
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!زمین میں سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی۔آپ نے فرمایا مسجد حرام،میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ فرمایا مسجد اقصٰی،میں نے عرض کیا ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال کا(پھر فرمایا)جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لو وہی مسجد(جائے مسجد)ہے۔دوسری سند میں"فصل"کی جگہ"فصلہ"ہے۔(معنیٰ وہی ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ترجمہ؛مساجد اور مقامات نماز؛جلد١ص٣٧٠؛حدیث نمبر١٠٦٤)
Muslim Shareef Kitabul Masajide Wa Mawaze Salate Hadees No# 1065
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں۔(سرخ سے عجمی اور سفید لوگ اور سیاہ سے سوڈانی لوگ مراد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاہ سے سوڈانی اور سرخ سے دیگر عرب مراد ہیں یا سرخ سے انسان اور سیاہ سے جن مراد ہیں۔(نووی شرح مسلم) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔میرے لئے تمام زمین کو پاک کیا گیا اور سجدہ گاہ بنایا گیا۔پس جو شخص نماز کا وقت پائے وہ جہاں بھی ہو نماز پڑھ لے اور ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے منصب شفاعت عطاء کیا گیا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٦٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٦٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٧)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں دوسرے لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت عطاء کی گئی ہے۔ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا بنایا گیا ہمارے لئے تمام زمین کو مسجد بنایا گیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کا ذریعہ بنایا گیا اگر ہم پانی نہ پائیں اور آپ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔(تیسری خصلت امام نسائی نے بیان کی ہے کہ مجھے سورۃ بقرہ کی آخری آیات عرش کے خزانے کے نیچے عطاء کی گئیں مجھ سے پہلے کسی کو عطاء نہ ہوئیں اور نہ میرے بعد کسی کو دی جاۓ گی۔(نووی شرح مسلم) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٦٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔مجھے جامع کلمات دئے گئے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں۔میرے لئے زمین کو پاک اور مسجد بنایا گیا۔مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اورمجھ پر سلسلہ نبوت ختم کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر ١٠٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جامع کلمات کے ساتھ بھیجا گیا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھی گئیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور تم یہ خزانے نکال رہے ہو۔(یہ غیب کی خبر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بتانے سے صحابہ کرام کو دی اللہ تعالیٰ ان کو فتوحات عطاء فرمائے گا اور خزانوں کا مالک بناۓ گا) (مسلم شریف؛-كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا اس کے بعد حدیث نمبر ١٠٧١ کی مثل بیان فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر١٠٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٠٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر١٠٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا دشمن کے خلاف رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔مجھے جامع کلمات عطاء کئے اور میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کی گئیں اور وہ میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر ١٠٧٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے رعب کے ذریعے مدد دی گئی اور مجھے جامع کلمات عطاء کئے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر ١٠٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینہ طیبہ کے بالائی حصے میں ایک قبیلے میں اترے جسے عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔آپ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا۔پھر آپ نے قبیلہ بنونجار کے سرداروں کو بلایا تو تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں(اب بھی)دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور بنونجار قبیلے والے آپ کے ارد گرد تھے۔حتیٰ کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جہاں بھی وقت ہوجاتا حتیٰ کہ بکریوں کے باڑوں میں پڑھتے پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلایا۔وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایااے بنو نجار!اپنا یہ باغ مجھ پر فروخت کردو۔انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم!ہم قیمت نہیں لیں گے۔ہم اس کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بتاتا ہوں اس باغ میں کیا چیز تھیں۔اس میں کھجوروں کے درخت،مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے درخت کاٹ دئیے گئے،مشرکین کے قبروں کو اکھاڑ پھینکا گیا اور کھنڈرات کو ہموار کر دیا گیا۔پھر کھجور کی لکڑیوں کو قبلہ کی طرف گاڑ دیا گیا۔اور ان کی دونوں طرف پتھر لگاۓ گئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو رجز یہ کلمات پڑھتے تھے وہ یوں کہتے تھے۔«اللهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ»(یا اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٣؛حدیث نمبر١٠٧٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تعمیر مسجد سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٧٧)
اور ایک سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٠٧٦ کی مثل مروی ہے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٧٨)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف(منہ کر کے) نماز پڑھی حتیٰ کہ وہ آیت نازل ہوئی جو سورہ بقرہ میں ہے{وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: ١٤٤](تم جہاں بھی ہو تو(اس مسجد حرام)کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو)یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے۔تو قوم کا ایک شخص وہاں سے گیا۔پس وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔اس نے انکو بتایا تو ان سب نے بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرلیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛ترجمہ؛قبلہ کی بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف تبدیلی؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر ١٠٧٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے سولہ مہینے یا سترہ ماہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر ہمیں کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٨٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک آیت اتری ہے اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ شریف کی طرف رخ کریں اور اس وقت وہ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے پس وہ کعبہ شریف کی طرف پھر گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر١٠٨١)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آنے والا آیا(آگے حدیث نمبر ١٠٨١ کی طرح ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر ١٠٨٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔{قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٤٤] (آپکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے ہیں۔پس ہم ضرور بضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں۔پس آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دیں۔بنوسلمہ کا ایک آدمی گزرا تو صحابہ کرام نماز فجر میں حالت رکوع میں تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔اس نے آواز دی سنو!قبلہ بدل دیا گیا ہے تو وہ اسی حالت میں کعبہ شریف کی طرف پھر گئے۔(تحویل قبلہ کا حکم ظہر اور عصر کے درمیان آیا لہٰذا ان حضرات کو اطلاع فجر کی نماز میں ملی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر١٠٨٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسائیوں کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔اس میں تصاویر تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ان لوگوں میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں تصویریں رکھتے تھے۔یہ لوگ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛ترجمہ؛قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت؛ جلد١ص٣٧٥؛ حدیث نمبر؛١٠٨٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت کے دوران آپ کے پاس گفتگو ہوئی تو حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا ذکر کیا آگے حدیث نمبر ١٠٨٤ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا(آگے حدیث نمبر ١٠٨٤ کی طرح ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس علالت میں جس سے آپ صحت یاب نہ ہوے۔فرمایا اللہ تعالیٰ یہودونصاری پر لعنت بھیجے۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنا دیا۔آپ فرماتی ہیں اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ کی قبر شریف کو ظاہر رکھا جاتا لیکن یہ خوف ہوا کہ کہیں اسے بھی سجدہ گاہ نہ بنایا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کردے۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنادیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٨)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودونصاری پر لعنت فرماۓ۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنا دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٨٩)
حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت ہوا تو آپ اپنی چادر مبارک کو چہرہ انور پر ڈالنے لگے جب گھبراہٹ ہوتی تو چہرہ انور سے چادر ہٹا دیتے۔آپ نے فرمایا اسی طرح سے یہودونصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنایا۔آپ ایسے عمل سے ڈرتے تھے جو ان لوگوں نے کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٩٠)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے سنا۔آپ فرماتے تھے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں برأت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سےکوئی میرا خلیل ہو۔بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور میں اپنی امت میں سے کسی کواپنا خلیل بناتا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا سنو!تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کرام اور اپنے نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔سنو!قبروں کو مساجد(سجدہ گاہ)نہ بناؤ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔(قبروں کی طرف سجدہ کرنا منع ہے پہلی امتوں میں ایسا ہوتا تھا اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کردیا۔قبر کے قریب مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں اس میں نماز پڑھنے سے قبروں کو سجدہ نہیں ہوتا اگر رخ قبر کی طرف ہو تب بھی حرج نہیں کیونکہ درمیان میں مسجد کی دیوار رکاوٹ ہوتی ہے۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٩١)
حضرت عبید اللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مسجد نبوی بنانے کے بارے میں لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے تو انہوں نے فرمایا تم نے بہت لَے دے کی ہے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے لیے مسجد بناۓ۔حضرت بکیر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اس تعمیر سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناۓ گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛مسجد بنانے کی ترغیب اور فضیلت؛جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٢)
حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد شریف بنانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ مسجد نبوی کو اپنی اصل حالت پر چھوڑ دیا جائے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناۓ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی مثل جنت میں(گھر)بناۓ گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا؛جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٣)
حضرت اسود اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم دونوں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھ لی ہے؟ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔آپ نے ہمیں آذان واقامت کا حکم نہ دیا۔فرماتے ہیں ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو آپ نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کر دیا۔فرماتے ہیں جب رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دئے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا۔جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جونماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور وقت کو بہت تنگ کر دیں گے۔جب تم ان کو اس طرح کرتے دیکھو تو وقت پر نماز پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نمازوں کو نفل بنالو اور جب تین آدمی ہو تو نماز اکٹھے پڑھو اور جب اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو رانوں پر بچھائے اور جھک جائے۔نیز دونوں ہاتھوں کو باہم ملاۓ۔آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں کی کشادگی کا منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔(جب امام کے ساتھ دو یا دو سے زیادہ مقتدی ہو تو وہ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تفردات میں سے ہے دیگر حضرات کے نزدیک ایسا نہیں اسی طرح تطبيق دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھنے والا عمل ان کے تفردات میں سے ہے ورنہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ١٠٩٧ ہے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں جماعت کے لئے امام کے علاوہ تین آدمیوں کا ہونا اور گھر میں جماعت کے لئے آذان اور اقامت کا نہ ہونا بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تفردات میں سے ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛ترجمہ؛رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا مستحب ہے؛ جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٩٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٧٩؛حدیث نمبر ١٠٩٥)
حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہماسے روایت ہے۔وہ دونوں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا کیا یہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟جواب دیا جی ہاں تو آپ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ہم میں سے ایک کو دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کیا۔پھر ہم نے رکوع کیا اور ہم نے اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا تو آپ نے ہمارے ہاتھوں پر ہاتھ مارا پھر دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھا۔جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٧٩؛حدیث نمبر ١٠٩٦)
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی۔فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں کو رانوں کے درمیان رکھا تو میرے والد نے مجھےفرمایا۔اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھنٹوں پر رکھو۔فرماتے ہیں میں نے دوبارہ اسی طرح کیا تو آپ نے میرے ہاتھوں پر(ہاتھ)مارا اور فرمایا ہمیں اس بات سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھیں(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٩٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ آخر کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٨)
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رکوع کیا تو میں نے ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھا میرے والد نے فرمایا ہم بھی اسی طرح کرتے تھے۔پھر گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٩)
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنے والد(حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی جب میں رکوع کرتا تو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر رانوں کے درمیان رکھتا میرے والد نے میرے ہاتھ پر(ہاتھ)مارا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا ہم اسی طرح کرتے تھے پھر ہمیں حکم گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١١٠٠
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایڑیوں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ سنت ہے۔ہم نے کہا کہ ہمارے لئے اس میں مشقت ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔(احناف کے نزدیک دو سجدوں کے درمیان اور قعدے میں بھی دایاں پاؤں کھڑا کرکے اور بائیں پاؤں کو بچھاکر بیٹھنا سنت ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْإِقْعَاءِ عَلَى الْعَقِبَيْنِ؛ترجمہ؛نماز میں ایڑیوں پر بیٹھنا؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١١٠١)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی۔میں نے"یرحکم اللہ"کہا تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔میں نے کہا کاش میری ماں مجھے نہ پاتی(مرچکا ہوتا)یہ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔چنانچہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔میں نے آپ سے پہلے اور بعد میں آپ جیسا معلم کوئی نہیں دیکھا۔اللہ کی قسم!آپ نے نہ تو مجھے جھڑکا نہ مارا اور نہ برا بھلا کہا۔پھر فرمایا اس میں لوگوں کے کلام سے کوئی بات مناسب نہیں۔یہ تو تسبیح،تکبیر قرآن مجید کی قرأت ہے یا جیسا آپ نے فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول میں دور جاہلیت کے قریب ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اسلام سے سرفراز فرمایا اور ہم میں سے کچھ لوگ نجومیوں کے پاس جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا ان کے پاس نہ جایا کرو۔انہوں نے عرض کیا۔ہم میں سے کچھ لوگ بدفالی لیتے ہیں۔فرمایا یہ من گھڑت باتیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔فرماتے ہیں ہم میں سے کچھ لوگ رائچے بناتے ہیں۔فرماتے ہیں انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی رائچے بناتے تھے جس شخص کا عمل اس کے مطابق ہو وہ صحیح تھے۔حضرت معاویہ بن حکم فرماتے ہیں میرے یہاں ایک لونڈی تھی جو احد کی طرف میری بکریاں چراتی تھی۔ایک دن میں وہاں گیا تو(دیکھا کہ)ایک بھیڑیا ان بکریوں میں سے ایک بکری کو لے گیا اور میں بھی ایک انسان ہوں مجھے بھی دوسرے لوگوں کی طرح غصہ آتا ہے تو میں اسے تھپڑ ماردیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے میرے اس عمل کو بڑا جرم قرار دیا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں۔آپ نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ۔پس میں نے آپکی خدمت میں اسے حاضر کردیا تو آپ نے اس سے پوچھا اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟اس نے کہا آسمان میں۔فرمایا میں کون ہوں؟اس نے عرض کیا۔آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو آزاد کر دو کیونکہ یہ ایمان والی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛ترجمہ؛نماز میں گفتگو کرنا حرام ہے؛جلد١ص٣٨١؛حدیث نمبر ١١٠٢) (اس حدیث پاک سے غیر مقلدین استدلال کرتے ہیں کہ اللہ عرش پر ہے جبکہ اس حدیث میں عرش کا لفظ نہیں آسمان کا لفظ ہے اب غیر مقلدین سے پوچھا جائے کہ آسمان و عرش دونوں ایک ہے کیا؟اگر ہاں تو آسمان و عرش کے ایک ہونے پر دلیل لاؤ اگر نہیں تو پھر مانو کے اللہ تعالیٰ کی طرف کسی جگہ کی نسبت صرف اور صرف تشریفی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے مسجد کے متعلق کہ مسجد بیت اللہ ہے یعنی اللہ کا گھر ہے جبکہ اللہ کا کوئی گھر نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ گھر سے پاک ہے لیکن مسجد کو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے تو اس جگہ عقیدہ درست یہ ہیکہ اللہ زمان و مکان سے پاک ہے کیونکہ اللہ زمان و مکان سے بھی پہلے ہے
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٢؛حدیث نمبر ١١٠٣)
حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔آپ ہمیں جواب دیتے جب ہم نجاشی بادشاہ کے پاس سے واپس آئے تو سلام عرض کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا۔ہم نے عرض کیا یا رسول!ہم نماز میں آپکی خدمت میں سلام عرض کرتے تھے تو آپ ہمیں جواب دیتے۔آپ نے فرمایا نماز میں مشغولیت ہونی چاہیے۔(مطلب یہ ہے کہ تمام توجہ نماز کی طرف ہو کسی دوسری طرف توجہ نہ ہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٢؛حدیث نمبر ١١٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٥)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔نمازی اپنے پہلو میں کھڑے ساتھی سے گفتگو کرتا حتیٰ کہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔{وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨](اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے ہوجاؤ)تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور گفتگو سے منع کر دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ،وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا پھر میں نے آپ کو سواری پر حالت نماز(نفل نماز)میں پایا۔میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے مجھے اشارہ سے جواب دیا جب فراغت ہوئی تو مجھے بلایا اور فرمایا ابھی تم نے سلام کیا اور میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت آپ مشرق کی طرف متوجہ تھے۔(چونکہ سواری پر نفل نماز پڑھ رہے تھے اس لئے قبلہ رخ ہونا ضروری نہ تھا بلکہ سواری جدھر متوجہ ہو نیز نمازی کو سلام نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی سلام کرے تو نماز کے اندر جواب نہ دیا جائے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا اور آپ بنی مصطلق کی طرف جارہے تھے۔میں حاضر ہوا تو آپ اپنے اونٹ پر(نفل)نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ سے گفتگو کی۔آپ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔حضرت زہیر(راوی) نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے پھر گفتگو کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سن رہا تھا اور آپ سر سے اشارہ کر رہے تھے جب فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے تمہیں جس کام کے لئے بھیجا تھا اس کا کیا ہوا(اور فرمایا)مجھے تمہارے ساتھ گفتگو سے صرف یہ رکاوٹ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔زہیر راوی فرماتے ہیں حضرت ابوالزبیر(راوی)قبلہ رخ تھے۔انہوں نے اشارے سے بتایا کہ بنو مصطلق قبلہ رخ نہیں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم(ایک سفر میں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا میں واپس آیا تو آپ سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا۔میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا جب سلام پھیرا تو فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے میں صرف یہ بات مانع تھی کی میں نماز پڑھ رہا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١١)
حضرت ابن زیاد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک سرکش جن مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تاکہ میری نماز توڑ دے اور اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں دے دیا اور میں نے اسے سخت دھکا دیا۔میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون میں باندھ دوں حتیٰ کہ صبح تک تم اس کو دیکھتے۔پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا:{رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: ٣٥](اے میرےرب مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی بادشاہی عطاء فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو)تو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ذلیل ورسوا کر کے واپس کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں شیطان پر لعنت بھیجنا اور اس سے پناہ مانگنا نیز عمل قلیل کا حکم؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٣)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ سے سنا آپ یوں فرما رہے تھے میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔پھر فرمایا میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجتا ہوں تین بار فرمایا اور آپ نے اپنے دست مبارک کو بڑھایا۔گویا آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نےعرض کیا یا رسول اللہ ہم نے آپ سے سنا آپ نماز میں کچھ فرما رہے تھے اس سے پہلے ہم نے اس طرح آپ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر مارے تو میں نے تین بار اللہ کی پناہ طلب کی۔پھر میں نے کہا میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کرتا ہوں جو مکمل لعنت ہے۔وہ تینوں بار پیچھے نہ ہٹا پھر میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں۔اللہ کی قسم !اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی(جو پچھلی حدیث میں گزر چکی ہے)تو صبح وہ قید ہوتا اور مدینہ طیبہ کے بچے اس سے کھیلتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٤)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور آپ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت امامہ کو اٹھایا ہوتا۔(حضرت زینب کے خاوند حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے) جب آپ کھڑے ہوتے تو اس(بچی)کو اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو نیچے رکھ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کو بچوں کو اٹھانا اور عمل قلیل سے نماز باطل نہیں ہوتی؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور امامہ بنت العاص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی تھیں کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔آپ جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اسے اٹھا لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٦)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صحابہ کرام کی امامت فرما رہے تھے اور حضرت امامہ بنت العاص رضی اللہ عنہ آپ کے کندھے پر تھیں جب سجدہ کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٧)
حضرت عمرو بن سلیم زرقی سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ١١١٧ کی طرح ہے البتہ اس میں امامت کا ذکر نہیں ہے۔(نماز میں عمل قلیل جائز ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی عمل قلیل تھا اس سے نماز نہیں ٹوٹتی عمل کثیر جس میں دونوں ہاتھوں کو چھوڑا جائے یا نماز کے کسی ایک رکن میں ایک ہاتھ سے تین مرتبہ حرکت ہو اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٨)
حضرت عبد العزيز بن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوۓ اور وہ منبر شریف کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہوا ہے تو انہوں نے فرمایا سنو!قسم بخدا مجھے معلوم ہے یہ کس لکڑی سے بنایا گیا ہےاور اسے کس نے بنایا ہے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ پہلے دن اس پر تشریف فرما ہوۓ۔ابو حازم فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابو عباس!ہم سے بیان کیجئے۔فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو پیغام بھیجا۔ابو حازم کہتے ہیں انہوں نے(اس دن اس عورت کا نام بھی لیا تھا)تو آپ نے فرمایا کہ اپنے لڑکے سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑی کا منبر بنا دے تاکہ میں اس پر(کھڑا ہوکر)لوگوں سے گفتگو کر سکوں تو اس نے تین سیڑھیوں والا منبر بنایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کو اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مقام غابہ کے جھاؤ سے بنایا گیا تھا۔میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوۓاور تکبیر کہی۔صحابہ کرام نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر اور آپ منبر پر ہی تھے۔پھر آپ الٹے پاؤں نیچے اتر آئے حتیٰ کہ منبر کے پاس سجدہ کیا۔پھر اوپر تشریف لے گئے۔حتیٰ کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔میں نے یہ عمل اس لئے کیا کہ تم میری اقتداء کرو اور مجھ سے نماز سیکھو۔(آپ نے تعلیم کے طور پر ایسا کیا اور چونکہ منبر پر سجدہ نہیں ہوسکتا تھا اس لئے سجدے کے لئے نیچے اترے اور یہ عمل کثیر چونکہ متفرق تھا اس لئے نماز ٹوٹنے کا باعث نہ ہوا(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛ضرورت کے تحت نماز میں ایک دو قدم چلنا نیز امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہونا؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١١٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے۔(چونکہ یہ یہودیوں کا طریقہ تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مشابہت سے منع فرماتے تھے۔اس لئے آپ منع فرماۓ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢١)
حضرت ابوسلمہ،حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ گاہ سے کنکڑیاں ہٹانے کے بارے میں فرمایا۔اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کنکریوں کو برابر کرنا اور مٹی ہٹانا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں مٹی ہٹانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ایک بار ایسا کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١٢٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے جو نماز میں سجدے کے وقت مٹی کو برابر کرتا ہے۔فرمایا اگر ایسا کرنا ضروری ہوتو ایک بار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ شریف کی دیوار میں تھوک دیکھا تو اسے کھرچ دیا پھر صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛مسجد میں تھوکنے کی ممانعت؛جلد١ص٣٨٨؛ حدیث نمبر١١٢٦)
متعدد اسناد ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مسجد کے قبلہ کی طرف بلغم دیکھی۔آگے حدیث نمبر١١٢٦ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو اسے کنکری کے ساتھ کھرچ دیا۔پھر اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنی دائیں جانب یا سامنے تھوکے بلکہ فرمایا کہ بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوکے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٢٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ شریف کی دیوار میں تھوک یا بلغم یا رینٹھ دیکھی تو اسے کھرچ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا تم میں سے اس شخص کا کیا حال ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اپنے سامنے تھوکتا ہے جب تم میں سے کوئی ایک تھوکے تو اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوکے اگر ایسا نہ کر سکے تو یوں کرے قاسم راوی نے اپنے کپڑے میں تھوک کر بتایا پھر اس کو آپس میں مل لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مثل مروی ہے اور وہ فرماتے ہیں-گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے کو باہم مل رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک نماز میں ہو تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔پس وہ اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب اور پاؤں کے نیچے تھوکے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کرنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛ حدیث نمبر١١٣٤)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٥)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ فرماتے ہیں مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے پس میں نے ان کے اچھے اعمال میں راستے سے اذیت ناک چیز کو ہٹانے کا عمل پایا اور ان کے برے اعمال میں وہ بلغم دیکھی جو مسجد میں ہو اور اس کو دور نہ کیاجائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛ حدیث نمبر١١٣٦)
حضرت عبد اللہ بن شخير رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی تو میں نے دیکھا کہ آپ نے تھوکنے کے بعد جوتے سے رگڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن شخّير سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے تھوکنے کے بعد اسے بائیں جانب سے جوتے سے مل دیا۔(چونکہ اس وقت مسجد میں پکا فرش نہ تھا اور نہ ہی دری وغیرہ تھی بلکہ نیچے ریت تھی اس لیے وہ اس میں جزب ہوگیا لیکن مسجد کے فرش یا دریوں قالینوں پر ایسا نہیں کر سکتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٨)
حضرت ابوسلمہ سعید بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعلین پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں۔(اگر جوتے صاف پاک ہوں تو ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ورنہ جوتے اتارکر نماز پڑھنا ہوگی۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ؛ترجمہ؛جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھنا؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٣٩)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٣٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش ونگار تھے تو فرمایا اس کے نقش ونگار نے میری توجہ کو اپنی طرف کر لیا۔اسے حضرت ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور سادہ چادر لاؤ اور اس نے میری نماز سے توجہ ہٹا دیا۔(چونکہ یہ چادر حضرت ابوجہم نے آپ کو بطور ہدیہ پیش کی تھی اس لیے آپ نے وہ چادر واپس بھیج کر ان سے سادہ چادر منگوائی تاکہ ان کی دل شکنی بھی نہ ہو کہ میرا ہدیہ رد کردیا گیا۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛ترجمہ؛بیل بوٹوں والے کپڑوں میں نماز کی کراہت؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نقش ونگار والی چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے لگے۔نماز میں آپ کی نظر اس کے نقوش پر پڑی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا یہ چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور ان کی چادر مجھے لادو اس چادر نے میری توجہ میں خلل ڈال دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چادر تھی اس کی وجہ سے نماز میں آپ کی توجہ بٹ جاتی تھی تو آپ نے وہ چادر حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ کو دے دی اور ان کی سادہ چادر لے لی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب کھانا حاضر ہو(اور بھوک لگی ہوئی ہے)اور نماز کھڑی ہوجاۓ تو پہلے کھانا کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامَ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلَاةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثَيْنِ؛ترجمہ؛کھانے کی طلب اور پیشاب کی حاجت کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٤)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا قریب کردیا گیا اور جماعت کھڑی ہونے والی ہوتو نماز مغرب سے پہلے کھانا کھاؤ اور کھانے سے پہلے نماز کی جلدی نہ کرو۔(یہ اس صورت میں ہے جب کھانے کی حاجت ہو تاکہ نماز میں توجہ کھانے کی طرف نہ رہے ورنہ پہلے نماز پڑھی جائے)مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامَ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلَاةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثَيْنِ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٤٥ کی مثل مروی ہے۔((مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے کھانا رکھا جائے پس نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھاؤ اور جلدی نہ کرو۔حتیٰ کہ(کھانے سے)فارغ ہو جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٨)
حضرت ابن ابی عتیق فرماتے ہیں اور حضرت قاسم بن محمد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک حدیث بیان کرنے لگے اور حضرت قاسم(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے)بہت باتونی تھے اور وہ ایک ام ولد کے بیٹے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ تم میرے بھتیجے کی طرح باتیں نہیں کرتے۔میں جانتی ہوں تم کہاں سے آئے ہو اس کو اس کی ماں نے ادب سکھایا ہے اور تمہاری ماں نے تمہاری تربیت کی ہے۔راوی فرماتے ہیں۔اس پر حضرت قاسم کو غصہ آگیا اور ام المومنین سے اپنے رنج کا اظہار کیا۔جب دیکھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا دسترخوان آگیا ہے تو کھڑے ہو گئے۔ام المؤمنين نے پوچھا کہاں؟نماز پڑھتا ہوں۔فرمایا بیٹھو۔انہوں نے عرض کیا میں نے نماز پڑھنا ہے۔بے وفا بیٹھ جاؤ۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا کھانا حاضر ہو قضائے حاجت کی شدت ہوتو نماز پڑھنا درست نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٤٩)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٤٩ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت قاسم کا قصہ مذکور نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٥٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا جو شخص اس پودے یعنی لہسن سے کھاے وہ ہر گز مساجد میں نہ آئے۔حضرت زہیر کی روایت میں غزوہ کا ذکر ہے خیبر کا نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛لہسن وغیرہ کھاکر مسجد میں جانا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٥١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اس سبزی سے کھاے وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے حتیٰ کہ اس کی بو چلی جائے اس سے لہسن مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اس پودے سے کھاے وہ ہر گز ہماری مسجد میں نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس پودے(لہسن)سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندم کھانے سے منع فرمایا۔پس ہم ضرورت سے مغلوب ہوکر اس سے کھایا تو آپ نے فرمایا جس نے ان بدبودار درختوں سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت پہنچتی ہے جس سے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لہسن یا پیاز کھاے تو وہ ہم سے دور رہے یا فرمایا ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھ جاے اور ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں ساگ کی سبزیاں تھیں تو آپ نے بو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔آپ کو بتایا گیا کہ اس میں کونسی سبزیاں ہے تو آپ نے ایک صحابی کے قریب کرنے کا حکم دیا جب آپ نے دیکھا کہ وہ اسے کھانا پسند نہیں کرتا تو فرمایا کھاؤ میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم نہیں ڈرتے۔(معلوم ہوا کہ لہسن وغیرہ سالن میں پکا ہوا ہو تو اس کو کھاکر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ کچے لہسن والی صورت باقی نہیں رہتی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض احکام مخصوص ہیں آپ نے خود فرمایا کہ میں اپنے رب سے مناجات کرتا ہوں لہذا میرے لئے اس طرح بھی کھانا مناسب نہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے اس سبزی یعنی لہسن سے کھایا کبھی فرمایا کہ پیاز،لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے جس سے انسانوں کو اذیت پہنچتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٧)
اسی سند کے ساتھ یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس درخت سے کھایا آپ کی مراد لہسن تھی تو وہ ہماری مسجد کو نہ ڈھائے(نہ آئے)اس میں پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم واپس نہیں ہوے تھے کہ خیبر کا قلعہ فتح ہوگیا۔ہمارے ساتھی جو بھوکے تھے ان سبزیوں لہسن اور پیاز پر ٹوٹ پڑے اور ہم نے اچھی طرح کھایا۔پھر ہم مسجد کی طرف گئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بومحسوس فرمائی تو فرمایا جس نے اس خبیث پودے سے کچھ کھایا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اس پر لوگوں نے کہا لہسن حرام ہوگیا ہے۔آپ تک یہ بات پہنچی تو فرمایا اے لوگو!میں اللہ کے حلال کئے ہوئے حرام نہیں کر سکتا لیکن یہ ایک درخت ہے جسے کھانا مجھے ناپسند ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٩)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیاز کی ایک کھیتی سے گزرے صحابہ کرام بھی ہمراہ تھے۔انہوں نے اتر کر اس سے کھانا شروع کیا اور کچھ حضرات نے نہ کھایا۔ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو بلایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسروں کو اس وقت تک نہ بلایا جب تک اس کی بو نہ چلی گئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٦٠)
حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں گویا ایک مرغ ہے جس نے مجھے تین بار چونچ ماری اور میرا خیال ہے کہ میری موت قریب آگئی ہے اور کچھ لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اپنا خلیفہ مقرر کروں اور اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور آپ کی خلافت کو ضائع نہیں کرےگا۔اگر میرا وصال جلدی ہوگیا تو ان چھ حضرات کے باہمی مشورہ سے ان میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کر لینا جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر راضی رہے مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ اس معاملے میں طعنہ زنی کریں جن سے میں نے اسلام کے حوالے سے جہاد کیا ہے۔اگر وہ ایسا کرے تو اللہ تعالیٰ کے دشمن،کافر گمراہ ہیں۔میں کلالہ سے اہم معاملہ چھوڑ کر نہیں جارہا۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر کلالہ کے بارے میں پوچھا اس قدر کسی دوسری بات کے بارے میں نہیں پوچھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں جس قدر سختی فرمائی اتنی سختی کسی مسئلے کے بارے میں نہیں فرمائی حتیٰ کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینے میں مار کر فرمایا اے عمر!کیا تمہاری تسلی کے لئے سورہ نساء کی وہ آیت جو گرمیوں میں نازل ہوئی۔اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کی ایسی تفسیر کر کے جاؤں کہ اس کے بارے میں وہ بھی فیصلہ کرے گا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ بھی جو قرآن نہیں پڑھتا۔پھر فرمایا یااللہ!میں تجھے گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے شہروں میں حکمران اس لئے مقرر کئے ہیں تاکہ وہ ان سے انصاف کریں ان کو انکا دین اور نبی کی سنت سکھائیں ان میں مال غنیمت تقسیم کریں اور جو مسئلہ ان کو مشکل معلوم ہو اس کے لئے مجھ سے رجوع کریں۔پھر اے لوگو!تم دو پودوں سے کھاتے ہو حالانکہ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں یہ پیاز اور لہسن ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ مسجد میں کسی شخص سے یہ بو محسوس کرتے تو آپ اس کو بقیع کی طرف نکالنے کا حکم دیتے۔پس جو شخص ان کو کھاے تو پکانے کے ذریعے ان کی بو کو ختم کردے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٦؛حدیث نمبر١١٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر١١٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی شخص سے سنے کہ وہ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتا ہے تو وہ کہے اللہ تعالیٰ تیری طرف نہ لوٹائے مساجد ان کاموں کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛ترجمہ؛مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٤)
حضرت سلیمان بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے کہا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے نہ ملے مساجد صرف انہی کاموں کے لئے ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں۔((مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا میرا سرخ اونٹ کون لاکر دے گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نہ پائے مساجد ان مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے جن کے لئے بنائی گئی۔(مطلب یہ ہے کہ مساجد تو عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے بنائی گئیں گمشدہ چیزوں کے لئے نہیں بنائی گئیں ہیں)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٦)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا چکے تو ایک دیہاتی آیا اور اس نے اپنا سر مسجد کے اندر کیا اس کے بعد پہلی دو حدیثوں کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر ١١٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اس کو شبہے میں ڈال دیتا ہے حتیٰ کہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہےتو جب تم سے کوئی ایک ایسا پائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛ترجمہ؛سجدہ سہو کا بیان؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٦٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ آذان نہیں سنتا جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو وہ آجاتا ہے جب تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو آجاتا ہے حتیٰ کہ آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو وہ باتیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں(یاد دلاتا ہے)حتیٰ کہ آدمی کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں جب اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہوتی رہتی ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر ١١٧٠ کی مثل بیان کیا اس میں اضافہ ہے کہ اس کے دل میں خواہشات اور تمنائیں پیدا کرتا ہے اور وہ حاجات یاد دلاتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧١)
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز میں ہمیں دورکعتیں پڑھائیں پھر کھڑے ہوئے اور قعدہ نہ کیا۔صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب آپ نے نماز مکمل کی اور ہم نے آپ کے سلام پھیرنے کو دیکھا تو آپ نے تکبیر کہ کر بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کئے (پھر)سلام پھیرا۔(احناف کے نزدیک دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے جاتے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٢)
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے۔روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں کھڑے ہوگئے حالانکہ آپ پر قعدہ لازم تھا۔جب نماز کو مکمل کیا تو آپ نے دو سجدے کئے آپ بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لئے تکبیر کہتے اور یہ سلام سے پہلے تھا۔صحابہ کرام نے بھی دو سجدے کئے۔یہ سجدے اس قعدے کی جگہ پر تھے جو بھول گئے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٣)
حضرت عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دو رکعتوں میں جن کے آخر میں قعدہ فرمانا چاہتے تھے کھڑے ہوگئے اور آپ نے نماز کو جاری رکھا۔جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے آپ نے سجدہ کیا پھر سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی ایک کو اپنی نماز میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تین یاچار؟تو وہ شک کو چھوڑدے اور یقین پر بنیاد رکھے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے۔اگر پانچ رکعات پڑھی ہے تو یہ چھ رکعات بن جائیں گی اور اگر(فی الواقع)چار رکعت پڑھی ہیں تو یہ دو رکعتیں شیطان کی ذلت ورسوائی کا باعث ہوں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٦)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ابراهيم راوی کہتے ہیں۔اس میں اضافہ ہوا یا کمی جب سلام پھیرا تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟آپ نے فرمایا وہ کیا؟آپ نے اتنی رکعات نماز پڑھائی ہے۔راوی فرماتے ہیں آپ نے پاؤں مبارک کو دہرا کیا اور قبلہ رخ ہوکر دو سجدے کئے۔پھر سلام پھیرا اس کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا۔میں بھی انسان ہوں بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے بتا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں شک ہو تو وہ درست بات کے بارے میں غور وخوض کرے اور نماز کو مکمل کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٧ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ درست بات کو دیکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں درست بات پر غور کرے کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے اور اس میں منصور راوی نے فرمایا کہ درست بات کے قریب جانے کے لئے غور کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہےاور اس میں ہے کہ جسے درست سمجھتا ہے اس کے بارے میں سوچ بچار کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٣)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھائی جب سلام پھیرا تو پوچھا گیا کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہوا صحابہ کرام نے عرض کیا آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ نے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٤)
حضرت ابراہیم بن سوید فرماتے ہیں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا اے ابو شبل!آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔انہوں نے فرمایا ہر گز نہیں میں نے ایسا نہیں کیا۔حاضرین نے کہا جی ہاں ایساکیا ہے اور میں لوگوں کے ایک کنارے پر تھا اور ابھی بچہ تھا۔میں نے کہا جی ہاں آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہے۔انہوں نے فرمایا اے کانے!تم بھی یہی بات کہتے ہو! میں نے کہا جی ہاں تو انہوں نے منہ پھیرا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعات نماز پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو قوم میں تشویش پائی فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ نے رخ تبدیل کیا ہے پھر دو سجدے کئے اور سلام پھیرنے کے بعد فرمایا میں بھی انسان ہوں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ ابن نمیر(راوی) نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا کہ جب تم میں سے کوئی ایک بھول جاۓتو دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٥)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعات پڑھائی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے۔آپ نے پوچھا کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔آپ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں مجھے یاد رہتا ہے جس طرح تمہیں یاد رہتا ہے اور میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٦)
حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو نماز میں اضافہ کیا یا کمی کی۔ابراہیم(راوی)کہتے ہیں مجھے وہم ہوا(کہ اضافہ کا ذکر ہے یا کمی کا)عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کسی چیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب تم میں سے کوئی ایک بھولے تو اسے چاہیے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور آپ نےدو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٧)
حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام وکلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٨)
حضرت سلیمان بن ابراہیم، حضرت علقمہ سے وہ حضرت عبداللہ سے روایت کرتےہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے کچھ اضافہ کیا یا(راوی کو شک ہے)کمی ہوئی ابراہیم راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم یہ شک میری طرف سے ہے۔فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی بات ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں ہم نے آپ کے عمل کے بارے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا جب کسی کی نماز میں اضافہ یا کمی ہو جائے تو وہ دو سجدے کرے۔راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو عشاؤں میں سے ایک یعنی ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی(عرب والے زوال شمس اور غروب آفتاب کے درمیان وقت کو"العشی" کہتے ہیں اس لئے ظہر اور عصر کے لئے صلوۃ العشی فرمایا) تو دو رکعتوں پر سلام پھیرا پھر مسجد کے قبلہ کی جانب ایک شہیتر کی طرف تشریف لائے اور غصے کی حالت میں اس سے ٹیک لگائی۔لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے انہیں گفتگو کرتے ہوئے خوف محسوس ہوا اور جلدی جانے والے لوگ چلے گئے اور وہ کہ رہے تھے۔نماز میں کمی ہوگئی۔حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بائیں جانب دیکھا اور فرمایا ذوالیدین کیا کہتے ہیں۔سب نے کہا وہ ٹھیک کہ رہے ہیں آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھائی ہے تو آپ نے مزید دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی پھر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھا کر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پھر تکبیر کہی(اللہ اکبر کہا)اور سر اٹھایا۔ راوی کہتے ہیں مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے خبر ملی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٩٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیرا۔حضرت ذوالیدین نے کھڑے ہوکر عرض کیا۔یا رسول اللہ کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں آپ نے فرمایا کچھ بھی نہیں ہوا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!پس آپ باقی نماز کو مکمل کر کے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دورکعتیں پڑھی پھر سلام پھیرا تو بنو سلیم کا ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔آگے حدیث نمبر١١٩٢ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیرا بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھا۔آگے حدیث نمبر١١٩٢ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھیں پھر گھر تشریف لے گئے تو ایک شخص جن کو خرباق رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا اور ان کے ہاتھ کچھ لمبے تھے۔اٹھ کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا رسول!اس کے بعد واقعہ بتایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر مبارک کھینچتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا یہ(حضرت خرباق)صحیح کہ رہے ہیں؟صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں پس آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر دو سجدے کر کے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٥)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات کے بعد سلام پھیرا۔پھر کھڑے ہوئے اور حجرہ مبارک میں داخل ہوگئے ایک شخص جن کے ہاتھ لمبے تھے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!نماز کم ہوگئی ہے؟تو آپ غصے کی حالت میں تشریف لائے اور ایک رکعت جو رہ گئی تھی پڑھ کر سلام پھیرا پھر سہو کے دو سجدے کئے اور اس کے بعد پھر سلام پھیرا۔(حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ اور آپ کے اصحاب اور امام ثوری علیہ الرحمۃ کے نزدیک کلام بھول کر بھی ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ واقعہ(اور اس کا حکم) منسوخ ہوچکا ہے ہے۔دوسرے حضرات کے نزدیک نماز نہیں ٹوٹتی(ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید پڑھتے تو وہ سورت جس میں سجدہ ہے۔پڑھنے کے بعد سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛ترجمہ؛سجدہ تلاوت؛؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ فرماتے حتیٰ کہ آپ کے پاس ہماری وجہ سے بھیڑ ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ ہم میں سے بھی بعض کو سجدہ کرنے کے لئے جگہ نہ ملتی اور ہم نماز کے باہر ہوتے۔(یعنی نماز کے علاوہ قرآت ہوتی تو سب مل کر سجدہ کرتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛ترجمہ؛سجدہ تلاوت؛؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے سورہ النجم پڑھی تواس میں سجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا لیکن ایک بوڑھے شخص نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگائی اور کہا کہ مجھے یہی کافی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے بعد میں اس کو دیکھا کہ وہ کافر ہو کر مرا۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے وہ شخص گستاخی کا مرتکب ہوگااور برے انجام کو پہنچا)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٩)
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرأت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا امام کی موجودگی میں کوئی قرأت نہیں اور انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ"والنجم اذا ھوی"پڑھی تو سجدہ نہیں کیا۔(احناف کے نزدیک سورۃ نجم میں سجدہ ہے اور حدیث نمبر ١٢٠٠ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے سجدہ نہیں کیا۔ممکن ہے اس وقت نہ کیا ہو جب تلاوت فرمائی چونکہ یہ حدیث دوسری حدیث کے خلاف ہے اس لیے تطبیق کی یہی صورت ہے اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ امام کے ساتھ مقتدی قرآت نہیں کرے گا چاہے امام بلند آواز سے قرآت کرے یا آہستہ آواز سے۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٠)
حضرت سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے"اذا السماء انشقت"(سورۃ) پڑھی تو سجدہ کیا جب سلام پھیرا تو ان کو بتایاکہ اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ"اذا السماء انشقت" اور اقرأ باسم ربک"میں سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"اذاالسماء انشقت"اور اقرأءباسم ربک"میں سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٢٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٥)
حضرت ابورافع فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے"اذاالسماء انشقت" پڑھی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا یہ کیسا سجدہ ہے؟فرمایا میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا تو میں اس میں ہمیشہ سجدہ کروں گا حتیٰ کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کروں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٦)
متعدد اسناد کے ساتھ حدیث نمبر١٢٠٦ کی مثل مروی ہے لیکن یہ بات مذکور نہیں کہ ابوالقاسم کے پیچھے نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٧)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ"اذاالسماء انشقت"میں سجدہ کرتے تھے۔میں نے پوچھا آپ سجدہ کرتے ہیں؟فرمایا ہاں میں نے اپنے خلیل کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔پس میں ہمیشہ سجدہ کروں گا حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٨)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان کرتے اور دائیں پاؤں کو بچھاتے۔بایاں ہاتھ ران پراور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛ترجمہ؛نماز میں بیٹھنے کا طریقہ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢٠٩)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قعدہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے اور بائیں ہتھیلی کو گھٹنے پر رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں قعدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں اور دائیں ہاتھ کی اس انگلی کو اٹھاتے جو انگوٹھے سے ملی ہوئی ہے اور اس سے اشارہ کرتے اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور اسے کشادہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشھد کے لئے بیٹھتے تو بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور پچاس(کے ہند سے)کی گرہ بناتے ہوئے شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٢)
حضرت علی بن عبدالرحمن معاوی فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں کنکریوں سے کھیل رہا تھا۔جب نماز سے فارغ ہوا تو انہوں نے مجھے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا۔اس طرح کرو جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔میں نے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے۔فرمایا جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھتے اور تمام انگلیوں کو بند کرتے اور انگوٹھے سے ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢١٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١۴)
حضرت ابو معمر سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ کا امیر دو سلام پھیرتا تھا تو حضرت عبد اللہ نے پوچھا اس نے یہ طریقہ کہاں سے لیا ہے؟حکم اپنی حدیث میں لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛ترجمہ؛نماز سے فراغت پر سلام پھیرنا؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٦)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا آپ دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار مبارک نظر آتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کا علم تکبیر(اللہ اکبر)کے ذریعے ہوتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کے ذریعے ہوتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوسعید نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کیا جاتا تھا اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مجھے اس بات سے پتہ چلتا تھا کہ نماز پڑھ چکے ہیں جب میں(ذکر)سنتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک یہودی عورت تھی اور وہ کہ رہی تھی کیا آپ کو معلوم ہے کہ قبر میں تم لوگوں کی آزمائش ہوگی۔ام المؤمنين فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور آپ نے فرمایا آزمائش صرف یہودیوں کی ہوگی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کچھ راتیں گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ تم لوگ قبر میں آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس کے بعد میں نے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ؛ترجمہ؛عذاب قبر سے پناہ مانگنا؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودیوں میں سے دو بوڑھی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ام المؤمنين فرماتی ہیں۔میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔وہ دونوں چلی گئیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو بوڑھی عورتیں یہودی عورتوں میں سے ہیں۔یہ میرے پاس آئیں اور ان کا خیال ہے کہ اہل قبور کو قبر میں عذاب ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا ان دونوں نے سچ کہا ان کو عذاب ہوتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں۔ام المؤمنين فرماتی ہیں۔پھر میں نے کبھی بھی آپکو نماز میں نہیں دیکھا مگر آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نماز میں دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی ایک تشھد پڑھے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔وہ یوں کہے۔:اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "(یااللہ!میں عذاب جہنم سے،عذاب قبر سے،زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٦)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یوں دعا مانگتے تھے۔«اللهُمَّ اِنّی وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»(یااللہ! میں عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔میں زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔یا اللہ!میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔) کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ قرض سے اکثر پناہ طلب کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرے تو پورا نہیں کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک آخری تشھد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے پناہ مانگے،عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے شر سے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٨)
حکم بن موسی علی بن خشرم نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا۔اس حدیث میں یوں ہے کہ جب تم میں سے کوئی تشھد سے فارغ ہو آخر کا ذکر نہیں ہے۔آگے حدیث نمبر١٢٢٨ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پناہ طلب کی۔«اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور زندگی وموت کے فتنے سےاللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٢٣١ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ عذاب قبر،عذاب جہنم اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ان کو قرآن پاک کی کوئی سورت سکھاتے اور وہ اس طرح ہے۔ «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» امام مسلم فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ حضرت طاؤس(راوی)نے اپنے بیٹے سے پوچھا کیا تم نے نماز میں یہ دعا مانگی ہے۔اس نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا دوبارہ نماز پڑھو۔کیونکہ حضرت طاؤس نے یہ حدیث تین یا چار صحابہ کرام سے روایت کی یا جس طرح فرمایا۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام گناہوں سے پاک اور فتنوں سے محفوظ تھے آپ نے تعلیم امت کے لئے دعائیں مانگیں اور استغفار کیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٥)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے تو تین مرتبہ"استغفر اللہ"پڑھتے اور پھر"«اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»(یااللہ!تو سلامتی (دینے)والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔اے بزرگی اور اکرام والے تو برکت والا ہے۔ولید(راوی) نے کہا میں نے حضرت اوزاعی سے پوچھا استغفار کس طرح ہے؟تو انہوں نے فرمایا یوں کہے"استغفر اللہ استغفر اللہ" (میں اللہ سے بخشش کا طالب ہوں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر کا استحباب اور طریقہ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے جتنے وقت میں «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»(ترجمہ گزر چکا ہے) ابن نمیر کی روایت میں "یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٩)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت وَرّاد،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور وہ لائق حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!جو کچھ تو عطاء کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک دے اسے کوئی عطاء نہیں کر سکتا اور کسی مالدار کو اس کی مالداری تیری طرف سے نفع نہیں دے سکتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔حضرت وارد فرماتے ہیں۔حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ مجھے لکھواتے رہے اور میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"وھو علی کل شی قدیر"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٣)
حضرت وارد کہتے ہیں۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ مجھے کوئی ایسی بات لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے لکھ کر بھیجا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نماز سے فارغ ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»(ترجمہ گزر چکا ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٤)
حضرت ابوالزبیر سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت ابن زبیر ہر نماز سے سلام پھیرنے کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کے ساتھ توحید خداوندی کا اظہار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٥)
حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٦)
حضرت ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔وہ فرما رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے یا فرمایا نمازوں سے سلام پھیرتے تو یہ کلمات کہتے تھے (حدیث نمبر ١٢٤٥ کی طرح بیان کیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ انہی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے پھر یہ کلمات پڑھتے تھے(حدیث نمبر ١٢٤٥ کی مثل بیان کیا)اور آخر میں فرمایا کہ وہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ،بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ۔جلد١ص٤١٦،حدیث نمبر١٢٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقراء مہاجرین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مال دار لوگ بلند درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔آپ نے پوچھا وہ کیسے؟انہوں نے عرض کیا وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں۔وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کرسکتے۔وہ(غلام)آزاد کرتے ہیں اور ہم آزاد نہیں کر سکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں ایسی چیز نہ سکھاؤں کہ اس کے ذریعے تم سبقت حاصل کرنے والوں کا درجہ حاصل کرو اور بعد والوں سے سبقت لے جاؤ اور تم سے کوئی شخص بھی افضل نہ ہو سوائے اس کے جو تمہاری طرح کا عمل کرے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!(بتائیے)آپ نے فرمایا ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھو۔ ابو صالح(راوی) فرماتے ہیں۔فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ہمارے مالدار بھائیوں نے ہمارے عمل کے بارے میں سنا تو انہوں نے بھی اس طرح کیا(اس پر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطاء کرتا ہے۔سُمَیَّ کہتے ہیں میں نے اپنے گھر والوں میں سے بعض سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ تمہیں وہم ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا سبحان اللہ٣٣ بار الحمد للہ تینتیس بار اور ٣٣ بار اللہ اکبر پڑھو- فرماتے ہیں میں حضرت ابو صالح کے پاس آیا اور ان سے یہ بات عرض کی تو انہوں نے میرا یہ ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ اکبر، سبحان اللہ،الحمد للہ،اللہ اکبر،سبحان اللہ، الحمد للہ حتیٰ کہ تم ان تمام کو تینتیس مرتبہ پڑھو(کل تعداد ٣٣ ہوجائے) ابن عجلان کہتے ہیں میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ سے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!مالدار لوگ درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔باقی حدیث اسی طرح ہے البتہ اس میں سہیل کا قول یہ ہے کہ گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھیں۔کل تعداد ٣٣ ہو جائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٧؛حدیث نمبر١٢٥٠)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا نماز کے بعد کچھ اذکار ہیں ان کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا فرمایا، کرنے والا نامراد نہیں ہوتا ٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥١)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا نماز کے بعد کچھ اذکار ہیں ان کو پڑھنے والا یا عمل میں لانے والا نامراد نہیں ہوتا۔٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر یہ فرض نماز کے بعد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٣ بار اللہ اکبر پڑھا تو یہ کل ننانوے کلمات ہوئے اور"لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"پڑھ کر سو کی تعداد مکمل کی تو اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کے دوران کیا پڑھتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں یہ کلمات پڑھتا ہوں:اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " یا اللہ!میرے اور میری خطاؤں کے درمیان دوری پیدا کر دے جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔یا اللہ!مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک کردے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔یااللہ!مجھے خطاؤں سے برف،پانی اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛ترجمہ؛تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کیا پڑھے؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٦)
ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ١٢٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو"الحمد للہ رب العالمین"سے قرأت کا آغاز کرتے اور خاموشی اختیار نہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آکر صف میں داخل ہو گیا اور(جلدی کی وجہ سے)اس کا سانس پھولا ہوا تھا اس نے کہا۔"الحمد للہ حمداً کثیرا طیب مبارکا"(تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں بہت،پاکیزہ اور مبارک تعریف) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوے تو فرمایا تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں۔لوگ خاموش رہے۔آپ نے فرمایا تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں۔اس نے کوئی حرج والا کلام نہیں کیا اس آدمی نے کہا میں آیا اور میرا سانس پھولا ہوا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے۔آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتوں نے جلدی کی کہ ان میں سے کون ان کو اوپر لے جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے کہ جماعت میں سے ایک شخص نے کہا"اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا"(اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بہت زیادہ تعریف ہے اور صبح وشام اللہ تعالیٰ کے لئے بہت پاکیزگی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کلمات کس نے کہے ہیں۔لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!میں نے کہے ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے ان کلمات پر تعجب ہوا ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤٢٠؛حدیث نمبر١٢٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑ کر نہ آؤ بلکہ آہستہ(قدرے تیز)چل کر آؤ اور تم پر سکون لازم ہے جس قدر نماز پاؤ پڑھو اور جو رہ گئی اسے(امام کے سلام پھیرنے کے بعد)مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛ترجمہ؛نماز کے لئے سکون اور وقار سے آنا چاہئے؛جلد١ص٤٢٠؛حدیث نمبر١٢٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس کی طرف دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تم پر سکون لازم ہے جو کچھ پاؤ اسے(امام کے ساتھ پڑھو)اور جو رہ جائے اسے(بعد میں)مکمل کرو تم میں کوئی ایک جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی(شمار)ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٢)
حضرت ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث روایت کرتے ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان دی جائے تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آؤ جو کچھ پاؤ اسے پڑھو اور جو رہ گئی ہے اسے مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔جب نماز کے لئے تکبیر ہو تو تم میں سے کوئی ایک اس کی طرف دوڑ کر نہ جائے بلکہ سکون کے ساتھ چل کر جاۓ اور وقار کا طریقہ اختیار کرے جس قدر نماز پائے اسے پڑھے اور جو گزر گئ اسے قضاء کرے(اٹھ کر مکمل کرے.)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٤)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ کچھ حرکت سنی۔فرمایا تمہیں کیا ہوا عرض کیا ہم نے نماز کے لئے جلدی کی۔آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو جب نماز کے لئے آؤ تو تم پر سکون لازم ہے جس قدر نماز پاؤ اسے پڑھو اور جو گزر گئی اسے مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٦٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٦)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ابن حاتم کہتے ہیں"اقیمت یا نودی"کے الفاظ ہیں مطلب ایک ہی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛ترجمہ؛لوگ نماز کے لئے کب کھڑے ہوں؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٦٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ حتیٰ کہ مجھے نکلتا ہوا دیکھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے اقامت کہی گئی۔پس ہم نے کھڑے ہوکر صفوں کو درست کیا اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے۔پھر آپ تشریف لائے اور مصلے پر کھڑے ہوئے اور تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہنے سے پہلے آپ واپس ہوئے اور فرمایا تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو چنانچہ ہم وہاں کھڑے ہو کر آپ کےمنتظر رہے حتیٰ کہ آپ ہماری طرف تشریف لائے اور آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور سر انور سے پانی ٹپک رہا تھا۔پس آپ نے تکبیر کہی اور ہمیں نماز پڑھائی۔(تعلیم امت کے لئے آپ پر کبھی کبھی نسیان طاری ہوتا تاکہ اس سے متعلق مسائل بتائے جائیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرمانا بھول گئے اور پھر غسل کرکے تشریف لائے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور صحابہ کرام نے صفیں ترتیب دے دیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنی جگہ کھڑے ہوئے پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو اس کے بعد تشریف لائے تو آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور پانی ٹپک رہا تھا چنانچہ آپ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر تکبیر کہی جاتی اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں کھڑے ہو جاتے اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقام پر کھڑے نہ ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب سورج ڈھل جاتا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آذان دیتے اور تکبیر نہ کہتے حتیٰ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے جب آپ تشریف لاتے تو آپ کو دیکھ کر تکبیر کہتے تھے۔(بہتر طریقہ یہ ہے کہ مقتدی اور امام بھی دونوں موجود ہوں تو حی علی الصلاۃ پر کھڑے ہوں اور فوراً صفیں درست کریں احناف کا یہی موقف ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز کو پایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛ترجمہِ؛جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز کو پالیا؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ پائی اس نے نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٤)
متعدد اسناد سے حدیث نمبر ١٢٧٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ ایک روایت میں ہے کہ اس نے پوری نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پائی۔اس نے صبح کی نماز پالی اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی نماز پالی۔اس نے عصر کی نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عصر کا ایک سجدہ پایا اور ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا یا طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پائی تو اس نے نماز کو پالیا۔سجدہ سے رکعت مراد۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پالیا اس نے نماز کو پالیا اور جس نے طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعات کو پالیا اس نے(فجر کی نماز کو)پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨٠)
ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر فرمائی تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا حضرت جبریل علیہ السلام اترے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے(کھڑے ہو کر)یہ نماز پڑھائی۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عروہ!دیکھو کیا کہ رہےہو انہوں نے کہا میں نے حضرت بشیر بن ابی مسعود سے سنا وہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابو مسعود سے سنا وہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ پڑھی(پانچ مرتبہ یہ الفاظ فرمائے)انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛ترجمہ؛پانچ نمازوں کی اوقات؛ جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨١)
ابن شہاب سے مروی ہے کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہوں نے ان کو بتایا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز میں تاخیر فرمائی تو حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے مغیرہ یہ کیا ہے؟کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اتر کر نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے بھی پڑھی۔پھر انہوں نے نماز پڑھی تو حضور علیہ السلام نے بھی پڑھی۔پھر انہوں نے فرمایا مجھے(یا آپ کو)اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمۃ نے حضرت عروہ سے فرمایا اے عروہ!دیکھو کیا بیان کر رہے ہو کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کے اوقات مقرر کئے۔(مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوقات نماز مقرر فرمائے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت جبریل علیہ السلام نے بیان فرمائے لہٰذا ان کی طرف نسبت کی گئی ہے)حضرت عروہ نے فرمایا حضرت بشیر بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اسی طرح روایت کرتے تھے۔حضرت عروہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور ابھی ان کے حجرے میں سایہ ظاہر نہ ہوتا(دھوپ ہوتی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور سورج میرے حجرے میں روشن ہوتا اور ابھی تک سایہ نہ ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو ان کے حجرہ مبارکہ میں دھوپ ہوتی اور ان کے حجرہ سے سایہ ظاہر نہ ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور ابھی آپ کے حجرہ مبارکہ میں دھوپ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو صبح کا وقت باقی رہتا ہے یہاں تک کہ سورج کا اوپر والا کنارہ طلوع ہو۔پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھو تو(ظہر کا)وقت باقی رہتا ہے حتیٰ کہ عصر کا وقت آجائے پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ لو تو سورج کے زرد ہو جانے تک وقت ہوتا ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھ لو تو اس وقت باقی رہتا ہے۔یہاں تک کہ شفق غائب ہوجائے۔پس جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو ہر رات کے نصف تک اس کا وقت باقی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٦)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا ظہر کا وقت عصر کے آنے تک ہوتا ہے۔اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے۔مغرب کا وقت شفق کی تیزی ختم ہونے تک اور عشاء کا وقت نصف شب تک ہے۔فجر کا وقت سورج کے طلوع ہونے تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٨٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٨)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر کا وقت سورج کے ڈھلنے پر(شروع)ہوتا ہے جب آدمی کا سایہ کے طول میں اس کے برابر ہو جائے جب تک عصر کا وقت نہ ہو(یہ وقت باقی رہتا ہے)اور عصر کا وقت سورج کے زرد پڑ جانے تک ہوتا ہے۔مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے۔عشاء کا وقت درمیانی رات کے نصف تک ہوتا ہے اور صبح کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نماز فجر کا وقت سورج کے پہلے کنارے کے طلوع ہونے تک ہے۔نماز ظہر کا وقت جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل جائے اور یہ عصر تک ہے اور نماز عصر کا وقت سورج کا رنگ زرد پڑ جائے اور اس کا پہلا کنارہ ڈوبنے تک ہے۔نماز مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے شفق کے غائب ہونے تک ہے اور نماز عشاء کا وقت نصف رات تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٩٠)
حضرت عبد اللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں۔میں نے اپنے باپ سے سنا وہ فرماتے تھے جسم کو آرام وسکون دینے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔(مطلب یہ ہے کہ حصول علم کے لیے دور دراز کا سفر کرنا اور صبح وشام محنت کرنا ضروری ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٨؛حدیث نمبر١٢٩١)
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ ان دودنوں کی نماز پڑھو جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔انہوں نے اذان کہی پھر حکم دیا تو انہوں نے نماز ظہر کے لئے تکبیر کہی پھر حکم دیا تو نماز عصر کے لئے اقامت کہی جب سورج غائب ہوگیا پھر انہوں نے آپ کے حکم پر اس وقت عشاء کے لئے تکبیر کہی جب شفق غائب ہوگئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کے لئے اقامت کہی جب فجر طلوع ہوا۔ جب دوسرا دن ہوا تو آپ کے حکم سے ظہر کو ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا اور عصر کی نماز پڑھی اور ابھی سورج بلند تھا لیکن پہلے دن سے کم تھا اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز رات کی(پہلی)تہائی جانے پر پڑھی اور صبح کی نماز روشن کر کے پڑھا۔ پھر فرمایا اوقات نماز کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں ہوں آپ نے فرمایا تم لوگوں کی نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے(ان دونوں میں) دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٨؛حدیث نمبر١٢٩٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور اس نے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ نماز میں موجود رہو۔پس آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اندھیرے میں آذان پڑھی پس آپ نے طلوع فجر کے وقت صبح کی نماز پڑھی پھر ظہر کے لئے اس وقت حکم دیا جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل گیا۔پھر عصر کے لئے اس وقت حکم دیا جب سورج بلند تھا۔پھر مغرب کے لئے اس وقت حکم دیا جب سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کے لیے اس وقت حکم دیا جب شفق غائب ہو گئی پھر دوسرے دن حکم دیا تو صبح کو روشن کیا۔پھر ظہر کے بارے میں حکم دیا تو اسے ٹھنڈا کیا۔پھر عصر کے لئے حکم دیا جب دھوپ سفید اور صاف تھی اس میں زردی نہیں ملی تھی پھر مغرب کے شفق غائب ہونے سے پہلے حکم دیا۔پھر عشاء کے بارے میں حکم دیا۔جب رات کا تہائی حصہ یا بعض حصہ چلا گیا حرمی بن عمارہ راوی کو شک ہے صبح ہوئی تو فرمایا سائل کہاں ہے۔پھر فرمایا جو کچھ تم نے(دودن)دیکھا اس کے درمیان وقت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٣)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ کے پاس ایک سائل آیا جو آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ نے جواب نہ دیا(مطلب یہ کہ اوقات نہ بتائے بلکہ اسے اپنے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا)تو صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر پھوٹ چکی تھی اور(اندھیرے کی وجہ سے)لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔پھر(حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا اور کوئی کہنے والا کہتا ہے دن کا نصف ہوگیا اور آپ سب سے زیادہ جانتے ہیں پھر نماز عصر کے لئے تکبیر کا حکم دیا۔جب سورج بلند تھا پھر مغرب کی تکبیر کا حکم اس وقت دیا جب سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کی اقامت کا حکم دیا جب شفق غائب ہوگئی۔پھر دوسرے دن فجر کو مؤخر کیا کہ واپس جانے والے کہتے تھے کہ سورج نکل چکا ہے یا نکلنے والا ہے پھر ظہر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ گزشتہ روز کے مطابق عصر کا وقت قریب ہوگیا۔پھر عصر کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ نماز سے فراغت کے بعد کہنے والا کہنے لگا کہ سورج کا رنگ زرد ہو چکا ہے پھر نماز کو تاخیر سے پڑھا حتیٰ کہ شفق غائب ہو رہی تھی پھر عشاء کو رات کی پہلی تہائی(کے آخر) تک مؤخر کیا۔پھر صبح ہوئی تو پوچھنے والے کو بلا کر فرمایا ان دو وقتوں کے درمیان(مستحب)وقت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ دوسرے دن مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛ترجمہ؛گرمیوں میں نماز ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھنا؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٨)
حضرت عمرو نے فرمایا مجھ سے حدیث بیان کیا ابو یونس نے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٣٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک یہ گرمی جہنم کی بھاپ سے ہے پس نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان دینا چاہی تو آپ نے فرمایا ٹھنڈا وقت ہونے دو (دو بار فرمایا)یا فرمایا انتظار کرو،انتظار کرو اور فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔پس نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔(اس قدر دیر ہوگئی کہ)ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ نے اپنے رب کے ہاں شکایت کرتے ہوئے کہا۔اے میرے رب میرے بعض نے بعض کو کھا لیا ہےتو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی۔ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں، سردی اور گرمی کی جو شدت تم محسوس کرتے ہو یہ انہی سانسوں کی وجہ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠۴)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمیوں کے دن ہوں تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے اور آپ نے ذکرفرمایا کہ آگ نے اپنے کے ہاں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا آگ نے کہا اے میرے رب!میرے بعض نے بعض کو کھا لیا۔پس تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں تو تم جو سردی محسوس کرتے ہو یہ جہنم کی سانس کی وجہ سے ہے اور جو گرمی تم محسوس کرتے ہو وہ بھی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛ترجمہ؛سردیوں میں نماز ظہر جلدی پڑھنا؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠۷)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت گرمی میں نماز کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔(یہ حدیث منسوخ ہو چکی ہے اور اس کی ناسخ احادیث وہ ہیں جن میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیا)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٨)
حضرت خباب سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سخت گرمی کی شکایت کی تو آپ نے اس شکایت کا ازالہ نہ کیا۔ حضرت زبیر(راوی)کہتے ہیں۔میں نے ابو اسحاق سے پوچھا کیا ظہر کے بارے میں ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں،میں نے کہا کیا اسے جلدی پڑھنے کے بارے میں ہے۔فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے۔جب ہم میں سے کوئی ایک اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو وہ کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣١٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو ابھی سورج بلند اور صاف ہوتا پس جانے والا مدینہ طیبہ کی بالائی بستیوں میں جاتا اور وہاں پہنچتا تو ابھی سورج بلند ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛ترجمہ؛عصر کی نماز جلدی پڑھنے کا استحباب؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣١١)
قتیبہ کی روایت میں بالائی بستیوں کا ذکر نہیں ہے۔ایک اور سند سے بھی انہیں کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر کوئی جانے والا قبا کی طرف جاتا وہاں ان کے پاس پہنچتا تو ابھی سورج بلند ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر کوئی شخص بنو عمرو بن عوف کے پاس جاتا تو ان کو نماز عصر پڑھتے ہوئے پاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٤)
حضرت علاء بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ وہ بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر حاضر ہوئے۔جب وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوۓ۔اور ان کا گھر مسجد کے ساتھ تھا جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا کیا تم لوگ عصر کی نماز پڑھ چکے ہو۔ہم نے عرض کیا ابھی تو ہم نماز ظہر سے فارغ ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں چنانچہ ان لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی تو ہم نے بھی پڑھی۔جب سلام پھیرا تو انہوں نے(حضرت انس رضی اللہ عنہ نے)فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا بیٹھا سورج کا انتظار کرتا ہے۔جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو یہ چار ٹھونگیں مارتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٥)
حضرت ابو امامہ بن سہل فرماتے ہیں۔ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو ان کو نماز عصر پڑھتے ہوئے پایا۔میں نے عرض کیا چچا جان!آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟فرمایا نماز عصر اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ(اس وقت)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو بنو سلمہ کا ایک شخص آیا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم اپنا ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی وہاں تشریف فرما ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں(ٹھیک ہے)پس آپ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ گئے تو ہم نے دیکھا اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا پس اسے ذبح کر کے(اس کا گوشت)کاٹا گیا۔پھر اس سے پکایا گیا پھر ہم نے اس سے کھایا اور ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٧)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے اونٹ ذبح کیا جاتا ہم اسے دس حصوں میں تقسیم کرتے۔پھر ہم اس کا پکا ہوا گوشت غروب آفتاب سے پہلے کھاتے۔(اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عصر کی نماز میں زیادہ تاخیر نہ ہو حتیٰ کہ سورج زرد رنگ اختیار کرے بلکہ اس سے پہلے پڑھی جائے اگرچہ بہت جلدی بھی نہ ہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٨)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتے تھے اس میں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے عصر رہ جائے گویا اس کے اہل ومال ضائع ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ترجمہ؛نماز عصر نہ پڑھنے پر سخت وعید؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کا گھر بار اور مال ہلاک ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٢)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب غزوۂ احزاب کا دن تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان(کفار)کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے جس طرح انہوں نے نماز وسطیٰ(درمیانی نماز)سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب الصلاة الوسطى؛ترجمہ؛نماز وسطیٰ؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب الصلاة الوسطى؛ہ؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٤)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا۔ان(کفار)نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔اللہ تعالی ان کی قبروں کو اور گھروں یا(فرمایا)پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔حضرت شعبہ کو شک ہے کہ گھروں کا ذکر فرمایا یا پیٹوں کا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛ترجمہ؛نماز وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے اس کی دلیل کیا ہے؟؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٥ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں شک نہیں بلکہ گھروں اور قبروں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٦)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احزاب کے دن خندق کے راستوں میں سے ایک راستے پر بیٹھے تھے تو آپ نے فرمایا۔ان لوگوں نے ہمیں وسطیٰ نماز سے روک رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے یا فرمایا ان کی قبروں یا پیٹوں کو(آگ سے بھر دے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٧)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ(یعنی)نماز عصر سے روکے رکھا۔اللہ تعالی ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے درمیان یہ نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٨)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مشرکین کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر نہ پڑھ سکے حتیٰ کہ سورج کا رنگ سرخ یا زرد ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ(یعنی)نماز عصر سے روکے رکھا اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید کا ایک نسخہ لکھوں اور فرمایا جب تم آیت کریمہ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] (تمام نمازوں بالخصوص درمیان والی نماز کی حفاظت کرو)پر پہنچو تومجھے بتانا فرماتے ہیں جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے ام المومنین کو بتایا چنانچہ انہوں نے مجھے یوں لکھوایا۔: " {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨]، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] "(نماز عصر کو نماز وسطیٰ قرار دیا) ام المؤمنين نے فرمایا میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں آیت کریمہ یوں نازل ہوئی: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: ٢٣٨] وَصَلَاةِ الْعَصْرِ،تو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسے پڑھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر کے آیت یوں نازل فرمائی:{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: ٢٣٨]ایک شخص جو حضرت قیق(راوی)کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا تو اب یہ نماز عصر ہے؟حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تمہیں بتایا ہے کہ یہ کس طرح نازل ہوئی اور کیسے اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں ایک اور سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم ایک زمانے تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح پڑھتے رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔خندق کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ سورج غروب ہونے کو ہے اور میں نے ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے بھی نہیں پڑھی۔پس ہم پتھریلی زمین کی طرف اترے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا۔پھر آپ نے غروب آفتاب کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔(چونکہ صاحب ترتیب سے کوئی نماز قضاء ہوجائے تو پہلے اسے پڑھنا ضروری ہے اس لیے پہلے عصر کی نماز پڑھی کیونکہ قضاء ہوگئی تھی پھر مغرب کی نماز بطور ادا پڑھی۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣٢)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٣٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٨؛حدیث نمبر١٣٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح اور شام کے فرشتے تمہارے پاس آگے پیچھے آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔پھر جنہوں نے تمہارے پاس رات گزاری ہے وہ چلے جاتے ہیں ان سے ان کا رب پوچھتا ہے حالانکہ خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا۔وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو چھوڑا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛ترجمہ؛صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت؛ جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٤)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٣٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٥)
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو۔تم اس کے دیکھنے میں شک نہیں کروگے۔اگر تم سے ہوسکے تو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز یعنی فجر اور عصر کی نماز کو قضا نہ کرو۔پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی۔ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: ١٣٠](پس آپ طلوع آفتاب سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٣٦ کی مثل مروی ہے۔اس میں حضرت جریر کی قرأت کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٧)
حضرت عمارہ بن رؤبیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا جو شخص سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھتا ہے۔وہ ہر گز جہنم میں نہیں جائے گا۔اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اس شخص سے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٨)
حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی(دو)نمازیں پڑھتا ہے۔وہ جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔ان کے پاس اہل بصرہ میں ایک شخص تھا اس نے پوچھا کہ کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات اس جگہ سنی ہے جہاں آپ نے سنی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٩)
حضرت ابوبکر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازوں(فجر اور عصر)کو پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ،وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ،وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٤١)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوکر پردے میں چلا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛ترجمہ؛مغرب کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٢)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھتے تو اس کے بعد ہم سے واپس ہونے والا شخص اپنا تیر لگنے کی جگہ دیکھ لیتا۔(زیادہ اندھیرا نہیں ہوتا تھا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٣ کی مثل مروی ہے۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوکر پردے میں چلا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز جسے عتمہ کہا جاتا ہے میں تاخیر فرمائی اور ابھی آپ(نماز کے لئے)تشریف نہیں لے گئے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔عورتیں اور بچے سو گئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد میں)تشریف لے گئے تو اہل مسجد سے فرمایا تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی بھی اس نماز کا منتظر نہیں ہے اور اس وقت تک لوگوں میں اسلام زیادہ نہیں پھیلا تھا۔تمہارے لیے جائز نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پر مجبور کرو یہ اس وقت فرمایا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز بلند ہوئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛ترجمہ؛وقت عشاء اور نماز میں تاخیر؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز میں تاخیر فرمائی حتیٰ کہ رات کا زیادہ حصہ گزر گیا اور یہاں تک کہ اہل مسجد سو گئے پھر تشریف لائے اور نماز پڑھائی فرمایا اس کا یہ وقت ہے اگر میں اپنی امت پر باعث مشقت نہ سمجھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤۷)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں نماز عشاء کے لیے ٹھہرے رہے تو آپ اس وقت تشریف لائے جب رات کا تہائی حصہ یا اس سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔ہمیں معلوم نہیں آپ کو گھر میں کسی کام کی وجہ سے رکاوٹ ہوئی یا کوئی اور بات تھی۔جب تشریف لائے تو فرمایا تم اس نماز کے انتظار میں ہو کہ کسی دین والا اس کا منتظر نہیں ہے۔اگر یہ بات میری امت پر گراں نہ ہوتی تو میں ان کو اس وقت نماز پڑھاتا پھر مؤذن کو حکم دیا۔اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے تو نماز عشاء کو مؤخر کردیا۔حتیٰ کہ ہم مسجد میں سو گئے۔پھر بیدار ہوۓ پھر سو گئے پھر بیدار ہوۓ۔اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اس رات اہل زمین میں سے تمہارے علاوہ کوئی بھی نماز کا منتظر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٩)
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کیا یا قریب تھا کہ نصف رات چلی جائے پھر آپ تشریف لائے تو فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے اور تم جب تک نماز کے انتظار میں ہو نماز میں ہی شمار ہو رہے ہو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔آپ نے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا حتیٰ کہ رات کا نصف قریب ہوگیا۔پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھائی گویا میں آپ کے ہاتھوں میں چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث ١٣٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٢)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور میرے دوست جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے اور مدینہ طیبہ میں بقیع کی پتھریلی زمین میں اترے تھے۔ان میں سے کچھ حضرات باری باری عشاء کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور میرے کچھ دوست حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کام کی مصروفیت تھی حتیٰ کہ آپ نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی پھر آپ تشریف لائے اور صحابہ کرام کو نماز پڑھائی نماز پڑھا چکے تو حاضرین سے فرمایا۔اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو میں تمہیں(تاخیر کی وجہ)بتاؤں اور تمہیں خوشخبری دوں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت ہے کہ اس وقت تمہارے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ»،یا فرمایا: «مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ»فرمایا(مفہوم ایک ہی ہے)راوی فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر خوشی خوشی واپس آئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٣)
حضرت ابن جریح فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عطاء سے کہا آپ کے نزدیک کس وقت نماز عشاء پڑھنا زیادہ پسندیدہ ہے۔باجماعت ہو یا تنہا۔انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی حتیٰ کہ صحابہ کرام سو گئے۔بیدار ہوۓ پھر سو گئے اور بیدار ہوۓ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر کہا"نماز"(یعنی نماز کا وقت ہے)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گویا میں(اب بھی)آپ کو دیکھ رہا ہوں۔آپ کے سر انور سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ نے اپنا دست مبارک سر کے ایک کنارے پر رکھا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو ان کو اسی طرح(تاخیر سے)نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر انور پر ہاتھ کس طرح رکھاہوا تھا(وہ مجھے اس طرح بتائیں)جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا تھا۔ حضرت عطاء نے میرے لیے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا پھر انگلیوں کے سروں کو سر پر رکھا پھر انکو جھکا کر سر پر پھیرا۔اسی طرح پھیرتے رہے حتیٰ کہ آپ کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے ٹکرایا جو چہرے سے ملا ہوا ہے۔پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر پھیرا۔ہاتھ اور انگوٹھا کسی چیز کو چھوتا نہ تھا۔ابن جریح فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو کیا بتایا کہ نماز میں کس قدر تاخیر ہوئی تھی۔انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں۔مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں باجماعت نماز پڑھوں یا اکیلا پڑھوں لیکن اسے تاخیر سے پڑھوں جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات تاخیر سے پڑھی ہے۔اگر تمہارے لیے یہ بات مشکل ہو تو چھوڑ دو یا تم لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہو تو درمیانی راہ اختیار کرو نہ جلدی کرو اور نہ ہی تاخیر۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٤؛حدیث نمبر١٣٥٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی نمازوں کو اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم پڑھتے ہو لیکن نماز عشاء کو کچھ مؤخر کرتے تھے اور آپ نماز میں اختصار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا دیہاتی اس نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں سنو!یہ نماز عشاء ہے اور وہ اونٹنیوں کو دودھ دیر سے دھوتے تھے(اور اس نماز کو عتمہ کہتے ہے جس کا معنیٰ تاخیر ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عشاء کے نام میں دیہاتی تم پر غالب نہ آجائیں۔قرآن مجید میں اس کا نام عشاء ہے اور اونٹنیوں کا دودھ دیر سے دھوتے تھے(یعنی اسے عتمہ نہ کہو یہ دیہاتیوں کا طریقہ ہے بلکہ عشاء کہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھتیں پھر اپنی چادروں سے جسموں کو لپیٹ کر واپس جاتیں اور ان کو کوئی پہچان نہ سکتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛صبح کا مستحب وقت؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مسلمان عورتیں فجر کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتیں پھر وہ اپنی چادریں لپیٹے ہوئے واپس گھروں کو جاتیں تو اس لئے پہچانی نہ جاتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ،وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھاتے تو عورتیں اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦١)
حضرت محمد بن عمرو بن حسن ابن علی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں۔جب حجاج مدینہ طیبہ آیا تو ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد گرمی میں پڑھتے عصر کی نماز پڑھتے تو سورج صاف ہوتا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور نماز عشاء کو کبھی تاخیر سے پڑھتے اور کبھی جلدی پڑھتے جب صحابہ کرام کو دیکھتے کہ جمع ہوگئے اس کو جلدی پڑھتے اور جب ان کی طرف سے تاخیر دیکھتے تو تاخیر فرماتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے(انہوں نے فرمایا)صحابہ کرام یا فرمایا حضور ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦٢)
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں۔حجاج نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کے ساتھ پڑھتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جیسا کہ حدیث نمبر ١٣٦٢ میں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٣)
حضرت سیار بن سلامہ فرماتے ہیں۔میں نے اپنے والد سے سنا وہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تم نے خود یہ بات سنی ہے؟فرمایا گویا میں اس وقت یہ بات سن رہا ہوں۔وہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں قدرے تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔راوی فرماتے ہیں اس سے مراد عشاء کی نماز کا نصف رات تک مؤخر کرنا ہے اور آپ نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیں فرماتے تھے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں بعد میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا۔انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ ایک شخص مدینہ طیبہ کی آخری جانب جاتا اور ابھی سورج قائم ہوتا۔(حضرت سیار کے والد)فرماتے ہیں۔نماز مغرب کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کس وقت کا ذکر کیا۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں۔بعد میں ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اس وقت پڑھتے جب آدمی سلام پھیرتے ہوئے اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس نماز میں ساٹھ سے ایک سو تک آیات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٤)
حضرت سیار بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں نصف شب تک تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور آپ نماز سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کو ناپسند کرتے تھے۔حضرت شعبہ(راوی)فرماتے ہیں۔میں نے دوبارہ ان سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا یا تہائی رات تک تاخیر فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٥)
حضرت ابوالمنہال یسار بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو رات کی تہائی تک مؤخر کرتے اور آپ نماز سے پہلے آرام کرنے اور نماز کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے اور آپ فجر کی نماز میں ایک سو سے ساٹھ کے درمیان آیات پڑھتے تھے اور سلام پھیرتے تو ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ،وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کروگے جب تم پر ایسے امراء مسلط ہوں گے جو(مستحب)وقت سے نماز کو مؤخر کریں گے یا فرمایا نماز کو اس کے وقت سے ضائع کریں گے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟تم اپنے وقت پر نماز پڑھو اگر ان کے ساتھ نماز کو پاؤ تو پڑھ لو یہ نماز تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛ترجمہ؛مستحب وقت سے نماز کو مؤخر کرنا؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر!عنقریب میرے بعد کچھ امراء ہوں گے جو نماز کو(مختار و مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے پس تم وقت پر نماز پڑھ لینا۔اب اگر تم نے ان کے ساتھ نماز پڑھ لی تو یہ نفل نماز ہوجائے گی ورنہ تم اپنی نماز تو پڑھ ہی چکے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ،وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٨)
ایک اور سند سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے وصیت فرمائی کہ میں(امیر کی بات)سنوں اور مانوں اگرچہ وہ ایسا غلام ہو جس کے اعضاء کاٹے گئے ہو اور وقت پر نماز پڑھوں۔آپ نے فرمایا اگر تم لوگوں کو اس طرح پاؤ کہ وہ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوورنہ تمہاری نماز نفل ہوجائے گی(اگر ان کے ساتھ پڑھو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٩)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا اس وقت تم کیا کروگے جب تم اس قوم میں ہوگےجو نماز کو(مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے۔راوی فرماتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔آپ مجھے کس بات کا حکم دیتے ہیں؟آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھ کر اپنے کام کے لئے چلے جاؤ اور اگر نماز کے لئے اقامت ہوجائے اور تم مسجد میں ہو تو(ان کے ساتھ)پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٧٠)
حضرت ابو العالیہ البراء فرماتے ہیں۔ابن زیاد نے نماز کو(وقت مستحب سے)مؤخر کیا۔پھر حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میں نے ان کے لیے کرسی بچھائی وہ اس پر تشریف فرما ہوۓ تو میں نے ان سے ابن زیاد کا عمل ذکر کیا۔انہوں نے اپنے ہونٹ نوچے اور میری ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا تو آپ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا وقت پر نماز پڑھو پھر اگر تمہیں ان کے ساتھ نماز مل جائے تو پڑھ لو اور یہ نہ کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا میں نہیں پڑھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣٧١)
ایک اور سند سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔جب تم ایسی قوم میں ہوگے جو نماز کو(مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے۔پس تم وقت پر نماز پڑھ لینا اور اگر نماز کھڑی ہو جائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا یہ زیادہ بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣٧٢)
حضرت ابو العالیہ البراء فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا ہم امراء کے پیچھے نماز جمعہ پڑھ لیں تو انہوں نے میری ران پر ایسی ضرب لگائی جس سے میں نے درد محسوس کیا اور فرمایا میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ضرب لگائی اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھ لو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل قرار دو(حضرت ابو العالیہ)فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣۷۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز باجماعت تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے میں پچیس گنا افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛ترجمہ؛نماز باجماعت اور اس کی اہمیت؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣۷٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا باجماعت نماز تنہا نماز کے مقابلے میں پچیس گنا افضل ہے اور فرمایا کہ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں اکٹھا ہوتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو{وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨]"اور فجر کی نماز، فجر میں فرشتے حاضر ہوتےہیں"-(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٧٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٦
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز باجماعت تنہا پڑھی جانے والی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٧
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کے ساتھ نماز(پڑھنا)ان پچیس نمازوں سے افضل ہے جو آدمی تنہا پڑھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٨
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باجماعت نماز تنہا نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٩
ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کی تنہا نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٧٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٧٩ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ابن نمیر اپنے والد سے بیس اور کچھ اوپر ذکر کرتے ہیں جبکہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں(واضح الفاظ میں)ستائیس کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨١
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے بیس سے کچھ اوپر کا ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں نہ پایا تو فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں حکم دوں کہ ان پر لکڑیوں کے گھٹوں کے ذریعے ان کے گھروں کو جلا دیا جائے(ان کی صورت حال تو یہ ہے کہ)اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہوجائے کہ اسے گوشت سے پر ہڈی ملے گی تو وہ نماز عشاء میں حاضر ہو جائے۔(جس طرح آج کل لوگوں کی حالت ہے کہ اگر معلوم ہو کہ مسجد میں کوئی لنگر یا تبرک تقسیم ہوگا تو نماز کے لئے آجاتےہیں ورنہ نہیں آتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٣)
حضرت ابوصالح،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے بھاری نماز،فجر اور عشاء کی نماز ہے اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا کس قدر اجر ہے تو وہ اس کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے اور میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں۔پس نماز کھڑی ہو پھر ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں کچھ لوگوں کو لے کر جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں۔ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز(باجماعت)میں حاضر نہیں ہوتے پس میں ان پر ان کے گھروں کو جلا دوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث نقل کیں۔ان میں سے ایک حدیث اس طرح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ نوجوانوں کو حکم دوں جو میرے لیے لکڑیوں کا گٹھا تیار کریں پھر کسی شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور اس کے بعد وہ گھر جلا دئے جائیں جن میں وہ لوگ ہیں(جو نماز کے لئے نہیں آتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو جمعہ(کی نماز)سے پیچھے رہتے ہیں۔فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ پھر میں ان لوگوں پر ان کے گھر جلادوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے مسجد میں لانے والا کوئی نہیں چنانچہ انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی کہ وہ گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔آپ نے اسے اجازت دے دی۔جب وہ واپس ہوئے تو آپ نے ان کو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کے لئے آذان سنتے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پھر تم اس کا جواب دو(نماز باجماعت کے لئے آؤ)(یہ حضرت عبد اللہ بن مکتوم رضی اللہ عنہ تھے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٨)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ صرف منافق نماز سے پیچھے رہتے تھے جن کی منافقت واضح تھی یا بیمار(پیچھے رہتا)اور مریض دو آدمیوں کے درمیان چل کر آتا اور انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنن ھدی(سنت موکدہ) کی تعلیم دی اور جس مسجد میں اذان ہو اس میں نماز پڑھنا بھی سنت موکدہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٨٩)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ کل(بروز قیامت)اللہ تعالیٰ سے حالت اسلام میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جب ان کے لیے آذان کہی جائے۔بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنن ہدی مشروع فرمائی اور یہ نمازیں بھی سنن ہدی(سنت موکدہ)سے ہیں اور اگر تم گھر میں نماز پڑھو جس طرح یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم نے اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دیا اور اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو بھٹک جاؤگے اور جو شخص اچھی طرح طہارت حاصل کرے۔پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف جاۓ تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے جو وہ اٹھاتا ہے۔اللہ تعالی ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان نمازوں سے صرف منافق پیچھے رہتا جس کا نفاق ظاہر ہوتا اور ایک شخص کو یوں لایا جاتا کہ دو آدمیوں نے اسے پکڑاہوتا اور اسے صف میں کھڑا کیا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٩٠)
حضرت ابو الشعشاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مؤذن نے آذان کہی تو ایک شخص اٹھ کر جانے لگا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے ابوالقاسم(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)کی نافرمانی کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٩١)
حضرت اشعث بن ابوالشعشاء المحاربی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے آذان کے بعد ایک شخص کو مسجد سے باہر جانے کے لئے گزرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اس شخص نے ابوالقاسم کی نافرمانی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٢)
حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نماز مغرب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اکیلے بیٹھ گئے۔میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا۔انہوں نے فرمایا اے بھتیجے!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے نماز عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی گویا اس نے پوری رات نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٤)
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہے۔پس اللہ تعالیٰ تم سے ہر گز اپنی امان کے بارے میں سوال نہ کرے ورنہ تمہیں جہنم میں اوندھا گرادے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩٥ کی مثل مروی ہے۔اس میں جہنم میں اوندھا ڈالنے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٦)
حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ محمود بن ربیع انصاری نے ان سے بیان کیا کہ عتبان بن مالک جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ کرام میں سے ہیں جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میری بینائی کمزور ہوگئی اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔جب بارش ہوتی ہے تو وادی میری اور میری قوم کے درمیان بہنے لگتی ہے اور میں ان کی مسجد میں نہیں آ سکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور ایک جگہ نماز پڑھیں جسے میں اپنی جائے نماز بناؤں۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ!عنقریب میں ایسا کروں گا حضرت عتبان فرماتے ہیں۔دوسرے دن جب دن کچھ بلند ہواتو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں تشریف لائے۔آپ نے اجازت طلب کی تو میں نے آپ کو اجازت دی۔آپ تشریف فرما ہوے حتیٰ کہ آپ گھر کے اندر تشریف لائے۔فرمایا تم اپنے گھر کے کس حصے میں پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں۔فرماتےہیں میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا۔ہم نے آپ کے لیے خریزہ پکایا تھا(گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان پر پانی ڈالا جاتا ہے جب وہ گل جائیں تو آٹا ڈالتے ہیں اسی کو خریزہ کہا جاتا ہے۔اگر اس میں گوشت نہ ہو تو حصیدہ کہلاتا ہے) اس کے لیے آپ سے ٹھہرنے کی گزارش کی۔محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہوگئے حتیٰ کہ گھر میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اکٹھی ہو گئ۔ کسی نے کہا مالک ابن دخشن کہاں ہے؟کسی دوسرے نے جواب دیا وہ منافق ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے رضا کے لئے لاالہ الا اللہ پڑھا ہے۔انہوں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔کسی نے کہا کہ ہم اس کی توجہ اور خیر خواہی منافقین کے لئے دیکھی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے لاالہ الا اللہ(محمد الرسول اللہ)اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے پڑھا اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کردی۔ ابن شہاب کہتے ہیں پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنو سالم کے سرداروں میں سے ہیں۔محمود بن ربیع کی(اس)حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٥؛حدیث نمبر١٣٩۷)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩۷کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں مالک بن دخشن یا دخشین ہے اور یہ بھی اضافہ ہے کہ محمود(راوی)نے فرمایا میں نے یہ حدیث ایک جماعت سے بیان کی جن میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات فرمائی ہو جو تم کہ رہے ہو۔فرماتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ میں حضرت عتبان کے پاس دوبارہ جا کر ان سے پوچھوں گا۔فرماتے ہیں میں ان کے پاس گیا تو وہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے ان کی بینائی ختم ہوگئی تھی اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلے بیان کیا تھا۔ حضرت زہری فرماتے ہیں پھر اس کے بعد بہت سے فرائض اور امور نازل ہوئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ان پر دین مکمل ہوگیا پس جو شخص دھوکہ نہ کھانا چاہے وہ دھوکہ نہ کھائے۔(مطلب یہ ہے اب محض کلمہ پڑھنے سے بخشش نہ ہوگی فرائض کی ادائیگی بھی ضروری ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٦؛حدیث نمبر١٣٩٨)
حضرت محمود بن ربیع فرماتے ہیں مجھے وہ کلی یاد ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈول سے کی جو ہمارے گھر میں ہے اور مزید فرماتے ہیں کہ مجھ سے عتبان بن مالک نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری بینائی کمزور ہوگئی ہے۔پھر اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔یہاں تک کہ فرمایا حضور علیہ السلام نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ہم نے حضور علیہ السلام کو کھانا کھلانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے بنایا تھا اس کے بعد کے الفاظ ذکر نہیں کیۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٦؛حدیث نمبر١٣٩٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے آپ کےلئے بنایا تھا۔آپ نے اس سے تناول فرمایا۔پھر فرمایا کھڑے ہو جاؤتاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک چٹائی لینے گیا جو زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی تو میں نے اس پر پانی چھڑکا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں اور ایک یتیم بچہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور بزرگ خاتون ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دورکعتیں پڑھائیں پھر واپس تشریف لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛ترجمہ؛نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنا؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١۴٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش اخلاق تھے بعض اوقات نماز کا وقت ہوتا اور آپ ہمارے گھر میں تشریف فرما ہوتے تو آپ جس چٹائی پر بیٹھے ہوتے اسے اٹھانے کا حکم دیتے پھر اسے صاف کیا جاتا اور اس پر پانی چھڑکا جاتا اس کے بعد آپ امامت فرماتے۔ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔فرماتے ہیں ان لوگوں کے بچھونے کھجور کے پتوں کےہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ، وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١۴٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے میں،اورمیری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہ عنہا تھیں۔آپ نے فرمایا کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ(فرض)نماز کا وقت نہ تھا تو آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک شخص نے حضرت ثابت(راوی)سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا۔انہوں نے فرمایا ان کو دائیں جانب کھڑا کیا پھر آپ نے ہم سب کو گھر والوں کے لئے ہر قسم کی بھلائی دنیا کی اور آخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میری ماں نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ آپ کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے تو آپ نے میرے لیے ہر قسم کی بھلائی کی دعا کی اور اس دعا کے آخر میں بارگاہ خداوندی میں عرض کیا یااللہ!اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے اور اس میں برکت ڈال دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١٤٠٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور ان کی ماں یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی۔فرماتے ہیں آپ نے مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کیا اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٠٣کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠۴)
حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔مجھ سے ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آپ کے برابر میں ہوتی اور بعض اوقات جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے ٹکڑا جاتا اور آپ چٹائی پر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپ اس پر سجدہ کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی باجماعت اس کی گھر میں نماز یا بازار میں(پڑھی جانے والی)نماز سے بیس سے زائد درجے افضل ہے اور یہ اس طرح کہ جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کر کے پھر مسجد میں آتا ہے اور اسے صرف نماز نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو وہ جو قدم اٹھاتا ہے اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے پس جب مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز میں ہوتا ہے جب تک نماز کی وجہ سے رکا ہوتا ہے اور ملائکہ تم میں سے اس شخص کے لئے دعا رحمت کرتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی۔وہ کہتے ہیں"اللھم ارحمہ اللھم اغفرلہ اللھم تب علیہ"(یااللہ! اس پر رحم فرما یااللہ!اس کو بخش دے، یااللہ!اس کی توبہ قبول فرما) جب تک وہ اس میں اذیت نہ پہنچائے(یعنی)جب تک بے وضو نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز باجماعت اور انتظار نماز کی فضیلت؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠۷)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٤٠۷ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک فرشتے تم میں سے ایک(یعنی سب)کے لئے رحمت کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔جب تک وہ جاۓ نماز پر رہتا ہے۔وہ کہتے"اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ"جب تک وہ بے وضو نہ ہواور تم اس وقت تک نماز میں شمار ہوتے ہو جب تک نماز روکے رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب تک جائے نماز پر نماز کا منتظر رہتا ہے۔وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے اور فرشتے کہتے ہیں"اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ"حتی کہ وہ بیٹھ کر چلا جائے یا بے وضو ہو جائے۔حضرت ابو رافع فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا بے وضو ہونے کا مطلب کیا ہے؟اس کے ہوا خارج ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت تک نماز میں ہوتے ہو جب تک نماز تمہیں روکے رکھے اور گھر کی طرف واپس جانے سے صرف نماز نے روک رکھا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے جب تک بے وضو نہ ہوجائے۔فرشتے اس کے لئے دعا مانگتے ہیں۔وہ کہتے ہیں۔"اللھم اغفر لہ اللھم ارحمہ"(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٣)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا سب سے زیادہ اجر اس شخص کو ملتا ہے جو دور سے چل کر آتا ہے۔پھر جو اس کے بعد دور سے آتا ہے اور جو شخص نماز کا منتظر رہتا ہے حتیٰ کہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اس کا ثواب اس شخص سے زیادہ ہے جو(تنہا)نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ابو کریب کی روایت میں ہے حتیٰ کہ وہ امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٤)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص تھا اور میرے علم کے مطابق اس سے زیادہ کوئی دوسرا مسجد سے دور نہ تھا اور وہ کوئی نماز خطا نہیں کرتا تھا۔فرماتے ہیں اس سے کہا گیا یا میں نے خود اس سے کہا کہ اگر آپ گدھا خرید لیں تو اندھیرے میں یا سخت گرمی میں اس پر سوار ہوں۔اس نے کہا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔میں چاہتا ہوں کہ مسجد کی طرف جانے اور واپس آنے کے سلسلے میں میرے لیے ثواب لکھا جائے جب میں گھر والوں کی طرف واپس آؤں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نے سنا تو)فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے یہ سب کچھ جمع کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٦)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں انصار کا ایک شخص تھا جس کا گھر مدینہ طیبہ کے آخری کنارے پر تھا اور وہ کوئی نماز حضور علیہ السلام کے بغیر نہیں پڑھتا تھا۔فرماتے ہیں ہمیں اس کی تکلیف کا احساس ہوا تو میں نے اس سے کہا اے فلاں!اگر تم گدھا خرید لو تو تمہیں گرمی اور کیڑے مکوڑے سے بچائے گا۔اس نے کہا سنو! اللہ تعالیٰ کی قسم!میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے قریب ہو۔وہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو واقعہ سنایا تو آپ نے اسے بلایا اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی اور بتایا کہ وہ(زیادہ)قدموں کی وجہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرےلیے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٨)
حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا ہمارے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم اپنے گھروں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ہم مسجد کے قریب ہوجائیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا اور فرمایا تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسجد کے گرد کچھ جگہ خالی ہوئی تو بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کرتے ہو؟انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا اے بنو سلمہ!اپنے گھروں کو اختیار کئے رکھو تمہارے قدموں کے نشانات کا ثواب لکھا جاتا ہے۔(دوبار فرمایا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٠)
ایک اور سندسےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا اور وہاں جگہ خالی تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا بنو سلمہ!اپنے گھروں میں ہی رہو تمہیں قدموں کے نشانات پر ثواب ملتا ہے۔وہ کہتے ہیں اب ہمیں منتقل ہونے کی خوشی نہ تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گھر میں وضو کرے پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی(مسجد)کی طرف جاۓ تاکہ فرائض خداوندی میں سے کوئی فرض ادا کرے تو اس کے لیے ایک قدم سے ایک گناہ مٹ جائے گا اور دوسرے قدم کے بدلے درجہ بلند ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا، وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت بکر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے ہیں بتاؤ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے سے نہر گزرتی ہو اور وہ ہر دن اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہتی۔آپ نے فرمایا پانچ نمازوں کی یہی مثال ہے۔اللہ تعالی ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا، وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایک جاری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے ایک کے دروازے پر گزرتی ہو اور بھری ہوئی ہو۔وہ اس سے ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرے۔فرماتے ہیں حضرت حسن نے فرمایا یہ میل کو باقی نہیں چھوڑتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت مسجد کی طرف جاۓیا شام کے وقت تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں مہمانی تیار کی جب بھی وہ صبح کے وقت جائے یا شام کے وقت جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا،وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٥)
حضرت سماک بن حرب فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں بہت مرتبہ جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے وہاں سے سورج کے طلوع ہونے تک نہیں اٹھتے تھے۔جب سورج طلوع ہوتا تو کھڑے ہوتے اور لوگ دور جاہلیت کے بارے میں باتیں کر کے ہنستے اور آپ تبسم فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛ترجمہ؛نماز فجر کے بعد مصلیٰ پر بیٹھے رہنا اور مساجد کی فضیلت؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے بعد جائے نماز پر بیٹھے رہتے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ،وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ،وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین جگہ مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے برے مقامات بازار ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٩)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک شخص ان کو نماز پڑھاۓ اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہے(جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ)قرأت میں سب سے آگے ہو(محض قاری نہیں)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛ترجمہ؛امامت کا زیادہ حق دار کون ہے۔جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣٢)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا امام وہ بنے جو ان میں سے اللہ کی کتاب کا زیادہ قاری ہو۔اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر سنت میں بھی برابر ہوں تو جو ہجرت میں زیادہ مقدم ہے اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو اسلام(لانے)میں سب سے مقدم ہے اور کوئی شخص کسی مقرر امام کی موجودگی میں امامت نہ کرے اور نہ ہی کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے البتہ یہ کہ وہ اجازت دے حضرت اشج کی روایت میں اسلام کی جگہ عمر کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٤)
حضرت اسماعیل بن رجاء کہتے ہیں میں نے حضرت اوس بن ضمعج سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ قوم کی امامت وہ کراۓ جو ان میں سے اللہ کی کتاب کی قرأت کا زیادہ ماہر ہے اور قرأت میں ان سے مقدم ہے۔اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو وہ امامت کراۓ جو ان میں سے ہجرت میں مقدم ہے۔اگر ہجرت میں برابر ہوں تو وہ امامت کراۓ جو ان میں سے عمر میں بڑا ہے اور کوئی شخص کسی کی امامت میں امامت نہ کرائے اور نہ اس کے گھر میں اس کے لئے مخصوص جگہ میں بیٹھے مگر یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے یا فرمایا اس کی اجازت(سے بیٹھ سکتا ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٥)
حضرت مالک بن حویرث فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نوجوان تھے تقریباً ہماری عمریں بھی ایک جیسی تھیں۔ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحیم، نرم طبیعت تھے۔آپ نے سوچا کہ ہمیں گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ ہم نے گھر میں کن کن لوگوں کو چھوڑا ہے۔ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ،ان میں رہو،ان کو تعلیم دو اور ان کو(نماز پڑھنے کا)حکم دو جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک تمہارے لیے آذان کہے پھر تم میں سے سب سے بڑا آدمی تمہیں نماز پڑھاۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٣٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٧)
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں اور میرا ایک دوست رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا جب نماز کا وقت ہو تو اذان کہو پھر اقامت کہو اور چاہئے کہ تم میں سب سے بڑا تمہاری امامت کراۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٣٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت حذاء(راوی)نے فرمایا کہ وہ دونوں قرأت میں برابر برابر تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٩)
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں قرأت سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے پھر سر اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے پھر کھڑے ہونے کی حالت میں یہ کلمات کہتے۔ «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ،وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ،اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ،وَرِعْلًا،وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ»،ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ:یا اللہ!ولید بن ولید،سلمہ بن ہشام،عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنین کو نجات دے یااللہ!مضر قبیلے کو سخت عذاب دے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آنے والے قحط جیسا قحط مسلط کردے یا اللہ!لحیان،رعل،ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج دے جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔«{لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨}("یہ بات تمہارے ہاتھ میں نہیں یا انہوں نے توبہ کی تو میں نے یا ان کو عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں")تو آپ نے یہ کلمات پڑھنا چھوڑ دئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛ترجمہ؛قنوت نازلہ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٤٠
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس میں آخر کے کچھ الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٤١)
حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ نماز میں رکوع کے بعد قنوت(نازلہ)پڑھی۔جب آپ"سمع اللہ لمن حمدہ"کہتے تو قنوت میں فرماتے اللھم انج الولید بن الولید(آخر تک جس طرح حدیث نمبر ١٤٤٠ میں ہے۔) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ دعا چھوڑ دی۔میں نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا چھوڑ دی ہے تو مجھے کہا گیا کہ تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٧؛حدیث نمبر١٤٤٢)
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ رہے تھے تو جب آپ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پھر سجدہ کرنے سے پہلے فرمایا اللھم نج عیاش بن ابی ربیعہ آخر تک حدیث نمبر ١٤٤٠ کی طرح ذکر کیا اور آخر سے کچھ کلمات ذکر نہیں کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٧؛حدیث نمبر١٤٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور بضرور تمہارے سامنے لاؤں گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر،عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے خلاف تیس صبح دعا مانگتے رہے جنہوں نے بیر معونہ والے صحابہ کرام کو شہید کیا۔آپ رعل،لحیان اور عصیہ کے خلاف دعا مانگتے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو بیر معونہ میں شہید کیا گیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت نازل کی حتیٰ کہ بعد میں منسوخ ہوگئی۔وہ آیت یوں تھی۔بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ"(ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دوکہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی۔پس وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٥)
حضرت محمد فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی تھی۔فرمایا ہاں رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک(پڑھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔آپ رعل اور ذکوان(قبیلوں)کے خلاف دعا مانگتے تھے اور فرماتے تھے عصیہ نے جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی آپ بنو عصیہ کے خلاف دعا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٨)
حضرت عاصم سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا کہ رکوع سے پہلے ہے یا بعد میں؟انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے(متعدد احادیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد پڑھی تو انہوں نے اس کے بعد رکوع سے پہلے کا ذکر نہیں فرمایا۔)فرماتے ہیں میں نے کہا لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ قنوت پڑھی ہے جس میں آپ ان لوگوں کے خلاف دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے صحابہ کرام کو شہید کیا تھا اور ان(صحابہ کرام)کو قراء کہا جاتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٤٩)
حضرت عاصم فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جہادی دستے پر اس قدر غمگین نہیں دیکھا جس قدر ان ستر صحابہ کرام پر غمگین دیکھا جن کو بیر معونہ کے واقعہ میں شہید کر دیا گیا۔وہ لوگ قرأ کہلاتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قاتلوں کے خلاف ایک مہینے تک دعا مانگتے رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥١)
حضرت قتادہ،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ قنوت(قنوت نازلہ)پڑھی جس میں آپ عرب کے کچھ قبائل کے خلاف دعا مانگتے تھے پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِإِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔البتہ صبح کی بجائے فجر کا لفظ ہے اور کان یقنت کی بجائے قَنَتَ ہے یعنی قنوت پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٦)
حضرت خفاف بن ایماء الغفاري رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں یوں کہا۔ «اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ،وَرِعْلًا،وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ،غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ»یا اللہ بنو لحیان،رعل،ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ قبیلہ غفار کو بخش دے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٧)
حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا تو فرمایا"اللہ تعالیٰ غفار قبیلے کو بخش دے۔قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرما اور عصیہ قبیلہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی یا اللہ بنو لحیان پر لعنت فرما اور رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج۔پھر سجدے میں چلے گئے۔حضرت خفاف فرماتے ہیں اسی وجہ سے کفار پر لعنت کی جاتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٨ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں آخری جملہ نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ خیبر سے لوٹے تو رات کے وقت چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگےتو اتر گئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا:”کہ تم ہمارا پہرہ دو آج کی رات۔“تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے رہے جتنی کہ ان کی تقدیر میں تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم بھی۔پھر جب صبح قریب ہوئی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی اونٹنی پر ٹیکہ لگایا اور ان کی آنکھ لگ گئی۔پھر نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور نہ ہی اور کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے یہاں تک کہ ان پر دھوپ پڑی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جاگے اور گھبرائے اور فرمایا: ”اے بلال!“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ میری جان کو بھی اسی نے پکڑ لیا جس نے آپ کی جان کو پکڑا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں کو ہانکو۔“پھر تھوڑی دور اونٹوں کو ہانکا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیااور بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر جب نماز پڑھا چکے تو فرمایا:”جو بھول جائے نماز کو تو پڑھ لے جب یاد آئے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے{أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ: «يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى» میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔“یونس نے کہا کہ ابن شہاب اس آیت کو یوں پڑھتے" لِلذِّكْرَى"(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛قضاء نمازوں کی ادائیگی میں جلدی کرنا مستحب ہے؛جلد١ص٤٧١؛حدیث نمبر١٤٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑاؤ کیا۔بس ہم بیدار نہ ہوسکے حتیٰ کہ سورج طلوع ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی اپنی سواری کا لگام پکڑ لے(اور یہاں سے روانہ ہو جائے کیونکہ)اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا۔راوی فرماتے ہیں ہم نے اسی طرح کیا پھر آپ نے پانی منگواکر وضو فرمایا اور دو سجدے کئے۔یعقوب فرماتے ہیں پھر دو رکعت نماز(سنتیں)ادا کی اور اس کے بعد اقامت کہی گئی تو آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧١؛حدیث نمبر١٤٦١)
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر خطبہ پڑھا اور فرمایا:”تم آج زوال کے بعد اور اپنی ساری رات چلو گے اگر اللہ نے چاہا تو کل صبح پانی پر پہنچو گے۔“ پس لوگ اس طرح چلے کہ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے تھے یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی طرف تھا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے اور اپنی سواری پر سے جھکے(یعنی غلبہ نیند سے)اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیکا دیا۔(تاکہ گر نہ پڑیں)بغیر اس کے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے،پھر چلے یہاں تک کہ جب بہت رات گزر گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھکے اور میں نے پھر ٹیکہ دیا بغیر اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرسیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔پھر چلے یہاں تک کہ آخر سحر کا وقت ہو گیا پھر ایک بار بہت جھکے کہ اگلے دو بار سے بھی زیادہ قریب تھا کہ گر پڑیں۔پھر میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا:”کہ تم کون ہو؟“میں نے عرض کی کہ ابوقتادہ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟۔“میں نے عرض کیا کہ میں رات سے آپ کے ساتھ اسی طرح چل رہا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جیسے تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے۔ہم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کسی کو دیکھتے ہو؟“میں نے کہا یہ ایک سوار ہے پھر کہا یہ ایک اور سوار ہے یہاں تک کہ ہم سات سوار جمع ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راہ سے ایک طرف الگ ہوئے اور اپنا سر زمیں پر رکھا (یعنی سونے کو) اور فرمایا کہ تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا(یعنی نماز کے وقت جگا دینا)پھر پہلے جو جاگے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھےاور دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر آ گئی۔ پھر ہم لوگ گھبرا کراٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو۔“پھر چلے یہاں تک کہ جب دھوپ چڑھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے،اپنا وضو کا لوٹا منگوایا۔جو میرے پاس تھا اس میں تھوڑا سا پانی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا جو اور وضوؤں سے کم تھا (یعنی بہت قلیل پانی سے بہت جلد)اور اس میں تھوڑا سا پانی باقی رہ گیا۔پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے وضو کے برتن کو ہمارے لیے سنبھال کر رکھو۔عنقریب اس کی ایک خبر ہوگی۔“پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےدو رکعت نماز پڑھی۔پھر صبح کی فرض نماز ادا کی اور ویسے ہی ادا کی جیسے ہر روز ادا کرتے ہیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے۔پھر ہم میں سے ہر ایک چپکے چپکے کہتا تھا کہ آج ہمارے اس قصور کا کیا کفارہ ہو گا جو ہم نے نماز میں قصور کیا۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”کیا تمہارے لیے میری زندگی نمونہ نہیں۔“ پھر فرمایا کہ”سونے میں کیا قصور ہے۔ قصور تو یہ ہے کہ ایک آدمی نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ نماز کا دوسرا وقت آ جائے(یعنی جاگنے میں قضا کر دے)پھر جو ایسا کرے۔(یعنی اس کی نماز قضا ہو جائے)تو لازم ہے کہ جب بیدار ہو ادا کرے پھر جب دوسرا دن آئے تو اپنی نماز اوقات معینہ پر ادا کرے۔“(یعنی یہ نہیں کہ ایک بار قضا ہو جانے سے نماز کا وقت ہی بدل جائے)پھر فرمایا:کہ تم کیا خیال کرتے ہو کہ لوگوں نے کیا کیا ہوگا۔“ پھر فرمایا: کہ لوگوں نے جب صبح کی تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تب سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں۔اور بعض لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے آگے ہیں۔ پھر وہ لوگ اگر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی بات مانتے تو سیدھی راہ پاتے راوی نے کہا کہ پھر ہم لوگوں تک پہنچے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ہر چیز گرم ہو گئی اور لوگ کہنے لگے:اے اللہ کے رسول! ہم پیاس سے ہلاک ہو گئے تو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہلاک نہیں ہوگے۔“ پھر فرمایا کہ”میرا پیالہ لاؤ اور پانی کا برتن منگواکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی ڈالنے لگے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہان کو پلاتے تھے۔لوگوں نے جب دیکھا کہ پانی ایک برتن میں ہے تو سب اس پر ٹوٹ پڑے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں ان لوگوں کو پلاتا جاتا تھا۔حتیٰ کہ میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا۔(راوی نے کہا) کہ پھر ڈالا اور مجھ سے فرمایا: ”کہ پیو۔“ میں نے عرض کیا کہ میں نہ پیئوں گا جب تک آپ نہ پئیں اے اللہ کے رسول۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا پلانے والا سب کے آخر میں پیتا ہے“پھر میں نے پیا(راوی فرماتے ہیں)لوگ سیر ہوکر خوشی خوشی آے۔ حضرت عبد اللہ بن رباح نے فرمایا میں یہ حدیث جامع مسجد میں بیان کروں گا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے نوجوان!تم کس طرح بیان کروگے میں بھی اس رات کے سواروں میں سے تھا۔فرماتے ہیں میں نے کہا آپ حدیث کو زیادہ جاننے والے ہیں۔انہوں نے پوچھا تمہارا کن لوگوں سے تعلق ہے؟میں نے کہا انصار سے ہوں۔فرمایا پھر تم بیان کرو تم اپنی حدیث کو زیادہ جانتے ہو فرماتے ہیں میں نے لوگوں سے حدیث بیان کی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس رات حاضر تھا لیکن مجھے معلوم نہیں کسی نےاس(واقعہ)کو اس طرح یاد رکھا ہو جس طرح تم نے یاد رکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٣؛حدیث نمبر١٤٦٢)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا۔سو ایک رات شب کو ہم چلے،یہاں تک کہ جب آخری رات ہوئی اترے اور ہماری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جاگے اور ہماری عادت تھی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے نہیں جگاتے تھے(کہ شاید وحی نہ اتری ہو)جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خودنہ جاگیں۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سےاللہ اکبر کہنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سورج کو دیکھا کہ نکل آیا تب فرمایا: ”کہ چلو“ اور ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چلے یہاں تک کہ جب دھوپ صاف ہو گئی ہمارےساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ اور ایک شخص جماعت سے الگ رہا کہ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئےاس سے فرمایا:”کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نماز کے ادا کرنے سے باز رہے۔“ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت ہوگئی ہے۔سو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے خاک پر تیمم کیا اور نماز پڑھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےچند سواروں کے ساتھ مجھے آگے دوڑایا کہ ہم پانی ڈھونڈیں اور ہم بہت پیاسے ہو گئے تھے۔ پھر ہم چلے جاتے تھے کہ ایک عورت کو دیکھا جو اپنے پاؤں دو مشکیزوں کے درمیان لٹکائے ہوئے(سواری پر)جارہی تھی۔ہم نے پوچھا پانی کہاں سے لائی ہو؟ اس نے کہا پانی بہت دور ہے تم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ہم نے پوچھا تمہارے گھر والوں اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟اس نے کہی ایک رات دن کا فاصلہ ہے ہم نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اس نے کہا کون رسول اللہ؟پھر ہمارے پاس زبردستی لے جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھاحتی کہ ہم اسے لاۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا،۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال پوچھا،سو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حال سے خبر دی جیسی اس نے خبر دی تھی اور اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے دو یتیم بچے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے اونٹ کو بٹھایا گیا۔آپ نے اس کے مشکیزوں کا منہ کھول کر اس میں کلی کی پھر اس کے اونٹ کو بٹھایا تو ہم نے پانی پیا۔ہم چالیس آدمی پیاسے تھے حتیٰ کی ہماری پیاس بجھ گئی اور ہم نے اپنے مشکیزے اور برتن پانی سے بھر لیے اور اپنے ساتھی کو غسل کے لئے پانی دیا البتہ ہم نے اونٹ کو پانی نہ پلایا اور وہ مشکیزے پانی سے اسی طرح بھرے ہوئے تھے پھر آپ نے فرمایا جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ پس ہم نے اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں جمع کیں اور ایک تھیلی میں بند کر کے اس عورت سے کہا لے جاؤ اور اپنے گھر والے کو کھلاؤ اور جان لو کہ ہم تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا۔ جب وہ اپنے گھر پہنچی تو کہنے لگی کہ آج میں بڑے جادوگر آدمی سے ملی یا بیشک وہ نبی ہے جیسا دعوٰی کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا معجزہ بیان کیا کہ یہ یہ گزرا سو اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں والے کو اس عورت کی وجہ سے ہدایت دی اور وہ بھی اسلام لائی اور گاؤں والے بھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٥؛حدیث نمبر١٤٦٣)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ہم رات بھر چلتے رہے حتیٰ کہ جب صبح سے کچھ پہلے رات کا آخری وقت ہوا تو ہم پر ایسی چیز واقع ہوئی جس سے زیادہ میٹھی چیز مسافر پر واقع نہیں ہوتی(نیند آگئی)ہم سورج کی تپش سے بیدار ہوۓ اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مثل بیان کیا۔البتہ اس میں کچھ کمی زیادتی ہے۔اس حدیث میں بیان کیا جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا کہ لوگ کس بات میں مبتلا ہیں اور آپ نہایت قوی جسم والے تھےچنانچہ آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آواز کی شدت سے بیدار ہوۓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوے تو صحابہ کرام نے آپ سے اس بات کی شکایت کی جو ان کو پہنچی تھی۔آپ نے فرمایا کوئی نقصان نہیں چلو۔آگے اسی طرح واقع ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٦؛حدیث نمبر١٤٦٤)
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں کروٹ لیٹتے اور اگر صبح سے پہلے پڑاؤ ڈالتے تو اپنے بازو کھڑے کرتے اور ہتھیلی پر چہرہ رکھتے۔ (مسلم شریف کتاب المساجد و المواضع الصلاۃ.بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد ١؛ص ٤٧٦؛حدیث نمبر ١٤٦٥؛
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز(پڑھنا)بھول جاۓ تو جب یاد آئے پڑھ لے اس پر صرف یہی کفارہ ہے۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی"واقم الصلاۃ لذکری"اور میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(حدیث نمبر ١٤٦٥ کی طرح) روایت کرتے ہیں البتہ اس میں کفارے کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٧)
ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز(پڑھنا)بھول جاۓ یا اس سے سو جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے پڑھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٨)
ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے ایک نماز سے سو جائے یا اس سے غافل ہو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"اقم الصَّلَاةَ لذکری"میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٩)
Muslim Shareef : Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ
|
•