
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوے تو آپ فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں عربوں کے لیے اس شر سے خرابی ہے جو(شر)قریب آچکی ہے آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس(کے ہند سے)کی گرہ بنائی۔ حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟آپ نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہوجائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛ترجمہ؛فتنوں اور قیامت کی علامت کا بیان؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛فتنوں کا قریب ہونا اور یاجوج ماجوج؛جلد٤ص۲۲۰۷؛حدیث نمبر؛۷۱۱۱)
متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے مروی ہے وہ حضرت حبیبہ سے وہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش سے روایت کرتی ہیں۔(رضی اللہ عنہما) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۷؛حدیث نمبر؛۷۱۱۲)
حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبراے ہوے تشریف لائے آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اہل عرب کے لئے اس شر سے خرابی ہے جو(شر)قریب آچکی ہے یاجوج اورماجوج کی دیوار سے اس کی مثل آج کھول دیا گیا ہے آپ نے انگوٹھے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی کے ساتھ حلقہ بنایا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں گے؟آپ نے فرمایا ہاں جب خبیث زیادہ ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱۳)
متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت زہری سے مروی ہے اور وہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا آج یاجوج اور ماجوج سے دیوار اس کی مثل کھول دی گئی ہے وہیب نے اپنے ہاتھ کے ساتھ نوے(کے ہندسے)کی گرہ باندھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱۵)
متعدد اسناد سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن قبطیہ کہتے ہیں کہ حارث بن ربیعہ و عبد اللہ بن صفوان دونوں ام المؤمنين حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے اس سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جس کو دھنسا دیا جائے گا اور یہ واقعہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے ہوا انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ شریف میں پناہ لے گا تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ چٹیل میدان میں ہوں گے تو ان کو(زمین میں)دھنسا دیا جائے گا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!اس کا کیا ہوگا جو مجبوراً شامل ہوگا؟آپ نے فرمایا وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔ ابو جعفر کہتے ہیں اس سے مدینہ کی صاف زمین مراد ہے(جو ذوالحلیفہ کے آگے مکہ مکرمہ کی طرف گھاٹی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِي يَؤُمُّ الْبَيْتَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱٦)
ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اس حدیث میں اس طرح ہے راوی کہتے ہیں میں نے ابو جعفر سے کہا کہ ام المؤمنين فرماتی ہیں"بیداء الأرض"ابو جعفر نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم یہ "بیداء مدینہ ہے"۔(مدینہ منورہ کا میدان ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۱۷)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک لشکر جہاد کی غرض سے اس گھر کا ضرور بضرور ارادہ کرے گا حتیٰ کہ جب وہ چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور ان کے اگلے ان کے پچھلے کو آواز دیں گے پھر ان کو بھی دھنسا دیا جاے گا پس صرف ان سے پیچھے رہ جانے والا بچے گا جو ان کے بارے میں خبر دے گا۔ ایک شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ(اے عبد اللہ بن صفوان)آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں بولا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی بات روایت نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۱۸)
حضرت عبد اللہ بن صفوان،ام المومنین(حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک قوم اس گھر یعنی بیت اللہ شریف کی پناہ لے گی ان کے ساتھ عددی قوت ہوگی نہ ساز و سامان ہوگا ان کی طرف لشکر بھیجا جائے گا جب وہ چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا۔ یوسف(بن ماہک)نے کہا اس دن اہل شام،مکہ مکرمہ کی طرف جائیں گے سنو!اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں۔ زید کہتے ہیں مجھ سے عبد الملک عامری نے بیان کیا وہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے یوسف بن ماہک کی حدیث کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے اس میں اس لشکر کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر عبد اللہ بن صفوان نے کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۱۰؛حدیث نمبر؛۷۱۱۹)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں گھبراہٹ ہوئی(اور آپ کے جسم مبارک میں حرکت پیدا ہوئی)ہم نے عرض کیا کہ(آج)آپ نے نیند میں ایسا کام کیا جو کبھی نہیں کیا تھا تعجب کی بات ہے میری امت کے کچھ لوگ قریش کے ایک آدمی کے خلاف اس گھر کا ارادہ کریں گے اس شخص نے بیت اللہ شریف کی پناہ لی ہوگی جب وہ صاف چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا یارسول اللہ!راستہ ان سب لوگوں کو اکٹھا کر دے گا؟فرمایا ہاں ان میں دیکھنے قصد و ارادہ والے بھی ہوں گے مجبور بھی اور مسافر بھی ایک ہی دفعہ سب ہلاک ہوجائیں گے وہ مختلف راستوں سے نکلیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۲۰)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے قلعوں میں سے ایک قلعے پر چڑھے پھر فرمایا کیا تم وہ چیز دیکھ رہے ہو جو میں دیکھتا ہوں بے شک میں تمہارے گھروں کے اندر فتنوں کی جگہ کو دیکھ رہا ہوں جس طرح(بارش کے)قطروں کے گرنے کی جگہیں تمہارے گھروں میں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۱)
ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے بپا ہوں گے ان کے دوران بیٹھنے والا،کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔جو ان فتنوں کو دیکھے گا اس کو یہ فتنے دیکھ لیں گے(ہلاک کر دیں گے)اور جو ان میں کوئی پناہ گاہ پائے وہ اس کے ذریعے پناہ حاصل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۳)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مثل مروی ہے لیکن اس میں(راوی)ابوبکر نے یہ اضافہ ذکر کیا ہے کہ نمازوں میں سے ایک نماز ہے جس سے وہ نماز رہ گئی گویا وہ اپنے گھر والوں اور مال کے اعتبار سے خسارے میں رہا(عصر کی نماز مراد ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دوران سونے والے کا فتنہ جاگنے والے کے فتنے سے بہتر ہوگا اور جاگنے والے کا فتنہ کھڑا ہونے والے کے فتنہ سے بہتر ہوگا اور کھڑے آدمی کا فتنہ دوڑنے والے سے بہتر ہوگا پس جو شخص کوئی پناہ گاہ پائے وہ پناہ حاصل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲۵)
عثمان الشحام کہتے ہیں میں اور فرقد السبخی،حضرت مسلم بن ابی ابوبکر کے پاس گئے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے یہاں داخل ہوئے تو ہم نے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے خبردار پھر اس میں بیٹھنے والے کا فتنہ چلنے والے سے زیادہ ہوگا اور ان میں چلنے والا اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا سنو!جب یہ فتنے اتریں یا واقع ہوں تو جس شخص کے اونٹ ہو وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے اور جس کی بکریاں ہو وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!بتائے جس کے پاس زمین نہ ہو وہ کیا کرے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اسے پتھر پر تیز کرے پھر نجات حاصل کرے اگر نجات حاصل کرسکتا ہے۔ پھر فرمایا یا اللّٰہ!کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟یا اللہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟یا اللہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!بتائیے اگر مجھے مجبور کر کے کسی ایک صف یا ایک گروہ میں لے جایا جائے اور کوئی شخص مجھے اپنی تلوار سے مارے یا کوئی تیرآکر مجھے ہلاک کر دےفرمایا وہ شخص اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ لے جائے گا اور وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲٦)
مزید دو سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں وکیع کی روایت"ان استطاع النجاء"(اگر تم نجات حاصل کر سکتے ہو)پر ختم ہوجاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۳؛حدیث نمبر؛۷۱۲۷)
حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں میں نکلا اور میں اس شخص(حضرت علی رضی اللہ عنہ)کا ارادہ کر رہا تھا حضرت ابوبکرہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا اے احنف!کہاں کا ارادہ ہے؟فرماتے ہیں میں نے کہا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنا چاہتا ہوں فرماتے ہیں حضرت ابوبکرہ نے کہا اےاحنف!واپس جاؤ،میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب دو مسلمان ایک دوسرے کی طرف نکلیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا کسی نے کہا یا رسول اللہ!قاتل کے بارے میں ٹھیک ہے مقتول کیوں جاے گا فرمایا اس نے بھی اپنے مد مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۲۸)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۲۹)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۰)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب دو مسلمان میں سے ایک اپنے(مسلمان)بھائی پر تلوار اٹھائے تو دونوں جہنم کے کنارے پر ہوں گے جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے تو دونوں جہنم میں جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ دو بڑی جماعتیں آپس میں لڑیں گی اور ان کے درمیان بہت بڑی لڑائی ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ بھی ایک ہی ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ"ھرج"زیادہ ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ"ھرج"کیا ہے؟فرمایا"قتل،قتل" (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳۳)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا پس میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور میری امت کی حکومت وہاں تک ہوگی جہاں تک میرے لئے زمین کو لپیٹا گیا ہے اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید دئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے سوال کیا کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ کسی دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے کہ وہ ان کی جماعت کو ختم کردے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اس کو واپس نہیں لیتا میں نے آپ کی امت کو یہ بات دے دی کہ میں ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے علاوہ کسی دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا جو ان کی جماعت(یا حکومت)کو توڑ دے اگرچہ ان کے خلاف تمام روے زمین کے لوگ جمع ہوجائیں البتہ یہ کہ ان میں سے بعض دوسرے بعض کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳٤)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور مجھے دو سرخ سفید خزانے دئے۔ اس کے بعد ایوب کی ابو قلابہ سے روایت کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳۵)
حضرت عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عالیہ(مدینہ طیبہ کا بالائی حصہ)سے تشریف لائے حتیٰ کہ جب مسجد بنو معاویہ کے پاس سے گزرے اس میں داخل ہوئے دو رکعتیں نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے اپنے رب سے ایک طویل دعا مانگی پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین باتوں کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چیزیں عطاء فرمائیں اور ایک سے روک دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط کے ساتھ ہلاک نہ کرے تو اس نے میری یہ دعا منظور کردی اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو غرق کرنے کے ذریعے ہلاک نہ کرے تو اس نے میری دعا بھی قبول کرلی اور میں نے سوال کیا کہ وہ آپس میں نہ لڑیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳٦)
حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں آے پھر آپ مسجد بنو معاویہ کے پاس سے گزرے....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳۷)
حضرت ابو ادریس خولانی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میرے اور قیامت کے درمیان جس قدر فتنے ہونے والے ہیں ان کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مجھے کچھ پوشیدہ طور پر بتایا جو میرے غیر سے بیان نہیں کیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جس میں،میں بھی تھا فتنوں کے بارے میں بیان کیا اور آپ نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا ان میں سے تین(فتنے)ایسے ہیں کہ قریب نہیں کہ وہ کسی چیز کو چھوڑیں اور ان میں سے ایسے فتنے ہیں جو گرمیوں کی ہوا کی طرح ہیں ان میں چھوٹے(فتنے)بھی ہیں اور بڑے بھی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے علاوہ وہ تمام جماعت رخصت ہو گئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳۸)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوے(اور)آپ نے اس جگہ قیام قیامت تک کی ہر چیز بیان کر دی جس نے اس کو یاد کیا،اس نے یاد کیا اور جس نے اسے بھلا دیا،اس نے بھلا دیا۔میرے ان دوستوں کو اس کا علم ہے میں بھی اس سے کوئی چیز بھول جاتا ہوں پس اس کو دیکھتا ہوں تو یاد اجاتی ہے جس طرح کوئی شخص دوسرے آدمی کا چہرہ بھول جاتا ہے جب اس سے غائب ہوتا ہے پھر جب اس کو دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱۳۹)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں"جو بھول گیا سو بھول گیا"تک ہے بعد کا کلام مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والی تمام باتوں کی خبر دی میں نے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا البتہ آپ سے یہ نہیں پوچھا کہ مدینہ والوں کو مدینہ سے کیا چیز نکالے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۱)
ایک اور سند سے اسی طرح(حدیث)مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۲)
ابو زید یعنی عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور(پھر)آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ ظہر کا وقت ہوگیا آپ نے اتر کر نماز پڑھی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا پھر اتر کر نماز ادا کی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا تو آپ نے ہمیں وہ سب کچھ بتایا جو(قیامت تک)ہونے والا ہے پس ہم میں سے جسے زیادہ علم ہے اسے زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۳)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا تم میں سے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتنہ کے بارے میں حدیث بعینہ یاد ہے۔ (حضرت حذیفہ)فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے یاد ہے انہوں نے فرمایا بےشک آپ جرات مند ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے فرمایا تھا؟ فرماتے ہیں میں نے کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آدمی کا فتنہ اس کے اہل،مال،جان، اولاد اور پڑوسی میں ہے روزہ،نماز،صدقہ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اس کا کفارہ ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری مراد یہ(فتنہ)نہیں ہے میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوگا۔(حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا واسطہ؟اے امیر المومنین!بےشک آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے انہوں نے پوچھا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انہوں نے فرمایا اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ پھر کبھی بند نہ ہو۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟فرمایا ہاں جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟فرمایا ہاں جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے میں ان سے حدیث بیان کی جس میں کوئی مغالطہ نہیں ہے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں ہمیں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے ڈر لگا تو ہم نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ان سے پوچھیں انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ(دروازہ)حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤٤)
متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت اعمش سے ابومعاویہ کی روایت(گزشتہ حدیث)کی طرح ہے البتہ اس میں عیسیٰ کی روایت جو اعمش سے ہے اور وہ حضرت شقیق سے روایت کرتے ہیں اس میں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا(باقی وہی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤۵)
ایک اور سند سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون فتنہ کے بارے میں ہم سے بیان کرے گا،پھر گزشتہ روایات کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤٦)
حضرت محمد فرماتے ہیں حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جرعہ کے دن آیا وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا میں نے کہا آج یہاں ضرور خون بہایا جائے گا اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم!میں نے کہا ہاں کیوں نہیں اللہ کی قسم!اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم!بےشک یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھ سے بیان کی ہے،میں نے کہا آج کے دن تو میرا برا ہمنشیں ہے تو مجھ سے اپنی مخالفت سننا چاہتا ہے حالانکہ تو نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پس تو مجھےمنع نہیں کرتا؟پھر میں نے کہا یہ غصہ کیسا ہے میں اس کی طرف بڑھا اور اس سے سوال کیا تو وہ شخص حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ(نہر)فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے اس پر لوگ باہم لڑیں گے پس ایک سو میں سے نناوے آدمی قتل ہوں گے اور ان میں سے ہر شخص کہے گا شاید میں ہی نجات پانے والا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۸)
ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت سہیل فرماتے ہیں میرے والد نے فرمایا اگر تم اس(پہاڑ)کو دیکھو تو اس کے قریب نہ جانا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ(نہر)فرات سونے کا خزانہ ظاہر کردے جو وہاں حاضر ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے پس جو وہاں حاضر ہو اس میں سے کچھ نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۱)
حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انہوں نے فرمایا ہمیشہ دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں(یعنی خود لوگ یا ان کے سردار یا جماعتیں)مختلف رہیں گے۔میں نے کہا ہاں،انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قریب ہے کہ فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے جو لوگ وہاں ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اس سے لے لیں تو وہ سب کچھ لے جائیں گے آپ نے فرمایا پس وہ لوگ اس پر لڑیں گے اور ہر ایک سو میں سے نناوے آدمی قتل ہوں گے ابو کامل کی روایت میں یہ اضافہ ہے انہوں نے کہا میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں حسان کے قلع کے ساے میں کھڑے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عراق اپنے درہم اور قفیز(غلہ ناپنے کا پیمانہ)سے روک دے گا شام اپنے مد اور دینار سے روک دے گا(مد اہل شام کا پیمانہ ہے)اور مصر اپنے اردب(مصر کا پیمانہ)اور اپنے دینار سے روک دے گا اور تم پہلی حالت کی طرف لوٹ آؤ گے(یعنی اسلام پھر اجنبی ہو جائے گا)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس پر ابوہریرہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے اور ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت میں سے تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکن یہ خبر باطل ہوگی۔ جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے پھر وہ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي فَتْحِ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَنُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؛جلد٤ص۲۲۲۱؛حدیث نمبر؛۷۱۵٤)
حضرت مستورد القرشی نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے"قیامت ہوگی اس حال میں کہ رومی دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں گے" حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیکھو کیا کہ رہے ہو؟انہوں نے کہا میں وہی بات کہتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے انہوں نے فرمایا اگر تم نے یہ کہی تو ان لوگوں میں چار عادات ہیں۔ وہ فتنہ کے وقت لوگوں میں سے زیادہ برد بار ہوتے ہیں۔ مصیبت کے وقت جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ بھاگنے کے بعد قریب ہی واپس لوٹتے ہیں۔ اور وہ مسکین یتیم اور ضعیف کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہیں۔ اور پانچویں خوبی نہایت عمدہ ہے اور وہ سب لوگوں سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ؛جلد٤ص۲۲۲٢؛حدیث نمبر؛۷۱۵۵)
حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیام قیامت کے وقت رومی سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔راوی فرماتے ہیں جب یہ بات حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا یہ کس قسم کی باتیں ہیں جو آپ کی طرف سے ذکر کی جاتی ہیں کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں؟ حضرت مستورد رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں وہی بات کہتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے تو وہ لوگ فتنہ کے وقت سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں مصیبت کے وقت سب سے زیادہ برداشت کرنے والے اور مساکین اور ضعیف لوگوں کے لئے سب لوگوں سے بہتر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ؛جلد٤ص۲۲۲۲؛حدیث نمبر؛۷۱۵٦)
حضرت یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ایک آدمی آیا جس کا تکیہ کلام یہ تھا۔ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور کہا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوجائیں گے میں نے کہا آپ کی مراد رومی ہیں انہوں نے کہا ہاں اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پھر وہ خوب جہاد کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہوجائے گا پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہوجائے گا۔ پھر(اگلے دن)مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر(اگلے دن)مسلمان ایک اور لشکر روانہ کریں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کئے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے لیکن کوئی بھی غالب نہ ہوگا اور وہ لشکر ہلاک وفنا ہوجائے گا۔ پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے یہاں تک کہ مردہ ہو کر گرپڑیں گے۔ ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے پھر دس سواروں کا ہر اول دستہ روانہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان کے نام اور آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اسیر بن جابر سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٣؛حدیث نمبر؛۷۱۵۷)
یسیر بن جابر فرماتے ہیں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ سرخ ہوا چلی.....اس کے بعد حسب سابق ہے ابن علیہ کی حدیث(گزشتہ حدیث)سے زیادہ مکمل اور جامع ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٤؛حدیث نمبر؛۷۱۵۸)
حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور مکان بھرا ہوا تھا فرمایا پس کوفہ میں سرخ آندھی چلی....اس کے بعد حضرت ابن علیہ کی روایت کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٤؛حدیث نمبر؛۷۱۵۹)
حضرت نافع بن عتبہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم مغرب کی جانب سے آئی ان پر اونی لباس تھا انہوں نے ٹیلے کے پاس آپ سے ملاقات کی وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ (حضرت نافع)فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ میں جاکر ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہو جاؤں کہیں وہ آپ کو بے خبری میں شہید نہ کردیں فرماتے ہیں پھر میں نے سوچا شاید آپ ان سے گفتگو کر رہے ہوں پس میں آیا اور ان لوگوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہوگیا فرماتے ہیں میں نے آپ سے چار کلمات یاد کئے جن کو میں اپنے ہاتھ پر شمار کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم جزیرہ عرب میں جہاد کرو گے پس اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا پھر روم(والوں)سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا پھر تم دجال سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نافع نے کہا اے جابر!ہم خیال نہیں کرتے کہ دجال روم کی فتح سے پہلے ظاہر ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا يَكُونُ مِنْ فُتُوحَاتِ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲۵؛حدیث نمبر؛۷۱٦٠)
حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک ہماری طرف جھانکا اور ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے آپ نے فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پس آپنے دھوئیں،دجال،جانور اور مغرب سے سورج کے طلوع ہونے،حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے اترنے،یاجوج اور ماجوج،تین بار زمین میں دھنسنے یعنی ایک بار مشرق میں دھنسنے ایک بار مغرب میں دھنسنے اور ایک بار جزیرہ عرب میں دھنسنے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف دھکیل دے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲٥؛حدیث نمبر؛۷۱٦١)
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانہ میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے کہ آپ نے ہماری طرف جھانکا اور فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں قیامت قائم نہیں ہوگی۔ ایک خسف(دھنسنا)مشرق میں،ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرہ عرب میں ہوگا،دھواں،دجال،دابۃ الأرض(زمین کا جانور)یاجوج اور ماجوج،مغرب سے طلوع آفتاب اور عدن کے کنویں سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو(میدان محشر کی طرف)ہانک کر لے جائے گی۔ حضرت شعبہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سریحہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کرتے اور فرماتے ہیں ان دونوں میں سے ایک راوی نے دسویں بات عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول ذکر کیا اور دوسرے نے کہا ہوا ہوگی جو لوگوں کو سمندر میں ڈال گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲٦؛حدیث نمبر؛۷۱٦۲)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو سریحہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تھے اور ہم لوگ آپ سے نیچے تھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے پھر اس کی مثل حدیث روایت کی۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا جہاں یہ لوگ جائیں گے آگ وہیں جائے گی اور جہاں یہ قیلولہ کریں گے آگ وہی رہے گی۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ حدیث ایک شخص نے حضرت ابو طفیل سے روایت کرتے ہوئے بیان کی وہ حضرت ابو سریحہ سے روایت کرتے ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نقل نہیں کرتے ان دو مردوں میں سے ایک نے حضرت عیسٰی بن مریم کا نزول ذکر کیا اور دوسرے نے کہا ایک ہوا ہوگی جو ان کو سمندر میں ڈال دے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦۳)
ایک اور سند سے حضرت ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے فرماتے ہیں ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ حضور علیہ السلام نے ہماری طرف جھانکا اس کے بعد حضرت معاذ اور حضرت ابن جعفر کی(گزشتہ)روایت کی طرح ہے۔ ابن مثنی اپنی سند سے حضرت ابو سریحہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دسویں نشانی حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام کا نزول ہے،حضرت شعبہ فرماتے ہیں حضرت عبد العزیز نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦٤)
دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ سرزمین حجاز سے آگ نکلے گی جس سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(قیامت کے قریب)(مدینہ طیبہ کی)آبادی اہاب یا(فرمایا)یہاب(مقام)تک پہنچ جائے گی۔حضرت زہیر فرماتے ہیں میں نے حضرت سہیل سے پوچھا یہ مدینہ سے کتنے فاصلہ پر ہے انہوں نے فرمایا اتنے اتنے میل کے فاصلے پر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط اس طرح نہیں ہوگا کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ بارش ہوگی خوب بارش ہوگی لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگاے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۷)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس حال میں کہ آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا آپ نے فرمایا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا،سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۸)
ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے اور اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا فتنہ ادھر سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا آپ نے یہ بات دو یا تین بار فرمائی۔ حضرت عبید اللہ بن سعید اپنی روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۹)
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد(حضرت عبد اللہ بن عمر)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس وقت آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا سنو!فتنہ یہاں سے ہوگا سنو!فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۰)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کفر کی چوٹی اس طرف سے(ظاہر)ہوگی جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا یعنی مشرق سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۱)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا تین بار فرمایا(پھر فرمایا)جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۲)
حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اہل عراق!میں تم سے چھوٹے سے گناہ(پسو کے قتل)کے بارے میں کس چیز نے سوال کیا؟(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عالی مقام اور بڑے بڑے تابعین کو شہید کرنے)پر کس نے تمہیں برانگیختہ کیا۔میں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا فتنہ ادھر سے آے گا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا اور تم لوگ ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس فرعونی کو قتل کیا تھا وہ خطأ کے طور پر قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا: اور آپ نے ایک نفس کو قتل کیا اور ہم نے آپ کو غم سے نجات دی اور آپ کو آزمائش میں ڈالا۔(سورہ طہ:آیت:٤٠/سورہ أعراف:آیت ١٣٠) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک(قبیلہ)دوس کی عورتوں کے پچھلے حصے ذی الخلصہ(بت)کے گرد حرکت نہ کریں(یعنی وہ اس کا طواف کرے گی تو ان کے چوتڑے حرکت کرے گی)اور یہ ایک بت تھا قبیلہ دوس تبالہ(یمن میں ایک مقام)میں اس کی پوجا کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۰؛حدیث نمبر؛۷۱۷٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے رات اور دن نہیں گزریں گے حتیٰ کہ لات اور عزی(بتوں)کی پوجا کی جائے گی۔ (ام المومنین فرماتی ہیں)میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: "وہی(اللہ)ہے جس نے اپنے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کو ہدایت اور حق سے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس(دین)کو تمام دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات پسند نہ ہو۔" تو میرا خیال تھا کہ یہ بات(بت پرستی)ختم ہوگئی آپ نے فرمایا عنقریب اس میں سے جس قدر اللہ چاہے گا،ہوگا پھر اللہ تعالیٰ ایک اچھی ہوا بھیجے گا تو جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کا انتقال ہوجائے گا اور وہ لوگ رہ جائیں گے جن میں کوئی بھلائی نہیں پس وہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۰؛حدیث نمبر؛۷۱۷۵)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧١٧٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص کسی شخص کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۷)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص کسی قبر سے گزرتے ہوئے لوٹ پوٹ اس پر ہوگا اور کہے گا کاش!اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا اور اس وقت دین ایک آزمائش ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے قتل کیوں کیا اور نہ مقتول کو علم ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۹)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ لوگوں پر ایسا دن(زمانہ)آے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے عرض کیا گیا یارسول اللہ!ایسا کس طرح ہوگا؟فرمایا قتل(زیادہ ہوگا قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔(کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ارادہ کریں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حبشہ کا ذو السویقتین(دو پتلی پنڈلیوں والا)خانہ کعبہ کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۱)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حبشہ کا پتلی پنڈلیوں والا خانہ کعبہ کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی اللہ عزوجل کے گھر کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص قحطان سے نکلے گا اور اپنی لاٹھی کے ساتھ لوگوں کو ہانکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا دن اور رات نہیں گزریں گے حتیٰ کہ ایک شخص کی بادشاہی ہوگی جس کو جہجاہ کہا جائے گا۔ امام مسلم فرماتے ہیں عبد المجيد راوی کے چار بیٹے روایت کرتے ہیں وہ چار بھائی شریک،عبید اللہ،عمیر اور عبد الکبیر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایک قوم سے لڑو گے جس کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم سے ایک قوم لڑے گی جو بالوں والے جوتے پہنیں گے ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور ناک چپٹی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مسلمان ترکوں سے لڑیں گےوہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے۔وہ بالوں(کا لباس)پہنیں گے اور بالوں میں چلیں گے(جوتے بالوں کے ہوں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے سرخ چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹۰)
حضرت ابونضرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا عنقریب اہل عراق کی طرف(خراج)میں نہ کوئی قفیز آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم ہم نے کہا وہ کہاں سے نہ آئے گا؟کہا،عجم کی طرف سے وہ اسے روک لیں گے پھر کہا عنقریب اہل شام کی طرف سے ان کی طرف نہ کوئی دینار آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم،ہم نے کہا کہاں سے نہ آئے گا؟کہا روم کی طرف سے پھر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگئے پھر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو بغیر شمار کئے لپ بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کرے گا راوی کہتا ہے کہ میں نے نضرہ اور ابوالعلاء سے کہا کیا تم خیال کرتے ہو کہ وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں تو ان دونوں نے کہا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹۱)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر۷۱۹۰ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹٢)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے خلفاء میں سے ایک خلیفہ ہوگا جو کہ بغیر شمار کئے لپ بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٣)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوں گے جو بغیر شمار کئے مال تقسیم کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٤)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹۵)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی جو مجھ سے بہتر افضل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے جب وہ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا اے ابن سمیہ!تجھ پر کیسی آفت آئے گی جب تجھے ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٦)
کئی سندوں کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ایک سند میں ہے کہ مجھے مجھ سے بہتر آدمی ابوقتادہ نے خبر دی خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ میں اسے ابوقتادہ خیال کرتا ہوں اور خالد کی حدیث میں ہے آپ نے فرمایا( وَيْسَ یا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹۷)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار سے فرمایا تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۱۹۸)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۱۹۹)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار سے فرمایا تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کرے گا صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا کاش لوگ ان سے جدا اور علیحدہ رہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰١)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ۷۲۰۱ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسری مرگیا اور اس کسری کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۳)
مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کا معنیٰ مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسری ہلاک ہوگیا اور اس کے بعد پھر کوئی کسری نہ ہوگا اور قیصر بھی ضرور ہلاک ہوجائے گا اور تم ضرور بالضرور ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں تقسیم کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۵)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا باقی حدیث بالکل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مسلمان یا مومنین کی ایک جماعت ضروربالضرور آل کسری کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے اور قتبیہ نے بغیر شک کے مسلمانوں کی جماعت کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۷)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا باقی ابوعوانہ کی حدیث کی طرح روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے ایک شہر کا سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری طرف سمندر میں ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں!اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ بنو اسحاق میں سے ستر ہزار آدمی جنگ نہ کرلیں جب وہ وہاں آئیں گے تو اتریں گے وہ نہ ہتھیاروں سے جنگ کریں گے اور نہ تیر اندازی کریں گے وہ کہیں گے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ تو اس سے اس شہر کی ایک طرف گرجائے گی۔ ثور(راوی)نے کہا میں سمندر کی طرف کے علاوہ کوئی دوسری طرف نہیں جانتا پھر وہ دوسری مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہیں گے تو ان کی لئے کشادگی کردی جائے گی اور وہ اس میں داخل ہوجائیں گے اور مال غنیمت لوٹ لیں گے پس اسی دوران کہ وہ مال غنیمت آپس میں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ انہیں ایک چیخ سنائی دے گی جو کہہ رہا ہوگا کہ دجال نکل چکا ہے تو وہ ہر چیز چھوڑ کر لوٹ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۰۹)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٧٢٠٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہودیوں سے لڑو گے تو انہیں قتل کردو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان ادھر آ یہ یہودی ہے اسے قتل کر دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱١)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ پتھر کہے گا یہ میرے پیچھے یہودی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اور یہودی باہم جنگ کرو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے ادھر آؤ اور اسے قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی تم سے لڑیں گے پس تم ان پر غالب ہو جاؤ گے حتیٰ کہ پتھر کہے گا اے مسلمان!یہ میرے پیچھے یہودی ہے آؤ اور اس کو قتل کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مسلمان،یہودیوں سے لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر اور درخت کہے گا اے اللہ کے بندے!یہ میرے پیچھے یہودی ہے پس آکر اس کو قتل کرو۔البتہ غرقد درخت یہ نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (یہ کانٹے دار درخت ہے جو بیت المقدس کے علاقہ میں ہوتا ہے اور اسی مقام پر دجال اور یہودیوں کا قتل ہوگا) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت سے پہلے کچھ جھوٹے لوگ ہوں گے۔ ابو الاحوص کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ سماک کہتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٦)
ایک اور سند سے حدیث نمبر ۷۲۱٦کے مثل مروی ہے سماک کہتے ہیں میں نے اپنے بھائی سے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے پس ان سے بچو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال بھینگے پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول خیال کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱۸)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ۷۲۱۸ کے مثل روایت مروی ہے البتہ اس میں ینبعث کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲۱۹)
حضرت عبداللہ(بن مسعود رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چند بچوں کے پاس سے گزرے ان میں ابن صیاد بھی تھا پس بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا تو گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوکیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا نہیں بلکہ کیا آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) گواہی دیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ وہی ہے جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے تو تم اسے قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲٢٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں نے تیرے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے؟اس نے کہا(لفظ)"دخ"ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہوجا اور تو اپنی حدسے تجاوز نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پس اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خدشہ ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲۲١)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر۔تم کیا دیکھ رہے ہو؟ اس نے کہا میں نے پانی پر تخت دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھا ہے اور کیا دیکھا اس نے کہا میں نے دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے اس لئے اسے چھوڑ دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابن صیاد سے ملاقات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی تھے اور ابن صیاد کے ساتھ لڑکے تھے باقی حدیث جریری کی حدیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٣)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ میں ابن صائد کے ساتھ رہا تو اس نے مجھے کہا میں جن لوگوں سے ملا ہوں وہ گمان کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا آپ فرماتے ہیں کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا حالانکہ میری تو اولاد ہے پھر اس نے کہا کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا میں تو مدینہ میں پیدا ہوچکا ہوں اور یہ کہ میں اب مکہ کا ارادہ کرتا ہوں پھر اس نے اپنی آخری بات میں مجھے کہا اللہ کی قسم میں دجال کے پیدا ہونے اور اس کے رہنے اور اس کے رہنے کی جگہ کو اور اس وقت وہ کہاں ہے جانتا ہوں اس اخیری کلام نے معاملہ کو مجھ پر مشتبہ کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٤)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صائد نے مجھ سے بات کہی جس سے مجھے شرم آئی کہنے لگا کہ لوگوں کو تو میں نے معذور جانا اور تمہیں میرے بارے میں اصحاب محمد کیا ہوگیا؟کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال یہودی ہوگا حالانکہ میں اسلام لا چکا ہوں اور کہنے لگا کہ اور اس کی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میری تو اولاد بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اس پر مکہ کو حرام کردیا ہے میں تحقیق کہ حج کرچکا ہوں اور وہ مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا قریب تھا کہ میں اس کی باتوں میں آجاتا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اس وقت(دَجَّال)کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور والدہ کو بھی جانتا ہوں اور اس سے کہا گیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی(دَجَّال)ہو اس نے کہا اگر یہ بات مجھ پر پیش کی گئی تو میں اسے ناپسند نہ کروں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٥)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے چلے اور ابن صائد ہمارے ساتھ تھا ہم ایک جگہ اترے تو لوگ منتشر ہوگئے میں اور وہ باقی رہ گئے اور مجھے اس سے سخت وحشت و خوف آیا جو اس کے بارے میں کہا جاتا تھا اور اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا گرمی سخت ہے اگر تو اپنا سامان درخت کے نیچے رکھ دے(تو بہتر ہے)پس اس نے ایسا ہی کیا پھر ہمیں کچھ بکریاں نظر پڑیں وہ گیا اور ایک(دودھ کا)بھرا ہوا پیالہ لے آیا اور کہنے لگا اے ابوسعید پیو میں نے کہا گرمی بہت سخت ہے اور دودھ بھی گرم ہے اور دودھ کے ناپسند کرنے کے سوائے اس کے ہاتھ سے بچنے کی اور کوئی بات نہ تھی یا کہا اس کے ہاتھ سے لینا ہی ناپسند تھا تو اس نے کہا اے ابوسعید میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت کے ساتھ لٹکاؤں پھر اپنا گلا گھونٹ لوں اس وجہ سے جو میرے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں اے ابوسعید جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مخفی ہے(ان کی تو الگ بات ہے) اے انصار کی جماعت!تجھ پر تو پوشیدہ نہیں ہے کیا تو لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ کی حدیث کو جاننے والا نہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا وہ بانجھ ہوگا کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میں اپنی اولاد مدینہ میں چھوڑ کر آیا ہوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہ ہوگا حالانکہ میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ ہے حضرت ابوسعید خدری نے کہا قریب تھا کہ میں اس کے عذر قبول کرلیتا پھر اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے پہچانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش سے بھی واقف ہوں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے میں نے اس سے کہا تیرے لئے سارے دن کی ہلاکت و بربادی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۲؛حدیث نمبر؛۷۲۲٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا جنت کی مٹی کیسی ہوگی اس نے کہا اے ابوالقاسم!سفید باریک مشک کی طرح ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۷)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالص سفید باریک مشک۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۸)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے دیکھا کہ ابن صائد دجال ہے تو میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سنا وہ اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم اٹھا رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۹)
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ"دخ"ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے قد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ حضرت سالم بن عبداللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف!(یہ ابن صیاد کا نام ہے)یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کردیتا۔ حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی(علیہم السلام)نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے تحقیق کہ نوح بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرا چکے ہیں لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان لو کہ وہ(دجال)بیشک کانا ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی کانے پن سے پاک ہے۔ ابن شہاب نے کہا مجھے عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ آپ نے دجال سے ڈراتے ہوئے اس دن فرمایا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جسے وہی پڑھ سکے گا جو اس کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا یا ہر مومن اسے پڑھ سکے گا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنے رب العزت کو مرنے تک ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٤؛حدیث نمبر؛۷۲۳۰)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے یہاں تک کہ آپ نے ابن صیاد کو دیکھاجو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا"کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہوجاتا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۵؛حدیث نمبر؛۷۲۳۱)
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳۲)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی تو ابن عمر نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصۃ دلانے والی تھی پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی تو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے تو نے ابن صائد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳۳)
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ابن صیاد سے دو مرتبہ ملاقات کی میں اس سے ملا تو میں نے بعض لوگوں سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو کہ وہ وہی(دجال)ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا تم نے مجھے جھوٹا کردیا اللہ کی قسم تم میں سے بعض نے مجھے خبر دی کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہوجائے گا پس وہ ان دنوں لوگوں کے گمان میں ایسا ہی ہے۔پھر ابن صیاد ہم سے باتیں کر کے جدا ہوگیا پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا تو اس کی آنکھ پھول چکی تھی تو میں نے اس سے کہا میں تیری آنکھ جو اس طرح دیکھ رہا ہوں یہ کب سے ہوئی ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا میں نے کہا تو جانتا ہی نہیں حالانکہ یہ تو تیرے سر میں موجود ہے اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیری لاٹھی میں اسے پیدا کر دے گا پھر اس نے گدھے کی طرح زور سے آواز نکالی اس سے زیادہ سخت آواز میں نے نہیں سنی تھی اور میرے بعض ساتھیوں نے اندازہ لگایا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی ہے حالانکہ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم تک نہ تھا یہاں تک کہ ام المومنین کے پاس حاضر ہوا تو انہیں یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا تیرا اس سے کیا کام تھا کیا تو جانتا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے پاس دجال کو بھیجنے والی سب سے پہلے وہ غصہ ہوگا جو اسے کسی پر آئے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کانا نہیں اور مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤٧؛حدیث نمبر؛۷۲۳۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی نے اپنی امت کو کانے کذاب سے خبر دار کیا ہے سنو!وہ بےشک کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں اور اس کی آنکھوں کے درمیان"ک"ف"ر"لکھا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی آنکھوں کے درمیان"ک"ف"ر"لکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی ایک آنکھ کانی ہوگی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا پھر آپ نے اس کے ہجے کئے"ک" ف"ر" جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۹)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کے بال گھنے ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی پس اس کی دوزخ(حقیقت میں)جنت اور اس کی جنت(حقیقت میں)دوزخ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲٤٠)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی پس اگر کوئی آدمی اس کو پالے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے پھر اس سے پئے بیشک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور بیشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پھلی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ہر لکھنے والا اور جاہل مومن اسے پڑھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۹؛حدیث نمبر؛۷۲٤۱)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی پس تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرنا۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۹؛حدیث نمبر؛۷۲٤۲)
حضرت عقبہ بن عمرو ابی مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں حضرت عقبہ بن عمرو بن ابی مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ حذیفہ بن یمان کی طرف گئے تو عقبہ نے ان سے کہا مجھ سے وہ حدیث روایت کریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی کہا بیشک دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہ نے حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤۳)
حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا؟بیشک اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی اور ایک نہر آگ کی ہوگی پس جسے تم آگ تصور کرو گے وہ پانی ہوگا اور جسے تم پانی تصور کرو گے وہ آگ ہوگی پس تم میں سے جو اسے پالے اور پانی کا ارادہ کرے تو چاہے کہ وہ اسی سے پیے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ اسے پانی ہی پائے گا ابومسعود نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں دی بیشک وہ کانا ہوگا اور وہ جنت اور دوزخ کی مثل لے کر آئے گا پس جسے وہ جنت کہے گا وہ جہنم ہوگا اور میں تمہیں اس سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت نواس بن سمعان سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کم(یعنی گھٹایا)اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کم اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں۔ اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میری طرف سے کفایت کرنے والا ہے بیشک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بیشک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوں گیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور جب شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کوکھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کردیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہوجائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا۔ پھر وہ ایک بنجر زمین کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گےجیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں،پھر وہ ایک بھر پور جوانی والے آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ایک تیر کی مسافت پر رکھ دے گا،پھر وہ اس(مردہ)کو آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔دجال کے اسی افعال کے دوران اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا،وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے پسینے کے قطرے گریں گے اور جب اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا وہ مرے بغیر رہ نہ سکے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔پس حضرت مسیح(علیہ السلام)(دجال کو)طلب کریں گے،اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا،پس عیسیٰ(علیہ السلام)ان کے چہرے پر دست شفقت پھیریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ اسی دوران حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائے گا کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے،ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا اور اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھ محصور ہوجائیں گے،یہاں تک کہ ان میں کسی ایک کے لئے بیل کی سری بھی تم میں سے کسی ایک کے لئے آج کل کے سو دینار سے افضل و بہتر ہوگی۔پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا،وہ ایک جان کی موت کی طرح سب کے سب مرجائیں گے،پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت کی جگہ بھی یاجوج ماجوج کی علامات اور بدبو سے انہیں خالی نہ ملے گی۔پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کرلے جائیں گے اور جہاں اللہ چاہے وہ انہیں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا جس سے ہر مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا بالوں کا آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا۔ پھرزمین مثل باغ یا حوض کے دھل جائے گی۔پھر زمین سے کہا جائے گااپنے پھل کو اگا دے اور اپنی برکت کو لوٹا دے،پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی کہ ایک انار کو ایک پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے میں سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی گائے قبیلہ کے لوگوں کے لئے کافی ہوجائے گی اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی بکری پورے گھرانے کے لئے کفایت کرجائے گی،اسی دوران اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے تک پہنچ جائے گی،پھر ہر مسلمان اور ہر مومن کی روح قبض کرلی جائے گی اور برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے،جو گدھوں کی طرح کھلے بندوں جماع کریں گے،پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰سے۲۲۵۵تک؛حدیث نمبر؛۷۲٤٦)
حضرت عبد الرحمن بن یزید بن جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں اس جملہ"یہاں ایک مرتبہ پانی تھا"کے بعد یوں ہے کہ پھر وہ چلیں گے حتیٰ کہ خمر کے پہاڑ کے پاس پہنچیں گے اور یہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے وہ کہیں گے ہم نے زمین والوں کو قتل کردیا آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے تیر ان کی طرف خون آلود لوٹاے گا۔ ابن حجر کی روایت میں یہ اضافہ ہے"میں نے ایسے بندوں کو نازل کیا جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہی"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۵؛حدیث نمبر؛۷۲٤۷)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں ہم سے ایک طویل حدیث بیان کی اس میں آپ نے فرمایا دجال نکلے گا اور مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا وہ مدینہ طیبہ کے قریب بعض بنجر زمینوں میں چلا جائے گا اس دن اس کے پاس ایک ایسا شخص آئے گا جو سب لوگوں سے بہتر ہوگا وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی وہ کہے گا یہ بتاؤ اگر میں اس شخص کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کروں تو تم میرے معاملے میں شک کرو گے؟وہ کہیں گے نہیں راوی کہتے ہیں پھر وہ اس کو قتل کر کے پھر زندہ کردے گا جب وہ شخص زندہ ہوجائے گا تو کہے گا اللہ کی قسم!مجھے تیرے بارے میں جو بصیرت اب حاصل ہوئی ہے وہ پہلے نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں پھر دجال اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس پر قابو نہ پاسکے گا۔ابو اسحاق کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ شخص حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲٤۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲٤۹)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال نکلے گا تو مومنین میں ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوگا تو اس سے دجال کے پہرہ دار ملیں گے وہ اس سے کہیں گے کہاں کا ارادہ ہے وہ کہے گا میں اس کی طرف کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا خروج ہوا ہے۔ وہ اس سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے وہ کہے گا ہمارے رب میں تو کوئی پوشیدگی نہیں ہے تو وہ کہیں گے اسے قتل کردو پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے منع نہیں کیا کہ تم اس کے علاوہ کسی کو قتل نہ کرنا پس وہ اس کو دجال کی طرف لے جائیں گے جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ دجال ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا پھر دجال اس کا سر پھاڑ نے کا حکم دے گا تو کہے گا اسے پکڑ لو اور اس کا سر پھاڑ ڈالو پھر اس کی کمر اور پیٹ پر سخت ضرب لگوائے گا پھر دجال اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا تو مسیح الکذاب ہے پھر دجال اسے آرے کے ساتھ چیرنے کا حکم دے گا اور اس کی مانگ سے شروع کر کے اس کے دونوں پاؤں تک کو آرے سے چیر کر جدا کردیا جائے گا پھر دجال اس کے جسم کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر کہے گا کھڑا ہوجا تو وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہوجائے گا پھر اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا میں تیرے بارے میں یقین حاصل کرنا چاہتا تھا پھر وہ کہے گا اے لوگو یہ دجال میرے بعد کسی بھی اور آدمی سے ایسا نہ کرسکے گا۔پھر دجال اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان کی جگہ تانبے کی ہوجائے گی اور اسے ذبح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملے گا پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر پھینک دے گا تو وہ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈال دیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲۵۰)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا آپ نے فرمایا تم اس کے بارے میں کیوں فکر کرتے ہو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ طعام اور دریا ہوں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۷؛حدیث نمبر؛۷۲۵۱)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر کسی نے نہیں پوچھا راوی نے کہا آپ نے کیا پوچھا تھا؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے عرض کیا تھا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اس سے زیادہ ذلیل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں ذکر کی ہیں برید کی سند میں یہ اضافہ ہے"اے میرے بیٹے"- (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵٣)
حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسی ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھاعنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں(یعنی ان کے مشابہ ہوں گے)تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا حتی کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بےعقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش و عشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھالےگا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بےہوش ہوجائے گا اور دوسرے لوگ بھی بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا گویا وہ شبنم ہے یا سایہ جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛ بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵٤)
حضرت عروہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو عبداللہ بن عمرو سے کہتے ہوئے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں علامات پر قائم ہوگی تو انہوں نے کہا میں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم سے کوئی بھی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو صرف یہی کہا تھا کہ تم تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے گویا کہ گھر جل گیا حضرت شعبہ نے اسی طرح یا اس کی مثل روایت کی عبداللہ بن عمرو نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں نکلے گا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر کے ہی چھوڑے گی محمد بن جعفر نے کہا شعبہ نے یہ حدیث مجھے بار بار بیان کی اور میں نے بھی ان کے سامنے یہ حدیث پیش کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۵)
حضررت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث یاد کی جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قیامت کی ابتدائی علامت میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہو دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵٦)
حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس مدینہ میں مسلمانوں میں سے تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے پس انہوں نے مروان سے سنا اور وہ علامات قیامت کے بارے میں روایات بیان کر رہا تھا بیشک ان میں سب سے پہلی علامت خروج دجال ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا مروان نے کچھ بھی نہیں کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث یاد کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے باقی حدیث حسب سابق کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۷)
حضرت ابوزرعہ کہتے ہیں لوگوں نے مروان کے سامنے قیامت کا تذکرہ کیا حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا....پھر انہوں نے حسب سابق حدیث بیان کی البتہ انہوں نے اس میں چاشت کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۸)
حضرت عامر بن شراحیل شعبی سے روایت ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس،ضحاک بن قیس کی بہن سے پوچھا اور وہ ابتدائی ہجرت کرنے والیوں میں سے تھی کہ مجھے ایسی حدیث روایت کرو جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو اور اس میں کسی اور کا واسطہ بیان نہ کرنا۔ حضرت فاطمہ نے کہا اگر تم چاہتے ہو تو میں ایسی حدیث روایت کرتی ہوں انہوں نے حضرت فاطمہ سے کہا ہاں ایسی حدیث مجھے بیان کرو تو انہوں نے کہا میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ ان دنوں قریش کے عمدہ نوجوان میں سے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلے جہاد میں زخمی ہوئے تھے(فرماتی ہیں)جب میں خاوند کے بغیر رہ گئی(امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ بیوہ ہوگئی بلکہ طلاق کی وجہ سے خاوند کے بغیر رہ گئیں۔١٢ہزاروی)تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اصحاب رسول کے ساتھ میرے ہمراہ تشریف لائے اور مجھے پیغام نکاح دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید کے لئے پیغام نکاح دیا اور میں یہ حدیث سن چکی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسامہ سے محبت کرے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے(اس معاملہ میں)گفتگو کی تو میں نے عرض کیا میرا معاملہ آپ کے سپرد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے چاہیں میرا نکاح کردیں۔ آپ نے فرمایا ام شریک کے ہاں منتقل ہوجاؤ اور ام شریک انصار میں سے غنی عورت تھیں اور اللہ کے راستہ میں بہت خرچ کرنے والی تھیں اس کے ہاں مہمان آتے رہتے تھے تو میں نے عرض کیا میں عنقریب ایسا کروں گی تو آپ نے فرمایا تو ایسا نہ کر کیونکہ ام شریک ایسی عورت ہیں جن کے پاس مہمان کثرت سے آتے رہتے ہیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تجھ سے تیرا دو پٹہ گرجائے یا تیری پنڈلی سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرا وہ بعض حصہ دیکھ لےجسے تو ناپسند کرتی ہو بلکہ تو اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا اور وہ قریش کے خاندان بن فہر سے تعلق رکھتے ہیں(اور وہ اسی خاندان سے تھے جس سے فاطمہ بنت قیس تھیں)میں ان کے پاس منتقل ہوگئی جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نداء دینے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا نماز کی جاعت ہونے والی ہے پس میں مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی اس حال میں کہ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کی پشتوں سے ملی ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کرلی تو مسکراتے ہوئے منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا ہر آدمی اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھا رہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی آدمی تھے پس وہ آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے اور مجھے ایک بات بتائی جو اس خبر کے موافق ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں پہلے ہی بتاچکا ہوں۔ تمیم داری نے مجھے خبر دی کہ وہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے پس انہیں ایک ماہ تک بحری موجیں دھکیلتی رہیں پھر وہ سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف پہچنے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ وہ نہ پہچان سکے تو انہوں نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا اے قوم اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے۔ جب اس نے ہمارا نام لیا تو ہم گھبرا گئے کہ وہ کہیں جن ہی نہ ہو پس ہم جلدی جلدی چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے وہاں ایک بہت بڑا انسان تھا کہ اس سے پہلے ہم نے اتنا بڑا آدمی اتنی سختی کے ساتھ بندھا ہوا کہیں نہ دیکھا تھا اس کے دونوں ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے؟اس نے کہا تم میری خبر معلوم کرنے پر قادر ہو ہی گئے ہو تو تم ہی بتاؤ کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے پس جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پس موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں پھر ہمیں تمہارے اس جزیرہ تک پہنچا دیا پس ہم چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوئے اور جزیرہ کے اندر داخل ہوگئے تو ہمیں بہت موٹے اور گھنے بالوں والا جانور ملا جس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ پہچانا نہ جاتا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا میں جساسہ ہوں ہم نے کہا جساسہ کیا ہوتا ہے اس نے کہا گرجے میں اس آدمی کا قصد کرو کیونکہ وہ تمہاری خبر کا بہت شوق رکھتا ہے پس ہم تیری طرف جلدی سے چلے اور ہم گھبرائے اور اس (جانور)سے پر امن نہ تھے کہ وہ جن ہو اس نے کہا مجھے بیسان کے باغ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا میں اس کی کھجوروں کے پھل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ہم نے اس سے کہا ہاں پھل آتا ہے اس نے کہا عنقریب یہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ درخت پھل نہ دیں گے اس نے کہا مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس میں پانی ہے ہم نے کہا اس میں پانی کثرت کے ساتھ موجود ہے اس نے کہا عنقریب اس کا سارا پانی ختم ہوجائے گا اس نے کہا مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس چشمہ میں وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم نے کہا ہاں یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں پھر اس نے کہا مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں خبر دو کہ وہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے یثرب(مدینہ طیبہ)تشریف لائے ہیں اس نے کہا کیا عرب ان سے لڑتے ہیں؟ہم نے کہا ہاں لڑتے ہیں اس نے پوچھا وہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ تو ہم نے بتایا کہ وہ مقابلہ کرنے والوں پر غالب آتے ہیں اور وہ لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس نے کہا کیا ایسا ہوچکا ہے ہم نے کہا ہاں اس نے کہا ان کے حق میں یہ بات بہتر ہے کہ وہ اس کے تابعدار ہوجائیں اور میں تمہیں اپنے بارے میں خبر دیتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی پس میں نکلوں گا اور میں زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور مدینہ طبیہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کردیا جائے گا اور اس میں داخل ہونے سے مجھے روکا جائے گا اور اس کی ہر گھاٹی پر فرشتے پہرہ دار ہوں گے۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو منبر پر چبھویا اور فرمایا یہ طبیہ ہے یہ طبیہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ہے کیا میں نے تمہیں یہ باتیں پہلے ہی بیان نہ کردیں تھیں لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا بیشک مجھے تمیم کی اس خبر سے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اس حدیث کے موافق ہے جو میں نے تمہیں دجال اور مدینہ اور مکہ کے بارے میں بیان کی تھی آگاہ رہو دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے،نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کرلی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠سے۲۲٦٤تک؛حدیث نمبر؛۷۲۵۹)
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کا تحفہ دیا اور انہیں ابن طاب کی کھجوریں کہا جاتا تھا اور مجھے جوکا ستو پلایا تو میں نے ان سے مطلقہ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ اپنی عدت کہاں گزارے؟انہوں نے کہا میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے اہل میں عدت گزارنے کی اجازت دی۔ فرماتی ہیں پھر لوگوں میں ندا دی گئی کہ نماز کی جماعت کھڑی ہونے والی ہے تو میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اگلی صف میں تھی اور وہ مردوں کی آخری صف کے ساتھ تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمیم داری کے چچا زاد سمندر میں سوار ہوئے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے کہا گویا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی کو زمین کی طرف جھکا کر فرما رہے ہیں کہ یہ طیبہ یعنی مدینہ منورہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦٠)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت تمیم داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ سمندر میں سوار ہوئے اور ان کی کشتی راستہ سے ہٹ گئی تو اس نے انہیں ایک جزیرہ میں گرایا یہ اس جزیرے میں پانی تلاش کرنے کے لئے نکلے اور وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال کھینچ رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے کہا اگر مجھے نکلنے کی اجازت دیدی گئی تو میں مدینہ طیبہ کے علاوہ تمام شہروں کو روند ڈالوں گا پھر رسول اللہ حضرت تمیم داری کو لوگوں کی طرف لے گئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے یہ سارا واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا یہ طیبہ ہے اور وہ دجال ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۱)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوے اور آپ نے فرمایا اے لوگو!مجھ سے تمیم داری نے بیان کیا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ سمندر میں کشتی میں تھے تو وہ ٹوٹ گئی بعض ان میں سے بعض کشتیوں پر سوار ہوکر سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف جا نکلے....اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ ہر شہر میں جاے گا اور اس کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتے صف باندھے ہوئے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں وہ دلدل والی زمین میں اترے گا تو مدینہ طیبہ میں تین بار زلزلہ آے گا اور اس سے ہر کافر منافق نکل کر دجال کی طرف جاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ دجال اپناخیمہ جرف کی شور زمین میں جاکر لگاے گا اور فرمایا ہر منافق مرد اور عورت اس کی طرف نکلیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار یہودی سبز چادریں اوڑھے ہوئے دجال کے پیچھے جائیں گے(پیروی کریں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛ترجمہ؛دجال کے بارے میں بقیہ احادیث؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۵)
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ دجال سے پہاڑوں میں بھاگیں گے۔حضرت ام شریک نے کہا یارسول اللہ!اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟آپ نے فرمایا وہ بہت کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۷)
حضرت ابو الدھما،اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہما ایک گروہ میں تھے وہ کہتے تھے انہوں نے کہا تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مجھ سے زیادہ حاضر نہ ہوے اور آپ کی حدیث کو مجھ سے زیادہ نہیں جانتے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قیامت تک کے درمیان دجال سے بڑی کوئی مخلوق نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۸)
تین آدمی جن میں حضرت قتادہ بھی تھے فرماتے ہیں ہم ہشام بن عامر کے پاس سے گزرکر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جارہے تھے...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ دجال سے بڑا کوئی معاملہ(فتنہ)نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲٦۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ چیزوں(کے ظہور)سے پہلے اعمال میں جلدی کرو،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،دھواں،دجال،دابۃ(الأرض)تم میں سے کسی ایک کی موت یا سب کی موت(یعنی قیامت) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷۰)
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو،دجال،دھواں،دابۃالارض،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،عام موت یا تم میں سے کسی ایک کی موت۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷٢)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ کے زمانے میں عبادت کا اجر میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ؛ترجمہ؛فتنہ کے دور میں عبادت کی فضیلت؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت قائم ہوگی جب صرف برے لوگ رہ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۵)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو دو انگلیوں کی طرح(متصل)مبعوث کیا گیا ہے حضرت شعبہ فرماتے تھے میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے بڑی ہے راوی کہتےہیں مجھے معلوم نہیں یہ جملہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے یا از خود فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح(متصل) مبعوث کیا گیا حضرت شعبہ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملاکر اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۷۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٢٧٨کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٢٧٨کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۸۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا انہوں نے درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں اعراب(دیہاتی)جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کم عمر والے کی طرف دیکھ کر فرماتے اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے تمہاری قیامت(موت)اجاے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہوگی آپ کے پاس انصار کا ایک لڑکا بیٹھا تھا جس کا نام محمد تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو ہوسکتا اس کے بڑھاپے سے پہلے(تمہاری)قیامت(موت)آجاے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا قیامت کب قائم ہوگی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ازد شنؤئہ(قبیلے)کے ایک لڑکے کی طرف دیکھا اور فرمایا اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت ہوجائے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ لڑکا ان دنوں میرے ہم عمروں میں سے تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا(غلام)جو میرا ہم عمر تھا،گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو یہ ہر گز بوڑھا نہیں ہوگا حتیٰ کہ قیامت آجائے(ان لوگوں کی موت آجائے گی) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب قیامت قائم ہوگی تو کوئی شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا ابھی وہ اس برتن کے منہ تک نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور دو شخص باہم کپڑے کا سودا کر رہے ہوں گے اور ان کے سودا کرنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی اور کوئی شخص اپنا حوض درست کر رہا ہوگا تو اس کے ہٹنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔(یعنی موت) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ!چالیس دن؟انہوں نے فرمایا میں کچھ کہ نہیں سکتا انہوں نے فرمایا چالیس مہینے؟انہوں نے فرمایا میں کہ نہیں سکتا انہوں نے پوچھا چالیس سال؟فرمایا میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ (فرمایا)پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک ہڈی کے علاوہ انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی اور وہ دم کی ہڈی ہے اور قیامت کے دن اسی سے تخلیق ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی انسان کے تمام جسم کو کھا لے گی البتہ دم کی ہڈی کا سرا باقی رہے گا اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اس سے دوبارہ بنایا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۱؛حدیث نمبر؛۷۲۸۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی انسان کے تمام جسم کو کھالے گی البتہ دم کی ہڈی کا سرا باقی رہے گا اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اس سے دوبارہ بنایا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا انسان میں ایک ہڈی ہے جس کو زمین کبھی نہیں کھاتی قیامت کے دن اسی سے جسم کی ترکیب ہوگی صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کونسی ہڈی ہے؟فرمایا دم کی ہڈی کا سرا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۱؛حدیث نمبر؛۷۲۸۹)
Muslim Shareef : Kitabul Fitan
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْفِتَنِ وَأَشْرَاطُ السَّاعَةِ
|
•