asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum

From 6900 to 6920

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے جس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک وہ ان سے الگ نہ ہو جائے ان کو مت کچھ دو۔زہیرکہتے ہیں یہ اس کی قرأت ہے جس نے"من حلولہ" پڑھا ہے۔ اور ابن ابی نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے(اس بات کے متعلق)پوچھا تو اس نے پکی قسم کھائی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی اور کہا کہ زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں مجھے ان لوگوں کی بات سے سخت تکلیف پہنچی اللہ تعالی نے میری تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ)"جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں"آخر تک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلایا تاکہ ان کے لئے مغفرت طلب کرے تو انہوں نے(مذاق اڑاتے ہوئے)اپنے سر ٹیڑھے کیے اور اللہ کا یہ ارشاد"گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں" حضرت زید فرماتے ہیں ظاہر میں یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛ترجمہ؛منافقین کی صفات اور ان کے احکام؛جلد٤ص۲۱٤٠؛حدیث نمبر؛٦۹۰۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ - قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ - وَقَالَ : { لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ }. قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ، فَقَالَ : كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي : { إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ }. قَالَ : ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قَالَ : فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ، وَقَوْلُهُ : { كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ }. وَقَالَ : كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6900

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کو اس کی قبر سے نکال کر اپنے گھٹنوں پر رکھا اس پر اپنا لعاب مبارک ڈالا اور اپنی قمیض پہنائی اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٠؛حدیث نمبر؛٦۹۰۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6901

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کے دفن کئے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٩٠١کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۲)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6902

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے سوال کیا کہ اپنی قمیص اس کو عطاء فرمائیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دیں آپ نے اپنی قمیص عطاء فرمادی پھر انہوں نے عرض کیا کہ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مبارک پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ!آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرمایا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں(برابر ہے)اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں اور میں ستر بار پر زیادہ کروں گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ تو منافق ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "ان(منافقین)میں جو شخص مر جائے آپ اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ، فَقَالَ : { اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً }. وَسَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ ". قَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ. فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6903

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپ نے منافقین پر نماز پڑھنے کو ترک کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ : قَالَ : فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6904

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین آدمی جمع ہوئے دو قرشی اور ایک ثقفی تھا یا دو ثقفی اور ایک قرشی تھا ان کے دلوں میں سمجھ کم اور پیٹوں پر چربی زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا تمہارا کیا خیال ہے ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے دوسرے نے کہا اگر بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے اور اگر آہستہ آواز سے بولیں تو نہیں سنتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی: "اور تم اپنے گناہ اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان تمہاری آنکھ اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گےلیکن تم یہ گمان کرتے تھے اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے کاموں کو نہیں جانتا اور اپنے رب کے ساتھ تمہارے اسی گمان نے تمہیں ہلاک کیا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیے" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ؛ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ ؟ وَقَالَ الْآخَرُ : يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا. وَقَالَ الْآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ }، الْآيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6905

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح وَقَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6906

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ کی طرف گئے آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے چند لوگ واپس لوٹ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ان لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے بعض نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور بعض نے کہا نہیں تب یہ آیت نازل ہوئی: تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہوگئے" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۷)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ، فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ ؛ قَالَ بَعْضُهُمْ : نَقْتُلُهُمْ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا. فَنَزَلَتْ : { فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6907

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۸)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6908

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کچھ منافقین تھے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جہاد کے لیے جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے تھے اور جب آپ(واپس)تشریف لاتے تو وہ بہانہ بناتے،قسمیں کھاتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ لوگ اس کام پر ان کی تعریف کریں جو انہوں نے کیا ہی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "ان لوگوں کے متعلق گمان نہ کرو جو اپنے عمل پر خوش ہوتے ہیں اور جو عمل نہیں کیا اس پر لوگوں کی طرف سے تعریف کی خواہش رکھتے پس ان کے لئے عذاب سے نجات کا گمان نہ کرو۔" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۹)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، فَنَزَلَتْ : { لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6909

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حمید بن عبدالرحمن نے ان کو خبر دی کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع!حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہو کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے کاموں پر خوش ہوتا ہے اور اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس کام پر اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہیں کیا اگر ایسے شخص کو عذاب دیا جائے تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا(یعنی ہم سب کی یہی حالت ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے،یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی اس کے بعد حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ:{وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ} [آل عمران: ١٨٧] هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ:{لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا} [آل عمران: ١٨٨] (ترجمہ)"(اور(یاد کرو)جب اللہ تعالی نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا کہ تم اس کو لوگوں سے ضرور بیان کروگےاور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت بھی تلاوت کی:"ان لوگوں کو ہرگز گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور جو کچھ نہیں کیا اس پر لوگوں کی طرف سے تعریف کی خواہش مند ہیں(کہ وہ عذاب سے نجات پائیں گے") حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس چیز کو آپ سے چھپایا اور اس کی بجائے کسی اور چیز کی خبر دی اور آپ پر یہ ظاہر کرتے ہوئے نکلے کہ انہوں نے اس بات کی خبر دے دی جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا اور اس کے بتانے پر آپ سے تعریف کے طالب ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا اس کے چھپانے پر خوش ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹۱۰)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ : اذْهَبْ يَا رَافِعُ - لِبَوَّابِهِ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ : لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أَتَى، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا ؛ لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ ؟ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ. ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ : { وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ }، هَذِهِ الْآيَةَ. وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ : { لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا }. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ، وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6910

حضرت قیس کہتے ہیں میں نے حضرت عمار سے پوچھا مجھے بتائے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معرکے میں جو کارروائی کی آیا یہ آپ کا اپنا اجتہاد تھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے عہد لیا تھا؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا کوئی عہد نہیں لیا جو عہد آپ نے عام لوگوں سے نہ لیا ہو۔لیکن حضرت حذیفہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اس بات کی خبر دی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ میرے اصحاب کی طرف منسوب ہوئے ہیں ان میں بارہ منافق ہیں ان میں آٹھ وہ ہیں جو جنت میں نہیں جائیں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل ہوجائے اور ان میں آٹھ کو آگ کا شعلہ کافی ہے اور چار کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ حضرت شعبہ نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹١١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ، أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ، أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا ؛ فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ : { لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ }، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ "، وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6911

حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں ہم نے حضرت عمار سے پوچھا کیا آپ نے اس جنگ میں اپنی رائے سے حصہ لیا تھا کیونکہ رائے کبھی غلط ہوتی ہے اور کبھی درست،یا اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کوئی عہد لیا تھا انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کوئی عہد نہیں لیا جو آپ نے عام لوگوں سے نہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شعبہ کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت حذیفہ نے بیان کیا تھا)کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں وہ اس وقت تک جنت میں نہیں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے جب تک اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل نہ ہوجائے ان میں سے آٹھ کو دبیلہ(پھوڑا)کافی ہوگا۔ یعنی ان کے کندھوں میں آگ کا چراغ پیدا ہوگا جو ان کے سینوں کو توڑتا ہوا نکل جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹۱۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : قُلْنَا لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ، أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ، فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً. وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي أُمَّتِي ". قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ : أُرَاهُ قَالَ : " فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ، سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ، حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6912

ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ اہل عقبہ میں سے ایک شخص کا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا جیسا کہ تمام لوگوں میں ہوتا ہے اس نے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں بتاؤ اہل عقبہ کتنے ہیں؟لوگوں نے حضرت حذیفہ سے کہا جب یہ آپ سے پوچھ رہا ہے تو اس کو بتائے انہوں نے کہا ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ ہیں اگر تم بھی ان میں سے ہو تو وہ پندرہ ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ وہ ہیں جو دنیا میں اور جب گواہ قائم ہوں گے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں ان میں سے تین آدمیوں نے عذر پیش کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو نہیں سنا اور نہ ہی ہمیں قوم کے ارادے کا علم ہوا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرہ میں جارہے تھے آپ نے فرمایا پانی بہت کم ہے مجھ سے پہلے پانی پر کوئی نہ پہنچے آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے پانی پر پہنچ گئے آپ نے اس دن ان پر لعنت فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٤؛حدیث نمبر؛٦۹۱۳)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ : كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ. قَالَ : كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، وَعَذَرَ ثَلَاثَةً، قَالُوا : مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ، فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ ". فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6913

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرار کی گھاٹی پر کون چڑھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے۔ فرماتے ہیں پس سب سے پہلے ہمارے یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی بخشش ہوگئی ہم اس کے پاس گئے اور کہا آؤ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بخشش طلب کریں اس نے کہا اللہ کی قسم!اگر مجھے اپنی گمشدہ چیز مل جائے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا پیغمبر میرے لیے استغفار کرے فرماتے ہیں وہ شخص اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٤؛حدیث نمبر؛٦۹۱٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ". قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا، خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ، ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ، إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ". فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ : تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. قَالَ : وَكَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6914

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون شخص مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا؟یہ روایت پہلی روایت کے مطابق ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱۵)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ، أَوِ الْمَرَارِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6915

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ بنو النجار میں ایک شخص تھا اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا۔ وہ بھاگ کر اہل کتاب سے جا ملا انہوں نے اس چیز کو اٹھایا اور کہا یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا پس وہ اس پر بہت خوش ہوئے تھوڑے ہی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن توڑ دی انہوں نے اس کے لیے ایک گھڑا کھودا اور اسے اس میں دفن کردیا صبح ہوئی تو زمین نے اسے نکال کر باہر پھینک دیا انہوں نے دوبارہ گڑھا کھودا اور اس کو دفن کردیا صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا انہوں نے پھر گڑھا کھود کر اس کو دفن کردیا پھر انہوں نے اس کو اسی طرح پڑا ہوا چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ : فَرَفَعُوهُ، قَالُوا : هَذَا قَدْ كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ. فَأُعْجِبُوا بِهِ، فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ، فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا، فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6916

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لائے جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو بڑے زور زور سے آندھی چلی قریب تھا کہ سوار زمین میں دھنس جاتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی ہے جب مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱۷)

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ ". فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6917

حضرت ایاس کہتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی عیادت کے لئے گئے جس کو بخار تھا میں نے کہا قسم بخدا!میں آج کی طرح کسی شخص کا بدن گرم نہیں دیکھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس شخص کی خبر نہ دوں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوگا پھر آپ نے اپنے ہمراہیوں میں سے دو شخصوں کی طرف اشارہ کیا جو گھوڑوں پر سوار تھے اور منہ پھیرے کھڑے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٦؛حدیث نمبر؛٦۹۱۸)

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِيَاسٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا، قَالَ : فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ ". لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6918

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑیوں کے درمیان متردد رہتی ہے کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٦؛حدیث نمبر؛٦۹۱۹)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6919

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا....یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے۔ البتہ اس حدیث میں یہ ہے کبھی وہ اس ریوڑ میں گھس جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً، وَفِي هَذِهِ مَرَّةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum, Hadees No. 6920

Muslim Shareef : Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum

|

Muslim Shareef : كِتَابُ صِفَاتُ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامُهُمْ

|

•