
ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نماز،حضروسفر میں دو دو رکعتیں فرض ہوئی پھر سفر کی نماز برقرار رہی اور حالت اقامت کی نماز میں اضافہ ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ترجمہ؛مسافرين کی نماز اور قصر کے احکام؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر ١٤٧٠)
ایک اور سند سے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں شروع شروع میں نماز دو، دو رکعتیں فرض ہوئی پھر سفر کی نماز(اسی حالت پر)برقرار رہی اور حالت اقامت کی نماز مکمل کی گئی۔حضرت زہری فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سفر میں مکمل نماز کیوں پڑھتی ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے وہی تاویل کی جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر١٤٧١)
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ(قرآن مجید میں ہے) :{لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ، إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا}(سورۃ النساء، آیت نمبر ١٠١) (تم پر حرج نہیں کہ نماز میں قصر کرو اگر تمہیں خوف ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈالیں گے) اب تو لوگ امن میں ہے(لہذا قصر کی کیا ضرورت ہے)انہوں نے فرمایا مجھے اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں تعجب ہوا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطاء فرمایا پس اس کے صدقہ کو قبول کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٨؛حدیث نمبر١٤٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٧٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٣)
ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے مسافر پر دو رکعتیں،مقیم پر چار اور حالت خوف میں ایک رکعات فرض فرمائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٤
ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے مسافر پر دو رکعتیں،مقیم پر چار اور حالت خوف میں ایک رکعات فرض فرمائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٥)
حضرت موسیٰ بن سلمہ الھزلی فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا میں جب مکہ مکرمہ میں ہوں تو کیسے نماز پڑھوں؟جب امام کے ساتھ نماز پڑھوں فرمایا دو رکعتیں پڑھو یہ ابوالقاسم کی سنت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛؛باب إذا صلى المسافر خلف المقيم جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٧٦ کی کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٧)
حضرت عیسٰی بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم اپنے والد(حفص بن عاصم)سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں میں مکہ مکرمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوگیا تو آپ نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی پھر تشریف لائے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہی آئے حتیٰ کہ اپنی منزل میں پہنچے تو بیٹھ گئے۔ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے تو جہاں نماز پڑھی تھی اس طرف توجہ ہوئی تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا۔پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟میں نے عرض کیا نفل پڑھ رہے ہیں۔فرمایا اگر مجھے نفل پڑھنا ہوتا تو اے بھتیجے!میں نماز کو مکمل کرتا میں سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تو آپ نے دو رکعتوں پر اضافہ نہ فرمایا۔حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا تو انہوں نے بھی دورکعتوں پر اضافہ نہ کیا حتیٰ کہ ان کا وصال ہوگیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہم سفر رہا۔انہوں نے بھی دو رکعتوں پر اضافہ نہ کیا حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رفیق سفر رہا۔انہوں نے بھی وصال تک دو رکعتوں پر اضافہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]"تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٧٩؛حدیث نمبر١٤٧٨)
حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بیمار ہوگیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لئے تشریف لاۓ۔فرماتے ہیں میں نے ان سے حالت سفر میں نوافل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو میں نے آپ کو نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور اگر مجھے نفل پڑھنا ہوتا تو میں نماز مکمل پڑھتا(فرض نماز)اور ارشاد خداوندی ہے۔:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب:٢١](مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں نماز ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب يقصر إذا خرج من موضعه؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ طیبہ میں ظہر کی نماز چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب يقصر إذا خرج من موضعه؛جلد١ص٤٨٠؛حدیث نمبر١٤٨١)
حضرت یحییٰ بن یزید الھُنائی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں قصر کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا(فرمایا)تین فرسخ(مسافت)پر تشریف لے جاتے تو دو رکعتیں پڑھتے(حضرت شعبہ کو شک ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛ جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٢)
حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں شرحبيل بن السمط کے ساتھ ایک بستی کی طرف گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا میں اس طرح اس لیے کر رہا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٣ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں حضرت شرحبيل کا نام نہیں ذکر کیا صرف ابن السمط فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ ایک ایسی زمین میں آئے جسکو دومين کہا جاتا ہے جو حمص سے متعلق ہے اور وہ(مدینہ طیبہ سے)اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب المسافة التي يقصر فيها الصلاة؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ کی طرف گئے تو ہم نے واپسی تک دودو رکعتیں پڑھیں۔راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا وہاں کتنی مدت ٹھہرے؟تو فرمایا دس دن۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا ہم مدینہ طیبہ سے حج کے لئے گئے پھر حدیث ١٤٨٥ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨١؛حدیث نمبر١٤٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٥ کی مثل مروی ہے۔پس اس میں حج کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب مدة القصر؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٨٨)
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مِنىٰ اور اس کے علاوہ میں سفر والی نماز ادا فرمائی یعنی دو رکعتیں پڑھیں۔حضرت صدیق اکبر،حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں دودو رکعتیں پڑھیں پھر ان کو چار مکمل پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٨٩ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں مِنٰی کے علاوہ کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بعد،حضرت ابوبکر صدیق نے،ان کے بعد حضرت عمرفاروق نے،ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور خلافت میں منی میں دورکعتیں پڑھیں اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ چاررکعات پڑھتے رہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات پڑھتے اور جب تنہا پڑھتے تو دو رکعتیں ادا فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٢؛حدیث نمبر١٤٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں سفر والی نماز پڑھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آٹھ سال یا فرمایا چھ سال تک اسی طرح پڑھتے رہے۔حضرت حفص(راوی)فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ منی میں دو رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر تشریف لاتے میں نے پوچھا اے چچا جان!اگر آپ اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے(تو اچھا تھا)فرمایا اگر میں ایسا کرتا تو(اس کی بجائے)پوری نماز پڑھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩٣ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں مِنی کا ذکر نہیں ہے البتہ یہ ہے کہ سفر میں نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٤)
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہمیں منی میں چار رکعات پڑھائیں۔یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی گئی تو انہوں نے"انا للہ وانا الیہ راجعون"پڑھا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی منی میں دو رکعتیں ادا کیں اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی منی میں دو رکعتیں پڑھیں کاش کہ چار رکعات میں سے میرا حصہ دو رکعتیں قبول ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٦)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں اس وقت دو رکعتیں پڑھیں جب سب سے زیادہ امن تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٣؛حدیث نمبر١٤٩٧)
انہی سے مروی ہے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منی میں نماز پڑھی اور لوگ پہلے سے زیادہ تھے حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے دو رکعات پڑھیں۔حضرت امام مسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حارثہ بن وہب خزاعي،حضرت عبید اللہ بن عمر بن خطاب کی ماں کی طرف سے بھائی تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٤٩٨)
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی رات جس میں سخت ٹھنڈک اور ہوا تھی اذان دے کر فرمایا اپنی اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔پھر فرمایا جب رات ٹھنڈی اور بارش والی ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ترجمہ؛بارش کے دوران قیام گاہوں میں نماز پڑھنا؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٤٩٩)
ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک رات جب کہ سخت سردی اور بارش تھی اذان دی اور اس کے آخر میں فرمایا سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز ادا کرلوں(دو مرتبہ فرمایا)پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت سفر میں ٹھنڈی یا فرمایا بارش والی رات مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٠)
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ضَجنان(مقام)میں نماز کے لئے آذان دی۔پھر حدیث نمبر ١٥٠٠ کی مثل ذکر کیا اور فرمایا سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز ادا کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں گئے تو بارش ہوگئی۔آپ نے فرمایا تم میں سے جو چاہے وہ اپنی منزل میں نماز ادا کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٢)
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک بارش والے دن اپنے مؤذن سے فرمایا جب تم":أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ،کہو تو حی علی الصلٰوۃ نہ کہو بلکہ تم کہو اپنے گھروں میں نماز پڑھو(صلوا فی بیوتکم)گویا لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا تو فرمایا اس بات پر تعجب کرتے ہو یہ تو اس ذات نے کیا جو مجھ سے بہتر ذات تھی۔جماعت ضروری(سنت موکدہ) ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ تمہیں حرج میں ڈالوں پس تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٤؛حدیث نمبر١٥٠٣)
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک کیچڑ والے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔اس کے بعد ابن علیہ کی حدیث کا معنی ذکر کیا اور جماعت کا ذکر نہ کیا۔اور فرمایا یہ کام اس ذات نے کیا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٠٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں یہ نہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛ جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٥)
عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بارش والے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آذان دی اور یہ جمعہ کا دن تھا اس کے بعد اسی طرح مروی ہے اور فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٥؛حدیث نمبر١٥٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے مؤذن کو حکم دیا۔حضرت معمر کی روایت میں یوں ہے کہ جمعہ کا دن تھا اور اس دن بارش ہوئی پہلی حدیث کی طرح ذکر کیا اور یہ بھی ہے کہ اس ذات نے یہ عمل کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٧)
ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جمعہ کے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اور یہ بارش والا دن تھا اس کےبعد پہلی حدیث کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی اونٹنی پر پڑھتے تھے وہ جدھر بھی متوجہ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛سفر میں سواری پر نماز پڑھنا وہ جدھر بھی متوجہ ہو؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے وہ جدھر بھی متوجہ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ جاتے ہوئے سواری پر نماز پڑھتے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی۔فرماتے ہیں اسی سلسلے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی{فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] "(پس تم جدھر بھی پھرو ادھر ہی اللہ کی ذات ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١١)
ابوکریب نے اپنی سند سے اور ابن نمیر نے اپنی سند سے روایت کرتےہوۓ عبد الملک سے اسی سند کے ساتھ حدیث نمبر ١٥١١ کی مثل روایت کیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے{فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] آیت پڑھی اور فرمایا یہ اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٦؛حدیث نمبر١٥١٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ اپنے دراز گوش پر نماز پڑھ رہے تھے اور وہ خیبر کی طرف متوجہ تھا۔(معلوم ہوا کہ سواری جدھر متوجہ ہو وہی قبلہ قرار پاتا ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٣)
حضرت سعید بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مکہ مکرمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جارہا تھا۔فرماتے ہیں جب صبح کا ڈر ہوا تو میں اترا اور وتر پڑھ کر پھر ان سے جا ملا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم کہاں تھے؟میں نے عرض کیا مجھے فجر کا ڈر تھا تو میں نے اتر کر نفل پڑھا۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تیرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ(مبارکہ)کافی نہیں۔میں نے عرض کیا جی ہاں اللہ کی قسم کافی ہے۔فرماتے ہیں انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز اونٹ پر(بھی)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٤)
یحییٰ بن یحییٰ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت مالک کے سامنے یہ حدیث پڑھی کہ حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٦)
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد(حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے وہ جس طرف بھی متوجہ ہوتی اور اس پر نفل نماز بھی پڑھتے تھے البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٧؛حدیث نمبر١٥١٧)
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں ان کے والد نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سفر میں رات کے وقت نوافل سواری پر پڑھتے وہ جدھر بھی جا رہی ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥١٨)
حضرت انس بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی جب وہ شام سے تشریف لائے ہماری ملاقات عین التمر(کنویں)کے پاس ہوئی تو میں نے ان کو دیکھا وہ دراز گوش پر نماز پڑھ رہے تھے اور اس کا رخ اس طرف تھا حضرت ہمام نے قبلہ کی بائیں جانب اشارہ کیا۔میں نے کہا میں نے آپ کو غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے فرمایا اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں اس طرح نہ کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥١٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جانے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کرتے۔(اس کو جمع صوری کہا جاتا ہے یعنی صورتا دو نمازیں جمع فرماتے تھے حقیقت میں دونوں اپنے اپنے وقت پر ہوتی تھی مثلاً ظہر کی نماز بالکل آخر میں پڑھی اور ساتھ ہی عصر کا وقت شروع ہوا تو عصر کی نماز پڑھ لی کسی ایک وقت میں دونوں کو جمع کرنا مثلاً ظہر کے وقت میں عصر پڑھ لے یہ طریقہ جائز نہیں۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛ترجمہ؛سفر میں دو نمازیں جمع کرنا؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢٠)
حضرت نافع روایت کرتےہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جب سفر کرنا ہوتا تو وہ شفق غائب ہونے کے بعد مغرب اور عشاء کو جمع کرتے اور فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سفر کرنا ہوتا تو آپ مغرب اور عشاء(کی نمازوں)کو جمع فرماتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢١)
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب وعشاء جمع کرتے ہوئے دیکھا جب آپ نے سفرکرنا ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٨؛حدیث نمبر١٥٢٢)
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نے سفر میں جلدی جانا ہوتا تو مغرب کی نماز کو مؤخر کرتے اور اسے نماز عشاء کے ساتھ جمع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے تشریف لے جاتے تو ظہر کو عصر تک مؤخر کرتے پھر اتر کر دونوں(نمازوں)کو جمع کرتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتااور ابھی کوچ نہ فرماتے تو ظہر کی نماز پڑھ کر سوار ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کی نماز کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا پہلا وقت داخل ہوجاتا پھر ان کو جمع فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ جب آپ نے سفر میں جلدی جانا ہوتا تو ظہر کو نماز عصر کے پہلے وقت تک مؤخر کرتےحتیٰ کہ دونوں کو جمع کرتے اور مغرب کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ اسے اور عشاء کو اس وقت جمع کرتے جب شفق غائب ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کی نماز کو اکٹھا کر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرکے پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٨٩؛حدیث نمبر١٥٢٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کرکے پڑھا۔ حضرت ابوالزبیر(راوی)فرماتے ہیں۔میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ کسی امتی کو حرج میں نہ ڈالیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٢٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جو آپ نے غزوہ تبوک کے موقع پر کیا۔نمازوں کو جمع کیا پس آپ نے ظہر اورعصر کو جمع کیا اور مغرب وعشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟فرمایا آپ نے امت کو حرج سے بچانے کا ارادہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٢٩)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ تبوک کی طرف گئے تو آپ ظہر اور عصر کو جمع کرتے اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣٠)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں ظہر اور عصر کواور مغرب وعشاء کو جمع کیا ابو طفیل(راوی)فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے اس طرح کیوں کیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے ارادہ فرمایا کہ امت کو حرج میں نہ ڈالیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر ظہر اور عصر کو نیز مغرب اور عشاء کو جمع کیا حضرت وکیع کی روایت میں ہے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کس وجہ سے کیا انہوں نے فرمایا اس لیے کہ امت کو حرج میں نہ ڈالیں اور ابو معاویہ کی روایت میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس کا مقصد کیا تھا فرمایا یہ کہ امت کو حرج نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٠؛حدیث نمبر١٥٣٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں اکٹھی(ظہر اور عصر)اور سات رکعتیں اکٹھی(مغرب اور عشاء)پڑھیں۔راوی کہتے ہیں میں نے کہا ابو الشعشاء میرے خیال میں آپ نے ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کی نماز جلدی پڑھی اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء کی نماز جلدی پڑھی۔انہوں نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں سات رکعتیں اور آٹھ رکعتیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٤)
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک دن عصر کے بعد ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہو گئے اور لوگ کہنے لگے نماز نماز۔فرماتے ہیں پس بنو تمیم کا ایک شخص آیا جو بالکل خاموش بھی نہ تھا اور نماز کا ذکر تکرار سے بھی نہیں کرتا تھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری ماں مرے(بدعا نہیں ہے عادت کے طور پر ہے)تو مجھے سنت سکھاۓ گا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر اور عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں۔میرے دل میں کچھ کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوکر پوچھا تو انہوں نے انکی(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ)کی بات کی تصدیق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩١؛حدیث نمبر١٥٣٥)
حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی فرماتے ہیں۔ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ خاموش رہے اس نے پھر کہا نماز کا وقت ہو گیا ہے تو آپ خاموش رہے۔پھر کہا نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ خاموش رہے۔پھر فرمایا تیری ماں مرے کیا تم ہمیں نماز سکھاؤ گے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔تم میں سے کوئی شخص شیطان سے اپنے نفس کے لئے حصہ نہ بنائے۔وہ اسی بات کو اپنے لئے حق سمجھے کہ دائیں طرف پھرے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام طور پر دائیں طرف پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد دائیں بائیں پھرنے کا جواز؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٨)
حضرت سدی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز پڑھنے کے بعد کس طرف پھروں۔دائیں طرف یا بائیں جانب؟فرمایا جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دائیں جانب پھرتے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف پھرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ، وَالشِّمَالِ؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٤٠)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں یہ بات پسند ہوتی کہ آپ کی دائیں جانب ہوں اور آپ ہماری طرف متوجہ ہوں۔فرماتے ہیں میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا اے میرے رب!مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھاے گا یا فرمایا اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ؛ترجمہ؛امام کی دائیں طرف ہونا مستحب ہے؛جلد١ص٤٩٢؛حدیث نمبر١٥٤١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤١ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں آپ کے متوجہ ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز(جائز)نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛ترجمہ؛اقامت (تکبیر) شروع ہو تو سنتیں اور نوافل پڑھنا؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز(جائز)نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٥٤٥ کی مثل روایت کرتے ہیں۔حضرت حماد(راوی)کہتے ہیں۔پھر میں نے حضرت عمر سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث غیر مرفوع بیان کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٧)
حضرت عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور صبح کی اقامت ہو چکی تھی تو آپ اس سے کوئی بات فرمائی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا بات تھی۔نماز کے بعد ہم نے اس شخص کو گھیر لیا اور ہم پوچھنے لگے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا۔اس نے کہا آپ نے فرمایا قریب ہے کہ تم میں سے کوئی ایک صبح کی چار رکعتیں پڑھیں قعنبی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ابوالحسین مسلم فرماتے ہیں باپ سے روایت میں خطأ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٣؛حدیث نمبر١٥٤٨)
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا حالانکہ مؤذن اقامت کہ رہا تھا۔آپ نے فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٤٩)
حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہوگیا۔آپ نے جب سلام پھیرا تو فرمایا اے فلاں!تم نے کس نماز کو شمار کیا اس نماز کو جو تم نے تنہا پڑھی یا ہمارے ساتھ والی نماز کو؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٥٠)
حضرت ابوحمید یا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو یوں کہو۔"اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"۔اے اللہ!میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب نکلے تو یوں کہے۔"اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ"اے اللہ!میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ امام مسلم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ سنا وہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال سے لکھی اور انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یحییٰ حمانی"وابی اسید"فرماتے تھے یعنی ابو حمید اور ابو اسید دونوں روایت کرتےہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ترجمہ؛مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی دعا؛جلد١ص٤٩٤؛حدیث نمبر١٥٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛ترجمہ؛تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٣)
ایک اور سند سے بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرماتے تھے۔فرماتے ہیں میں بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس نے منع فرمایا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے دیکھا۔آپ تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد صحابہ کرام بھی ہیں(تو میں بیٹھ گیا)آپ نے فرمایا جب تم میں سے ایک مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛جلد١ص٤٩٥؛حدیث نمبر١٥٥٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ میرا قرض تھا تو آپ نے ادا فرمایا اور زیادہ بھی دیا۔اس دوران میں مسجد میں آپ کے پاس داخل ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ، وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلَاتِهِمَا، وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٥)
حضرت محارب سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛ترجمہ؛سفر سے واپسی پر مسجد میں دو رکعتیں پڑھنامستحب ہے؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا تو میرا اونٹ عاجز ہوگیا اور اس کی وجہ سے مجھے تاخیر ہوگئی پھر حضور علیہ السلام مجھ سے پہلے تشریف لائے اور میں دوسرے دن صبح آیا میں مسجد میں آیا تو آپکو مسجد کے دروازے پر پایا آپ نے فرمایا تم اب آۓ ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اپنے اونٹ کو چھوڑو اور اندر آکر دو رکعتیں پڑھو۔فرماتے ہیں پس میں داخل ہوا اور دو رکعتیں پڑھ کر واپس ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٧)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت واپس تشریف لاتے اور تشریف لاتے تو آغاز مسجد سے کرتے اور اس میں دو رکعتیں پڑھ کر تشریف فرما ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٨)
حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا نہیں مگر جب سفر سے تشریف لاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ،أَوْ سِتٍّ،وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛چاشت کی نماز کا استحباب اور رکعات؛جلد١ص٤٩٦؛حدیث نمبر١٥٥٩)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے فرمایا نہیں الا یہ کہ آپ کسی سفر سے واپس آئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٠)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اور میں یہ نماز پڑھتی ہوں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس ڈر سے چھوڑ دیتے کہ لوگ اس پر عمل کریں گے تو ان پر فرض نہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦١)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی کتنی رکعات پڑھتے تھے تو ام المؤمنين نے فرمایا چار رکعات پڑھتے اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا اضافہ فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعات پڑھتے اور جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا اضافہ فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٥)
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے نہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر تشریف لائے تو آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں۔میں نے آپ کو اس سے ہلکی پھلکی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٧؛حدیث نمبر١٥٦٦)
ابن عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں۔ان کے والد عبد اللہ بن حارث بن نوفل نے فرمایا کہ میں نے پوچھا اور میری بہت زیادہ خواہش تھی کہ میں کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے اس بات کی خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی لیکن حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے علاوہ مجھے کوئی بھی نہ ملا۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج بلند ہونے کے بعد تشریف لائے اور کپڑا لاکر پردہ کیا پھر آپ نے غسل فرمایا۔اس کے بعد کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعات پڑھیں۔مجھے معلوم نہیں کہ اس میں قیام فرمایا تھا یا رکوع یا سجدہ یا تمام ارکان برابر برابر تھے وہ فرماتی ہیں میں نے اس سے پہلے اور بعد آپ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٧)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں۔میں فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا میں ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا ہوں۔آپ نے فرمایا ام ہانی کو خوش آمدید جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔اس وقت آپ نے ایک کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔جب سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے بھائی حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ ایسے شخص کو قتل کرنے والے ہیں جس کو میں پناہ دے چکی ہوں وہ فلاں ابن ہبیرہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام ہانی!جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی اسے پناہ دی۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ چاشت کا وقت تھا(یا چاشت کی نماز تھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٨)
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ان کے گھر میں ایک کپڑے میں(لپٹے ہوئے)آٹھ رکعات پڑھیں اس کپڑے کے کنارے مخالف جانب ڈال رکھے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب عدد ركعات الضحى؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٦٩)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک پر جب وہ صبح کے وقت اٹھتا ہے تو اس پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔پس ہر تسبیح صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے۔ہر تہلیل صدقہ،ہر تکبیر صدقہ ہے۔نیکی کا حکم دینا صدقہ اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب کی جگہ چاشت کی دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل صلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٨؛حدیث نمبر١٥٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنا،چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا اور سونے سے پہلے وتر پڑھنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٥٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٢)
حضرت ابو رافع الصائع کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل ابوالقاسم نے تین باتوں کا حکم دیا۔پھر حدیث نمبر ١٥٧١ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٣)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم دیا کہ میں انہیں ہر گز نہ چھوڑوں جب تک زندہ رہوں ہر مہینے تین دنوں کا روزہ رکھنا،چاشت کی نماز اور وتر پڑھنے سے پہلے نہ سونا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الوصية بصلاة الصبح؛جلد١ص٤٩٩؛حدیث نمبر١٥٧٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی۔جب مؤذن صبح کی نماز کے لئے آذان دے کر خاموش ہو جاتا اور فجر ظاہر ہو جاتی تو آپ نماز کی اقامت سے پہلے دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛ترجمہ؛سنت فجر کا استحباب اور تاکید؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٥)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٥٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٦)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب فجر طلوع ہوتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے(صرف سنتیں پڑھتے نوافل نہ پڑھتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٧)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٥٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٨)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب فجر روشن ہو جاتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں اس وقت پڑھتے جب آذان سنتے اور ان کو مختصرطور پرپڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٨٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں طلوع فجر کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠٠؛حدیث نمبر١٥٨١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آذان اور اقامت کے درمیان دورکعت(سنت فجر)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتیں اس قدر مختصر پڑھتے حتیٰ کہ میں کہتی کیا آپ نے اس میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں(اتنی مختصر)پڑھتے کہ میں کہتی کیا آپ نے ان میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ، وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا، وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں(سنتوں)کی جس طرح حفاظت فرماتے اس قدر کسی دوسرے نفل کی حفاظت نہ فرماتے؟(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب تعاهد ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٥)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نفل کی طرف اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جس قدر فجر کی سنتوں میں جلدی فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب تعاهد ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں۔آپ نے فرمایا فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠١؛حدیث نمبر١٥٨٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے طلوع فجر کے وقت(پڑھی جانے والی)دو رکعتوں کی شان میں فرمایا کہ یہ دورکعتیں مجھے دنیا ومافيها سے زیادہ پسند ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں(سنتوں)میں:قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ(سورت)اور"وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ"(سورت)پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٨٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورۂ بقرہ میں سے:{قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦] الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ،اور دوسری رکعت میں{آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٥٢](مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں{قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا}[البقرة: ١٣٦]،اور سورہ آلِ عِمْرَانَ کی آیت:{تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] "پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٥٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب فضل ركعتي الفجر؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٢)
حضرت عمروبن اوس بیان کرتے ہیں-مجھ سے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنی مرض الموت میں جس میں ان کاانتقال ہوا ایسی حدیث بیان کی جس کو سن کر خوشی ہوگی-انہوں نے فرمایا میں نے(ام المومنین)حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سناوہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا آپ نے فرمایا جس نے دن اور رات میں بارہ رکعات پڑھیں-اس کیلئے ان کے بدلے میں جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا- حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ان رکعات کو نہیں چھوڑا-حضرت عنبسہ فرماتے ہیں جب سے میں نے حضرت ام حبیبہ سے سنا میں نے ان کو نہیں چھوڑا اور عمروبن اوس فرماتے ہیں جب سے میں نے حضرت عنبسہ سے سنا ہے میں نے ان کو نہیں چھوڑا اور نعمان بن سالم فرماتے ہیں-میں نے جب سے عمروبن اوس سے سنا ہے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛ترجمہ؛فرض نماز سے پہلے اور بعد سنن موکدہ کی فضیلت اور ان کی تعداد؛جلد١ص٥٠٢؛حدیث نمبر١٥٩٣)
اسی سند کے ساتھ نعمان بن سالم فرماتے ہیں جس نے ایک دن میں بارہ رکعات سنتیں پڑھیں اس کیلئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٤)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان اللہ تعالٰی کے لئے روزانہ بارہ رکعات(سنت)فرض نمازکے علاوہ پڑھے گا-اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناۓ گا یا فرمایا کہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔پس میں اس کے بعد ہمیشہ یہ(بارہ رکعات)پڑھتی ہوں۔ حضرت عمرو بن اوس فرماتے ہیں میں بھی اس کے(سننے)کے بعد ہمیشہ یہ رکعات پڑھتا ہوں اور حضرت نعمان بن سالم(راوی)بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٥)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کامل وضو کرے پھر اللہ تعالیٰ کے لئے روزانہ(نماز)پڑھےپھر حدیث نمبر١٥٩٥ کی مثل ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ،وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٣؛حدیث نمبر١٥٩٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر سے پہلے دو رکعتیں ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں،عشاء کے بعد دو رکعتیں اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں-بہرحال مغرب عشاء اور جمعہ کی سنتیں میں نے آپ کے گھر میں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ، وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٧)
حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں-میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ اپنے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے-پھر تشریف لے جاتے اور صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے-پھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے(اسی طرح)صحابہ کرام کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھرگھر تشریف لاتے دو رکعتیں پڑھتے صحابہ کرام کو نماز عشاء پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ رات کو نو رکعتیں پڑھتے ان میں نفل بھی شامل ہیں اور آپ رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ایک طویل حصہ شب بیٹھ کر پڑھتے اور جب آپ قرآت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تو اسی کھڑے ہونےکی حالت سے رکوع اور سجدے کی طرف جاتے اور جب بیٹھ کر قرآت فرماتے ہیں تو رکوع اور سجدے کے لئے اسی حالت سے جاتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو(صرف)دو رکعتیں(سنت) پڑھتے(نفل نہ پڑھتے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا طویل حصہ نماز پڑھتے جب کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تو اسی حالت میں رکوع میں جاتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع اور سجدہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٥٩٩)
حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں فارس میں بیمار ہوگیا تو میں بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا۔میں نے اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا طویل حصہ نماز پڑھتے پھر باقی حدیث حدیث نمبر ١٥٩٩ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٤؛حدیث نمبر١٦٠٠)
حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں فرمایا آپ رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر اور ایک لمبا وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے جب آپ قرأت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تورکوع کے لئے کھڑے ہونے کی حالت سے منتقل ہوتے اور جب قرأت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھے بیٹھے کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠١)
انہی سے مروی ہے۔ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے جب آپ نماز کا آغاز کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب نماز کا آغاز بیٹھنے کی صورت میں کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز میں بیٹھ کر قرأت کرتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ جب آپ سن رسیدہ ہوگئے تو بیٹھ کر قرأت کرنے لگے یہاں تک کہ جب سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے اور ان کو پڑھ کر رکوع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے اور قرأت بھی بیٹھ کر کرتے جب قرأت تیس یا چالیس رکعات کا اندازہ باقی رہتا تو کھڑے ہو جاتے اور(باقی)قرأت کھڑے ہونے کی حالت میں کرتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٤)
ایک اور سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قرأت کرتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنے وقت کے لیے کھڑے ہوجاتے جس میں کوئی انسان چالیس آیات پڑھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٥؛حدیث نمبر١٦٠٥)
حضرت علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں کیا کرتے تھے جب آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ ان دونوں رکعتوں میں قرأت کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوکر رکوع کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٦)
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا ہاں جب لوگوں کے(مسائل وافكار)نے آپ کو بوڑھا کر دیا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث ١٦٠٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٨)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦٠٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک بھاری اور بوجھل ہو گیا تو آپ اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٦؛حدیث نمبر١٦١٠)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نوافل بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ وفات سے ایک سال پہلے آپ بیٹھ کر پڑھنے لگے آپ قرآن مجید کی سورت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتیٰ کہ وہ طویل سے بھی زیادہ طویل ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں ایک سال یا دو سال کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال نہیں فرمایا حتیٰ کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی(یعنی وصال سے پہلے بیٹھ کر نماز پڑھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھ سے بیان کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی بیٹھ کر نماز(ثواب کے اعتبار سے)نصف نماز ہے۔فرماتے ہیں۔میں حاضر ہوا تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔میں نے آپ کے سر انور پر ہاتھ رکھا تو آپ نے فرمایا اے عبد اللہ بن عمرو!تمہیں کیا ہوا؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی کی بیٹھ کر نماز نصف نماز(کے برابر)ہے اور آپ بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٧؛حدیث نمبر١٦١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت گیارہ رکعات پڑھتے تھے ان کو ایک رکعت سے طاق بناتے پس جب آپ فارغ ہوجاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔حتیٰ کہ مؤذن آپ کے پاس آتا تو آپ دومختصر رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛ترجمہ؛رات کی نماز اور اس کی رکعات؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٦)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں(عشاء مراد ہے کیونکہ وہ مغرب کو بھی عشاء کہتے اور عشاء کو عتمہ کہتے تھے)سے فراغت کے بعد فجر تک(کے درمیان)گیارہ رکعات پڑھتے۔ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ساتھ(ان تمام رکعتوں کو)طاق بنا دیتے۔جب مؤذن آپ کے پاس آتا تو آپ دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن اقامت کے لئے آپ کے پاس آتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں حرملہ(راوی)نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ کے لئے فجر ظاہر ہوتی اور آپ کے پاس مؤذن آتا اور اقامت کا ذکر بھی نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے اور پانچ رکعات وتر پڑھتے اور ان کے آخر میں بیٹھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٨؛حدیث نمبر١٦١٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦١٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعات پڑھتے اس میں فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتیں۔(آٹھ رکعات تہجد،تین وتر اور دو رکعت سنت فجر)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢١)
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان شریف کی نماز کس طرح تھی۔انہوں نے فرمایا آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات پر اضافہ نہ فرماتے۔آپ چار رکعات پڑھتے تم ان کے حسن اور طوالت کا نہ پوچھو پھر چار رکعات پڑھتے ان کے حسن اور طوالت کا سوال نہ کرو پھر تین رکعات پڑھتے۔ام المومنین فرماتی ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے آرام فرماتے ہیں۔فرمایا اے عائشہ!میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٢)
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ تیرہ رکعات پڑھتے آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع کرتے پھر آذان اور اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٣)
حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔آگے حدیث نمبر ١٦٢٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں نو رکعتوں کا ذکر ہے جو کھڑے ہو کر پڑھتے ان میں وتر بھی شامل ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥٠٩؛حدیث نمبر١٦٢٤)
حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا امی جان!مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا رمضان المبارک اور اس کے علاوہ آپ کی(رات کی)نماز تیرہ رکعات ہوتی ان میں فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٥)
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعات ہوتی۔آپ ایک رکعت کے ساتھ اسے وتر بناتے اور دو رکعت فجر کی نماز(سنتیں)پڑھتے پس یہ تیرہ رکعات ہوجاتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٦)
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں میں نے حضرت اسودبن یزید سے پوچھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں کیا فرمایا ہے-انہوں نے فرمایا آپ رات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصّے کو(عبادت کے ساتھ)زندہ رکھتے پھر اگر اہل خانہ سے کوئی حاجت ہوتی تو اپنی حاجت کو پورا کرتے پھر سو جاتے جب پہلی اذان ہوتی تو آپ تیزی سے اٹھ جاتے اللہ کی قسم!حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ اٹھ کر اپنے اوپر پانی ڈالتے اور قسم بخدا یہ بھی نہیں فرمایا کہ آپ غسل کرتے اور میں جانتا ہوں کہ ان کا ارادہ کیا تھا-اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو نماز کا وضو کرتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے حتیٰ کہ آخر میں وتر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٠؛حدیث نمبر١٦٢٨)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں-میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ دائمی عمل کو پسند کرتے تھے-میں نے پوچھا آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے-فرمایا جب مرغ کی اذان سنتے تو کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٢٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر یا فرمایا اپنے پاس آرام کرتے ہوئے پایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣١)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٣١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے جب وتر نماز پڑھتے تو فرماتے اے عائشہ!اٹھو اور وتر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے اور وہ آپ کے سامنے چوڑائی میں لیٹ رہی ہوتی جب وتر نماز باقی ہوتی تو آپ ان کو بیدار کرتے پس وہ وتر پڑھتیں(حجرہ مبارکہ چھوٹا.تھا اس لئے یہ صورت تھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١١؛حدیث نمبر١٦٣٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے وتر سحری تک پہنچ گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے رات کے پہلے حصے میں درمیان میں اور آخر میں پس آپ کے وتر سحری تک جا پہنچے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں وتر پڑھتے تھے پس آپ کے وتر رات کے آخر تک جا پہنچے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ؛جلد١ص٥١٢؛حدیث نمبر١٦٣٧)
حضرت قتادہ نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ سعد بن ہشام بن عامر نے چاہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مدینہ کو آئے اور چاہا کہ اپنے باغ و زمین بیچ ڈالیں اور اس سے ہتھیار اور گھوڑے خریدیں اور رومیوں سے مرنے کے وقت تک لڑیں۔پھر جب مدینہ میں آئے اور مدینہ والوں سے ملے،انہوں نے ان کو منع کیااور خبر دی کہ چھ آدمیوں نے اس کا ارادہ کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا:”کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں۔“پھر جب لوگوں نے ان سے یہ کہا تو انہوں نے اپنی بیوی سے رجعت کی جنکو طلاق دے دی تھی اور ان کی رجعت پر لوگوں کو گواہ کر لیا۔پھر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آۓ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتروں کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا:میں تم کو ایسا شخص بتا دوں کہ جو ساری زمین کے لوگوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کا حال بہتر جانتا ہے۔انہوں نے کہا:وہ کون ہے؟سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔تو تم ان کے پاس جاؤ ان سے پوچھو پھر میرے پاس آؤ اور ان کے جواب سے خبر دو۔پھر میں ان کے پاس چلا حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے چاہا کہ وہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان کے پاس نہیں جاتا اس لئے کہ میں نے ان کو روکا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں کے بیچ میں کچھ نہ بولیں۔(یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مداخلت سے روکا تھا) مگر انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔حضرت سعد نے کہا کہ میں نے حکیم کو قسم دی۔غرض وہ آئے اور ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلے اور ان سے اجازت طلب کی۔انہوں نے اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تب انہوں نے فرمایا:کیا یہ حکیم ہیں؟انہوں نے کہا:ہاں غرض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو پہچان لیا،(یعنی آواز وغیرہ سے پردہ کی آڑ سے)پھر انہوں نےفرمایا:کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟حکیم نے کہا:میرے ساتھ سعد بن ہشام ہیں۔انہوں نے فرمایا:ہشام کون سے؟حکیم نے کہا:عامر کے بیٹےحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور کلمات خیر کہے اور قتادہ نے کہا کہ حضرت عامر جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔پھر میں نے عرض کیا کہ ام المؤمنین!مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے۔انہوں نے فرمایا:کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟میں نے کہا:کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔انہوں نے کہا:پھر میں نے چلنے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ موت کے وقت تک اب کسی سے کوئی چیز نہ پوچھوں۔پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں۔پھر انہوں نے فرمایا:کیا تم نے«يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ» نہیں پڑھی میں نے کہا کیوں نہیں۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرض کیا رات کو کھڑے ہو کر پڑھنے کو اس سورت کے اول میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ رات کو نماز پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا خاتمہ بارہ مہینے تک آسمان پر روک رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا آخراتارا اور اس میں تخفیف فرمائی(یعنی تہجد کی فرضیت معاف کر دی۔مسنون ہونا باقی رہا)جب کہ پہلے فرض تھا۔پھر میں نے عرض کیا:اے ام المؤمنین!خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی۔تب انہوں نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چاہتا بیدار کرتا رات کو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے تھے اور وضو،پھر نو رکعت پڑھتے تھے نہ بیٹھتے اس میں مگر آٹھویں رکعت کے بعد اور ذکر کرتے اللہ تعالیٰ کا اور اس کی حمد کرتے اور دعا کرتےپھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے اور نویں رکعت پڑھتے پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے اور اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم کو سنا دیتے(یعنی بلند آواز سے)پھر سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔غرض یہ گیارہ رکعات ہوئیں اے میرے بیٹے!پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپ کا بدن بھاری ہوگیا تو آپ سات رکعات کے ساتھ نماز کو وتر بنا تے دو رکعتیں ویسی ہی پڑھتے جیسے اوپر ہم نے بیان کیں۔غرض یہ سب نو رکعتیں ہوئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے اس پر ہمیشگی کرتے۔اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند یا کسی درد کا غلبہ ہوتا کہ رات کو نہ اٹھ سکتے تو دن کو بارہ رکعات ادا کرتے اور میں نہیں جانتی کہ کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھے اور نہ ہی آپ نے صبح تک رات بھر نماز پڑھی اور نہ ہی رمضان شریف کے علاوہ آپ نے پورا مہینہ روزے رکھے۔ پھر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ ساری حدیث بیان کی۔انہوں نے کہا کہ بیشک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا اورفرمایا اگر میں ان کے قریب ہوتا تو میں بھی حاضر ہوتا تاکہ میں ان سے بالمشافہ یہ حدیث سنتا۔حضرت سعد نے کہا:کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٣؛حدیث نمبر١٦٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦٣٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٣٩)
سعد بن ہشام کہتے ہیں۔میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے وتر(نماز)کے بارے میں پوچھا پھر حدیث نمبر ١٦٣٨ کی مثل ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ ام المؤمنين نے پوچھا کون ہشام؟میں نے کہا ابن عامر تو ام المؤمنين نے فرمایا وہ بہترین شخص تھے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ احد میں شہید ہوئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٤٠)
حضرت زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ ہشام ان کے پڑوسی تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہشام نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔پھر حدیث نمبر ١٦٣٨کی مثل ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ ام المؤمنين نے پوچھا کون ہشام تو انہوں نے کہا عامر کا بیٹا،انہوں نے فرمایا وہ اچھے آدمی تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔اس میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں جاتے تو میں آپ کو یہ حدیث نہ بتاتا۔سعد بن ہشام کہتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٤؛حدیث نمبر١٦٤١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز(تہجد)کسی تکلیف کی وجہ سے نہ پڑھ سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعات پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس میں ہمیشگی اختیار فرماتے اور جب آپ رات کے وقت آرام فرماتے یا بیمار ہوتے تو دن کے وقت بارہ رکعات پڑھتے وہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت صبح تک قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ پورا مہینہ روزے کبھی نہیں رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٣)
حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے سو جانے کی وجہ رات(کی عبادت)کا معمول یا اس میں سے کچھ رہ جائے تو اسے فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھے اس کے لیے وہ رات کے عمل کی طرح ہی لکھا جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٤)
حضرت قاسم شیبانی سے مروی ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا۔وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا یہ لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت کے علاوہ نماز پڑھنا افضل ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا توبہ کرنے والوں کی نماز اس وقت ہے جب اونٹوں کے بچوں کے گھر دھوپ پر چلنے کی وجہ سے گرم ہوجائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ؛جلد١ص٥١٥؛حدیث نمبر١٦٤٥)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء والوں کی طرف تشریف لے گئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو فرمایا اوابین(توبہ کرنے والوں)کی نماز اس وقت ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرم ہونے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں جب تم میں سے کسی ایک کو صبح(ہو جانے) کا خدشہ ہو تو ایک رکعت کے اضافہ سے رات کی نماز کو طاق رکعات بنالے(آخر میں دو کی بجائے تین رکعات وتر پڑھ لے کیوں تین رکعت وتر پڑھنے حدیث وارد ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٧)
ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا دودو رکعتیں ہیں۔پس جب تمہیں صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت کے ساتھ نماز کو وتر بنا لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کس طرح ہے تو آپ نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں۔جب تمہیں صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت کے ساتھ نماز کو وتر(طاق رکعات) بنالو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٦؛حدیث نمبر١٦٤٩)
حضرت ابن عمر رضي الله عنه سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس حال میں کہ میں آپ کے اور سائل کے درمیان تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!رات کی نماز کس طرح ہے؟ آپ نے فرمایا دو دو رکعتیں ہیں جب تمہیں صبح(ہونے)کا خوف ہوتو ایک رکعت کا اضافہ کرکے نماز کے آخرکوطاق بنالو-پھر سال کےبعدایک شخص نے آپ سے سوال کیااور میں اسی جگہ تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ یہ وہی شخص تھا یا کوئی اور آدمی تھا تو تو آپ نے وہی جواب دیا-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٠)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٥٠ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس حدیث میں یہ نہیں کہ اس نے سال کے اختتام پر یا اس کے بعد سوال کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت(تہجد)نماز پڑھے تو وہ وتر آخر میں پڑھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا حکم دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اپنی رات کی نمازمیں وتر آخر میں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٧؛حدیث نمبر١٦٥٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےہی مروی ہے-فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت نماز( تہجد)پڑھے تووہ صبح سےپہلے رات کی آخری نماز وتر کو بناۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو اسی طرح حکم دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر رات کی نماز سے ملی ہوئی ایک رکعت ہے-(یعنی ایک رکعت کی وجہ سے نماز وتر ہو جاتی ہے یہ مطلب نہیں کہ وتر صرف ایک رکعت ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٦)
ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا کہ وتر رات کے آخری حصہ کی(دوگانہ نماز سے ملی ہوئی) ایک رکعت ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٧)
حضرت ابومجلز کہتےہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے رات کے آخر میں ایک رکعت(کے ملانے کے باعث)ہے-اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے(وتر)رات کے آخر میں ایک رکعت(کے ملانے سے)ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور آپ مسجد میں تھے اس نے کہا یا رسول اللہ!میں رات کی وتر نماز کیسے پڑھوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ نماز پڑھے تو دو دو رکعت پڑھے پس جب صبح ہونے کا احساس ہوتو ایک رکعت(اور ملا کر)پڑھے تو اس سے تمام پڑھی ہوئی وتر ہو جائےگی -(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٨؛حدیث نمبر١٦٥٩)
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا آپ کا کیا خیال ہے میں صبح کی نماز سے پہلے جو دو رکعتیں پڑھتا ہوں ان میں قرآت کو لمبا کروں؟انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دودو رکعتیں پڑھتے تھے اور ایک رکعت کے ساتھ نماز کو طاق بنا دیتے-اُنہوں نے کہا میں نے اس کے بارے میں نہیں پوچھا -حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا تم موٹے(دماغ کے)آدمی ہو مجھےتم پوری حدیث کیوں بیان کرنے نہیں دیتے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت دودو رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت کے ساتھ(تمام)نماز کو طاق بنا لیتے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے گویا آذان (کی آواز)آپ کے کانوں میں ہوتی خلف(راوی) نے اپنی روایت میں دو رکعت صبح سے پہلے کے بارے میں بتایا اور نماز کا ذکر نہیں کیا-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٠)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٦٦٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ رات کے آخر میں ایک رکعت کے اضافہ سے نماز کو طاق بنا دیتے-اس میں یہ بھی اضافہ ہے ٹھہر جاؤ ٹھہر جاؤ تم موٹے دماغ کے آدمی ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دودو رکعتیں ہیں جب تم صبح ہوتے دیکھو تو ایک رکعت(کے اضافہ)کے ساتھ نماز کو طاق بنالوحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا دودو رکعتوں کاکیامطلب ہے؟ فرمایا دورکعتوں کے بعد سلام پھیرنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٢)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح ہونے سے پہلے وتر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥١٩؛حدیث نمبر١٦٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى،وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو ڈر ہو کہ وہ رات کے آخر میں جاگ نہیں سکےگا وہ رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھ لے اور جس کو رات کے آخر میں امید ہو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھ لے کیونکہ رات کے آخر میں پڑھی جانے والی نمازمیں فرشتےحاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے(ابو معاویہ کی روایت میں مشہودہ کی جگہ محضورۃکا لفظ ہے معنی ایک ہی ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے جسے ڈرہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکےگا-پھر وہ وتر پڑھ کر سوۓ اور جسے رات کے قیام کا یقین ہووہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی قرآت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل نماز وہ ہے جس میں قیام لمبا ہو(کیونکہ اس میں قرآن مجید زیادہ پڑھا جاتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز افضل ہے؟فرمایا جس میں قیام لمبا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ؛جلد١ص٥٢٠؛حدیث نمبر١٦٦٨)
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے جس میں مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطاء کرتا ہے اور یہ لمحہ ہر رات میں آتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ؛ترجمہ؛رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعائیں قبول ہوتی ہے؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٦٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے وقت ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے بھلائی کا سوال کرے تو وہ اسے عطاء کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا کی طرف(خصوصی)توجہ فرماتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا آخری تہائی باقی ہوتا ہے تو فرماتا ہے کون مجھ سے دعا مانگتا ہے،میں اس کی دعا کو قبول کروں۔کون مجھ سے سوال کرتا ہے میں اسے عطاء کروں کون مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے میں اسے بخش دوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢١؛حدیث نمبر١٦٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی گزر جاتا ہے تو وہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا کو قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو عطا کروں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے میں اس کو بخشش دوں یہ سلسلہ صبح روشن ہونے تک جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا نصف یا دو تہائی گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے۔فرماتا ہے کیا کوئی سائل ہے جسے عطاء کیا جائے،کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے اس کی دعا کو قبول کیا جائے کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے بخشش دیا جائے صبح روشن ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات کے نصف یا تہائی حصہ گزرنے کے بعد آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا کو قبول کروں یا کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کروں۔پھر فرماتا ہے اس ذات کو کون قرض دے گا جو نہ فنا ہوگی اور نہ کسی پر ظلم کرے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں یہ اضافہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنا دست کرم پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو ان کو قرض دے جسے فنا نہیں اور نہ ہی وہ ظلم کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٢؛حدیث نمبر١٦٧٥)
حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ مہلت دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا حصہ گزر جاتا ہے تو وہ آسمان دنیا کی طرف توجہ فرماتا ہے اور کہتا کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کیا کوئی دعا کرنے والا ہے۔یہ سلسلہ صبح ہونے تک جاری رہتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٦)
ایک اورسند سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن پہلی روایت(حدیث نمبر١٢٧٦)زیادہ مکمل اور مفصل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَالْإِجَابَةِ فِيهِ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرتا ہےاس کےتمام گزشتہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قیام کی ترغیب دیتےتھےلیکن اس کا تاکیدی حکم نہیں فرماتے تھے آپ ارشاد فرماتے تھےجو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ایمان کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دئے جاتےہیں۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہواتومعاملہ اسی طرح تھاپھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں بھی یہ معاملہ اسی طرح رہااورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورخلافت میں بھی یہی حالت رہی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نےرمضان شریف کے روزےحالت ایمان میں ثواب کی نیت سے رکھے اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور جو شخص لیلتہ القدر میں حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے قیام کرےاس کے بھی تمام گزشتہ گناہ معاف ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٣؛حدیث نمبر١٦٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےہی مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص لیلتہ القدر میں قیام کرے پھر وہ اس کے موافق ہو(راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ایمان کے ساتھ طلب ثواب کی نیت سے(کھڑا ہواتواس کی بخشش ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھائی تو کچھ صحابہ کرام نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی جب دوسری رات آئی تو لوگ زیادہ ہو گئے پھر تیسری رات جمع ہوئے یا چوتھی رات تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لاۓ جب صبح ہوئی تو فرمایامیں نے تمہارےعمل کودیکھاتومجھے باہر آنےسےصرف اس بات نے روکا کہ مجھے ڈرتھاکہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے(راوی) فرماتےہیں یہ رمضان شریف کی بات ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے درمیان باہر تشریف لے گئے تو نماز پڑھی کچھ حضرات نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی صبح صحابہ کرام باہم گفتگو کرنے لگے تو ان میں سے اکثر لوگ جمع ہوئے-دوسری رات آپ باہر تشریف لائے تو صحابہ کرام نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی-صبح اس بات کا تذکرہ ہوا تو اہل مسجد زیادہ ہوگئے آپ تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑ گئی لیکن آپ ان کی طرف تشریف نہ لاۓ۔صحابہ کرام کہنے لگے"الصلاہ" لیکن آپ پھر بھی تشریف نہ لاۓ۔جب صبح کی نماز پڑھائی تو صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر کلمہ شہادت پڑھا۔پھر فرمایا اما بعد!تمہارا رات کا معاملہ مجھ سے پوشیدہ نہ تھا لیکن مجھے ڈر ہوا کہ تم پر رات کی نماز فرض ہوجائے اور تم اس سے عاجز ہو جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٤؛حدیث نمبر١٦٨٣)
حضرت زربیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا-فرماتے ہیں جو شخص سال بھر قیام کرے وہ لیلتہ القدر کو پا لیتا ہے تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ(لیلتہ القدر)رمضان شریف میں ہے وہ کسی استثناء کے بغیر قسم کھا کر یہ بات فرماتے ہیں اور اللہ کی قسم میں یقین کے ساتھ جانتاہوں کہ یہ کونسی رات ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کا حکم دیا تو یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہااس رات کی صبح سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ وہ سفید ہوتا ہے اس کی شعائیں ظاہر نہیں ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٤)
حضرت زرفرماتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لیلتہ القدر کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم!میں اسے یقینی طور پر جانتا ہوں اور میرا زیادہ یقین یہ ہے کہ جس رات کے قیام کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا یہ ستائیسویں رات ہے(راوی) شعبہ کو شک ہے کہ انہوں نے یہ بات فرمائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس رات کے قیام کا حکم دیا اور وہ فرماتے ہیں یہ بات مجھ سے میرے ایک دوست نے ان سے نقل کرتے ہوئے بتائی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٥)
ایک اور سند سے بھی اس کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت شعبہ کے شک اور بعد والی بات کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ،وَهُوَ التَّرَاوِيحُ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ(ام المومنین) حضرت میمونہ کے ہاں گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کھڑے ہوئے اور پھر قضائے حاجت سے فارغ ہوکر چہرۂ انور اور ہاتھ کو دھویا۔پھر سو گئے۔پھر دوبارہ اٹھے اور مشکیزے کے باہر تشریف لاکر اس کا منہ کھولا پھر درمیانے قسم کا وضو کیا۔پانی زیادہ خرچ نہ کیا لیکن کامل وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔میں بھی اٹھا اور انگڑائی لی۔مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ سمجھے میرے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہے۔پس میں نے بھی وضو کیا۔آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دائیں جانب پھیر دیا تو آپ کی رات کی نماز تیرہ رکعتیں پوری ہوئیں۔پھر آپ لیٹ گئے اور آرام فرما ہوۓ حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور جب بھی آرام فرما ہوتے خراٹے لیتے۔پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو نماز کی اطلاع دی چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی لیکن(تازہ)وضو نہ فرمایا۔اور آپ کی دعائیں یہ تھی ۔جسکا ترجمہ یہ ہے۔ یااللہ!میرے دل میں نور پیدا کر دے میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے اور میرے کانوں میں نور پیدا کر دے۔میری دائیں جانب نور،بائیں جانب نور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور پیدا کر دے۔میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔حضرت کریب کہتے ہیں آپ نے دل کے ارد گرد سات جگہوں کا ذکر کیا(جو میں بھول گیا)پس میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ نے ذکر فرمایا میرے پٹھوں،میرے گوشت،میرے خون،میرے بالوں اور میرے چمڑے کو نور بنا دے۔مزید دو خصلتوں کا ذکر فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ؛جلد١ص٥٢٥؛حدیث نمبر١٦٨٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک رات ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزاری اور وہ آپ کی خالہ تھیں۔وہ فرماتے ہیں میں تکئے کی چوڑائی کی جانب لیٹ گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ اس کی لمبائی میں آرام فرما ہوۓ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ جب نصف شب ہوئی یا اس سے کچھ دیر پہلے یا بعد کا وقت تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوۓ اور اپنے چہرے سے ہاتھوں کے ساتھ نیند کا ازالہ کرنے لگے پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اور اس سے اچھی طرح وضو کیا۔پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کام کیا جو جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔پھر میں جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑنے لگے(تاکہ نیند دور ہوجائے)پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھو دو رکعتیں پڑھیں۔پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے۔پھر مؤذن آیا تو آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں پھر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ؛جلد١ص٥٢٦؛حدیث نمبر١٦٨٨)
اسی سند سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا قصہ ذکر فرمایا۔مسواک کی اور مکمل طور پر وضو فرمایا اور پانی تھوڑا خرچ کیا پھر مجھے حرکت دی تو میں اٹھ کھڑا ہوا باقی حدیث حدیث نمبر ١٦٨٨ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب الدعاء فی صلاۃ اللَّيْلِ وقیامہ؛جلد١ص٥٢٧؛حدیث نمبر١٦٨٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ(اور اپنی خالہ)حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سو گیا-اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا-آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کر دیا-اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں-(دو رکعتیں تحیتہ الوضوآٹھ رکعات تہجد اور تین وتر)پھر آپ آرام فرما ہو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور آپ جب بھی آرام فرماتے تو خراٹے لیتے پھر مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ(مسجد میں)تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی آپ نے( نیا) وضو نہ فرمایا-حضرت عمرو(راوی)فرماتے ہیں میں نے حدیث بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا-حضرت کریب نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٧؛حدیث نمبر١٦٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری تو میں نے ان سے عرض کیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کے لئے)کھڑے ہوں تو مجھے بھی جگا دینا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا-آپ نے مجھے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا-جب بھی مجھے اونگھ آتی۔آپ میرے کان کی لو(نرم حصہ)پکڑتے-فرماتے ہیں آپ نے گیارہ رکعات نماز اداکی-پھر آپ آرام فرما ہو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی جب آپ کے لئے فجر نمودار ہو گئی تو آپ نے دو ہلکی پھلکی رکعتیں(سنت فجر) پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے تو آپ نے ایک پرانے لٹکے ہوئے مشکیزے سے مختصر وضو کیا-حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا وصف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے وضو میں کم پانی استعمال کیا-فرماتے ہیں میں بھی اٹھااورجو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا میں نے بھی اسی طرح کیا-پھر میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے پیچھے کی طرف سے دائیں طرف کیا اور نماز ادا فرمائی-پھر آپ لیٹ گئے اور آرام فرما ہوۓ حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے-پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع کی چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور صبح کی نماز ادا فرمائی لیکن آپ نے(نیا)وضو نہ فرمایا-حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھی دل جاگتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩٢)
ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری تو میں یہ بات دیکھنے کے لئے جاگتا رہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں-فرماتے ہیں آپ کھڑے ہوئے پیشاب فرمایا-پھر اپنا چہرہ انور اور ہتھیلیوں کو دھویا اور پھر آرام فرما ہوگئے-پھر اٹھ کر مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اور اس کا منہ کھولا-پھر آپ نے ٹپ یابڑے پیالے میں پانی ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ سے جھکا کر اس سے نہایت عمدہ وضو کیا جو دو قسم کے وضوؤں کے درمیان تھا(نہ زیادہ پانی خرچ کیا نہ بہت کم خرچ کیا) پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے میں بھی آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا(لیکن) بائیں جانب کھڑا ہوا-فرماتے ہیں آپ نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کھڑا کر دیا-پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات مکمل ہوئی-پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے اور ہمیں آپ کی نیند کا پتہ خراٹوں سے چلا کرتا تھا-پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور نماز پڑھی آپ اپنی نماز اور سجدہ میں یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (ترجمہ) یااللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میرےکانوں میں نوراورمیری آنکھوں میں نورڈال دے-میری دائیں طرف نور میری بائیں طرف نورمیرےآگے نور میرے پیچھے نور میرے اوپر اور میرے نیچے نورکردے اور میرے لئے نورکردے یا فرمایا مجھے نوربنادے-(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٨؛حدیث نمبر١٦٩٣)
حضرت سلمہ(راوی)فرماتے ہیں میں نےحضرت کریب سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے پھر حدیث نمبر ١٦٩٣کی مثل ذکر کیا-البتہ اس میں کسی شک کے بغیر یوں ہے اور مجھے نور بنادے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٩؛حدیث نمبر١٦٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٦٩٣ کی مثل مروی ہے اور اس میں چہرے اور ہاتھ کے دھونے کا ذکر نہیں البتہ یہ فرمایا کہ آپ مشکیزے کے پاس تشریف لائے اور اس کا منہ کھول کر اس سے درمیانے انداز میں وضو فرمایا-پھر بستر پر تشریف لائے اور آرام فرما ہوۓ- پھر دوبارہ اٹھ کر مشکیزے کے پاس تشریف لائے اور اس کا منہ کھول کر پہلے کی طرح وضو فرمایا اور(دعائیں)فرمایا مجھے عظیم نور بنادےاور یہ الفاظ مذکورنہیں کہ مجھے نور بنادے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٢٩؛حدیث نمبر١٦٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔سلمہ بن کہیل نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں حضرت کریب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری تو آپ رات کے وقت اٹھے اور مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے۔اس سے پانی ڈال کر وضو فرمایا لیکن اس میں نہ تو زیادہ پانی خرچ کیا اور نہ وضو میں کمی کی پھر اسی طرح حدیث بیان کی اس میں یہ بھی فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات انیس کلمات کے ساتھ دعا مانگی۔حضرت سلمہ فرماتے ہیں حضرت کریب نے مجھ سے بیان کیا لیکن مجھے ان میں سے بارہ کلمات یاد رہے اور باقی میں بھول گیا۔آپ نے دعا مانگی یااللہ!میرے دل میں نور کر دے۔میری زبان میں نور کر دے میرے کانوں میں نور اور میری آنکھوں میں نور کر دے۔میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے دائیں نور میرے بائیں نور اور میرے سامنے اور میرے پیچھے نور کر دے میرے نفس میں نور کر دے اور میرے لیے عظیم نور کر دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔وہ فرماتے ہیں میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سو گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات ان کے ہاں تھے تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کو دیکھوں۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر گھر والوں سے گفتگو فرمائی۔پھر سو گئے۔آگے حدیث نمبر١١٩٦ کی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ پھر آپ کھڑے ہوئے وضو فرمایا اور مسواک کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےہاں رات کو سو گئے۔آپ بیدار ہوۓ تو مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ نے یہ آیت پڑھی:{إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠](ترجمہ)"بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلمند لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں"۔ آپ نے سورت کے آخر تک یہ آیات پڑھیں۔پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعت پڑھی جن میں طویل قیام،رکوع اور سجدہ کیا۔پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے پھر تین مرتبہ اسی طرح کیا تو یہ کل چھ رکعات ہوگئیں۔ہر مرتبہ مسواک کرتے اور وضو فرماتے اور یہ آیات پڑھتے پھر آپ نے تین رکعات وتر نماز پڑھی۔پھر مؤذن نے آکر آپ کو نماز کی اطلاع کی تو آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا مانگ رہے تھے۔ )ترجمہ)یااللہ!میرے دل میں نور کردے میری زبان میں نور اور میرے کانوں میں نور کر دے۔میری آنکھوں میں نور کر دے اور میرے پیچھے نور میرے آگے نور میرے اوپر نور اور نیچے نور کر دے یا اللہ!مجھے نور عطاء فرما۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٠؛حدیث نمبر١٦٩٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نوافل پڑھنے کھڑے ہوئے چنانچہ آپ مشکیزے کی طرف تشریف لے گئے اور وضو فرما کر نماز پڑھنے لگے جب میں نے آپ کا یہ عمل دیکھا تو میں بھی کھڑا ہو گیا اور میں نے مشکیزے سے وضو کیا پھر میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ کر اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے مجھے دائیں جانب کر دیا۔راوی نے پوچھا کیا یہ عمل نفل(نماز)میں ہوا؟انہوں نے فرمایا"ہاں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٦٩٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ میری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے۔پس میں نے وہ رات آپ کے پاس گزاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھنے لگے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔آپ نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٠)
ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٠٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠١)
حضرت ابوجمزہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٢)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے سوچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دیکھوں تو آپ نے دو مختصر رکعتیں پڑھیں پھر دو نہایت طویل رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کچھ کم لمبی تھیں پھر دو رکعتیں ان سے بھی مختصر پڑھیں پھر دو رکعتیں ان سے بھی لمبی پڑھیں۔پھر ان سے کچھ لمبی دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر نماز پڑھی تو یہ تیرہ رکعات ہو گئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣١؛حدیث نمبر١٧٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ہم گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا اے جابر!کیا تم اس میں اترتے(یعنی اس کو عبور کر کے پار نہیں جاتے)میں نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں،فرماتے ہیں پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ اترے اور میں بھی اترا۔پھر آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی رکھا۔فرماتے ہیں آپ تشریف لائے اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اورایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کے کناروں کومخالف سمت میں کندھوں پر ڈالا ہوا تھا میں بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے کان سے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رات کے وقت قیام کرے تو اپنی نماز کو دو مختصر رکعتوں سے شروع کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٢؛حدیث نمبر١٧٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آدھی رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)یااللہ!تیرے ہی لئے تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے۔سب کا رب ہے تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے تیرا قول حق ہے تیری ملاقات حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے قیامت حق ہے۔یااللہ!میں تیرے ہی لئے جھک گیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیرے ہی طرف رجوع کیا۔تیرے نام سے ہی جنگ کرتا ہوں اور تجھ ہی کو فیصل بناتا ہوں۔پس تو میرے ان کاموں کو جو میں نے پہلے کئے اور جو بعد میں کئے جو پوشیدہ ہیں اور جو ظاہر ہیں سب کو بخش دے تو میرا معبود ہے تیرا سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٣؛حدیث نمبر١٧٠٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٠٧ کی مثل مروی ہے البتہ کچھ الفاظ کا اختلاف ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٣؛حدیث نمبر١٧٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٠٧ کی مثل مروی ہے الفاظ قریب قریب ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٤؛حدیث نمبر١٧٠٩)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس عمل سے نماز شروع کرتے تھے جب رات کے وقت کھڑے ہوتے۔انہوں نے فرمایا جب رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز ان الفاظ سے کرتے یعنی یہ پہلے کلمات پڑھتے۔ ( ترجمہ)یااللہ!اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام کے رب آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے غیب اور حاضر کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری رہنمائی فرما جس میں اختلاف کیا گیا۔بے شک تو جس کو چاہے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٤؛حدیث نمبر١٧١٠)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہر باطل سے جدا ہو کر،اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔بے شک میری نماز اور میری قربانی،میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں یااللہ!تو ہی بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی مجھے اپنے تمام خلاف والی کاموں کا اعتراف ہے۔میرے تمام خلاف اولی کام بخش دے۔گناہوں کو صرف تو ہی بخشتا ہے۔مجھے سب سے اچھے اخلاق کی ہدایت دے۔اچھے اخلاق کی رہنمائی تو ہی کرتا ہے۔مجھ سے برے اخلاق کو دور رکھ اور مجھ سے برے کاموں کو تو ہی دور رکھ سکتا ہے۔میں حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے اختیار میں ہے اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔میرا ملجاء بھی تو ہے اور مجھے توفیق بھی تو ہی عطاء کرتا ہے۔تو برکت والا اور بلند ہے۔میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور جب آپ رکوع کرتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)اے اللہ!میں نے تیرے ہی لئے رکوع کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا۔تیرے ہی سامنے جھکا میری سماعت وبصارت میرا مغز، ہڈیاں اور پٹھے تیرے ہی لئے جھک گئے اور جب آپ رکوع سے کھڑے ہوئے تو یہ الفاظ کہتے۔ (ترجمہ)یااللہ!اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے بھرے ہوئے آسمان اور بھری ہوئی زمین جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھرا ہوا اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے وہ بھرا ہوا اور جب آپ سجدہ کرتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ (ترجمہ)یااللہ!تیرے ہی لئے میں نے سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا تیرے ہی لئے میں اسلام لایا میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کر کے صورت عطاء کی اور اس میں کان اور آنکھیں بنائیں اللہ تعالیٰ برکت والا ہے جو سب سے اچھا خالق ہے۔ پھر آپ تشہد اور سلام کے درمیان یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (ترجمہ)یااللہ!میرے پہلے اور پچھلے پوشیدہ اور ظاہر(خلاف اولی)کاموں کو اور میری زیادتی کو بخش دے اور اس عمل کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہےتو آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے رکھنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٥؛حدیث نمبر١٧٠١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر فرماتے۔ (ترجمہ)میں نے اپنے آپ کو متوجہ کیا اور فرماتے میں سب سے پہلا مسلمان ہوں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے اور فرماتے اس نے کیا ہی اچھی صورت بنائی اور سلام پھیرتے وقت کہتے تھے یا اللہ!مجھے بخش دے(آخر تک حدیث نمبر ١٧١١ کی مثل)اس میں تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ؛جلد١ص٥٣٦؛حدیث نمبر١٧١٢)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی تو میں سوچا کہ آپ ایک سو آیات پر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ نے قرأت جاری رکھی۔میں نے سوچا ایک رکعت میں یہ سورت مکمل کریں گے لیکن آپ نے قرأت جاری رکھی میں نے سوچا اسے مکمل کر کے رکوع کریں گے لیکن آپ نے سورہ"نساء"شروع کر کے اسے پڑھا پھر آل عمران شروع کی اور اسے پڑھا۔آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے جب آپ ایسی آیت پڑھتے تھے جس میں تسبیح ہوتی تو سبحان اللہ کہتے۔جب سوال والی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے سے متعلق آیت پڑھتے تو پناہ مانگتے۔پھر آپ نے رکوع کیا اور اس میں سبحان ربی العظيم پڑھا۔حتیٰ کہ آپ کا رکوع قیام کے قریب ہوگیا۔پھر"سمع اللہ لمن حمدہ"کہا اور دیر تک کھڑے رہے جو رکوع کے قریب قریب تھا پھر سجدہ کیا تو اس میں"سبحان ربی الاعلی"پڑھا۔آپ کا سجدہ قومہ کے قریب قریب تھا۔ حضرت جریر کی روایت میں ہے آپ نے"سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد"پڑھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛ترجمہ؛رات کی نماز میں قرأت کو لمبا کرنا مستحب ہے؛جلد١ص٥٣٦؛حدیث نمبر١٧١٣)
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی تو آپ نے بہت طویل قیام کیا حتیٰ کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کیا۔فرماتے ہیں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس بات کا ارادہ کیا تھا؟فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں آپکے قیام کو چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧١٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٥)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو صبح تک سویا رہتا ہے۔آپ نے فرمایا اس شخص کے کان میں شیطان پیشاب کرتا ہے۔(کان میں فرمایا یا کانوں میں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ترجمہ؛یہ باب ہے ایسے شخص کے بارے میں جو صبح تک سویا رہتا ہے؛جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور حضرت فاطمۃ الزهراء رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہمارے نفس اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جب وہ بیدار کرنا چاہتا ہے۔اٹھا دیتا ہے(فرماتے ہیں)جب میں نے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور میں نے سنا آپ واپس جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرماتے تھے انسان بہت جھگڑالو ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ جلد١ص٥٣٧؛حدیث نمبر١٧١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں کوئی انسان سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ رات لمبی ہے۔جب وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس کی دو گرہ کھل جاتی ہیں پھر جب نماز پڑھتا ہے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں۔پس وہ صبح کے وقت ہشاش بشاش ہوتا ہے ورنہ صبح کے وقت خباثت اور سستی کے ساتھ اٹھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجَمْعَ حَتَّى أَصَبْحَ؛ جلد١ص٥٣٨؛حدیث نمبر١٧١٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اپنی کچھ نمازیں گھروں میں پڑھو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛نفل نماز گھر میں پڑھنا مستحب ہے؛جلد١ص٥٣٨؛حدیث نمبر١٧١٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں(بھی)نماز پڑھا کرو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اپنی نماز سے گھر کیلئے بھی حصہ بناۓ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں بہتری پیدا کرےگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢١)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا وہ گھر جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاۓ اور جس گھر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ جس گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاۓ اس سے شیطان بھاگتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٣)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں یا چٹائی کا ایک حجرہ بنایا۔پھر آپ تشریف لاکر اس میں نماز پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنا شروع کر دی۔فرماتے ہیں پھر ایک دن وہ حضرات آۓ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس تشریف لانے میں دیر کر دی۔فرماتے ہیں آپ تشریف نہ لاۓ تو انہوں نے اپنی آوازیں بلند کیں اور دروازے پر کنکریاں پھینکنا شروع کر دیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصّے کی حالت میں تشریف لائے اور ان سے فرمایا اگر تم اسی طرح کرتے رہے تو تم پر یہ نماز فرض کردی جائےگی۔گھروں میں نماز (نفل نماز) پڑھا کرو کیونکہ آدمی کی فرض نماز کے علاوہ نماز گھر میں بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٣٩؛حدیث نمبر١٧٢٤)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چٹائی سے مسجد میں ایک حجرہ بنا لیا پھر آپ نے وہاں کئی راتیں نماز پڑھیں حتیٰ کہ صحابہ کرام جمع ہو گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ١٧٢٤کی طرح ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تم پر یہ نماز فرض کردی جاتی توتم اس کو قائم نہ رکھ سکتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ، وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ؛جلد١ص٥٤٠؛حدیث نمبر١٧٢٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔وہ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی جسے رات کے وقت آپ حجرے کی شکل دیتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے۔صحابہ کرام نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردی اور دن کے وقت آپ اس(چٹائی)کو بچھا لیتے تھے۔ایک رات صحابہ کرام جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا اے لوگو!تم پر اس قدر عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اکتاتانہیں اور تم اکتا جاؤگے اور بےشک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ تھا کہ جب عمل کرتے تو اس پر دوام اختیار کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤٠؛حدیث نمبر١٧٢٦)
حضرت ابو سلمہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟آپ نے فرمایا جس عمل میں دوام ہو اگرچہ کم ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٧)
حضرت علقمہ فرماتے ہیں میں نےام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پھر سوال کرتے ہوئے عرض کیا۔اے ام المومنین!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیا کیفیت تھی کیا آپ عمل کیلئے کچھ دنوں کو مخصوص فرماتے تھے۔فرمایا نہیں بلکہ آپ کا عمل دائمی ہوتا تھا اور تم میں کون اس کی طاقت رکھتا ہے جتنی طاقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔اگرچہ کم ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عمل کرتیں تو اسے لازم کر لیتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٢٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی تھی۔آپ نے پوچھا یہ کیا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا حضرت زینب رضی اللہ عنہاکی رسی ہے۔وہ نماز پڑھتی ہیں جب تھکن یا سستی پیدا ہوتی ہےتو اس کو پکڑ لیتی ہیں آپ نے فرمایا اسے کھول دوتم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک خوشی خوشی پڑھ سکے۔جب سستی طاری ہو یا تھکن ہو جائے تو بیٹھ جاۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤١؛حدیث نمبر١٧٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣١)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حولاء بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف فرما تھے(فرماتی ہیں)میں نے کہا یہ حولاء بنت تویت ہیں۔ان کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ رات بھر نہیں سوتیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا رات بھر نہیں سوتیں؟(پھر فرمایا) اتنا عمل کرو جس کی تمہیں طاقت ہو اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا بلکہ تم اکتا جاؤگے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٢)
ایک اور سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لاتےاور میرے پاس ایک عورت تھی۔آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا یہ خاتون سوتی نہیں بلکہ نماز پڑھتی رہتی ہیں۔آپ نے فرمایا اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ اکتاتا نہیں بلکہ تم اکتا جاؤگے اور آپکے نزدیک دین میں پسندیدہ ترین عمل وہی تھا جسے کرنے والا ہمیشہ کرے حضرت ابو اسامہ کی روایت میں ہےکہ وہ عورت بنواسد قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں اونگھ آ جائے تو وہ سو جائے حتیٰ کہ اس سے نیند چلی جائے کیونکہ تم میں سے جو شخص حالت نماز میں اونگھتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ مغفرت طلب کرنے کی بجائے خود کو برا بھلا کہنے لگے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٢؛حدیث نمبر١٧٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک رات کے وقت (نماز کے لئے)کھڑا ہو اور قرآن مجید اس کی زبان پر مشکل ہو جائے(نیند کی وجہ سے اچھی طرح نہ پڑھ سکے)اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کہ رہا ہے تو اسے سو جانا چاہئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ، أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ، أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو رات کے وقت قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔اس نے مجھے فلاں فلاں آیات یاد کرا دیں جن کو میں فلاں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک صاحب کی قرأت غور سے سنتے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے وہ آیت یاد دلادی جو مجھ سے بھلائی گئ تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید حفظ کرنے والے کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جس کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہے۔اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا تو وہ ٹھہرارہےگا اور اگر چھوڑ دیا تو چلا جائیگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٣؛حدیث نمبر١٧٣٨)
ایک اور سند سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٧٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر حافظ قرآن رات اور دن کو اٹھ کر پڑھتا ہو تو اسے یاد رکھےگا اور اگر نہ اٹھا تو اسے بھول جاۓگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٣٩)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے کسی ایک کے لئے یہ بات بہت بری ہے کہ وہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسےبھلادیا گیا قرآن مجید کو دھیان سے یاد رکھو وہ لوگوں کے سینوں سے باندھے ہوئے جانور کی نسبت زیادہ بھاگتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔قرآن مجید کو خیال سے یاد رکھو یہ مردوں کے سینوں سے جانور کے رسی تڑا کر بھاگنے کی نسبت زیادہ بھاگتا ہے۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ کہے کہ اسے بھلا دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤١)
حضرت شقیق بن سلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعور رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں آدمی کے لئے یہ بات بری ہے کہ وہ کہے میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلایا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٤؛حدیث نمبر١٧٤٢)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا قرآن مجید کو یاد رکھو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ قرآن رسیاں تڑا کر بھاگنے والے اونٹ کی نسبت زیادہ(سینوں)سے نکلنے والا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا؛جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی عمل پر اتنا اجر نہیں دیتا۔جس قدر کے نبی کے خوش الحانی سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر دیتا ہے۔(یہاں اذن سے اجر دینا مراد ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ترجمہ؛اچھی آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا استحباب؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٤)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٧٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کام پر اتنا اجر عطاء نہیں فرماتا جس قدر نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر عطاء کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٥؛حدیث نمبر١٧٤٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٧)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جس قدر نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر اجر عطاء کرتا ہے اتنا اجر کسی دوسرے عمل پر عطاء نہیں کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٤٩)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن قیس یا حضرت اشعری کو ال داؤد(علیہ السلام)کی خوش آوازی سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٥٠)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تم مجھے دیکھتے جب کل رات میں تمہارا قرآن سن رہا تھا(تو تم خوش ہوتے)تمہیں حضرت داؤد علیہ السلام کی آل کی خوش آوازی سے حصہ دیا گیاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ؛ جلد١ص٥٤٦؛حدیث نمبر١٧٥١)
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سفر کے دوران سواری پر سورہ فتح پڑھی تو آپ قرأت کو دہراتے رہے۔حضرت معاویہ(بن قرہ)فرماتے ہیں۔اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں تم لوگوں کو وہ قرأت سناتا جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛باب ذکر قراءۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح یوم فتح مکۃ؛ جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٢)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر سورہ فتح پڑھ رہے تھے(راوی فرماتے ہیں)حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی قرأت کی اور بار بار دہرایا حضرت معاویہ(راوی)فرماتے ہیں اگر مجھے لوگوں کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں اسی طرح پڑھ کر سناتا جس طرح حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ؛بَابُ ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ؛بَابُ ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٤)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھااور اس کے پاس ایک گھوڑا دو لمبی رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کےگرد چکر لگانے اور قریب ہونے لگا اور گھوڑا اس سے بدکنے لگا۔صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی(قرآت کی)وجہ سے نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛ترجمہ؛قرآن مجید پڑھنے پر نزول سکینت؛جلد١ص٥٤٧؛حدیث نمبر١٧٥٥)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نے سورہ کہف پڑھی اور گھر میں ایک جانور تھا چنانچہ وہ بدکنے لگا۔انہوں نے دیکھا تو ایک بادل تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا۔فرماتے ہیں جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا اے شخص!پڑھتے رہو یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کے وقت نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ آپ کی گھوڑی کودنے لگی۔آپ نے قرأت جاری رکھی وہ پھر کودی۔انہوں نے پھر پڑھا تو وہ پھر کودنے لگی۔حضرت اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے خوف ہوا کہ وہ کہیں(میرے بچے)یحییٰ کو روند نہ ڈالے۔میں اٹھ کر گھوڑی کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں میرے سر کے اوپر ایک سائبان کی مثل ہے جس میں چراغ کی مثل ہے کچھ چیزیں روشن ہیں وہ سائبان اوپر چلا گیا حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔فرماتے ہیں صبح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ رات میں اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ میری گھوڑی نے کودنا شروع کر دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حفیر(قرآن مجید)پڑھتے رہا کرو۔فرماتے ہیں میں نے پڑھا تو وہ پھر کودنے لگی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا پڑھو ابن حفیر!فرماتے ہیں میں نے پھر پڑھا تو اس نے پھر کودنا شروع کر دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حفیر پڑھو۔فرماتے ہیں میں واپس لوٹ گیا تو دیکھا یحییٰ اس کے قریب تھا۔مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے۔میں نے سائبان کی طرح دیکھا جس میں چراغوں کی مثل(روشن)چیزیں تھیں اور وہ سائبان اوپر چلا گیا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح ان فرشتوں کو صحابہ کرام بھی دیکھتے وہ ان سے پوشیدہ نہ ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٨؛حدیث نمبر١٧٥٨)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مؤمن کی مثل مثال جو قرآن پڑھتا ہے جس کی خوشبو پسندیدہ اور ذائقہ بھی اچھا ہے اور وہ مؤمن جو قرآن مجید نہیں پڑھتا وہ کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں اور ذائقہ میٹھا ہے اور منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال نیازبو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور ذائقہ کڑوا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن(تمبہ)جیسی ہے جس کی خوشبو بھی نہیں اور ذائقہ بھی کڑوا ہے۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ؛ترجمہ؛حافظ قرآن کی فضیلت؛ جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٥٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ؛جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید میں ماہر شخص ان فرشتوں کے ساتھ رہتا ہے جو معزز اور بزرگ ہیں اور جو آدمی قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے دشواری ہوتی ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضْلِ الْمَاهِرِ فِي الْقُرْآنِ، وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ؛جلد١ص٥٤٩؛حدیث نمبر١٧٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛ بَابُ فَضْلِ الْمَاهِرِ فِي الْقُرْآنِ، وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی(بن کعب)سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں۔انہوں نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا تھا۔راوی فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رونے لگے(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛افضل کا فضیلت والوں کے سامنے قرآن پڑھنا؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے سامنے" لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا»، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ؟ قال نعم قال فبکی" پڑھوں۔ انہوں نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا تھا؟فرمایا ہاں راوی فرماتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (یہ سن کر)رونے لگے۔(مسلم شریف؛کتاب صلاۃ المسافرين وقصرہا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛افضل کا فضیلت والوں کے سامنے قرآن پڑھنا؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر ١٧٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ١٧٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْحُذَّاقِ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ؛جلد١ص٥٥٠؛حدیث نمبر١٧٦٥)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھ سے فرمایا میرے سامنے قرآن مجید پڑھو۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں حالانکہ قرآن مجید آپ پر نازل ہوا۔آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں۔فرماتے ہیں پس میں نے سورہ نساء پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ جب اس آیت پر پہنچا"{فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [سورة: النساء، آية رقم: ٤١]"پس کیسے ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر بطور گواہ لائیں گے"۔ تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا مجھے میرے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص نے اشارہ کیا تو میں نے سر اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو جاری ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ترجمہ؛حافظ قرآن مجید سننے کی فضیلت اور سن کر رونا اور غور وفکر کرنا؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت آپ ممبر پر تشریف فرما تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٧)
حضرت ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا میرے سامنے قرآن مجید پڑھو۔انہوں نے عرض کیا میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن پاک آپ پر نازل ہوا ہے۔آپ نے فرمایا میں دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں۔راوی فرماتے ہیں۔انہوں نے سورہ نساء کے آغاز سے"فکیف اذا جئنا(آیت مع ترجمہ گزشتہ حدیث میں دکھیں)تک پڑھا۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک ان میں ہوں ان پر گواہ رہوں گا(حضرت مسعر راوی کو شک ہے کہ"مادمت فہیم"فرمایا یا"ماکنت فیھم"فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٨)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حمص(مقام) میں تھا کہ کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤ میں نے ان کے سامنے سورہ یوسف پڑھی فرماتے ہیں ان میں سے ایک شخض نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم!یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا تم پر افسوس ہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے جس وقت میں اس شخص سے بات کر رہا تھا میں نے اس سے شراب کی بو محسوس کی میں نے کہا تم شراب پیتے ہو اور قرآن مجید کو جھٹلا تے ہو میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا حتیٰ کہ تجھے شراب نوشی پر حدلگاؤں۔فرماتے ہیں پھر میں نے اسے کوڑے لگائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥١؛حدیث نمبر١٧٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ، وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلِاسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ؛ جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کر تا ہے کہ جب گھر والوں کی طرف واپس آئے تو وہاں تین حاملہ بڑی اور موٹی تازی اونٹنیاں پائے؟ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا پس تین آیات جن کو تم میں سے کوئی ایک نماز میں پڑھے اس کیلئے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ وَتَعَلُّمِهِ؛ترجمہ؛نماز میں قرآن مجید کی قرأت اور سیکھنے کی فضیلت؛ جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ہم صفہ میں تھے تو آپ نے فرمایا تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا(فرمایا)عقیق (وادی) کی طرف جاۓ اور وہاں سے دو بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے اس نے(ان کو حاصل کرنے میں)نہ تو کوئی گناہ کیا ہو اور نہ ہی قطع رحمی کی ہو ہم نے عرض کیا یا رسول ہم یہ بات پسند کر تے ہیں۔آپ نے فرمایا تو تم میں سے کوئی ایک مسجد کی طرف نہیں جا تا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دو آیتیں سیکھے یا(فرمایا)پڑھے۔یہ اس کیلئے دواونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین(آیات) تین(اونٹنیوں) سے اور)چار،چارسے بہتر ہیں۔اسی طرح آیات کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ وَتَعَلُّمِهِ؛جلد١ص٥٥٢؛حدیث نمبر١٧٧٢)
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قرآن مجید پڑھو یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کیلئے سفارشی بن کر آئےگا۔دو روشن سورتیں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھو۔یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی۔گویا دو بادل ہوں یا دو سائبان یا صف بستہ پرندوں کی دو قطاریں ہوں یہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔سورہ بقرہ پڑھو اسے اختیار کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑنا حسرت (کا باعث)اور اہل باطل (جادوگر)اس کی طاقت نہیں رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ترجمہ؛قرآن مجید اور سورہ بقرہ پڑھنے کی فضیلت؛ جلد١ص٥٥٣؛حدیث نمبر١٧٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٣؛حدیث نمبر١٧٧٤)
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت کے دن قرآن مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو یوں لایا جائے گا کہ ان کے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آلِ عِمْرَانَ ہوں گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں آج تک نہیں بھولا۔آپ نے فرمایا گویایہ دونوں دو بادل یا دو سیاہ سائبان ہوں جن کے درمیان روشنی ہو یا پرندوں کی دو قطاریں جو اپنے پڑھنے والوں کی وکالت کریں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی۔آپ نے فرمایا یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا آج کے علاوہ کبھی نہیں کھولا گیا اور اس سے ایک فرشتہ زمین کی طرف اترا جو آج کے علاوہ کبھی نہیں اترا اس نے سلام کیا اور کہا دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو عطاء کئے گئے آپ سے پہلے کسی نبی کو عطاء نہیں کئے گئے۔ایک سورہ فاتحہ اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات آپ ان کا ایک حرف پڑھیں تو بھی اس کا مصداق مل جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ الْفَاتِحَةِ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَالْحَثِّ عَلَى قِرَاءَةِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ؛ترجمہ؛سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٦)
حضرت عبدالرحمن ابن یزید کہتے ہیں۔میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیت اللہ شریف کے پاس ملاقات کی تو میں نے کہا مجھے آپ سے ایک حدیث پہنچی ہے جو سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں ہے۔انہوں نے فرمایا ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورہ بقرہ کی آخری دو آیات وہ ہیں کہ جو شخص رات کے وقت ان کو پڑھے وہ اس کو کافی ہوں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٤؛حدیث نمبر١٧٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٧٨)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں وہ اسے(ہر پریشانی اور آفات وغیرہ میں)کافی ہوں گی۔حضرت عبدالرحمن بن یزید(راوی)فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعور رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور وہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے مجھ پر حدیث بیان کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی روایت منقول ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨١)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سورہ کہف کی دس آیات زبانی یاد کرلیں وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ترجمہ؛سورہ کہف اور آیت الکرسی کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٥؛حدیث نمبر١٧٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے البتہ اس میں حضرت شعبہ نے آخری دس آیات کا اور حضرت ہمام نے پہلی دس آیات کا ذکر کیا جیسا کہ ہشام نے کیا(حدیث ١٧٨٣ کے مطابق) (مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٣)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے ابوالمنذر!کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے تمہارے پاس کونسی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے؟وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے ابوالمنذر!تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب سے سب سے عظیم آیت کون سی ہے؟میں نے عرض کیا"اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم"(آیت الکرسی)آپ نے میرے سینے پر دست مبارک مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر!یہ علم تجھے مبارک ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ؛ جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٤)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات سے عاجز ہے کہ رات کے وقت قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھے۔صحابہ کرام نے عرض کیا تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟آپ نے فرمایا "قل ھو اللہ احد" تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛ترجمہ؛"قل ھو اللہ احد" پڑھنے کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٥)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا۔تو "قل ھو اللہ احد"(سورت)کو قرآن مجید کا ایک حصہ قرار دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٦؛حدیث نمبر١٧٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمع ہو جاؤ عنقریب میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید کی تلاوت کروں گا۔پس جن لوگوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہوۓ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور "قل ھو اللہ احد" (سورت) پڑھی۔پھر تشریف لے گئے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ہمارا خیال ہے کہ آپ کے پاس آسمان سے خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ اندر تشریف لے گئے ہیں ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تمہیں کہا تھا کہ عنقریب میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں گا سنو!یہ(سورہ اخلاص)قرآن مجید کے تہائی حصہ کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھتا ہوں۔پس آپ نے سورہ اخلاص مکمّل پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک دستے کا سربراہ بنا کر بھیجا اور وہ ان کو نماز پڑھاتے ہوئے قرآت کا اختتام سورہ اخلاص سے کرتے جب وہ لوگ واپس آئے اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔انہوں نے پوچھا تو اس صحابی نےجواب دیا اس لئے کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ؛جلد١ص٥٥٧؛حدیث نمبر١٧٨٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں آج رات کچھ آیات نازل ہوئیں جن کی مثل کبھی دیکھی نہیں گئی۔وہ"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"ہیں۔(دونوں سورتیں مکمل جن کومعوذتین کہتے ہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛ترجمہ؛معوذتین پڑھنے کی فضیلت؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٠)
ایک اور سند سے بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئیں ہیں انکی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی وہ معوذتین ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؛جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٢)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا دو آدمیوں کے علاوہ کسی پر شک نہیں ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا کیا پس وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس کی تلاوت کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے رات اور دن کی ساعتوں میں خرچ کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛ترجمہ؛قرآن مجید کی تعلیم اور قرآن مجید کے ساتھ قیام؛ جلد١ص٥٥٨؛حدیث نمبر١٧٩٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادو(قسم کے)آدمیوں کی علاوہ کسی پر"رشک نہیں کرنا چاہیے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عطاء کی پس وہ اس کے ساتھ دن اور رات کی گھڑیوں میں قیام کرتا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا پس وہ اسے دن اور رات کی ساعتوں میں صدقہ کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٤)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشک صرف دو آدمیوں پر ہو سکتا ہے۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطاء فرمائی اور دوسرا وہ شخص جس کو حکمت عطاء فرمائی پس وہ اس کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٥)
حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت نافع بن عبد الحارث نے مقام عفان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ مکرمہ کا نگران مقرر کیا ہوا تھا۔آپ نے پوچھا اہل وادی پر کس کو عامل مقرر کیا ہے؟انہوں نے جواب دیا ابن ابزی کو۔فرمایا ابن ابزیٰ کون ہے؟انہوں نے کہا ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک غلام ہیں۔آپ نے فرمایا تم نےان پر ایک غلام مقرر کر دیا۔انہوں نے عرض کیا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے قاری ہیں اور فرائض کا علم رکھتے ہیں۔اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو! بے شک تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند مقام عطا فرمایا ہے اور اس (پر عمل نہ کرنے)کی وجہ سے دوسروں کو پستی کی طرف لے جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ، وَيُعَلِّمُهُ، وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ، أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا؛جلد١ص٥٥٩؛حدیث نمبر١٧٩٧)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کے خلاف قرآت سے قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا جس قرأت سے میں پڑھتا ہوں۔ اور مجھے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے ان کو مہلت دی حتیٰ کہ جب وہ واپس ہونے لگے تو میں نے ان کی(گردن میں پڑی ہوئی)چادر سے کھینچا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ان کو سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا لیکن ان کی قرأت وہ نہ تھی جو آپ نے مجھے پڑھائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑھو۔انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے پھر مجھ سے فرمایا تم پڑھو میں نے قرأت کی تو آپ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔بے شک قرآن مجید سات قرأتوں پر نازل ہوا تمہیں جو آسان معلوم ہو پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛ترجمہ؛قرآن مجید کا سات حرفوں پر نازل ہونا کیا ہے؛ جلد١ص٥٦٠؛حدیث نمبر١٧٩٨)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ ان دونوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہشام بن حکیم سے سورہ فرقان کی قرأت سنی۔اس کے بعد حدیث نمبر ١٧٩٨ کی مثل ذکر کیا اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں جلدی کرتے ہوئے نماز کے دوران ہی ان پر حملہ آور ہوتا لیکن میں نے ان کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٧٩٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٧٩٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٠)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک حرف(لغت)پر قرآن مجید میرے سامنے پڑھا تو میں ان سے زیادہ لغات کا مطالبہ کرتا رہا تو انہوں نے مزید لغات کے مطابق قرأت کی حتیٰ کہ سات حروف(لغات)تک قرأت پہنچ گئی۔ابن شہاب کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان سات حروف کا معنیٰ واحد ہے۔حلال وحرام کے لحاظ سے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا اس نے وہ قرآت کی جو مجھے معلوم نہ تھی۔پھر ایک اور شخص داخل ہوا اور اس نے قرآت کی جو پہلے نے نہیں کی تھی جب ہم لوگ نماز سے فارغ ہوۓ تو ہم سب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اس شخص نے ایسی قرآت کی جو میرے لئے مانوس نہ تھی اور دوسرا داخل ہوا تو اس نے پہلے شخص کی قرآت کے علاوہ قرآت کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے قرآت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو صحیح قرار دیا اور تحسین فرمائی۔اس سے میرے دل میں ایسی تکذیب پیدا ہوئی جو دور جاہلیت میں نہیں پیدا ہوئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میری یہ کیفیت دیکھی تو میرے سینے پر ایک ضرب لگائی۔جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔گویا خوف کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا اے ابی!مجھے یہ پیغام بھیجا گیا کہ میں ایک حرف(لغت)کے مطابق قرآن مجید پڑھوں تو میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما پھر مجھے دو حرفوں(لغتوں)میں پڑھنے کا حکم دیا میں نے پھر امت کی آسانی کا سوال کیا تو تیسری مرتبہ سات حروف (لغات)پر پڑھنے کا حکم دیا(اور فرمایاآپ نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کا سوال کیا اتنی بار کے عوض ہم سے ایک دعا مانگ لو تو میں نے عرض کیا۔ اللهم اغفرلامتی اللهم اغفر للامتی۔ یا اللہ میری امت کو بخش دے یا اللہ میری امت کو بخش دے اور تیسری بار کی دعا میں نے اس دن کے لئے رکھ لی جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرح متوجہ ہوں گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦١؛حدیث نمبر١٨٠٣)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص داخل ہوا اور اس نے قرآت کی۔آگےحدیث نمبر ١٨٠٣کی طرح مکمّل حدیث ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٢؛حدیث نمبر١٨٠٤)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ بنو غفار قبیلے کے تالاب کے پاس تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوۓ اور انہوں نے عرض کیا بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف(لغت)پر قرآن پڑھے۔آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے عفو ودرگزر اور مغفرت کا سوال کروں گا اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آۓ اور عرض کیا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں(لغتوں)پر قرآن مجید پڑھے آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش کا سوال کرتا ہوں اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آۓ تو عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حروف(لغات) پر قرآن مجید پڑھے۔آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے عفوو مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور میری امت کو اس کی طاقت نہیں پھر وہ چوتھی مرتبہ آۓ تو عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت قرآن مجید سات حروف(لغات) پر پڑھتے وہ جس لغت پر قرآن پڑھیں درست ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٢؛حدیث نمبر١٨٠٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٠٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ؛جلد١ص٥٦٣؛حدیث نمبر١٨٠٦)
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں ایک شخص جس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابو عبدالرحمن!آپ اس لفظ کو"الف" کے ساتھ پڑھتے ہیں یا "یاء" کے ساتھ یعنی"من ماء غير اسن" یا "من ماء غير یاسن" پڑھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے اس لفظ کے علاوہ تمام قرآن کی تحقیق کر لی ہے۔اس نے کہا میں مفصل کو ایک رکعات میں پڑھتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم شعر کی طرح پڑھتے ہو بے شک کچھ لوگ قران مجید پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا لیکن جب دل میں واقع ہو کر مضبوط ہو جاتا ہے تو نفع دیتا ہے بے شک نماز کا افضل حصہ رکوع اور سجدہ ہے۔مجھے ان ہم مثل سورتوں کا علم ہے جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتوں کو ملا کر ہر رکعت میں پڑھتے تھے۔پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے داخل ہوئے پھر باہر نکلے تو فرمایا انہوں نے مجھے اس کی خبر دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛ترجمہ؛ترتیل سے قرآن پڑھنا اور ایک رکعت میں دو یا زیادہ سورتیں پڑھنے کی اجازت؛جلد١ص٥٦٣؛حدیث نمبر١٨٠٧)
حضرت ابو وائل نے بیان کیا کہ نہیک بن سنان نامی ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔پھر حدیث نمبر ١٨٠٧ کی مثل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ پھر حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان ہم مثل سورتوں کے بارے میں پوچھ لو جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے چنانچہ وہ داخل ہوئے اور ان سے پوچھا پھر باہر آئے تو کہا بیس سورتیں ہیں جو مفصل سے ہیں ان کو آپ دس رکعات میں پڑھتے تھے اور وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں(تحریر)ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٤؛حدیث نمبر١٨٠٨)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ میں ان ہم مثل سورتوں کو جانتا ہوں جن میں سے دو سورتوں کو ملا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے بیس سورتیں دس رکعات میں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٤؛حدیث نمبر١٨٠٩)
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ایک صبح ہم نماز فجر سے فراغت کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے دروازے میں(کھڑے ہوکر)سلام کیا اور آپ نے ہمیں اجازت دے دی ہم کچھ دیر دروازے پر ٹھہرے رہے۔فرماتے ہیں ایک لونڈی باہر آئی اور اس نے کہا کیا تم اندر داخل نہیں ہوتے؟پس ہم داخل ہوئے تو آپ بیٹھے ہوئے تسبیح کر رہے تھے فرمایا تمہیں اندر آنے سے کس بات نے روکا حالانکہ میں نے تمہیں اجازت دی تھی۔ہم نے عرض کیا اور کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ہمارا خیال تھا کہ گھر کے بعض افراد سوے ہوئے ہوں گے۔فرمایا تم حضرت ابن ام عبد(عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ)کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کرتے ہو۔راوی فرماتے ہیں پھر وہ تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ انہوں نے گمان کیا کہ سورج طلوع ہوچکا ہے۔فرمایا اے لونڈی!دیکھو کیا سورج طلوع ہوگیا ہے۔راوی فرماتے ہیں اس نے دیکھا تو ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔انہوں نے پھر تسبیح شروع کر دی حتیٰ کہ گمان کیا اب سورج طلوع ہوگیا ہوگا تو فرمایا اے لونڈی!دیکھو کیا سورج طلوع ہوگیا ہے۔اس نے دیکھا تو عرض کیا طلوع ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمارا یہ دین ہمیں واپس کیا۔ مہدی بن میمون(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے(یہ بھی)فرمایا اور اس نے ہمیں گناہوں کے سبب ہلاک نہیں کیا۔فرماتے ہیں حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا میں نے گزشتہ رات پوری مفصل پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے اس طرح پڑھا ہے جس طرح کوئی جلدی جلدی شعر پڑھتا ہے۔مجھے وہ ہم مثل سورتیں یاد ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے اٹھارہ سورتیں مفصل ہیں اور دو سورتیں آل اور حم ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٠)
حضرت شقیق فرماتے ہیں بنو بجیلہ کا ایک شخص جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میں ایک رکعت میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اس طرح تیز پڑھتے ہو جس طرح شعر پڑھتے ہیں مجھے ان مماثل سورتوں کا علم ہے جن میں سے دودو سورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١١)
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے آج رات ایک رکعت میں تمام مفصل سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے اس طرح تیز پڑھا جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں آپ نے فرمایا مجھے وہ ہم مثل سورتیں معلوم ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے پھر مفصل میں سے بیس سورتوں کا ذکر کیا۔آپ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ، وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ، وَهُوَ الْإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ، وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٢)
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو دیکھا اس نے اسودبن یزید سے سوال کیا اور وہ مسجد میں قرآن مجید کی تعلیم دے رہے تھے۔اس نے پوچھا آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہو۔"ھل من مدکر" میں دال پڑھتے ہو یا ذال؟انہوں نے فرمایا "دال" پڑھتا ہوں میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو "مد کر" دال کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛ترجمہ؛قرأت سے متعلق امور؛ جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حرف کو دال کے ساتھ"فھل من مد کر"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٤)
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم شام میں آۓ تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق پڑھے۔میں نے کہا جی ہاں میں ہوں انہوں نے پوچھا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کس طرح سنا ہے وہ "واللیل اذا یغشی" (آیت)کو کیسے پڑھتے تھے۔انہوں نے کہا میں نے سنا ہے آپ یوں پڑھتے تھے۔ واللیل اذایغشی والذ کر والانثی۔وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن ان لوگوں کا ارادہ ہے کہ میں "وما خلق" پڑھوں پس میں ان کے پیچھے نہیں چلتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٥؛حدیث نمبر١٨١٥)
حضرت ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ شام میں آۓ تو مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی پھر ایک حلقہ میں جاکر بیٹھ گئے۔فرماتے ہیں پھر ایک شخص آیا تو میں جان گیا کہ وہ ان لوگوں اور ان کی اس ہیئت سے ناراض ہے فرماتے ہیں وہ میرے پاس آکر بیٹھا۔پھر کہا آپ کو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یاد ہے۔ آگےحدیث نمبر ١٨١٥ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٦)
حضرت علقمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کن لوگوں سے تعلق رکھتے ہو۔میں نے کہا میں اہل عراق سے ہوں۔انہوں نے پوچھا عراق کے کس شہر کے رہنے والے ہو؟میں نے کہا کوفہ والوں سے ہوں پوچھا کیا تم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق پڑھ سکتے ہو؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں فرمایا "والليل اذا یغشیٰ"پڑھو فرماتے ہیں میں نے یوں پڑھا۔والليل اذا یغشیٰ والنھار اذا تجلی والذكر والانثی۔یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور فرمایا میں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛ترجمہ؛جن اوقات میں نماز ممنوع ہے؛ جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨١٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے متعدد صحابہ کرام سے سنا جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد طلوع آفتاب اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٦؛حدیث نمبر١٨٢٠)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٨٢٠کی مثل مروی ہے۔البتہ سعید اور ہشام کی روایت میں یہ ہے کہ صبح کے بعد سورج کے نکلنے تک(نماز سے)منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا قصد نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب آفتاب کے وقت تک نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٧؛حدیث نمبر١٨٢٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو تو اس کے ظاہر ہونے تک نماز مؤخر کر دو اور جب سورج کا کنارہ غائب ہو جاۓ تو(مکمّل)سورج غائب ہونے تک نماز مؤخر کر دو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٥)
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز مُخمّص مقام میں پڑھائی تو فرمایا بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا پس جو اس کی حفاظت کرےگا اس کیلئے دوگنا اجر ہے اور اس کے بعد نماز نہیں حتیٰ کہ شاہد یعنی ستارے طلوع ہو جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٢٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٧)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے جب سورج طلوع ہو جاۓ حتیٰ کہ وہ بلند ہو جاۓ ٹھیک دوپہر کے وقت کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج غروب ہونے لگے حتیٰ کہ غروب ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا؛جلد١ص٥٦٨؛حدیث نمبر١٨٢٨)
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی فرماتے ہیں میں زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔فرماتے ہیں میں نے سنا کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص ہے جو بہت سی خبریں دیتا ہے۔پس میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس آیا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ چھپے ہوئے ہیں اور قوم آپ پر دلیر ہو رہی ہے۔پھر میں کسی حیلے سے آپ کی خدمت میں مکہ مکرمہ پہنچا میں نے پوچھا آپ کون ہیں؟آپ نے فرمایا میں نبی ہوں۔میں نے پوچھا نبی کیا ہوتا ہے؟فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے میں نے کہا آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ فرمایا مجھے صلہ رحمی کرنے، بتوں کو توڑنے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانے کے پیغام کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نے پوچھا اس راستے میں آپ کے ساتھ کون ہے؟آپ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام ہے۔وہ فرماتے ہیں ان دنوں آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو آپ پر ایمان لاتے میں نے کہا میں بھی آپ کی اتباع کرنے والا ہوں۔آپ نے فرمایا اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔میرا اور ان لوگوں کا حال نہیں دیکھتے۔ ابھی اپنے گھر والوں کی طرف چلے جاؤ جب تمہیں خبر ملے کہ مجھے غلبہ حاصل ہو گیا تو میرے پاس آنا۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں اپنے گھر والوں کی طرف چلا گیا اور(پھر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور میں اپنے گھر میں تھا اور لوگوں سے آپ کے بارے میں خبر حاصل کرتا رہا۔اس دوران مدینہ طیبہ سے کچھ لوگ میرے پاس آۓ تو میں نے پوچھا یہ شخص جو مدینہ طیبہ آۓ ہیں۔ان کا کیا حال ہے انہوں نے کہا لوگ تیزی سے ان کا دین قبول کر رہے ہیں اور ان کی قوم نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ فرماتے ہیں پھر میں مدینہ طیبہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟آپ نے فرمایا ہاں تم وہی ہو جو مجھے مکہ مکرمہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں وہی ہوں۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی مجھے اس بات کی خبر دیجئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی اور مجھے اس بات کا علم نہیں۔مجھے نماز کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہو جاۓ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس کی گواہی دی جاتی ہے۔حتیٰ کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رک جاؤ۔اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔جب سایہ مشرق کی طرف چلا جاۓ تو نماز پڑھو اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں حتی کہ عصر کی نماز پڑھو تو پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!مجھے وضو کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے۔پس کلی کرتا ہے یا ناک میں پانی چڑھاتا اور اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے منہ اور نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا۔تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ داڑھی کے کناروں سے جھڑ جاتے ہیں پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے اتر جاتے ہیں پھر جب سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ بالوں کے کناروں سے گر جاتے ہیں پھر وہ اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ پانی کے ساتھ ہی پوروں سے گر جاتے ہیں۔ پس اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی بزرگی اس طرح بیان کرے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ کر دے تو اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہے۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو حضرت ابو امامہ نے ان سے فرمایا اے عمرو بن عبسہ!دیکھو تم کیا میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں گل گئی ہیں اور میری موت کا وقت آچکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یا دو یا تین بار حتیٰ کہ انہوں نے سات بار کا شمار کیا(اتنی بار)نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بھی بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس سے بھی زیادہ بار اسے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛- بَابُ إِسْلَامِ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ؛ج ١؛ص ٥٦٩؛حدیث نمبر١٨٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں نہیں چھوڑیں(عصر کے بعد کی دو رکعتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے عام لوگوں کے لیے عصر کے بعد نوافل پڑھنا جائز نہیں۔(١٢ہزاوی)۔راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا قصد نہ کرو کہ اس وقت تم نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس،عبد الرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا انہوں نے کہا ام المومنین کی خدمت میں ہم سب کی طرف سے سلام عرض کرنا اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے باے میں پوچھنا اور ان سے کہنا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو اس نماز سے روکتا تھا۔ حضرت کریب فرماتے ہیں میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دیا تھا آپ کی خدمت میں عرض کیا۔انہوں نے فرمایا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور ان کو ام المومنین کا پیغام دیا۔پھر انہوں نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس پیغام کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا۔حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنی دو رکعتوں سے روکتے تھے۔پھر میں نے دیکھا کہ آپ یہ نماز پڑھتے تھے۔جس وقت میں نے دیکھا کہ آپ عصر کی نماز پڑھ چکے۔پھر تشریف لائے اور میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کی خواتین تھیں تو آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھیں۔میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ کے پاس کھڑی ہوجانا پھر آپ سے عرض کرنا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آپ سے سنا آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے اور(اب)دیکھا کہ آپ پڑھ رہے ہیں اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لونڈی نے یہ عمل کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ سے پیچھے ہٹ گئی جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابو امیہ کی بیٹی!تم نے عصر کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے تو(بات یہ ہے کہ)میرے پاس بنو عبد القیس کے کچھ لوگ آۓ جو مجھ سے اسلام کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو ان کی وجہ سے میری ظہر کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں تو یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧١؛حدیث نمبر١٨٣٢)
حضرت ابو سلمہ کہتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو آپ پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو عصر کے بعد ان دو رکعتوں کو پڑھا پھر ان کو باقی رکھا اور اس کا طریقہ تھا کہ جب کوئی نماز پڑھتے تو ان کو ہمیشہ پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں دو نمازوں کو کبھی نہیں چھوڑا نہ ظاہری طور پر اور نہ خفیہ طریقے پر،فجر سے پہلے دو رکعتیں اور عصر کے بعد دو رکعتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٥)
حضرت اسود اور حضرت مسروق دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے گھر میں باری ہوئی تو آپ میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ؛جلد١ص٥٧٢؛حدیث نمبر١٨٣٦)
حضرت مختار بن فلفل فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز نفل پڑھنے پر(افسوس کے ساتھ)ہاتھ مارتے تھے اور ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج غروب ہونے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے فرمایا آپ ہمیں پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے تو حکم بھی نہ دیتے اور روکتے بھی نہیں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِِ؛ترجمہ؛نماز مغرب سے پہلے دو رکعتوں کا بیان؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کے لئے آذان دیتا تو صحابہ کرام ستونوں کی طرف جلدی کرتے اور دو رکعتیں پڑھتے حتیٰ کہ جب کوئی اجنبی مسجد میں داخل ہوتا تو کثرت سے نمازیوں کو دیکھ کر خیال کرتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے(خلفائے راشدین اور بکثرت صحابہ رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں حضرت امام مالک،حضرت امام ابو حنیفہ اور اکثر فقہائے کے نزدیک یہ رکعتیں سنت نہیں ہیں(شرح صحیح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٢ص٦١٤)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِِ؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٨)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو اذانوں(اذان اور تکبیر) کے درمیان نماز ہے۔آپ نے تین مرتبہ فرمایا اور تیسری مرتبہ فرمایا جس کا جی چاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ؛دوآذانوں کے درمیان نماز ہے؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٣٩)
ایک اور سند سے بھی حضرت مغفل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ چوتھی مرتبہ فرمایا جس کا جی چاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ؛جلد١ص٥٧٣؛حدیث نمبر١٨٤٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعات پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا پھر وہ چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور ان کی توجہ دشمن کی جانب تھی اور وہ(دوسرے) آگئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا پھر انہوں نے بھی دوسری رکعت پڑھی اور ان دوسروں نے بھی دوسری رکعت ادا کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛ترجمہ؛نماز خوف کا بیان؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤١)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز خوف بیان کرتے ہوئے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی پھر حدیث نمبر ١٨٤١کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دنوں میں نماز خوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا جو حضرات آپ کے ساتھ تھے آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آگئے آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں گروہوں نے اپنی اپنی (باقی)رکعت پوری کی۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر نے فرمایا جب خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو سواری کی حالت میں یا پیدل اشارے سے نماز پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نماز خوف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوۓ تو ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں باندھیں جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے اپنے سر اٹھاۓ پھر آپ سجدے کے لئے جھکے اور وہ صف بھی آپ کے ساتھ سجدے میں چلی گئی جو آپ کے ساتھ تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ مکمل کیا(دونوں سجدے کر لئے) اور آپ کے ساتھ والی صف دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑی ہو گئی اور دوسری صف آکر آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی جو صف پیچھے تھی وہ آگے بڑھی اور جو آگے تھی وہ پیچھے چلی گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اٹھایا۔پھر آپ سجدے میں چلے گئے اور جو آپ کے ساتھ تھے وہ بھی سجدے میں چلے گئے یعنی وہ صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی اور اب دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہوئے اور وہ صف بھی جو آپ کے ساتھ تھی تو پچھلی صف سجدہ میں چلی گئی اور انہوں نے سجدہ کیا پھر آپ نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی سلام پھیرا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح آجکل تمہارے محافظ تمہارے سرداروں کے ساتھ کرتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٤؛حدیث نمبر١٨٤٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جُہینہ قبیلہ سے لڑائی لڑی تو انہوں نے ہم سے سخت لڑائی کی جب ہم ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مشرکین نے کہا اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کرتے تو ان کو کاٹ کر رکھ دیتے۔اس پر حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے ہم سے ذکر کیا۔فرماتے ہیں کفار نے کہا عنقریب ان کی ایک ایسی نماز آرہی ہے جو ان کو انکی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے جب عصر کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں باندھیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی آپ نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ پہلی صف نے سجدہ کیا جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے بڑھ گئی اور وہ پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے پھر آپ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔آپ نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف نے آپ کے ہمراہ سجدہ کیا جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے بڑھ گئی اور وہ پہلی صف کی جگہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔پھر آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی پھر جب دوسری صف نے سجدہ کیا تو سب بیٹھ گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔پھر حضرت جابررضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح آج کل تمہارے امراء تمہیں نماز پڑھاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٥)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو حالت خوف میں نماز پڑھائی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں جو آپ کے ساتھ تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے ہوئے اور مسلسل کھڑے رہے حتیٰ کہ جو ان کے پیچھے تھے وہ ایک رکعت پڑھ چکے پھر وہ آگے بڑھے اور جو ان سے آگے تھے وہ پیچھے ہٹ گئے تو آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو لوگ پیچھے تھے وہ ایک رکعت پڑھ چکے تو آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٦)
حضرت صالح بن خوات رضی اللہ عنہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع(غزوۂ نجد)کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی کہ ایک گروہ آپ کے ساتھ صف بستہ تھا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں تھا جو آپ کے ساتھ تھے۔آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر نماز مکمل کی اور وہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان کو وہ رکعت پڑھائی جو باقی تھی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی نماز خوف مکمل کی پھر آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٥؛حدیث نمبر١٨٤٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے حتیٰ کہ ہم غزوۂ ذات الرقاق میں پہنچے۔فرماتے ہیں پھر وہاں ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے جسے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا۔فرماتے ہیں پھر مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے آپ کی تلوار لی اور اسے(میان سے نکال کر)کھینچا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں اس نے کہا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟فرمایا اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے اسے ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار کو میان میں ڈال کر لٹکا دیا۔فرماتے ہیں پھر نماز کیلئے آذان دی گئی تو آپ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔پھر وہ پیچھے ہٹ گئے تو آپ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔فرماتے ہیں اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور قوم کی(جماعت کے ساتھ)دو رکعتیں ہوئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٦؛حدیث نمبر١٨٤٨)
حضرت جابررضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک کو دو رکعتیں پڑھائیں اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں اور ہر گروہ نے(باجماعت)دودو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ؛جلد١ص٥٧٦؛حدیث نمبر١٨٤٩)
Muslim Shareef : Kitabu Salatil Musaferina Wa Qasreha
|
Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
|
•