
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کو تکالیف کے ساتھ ڈھانپا گیا اور دوزخ کا نفسانی خواہشات کے ساتھ احاطہ کیا گیا۔ (مطلب یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لئے تکالیف اٹھانا پڑیں گی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل جہنم میں جانے کا ذریعہ ہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛ترجمہ؛جنت،اس کی نعمتوں اور اہل جنت کا بیان؛جلد٤ص۲۱۷۳؛حدیث نمبر؛۷۰۰٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ۷۰۰٧کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛جلد٤ص۲۱۷٤؛حدیث نمبر؛۷۰۰٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کیا جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا۔اس کا مصداق قرآن میں یہ(آیت)ہے۔ "کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی جو ان کے نیک کاموں کا صلہ ہے" (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛جلد٤ص۲۱۷٤؛حدیث نمبر؛۷۰۰۹)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں نے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا ان نعمتوں کا ذکر چھوڑو جن پر تمہیں اللہ تعالی نے مطلع کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛جلد٤ص۲۱۷٤؛حدیث نمبر؛۷۰۱۰)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ان کا ذکر چھوڑو جن پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مطلع کیا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی؛ "پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے نیک کاموں کے بدلے جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛جلد٤ص۲۱۷۵؛حدیث نمبر؛۷۰۱۱)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آپ نے اس حدیث کے آخر میں فرمایا اس(جنت)میں ایسی نعمتیں ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا پھر یہ آیت کریمہ پڑھی: "ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں وہ(دوزخ کے)خوف اور(جنت کی)امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے نیک اعمال کے صلہ میں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔" (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛جلد٤ص۲۱۷۵؛حدیث نمبر؛۷۰۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار ایک سو سال چلے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا؛جلد٤ص۲۱۷۵؛حدیث نمبر؛۷۰۱۳)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس کو قطع(طے)نہیں کرسکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا؛جلد٤ص۲۱۷۵؛حدیث نمبر؛۷۰۱٤)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بےشک جنت میں ایک درخت ہے جس کے ساے میں ایک سوار سو سال چلے گا لیکن اس ساے کو قطع نہیں کر سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا؛جلد٤ص۲۱۷٦؛حدیث نمبر؛۷۰۱۵)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے ساے میں ایک تیز رفتار کسرتی گھوڑے پر سوار شخص سو سال میں بھی اس کو قطع نہیں کر سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا؛جلد٤ص۲۱۷٦؛حدیث نمبر؛۷۰۱٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرماے گا اے جنت والوں!وہ کہیں گے اے ہمارے رب لبیک ہم اطاعت کے لیے حاضر ہیں اور تمام خیر تیرے ہاتھوں(قبضہ)میں ہے وہ فرماے گا کیا تم راضی ہو؟وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب!ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں بےشک تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا اللہ تعالیٰ فرماے گا سنو!میں تمہیں اس سے افضل عطا کرتا ہوں وہ کہیں گے اے رب!اس سے افضل کیا ہے؟وہ فرماے گا تم پر میری رضا حلال ہوگئی اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِحْلَالِ الرِّضْوَانِ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَا يَسْخَطُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا؛جلد٤ص۲۱۷٦؛حدیث نمبر؛۷۰۱۷)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی لوگ جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان میں ستاروں کو دیکھتے ہو فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت نعمان بن عیاش سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں روشن ستارے کو دیکھتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛ بَابُ تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ؛جلد٤ص۲۱۷۷؛حدیث نمبر؛۷۰۱۸)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛ بَابُ تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ؛جلد٤ص۲۱۷۷؛حدیث نمبر؛۷۰۱۹)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی لوگ اپنے اوپر والے بالا خانے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں دور سے چمکتے ہوے ستارے کو دیکھتے ہو کیونکہ بعض درجات بعض سے زائد ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ!یہ انبیاء کرام کے منازل ہیں جن تک ان کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکتا؟آپ نے فرمایا ہاں!اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاے اور انہوں نے رسول کی تصدیق کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛ بَابُ تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ؛جلد٤ص۲۱۷۷؛حدیث نمبر؛۷۰۲۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش وہ اپنے تمام اہل و مال کو خرچ کر کے مجھے دیکھ سکتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فِيمَنْ يَوَدُّ رُؤْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ؛جلد٤ص۲۱۷۸؛حدیث نمبر؛۷۰۲۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک بازار ہے جس میں لوگ ہر جمعہ کو آئیں گے پھر شمال کی ہوا چلے گی جس سے ان کے چہرے اور کپڑے بھر جائیں گے اس سے ان کا حسن وجمال بڑھ جاے گا پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائیں گے تو ان کے گھر والے کہیں گے اللہ کی قسم!ہمارے(پاس سے جانے کے)بعد تمہارا حسن بڑھ گیا ہے وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی قسم ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ وَمَا يَنَالُونَ فِيهَا مِنَ النَّعِيمِ وَالْجَمَالِ؛جلد٤ص۲۱۷۸؛حدیث نمبر؛۷۰۲۲)
حضرت محمد فرماتے ہیں لوگوں نے اس بات پر فخر کیا یا ذکر کیا کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابو القاسم(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)نے نہیں فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا اور جو ان سے ملیں گے وہ آسمان میں چمکنے والے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے ان میں سے ہر ایک کے لئے دو بیویاں ہوں گی ان کی پنڈلیوں کا مغز ان کے گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا اور جنت میں کوئی بھی بیوی کے بغیر نہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۷۸؛حدیث نمبر؛۷۰۲۳)
حضرت ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مردوں اور عورتوں کے درمیان باہم اختلاف ہوا کہ جنت میں اکثریت کس کی ہوگی؟انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا ابو القاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا....اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۷۸؛حدیث نمبر؛۷۰۲٤)
حضرت ابوزرعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے جو گروہ جنت میں جائے گا وہ لوگ چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے اور جو لوگ ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان میں زیادہ چمکنے والے ستارے کی صورت میں ہوں گے وہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کریں گے نہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کا پسینہ کستوری کا ہوگا ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگتا ہوگا ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے وہ اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوں گے اور ان کا قد آسمان کی جانب ساٹھ گز کے برابر ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۷۹؛حدیث نمبر؛۷۰۲۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت میں ہوگا پھر جو ان کے بعد داخل ہوں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے پھر وہ درجہ بدرجہ ہوں گے وہ قضائے حاجت کریں گے نہ وہ پیشاب کریں گے نہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود کی خوشبو ہوگی ان کا پسینہ کستوری کا ہوگا ان کے اخلاق ایک آدمی کے اخلاق کی طرح ہوں گے(ایک جیسے ہوں گے)وہ آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ گزر لمبے ہوں گے۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ سب کی جسمانی ساخت ایک جیسی ہوگی اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اپنے باپ(حضرت آدم علیہ السلام)کی صورت پر ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۷۹؛حدیث نمبر؛۷۰۲٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ جنت میں سب سے پہلے جو گروہ داخل ہوگا وہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے۔وہ وہاں تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ ہی وہ جنت میں رفع حاجت کریں گے اس میں ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار لکڑی(عود)سلگتی ہوگی ان کا پسینہ کستوری کی طرح(خوشبودار)ہوگا اور ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز گوشت کے باہر سے نظر اے گا اور یہ ان کے حسن کی وجہ سے ہوگا ان کے درمیان اختلاف ہوگا نہ ایک دوسرے کا بغض ہوگا ان کے دل ایک جیسے ہوں گے وہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَاتِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِهَا وَتَسْبِيحِهِمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا؛جلد٤ص۲۱۷۹؛حدیث نمبر؛۷۰۲٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے جنتی لوگ جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا ان کا کھانا کہاں جائے گا؟آپ نے فرمایا ایک ڈکار آے گا اور پسینہ کستوری کی طرح ہوگا ان کو تسبیح اور حمد کا الہام اس طرح ہوگا جس طرح سانس آتا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۸۰؛حدیث نمبر؛۷۰۲٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۸۱؛حدیث نمبر؛۷۰۲٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں کھائیں اور پئیں گے(لیکن)وہ اس میں رفع حاجت کریں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے لیکن ان کا کھانا ڈکار کی صورت میں(زائل ہوجائے)گا وہ(ڈکار)مشک کی طرح خوشبودار ہوگا ان کو تسبیح اور حمد کا الہام ہوگا جس طرح سانس آتا آجاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۸۱؛حدیث نمبر؛۷۰۳۰)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں یہ ہے کہ ان کو تسبیح و تکبیر کا اس طرح الہام کیا جاتا ہے جس طرح سانس آتا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۸۱؛حدیث نمبر؛۷۰۳۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا اس کو نعمتیں دی جائیں گی پھر اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي دَوَامِ نَعِيمِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الأعراف: ٤٣]؛جلد٤ص۲۱۸۱؛حدیث نمبر؛۷۰۳٢)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک منادی ندا کرے گا(اے اہل جنت)تمہارے لئے یہ(فیصلہ کیا گیا)ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے،بیمار نہیں ہوگے اور تمہارے لئے یہ بات مقرر کی گئی ہے کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہیں مروگےاور تمہارے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تم جوان رہو گے بوڑھے نہیں ہوگے اور تم ہمیشہ نعمت میں رہو گے تمہیں کبھی تکلیف نہیں ہوگی اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے۔ "اور ان کو ندا دی گئی کہ یہ جنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کے بدلے میں وارث بنایا گیا ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ؛جلد٤ص۲۱۸۲؛حدیث نمبر؛۷۰۳٣)
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جنت میں مؤمن کے لیے کھوکھلے موتیوں کا ایک خیمہ ہوگا جس کی لمبائی(بلندی)ساٹھ میل ہوگی اس میں مومن کے اہل(گھر والے)بھی رہیں گے وہ مؤمن اس پر چکر لگائیں گے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ خِيَامِ الْجَنَّةِ وَمَا لِلْمُؤْمِنِينَ فِيهَا مِنَ الْأَهْلِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۲؛حدیث نمبر؛۷۰۳٤)
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں کھوکھلے موتیوں کا ایک خیمہ ہوگا جس کی لمبائی(بلندی)ساٹھ میل ہوگی اس کے ہر کونے میں اہل(گھر والے)ہوں گے وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گے مؤمن ان پر چکر لگاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ خِيَامِ الْجَنَّةِ وَمَا لِلْمُؤْمِنِينَ فِيهَا مِنَ الْأَهْلِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۲؛حدیث نمبر؛۷۰۳۵)
حضرت عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا خیمہ موتی کا ہوگا جس کی بلندی آسمان کی جانب ساٹھ میل ہوگی اس کے ہر کونے میں مؤمن کے گھر والے ہوں گےجن کو دوسرے نہیں دیکھ سکیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ خِيَامِ الْجَنَّةِ وَمَا لِلْمُؤْمِنِينَ فِيهَا مِنَ الْأَهْلِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۲؛حدیث نمبر؛۷۰۳٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیحان،جیحان،فرات اور نیل یہ سب جنت کی نہریں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ مَا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱۸٣؛حدیث نمبر؛۷۰۳۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مانند ہوں گے۔(نرمی،خوف اور ہیبت کے اعتبار سے پرندوں کی مثل قرار دیا) (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ؛جلد٤ص۲۱۸٣؛حدیث نمبر؛۷۰۳۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو(ان کی)اپنی صورت پر پیدا کیا۔ان کا قد ساٹھ گز تھا جب ان کو پیدا کیا تو فرمایا جاؤ اور ان لوگوں کو سلام کرو اور وہاں کچھ فرشتے بیٹھے ہوئے تھے اور سنیں وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ یہی آپ اور آپ کی اولاد کا سلام ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام تشریف لے گئے اور فرمایا"السلام علیکم"انہوں نے جواب دیا"وعلیکم السلام ورحمت اللہ" آپ نے فرمایا انہوں نے"ورحمت اللہ"کا اضافہ کیا پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ گز ہوگا۔پھر لوگوں کا قد بتدریج کم ہوتا گیا حتیٰ کہ اب یہ وقت اگایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ؛جلد٤ص۲۱۸٣؛حدیث نمبر؛۷۰۳۹)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو لایا جائے گا اس دن اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اس کو کھینچ رہے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸٣؛حدیث نمبر؛۷۰٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ جس کو انسان جلاتا ہے جہنم کی گرمی کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ آگ بھی تو کافی ہے آپ نے فرمایا وہ اس سے اُنہتر درجے زیادہ ہے اور ہر درجہ میں اس گرمی کے برابر گرمی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸٤؛حدیث نمبر؛۷۰٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں لیکن اس میں(کلھا کی جگہ)"کلھن"کا لفظ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸٤؛حدیث نمبر؛۷۰٤۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے ایک گڑگڑاہٹ سنی آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ ایک پتھر ہے جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا اور وہ اب تک اس میں گر رہا تھا حتیٰ کہ اب اس کی گہرائی تک پہنچ گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸٤؛حدیث نمبر؛۷۰٤۳)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ یہ اس کی گہرائی میں پہنچ گیا پس تم نے اس کی گڑگڑاہٹ سنی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۵؛حدیث نمبر؛۷۰٤٤)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بعض جہنمیوں کو آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی بعض کو ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے بعض کو گردن تک پکڑے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۵؛حدیث نمبر؛۷۰٤۵)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے بعض کو آگ ان کے ٹخنے تک پکڑے گی بعض کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑے گی بعض لوگوں کو ان کی کمر تک اور بعض کو گلے تک پکڑے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۵؛حدیث نمبر؛۷۰٤٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۵؛حدیث نمبر؛۷۰٤۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم اور جنت کے درمیان مباحثہ ہوا اس(جہنم)نے کہا میرے اندر جبار اور متکبر لوگ داخل ہوں گے اور اس(جنت)نے کہا مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں جس کو چاہوں تیرے ذریعے عذاب دوں گا اور جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گااور تم میں سے ہر ایک کے لئے پر ہونا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ؛جلد٤ص۲۱۸٦؛حدیث نمبر؛۷۰٤۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جہنم اور جنت کے درمیان مباحثہ ہوا تو جہنم نے کہا مجھے متکبر اور جبار لوگوں کے ساتھ ترجیح دی گئی ہے اور جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ مجھ میں صرف کمزور،لاچار اور عاجز لوگ داخل ہوں گے پس اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے پس جہنم نہیں بھرے گی تو اللہ تعالیٰ اس پر قدم رکھے گا(جس طرح اس کے شایان شان ہے)تو جہنم کہے گی بس!بس!اس وقت وہ پر ہوجائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض سے مل جاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ؛جلد٤ص۲۱۸٦؛حدیث نمبر؛۷۰٤۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنت اور دوزخ میں مباحثہ ہوا....اس کے بعد حدیث ٧٠٤٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۷؛حدیث نمبر؛۷۰۵۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت اور جہنم کے درمیان مباحثہ ہوا تو جہنم نے کہا مجھے متکبر اور جبار لوگوں کے ساتھ ترجیح دی گئی اور جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ مجھ میں کمزور،گرے پڑے اور عاجز لوگ ہی داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اس پر رحمت کروں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تیرے ذریعے عذاب دوں گا اور تم میں سے ہر ایک کے لئے پر ہونا ہے اور جہنم پر نہیں ہوگی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا وہ کہے گی بس!بس!اس وقت وہ پر ہو جاے گی اور اس کا بعض،بعض سے مل جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے کسی ایک پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اور مخلوق پیدا کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۷؛حدیث نمبر؛۷۰۵۱)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت اور دوزخ میں بحث ہوئی۔اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ہے"تم میں سے ہر ایک نے پر ہونا ہے"کے الفاظ تک ہے اس کے بعد کے الفاظ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۷؛حدیث نمبر؛۷۰۵۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل کہتی رہے گی اور زیادہ،اور زیادہ،حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی بس!بس!تیری عزت کی قسم،اور اس کا بعض حصہ دوسرے بعض سے مل جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۷؛حدیث نمبر؛۷۰۵٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٠٥٣ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۸؛حدیث نمبر؛۷۰۵٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا لوگ مسلسل جہنم میں ڈالے جائیں گے وہ کہے گی کیا مزید ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا تو اس(جہنم)کا بعض حصہ دوسرے بعض سے مل جائے گا اور وہ کہے گی بس!بس!تیری عزت اور کرم کی قسم!اور جنت میں مسلسل جگہ زیادہ رہے گی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اور مخلوق پیدا کرے گا اور ان کو جنت کے بچے ہوئے حصے میں رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۸؛حدیث نمبر؛۷۰۵۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے گا جنت میں جگہ بچے گی پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جو چاہے گا مخلوق کو پیدا کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۸؛حدیث نمبر؛۷۰۵٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا گویا وہ سرمئی رنگ کا مینڈھا ہے(ابوکریب کی روایت میں یہ اضافہ ہے)پس اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا(اس کے بعد راویوں کا اتفاق ہے)پس کہا جاے گا اے اہل جنت!کیا تم اس کو جانتے ہو؟وہ گردن اٹھا کر اسے دیکھیں گےاور کہیں گے ہاں یہ موت ہے اور کہا جائے گا اے اہل دوزخ!کیا تم اس کو پہچانتے ہو وہ گردن اٹھا کر اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا جاے گا پھر کہا جائے گا اے اہل جنت!ہمیشہ رہنا ہے اور اب موت نہیں ہے اور اے اہل جہنم!ہمیشہ رہنا ہے اور موت نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: "اور ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیں جب اعمال کا فیصلہ کیا جاے گا حالانکہ وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لائیں گے" آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۸؛حدیث نمبر؛۷۰۵٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا تو کہا جائے گا اے اہل جنت.....اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ فرمایا کہ یہ اللہ عزوجل کا قول ہے،یہ نہیں ہے کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی اور نہ ہی ہاتھ سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۹؛حدیث نمبر؛۷۰۵٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں داخل کرے گا اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کرے گا پھر ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان کھڑا ہوگا اور کہے گا اے اہل جنت!(اب)موت نہیں ہے اور اے اہل جہنم!(اب)موت نہیں ہے پس جو جس جگہ ہے وہاں ہمیشہ رہے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۹؛حدیث نمبر؛۷۰۵٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی،جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی،جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جاے گا حتیٰ کہ اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کیا جائے گا پھر ایک منادی اعلان کرے گا اے اہل جنت!اب موت نہیں ہوگی اور اے اہل جہنم!اب موت نہیں ہوگی پس جنتیوں کی خوشی میں اضافہ ہوگا اور جہنمیوں کا غم بھی بڑھ جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۹؛حدیث نمبر؛۷۰٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر کی داڑھ احد پہاڑجتنی ہوگی اور اس کی کھال تین دن کی مسافت کے برابر موٹی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۹؛حدیث نمبر؛۷۰٦۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں(کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۸۹؛حدیث نمبر؛۷۰٦۲)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص جو ضعیف ہو اور اس کو ضعیف سمجھا جاتا ہو وہ اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھاے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں اہل جہنم کی خبر نہ دوں؟صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے فرمایا ہر شخص جو بد خو،سرکش اور متکبر ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۰؛حدیث نمبر؛۷۰٦۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یوں ہے کہ کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۰؛حدیث نمبر؛۷۰٦٤)
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتیوں کی خبر نہ دوں؟ہر ضعيف شخص جس کو ضعيف خیال کیا گیا اگر وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھاے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے کیا میں تمہیں جہنمیوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جو سرکش،بداصل اور متکبر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۰؛حدیث نمبر؛۷۰٦۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بسا اوقات بکھرے ہوئے بالوں والے جن کو دروازوں سے ٹھکرا دیا جات ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کرتا(وہ جنت میں جائیں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۱؛حدیث نمبر؛۷۰٦٦)
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے(حضرت صالح علیہ السلام کی)اونٹنی اور اس کے پاؤں کاٹنے کا ذکر کیا۔اور آیت کریمہ پڑھی: "اور جب بدبخت اٹھا آپ نے فرمایا جو شخص اس قبیلہ میں غالب،سرکش اور فسادی تھا وہ اٹھا،جیسے ابو زمعہ ہے پھر آپ نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کو نصیحت فرمائی پھر فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح کیوں مارتا ہے ابوکریب کی روایت میں ہے جیسے غلام کو کوڑے مارتا ہے شاید دن کے آخر میں اس سے زوجیت کا عمل کرے پھر ان کو کسی کی ہوا نکلنے پر ہنسنے کے سلسلے میں نصیحت کی اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس بات پر کیوں ہنستا ہے جسے وہ خود کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۱؛حدیث نمبر؛۷۰٦۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو دیکھا جو بنو کعب کا بھائی تھا وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھرتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۱؛حدیث نمبر؛۷۰٦۸)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ دوہنا بتوں کی وجہ سے روک دیا جاتا تھا اور کوئی شخص بھی اس کا دودھ نہیں دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑتے تھے پس اس پر کوئی چیز لادتے نہیں تھے حضرت ابن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے اور اس شخص نے سب سے پہلے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۲؛حدیث نمبر؛۷۰٦۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں کہ میں نے ان کو نہیں دیکھا ایک گروہ وہ ہے جن کے پاس گایوں کے دموں جیسے کوڑے ہوں گے وہ ان کے ساتھ لوگوں کو ماریں گے اور دوسرا گروہ ان عورتوں کا ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ دوسروں کو مائل کریں گی اور خود(ان کی طرف)مائل ہوں گی وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۲؛حدیث نمبر؛۷۰۷۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے طویل زمانہ پایا تو عنقریب تم ایک قوم کو دیکھو گے ان کے ہاتھوں میں گایوں کے دموں جیسے(کوڑے)ہوں گے وہ صبح بھی اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے غضب میں ہوں گے اور شام کے وقت بھی ان پر اللہ کی ناراضگی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۲؛حدیث نمبر؛۷۰۷۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم نے طویل زمانہ پایا تو تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے جن کی صبح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں گزرے گی اور شام کے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی ان کے ہاتھوں میں گایوں کے دموں جیسے(کوڑے)ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي شِدَّةِ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِهَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛جلد٤ص۲۱۹۳؛حدیث نمبر؛۷۰۷۲)
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم آخرت کے مقابلے میں دنیا محض اس طرح ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی اس انگلی کو دریا میں ڈال دے(یحییٰ(راوی)نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا)پھر نکالے تو دیکھا اس کے ساتھ کیا لگا ہے یحییٰ کی علاوہ باقی سب کی حدیث میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ابو امامہ کی روایت میں ہے کہ اسماعیل(راوی)نے انگوٹھے کہ طرف اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹۳؛حدیث نمبر؛۷۰۷۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں ننگے جسم اور ختنہ کے بغیر اٹھایا جاے گا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا عورتیں اور مرد سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!ایک دوسرے کو دیکھنے کے مقابلے میں منظر بہت سخت ہوگا۔ (چونکہ لوگ خوف زدہ ہوں گے لہذا کوئی کسی کی طرف دیکھ نہیں سکے گا)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹٤؛حدیث نمبر؛۷۰۷٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹٤؛حدیث نمبر؛۷۰۷۵)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرو گے کہ تم ننگے پاؤں ننگے جسم اور ختنہ کے بغیر ہوگے زہیر کی حدیث میں خطبہ دینے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹٤؛حدیث نمبر؛۷۰۷٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو فرمایا اے لوگو!تم اللہ تعالیٰ کی طرف ننگے پاؤں ننگے جسم اور ختنہ کے بغیر جمع کئے جاؤ گے جس طرح ہم نے تمہیں ابتدا پیدا کیا اسی طرح ہم لوٹائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے بے شک ہم ایسا کرنے والے ہیں سنو!میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور ان کی بائیں جانب کو پکڑا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے صحابی ہیں تو کہا جائے گا بےشک آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا بدعات نکالیں تو میں کہوں گا جس طرح عبد صالح(حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کہیں گے کہ جب تک میں ان کے درمیان تھا میں ان میں گواہ تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت فرمائے تو تو غالب اور حکیم ہے۔ آپ نے فرمایا پھر مجھ سے کہا جائے جب آپ ان سے جدا ہوئے تو یہ ایڑیوں کے بل دین سے پھر گئے۔وکیع اور معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ نہیں جانتے آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا باتیں جاری کی۔ (ان لوگوں سے منافق اور مرتد مراد ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹٤؛حدیث نمبر؛۷۰۷۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا لوگوں کو تین جماعتوں کی شکل جمع کیا جاے گا خوش ہونے والے اور ڈرنے والے ہوں گے دو ایک اونٹ پر ہوں گے اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی جہاں وہ ٹھہرے گی وہ جہاں قیلولہ کریں گے آگ بھی وہیں ہوگی جہاں وہ صبح کریں گے آگ بھی وہیں صبح کرےگی اور جہاں وہ شام کے وقت ہوں گے آگ بھی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۹۵؛حدیث نمبر؛۷۰۷۸)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن تمام انسان رب العالمين کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ان میں سے ایک شخص اپنے نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوگا۔ابن مثنی کی روایت میں"یقوم الناس"ہے یوم کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللهُ عَلَى أَهْوَالِهَا؛جلد٤ص۲۱۹۵؛حدیث نمبر؛۷۰۷۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے چھ سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت کیا البتہ حضرت موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت میں ہے کہ ایک شخص اپنے آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوب جاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللهُ عَلَى أَهْوَالِهَا؛جلد٤ص۲۱۹٦؛حدیث نمبر؛۷۰۸۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن انسان کا پسینہ ستر باع(ایک باع چار گز کا ہوتا ہے یعنی دو سو اسی گز)تک پھیلا ہوگا اور وہ لوگوں کے مونہوں اور کانوں تک پہنچ جاے گا راوی ثور کو شک ہے کہ کون سا لفظ فرمایا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللهُ عَلَى أَهْوَالِهَا؛جلد٤ص۲۱۹٦؛حدیث نمبر؛۷۰۸۱)
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت کے دن سورج،مخلوق کے اس قدر قریب ہوگا کہ ایک میل کی مقدار رہ جائے گا۔ سلیم بن عامر کہتے اللہ کی قسم!مجھے،معلوم نہیں میل سے کیا مراد ہے زمین کی مسافت یا وہ سلائی جس کے ساتھ آنکھ میں سرمہ لگاتے ہیں فرماتے ہیں لوگ پسینے کے اعتبار سے اپنے اعمال کی مقدار پر ہوں گے بعض کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور کسی کے منہ میں(پسینے کی)لگام ہوگی راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللهُ عَلَى أَهْوَالِهَا؛جلد٤ص۲۱۹٦؛حدیث نمبر؛۷۰۸۲)
حضرت عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا سنو!میرے رب نے مجھے حکم فرمایا کہ میں تمہیں وہ بات سکھاؤں جو تمہیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج ہی اس چیز کا علم دیا ہے(اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے)میں نے اپنے بندے کو جو مال دیا وہ حلال ہے اور میں نے اپنے بندے کو اس حال میں پیدا کیا کہ وہ سب باطل سے دور رہنے والے تھے پھر ان کے پاس شیطان آیا اور ان کو دین سے پھیر دیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں وہ ان پر حرام کردیں ان کو میرے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا جب کہ میں نے اس(شرک)پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔اور بےشک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور اہل کتاب کے چند باقی رہنے والے لوگوں کے علاوہ تمام عرب و عجم والوں پر ناراض ہوا اور فرمایا میں نے تمہیں آزمائش کے لیے بھیجا اور تمہارے ذریعے دوسروں کی آزمائش کے لیے بھیجا میں نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس کو پانی دھو نہیں سکتا تم اس کو نیند اور بیداری میں پڑھو گے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے قریش کو جلانے کا حکم دیا تو میں نے عرض کیا اے میرے رب!وہ میرا سر پھاڑ دیں گے اور اس کو روئی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو اس طرح نکال دو جس طرح انہوں نے تمہیں نکالا ہے تم ان سے جہاد کرو ہم تمہاری مدد کریں گے تم خرچ کرو عنقریب تمہیں عطاء کیا جائے گا لشکر بھیجو ہم اس سے پانچ گنا لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرمانبردار ہیں ان کے ساتھ مل کر ان لوگوں سے لڑو جو آپ کی نافرمانی کرتے ہیں اور فرمایا جنتی تین(قسم کے لوگ)ہیں۔ (١)انصاف کرنے والا حاکم جس کو نیکی کی توفیق دی گئی۔ (٢)رحم کرنے والا شخص جو اپنے رشتہ داروں اور عام مسلمانوں کے لیے نرم دل ہو۔ (٣)پاک دامن شخص جو عیالدار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے گریز کرتا ہو۔ اور پانچ قسم کے لوگ دوزخی ہیں۔ (١)وہ ضعیف لوگ جن کے پاس عقل نہ ہو وہ تمہارے ماتحت ہوں اور اپنے اہل و مال کے لئے کوئی سعی نہ کریں۔ (٢)وہ خائن جس کی طمع پوشیدہ نہ ہو جو معمولی سی چیز میں بھی خیانت کرے۔ (٣)وہ شخص جو صبح و شام تمہارے ساتھ تمہارے اہل و مال کے اعتبار سے دھوکہ کرے اور اللہ تعالیٰ نے بخل یا جھوٹ،بدخو اور فحش کلام کرنے والے کا بھی ذکر کیا۔ ابو غسان کی روایت میں یہ ذکر نہیں کہ تم خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابٌ الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ واھل النار؛جلد٤ص۲۱۹۷؛حدیث نمبر؛۷۰۸۳)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا انکی روایت میں یہ مذکور نہیں میں نے اپنے بندے کو جو مال عطاء کیا وہ حلال ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الصِّفَاتِ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ؛جلد٤ص۲۱۹۸؛حدیث نمبر؛۷۰۸٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الصِّفَاتِ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ؛جلد٤ص۲۱۹۸؛حدیث نمبر؛۷۰۸۵)
حضرت عیاض بن حمار نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں تشریف فرما ہوکر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے......اس کے بعد حسب سابق روایت ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو تم میں سے کوئی ایک کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی شخص کسی دوسرے پر زیادتی کرے۔اسی حدیث میں ہے کہ وہ لوگ تم میں تابع ہوں گے اہل اور مال کو طلب نہیں کریں گے میں نے کہا اے ابو عبد اللہ!کیا ایسے لوگ ہوں گے؟انہوں نے فرمایا ہاں(ہوں گے)اللہ کی قسم!میں نے ان کو زمانہ جاہلیت میں دیکھا ہے ایک شخص ایک قبیلے کی بکریاں چراتا تھا اسے کوئی نہ ملتا تھا تو وہ ان کی لونڈی سے وطی کرلیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الصِّفَاتِ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ؛جلد٤ص۲۱۹۸؛حدیث نمبر؛۷۰۸٦)
حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانہ صبح و شام اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت سے ہے تو جنتیوں کا اور اگر وہ جہنمیوں سے ہے تو دوزخ والوں کا(ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے)اور کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس ٹھکانے کی طرف اٹھاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۱۹۹؛حدیث نمبر؛۷۰۸۷)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانہ صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم پیش کی جاتی ہے آپ فرماتے ہیں پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے قیامت کے دن جس کی طرف تجھے اٹھایا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۱۹۹؛حدیث نمبر؛۷۰۸۸)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا بلکہ مجھ سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں خچر پر سوار تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک خچر بدکنے لگا قریب تھا کہ آپ گر پڑتے تو(دیکھا کہ)وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ جریری نے اسی طرح کہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے ایک شخص نے عرض کیا میں جانتا ہوں آپ نے پوچھا یہ لوگ کب فوت ہوئے؟اس نے کہا شرک کے دور میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس امت کو ان کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سناے جو میں سن رہا ہوں پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو انہوں نے عرض کیا ہم جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں آپ نے فرمایا قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو انہوں نے کہا ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں آپ نے فرمایا ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو انہوں نے کہا ہم ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں آپ نے فرمایا دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو انہوں نے عرض کیا ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۱۹۹؛حدیث نمبر؛۷۰۸۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سناے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۰؛حدیث نمبر؛۷۰۹۰)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے تو آپ نے ایک آواز سنی آپ نے فرمایا یہودیوں کو قبر میں عذاب ہورہا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۰؛حدیث نمبر؛۷۰۹۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی(لوگ)وہاں سے چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے آپ نے فرمایا اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص کے بارے میں(دنیا میں)کیا کہا کرتا تھا،اگر وہ مؤمن ہو تو کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں اس سے کہا جاتا ہے جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سے بیان کیا گیا کہ بے شک اس کی قبر میں اس کے لئے ستر گز کی وسعت کردی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں نعمتیں بھر دی جاتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۰؛حدیث نمبر؛۷۰۹۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو وہ لوگوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے جب وہ واپس جاتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۱؛حدیث نمبر؛۷۰۹۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اصحاب واپس جاتے ہیں....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۱؛حدیث نمبر؛۷۰۹٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو قول ثابت(کلمہ طیبہ)پر ثابت قدم رکھتا ہے آپ فرماتے ہیں یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس سے کہا جائے گا تیرا رب کون ہے؟وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پس یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تفسیر ہے"اللہ تعالیٰ مومنین کو دنیا اور آخرت میں قول ثابت(کلمہ طیبہ)پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۱؛حدیث نمبر؛۷۰۹۵)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں قول ثابت پر ثابت قدم رکھتا ہے یہ آیت عذاب قبر سے متعلق نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۲؛حدیث نمبر؛۷۰۹٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب مومن کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے لے کر اوپر کو چڑھتے ہیں حماد کہتے ہیں انہوں نے اس کی روح کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا فرماتے ہیں آسمان والے کہتے ہیں یہ پاک روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے(اے روح)تجھ پر اور تو جس جسم کو آباد رکھتی تھی اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو پس اس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کو آخروقت کے لیے لے جاؤ فرماتے ہیں جب کافر کی روح نکلتی ہے حضرت حماد کہتے ہیں انہوں نے اس کی بدبو اور لعنت کا ذکر بھی کیا اور آسمان والے کہتے ہیں۔ زمین کی طرف سے خبیث روح آئی ہے پھر کہا جاتا ہے اس کو آخر وقت کے لئے لے جاؤ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس بدبو کو ظاہر کرنے کے لئے)اپنی چادر کا پلو اس طرح ناک پر رکھا(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عمل بتایا) (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۲؛حدیث نمبر؛۷۰۹۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ہم سب چاند دیکھنے لگے میری نظر ذرا تیز تھی تو میں نے چاند دیکھ لیا میرے علاوہ ان میں سے کسی نے چاند نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے یہ کہا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو چاند دکھائی نہیں دے رہا ہے؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں عنقریب چاند اپنے بستر پر لیٹ کر دیکھوں گاانہوں نے ہم سے بدر والوں کا واقعہ بیان کرنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنگ بدر سے ایک دن پہلے بدر والوں کے ٹھکانے دکھانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ اگر اللہ نے چاہا تو کل فلاں اس جگہ گرے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ لوگ اس حد سے نہ ہٹے کہ جو حد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ سب ایک کنوئیں میں ایک دوسرے پر گرا دیئے گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ ان کی طرف آگئے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے وہ کچھ پا لیا ہے کہ جس کا تم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےجان جسموں سے کیسے بات فرما رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ان سے زیادہ میری بات سننے والے نہیں ہو سوائے اس کے کہ یہ مجھے کچھ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۲؛حدیث نمبر؛۷۰۹۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقتولین کو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں آواز دی اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام!اے امیہ بن خلف!اے عقبہ بن ربیعہ!اے شیبہ بن ربیعہ!کیا تم نے وہ کچھ نہیں پالیا کہ جس کا تم سے تمہارے رب نے سچا وعدہ کیا تھا میں نے تو وہ کچھ پالیا ہے کہ جس کا میرے رب نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول!(یہ تو مرچکے ہیں)یہ کیسے سن سکتے ہیں اور کیسے جواب دے سکتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن یہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں ڈال دو تو انہیں ڈال دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰۳؛حدیث نمبر؛۷۰۹۹)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غلبہ حاصل ہوا تو آپ نے قریش کے بیس سے زیادہ سرداروں کو گھسیٹ کر بدر کے ایک کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا۔ روح کی روایت میں چوبیس آدمیوں کا ذکر ہے تو ان کو بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا...باقی حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ؛جلد٤ص۲۲۰٤؛حدیث نمبر؛۷۱۰۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جس شخص کا حساب کیا گیا اس کو عذاب دیا جائے گا میں نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا"پس عنقریب آسان حساب ہوگا"آپ نے فرمایا یہ محاسبہ نہیں یہ تو پیش ہونا ہے جس سے قیامت کے دن حساب میں مناقشہ کیا جاے گا اس کو عذاب دیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِثْبَاتِ الْحِسَابِ؛جلد٤ص۲۲۰٤؛حدیث نمبر؛۷۱۰۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِثْبَاتِ الْحِسَابِ؛جلد٤ص۲۲۰٤؛حدیث نمبر؛۷۱۰۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا جس سے حساب ہوا وہ ہلاک ہوا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ!کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ حساب آسان ہوگا؟فرمایا یہ تو پیش ہونا ہے جس سے حساب میں مناقشہ ہوگا ہو ہلاک ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِثْبَاتِ الْحِسَابِ؛جلد٤ص۲۲۰۵؛حدیث نمبر؛۷۱۰۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے حساب میں مناقشہ کیا جائے گا وہ ہلاک ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ إِثْبَاتِ الْحِسَابِ؛جلد٤ص۲۲۰۵؛حدیث نمبر؛۷۱۰٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن پہلے آپ سے سنا آپ نے فرمایا ہر شخص کو اس حال میں مرنا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰۵؛حدیث نمبر؛۷۱۰۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰۵؛حدیث نمبر؛۷۱۰٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن پہلے آپ سے سنا آپ نے فرمایا ہر شخص اس حال پر مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰٦؛حدیث نمبر؛۷۱۰۷)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوے سنا کہ ہر بندے کو اسی(عقیدے یا نیت)پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰٦؛حدیث نمبر؛۷۱۰۸)
ایک اور سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مروی ہے اس میں"میں نے سنا"کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰٦؛حدیث نمبر؛۷۱۰۹)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ عذاب اس تمام قوم پر آتا ہے پھر لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ؛جلد٤ص۲۲۰٦؛حدیث نمبر؛۷۱۱۰)
Muslim Shareef : Kitabul Jannate Wa Sifate Nayimeha Wa Ahleha
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْجَنَّۃِ وَصِفَهِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا
|
•