا لو جسکے ساتھ خوشبو ہو تو اسکے ساتھ وضو کرو(یعنی خون صاف کرو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٥٧)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 657

حضرت صفیہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا۔بیری کے پتوں والا پانی لے کر اچھی طرح صفائی کرے۔پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے اچھی طرح ملے حتیٰ کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اسکے اوپر پانی بہاے پھر خوشبو لگا ہوا کپڑا لے اور اسکے ساتھ طہارت حاصل کرے۔حضرت اسماء نے پوچھا۔اس سے کیسے طہارت حاصل کروں آپ نے فرمایا سبحان اللہ!اس سے طہارت حاصل کرو حضرت عائشہ نے چپکے سے انکو بتایا کہ اس کپڑے کے ذریعے خون کا اثر زائل کرو اور انہوں نے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا پانی لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرو(فتحسن الطہور فرمایا یا تبلغ الطہور فرمایا راوی کو شک ہے مفہوم ایک ہی ہے) پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اسکو ملو حتیٰ کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا انصار کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کرنے میں ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتا۔(شرعی مسائل معلوم کرنے میں جھجھک محسوس نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جب تک مسئلہ معلوم نہ ہو عمل کیسے ہوگا) (مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: «تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا» فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: «تَأْخُذُ مَاءً فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 658

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر ٦٥٩)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتَرَ».

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 659

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت اسماء بنت شکل رضی اللہ تعالٰی عنہا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جو عورت حیض سے پاک ہو وہ غسل کیسے کرے اس کے بعد حدیث نمبر ٦٥٨ کی مثل بیان کیا البتہ اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٦٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 660

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی عورت ہوں جسکو استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں(بلکل)پاک نہیں ہوتی کیا میں نماز چھوڑ دوں۔آپ نے فرمایا نہیں یہ ایک رگ(کا خون) ہے حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب چلا جائے(یعنی حیض کے دن ختم ہو جائیں)تو اپنے آپ سے خون دھوکر نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛ترجمہ؛مستحاضہ عورت کا غسل اور نماز؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر٦٦١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ. أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: «لَا. إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي».

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 661

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٦١ کی مثل مروی ہے۔حضرت جریر کہتے ہیں فاطمہ بنت ابو حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں اور وہ ہمارے خاندان کی خاتون تھیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر ٦٦٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَإِسْنَادِهِ. وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنَّا، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ زِيَادَةُ حَرْفٍ تَرَكْنَا ذِكْرَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 662

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔عرض کیا کہ مجھے خون آتا ہے۔آپ نے فرمایا یہ ایک رگ) کا خون)ہے پس تم غسل کر کے نماز پڑھو۔پس وہ ہر نماز کے لئے وضو کرتی تھیں۔لیث بن سعد(راوی)کہتے ہیں۔ابن شہاب (راوی) نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا بلکہ وہ خود اپنے طور پر ایسا کرتی تھیں۔ایک روایت میں بنت جحش مذکور ہے ام حبیبہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٣؛حدیث نمبر ٦٦٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ: «لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ»، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ ابْنَةُ جَحْشٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أُمَّ حَبِيبَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 663

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواہر نسبتی(سالی)تھیں جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔انکو سات سال سے مکمل خون آرہا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ(کا خون)ہے پس غسل کرکے نماز پڑھو۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک بڑے برتن میں غسل کرتی تھیں حتیٰ کہ خون کا رنگ پانی پر غالب آجاتا۔ابن شہاب کہتے ہیں انہوں نے یہ بات ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے وہ یہ فتویٰ سنتیں تو اچھا ہوتا اللہ کی قسم وہ نماز نہ پڑھ سکنے پر روئی تھیں۔(مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عارضے کا شکار ہیں اور خون کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتی تھیں اور اس پر ان کو افسوس ہوتا تھا اگر وہ یہ فتویٰ سنتیں تو انکو بھی فائدہ ہوتا۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٣؛حدیث نمبر ٦٦٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، - خَتَنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي».

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 664

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان کو سات سال تک خون آتا رہا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦۴ کی مثل بیان کی لیکن کچھ حصہ ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِى ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ إِلَى قَوْلِهِ: تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 665

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 666

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(استحاضہ کے)خون کے بارے میں سوال کیا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔میں نے دیکھا ان کا برتن(ٹپ وغیرہ)خون سے بھرا ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔تمہیں جس قدر حیض آتا ہے اتنی مدت ٹھہر جاؤ پھر غسل کرکے نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٧)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَمَّ حَبِيبَةَ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 667

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خون کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا اپنے حیض کی مدت رک جاؤ پھر غسل کرو(اور نماز پڑھو)تو وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔(چونکہ استحاضہ کا خون آنے سے نماز معاف نہیں ہوتی اس لئے جس عورت کو مسلسل خون آئے وہ حیض کے دنوں کو شمار کرے اتنے دن نماز نہ پڑھے باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے ہر نماز کے ساتھ غسل کر سکے تو بہتر ہے ورنہ ہر نماز کے لئے وضو کرے۔)مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٨)

حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ. فَقَالَ لَهَا: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 668

حضرت معاذہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم اپنے حیض کے دنوں کی قضا کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے(کوفہ سے دو میل کے فاصلے پر حروراء ایک بستی ہے خارجیوں کا پہلا اجتماع وہاں ہوا اور خارجی حضرات عورت کے لئے حیض کے دنوں کی نمازوں کی قضا واجب قرار دیتے ہیں جو مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کسی ایک کو حیض آتا تو اسے قضا کا حکم نہ دیا جاتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛حائضہ عورت پر روزے کی قضاء ہے نماز کی نہیں؛جلد١ص٢٦٥؛ حدیث نمبر ٦٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ ح، وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ «كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 669

حضرت معاذہ رضی اللہ عنہانے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا حیض والی عورت نماز کی قضاء کرے تو ام المؤمنين نے فرمایا کیا حروریہ ہے؟(مطلب یہ تھا کہ تو حروریہ(خارجیہ) نہیں ہے اسکو استفہام انکاری کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو حیض آتا تو کیا آپ ان کو قضاء کا حکم دیتے تھے؟(نہیں دیتے تھے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٦٥؛حدیث نمبر ٦٧٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ «قَدْ كُنَّ نِسَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحِضْنَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ؟» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: «تَعْنِي يَقْضِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 670

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت معاذہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے پوچھا۔حائضہ عورتوں کو کیا ہوا کہ وہ روزے کی قضاء کرتی ہیں لیکن نماز کی قضاء نہیں کرتیں۔ام المومنین نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے؟میں نے کہا میں حروریہ نہیں ہوں لیکن آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ام المؤمنين نے فرمایا ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا لیکن قضائے نماز کا حکم نہ دیا جاتا۔(چونکہ حیض کے دوران رہ جانے والی نمازیں زیادہ ہوتی ہیں اور انکی قضاء باعث مشقت ہے اس لیے نماز معاف ہو جاتی ہے جب کہ روزے کم ہوتے ہیں اور سال بھر میں قضاء کرنا آسان ہے لہذا انکی رکھی گئی ہے۔)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٦٥؛حدیث نمبر ٦٧١)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ، وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ. فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ، وَلَكِنِّي أَسْأَلُ. قَالَتْ: «كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 671

حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔میں فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور آپکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپکے آگے کپڑے کا پردہ کیا ہوا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛غسل کرتے وقت پردہ کرنا؛جلد١ص٢٦٥؛ حدیث نمبر ٦٧٢)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ: «ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 672

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جب فتح کا سال ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ مکہ مکرمہ کے اوپر والے حصے میں تشریف فرماتھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے لئے پردہ کیا پھر آپ نے کپڑا لے کر لپیٹا اور اس کے بعد چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر ٦٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ. أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ «قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 673

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٧٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر ٦٧٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ سَجَدَاتٍ، وَذَلِكَ ضُحًى

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 674

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے(غسل کے)لیے پانی رکھا اور آپ کے آگے پردہ کیا تو آپ نے غسل فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر٦٧٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى الْقَارِئُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، وَسَتَرْتُهُ فَاغْتَسَلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 675

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔(اس طرح شہوت پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب دو جسموں کا ملاپ ہوتا ہے اور وہ دونوں بالغ ہوتے ہیں تو یہ صورت پیدا ہوتی ہے اس لیے آپ نے منع فرمایا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ إِلَى الْعَوْرَاتِ؛ترجمہ؛شرمگاہ کی طرف دیکھنا حرام ہے؛جلد١ص٢٦٦؛ حدیث نمبر ٦٧٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 676

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ إِلَى الْعَوْرَاتِ؛جلد١ص٢٦٧؛حدیث نمبر٦٧٧)

وَحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: - مَكَانَ عَوْرَةِ - عُرْيَةِ الرَّجُلِ، وَعُرْيَةِ الْمَرْأَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 677

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر غسل کرتے تھےاور وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام علیحدگی میں غسل فرماتے تھے۔(اس سبب)وہ لوگ کہتے تھے اللہ کی قسم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے یہ بات مانع ہے کہ آپکو ہرنیا(خصیہ کا بڑا ہونا)کی بیماری ہے۔آپ فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تھے تو پتھر آپکے کپڑے کو لے کر بھاگ گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اسکے پیچھے تیزی سے دوڑنے لگے اور فرمایا اے پتھر میرے کپڑے دے دو اے پتھر میرے کپڑے دے دو حتیٰ کہ بنی اسرائیل نے آپکی جائے ستر کو دیکھا اور کہنے لگے اللہ کی قسم!حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوئی بیماری نہیں ہے۔پس پتھر رک گیاحتی کہ آپکو دیکھا گیا آپ نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کے چھ یا سات نشانات ہیں۔(چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان لوگوں کے اعتراض کو زائل کرنا تھا اس لئے یہ حکمت خداوندی کے تحت یہ واقعہ ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کپڑوں کے پیچھے دوڑنا حالت جذب میں تھا۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ الِاغْتِسَالِ عُرْيَانًا فِي الْخَلْوَةِ؛ترجمہ؛تنہائی میں ننگے جسم غسل کرنا؛جلد١ص٢٦۷؛حدیث نمبر ٦۷٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا. وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ. وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ. قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى بِإِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى قَالُوا: وَاللهِ، مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ، أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 678

حضرت عمر بن دینار رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے جب کعبہ شریف کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ(دونوں) پتھر اٹھا رہے تھے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اپنا تہبند کندھے پر رکھیں تاکہ پتھر اٹھانا آسان ہو۔آپ نے ایسا کیا تو زمین پر گر پڑے اور آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔پھر کھڑے ہوئے تو فرمایا میرا تہبندمیرا تہبند پس آپ کا تہبند باندھ دیا گیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛ترجمہ؛شرمگاہ کی حفاظت کا اہتمام؛جلد١ص٢٦٧؛حدیث نمبر ٦٧٩)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ: إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ: ابْنُ رَافِعٍ -، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً. فَقَالَ الْعَبَّاسُ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «إِزَارِي إِزَارِي» فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَلَى رَقَبَتِكَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلَى عَاتِقِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 679

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہمراہ کعبہ شریف کے لئے پتھر لا رہے تھے اور آپ نے تہبند باندھ رکھا تھا۔آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے اگر آپ اپنا تہبند کھول کر کندھے پر رکھیں تو اچھا ہے تاکہ پتھروں سے محفوظ رہیں۔فرماتے ہیں آپ نے تہبند مبارک کھول کر کندھے پر رکھ دیا تو بیہوش ہو کر گر پڑے اس کے بعد سے آپ کو کبھی برہنہ نہ دیکھا گیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر ٦٨٠)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ. فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبِكَ دُونَ الْحِجَارَةِ. قَالَ: «فَحَلَّهُ. فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ»، قَالَ: «فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 680

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں ایک بھاری پتھر اٹھانے کے لئے آگے بڑھا اور مجھ پر ایک ہلکا سا تہبند تھا۔اچانک میرا تہبند کھل گیا اور میں نے بھاری پتھر اٹھا رکھا تھا اور میں اسے نیچے نہیں رکھ سکتا تھا۔جب تک اصل جگہ تک نہ پہنچ جاؤں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنا کپڑا لے لو اور ننگے نہ چلو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر٦٨١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 681

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت حسن بن سعد حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے(سواری پر)اپنے پیچھے بٹھایا تو خاموشی کے ساتھ مجھ سے ایک بات کی جسے میں کسی شخص سے بیان نہیں کرتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پردے کے لئے بلند ٹیلہ یا درختوں کی اوٹ زیادہ پسند تھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يُسْتَتَرُ بِهِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ؛ترجمہ؛پیشاب کرتے وقت پردہ کرنا؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر٦٨٢)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ. فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ «وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ» قَالَ ابْنُ أَسْمَاءَ فِي حَدِيثِهِ: «يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 682

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قباء کی طرف نکلا حتیٰ کہ جب ہم بنو سالم میں تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر کھڑے ہوۓ اور آواز دی وہ اپنا تہبند کھینچتے ہوئے باہر آئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہم نے انکو جلدی بلا لیا۔حضرت عتبان نے عرض کیا یا رسول اللہ بتائیے۔اگر ایک آدمی اپنی بیوی سے ہم بستر ہو اور انزال نہ ہو تو اس پر کیا واجب ہے۔آپ نے فرمایا پانی، پانی سے ہے۔(اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک إنزال نہ ہو غسل فرض نہ ہوگالیکن یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر٦٩١ اور ٦٩٢ سے واضح ہوتا ہے کہ محض اعضائے مخصوصہ کے ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے اس میں إنزال کی شرط نہیں ہے۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛ ترجمہ؛جماع سے غسل کا وجوب؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ. وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ» فَقَالَ عِتْبَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يُمْنِ، مَاذَا عَلَيْهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 683

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٨٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 684

حضرت ابوالعلاء بن شخير رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث دوسری بعض کے لئے ناسخ ہے جس طرح قرآن کا بعض بعض کو منسوخ کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا، كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 685

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری پر گزرے تو اسے پیغام بھیجا وہ باہر آئے اور انکے سرسے(پانی کے) قطرے ٹپک رہے تھے۔آپ نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی بلا لیا۔انہوں نے عرض کیا۔ہاں یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا جب تم انزال کے بغیر جماع کرو تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کر لیا کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: «لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ» وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 686

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کہ وہ عورت سے جماع کرتا ہے۔پھر اس کو انزال نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا۔عورت سے جو کچھ اسکے ساتھ لگا ہے اسے دھو لے اور پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يُكْسِلُ؟ فَقَالَ: «يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 687

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے۔پھر اسکو انزال نہیں ہوتا تو وہ شرمگاہ کو دھوکر وضو کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ - الْمَلِيِّ عَنِ الْمَلِيِّ يَعْنِي بِقَوْلِهِ الْمَلِيِّ عَنِ الْمَلِيِّ - أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي الرَّجُلِ يَأْتِي أَهْلَهُ ثُمَّ لَا يُنْزِلُ قَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 688

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بتائیے جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے اور اسکو انزال نہ ہو(تو وہ کیا کرے)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔وہ نماز کے وضو جیسا وضو کرے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يُمْنِ؟ قَالَ عُثْمَانُ: «يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ» قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 689

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٨٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 690

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کی چار شاخوں(دو ہاتھ دو پاؤں)کے درمیان بیٹھے پھر اسے تھکا دے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے حضرت معطر کی روایت میں ہے۔اگرچہ انزال نہ ہو۔(جس طرح حدیث نمبر ٦٨٥ میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث دوسری بعض کے لئے ناسخ ہیں تو یہ حدیث(٦٩١)پہلی احادیث کے لئے ناسخ ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا کہ(جب کہ شرمگاہ مل جائیں)تو انزال نہ بھی ہو تو غسل واجب ہوگا گزشتہ احادیث میں یہ بتایا گیا کہ غسل کے لئے انزال شرط ہے لیکن اب یہ حکم منسوخ ہوگیا) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ» وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ قَالَ زُهَيْرٌ: مِنْ بَيْنِهِمْ بَيْنَ أَشْعُبِهَا الْأَرْبَعِ.

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 691

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٩١ کی مثل مروی ہے اور اس میں انزال کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ثُمَّ اجْتَهَدَ وَلَمْ يَقُلْ «وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 692

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہے۔انصار کہتے ہیں۔غسل تب واجب ہوتا ہے جب اچھل کود ہو یا پانی نکلے اور مہاجرین کہتے ہیں بلکہ باہم مل جانے سے غسل واجب ہوتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا میں تمہیں اس سلسلے میں شفا(پرمبنی بیان) دوں گا پس میں کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی مجھے اجازت دی گئی تو میں نے ان سے عرض کیا اے اماں جان!یا ام المؤمنين کہا(راوی کو شک)میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے حیا آتی ہے۔انہوں نے فرمایا اگر اپنی ماں سے جس نے تجھے جنا ہے،کچھ پوچھنا ہو تو حیا نہ کرو اور میں بھی تمہاری ماں ہوں۔میں نے پوچھا غسل کس سے واجب ہوتا ہے۔فرمایا تم خبر رکھنے والی کے پاس آئے ہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد عورت کے چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاۓ اور شرمگاہ،شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔(انزال ہو یا نہ ہو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ: لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ أَوْ مِنَ الْمَاءِ. وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّاهْ - أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، قُلْتُ: فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 693

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے۔پھر اس کا جسم سست ہو جاتا ہے(مطلب یہ ہے کہ وہ انزال سے پہلے الگ ہو جاتا ہے)تو کیا ان دونوں پر غسل ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تشریف فرما تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یہ دونوں ایسا عمل کرتے ہیں پھر ہم دونوں غسل کرتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧٢؛حدیث نمبر ٦٩٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، أَنَا وَهَذِهِ، ثُمَّ نَغْتَسِلُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 694

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز(کھانے)سے وضو لازم ہو جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو انہوں نے فرمایا میں اس لئے وضو کر رہا ہوں کہ میں نے پنیر کے چند ٹکڑے کھاۓ ہیں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا اس چیز(کے کھانے)سے وضو کرو جسکو آگ نے چھوا ہو۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا آپ فرماتی تھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز(کے کھانے)سے وضو کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛ترجمہ؛آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا؛جلد١ص٢٧٢؛ حدیث نمبر ٦٩٥)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؟ فَقَالَ: عُرْوَةُ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 695

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٦٩٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 696

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت یا(فرمایا)محض گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا اور نہ ہی پانی کو ہاتھ لگایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٧)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح، وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَرْقًا، أَوْ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 697

حضرت عمر بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ شانے کا گوشت چھری سے کاٹ کے کھارہے تھے۔پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفٍ يَأْكُلُ مِنْهَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 698

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ بکری کے شانے کا گوشت چھری سے کاٹ کاٹ کر تناول فرما رہے تھے۔پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور چھری کو پھینک دیا آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٩)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 699

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے ہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٧٠٠)

قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 700

حضرت رافع فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونتا تھا۔پھر آپ(نیا)وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٧٠١)

قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «أَشْهَدُ لَكُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 701

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر پانی منگواکر کلی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٧٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ»، وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دَسَمًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 702

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٧٠٣)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح، وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 703

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو سمیٹا پھر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔اسی اثناء میں روٹی اور گوشت کا ہدیہ آیا تو آپ نے تین لقمے لیے پھر نماز پڑھائی اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٤)

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأَكَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَمَا مَسَّ مَاءً»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 704

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٠٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے نماز پڑھانے کا ذکر نہیں۔(ان تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے بیان فرمایا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے سے مراد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے اور جہاں وضو کی نفی ہے وہاں حقیقی وضو کی نفی ہے خاص طور پر چکنائی والی چیز کھانے کے بعد کلی کرنا ضروری ہے اور ایسا ہی ہوا کہ گوشت کھانے کے بعد حضور نے نہ کلی اور نہ ہاتھ دھوۓ کیونکہ چکناہٹ نہ تھی لہٰذا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٥)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ، وَفِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَلَّى وَلَمْ يَقُلْ بِالنَّاسِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 705

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟آپ نے فرمایا اگر چاہو تو وضو کرو اور چاہو تو نہ کرو۔پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعدوضو کرو(ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مراد ہے)پوچھا کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔فرمایا ہاں(پڑھ سکتے ہو)پوچھا کیا اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔فرمایا نہیں۔(بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے اذیت کا خطرہ نہیں ہوتا جبکہ اونٹ کے باڑے میں خطرہ ہوتا ہے اس لیے آپ نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی اور اونٹ کے باڑے میں اجازت نہیں دی) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؛ترجمہ؛اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا؛جلد١ص٢٧٥؛ حدیث نمبر ٧٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَوَضَّأْ» قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «لَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 706

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٧٠٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، كُلُّهُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 707

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں شکایت کی کہ ان کو نماز میں وضو ٹوٹنے کا شک رہتا ہے۔آپ نے فرمایا نماز نہ توڑو حتیٰ کہ آواز سنو یا بو محسوس کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ تَيَقَّنَ الطَّهَارَةَ، ثُمَّ شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِطَهَارَتِهِ تِلْكَ؛ترجمہ؛جس شخص کو وضو کا یقین ہو پھروضو ٹوٹنے کا شک ہو جائے تو وہ اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٠٨)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ، يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 708

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور اس کو شک ہو کے آیا اس سے کچھ نکلا یا نہیں تو مسجد سے ہر گز نہ نکلے حتیٰ کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔(چونکہ وضو یقینی ہے اور اب ٹوٹنے کا محض شک ہے یقینی بات قوی ہوتی ہے اور مشکوک بات کمزور ہوتی ہے لہٰذا شک سے یقین زائل نہیں ہوتا جب تک ٹوٹنے کا یقین نہ ہو شک کی طرف توجہ نہ کی جائے ہاں محض احتیاطاً وضو کر لے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن ضروری نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ تَيَقَّنَ الطَّهَارَةَ، ثُمَّ شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِطَهَارَتِهِ تِلْكَ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٠٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 709

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو کسی نے ایک بکری صدقہ کے طور پر دی اور وہ مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو فرمایا تم نے اسکے چمڑے کو اتار کر اسے رنگا کیوں نہیں۔اس طرح تم اس سے نفع حاصل کرتے۔انہوں نے عرض کیا کہ یہ مردار تھی۔آپ نے فرمایا اسکا کھانا حرام ہے۔(دیگر کام کے لیے استعمال میں لا سکتے ہو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛ترجمہ؛رنگنے سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے؛جلد١ص٢٧٦؛ حدیث نمبر ٧١٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ؟» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 710

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردار بکری پائی جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو بطور عطیہ دی گئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں حاصل کیا؟انہوں نے عرض کیا یہ تو مردار ہے۔فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧١١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا» قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 711

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٢)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 712

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پھینکی گئی بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو بطور صدقہ دی گئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہیں اتاری تاکہ تم اس کو رنگ کر اس سے نفع حاصل کرتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٣)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ -، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 713

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انکو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے گھر میں پالی ہوئی بکری تھی۔وہ مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسکی کھال اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہ حاصل کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَاتَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 714

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کی تھی۔آپ نے فرمایا تم اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں حاصل کرتے؟۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ. فَقَالَ: «أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 715

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔آپ نے فرمایا جب چمڑے کو رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر٧١٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 716

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٧١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 717

حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت ابو الخیر نے ان سے بیان کیا۔فرماتے ہیں میں نے حضرت علی بن وعلہ سبائی پر ایک پوستین دیکھی تو اس پر ہاتھ پھیرا۔انہوں نے پوچھا تم اس پر ہاتھ کیوں پھیرتے ہو۔میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا ہم مغرب کے علاقے میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ برابر قبیلے کے لوگ اور مجوسی ہوتے ہیں انکی ذبح کی ہوئی بکری ہمارے پاس لائی جاتی ہے تو ہم انکا ذبیحہ نہیں کھاتے ہیں اور وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں(تو ہم کیا کریں)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا وہ(کھال)رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٨)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، - قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ: - أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ. وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 718

ابن وعلہ سبائی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم مغرب میں رہتے ہیں۔پس ہمارے پاس مجوسی ایسے مشکیزے لاتے ہیں جن میں پانی اور چربی ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا پی سکتے ہو۔میں نے پوچھا پر آپکی رائے کیا ہے؟تو ابن عباس نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس(کھال)کو رنگنا اسکی طہارت ہے۔(احناف کے نزدیک خنزیر اور انسان کے علاوہ ہر جانور کی کھال رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے خنزیر چونکہ نجس العین ہے اس لیے اسکی کھال پاک نہیں ہوتی اور انسان کے احترام میں اسکی کھال کا استعمال ممنوع ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٩)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَإِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ، فَقَالَ: اشْرَبْ. فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ؟ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 719

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے۔جب ہم مقام بیداء اور ذات الجیش مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا(اور گم ہوگیا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسکی تلاش کے لئے وہاں ٹھہر گئے اور صحاب کرام بھی آپکے ہمراہ رک گئے نہ وہاں کوئی چشمہ تھا اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا۔صحابہ کرام،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ ۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے ساتھ صحابہ کرام کو بھی روک لیا اور یہاں پانی نہیں اورنہ ہی صحابہ کرام کے پاس پانی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے۔انہوں نے فرمایا(اے عائشہ)تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے ساتھ صحابہ کرام کو بھی روک رکھا ہےحالانکہ یہاں پانی نہیں اور نہ ہے انکے پاس پانی ہے(ام المومنین)فرماتی ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے جھڑکا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا انہوں نے فرمایا آپ میری کوکھ(پہلو)میں انگلیاں چبھوتے تھے اور مجھے حرکت سے صرف یہ بات روک رہی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور پانی نہیں تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی۔پس صحابہ کرام نے تیمم کیا۔حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے ایک تھے(قوم کے سردار کو نقیب کہتے ہیں)فرمایا اے آل ابوبکر!یہ تم لوگوں کی پہلی برکت نہیں ہے(مطلب یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے امت پر بہت زیادہ احسانات ہیں یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کیونکہ اسکی وجہ سے امت کو تیمم کی سہولت حاصل ہوئی۔)۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے ہار اسکے نیچے پایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ التَّيَمُّمِ؛ترجمہ؛تیمم کے احکام؛ جلد١ص٢٧٩؛حدیث نمبر٧٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، «فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ «أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ «، قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي،» فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا " فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: - وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ - «مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 720

حضرت ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء سے ایک ہار بطور ادھار لیا تو وہ گم ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ صحابہ کرام کو اسکے تلاش میں بھیجا نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی اس پر آیت تیمم نازل ہوئی۔حضرت اسید بن حضیر نے فرمایا(اےام المومنین)اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔اللہ کی قسم آپ جس معاملے میں مبتلا ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے نکلنے کا کوئی راستہ بنایا اور اسے مسلمانوں کے لئے برکت کا ذریعہ بنایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض:بَابُ التَّيَمُّمِ؛جلد١ص٢٧٩؛حدیث نمبر ٧٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، «فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ» فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: «جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 721

حضرت شقیق فرماتے ہیں۔میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا اے ابو عبد الرحمن!آپ کا کیا خیال ہے۔اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ پائے تو نماز کے بارے میں کیا کرے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیمم نہ کرے اگرچہ ایک ماہ پانی نہ پائے۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا کروگے جس میں فرمایا" {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣]" اگر تم(حالت جنابت میں)پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔"حضرت عبداللہ نے فرمایا اگر اس آیت سے انکو رخصت دی جائے تو ہو سکتا ہے وہ پانی ٹھنڈا ہونے کی صورت میں بھی مٹی سے تیمم کر لیں۔حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبداللہ سے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار کا قول نہیں سنا(وہ فرماتے ہیں)مجھے رسول اکرم نے ایک کام کے لئے بھیجا اور میں جنبی ہو گیا۔میں نے پانی نہ پایا تو مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔پھر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر یہ واقعہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے اس قدر کافی تھا_آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا پھر بائیں ہاتھ سےدائیں ہاتھ کا مسح کیا اور ہاتھوں کے ظاہر اور پھر چہرے کا مسح کیا_حضرت عبداللہ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے حضرت عمار کے قول پر قناعت نہیں کرتے_(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نزدیک لامستم النساء سے عورتوں کو چھونا مراد تھا اس لئے وہ فرماتے تھے کہ جنابت کے لئے تیمم جائز نہیں تو یہ انکا انفرادی اجتہادی قول تھا جب کہ دوسرے حضرات اس سے جماع مراد لیتے ہیں اور اس وجہ سے جنابت سے طہارت کے لئے تیمم کے قائل ہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣]. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ، وَوَجْهَهُ فَقَالَ: عَبْدُ اللهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 722

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ۷٢٢ کی مثل مروی ہے_البتہ اس میں یہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے اس قدر کافی تھا اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارکر جھاڑا_پھر چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا_(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا» وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 723

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں جنبی ہوگیا ہوں لیکن مجھے پانی نہیں مل رہا ہے_آپ نے فرمایا نماز نہ پڑھو_حضرت عمار نے فرمایا اے امیر المؤمنین آپکو یاد نہیں جب ہم اور آپ ایک جہاد پر اکھٹے تھے ہم جنبی ہوئے اور پانی نہ پایا تو آپ نے نماز نہ پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس قدر کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارتے پھر پھونک مارتے پھر ان سے چہرے اور ہاتھوں(بازوؤں)کا مسح کرتے _حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمار!اللہ تعالٰی سے ڈرو،حضرت عمار نے فرمایا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں گا_ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت امام مسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے_اس میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے فرمایا ہم آپکو چھوڑ دیتے ہیں آپ جدھر پھیریں_(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢۴)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَقَالَ: لَا تُصَلِّ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ، ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ، وَكَفَّيْكَ» فَقَالَ عُمَرُ: " اتَّقِ اللهَ يَا عَمَّارُ قَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ " قَالَ الْحَكَمُ: وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 724

حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں لیکن مجھے پانی نہیں ملا۔پھرحدیث نمبر ٧٢٤ کی مثل ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمار نے عرض کیا۔اے امیر المومنین!اگر آپ اس حق کی وجہ سے جو آپ کو مجھ پر حاصل ہے چاہیں تو میں کسی سے یہ حدیث بیان نہیں کروں گا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٥)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 725

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر فرماتے ہیں اور حضرت عبدالرحمن بن یسارجو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں حضرت ابوالجھم بن حارث بن صمہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو الجھم نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص ملا اس نے سلام کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔حتیٰ کہ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنے کے بعد سلام کا جواب دیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٦)

قَالَ مُسْلِمٌ، وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 726

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخض گزرا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب فرما رہے تھے۔اس نے سلام کیا لیکن آپ نے اس کا جواب نہ دیا۔(پیشاب کی حالت میں سلام کا جواب دینا ضروری نہیں اور سلام کرنا بھی نہیں چاہیے) (مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 727

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ طیبہ کے ایک راستے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی اور وہ جنبی تھے پس وہ چھپ کر نکل گئے اور غسل کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو تلاش کیا جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ!تم کہاں تھے؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے ملے تو میں جنبی تھا۔پس میں نے غسل کرنے سے پہلے آپ کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ؛ترجمہ؛مسلمان ناپاک نہیں ہوتا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٢٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ قَالَ: حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 728

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی اور وہ جنبی تھے تو وہ آپ سے الگ ہو کر غسل کرنے چلے گئے۔پھر حاضر ہوۓ تو عرض کیا میں جنبی تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلم ناپاک نہیں ہوتا۔(مطلب یہ ہے کہ نجاست حکمی ہے اور غسل اس پر فرض ہے لیکن اس کے ہاتھ ناپاک نہیں کہ وہ مصافحہ نہ کر سکے اسی طرح اس کے لئے دوسروں کے پاس بیٹھنا اور گفتگو وغیرہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہاں ادب کا تقاضا کچھ اور ہے۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٢٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ. ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا. قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 729

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے(یعنی ذکر کرنے کے لئے وضو کی ضرورت نہ تھی بلکہ تلاوت کے علاوہ ذکر حالت جنابت میں بھی ہو سکتا ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى فِي حَالِ الْجَنَابَةِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛حالت جنابت میں اور اس کے علاوہ ذکر خداوندی کرنا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 730

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔حاضرین نے آپکو وضو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا جب میں نماز کا ارادہ کرتا ہوں تو وضو کرتا ہوں(یعنی اس وقت وضو ضروری ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛ترجمہ؛وضو کے بغیر کھانا کھانا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٣١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، - قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ»، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ فَقَالَ: «أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 731

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔آپ قضائے حاجت سے تشریف لائے تو کھانا پیش کیا گیا۔آپ سے عرض کیا گیا آپ وضو نہیں کرتے؟آپ نے فرمایا کیوں؟میں نماز کے لئے وضو کرتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ» فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «لِمَ؟ أَأُصَلِّي فَأَتَوَضَّأَ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 732

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو آپ کے سامنے کھانا رکھا گیا۔پوچھا گیا یا رسول اللہ!آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟آپ نے فرمایا کیوں؟کیا نماز پڑھنی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: «لِمَ؟ أَلِلصَّلَاةِ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 733

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔آپ نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ سے پوچھا گیا کیا آپ وضو نہیں فرماتے۔آپ نے فرمایا میں نے نماز کا ارادہ نہیں کیا کہ وضو کروں۔(اسکا مطلب یہ ہے کہ وضو کر کے کھانا کھانا ضروری نہیں اس کے مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل سنت بنتا تھا اس لئے آپ امت کی آسانی کے لئے بعض اوقات ایسا عمل فرماتے تھے جو آپ کی عادت مبارکہ کے خلاف ہوتا تاکہ امت کو مسئلہ معلوم ہو جائے یہاں بھی یہی صورت ہے آپ نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ کھانا کھانے کے لئے وضو فرض نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»، قَالَ: وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ؟ قَالَ: «مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ» وَزَعَمَ عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 734

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے(داخل ہونے کا ارادہ فرماتے)ایک روایت میں "الخلاء" کی جگہ " *الکنیف* "کا لفظ ہے مفہوم ایک ہی ہے تو ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگتے۔: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»یا اللہ!میں نر اور مادہ شیطانوں(اور انکے شر)سےتیری پناہ چاہتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ الْخَلَاءِ؛ترجمہ؛بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت کیا پڑھے؛جلد١ص٢٨٣؛ حدیث نمبر ٧٣٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ يَحْيَى: أَيْضًا أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ، - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 735

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٣٥ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں" *اعوذ باللہ* " کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ الْخَلَاءِ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 736

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے گفتگو فرما رہے تھے۔دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے اور آپ نماز کے لئے کھڑے نہ ہوۓ کہ صحابہ کرام سو گئے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛ترجمہ؛بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح، وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي الرَّجُلَ - فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 737

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے سر گوشی فرما رہے تھے اور آپ مسلسل گفتگو فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ کے صحابہ کرام سو گئے پھر تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٨)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 738

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سو جاتے پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ فرماتے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم!۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر٧٣٩)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ» قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ: إِي وَاللهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 739

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز عشاء کے لیے اقامت کہی گئی تو ایک شخص نے عرض کیا مجھے ایک کام ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس سے باتیں کرنے لگے حتیٰ کہ صحابہ کرام یا بعض صحابہ کرام سو گئے پھر انہوں نے نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٤٠)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ - أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ - ثُمَّ صَلَّوْا "

Muslim Shareef, Kitabul Haiz, Hadees No. 740

Muslim Shareef : Kitabul Haiz

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْحَيْضِ

|

•