asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabuz Zohde

From 7290 to 7386

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7290

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ منورہ)کے بلند مقام کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار میں سے گزرے اور لوگ آپ کے دونوں طرف تھے آپ ایک چھوٹے کانوں والے بکری کے مردہ بچے کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کو اٹھاتے ہوئے اس کے کان کو پکڑا پھر فرمایا تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ یہ اس کے لیے ایک درہم کے بدلے ہو؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم اسے کسی چیز کے بدلے لیناپسند نہیں کرتے اور ہم اسے کیا کریں گے آپ نے فرمایاکیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے لیے ہو؟انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں تو مردار ہونے کی صورت میں کیاکیفیت ہوگی،آپ نے فرمایا پس اللہ کی قسم!البتہ دنیا اللہ کے ہاں اس سے زیادہ بےوقعت ہے جس قدر یہ تمہارے لیے بے قیمت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۱)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ، وَالنَّاسُ كَنَفَيْهِ ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ، فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ ؟ " فَقَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ ؟ " قَالُوا : وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ ؛ لِأَنَّهُ أَسَكُّ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ ؟ فَقَالَ : " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ "

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7291

مزید دو سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ۷۲۹۱ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں ثقفی کی روایت میں یہ ہے کہ اگر یہ زندہ ہوتا تو کانوں کا چھوٹا ہونا اس میں عیب تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۲)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِيَانِ الثَّقَفِيَّ - عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ : فَلَوْ كَانَ حَيًّا، كَانَ هَذَا السَّكَكُ بِهِ عَيْبًا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7292

حضرت مطرف اپنےوالد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ الھکم التکاثر(سورت)پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا انسان کہتا ہے میرا مال،میرا مال فرمایا اے بنی آدم!تیرے مال میں سے(حقیقتاً)تیرا وہی مال ہے جس کو تو نے کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٣)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : " { أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ } "، قَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي. قَالَ : وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ؟ "

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7293

ایک اور سند سے حضرت مطرف اپنے والد سے حدیث نمبر ۷۲۹٤کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَمَّامٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7294

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال اس کے لیے اس کے مال میں سے تین مال ہیں جس کو کھا کر فنا کردیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا(اللہ کے راستے میں)عطا کر کے جمع کر لیا اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کو چھوڑ کر جانے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٥)

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِي مَالِي. إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ : مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى. وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7295

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ۷۲۹٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٦)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7296

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں پس دو واپس آجاتی ہے اور ایک باقی رہ جاتی ہے اس کے پیچھے اس کے گھر والے اور اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہےپس اس کے گھر والے اور مال واپس آجاتا ہے اور عمل(آگے جانے کے لیے)باقی رہ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ، يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ، وَمَالُهُ، وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7297

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی(یا ہمیں خبر دی)کہ حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوئ کے حلیف تھے،بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے انہوں نے بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا کہ وہاں سے جزیہ لے کر آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی کو امیر مقرر کیا تھا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے انصار نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کے بارے میں سنا تو صبح کی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو وہ آپ کے سامنے ہوے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر تبسم فرمایا پھر فرمایا میرا خیال ہے تم لوگوں نے سنا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے کوئی چیز لے کر آئے ہیں انہوں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ!آپ نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہارے لیے باعث مسرت ہو پس اللہ کی قسم!مجھے تم پر محتاجی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر اس بات کا ڈر ہے کہ تم پر دنیا کو اس طرح پھیلا دیا جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر پھیلا دیا گیا تھا اور تم اس میں رغبت کرو گے جس طرح ان لوگوں نے رغبت کی تھی تو وہ تمہیں ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے ان کو ہلاک کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹۸)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ - وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ؛ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ : " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَأَبْشِرُوا، وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ، كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7298

مزید دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٧٢٩٨ کے مثل مروی ہے البتہ صالح کی حدیث میں(تھلکم کی جگہ)"وتلھیکم کما الھتھم"کے الفاظ ہیں یعنی تمہیں غافل کردے جس طرح ان کو غافل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٤؛حدیث نمبر؛۷۲۹۹)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ " وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7299

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم پر فارس اور روم کو فتح کر دیا جائے گا تو تم کونسی قوم ہوگے(تمہارا حال کیا ہوگا) حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم اسی طرح کہیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے علاوہ ہے؟تم ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے پھر ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو گے پھر ایک دوسرے سے دشمنی کروگے یا اس طرح کی کوئی اور بات،پھر تم مسکین اور مہاجرین میں جاکر ان میں سے بعض کو بعض کا امیر بناؤ گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٤؛حدیث نمبر؛۷۳۰۰)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ - هُوَ أَبُو فِرَاسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ ؟ " قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، تَتَنَافَسُونَ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7300

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اس کو دیکھے جسے اس پر مالی اور جسمانی اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں جسے اس پر فضیلت دی گئی ہے اس کو دیکھے جو اس سے نچلے درجے میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۱)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ ؛ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ، مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7301

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٠١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7302

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہے اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ(طریقہ)اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو۔ ابو معاویہ کی روایت میں"علیکم"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۳)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ؛ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : " عَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7303

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے(١) کوڑھی(٢)گنجا(٣)اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کے لیے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا وہ کوڑھی آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ تجھے کس چیزسے(زیادہ پیار)ہے؟وہ کوڑھی کہنے لگا میرا خوبصورت رنگ ہو خوبصورت جلد ہو اور مجھ سے وہ بیماری چلی جاے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کوڑھی(کے جسم پر)ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری چلی گئی اور اس کو خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کردی گئی۔ فرشتے نے کہا تجھے مال کونسا زیادہ پیارا ہے؟وہ کہنے لگا اونٹ یا اس نے کہا گائے۔(راوی اسحاق کو شک ہے)لیکن ان دونوں میں سے(یعنی کوڑھی اور گنجے میں ایک نے)اونٹ کہا اور دوسرے نے گائے کہا آپ نے نے فرمایا اسے دس مہینے کی گابھن اونٹی دے دی گئی پھر فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ گنجے آدمی کے پاس آیا اور اسے کہا تجھے کونسی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے وہ کہنے لگا خوبصورت بال اور گنجے پن کی یہ بیماری کہ جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں مجھ سے چلی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری چلی گئی اور اسے خوبصورت بال عطا کردیئے گئے فرشتے نے کہا تجھے سب سے زیادہ مال کونسا پسند ہے وہ کہنے لگا گائے پھر اسے حاملہ گائے عطا کردی گئی اور فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ اندھے آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا تجھے کونسی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے وہ اندھا کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کی بینائی اسے واپس لوٹا دی فرشتے نے کہا تجھے مال کونسا سب سے زیادہ پسند ہے وہ کہنے لگا بکریاں تو پھر اسے ایک گابھن بکری دے دی گئی۔ چناچہ پھر ان سب نے بچے جنے آپ نے فرمایا کوڑھی آدمی کا اونٹوں سے وادی بھر گیا اور گنجے آدمی کی گایوں کی ایک وادی بھر گئی اور اندھے آدمی کا بکریوں کا ریوڑ بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر (کچھ عرصہ کے بعد)وہی فرشتہ اپنی دوسری شکل و صورت میں کوڑھی آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا میں ایک مسکین آدمی ہوں اور سفر میں میرا سارا زادراہ ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے میں آج(اپنی منزل مقصود پر)سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد کے نہیں پہنچ سکتا تو میں تجھ سے اسی کے نام پر سوال کرتا ہوں کہ جس نے تجھے خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور اونٹ کا مال عطا فرمایا(مجھے صرف ایک اونٹ دے دے)جو میرے سفر میں میرے کام آئے وہ کوڑھی کہنے لگا(میرے اوپر)بہت زیادہ حقوق ہیں،فرشتے نے کہا میں تجھے پہچانتا ہوں کیا تو کوڑھی اور محتاج نہیں تھا،تجھ سے لوگ نفرت کرتے تھے پھر اللہ پاک نے تجھے یہ مال عطا فرمایا وہ کوڑھی کہنے لگا:یہ مال تو مجھے میرے باپ دادا سے وراثت میں ملا ہے، فرشتے نے کہا:اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پھر اسی طرح کر دے جس طرح کہ تو پہلے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ اپنی اسی شکل میں گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا کہ جو کوڑھی سے کہا تھا،پھر اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا کہ جو کوڑھی نے جواب دیا تھا،فرشتہ نے اس سے بھی یہی کہا کہ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس طرح کر دے جس طرح کہ تو پہلے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر فرشتہ اپنی اسی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام اسباب وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور میں آج سوائے اللہ کے مدد کے اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا میں تجھ سے اسی اللہ کے نام پر کہ جس نے تجھے بینائی عطاکی،ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جو کہ مجھے میرے سفر میں کام آئے،وہ اندھا کہنے لگا کہ میں بلاشبہ اندھا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی واپس لوٹا دی۔اللہ کی قسم!میں آج تمہارے ہاتھ نہیں روکوں گا۔تم جو چاہو میرے مال میں سے لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو ۔تو فرشتے نے اندھے سے کہا:تم اپنا مال رہنے دو کیونکہ تم تینوں آدمیوں کو آزمایا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوگیا ہے اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵،۲۲۷٦؛حدیث نمبر؛۷۳۰٤)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الْأَبْرَصَ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ. قَالَ : فَمَسَحَهُ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ، وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا، وَجِلْدًا حَسَنًا، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الْإِبِلُ - أَوْ قَالَ : الْبَقَرُ، شَكَّ إِسْحَاقُ، إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ، أَوِ الْأَقْرَعَ، قَالَ أَحَدُهُمَا : الْإِبِلُ، وَقَالَ الْآخَرُ : الْبَقَرُ - قَالَ : فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا. قَالَ : فَأَتَى الْأَقْرَعَ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : شَعَرٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ. قَالَ : فَمَسَحَهُ، فَذَهَبَ عَنْهُ، وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الْبَقَرُ. فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا. قَالَ : فَأَتَى الْأَعْمَى، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ. قَالَ : فَمَسَحَهُ، فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الْغَنَمُ. فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا ، فَأُنْتِجَ هَذَانِ، وَوَلَّدَ هَذَا ، قَالَ : فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ. قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ، قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ، وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ، وَالْمَالَ - بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي. فَقَالَ : الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ. فَقَالَ لَهُ : كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ. فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ. قَالَ : وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ. قَالَ : وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ، وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً ؛ أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي. فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ. فَقَالَ : أَمْسِكْ مَالَكَ ؛ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ، فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ، وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7304

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے کہ آپ کے صاحبزادے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آے جب حضرت سعد نے ان کو دیکھا تو فرمایا اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ،وہ اترے اور کہا آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں میں ہیں اور لوگوں کو آپ نے چھوڑ دیا کہ وہ آپس میں بادشاہی کے معاملے میں جھگڑ رہے ہیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے میں ضرب لگائی اور فرمایا خاموش رہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بےشک اللہ تعالیٰ متقی،مالدار اور متقی گوشہ نشین کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۷؛حدیث نمبر؛۷۳۰۵)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ - قَالَ عَبَّاسٌ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ، فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ. فَنَزَلَ، فَقَالَ لَهُ : أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ، وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ. فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ، فَقَالَ : اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7305

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں اہل عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر اندازی کی ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے ہمارے پاس کھانے کے لئے کھانا نہیں تھا صرف انگور کے پتے اور ببول کا درخت تھا حتیٰ کہ ہم میں سے ایک(یعنی سب)بکری کی میگنیوں کی طرح قضاے حاجت کرتے پھر بنو اسد مجھے دین کے معاملے میں کوستے ہیں اس طرح تو میں خسارے میں ہوا اور میرے اعمال ضائع ہوگئے۔ ابن نمیر کی روایت میں"اذا"کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ، إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ ، لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِي. وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِذَنْ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7306

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ہم میں سے ایک کی قضائے حاجت بکری کی مینگنی کی طرح ہوتی اس کے ساتھ کچھ بھی ملا ہوا نہ ہوتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۸؛حدیث نمبر؛۷۳۰۷)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الْعَنْزُ، مَا يَخْلِطُهُ بِشَيْءٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7307

حضرت خالد بن عمیر عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عتبہ بن غزوان نے ہمیں ایک خطبہ دیا۔انہوں نے(سب سے پہلے)اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا اما بعد!دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ جس طرح ایک برتن میں کچھ بچا ہوا پانی باقی رہ جاتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم لوگ اس دنیا سے ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو کہ جس کو پھر کوئی زوال نہیں۔لہذا تم اپنے نیک اعمال آگے بھیج کر جاؤ کیونکہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جہنم کے ایک کنارے سے اس میں ڈالا جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا پھر بھی وہ جہنم کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔اللہ کی قسم!دوزخ کو بھر دیا جائے گا کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہم سے یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ جنت کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چالیس سال کی مسافت ہے اور جنت پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی اور تو نے مجھے دیکھا ہوگا کہ میں ساتوں میں سے ساتواں ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارا کھانا سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔مجھے ایک چادر ملی جسے پھاڑ کر میں نے دو ٹکڑے کئے ایک ٹکڑے کاتہبند بنایا اور ایک ٹکڑے کا سعد بن مالک نے تہبند بنایا اور آج ہم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں ہے کہ جو شہروں میں سے کسی شہر کا حاکم نہ ہو اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ اپنے نزدیک عظیم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں چھوٹا ہوں اور نبوت کا سلسلہ ختم چکا ہے حتیٰ کہ اس کی انتہاء بادشاہی ہے پس ہمارے بعد امراء کے ساتھ تمہاری آزمائش اور تجربہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۸؛حدیث نمبر؛۷۳۰۸)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ، يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ، فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا، وَوَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ، أَفَعَجِبْتُمْ ؟ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً، فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا، وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا، فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ ، حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْكًا، فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7308

خالد بن عمیر نے دور جاہلیت پایا تھا کہتے ہیں عتبہ بن غزوان نے خطبہ دیا اور وہ بصرہ کے امیر تھے اس کے حسب سابق روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۰۹)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ - وَقَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ - قَالَ : خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7309

حضرت خالد بن عمیر کہتے ہیں میں نے عتبہ بن غزوان سے سنا وہ کہ رہے تھے میں نے اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات میں سے ساتواں دیکھا ہمارا کھانا صرف حبلہ درخت تھا حتیٰ کہ ہمارے منہ اندر سے زخمی ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۱۰)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ ، حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7310

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟آپ نے فرمایا کیا تمہیں دوپہر کے وقت میں جبکہ کوئی بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا نہیں!آپ نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ بادل نہ ہوں کوئی مشقت ہوتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا نہیں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کو اپنے رب کے دیکھنے میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جتنا تمہیں سورج اور چاند میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں حجاب ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا پھر اس کے بعد ایک بندے سے ملاقات ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی اور تجھے سردار نہیں بنایا اور تجھے جوڑا نہیں بنایا اور تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے اور کیا میں نے تجھے ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا اور تو ان سے چوتھائی حصہ لیتا تھا وہ عرض کرے گا جی ہاں کیوں نہیں۔ اللہ عزوجل فرمائے گا کیا تو گمان کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں پھر اللہ عزوجل فرمائے گا کہ میں تجھے بھلا دیتا ہوں جس طرح کہ تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر دوسرے سے ملاقات ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماے گا اے فلاں!کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی؟تجھے سرداری نہیں دی تجھے بیوی عطاء نہیں کی تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور تجھے سردار بننے اور مال غنیمت کا چوتھا حصہ لینے کے لئے کھلی چھٹی نہیں دی۔؟ پھر اللہ تیسرے سے ملاقات پر اسی طرح فرماے گاوہ عرض کرے گا اے پروردگار میں تجھ پر اور تیری کتابوں پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی اور میں نے روزہ رکھا اور میں نے صدقہ و خیرات کیا اس سے جس قدر ہو سکے گی وہ اپنی نیکی کی تعریف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے ابھی تیری نیکیوں کا پتہ چل جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسے کہا جائے گا کہ ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں وہ اپنے دل میں غور وفکر کرے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران گوشت ہڈیوں سے کہا جائے گا بولو پھر اس کی رگ اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیتے ہوئے بولیں گے اور یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ کسی نفس کی طرف سے کوئی عذر قائم نہ ہو سکے گا اور یہ منافق آدمی ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۱۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ، لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ؟ " قَالُوا : لَا. قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ؟ " قَالُوا : لَا. قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، قَالَ : فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ : أَيْ فُلْ ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى. قَالَ : فَيَقُولُ : أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ ؟ فَيَقُولُ : لَا. فَيَقُولُ : فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي. ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ، فَيَقُولُ : أَيْ فُلْ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى، أَيْ رَبِّ. فَيَقُولُ : أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ ؟ فَيَقُولُ : لَا. فَيَقُولُ : فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي. ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ. وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُولُ : هَاهُنَا إِذَنْ. قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ. وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ : مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ : انْطِقِي. فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7311

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں بندے کی اس بات سے ہنسا ہوں کہ جو وہ اپنے رب سے کرے گا وہ بندہ عرض کرے گا اے پروردگار کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی آپ نے فرمایا اللہ فرمائے گا ہاں کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر بندہ عرض کرے گا میں اپنے اوپر اپنی ذات کے علاوہ کسی کی گواہی کو جائز نہیں سمجھتا آپ نے فرمایا پھر اللہ فرمائے گا کہ آج کے دن تیرے اوپر تیری ہی ذات کی گوہی اور کراما کا تبین کی گواہی کفایت کر جائے گی۔ آپ نے فرمایا پھر اس بندے کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے دیگر اعضاء کو کہا جائے گا کہ بولیں آپ نے فرمایا اس کے اعضاء اس کے سارے اعمال بیان کریں گے۔ آپ نے فرمایاپھر اس کے اور کلام کے درمیان جدائی کر دی جائے گی وہ اپنے اعضاء سے کہے گا دور ہوجاؤ چلو دور ہوجاؤ میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑا کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۰؛حدیث نمبر؛۷۳۱۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ : يَا رَبِّ، أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ ؟ قَالَ : يَقُولُ : بَلَى. قَالَ : فَيَقُولُ : فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي. قَالَ : فَيَقُولُ : كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا. قَالَ : فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ : انْطِقِي. قَالَ : فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، قَالَ : ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ، قَالَ : فَيَقُولُ : بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7312

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ!آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کا رزق اس قدر ہو جو ہلاکت سے بچا دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۳)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7313

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ!آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کا رزق اس قدر کر دے جس سے جان بچ جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ". وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7314

ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اس میں(قوتا کی جگہ)کفافا کا لفظ(یعنی پورا پورا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۵)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، ذَكَرَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " كَفَافًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7315

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ طیبہ تشریف لائے آپ کے گھر والوں نے تین راتیں مسلسل گندم کا کھانا سیر ہوکر نہیں کھایا،حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ - مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7316

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ اپنے راستے پر چلے گئے(وصال ہوگیا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7317

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے مسلسل دو دن جو کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۱۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7318

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے تین دن سے زیادہ گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۱۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلَاثٍ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7319

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے تین دن گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7320

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے دو دن(مسلسل)گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7321

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی مگر ان میں سے ایک دن کھجوریں ہوتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۲)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمْرٌ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7322

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آل محمد ایک مہینہ اس طرح گزارتے کہ آگ نہ جلتی صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ ہوتا۔ ابو کریب نے اپنی حدیث میں ابن نمیر سے روایت کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا مگر یہ کہ ہمارے پاس گوشت آجاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۳)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنْ كُنَّا - آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ. وَلَمْ يَذْكُرْ آلَ مُحَمَّدٍ، وَزَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ : إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7323

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور میرے برتن میں صرف تھوڑے سے جو تھے جسے کوئی جگر والا کھاتا۔ پس میں نے اس سے کھایا اور کافی عرصہ گزر گیا پھر میں نے ان کا ناپ کیا تو وہ ختم ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ، فَفَنِيَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7324

حضرت عروہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ وہ فرماتی تھیں اے میرے بھانجے!ہم چاند دیکھتے تھے پھر چاند دیکھتے تھے اور پھر چاند دیکھتے دو مہینوں میں تین چاند(دیکھتے)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے خالہ!آپ کھانا کیا کھاتے تھے؟انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزیں کھجوریں اور پانی،البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے اور ان کے پاس کچھ عطیہ کے جانور تھے وہ رسول اللہ کی خدمت میں ان کے دودھ میں سے کچھ بھیجتے تو آپ ہمیں وہ دودھ پلاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲۵)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ. قَالَ : قُلْتُ : يَا خَالَةُ، فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ ؟ قَالَتِ : الْأَسْوَدَانِ ؛ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ ، فَكَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا، فَيَسْقِينَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7325

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ہم نے ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون بھی سیر ہوکر نہ کھایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7326

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس وقت لوگ دو چیزیں سیر ہوکر کھاتے تھے کھجوریں اور پانی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ الْعَطَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ، التَّمْرِ وَالْمَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7327

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ہم دو سیاہ چیزیں کھجوریں اور پانی سے سیر ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۲۸)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ ؛ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7328

مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ ہم دو سیاہ چیزوں کے ساتھ بھی سیر نہیں ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۲۹)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ سُفْيَانَ : وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7329

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابن عباد کی روایت میں ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھلائی حتیٰ کہ آپ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - وَقَالَ ابْنُ عَبَّادٍ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ - مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ، حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7330

حضرت ابوحازم فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے کئی بار انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والوں نے تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۱)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ مِرَارًا، يَقُولُ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ، حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7331

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کیا تمہیں وہ کھانا اور پانی حاصل نہیں جو تم چاہتے ہو؟میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کو(بعض اوقات)ردی قسم کی کھجور بھی حاصل نہ ہوتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ قتیبہ نے لفظ"بہ"ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۲)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ. وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْكُرْ : بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7332

مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور زہیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ تم مختلف قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7333

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس چیز کا ذکر کیا جو لوگوں کو دنیا سے حاصل ہے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ایک دن آپ پورا دن بھوکے رہے تھے آپ کو ادنیٰ قسم کی کھجور بھی نہ ملی جس سے اپنا پیٹ بھرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي، مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7334

ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تیری بیوی ہے جس کے پاس تو ٹھکانہ اختیار کرتا ہے؟اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تیرے پاس رہائش گاہ ہے جس میں تو رہائش اختیار کرتا ہے؟اس نے کہا ہاں،آپ نے فرمایا پس تو مالدار لوگوں میں سے ہے اس نے کہا میرے پاس خادم بھی ہے آپ نے فرمایا تو بادشاہوں میں سے ہے۔ ابو عبد الرحمن(راوی)کہتے ہیں تین آدمی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آے اور میں ان کے پاس تھا انہوں نے کہا اے ابو محمد!اللہ کی قسم!ہم کسی چیز پر قادر نہیں ہیں نہ نفقہ پر نہ جانور اور نہ سامان پر۔ انہوں نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو ہماری طرف رجوع کرو ہم تمہیں وہ چیز دیں گے جو تمہیں خوش کرے گی اور اگر تم چاہو تو تمہارا معاملہ بادشاہ کے سامنے پیش کریں گے اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: "بےشک مہاجرین فقراء قیامت کے دن جنت کی طرف مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔" تو انہوں نے کہا؛ ہم صبر کریں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۵؛حدیث نمبر؛۷۳۳٥)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ. قَالَ : فَإِنَّ لِي خَادِمًا. قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالُوا : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ. فَقَالَ لَهُمْ : مَا شِئْتُمْ، إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ، بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ". قَالُوا : فَإِنَّا نَصْبِرُ، لَا نَسْأَلُ شَيْئًا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7335

حضرت عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کے بارے میں فرمایا اس قوم پر جن کو عذاب دیا گیا،روتے ہوئے داخل ہو اور اگر تم روتے نہیں تو داخل نہ ہو کہیں تمہیں وہ عذاب نہ پہنچے جو ان کو پہنچا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٥؛حدیث نمبر؛۷۳۳٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ؛ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7336

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام حجر سے گزرے تو آپ نے ہم سے فرمایا جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان کے ٹھکانوں سے روتے ہوئے گزرو اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ تمہیں بھی وہ بات پہنچے جو ان کو پہنچی پھر(اپنی اونٹنی کو)جھڑکتے ہوے تیز چلایا حتیٰ کہ ان مکانات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۷)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ، قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ؛ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ". ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ، حَتَّى خَلَّفَهَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7337

حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام حجر میں جو قوم ثمود کی زمین ہے اترے اور ان کے کنوؤں سے پینے کے لئے پانی حاصل کیا اس کے ساتھ آٹا گوندہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اس پانی کو بہادیں اور گوندا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلادیں اور ان کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جس پر صالح علیہ السلام کی اونٹنی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۸)

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا، وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7338

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یوں فرمایا کہ اس کے کنویں سے پانی حاصل کرو اور اس کے ساتھ آٹا گوندہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۹)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئَارِهَا، وَاعْتَجَنُوا بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7339

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کے لیے محنت مزدوری کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛ترجمہ؛بیوہ،مسکین اور یتیم سے حسن سلوک؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳٤٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". وَأَحْسِبُهُ قَالَ : " وَكَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ، وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7340

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور اپنے(قریبی)یتیم یا کسی دوسرے یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو(انگلیوں)کی طرح ہوں گے۔ مالک(راوی)نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۱)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ، أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ ". وَأَشَارَ مَالِكٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7341

حضرت عبید اللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد تعمیر کی(اضافہ کیا)تو لوگوں نے بہت باتیں کیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں نے بہت باتیں کیں۔ اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص مسجد بناے بکیر کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی مثل جنت میں(مکان)بناے گا۔ ہارون کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۲)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا - قَالَ بُكَيْرٌ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ". وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ " بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7342

محمود بن لبید کہتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد(کی نئی)تعمیر کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ اسے اسی(پہلی)شکل پر چھوڑ دیا جائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ(کی رضا جوئی)کے لیے مسجد تعمیر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ فضل بناء المساجد؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۳)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كِلَاهُمَا عَنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7343

مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ ان دونوں کی روایت میں یہ الفاظ ہیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤٤)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا " بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7344

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص جنگل میں تھا اس نے بادلوں میں ایک آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو پس وہ بادل ایک طرف کو ہوا اور پتھریلی زمین پر بارش برسائی اور نالیوں میں سے ایک نالی نے تمام پانی کو گھیر لیا وہ شخص اس پانی کے پیچھے چلا،تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا کدال سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے اس نے پوچھا اللہ کے بندے!تیرا کیا نام ہے؟اس نے کہا فلاں،وہی نام بتایا جو بادل میں سنا تھا اس نے پوچھا اے بندہ خدا!تم نے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟اس شخص نے کہا میں نے اس بادل میں یہ آواز سنی جس(بادل)کا یہ پانی ہے کہ تیرا نام لے کر کہا فلاں کے باغ کو سیراب کرو تو اس میں کیا عمل اختیار کرتا ہے۔ اس نے کہا جب تم نے یہ کہا ہے(تو سن)میں اس سے پیدا ہونے والے پھل کو دیکھتا ہوں اس کے تیسرے حصے کو صدقہ کرتا ہوں،دوسری تہائی میں اور میرے گھر والے کھاتے ہیں اور تیسری تہائی اسی پر خرچ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الصَّدَقَةِ فِي الْمَسَاكِينِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ. فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : فُلَانٌ. لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا ؟ قَالَ : أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7345

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ اس نے کہا میں اس کا تہائی مساکین،مانگنے والوں اور مسافروں پر خرچ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاكِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7346

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں شرک سے تمام شرکاء کی نسبت زیادہ بے نیاز ہوں جو شخص ایسا عمل کرے جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۷)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7347

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شہرت چاہتا ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سب کے سامنے ذلیل کرے اور جو اپنا عمل دوسروں کو دکھانا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے ذریعے لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۸)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7348

حضرت جندب علقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دوسروں کو(اپنا عمل)سنانا چاہے اللہ تعالیٰ اس کے عیوب لوگوں کو سناے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لئے کام کرتا ہے اللہ تعالی اس کے عیب لوگوں کو دیکھاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7349

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں نے ان کے علاوہ(جندب علقی کے علاوہ)کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳۵۰)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ : وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7350

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے جندب سے سنا اور ان کے علاوہ کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باقی کہتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳۵۱)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَظُنُّهُ قَالَ : ابْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا - وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ – يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7351

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۲)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الصَّدُوقُ الْأَمِينُ الْوَلِيدُ بْنُ حَرْبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7352

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے بےشک بندہ ایک ایسی بات کہتا ہے جس کے سبب وہ جہنم میں اس قدر گرتا ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان(کے فاصلے)سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّكَلُّمِ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7353

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک بندہ کوئی بات کہتا ہے جس میں غور و فکر نہیں کرتا اس کے ذریعے وہ جہنم میں اتنے دور تک گرتا ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے سے زیادہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّكَلُّمِ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵٤)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ مَا فِيهَا، يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7354

حضرت شقیق،حضرت اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں ان سے کہا گیا آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات نہیں کرتے انہوں نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے میں تمہیں سنا کر ان سے بات کروں گا اللہ کی قسم!جو کچھ میرے اور ان کے درمیان ہے اس کے بارے میں،میں نے ان سے گفتگو کی ہے سواے اس کے کہ میں اس بات کا دروازہ کھولوں جس کے بارے میں مجھے پسند نہیں کہ میں سب سے پہلے اس کو کھولنے والا ہوں اور میں کسی امیر کے بارے میں نہیں کہتا کہ وہ بہترین انسان ہے اس کے بعد جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن ایک شخص کو لاکر جہنم میں ڈالا جائے گا اس کے پیٹ کی آنتیں نکل پڑیں گی پس وہ اس طرح چکر کاٹے گا جس طرح گدھا چکی کے ساتھ گھومتا ہے اس پر تمام اہل جہنم جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے اے فلاں!کیا تو لوگوں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں لیکن میں نیکی کا حکم دیتا تھا خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور برائی سے روکتا تھا پھر خود اس کو اپناتا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۵)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قِيلَ لَهُ : أَلَا تَدْخُلُ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ ؟ فَقَالَ : أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ أَمِيرًا : إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ، بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ، فَيَدُورُ بِهَا كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى، فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ : يَا فُلَانُ، مَا لَكَ ؟ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى، قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7355

حضرت ابووائل کہتے ہیں ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ایک شخص نے کہا آپ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر اس بارے میں جو وہ کر رہے ہیں بات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟...اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ؛جلد٤ص۲۲۹۱؛حدیث نمبر؛۷۳۵٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ فِيمَا يَصْنَعُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7356

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میرے ہر امتی کے لیے معافی ہے مگر وہ جو ظاہر کرنے والے ہیں اور ظاہر کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ رات کے وقت کوئی عمل کرے پھر صبح یوں کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا ہو تو وہ کہے اے فلاں!میں نے آج رات فلاں فلاں عمل کیا حالانکہ اس نے رات اس طرح گزاری کے اس کے رب نے اس پر پردہ ڈال دیا تھا پس رات کو اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالا اور صبح اس نے اللہ تعالیٰ سے پردے کو ہٹا دیا۔ زہیر کی روایت میں(الاجھار کی جگہ) من الھجار ہے(معنیٰ ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ هَتْكِ الْإِنْسَانِ سِتْرَ نَفْسِهِ؛جلد٤ص۲۲۹۱؛حدیث نمبر؛۷۳۵۷)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ، قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ ". قَالَ زُهَيْرٌ : " وَإِنَّ مِنَ الْهِجَارِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7357

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینک ماری آپ نے ایک کو یرحمک اللہ کے ساتھ جواب دیا اور دوسرے کے لیے یرحمک اللہ نہ فرمایا۔ جس کی چھینک پر یرحمک اللہ نہیں کہا تھا اس نے کہا فلاں نے چھینک ماری تو آپ نے یرحمک اللہ کہا اور میں نے چھیکن ماری تو آپ نے یرحمک اللہ نہیں کہا آپ نے فرمایا اس نے الحمد للہ کہا اور تم نے الحمد للہ نہیں پڑھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳۵۸)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ : عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ، وَعَطَسْتُ أَنَا فَلَمْ تُشَمِّتْنِي. قَالَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7358

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧٣٥٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳۵۹)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ - يَعْنِي الْأَحْمَرَ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7359

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور وہ فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے گھر میں تھے چھینک آئی تو انہوں نے"یرحمک اللہ"نہ کہا اور حضرت فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو چھینک آئی تو یرحمک اللہ کہا میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو ان کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آے تو انہوں نے شکایت کی کہ آپ کے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو آپ نے یرحمک اللہ نہیں کہا اور فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو چھینک آئی تو آپ نے چھینک کا جواب دیا انہوں نے فرمایا آپ کے بیٹے نے چھینک مارنے کے بعد"الحمد للہ"نہیں پڑھا پس میں نے اس کی چھینک کا جواب نہیں دیا اور انہوں نے چھینک آنے پر الحمد للہ کہا تو میں نے اس کا جواب دیا۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو چھینک آے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہو اور اگر وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ نہ کہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳٦٠)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا، فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ : عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا. فَقَالَ : إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ، فَشَمَّتُّهَا ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ، فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7360

حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ(حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ)نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا یرحمک اللہ پھر دوسری بار چھینک آئی تو آپ نے فرمایا اس شخص کو زکام ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ ". ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّجُلُ مَزْكُومٌ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7361

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کسی ایک کو جمائی آے تو جس قدر ممکن ہو منہ کو بند کرنے کی کوشش کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7362

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو جمائی آے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھے کیونکہ شیطان(اندر)داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۳)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فِيهِ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7363

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں کسی ایک کو جمائی آے تو اپنے ہاتھ سے روکے کیوں کہ شیطان داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7364

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں جمائی آے تو جس قدر ممکن ہو منہ بند کرے کیونکہ شیطان داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۵)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7365

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٧٣٦٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦٦)

حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7366

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا جنوں کو لپٹ مارتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تم سے بیان کی گئی۔(مٹی سے پیدا کیا گیا)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي أَحَادِيثَ مُتَفَرِّقَةٍ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7367

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک گروہ گم ہوگیا پتہ نہ چلا کہ اس نے کیا کیا اور میرا خیال ہے وہ چوہا ہے کیا تم نہیں دیکھتے جب جب اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور جب اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جاے تو پی لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کئی بار پوچھا تو میں نے کہا کیا میں تورات پڑھتا ہوں۔ اسحاق اپنی روایت میں(لایدری کی جگہ)لا ندری"کے الفاظ کہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۸)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَلَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ، أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْهُ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ ؟ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ كَعْبًا، فَقَالَ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا، قُلْتُ : أَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ وَقَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ : " لَا نَدْرِي مَا فَعَلَتْ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7368

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں چوہیا مسخ شدہ ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتی ہے اور اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو چکھتی بھی نہیں۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا مجھ پر تورات نازل ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۹)

وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " الْفَأْرَةُ مَسْخٌ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ، وَيُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْإِبِلِ فَلَا تَذُوقُهُ ". فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَفَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ ؟

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7369

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۰)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7370

ایک اور سند کے ساتھ بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۱)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7371

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا معاملہ عجیب ہے اس کے تمام معاملات بھلائی پر مبنی ہیں اور یہ بات صرف مؤمن کو حاصل ہے اگر اس کو خوشی پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے پس یہ(سب)اس کے لئے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْمُؤْمِنُ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَيْرٌ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۲)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ - وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7372

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس!تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔کئی بار فرمایا۔ (پھر فرمایا)جب تم میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہو تو کہے میں فلاں کے بارے میں یہ خیال کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کا حساب لینے والا ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا میں اس کو یوں خیال کرتا ہوں اگر وہ جانتا ہو وہ اس طرح ہے اس طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷۳)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَقَالَ : " وَيْحَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ". مِرَارًا " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ - إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ - كَذَا وَكَذَا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7373

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک(دوسرے)شخص نے کہا یا رسول اللہ!فلاں فلاں بات ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس شخص سے افضل کوئی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر افسوس ہے تو نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی آپ نے یہ بات کئی بار فرمائی،پھر آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ایک اپنے(مسلمان)بھائی کی تعریف کرنا ضروری سمجھتا ہو تو یوں کہے میں فلاں کو اس طرح خیال کرتا ہوں اگر وہ اس کو اسی طرح سمجھتا ہو(اوروں سے کہے کہ)میں اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ". مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلَانًا - إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ - وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7374

مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن ان دونوں روایتوں میں یہ الفاظ نہیں کہ اس شخص نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس شخص سے افضل کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷۵)

وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا : فَقَالَ رَجُلٌ : مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7375

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا وہ کسی آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور اس کی تعریف میں حد سے تجاوز کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک تم نے اسے ہلاک کردیا یا(فرمایا)اس شخص کی پیٹھ کو توڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷٦)

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ : " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ - أَوْ قَطَعْتُمْ - ظَهْرَ الرَّجُلِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7376

حضرت ابو معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا اور امراء میں سے کسی امیر کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈالیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ : قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ، وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7377

حضرت ہمام بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنے گھٹنوں پر جھک گئے اور آپ بھاری وجود والے تھے آپ اس کے چہرے پر کنکریاں مارنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہرے پر مٹی ڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ يَمْدَحُ عُثْمَانَ، فَعَمَدَ الْمِقْدَادُ ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا، فَجَعَلَ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ الْحَصْبَاءَ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7378

ایک اور سند کے ساتھ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٧٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷۹)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7379

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں تو آدمیوں نے مجھ سے بات کی ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا تو میں نے مسواک ان میں سے چھوٹے کو دے دی تو مجھ سے کہا گیا بڑے کو دو تو پس میں نے ان میں سے بڑے کو دے دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مُنَاوَلَةِ الْأَكْبَرِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۰)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ - يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ - عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فَجَذَبَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ. فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7380

حضرت ہشام اپنے والد(حضرت عروہ)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے اور فرماتے اے حجرے والی(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)سنئے،اے حجرے والی!سنئے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ رہی تھیں جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم اس شخص اور اس کی گفتگو کو جو ابھی کی ہے نہیں سنتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیث بیان کرتے ہیں تو اگر شمار کرنے والا شمار کرنا چاہتا تو شمار کرلیتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۱)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ : اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، وَعَائِشَةُ تُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ : أَلَا تَسْمَعُ إِلَى هَذَا وَمَقَالَتِهِ آنِفًا ؟ إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7381

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرف سے نہ لکھو پس جس شخص نے میری طرف سے قرآن کے علاوہ لکھا وہ اس کو مٹا دے۔اور مجھ سے حدیث روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے۔ہمام فرماتے ہیں میرے خیال میں فرمایا جان بوجھ کر وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۲)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ - قَالَ هَمَّامٌ : أَحْسِبُهُ قَالَ : مُتَعَمِّدًا - فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7382

حضرت صہیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لئے جادوگر کی طرف بھیج دیا جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا(اور اس کی باتیں سنتا)اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو(دیر سے آنے کی وجہ سے)مارتا تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کرکہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا(جب لڑکا اس طرف آیا)تو اس نے کہا میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا اے اللہ!اگر تجھے جادوگر کے معاملہ سے راہب کا معاملہ زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کو مار دے تاکہ لوگوں کا آنا جانا ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گزرنے لگے پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا اے میرے بیٹے!آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا پھر اگر تو(کسی مصیبت میں)مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرے بارے میں نہ بتانا اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کا ساری بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لئے ہیں اس لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہےاگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفاء دے دے پھر وہ(شخص)اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطا فرما دی پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں کہا پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے؟لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا،راہب نے انکار کردیا پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروا دئیے پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا لڑکے نے کہا اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان کے ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے پھر اس لڑکے نے باشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس طرح نہ کرو جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں بادشاہ نے کہا وہ کیا؟اس لڑکے نے کہا سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھو اور پھر کہو اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھ کر کہا اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا تو سب لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے تو پھر بادشاہ نے راستے کے شروع میں خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا جو آدمی اپنے مذہب سے پھرنے سے باز نہیں آئے گا تو میں اس آدمی کو اس خندق میں ڈلوا دوں گا تو انہیں خندق میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا اے امی جان صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ وَالسَّاحِرِ وَالرَّاهِبِ وَالْغُلَامِ؛جلد٤ص۲۲۹۹؛حدیث نمبر؛۷۳۸۳)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ قَالَ لِلْمَلِكِ : إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ. فَبَعَثَ إِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ، فَأَعْجَبَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ وَقَعَدَ إِلَيْهِ، فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، فَقَالَ : إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ : حَبَسَنِي أَهْلِي. وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ فَقُلْ : حَبَسَنِي السَّاحِرُ. فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ، فَقَالَ : الْيَوْمَ أَعْلَمُ آلسَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمِ الرَّاهِبُ أَفْضَلُ ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ، حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ. فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَضَى النَّاسُ، فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ : أَيْ بُنَيَّ، أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي، قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ. وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ، فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِيَ، فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ : مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ، إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي. فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ، فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ. فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ، فَأَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ ؟ قَالَ : رَبِّي. قَالَ : وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ قَالَ : رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ. فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ، فَجِيءَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : أَيْ بُنَيَّ، قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ. فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ. فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ. فَأَبَى فَدَعَا بِالْمِئْشَارِ ، فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَشَقَّهُ، حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ. فَأَبَى، فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَشَقَّهُ بِهِ، حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ. فَأَبَى، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ، فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَسَقَطُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ ، فَتَوَسَّطُوا بِهِ الْبَحْرَ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ. فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، فَغَرِقُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ. فَقَالَ لِلْمَلِكِ : إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ. قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ ارْمِنِي، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي. فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبْدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ. ثُمَّ رَمَاهُ فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ، فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ، فَمَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ : آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ. فَأُتِيَ الْمَلِكُ، فَقِيلَ لَهُ : أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ. فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ فِي أَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ ، وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ، وَقَالَ : مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ فِيهَا، أَوْ قِيلَ لَهُ : اقْتَحِمْ. فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا الْغُلَامُ : يَا أُمَّهِ اصْبِرِي، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ ".

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7383

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا باپ علم کے حصول کے لئے قبیلہ حی میں گئے یہ اس قبیلہ کی ہلاکت سے پہلے کی بات ہے تو سب سے پہلے ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوالیسر سے ہوئی حضرت ابوالیسر کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا جس کے پاس صحیفوں کا ایک بستہ تھا حضرت ابوالیسر ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اور مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھے اور حضرت ابوالیسر کے غلام پر بھی ایک چادر تھی اور وہ بھی مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھا(حضرت عبید اللہ)فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے ان سے کہا اے چچا میں آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا حرام(قبیلے)کے اوپر میرا کچھ مال تھا میں اس کے گھر گیا اور میں نے سلام کیا اور میں نے کہا کیا کوئی شخص ہے؟گھر والوں نے کہا نہیں اسی دوران جفر کا بیٹا باہر نکلا میں نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے اس نے کہا آپ کی آواز سن کر میری ماں کے چھپر کھٹ میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر میں نے کہا میری طرف باہر نکل مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ تو کہاں ہے پھر وہ باہر نکلا تو میں نے اس سے کہا تو مجھ سے چھپا کیوں تھا اس نے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے بیان کرتا ہوں اور آپ سے جھوٹ نہیں کہوں گا کہ اللہ کی قسم مجھے آپ سے جھوٹ کہتے ہوئے ڈر لگا اور مجھے آپ سے وعدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوف معلوم ہوا کیونکہ آپ رسول اللہ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں ایک تنگ دست آدمی ہوں حضرت ابوالیسر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے فرمایا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے پھر فرمایا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے وہ کاغذ(جس پر قرض لکھا ہوا تھا)منگوا کر اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا اور فرمایا اگر تو(مال)پائے تو اسے ادا کردینا ورنہ میں تجھے معاف کرتا ہوں اپنی آنکھوں پر دو انگلیاں رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اس کو یاد رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں جو آدمی کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس سے اس کا قرض معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے چچا اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنے معافری کپڑے اسے دے دیتے یا اس کے معافری کپڑے لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپ کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا اور آپ کے غلام کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا حضرت ابوالیسر نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللہ اسے برکت عطا فرما پھر فرمایا اے بھتیجے میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا(اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا)کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو وہی کچھ کھلاؤ جو کچھ تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی کچھ پہناؤ جو کچھ تم خود پہنتے ہوں اور اگر میں اسے دنیا کا مال و متاع دے دوں میرے لئے اس سے زیادہ آسان ہے کہ قیامت کے دن یہ میری نیکیاں لے(یعنی دنیا میں ہی سب کچھ دینا آسان ہے ورنہ قیامت کے دن نیکیاں دینی پڑیں گی) عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالیسر کے پاس سے چلے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں آگئے اور وہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا حضرت جابراور قبلہ کے درمیان حائل ہو کر بیٹھ گیا پھر میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے کیا آپ ایک ہی کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ کے پہلو میں ایک چادر رکھی ہوئی ہے حضرت جابر نے اپنی ہاتھ کی انگلیاں کھول کر(قوس نما شکل بنا کر)میرے سینے پر ماریں اور پھر فرمایا میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ جب تیری طرح کا کوئی احمق میری طرف آئے تو وہ مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھے تاکہ وہ بھی اسی طرح کرے کیونکہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ابن طاب کی لکڑی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ رخ والی دیوار میں ناک کی کچھ بلغم سی لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے لکڑی سے کھرچ دیا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رو گردانی کرے راوی کہتے ہیں کہ ہم گھبراگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے رو گردانی کرے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی آدمی جب بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کے سامنے ہوتا ہے لہذا تم میں سے کوئی بھی اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے اور اگر تھوک نہ رکے تو وہ کپڑے کو لے کر اس طرح کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو لپیٹ کر اور اسے مسل کر دکھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی خوشبو لاؤ پھر قبیلہ حی کا ایک نوجوان کھڑا ہوا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف گیا اور وہ اپنی ہتھیلی پہ کچھ خوشبو رکھ کرلے آیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خوشبو لکڑی کی نوک پر لگائی اور پھر اسے ناک کی ریزش والی جگہ پر لگائی(جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کی ریزش گندگی وغیرہ کھرچی تھی)اور اسے مل دیا۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ تم لوگ اسی وجہ سے اپنی مسجدوں میں خلوق نامی خوشبو لگاتے ہو۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں،کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطن بواط کے غزوہ میں چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے اور ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ اور چھ اور سات آدمیوں میں ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سواری کرتے تھے اس اونٹ پر ایک انصار آدمی کی سواری کی باری آئی تو اس نے اونٹ بٹھایا اور پھر اس پر چڑھا اور پھر اسے اٹھایا اس نے کچھ شوخی دکھائی تو انصاری نے کہا اللہ تجھ پر لعنت کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟انصاری نے عرض کیا میں ہوں اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے نیچے اترجا اور ہمارے ساتھ کوئی لعنت کیا ہوا اونٹ نہ رہے کہ اپنی جانوں کے خلاف بد دعا نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی اولاد کے خلاف بددعا کیا کرو اور نہ ہی اپنے مالوں کے خلاف بد دعا کیا کرو کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بد دعا ایسے وقت میں مانگی جائے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگا جاتا ہو اور تمہیں عطا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ تمہاری وہ دعا قبول فرمالے۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ جب شام ہوگئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون آدمی ہے کہ جو ہم سے پہلے جا کر حوض کو درست کرے اور خود بھی پانی پئے اور ہمیں بھی پانی پلائے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!یہ آدمی(آگے جائے گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر کے ساتھ کون آدمی جائے گا تو جبار بن صخر کھڑے ہوئے پھر ہم دونوں ایک کنوئیں کی طرف چلے اور ہم نے حوض میں ایک ڈول یا دو ڈول ڈالے پھر اسے بھر دیا پھر سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اجازت دیتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو چھوڑا اور اس نے پانی پیا پھر آپ نے اس اونٹنی کی باگ کھینچی تو اس نے پانی پینا بند کردیا اور اس نے پیشاب کیا پھر آپ نے اسے علیحدہ لے جا کر بٹھا دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کی طرف آئے آپ نے اس سے وضو فرمایا پھر میں کھڑا ہوا اور اس جگہ سے وضو کیا کہ جس جگہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تھا اور جبار بن صخر قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور میرے اوپر ایک چادر تھی جو کہ چھوٹی تھی میں نے اس کے دونوں کناروں کو پلٹا تو وہ میرے کندھوں تک نہیں پہنچی تھی پھر میں نے اسے اوندھا کیا اور اس کے دونوں کناروں کو پلٹا کر اسے اپنی گردن پر باندھا پھر میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اور گھما کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا پھر جبار بن صخر آئے انہوں نے وضو کیا پھر وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹا کر اپنے پیچھے کھڑا کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھور کر میری طرف دیکھنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا بعد میں سمجھ گیا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا کہ اپنی کمر باندھ لے تاکہ تمہارا ستر نہ کھل جائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے فرمایا اے جابر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہاری چادر بڑی ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈال اور جب چادر چھوٹی ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی کو روزانہ ایک کھجور ملتی تھی اور یہی ہماری خوراک تھی اور وہ اس کھجور کو چوستا اور پھر اسے اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رکھ لیتا تھا اور ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑا کرتے تھے اور انہیں کھایا کرتے تھے یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں اور کھجوریں تقسیم کرنے والے آدمی سے ایک غلطی ہوگئی( وہ ہمارے ایک آدمی کو کھجور دینا بھول گیا)تو ہم اس آدمی کو اٹھا کر اس کے پاس لے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اسے کھجور نہیں ملی تو اس نے اس آدمی کو کھجور دے دی تو اس نے کھڑے کھڑے پکڑی اور کھالی۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم ایک وسیع وادی میں اترے اور پھر رسول اللہ قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور میں ایک ڈول میں پانی لے کر چلا تو آپ نے کوئی آڑ نہ دیکھی جس کی وجہ سے آپ پردہ کرسکیں اس وادی کے کناروں پر دو درخت تھے رسول اللہ ان دونوں درختوں میں سے ایک درخت کی طرف گئے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی اور فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگئی جس طرح کہ وہ اونٹ اپنے کھینچنے والے کے تابع ہوجاتا ہے جس کے نکیل پڑی ہوئی ہو پھر آپ نے دوسرے درخت کی طرف آئے اور اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑ کر فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ بھی اسی طرح آپ کے تابع ہوگئی یہاں تک کہ جب آپ دونوں درختوں کے درمیان ہوئے تو دونوں کو ملا کر فرمایا تم دونوں اللہ کے حکم سے آپس میں ایک دوسرے سے جڑ جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئے حضرت جابرفرماتے ہیں کہ میں اس ڈر سے نکلا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قریب دیکھ کر دور نہ تشریف لے جائیں میں اپنے آپ سے(یعنی دل میں)بیٹھے بیٹھے باتیں کرنے لگا تو اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں(اور پھر اس کے بعد)وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوگئے اور ہر ایک درخت اپنے تنے پر کھڑا ہوا علیحدہ ہو رہا ہے(حضرت جابر)فرماتے ہیں)کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے اور پھر آپ نے اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا ابواسمعیل نے اپنے سر سے دائیں اور بائیں اشارہ کر کے بتایا پھر آپ سامنے آئے اور جب آپ میری طرف پہنچے تو فرمایا اے جابر کیا تو نے دیکھا جس جگہ میں کھڑا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں درختوں میں سے ایک ایک شاخ کاٹ کر لاؤ اور جب اس جگہ آجاؤ جس جگہ میں کھڑا ہوں تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف اور ایک شاخ اپنی بائیں طرف ڈال دینا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر میں کھڑے ہو کر ایک پتھر کو پکڑا اور اسے توڑا اور اسے تیز کیا وہ تیز ہوگیا تو پھر میں ان دونوں درختوں کے پاس آیا تو میں نے ان دونوں درختوں میں سے ہر ایک سے ایک ایک شاخ کاٹی پھر میں ان شاخوں کو کھینچتے ہوئے اس جگہ پر لے آیا جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔پھر میں نے ایک شاخ دائیں طرف ڈالی اور دوسری شاخ بائیں طرف ڈالی پھر میں جا کر آپ سے ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جس طرح آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا میں نے اسی طرح کردیا ہے لیکن اس کی وجہ کیا ہے آپ نے فرمایا میں دو قبروں کے پاس سے گزرا جن(میں میتوں)کو عذاب ہورہا تھا تو مجھے یہ بات پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے ان میں تخفیف کردے جب تک وہ ٹہنیاں تر رہیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر ہم لشکر میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر لوگوں میں آواز لگا دو کہ وضو کرلیں پھر میں نے آواز لگائی کہ وضو کرلو وضو کرلو وضو کرلو حضرت جابرفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قافلہ میں تو کسی کے پاس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے اور انصار کا ایک آدمی جو رسول اللہ کے لئے ایک پرانا مشکیزہ جو کہ لکڑی کی شاخوں پر لٹکا ہوا تھا اس میں پانی ٹھنڈا کیا کرتا تھا آپ نے فرمایا فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جا کر دیکھو کہ اس کے مشکیزے میں پانی ہے یا نہیں میں اس انصاری کی طرف گیا اور اس کے مشکیزے میں دیکھا کہ اس کے منہ میں سوائے ایک قطرے کے اور کچھ بھی نہیں ہے اگر میں اس مشکیزے کو انڈیلوں تو خشک مشکیزہ اسے پی جائے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اس انصاری کے مشکیزے میں سوائے اس ایک قطرہ پانی کے اور کچھ نہیں پایا اگر میں اسے الٹاتا تو خشک مشکیزہ اسے پی لیتا آپ نے فرمایا جاؤ اور اس مشکیزے کو میرے پاس لے آؤ پھر میں اس مشکیزہ کو لے کر آیا اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا پھر آپ کچھ بات کرنے لگے میں نہیں جانتا کہ آپ کیا فرما رہے تھے اور آپ اپنے ہاتھ مبارک سے اس مشکیزے کو دباتے جاتے پھر وہ مشکیزہ مجھے عطا فرمایا اور فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ قافلے میں سے کسی کا پانی کا بڑا برتن لایا جائے میں نے آواز لگائی اور بڑا برتن لایا گیا اور لوگ اس برتن کو اٹھا کر لائے میں نے اس بڑے برتن کو آپ کے سامنے رکھ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشکیزے میں اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اس طرح سے پھیلا کر اور انگلیوں کو کھلا کر کے اس مشکیزے کی تہ میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور آپ نے فرمایا اے جابر پکڑ اور بسم اللہ کہہ کر میرے ہاتھوں پر پانی ڈال۔ میں نے بسم اللہ کہہ کر اس مشکیزے میں سے پانی آپ کے ہاتھ مبارک پر ڈالا تو میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہ کی انگلیوں کے درمیان سے جوش مار رہا ہے پھر اس برتن نے جوش مارا اور وہ برتن گھوما یہاں تک کہ وہ برتن پانی سے بھر گیا پھر آپ نے فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ جس کو پانی کی ضرورت ہو تو آکر پانی لے جائے حضرت جابر فرماتے ہیں لوگ آئے اور انہوں نے پانی پیا یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا کوئی ایسا باقی رہ گیا ہے کہ جسے پانی کی ضرورت ہو پھر رسول اللہ نے اپنے ہاتھ مبارک کو اس مشکیزے سے اٹھایا تو پھر وہ بھی بھرا ہوا تھا۔ اور پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ اللہ تمہیں کھلادے پھر ہم سمندر کے کنارے پر آئے اور سمندر نے موج ماری اور ایک جانور نکال کر باہر ڈال دیا پھر ہم نے اس سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس جانور کا گوشت پکایا اور بھونا اور ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوئے گئے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر میں اور فلاں اور فلاں اس جانور کی آنکھ کے گوشے میں داخل ہوئے اور ہمیں کسی نے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم باہر نکلے پھر ہم نے اس جانور کی پسلیوں میں سے ایک پسلی پکڑی اور قافلے میں جو سب سے بڑا آدمی تھا اور وہ سب سے بڑے اونٹ پر سوار تھا ہم نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے اونٹ پر سب سے بڑی زین رکھی ہوئی تو وہ آدمی بغیر اپنا سر جھکائے اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ حَدِيثِ جَابِرٍ الطَّوِيلِ وَقِصَّةِ أَبِي الْيَسَرِ؛جلد٤ص۲۲۹۹سے۲۳۰۸تک؛حدیث نمبر؛۷۳۸٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالسِّيَاقُ لِهَارُونَ - قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِينَا أَبَا الْيَسَرِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ مَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : يَا عَمِّ، إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضَبٍ. قَالَ : أَجَلْ، كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَسَلَّمْتُ، فَقُلْتُ : ثَمَّ هُوَ ؟ قَالُوا : لَا. فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيْنَ أَبُوكَ ؟ قَالَ : سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي. فَقُلْتُ : اخْرُجْ إِلَيَّ، فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ. فَخَرَجَ، فَقُلْتُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي ؟ قَالَ : أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا. قَالَ : قُلْتُ : آللَّهِ ؟ قَالَ : اللَّهِ. قُلْتُ : آللَّهِ ؟ قَالَ : اللَّهِ. قُلْتُ : آللَّهِ ؟ قَالَ : اللَّهِ. قَالَ : فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ فَمَحَاهَا بِيَدِهِ، فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِنِي، وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ - وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ - وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا - وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ - رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ ؛ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ ". قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ أَنَا : يَا عَمِّ، لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِكَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّكَ، وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ وَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ، فَكَانَتْ عَلَيْكَ حُلَّةٌ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ. فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ، يَا ابْنَ أَخِي، بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا - وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ - رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ ". وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ. (... ) ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ، أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي هَكَذَا، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَوَّسَهَا : أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ، فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ ، فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ " قَالَ : فَخَشَعْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ " قَالَ : فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ " قُلْنَا : لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ". ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ : " أَرُونِي عَبِيرًا ". فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، فَقَالَ جَابِرٌ : فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ. (... ) سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَطْنِ بُوَاطٍ، وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْتَقِبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ، فَدَارَتْ عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ، ثُمَّ بَعَثَهُ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ، فَقَالَ لَهُ : شَأْ ، لَعَنَكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا اللَّاعِنُ بَعِيرَهُ ؟ " قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " انْزِلْ عَنْهُ، فَلَا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ، لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ ؛ لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبُ لَكُمْ " (... ) سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عُشَيْشِيَةٌ ، وَدَنَوْنَا مَاءً مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا فَيَمْدُرُ الْحَوْضَ، فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا ؟ " قَالَ جَابِرٌ : فَقُمْتُ، فَقُلْتُ : هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ ؟ " فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ، فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ، ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَتَأْذَنَانِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ، فَشَرِبَتْ، شَنَقَ لَهَا فَشَجَتْ فَبَالَتْ، ثُمَّ عَدَلَ بِهَا فَأَنَاخَهَا، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّأِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا، ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ، فَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا جَابِرُ ". قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ ". (... ) سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قُوتُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، فَكَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ، وَكُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا وَنَأْكُلُ، حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا، فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ ، فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا، فَأُعْطِيَهَا، فَقَامَ فَأَخَذَهَا. (... ) سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ : " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ : " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا - يَعْنِي جَمَعَهُمَا - فَقَالَ : " الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ ". فَالْتَأَمَتَا، قَالَ جَابِرٌ : فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ ؛ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَبْتَعِدَ - وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ : فَيَتَبَعَّدَ - فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا - وَأَشَارَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا - ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيَّ قَالَ : " يَا جَابِرُ، هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَانْطَلِقْ إِلَى الشَّجَرَتَيْنِ، فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، فَأَقْبِلْ بِهِمَا، حَتَّى إِذَا قُمْتَ مَقَامِي، فَأَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكَ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكَ ". قَالَ جَابِرٌ : فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ حَجَرًا فَكَسَرْتُهُ وَحَسَرْتُهُ فَانْذَلَقَ لِي، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا، حَتَّى قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ ". قَالَ : فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ، نَادِ بِوَضُوءٍ ". فَقُلْتُ : أَلَا وَضُوءَ ؟ أَلَا وَضُوءَ ؟ أَلَا وَضُوءَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ. وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَى حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ، قَالَ : فَقَالَ لِيَ : " انْطَلِقْ إِلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ ؟ " قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ. قَالَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ فَأَتَيْتُهُ بِهِ ". فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ، نَادِ بِجَفْنَةٍ ". فَقُلْتُ : يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ . فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَكَذَا، فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ، وَقَالَ : " خُذْ يَا جَابِرُ، فَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ ". فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ : بِاسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَوَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فَارَتِ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّى امْتَلَأَتْ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ، نَادِ مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ ". قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى. (... ) وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَقَالَ : " عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ ". فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ ، فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً، فَأَلْقَى دَابَّةً، فَأَوْرَيْنَا عَلَى شِقِّهَا النَّارَ، فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا، وَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، قَالَ جابِرٌ : فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ - حَتَّى عَدَّ خَمْسَةً - فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا، مَا يَرَانَا أَحَدٌ، حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَقَوَّسْنَاهُ، ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ كِفْلٍ فِي الرَّكْبِ، فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7384

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے والد کے گھر میں تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا پھر عازب یعنی میرے والد سے فرمایا کہ اپنے بیٹے(براء)کو میرے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ اس کجاوہ کو اٹھا کر میرے گھر لے چلے اور پھر میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اسے اٹھا لے تو میں نے اس کجاوے کو اٹھا لیا اور میرے والد بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کجاوے کی قیمت وصول کرنے کے لئے نکلے تو میرے والد نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ابوبکر مجھ سے بیان فرمائیں کہ جس رات تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے(یعنی تم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا جو سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے اس کی کیفیت بیان کیجئے)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا!(اور پھر فرمایا کہ)ہم ساری رات چلتے رہے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا اور راستہ خالی ہوگیا اور راستے میں کوئی گزرنے والا نہ رہا یہاں تک کہ ہمیں سامنے ایک لمبا پتھر دکھائی دیا جس کا سایہ زمین پر تھا اور ابھی تک وہاں دھوپ نہیں آئی تھی پھر ہم اس کے پاس اترے اور میں نے اس پتھر کے پاس جا کر اپنے ہاتھ سے جگہ صاف کی تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سائے میں آرام فرمائیں پھر میں نے اس جگہ پر ایک دری بچھا دی پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمائیں اور میں آپ کے اردگرد ہر طرف سے بیدار رہتا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں آپ کے اردگرد جاگ کر پہرہ دیتا رہا پھر میں نے سامنے کی طرف سے بکریوں کا ایک چرواہا دیکھا جو اپنی بکریوں کو لئے ہوئے اس پتھر کی طرف آرہا ہے اور چرواہا بھی اس پتھر سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا(یعنی آرام)میں نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور میں نے اس سے کہا اے لڑکے تو کس کا غلام ہے اس نے کہا میں مدینہ والوں میں سے ایک آدمی کا غلام ہوں میں نے کہا تیری بکریوں میں دودھ ہے اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تو مجھے دودھ دے گا اس نے کہا ہاں پھر اس چرواہے نے ایک بکری پکڑی تو میں نے اس چرواہے سے کہا اس بکری کے تھن کو بالوں مٹی اور کچرے وغیرہ سے صاف کرلے راوی ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر دکھا رہے تھے اس چرواہے نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک ڈول تھا کہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے اور وضو کے لئے پانی تھا حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے ناپسند سمجھا کہ میں آپ کو نیند سے بیدا کروں لیکن آپ خود ہی بیدار ہوگئے پھر میں نے دودھ پر پانی بہایا تاکہ دودھ ٹھنڈا ہوجائے پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!یہ دودھ نوش فرمائیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے وہ دودھ پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہاں سے کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا میں نے عرض کیا جی ہاں وہ وقت آگیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ہم جس زمین پر تھے وہ سخت زمین تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کافر ہم تک آگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فکر نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ اللہ ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی تو سراقہ کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ کہنے لگا مجھے معلوم ہے کہ تم نے میرے لئے بد دعا کی ہے اب تم میرے لئے دعا کرو اللہ کی قسم اب جو بھی آپ حضرات کی تلاش میں آئے گا میں اسے واپس کر دوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے اللہ سے دعا فرمائی تو اسے نجات مل گئی اور وہ واپس لوٹ گیا اور اسے جو کوئی کافر بھی ملتا وہ اسے کہہ دیتا کہ میں اس طرف دیکھ آیا ہوں سراقہ کو جو کافر بھی ملتا وہ اسے واپس لوٹا دیتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سراقہ نے جو ہم سے کہا وہ اس نے پورا کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْهِجْرَةِ وَيُقَالُ لَهُ حَدِيثُ الرَّحْلِ بِالْحَاءِ؛جلد٤ص۲۳۰۹؛حدیث نمبر؛۷۳۸۵)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ، فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا، فَقَالَ لِعَازِبٍ : ابْعَثْ مَعِيَ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي. فَقَالَ لِي أَبِي : احْمِلْهُ. فَحَمَلْتُهُ، وَخَرَجَ أَبِي مَعَهُ يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : يَا أَبَا بَكْرٍ ، حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا لَيْلَةَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا كُلَّهَا، حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ ، وَخَلَا الطَّرِيقُ، فَلَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ، حَتَّى رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ، لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ بَعْدُ، فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا، فَأَتَيْتُ الصَّخْرَةَ، فَسَوَّيْتُ بِيَدِي مَكَانًا يَنَامُ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّهَا، ثُمَّ بَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً، ثُمَّ قُلْتُ : نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ. فَنَامَ، وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ، يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا، فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ ؟ فَقَالَ : لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ. قُلْتُ : أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قُلْتُ : أَفَتَحْلُبُ لِي ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَأَخَذَ شَاةً، فَقُلْتُ لَهُ : انْفُضِ الضَّرْعَ مِنَ الشَّعَرِ وَالتُّرَابِ وَالْقَذَى - قَالَ : فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْفُضُ - فَحَلَبَ لِي فِي قَعْبٍ مَعَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، قَالَ : وَمَعِي إِدَاوَةٌ أَرْتَوِي فِيهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْرَبَ مِنْهَا وَيَتَوَضَّأَ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ مِنْ نَوْمِهِ، فَوَافَقْتُهُ اسْتَيْقَظَ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْرَبْ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ. قَالَ : فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ ؟ ". قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ. قَالَ : وَنَحْنُ فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُتِينَا. فَقَالَ : " لَا تَحْزَنْ، إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ". فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَطَمَتْ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا. أُرَى فَقَالَ : إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ، فَادْعُوَا لِي، فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ. فَدَعَا اللَّهَ، فَنَجَا، فَرَجَعَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا قَالَ : قَدْ كَفَيْتُكُمْ مَا هَاهُنَا. فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ، قَالَ : وَوَفَى لَنَا.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7385

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے والد سے تیرہ درہم پر ایک کجاوہ خریدا(اور پھر مذکورہ حدیث زہیرعن اسحاق کی روایت کی طرح روایت بیان کی)لیکن عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں ہے کہ جب سراقہ بن مالک قریب آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی اور اس کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ اپنے اس گھوڑے سے کودا اور کہنے لگا اے محمد!مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ کا کام ہے اس لئے آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو میرے پیچھے آرہے ہیں میں ان سے آپ کا حال چھپاؤں گا اور میرے اس ترکش سے ایک تیر لے لیں اور آپ کو فلاں فلاں مقام پر میرے اور میرے اونٹ اور غلام ملیں گے ان میں سے جتنی آپ کو ضرورت ہو آپ لے لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تیرے اونٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر ہم رات کو مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ اس بات میں جھگڑنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ اتریں آپ نے فرمایا میں قبیلہ بنی نجار کے پاس اتروں گا جو حضرت عبدالمطلب کے ماموں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عزت دی پھر مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھے اور لڑکے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اور یہ پکارنے لگے یا محمد یا اللہ کے رسول یا محمد یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْهِجْرَةِ وَيُقَالُ لَهُ حَدِيثُ الرَّحْلِ بِالْحَاءِ؛جلد٤ص۲۳۱۰؛حدیث نمبر؛۷۳۸٦)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَبِي رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ مِنْ رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ : فَلَمَّا دَنَا دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَاخَ فَرَسُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى بَطْنِهِ، وَوَثَبَ عَنْهُ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُخَلِّصَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، وَلَكَ عَلَيَّ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي، وَهَذِهِ كِنَانَتِي، فَخُذْ سَهْمًا مِنْهَا، فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِبِلِي وَغِلْمَانِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ. قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِي إِبِلِكَ ". فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلًا، فَتَنَازَعُوا أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَنْزِلُ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ، أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ ". فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَوْقَ الْبُيُوتِ، وَتَفَرَّقَ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمُ فِي الطُّرُقِ يُنَادُونَ : يَا مُحَمَّدُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabuz Zohde, Hadees No. 7386

Muslim Shareef : Kitabuz Zohde

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الزُّهْدِ

|

•