asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha

From 1470 to 1849

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نماز،حضروسفر میں دو دو رکعتیں فرض ہوئی پھر سفر کی نماز برقرار رہی اور حالت اقامت کی نماز میں اضافہ ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ترجمہ؛مسافرين کی نماز اور قصر کے احکام؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر ١٤٧٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1470

ایک اور سند سے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں شروع شروع میں نماز دو، دو رکعتیں فرض ہوئی پھر سفر کی نماز(اسی حالت پر)برقرار رہی اور حالت اقامت کی نماز مکمل کی گئی۔حضرت زہری فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سفر میں مکمل نماز کیوں پڑھتی ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے وہی تاویل کی جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر١٤٧١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1471

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ(قرآن مجید میں ہے) :{لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ، إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا}(سورۃ النساء، آیت نمبر ١٠١) (تم پر حرج نہیں کہ نماز میں قصر کرو اگر تمہیں خوف ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈالیں گے) اب تو لوگ امن میں ہے(لہذا قصر کی کیا ضرورت ہے)انہوں نے فرمایا مجھے اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں تعجب ہوا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطاء فرمایا پس اس کے صدقہ کو قبول کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر١٤٧٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا - عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ، إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتُ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1472

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٧٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1473

ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے مسافر پر دو رکعتیں،مقیم پر چار اور حالت خوف میں ایک رکعات فرض فرمائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٤

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1474

ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے مسافر پر دو رکعتیں،مقیم پر چار اور حالت خوف میں ایک رکعات فرض فرمائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1475

حضرت موسیٰ بن سلمہ الھزلی فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا میں جب مکہ مکرمہ میں ہوں تو کیسے نماز پڑھوں؟جب امام کے ساتھ نماز پڑھوں فرمایا دو رکعتیں پڑھو یہ ابوالقاسم کی سنت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛؛باب إذا صلى المسافر خلف المقيم جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: «رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1476

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٧٦ کی کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1477

حضرت عیسٰی بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم اپنے والد(حفص بن عاصم)سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں میں مکہ مکرمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوگیا تو آپ نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی پھر تشریف لائے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہی آئے حتیٰ کہ اپنی منزل میں پہنچے تو بیٹھ گئے۔ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے تو جہاں نماز پڑھی تھی اس طرف توجہ ہوئی تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا۔پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟میں نے عرض کیا نفل پڑھ رہے ہیں۔فرمایا اگر مجھے نفل پڑھنا ہوتا تو اے بھتیجے!میں نماز کو مکمل کرتا میں سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تو آپ نے دو رکعتوں پر اضافہ نہ فرمایا۔حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا تو انہوں نے بھی دورکعتوں پر اضافہ نہ کیا حتیٰ کہ ان کا وصال ہوگیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہم سفر رہا۔انہوں نے بھی دو رکعتوں پر اضافہ نہ کیا حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رفیق سفر رہا۔انہوں نے بھی وصال تک دو رکعتوں پر اضافہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]"تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٨)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ: فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ، وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: «مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟» قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي، يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ» وَقَدْ قَالَ اللهُ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1478

حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بیمار ہوگیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لئے تشریف لاۓ۔فرماتے ہیں میں نے ان سے حالت سفر میں نوافل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو میں نے آپ کو نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور اگر مجھے نفل پڑھنا ہوتا تو میں نماز مکمل پڑھتا(فرض نماز)اور ارشاد خداوندی ہے۔:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب:٢١](مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٧٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: «صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ»، وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1479

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں نماز ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب يقصر إذا خرج من موضعه؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٨٠)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1480

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ طیبہ میں ظہر کی نماز چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب يقصر إذا خرج من موضعه؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٨١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1481

حضرت یحییٰ بن یزید الھُنائی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں قصر کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا(فرمایا)تین فرسخ(مسافت)پر تشریف لے جاتے تو دو رکعتیں پڑھتے(حضرت شعبہ کو شک ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛ جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، كِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ، أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ - شُعْبَةُ الشَّاكُّ - صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1482

حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں شرحبيل بن السمط کے ساتھ ایک بستی کی طرف گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا میں اس طرح اس لیے کر رہا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ، أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: «إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1483

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٣ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں حضرت شرحبيل کا نام نہیں ذکر کیا صرف ابن السمط فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ ایک ایسی زمین میں آئے جسکو دومين کہا جاتا ہے جو حمص سے متعلق ہے اور وہ(مدینہ طیبہ سے)اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٤)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ، وَقَالَ: إِنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دُومِينَ مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1484

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ کی طرف گئے تو ہم نے واپسی تک دودو رکعتیں پڑھیں۔راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا وہاں کتنی مدت ٹھہرے؟تو فرمایا دس دن۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ»، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: «عَشْرًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1485

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٦)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ،

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1486

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا ہم مدینہ طیبہ سے حج کے لئے گئے پھر حدیث ١٤٨٥ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٧)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْحَجِّ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1487

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔پس اس میں حج کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٨٨)

حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَجَّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1488

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مِنىٰ اور اس کے علاوہ میں سفر والی نماز ادا فرمائی یعنی دو رکعتیں پڑھیں۔حضرت صدیق اکبر،حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں دودو رکعتیں پڑھیں پھر ان کو چار مکمل پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٨٩)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى وَغَيْرِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1489

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٩ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں مِنٰی کے علاوہ کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩٠)

وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: بِمِنًى وَلَمْ يَقُلْ وَغَيْرِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1490

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بعد،حضرت ابوبکر صدیق نے،ان کے بعد حضرت عمرفاروق نے،ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور خلافت میں منی میں دورکعتیں پڑھیں اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ چاررکعات پڑھتے رہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات پڑھتے اور جب تنہا پڑھتے تو دو رکعتیں ادا فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا»، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا صَلَّاهَا وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1491

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩٢)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1492

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں سفر والی نماز پڑھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آٹھ سال یا فرمایا چھ سال تک اسی طرح پڑھتے رہے۔حضرت حفص(راوی)فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ منی میں دو رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر تشریف لاتے میں نے پوچھا اے چچا جان!اگر آپ اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے(تو اچھا تھا)فرمایا اگر میں ایسا کرتا تو(اس کی بجائے)پوری نماز پڑھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٣)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى صَلَاةَ الْمُسَافِرِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ ثَمَانِيَ سِنِينَ»، أَوْ قَالَ: «سِتَّ سِنِينَ»، قَالَ حَفْصٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: " يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَأْتِي فِرَاشَهُ، فَقُلْتُ: أَيْ عَمِّ لَوْ صَلَّيْتَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: لَوْ فَعَلْتُ لَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ "،

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1493

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩٣ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں مِنی کا ذکر نہیں ہے البتہ یہ ہے کہ سفر میں نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٤)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُولَا فِي الْحَدِيثِ بِمِنًى، وَلَكِنْ قَالَا: صَلَّى فِي السَّفَرِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1494

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہمیں منی میں چار رکعات پڑھائیں۔یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی گئی تو انہوں نے"انا للہ وانا الیہ راجعون"پڑھا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی منی میں دو رکعتیں ادا کیں اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی منی میں دو رکعتیں پڑھیں کاش کہ چار رکعات میں سے میرا حصہ دو رکعتیں قبول ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1495

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، وَابْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1496

حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں اس وقت دو رکعتیں پڑھیں جب سب سے زیادہ امن تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٧)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ قُتَيْبَةُ: - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ، رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1497

انہی سے مروی ہے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منی میں نماز پڑھی اور لوگ پہلے سے زیادہ تھے حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے دو رکعات پڑھیں۔حضرت امام مسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حارثہ بن وہب خزاعي،حضرت عبید اللہ بن عمر بن خطاب کی ماں کی طرف سے بھائی تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٤٩٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ» قَالَ مُسْلِمٌ: «حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ أَخُو عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لِأُمِّهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1498

حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی رات جس میں سخت ٹھنڈک اور ہوا تھی اذان دے کر فرمایا اپنی اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔پھر فرمایا جب رات ٹھنڈی اور بارش والی ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ترجمہ؛بارش کے دوران قیام گاہوں میں نماز پڑھنا؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٤٩٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1499

ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک رات جب کہ سخت سردی اور بارش تھی اذان دی اور اس کے آخر میں فرمایا سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز ادا کرلوں(دو مرتبہ فرمایا)پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت سفر میں ٹھنڈی یا فرمایا بارش والی رات مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ وَمَطَرٍ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ، أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ فِي السَّفَرِ، أَنْ يَقُولَ: «أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1500

حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ضَجنان(مقام)میں نماز کے لئے آذان دی۔پھر حدیث نمبر ١٥٠٠ کی مثل ذکر کیا اور فرمایا سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز ادا کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1501

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں گئے تو بارش ہوگئی۔آپ نے فرمایا تم میں سے جو چاہے وہ اپنی منزل میں نماز ادا کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا، فَقَالَ: «لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1502

حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک بارش والے دن اپنے مؤذن سے فرمایا جب تم":أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ،کہو تو حی علی الصلٰوۃ نہ کہو بلکہ تم کہو اپنے گھروں میں نماز پڑھو(صلوا فی بیوتکم)گویا لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا تو فرمایا اس بات پر تعجب کرتے ہو یہ تو اس ذات نے کیا جو مجھ سے بہتر ذات تھی۔جماعت ضروری(سنت موکدہ) ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ تمہیں حرج میں ڈالوں پس تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٣)

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَلَا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ "، قَالَ: فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ، فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا، قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1503

حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک کیچڑ والے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔اس کے بعد ابن علیہ کی حدیث کا معنی ذکر کیا اور جماعت کا ذکر نہ کیا۔اور فرمایا یہ کام اس ذات نے کیا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٤)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْجُمُعَةَ، وَقَالَ: قَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1504

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٠٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں یہ نہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٥)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ هُوَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1505

عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بارش والے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آذان دی اور یہ جمعہ کا دن تھا اس کے بعد اسی طرح مروی ہے اور فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٦)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَوْمَ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَقَالَ: وَكَرِهْتُ أَنْ تَمْشُوا فِي الدَّحْضِ وَالزَّلَلِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1506

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے مؤذن کو حکم دیا۔حضرت معمر کی روایت میں یوں ہے کہ جمعہ کا دن تھا اور اس دن بارش ہوئی پہلی حدیث کی طرح ذکر کیا اور یہ بھی ہے کہ اس ذات نے یہ عمل کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٧)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَرَ مُؤَذِّنَهُ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَذَكَرَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1507

ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جمعہ کے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اور یہ بارش والا دن تھا اس کےبعد پہلی حدیث کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٨)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وُهَيْبٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: أَمَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُؤَذِّنَهُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1508

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی اونٹنی پر پڑھتے تھے وہ جدھر بھی متوجہ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛سفر میں سواری پر نماز پڑھنا وہ جدھر بھی متوجہ ہو؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1509

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے وہ جدھر بھی متوجہ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1510

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ جاتے ہوئے سواری پر نماز پڑھتے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی۔فرماتے ہیں اسی سلسلے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی{فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] "(پس تم جدھر بھی پھرو ادھر ہی اللہ کی ذات ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١١)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1511

ابوکریب نے اپنی سند سے اور ابن نمیر نے اپنی سند سے روایت کرتےہوۓ عبد الملک سے اسی سند کے ساتھ حدیث نمبر ١٥١١ کی مثل روایت کیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے{فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] آیت پڑھی اور فرمایا یہ اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ، وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ، {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥]، وَقَالَ فِي هَذَا: نَزَلَتْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1512

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ اپنے دراز گوش پر نماز پڑھ رہے تھے اور وہ خیبر کی طرف متوجہ تھا۔(معلوم ہوا کہ سواری جدھر متوجہ ہو وہی قبلہ قرار پاتا ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1513

حضرت سعید بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مکہ مکرمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جارہا تھا۔فرماتے ہیں جب صبح کا ڈر ہوا تو میں اترا اور وتر پڑھ کر پھر ان سے جا ملا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم کہاں تھے؟میں نے عرض کیا مجھے فجر کا ڈر تھا تو میں نے اتر کر نفل پڑھا۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تیرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ(مبارکہ)کافی نہیں۔میں نے عرض کیا جی ہاں اللہ کی قسم کافی ہے۔فرماتے ہیں انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز اونٹ پر(بھی)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ، فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتُ؟ فَقُلْتُ لَهُ: خَشِيتُ الْفَجْرَ، فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ، فَقُلْتُ: بَلَى وَاللهِ، قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1514

یحییٰ بن یحییٰ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت مالک کے سامنے یہ حدیث پڑھی کہ حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1515

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٦)

وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1516

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد(حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی اور اس پر نفل نماز بھی پڑھتے تھے البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٧)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1517

حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں ان کے والد نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سفر میں رات کے وقت نوافل سواری پر پڑھتے وہ جدھر بھی جا رہی ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥١٨)

وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ «رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1518

حضرت انس بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی جب وہ شام سے تشریف لائے ہماری ملاقات عین التمر(کنویں)کے پاس ہوئی تو میں نے ان کو دیکھا وہ دراز گوش پر نماز پڑھ رہے تھے اور اس کا رخ اس طرف تھا حضرت ہمام نے قبلہ کی بائیں جانب اشارہ کیا۔میں نے کہا میں نے آپ کو غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے فرمایا اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں اس طرح نہ کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥١٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ، فَتَلَقَّيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ ذَاكَ الْجَانِبَ، وَأَوْمَأَ هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، قَالَ: «لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ لَمْ أَفْعَلْهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1519

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جانے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کرتے۔(اس کو جمع صوری کہا جاتا ہے یعنی صورتا دو نمازیں جمع فرماتے تھے حقیقت میں دونوں اپنے اپنے وقت پر ہوتی تھی مثلاً ظہر کی نماز بالکل آخر میں پڑھی اور ساتھ ہی عصر کا وقت شروع ہوا تو عصر کی نماز پڑھ لی کسی ایک وقت میں دونوں کو جمع کرنا مثلاً ظہر کے وقت میں عصر پڑھ لے یہ طریقہ جائز نہیں۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛ترجمہ؛سفر میں دو نمازیں جمع کرنا؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1520

حضرت نافع روایت کرتےہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جب سفر کرنا ہوتا تو وہ شفق غائب ہونے کے بعد مغرب اور عشاء کو جمع کرتے اور فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سفر کرنا ہوتا تو آپ مغرب اور عشاء(کی نمازوں)کو جمع فرماتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنَّ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1521

حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب وعشاء جمع کرتے ہوئے دیکھا جب آپ نے سفرکرنا ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢٢)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1522

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نے سفر میں جلدی جانا ہوتا تو مغرب کی نماز کو مؤخر کرتے اور اسے نماز عشاء کے ساتھ جمع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٣)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنَ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا، وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1523

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے تشریف لے جاتے تو ظہر کو عصر تک مؤخر کرتے پھر اتر کر دونوں(نمازوں)کو جمع کرتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتااور ابھی کوچ نہ فرماتے تو ظہر کی نماز پڑھ کر سوار ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٤)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1524

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کی نماز کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا پہلا وقت داخل ہوجاتا پھر ان کو جمع فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٥)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1525

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ جب آپ نے سفر میں جلدی جانا ہوتا تو ظہر کو نماز عصر کے پہلے وقت تک مؤخر کرتےحتیٰ کہ دونوں کو جمع کرتے اور مغرب کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ اسے اور عشاء کو اس وقت جمع کرتے جب شفق غائب ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1526

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کی نماز کو اکٹھا کر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرکے پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1527

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کرکے پڑھا۔ حضرت ابوالزبیر(راوی)فرماتے ہیں۔میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ کسی امتی کو حرج میں نہ ڈالیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٢٨)

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ» قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا، لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1528

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جو آپ نے غزوہ تبوک کے موقع پر کیا۔نمازوں کو جمع کیا پس آپ نے ظہر اورعصر کو جمع کیا اور مغرب وعشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟فرمایا آپ نے امت کو حرج سے بچانے کا ارادہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٢٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ» قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1529

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ تبوک کی طرف گئے تو آپ ظہر اور عصر کو جمع کرتے اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1530

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں ظہر اور عصر کواور مغرب وعشاء کو جمع کیا ابو طفیل(راوی)فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے اس طرح کیوں کیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے ارادہ فرمایا کہ امت کو حرج میں نہ ڈالیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ» قَالَ: فَقُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1531

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر ظہر اور عصر کو نیز مغرب اور عشاء کو جمع کیا حضرت وکیع کی روایت میں ہے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کس وجہ سے کیا انہوں نے فرمایا اس لیے کہ امت کو حرج میں نہ ڈالیں اور ابو معاویہ کی روایت میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس کا مقصد کیا تھا فرمایا یہ کہ امت کو حرج نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ» فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1532

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں اکٹھی(ظہر اور عصر)اور سات رکعتیں اکٹھی(مغرب اور عشاء)پڑھیں۔راوی کہتے ہیں میں نے کہا ابو الشعشاء میرے خیال میں آپ نے ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کی نماز جلدی پڑھی اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء کی نماز جلدی پڑھی۔انہوں نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا»، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1533

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں سات رکعتیں اور آٹھ رکعتیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1534

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک دن عصر کے بعد ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہو گئے اور لوگ کہنے لگے نماز نماز۔فرماتے ہیں پس بنو تمیم کا ایک شخص آیا جو بالکل خاموش بھی نہ تھا اور نماز کا ذکر تکرار سے بھی نہیں کرتا تھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری ماں مرے(بدعا نہیں ہے عادت کے طور پر ہے)تو مجھے سنت سکھاۓ گا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر اور عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں۔میرے دل میں کچھ کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوکر پوچھا تو انہوں نے انکی(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ)کی بات کی تصدیق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٥)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ؟ لَا أُمَّ لَكَ ثُمَّ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ». قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُ فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1535

حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی فرماتے ہیں۔ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ خاموش رہے اس نے پھر کہا نماز کا وقت ہو گیا ہے تو آپ خاموش رہے۔پھر کہا نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ خاموش رہے۔پھر فرمایا تیری ماں مرے کیا تم ہمیں نماز سکھاؤ گے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ: ثُمَّ قَالَ: «لَا أُمَّ لَكَ أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1536

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔تم میں سے کوئی شخص شیطان سے اپنے نفس کے لئے حصہ نہ بنائے۔وہ اسی بات کو اپنے لئے حق سمجھے کہ دائیں طرف پھرے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام طور پر دائیں طرف پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد دائیں بائیں پھرنے کا جواز؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1537

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1538

حضرت سدی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز پڑھنے کے بعد کس طرف پھروں۔دائیں طرف یا بائیں جانب؟فرمایا جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دائیں جانب پھرتے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ؟ عَنْ يَمِينِي، أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ قَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1539

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف پھرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1540

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں یہ بات پسند ہوتی کہ آپ کی دائیں جانب ہوں اور آپ ہماری طرف متوجہ ہوں۔فرماتے ہیں میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا اے میرے رب!مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھاے گا یا فرمایا اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ؛ترجمہ؛امام کی دائیں طرف ہونا مستحب ہے؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٤١)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1541

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤١ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں آپ کے متوجہ ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1542

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز(جائز)نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛ترجمہ؛اقامت (تکبیر) شروع ہو تو سنتیں اور نوافل پڑھنا؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٣)

وحَدَّثَنَي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ». وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1543

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٤)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1544

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز(جائز)نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٥)

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1545

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٦)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1546

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٥٤٥ کی مثل روایت کرتے ہیں۔حضرت حماد(راوی)کہتے ہیں۔پھر میں نے حضرت عمر سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث غیر مرفوع بیان کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٧)

وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. قَالَ حَمَّادٌ: «ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا، فَحَدَّثَنِي بِهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1547

حضرت عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور صبح کی اقامت ہو چکی تھی تو آپ اس سے کوئی بات فرمائی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا بات تھی۔نماز کے بعد ہم نے اس شخص کو گھیر لیا اور ہم پوچھنے لگے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا۔اس نے کہا آپ نے فرمایا قریب ہے کہ تم میں سے کوئی ایک صبح کی چار رکعتیں پڑھیں قعنبی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ابوالحسین مسلم فرماتے ہیں باپ سے روایت میں خطأ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: «يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا». قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ: «وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1548

حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا حالانکہ مؤذن اقامت کہ رہا تھا۔آپ نے فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَقَالَ: «أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1549

حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہوگیا۔آپ نے جب سلام پھیرا تو فرمایا اے فلاں!تم نے کس نماز کو شمار کیا اس نماز کو جو تم نے تنہا پڑھی یا ہمارے ساتھ والی نماز کو؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا فُلَانُ بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ؟ أَبِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ، أَمْ بِصَلَاتِكَ مَعَنَا؟

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1550

حضرت ابوحمید یا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو یوں کہو۔"اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"۔اے اللہ!میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب نکلے تو یوں کہے۔"اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ"اے اللہ!میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ امام مسلم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ سنا وہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال سے لکھی اور انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یحییٰ حمانی"وابی اسید"فرماتے تھے یعنی ابو حمید اور ابو اسید دونوں روایت کرتےہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ترجمہ؛مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی دعا؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٥١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، أَو عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ". قَالَ مُسْلِمٌ: " سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: كَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ، يَقُولُ: وَأَبِي أُسَيْدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1551

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٢)

وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1552

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛ترجمہ؛تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1553

ایک اور سند سے بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرماتے تھے۔فرماتے ہیں میں بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس نے منع فرمایا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے دیکھا۔آپ تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد صحابہ کرام بھی ہیں(تو میں بیٹھ گیا)آپ نے فرمایا جب تم میں سے ایک مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ - صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ: «فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1554

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ میرا قرض تھا تو آپ نے ادا فرمایا اور زیادہ بھی دیا۔اس دوران میں مسجد میں آپ کے پاس داخل ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ لِي: «صَلِّ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1555

حضرت محارب سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛ترجمہ؛سفر سے واپسی پر مسجد میں دو رکعتیں پڑھنامستحب ہے؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1556

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا تو میرا اونٹ عاجز ہوگیا اور اس کی وجہ سے مجھے تاخیر ہوگئی پھر حضور علیہ السلام مجھ سے پہلے تشریف لائے اور میں دوسرے دن صبح آیا میں مسجد میں آیا تو آپکو مسجد کے دروازے پر پایا آپ نے فرمایا تم اب آۓ ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اپنے اونٹ کو چھوڑو اور اندر آکر دو رکعتیں پڑھو۔فرماتے ہیں پس میں داخل ہوا اور دو رکعتیں پڑھ کر واپس ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: «الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ»، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1557

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت واپس تشریف لاتے اور تشریف لاتے تو آغاز مسجد سے کرتے اور اس میں دو رکعتیں پڑھ کر تشریف فرما ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1558

حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا نہیں مگر جب سفر سے تشریف لاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ،أَوْ سِتٍّ،وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛چاشت کی نماز کا استحباب اور رکعات؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1559

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے فرمایا نہیں الا یہ کہ آپ کسی سفر سے واپس آئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٠)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1560

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اور میں یہ نماز پڑھتی ہوں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس ڈر سے چھوڑ دیتے کہ لوگ اس پر عمل کریں گے تو ان پر فرض نہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1561

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی کتنی رکعات پڑھتے تھے تو ام المؤمنين نے فرمایا چار رکعات پڑھتے اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا اضافہ فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٢)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، كَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: «أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1562

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: يَزِيدُ مَا شَاءَ اللهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1563

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعات پڑھتے اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا اضافہ فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٤)

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ، حَدَّثَتْهُمْ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللهُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1564

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٥)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1565

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے نہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر تشریف لائے تو آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں۔میں نے آپ کو اس سے ہلکی پھلکی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ، مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ». وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ قَطُّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1566

ابن عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں۔ان کے والد عبد اللہ بن حارث بن نوفل نے فرمایا کہ میں نے پوچھا اور میری بہت زیادہ خواہش تھی کہ میں کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے اس بات کی خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی لیکن حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے علاوہ مجھے کوئی بھی نہ ملا۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج بلند ہونے کے بعد تشریف لائے اور کپڑا لاکر پردہ کیا پھر آپ نے غسل فرمایا۔اس کے بعد کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعات پڑھیں۔مجھے معلوم نہیں کہ اس میں قیام فرمایا تھا یا رکوع یا سجدہ یا تمام ارکان برابر برابر تھے وہ فرماتی ہیں میں نے اس سے پہلے اور بعد آپ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٧)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ، أَمْ رُكُوعُهُ، أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ»، قَالَتْ: «فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ». قَالَ الْمُرَادِيُّ، عَنْ يُونُسَ، وَلَمْ يَقُلْ: أَخْبَرَنِي

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1567

حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں۔میں فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا میں ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا ہوں۔آپ نے فرمایا ام ہانی کو خوش آمدید جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔اس وقت آپ نے ایک کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔جب سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے بھائی حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ ایسے شخص کو قتل کرنے والے ہیں جس کو میں پناہ دے چکی ہوں وہ فلاں ابن ہبیرہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام ہانی!جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی اسے پناہ دی۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ چاشت کا وقت تھا(یا چاشت کی نماز تھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ»، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ، فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1568

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ان کے گھر میں ایک کپڑے میں(لپٹے ہوئے)آٹھ رکعات پڑھیں اس کپڑے کے کنارے مخالف جانب ڈال رکھے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٩)

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1569

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک پر جب وہ صبح کے وقت اٹھتا ہے تو اس پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔پس ہر تسبیح صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے۔ہر تہلیل صدقہ،ہر تکبیر صدقہ ہے۔نیکی کا حکم دینا صدقہ اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب کی جگہ چاشت کی دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل صلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٧٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1570

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنا،چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا اور سونے سے پہلے وتر پڑھنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧١)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: «بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1571

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٥٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1572

حضرت ابو رافع الصائع کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل ابوالقاسم نے تین باتوں کا حکم دیا۔پھر حدیث نمبر ١٥٧١ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٣)

وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1573

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم دیا کہ میں انہیں ہر گز نہ چھوڑوں جب تک زندہ رہوں ہر مہینے تین دنوں کا روزہ رکھنا،چاشت کی نماز اور وتر پڑھنے سے پہلے نہ سونا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٤)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ: «بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1574

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی۔جب مؤذن صبح کی نماز کے لئے آذان دے کر خاموش ہو جاتا اور فجر ظاہر ہو جاتی تو آپ نماز کی اقامت سے پہلے دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛ترجمہ؛سنت فجر کا استحباب اور تاکید؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1575

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٥٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ كَمَا قَالَ مَالِكٌ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1576

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب فجر طلوع ہوتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے(صرف سنتیں پڑھتے نوافل نہ پڑھتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٧)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1577

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٥٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٨)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1578

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب فجر روشن ہو جاتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1579

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں اس وقت پڑھتے جب آذان سنتے اور ان کو مختصرطور پرپڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٨٠)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ، وَيُخَفِّفُهُمَا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1580

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٨٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں طلوع فجر کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٨١)

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1581

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آذان اور اقامت کے درمیان دورکعت(سنت فجر)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1582

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں اس قدر مختصر پڑھتے حتیٰ کہ میں کہتی کیا آپ نے اس میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1583

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں(اتنی مختصر)پڑھتے کہ میں کہتی کیا آپ نے ان میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، أَقُولُ: هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ؟ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1584

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں(سنتوں)کی جس طرح حفاظت فرماتے اس قدر کسی دوسرے نفل کی حفاظت نہ فرماتے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب تعاهد ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٥)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1585

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نفل کی طرف اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جس قدر فجر کی سنتوں میں جلدی فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب تعاهد ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1586

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں۔آپ نے فرمایا فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1587

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے طلوع فجر کے وقت(پڑھی جانے والی)دو رکعتوں کی شان میں فرمایا کہ یہ دورکعتیں مجھے دنیا ومافيها سے زیادہ پسند ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٨٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: قَالَ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي شَأْنِ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ: «لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1588

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں(سنتوں)میں:قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ(سورت)اور"وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ"(سورت)پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٨٩)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1589

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورۂ بقرہ میں سے:{قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦] الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ،اور دوسری رکعت میں{آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٥٢](مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٠)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا: {قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦] الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ مِنْهُمَا: {آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٥٢] "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1590

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں{قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا}[البقرة: ١٣٦]،اور سورہ آلِ عِمْرَانَ کی آیت:{تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] "پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: {قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦]، وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ: {تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1591

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٢)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1592

حضرت عمروبن اوس بیان کرتے ہیں-مجھ سے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنی مرض الموت میں جس میں ان کاانتقال ہوا ایسی حدیث بیان کی جس کو سن کر خوشی ہوگی-انہوں نے فرمایا میں نے(ام المومنین)حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سناوہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا آپ نے فرمایا جس نے دن اور رات میں بارہ رکعات پڑھیں-اس کیلئے ان کے بدلے میں جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا- حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ان رکعات کو نہیں چھوڑا-حضرت عنبسہ فرماتے ہیں جب سے میں نے حضرت ام حبیبہ سے سنا میں نے ان کو نہیں چھوڑا اور عمروبن اوس فرماتے ہیں جب سے میں نے حضرت عنبسہ سے سنا ہے میں نے ان کو نہیں چھوڑا اور نعمان بن سالم فرماتے ہیں-میں نے جب سے عمروبن اوس سے سنا ہے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛ترجمہ؛فرض نماز سے پہلے اور بعد سنن موکدہ کی فضیلت اور ان کی تعداد؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِحَدِيثٍ يَتَسَارُّ إِلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَنْبَسَةُ: «فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ»، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ: «مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ» وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ: «مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1593

اسی سند کے ساتھ نعمان بن سالم فرماتے ہیں جس نے ایک دن میں بارہ رکعات سنتیں پڑھیں اس کیلئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٤)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: «مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1594

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان اللہ تعالٰی کے لئے روزانہ بارہ رکعات(سنت)فرض نمازکے علاوہ پڑھے گا-اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناۓ گا یا فرمایا کہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔پس میں اس کے بعد ہمیشہ یہ(بارہ رکعات)پڑھتی ہوں۔ حضرت عمرو بن اوس فرماتے ہیں میں بھی اس کے(سننے)کے بعد ہمیشہ یہ رکعات پڑھتا ہوں اور حضرت نعمان بن سالم(راوی)بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا، غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ: «فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ» وقَالَ عَمْرٌو: «مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ»، وقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1595

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کامل وضو کرے پھر اللہ تعالیٰ کے لئے روزانہ(نماز)پڑھےپھر حدیث نمبر١٥٩٥ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ،وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٦)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ: أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ»، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1596

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر سے پہلے دو رکعتیں ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں،عشاء کے بعد دو رکعتیں اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں-بہرحال مغرب عشاء اور جمعہ کی سنتیں میں نے آپ کے گھر میں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٧)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُو ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْمَغْرِبُ، وَالْعِشَاءُ، وَالْجُمُعَةُ، فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1597

حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں-میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ اپنے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے-پھر تشریف لے جاتے اور صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے-پھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے(اسی طرح)صحابہ کرام کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھرگھر تشریف لاتے دو رکعتیں پڑھتے صحابہ کرام کو نماز عشاء پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ رات کو نو رکعتیں پڑھتے ان میں نفل بھی شامل ہیں اور آپ رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ایک طویل حصہ شب بیٹھ کر پڑھتے اور جب آپ قرآت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تو اسی کھڑے ہونےکی حالت سے رکوع اور سجدے کی طرف جاتے اور جب بیٹھ کر قرآت فرماتے ہیں تو رکوع اور سجدے کے لئے اسی حالت سے جاتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو(صرف)دو رکعتیں(سنت) پڑھتے(نفل نہ پڑھتے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَطَوُّعِهِ؟ فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1598

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا طویل حصہ نماز پڑھتے جب کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تو اسی حالت میں رکوع میں جاتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع اور سجدہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1599

حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں فارس میں بیمار ہوگیا تو میں بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا۔میں نے اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا طویل حصہ نماز پڑھتے پھر باقی حدیث حدیث نمبر ١٥٩٩ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٦٠٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1600

حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں فرمایا آپ رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر اور ایک لمبا وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے جب آپ قرأت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تورکوع کے لئے کھڑے ہونے کی حالت سے منتقل ہوتے اور جب قرأت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھے بیٹھے کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1601

انہی سے مروی ہے۔ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے جب آپ نماز کا آغاز کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب نماز کا آغاز بیٹھنے کی صورت میں کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1602

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز میں بیٹھ کر قرأت کرتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ جب آپ سن رسیدہ ہوگئے تو بیٹھ کر قرأت کرنے لگے یہاں تک کہ جب سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے اور ان کو پڑھ کر رکوع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح قَالَ: وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ، ثُمَّ رَكَعَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1603

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے اور قرأت بھی بیٹھ کر کرتے جب قرأت تیس یا چالیس رکعات کا اندازہ باقی رہتا تو کھڑے ہو جاتے اور(باقی)قرأت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1604

ایک اور سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قرأت کرتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنے وقت کے لیے کھڑے ہوجاتے جس میں کوئی انسان چالیس آیات پڑھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1605

حضرت علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں کیا کرتے تھے جب آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ ان دونوں رکعتوں میں قرأت کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوکر رکوع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ؟ قَالَتْ: «كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1606

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا ہاں جب لوگوں کے(مسائل وافكار)نے آپ کو بوڑھا کر دیا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1607

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث ١٦٠٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٨)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1608

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1609

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک بھاری اور بوجھل ہو گیا تو آپ اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦١٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدٍ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَقُلَ، كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1610

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نوافل بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ وفات سے ایک سال پہلے آپ بیٹھ کر پڑھنے لگے آپ قرآن مجید کی سورت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتیٰ کہ وہ طویل سے بھی زیادہ طویل ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1611

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں ایک سال یا دو سال کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: بِعَامٍ وَاحِدٍ أَوِ اثْنَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1612

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال نہیں فرمایا حتیٰ کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی(یعنی وصال سے پہلے بیٹھ کر نماز پڑھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى صَلَّى قَاعِدًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1613

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھ سے بیان کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی بیٹھ کر نماز(ثواب کے اعتبار سے)نصف نماز ہے۔فرماتے ہیں۔میں حاضر ہوا تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔میں نے آپ کے سر انور پر ہاتھ رکھا تو آپ نے فرمایا اے عبد اللہ بن عمرو!تمہیں کیا ہوا؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی کی بیٹھ کر نماز نصف نماز(کے برابر)ہے اور آپ بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ»، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: «مَا لَكَ؟ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو» ‍قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّكَ قُلْتَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ»، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: «أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1614

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٥)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1615

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت گیارہ رکعات پڑھتے تھے ان کو ایک رکعت سے طاق بناتے پس جب آپ فارغ ہوجاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔حتیٰ کہ مؤذن آپ کے پاس آتا تو آپ دومختصر رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛ترجمہ؛رات کی نماز اور اس کی رکعات؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1616

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں(عشاء مراد ہے کیونکہ وہ مغرب کو بھی عشاء کہتے اور عشاء کو عتمہ کہتے تھے)سے فراغت کے بعد فجر تک(کے درمیان)گیارہ رکعات پڑھتے۔ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ساتھ(ان تمام رکعتوں کو)طاق بنا دیتے۔جب مؤذن آپ کے پاس آتا تو آپ دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن اقامت کے لئے آپ کے پاس آتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٧)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ - إِلَى الْفَجْرِ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1617

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں حرملہ(راوی)نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ کے لئے فجر ظاہر ہوتی اور آپ کے پاس مؤذن آتا اور اقامت کا ذکر بھی نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٨)

وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِقَامَةَ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍو سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1618

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے اور پانچ رکعات وتر پڑھتے اور ان کے آخر میں بیٹھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1619

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1620

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعات پڑھتے اس میں فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتیں۔(آٹھ رکعات تہجد،تین وتر اور دو رکعت سنت فجر)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1621

حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان شریف کی نماز کس طرح تھی۔انہوں نے فرمایا آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات پر اضافہ نہ فرماتے۔آپ چار رکعات پڑھتے تم ان کے حسن اور طوالت کا نہ پوچھو پھر چار رکعات پڑھتے ان کے حسن اور طوالت کا سوال نہ کرو پھر تین رکعات پڑھتے۔ام المومنین فرماتی ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے آرام فرماتے ہیں۔فرمایا اے عائشہ!میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1622

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ تیرہ رکعات پڑھتے آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع کرتے پھر آذان اور اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1623

حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔آگے حدیث نمبر ١٦٢٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں نو رکعتوں کا ذکر ہے جو کھڑے ہو کر پڑھتے ان میں وتر بھی شامل ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا تِسْعَ رَكَعَاتِ قَائِمًا يُوتِرُ مِنْهُنَّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1624

حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا امی جان!مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا رمضان المبارک اور اس کے علاوہ آپ کی(رات کی)نماز تیرہ رکعات ہوتی ان میں فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٥)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمّهْ ‍ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1625

حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعات ہوتی۔آپ ایک رکعت کے ساتھ اسے وتر بناتے اور دو رکعت فجر کی نماز(سنتیں)پڑھتے پس یہ تیرہ رکعات ہوجاتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: «كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَتْلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1626

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں میں نے حضرت اسودبن یزید سے پوچھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں کیا فرمایا ہے-انہوں نے فرمایا آپ رات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصّے کو(عبادت کے ساتھ)زندہ رکھتے پھر اگر اہل خانہ سے کوئی حاجت ہوتی تو اپنی حاجت کو پورا کرتے پھر سو جاتے جب پہلی اذان ہوتی تو آپ تیزی سے اٹھ جاتے اللہ کی قسم!حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ اٹھ کر اپنے اوپر پانی ڈالتے اور قسم بخدا یہ بھی نہیں فرمایا کہ آپ غسل کرتے اور میں جانتا ہوں کہ ان کا ارادہ کیا تھا-اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو نماز کا وضو کرتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٧)

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ - قَالَتْ - وَثَبَ - وَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ قَامَ - فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ - وَلَا وَاللهِ مَا قَالَتِ اغْتَسَلَ، وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ - وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1627

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے حتیٰ کہ آخر میں وتر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوِتْرُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1628

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں-میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ دائمی عمل کو پسند کرتے تھے-میں نے پوچھا آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے-فرمایا جب مرغ کی اذان سنتے تو کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٢٩)

حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ»، قَالَ: قُلْتُ: أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ فَقَالَتْ: «كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ، قَامَ فَصَلَّى»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1629

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر یا فرمایا اپنے پاس آرام کرتے ہوئے پایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا أَلْفَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرُ الْأَعْلَى فِي بَيْتِي، أَوْ عِنْدِي، إِلَّا نَائِمًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1630

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1631

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٣١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٢)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1632

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے جب وتر نماز پڑھتے تو فرماتے اے عائشہ!اٹھو اور وتر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٣)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَوْتَرَ، قَالَ: «قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1633

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے اور وہ آپ کے سامنے چوڑائی میں لیٹ رہی ہوتی جب وتر نماز باقی ہوتی تو آپ ان کو بیدار کرتے پس وہ وتر پڑھتیں(حجرہ مبارکہ چھوٹا.تھا اس لئے یہ صورت تھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٤)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا، فَأَوْتَرَتْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1634

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے وتر سحری تک پہنچ گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ وَاسْمُهُ وَاقِدٌ وَلَقَبُهُ وَقْدَانُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كِلَاهُمَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1635

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے رات کے پہلے حصے میں درمیان میں اور آخر میں پس آپ کے وتر سحری تک جا پہنچے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1636

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے تھے پس آپ کے وتر رات کے آخر تک جا پہنچے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٧)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، قَاضِي كِرْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1637

حضرت قتادہ نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ سعد بن ہشام بن عامر نے چاہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مدینہ کو آئے اور چاہا کہ اپنے باغ و زمین بیچ ڈالیں اور اس سے ہتھیار اور گھوڑے خریدیں اور رومیوں سے مرنے کے وقت تک لڑیں۔پھر جب مدینہ میں آئے اور مدینہ والوں سے ملے،انہوں نے ان کو منع کیااور خبر دی کہ چھ آدمیوں نے اس کا ارادہ کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا:”کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں۔“پھر جب لوگوں نے ان سے یہ کہا تو انہوں نے اپنی بیوی سے رجعت کی جنکو طلاق دے دی تھی اور ان کی رجعت پر لوگوں کو گواہ کر لیا۔پھر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آۓ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتروں کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا:میں تم کو ایسا شخص بتا دوں کہ جو ساری زمین کے لوگوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کا حال بہتر جانتا ہے۔انہوں نے کہا:وہ کون ہے؟سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔تو تم ان کے پاس جاؤ ان سے پوچھو پھر میرے پاس آؤ اور ان کے جواب سے خبر دو۔پھر میں ان کے پاس چلا حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے چاہا کہ وہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان کے پاس نہیں جاتا اس لئے کہ میں نے ان کو روکا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں کے بیچ میں کچھ نہ بولیں۔(یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مداخلت سے روکا تھا) مگر انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔حضرت سعد نے کہا کہ میں نے حکیم کو قسم دی۔غرض وہ آئے اور ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلے اور ان سے اجازت طلب کی۔انہوں نے اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تب انہوں نے فرمایا:کیا یہ حکیم ہیں؟انہوں نے کہا:ہاں غرض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو پہچان لیا،(یعنی آواز وغیرہ سے پردہ کی آڑ سے)پھر انہوں نےفرمایا:کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟حکیم نے کہا:میرے ساتھ سعد بن ہشام ہیں۔انہوں نے فرمایا:ہشام کون سے؟حکیم نے کہا:عامر کے بیٹےحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور کلمات خیر کہے اور قتادہ نے کہا کہ حضرت عامر جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔پھر میں نے عرض کیا کہ ام المؤمنین!مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے۔انہوں نے فرمایا:کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟میں نے کہا:کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔انہوں نے کہا:پھر میں نے چلنے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ موت کے وقت تک اب کسی سے کوئی چیز نہ پوچھوں۔پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں۔پھر انہوں نے فرمایا:کیا تم نے«يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ» نہیں پڑھی میں نے کہا کیوں نہیں۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرض کیا رات کو کھڑے ہو کر پڑھنے کو اس سورت کے اول میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ رات کو نماز پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا خاتمہ بارہ مہینے تک آسمان پر روک رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا آخراتارا اور اس میں تخفیف فرمائی(یعنی تہجد کی فرضیت معاف کر دی۔مسنون ہونا باقی رہا)جب کہ پہلے فرض تھا۔پھر میں نے عرض کیا:اے ام المؤمنین!خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی۔تب انہوں نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چاہتا بیدار کرتا رات کو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے تھے اور وضو،پھر نو رکعت پڑھتے تھے نہ بیٹھتے اس میں مگر آٹھویں رکعت کے بعد اور ذکر کرتے اللہ تعالیٰ کا اور اس کی حمد کرتے اور دعا کرتےپھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے اور نویں رکعت پڑھتے پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے اور اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم کو سنا دیتے(یعنی بلند آواز سے)پھر سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔غرض یہ گیارہ رکعات ہوئیں اے میرے بیٹے!پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپ کا بدن بھاری ہوگیا تو آپ سات رکعات کے ساتھ نماز کو وتر بنا تے دو رکعتیں ویسی ہی پڑھتے جیسے اوپر ہم نے بیان کیں۔غرض یہ سب نو رکعتیں ہوئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے اس پر ہمیشگی کرتے۔اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند یا کسی درد کا غلبہ ہوتا کہ رات کو نہ اٹھ سکتے تو دن کو بارہ رکعات ادا کرتے اور میں نہیں جانتی کہ کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھے اور نہ ہی آپ نے صبح تک رات بھر نماز پڑھی اور نہ ہی رمضان شریف کے علاوہ آپ نے پورا مہینہ روزے رکھے۔ پھر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ ساری حدیث بیان کی۔انہوں نے کہا کہ بیشک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا اورفرمایا اگر میں ان کے قریب ہوتا تو میں بھی حاضر ہوتا تاکہ میں ان سے بالمشافہ یہ حدیث سنتا۔حضرت سعد نے کہا:کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٣؛حدیث نمبر١٦٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ، وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ؟» فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِكَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ، وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ، فَأْتِهَا، فَاسْأَلْهَا، ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِهَا، لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا، قَالَ: فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا، فَأَذِنَتْ لَنَا، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: «أَحَكِيمٌ؟» فَعَرَفَتْهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: «مَنْ مَعَكَ؟» قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: «مَنْ هِشَامٌ؟» قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ خَيْرًا - قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ - فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ» قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَمُوتَ، ثُمَّ بَدَا لِي، فَقُلْتُ: أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا، وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ» قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الْأَوَّلِ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ، أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا، أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَ: قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1638

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦٣٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٣٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1639

سعد بن ہشام کہتے ہیں۔میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے وتر(نماز)کے بارے میں پوچھا پھر حدیث نمبر ١٦٣٨ کی مثل ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ ام المؤمنين نے پوچھا کون ہشام؟میں نے کہا ابن عامر تو ام المؤمنين نے فرمایا وہ بہترین شخص تھے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ احد میں شہید ہوئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٤٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1640

حضرت زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ ہشام ان کے پڑوسی تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہشام نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔پھر حدیث نمبر ١٦٣٨کی مثل ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ ام المؤمنين نے پوچھا کون ہشام تو انہوں نے کہا عامر کا بیٹا،انہوں نے فرمایا وہ اچھے آدمی تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔اس میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں جاتے تو میں آپ کو یہ حدیث نہ بتاتا۔سعد بن ہشام کہتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٤١)

عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ، كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَفِيهِ قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ: أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1641

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز(تہجد)کسی تکلیف کی وجہ سے نہ پڑھ سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعات پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٢)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ، أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1642

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس میں ہمیشگی اختیار فرماتے اور جب آپ رات کے وقت آرام فرماتے یا بیمار ہوتے تو دن کے وقت بارہ رکعات پڑھتے وہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت صبح تک قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ پورا مہینہ روزے کبھی نہیں رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٣)

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُو ابْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً»قَالَتْ: «وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1643

حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے سو جانے کی وجہ رات(کی عبادت)کا معمول یا اس میں سے کچھ رہ جائے تو اسے فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھے اس کے لیے وہ رات کے عمل کی طرح ہی لکھا جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1644

حضرت قاسم شیبانی سے مروی ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا۔وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا یہ لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت کے علاوہ نماز پڑھنا افضل ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توبہ کرنے والوں کی نماز اس وقت ہے جب اونٹوں کے بچوں کے گھر دھوپ پر چلنے کی وجہ سے گرم ہوجائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٥)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُو ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى، فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1645

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء والوں کی طرف تشریف لے گئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو فرمایا اوابین(توبہ کرنے والوں)کی نماز اس وقت ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرم ہونے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1646

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں جب تم میں سے کسی ایک کو صبح(ہو جانے) کا خدشہ ہو تو ایک رکعت کے اضافہ سے رات کی نماز کو طاق رکعات بنالے(آخر میں دو کی بجائے تین رکعات وتر پڑھ لے کیوں تین رکعت وتر پڑھنے حدیث وارد ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ، صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1647

ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا دودو رکعتیں ہیں۔پس جب تمہیں صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت کے ساتھ نماز کو وتر بنا لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1648

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کس طرح ہے تو آپ نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں۔جب تمہیں صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت کے ساتھ نماز کو وتر(طاق رکعات) بنالو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٩)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَاهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1649

حضرت ابن عمر رضي الله عنه سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس حال میں کہ میں آپ کے اور سائل کے درمیان تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!رات کی نماز کس طرح ہے؟ آپ نے فرمایا دو دو رکعتیں ہیں جب تمہیں صبح(ہونے)کا خوف ہوتو ایک رکعت کا اضافہ کرکے نماز کے آخرکوطاق بنالو-پھر سال کےبعدایک شخص نے آپ سے سوال کیااور میں اسی جگہ تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ یہ وہی شخص تھا یا کوئی اور آدمی تھا تو تو آپ نے وہی جواب دیا-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٠)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ، فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا». ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1650

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٥٠ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس حدیث میں یہ نہیں کہ اس نے سال کے اختتام پر یا اس کے بعد سوال کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥١)

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَا بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَمَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1651

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٢)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1652

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت(تہجد)نماز پڑھے تو وہ وتر آخر میں پڑھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا حکم دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٣)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1653

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اپنی رات کی نمازمیں وتر آخر میں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1654

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےہی مروی ہے-فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت نماز( تہجد)پڑھے تووہ صبح سےپہلے رات کی آخری نماز وتر کو بناۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو اسی طرح حکم دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٥)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1655

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر رات کی نماز سے ملی ہوئی ایک رکعت ہے-(یعنی ایک رکعت کی وجہ سے نماز وتر ہو جاتی ہے یہ مطلب نہیں کہ وتر صرف ایک رکعت ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1656

ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا کہ وتر رات کے آخری حصہ کی(دوگانہ نماز سے ملی ہوئی) ایک رکعت ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1657

حضرت ابومجلز کہتےہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے رات کے آخر میں ایک رکعت(کے ملانے کے باعث)ہے-اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے(وتر)رات کے آخر میں ایک رکعت(کے ملانے سے)ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٨)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1658

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور آپ مسجد میں تھے اس نے کہا یا رسول اللہ!میں رات کی وتر نماز کیسے پڑھوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ نماز پڑھے تو دو دو رکعت پڑھے پس جب صبح ہونے کا احساس ہوتو ایک رکعت(اور ملا کر)پڑھے تو اس سے تمام پڑھی ہوئی وتر ہو جائےگی -(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أُوتِرُ صَلَاةَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى، فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَحَسَّ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى». قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ عُمَرَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1659

حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا آپ کا کیا خیال ہے میں صبح کی نماز سے پہلے جو دو رکعتیں پڑھتا ہوں ان میں قرآت کو لمبا کروں؟انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دودو رکعتیں پڑھتے تھے اور ایک رکعت کے ساتھ نماز کو طاق بنا دیتے-اُنہوں نے کہا میں نے اس کے بارے میں نہیں پوچھا -حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا تم موٹے(دماغ کے)آدمی ہو مجھےتم پوری حدیث کیوں بیان کرنے نہیں دیتے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت دودو رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت کے ساتھ(تمام)نماز کو طاق بنا لیتے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے گویا آذان (کی آواز)آپ کے کانوں میں ہوتی خلف(راوی) نے اپنی روایت میں دو رکعت صبح سے پہلے کے بارے میں بتایا اور نماز کا ذکر نہیں کیا-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٠)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ؟ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ»، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَضَخْمٌ، أَلَا تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ، «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ». قَالَ خَلَفٌ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ صَلَاةِ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1660

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٦٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ رات کے آخر میں ایک رکعت کے اضافہ سے نماز کو طاق بنا دیتے-اس میں یہ بھی اضافہ ہے ٹھہر جاؤ ٹھہر جاؤ تم موٹے دماغ کے آدمی ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦١)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، وَفِيهِ فَقَالَ: بَهْ بَهْ، إِنَّكَ لَضَخْمٌ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1661

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں جب تم صبح ہوتے دیکھو تو ایک رکعت(کے اضافہ)کے ساتھ نماز کو طاق بنالوحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا دودو رکعتوں کاکیامطلب ہے؟ فرمایا دورکعتوں کے بعد سلام پھیرنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ». فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: «أَنْ تُسَلِّمَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1662

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح ہونے سے پہلے وتر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1663

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٤)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1664

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو ڈر ہو کہ وہ رات کے آخر میں جاگ نہیں سکےگا وہ رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھ لے اور جس کو رات کے آخر میں امید ہو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھ لے کیونکہ رات کے آخر میں پڑھی جانے والی نمازمیں فرشتےحاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے(ابو معاویہ کی روایت میں مشہودہ کی جگہ محضورۃکا لفظ ہے معنی ایک ہی ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ». وقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَحْضُورَةٌ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1665

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے جسے ڈرہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکےگا-پھر وہ وتر پڑھ کر سوۓ اور جسے رات کے قیام کا یقین ہووہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی قرآت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٦)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُو ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ، ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1666

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل نماز وہ ہے جس میں قیام لمبا ہو(کیونکہ اس میں قرآن مجید زیادہ پڑھا جاتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1667

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز افضل ہے؟فرمایا جس میں قیام لمبا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقُنُوتِ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1668

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے جس میں مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطاء کرتا ہے اور یہ لمحہ ہر رات میں آتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ؛ترجمہ؛رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعائیں قبول ہوتی ہے؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٦٩)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1669

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے وقت ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے بھلائی کا سوال کرے تو وہ اسے عطاء کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٧٠)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1670

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا کی طرف(خصوصی)توجہ فرماتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا آخری تہائی باقی ہوتا ہے تو فرماتا ہے کون مجھ سے دعا مانگتا ہے،میں اس کی دعا کو قبول کروں۔کون مجھ سے سوال کرتا ہے میں اسے عطاء کروں کون مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے میں اسے بخش دوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٧١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1671

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی گزر جاتا ہے تو وہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا کو قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو عطا کروں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے میں اس کو بخشش دوں یہ سلسلہ صبح روشن ہونے تک جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٢)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُو ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1672

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا نصف یا دو تہائی گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے۔فرماتا ہے کیا کوئی سائل ہے جسے عطاء کیا جائے،کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے اس کی دعا کو قبول کیا جائے کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے بخشش دیا جائے صبح روشن ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ، أَوْ ثُلُثَاهُ، يَنْزِلُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1673

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کے نصف یا تہائی حصہ گزرنے کے بعد آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا کو قبول کروں یا کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کروں۔پھر فرماتا ہے اس ذات کو کون قرض دے گا جو نہ فنا ہوگی اور نہ کسی پر ظلم کرے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٤)

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَرْجَانَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ اللهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ، وَلَا ظَلُومٍ ". قَالَ مُسْلِمٌ: «ابْنُ مَرْجَانَةَ هُو سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1674

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں یہ اضافہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنا دست کرم پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو ان کو قرض دے جسے فنا نہیں اور نہ ہی وہ ظلم کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٥)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ: «مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ، وَلَا ظَلُومٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1675

حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ مہلت دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا حصہ گزر جاتا ہے تو وہ آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے اور کہتا کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کیا کوئی دعا کرنے والا ہے۔یہ سلسلہ صبح ہونے تک جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرِ - ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لِابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1676

ایک اورسند سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن پہلی روایت(حدیث نمبر١٢٧٦)زیادہ مکمل اور مفصل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1677

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرتا ہےاس کےتمام گزشتہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1678

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قیام کی ترغیب دیتےتھےلیکن اس کا تاکیدی حکم نہیں فرماتے تھے آپ ارشاد فرماتے تھےجو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ایمان کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دئے جاتےہیں۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہواتومعاملہ اسی طرح تھاپھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں بھی یہ معاملہ اسی طرح رہااورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورخلافت میں بھی یہی حالت رہی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1679

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نےرمضان شریف کے روزےحالت ایمان میں ثواب کی نیت سے رکھے اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور جو شخص لیلتہ القدر میں حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے قیام کرےاس کے بھی تمام گزشتہ گناہ معاف ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٨٠)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1680

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےہی مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص لیلتہ القدر میں قیام کرے پھر وہ اس کے موافق ہو(راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ایمان کے ساتھ طلب ثواب کی نیت سے(کھڑا ہواتواس کی بخشش ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا - أُرَاهُ قَالَ - إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1681

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھائی تو کچھ صحابہ کرام نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی جب دوسری رات آئی تو لوگ زیادہ ہو گئے پھر تیسری رات جمع ہوئے یا چوتھی رات تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لاۓ جب صبح ہوئی تو فرمایامیں نے تمہارےعمل کودیکھاتومجھے باہر آنےسےصرف اس بات نے روکا کہ مجھے ڈرتھاکہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے(راوی) فرماتےہیں یہ رمضان شریف کی بات ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ»، قَالَ: وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1682

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے درمیان باہر تشریف لے گئے تو نماز پڑھی کچھ حضرات نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی صبح صحابہ کرام باہم گفتگو کرنے لگے تو ان میں سے اکثر لوگ جمع ہوئے-دوسری رات آپ باہر تشریف لائے تو صحابہ کرام نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی-صبح اس بات کا تذکرہ ہوا تو اہل مسجد زیادہ ہوگئے آپ تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑ گئی لیکن آپ ان کی طرف تشریف نہ لاۓ۔صحابہ کرام کہنے لگے"الصلاہ" لیکن آپ پھر بھی تشریف نہ لاۓ۔جب صبح کی نماز پڑھائی تو صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر کلمہ شہادت پڑھا۔پھر فرمایا اما بعد!تمہارا رات کا معاملہ مجھ سے پوشیدہ نہ تھا لیکن مجھے ڈر ہوا کہ تم پر رات کی نماز فرض ہوجائے اور تم اس سے عاجز ہو جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨٣)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، فَقَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1683

حضرت زربیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا-فرماتے ہیں جو شخص سال بھر قیام کرے وہ لیلتہ القدر کو پا لیتا ہے تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ(لیلتہ القدر)رمضان شریف میں ہے وہ کسی استثناء کے بغیر قسم کھا کر یہ بات فرماتے ہیں اور اللہ کی قسم میں یقین کے ساتھ جانتاہوں کہ یہ کونسی رات ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کا حکم دیا تو یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہااس رات کی صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ وہ سفید ہوتا ہے اس کی شعائیں ظاہر نہیں ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ: وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ»، فَقَالَ أُبَيٌّ: «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ، يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي، وَوَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1684

حضرت زرفرماتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لیلتہ القدر کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم!میں اسے یقینی طور پر جانتا ہوں اور میرا زیادہ یقین یہ ہے کہ جس رات کے قیام کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا یہ ستائیسویں رات ہے(راوی) شعبہ کو شک ہے کہ انہوں نے یہ بات فرمائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس رات کے قیام کا حکم دیا اور وہ فرماتے ہیں یہ بات مجھ سے میرے ایک دوست نے ان سے نقل کرتے ہوئے بتائی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا، وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ». وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ: هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ،

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1685

ایک اور سند سے بھی اس کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت شعبہ کے شک اور بعد والی بات کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٦)

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ، وَمَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1686

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ(ام المومنین) حضرت میمونہ کے ہاں گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کھڑے ہوئے اور پھر قضائے حاجت سے فارغ ہوکر چہرۂ انور اور ہاتھ کو دھویا۔پھر سو گئے۔پھر دوبارہ اٹھے اور مشکیزے کے باہر تشریف لاکر اس کا منہ کھولا پھر درمیانے قسم کا وضو کیا۔پانی زیادہ خرچ نہ کیا لیکن کامل وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔میں بھی اٹھا اور انگڑائی لی۔مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ سمجھے میرے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہے۔پس میں نے بھی وضو کیا۔آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دائیں جانب پھیر دیا تو آپ کی رات کی نماز تیرہ رکعتیں پوری ہوئیں۔پھر آپ لیٹ گئے اور آرام فرما ہوۓ حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور جب بھی آرام فرما ہوتے خراٹے لیتے۔پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو نماز کی اطلاع دی چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی لیکن(تازہ)وضو نہ فرمایا۔اور آپ کی دعائیں یہ تھی ۔جسکا ترجمہ یہ ہے۔ یااللہ!میرے دل میں نور پیدا کر دے میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے اور میرے کانوں میں نور پیدا کر دے۔میری دائیں جانب نور،بائیں جانب نور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور پیدا کر دے۔میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔حضرت کریب کہتے ہیں آپ نے دل کے ارد گرد سات جگہوں کا ذکر کیا(جو میں بھول گیا)پس میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ نے ذکر فرمایا میرے پٹھوں،میرے گوشت،میرے خون،میرے بالوں اور میرے چمڑے کو نور بنا دے۔مزید دو خصلتوں کا ذکر فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٧)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، وَلَمْ يُكْثِرْ، وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ، فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا». قَالَ كُرَيْبٌ: وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ، فَذَكَرَ: عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1687

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک رات ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزاری اور وہ آپ کی خالہ تھیں۔وہ فرماتے ہیں میں تکئے کی چوڑائی کی جانب لیٹ گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ اس کی لمبائی میں آرام فرما ہوۓ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ جب نصف شب ہوئی یا اس سے کچھ دیر پہلے یا بعد کا وقت تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوۓ اور اپنے چہرے سے ہاتھوں کے ساتھ نیند کا ازالہ کرنے لگے پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اور اس سے اچھی طرح وضو کیا۔پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کام کیا جو جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔پھر میں جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑنے لگے(تاکہ نیند دور ہوجائے)پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھو دو رکعتیں پڑھیں۔پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے۔پھر مؤذن آیا تو آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں پھر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ؛جلد١ص٥٢٦؛حدیث نمبر١٦٨٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1688

اسی سند سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا قصہ ذکر فرمایا۔مسواک کی اور مکمل طور پر وضو فرمایا اور پانی تھوڑا خرچ کیا پھر مجھے حرکت دی تو میں اٹھ کھڑا ہوا باقی حدیث حدیث نمبر ١٦٨٨ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الدعاء فی صلاۃ اللَّيْلِ وقیامہ؛جلد١ص٥٢٧؛حدیث نمبر١٦٨٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ: ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ، وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1689

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ(اور اپنی خالہ)حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سو گیا-اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا-آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کر دیا-اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں-(دو رکعتیں تحیتہ الوضوآٹھ رکعات تہجد اور تین وتر)پھر آپ آرام فرما ہو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور آپ جب بھی آرام فرماتے تو خراٹے لیتے پھر مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ(مسجد میں)تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی آپ نے( نیا) وضو نہ فرمایا-حضرت عمرو(راوی)فرماتے ہیں میں نے حدیث بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا-حضرت کریب نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٧؛حدیث نمبر١٦٩٠)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، «فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ». قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1690

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری تو میں نے ان سے عرض کیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کے لئے)کھڑے ہوں تو مجھے بھی جگا دینا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا-آپ نے مجھے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا-جب بھی مجھے اونگھ آتی۔آپ میرے کان کی لو(نرم حصہ)پکڑتے-فرماتے ہیں آپ نے گیارہ رکعات نماز اداکی-پھر آپ آرام فرما ہو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی جب آپ کے لئے فجر نمودار ہو گئی تو آپ نے دو ہلکی پھلکی رکعتیں(سنت فجر) پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ لَهَا: إِذَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي، " فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي، قَالَ: فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1691

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے تو آپ نے ایک پرانے لٹکے ہوئے مشکیزے سے مختصر وضو کیا-حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا وصف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے وضو میں کم پانی استعمال کیا-فرماتے ہیں میں بھی اٹھااورجو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا میں نے بھی اسی طرح کیا-پھر میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے پیچھے کی طرف سے دائیں طرف کیا اور نماز ادا فرمائی-پھر آپ لیٹ گئے اور آرام فرما ہوۓ حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے-پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع کی چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور صبح کی نماز ادا فرمائی لیکن آپ نے(نیا)وضو نہ فرمایا-حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھی دل جاگتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، قَالَ: وَصَفَ وُضُوءَهُ، وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنَامُ عَيْنَاهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1692

ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری تو میں یہ بات دیکھنے کے لئے جاگتا رہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں-فرماتے ہیں آپ کھڑے ہوئے پیشاب فرمایا-پھر اپنا چہرہ انور اور ہتھیلیوں کو دھویا اور پھر آرام فرما ہوگئے-پھر اٹھ کر مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اور اس کا منہ کھولا-پھر آپ نے ٹپ یابڑے پیالے میں پانی ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ سے جھکا کر اس سے نہایت عمدہ وضو کیا جو دو قسم کے وضوؤں کے درمیان تھا(نہ زیادہ پانی خرچ کیا نہ بہت کم خرچ کیا) پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے میں بھی آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا(لیکن) بائیں جانب کھڑا ہوا-فرماتے ہیں آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کھڑا کر دیا-پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات مکمل ہوئی-پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور ہمیں آپ کی نیند کا پتہ خراٹوں سے چلا کرتا تھا-پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور نماز پڑھی آپ اپنی نماز اور سجدہ میں یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (ترجمہ) یااللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میرےکانوں میں نوراورمیری آنکھوں میں نورڈال دے-میری دائیں طرف نور میری بائیں طرف نورمیرےآگے نور میرے پیچھے نور میرے اوپر اور میرے نیچے نورکردے اور میرے لئے نورکردے یا فرمایا مجھے نوربنادے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُو ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ، أَوِ الْقَصْعَةِ، فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ، أَوْ فِي سُجُودِهِ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا»، أَوْ قَالَ: «وَاجْعَلْنِي نُورًا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1693

حضرت سلمہ(راوی)فرماتے ہیں میں نےحضرت کریب سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے پھر حدیث نمبر ١٦٩٣کی مثل ذکر کیا-البتہ اس میں کسی شک کے بغیر یوں ہے اور مجھے نور بنادے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٩؛حدیث نمبر١٦٩٤)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَقَالَ: «وَاجْعَلْنِي نُورًا» وَلَمْ يَشُكَّ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1694

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦٩٣ کی مثل مروی ہے اور اس میں چہرے اور ہاتھ کے دھونے کا ذکر نہیں البتہ یہ فرمایا کہ آپ مشکیزے کے پاس تشریف لائے اور اس کا منہ کھول کر اس سے درمیانے انداز میں وضو فرمایا-پھر بستر پر تشریف لائے اور آرام فرما ہوۓ- پھر دوبارہ اٹھ کر مشکیزے کے پاس تشریف لائے اور اس کا منہ کھول کر پہلے کی طرح وضو فرمایا اور(دعائیں)فرمایا مجھے عظیم نور بنادےاور یہ الفاظ مذکورنہیں کہ مجھے نور بنادے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٩؛حدیث نمبر١٦٩٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى، فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، وَقَالَ: «أَعْظِمْ لِي نُورًا»، وَلَمْ يَذْكُرْ «وَاجْعَلْنِي نُورًا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1695

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔سلمہ بن کہیل نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں حضرت کریب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری تو آپ رات کے وقت اٹھے اور مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے۔اس سے پانی ڈال کر وضو فرمایا لیکن اس میں نہ تو زیادہ پانی خرچ کیا اور نہ وضو میں کمی کی پھر اسی طرح حدیث بیان کی اس میں یہ بھی فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات انیس کلمات کے ساتھ دعا مانگی۔حضرت سلمہ فرماتے ہیں حضرت کریب نے مجھ سے بیان کیا لیکن مجھے ان میں سے بارہ کلمات یاد رہے اور باقی میں بھول گیا۔آپ نے دعا مانگی یااللہ!میرے دل میں نور کر دے۔میری زبان میں نور کر دے میرے کانوں میں نور اور میری آنکھوں میں نور کر دے۔میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے دائیں نور میرے بائیں نور اور میرے سامنے اور میرے پیچھے نور کر دے میرے نفس میں نور کر دے اور میرے لیے عظیم نور کر دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ، فَسَكَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ، وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ، فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ، وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1696

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔وہ فرماتے ہیں میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سو گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات ان کے ہاں تھے تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کو دیکھوں۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر گھر والوں سے گفتگو فرمائی۔پھر سو گئے۔آگے حدیث نمبر١١٩٦ کی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ پھر آپ کھڑے ہوئے وضو فرمایا اور مسواک کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1697

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےہاں رات کو سو گئے۔آپ بیدار ہوۓ تو مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ نے یہ آیت پڑھی:{إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠](ترجمہ)"بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلمند لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں"۔ آپ نے سورت کے آخر تک یہ آیات پڑھیں۔پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعت پڑھی جن میں طویل قیام،رکوع اور سجدہ کیا۔پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے پھر تین مرتبہ اسی طرح کیا تو یہ کل چھ رکعات ہوگئیں۔ہر مرتبہ مسواک کرتے اور وضو فرماتے اور یہ آیات پڑھتے پھر آپ نے تین رکعات وتر نماز پڑھی۔پھر مؤذن نے آکر آپ کو نماز کی اطلاع کی تو آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا مانگ رہے تھے۔ )ترجمہ)یااللہ!میرے دل میں نور کردے میری زبان میں نور اور میرے کانوں میں نور کر دے۔میری آنکھوں میں نور کر دے اور میرے پیچھے نور میرے آگے نور میرے اوپر نور اور نیچے نور کر دے یا اللہ!مجھے نور عطاء فرما۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٨)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠] فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1698

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نوافل پڑھنے کھڑے ہوئے چنانچہ آپ مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اور وضو فرما کر نماز پڑھنے لگے جب میں نے آپ کا یہ عمل دیکھا تو میں بھی کھڑا ہو گیا اور میں نے مشکیزے سے وضو کیا پھر میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ کر اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے مجھے دائیں جانب کر دیا۔راوی نے پوچھا کیا یہ عمل نفل(نماز)میں ہوا؟انہوں نے فرمایا"ہاں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٦٩٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، «فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ، فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ». قُلْتُ: أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1699

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ میری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے۔پس میں نے وہ رات آپ کے پاس گزاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھنے لگے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔آپ نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٠)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، «فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1700

ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٠٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠١)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1701

حضرت ابوجمزہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1702

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے سوچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دیکھوں تو آپ نے دو مختصر رکعتیں پڑھیں پھر دو نہایت طویل رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کچھ کم لمبی تھیں پھر دو رکعتیں ان سے بھی مختصر پڑھیں پھر دو رکعتیں ان سے بھی لمبی پڑھیں۔پھر ان سے کچھ لمبی دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر نماز پڑھی تو یہ تیرہ رکعات ہو گئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٣)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، «فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1703

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ہم گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا اے جابر!کیا تم اس میں اترتے(یعنی اس کو عبور کر کے پار نہیں جاتے)میں نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں،فرماتے ہیں پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ اترے اور میں بھی اترا۔پھر آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی رکھا۔فرماتے ہیں آپ تشریف لائے اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اورایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کے کناروں کومخالف سمت میں کندھوں پر ڈالا ہوا تھا میں بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے کان سے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٤)

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ، فَقَالَ: «أَلَا تُشْرِعُ؟ يَا جَابِرُ» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْرَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَ: فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1704

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ، افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1705

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رات کے وقت قیام کرے تو اپنی نماز کو دو مختصر رکعتوں سے شروع کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1706

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آدھی رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)یااللہ!تیرے ہی لئے تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے۔سب کا رب ہے تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے تیرا قول حق ہے تیری ملاقات حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے قیامت حق ہے۔یااللہ!میں تیرے ہی لئے جھک گیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیرے ہی طرف رجوع کیا۔تیرے نام سے ہی جنگ کرتا ہوں اور تجھ ہی کو فیصل بناتا ہوں۔پس تو میرے ان کاموں کو جو میں نے پہلے کئے اور جو بعد میں کئے جو پوشیدہ ہیں اور جو ظاہر ہیں سب کو بخش دے تو میرا معبود ہے تیرا سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٣؛حدیث نمبر١٧٠٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1707

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٠٧ کی مثل مروی ہے البتہ کچھ الفاظ کا اختلاف ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٣؛حدیث نمبر١٧٠٨)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ، لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: مَكَانَ قَيَّامُ، قَيِّمُ، وَقَالَ: وَمَا أَسْرَرْتُ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ، وَيُخَالِفُ مَالِكًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1708

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٠٧ کی مثل مروی ہے الفاظ قریب قریب ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٤؛حدیث نمبر١٧٠٩)

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1709

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس عمل سے نماز شروع کرتے تھے جب رات کے وقت کھڑے ہوتے۔انہوں نے فرمایا جب رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز ان الفاظ سے کرتے یعنی یہ پہلے کلمات پڑھتے۔ ( ترجمہ)یااللہ!اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام کے رب آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے غیب اور حاضر کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری رہنمائی فرما جس میں اختلاف کیا گیا۔بے شک تو جس کو چاہے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٤؛حدیث نمبر١٧١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ: «اللهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1710

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہر باطل سے جدا ہو کر،اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔بے شک میری نماز اور میری قربانی،میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں یااللہ!تو ہی بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی مجھے اپنے تمام خلاف والی کاموں کا اعتراف ہے۔میرے تمام خلاف اولی کام بخش دے۔گناہوں کو صرف تو ہی بخشتا ہے۔مجھے سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت دے۔اچھے اخلاق کی رہنمائی تو ہی کرتا ہے۔مجھ سے برے اخلاق کو دور رکھ اور مجھ سے برے کاموں کو تو ہی دور رکھ سکتا ہے۔میں حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے اختیار میں ہے اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔میرا ملجاء بھی تو ہے اور مجھے توفیق بھی تو ہی عطاء کرتا ہے۔تو برکت والا اور بلند ہے۔میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور جب آپ رکوع کرتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)اے اللہ!میں نے تیرے ہی لئے رکوع کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا۔تیرے ہی سامنے جھکا میری سماعت وبصارت میرا مغز، ہڈیاں اور پٹھے تیرے ہی لئے جھک گئے اور جب آپ رکوع سے کھڑے ہوئے تو یہ الفاظ کہتے۔ (ترجمہ)یااللہ!اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے بھرے ہوئے آسمان اور بھری ہوئی زمین جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھرا ہوا اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے وہ بھرا ہوا اور جب آپ سجدہ کرتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)یااللہ!تیرے ہی لئے میں نے سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا تیرے ہی لئے میں اسلام لایا میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کر کے صورت عطاء کی اور اس میں کان اور آنکھیں بنائیں اللہ تعالیٰ برکت والا ہے جو سب سے اچھا خالق ہے۔ پھر آپ تشہد اور سلام کے درمیان یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (ترجمہ)یااللہ!میرے پہلے اور پچھلے پوشیدہ اور ظاہر(خلاف اولی)کاموں کو اور میری زیادتی کو بخش دے اور اس عمل کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہےتو آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے رکھنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٥؛حدیث نمبر١٧٠١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي»، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: «اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ»، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1711

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر فرماتے۔ (ترجمہ)میں نے اپنے آپ کو متوجہ کیا اور فرماتے میں سب سے پہلا مسلمان ہوں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے اور فرماتے اس نے کیا ہی اچھی صورت بنائی اور سلام پھیرتے وقت کہتے تھے یا اللہ!مجھے بخش دے(آخر تک حدیث نمبر ١٧١١ کی مثل)اس میں تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٦؛حدیث نمبر١٧١٢)

وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِي»، وَقَالَ: «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ»، وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، وَقَالَ: «وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ»، وَقَالَ: وَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ» إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1712

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی تو میں سوچا کہ آپ ایک سو آیات پر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ نے قرأت جاری رکھی۔میں نے سوچا ایک رکعت میں یہ سورت مکمل کریں گے لیکن آپ نے قرأت جاری رکھی میں نے سوچا اسے مکمل کر کے رکوع کریں گے لیکن آپ نے سورہ"نساء"شروع کر کے اسے پڑھا پھر آل عمران شروع کی اور اسے پڑھا۔آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے جب آپ ایسی آیت پڑھتے تھے جس میں تسبیح ہوتی تو سبحان اللہ کہتے۔جب سوال والی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے سے متعلق آیت پڑھتے تو پناہ مانگتے۔پھر آپ نے رکوع کیا اور اس میں سبحان ربی العظيم پڑھا۔حتیٰ کہ آپ کا رکوع قیام کے قریب ہوگیا۔پھر"سمع اللہ لمن حمدہ"کہا اور دیر تک کھڑے رہے جو رکوع کے قریب قریب تھا پھر سجدہ کیا تو اس میں"سبحان ربی الاعلی"پڑھا۔آپ کا سجدہ قومہ کے قریب قریب تھا۔ حضرت جریر کی روایت میں ہے آپ نے"سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد"پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛ترجمہ؛رات کی نماز میں قرأت کو لمبا کرنا مستحب ہے؛جلد١ص٥٣٦؛حدیث نمبر١٧١٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ، فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ»، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى»، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ. قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1713

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی تو آپ نے بہت طویل قیام کیا حتیٰ کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کیا۔فرماتے ہیں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس بات کا ارادہ کیا تھا؟فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں آپکے قیام کو چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٤)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ»، قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: «هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1714

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧١٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٥)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1715

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو صبح تک سویا رہتا ہے۔آپ نے فرمایا اس شخص کے کان میں شیطان پیشاب کرتا ہے۔(کان میں فرمایا یا کانوں میں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ترجمہ؛یہ باب ہے ایسے شخص کے بارے میں جو صبح تک سویا رہتا ہے؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: «ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ»، أَوْ قَالَ: «فِي أُذُنِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1716

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور حضرت فاطمۃ الزهراء رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہمارے نفس اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جب وہ بیدار کرنا چاہتا ہے۔اٹھا دیتا ہے(فرماتے ہیں)جب میں نے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور میں نے سنا آپ واپس جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرماتے تھے انسان بہت جھگڑالو ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٧)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: «أَلَا تُصَلُّونَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: ٥٤]

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1717

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں کوئی انسان سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ رات لمبی ہے۔جب وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس کی دو گرہ کھل جاتی ہیں پھر جب نماز پڑھتا ہے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں۔پس وہ صبح کے وقت ہشاش بشاش ہوتا ہے ورنہ صبح کے وقت خباثت اور سستی کے ساتھ اٹھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ جلد١ص٥٣٨؛حدیث نمبر١٧١٨)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ، بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1718

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اپنی کچھ نمازیں گھروں میں پڑھو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛نفل نماز گھر میں پڑھنا مستحب ہے؛جلد١ص٥٣٨؛حدیث نمبر١٧١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1719

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں(بھی)نماز پڑھا کرو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٠)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1720

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اپنی نماز سے گھر کیلئے بھی حصہ بناۓ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں بہتری پیدا کرےگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1721

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا وہ گھر جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاۓ اور جس گھر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُو ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1722

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ جس گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاۓ اس سے شیطان بھاگتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُو ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1723

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں یا چٹائی کا ایک حجرہ بنایا۔پھر آپ تشریف لاکر اس میں نماز پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنا شروع کر دی۔فرماتے ہیں پھر ایک دن وہ حضرات آۓ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس تشریف لانے میں دیر کر دی۔فرماتے ہیں آپ تشریف نہ لاۓ تو انہوں نے اپنی آوازیں بلند کیں اور دروازے پر کنکریاں پھینکنا شروع کر دیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصّے کی حالت میں تشریف لائے اور ان سے فرمایا اگر تم اسی طرح کرتے رہے تو تم پر یہ نماز فرض کردی جائےگی۔گھروں میں نماز (نفل نماز) پڑھا کرو کیونکہ آدمی کی فرض نماز کے علاوہ نماز گھر میں بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ، أَوْ حَصِيرٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا، وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، قَالَ: فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1724

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چٹائی سے مسجد میں ایک حجرہ بنا لیا پھر آپ نے وہاں کئی راتیں نماز پڑھیں حتیٰ کہ صحابہ کرام جمع ہو گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ١٧٢٤کی طرح ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تم پر یہ نماز فرض کردی جاتی توتم اس کو قائم نہ رکھ سکتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٤٠؛حدیث نمبر١٧٢٥)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: «وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1725

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔وہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی جسے رات کے وقت آپ حجرے کی شکل دیتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے۔صحابہ کرام نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردی اور دن کے وقت آپ اس(چٹائی)کو بچھا لیتے تھے۔ایک رات صحابہ کرام جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا اے لوگو!تم پر اس قدر عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اکتاتانہیں اور تم اکتا جاؤگے اور بےشک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ تھا کہ جب عمل کرتے تو اس پر دوام اختیار کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤٠؛حدیث نمبر١٧٢٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ، وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ، فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّ». وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1726

حضرت ابو سلمہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟آپ نے فرمایا جس عمل میں دوام ہو اگرچہ کم ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: «أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1727

حضرت علقمہ فرماتے ہیں میں نےام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پھر سوال کرتے ہوئے عرض کیا۔اے ام المومنین!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیا کیفیت تھی کیا آپ عمل کیلئے کچھ دنوں کو مخصوص فرماتے تھے۔فرمایا نہیں بلکہ آپ کا عمل دائمی ہوتا تھا اور تم میں کون اس کی طاقت رکھتا ہے جتنی طاقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٨)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: «لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1728

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔اگرچہ کم ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عمل کرتیں تو اسے لازم کر لیتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٩)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا، وَإِنْ قَلَّ»، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1729

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی تھی۔آپ نے پوچھا یہ کیا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی رسی ہے۔وہ نماز پڑھتی ہیں جب تھکن یا سستی پیدا ہوتی ہےتو اس کو پکڑ لیتی ہیں آپ نے فرمایا اسے کھول دوتم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک خوشی خوشی پڑھ سکے۔جب سستی طاری ہو یا تھکن ہو جائے تو بیٹھ جاۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٣٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ، أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ: «حُلُّوهُ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ، أَوْ فَتَرَ قَعَدَ». وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: فَلْيَقْعُدْ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1730

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣١)

وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1731

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حولاء بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف فرما تھے(فرماتی ہیں)میں نے کہا یہ حولاء بنت تویت ہیں۔ان کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ رات بھر نہیں سوتیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا رات بھر نہیں سوتیں؟(پھر فرمایا) اتنا عمل کرو جس کی تمہیں طاقت ہو اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا بلکہ تم اکتا جاؤگے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَسْأَمُ اللهُ حَتَّى تَسْأَمُوا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1732

ایک اور سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لاتےاور میرے پاس ایک عورت تھی۔آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا یہ خاتون سوتی نہیں بلکہ نماز پڑھتی رہتی ہیں۔آپ نے فرمایا اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ اکتاتا نہیں بلکہ تم اکتا جاؤگے اور آپکے نزدیک دین میں پسندیدہ ترین عمل وہی تھا جسے کرنے والا ہمیشہ کرے حضرت ابو اسامہ کی روایت میں ہےکہ وہ عورت بنواسد قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي امْرَأَةٌ، فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» فَقُلْتُ: امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ تُصَلِّي، قَالَ: «عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ». وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1733

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں اونگھ آ جائے تو وہ سو جائے حتیٰ کہ اس سے نیند چلی جائے کیونکہ تم میں سے جو شخص حالت نماز میں اونگھتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ مغفرت طلب کرنے کی بجائے خود کو برا بھلا کہنے لگے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1734

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک رات کے وقت (نماز کے لئے)کھڑا ہو اور قرآن مجید اس کی زبان پر مشکل ہو جائے(نیند کی وجہ سے اچھی طرح نہ پڑھ سکے)اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کہ رہا ہے تو اسے سو جانا چاہئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1735

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو رات کے وقت قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔اس نے مجھے فلاں فلاں آیات یاد کرا دیں جن کو میں فلاں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: «يَرْحَمُهُ اللهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1736

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک صاحب کی قرأت غور سے سنتے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے وہ آیت یاد دلادی جو مجھ سے بھلائی گئ تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «رَحِمَهُ اللهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1737

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید حفظ کرنے والے کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جس کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہے۔اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا تو وہ ٹھہرارہےگا اور اگر چھوڑ دیا تو چلا جائیگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1738

ایک اور سند سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر حافظ قرآن رات اور دن کو اٹھ کر پڑھتا ہو تو اسے یاد رکھےگا اور اگر نہ اٹھا تو اسے بھول جاۓگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٣٩)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُو الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، جَمِيعًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ: «وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ، وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1739

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے کسی ایک کے لئے یہ بات بہت بری ہے کہ وہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسےبھلادیا گیا قرآن مجید کو دھیان سے یاد رکھو وہ لوگوں کے سینوں سے باندھے ہوئے جانور کی نسبت زیادہ بھاگتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤٠)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1740

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔قرآن مجید کو خیال سے یاد رکھو یہ مردوں کے سینوں سے جانور کے رسی تڑا کر بھاگنے کی نسبت زیادہ بھاگتا ہے۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ کہے کہ اسے بھلا دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤١)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ - وَرُبَّمَا قَالَ: الْقُرْآنَ - فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1741

حضرت شقیق بن سلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعور رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں آدمی کے لئے یہ بات بری ہے کہ وہ کہے میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلایا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، أَوْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1742

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا قرآن مجید کو یاد رکھو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ قرآن رسیاں تڑا کر بھاگنے والے اونٹ کی نسبت زیادہ(سینوں)سے نکلنے والا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا». وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1743

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی عمل پر اتنا اجر نہیں دیتا۔جس قدر کے نبی کے خوش الحانی سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر دیتا ہے۔(یہاں اذن سے اجر دینا مراد ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ترجمہ؛اچھی آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا استحباب؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٤)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1744

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٧٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: «كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1745

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کام پر اتنا اجر عطاء نہیں فرماتا جس قدر نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر عطاء کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٦)

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُو ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1746

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٧)

وحَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1747

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جس قدر نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر عطاء کرتا ہے اتنا اجر کسی دوسرے عمل پر عطاء نہیں کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٨)

وحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1748

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُو ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: كَإِذْنِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1749

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن قیس یا حضرت اشعری کو ال داؤد(علیہ السلام)کی خوش آوازی سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ أَو الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1750

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تم مجھے دیکھتے جب کل رات میں تمہارا قرآن سن رہا تھا(تو تم خوش ہوتے)تمہیں حضرت داؤد علیہ السلام کی آل کی خوش آوازی سے حصہ دیا گیاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٥١)

وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَى: «لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِكَ الْبَارِحَةَ، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1751

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سفر کے دوران سواری پر سورہ فتح پڑھی تو آپ قرأت کو دہراتے رہے۔حضرت معاویہ(بن قرہ)فرماتے ہیں۔اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں تم لوگوں کو وہ قرأت سناتا جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب ذکر قراءۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح یوم فتح مکۃ؛ جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: «قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ» قَالَ مُعَاوِيَةُ: «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1752

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر سورہ فتح پڑھ رہے تھے(راوی فرماتے ہیں)حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی قرأت کی اور بار بار دہرایا حضرت معاویہ(راوی)فرماتے ہیں اگر مجھے لوگوں کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں اسی طرح پڑھ کر سناتا جس طرح حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ؛بَابُ ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ»، قَالَ: فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1753

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ؛بَابُ ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٤)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1754

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھااور اس کے پاس ایک گھوڑا دو لمبی رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کےگرد چکر لگانے اور قریب ہونے لگا اور گھوڑا اس سے بدکنے لگا۔صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی(قرآت کی)وجہ سے نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛ترجمہ؛قرآن مجید پڑھنے پر نزول سکینت؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1755

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نے سورہ کہف پڑھی اور گھر میں ایک جانور تھا چنانچہ وہ بدکنے لگا۔انہوں نے دیکھا تو ایک بادل تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا۔فرماتے ہیں جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا اے شخص!پڑھتے رہو یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کے وقت نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ، أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اقْرَأْ فُلَانُ، فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ، أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1756

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: فَذَكَرَا نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: تَنْقُزُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1757

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ آپ کی گھوڑی کودنے لگی۔آپ نے قرأت جاری رکھی وہ پھر کودی۔انہوں نے پھر پڑھا تو وہ پھر کودنے لگی۔حضرت اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے خوف ہوا کہ وہ کہیں(میرے بچے)یحییٰ کو روند نہ ڈالے۔میں اٹھ کر گھوڑی کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں میرے سر کے اوپر ایک سائبان کی مثل ہے جس میں چراغ کی مثل ہے کچھ چیزیں روشن ہیں وہ سائبان اوپر چلا گیا حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔فرماتے ہیں صبح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ رات میں اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ میری گھوڑی نے کودنا شروع کر دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حفیر(قرآن مجید)پڑھتے رہا کرو۔فرماتے ہیں میں نے پڑھا تو وہ پھر کودنے لگی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا پڑھو ابن حفیر!فرماتے ہیں میں نے پھر پڑھا تو اس نے پھر کودنا شروع کر دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حفیر پڑھو۔فرماتے ہیں میں واپس لوٹ گیا تو دیکھا یحییٰ اس کے قریب تھا۔مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے۔میں نے سائبان کی طرح دیکھا جس میں چراغوں کی مثل(روشن)چیزیں تھیں اور وہ سائبان اوپر چلا گیا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح ان فرشتوں کو صحابہ کرام بھی دیکھتے وہ ان سے پوشیدہ نہ ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٨)

وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ خَبَّابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ، إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ، فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى، فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، قَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ ابْنَ حُضَيْرٍ» قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ ابْنَ حُضَيْرٍ» قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ ابْنَ حُضَيْرٍ» قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1758

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مؤمن کی مثل مثال جو قرآن پڑھتا ہے جس کی خوشبو پسندیدہ اور ذائقہ بھی اچھا ہے اور وہ مؤمن جو قرآن مجید نہیں پڑھتا وہ کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں اور ذائقہ میٹھا ہے اور منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال نیازبو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور ذائقہ کڑوا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن(تمبہ)جیسی ہے جس کی خوشبو بھی نہیں اور ذائقہ بھی کڑوا ہے۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ؛ترجمہ؛حافظ قرآن کی فضیلت؛ جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1759

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٦٠)

وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ، الْفَاجِرِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1760

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید میں ماہر شخص ان فرشتوں کے ساتھ رہتا ہے جو معزز اور بزرگ ہیں اور جو آدمی قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے دشواری ہوتی ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضْلِ الْمَاهِرِ فِي الْقُرْآنِ، وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ؛جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٦١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1761

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضْلِ الْمَاهِرِ فِي الْقُرْآنِ، وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: «وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1762

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی(بن کعب)سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔انہوں نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا تھا۔راوی فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رونے لگے(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛افضل کا فضیلت والوں کے سامنے قرآن پڑھنا؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٣)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيٍّ: «إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ»، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «اللهُ سَمَّاكَ لِي»، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1763

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے سامنے" لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا»، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ؟ قال نعم قال فبکی" پڑھوں۔ انہوں نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا تھا؟فرمایا ہاں راوی فرماتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (یہ سن کر)رونے لگے۔(مسلم شریف؛کتاب صلاۃ المسافرين وقصرہا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛افضل کا فضیلت والوں کے سامنے قرآن پڑھنا؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر ١٧٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا»، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَبَكَى.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1764

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ١٧٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1765

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھ سے فرمایا میرے سامنے قرآن مجید پڑھو۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں حالانکہ قرآن مجید آپ پر نازل ہوا۔آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں۔فرماتے ہیں پس میں نے سورہ نساء پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ جب اس آیت پر پہنچا"{فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [سورة: النساء، آية رقم: ٤١]"پس کیسے ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر بطور گواہ لائیں گے"۔ تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا مجھے میرے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص نے اشارہ کیا تو میں نے سر اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو جاری ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ترجمہ؛حافظ قرآن مجید سننے کی فضیلت اور سن کر رونا اور غور وفکر کرنا؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ أَقْرَأُ عَلَيْكَ؟ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي»، فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [سورة: النساء، آية رقم: ٤١] رَفَعْتُ رَأْسِي، أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1766

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت آپ ممبر پر تشریف فرما تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «اقْرَأْ عَلَيَّ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1767

حضرت ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا میرے سامنے قرآن مجید پڑھو۔انہوں نے عرض کیا میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن پاک آپ پر نازل ہوا ہے۔آپ نے فرمایا میں دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں۔راوی فرماتے ہیں۔انہوں نے سورہ نساء کے آغاز سے"فکیف اذا جئنا(آیت مع ترجمہ گزشتہ حدیث میں دکھیں)تک پڑھا۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک ان میں ہوں ان پر گواہ رہوں گا(حضرت مسعر راوی کو شک ہے کہ"مادمت فہیم"فرمایا یا"ماکنت فیھم"فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «اقْرَأْ عَلَيَّ»، قَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي»، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١]، فَبَكَى. قَالَ مِسْعَرٌ: فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ، أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ "، شَكَّ مِسْعَرٌ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1768

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حمص(مقام) میں تھا کہ کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤ میں نے ان کے سامنے سورہ یوسف پڑھی فرماتے ہیں ان میں سے ایک شخض نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم!یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا تم پر افسوس ہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے جس وقت میں اس شخص سے بات کر رہا تھا میں نے اس سے شراب کی بو محسوس کی میں نے کہا تم شراب پیتے ہو اور قرآن مجید کو جھٹلا تے ہو میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا حتیٰ کہ تجھے شراب نوشی پر حدلگاؤں۔فرماتے ہیں پھر میں نے اسے کوڑے لگائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنْتُ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ: اقْرَأْ عَلَيْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ، وَاللهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «أَحْسَنْتَ»، فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ؟ لَا تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ، قَالَ: فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1769

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧٠)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي: «أَحْسَنْتَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1770

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کر تا ہے کہ جب گھر والوں کی طرف واپس آئے تو وہاں تین حاملہ بڑی اور موٹی تازی اونٹنیاں پائے؟ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا پس تین آیات جن کو تم میں سے کوئی ایک نماز میں پڑھے اس کیلئے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ وَتَعَلُّمِهِ؛ترجمہ؛نماز میں قرآن مجید کی قرأت اور سیکھنے کی فضیلت؛ جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1771

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ہم صفہ میں تھے تو آپ نے فرمایا تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا(فرمایا)عقیق (وادی) کی طرف جاۓ اور وہاں سے دو بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے اس نے(ان کو حاصل کرنے میں)نہ تو کوئی گناہ کیا ہو اور نہ ہی قطع رحمی کی ہو ہم نے عرض کیا یا رسول ہم یہ بات پسند کر تے ہیں۔آپ نے فرمایا تو تم میں سے کوئی ایک مسجد کی طرف نہیں جا تا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دو آیتیں سیکھے یا(فرمایا)پڑھے۔یہ اس کیلئے دواونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین(آیات) تین(اونٹنیوں) سے اور)چار،چارسے بہتر ہیں۔اسی طرح آیات کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ وَتَعَلُّمِهِ؛جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1772

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قرآن مجید پڑھو یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کیلئے سفارشی بن کر آئےگا۔دو روشن سورتیں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھو۔یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی۔گویا دو بادل ہوں یا دو سائبان یا صف بستہ پرندوں کی دو قطاریں ہوں یہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔سورہ بقرہ پڑھو اسے اختیار کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑنا حسرت (کا باعث)اور اہل باطل (جادوگر)اس کی طاقت نہیں رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ترجمہ؛قرآن مجید اور سورہ بقرہ پڑھنے کی فضیلت؛ جلد١ص٥٥٣؛حدیث نمبر١٧٧٣)

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ». قَالَ مُعَاوِيَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ: السَّحَرَةُ،.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1773

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٣؛حدیث نمبر١٧٧٤)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَأَنَّهُمَا فِي كِلَيْهِمَا، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِي

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1774

حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت کے دن قرآن مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو یوں لایا جائے گا کہ ان کے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آلِ عِمْرَانَ ہوں گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں آج تک نہیں بھولا۔آپ نے فرمایا گویایہ دونوں دو بادل یا دو سیاہ سائبان ہوں جن کے درمیان روشنی ہو یا پرندوں کی دو قطاریں جو اپنے پڑھنے والوں کی وکالت کریں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَآلُ عِمْرَانَ»، وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: «كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1775

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی۔آپ نے فرمایا یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا آج کے علاوہ کبھی نہیں کھولا گیا اور اس سے ایک فرشتہ زمین کی طرف اترا جو آج کے علاوہ کبھی نہیں اترا اس نے سلام کیا اور کہا دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو عطاء کئے گئے آپ سے پہلے کسی نبی کو عطاء نہیں کئے گئے۔ایک سورہ فاتحہ اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات آپ ان کا ایک حرف پڑھیں تو بھی اس کا مصداق مل جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ الْفَاتِحَةِ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَالْحَثِّ عَلَى قِرَاءَةِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ؛ترجمہ؛سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٦)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1776

حضرت عبدالرحمن ابن یزید کہتے ہیں۔میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیت اللہ شریف کے پاس ملاقات کی تو میں نے کہا مجھے آپ سے ایک حدیث پہنچی ہے جو سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں ہے۔انہوں نے فرمایا ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورہ بقرہ کی آخری دو آیات وہ ہیں کہ جو شخص رات کے وقت ان کو پڑھے وہ اس کو کافی ہوں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٧)

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فِي الْآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1777

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٧٨)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1778

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں وہ اسے(ہر پریشانی اور آفات وغیرہ میں)کافی ہوں گی۔حضرت عبدالرحمن بن یزید(راوی)فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعور رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور وہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے مجھ پر حدیث بیان کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٧٩)

وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ». قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1779

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨٠)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1780

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی روایت منقول ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1781

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سورہ کہف کی دس آیات زبانی یاد کرلیں وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ترجمہ؛سورہ کہف اور آیت الکرسی کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1782

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے البتہ اس میں حضرت شعبہ نے آخری دس آیات کا اور حضرت ہمام نے پہلی دس آیات کا ذکر کیا جیسا کہ ہشام نے کیا(حدیث ١٧٨٣ کے مطابق) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ شُعْبَةُ: مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ، وقَالَ هَمَّامٌ: مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ، كَمَا قَالَ هِشَامٌ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1783

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے ابوالمنذر!کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے تمہارے پاس کونسی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے؟وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے ابوالمنذر!تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب سے سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟میں نے عرض کیا"اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم"(آیت الکرسی)آپ نے میرے سینے پر دست مبارک مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر!یہ علم تجھے مبارک ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥]. قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: «وَاللهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1784

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات سے عاجز ہے کہ رات کے وقت قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھے۔صحابہ کرام نے عرض کیا تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟آپ نے فرمایا "قل ھو اللہ احد" تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛ترجمہ؛"قل ھو اللہ احد" پڑھنے کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٥)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1785

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا۔تو "قل ھو اللہ احد"(سورت)کو قرآن مجید کا ایک حصہ قرار دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٦)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1786

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمع ہو جاؤ عنقریب میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید کی تلاوت کروں گا۔پس جن لوگوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہوۓ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور "قل ھو اللہ احد" (سورت) پڑھی۔پھر تشریف لے گئے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ہمارا خیال ہے کہ آپ کے پاس آسمان سے خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ اندر تشریف لے گئے ہیں ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تمہیں کہا تھا کہ عنقریب میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں گا سنو!یہ(سورہ اخلاص)قرآن مجید کے تہائی حصہ کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْشُدُوا، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ»، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1787

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھتا ہوں۔پس آپ نے سورہ اخلاص مکمّل پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٨)

وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ»، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ حَتَّى خَتَمَهَا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1788

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک دستے کا سربراہ بنا کر بھیجا اور وہ ان کو نماز پڑھاتے ہوئے قرآت کا اختتام سورہ اخلاص سے کرتے جب وہ لوگ واپس آئے اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔انہوں نے پوچھا تو اس صحابی نےجواب دیا اس لئے کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟» فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللهَ يُحِبُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1789

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں آج رات کچھ آیات نازل ہوئیں جن کی مثل کبھی دیکھی نہیں گئی۔وہ"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"ہیں۔(دونوں سورتیں مکمل جن کومعوذتین کہتے ہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛ترجمہ؛معوذتین پڑھنے کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٠)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1790

ایک اور سند سے بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئیں ہیں انکی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی وہ معوذتین ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَ، أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ، الْمُعَوِّذَتَيْنِ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1791

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، وَكَانَ مِنْ رُفَعَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1792

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا دو آدمیوں کے علاوہ کسی پر شک نہیں ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا کیا پس وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے رات اور دن کی ساعتوں میں خرچ کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛ترجمہ؛قرآن مجید کی تعلیم اور قرآن مجید کے ساتھ قیام؛ جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1793

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادو(قسم کے)آدمیوں کی علاوہ کسی پر"رشک نہیں کرنا چاہیے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عطاء کی پس وہ اس کے ساتھ دن اور رات کی گھڑیوں میں قیام کرتا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا پس وہ اسے دن اور رات کی ساعتوں میں صدقہ کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٤)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ هَذَا الْكِتَابَ، فَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1794

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشک صرف دو آدمیوں پر ہو سکتا ہے۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطاء فرمائی اور دوسرا وہ شخص جس کو حکمت عطاء فرمائی پس وہ اس کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1795

حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت نافع بن عبد الحارث نے مقام عفان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ مکرمہ کا نگران مقرر کیا ہوا تھا۔آپ نے پوچھا اہل وادی پر کس کو عامل مقرر کیا ہے؟انہوں نے جواب دیا ابن ابزی کو۔فرمایا ابن ابزیٰ کون ہے؟انہوں نے کہا ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام ہیں۔آپ نے فرمایا تم نےان پر ایک غلام مقرر کر دیا۔انہوں نے عرض کیا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے قاری ہیں اور فرائض کا علم رکھتے ہیں۔اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! بے شک تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند مقام عطا فرمایا ہے اور اس (پر عمل نہ کرنے)کی وجہ سے دوسروں کو پستی کی طرف لے جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٦)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ: مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي، فَقَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟ قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1796

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٧)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1797

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کے خلاف قرآت سے قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا جس قرأت سے میں پڑھتا ہوں۔ اور مجھے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے ان کو مہلت دی حتیٰ کہ جب وہ واپس ہونے لگے تو میں نے ان کی(گردن میں پڑی ہوئی)چادر سے کھینچا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ان کو سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا لیکن ان کی قرأت وہ نہ تھی جو آپ نے مجھے پڑھائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑھو۔انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے پھر مجھ سے فرمایا تم پڑھو میں نے قرأت کی تو آپ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔بے شک قرآن مجید سات قرأتوں پر نازل ہوا تمہیں جو آسان معلوم ہو پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛ترجمہ؛قرآن مجید کا سات حرفوں پر نازل ہونا کیا ہے؛ جلد١ص٥٦٠؛حدیث نمبر١٧٩٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسِلْهُ، اقْرَأْ»، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ»، ثُمَّ قَالَ لِي: «اقْرَأْ»، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1798

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ ان دونوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہشام بن حکیم سے سورہ فرقان کی قرأت سنی۔اس کے بعد حدیث نمبر ١٧٩٨ کی مثل ذکر کیا اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں جلدی کرتے ہوئے نماز کے دوران ہی ان پر حملہ آور ہوتا لیکن میں نے ان کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٧٩٩)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ: فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1799

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1800

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک حرف(لغت)پر قرآن مجید میرے سامنے پڑھا تو میں ان سے زیادہ لغات کا مطالبہ کرتا رہا تو انہوں نے مزید لغات کے مطابق قرأت کی حتیٰ کہ سات حروف(لغات)تک قرأت پہنچ گئی۔ابن شہاب کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان سات حروف کا معنیٰ واحد ہے۔حلال وحرام کے لحاظ سے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠١)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الْأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا، لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1801

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٢)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1802

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا اس نے وہ قرآت کی جو مجھے معلوم نہ تھی۔پھر ایک اور شخص داخل ہوا اور اس نے قرآت کی جو پہلے نے نہیں کی تھی جب ہم لوگ نماز سے فارغ ہوۓ تو ہم سب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اس شخص نے ایسی قرآت کی جو میرے لئے مانوس نہ تھی اور دوسرا داخل ہوا تو اس نے پہلے شخص کی قرآت کے علاوہ قرآت کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے قرآت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو صحیح قرار دیا اور تحسین فرمائی۔اس سے میرے دل میں ایسی تکذیب پیدا ہوئی جو دور جاہلیت میں نہیں پیدا ہوئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میری یہ کیفیت دیکھی تو میرے سینے پر ایک ضرب لگائی۔جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔گویا خوف کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا اے ابی!مجھے یہ پیغام بھیجا گیا کہ میں ایک حرف(لغت)کے مطابق قرآن مجید پڑھوں تو میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما پھر مجھے دو حرفوں(لغتوں)میں پڑھنے کا حکم دیا میں نے پھر امت کی آسانی کا سوال کیا تو تیسری مرتبہ سات حروف (لغات)پر پڑھنے کا حکم دیا(اور فرمایاآپ نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کا سوال کیا اتنی بار کے عوض ہم سے ایک دعا مانگ لو تو میں نے عرض کیا۔ اللهم اغفرلامتی اللهم اغفر للامتی۔ یا اللہ میری امت کو بخش دے یا اللہ میری امت کو بخش دے اور تیسری بار کی دعا میں نے اس دن کے لئے رکھ لی جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرح متوجہ ہوں گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي، فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَآ، فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ، وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: " يَا أُبَيُّ أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ، حَتَّى إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1803

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص داخل ہوا اور اس نے قرآت کی۔آگےحدیث نمبر ١٨٠٣کی طرح مکمّل حدیث ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٢؛حدیث نمبر١٨٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، فَقَرَأَ قِرَاءَةً، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1804

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ بنو غفار قبیلے کے تالاب کے پاس تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوۓ اور انہوں نے عرض کیا بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف(لغت)پر قرآن پڑھے۔آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے عفو ودرگزر اور مغفرت کا سوال کروں گا اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آۓ اور عرض کیا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں(لغتوں)پر قرآن مجید پڑھے آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش کا سوال کرتا ہوں اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آۓ تو عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حروف(لغات) پر قرآن مجید پڑھے۔آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے عفوو مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ چوتھی مرتبہ آۓ تو عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت قرآن مجید سات حروف(لغات) پر پڑھتے وہ جس لغت پر قرآن پڑھیں درست ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٢؛حدیث نمبر١٨٠٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ»، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1805

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٠٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٣؛حدیث نمبر١٨٠٦)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1806

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں ایک شخص جس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابو عبدالرحمن!آپ اس لفظ کو"الف" کے ساتھ پڑھتے ہیں یا "یاء" کے ساتھ یعنی"من ماء غير اسن" یا "من ماء غير یاسن" پڑھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے اس لفظ کے علاوہ تمام قرآن کی تحقیق کر لی ہے۔اس نے کہا میں مفصل کو ایک رکعات میں پڑھتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم شعر کی طرح پڑھتے ہو بے شک کچھ لوگ قران مجید پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا لیکن جب دل میں واقع ہو کر مضبوط ہو جاتا ہے تو نفع دیتا ہے بے شک نماز کا افضل حصہ رکوع اور سجدہ ہے۔مجھے ان ہم مثل سورتوں کا علم ہے جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتوں کو ملا کر ہر رکعت میں پڑھتے تھے۔پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے داخل ہوئے پھر باہر نکلے تو فرمایا انہوں نے مجھے اس کی خبر دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛ترجمہ؛ترتیل سے قرآن پڑھنا اور ایک رکعت میں دو یا زیادہ سورتیں پڑھنے کی اجازت؛جلد١ص٥٦٣؛حدیث نمبر١٨٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ؟ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَاءً (مِنْ مَاءٍ غَيْرِ أَسِنٍ)، أَوْ «مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ»؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَكُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا، قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ، إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ، إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ»، ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللهِ، فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا. قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، وَلَمْ يَقُلْ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1807

حضرت ابو وائل نے بیان کیا کہ نہیک بن سنان نامی ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔پھر حدیث نمبر ١٨٠٧ کی مثل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ پھر حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان ہم مثل سورتوں کے بارے میں پوچھ لو جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے چنانچہ وہ داخل ہوئے اور ان سے پوچھا پھر باہر آئے تو کہا بیس سورتیں ہیں جو مفصل سے ہیں ان کو آپ دس رکعات میں پڑھتے تھے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں(تحریر)ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٤؛حدیث نمبر١٨٠٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَجَاءَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللهِ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1808

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ میں ان ہم مثل سورتوں کو جانتا ہوں جن میں سے دو سورتوں کو ملا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے بیس سورتیں دس رکعات میں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٤؛حدیث نمبر١٨٠٩)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1809

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ایک صبح ہم نماز فجر سے فراغت کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے دروازے میں(کھڑے ہوکر)سلام کیا اور آپ نے ہمیں اجازت دے دی ہم کچھ دیر دروازے پر ٹھہرے رہے۔فرماتے ہیں ایک لونڈی باہر آئی اور اس نے کہا کیا تم اندر داخل نہیں ہوتے؟پس ہم داخل ہوئے تو آپ بیٹھے ہوئے تسبیح کر رہے تھے فرمایا تمہیں اندر آنے سے کس بات نے روکا حالانکہ میں نے تمہیں اجازت دی تھی۔ہم نے عرض کیا اور کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ہمارا خیال تھا کہ گھر کے بعض افراد سوے ہوئے ہوں گے۔فرمایا تم حضرت ابن ام عبد(عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کرتے ہو۔راوی فرماتے ہیں پھر وہ تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ انہوں نے گمان کیا کہ سورج طلوع ہوچکا ہے۔فرمایا اے لونڈی!دیکھو کیا سورج طلوع ہوگیا ہے۔راوی فرماتے ہیں اس نے دیکھا تو ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔انہوں نے پھر تسبیح شروع کر دی حتیٰ کہ گمان کیا اب سورج طلوع ہوگیا ہوگا تو فرمایا اے لونڈی!دیکھو کیا سورج طلوع ہوگیا ہے۔اس نے دیکھا تو عرض کیا طلوع ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمارا یہ دین ہمیں واپس کیا۔ مہدی بن میمون(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے(یہ بھی)فرمایا اور اس نے ہمیں گناہوں کے سبب ہلاک نہیں کیا۔فرماتے ہیں حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا میں نے گزشتہ رات پوری مفصل پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے اس طرح پڑھا ہے جس طرح کوئی جلدی جلدی شعر پڑھتا ہے۔مجھے وہ ہم مثل سورتیں یاد ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے اٹھارہ سورتیں مفصل ہیں اور دو سورتیں آل اور حم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٠)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَنَا، قَالَ: فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً، قَالَ: فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَدْخُلُونَ، فَدَخَلْنَا، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ، قَالَ: ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ قَالَ: فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ، فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، قَالَ: يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ فَنَظَرَتْ، فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا - فَقَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1810

حضرت شقیق فرماتے ہیں بنو بجیلہ کا ایک شخص جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میں ایک رکعت میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اس طرح تیز پڑھتے ہو جس طرح شعر پڑھتے ہیں مجھے ان مماثل سورتوں کا علم ہے جن میں سے دودو سورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1811

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے آج رات ایک رکعت میں تمام مفصل سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے اس طرح تیز پڑھا جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں آپ نے فرمایا مجھے وہ ہم مثل سورتیں معلوم ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے پھر مفصل میں سے بیس سورتوں کا ذکر کیا۔آپ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ»، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ»، قَالَ: فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1812

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو دیکھا اس نے اسودبن یزید سے سوال کیا اور وہ مسجد میں قرآن مجید کی تعلیم دے رہے تھے۔اس نے پوچھا آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہو۔"ھل من مدکر" میں دال پڑھتے ہو یا ذال؟انہوں نے فرمایا "دال" پڑھتا ہوں میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو "مد کر" دال کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛ترجمہ؛قرأت سے متعلق امور؛ جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: ١٥]، أَدَالًا أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مُدَّكِرٍ» دَالًا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1813

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حرف کو دال کے ساتھ"فھل من مد کر"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ {فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ} [القمر: ١٥] "

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1814

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم شام میں آۓ تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق پڑھے۔میں نے کہا جی ہاں میں ہوں انہوں نے پوچھا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کس طرح سنا ہے وہ "واللیل اذا یغشی" (آیت)کو کیسے پڑھتے تھے۔انہوں نے کہا میں نے سنا ہے آپ یوں پڑھتے تھے۔ واللیل اذایغشی والذ کر والانثی۔وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن ان لوگوں کا ارادہ ہے کہ میں "وما خلق" پڑھوں پس میں ان کے پیچھے نہیں چلتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: «فِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: ١]؟ " قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: ١] وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، قَالَ: " وَأَنَا وَاللهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ {وَمَا خَلَقَ} [الليل: ٣] فَلَا أُتَابِعُهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1815

حضرت ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ شام میں آۓ تو مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی پھر ایک حلقہ میں جاکر بیٹھ گئے۔فرماتے ہیں پھر ایک شخص آیا تو میں جان گیا کہ وہ ان لوگوں اور ان کی اس ہیئت سے ناراض ہے فرماتے ہیں وہ میرے پاس آکر بیٹھا۔پھر کہا آپ کو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یاد ہے۔ آگےحدیث نمبر ١٨١٥ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1816

حضرت علقمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کن لوگوں سے تعلق رکھتے ہو۔میں نے کہا میں اہل عراق سے ہوں۔انہوں نے پوچھا عراق کے کس شہر کے رہنے والے ہو؟میں نے کہا کوفہ والوں سے ہوں پوچھا کیا تم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق پڑھ سکتے ہو؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں فرمایا "والليل اذا یغشیٰ"پڑھو فرماتے ہیں میں نے یوں پڑھا۔والليل اذا یغشیٰ والنھار اذا تجلی والذكر والانثی۔یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور فرمایا میں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاقْرَأْ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: ١]، قَالَ: فَقَرَأْتُ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى} [الليل: ٢] وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1817

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1818

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛ترجمہ؛جن اوقات میں نماز ممنوع ہے؛ جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1819

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے متعدد صحابہ کرام سے سنا جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد طلوع آفتاب اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨٢٠)

وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ دَاوُدُ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1820

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٨٢٠کی مثل مروی ہے۔البتہ سعید اور ہشام کی روایت میں یہ ہے کہ صبح کے بعد سورج کے نکلنے تک(نماز سے)منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢١)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1821

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا قصد نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1822

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1823

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب آفتاب کے وقت تک نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ الشَّيْطَانِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1824

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو تو اس کے ظاہر ہونے تک نماز مؤخر کر دو اور جب سورج کا کنارہ غائب ہو جاۓ تو(مکمّل)سورج غائب ہونے تک نماز مؤخر کر دو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَابْنُ بِشْرٍ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1825

حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز مُخمّص مقام میں پڑھائی تو فرمایا بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا پس جو اس کی حفاظت کرےگا اس کیلئے دوگنا اجر ہے اور اس کے بعد نماز نہیں حتیٰ کہ شاہد یعنی ستارے طلوع ہو جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ»، وَالشَّاهِدُ: النَّجْمُ.

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1826

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٢٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٧)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1827

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے جب سورج طلوع ہو جاۓ حتیٰ کہ وہ بلند ہو جاۓ ٹھیک دوپہر کے وقت کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج غروب ہونے لگے حتیٰ کہ غروب ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: «حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1828

حضرت عمرو بن عبسہ سلمی فرماتے ہیں میں زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔فرماتے ہیں میں نے سنا کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص ہے جو بہت سی خبریں دیتا ہے۔پس میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس آیا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ چھپے ہوئے ہیں اور قوم آپ پر دلیر ہو رہی ہے۔پھر میں کسی حیلے سے آپ کی خدمت میں مکہ مکرمہ پہنچا میں نے پوچھا آپ کون ہیں؟آپ نے فرمایا میں نبی ہوں۔میں نے پوچھا نبی کیا ہوتا ہے؟فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے میں نے کہا آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ فرمایا مجھے صلہ رحمی کرنے، بتوں کو توڑنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانے کے پیغام کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نے پوچھا اس راستے میں آپ کے ساتھ کون ہے؟آپ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام ہے۔وہ فرماتے ہیں ان دنوں آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو آپ پر ایمان لاتے میں نے کہا میں بھی آپ کی اتباع کرنے والا ہوں۔آپ نے فرمایا اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔میرا اور ان لوگوں کا حال نہیں دیکھتے۔ ابھی اپنے گھر والوں کی طرف چلے جاؤ جب تمہیں خبر ملے کہ مجھے غلبہ حاصل ہو گیا تو میرے پاس آنا۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں اپنے گھر والوں کی طرف چلا گیا اور(پھر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور میں اپنے گھر میں تھا اور لوگوں سے آپ کے بارے میں خبر حاصل کرتا رہا۔اس دوران مدینہ طیبہ سے کچھ لوگ میرے پاس آۓ تو میں نے پوچھا یہ شخص جو مدینہ طیبہ آۓ ہیں۔ان کا کیا حال ہے انہوں نے کہا لوگ تیزی سے ان کا دین قبول کر رہے ہیں اور ان کی قوم نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ فرماتے ہیں پھر میں مدینہ طیبہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟آپ نے فرمایا ہاں تم وہی ہو جو مجھے مکہ مکرمہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں وہی ہوں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی مجھے اس بات کی خبر دیجئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی اور مجھے اس بات کا علم نہیں۔مجھے نماز کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہو جاۓ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس کی گواہی دی جاتی ہے۔حتیٰ کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رک جاؤ۔اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔جب سایہ مشرق کی طرف چلا جاۓ تو نماز پڑھو اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں حتی کہ عصر کی نماز پڑھو تو پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!مجھے وضو کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے۔پس کلی کرتا ہے یا ناک میں پانی چڑھاتا اور اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے منہ اور نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا۔تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ داڑھی کے کناروں سے جھڑ جاتے ہیں پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے اتر جاتے ہیں پھر جب سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ بالوں کے کناروں سے گر جاتے ہیں پھر وہ اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ پانی کے ساتھ ہی پوروں سے گر جاتے ہیں۔ پس اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی بزرگی اس طرح بیان کرے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ کر دے تو اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہے۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو حضرت ابو امامہ نے ان سے فرمایا اے عمرو بن عبسہ!دیکھو تم کیا میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں گل گئی ہیں اور میری موت کا وقت آچکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یا دو یا تین بار حتیٰ کہ انہوں نے سات بار کا شمار کیا(اتنی بار)نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بھی بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس سے بھی زیادہ بار اسے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛- بَابُ إِسْلَامِ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ؛ج ١؛ص ٥٦٩؛حدیث نمبر١٨٢٩)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - قَالَ عِكْرِمَةُ، وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ، وَوَاثِلَةَ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ: كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا، فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَءَاءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: «أَنَا نَبِيٌّ»، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: «أَرْسَلَنِي اللهُ»، فَقُلْتُ: وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ، قَالَ: «أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ»، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: «حُرٌّ، وَعَبْدٌ»، قَالَ: وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ، قَالَ: «إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي»، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَكُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَار ، وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا النَّاسُ: إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: «نَعَمْ، أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ»، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى"فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللهُ وَأَجْهَلُهُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: «صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ: «مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ فَيَتَمَضْمَضُ، وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ، وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ، إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ».فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: «يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ»، فَقَالَ عَمْرٌو: «يَا أَبَا أُمَامَةَ، لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ، مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1829

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِمَ عُمَرُ: إِنَّمَا «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ، وَغُرُوبُهَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1830

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں نہیں چھوڑیں(عصر کے بعد کی دو رکعتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے عام لوگوں کے لیے عصر کے بعد نوافل پڑھنا جائز نہیں۔(١٢ہزاوی)۔راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا قصد نہ کرو کہ اس وقت تم نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣١)

وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ»قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1831

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس،عبد الرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا انہوں نے کہا ام المومنین کی خدمت میں ہم سب کی طرف سے سلام عرض کرنا اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے باے میں پوچھنا اور ان سے کہنا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو اس نماز سے روکتا تھا۔ حضرت کریب فرماتے ہیں میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دیا تھا آپ کی خدمت میں عرض کیا۔انہوں نے فرمایا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور ان کو ام المومنین کا پیغام دیا۔پھر انہوں نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس پیغام کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا۔حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنی دو رکعتوں سے روکتے تھے۔پھر میں نے دیکھا کہ آپ یہ نماز پڑھتے تھے۔جس وقت میں نے دیکھا کہ آپ عصر کی نماز پڑھ چکے۔پھر تشریف لائے اور میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کی خواتین تھیں تو آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھیں۔میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ کے پاس کھڑی ہوجانا پھر آپ سے عرض کرنا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ سے سنا آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے اور(اب)دیکھا کہ آپ پڑھ رہے ہیں اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لونڈی نے یہ عمل کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ سے پیچھے ہٹ گئی جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابو امیہ کی بیٹی!تم نے عصر کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے تو(بات یہ ہے کہ)میرے پاس بنو عبد القیس کے کچھ لوگ آۓ جو مجھ سے اسلام کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو ان کی وجہ سے میری ظہر کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں تو یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣٢)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُو ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا، قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1832

حضرت ابو سلمہ کہتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو آپ پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو عصر کے بعد ان دو رکعتوں کو پڑھا پھر ان کو باقی رکھا اور اس کا طریقہ تھا کہ جب کوئی نماز پڑھتے تو ان کو ہمیشہ پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُو ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا، أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا» قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1833

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٤)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1834

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں دو نمازوں کو کبھی نہیں چھوڑا نہ ظاہری طور پر اور نہ خفیہ طریقے پر،فجر سے پہلے دو رکعتیں اور عصر کے بعد دو رکعتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ، سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً، رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1835

حضرت اسود اور حضرت مسروق دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے گھر میں باری ہوئی تو آپ میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي كَانَ يَكُونُ عِنْدِي إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي»، تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1836

حضرت مختار بن فلفل فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز نفل پڑھنے پر(افسوس کے ساتھ)ہاتھ مارتے تھے اور ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج غروب ہونے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے فرمایا آپ ہمیں پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے تو حکم بھی نہ دیتے اور روکتے بھی نہیں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِِ؛ترجمہ؛نماز مغرب سے پہلے دو رکعتوں کا بیان؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: «كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِي عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ»، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا؟ قَالَ: «كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1837

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کے لئے آذان دیتا تو صحابہ کرام ستونوں کی طرف جلدی کرتے اور دو رکعتیں پڑھتے حتیٰ کہ جب کوئی اجنبی مسجد میں داخل ہوتا تو کثرت سے نمازیوں کو دیکھ کر خیال کرتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے(خلفائے راشدین اور بکثرت صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں حضرت امام مالک،حضرت امام ابو حنیفہ اور اکثر فقہائے کے نزدیک یہ رکعتیں سنت نہیں ہیں(شرح صحیح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٢ص٦١٤)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِِ؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٨)

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ، فَيَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1838

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو اذانوں(اذان اور تکبیر) کے درمیان نماز ہے۔آپ نے تین مرتبہ فرمایا اور تیسری مرتبہ فرمایا جس کا جی چاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ؛دوآذانوں کے درمیان نماز ہے؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ»، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1839

ایک اور سند سے بھی حضرت مغفل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ چوتھی مرتبہ فرمایا جس کا جی چاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٤٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: لِمَنْ شَاءَ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1840

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعات پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا پھر وہ چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور ان کی توجہ دشمن کی جانب تھی اور وہ(دوسرے) آگئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا پھر انہوں نے بھی دوسری رکعت پڑھی اور ان دوسروں نے بھی دوسری رکعت ادا کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛ترجمہ؛نماز خوف کا بیان؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً، وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً».

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1841

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز خوف بیان کرتے ہوئے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی پھر حدیث نمبر ١٨٤١کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٢)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ، وَيَقُولُ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1842

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دنوں میں نماز خوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا جو حضرات آپ کے ساتھ تھے آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آگئے آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں گروہوں نے اپنی اپنی (باقی)رکعت پوری کی۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر نے فرمایا جب خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو سواری کی حالت میں یا پیدل اشارے سے نماز پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً» قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلِّ رَاكِبًا، أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَاءً»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1843

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نماز خوف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوۓ تو ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں باندھیں جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے اپنے سر اٹھاۓ پھر آپ سجدے کے لئے جھکے اور وہ صف بھی آپ کے ساتھ سجدے میں چلی گئی جو آپ کے ساتھ تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ مکمل کیا(دونوں سجدے کر لئے) اور آپ کے ساتھ والی صف دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑی ہو گئی اور دوسری صف آکر آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی جو صف پیچھے تھی وہ آگے بڑھی اور جو آگے تھی وہ پیچھے چلی گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اٹھایا۔پھر آپ سجدے میں چلے گئے اور جو آپ کے ساتھ تھے وہ بھی سجدے میں چلے گئے یعنی وہ صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی اور اب دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہوئے اور وہ صف بھی جو آپ کے ساتھ تھی تو پچھلی صف سجدہ میں چلی گئی اور انہوں نے سجدہ کیا پھر آپ نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی سلام پھیرا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح آجکل تمہارے محافظ تمہارے سرداروں کے ساتھ کرتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ، صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ، وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ، وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ، وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، وَقَامُوا، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا». قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1844

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جُہینہ قبیلہ سے لڑائی لڑی تو انہوں نے ہم سے سخت لڑائی کی جب ہم ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مشرکین نے کہا اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کرتے تو ان کو کاٹ کر رکھ دیتے۔اس پر حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے ہم سے ذکر کیا۔فرماتے ہیں کفار نے کہا عنقریب ان کی ایک ایسی نماز آرہی ہے جو ان کو انکی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے جب عصر کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں باندھیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی آپ نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ پہلی صف نے سجدہ کیا جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے بڑھ گئی اور وہ پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے پھر آپ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔آپ نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف نے آپ کے ہمراہ سجدہ کیا جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے بڑھ گئی اور وہ پہلی صف کی جگہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی پھر جب دوسری صف نے سجدہ کیا تو سب بیٹھ گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔پھر حضرت جابررضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح آج کل تمہارے امراء تمہیں نماز پڑھاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالُوا: إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَالَ: صَفَّنَا صَفَّيْنِ، وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ، وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ، فَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ: كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1845

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو حالت خوف میں نماز پڑھائی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں جو آپ کے ساتھ تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے ہوئے اور مسلسل کھڑے رہے حتیٰ کہ جو ان کے پیچھے تھے وہ ایک رکعت پڑھ چکے پھر وہ آگے بڑھے اور جو ان سے آگے تھے وہ پیچھے ہٹ گئے تو آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو لوگ پیچھے تھے وہ ایک رکعت پڑھ چکے تو آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ، فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1846

حضرت صالح بن خوات رضی اللہ عنہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع(غزوۂ نجد)کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی کہ ایک گروہ آپ کے ساتھ صف بستہ تھا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا جو آپ کے ساتھ تھے۔آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر نماز مکمل کی اور وہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان کو وہ رکعت پڑھائی جو باقی تھی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی نماز خوف مکمل کی پھر آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: «أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمِ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1847

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے حتیٰ کہ ہم غزوۂ ذات الرقاق میں پہنچے۔فرماتے ہیں پھر وہاں ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے جسے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا۔فرماتے ہیں پھر مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے آپ کی تلوار لی اور اسے(میان سے نکال کر)کھینچا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں اس نے کہا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟فرمایا اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے اسے ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار کو میان میں ڈال کر لٹکا دیا۔فرماتے ہیں پھر نماز کیلئے آذان دی گئی تو آپ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔پھر وہ پیچھے ہٹ گئے تو آپ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔فرماتے ہیں اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور قوم کی(جماعت کے ساتھ)دو رکعتیں ہوئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٦؛حدیث نمبر١٨٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ»، قَالَ: فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ، وَعَلَّقَهُ، قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1848

حضرت جابررضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک کو دو رکعتیں پڑھائیں اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں اور ہر گروہ نے(باجماعت)دودو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٦؛حدیث نمبر١٨٤٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُو ابْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرًا، أَخْبَرَهُ، «أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha, Hadees No. 1849

Muslim Shareef : Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha

|

Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا

|

•