
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو جنت میں داخل ہونے والے عام لوگ مساکین تھےاورمال داروں کو جنت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا البتہ دوزخیوں کو دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑاہوا تو وہاں داخل ہونے والی عموما عورتیں تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛ترجمہ؛اکثر جنتی فقراء اور اکثر اہل دوزخ عورتیں ہوں گی؛جلد٤ص۲۰۹٦؛حدیث نمبر؛٦۸۱۵)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت پر مطلع ہوا تو وہاں زیادہ تر فقراء کو دیکھا اور جہنم پر مطلع ہوا تو وہاں پر زیادہ تر عورتوں کو دیکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹٦؛حدیث نمبر؛٦۸۱٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹٦؛حدیث نمبر؛٦۸۱۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہنم پر مطلع ہوئے....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٨١٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۱۸)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٨١٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۱۹)
ابوالتیاج کہتے ہیں کہ مطرف بن عبداللہ کی دو بیویاں تھیں وہ ایک کے پاس سے آے تو دوسری نے کہا کہ تم فلاں(بیوی)کے پاس سے آے ہو انہوں نے کہا میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں اور انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے رہنے والوں میں عورتیں بہت کم ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۲۰)
مطرف بیان کرتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں،حضرت معاذ کی حدیث کا معنی بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۲۱)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا یہ بھی تھی: یا اللہ!میں تیری نعمت کے زوال سے،تیری(طرف سے ملنے والی)عافیت کے پھرنے سے،ناگہانی عذاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے پناہ میں آتا ہوں" (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۲۲)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۷؛حدیث نمبر؛٦۸۲۳)
حضرت اسامہ بن زید اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بعد لوگوں میں مردوں پر عورتوں سے زیادہ مضر فتنہ نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۸؛حدیث نمبر؛٦۸۲٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۸؛حدیث نمبر؛٦۸۲۵)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور بے شک اللہ تعالی تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے پھر وہ دیکھے گا کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو۔پس دنیا(کی محبت)سے بچو اور عورتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔ابن بشار کی روایت میں(فینظر کی جگہ)لینظر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٤ص۲۰۹۸؛حدیث نمبر؛٦۸۲٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین آدمی جا رہے تھے کہ ان کو بارش نے آلیا وہ پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی اتنے میں پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا اور غار کے منہ پر آ گیا اور منہ بند ہوگیا۔ ایک نے دوسرے سے کہا:اپنے اپنے نیک اعمال کا خیال کرو جو اللہ کے لیے کیے ہو اور دعا مانگو ان اعمال کے وسیلہ سے شاید اللہ تعالیٰ اس پتھر کو کھول دے تمہارے لیے۔ تو ایک نے ان میں سے کہا:میرے ماں باپ بوڑھے ضعیف تھے اور میری بیوی اور میرے چھوٹے چھوٹے لڑکے تھے کہ میں ان کے واسطے بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا۔پھر جب میں شام کے قریب چرا کر لاتا تھا تو ان کا دودھ دوہتا تھا،تو پہلے اپنے ماں باپ سے شروع کرتا تھا تو ان کو اپنے لڑکوں سے پہلے پلاتا تھا البتہ ایک دن مجھ کو درخت نے دور ڈالا(یعنی چارہ بہت دور ملا)سو میں گھر نہ آیا یہاں تک کہ مجھ کو شام ہو گئی،تو میں نے ماں باپ کو سوتا پایا،پھر میں نے دودھ دوہا جس طرح دوہا کرتا تھا تو میں دودھ لایا اور ماں باپ کے سر کے پاس کھڑا ہوا۔مجھ کو برا لگا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور برا لگا کہ ان سے پہلے لڑکوں کو پلاؤں اور لڑکے بھوک کے مارے شور کرتے تھے، میرے دونوں پیروں کے پاس،سو اسی طرح برابر میرا اور ان کا حال رہا صبح تک(یعنی میں ان کے انتظار میں دودھ لیے رات بھر کھڑا رہا)اور لڑکے روتے چلاتے رہے،نہ میں نے پیا،نہ لڑکوں کو پلایا۔ یا اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ ایسی محنت اور مشقت تیری رضا مندی کے واسطے میں نے کی تھی تو ہمارے لیے کچھ کشادگی پیدا کر دےجس میں سے ہم آسمان دیکھیں تو اللہ نے اس میں سے کچھ کشادگی پیدا کردی اور انہوں نے اس میں سے آسمان کو دیکھا۔ دوسرے نے کہا:یا اللہ!میری ایک چچا کی بیٹی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا،جیسے مرد عورت سے کرتے ہیں میں نے اس سے مقاربت کا مطالبہ کیا اس نے نہ مانا اور کہا:جب تک سو درہم نہ دے گا میں راضی نہ ہوں گی میں نے کوشش کی اور سو درہم اس کے پاس لایا جب میں نے اس کے دونوں پاؤں کے درمیان(جنسی عمل کے لیے)بیٹھ گیا تو اس نے کہا:اے اللہ کے بندے!ڈر اللہ سے اور ناجائز طریقے سے مہر نہ توڑ پس میں اسی وقت اس سے الگ ہوگیا۔یا اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری رضا مندی کے لیے کیا ہے پس تو اس میں کشادگی پیدا کردے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کشادگی پیدا کردی۔ تیسرے نے کہا:یااللہ!میں نے ایک شخص سے مزدوری لی ایک فرق چاول پر،جب وہ اپنا کام کر چکا،اس نے کہا:میرا حق دے،میں نے فرق بھر چاول اس کے سامنے رکھے،اس نے نہ لیے،میں ان چاولوں کو بوتا رہا(اس میں برکت ہوئی)یہاں تک کہ میں نے اس مال سے گائے بیل اور ان کے چرانے والے غلام اکھٹے کئے،پھر وہ مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا:اللہ سے ڈر اور میراحق مت مار،میں نے کہا:جا اور گائے بیل اور ان کے چرانے والے سب تو لے لے۔وہ بولا:اللہ سے ڈر اور مجھ سے مذاق مت کر،میں نے کہا:میں مذاق نہیں کرتا،وہ گائے،بیل اور چرانے والوں کو تو لے لے اس نے ان کو لے لیا،یا اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیری رضا مندی کے لیے کیا ہے تو اب غار کا باقی حصہ بھی کھول دے پس اللہ تعالیٰ نے غار کا باقی ماندہ منہ بھی کھول دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ؛ترجمہ؛غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ؛جلد٤ص۲۰۹٩؛حدیث نمبر؛٦۸۲۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی چار سندیں ذکر کی ہیں موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ وہ غار سے نکل کر چل دئے اور صالح کی روایت میں"یتماشون"کا لفظ ہے جب کہ عبید کی روایت میں"خرجوا"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛باب قصۃ أصحاب الغار الثلاثۃ والتوسل بصالح الأعمال؛جلد٤ص۲۱۰۰؛حدیث نمبر؛٦۸۲۸)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں تین شخص روانہ ہوئے حتیٰ کہ ان کو رات کے وقت غار میں پناہ لینا پڑا.....اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ ہے ان میں سے ایک شخص نے کہا یا اللہ!میرے بوڑھے ماں باپ تھے میں رات کو ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا تھا اور(دوسرے)نے کہا اس لڑکی نے انکار کیا حتیٰ کہ ایک سال وہ قحط میں مبتلا ہوگئی پھر وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے بیس دینار دئے اور تیسرے نے کہا میں نے اس شخص کو اس کی مزدوری کا پھل دیا۔حتیٰ کہ مال بہت زیادہ ہوگیا اور وہ موجیں مارنے لگا۔پھر وہ غار سے نکل کر روانہ ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّقَاقِ؛بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ؛جلد٤ص۲۱۰۱؛حدیث نمبر؛٦۸۲۹)
Muslim Shareef : Kitabur Riqaqe
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الرِّقَاقِ
|
•