asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Fitan

From 7111 to 7289

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوے تو آپ فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں عربوں کے لیے اس شر سے خرابی ہے جو(شر)قریب آچکی ہے آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس(کے ہند سے)کی گرہ بنائی۔ حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟آپ نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہوجائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛ترجمہ؛فتنوں اور قیامت کی علامت کا بیان؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛فتنوں کا قریب ہونا اور یاجوج ماجوج؛جلد٤ص۲۲۰۷؛حدیث نمبر؛۷۱۱۱)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ؛ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ "، وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً. قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7111

متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے مروی ہے وہ حضرت حبیبہ سے وہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش سے روایت کرتی ہیں۔(رضی اللہ عنہما) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۷؛حدیث نمبر؛۷۱۱۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ ، فَقَالُوا : عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7112

حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبراے ہوے تشریف لائے آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اہل عرب کے لئے اس شر سے خرابی ہے جو(شر)قریب آچکی ہے یاجوج اورماجوج کی دیوار سے اس کی مثل آج کھول دیا گیا ہے آپ نے انگوٹھے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی کے ساتھ حلقہ بنایا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں گے؟آپ نے فرمایا ہاں جب خبیث زیادہ ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱۳)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ؛ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7113

متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت زہری سے مروی ہے اور وہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱٤)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7114

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا آج یاجوج اور ماجوج سے دیوار اس کی مثل کھول دی گئی ہے وہیب نے اپنے ہاتھ کے ساتھ نوے(کے ہندسے)کی گرہ باندھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱۵)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7115

متعدد اسناد سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن قبطیہ کہتے ہیں کہ حارث بن ربیعہ و عبد اللہ بن صفوان دونوں ام المؤمنين حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے اس سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جس کو دھنسا دیا جائے گا اور یہ واقعہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے ہوا انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ شریف میں پناہ لے گا تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ چٹیل میدان میں ہوں گے تو ان کو(زمین میں)دھنسا دیا جائے گا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!اس کا کیا ہوگا جو مجبوراً شامل ہوگا؟آپ نے فرمایا وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔ ابو جعفر کہتے ہیں اس سے مدینہ کی صاف زمین مراد ہے(جو ذوالحلیفہ کے آگے مکہ مکرمہ کی طرف گھاٹی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِي يَؤُمُّ الْبَيْتَ؛جلد٤ص۲۲۰۸؛حدیث نمبر؛۷۱۱٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ : " يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ ". وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7116

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اس حدیث میں اس طرح ہے راوی کہتے ہیں میں نے ابو جعفر سے کہا کہ ام المؤمنين فرماتی ہیں"بیداء الأرض"ابو جعفر نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم یہ "بیداء مدینہ ہے"۔(مدینہ منورہ کا میدان ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۱۷)

حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ، فَقُلْتُ : إِنَّهَا إِنَّمَا قَالَتْ : بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : كَلَّا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7117

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک لشکر جہاد کی غرض سے اس گھر کا ضرور بضرور ارادہ کرے گا حتیٰ کہ جب وہ چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور ان کے اگلے ان کے پچھلے کو آواز دیں گے پھر ان کو بھی دھنسا دیا جاے گا پس صرف ان سے پیچھے رہ جانے والا بچے گا جو ان کے بارے میں خبر دے گا۔ ایک شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ(اے عبد اللہ بن صفوان)آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں بولا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی بات روایت نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۱۸)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو – قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ، يَغْزُونَهُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ، ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ ". فَقَالَ رَجُلٌ : أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7118

حضرت عبد اللہ بن صفوان،ام المومنین(حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک قوم اس گھر یعنی بیت اللہ شریف کی پناہ لے گی ان کے ساتھ عددی قوت ہوگی نہ ساز و سامان ہوگا ان کی طرف لشکر بھیجا جائے گا جب وہ چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا۔ یوسف(بن ماہک)نے کہا اس دن اہل شام،مکہ مکرمہ کی طرف جائیں گے سنو!اللہ کی قسم!یہ وہ لشکر نہیں۔ زید کہتے ہیں مجھ سے عبد الملک عامری نے بیان کیا وہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے یوسف بن ماہک کی حدیث کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے اس میں اس لشکر کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر عبد اللہ بن صفوان نے کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۱۰؛حدیث نمبر؛۷۱۱۹)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ – يَعْنِي الْكَعْبَةَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ ". قَالَ يُوسُفُ : وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ. قَالَ زَيْدٌ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7119

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں گھبراہٹ ہوئی(اور آپ کے جسم مبارک میں حرکت پیدا ہوئی)ہم نے عرض کیا کہ(آج)آپ نے نیند میں ایسا کام کیا جو کبھی نہیں کیا تھا تعجب کی بات ہے میری امت کے کچھ لوگ قریش کے ایک آدمی کے خلاف اس گھر کا ارادہ کریں گے اس شخص نے بیت اللہ شریف کی پناہ لی ہوگی جب وہ صاف چٹیل زمین میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا یارسول اللہ!راستہ ان سب لوگوں کو اکٹھا کر دے گا؟فرمایا ہاں ان میں دیکھنے قصد و ارادہ والے بھی ہوں گے مجبور بھی اور مسافر بھی ایک ہی دفعہ سب ہلاک ہوجائیں گے وہ مختلف راستوں سے نکلیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ اقْتِرَابِ الْفِتَنِ وَفَتْحِ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛جلد٤ص۲۲۰۹؛حدیث نمبر؛۷۱۲۰)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : عَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ. فَقَالَ : " الْعَجَبُ ؛ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ". فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ. قَالَ : " نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ، يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى، يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7120

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے قلعوں میں سے ایک قلعے پر چڑھے پھر فرمایا کیا تم وہ چیز دیکھ رہے ہو جو میں دیکھتا ہوں بے شک میں تمہارے گھروں کے اندر فتنوں کی جگہ کو دیکھ رہا ہوں جس طرح(بارش کے)قطروں کے گرنے کی جگہیں تمہارے گھروں میں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟ إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7121

ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۲)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7122

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے بپا ہوں گے ان کے دوران بیٹھنے والا،کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔جو ان فتنوں کو دیکھے گا اس کو یہ فتنے دیکھ لیں گے(ہلاک کر دیں گے)اور جو ان میں کوئی پناہ گاہ پائے وہ اس کے ذریعے پناہ حاصل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۱؛حدیث نمبر؛۷۱۲۳)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7123

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مثل مروی ہے لیکن اس میں(راوی)ابوبکر نے یہ اضافہ ذکر کیا ہے کہ نمازوں میں سے ایک نماز ہے جس سے وہ نماز رہ گئی گویا وہ اپنے گھر والوں اور مال کے اعتبار سے خسارے میں رہا(عصر کی نماز مراد ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا، إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَزِيدُ : " مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7124

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دوران سونے والے کا فتنہ جاگنے والے کے فتنے سے بہتر ہوگا اور جاگنے والے کا فتنہ کھڑا ہونے والے کے فتنہ سے بہتر ہوگا اور کھڑے آدمی کا فتنہ دوڑنے والے سے بہتر ہوگا پس جو شخص کوئی پناہ گاہ پائے وہ پناہ حاصل کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲۵)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ، وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7125

عثمان الشحام کہتے ہیں میں اور فرقد السبخی،حضرت مسلم بن ابی ابوبکر کے پاس گئے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے یہاں داخل ہوئے تو ہم نے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد کو فتنوں کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے خبردار پھر اس میں بیٹھنے والے کا فتنہ چلنے والے سے زیادہ ہوگا اور ان میں چلنے والا اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا سنو!جب یہ فتنے اتریں یا واقع ہوں تو جس شخص کے اونٹ ہو وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے اور جس کی بکریاں ہو وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!بتائے جس کے پاس زمین نہ ہو وہ کیا کرے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اسے پتھر پر تیز کرے پھر نجات حاصل کرے اگر نجات حاصل کرسکتا ہے۔ پھر فرمایا یا اللّٰہ!کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟یا اللہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟یا اللہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!بتائیے اگر مجھے مجبور کر کے کسی ایک صف یا ایک گروہ میں لے جایا جائے اور کوئی شخص مجھے اپنی تلوار سے مارے یا کوئی تیرآکر مجھے ہلاک کر دےفرمایا وہ شخص اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ لے جائے گا اور وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۲؛حدیث نمبر؛۷۱۲٦)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ إِلَى مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا : هَلْ سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا ؟ قَالَ : نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ - أَوْ وَقَعَتْ - فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ". قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ ؟ قَالَ : " يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ، فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ، أَوْ يَجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي ؟ قَالَ : " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7126

مزید دو سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں وکیع کی روایت"ان استطاع النجاء"(اگر تم نجات حاصل کر سکتے ہو)پر ختم ہوجاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ نُزُولِ الْفِتَنِ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۳؛حدیث نمبر؛۷۱۲۷)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَى آخِرِهِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ وَكِيعٍ عِنْدَ قَوْلِهِ : " إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7127

حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں میں نکلا اور میں اس شخص(حضرت علی رضی اللہ عنہ)کا ارادہ کر رہا تھا حضرت ابوبکرہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا اے احنف!کہاں کا ارادہ ہے؟فرماتے ہیں میں نے کہا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنا چاہتا ہوں فرماتے ہیں حضرت ابوبکرہ نے کہا اےاحنف!واپس جاؤ،میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب دو مسلمان ایک دوسرے کی طرف نکلیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا کسی نے کہا یا رسول اللہ!قاتل کے بارے میں ٹھیک ہے مقتول کیوں جاے گا فرمایا اس نے بھی اپنے مد مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۲۸)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَحْنَفُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أُرِيدُ نَصْرَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَعْنِي عَلِيًّا – قَالَ : فَقَالَ لِي : يَا أَحْنَفُ، ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " قَالَ : فَقُلْتُ، أَوْ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7128

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۲۹)

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَالْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7129

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۰)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، إِلَى آخِرِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7130

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب دو مسلمان میں سے ایک اپنے(مسلمان)بھائی پر تلوار اٹھائے تو دونوں جہنم کے کنارے پر ہوں گے جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرے تو دونوں جہنم میں جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۱)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا فِي جُرْفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7131

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ دو بڑی جماعتیں آپس میں لڑیں گی اور ان کے درمیان بہت بڑی لڑائی ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ بھی ایک ہی ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱٤؛حدیث نمبر؛۷۱۳۲)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ، مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، وَتَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7132

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ"ھرج"زیادہ ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ"ھرج"کیا ہے؟فرمایا"قتل،قتل" (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ "، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7133

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا پس میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور میری امت کی حکومت وہاں تک ہوگی جہاں تک میرے لئے زمین کو لپیٹا گیا ہے اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید دئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے سوال کیا کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ کسی دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے کہ وہ ان کی جماعت کو ختم کردے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اس کو واپس نہیں لیتا میں نے آپ کی امت کو یہ بات دے دی کہ میں ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے علاوہ کسی دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا جو ان کی جماعت(یا حکومت)کو توڑ دے اگرچہ ان کے خلاف تمام روے زمین کے لوگ جمع ہوجائیں البتہ یہ کہ ان میں سے بعض دوسرے بعض کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ ؛ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ ، وَإِنَّ رَبِّي قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ؛ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ، وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا - أَوْ قَالَ : مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7134

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور مجھے دو سرخ سفید خزانے دئے۔ اس کے بعد ایوب کی ابو قلابہ سے روایت کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جلد٤ص۲۲۱۵؛حدیث نمبر؛۷۱۳۵)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِي الْأَرْضَ، حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ ؛ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ". ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7135

حضرت عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عالیہ(مدینہ طیبہ کا بالائی حصہ)سے تشریف لائے حتیٰ کہ جب مسجد بنو معاویہ کے پاس سے گزرے اس میں داخل ہوئے دو رکعتیں نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے اپنے رب سے ایک طویل دعا مانگی پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین باتوں کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چیزیں عطاء فرمائیں اور ایک سے روک دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط کے ساتھ ہلاک نہ کرے تو اس نے میری یہ دعا منظور کردی اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو غرق کرنے کے ذریعے ہلاک نہ کرے تو اس نے میری دعا بھی قبول کرلی اور میں نے سوال کیا کہ وہ آپس میں نہ لڑیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ، حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، دَخَلَ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7136

حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں آے پھر آپ مسجد بنو معاویہ کے پاس سے گزرے....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ هَلَاكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳۷)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7137

حضرت ابو ادریس خولانی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میرے اور قیامت کے درمیان جس قدر فتنے ہونے والے ہیں ان کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مجھے کچھ پوشیدہ طور پر بتایا جو میرے غیر سے بیان نہیں کیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جس میں،میں بھی تھا فتنوں کے بارے میں بیان کیا اور آپ نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا ان میں سے تین(فتنے)ایسے ہیں کہ قریب نہیں کہ وہ کسی چیز کو چھوڑیں اور ان میں سے ایسے فتنے ہیں جو گرمیوں کی ہوا کی طرح ہیں ان میں چھوٹے(فتنے)بھی ہیں اور بڑے بھی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے علاوہ وہ تمام جماعت رخصت ہو گئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱٦؛حدیث نمبر؛۷۱۳۸)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ كَانَ يَقُولُ : قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ، وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ : " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ "، قَالَ حُذَيْفَةُ : فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7138

ایک اور سند کے ساتھ حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوے(اور)آپ نے اس جگہ قیام قیامت تک کی ہر چیز بیان کر دی جس نے اس کو یاد کیا،اس نے یاد کیا اور جس نے اسے بھلا دیا،اس نے بھلا دیا۔میرے ان دوستوں کو اس کا علم ہے میں بھی اس سے کوئی چیز بھول جاتا ہوں پس اس کو دیکھتا ہوں تو یاد اجاتی ہے جس طرح کوئی شخص دوسرے آدمی کا چہرہ بھول جاتا ہے جب اس سے غائب ہوتا ہے پھر جب اس کو دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱۳۹)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ، كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7139

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں"جو بھول گیا سو بھول گیا"تک ہے بعد کا کلام مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ : وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7140

ایک اور سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والی تمام باتوں کی خبر دی میں نے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا البتہ آپ سے یہ نہیں پوچھا کہ مدینہ والوں کو مدینہ سے کیا چیز نکالے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۱)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7141

ایک اور سند سے اسی طرح(حدیث)مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7142

ابو زید یعنی عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور(پھر)آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ ظہر کا وقت ہوگیا آپ نے اتر کر نماز پڑھی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا پھر اتر کر نماز ادا کی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا تو آپ نے ہمیں وہ سب کچھ بتایا جو(قیامت تک)ہونے والا ہے پس ہم میں سے جسے زیادہ علم ہے اسے زیادہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۱۷؛حدیث نمبر؛۷۱٤۳)

وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7143

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا تم میں سے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتنہ کے بارے میں حدیث بعینہ یاد ہے۔ (حضرت حذیفہ)فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے یاد ہے انہوں نے فرمایا بےشک آپ جرات مند ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے فرمایا تھا؟ فرماتے ہیں میں نے کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آدمی کا فتنہ اس کے اہل،مال،جان، اولاد اور پڑوسی میں ہے روزہ،نماز،صدقہ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اس کا کفارہ ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری مراد یہ(فتنہ)نہیں ہے میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوگا۔(حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا واسطہ؟اے امیر المومنین!بےشک آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے انہوں نے پوچھا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انہوں نے فرمایا اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ پھر کبھی بند نہ ہو۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟فرمایا ہاں جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟فرمایا ہاں جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے میں ان سے حدیث بیان کی جس میں کوئی مغالطہ نہیں ہے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں ہمیں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے ڈر لگا تو ہم نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ان سے پوچھیں انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ(دروازہ)حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ كَمَا قَالَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا. قَالَ : إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، وَكَيْفَ ؟ قَالَ : قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ". فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ. قَالَ : فَقُلْتُ : مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ : أَفَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا، بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ : ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا. قَالَ : فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ؟ قَالَ : نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ. قَالَ : فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ : مَنِ الْبَابُ ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ : سَلْهُ. فَسَأَلَهُ، فَقَالَ : عُمَرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7144

متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث حضرت اعمش سے ابومعاویہ کی روایت(گزشتہ حدیث)کی طرح ہے البتہ اس میں عیسیٰ کی روایت جو اعمش سے ہے اور وہ حضرت شقیق سے روایت کرتے ہیں اس میں وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا(باقی وہی ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤۵)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7145

ایک اور سند سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون فتنہ کے بارے میں ہم سے بیان کرے گا،پھر گزشتہ روایات کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۸؛حدیث نمبر؛۷۱٤٦)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ ؟ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7146

حضرت محمد فرماتے ہیں حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جرعہ کے دن آیا وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا میں نے کہا آج یہاں ضرور خون بہایا جائے گا اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم!میں نے کہا ہاں کیوں نہیں اللہ کی قسم!اس نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم!بےشک یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھ سے بیان کی ہے،میں نے کہا آج کے دن تو میرا برا ہمنشیں ہے تو مجھ سے اپنی مخالفت سننا چاہتا ہے حالانکہ تو نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پس تو مجھےمنع نہیں کرتا؟پھر میں نے کہا یہ غصہ کیسا ہے میں اس کی طرف بڑھا اور اس سے سوال کیا تو وہ شخص حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۷)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ جُنْدُبٌ : جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، فَقُلْتُ : لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَاءٌ. فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ : كَلَّا وَاللَّهِ. قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ. قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ. قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ. قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ. قُلْتُ : بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ، تَسْمَعُنِي أُخَالِفُكَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي. ثُمَّ قُلْتُ : مَا هَذَا الْغَضَبُ. فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ، فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7147

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ(نہر)فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے اس پر لوگ باہم لڑیں گے پس ایک سو میں سے نناوے آدمی قتل ہوں گے اور ان میں سے ہر شخص کہے گا شاید میں ہی نجات پانے والا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ : لَعَلِّي أَكُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7148

ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت سہیل فرماتے ہیں میرے والد نے فرمایا اگر تم اس(پہاڑ)کو دیکھو تو اس کے قریب نہ جانا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۱۹؛حدیث نمبر؛۷۱٤۹)

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ : فَقَالَ أَبِي : إِنْ رَأَيْتَهُ فَلَا تَقْرَبَنَّهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7149

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ(نہر)فرات سونے کا خزانہ ظاہر کردے جو وہاں حاضر ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7150

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے پس جو وہاں حاضر ہو اس میں سے کچھ نہ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۱)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7151

حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انہوں نے فرمایا ہمیشہ دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں(یعنی خود لوگ یا ان کے سردار یا جماعتیں)مختلف رہیں گے۔میں نے کہا ہاں،انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قریب ہے کہ فرات سونے کا پہاڑ ظاہر کردے جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے جو لوگ وہاں ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اس سے لے لیں تو وہ سب کچھ لے جائیں گے آپ نے فرمایا پس وہ لوگ اس پر لڑیں گے اور ہر ایک سو میں سے نناوے آدمی قتل ہوں گے ابو کامل کی روایت میں یہ اضافہ ہے انہوں نے کہا میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں حسان کے قلع کے ساے میں کھڑے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۲)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : كُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَقَالَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا. قُلْتُ : أَجَلْ. قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ، فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ : لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ. قَالَ : فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ". قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7152

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عراق اپنے درہم اور قفیز(غلہ ناپنے کا پیمانہ)سے روک دے گا شام اپنے مد اور دینار سے روک دے گا(مد اہل شام کا پیمانہ ہے)اور مصر اپنے اردب(مصر کا پیمانہ)اور اپنے دینار سے روک دے گا اور تم پہلی حالت کی طرف لوٹ آؤ گے(یعنی اسلام پھر اجنبی ہو جائے گا)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس پر ابوہریرہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ؛جلد٤ص۲۲۲۰؛حدیث نمبر؛۷۱۵۳)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ ". شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7153

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے اور ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت میں سے تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکن یہ خبر باطل ہوگی۔ جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے پھر وہ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي فَتْحِ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَنُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؛جلد٤ص۲۲۲۱؛حدیث نمبر؛۷۱۵٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ، أَوْ بِدَابِقٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ : خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ. فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ : لَا وَاللَّهِ، لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا. فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا، فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ، قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ، إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ : إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ. فَيَخْرُجُونَ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِذَا جَاءُوا الشَّأْمَ خَرَجَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ، يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ، إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّهُمْ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7154

حضرت مستورد القرشی نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے"قیامت ہوگی اس حال میں کہ رومی دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں گے" حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیکھو کیا کہ رہے ہو؟انہوں نے کہا میں وہی بات کہتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے انہوں نے فرمایا اگر تم نے یہ کہی تو ان لوگوں میں چار عادات ہیں۔ وہ فتنہ کے وقت لوگوں میں سے زیادہ برد بار ہوتے ہیں۔ مصیبت کے وقت جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ بھاگنے کے بعد قریب ہی واپس لوٹتے ہیں۔ اور وہ مسکین یتیم اور ضعیف کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہیں۔ اور پانچویں خوبی نہایت عمدہ ہے اور وہ سب لوگوں سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ؛جلد٤ص۲۲۲٢؛حدیث نمبر؛۷۱۵۵)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ ". فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَبْصِرْ مَا تَقُولُ. قَالَ : أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا : إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَخَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ، وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ : وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7155

حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیام قیامت کے وقت رومی سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔راوی فرماتے ہیں جب یہ بات حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا یہ کس قسم کی باتیں ہیں جو آپ کی طرف سے ذکر کی جاتی ہیں کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں؟ حضرت مستورد رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں وہی بات کہتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے تو وہ لوگ فتنہ کے وقت سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں مصیبت کے وقت سب سے زیادہ برداشت کرنے والے اور مساکین اور ضعیف لوگوں کے لئے سب لوگوں سے بہتر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ؛جلد٤ص۲۲۲۲؛حدیث نمبر؛۷۱۵٦)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ الْقُرَشِيَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ ". قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تُذْكَرُ عَنْكَ أَنَّكَ تَقُولُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : قُلْتُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَأَجْبَرُ النَّاسِ عِنْدَ مُصِيبَةٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ لِمَسَاكِينِهِمْ وَضُعَفَائِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7156

حضرت یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ایک آدمی آیا جس کا تکیہ کلام یہ تھا۔ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور کہا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوجائیں گے میں نے کہا آپ کی مراد رومی ہیں انہوں نے کہا ہاں اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پھر وہ خوب جہاد کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہوجائے گا پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہوجائے گا۔ پھر(اگلے دن)مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر(اگلے دن)مسلمان ایک اور لشکر روانہ کریں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کئے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے لیکن کوئی بھی غالب نہ ہوگا اور وہ لشکر ہلاک وفنا ہوجائے گا۔ پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے یہاں تک کہ مردہ ہو کر گرپڑیں گے۔ ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے پھر دس سواروں کا ہر اول دستہ روانہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان کے نام اور آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اسیر بن جابر سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٣؛حدیث نمبر؛۷۱۵۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتِ السَّاعَةُ. قَالَ : فَقَعَدَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ : إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ. ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ، فَقَالَ : عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ. قُلْتُ : الرُّومَ تَعْنِي ؟ قَالَ : نَعَمْ، وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ، فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً - إِمَّا قَالَ : لَا يُرَى مِثْلُهَا، وَإِمَّا قَالَ : لَمْ يُرَ مِثْلُهَا - حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا، فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً، فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ، أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ : إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ. فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ، وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ ؛ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ ". قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7157

یسیر بن جابر فرماتے ہیں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ سرخ ہوا چلی.....اس کے بعد حسب سابق ہے ابن علیہ کی حدیث(گزشتہ حدیث)سے زیادہ مکمل اور جامع ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٤؛حدیث نمبر؛۷۱۵۸)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7158

حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور مکان بھرا ہوا تھا فرمایا پس کوفہ میں سرخ آندھی چلی....اس کے بعد حضرت ابن علیہ کی روایت کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ إِقْبَالِ الرُّومِ فِي كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲٤؛حدیث نمبر؛۷۱۵۹)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ - يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَالْبَيْتُ مَلْآنُ، قَالَ : فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7159

حضرت نافع بن عتبہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم مغرب کی جانب سے آئی ان پر اونی لباس تھا انہوں نے ٹیلے کے پاس آپ سے ملاقات کی وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ (حضرت نافع)فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ میں جاکر ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہو جاؤں کہیں وہ آپ کو بے خبری میں شہید نہ کردیں فرماتے ہیں پھر میں نے سوچا شاید آپ ان سے گفتگو کر رہے ہوں پس میں آیا اور ان لوگوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کھڑا ہوگیا فرماتے ہیں میں نے آپ سے چار کلمات یاد کئے جن کو میں اپنے ہاتھ پر شمار کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم جزیرہ عرب میں جہاد کرو گے پس اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا پھر روم(والوں)سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا پھر تم دجال سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاء فرمائے گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نافع نے کہا اے جابر!ہم خیال نہیں کرتے کہ دجال روم کی فتح سے پہلے ظاہر ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا يَكُونُ مِنْ فُتُوحَاتِ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲۲۵؛حدیث نمبر؛۷۱٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، قَالَ : فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ ، فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، قَالَ : فَقَالَتْ لِي نَفْسِي : ائْتِهِمْ، فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ؛ لَا يَغْتَالُونَهُ. قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ : لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ، فَأَتَيْتُهُمْ، فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، قَالَ : فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي، قَالَ : " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ ". قَالَ : فَقَالَ نَافِعٌ : يَا جَابِرُ، لَا نَرَى الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7160

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک ہماری طرف جھانکا اور ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے آپ نے فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پس آپنے دھوئیں،دجال،جانور اور مغرب سے سورج کے طلوع ہونے،حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے اترنے،یاجوج اور ماجوج،تین بار زمین میں دھنسنے یعنی ایک بار مشرق میں دھنسنے ایک بار مغرب میں دھنسنے اور ایک بار جزیرہ عرب میں دھنسنے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف دھکیل دے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲٥؛حدیث نمبر؛۷۱٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ : " مَا تَذَاكَرُونَ ؟ " قَالُوا : نَذْكُرُ السَّاعَةَ. قَالَ : " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ ". فَذَكَرَ الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ : خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ. وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ .

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7161

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانہ میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے کہ آپ نے ہماری طرف جھانکا اور فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں قیامت قائم نہیں ہوگی۔ ایک خسف(دھنسنا)مشرق میں،ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرہ عرب میں ہوگا،دھواں،دجال،دابۃ الأرض(زمین کا جانور)یاجوج اور ماجوج،مغرب سے طلوع آفتاب اور عدن کے کنویں سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو(میدان محشر کی طرف)ہانک کر لے جائے گی۔ حضرت شعبہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سریحہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کرتے اور فرماتے ہیں ان دونوں میں سے ایک راوی نے دسویں بات عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول ذکر کیا اور دوسرے نے کہا ہوا ہوگی جو لوگوں کو سمندر میں ڈال گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲٦؛حدیث نمبر؛۷۱٦۲)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ : " مَا تَذْكُرُونَ ؟ " قُلْنَا : السَّاعَةَ. قَالَ : " إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَكُونُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ : خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ ". قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ، لَا يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ الْآخَرُ : وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7162

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو سریحہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تھے اور ہم لوگ آپ سے نیچے تھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے پھر اس کی مثل حدیث روایت کی۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا جہاں یہ لوگ جائیں گے آگ وہیں جائے گی اور جہاں یہ قیلولہ کریں گے آگ وہی رہے گی۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ حدیث ایک شخص نے حضرت ابو طفیل سے روایت کرتے ہوئے بیان کی وہ حضرت ابو سریحہ سے روایت کرتے ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نقل نہیں کرتے ان دو مردوں میں سے ایک نے حضرت عیسٰی بن مریم کا نزول ذکر کیا اور دوسرے نے کہا ایک ہوا ہوگی جو ان کو سمندر میں ڈال دے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦۳)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا. قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ : نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ. وَقَالَ الْآخَرُ : رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7163

ایک اور سند سے حضرت ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے فرماتے ہیں ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ حضور علیہ السلام نے ہماری طرف جھانکا اس کے بعد حضرت معاذ اور حضرت ابن جعفر کی(گزشتہ)روایت کی طرح ہے۔ ابن مثنی اپنی سند سے حضرت ابو سریحہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں دسویں نشانی حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام کا نزول ہے،حضرت شعبہ فرماتے ہیں حضرت عبد العزیز نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الْآيَاتِ الَّتِي تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ، فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، بِنَحْوِهِ، قَالَ : وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ. قَالَ شُعْبَةُ : وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7164

دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ سرزمین حجاز سے آگ نکلے گی جس سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ؛جلد٤ص۲۲۲۷؛حدیث نمبر؛۷۱٦۵)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7165

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(قیامت کے قریب)(مدینہ طیبہ کی)آبادی اہاب یا(فرمایا)یہاب(مقام)تک پہنچ جائے گی۔حضرت زہیر فرماتے ہیں میں نے حضرت سہیل سے پوچھا یہ مدینہ سے کتنے فاصلہ پر ہے انہوں نے فرمایا اتنے اتنے میل کے فاصلے پر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦٦)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبْلُغُ الْمَسَاكِنُ إِهَابَ، أَوْ يَهَابَ ". قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِسُهَيْلٍ : فَكَمْ ذَلِكَ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ قَالَ : كَذَا وَكَذَا مِيلًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7166

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط اس طرح نہیں ہوگا کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ بارش ہوگی خوب بارش ہوگی لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگاے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا، وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا "

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7167

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس حال میں کہ آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا آپ نے فرمایا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا،سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7168

ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے اور اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا فتنہ ادھر سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا آپ نے یہ بات دو یا تین بار فرمائی۔ حضرت عبید اللہ بن سعید اپنی روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۸؛حدیث نمبر؛۷۱٦۹)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : " الْفِتْنَةُ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ". قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7169

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد(حضرت عبد اللہ بن عمر)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس وقت آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا سنو!فتنہ یہاں سے ہوگا سنو!فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۰)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ : " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7170

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کفر کی چوٹی اس طرف سے(ظاہر)ہوگی جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا یعنی مشرق سے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ". يَعْنِي الْمَشْرِقَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7171

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا سنو!فتنہ ادھر سے ہوگا تین بار فرمایا(پھر فرمایا)جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۲)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ : " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا - ثَلَاثًا - حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7172

حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اہل عراق!میں تم سے چھوٹے سے گناہ(پسو کے قتل)کے بارے میں کس چیز نے سوال کیا؟(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عالی مقام اور بڑے بڑے تابعین کو شہید کرنے)پر کس نے تمہیں برانگیختہ کیا۔میں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا فتنہ ادھر سے آے گا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا اور تم لوگ ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس فرعونی کو قتل کیا تھا وہ خطأ کے طور پر قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا: اور آپ نے ایک نفس کو قتل کیا اور ہم نے آپ کو غم سے نجات دی اور آپ کو آزمائش میں ڈالا۔(سورہ طہ:آیت:٤٠/سورہ أعراف:آیت ١٣٠) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ الْفِتْنَةُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ؛جلد٤ص۲۲۲۹؛حدیث نمبر؛۷۱۷۳)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ - قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ، وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ، سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَاهُنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ". وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : { وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا }. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ سَالِمٍ : لَمْ يَقُلْ : سَمِعْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7173

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک(قبیلہ)دوس کی عورتوں کے پچھلے حصے ذی الخلصہ(بت)کے گرد حرکت نہ کریں(یعنی وہ اس کا طواف کرے گی تو ان کے چوتڑے حرکت کرے گی)اور یہ ایک بت تھا قبیلہ دوس تبالہ(یمن میں ایک مقام)میں اس کی پوجا کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۰؛حدیث نمبر؛۷۱۷٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7174

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے رات اور دن نہیں گزریں گے حتیٰ کہ لات اور عزی(بتوں)کی پوجا کی جائے گی۔ (ام المومنین فرماتی ہیں)میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: "وہی(اللہ)ہے جس نے اپنے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کو ہدایت اور حق سے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس(دین)کو تمام دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات پسند نہ ہو۔" تو میرا خیال تھا کہ یہ بات(بت پرستی)ختم ہوگئی آپ نے فرمایا عنقریب اس میں سے جس قدر اللہ چاہے گا،ہوگا پھر اللہ تعالیٰ ایک اچھی ہوا بھیجے گا تو جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کا انتقال ہوجائے گا اور وہ لوگ رہ جائیں گے جن میں کوئی بھلائی نہیں پس وہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۰؛حدیث نمبر؛۷۱۷۵)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَأَبُو مَعْنٍ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى ". فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ : { هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ }، أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا. قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ، فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7175

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧١٧٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷٦)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ - وَهُوَ الْحَنَفِيُّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7176

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص کسی شخص کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7177

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص کسی قبر سے گزرتے ہوئے لوٹ پوٹ اس پر ہوگا اور کہے گا کاش!اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا اور اس وقت دین ایک آزمائش ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۸)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ - قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ. وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ، إِلَّا الْبَلَاءُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7178

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے قتل کیوں کیا اور نہ مقتول کو علم ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱۷۹)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَتَلَ، وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ قُتِلَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7179

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ لوگوں پر ایسا دن(زمانہ)آے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے عرض کیا گیا یارسول اللہ!ایسا کس طرح ہوگا؟فرمایا قتل(زیادہ ہوگا قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔(کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ارادہ کریں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۱؛حدیث نمبر؛۷۱٨٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ، وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ " فَقِيلَ : كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " الْهَرْجُ. الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبَانَ قَالَ : هُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ. لَمْ يَذْكُرِ الْأَسْلَمِيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7180

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حبشہ کا ذو السویقتین(دو پتلی پنڈلیوں والا)خانہ کعبہ کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7181

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حبشہ کا پتلی پنڈلیوں والا خانہ کعبہ کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۲)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7182

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی اللہ عزوجل کے گھر کو گرا دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7183

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص قحطان سے نکلے گا اور اپنی لاٹھی کے ساتھ لوگوں کو ہانکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸٤)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7184

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا دن اور رات نہیں گزریں گے حتیٰ کہ ایک شخص کی بادشاہی ہوگی جس کو جہجاہ کہا جائے گا۔ امام مسلم فرماتے ہیں عبد المجيد راوی کے چار بیٹے روایت کرتے ہیں وہ چار بھائی شریک،عبید اللہ،عمیر اور عبد الکبیر ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۲؛حدیث نمبر؛۷۱۸۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْجَهْجَاهُ ". قَالَ مُسْلِمٌ : هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ : شَرِيكٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، وَعُمَيْرٌ، وَعَبْدُ الْكَبِيرِ بَنُو عَبْدِ الْمَجِيدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7185

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایک قوم سے لڑو گے جس کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7186

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم سے ایک قوم لڑے گی جو بالوں والے جوتے پہنیں گے ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۷)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7187

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور ناک چپٹی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۸)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ، ذُلْفَ الْآنُفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7188

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مسلمان ترکوں سے لڑیں گےوہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے۔وہ بالوں(کا لباس)پہنیں گے اور بالوں میں چلیں گے(جوتے بالوں کے ہوں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۳؛حدیث نمبر؛۷۱۸۹)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ، قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ ، يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7189

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے سرخ چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹۰)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، حُمْرُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْأَعْيُنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7190

حضرت ابونضرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا عنقریب اہل عراق کی طرف(خراج)میں نہ کوئی قفیز آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم ہم نے کہا وہ کہاں سے نہ آئے گا؟کہا،عجم کی طرف سے وہ اسے روک لیں گے پھر کہا عنقریب اہل شام کی طرف سے ان کی طرف نہ کوئی دینار آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم،ہم نے کہا کہاں سے نہ آئے گا؟کہا روم کی طرف سے پھر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگئے پھر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو بغیر شمار کئے لپ بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کرے گا راوی کہتا ہے کہ میں نے نضرہ اور ابوالعلاء سے کہا کیا تم خیال کرتے ہو کہ وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں تو ان دونوں نے کہا نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹۱)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ. قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ، يَمْنَعُونَ ذَاكَ. ثُمَّ قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ. قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الرُّومِ. ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ، يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا، لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا ". قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ : أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ؟ فَقَالَا : لَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7191

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر۷۱۹۰ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٤؛حدیث نمبر؛۷۱۹٢)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ - يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ - بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7192

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے خلفاء میں سے ایک خلیفہ ہوگا جو کہ بغیر شمار کئے لپ بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ خُلَفَائِكُمْ خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ " يَحْثِي الْمَالَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7193

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوں گے جو بغیر شمار کئے مال تقسیم کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7194

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹۵)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7195

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی جو مجھ سے بہتر افضل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے جب وہ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا اے ابن سمیہ!تجھ پر کیسی آفت آئے گی جب تجھے ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ : " بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7196

کئی سندوں کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ایک سند میں ہے کہ مجھے مجھ سے بہتر آدمی ابوقتادہ نے خبر دی خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ میں اسے ابوقتادہ خیال کرتا ہوں اور خالد کی حدیث میں ہے آپ نے فرمایا( وَيْسَ یا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۵؛حدیث نمبر؛۷۱۹۷)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ : قَالَ : أُرَاهُ يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ : وَيَقُولُ : " وَيْسَ " أَوْ يَقُولُ : " يَا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7197

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار سے فرمایا تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۱۹۸)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ عُقْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7198

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۱۹۹)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، وَالْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِمَا ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7199

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار سے فرمایا تجھے باغی جماعت قتل کرے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۰)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7200

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کرے گا صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا کاش لوگ ان سے جدا اور علیحدہ رہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ ". قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7201

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ۷۲۰۱ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۲)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، فِي مَعْنَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسری مرگیا اور اس کسری کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰۳)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ مَاتَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7203

مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کا معنیٰ مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳٦؛حدیث نمبر؛۷۲۰٤)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ، وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7204

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسری ہلاک ہوگیا اور اس کے بعد پھر کوئی کسری نہ ہوگا اور قیصر بھی ضرور ہلاک ہوجائے گا اور تم ضرور بالضرور ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں تقسیم کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ كِسْرَى، ثُمَّ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَقَيْصَرُ لَيَهْلِكَنَّ، ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ، وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7205

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا باقی حدیث بالکل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ". فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7206

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مسلمان یا مومنین کی ایک جماعت ضروربالضرور آل کسری کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے اور قتبیہ نے بغیر شک کے مسلمانوں کی جماعت کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ ". قَالَ قُتَيْبَةُ : مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ يَشُكَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7207

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا باقی ابوعوانہ کی حدیث کی طرح روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۷؛حدیث نمبر؛۷۲۰۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7208

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے ایک شہر کا سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری طرف سمندر میں ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں!اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ بنو اسحاق میں سے ستر ہزار آدمی جنگ نہ کرلیں جب وہ وہاں آئیں گے تو اتریں گے وہ نہ ہتھیاروں سے جنگ کریں گے اور نہ تیر اندازی کریں گے وہ کہیں گے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ تو اس سے اس شہر کی ایک طرف گرجائے گی۔ ثور(راوی)نے کہا میں سمندر کی طرف کے علاوہ کوئی دوسری طرف نہیں جانتا پھر وہ دوسری مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہیں گے تو ان کی لئے کشادگی کردی جائے گی اور وہ اس میں داخل ہوجائیں گے اور مال غنیمت لوٹ لیں گے پس اسی دوران کہ وہ مال غنیمت آپس میں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ انہیں ایک چیخ سنائی دے گی جو کہہ رہا ہوگا کہ دجال نکل چکا ہے تو وہ ہر چیز چھوڑ کر لوٹ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۰۹)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ - عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْحَاقَ، فَإِذَا جَاءُوهَا نَزَلُوا، فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ، وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ، قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيَسْقُطُ أَحَدُ جَانِبَيْهَا - قَالَ ثَوْرٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : الَّذِي فِي الْبَحْرِ - ثُمَّ يَقُولُوا الثَّانِيَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ، ثُمَّ يَقُولُوا الثَّالِثَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيُفَرَّجُ لَهُمْ، فَيَدْخُلُوهَا، فَيَغْنَمُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ، فَقَالَ : إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ. فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرْجِعُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7209

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٧٢٠٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲١٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7210

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہودیوں سے لڑو گے تو انہیں قتل کردو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان ادھر آ یہ یہودی ہے اسے قتل کر دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ، فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7211

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ پتھر کہے گا یہ میرے پیچھے یہودی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱٢)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : " هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7212

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اور یہودی باہم جنگ کرو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے ادھر آؤ اور اسے قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۸؛حدیث نمبر؛۷۲۱٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي، تَعَالَ فَاقْتُلْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7213

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی تم سے لڑیں گے پس تم ان پر غالب ہو جاؤ گے حتیٰ کہ پتھر کہے گا اے مسلمان!یہ میرے پیچھے یہودی ہے آؤ اور اس کو قتل کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٤)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُقَاتِلُكُمُ الْيَهُودُ، فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7214

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ مسلمان،یہودیوں سے لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر اور درخت کہے گا اے اللہ کے بندے!یہ میرے پیچھے یہودی ہے پس آکر اس کو قتل کرو۔البتہ غرقد درخت یہ نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (یہ کانٹے دار درخت ہے جو بیت المقدس کے علاقہ میں ہوتا ہے اور اسی مقام پر دجال اور یہودیوں کا قتل ہوگا) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ : يَا مُسْلِمُ، يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ. إِلَّا الْغَرْقَدَ ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7215

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت سے پہلے کچھ جھوٹے لوگ ہوں گے۔ ابو الاحوص کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ سماک کہتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟آپ نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ ". وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ : قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7216

ایک اور سند سے حدیث نمبر ۷۲۱٦کے مثل مروی ہے سماک کہتے ہیں میں نے اپنے بھائی سے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے پس ان سے بچو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱۷)

وَحَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، قَالَ سِمَاكٌ : وَسَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ : قَالَ جَابِرٌ : فَاحْذَرُوهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7217

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال بھینگے پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول خیال کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲۳۹؛حدیث نمبر؛۷۲۱۸)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ - عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7218

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ۷۲۱۸ کے مثل روایت مروی ہے البتہ اس میں ینبعث کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلَاءِ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲۱۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " يَنْبَعِثَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7219

حضرت عبداللہ(بن مسعود رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چند بچوں کے پاس سے گزرے ان میں ابن صیاد بھی تھا پس بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا تو گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوکیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا نہیں بلکہ کیا آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) گواہی دیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ وہی ہے جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے تو تم اسے قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲٢٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ : لَا، بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7220

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں نے تیرے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے؟اس نے کہا(لفظ)"دخ"ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہوجا اور تو اپنی حدسے تجاوز نہیں کرسکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پس اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خدشہ ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٠؛حدیث نمبر؛۷۲۲١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا ". فَقَالَ : دُخٌّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7221

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر۔تم کیا دیکھ رہے ہو؟ اس نے کہا میں نے پانی پر تخت دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھا ہے اور کیا دیکھا اس نے کہا میں نے دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے اس لئے اسے چھوڑ دو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ، مَا تَرَى ؟ " قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، وَمَا تَرَى ؟ " قَالَ : أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا، أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُبِسَ عَلَيْهِ ، دَعُوهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7222

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابن صیاد سے ملاقات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی تھے اور ابن صیاد کے ساتھ لڑکے تھے باقی حدیث جریری کی حدیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7223

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ میں ابن صائد کے ساتھ رہا تو اس نے مجھے کہا میں جن لوگوں سے ملا ہوں وہ گمان کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا آپ فرماتے ہیں کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا حالانکہ میری تو اولاد ہے پھر اس نے کہا کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا میں تو مدینہ میں پیدا ہوچکا ہوں اور یہ کہ میں اب مکہ کا ارادہ کرتا ہوں پھر اس نے اپنی آخری بات میں مجھے کہا اللہ کی قسم میں دجال کے پیدا ہونے اور اس کے رہنے اور اس کے رہنے کی جگہ کو اور اس وقت وہ کہاں ہے جانتا ہوں اس اخیری کلام نے معاملہ کو مجھ پر مشتبہ کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٤)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي : أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ، أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ " ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ " ؟ قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ. قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ. قَالَ : فَلَبَسَنِي .

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7224

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صائد نے مجھ سے بات کہی جس سے مجھے شرم آئی کہنے لگا کہ لوگوں کو تو میں نے معذور جانا اور تمہیں میرے بارے میں اصحاب محمد کیا ہوگیا؟کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال یہودی ہوگا حالانکہ میں اسلام لا چکا ہوں اور کہنے لگا کہ اور اس کی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میری تو اولاد بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اس پر مکہ کو حرام کردیا ہے میں تحقیق کہ حج کرچکا ہوں اور وہ مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا قریب تھا کہ میں اس کی باتوں میں آجاتا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اس وقت(دَجَّال)کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور والدہ کو بھی جانتا ہوں اور اس سے کہا گیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی(دَجَّال)ہو اس نے کہا اگر یہ بات مجھ پر پیش کی گئی تو میں اسے ناپسند نہ کروں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۱؛حدیث نمبر؛۷۲۲٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ : هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ، مَا لِي وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ؟ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ يَهُودِيٌّ " وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ : " وَلَا يُولَدُ لَهُ " وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ " وَقَدْ حَجَجْتُ. قَالَ : فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ، وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ. قَالَ : وَقِيلَ لَهُ : أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7225

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے چلے اور ابن صائد ہمارے ساتھ تھا ہم ایک جگہ اترے تو لوگ منتشر ہوگئے میں اور وہ باقی رہ گئے اور مجھے اس سے سخت وحشت و خوف آیا جو اس کے بارے میں کہا جاتا تھا اور اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا گرمی سخت ہے اگر تو اپنا سامان درخت کے نیچے رکھ دے(تو بہتر ہے)پس اس نے ایسا ہی کیا پھر ہمیں کچھ بکریاں نظر پڑیں وہ گیا اور ایک(دودھ کا)بھرا ہوا پیالہ لے آیا اور کہنے لگا اے ابوسعید پیو میں نے کہا گرمی بہت سخت ہے اور دودھ بھی گرم ہے اور دودھ کے ناپسند کرنے کے سوائے اس کے ہاتھ سے بچنے کی اور کوئی بات نہ تھی یا کہا اس کے ہاتھ سے لینا ہی ناپسند تھا تو اس نے کہا اے ابوسعید میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت کے ساتھ لٹکاؤں پھر اپنا گلا گھونٹ لوں اس وجہ سے جو میرے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں اے ابوسعید جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مخفی ہے(ان کی تو الگ بات ہے) اے انصار کی جماعت!تجھ پر تو پوشیدہ نہیں ہے کیا تو لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ کی حدیث کو جاننے والا نہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا وہ بانجھ ہوگا کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میں اپنی اولاد مدینہ میں چھوڑ کر آیا ہوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہ ہوگا حالانکہ میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ ہے حضرت ابوسعید خدری نے کہا قریب تھا کہ میں اس کے عذر قبول کرلیتا پھر اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے پہچانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش سے بھی واقف ہوں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے میں نے اس سے کہا تیرے لئے سارے دن کی ہلاکت و بربادی ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۲؛حدیث نمبر؛۷۲۲٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ، وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ، فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ، قَالَ : وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي، فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ، فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ. قَالَ : فَفَعَلَ، قَالَ : فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ، فَانْطَلَقَ، فَجَاءَ بِعُسٍّ ، فَقَالَ : اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ. فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ، وَاللَّبَنُ حَارٌّ. مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ - أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ - فَقَالَ : أَبَا سَعِيدٍ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ ؛ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ، يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ كَافِرٌ " وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ " وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ ". وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ. ثُمَّ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ، وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ، وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ. قَالَ : قُلْتُ لَهُ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7226

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا جنت کی مٹی کیسی ہوگی اس نے کہا اے ابوالقاسم!سفید باریک مشک کی طرح ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۷)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ : " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ : " صَدَقْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7227

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالص سفید باریک مشک۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۸)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ : " دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ، مِسْكٌ خَالِصٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7228

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے دیکھا کہ ابن صائد دجال ہے تو میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سنا وہ اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم اٹھا رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۳؛حدیث نمبر؛۷۲۲۹)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ : رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ : أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7229

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ"دخ"ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے قد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ حضرت سالم بن عبداللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف!(یہ ابن صیاد کا نام ہے)یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کردیتا۔ حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی(علیہم السلام)نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے تحقیق کہ نوح بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرا چکے ہیں لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان لو کہ وہ(دجال)بیشک کانا ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی کانے پن سے پاک ہے۔ ابن شہاب نے کہا مجھے عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ آپ نے دجال سے ڈراتے ہوئے اس دن فرمایا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جسے وہی پڑھ سکے گا جو اس کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا یا ہر مومن اسے پڑھ سکے گا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنے رب العزت کو مرنے تک ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٤؛حدیث نمبر؛۷۲۳۰)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ. فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاذَا تَرَى ؟ " قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ : يَا صَافِ - وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ - هَذَا مُحَمَّدٌ. فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". (... ) قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ : " إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ، أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ". وَقَالَ : " تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمُوتَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7230

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے یہاں تک کہ آپ نے ابن صیاد کو دیکھاجو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا"کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہوجاتا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤۵؛حدیث نمبر؛۷۲۳۱)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ : قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ - يَعْنِي فِي قَوْلِهِ : " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ " - قَالَ : " لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7231

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳۲)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7232

حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی تو ابن عمر نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصۃ دلانے والی تھی پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی تو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے تو نے ابن صائد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳۳)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ، فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ، فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ : رَحِمَكَ اللَّهُ، مَا أَرَدْتَ مِنِ ابْنِ صَائِدٍ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا " ؟.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7233

حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ابن صیاد سے دو مرتبہ ملاقات کی میں اس سے ملا تو میں نے بعض لوگوں سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو کہ وہ وہی(دجال)ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا تم نے مجھے جھوٹا کردیا اللہ کی قسم تم میں سے بعض نے مجھے خبر دی کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہوجائے گا پس وہ ان دنوں لوگوں کے گمان میں ایسا ہی ہے۔پھر ابن صیاد ہم سے باتیں کر کے جدا ہوگیا پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا تو اس کی آنکھ پھول چکی تھی تو میں نے اس سے کہا میں تیری آنکھ جو اس طرح دیکھ رہا ہوں یہ کب سے ہوئی ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا میں نے کہا تو جانتا ہی نہیں حالانکہ یہ تو تیرے سر میں موجود ہے اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیری لاٹھی میں اسے پیدا کر دے گا پھر اس نے گدھے کی طرح زور سے آواز نکالی اس سے زیادہ سخت آواز میں نے نہیں سنی تھی اور میرے بعض ساتھیوں نے اندازہ لگایا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی ہے حالانکہ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم تک نہ تھا یہاں تک کہ ام المومنین کے پاس حاضر ہوا تو انہیں یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا تیرا اس سے کیا کام تھا کیا تو جانتا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے پاس دجال کو بھیجنے والی سب سے پہلے وہ غصہ ہوگا جو اسے کسی پر آئے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ؛جلد٤ص۲۲٤٦؛حدیث نمبر؛۷۲۳٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ - يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ - حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : كَانَ نَافِعٌ يَقُولُ : ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ : فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ : هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ. قَالَ : قُلْتُ : كَذَبْتَنِي وَاللَّهِ، لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُكُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا، فَكَذَلِكَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ. قَالَ : فَتَحَدَّثْنَا، ثُمَّ فَارَقْتُهُ، قَالَ : فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَى وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي. قَالَ : قُلْتُ : لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ ؟ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ هَذِهِ. قَالَ : فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ، قَالَ : فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ، وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ، قَالَ : وَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا، فَقَالَتْ : مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَى النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ " ؟.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7234

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کانا نہیں اور مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤٧؛حدیث نمبر؛۷۲۳۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7235

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7236

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی نے اپنی امت کو کانے کذاب سے خبر دار کیا ہے سنو!وہ بےشک کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں اور اس کی آنکھوں کے درمیان"ک"ف"ر"لکھا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7237

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی آنکھوں کے درمیان"ک"ف"ر"لکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۸)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدَّجَّالُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر. أَيْ كَافِرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7238

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی ایک آنکھ کانی ہوگی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا پھر آپ نے اس کے ہجے کئے"ک" ف"ر" جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲۳۹)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ". ثُمَّ تَهَجَّاهَا : " ك ف ر، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7239

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کے بال گھنے ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی پس اس کی دوزخ(حقیقت میں)جنت اور اس کی جنت(حقیقت میں)دوزخ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۸؛حدیث نمبر؛۷۲٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7240

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی پس اگر کوئی آدمی اس کو پالے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے پھر اس سے پئے بیشک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور بیشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پھلی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ہر لکھنے والا اور جاہل مومن اسے پڑھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۹؛حدیث نمبر؛۷۲٤۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ، مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ ؛ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، وَلْيُغَمِّضْ، ثُمَّ لْيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ، فَيَشْرَبَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7241

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی پس تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرنا۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲٤۹؛حدیث نمبر؛۷۲٤۲)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَنَارُهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَمَاؤُهُ نَارٌ، فَلَا تَهْلِكُوا ". قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7242

حضرت عقبہ بن عمرو ابی مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں حضرت عقبہ بن عمرو بن ابی مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ حذیفہ بن یمان کی طرف گئے تو عقبہ نے ان سے کہا مجھ سے وہ حدیث روایت کریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی کہا بیشک دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہ نے حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤۳)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ : حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ. قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ، وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً فَنَارٌ تُحْرِقُ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ ". فَقَالَ عُقْبَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7243

حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا؟بیشک اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی اور ایک نہر آگ کی ہوگی پس جسے تم آگ تصور کرو گے وہ پانی ہوگا اور جسے تم پانی تصور کرو گے وہ آگ ہوگی پس تم میں سے جو اسے پالے اور پانی کا ارادہ کرے تو چاہے کہ وہ اسی سے پیے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ اسے پانی ہی پائے گا ابومسعود نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ، إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَاءٍ، وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ، فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ، وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ ؛ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً ". قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7244

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں دی بیشک وہ کانا ہوگا اور وہ جنت اور دوزخ کی مثل لے کر آئے گا پس جسے وہ جنت کہے گا وہ جہنم ہوگا اور میں تمہیں اس سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰؛حدیث نمبر؛۷۲٤۵)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ ؛ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ : إِنَّهَا الْجَنَّةُ، هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أَنْذَرْتُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7245

امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت نواس بن سمعان سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کم(یعنی گھٹایا)اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کم اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں۔ اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میری طرف سے کفایت کرنے والا ہے بیشک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بیشک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوں گیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور جب شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کوکھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کردیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہوجائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا۔ پھر وہ ایک بنجر زمین کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گےجیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں،پھر وہ ایک بھر پور جوانی والے آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ایک تیر کی مسافت پر رکھ دے گا،پھر وہ اس(مردہ)کو آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔دجال کے اسی افعال کے دوران اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا،وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے پسینے کے قطرے گریں گے اور جب اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا وہ مرے بغیر رہ نہ سکے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔پس حضرت مسیح(علیہ السلام)(دجال کو)طلب کریں گے،اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا،پس عیسیٰ(علیہ السلام)ان کے چہرے پر دست شفقت پھیریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ اسی دوران حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائے گا کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے،ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا اور اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھ محصور ہوجائیں گے،یہاں تک کہ ان میں کسی ایک کے لئے بیل کی سری بھی تم میں سے کسی ایک کے لئے آج کل کے سو دینار سے افضل و بہتر ہوگی۔پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا،وہ ایک جان کی موت کی طرح سب کے سب مرجائیں گے،پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت کی جگہ بھی یاجوج ماجوج کی علامات اور بدبو سے انہیں خالی نہ ملے گی۔پھر اللہ کے نبی عیسیٰ(علیہ السلام)اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کرلے جائیں گے اور جہاں اللہ چاہے وہ انہیں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا جس سے ہر مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا بالوں کا آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا۔ پھرزمین مثل باغ یا حوض کے دھل جائے گی۔پھر زمین سے کہا جائے گااپنے پھل کو اگا دے اور اپنی برکت کو لوٹا دے،پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی کہ ایک انار کو ایک پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے میں سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی گائے قبیلہ کے لوگوں کے لئے کافی ہوجائے گی اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی بکری پورے گھرانے کے لئے کفایت کرجائے گی،اسی دوران اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے تک پہنچ جائے گی،پھر ہر مسلمان اور ہر مومن کی روح قبض کرلی جائے گی اور برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے،جو گدھوں کی طرح کھلے بندوں جماع کریں گے،پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۰سے۲۲۵۵تک؛حدیث نمبر؛۷۲٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ، فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ. فَقَالَ : " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ، إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِئَةٌ، كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ، إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا، يَا عِبَادَ اللَّهِ، فَاثْبُتُوا ". قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ". قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ، أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : " لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ ". قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ، فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى ، وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ، فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ، لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ، فَيَقُولُ لَهَا : أَخْرِجِي كُنُوزَكِ. فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ، فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ ، رَمْيَةَ الْغَرَضِ ، ثُمَّ يَدْعُوهُ، فَيُقْبِلُ، وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ، فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ، وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى : إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي، لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ. وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، { وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ } فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ : لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ. وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ، فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ، حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ : أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، وَرُدِّي بَرَكَتَكِ. فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا ، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ ، حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ، وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7246

حضرت عبد الرحمن بن یزید بن جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں اس جملہ"یہاں ایک مرتبہ پانی تھا"کے بعد یوں ہے کہ پھر وہ چلیں گے حتیٰ کہ خمر کے پہاڑ کے پاس پہنچیں گے اور یہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے وہ کہیں گے ہم نے زمین والوں کو قتل کردیا آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے تیر ان کی طرف خون آلود لوٹاے گا۔ ابن حجر کی روایت میں یہ اضافہ ہے"میں نے ایسے بندوں کو نازل کیا جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہی"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ؛جلد٤ص۲۲۵۵؛حدیث نمبر؛۷۲٤۷)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ مَا ذَكَرْنَا، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " - لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ - ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ، وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيَقُولُونَ : لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ، هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ. فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ : " فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَيْ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7247

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں ہم سے ایک طویل حدیث بیان کی اس میں آپ نے فرمایا دجال نکلے گا اور مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا وہ مدینہ طیبہ کے قریب بعض بنجر زمینوں میں چلا جائے گا اس دن اس کے پاس ایک ایسا شخص آئے گا جو سب لوگوں سے بہتر ہوگا وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی وہ کہے گا یہ بتاؤ اگر میں اس شخص کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کروں تو تم میرے معاملے میں شک کرو گے؟وہ کہیں گے نہیں راوی کہتے ہیں پھر وہ اس کو قتل کر کے پھر زندہ کردے گا جب وہ شخص زندہ ہوجائے گا تو کہے گا اللہ کی قسم!مجھے تیرے بارے میں جو بصیرت اب حاصل ہوئی ہے وہ پہلے نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں پھر دجال اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا تو اس پر قابو نہ پاسکے گا۔ابو اسحاق کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ شخص حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲٤۸)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ - قَالَ : حَدَّثَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا قَالَ : " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ - أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ - فَيَقُولُ لَهُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ. فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ ؟ فَيَقُولُونَ : لَا. قَالَ : فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ. قَالَ : فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ ". {قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : يُقَالُ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. }

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7248

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲٤۹)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7249

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال نکلے گا تو مومنین میں ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوگا تو اس سے دجال کے پہرہ دار ملیں گے وہ اس سے کہیں گے کہاں کا ارادہ ہے وہ کہے گا میں اس کی طرف کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا خروج ہوا ہے۔ وہ اس سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے وہ کہے گا ہمارے رب میں تو کوئی پوشیدگی نہیں ہے تو وہ کہیں گے اسے قتل کردو پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے منع نہیں کیا کہ تم اس کے علاوہ کسی کو قتل نہ کرنا پس وہ اس کو دجال کی طرف لے جائیں گے جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ دجال ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا پھر دجال اس کا سر پھاڑ نے کا حکم دے گا تو کہے گا اسے پکڑ لو اور اس کا سر پھاڑ ڈالو پھر اس کی کمر اور پیٹ پر سخت ضرب لگوائے گا پھر دجال اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا تو مسیح الکذاب ہے پھر دجال اسے آرے کے ساتھ چیرنے کا حکم دے گا اور اس کی مانگ سے شروع کر کے اس کے دونوں پاؤں تک کو آرے سے چیر کر جدا کردیا جائے گا پھر دجال اس کے جسم کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر کہے گا کھڑا ہوجا تو وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہوجائے گا پھر اس سے کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا میں تیرے بارے میں یقین حاصل کرنا چاہتا تھا پھر وہ کہے گا اے لوگو یہ دجال میرے بعد کسی بھی اور آدمی سے ایسا نہ کرسکے گا۔پھر دجال اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان کی جگہ تانبے کی ہوجائے گی اور اسے ذبح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملے گا پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر پھینک دے گا تو وہ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈال دیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ، وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ؛جلد٤ص۲۲۵٦؛حدیث نمبر؛۷۲۵۰)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ - مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ ؛ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ، فَيَقُولُونَ لَهُ : أَيْنَ تَعْمِدُ ؟ فَيَقُولُ : أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ. قَالَ : فَيَقُولُونَ لَهُ : أَوَمَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا ؟ فَيَقُولُ : مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ. فَيَقُولُونَ : اقْتُلُوهُ. فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ ؟ قَالَ : فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ، فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ، فَيَقُولُ : خُذُوهُ، وَشُجُّوهُ. فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا، قَالَ : فَيَقُولُ : أَوَمَا تُؤْمِنُ بِي ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ. قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، قَالَ : ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : قُمْ. فَيَسْتَوِي قَائِمًا، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : أَتُؤْمِنُ بِي ؟ فَيَقُولُ : مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً. قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ. قَالَ : فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ، فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا، فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ : فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَيَقْذِفُ بِهِ، فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7250

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا آپ نے فرمایا تم اس کے بارے میں کیوں فکر کرتے ہو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ طعام اور دریا ہوں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۷؛حدیث نمبر؛۷۲۵۱)

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ، قَالَ : " وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ ؟ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ ". قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ. قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7251

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر کسی نے نہیں پوچھا راوی نے کہا آپ نے کیا پوچھا تھا؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے عرض کیا تھا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اس سے زیادہ ذلیل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵۲)

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، قَالَ : " وَمَا سُؤَالُكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ. قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7252

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں ذکر کی ہیں برید کی سند میں یہ اضافہ ہے"اے میرے بیٹے"- (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ : فَقَالَ لِي : أَيْ بُنَيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7253

حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسی ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھاعنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں(یعنی ان کے مشابہ ہوں گے)تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا حتی کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بےعقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش و عشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھالےگا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بےہوش ہوجائے گا اور دوسرے لوگ بھی بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا گویا وہ شبنم ہے یا سایہ جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛ بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲۵۸؛حدیث نمبر؛۷۲۵٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ، تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ - أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا - لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا، إِنَّمَا قُلْتُ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا، يُحَرَّقُ الْبَيْتُ، وَيَكُونُ، وَيَكُونُ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ - لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا - فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ، لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ ". قَالَ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ، وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ : أَلَا تَسْتَجِيبُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا، قَالَ : وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ : فَيَصْعَقُ ، وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ - أَوْ قَالَ : يُنْزِلُ اللَّهُ - مَطَرًا، كَأَنَّهُ الطَّلُّ ، أَوِ الظِّلُّ - نُعْمَانُ الشَّاكُّ - فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى { فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ }، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ، { وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ }. قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ . فَيُقَالُ : مِنْ كَمْ ؟ فَيُقَالُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ. قَالَ : فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7254

حضرت عروہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو عبداللہ بن عمرو سے کہتے ہوئے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں علامات پر قائم ہوگی تو انہوں نے کہا میں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم سے کوئی بھی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو صرف یہی کہا تھا کہ تم تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے گویا کہ گھر جل گیا حضرت شعبہ نے اسی طرح یا اس کی مثل روایت کی عبداللہ بن عمرو نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں نکلے گا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر کے ہی چھوڑے گی محمد بن جعفر نے کہا شعبہ نے یہ حدیث مجھے بار بار بیان کی اور میں نے بھی ان کے سامنے یہ حدیث پیش کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۵)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا قُلْتُ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا - فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ. قَالَ شُعْبَةُ : هَذَا أَوْ نَحْوَهُ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7255

حضررت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث یاد کی جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قیامت کی ابتدائی علامت میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہو دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7256

حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس مدینہ میں مسلمانوں میں سے تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے پس انہوں نے مروان سے سنا اور وہ علامات قیامت کے بارے میں روایات بیان کر رہا تھا بیشک ان میں سب سے پہلی علامت خروج دجال ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا مروان نے کچھ بھی نہیں کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث یاد کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کے بعد بھولا نہیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے باقی حدیث حسب سابق کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۷)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7257

حضرت ابوزرعہ کہتے ہیں لوگوں نے مروان کے سامنے قیامت کا تذکرہ کیا حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا....پھر انہوں نے حسب سابق حدیث بیان کی البتہ انہوں نے اس میں چاشت کا ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠؛حدیث نمبر؛۷۲۵۸)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7258

حضرت عامر بن شراحیل شعبی سے روایت ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس،ضحاک بن قیس کی بہن سے پوچھا اور وہ ابتدائی ہجرت کرنے والیوں میں سے تھی کہ مجھے ایسی حدیث روایت کرو جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو اور اس میں کسی اور کا واسطہ بیان نہ کرنا۔ حضرت فاطمہ نے کہا اگر تم چاہتے ہو تو میں ایسی حدیث روایت کرتی ہوں انہوں نے حضرت فاطمہ سے کہا ہاں ایسی حدیث مجھے بیان کرو تو انہوں نے کہا میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ ان دنوں قریش کے عمدہ نوجوان میں سے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلے جہاد میں زخمی ہوئے تھے(فرماتی ہیں)جب میں خاوند کے بغیر رہ گئی(امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ بیوہ ہوگئی بلکہ طلاق کی وجہ سے خاوند کے بغیر رہ گئیں۔١٢ہزاروی)تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اصحاب رسول کے ساتھ میرے ہمراہ تشریف لائے اور مجھے پیغام نکاح دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے آزاد کردہ غلام اسامہ بن زید کے لئے پیغام نکاح دیا اور میں یہ حدیث سن چکی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسامہ سے محبت کرے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے(اس معاملہ میں)گفتگو کی تو میں نے عرض کیا میرا معاملہ آپ کے سپرد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے چاہیں میرا نکاح کردیں۔ آپ نے فرمایا ام شریک کے ہاں منتقل ہوجاؤ اور ام شریک انصار میں سے غنی عورت تھیں اور اللہ کے راستہ میں بہت خرچ کرنے والی تھیں اس کے ہاں مہمان آتے رہتے تھے تو میں نے عرض کیا میں عنقریب ایسا کروں گی تو آپ نے فرمایا تو ایسا نہ کر کیونکہ ام شریک ایسی عورت ہیں جن کے پاس مہمان کثرت سے آتے رہتے ہیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تجھ سے تیرا دو پٹہ گرجائے یا تیری پنڈلی سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرا وہ بعض حصہ دیکھ لےجسے تو ناپسند کرتی ہو بلکہ تو اپنے چچا زاد عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا اور وہ قریش کے خاندان بن فہر سے تعلق رکھتے ہیں(اور وہ اسی خاندان سے تھے جس سے فاطمہ بنت قیس تھیں)میں ان کے پاس منتقل ہوگئی جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نداء دینے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا نماز کی جاعت ہونے والی ہے پس میں مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی اس حال میں کہ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کی پشتوں سے ملی ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کرلی تو مسکراتے ہوئے منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا ہر آدمی اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھا رہے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی آدمی تھے پس وہ آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے اور مجھے ایک بات بتائی جو اس خبر کے موافق ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں پہلے ہی بتاچکا ہوں۔ تمیم داری نے مجھے خبر دی کہ وہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے پس انہیں ایک ماہ تک بحری موجیں دھکیلتی رہیں پھر وہ سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف پہچنے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ وہ نہ پہچان سکے تو انہوں نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا اے قوم اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے۔ جب اس نے ہمارا نام لیا تو ہم گھبرا گئے کہ وہ کہیں جن ہی نہ ہو پس ہم جلدی جلدی چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے وہاں ایک بہت بڑا انسان تھا کہ اس سے پہلے ہم نے اتنا بڑا آدمی اتنی سختی کے ساتھ بندھا ہوا کہیں نہ دیکھا تھا اس کے دونوں ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے؟اس نے کہا تم میری خبر معلوم کرنے پر قادر ہو ہی گئے ہو تو تم ہی بتاؤ کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے پس جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پس موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں پھر ہمیں تمہارے اس جزیرہ تک پہنچا دیا پس ہم چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوئے اور جزیرہ کے اندر داخل ہوگئے تو ہمیں بہت موٹے اور گھنے بالوں والا جانور ملا جس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ پہچانا نہ جاتا تھا ہم نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو کون ہے اس نے کہا میں جساسہ ہوں ہم نے کہا جساسہ کیا ہوتا ہے اس نے کہا گرجے میں اس آدمی کا قصد کرو کیونکہ وہ تمہاری خبر کا بہت شوق رکھتا ہے پس ہم تیری طرف جلدی سے چلے اور ہم گھبرائے اور اس (جانور)سے پر امن نہ تھے کہ وہ جن ہو اس نے کہا مجھے بیسان کے باغ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا میں اس کی کھجوروں کے پھل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ہم نے اس سے کہا ہاں پھل آتا ہے اس نے کہا عنقریب یہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ درخت پھل نہ دیں گے اس نے کہا مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں خبر دو ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس میں پانی ہے ہم نے کہا اس میں پانی کثرت کے ساتھ موجود ہے اس نے کہا عنقریب اس کا سارا پانی ختم ہوجائے گا اس نے کہا مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ ہم نے کہا اس کی کس چیز کے بارے میں تم معلوم کرنا چاہتے ہو اس نے کہا کیا اس چشمہ میں وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم نے کہا ہاں یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں پھر اس نے کہا مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں خبر دو کہ وہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے یثرب(مدینہ طیبہ)تشریف لائے ہیں اس نے کہا کیا عرب ان سے لڑتے ہیں؟ہم نے کہا ہاں لڑتے ہیں اس نے پوچھا وہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ تو ہم نے بتایا کہ وہ مقابلہ کرنے والوں پر غالب آتے ہیں اور وہ لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس نے کہا کیا ایسا ہوچکا ہے ہم نے کہا ہاں اس نے کہا ان کے حق میں یہ بات بہتر ہے کہ وہ اس کے تابعدار ہوجائیں اور میں تمہیں اپنے بارے میں خبر دیتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی پس میں نکلوں گا اور میں زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور مدینہ طبیہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کردیا جائے گا اور اس میں داخل ہونے سے مجھے روکا جائے گا اور اس کی ہر گھاٹی پر فرشتے پہرہ دار ہوں گے۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو منبر پر چبھویا اور فرمایا یہ طبیہ ہے یہ طبیہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ہے کیا میں نے تمہیں یہ باتیں پہلے ہی بیان نہ کردیں تھیں لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا بیشک مجھے تمیم کی اس خبر سے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اس حدیث کے موافق ہے جو میں نے تمہیں دجال اور مدینہ اور مکہ کے بارے میں بیان کی تھی آگاہ رہو دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے،نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کرلی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ، وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالْإِيمَانِ، وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ، وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ، وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ؛جلد٤ص۲۲٦٠سے۲۲٦٤تک؛حدیث نمبر؛۷۲۵۹)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ ، شَعْبُ هَمْدَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ - فَقَالَ : حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِهِ. فَقَالَتْ : لَئِنْ شِئْتَ لَأَفْعَلَنَّ. فَقَالَ لَهَا : أَجَلْ حَدِّثِينِي. فَقَالَتْ : نَكَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ، فَأُصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ ". فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : أَمْرِي بِيَدِكَ، فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ. فَقَالَ : " انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ". وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ، فَقُلْتُ : سَأَفْعَلُ. فَقَالَ : " لَا تَفْعَلِي، إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ، أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ، فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ، وَهُوَ مِنَ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ - فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِي - مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُنَادِي : الصَّلَاةَ جَامِعَةً. فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَاءِ الَّتِي تَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ : " لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ ". ثُمَّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ، فَبَايَعَ، وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ ؛ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقَالُوا : وَيْلَكِ، مَا أَنْتِ ؟ فَقَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قَالُوا : وَمَا الْجَسَّاسَةُ ؟ قَالَتْ : أَيُّهَا الْقَوْمُ، انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ. قَالَ : لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا ؛ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً. قَالَ : فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا، مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ. قُلْنَا : وَيْلَكَ، مَا أَنْتَ ؟ قَالَ : قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي، فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ ، فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ، فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا، فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ، كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقُلْنَا : وَيْلَكِ، مَا أَنْتِ. فَقَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ. قُلْنَا : وَمَا الْجَسَّاسَةُ ؟ قَالَتِ : اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ ؛ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ. فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا، وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً. فَقَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ. قُلْنَا : عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ ؟ قَالَ : أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ يُثْمِرُ ؟ قُلْنَا لَهُ : نَعَمْ. قَالَ : أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ. قَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ. قُلْنَا : عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ ؟ قَالَ : هَلْ فِيهَا مَاءٌ ؟ قَالُوا : هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ. قَالَ : أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ. قَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ. قَالُوا : عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ ؟ قَالَ : هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ ؟ قُلْنَا لَهُ : نَعَمْ، هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا. قَالَ : أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ ؟ قَالُوا : قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ : أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ. قَالَ : كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ. قَالَ لَهُمْ : قَدْ كَانَ ذَلِكَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ. قَالَ : أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي ؛ إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجَ، فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدَعَ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً - أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا - اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا ". قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ : " هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ ؟ - فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ - فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ، وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ، أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّأْمِ، أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ. لَا، بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ ". وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ. قَالَتْ : فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7259

حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کا تحفہ دیا اور انہیں ابن طاب کی کھجوریں کہا جاتا تھا اور مجھے جوکا ستو پلایا تو میں نے ان سے مطلقہ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ اپنی عدت کہاں گزارے؟انہوں نے کہا میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے اہل میں عدت گزارنے کی اجازت دی۔ فرماتی ہیں پھر لوگوں میں ندا دی گئی کہ نماز کی جماعت کھڑی ہونے والی ہے تو میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اگلی صف میں تھی اور وہ مردوں کی آخری صف کے ساتھ تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمیم داری کے چچا زاد سمندر میں سوار ہوئے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے کہا گویا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی کو زمین کی طرف جھکا کر فرما رہے ہیں کہ یہ طیبہ یعنی مدینہ منورہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ : رُطَبُ ابْنِ طَابٍ ، وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا : أَيْنَ تَعْتَدُّ ؟ قَالَتْ : طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا، فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي. قَالَتْ : فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً. قَالَتْ : فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ. قَالَتْ : فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ، وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ. قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَقَالَ : " إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ : فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَقَالَ : " هَذِهِ طَيْبَةُ ". يَعْنِي الْمَدِينَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7260

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت تمیم داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ سمندر میں سوار ہوئے اور ان کی کشتی راستہ سے ہٹ گئی تو اس نے انہیں ایک جزیرہ میں گرایا یہ اس جزیرے میں پانی تلاش کرنے کے لئے نکلے اور وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال کھینچ رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے کہا اگر مجھے نکلنے کی اجازت دیدی گئی تو میں مدینہ طیبہ کے علاوہ تمام شہروں کو روند ڈالوں گا پھر رسول اللہ حضرت تمیم داری کو لوگوں کی طرف لے گئے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے یہ سارا واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا یہ طیبہ ہے اور وہ دجال ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۱)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ، فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ، فَسَقَطَ إِلَى جَزِيرَةٍ، فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَاءَ، فَلَقِيَ إِنْسَانًا يَجُرُّ شَعَرَهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَدْ وَطِئْتُ الْبِلَادَ كُلَّهَا، غَيْرَ طَيْبَةَ، فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَحَدَّثَهُمْ، قَالَ : " هَذِهِ طَيْبَةُ، وَذَاكَ الدَّجَّالُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7261

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوے اور آپ نے فرمایا اے لوگو!مجھ سے تمیم داری نے بیان کیا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ سمندر میں کشتی میں تھے تو وہ ٹوٹ گئی بعض ان میں سے بعض کشتیوں پر سوار ہوکر سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف جا نکلے....اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۲)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ، حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ، فَانْكَسَرَتْ بِهِمْ، فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ، فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7262

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ ہر شہر میں جاے گا اور اس کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتے صف باندھے ہوئے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں وہ دلدل والی زمین میں اترے گا تو مدینہ طیبہ میں تین بار زلزلہ آے گا اور اس سے ہر کافر منافق نکل کر دجال کی طرف جاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦۵؛حدیث نمبر؛۷۲٦۳)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو - يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ - عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ تَحْرُسُهَا، فَيَنْزِلُ بِالسَّبَخَةِ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7263

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ دجال اپناخیمہ جرف کی شور زمین میں جاکر لگاے گا اور فرمایا ہر منافق مرد اور عورت اس کی طرف نکلیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛باب قصة الجساسة؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَيَأْتِي سَبَخَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ". وَقَالَ : " فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7264

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار یہودی سبز چادریں اوڑھے ہوئے دجال کے پیچھے جائیں گے(پیروی کریں گے) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛ترجمہ؛دجال کے بارے میں بقیہ احادیث؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۵)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا، عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7265

حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ دجال سے پہاڑوں میں بھاگیں گے۔حضرت ام شریک نے کہا یارسول اللہ!اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟آپ نے فرمایا وہ بہت کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦٦)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ ". قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " هُمْ قَلِيلٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7266

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۷)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7267

حضرت ابو الدھما،اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہما ایک گروہ میں تھے وہ کہتے تھے انہوں نے کہا تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مجھ سے زیادہ حاضر نہ ہوے اور آپ کی حدیث کو مجھ سے زیادہ نہیں جانتے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قیامت تک کے درمیان دجال سے بڑی کوئی مخلوق نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦٦؛حدیث نمبر؛۷۲٦۸)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَهْطٍ، مِنْهُمْ أَبُو الدَّهْمَاءِ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، قَالُوا : كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ نَأْتِي عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونِي إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا بِأَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَا أَعْلَمَ بِحَدِيثِهِ مِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7268

تین آدمی جن میں حضرت قتادہ بھی تھے فرماتے ہیں ہم ہشام بن عامر کے پاس سے گزرکر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس جارہے تھے...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ دجال سے بڑا کوئی معاملہ(فتنہ)نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲٦۹)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَلَاثَةِ رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالُوا : كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُخْتَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7269

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ چیزوں(کے ظہور)سے پہلے اعمال میں جلدی کرو،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،دھواں،دجال،دابۃ(الأرض)تم میں سے کسی ایک کی موت یا سب کی موت(یعنی قیامت) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷۰)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7270

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو،دجال،دھواں،دابۃالارض،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،عام موت یا تم میں سے کسی ایک کی موت۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷۱)

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7271

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابٌ فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ؛جلد٤ص۲۲٦۷؛حدیث نمبر؛۷۲۷٢)

وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7272

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ کے زمانے میں عبادت کا اجر میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ؛ترجمہ؛فتنہ کے دور میں عبادت کی فضیلت؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۳)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7273

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷٤)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7274

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت قائم ہوگی جب صرف برے لوگ رہ جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۵)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7275

حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى، وَهُوَ يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7276

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو دو انگلیوں کی طرح(متصل)مبعوث کیا گیا ہے حضرت شعبہ فرماتے تھے میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے بڑی ہے راوی کہتےہیں مجھے معلوم نہیں یہ جملہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے یا از خود فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ". قَالَ شُعْبَةُ : وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ : كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7277

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح(متصل) مبعوث کیا گیا حضرت شعبہ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملاکر اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۷۸)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، وَأَبَا التَّيَّاحِ يُحَدِّثَانِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ". وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7278

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٢٧٨کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۷۹)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7279

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٢٧٨کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۸؛حدیث نمبر؛۷۲۸۰)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَمْزَةَ - يَعْنِي الضَّبِّيَّ - وَأَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7280

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا انہوں نے درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۱)

وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ". قَالَ : وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7281

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں اعراب(دیہاتی)جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کم عمر والے کی طرف دیکھ کر فرماتے اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے تمہاری قیامت(موت)اجاے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ فَقَالَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7282

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کب قائم ہوگی آپ کے پاس انصار کا ایک لڑکا بیٹھا تھا جس کا نام محمد تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو ہوسکتا اس کے بڑھاپے سے پہلے(تمہاری)قیامت(موت)آجاے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲٦۹؛حدیث نمبر؛۷۲۸۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ، فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7283

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا قیامت کب قائم ہوگی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ازد شنؤئہ(قبیلے)کے ایک لڑکے کی طرف دیکھا اور فرمایا اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت ہوجائے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ لڑکا ان دنوں میرے ہم عمروں میں سے تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸٤)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ : " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ". قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : ذَاكَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7284

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا(غلام)جو میرا ہم عمر تھا،گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو یہ ہر گز بوڑھا نہیں ہوگا حتیٰ کہ قیامت آجائے(ان لوگوں کی موت آجائے گی) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸۵)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7285

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب قیامت قائم ہوگی تو کوئی شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا ابھی وہ اس برتن کے منہ تک نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور دو شخص باہم کپڑے کا سودا کر رہے ہوں گے اور ان کے سودا کرنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی اور کوئی شخص اپنا حوض درست کر رہا ہوگا تو اس کے ہٹنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔(یعنی موت) (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸٦)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ ، فَمَا يَصِلُ الْإِنَاءُ إِلَى فِيهِ حَتَّى تَقُومَ، وَالرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ، فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّى تَقُومَ، وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِي حَوْضِهِ، فَمَا يَصْدُرُ حَتَّى تَقُومَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7286

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ!چالیس دن؟انہوں نے فرمایا میں کچھ کہ نہیں سکتا انہوں نے فرمایا چالیس مہینے؟انہوں نے فرمایا میں کہ نہیں سکتا انہوں نے پوچھا چالیس سال؟فرمایا میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ (فرمایا)پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک ہڈی کے علاوہ انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی اور وہ دم کی ہڈی ہے اور قیامت کے دن اسی سے تخلیق ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۰؛حدیث نمبر؛۷۲۸۷)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ". قَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَرْبَعُونَ يَوْمًا ؟ قَالَ : أَبَيْتُ. قَالُوا : أَرْبَعُونَ شَهْرًا ؟ قَالَ : أَبَيْتُ. قَالُوا : أَرْبَعُونَ سَنَةً ؟ قَالَ : أَبَيْتُ. " ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ". قَالَ : " وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7287

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی انسان کے تمام جسم کو کھا لے گی البتہ دم کی ہڈی کا سرا باقی رہے گا اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اس سے دوبارہ بنایا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۱؛حدیث نمبر؛۷۲۸۸)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7288

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی انسان کے تمام جسم کو کھالے گی البتہ دم کی ہڈی کا سرا باقی رہے گا اسی سے انسان پیدا کیا گیا اور اس سے دوبارہ بنایا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا انسان میں ایک ہڈی ہے جس کو زمین کبھی نہیں کھاتی قیامت کے دن اسی سے جسم کی ترکیب ہوگی صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کونسی ہڈی ہے؟فرمایا دم کی ہڈی کا سرا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ؛بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۷۱؛حدیث نمبر؛۷۲۸۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا، فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالُوا : أَيُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَجْبُ الذَّنَبِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fitan, Hadees No. 7289

Muslim Shareef : Kitabul Fitan

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْفِتَنِ وَأَشْرَاطُ السَّاعَةِ

|

•