asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare

From 6921 to 7006

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بہت موٹا شخص آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تم پڑھو: "پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۱)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، اقْرَءُوا : { فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا } ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6921

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)یا(کہا)اے ابو القاسم!(صلی اللہ علیہ وسلم)قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو ایک انگلی پر اٹھالے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر،پانی اور گیلی زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پھر ان کو ہلاے گا اور فرماے گا میں بادشاہ ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس یہودی کی بات پر تعجب ہوا اور آپ اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: "انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنی چاہیے تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوں گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور لوگ جس چیز کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں وہ اس سے پاک ہیں۔" (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۲)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ - أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ - إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ ؛ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ : " { وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ } ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6922

اسی سند کے ساتھ منصور سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا یہ روایت حسب سابق ہے لیکن اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ پھر ان کو بلایا،راوی کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنا چاہیے تھی اور آیت کریمہ تلاوت کی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۳)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ : جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ : ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ، تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " { وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ } "، وَتَلَا الْآيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6923

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا اے ابو القاسم!بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں نیز گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آیت کریمہ پڑھی: "اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنا چاہیے تھی" (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲٤)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ. قَالَ : فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : " { وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ } ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6924

امام مسلم نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ان سب کی روایتوں میں ہے اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا۔اور جریر کی روایت میں یہ نہیں کہ مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا البتہ ان کی حدیث میں یہ ہے کہ پہاڑوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے اس کی تصدیق کی اور تعجب کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا : وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ : وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : تَصْدِيقًا لَهُ، تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6925

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲٦)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6926

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن ان تمام آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر ان کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں کہاں ہے جبر کرنے والے،کہاں ہیں تکبر کرنے والے،پھر زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں جبر کرنے والے کہاں ہیں تکبر کرنے والے کہاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۷)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6927

حضرت عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرماے گا میں اللہ ہوں آپ اپنی انگلیوں کو بند کرتے اور کھولتے تھے(اور فرماے گا)میں بادشاہ ہوں حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے دیکھا منبر کے نیچے سے کچھ ہل رہا تھا حتیٰ کہ میں نے(دل میں)کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۸)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ، فَيَقُولُ : أَنَا اللَّهُ - وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا - أَنَا الْمَلِكُ ". حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ : أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6928

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوکر فرما رہے تھے جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر حسب سابق کی طرح روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۲۹)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ". ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6929

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا نور کو بدھ کے دن پیدا کیا،جمعرات کے دن چوپایوں کو پھیلا دیا اور آدم علیہ السلام کو تمام مخلوق کے بعد جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی کسی آخری ساعت عصر سے رات تک پیدا کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۳۰)

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فِي آخِرِ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6930

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۳۱)

قَالَ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ - وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى - وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ حَجَّاجٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6931

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جو سرخی مائل ہوگی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے اور اس زمین میں کسی شخص کی کوئی علامت نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۵۰؛حدیث نمبر؛٦۹۳۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ ، كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ ، لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6932

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالی کے اس قول کے بارے میں پوچھا: "جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی(بدل جائےگا)تو یا رسول اللہ!اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ نے فرمایا صراط پر(ہوں گے) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۵۰؛حدیث نمبر؛٦۹۳۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ }، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " عَلَى الصِّرَاطِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6933

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوگی اللہ تعالی اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے دست قدرت سے الٹ پلٹ دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں پھر ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابو القاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ آپ پر برکتیں نازل کرے کیا میں آپ کو نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز کے ساتھ مہمان نوازی ہوگی آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہو جائےگی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوئیں اس نے کہا میں آپ کو ان کے سالن کی خبر نہ دوں؟آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا ان کا سالن بالام اور نون ہوگا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیا ہے؟اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱۵۱؛حدیث نمبر؛٦۹۳٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً، يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ، نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " بَلَى ". قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً. كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ؟ قَالَ : " بَلَى ". قَالَ : إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ. قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ قَالَ : ثَوْرٌ وَنُونٌ، يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6934

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دس یہودی(عالم) میری پیروی کر لیتے تو زمین پر ہر یہودی مسلمان ہوجاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱۵۱؛حدیث نمبر؛٦۹۳٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6935

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھیت میں جا رہا تھا آپ نے ایک شاخ سے ٹیک لگائی ہوئی تھی کہ اتنے میں چند یہودی وہاں سے گزرے ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں سوال کرو ان میں سے ایک نے کہا تمہیں اس میں کیا شبہ ہے کہیں وہ ایسا جواب نہ دے جو تمہیں ناپسند ہوانہوں نے کہا ان سے سوال کرو پھر ان میں سے بعض نے کھڑے ہوکر آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ خاموش ہوگئے اور آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا میں نے جان لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اب وحی نازل ہوگئی اللہ تعالی نے فرمایا: "اور وہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے اور تمہیں صرف کم علم دیا گیا"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۲؛حدیث نمبر؛٦۹۳٦)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ : بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. فَقَالُوا : مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ ؟ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ. فَقَالُوا : سَلُوهُ. فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ، قَالَ : فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، قَالَ : فَقُمْتُ مَكَانِي، فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ : { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6936

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے البتہ وکیع کی روایت میں ہے"وما اوتیتم من العلم الا قلیلا" اور عیسیٰ بن یونس کی روایت میں ہے"وما اوتوا"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۲؛حدیث نمبر؛٦۹۳٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : { وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا }، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ : وَمَا أُوتُوا، مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6937

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں تھے اور آپ نے ایک تنے سے ٹیک لگا رکھی تھی اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس روایت میں"وما اوتیتم من العلم الا قلیلا"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹۳۸)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : { وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6938

حضرت حباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عاص بن وائل کے ذمہ میرا قرض تھا میں نے اس کے پاس جاکر تقاضا کیا تو اس نے کہا میں تمہارا قرض ہر گز واپس نہیں کروں گا جب تک تم(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ کفر نہ کرو،میں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہر گز نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں مر جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اس نے کہا جب میں مر کر دوبارہ اٹھوں گا تو میرے پاس میرا مال اور اولاد ہوگی اور میں تمہارا قرض ادا کردوں گا۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کے ساتھ کفر کیا اور کہا مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لیا ہے ہرگز نہیں وہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھ لیں گے ہم اس کے قول کے وارث ہیں اور وہ ہمارے پاس تنہا آے گا"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹۳۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ - قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي : لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ. قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ. قَالَ : وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ ؟ فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ. قَالَ وَكِيعٌ : كَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ. قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا }، إِلَى قَوْلِهِ : { وَيَأْتِينَا فَرْدًا }.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6939

حضرت حباب نے کہا میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا میں نے عاص بن وائل کے لئے کام کیا پھر میں نے آکر اس سے تقاضا کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : قَالَ : كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6940

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابو جہل نے کہا اے اللہ!اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں دردناک عذاب دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک آپ ان میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں جب تک وہ بخشش طلب کرتے رہیں اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ یہ لوگ(مسلمانوں کو)مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ} [الأنفال: ٣٣] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵٤؛حدیث نمبر؛٦۹٤۱)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ. فَنَزَلَتْ : { وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ } { وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6941

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا کیا محمد تمہارے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں اسے کہا گیا ہاں تو اس نے کہا لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کی گردن(معاذ اللہ)روند دوں گا یا ان کا چہرہ مٹی میں ملاؤں گا پس وہ رسول اللہ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اس ارادہ سے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کو روندے جب وہ آپ کے قریب ہونے لگا تو اچانک اپنی ایڑیوں پر واپس لوٹ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے کسی چیز سے بچ رہا تھا پس اسے کہا گیا تجھے کیا ہوا تو اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق تھی ہول اور (فرشتوں کے)بازو تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو نوچ ڈالتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔راوی کہتا ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا ہمیں کسی اور طریقہ سے پہنچی ہے۔ (ترجمہ)"حقیقت یہ ہے کہ انسان بلا شبہ سرکشی کرتا ہے(کیوں کہ)اس نے آپ کو مستغنی سمجھ لیا ہے بےشک آپ کے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے کیا آپ نے اس کو دیکھا جو ہمارے بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے آپ بتائے اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا تقویٰ کا حکم دیتا(تو بہتر نہ تھا) آپ بتاے اگر وہ جھٹلاے اور پیٹھ پھیرے(تو وہ اللہ کے عذاب سے کیسے بچے گا)اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ(سب کچھ)دیکھ رہا ہے یقیناً اگر وہ باز نہیں آیا تو ہم یقیانا پیشانی کے بل پکڑ کر کھینچیں گے وہ پیشانی جو جھوٹی اور گناہ گار ہے۔ اسے چاہیے کہ مجلس میں(اپنے مددگاروں)کو پکارے ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے،ہر گز نہیں آپ اس کی اطاعت نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى} [العلق: ٧]؛جلد٤ص۲۱۵٤؛حدیث نمبر؛٦۹٤۲)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ قَالَ : فَقِيلَ : نَعَمْ. فَقَالَ : وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ. قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ : فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ، وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ، وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا ". قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ - لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ - : { كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى } { أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى } { إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى } { أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى } { عَبْدًا إِذَا صَلَّى } { أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى } { أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى } { أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى } - يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - { أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى } { كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ } { نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ } { فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ } { سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ } { كَلَّا لَا تُطِعْهُ }. زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ. وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : { فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ }. يَعْنِي قَوْمَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6942

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کندہ کے دروازوں کے پاس ایک قصہ گو بیان کر رہا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن میں جو دخان(دھوئیں)کی آیت ہے وہ دھواں آنے والا ہے پس وہ کفار کی سانسوں کو روک لے گا اور مومنین کے ساتھ صرف زکام کی کیفیت پیش آئے گی۔ حضرت عبداللہ غصہ سے اٹھ بیٹھے پھر فرمایا اے لوگو اللہ سے ڈرو تم میں سے جو کوئی بات جانتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق ہی بیان کرے اور جو بات نہیں جانتا تو کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ تم میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جو جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: "آپ فرما دیجئے میں تم سے(اس تبلیغ پر)اجر کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والا ہوں۔" اور بلا شبہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رو گردانی دیکھی تو فرمایا اے اللہ!حضرت یوسف علیہ کے زمانے کی طرح سات سال قحط نازل فرما۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان لوگوں پر سات سال کا قحط نازل ہوا۔ جس نے ہر چیز کو ملیا میٹ کردیا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور مردار کھائے گئے۔اور ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف نظر کرتا تھا تو دھوئیں کی سی کیفیت دیکھتا تھا پس آپ کے پاس ابوسفیان حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد!بیشک آپ اللہ کی اطاعت کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں اور بیشک آپ کے قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے آپ اللہ سے ان کے لئے دعا مانگیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: "تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے بالکل واضح دھواں اٹھے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ درد ناک عذاب ہے.....بےشک تم لوٹنے والے ہو تک یہ آیت ہے۔ انہوں نے کہا کیا آخرت کا عذاب اٹھ سکتا ہے؟جس دن ہم بڑی گرفت کے ساتھ پکڑیں گے(اس دن)بےشک ہم بدلہ لینے والے ہیں تو اس پکڑنے سے بدر کا دن مراد ہے جبکہ دھواں،گرفت لزام اور روم کی نشانیاں گزر چکی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَان؛جلد٤ص۲۱۵۵؛حدیث نمبر؛٦۹٤٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ، وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ، مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ؛ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ : اللَّهُ أَعْلَمُ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : { قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ }، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ، سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ ". قَالَ : فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ، وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ } { يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ }، إِلَى قَوْلِهِ : { إِنَّكُمْ عَائِدُونَ }. قَالَ : أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ ؟ { يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ }، فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ، وَالْبَطْشَةُ، وَاللِّزَامُ، وَآيَةُ الرُّومِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6943

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا میں مسجد میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ آیا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے وہ اس آیت(یوم نبطش البطشہ)کہ"جس دن آسمان سے واضح دھواں ظاہر ہوگا"کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن دھواں لوگوں کی سانسوں کو بند کر دے گا یہاں تک کہ ان کی زکام کی سی کیفیت ہوجائے گی۔تو حضرت عبداللہ نے فرمایا جو آدمی کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ وہی بات کہے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ جس بات کا علم نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ اعلم۔ اس دھوئیں کا پس منظر یہ ہے کہ جب قریشیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف قحط پڑنے کی دعا کی جیسے کہ حضرت یوسف کے زمانہ کے لوگوں پر قحط اور مصیبت و تنگی آئی تھی یہاں تک کہ جب کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر کرتا تو اپنے اور آسمان کے درمیان اپنی مصیبت کی وجہ سے دھواں دیکھتا تھا اور یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیوں کو کھایا پس ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول!مضر(قبیلہ)کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں پس بیشک وہ ہلاک ہوچکے ہیں آپ نے فرمایا تو نے مضر کے لئے بڑی جرات کی ہے پھر آپ نے اللہ سے ان کے لئے دعا مانگی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ)"بےشک ہم تھوڑے سے عرصہ کے لیے عذاب کو دور کردیتے ہیں مگر بےشک تم پھر کفر کی طرف لوٹنے والے ہو" کہتے ہیں پس ان پر بارش برسائی گئی پس جب وہ خوشحال ہوگئے تو پھر وہ اسی کی طرف لوٹ گئے جس پر پہلے قائم تھے تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ)"آپ اس دن کا انتظار کرے جب واضح دھواں آے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ درد ناک عذاب ہے جس دن ہم بڑی گرفت کے ساتھ پکڑیں گے بےشک ہم بدلہ لینے والے ہیں"۔ اس سے بدر کا دن مراد ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵٦؛حدیث نمبر؛٦۹٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ : تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ، يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ : { يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ }، قَالَ : يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ، حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ؛ فَإِنَّ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ : اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ، وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ ؛ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا. فَقَالَ : " لِمُضَرَ ؟ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ ". قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ }. قَالَ : فَمُطِرُوا، فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، قَالَ : عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ } { يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ } { يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ }. قَالَ : يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6944

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں دھواں،لزام،روم،گرفت اور(شق)قمر۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵٦؛حدیث نمبر؛٦۹٤٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ : الدُّخَانُ، وَاللِّزَامُ ، وَالرُّومُ، وَالْبَطْشَةُ، وَالْقَمَرُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6945

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵۷؛حدیث نمبر؛٦۹٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6946

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "ہم ان کو بڑے عذاب سے کم ہلکا عذاب ضرور چکھائیں گے"۔ فرماتے ہیں اس سے دنیا کے مصائب،روم اور گرفت یا دھواں مراد ہے شعبہ کو شک ہے کہ دھواں کہا تھا یا گرفت؟ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵۷؛حدیث نمبر؛٦۹٤۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ }. قَالَ : مَصَائِبُ الدُّنْيَا، وَالرُّومُ، وَالْبَطْشَةُ، أَوِ الدُّخَانُ. شُعْبَةُ الشَّاكُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6947

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہ ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹٤٨)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6948

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ میں تھے اس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا پھٹ کر پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹٤۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ، فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ، وَفِلْقَةٌ دُونَهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6949

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا اور دوسرا پہاڑ کے اوپر تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹۵۰)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ، فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً، وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6950

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٩٥٠کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۱)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6951

ابنِ عدی کی روایت میں ہے کہ گواہ ہوجاؤ،گواہ ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۲)

وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ : فَقَالَ : " اشْهَدُوا اشْهَدُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6952

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل مکہ نے سوال کیا کہ آپ انہیں کوئی معجزہ دکھائے تو آپ نے ان کو چاند کا دو ٹکڑے ہونا دوبارہ دکھایا۔ (واقعہ ایک بار ہوا دیکھا دوبار) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6953

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٤)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6954

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۵)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6955

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6956

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذیت ناک باتوں پر اللہ تعالی سے زیادہ کوئی صبر کرنے والا نہیں اس کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے پھر وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؛ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ، وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ، ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6957

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا....یہ حدیث بھی حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ نہیں کہ اللہ تعالی کے لئے بیٹا بنایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ " وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ "، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6958

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکلیف دہ باتیں سن کر ان پر اللہ تعالی سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں لوگ اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ان کو رزق دیتا ہے،ان کو عافیت کے ساتھ رکھتا ہے اور ان کو عطاء کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۹)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ؛ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا، وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6959

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب ہوگا اس سے اللہ تعالی فرمائے گا اگر تجھے دنیا اور اس کی سب چیزیں مل جائے تو کیا تم ان کو اس عذاب سے نجات کے لئے فدیہ دے گا وہ کہے گا ہاں،اللہ تعالی فرمائے گا جس وقت تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے اس وقت میں نے تم سے اس کی بنسبت کم چیز کا ارادہ(مطالبہ)کیاتھا وہ یہ کہ تم شرک نہ کرنا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایامیں تمہیں جہنم میں داخل نہیں کروں گا لیکن تم نے شرک کے سوا کوئی بات نہ کی(یعنی صرف شرک کیا) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹٦٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا : لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ. فَيَقُولُ : قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ ؛ أَنْ لَا تُشْرِكَ - أَحْسِبُهُ قَالَ : وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ - فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6960

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ قول نہیں کہ میں تمہیں دوزخ میں داخل نہ کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦١)

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ " وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ " فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6961

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا بتاؤ اگر تمہارے پاس روۓ زمین کے برابر سونا ہو تو کیا تم اس کے بدلے اپنی جان چھڑاؤ گے؟وہ کہے گا ہاں تو اس سے کہا جائے گا تم سے تو اس سے آسان بات کا سوال کیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦۲)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا، أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ. فَيُقَالُ لَهُ : قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6962

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس کے بعد حسب سابق ہے...البتہ اس میں یہ مذکور ہے کہ اس میں کہا جائے گا تم نے جھوٹ بولا تم سے اس کی بہ نسبت آسان بات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦۳)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَيُقَالُ لَهُ : كَذَبْتَ، قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6963

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ قیامت کے دن کافر کو کس طرح منہ کے بل اٹھایا جائے گا آپ نے فرمایا کیا وہ ذات جس نے اس کو دنیا میں پاؤں پر چلایا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائے،حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں کیوں نہیں ہمارے رب کی عزت و جلال کی قسم۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى، وَعِزَّةِ رَبِّنَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6964

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کافر کو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں ملیں اس کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور اس کو جہنم میں غوطہ دے کر پوچھا جائے گا اے ابنِ آدم!کیا تم نے کبھی کوئی خیر دیکھی تھی وہ کہے گا نہیں‌ نہیں بخدا اے میرے رب! پھر اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں رہا تھا اس کو جنت کا ایک چکر لگوایاجائے گا اور اس سے کہا جائے گا اے ابنِ آدم!کیا تم نےکبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟کیا تمہیں کبھی تکلیف پہنچی ہے؟وہ کہے گا قسم بخدا!اے میرے رب مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور نہ کبھی میں نے کوئی سختی دیکھی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ صَبْغِ أَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا فِي النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّهِمْ بُؤْسًا فِي الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱٦۲؛حدیث نمبر؛٦۹٦۵)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ. وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6965

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے اللہ تعالی اس پر ظلم نہیں کرے گا اس کو آخرت میں بھی جزا دی جائے گی لیکن کافر نے دنیا میں جو نیکیاں کی ہے ان کا اجر اسے دنیا میں دے دیا جائے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اسے جزا دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦٢؛حدیث نمبر؛٦۹٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً، يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6966

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کافر جب کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دنیا میں لقمہ دیا جاتا ہے اور رہا مومن تو اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لئے ذخیرہ بناتا ہے اور اس کی عبادت کے صلہ میں اسے دنیا میں بھی رزق عطا کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦٢؛حدیث نمبر؛٦۹٦۷)

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا، وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ، وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6967

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٩٦٧کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹٦۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6968

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹۷۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ - مَكَانَ قَوْلِهِ : تُمِيلُهُ - " تُفِيئُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6970

حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی مثال سرکنڈے کے کھیت کی طرح ہے جس کو ہوا جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اس کو گرا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہےجو اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے کوئی چیز اس کو ادھر ادھر نہیں جھکاتی حتیٰ کہ وہ ایک ہی بار جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹۷۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى تَهِيجَ ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا، لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6971

حضرت عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ مومن کی مثال سرکنڈے کے کھیت کی طرح ہے جس کو ہوا جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اس کو گرا دیتی اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے حتیٰ کہ اس کی اجل آجاتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے اس پر کوئی آفت نہیں آتی بالآخر وہ جڑسے اکھڑ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۲)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا، حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ ، الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6972

حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں البتہ محمود کی روایت میں یہ ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح اور ابن حاتم نے منافق کی مثال کہا جس طرح زہیر کی روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۳)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ : " وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ "، وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ فَقَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ "، كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6973

حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اس کی مثل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور ان سب کی روایات میں یہ ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى : " وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6974

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمانوں کی طرح ہے۔ مجھے بتائیے وہ کون سا درخت ہے؟صحابہ کرام وادی کے درختوں کے بارے میں سوچنے لگےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن مجھے(بیان کرنے سے)حیا آیا۔پھر صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ ہی ہمیں بتائے کہ وہ کون سا درخت ہے۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر تم بتا دیتے کہ کھجور کا درخت ہے تو یہ بات مجھے فلاں فلاں بات سے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛ترجمہ؛مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۵)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا : حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ ". قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، قَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ : هِيَ النَّخْلَةُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6975

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا مجھے اس درخت کے بارے میں بتائیے جس کی مثال مومن کی طرح ہے صحابہ کرام وادی کے درختوں میں سے کسی درخت کا ذکر کرنے لگے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں یہ چیز ڈالی گئی کہ یہ کھجور کا درخت ہےمیں بتانے کا ارادہ کرنے لگا مگر وہاں بڑی عمر کے لوگ تھے تو مجھے گفتگو کرتے ہوئے ڈر لگا جب سب خاموش ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦۵؛حدیث نمبر؛٦۹۷٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ : " أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ ". فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي - أَوْ رُوعِيَ - أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6976

حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ طیبہ میں رہا میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی انہوں نے کہا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس کھجور کا گودا لایا گیااس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦۵؛حدیث نمبر؛٦۹۷۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ؛ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6977

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا گودا لایا گیااس کے بعد حسب سابق حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۷۸)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6978

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جو مسلمان کی طرح ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑتے ابراہیم کہتے ہیں شاید امام مسلم نے بتایا کہ وہ ہر وقت پھل دیتا ہے لیکن میں نے اپنے علاوہ دوسرے محدثین کے پاس اسی طرح روایت دیکھی ہے کہ وہ درخت ہر وقت پھل نہیں لاتا۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے(مگر)میں نے دیکھا کہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کلام نہیں کر رہے ہیں تو مجھے گفتگو کرنا اچھا نہ لگا حضرت عمر نے فرمایا اگر تم بتا دیتے تو مجھے یہ بات فلاں فلاں چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۷۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ - أَوْ كَالرَّجُلِ - الْمُسْلِمِ، لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا ". - { قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ : وَتُؤْتِي أُكُلَهَا، وَكَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا، وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ. } - قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6979

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب میں اپنی پوجا کیے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن وہ ان کو آپس میں(لڑائی کے لئے)بھڑکاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛ترجمہ؛لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لئے شیطان کا اپنے لشکر کو روانہ کرنا اور برانگیختہ کرنا؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۸۰)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6980

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۱)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6981

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ابلیس کا تخت سمندر پر ہے پس وہ لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے اپنے لشکر روانہ کرتا ہے تو اس کے نزدیک سب سے بڑے درجہ والا وہ ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۲)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6982

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے لشکر بھیجتا ہے تو ان میں سے سب سے زیادہ مقرّب وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالے ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کام کیا تو وہ(ابلیس)کہتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے میں نے اس(انسان)کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں تم نے اچھا کام کیا۔ حضرت اعمش کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ اسے گلے لگا لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۳)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ : فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا. فَيَقُولُ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا. قَالَ : ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ. قَالَ : فَيُدْنِيهِ مِنْهُ، وَيَقُولُ : نِعْمَ أَنْتَ ". قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ قَالَ : فَيَلْتَزِمُهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6983

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا شیطان اپنے لشکر کو بھیجتا ہے تو وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالتا ہے اس کا درجہ سب سے بڑا ہوتا ہے جوسب سے زیادہ فتنہ میں ڈالتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸٤)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6984

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان(ہمزاد) مسلط کردیا گیا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ!آپ کے ساتھ بھی؟فرمایا ہاں!میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی پس وہ اسلام لے آیا اور وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۵)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ ". قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِيَّايَ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6985

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے سفیان کی روایت میں ہے کہ ہر شخص کے لئے ایک ہمزاد جن اور ایک ہمزادفرشتہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۸؛حدیث نمبر؛٦۹۸٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ، مِثْلَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ " وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ، وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6986

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے فرماتی ہیں مجھے اس بات پر غیرت آئی آپ تشریف لائے تو دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا بات ہے؟تم نے غیرت کی ہے؟میں نے عرض کیا مجھ جیسی عورت کو آپ جیسے مرد پر غیرت نہیں آنی چاہیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا تھا؟انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ!کیا میرے ساتھ شیطان ہے آپ نے فرمایاہاں!میں نے پوچھا کیا ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے؟فرمایاہاں!لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۸؛حدیث نمبر؛٦۹۸۷)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا، قَالَتْ : فَغِرْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ، أَغِرْتِ ؟ " فَقُلْتُ : وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قُلْتُ : وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قُلْتُ : وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6987

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت سے چھپا لے لیکن تم سیدھے راستے پر چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛کوئی شخص رحمت الہی کے بغیر محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۸۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ ". قَالَ رَجُلٌ : وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا إِيَّايَ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6988

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں رحمت اور فضل کا ذکر ہے البتہ"ولکن سدووا" کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۸۹)

وَحَدَّثَنِيهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ "، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَلَكِنْ سَدِّدُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6989

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں نہیں لے جائے گا عرض کیا گیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں!فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت سے چھپا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۹۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ". فَقِيلَ : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6990

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخصں ایسا نہیں کہ اس کا عمل اسے نجات دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی مغفرت اور رحمت میں چھپا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ ". قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ ". وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ عَلَى رَأْسِهِ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6991

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کو (محض)اس کا عمل نجات نہیں دے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں البتہ یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں لے لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۲)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ ". قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6992

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۳)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ". قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6993

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میانہ روی برقرار رکھو اور سیدھی راہ چلو جان لو کہ تم میں سے کسی ایک کو اس کاعمل نجات نہیں دے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی؟فرمایا مجھے بھی مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6994

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث نمبر ٦٩٩٤ کے مثل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۵)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6995

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، كَرِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6996

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے"خوشخبری ہو"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ " وَأَبْشِرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6997

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کا عمل اسے جنت میں نہیں لے جائے گا اور نہ اسے جہنم سے پناہ دے گا اور نہ ہی مجھے البتہ اللہ تعالی کی رحمت سے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۸)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6998

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدھی راہ چلوں میانہ روی رکھو اور خوشخبری دو بے شک کسی شخص کو اس کاعمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گاصحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی؟فرمایا مجھے بھی البتہ یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور جان لو کہ بے شک اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ قلیل ہو۔ (ان احادیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اگرچہ اعمال صالحہ جنت میں جانے کا باعث ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ایسا ممکن نہیں اسی طرح اعمال سے منہ موڑ لینا اور رحمت خداوندی پر ہی بھروسہ کرنا بھی غلط ہے نیز اعمال صالحہ وہی پسندیدہ ہیں جو دائمی ہوں گے اگرچہ کم ہوں۔) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۹)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ ". قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 6999

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس روایت میں"وابشروا"مذکور نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۰)

وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَأَبْشِرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7000

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر(نفلی)نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے اور پچھلے خلاف اولی کام معاف کر دئے گئے(یعنی ان کاموں سے بھی آپ کو محفوظ کر دیا گیا)آپ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛ترجمہ؛زیادہ عمل کرنے اور عبادت میں کوشش کرنے کی ترغیب؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۱)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7001

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کیلئے)کھڑے ہوئے کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے صحابہ کرام نے عرض کیااللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولیٰ کام معاف کر دیے(تو پھر آپ اس قدر مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں)آپ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ. قَالُوا : قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7002

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اس قدر کھڑے ہوتے کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولیٰ کاموں کی مغفرت کردی گئیں آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰۳)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7003

حضرت شقیق فرماتے ہیں ہم حضرت عبداللہ بن مسعود کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ یزید بن معاویہ نخعی کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ہم نے کہا ان کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو وہ اندر گئے پھر تھوڑی ہی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس باہر تشریف لائے انہوں نے فرمایامجھے تمہارے آنے کی اطلاع تھی لیکن مجھے تمہارے پاس آنے سے یہ بات مانع تھی کہ کہیں تم اکتا نہ جاؤ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اکتا جانے کے خدشہ سے صرف بعض دنوں میں ہمیں نصیحت فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛ترجمہ؛نصیحت میں اعتدال؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، فَقُلْنَا : أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا. فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ؛ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7004

امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں اور بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰۵)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ح وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ مُسْهِرٍ : قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7005

حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن وعظ فرماتے تھے ایک شخص نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمن!ہم آپ کی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اس کی خواہش رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں روزانہ وعظ کیا کریں انہوں نے فرمایا مجھے ہر روز وعظ کرنے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ کہیں تم ملال میں نہ پڑ جاؤ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اکتانے کے خوف سے صرف بعض دنوں میں وعظ فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۳؛حدیث نمبر؛۷۰۰٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ، وَلَوَدِدْنَا أَنَّكَ حَدَّثْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ. فَقَالَ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ؛ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.

Muslim Shareef, Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare, Hadees No. 7006

Muslim Shareef : Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare

|

Muslim Shareef : كِتَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ

|

•