
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے لئے جانے کا ارادہ کرے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جمعہ کا بیان؛ جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ ممبر پر تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو جمعہ کے لئے آئے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کہ دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی (مسجد میں) داخل ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ آنے کا وقت ہے؟انہوں نے عرض کیا میں آج مشغول تھا اور گھر کی طرف بھی نہ آسکا حتیٰ کہ میں نے آذان سنی۔پھر صرف وضو کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا صرف وضو؟حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کا نام لئے بغیر فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ آذان کے بعد دیر کرتے ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیرالمومنین!میں نے آذان سننے کے بعد صرف وضو کیا اور حاضر ہو گیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا صرف وضو کیا؟کیا تم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے لئے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔(مسلم شریف كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جمعہ کا بیان؛ جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ(مسلمان)پر واجب ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور(مدینہ طیبہ کے)بالائی آبادیوں سے باری باری جمعہ کے لئے آتے تھے۔وہ عباء (اونی وغیرہ) پہن کر آتے اور ان پر غبار پڑتی اور پھر ان سے بو آتی۔ان میں سے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ میرے ہاں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا اچھا ہواگر تم آج کے دن کے لئے خوب پاکیزگی حاصل کرو۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ کام کاج کرتے تھے اور ان کے خادم وغیرہ نہ تھے اور ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا اگر تم جمعہ کے دن غسل کیا کرو تو اچھی بات ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔حضرت بکیر راوی نے حضرت عبدالرحمن سے یہ بات ذکر نہیں کی بلکہ خوشبو کے بارے میں فرمایا اگرچہ عورت کی خوشبو سے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ کے دن خوشبو لگانا اور مسواک کرنا؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٩)
حضرت طاؤس؛حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا۔حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ خوشبو لگاۓ یا تیل اگر اس کے گھر والوں کے پاس ہو تو انہوں نے فرمایا مجھے اس بات کا علم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتہ میں ایک بار غسل کرے اپنے سر اور جسم کو دھوۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر(مساجد کی طرف)گیا۔گویا اس نے اونٹ کی قربانی دی اور جو دوسری ساعت میں گیا۔اس نے گاۓ کی قربانی دی اور جو تیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگوں والے مینڈھے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا۔گویا اس نے مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں ساعت میں گیا گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا پس جب امام(خطبہ کے لئے)نکلتا ہے تو فرشتے حاضر ہو کر ذکر سنتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کے دن خطبہ امام کے دوران اپنے ساتھی سے کہو کہ خاموش ہو جاؤ تو تم نے لغو کلام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ جمعہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم جمعہ کے دن اپنی ساتھی سے کہو خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم لغو کلام کہا ابو زناد کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت"لغِیتَ" ہے حالانکہ"لغَوتَ" ہے معنیٰ ایک ہی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر فرمایا تو ارشاد فرمایا۔اس میں ایک ساعت ہے جو کسی مسلمان کے موافق ہو جاۓ اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔حضرت قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ راوی نے ہاتھ کے اشارے سے اس (ساعت) کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جمعہ کے دن ایک ساعت ہے جو کسی مسلمان کو حالت نماز میں موافق ہو جاۓ اور وہ اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔راوی ہاتھ کے اشارے سے اس کی قلت بیان کر کے اس کی رغبت دلاتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ہےجو کسی مسلمان کے موافق ہو جاۓ اور وہ اس میں بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے۔ فرمایا یہ مختصر سی ساعت ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٧٢ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ مختصر سی ساعت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٣)
حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کی(خاص)ساعت کے بارے میں روایت کیا ہو؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ ساعت امام کے (منبر پر)بیٹھنے سے لے کر نماز کے مکمّل ہونے تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٤)
حضرت عبدالرحمن الأعرج فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے جس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن ان کو جنت سے باہر آنے کا حکم ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛فضائل یوم جمعہ؛ جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا گیا اسی دن آپ جنت سے باہر تشریف لائے اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن ہم پہلے ہونگے۔علاوہ ازیں تمام امتوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر لکھ دیا۔ اللہ تعالی نے اس کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی پس اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں۔یہودی کل (آنے والے یعنی سنیچر کے دن)اور عیسائی پرسوں(اتوار کے دن)ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛امت محمدیہ کو یوم جمعہ کی ہدایت؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٨٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہم پچھلے ہیں قیامت کے دن پہلے ہونگے اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والےہم ہوں گے البتہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی پس انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حق کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی جس حق میں انہوں نے اختلاف کیا تو یہ وہ دن ہےجس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی فرمایا پس جمعہ کا دن ہمارے لئے ہے۔ کل کا دن یہودیوں کے لئے اور پرسوں کا دن عیسائیوں کے لئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں قیامت کے دن پہلے ہونگے۔البتہ ان کو کتب ہم سے پہلے دی گئیں اور ہمیں ان کے بعد عطا ہوئیں اور یہ دن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمایا تو انہوں نے اس میں اختلاف کیا پس اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی۔لہٰذا وہ اس میں ہمارے تابع ہیں یہودی کل(بروز ہفتہ)اور عیسائی پرسوں(بروز اتوار) ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨٠)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔وہ دونوں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو جمعہ سے بھٹکا دیا پس یہودیوں کے لئے ہفتے کا دن اور عیسائیوں کے لئے اتوار کا دن ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں جمعہ کے دن کی طرف رہنمائی فرمائی پس جمعہ ہفتہ اور اتوار بناۓ تو اسی طرح وہ قیامت تک ہم سے پیچھے رہیں گے ہم اہل دنیا میں سب سے پیچھے اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے کہ تمام مخلوق سے پہلے ہمارے بارے میں فیصلہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨١)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی طرف ہماری رہنمائی کی گئی اور ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے گمراہ کردیا۔پھرحدیث نمبر ١٨٨١کی طرح ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو ہر مسجد کے دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو پہلے آنے والوں کو لکھ لیتے ہیں پھر جو ان کے بعد آتے ہیں۔جب لوگ بیٹھ جاتے ہیں تو فرشتے اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور حاضر ہو کر غور سے ذکر(خطبہ)سنتے ہیں اور جو آدمی(زوال کے بعد)جلدی آتا ہے۔وہ اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی دیتا ہے۔پھر اس کی طرح جو گاۓ قربان کرتا ہے پھر اس کی طرح جو مینڈھے کی قربانی دیتا ہے پھر اس کی طرح جو مرغی کے ذریعہ قرب خداوندی حاصل کرتا ہے پھر اس کی طرح جو انڈا بطور صدقہ دیتاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ میں جلدی جانے کی فضیلت؛ جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٨٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے آنے والے کو لکھ لیتا ہے۔پہلا اونٹ کی قربانی والے کی طرح ہوتا ہے پھر بتدریج کم کرتے کرتے انڈے کا ذکر فرمایا تو امام(خطبہ کے لئے)بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیےجاتے ہیں اور فرشتے ذکر(سنے)کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے غسل کیا پھر جمعہ کے لئے آیا اور جس قدر نماز اس کے مقدر میں ہے،پڑھی پھر خاموش رہا حتیٰ کہ وہ(امام)خطبہ سے فارغ ہو گیا۔پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی تو اس سے پچھلے جمعہ کے درمیان اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کے لئے آیا(خطبہ) غور سے سنا اور خاموش رہا اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو چھوا(خطبہ کے دوران غیر ضروری حرکت کی)اس نے فضول کام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے پھر واپس آکر اپنی اونٹنیوں کو آرام پہنچاتے۔حسن فرماتے ہیں میں نے جعفر(راوی)سے پوچھا یہ کس وقت ہوتا تھا فرمایا زوال آفتاب کے وقت۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٨٨)
حضرت جعفر کے والد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کب نماز جمعہ ادا فرماتے تھے؟انہوں نے جواب دیا آپ نماز پڑھ لیتے تو ہم اپنی اونٹوں کی طرف جاتے اور ان کو آرام پہنچاتے حضرت عبد اللہ نے اپنی روایت میں سورج ڈھلنے کا ذکر بھی کیا۔اس سے پانی لانے والی اونٹنیاں مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٨٩)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔ ابن حجر نے یہ اضافہ کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٩٠)
حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب سورج ڈھل جاتا تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھتے پھر سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس لوٹتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩١)
حضرت سلمہ بن اکوع ہی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھتے اور واپس آتے تو دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ ان کی آڑ میں سایہ حاصل کریں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہوکر دیتے تھے پھر بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے جس طرح آج کل تم لوگ کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛نماز جمعہ سے پہلے دو خطبے اور خطبے کے درمیان بیٹھنا؛جلد١ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان بیٹھتے تھے آپ(خطبوں میں)قرآن مجید پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پس جو شخص تمہیں یہ بتاۓ کہ آپ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اس نے جھوٹ کہا اللہ کی قسم میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھیں(پانچوں نمازیں اور جمعہ وغیرہ)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ آیا تو بارہ افراد کے علاوہ باقی سب لوگ اس کی طرف چلے گئے تو وہ آیت نازل ہوئی جو سورۃ جمعہ میں ہے۔:{وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] "."اور جب وہ تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہونے کی حالت میں چھوڑ دیتے ہیں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ١٨٩٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں خطبہ کا ذکر ہے کھڑا ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم(ایک دفعہ)جمعہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک قافلہ آیا۔فرماتے ہیں لوگ اس کی طرف نکل گئے اور صرف بارہ آدمی رہ گئے جن میں میں بھی تھا۔فرماتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی "اور جب وہ تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہونے کی حالت میں چھوڑ جاتے ہیں"(جمعہ؛ ١١)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے تھے کہ ایک قافلہ مدینہ شریف کی طرف آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے جلدی کی حتیٰ کہ آپ کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ فرماتے ہیں اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی(ترجمہ)"اور جب تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں"(جمعہ؛١١)(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٩)
حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور عبدالرحمن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا۔انہوں نے کہا اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(ترجمہ)"اور جب تجارت یا کھیل کود کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٠)
حکم بن میناء کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر کی سیڑھیوں پرفرما رہے تھے ان لوگوں کو جمعہ چھوڑنے سے باز آنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَة؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی اعتدال پر مبنی ہوتی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ اور نماز میں تخفیف؛ جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازیں پڑھی ہیں تو آپ کی نماز اور خطبہ دونوں اعتدال پر ہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں آواز بلند ہو جاتی اور غصہ زیادہ ہو جاتا۔گویا آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح اور شام تم پر حملہ کرنے والا ہے اور آپ فرماتے تھے مجھے اور قیامت کو ایک ساتھ بھیجا گیا۔آپ شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات فرماتے اور یوں فرماتے اما بعد۔بہترین بات اللہ کا کلام ہے اور بہترین سیرت،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور سب سے برے کام بدعات ہیں اور ہر(بری)بدعت گمراہی ہے۔پھر فرماتے ہیں ہم مؤمن کی جان پر تصرف میں اس کے نفس سے زیادہ قریب اور مختار ہوں جو شخص مال چھوڑ جائے وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے وہ میرے ذمہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٢؛حدیث نمبر١٩٠٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتے پھر بلند آواز سے فرماتے۔اما بعد! اس کے بعد حدیث نمبر ١٩٠٤ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٢؛حدیث نمبر١٩٠٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتے جو اس کے شایانِ شان ہے۔پھر فرماتے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٣؛حدیث نمبر١٩٠٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ آیا اور وہ قبیلہ شنوءہ سے تعلق رکھتا تھا اور وہ جنات کے اثر کا دم کرتا تھا۔اس نے اہل مکہ میں سے بیوقوف لوگوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون ہیں تو اس نے کہا کاش میں اس شخص کو دیکھ لیتا تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا دے دے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کی آپ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس اثر کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ سے شفا دیتا ہے۔آپ کا کیا خیال ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (ترجمہ)بے شک تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں جسے وہ ہدایت دے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ امابعد۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نے کہا اپنے یہ کلمات دوبارہ ارشاد فرمائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ کلمات ارشاد فرماۓ۔اس نے کہا میں نے کاہنوں(نجومیوں)کا کلام،جادوگروں کا کلام اور شعراء کا کلام سنا ہے لیکن ان کلمات جیسا کلام نہیں سنا یہ تو(بلاغت کے)سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔اس نے کہا اپنا ہاتھ بڑھائیے۔میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں پس اس نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم کی بیعت بھی لے لوں؟اس نے کہا میری قوم کی بیعت بھی لے لیں۔ راوی فرماتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا وہ لوگ اس قوم پر سے گزرے تو لشکر کے امیر نے کہا تم نے ان لوگوں کی کوئی چیز لی ہے تو ان میں سے ایک نے کہا میں نے ان کا لوٹا لیا فرمایا واپس کرو یہ ضماد کی قوم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٣؛حدیث نمبر١٩٠٧)
حضرت ابو وائل کہتے ہیں۔حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں نہایت مختصر اور بلیغ خطبہ دیا۔جب وہ(ممبر سے)اترے تو ہم نے کہا اے ابوالیقظان آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا اگر میں ہوتا تو لمبا خطبہ دیتا۔انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بندے کی لمبی نماز(نفل نماز)اور چھوٹا خطبہ اس کی فقاہت کی علامت ہے۔پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر پڑھو اور بےشک بعض بیان جادو ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩٠٨)
حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا اور کہا جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ بھٹک گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بہت برے خطیب ہو یوں کہو جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وہ بھٹک گیا۔(اس کو اس لیے برا خطیب فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ضمیر کے بجائے صراحتاً کرنا چاہیے تھا ایک ضمیر کی وجہ سے نہیں فرمایا اور نہ احادیث میں اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اکٹھی ضمیر آئی ہے۔(شرح مسلم از علامہ سعیدی جلد ٢ص٦٦٥) (مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩٠٩)
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا{وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: ٧٧](اے مالک فرشتے!آپ کا رب ہمارے بارے میں فیصلہ فرماۓ)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩١٠)
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کی بہن بیان کرتی ہیں کہ میں نے"ق والقرآن المجید"(سورت)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی۔آپ ہر جمعہ کے دن اسے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٢)
حضرت حارثہ بن نعمان کی بیٹی کہتی ہیں۔میں نے سورہ"ق والقرآن المجید"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے۔آپ ہر جمعہ کے دن خطبہ میں یہ سورت پڑھتے تھے۔وہ فرماتی ہیں ہمارا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٣)
حضرت حارثہ بن نعمان کی صاحبزادی ام ھشام فرماتی ہیں کہ دو سال یا ایک سال اور کچھ زائد عرصہ ہمارا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا اور میں نے"ق والقرآن المجید"اپکی زبان مبارک سے سن کر یاد کی آپ ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ سورت پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٤)
حضرت عمارہ بن رؤیبہ نے کہا کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اللہ تعالیٰ اس کے دونوں ہاتھوں کو برباد کر دے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اس پر اضافہ نہ فرماتے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے فلاں!کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور نماز(تحیۃ المسجد)پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١٧ کی مثل مروی ہے اور دو رکعتوں کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے۔اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے۔اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩٢٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےخطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے دن آۓ اور امام(خطبہ کے لئے)نکل چکا ہو تو دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩٢١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سلیک غطفانی جمعہ کے دن آۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ نے ان سے پوچھا کیا تم دو رکعتیں پڑھ چکے ہو؟عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلیک غطفانی جمعہ کے دن حاضر ہوۓ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے وہ بیٹھ گئے۔آپ نے ان سے فرمایا اے سلیک اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو اور ان میں اختصار اختیار کرو۔پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے دن آۓ اور امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو اختصار کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢ ؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٣)
حضرت ابورفاعہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ خطبہ پڑھ رہے تھے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ایک اجنبی شخص آیا ہے جو اپنے دین کے بارے میں پوچھتا ہے اور وہ اپنے دین کے بارے میں نہیں جانتا فرماتےہیں(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ دیا حتیٰ کہ میری طرف متوجہ ہو گئے۔پس ایک کرسی لائی گئی میرا خیال ہے کہ اس کے پاۓ لوہے کے تھے۔فرماتے ہیں آپ اس پر تشریف فرما ہوۓ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ سکھایا اس میں سے مجھے سکھانے لگے پھر اپنے خطبہ کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے آخری حصے کو مکمل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ حَدِيثِ التَّعْلِيمِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٤)
حضرت ابورافع فرماتے ہیں۔مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ شریف کا گورنر بنایا اور خود مکہ مکرمہ کی طرف چلا گیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھاتے ہوئے دوسری رکعت میں سورۂ جمعہ کے بعد سورہ منافقون پڑھی نماز سے فراغت کے بعد میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے عرض کیا۔آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھتے تھے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٢٥ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقون پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٦)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ کی نماز میں"سبح اسم ربک الاعلی"اور "ھل اتاک حدیث الغاشیہ"پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہوتے تو آپ دونوں نمازوں میں یہی پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٨)
حضرت ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھ کر پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ"ھل اتاک حدیث الغاشیہ"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں"الم تنزیل السجدۃ"اور ھل اتی علی الانسان حین من الدھر"پڑھتے تھے اور آپ جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں"الم تنزیل"اور"ھل اتی"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں الم تنزیل اور دوسری رکعت میں"ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شيئا مذکورا"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ(کی نماز)پڑھے تو اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ کے بعد نماز؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ(کی فرض نماز)کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعات پڑھو ایک اور روایت میں ہے کہ اگر تمہیں جلدی ہو تو مسجد میں دو رکعتیں پڑھو اور دو رکعتیں گھر جاکر پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو وہ چار رکعات پڑھے اور جریر کی روایت میں منکم کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٧)
حضرت نافع فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز جمعہ سے فارغ ہوتے تو گھر تشریف لے جاتے اور وہاں دورکعتیں پڑھتے تھے۔پھر فرماتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٨)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جمعہ کے بعد گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤٠)
حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے انہیں سائب ابن اخت نمر کی طرف بھیجا کہ ان سے ان باتوں کے بارے میں پوچھیں جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز میں دیکھی ہیں۔انہوں نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز مقصورہ میں پڑھی۔جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اٹھ کر اپنی نماز پڑھی جب وہ داخل ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا۔آئندہ اس طرح نہ کرنا جب جمعہ پڑھ لو تو اس کے بعد نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ کلام کرو یا نکل جاؤ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ کلام کریں یا(اس جگہ سے)چلے جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤١)
حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے ان کو سائب بن یزید بن اخت نمر کے پاس بھیجا۔پھر حدیث نمبر ١٩٤١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔امام کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤٢)
Muslim Shareef : Kitabul Juma
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْجُمُعَةِ
|
•