asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabut Tafseer

From 7387 to 7427

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل سے کہا گیا: "دروازے سے جھکتے ہوئے داخل ہو اور کہو ہماری بخشش ہو ہم تمہارے لئے تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے تو انہوں نے(یہ الفاظ)بدل دئے اور اپنی سرینوں پر گھستے ہوئے داخل ہوئے اور کہا بالیوں میں گندم(یعنی حطۃ کہا) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ : ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ. فَبَدَّلُوا، فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7387

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے وحی مسلسل آنے لگی اور جس دن آپ کا وصال ہوا سب سے زیادہ وحی اس دن آئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۸)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7388

حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں یہودیوں نے حضرت عمر(فاروق)رضی اللہ عنہ سے کہا تم لوگ ایک آیت پڑھتے ہو اگر یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور کس دن نازل ہوئی اور جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے یہ میدان عرفات میں نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے۔ حضرت سفیان(راوی)فرماتے ہیں مجھے شک ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا یا نہیں اس سے مراد یہ آیت ہے: (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا۔" (سورہ مائدہ،آیت نمبر:٣) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۹)

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِعُمَرَ : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً، لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ ؛ أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ. قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا. يَعْنِي : { الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7389

حضرت طارق بن شہاب سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر ہم یہودیوں کی جماعت پر یہ آیت نازل ہوتی (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا" اور ہمیں اس دن کا علم ہوتا جس دن یہ آیت نازل ہوئی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس وقت نازل ہوئی اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے یہ مزدلفہ کی رات تھی(مراد یوم عرفہ ہے)(اس وقت)ہم عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَتِ الْيَهُودُ لِعُمَرَ : لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا }، نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ ؛ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، وَالسَّاعَةَ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ ؛ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7390

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا اے امیر المومنین!تم اپنی کتاب میں ایک آیت پڑھتے ہو اگر ہم یہودیوں پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے آپ نے پوچھا کونسی آیت؟اس نے کہا۔ (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا" حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے اس دن کا علم ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی اور اس جگہ کا بھی علم ہے جہاں یہ نازل ہوئی یہ آیت مبارکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ کے دن عرفات میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۱)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ ؛ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. قَالَ : وَأَيُّ آيَةٍ ؟ قَالَ : { الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا }. فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ ؛ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7391

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: (ترجمہ)"اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکوں گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں دو،دو تین،تین اورچار،چار"(سورہ نساء،آیت نمبر،٣) ام المومنین نے فرمایا اے میرے بھتیجے!اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہیں جو اپنے ولی کے زیر تربیت ہو اور وہ ولی اس کا مال اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو بغیر اس کے کہ اس کے مہر میں انصاف کرے اور اس قدر اسے مہر کی رقم دینے پر رضامند نہ ہو کہ جس قدر دوسرے لوگ مہر کی رقم دینے کے لئے راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس صورت میں کہ ان سے انصاف کریں اور ان کو پورا مہر ادا کریں اور ان کو حکم دے دیا ہے کہ وہ عورتوں سے جو ان کو پسند ہوں نکاح کرلیں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا پھر لوگوں نے اس آیت کریمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں پوچھا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَا ءِ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَا ءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ )پارہ٤؛النساء؛١٢٧) "اور وہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں شرعی احکام پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں تمہارے لیے حکم بیان کرتا ہے اور وہ جو کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھا جاتا ہے جن کو تم ان کے مقرر کردہ مہر نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے جو ذکر فرمایا (يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ )تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہےاس سے وہ پہلی آیت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہو ان سے نکاح کرو" ام المومنین نے فرمایا دوسری آیت میں ارشاد خداوندی ہے: " اور تم ان سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو" سے مراد یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے ہاں کوئی یتیم لڑکی زیر تربیت ہو اور مال و خوبصورتی میں کم ہو تو اگر اس وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اعراض کرتا ہے تو ان کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ جو یتیم عورتوں کے مال اور خوبصورتی میں رغبت کرتے ہیں کہ بغیر انصاف کے ان کے ساتھ نکاح نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۲)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : { وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ }. قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي، هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ. قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ }. قَالَتْ : وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى، الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِيهَا : { وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ }. قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى : { وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ } رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ ؛ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7392

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: "اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے" اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح ہے البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ مال و جمال زیادہ نہیں رکھتی ہوں تو یہ لوگ ان میں رغبت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٤؛حدیث نمبر؛۷۳۹۳)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : { وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى }. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ، إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7393

حضرت ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس ارشاد خداوندی کے بارے میں روایت کرتے ہیں: "اور اگر تمہیں خوف ہو تو تم یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے" ام المومنین نے فرمایا یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے یہاں یتیم بچی ہوتی اور وہ شخص اس کا ولی اور اس کا وارث ہوتا اور اس بچی کے لیے مال ہوتا لیکن اس کے لئے کوئی دوسرا شخص نہیں ہوتا جو اس کے لیے لڑتا تو(فرمایا)کہ محض وہ اس کے مال کی وجہ سے اس سے نکاح نہ کرے کہ اس کے ذریعے اس کو نقصان پہنچاے اور بدسلوکی کرے اور فرمایا: "اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں کے سلسلے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو،تین تین،اورچار چار" یعنی ان سے نکاح کرو جو میں نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور اس لڑکی کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچاتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٤؛حدیث نمبر؛۷۳۹٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ : { وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى }. قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ، وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، وَلَهَا مَالٌ، وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا، فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، فَقَالَ : { إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ }. يَقُولُ : مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ، وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7394

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور جو کچھ تم پر کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھا جاتا ہے وہ لڑکیاں کہ تم ان کو وہ چیز نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کی گئی اور(اگر حسین ہو اور مالدار ہوں)ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔" آپ فرماتی ہیں کہ یہ اس یتیم بچی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی شخص کے پاس ہوتی اور اس کے ساتھ اس کے مال میں شریک ہوتی وہ اس کے ساتھ نکاح کرنے میں رغبت نہ رکھتا اور کسی دوسرے کے نکاح میں دینا بھی پسند نہیں کرتا کہ اس طرح اس کے مال میں شریک ہوجائے اور اس کو نکاح سے باز رکھتا نہ خود اس سے نکاح کرتا اور نہ کسی اور کے نکاح میں دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ : { وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ }. قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ ؛ فَيَعْضِلُهَا، فَلَا يَتَزَوَّجُهَا، وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7395

ارشاد خداوندی: "اور آپ سے عورتوں کے بارے میں شرعی حکم پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں حکم بتایا ہے۔" ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ وہ یتیم بچی ہے جو کسی شخص کے پاس ہوتی اور شاید وہ اس کے مال میں شریک ہوتی حتیٰ کہ کھجوروں کے درختوں میں بھی،تو وہ اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اعراض کرتا اور کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دینا بھی پسند نہ کرتا کہ اس طرح وہ اس کے ساتھ مال میں شریک ہوجائے گا پس اس کو نکاح سے روک دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ : { يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ } الْآيَةَ، قَالَتْ : هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ، فَيَرْغَبُ - يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا - وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ ؛ فَيَعْضِلُهَا.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7396

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،ارشاد خداوندی ہے: "اور جو شخص فقیر ہو وہ مناسب طریقے سے کھاے"(سورہ نساء،آیت نمبر ٦) کے بارے میں فرماتی ہیں یہ یتیم کے ولی کے بارے میں نازل ہوئی جو اس کے معاملات کی نگرانی اور اصلاح کرتا ہے جب وہ محتاج ہو تو اس سے کھا سکتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ : { وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ } قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ، إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7397

ارشاد خداوندی ہے: "اور جو شخص مالدار ہو وہ بچتا رہے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے کھاے" یہ آیت یتیم کے ولی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر وہ محتاج ہو تو اس(یتیم)کے مال سے حسب دستور کھا سکتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : { وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ }، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ، إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7398

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷۳۹٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7399

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس ارشاد خداوندی کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ یوم خندق کی بات ہے ارشاد خداوندی ہے: "جب وہ تمہارے اوپر کی جانب سے اور تمہاری نچلی جانب سے آے اور آنکھیں پھری پھری رہ گئیں اور دل منہ کو آنے لگے"۔(سورہ احزاب،آیت نمبر،١٠) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ }، قَالَتْ : كَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7400

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ارشاد خداوندی ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا منہ پھیرنے کا ڈر ہو"(سورہ نساء،آیت نمبر١٣٨) کے بارے میں فرماتی ہیں یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی شخص کے نکاح میں ہوتی اور عرصہ دراز تک اس کی صحبت میں رہتی پھر وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کرتا اور وہ کہتی مجھے طلاق نہ دے اور روک لے تجھے میری طرف سے دوسرے نکاح کی اجازت ہے اس پریہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا } الْآيَةَ، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا، فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا، فَتَقُولُ : لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي، وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنِّي. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7401

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ارشاد خداوندی ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا منہ پھیرنے کا خوف ہو" ام المؤمنين نے فرمایا یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی مرد کے نکاح میں ہوتی اور شاید وہ اس کو مزید نہ رکھنا چاہتا ہو اور اس کے لئے اس سے صحبت اور اولاد ہو پس وہ عورت اس بات کو پسند نہ کرے کہ وہ اس کو طلاق دے اور وہ اس سے کہے تجھے میری طرف سے اجازت ہے(دوسری نکاح کر لے لیکن مجھے طلاق نہ دے) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠۲)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا }، قَالَتْ : نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا، وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَتَقُولُ لَهُ : أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7402

حضرت عروہ کے باپ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا اے بھانجے!لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے ان کو برا بھلا کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : يَا ابْنَ أُخْتِي، أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبُّوهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7403

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧٤٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7404

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں اہل کوفہ کا اختلاف ہوگیا۔ "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے"(سورہ نساء،آیت نمبر،٩٣) تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور آپ سے اس بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا یہ آخری آیات میں نازل ہوئی پھر اسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠۵)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ }، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ، ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7405

مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ آخر میں نازل ہونے والی آیات میں نازل ہوئی۔اور نضر کی روایت میں ہے بےشک ان آیات میں سے ہے جو آخر میں نازل ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ : نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ. وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ : إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7406

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے حضرت عبد الرحمن بن جبیر نے خبر دی کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دو آیتوں کے بارے میں سوال کروں۔ "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے"(سورہ نساء،آیت نمبر،٩٣) میں نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا اور اس آیت کے بارے میں پوچھا: "اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام کیا ناحق قتل نہیں کرتے"(سورہ،فرقان،آیت نمبر،٦٨) تو آپ نے فرمایا یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا }، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ، وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : { وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ }، قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7407

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا"والذین یدعون مع اللہ الھا"آخر سے لے کر"مھانا" تک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی مشرکین نے ہم سے کہا اسلام نے ہم سے کیا عذاب دور کیا ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک بھی کیا اور نفس کو قتل بھی کیا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا نیز ہم نے بے حیائی کا ارتکاب بھی کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل کی(ترجمہ)"مگر جس نے توبہ کی وہ ایمان لایا اور اس نے اچھے کام کئے(آیت کے آخر تک)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پس جو اسلام میں داخل ہوا اور اس کو سمجھا پھر قتل کیا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤٠۸)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - يَعْنِي شَيْبَانَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِمَكَّةَ : { وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ }، إِلَى قَوْلِهِ : { مُهَانًا }. فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : وَمَا يُغْنِي عَنَّا الْإِسْلَامُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا }، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. قَالَ : فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ ؛ فَلَا تَوْبَةَ لَهُ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7408

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی انہوں نے فرمایا نہیں،فرماتے ہیں میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی: "اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس نفس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اسے ناحق قتل نہیں کرتے"۔(آیت کے آخر تک). انہوں نے فرمایا یہ آیت مکی ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کیا: "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے وہ ہمیشہ اس میں رہے گا" ابن ہاشم کی روایت میں ہے کہ میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی وہ آیت پڑھی جس میں توبہ کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤٠۹)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا. قَالَ : فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ : { وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ }، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ : هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ : { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا }. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ : فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ : { إِلَّا مَنْ تَابَ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7409

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی کونسی سورت آخر میں نازل ہوئی؟میں نے کہا ہاں!"اذا جاء نصر اللہ والفتح" انہوں نے کہا تم نے سچ کہا ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور آخر کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤۱۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : تَعْلَمُ - وَقَالَ هَارُونُ : تَدْرِي - آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ، { إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ }. قَالَ : صَدَقْتَ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : تَعْلَمُ أَيُّ سُورَةٍ. وَلَمْ يَقُلْ : آخِرَ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7410

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٤١٠ کے مثل مروی ہے اس میں آخری سورت کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۱)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَقَالَ : آخِرَ سُورَةٍ، وَقَالَ : عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَلَمْ يَقُلِ : ابْنِ سُهَيْلٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7411

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے ایک شخص کو چند بکریوں میں دیکھا اس نے کہاالسلام علیکم،انہوں نے اس کو پکڑ کر قتل کردیا اور اس کی بکریاں لوٹ لیں۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "جو شخص تمہیں سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں"السلم"کی جگہ"السلام"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۲)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَأَخَذُوهُ، فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ، فَنَزَلَتْ : وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا. وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ : { السَّلَامَ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7412

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار جب حج کر کے آتے تو گھروں کی پچھلی جانب سے داخل ہوتے فرماتے ہیں انصار کا ایک شخص آیا اور وہ گھر کے دروازے سے داخل ہوا اس سلسلے میں اس پر اعتراض کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی" "گھروں کی پچھلی جانب سے آنا کوئی نیکی نہیں" (یعنی نیکی تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا نام ہے) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۳)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : كَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلَّا مِنْ ظُهُورِهَا، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7413

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذریعے عتاب کے دوران صرف چار سال کا عرصہ گزرا۔(ارشاد خداوندی ہے) "کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر(خوف)سے پگھل جائیں۔ (کچھ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ غفلت کے بجائے خوف خدا سے گڑگڑانے اور رونے کی ضرورت ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ} [الحديد: ١٦]؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱٤)

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا كَانَ بَيْنَ إِسْلَامِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الْآيَةِ : { أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ }، إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7414

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ شریف کا طواف کرتی تھی اور کہتی تھی کون ہے جو مجھے ایک کپڑا دے جسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال دوں آج بعض یا کل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اس کو کبھی حلال نہیں کروں گی۔پس یہ آیت نازل ہوئی: "ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو(لباس پہنو)"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، فَتَقُولُ : مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا . تَجْعَلُهُ عَلَى فَرْجِهَا، وَتَقُولُ : الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7415

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول نے اپنی لونڈی سے کہا جاؤ بدفعلی کے ذریعے ہمارے لئے کچھ(کما کر)لاؤ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: جب تمہاری لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہے تو ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔کہ تم(ان کی بدکاری کے ذریعے)دنیاوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو جو ان کو مجبور کرے گا تو ان کے مجبور کرنے کے بعد(ان لونڈیوں کے لئے)اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: ٣٣]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ : اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7416

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی کا نام مسیکہ اور دوسری کا نام امیمہ تھا وہ ان دونوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: جب تمہاری لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تو تم ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔"(آخر آیت تک۔) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: ٣٣]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱۷)

وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا : مُسَيْكَةُ، وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا : أُمَيْمَةُ، فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَى، فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : { وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ }، إِلَى قَوْلِهِ : { غَفُورٌ رَحِيمٌ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7417

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرمایا: "وہ(نیک بندے)جو اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے" حضرت ابن مسعود نے فرمایا کچھ جن مسلمان ہوے اور ان کی پوجا کی جاتی تھی تو پوجا کرنے والے اسی طرح ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے (یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۱۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ }. قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا، وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ، وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7418

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرمایا: "وہ(نیک بندے)جو اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے" حضرت ابن مسعود نے فرمایا کچھ جن مسلمان ہوے اور ان کی پوجا کی جاتی تھی تو پوجا کرنے والے اسی طرح ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے (یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۱٩)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ }، قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ، وَاسْتَمْسَكَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ، فَنَزَلَتْ : { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7419

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۲۰)

وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7420

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: "یہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں" حضرت ابن مسعود نے فرمایا یہ آیت عرب کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کی ایک جماعت کی پوجا کرتا تھا پھر وہ جن اسلام لائے اور جو انسان ان کی پوجا کرتے تھے ان کو اس بات کا علم نہ ہوسکا۔تب یہ آیت نازل ہوئی؛ " یہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو(خود)اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۲۱)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ }، قَالَ : نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ، وَالْإِنْسُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ، فَنَزَلَتْ : { أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ }.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7421

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا سورہ توبہ؟انہوں نے فرمایا توبہ بلکہ وہ کفار اور منافقین کو رسوا کرنے والی ہے یہ سورت نازل ہوتی رہی اور ان کا ذکر ہوتا رہا کہ بعض منافقین"حتی کہ انہوں نے گمان کیا کہ ہر منافق کا ذکر اس سورت میں کردیا گیا۔ فرماتے ہیں میں نے سورہ انفال کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا یہ سورت بدر ہے میں نے پوچھا سورہ حشر؟فرمایا بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ وَالْأَنْفَالِ وَالْحَشْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲۲)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : سُورَةُ التَّوْبَةِ ؟ قَالَ : آلتَّوْبَةِ ؟ قَالَ : بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ، مَا زَالَتْ تَنْزِلُ : وَمِنْهُمْ، وَمِنْهُمْ، حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَى مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا. قَالَ : قُلْتُ : سُورَةُ الْأَنْفَالِ ؟ قَالَ : تِلْكَ سُورَةُ بَدْرٍ. قَالَ : قُلْتُ : فَالْحَشْرُ ؟ قَالَ : نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7422

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا،امابعد!سنو!جب شراب(خمر)کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت خمر پانچ چیزوں سے بنتی تھی گندم،جو،کھجور،اور شہد اور خمر اسے کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے۔ (یہ خمر کا لغوی معنی ہے ورنہ خمر انگور کا کچا رس جب زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے جھاگ چھوڑ دے تو وہ خمر ہے۔١٢ہزاروی) اور اے لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تفصیل سے بتا دیتے دادا اور کلالہ کی(میراث)اور سود کے چند ابواب۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ؛ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ : مِنَ الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالْعَسَلِ. وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا : الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7423

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا۔ حمد و ثناء کے بعد!اے لوگو!جب خمر کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور،کھجور،شہد،گندم اور جو(سے) اور خمر اسے کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے اور اے لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کے بارے میں خاص نصیحت فرما دیتے!دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے چند ابواب۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَمَّا بَعْدُ ؛ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ : مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ. وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ : الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7424

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں ایک سند کے ساتھ عنب(انگور)کا لفظ مروی ہے اور دوسری کے ساتھ زبیب(منقی)کا۔جس طرح ابن مسہر نے کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲۵)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ : الْعِنَبِ، كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى : الزَّبِيبِ، كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7425

حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ قسم کھاتے تھے"یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا" یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جنگ بدر میں مبارزت کی(ایک دوسرے کو چیلینج کیا)حضرت حمزہ،حضرت علی اور حضرت عبید بن حارث رضی اللہ عنہم اور ان کے مقابلے میں عتبہ اور شیبہ(دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے)اور ولید بن عتبہ۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩]؛جلد٤ص۲۳۲۳؛حدیث نمبر؛۷٤۲٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا : إِنَّ { هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ }، إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ : حَمْزَةُ، وَعَلِيٌّ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7426

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں قیس بن عباد کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ قسم کھاتے تھے کہ یہ آیت"ھذان خصمان"نازل ہوئی۔اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩]؛جلد٤ص۲۳۲۳؛حدیث نمبر؛۷٤۲۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ : لَنَزَلَتْ : { هَذَانِ خَصْمَانِ }، بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.

Muslim Shareef, Kitabut Tafseer, Hadees No. 7427

Muslim Shareef : Kitabut Tafseer

|

Muslim Shareef : كِتَابُ التَّفْسِيرِ

|

•