asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabun Nikah

From 1080 to 1145

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ابواب نکا ح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں سنت انبیاء (علیہم السلام ) سے ہیں حیا کرنا،عطر لگانا،مسواک کرنا،اور نکاح کرنا،اس باب میں حضرت ثوبان،ابن مسعود،عائشہ،عبداللہ بن عمرو،جابر اور عکاف رضی اللہ عنہم سے بھی روایات،حدیث ابی ایوب حسن غریب ہے، عباد بن عوام نے باواسطہ حجاج،مکحول اور ابو الشمال حضرت ایوب رضی اللہ عنہ سے،حدیث حفص کی مثل مرفوع حدیث روایت کی،اس حدیث کو ہشیم اور محمد بن یزید واسطی،ابو معاویہ اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ حجاج اور مکحول حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا،ابو شمال کا واسطہ مذکور نہیں حفص بن غیاث اور عباد بن عوام کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۷؛ابواب النکاح عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَی اللَّہِ عَلَیْہِ وَسَلَّم، جلد ۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٨٠)

أبواب النكاح - أَبْوَابُ النِّكَاحِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّزْوِيجِ، وَالحَثِّ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ المُرْسَلِينَ: الحَيَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاكُ، وَالنِّكَاحُ ". وَفِي البَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَثَوْبَانَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي نَجِيحٍ، وَجَابِرٍ، وَعَكَّافٍ.: «حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ». حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ العَوَّامِ، عَنِ الحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصٍ.: وَرَوَى هَذَا الحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الوَاسِطِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، «وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ أَبِي الشِّمَالِ، وَحَدِيثُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ وَعَبَّادِ بْنِ العَوَّامِ أَصَحُّ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1080

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے اس وقت ہم جوان تھے ،ہمارے پاس مال و متاع کچھ نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانو ! نکاح کرو کیونکہ یہ نگاہ اور شرمگاہ کو زیادہ محفوظ رکھتا ہے۔ جسے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے (گناہوں سے) خصی ہونے کے مترادف (یعنی رکاوٹ )ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حسن بن علی خلال نے باواسطہ عبداللہ بن نمیر اور اعمش ،عمارہ سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی۔ کئی حضرات نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اعمش،ابراہیم اور علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۷؛ابواب النکاح عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَی اللَّہِ عَلَیْہِ وَسَلَّم، جلد ۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٨١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، عَلَيْكُمْ بِالبَاءَةِ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ». حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ نَحْوَهُ.: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ هَذَا، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَالمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.: «كِلَاهُمَا صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1081

ترک نکاح کی ممانعت حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجرد سے منع فرمایا،زید بن اخزم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی" ولقد ارسلنا رُسُلًا مِںْ قَبْلکَ الخ " اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کی بیویاں اور اولاد بنائی) اس باب میں حضرت سعد، انس بن مالک،عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث سمرہ حسن غریب ہے، اشعث بن عبدالملک نے بواسطہ حسن اور سعد بن ہشام،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی۔ کہا گیا ہے کہ دونوں روایتیں صحیح ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۸؛مَا جَاءَ فِی النّہيِ عَنِ التَّبتُّلِ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ البَصْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ»: وَزَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ فِي حَدِيثِهِ، وَقَرَأَ قَتَادَةُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد: 38] وَفِي البَاب عَنْ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»، وَرَوَى الأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ هَذَا الحَدِيثَ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَيُقَالُ: «كِلَا الحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1082

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ترک نکاح کی درخواست رد فرما دی اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۸؛مَا جَاءَ فِی النّہيِ عَنِ التَّبتُّلِ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٣)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1083

نکاح کے لیے دیندار کا انتخاب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کا دین و اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ بپا ہوگا،اس باب میں حضرت ابو حاتم مزنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو ہریرہ میں عبدالحمید بن سلیمان کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے،لیث بن سعد نے بواسطہ ابن عجلان،حضرت ابوہریرہ سے مرسلًا روایت کی ابن عثیمین کا واسطہ مذکور نہیں،امام بخاری نے لیث کی روایت کو عمدہ کہا اور عبدالحمید کی روایت محفوظ شمار نہیں کی، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۹؛مَا جَاءَ فِي مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فزَوِّجوهُ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٤)

بَابُ مَا جَاءَ إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فَزَوِّجُوهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ» وَفِي البَاب عَنْ أَبِي حَاتِمٍ المُزَنِيِّ، وَعَائِشَةَ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ خُولِفَ عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الحَدِيثِ» وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.: قَالَ مُحَمَّدٌ: «وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَشْبَهُ وَلَمْ يَعُدَّ حَدِيثَ عَبْدِ الحَمِيدِ مَحْفُوظًا»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1084

حضرت ابو حاتم مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کرو،اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد ہوگا،(دو مرتبہ فرمایا) صحابہ کرام نے عرض کیا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ اس میں (کفو اور مال کے اعتبار سے) کچھ کمی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اسے نکاح کر کے دو (تین مرتبہ فرمایا ) یہ حدیث غریب ہے ابوحاتم کی صحابیت ثابت ہے البتہ ہمیں اس حدیث کے علاوہ ان سے کوئی روایت معلوم  نہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۹؛مَا جَاءَ فِي مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فزَوِّجوهُ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ البَلْخِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَسَعِيدٍ، ابْنَيْ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ المُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ؟ قَالَ: «إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ»، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو حَاتِمٍ المُزَنِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ، وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1085

تین صفات پر نکاح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،عورت سے اس کے دین،مال اور جمال،(کی بنا )پر نکاح کیا جاتا ہے لہذا تم دیندار عورت سے نکاح کرنا، تمہارے ہاتھ خاک الود ہوں گے،اس باب میں حضرت عوف بن مالک،عائشہ،عبداللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۰؛مَا جَاءَ فِي مَنْ يَنْكِحُ عَلٰى تَلٰثِ خِصَالٍ، جلد ۱ص۵۱۵, حدیث نمبر ١٠٨٦)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ المَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ» وَفِي البَاب عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1086

منگیتر کو دیکھنا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے ایک عورت سے منگنی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دیکھ لو تمہاری باہمی محبت کو قائم رکھنے کے لیے یا زیادہ مناسب ہے،اس باب میں حضرت محمد بن سلمہ،جابر،انس،ابو حمید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،یہ حدیث حسن ہے،بعض علماء نے اس حدیث کے مطابق فرمایا کہ ( منگیتر) عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرط کہ حرام جگہ نہ دیکھے،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک"أَحرٰى اَنْ تَدُوْمَ الْمَوْدَةُ بَيْنَكُمَا" کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے درمیان محبت کے ہمیشہ رہنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۱؛مَاجَاءَ فِی النَّظْرِ اِلَى الْمَخْطُوْبَةِ،جلد۱ص۵۵۵،حدیث نمبر ١٠٨٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّظَرِ إِلَى المَخْطُوبَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الأَحْوَلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ المُزَنِيِّ، عَنْ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» وَفِي البَاب عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ، وَقَالُوا: لَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا مَا لَمْ يَرَ مِنْهَا مُحَرَّمًا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا»، قَالَ: أَحْرَى أَنْ تَدُومَ المَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1087

اعلان نکاح حضرت محمد بن جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،حلال و حرام کے درمیان دف اور تشہیر (سے) فرق ہے، اس باب میں حضرت عائشہ،جابر اور ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث محمد بن حاطب حسن ہیں، ابو بلخ کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے،ابن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن حاطب نے بچپن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٨٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الجُمَحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ الحَرَامِ وَالحَلَالِ، الدُّفُّ وَالصَّوْتُ» وَفِي البَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ.: حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، " وَأَبُو بَلْجٍ: اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1088

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نکاح کی تشہیر کرو،مسجدوں میں نکاح کرو اور ان مواقع پر دف بجایا کرو،اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے،یہ عیسیٰ بن میمون انصاری کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے،ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرنے والے عیسیٰ بن میمون ثقہ ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٨٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:- قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي المَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ فِي هَذَا البَابِ،» وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيُّ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ، وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ التَّفْسِيرَ هُوَ ثِقَةٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1089

حضرت ربیع بن معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میری شب زفات کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے جہاں(اے خالد بن ذقوان) تم بیٹھے ہو ہمارے خاندان کی لڑکیاں دف بجا رہی تھی اور جنگ بدر میں شہید ہونے والے میرے باپ دادا کی تعریف کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا،ہم میں سے ایسے نبی بھی ہیں جو کل ہونے والی بات کو بھی جانتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات سے خاموش رہو، اور وہی کلمات کہو جو پہلے کہتی تھی،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٩٠)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيَّ غَدَاةَ بُنِيَ بِي، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي، كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، وَجُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفُوفِهِنَّ، وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُتِي عَنْ هَذِهِ، وَقُولِي الَّتِي كُنْتِ تَقُولِينَ قَبْلَهَا». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1090

نکاح کرنے والے کو کیا الفاظ کہے جائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب کوئی آدمی نکاح کرتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کے لیے یوں دعا فرماتے،اللہ تعالیٰ مبارک کرے تمہیں برکت دے اور تم دونوں کو بھلائی میں جمع کریں،اس باب میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی روایات ہے حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۳؛مَا يُقَالُ لِلْمُتَزَوجِ،جلد۱ص۵۵۴, حدیث نمبر ١٠٩١)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ لِلْمُتَزَوِّجِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ، قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي الخَيْرِ» وَفِي البَاب عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1091

بیوی کے پاس جائے تو کیا کہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-جب تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کے پاس جائے تو یہ کلمات کہے" اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ! ہم نے شیطان سے دور رکھ اور ہمیں جو اولاد دے اسے بھی شیطان سے دور رکھ تو اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے درمیان اولاد مقدر کی ہوگی تو اسے شیطان نقصان نہیں پہنچائے گا،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۴؛مَا جَاءَ فِيمَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ عَلٰى اَهْلِهٖ، جلد ۱ص۵۵۷،حدیث نمبر ١٠٩٢)

بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنْ قَضَى اللَّهُ بَيْنَهُمَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ ": هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1092

نکاح کے لیے اچھے اوقات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال ہی میں شب زفاف گزاری" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پسند فرماتی تھی کہ ان ( کے خاندان )کی عورتوں کے ساتھ شوال ہی میں شب زفاف منائی جائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف بواسطہ اسماعیل،سفیان ثوری کی روایت سے پہچانتے ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِی الْأَوْقَاتِ الَّتِیْ يَسْتَحِبُّ فِيْهَا النِّكَاحُ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا النِّكَاحُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا - سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ» وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ يُبْنَى بِنِسَائِهَا فِي شَوَّالٍ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1093

ولیمہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے کپڑوں) پر زردی کا اثر دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے گٹھلی بھر سونے کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود،عائشہ،جابر اور زہیر بن عثمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث انس حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں گٹھلی بھر سونے سے مراد سوا تین درہم ہیں اسحاق فرماتے ہیں" پانچ درہم ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الوَلِيمَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ.: «حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»،- وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: " وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ: وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ "، وقَالَ إِسْحَاقُ: «هُوَ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1094

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (سے نکاح ) پر ستو اور کھجوروں سے ولیمہ کیا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِهِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ».

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1095

محمد بن یحییٰ نے بواسطہ حمیدی،سفیان سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی متعدد حضرات نے یہ حدیث بواسطہ ابن عینیہ اور زہری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن اس میں وائل اور نوف کا واسطہ مذکور نہیں سفیان بن عیینہ نے اس حدیث میں تدلیس کرتے ہوئے بعض اوقات وائل اور نوف کا ذکر کیا اور کبھی نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَ هَذَا، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ وَائِلٍ، عَنْ ابْنِهِ: «وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الحَدِيثِ، فَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ وَائِلٍ، عَنْ ابْنِهِ، وَرُبَّمَا ذَكَرَهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1096

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے دن کا کھانا واجب ہے،دوسرے دین کا سنت اور تیسرے دن کا کھانا سنانا (ریاکاری) ہے اور جو کوئی شہرت تلاش کرے اللہ تعالی اسے اس کا بدلہ دے گا۔ ہم حدیث ابن مسعود کو مرفوعًا صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ زیاد بن عبداللہ بہت غریب اور منکر حدیثیں روایت کرتا ہے میں نے امام بخاری سے سنا وہ محمد بن عقبہ کے واسطہ سے وکیع کا قول نقل کرتے ہیں کہ زیاد بن عبداللہ شرافت کے باوجود جھوٹ کہتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ -قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي سُنَّةٌ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ»: «حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَثِيرُ الغَرَائِبِ وَالمَنَاكِيرِ». وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَذْكُرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ: «زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَعَ شَرَفِهِ يَكْذِبُ فِي الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1097

دعوت قبول کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعوت دی جائے تو قبول کرو،اس باب میں حضرت علی، ابوہریرہ،براء،انس اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۷؛مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّاعِى،جلد۱ص۵۵۹،حدیث نمبر ١٠٩٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّاعِي حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ» وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالبَرَاءِ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ.: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1098

بن بلائے دعوت ولیمہ میں جانا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ابو شعیب نامی ایک شخص اپنے گوشت فروش غلام کے پاس آیا اور کہا میرے لیے اتنا کھانا تیار کرو جو پانچ آدمیوں کو کفایت کرے( کیونکہ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اقدس پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں،اس نے کھانا تیار کیا پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم مجلس تشریف لائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو ایک ایسا شخص بھی ساتھ ہو گیا جو دعوت دیتے وقت اس کے ساتھ نہ تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دینے والے کے دروازے پر پہنچے تو صاحب منزل سے فرمایا ہمارے پیچھے ایک ایسا بھی شخص آیا ہے جو دعوت دیتے وقت نہ تھا اگر اجازت دو تو داخل ہو، اس نے کہا ہم نے اجازت دی وہ بھی آجائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۸؛مَاجَاءَ فِی مَن يَجِىْءُ إلى الْوَلِيْمَةِ بِغَيْرِ دَعْوَةِ، جلد ۱ص۵۵۹،حدیث نمبر ١٠٩٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَجِيءُ إِلَى الوَلِيمَةِ مِنْ غَيْرِ دَعْوَةٍ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ إِلَى غُلَامٍ لَهُ لَحَّامٍ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الجُوعَ، قَالَ: فَصَنَعَ طَعَامًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ، وَجُلَسَاءَهُ الَّذِينَ مَعَهُ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ حِينَ دُعُوا، فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى البَابِ، قَالَ لِصَاحِبِ المَنْزِلِ: «إِنَّهُ اتَّبَعَنَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ مَعَنَا حِينَ دَعَوْتَنَا، فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ»، قَالَ: فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ فَلْيَدْخُلْ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1099

کنواری لڑکیوں سے نکاح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے جابر ! کیا تو نے نکاح کیا ؟ میں نے عرض کیا "جی ہاں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا ،بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کنواری سے شادی کیوں نہیں کی تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد) حضرت عبداللہ سات یا نو لڑکیاں چھوڑ کر فوت ہوئے لہٰذا ا میں ایسی عورت لایا ہوں جو ان کی نگرانی کر سکے فرماتے ہیں ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے برکت کی دعا فرمائی" اس باب میں حضرت ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۹؛مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْاَبْكَارِ، جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟»، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «بِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟»، فَقُلْتُ: لَا، بَلْ ثَيِّبًا، فَقَالَ: «هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ، وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعًا، فَجِئْتُ بِمَنْ يَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: فَدَعَا لِي وَفِي البَابِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ.: «حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1100

ولی کے بغیر نکاح حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا" اس باب میں حضرت عائشہ،ابن عباس،ابو ہریرہ،عمران بن حصین اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۰۵؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَِ الَّا بِوَلِي -جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠١)

بَابُ مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» وَفِي البَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1101

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،(تین مرتبہ فرمایا) اگر جماع کیا تو مہر واجب ہو جائے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھایا۔ اگر اختلاف ہو جائے تو بادشاہ وقت اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ، یہ حدیث حسن ہے یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری اور کئی دوسرے حفاظ نے اسے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے حضرت ابو موسیٰ کی روایت میں اختلاف ہے۔ اسرائیل،شریک بن عبداللہ ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بواسطہ ابو اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت کی۔ اسباط بن محمد اور زید بن حباب بواسطہ یونس بن ابی اسحاق اور ابو اسحاق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابو عبیدہ حداد بواسطہ یونس بن ابی اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابو اسحاق کا واسطہ مذکور نہیں۔ بعض اوقات بواسطہ یونس بن ابی اسحاق ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔ شعبہ اور ثوری نے بواسطہ ابو اسحاق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث روایت کی کہ ، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، بعض اصحاب سفیان نے بواسطہ سفیان، ابو اسحاق اور ابوہریرہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا۔ اور یہ صحیح نہیں۔ جن لوگوں نے بواسطہ ابو اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ان کی روایت میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ ابو اسحاق سے ان کا سماع مختلف اوقات میں ہے۔ اگرچہ شعبہ اور ثوری ان تمام رواۃ سے  زیادہ حافظ اور اثبت ہیں۔ لیکن ان کی روایت میرے نزدیک صحیح ہے کیونکہ شعبہ اور ثوری نے ابو اسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ شعبہ کہتے ہیں میں نے سنا کہ سفیان ثوری ابو اسحٰق سے پوچھ رہے تھے کیا آپ نے ابو ہریرہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، انہوں نے فرمایا ہاں (میں نے سنا ہے) اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے ایک ہی وقت میں یہ حدیث سنی۔ اب وہ اسحاق کی روایت میں اسرائیل اثبت ہے۔ میں نے محمد بن مثنیٰ سے سنا فرماتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن مہدی کو کہتے ہوئے سنا کے  بواسطہ ثوری ابو اسحاق کی جو روایات میں نہیں لے سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اسرائیل پر اعتماد کیا اس لیے وہ پوری حدیث بیان کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ، کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں حسن ہے۔ ابن جریج نے بواسطہ سلیمان بن موسیٰ، زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث بیان کی۔ جاج بن ارطاہ اور جعفر بن ربیعہ نے بواسطہ زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے بیان کیا۔ہشام بن عروہ بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ بواسطہ عروہ زہری کی روایت میں بعض محدثین نے کلام کیا ہے ابن جریج کہتے ہیں میں نے زہری سے ملاقات کی اور دریافت کیا تو انہوں نے انکار کر دیا بنا بریں محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں ابن جریج کے یہ الفاظ اسماعیل بن ابراہیم نے نقل کیے ہیں۔  اور ابن جریج سے اسماعیل بن ابراہیم کا سماع کچھ زیادہ صحیح نہیں۔ انہوں نے اپنی کتب عبدالحمید بن عبدالعزیز بن رواد کی کتب سے صحیح کی ہیں۔ ابن جریج سے خود نہیں سنا یحییٰ نے ابن جریج سے اسماعیل بن ابراہیم کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ پر بعض صحابہ کرام کا عمل ہے حضرت عمر بن خطاب،علی بن ابی طالب عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ وغیرہم رضی اللہ عنہم ان میں شامل ہیں،بعض تابعی فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ سعید بن مسیب حسن بصری۔ شریح، ابراہیم نخعی ، عمر بن عبدالعزیز وغیرہم ان تابعین میں شامل ہیں۔ سفیان ثوری ، اوزاعی ،مالک،عبداللہ بن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۰۵؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَِ الَّا بِوَلِي -جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ - رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا المَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الحُفَّاظِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا.: «وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلَافٌ». رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الحَدَّادُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا، وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»، وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَا يَصِحُّ، وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»، عِنْدِي أَصَحُّ، لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الحَدِيثَ، فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ عِنْدِي أَشْبَهُ لِأَنَّ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاقَ: أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَدَلَّ هَذَا الحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ. وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ المُثَنَّى يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: «مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الَّذِي فَاتَنِي إِلَّا لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ لِأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ»، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا البَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، -عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ الحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،» وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ فَضَعَّفُوا هَذَا الحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا ". وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ قَالَ: «لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الحَرْفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ المَجِيدِ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ مَا سَمِعَ مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ» وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ "، وَالعَمَلُ فِي هَذَا البَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَالُوا: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، وَالحَسَنُ البَصْرِيُّ، وَشُرَيْحٌ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، وَغَيْرُهُمْ وَبِهَذَا يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالأَوْزَاعِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، وَمَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1102

گواہوں کے بغیر نکاح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہوں کے بغیر نکاح کرنے والی عورتیں زانیہ ہیں ، یوسف بن حماد کہتے ہیں عبدالاعلٰی نے تفسیر کے باب یہ حدیث مرفوع بیان کی جبکہ طلاق کے ضمن موقوف روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح،باب۷۵۱؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ الأَبينَةِ، جلد ۱ص۵۶۳،حدیث نمبر ١١٠٣)

بَابُ مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «البَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ» قَالَ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ: «رَفَعَ عَبْدُ الأَعْلَى هَذَا الحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ وَأَوْقَفَهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1103

قتیبہ نے بواسطہ غندر، سعید سے اس کے ہم معنی موقوف حدیث روایت کی اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے عبدالاعلٰی بواسطہ سعید اور قتادہ کی روایت کے علاوہ کوئی دوسرا ہمارے علم میں نہیں جس نے اس سے مرفوع بیان کیا ہو۔ عبدالاعلٰی سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ صحیح روایت وہ ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی جاتی ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں،کئی لوگوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اس طرح موقوفًا روایت کیا ہے۔ اس باب میں حضرت عمران بن حصین۔ انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ صحابہ کرام تابعین اور بعد کے علماء کا اس پر عمل ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہمارے نزدیک متقدمین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ بعض متاخرین علماء نے اختلاف کیا ہے یکے بعد دیگر دو آدمی گواہی دے تو اس بارے میں علماء باہم مختلف ہیں۔ اکثر علماء کوفہ وغیرہم کے نزدیک جب تک نکاح میں دونوں گواہ موجود نہ ہوں۔ نکاح نہیں ہوتا بعض اہل مدینہ کے نزدیک اگر اعلان کر دیا جائے تو آگے پیچھے گواہی دینے سے نکاح جائز ہو جاتا ہے۔ امام مالک بن انس کا یہی قول ہے اسحٰق بن ابراہیم کی بھی یہی رائے ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح،باب۷۵۱؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ الأَبينَةِ، جلد ۱ص۵۶۳،حدیث نمبر ١١٠٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ.- هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، مَرْفُوعًا وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ هَذَا الحَدِيثُ مَوْقُوفًا وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ». هَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ قَتَادَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَ هَذَا مَوْقُوفًا. وَفِي هَذَا البَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي ذَلِكَ مَنْ مَضَى مِنْهُمْ إِلَّا قَوْمًا مِنَ المُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ، وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي هَذَا إِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَهْلِ الكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ: لَا يَجُوزُ النِّكَاحُ حَتَّى يَشْهَدَ الشَّاهِدَانِ مَعًا عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ المَدِينَةِ، إِذَا أُشْهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ جَائِزٌ إِذَا أَعْلَنُوا ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ هَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا حَكَى عَنْ أَهْلِ المَدِينَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: يَجُوزُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1104

خطبہ نکاح حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور حاجت (یعنی نکاح) تشہد سکھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا تشہد یہ ہے ،، تمام قولی بدنی اور مالی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے( نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں و برکتیں ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں،،نکاح کا خطبہ یہ ہے،، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کو سزاوار ہیں ہم اس سے مدد مانگتے ہیں اور بخشش چاہتے ہیں۔ اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی حادی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے (خاص )بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے تھے۔ عبثر بن قاسم کہتے ہیں سفیان ثوری نے ان کی تفصیل یوں بیان کی۔ (۱) اللہ سے اس طرح ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام میں ہی تمہیں موت آئے،(۲) اللہ تعالٰی سے ڈرو جس کے نام پر سوال کرتے ہو اور رشتہ داروں کا خیال رکھو اللہ تعالٰی تم پر نگران ہے۔ (۳) اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے۔ حدیث عبداللہ حسن ہے۔ اعمش نے بواسطہ ابو اسحٰاق اور ابو حوص، اور شعبہ نے بواسطہ ابو اسحٰاق اور ابو عبید اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مرفوعًا روایت کی۔ دونوں حدیثیں صحیح ہیں کیونکہ اسرائیل نے ان دونوں کو جمع کیا اور کہا بواسطہ ابو اسحٰاق ابو احوص، اور ابو عبیدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں خطبہ کے بغیر بھی نکاح جائز ہے۔ سفیان ثوری اور دوسرے علماء کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۲؛مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ، حدیث نمبر ١١٠٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ القَاسِمِ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»، وَالتَّشَهُّدُ فِي الحَاجَةِ: «إِنَّ الحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، فَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ قَالَ عَبْثَرٌ: فَفَسَّرَهُ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: " {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ -[406]- عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1]، {اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا} [الأحزاب: 70] " وَفِي البَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ.: «حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ». رَوَاهُ الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكِلَا الحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " وَقَدْ قَالَ أَهْلُ العِلْمِ: إِنَّ النِّكَاحَ جَائِزٌ بِغَيْرِ خُطْبَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1105

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبہ میں تشہد نہ ہو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۲؛مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۶۴،حدیث نمبر ١١٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَاليَدِ الجَذْمَاءِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1106

کنواری اور بیوہ عورت سے اجازت طلبی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،بیوہ عورت سے اجازت لیے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے اور کنواری سے بھی اجازت لے کر ہی نکاح کیا جائے۔ اور اس کی اجازت خاموش رہنا ہے۔ اس باب میں حضرت عمر،ابن عباس،عائشہ اور عرس عمیرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے کہ بیوہ کی اجازت لے کر اس کا نکاح کیا جائے۔ اور اگر اس کا باپ بلا اجازت اس کا نکاح کر دے تو یہ مکروہ ہے۔ اور عام علماء کے نزدیک یہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔اگر باپ کنواری لڑکی کا نکاح کر کے دے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر علماء کوفہ اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اگر باپ نے بالغہ کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کیا اور وہ اس پر راضی نہیں تو یہ نکاح ٹوٹ گیا۔ بعض علماء مدینہ کے نزدیک کنواری لڑکی کا باپ اس کا نکاح کر دے تو اس کی عدم رضا کے باوجود بھی جائز ہے۔ امام مالک بن انس۔ شافعی احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف، کتاب النکا ح، باب۷۵۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِيمَارِ الْبِكْرِ والثَّيِّبِ، جلد ۱ص۵۶۶،حدیث نمبر ١١٠٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِئْمَارِ البِكْرِ وَالثَّيِّبِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ» وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَالعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ. حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ الثَّيِّبَ لَا تُزَوَّجُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَإِنْ زَوَّجَهَا الأَبُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَأْمِرَهَا فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ، عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ العِلْمِ،- وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ إِذَا زَوَّجَهُنَّ الآبَاءُ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَهْلِ الكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ الأَبَ إِذَا زَوَّجَ البِكْرَ وَهِيَ بَالِغَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِهَا فَلَمْ تَرْضَ بِتَزْوِيجِ الأَبِ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ المَدِينَةِ: تَزْوِيجُ الأَبِ عَلَى البِكْرِ جَائِزٌ، وَإِنْ كَرِهَتْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1107

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، بالغہ عورت اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے اور اس کی اجازت خاموش رہنا ہے،، یہ حدیث حسن صحیح ہے،شعبہ اور سفیان ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا بعض لوگوں نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ ولی کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ متعدد طرق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ،، ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی پر فتویٰ بھی دیا ہے۔ اور فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کہ،، بالغہ،، اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے۔ کا مطلب اکثر علماء کے نزدیک یہ ہے کہ ولی اس کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح کر کے نہ دے اگر کر کے دے گا تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔جس طرح حدیث حنساء بنت خدام سے ثابت ہے۔ کہ وہ بیوہ تھی اور ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر نکاح کر کے دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد فرما دیا۔ (جامع ترمذی شریف، کتاب النکا ح، باب۷۵۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِيمَارِ الْبِكْرِ والثَّيِّبِ، جلد ۱ص۵۶۶،حدیث نمبر ١١٠٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ «، رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ بِهَذَا الحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي هَذَا الحَدِيثِ مَا احْتَجُّوا بِهِ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ -- ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ "، وَهَكَذَا أَفْتَى بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»، وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا» عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ الوَلِيَّ لَا يُزَوِّجُهَا إِلَّا بِرِضَاهَا وَأَمْرِهَا، فَإِنْ زَوَّجَهَا فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عَلَى حَدِيثِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، حَيْثُ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1108

کنواری بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،بالغہ کنواری لڑکی سے اس کے متعلق اجازت لی جائے اگر خاموش ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے اجازت ہے اور اگر انکار کرے تو اس پر کوئی جبر نہیں۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن ہے۔ علماء کا نابالغ یتیمہ لڑکی کی نکاح میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک اگر نکاح کر دیا گیا تو یہ موقوف ہوگا۔ بلوغت پر اسے رکھنے اور توڑنے کا اختیار ہے تابعین وغیرہم کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک یہ یتیمہ کا نکاح بلوغت سے پہلے جائز نہیں۔ اور نکاح میں اختیار بھی نہیں۔ سفیان ثوری شافعی اور دوسرے علماء کا یہی نظریہ ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق فرماتے ہیں یتیمہ نو سال کی ہو جائے تو اس کی مرضی سے کیا گیا نکاح جائز ہے۔بالغ ہونے پر( توڑنے کا) اختیار نہیں۔ ان دونوں حضرات نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب زفاف گزاری تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے لڑکی نو سال کی عمر میں عورت کہلاتی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۴؛مَا جَاءَ فِي إِكْرَاهِ الْيَتِيمَةِ عَلَى التَّزوِيْجِ، جلد ۱ص۵۶۷،حدیث نمبر ١١٠٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْرَاهِ اليَتِيمَةِ عَلَى التَّزْوِيجِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اليَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا»، يَعْنِي: إِذَا أَدْرَكَتْ فَرَدَّتْ. وَفِي البَاب عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ»، " وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي تَزْوِيجِ اليَتِيمَةِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ اليَتِيمَةَ إِذَا زُوِّجَتْ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوفٌ حَتَّى تَبْلُغَ، فَإِذَا بَلَغَتْ فَلَهَا الخِيَارُ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ أَوْ فَسْخِهِ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ " وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَجُوزُ نِكَاحُ اليَتِيمَةِ حَتَّى تَبْلُغَ، وَلَا يَجُوزُ الخِيَارُ فِي النِّكَاحِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ العِلْمِ " وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ: " إِذَا بَلَغَتِ اليَتِيمَةُ تِسْعَ سَنِينَ فَزُوِّجَتْ، فَرَضِيَتْ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، وَلَا خِيَارَ لَهَا إِذَا أَدْرَكَتْ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ: " إِذَا بَلَغَتِ الجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1109

دو ولی نکاح کر کے دیں تو کیا حکم ہے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس عورت کا نکاح دو ولی کرائیں تو وہ پہلے کے لیے ہیں۔ اور ( اسی طرح )اگر کوئی شخص دو آدمیوں پر کچھ بیچے تو وہ بھی پہلے کے لیے ہے،،یہ حدیث حسن ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے اور اس مسئلہ میں ان کا کوئی اختلاف نہیں۔ اگر دو ولیوں میں سے ایک پہلے نکاح کر کے دے۔ اور دوسرا بعد میں تو پہلے کا نکاح جائز ہے اور دوسرے کا ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر دونوں ایک ساتھ کرے تو دونوں نکاح فسخ ہو جائیں گے۔ سفیان ثوری،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۵۵؛مَا جَاءَ فِي الوَليّينِ يُزَوِجَانِ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الوَلِيَّيْنِ يُزَوِّجَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ -بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا: إِذَا زَوَّجَ أَحَدُ الوَلِيَّيْنِ قَبْلَ الآخَرِ فَنِكَاحُ الأَوَّلِ جَائِزٌ، وَنِكَاحُ الآخَرِ مَفْسُوخٌ، وَإِذَا زَوَّجَا جَمِيعًا فَنِكَاحُهُمَا جَمِيعًا مَفْسُوخٌ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1110

مالک کی اجازت بغیر غلام کا نکاح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اپنے مالک سے اجازت حاصل کیے بغیر نکاح کرنے والا غلام زانی ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں۔ حدیث جابر حسن ہے۔ بعض حضرات نے یہ حدیث بواسطه عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی اور یہ صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت بغیر غلام کا نکاح صحیح نہیں۔ امام احمد اسحٰق اور دوسرے حضرات رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۶؛مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيرِ اِذْنِ سَیْدِهٖ ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ العَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ»، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ -- عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ نِكَاحَ العَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ لَا يَجُوزُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَغَيْرِهِمَا بِلَا اخْتِلَافٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1111

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۶؛مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيرِ اِذْنِ سَیْدِهٖ ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١٢)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1112

عورتوں کا مہر حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنی فزارہ کی ایک عورت نے جوتوں کے ایک جوڑے پر اپنا نکاح کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تو دو جوتوں کے بدلے اپنا نفس اور مال دینے پر راضی ہو گئی ؟ اس نے عرض کیا ،،ہاں،،(یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عامر فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نکاح جائز رکھا اس باب میں حضرت عمر۔ ابو ہریرہ،سہیل بن سعد۔ ابو سعید،انس،عائشہ،جابر اور ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث عامر بن ربیعہ حسن صحیح ہے مہر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کے نزدیک جس پر فریقین راضی ہو جائیں (وہی مہر ہے) سفیان ثوری ،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مہر چار دینار سے کم نہیں۔ بعض اہل کوفہ فرماتے ہیں مہر دس درہم سے کم نہیں ہوتا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۷؛مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاء، جلد ۱ص۵۶۹،حدیث نمبر ١١١٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجَازَهُ -وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ. حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي المَهْرِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: المَهْرُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ. وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَا يَكُونُ المَهْرُ أَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الكُوفَةِ: لَا يَكُونُ المَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1113

حضرت سہیل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں نے اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو  ہبہ کر دی پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت نہ ہو تو اسے میرے نکاح میں دے دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تیرے پاس مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے۔  عرض کیا میرے پاس صرف یہی تہبند ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ تہبند تو اسے دے دے گا تو پھر ننگا بیٹھ جائے گا۔ کچھ اور تلاش کر لاؤ اس نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کرو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو راوی فرماتے ہیں اس نے تلاش کیا لیکن کچھ نہ پایا اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تجھے قرآن سے کچھ یاد ہے۔ اس نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں فلاں صورتیں یاد ہیں (سورتوں کا نام لیا) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان سورتوں کے بدلے جو تجھے یاد ہیں۔ اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں اگر کچھ نہ پایا اور قرآن پاک کی سورت پر ہی نکاح کر لیا تو بھی جائز ہے۔ عورت کو قرآن کی سورتیں سکھا دیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں نکاح جائز ہے۔ اور مہر مثل واجب ہو جائے گا۔ اہل کوفہ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۷؛مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاء، جلد ۱ص۵۶۹،حدیث نمبر ١١١٤)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ -مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟» فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِزَارُكَ، إِنْ أَعْطَيْتَهَا جَلَسْتَ، وَلَا إِزَارَ لَكَ، فَالتَمِسْ شَيْئًا؟» قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: «فَالتَمِسْ، وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» قَالَ: فَالتَمَسَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ شَيْءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ، فَقَالَ: «إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ يُصْدِقُهَا فَتَزَوَّجَهَا عَلَى سُورَةٍ مِنَ القُرْآنِ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، وَيُعَلِّمُهَا سُورَةً مِنَ القُرْآنِ». وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: النِّكَاحُ جَائِزٌ، وَيَجْعَلُ لَهَا صَدَاقَ مِثْلِهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الكُوفَةِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1114

آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی مہر قرار دیا،اس باب میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے حضرات کا اس پر عمل ہے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک آزادی کو ہی مہر قرار دینا مکروہ ہے بلکہ آزادی کے علاوہ مہر مقرار کیا جائے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۸؛مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُعتِقُ الْاَمَةَ ثمَّ يَتَزَوَجَهَا، جلد ۱ص۵۷۱،حدیث نمبر ١١١٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَعْتِقُ الأَمَةَ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا» وَفِي البَاب عَنْ صَفِيَّةَ.: «حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ أَنْ يُجْعَلَ عِتْقُهَا صَدَاقَهَا، حَتَّى يَجْعَلَ لَهَا مَهْرًا سِوَى العِتْقِ، وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1115

آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کی فضیلت حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کو دوہرا ثواب دیا جائے گا وہ غلام جس نے اللہ تعالٰی اور اپنے مالک کا حق ادا کیا۔اسے دو گنا ثواب ملے گا۔ وہ شخص جس کے پاس خوبصورت لونڈی ہو وہ اس کی اچھی طرح تربیت کرے پھر اسے آزاد کر کے محض رضا الہی کے لیے نکاح کر لیا اسے بھی دو گنا ثواب ملے گا اور (تیسرا) وہ شخص جو پہلی (الہامی) کتاب پر ایمان لایا پھر دوسری کتاب آئی تو اس پر بھی ایمان لایا اس کے لیے بھی دو گنا ثواب ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان۔ صالح بن صالح (ابن حی) شعبی اور ابو ہریرہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث روایت کی حدیث ابو موسٰی حسن صحیح ہے ابو ہریرہ بن ابو موسٰی کا نام عامر بن عبداللہ بن قیس ہے۔ شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث صالح بن صالح بن حی سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۹؛مَاجَاءَ فِي الْفَضْلِ فِي ذَلِكَ، جلد ۱ص۵۷۱،حدیث نمبر ١١١٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الفَضْلِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، فَذَاكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَضِيئَةٌ فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ، وَرَجُلٌ آمَنَ بِالكِتَابِ الأَوَّلِ، ثُمَّ جَاءَ الكِتَابُ الآخَرُ فَآمَنَ بِهِ، فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ " -- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، وَهُوَ ابْنُ حَيٍّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.: «حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى: اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ "، وَرَوَى شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، وَصَالِحُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ هُوَ وَالِدُ الحَسَنِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1116

منکوحہ کو صحبت سے پہلے طلاق دی تو اس کی لڑکی سے نکاح کا کیا حکم ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی عورت سے نکاح کر کے اسے صحبت بھی کرے اس کے لیے اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر صحبت نہیں کی تو لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے اور جو آدمی کسی عورت سے نکاح کرے تو جماع کریں یا نہ کرے اس کی ماں سے نکاح نہیں کر سکتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ اسے ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا اور یہ دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔ اس حدیث پر اکثر علماء کا عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے۔ پھر صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو اس کی لڑکی سے نکاح جائز ہے۔ اور اگر لڑکی سے نکاح کیا اور صحبت سے پہلے طلاق (بھی) دے دی تو (پھر بھی) اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ ارشاد خداوندی ہے۔ اور تمہاری بیویوں کی مائیں۔ تم پر حرام ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب نکاح؛باب۷۶۰؛مَا جَاءَ فِي مَنْ يَتَزَوجُ الْمَرْأةَ ثُم يُطَلِقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا هَلْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا امْ لاَ، جلد ۱ص۵۷۲،حدیث نمبر ١١١٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَتَزَوَّجُ المَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا هَلْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا أَمْ لَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا، فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا، فَلْيَنْكِحْ ابْنَتَهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ»، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَالمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، «وَالمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الحَدِيثِ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، حَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ ابْنَتَهَا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الِابْنَةَ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَمْ يَحِلَّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ} [النساء: 23]، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1117

حلالہ میں صحبت شرط ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رفاعہ قرظی کی زوجہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھے تین طلاقیں دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کر لیا اور ان کے پاس تو کپڑے کے پھند نے کی طرح ہے (یعنی جماع کی قوت نہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو رفاعہ کی طرف لوٹنا چاہتی ہے ؟نہیں ( لوٹ سکتی) جب تک کہ تم دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لو۔ اس باب میں حضرت ابن عمر۔ انس،رمیصا،(یاغمیصا) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ عام صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے پھر وہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور وہ جماع سے پہلے طلاق دے دے تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۱،مَا جَاءَ فِي مَنْ يُطَلِقُ اِمْرَأَتَهُ ثلاثًا فيتزَوَجُهَا اٰخرُ فيُطَلَقُهَا قَبْلَ اَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جلد ۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١١٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ -- عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَالرُّمَيْصَاءِ أَوْ الغُمَيْصَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ جَامَعَ الزَّوْجُ الآخَرُ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1118

حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے حضرت جابر بن عبداللہ اور علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت بھیجی ہے، اس باب میں حضرت ابن مسعود ،ابوہریرہ عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں علی و جابر کی حدیث معلول ہے،اشعث بن عبدالرحمن نے بواسطہ مجالد، عامر اور حارث حضرت علی سے اور عامر نے حضرت جابر سے یوں ہی مرفوعًا نقل کیا ہے ،اس حدیث کی سند قائم نہیں کیونکہ مجالد بن سعید کو بعض علماء نے جن میں امام احمد بن حنبل بھی شامل ہے ،ضعیف کہا ہے ،عبداللہ بن نمیر نے یہ حدیث بواسطہ مجالد اور جابر بن عبداللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن ابن نمیر سے اس میں خطاء ہوئی ہے۔ پہلی روایت اصح ہے،مغیرہ ابن ابی خالد اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ شعبی اور حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۲؛مَا جَاءَ فِي الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١١٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُحِلِّ وَالمُحَلَّلِ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -- بْنِ زُبَيْدٍ الأَيَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنْ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَا: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ المُحِلَّ وَالمُحَلَّلَ لَهُ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ»، وَهَكَذَا رَوَى أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ، عَنِ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالقَائِمِ، لِأَنَّ مُجَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْهُمْ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ "، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ وَهَذَا قَدْ وَهِمَ فِيهِ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَالحَدِيثُ الأَوَّلُ أَصَحُّ وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1119

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت کی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،ابو قیس اودی کا نام عبدالرحمٰن بن ثروان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب۔ عثمان بن عفان عبداللہ بن عمرو اور کئی دوسرے صحابی شامل ہیں۔ کا اس پر عمل ہے۔ فقہاء تابعین کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ یہی فرماتے ہیں۔ میں نے جارود سے سنا کہ وکیع بھی اسی کے قائل ہیں۔وکیع فرماتے ہیں اس باب میں اہل رائے کا قول چھوڑنا مناسب ہے۔وکیع سفیان سے نقل کرتے ہیں اگر کوئی آدمی کسی عورت سے حلالہ کرنے کے لیے نکاح کرے پھر اسے اپنے ہی نکاح میں رکھنا چاہیں تو جدید نکاح کیے بغیر رکھنا حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۲؛مَا جَاءَ فِي الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١٢٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُحِلَّ وَالمُحَلَّلَ لَهُ»- «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَأَبُو قَيْسٍ الأَوْدِيُّ: اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَغَيْرُهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ الفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ " وَسَمِعْتُ الجَارُودَ يَذْكُرُ، عَنْ وَكِيعٍ أَنَّهُ قَالَ بِهَذَا، وقَالَ: «يَنْبَغِي أَنْ يُرْمَى بِهَذَا البَابِ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ الرَّأْيِ». قَالَ جَارُودُ: قَالَ وَكِيعٌ: وَقَالَ سُفْيَانُ: «إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ المَرْأَةَ لِيُحَلِّلَهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى يَتَزَوَّجَهَا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1120

نکاح متعہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث علی حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متعہ کے بارے میں کچھ اجازت مروی ہے۔ لیکن بعد میں جب آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا پتہ چلا تو اس قول سے رجوع کر لیا۔  اکثر اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ متعہ حرام ہے۔ سفیان ثوری ،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۳،مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ، جلد ۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ نِكَاحِ المُتْعَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ - عَبْدِ اللَّهِ، وَالحَسَنِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، وَعَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ» وَفِي البَاب عَنْ سَبْرَةَ الجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ» وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي المُتْعَةِ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «، وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ المُتْعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1121

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں متعہ، ابتدائے اسلام میں تھا ، ایک آدمی کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اتنی مدت کے لیے کسی عورت سے نکاح کر لیتا۔جتنی دیر وہاں ٹھہرنا ہوتا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے اموال کی اصلاح کرتی۔ پھر جب یہ آیت اتری،  مگر صرف اپنی بیویوں اور باندیوں سے جماع کر سکتے ہیں۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ان دونوں کے سوا ہر شرمگاہ حرام ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۳،مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ، جلد ۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا كَانَتِ المُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلَامِ، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ البَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ المَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ: {إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [المؤمنون: 6] "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1122

نکاح شغار کی ممانعت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،حلب،،جنب،،اور شغار اسلام میں جائز نہیں،اور جو کسی کا مال اچک لے وہ ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت انس ،ابو ریحانہ،ابن مبارک،جابر،معاویہ،ابوہریرہ اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۴،مَا جَاءَ مِنَ النَّہْي عَنْ نِكَاحَ الشَّغَارِ،جلد۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الشِّغَارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَهُوَ الطَّوِيلُ، قَالَ: حَدَّثَ الحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الإِسْلَامِ، وَمَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَفِي البَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي رَيْحَانَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1123

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عام علماء کا اس پر عمل ہے وہ نکاح شغار کو جائز نہیں سمجھتے۔ شغار یہ ہے کہ دو آدمی اپنی بہنوں یا بیٹوں کا ایک دوسرے سے اس طرح نکاح کرے کہ دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ بعض علماء فرماتے ہیں نکاح شغار منسوخ ہے۔ اور یہ جائز نہیں اگرچہ مہر بھی مقرر کیا جائے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ ابن ابی رباح سے منقول ہے فرماتے ہیں ان کا نکاح برقرار رکھا جائے۔ اور مہر مثل مقرر کر دیا جائے۔ اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۴،مَا جَاءَ مِنَ النَّہْي عَنْ نِكَاحَ الشَّغَارِ،جلد۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا -- مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، أَوْ أُخْتَهُ، وَلَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ، وَلَا يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ:: «يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ المِثْلِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الكُوفَةِ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1124

پھو پھی اور خالہ کے ساتھ کسی عورت کو جمع نہ کیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیے جانے سے منع فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی اس باب میں حضرت علی۔ ابن عمر، عبداللہ بن عمرو، ابو سعید ابو امامہ ،جابر ،عائشہ ،ابو موسیٰ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۵،مَا جَاءَ لَا تَنكَحُ المَرْأَۃُعَلٰى عَمَّتِهَا وَلَا عَلٰى خَالَتِهَا، جلد ۱ص۵۷۶،حدیث نمبر ١١٢٥)

بَابُ مَا جَاءَ لَا تُنْكَحُ المَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ المَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا» وَأَبُو حَرِيزٍ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1125

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی کو پھوپھی پر اور پھوپھی کو بھتیجی پر یا بھانجی کو خالہ پر اور خالہ کو بھانجی کا نکاح میں لایا جائے اور چھوٹی کو بڑی پر یا بڑی کو چھوٹی پر بھی نکاح میں نہ لایا جائے۔ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ حسن صحیح ہے عام علماء کا اس پر عمل ہے۔ اس میں ہمیں کوئی اختلاف معلوم نہیں کہ کسی مرد کے لیے خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا حلال نہیں۔ اگر کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح میں لایا جائے تو دوسرا نکاح فسخ ہو جائے گا عام علماء یہی فرماتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں شعبی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پایا اور ان سے روایت کی ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں شعبی ایک آدمی کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۵،مَا جَاءَ لَا تَنكَحُ المَرْأَۃُعَلٰى عَمَّتِهَا وَلَا عَلٰى خَالَتِهَا، جلد ۱ص۵۷۶،حدیث نمبر ١١٢٦)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ المَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوِ العَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا، أَوِ المَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوِ الخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الكُبْرَى، وَلَا الكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى»: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ العِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا: أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ المَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، أَوْ خَالَتِهَا، فَإِنْ نَكَحَ امْرَأَةً عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا، أَوِ العَمَّةَ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، فَنِكَاحُ الأُخْرَى مِنْهُمَا مَفْسُوخٌ، وَبِهِ يَقُولُ عَامَّةُ أَهْلِ العِلْمِ ".: «أَدْرَكَ الشَّعْبِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَوَى عَنْهُ». وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: «صَحِيحٌ»: وَرَوَى الشَّعْبِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1126

عقد نکاح کے وقت شرائط حضرت عقبہ بن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شرائط میں سے وفا کے سب سے زیادہ لائق وہ شرط ہے جس کے بدلے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا۔ ابو موسیٰ نے بواسطہ محمد بن مثنی اور یحییٰ بن سعید عبدالحمید بن جعفر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں جب کوئی شخص اس شرط پر کسی عورت سے نکاح کرے کہ وہ اسے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا۔ تو پھر اسے باہر لے جانے کا کوئی حق نہیں۔ بعض علماء کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالٰی کی شرط عورت کی شرط سے مقدم ہے۔ گویا کہ آپ کے نزدیک اس شرط کے باوجود خاوند اسے شہر سے باہر لے جا سکتا ہے۔ بعض علماء نے اس قول کو اپنایا سفیان ثوری،اور بعض اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۶؛مَا جَاءَ فِي الشَّرَطِ عِندَ عُقدَةِالنِّكَاحِ،جلد۱ص۵۷۷،حدیث نمبر ١١٢٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّرْطِ عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ اليَزَنِيِّ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الفُرُوجَ» حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ نَحْوَهُ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنْ مِصْرِهَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا»، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَرُوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: «شَرْطُ اللَّهِ قَبْلَ شَرْطِهَا كَأَنَّهُ رَأَى لِلزَّوْجِ أَنْ يُخْرِجَهَا وَإِنْ كَانَتْ اشْتَرَطَتْ عَلَى زَوْجِهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا»، وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَبَعْضِ أَهْلِ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1127

اسلام لاتے وقت دس بیویاں ہوں تو کیا حکم ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ اسلام لائے تو ان کے ہاں جاہلیت میں دس بیویاں تھیں۔ وہ سب آپ کے ہمراہ اسلام لائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان میں سے چار عورتیں اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ معمر نے بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوں ہی روایت کیا ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔صحیح روایت وہ ہے جسے شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے زہری سے روایت کیا۔ وہ فرماتے ہیں مجھ سے محمد بن سوید ثقفی نے بیان کیا کہ غیلان بن سلمہ کے پاس اسلام لاتے وقت دس بیویاں تھی۔ امام بخاری فرماتے ہیں زہری نے بواسطہ سالم ان کے والد سے یہ حدیث روایت کی۔ کہ بنو ثقیف کے ایک آدمی نے اپنی بیویوں کو طلاق دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا یا تو اپنی بیویوں سے رجوع کرو یا میں تمہاری قبروں کو اس طرح سنگسار کروں گا جس طرح ابو رغال کی قبر سنگسار کی گئی۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں) ہمارے اصحاب،امام شافعی احمد اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا غیلان بن سلمہ کی روایت پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِندَهُ عًشْرُنِسْوَۃٌ، جلد ۱ص۵۷۸،حدیث نمبر ١١٢٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، «فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ»: هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: " هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ».: «وَالعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْهُمُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1128

نو مسلم کی نکاح میں دو بہنیں ہوں تو کیا حکم ہے۔ ابن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اسلام لایا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان میں سے جس کو چاہو پسند کر لو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَ عِندَةَ اُخْتَانِ،جلد۱ص۵۷۹،حدیث نمبر ١١٢٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أُخْتَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1129

ابن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہ! میں اسلام لایا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان میں سے جس کو چاہو پسند کر لو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ابو وہب جیشانی کا نام دیلم ہوشع ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَ عِندَةَ اُخْتَانِ،جلد۱ص۵۷۹،حدیث نمبر ١١٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الجَيْشَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ: «اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو وَهْبٍ الجَيْشَانِيُّ: اسْمُهُ الدَّيْلَمُ بْنُ هَوْشَعَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1130

حاملہ لونڈی کا خریدنا حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنا پانی دوسرے کی اولاد کو نہ پلائیں۔ یہ حدیث حسن ہے اور رویفع بن ثابت سے متعدد طرق سے مروی ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ کوئی شخص حملہ لونڈی خریدے تو بچہ پیدا ہونے سے پہلے اس سے صحبت نہ کرے اس باب میں حضرت ابن عباس ابودرداء ،عرباض بن ساریہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۹،الرَّجُلِ يَشْتَرِى الْجَارِيَةَ وَهِيَ حَامِلُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١٣١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الجَارِيَةَ وَهِيَ حَامِلٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَسْقِ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ»، " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ لِلرَّجُلِ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَنْ يَطَأَهَا حَتَّى تَضَعَ " وَفِي البَاب عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1131

شادی شدہ لونڈی قیدی بن کر آئے تو اس سے جمع کیا جائے یا نہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمیں جنگ اوطاس میں کچھ ایسی عورتیں ملیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے۔ صحابہ کرام نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترجمہ) تم پر شوہر دار عورتیں حرام ہیں لیکن جن کے تم مالک بن جاؤ۔ (وہ حلال ہیں) یہ حدیث حسن ہے۔ ثوری نے بواسطہ عثمان بتی اور ابو خلیل،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔ ابو خلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہیں۔ ہمام نے یہ حدیث بواسطہ قتادہ۔ صالح ابی خلیل اور ابو علقمہ ہاشمی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً عن روایت کی۔ ہم ( امام ترمذی )کو عبد بن حمید نے بواسطہ حبان بن ہلال۔ ہمام سے اس کی خبر دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۷۰،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَسْبِي الآمَةَ وَلَهَا زَوجٌ هَل يَحِلُّ لَه وَطْيُهَا، جلد ۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَسْبِي الأَمَةَ وَلَهَا زَوْجٌ هَلْ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ البَتِّيُّ، عَنْ أَبِي الخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: " {وَالمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24] ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ» وَهَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ البَتِّيِّ، عَنْ أَبِي الخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " وَأَبُو الخَلِيلِ: اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ "، وَرَوَى هَمَّامٌ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1132

اجرت زنا کی ممانعت حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،زنا کی اجرت اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت رافع بن خدیج،ابو جحیفہ،ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابو مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۱،مَا جَاءَ فِي كِرَاهِيَةِ مَهْرِ الْبَغِي،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ مَهْرِ البَغِيِّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، وَمَهْرِ البَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الكَاهِنِ» وَفِي البَاب عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1133

کسی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے۔ قتیبہ کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا۔ اور احمد بن منیع فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح بیان کیا،،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اس باب میں حضرت سمرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پیغام نکاح پر پیغام دینے کی کراہیت سے یہ مراد ہے کہ اگر کسی نے نکاح کا پیغام دیا اور عورت اس پر راضی بھی ہو گئی تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس پیغام بھیجے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے پیغام سے وہ راضی ہو گئی اور اس کی طرف مائل ہو گئی۔ تو اب کوئی دوسرا اس کی طرف پیغام نہ بھیجے۔ لیکن اس کی رضامندی اور میلان سے پہلے پیغام بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی دلیل حضرت فاطمہ بنت قیس والی روایت ہے۔ کہ انہوں نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابو سفیان دونوں نے ان کو پیغام نکاح دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوجہم تو عورتوں سے اپنی لاٹھی نہیں اٹھاتا اور معاویہ مفلس ہیں ان کے پاس مال نہیں لہذا تم حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ بن قیس نے ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کیا اور اگر وہ ایسا کرتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کسی تیسرے سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۲،مَا جَاءَ أنْ لأَیَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰى خِطْبَة أَخِيهِ،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٤)

بَابُ مَا جَاءَ أَنْ لَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُتَيْبَةُ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ» وَفِي البَاب عَنْ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: " إِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ: إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ المَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ " وقَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ هَذَا عِنْدَنَا: إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ المَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ وَرَكَنَتْ إِلَيْهِ فَلَيْسَ -- لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ، فَأَمَّا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ رِضَاهَا أَوْ رُكُونَهَا إِلَيْهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَخْطُبَهَا، وَالحُجَّةُ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ حَيْثُ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطَبَاهَا، فَقَالَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ لَا يَرْفَعُ عَصَاهُ عَنِ النِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَلَكِنْ انْكِحِي أُسَامَةَ»، فَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ: أَنَّ فَاطِمَةَ لَمْ تُخْبِرْهُ بِرِضَاهَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَلَوْ أَخْبَرَتْهُ لَمْ يُشِرْ عَلَيْهَا بِغَيْرِ الَّذِي ذَكَرَتْ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1134

حضرت ابوبکر جہم کہتے ہیں میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن۔ فاطمہ بنت قیس کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دی لیکن نہ تو مجھے رہنے کے لیے ٹھکانہ دیا اور نہ ہی گھر کا خرچ۔ البتہ اس نے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس دس قفیر یعنی پانچ قفیر جو اور پانچ قفیر گندم میرے لیے رکھ دیے۔ فرماتی ہیں پھر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا ماجرہ کہ سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ٹھیک ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا پھر فرمایا ام شریک کے گھر میں مہاجرین کا آنا جانا رہتا ہے لہذا تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارو جب تم لباس اتارو گی تو وہ (نابینا ہونے کے سبب) دیکھ نہیں سکے گے۔ اختتام عدت پر اگر کوئی پیغام نکاح لے کر آئے تو میرے پاس آنا۔  فرماتی ہیں۔ جب میری عدت ختم ہوئی تو ابو جہم اور معاویہ (دونوں) نے مجھے پیغام نکاح دیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ کے پاس تو مال نہیں اور ابو جہم عورتوں کے بارے میں سخت آدمی ہے،فرماتی ہے اس کے بعد حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا اور مجھ سے نکاح کیا تو اللہ تعالٰی نے مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے سبب برکت عطا فرمائی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے،سفیان ثوری نے بواسطہ ابوبکر بن ابوجہم اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا،،اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ وکیع اور سفیان ابوبکر بن جہم سے یہ روایت ہمیں بتائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۲،مَا جَاءَ أنْ لأَیَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰى خِطْبَة أَخِيهِ،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَحَدَّثَتْنَا، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، قَالَتْ: وَوَضَعَ لِي عَشَرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ، خَمْسَةً شَعِيرًا , وَخَمْسَةً بُرًّا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَتْ: فَقَالَ: «صَدَقَ»، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَيْتَ أُمِّ شَرِيكٍ بَيْتٌ يَغْشَاهُ المُهَاجِرُونَ، وَلَكِنْ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ -- ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَعَسَى أَنْ تُلْقِي ثِيَابَكِ وَلَا يَرَاكِ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَجَاءَ أَحَدٌ يَخْطُبُكِ فَآذِنِينِي»، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو جَهْمٍ، وَمُعَاوِيَةُ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ»، قَالَتْ: فَخَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَتَزَوَّجَنِي، فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ»، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الجَهْمِ نَحْوَ هَذَا الحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ» حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الجَهْمِ بِهَذَا

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1135

غزل حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم غزل کیا کرتے تھے تو یہودیوں نے کہا یہ زندہ در گور کرنے کی ایک چھوٹی قسم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود نے جھوٹ کہا۔ جب اللہ تعالٰی کسی مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس باب میں حضرت عمر،براء،ابو ہریرہ،اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۳،مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۲،حدیث نمبر ١١٣٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي العَزْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ -عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْزِلُ، فَزَعَمَتِ اليَهُودُ أَنَّهَا المَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، فَقَالَ: «كَذَبَتِ اليَهُودُ، إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ فَلَمْ يَمْنَعْهُ» وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَالبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1136

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نزول قرآن کے زمانے میں ( بھی) غزل کیا کرتے تھے حدیث جابر رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور علماء نے غزل کی اجازت دی ہے مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آزاد عورت سے اجازت لے کر غزل کیا جائے۔اور لونڈی سے غزل کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔   ف: صحبت کرتے ہوئے انزال کے وقت اپنی شرمگاہ کو علیحدہ کر دینا تاکہ بچہ پیدا نہ ہو۔مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۳،مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۲،حدیث نمبر ١١٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نَعْزِلُ وَالقُرْآنُ يَنْزِلُ»: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي العَزْلِ وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: «تُسْتَأْمَرُ الحُرَّةُ فِي العَزْلِ، وَلَا تُسْتَأْمَرُ الأَمَةُ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1137

کراہیت غزل حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزل کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،تم میں سے کوئی ایک ایسا کیوں کرتا ہے ؟ ابن ابی عمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ،،ایسا نہ کرے،،دونوں روایتوں میں ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جس نفس نے پیدا ہونا ہے اللہ تعالٰی اسے ضرور پیدا کرے گا۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں۔ حدیث ابو سعید حسن صحیح ہے۔ اور ابو سعید سے متعدد طرق سے مروی ہے صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے ایک جماعت نے غزل کو پسند نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکا ح، باب۷۷۴،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۳،حدیث نمبر ١١٣٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ العَزْلِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: ذُكِرَ العَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ»: زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: «لَا يَفْعَلْ ذَاكَ أَحَدُكُمْ»، قَالَا فِي حَدِيثِهِمَا: «فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا» وَفِي البَاب عَنْ جَابِرٍ.: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَقَدْ كَرِهَ العَزْلَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1138

کنواری اور بیوہ کے لیے باری مقرر کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو یہ کہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن آپ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ )نے فرمایا سنت یہ ہے کہ پہلی بیوی پر کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات راتیں قیام کریں اور اگر بیوی کے ہوتے ہوئے بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین راتیں ٹھہرے۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت منقول ہیں حدیث انس حسن رضی اللہ عنہ صحیح ہے۔ محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ ایوب اور قلابہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا،بعض حضرات نے مرفوعًا روایت نہیں کیا کچھ علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص پہلی بیوی کی موجودگی میں کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات راتیں قیام کرے پھر دونوں میں برابر باری رکھے اور اگر پہلی بیوی کے ہوئے بیوہ سے نکاح کیا تو تین دن اس کے پاس ٹھہرے۔ اور وہ امام مالک رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام شافعی، امام احمد،اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہم اور تابعین میں سے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جب کنواری سے نکاح کرے بیوی پر تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے اور جب نکاح کرے بیوی سے تو اس کے پاس دو راتیں ٹھہرے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۵،مَا جَاءَ فِي الْقِسْمَةِ لِلْبِكْرِ وَالثَّيْب،جلد۱ص۵۸۳،حدیث نمبر ١١٣٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي القِسْمَةِ لِلْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: «السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ البِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا» وَفِي البَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.: «حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالعَدْلِ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ- وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ: إِذَا تَزَوَّجَ البِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1139

سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان برابر برابر باری مقرر فرماتے اور (بارگاہ الٰہی میں) عرض کرتے اے اللہ! یہ تقسیم تو میرے اختیار میں ہے پس تو مجھے اس چیز میں ملامت نہ کر جس کا میں مالک نہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس طرح متعدد راویوں نے باواسطہ حماد بن سلمہ ایوب،ابو قلابہ اور عبداللہ بن یزید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا حماد بن زید اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ ایوب۔ ابو قلابہ سے مرسل روایت کیا یہ زیادہ صحیح ہے اور یہ جملہ،،کہ مجھے اس چیز میں ملامت نہ کر جس کا میں مالک نہیں۔ اس سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد محبت و الفت ہے۔ بعض علماء نے اس کی یوں تفسیر کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْوِيْةِ بَيْنَ الضَّرَاءِرِ، جلد۱ص۵۸۴،حدیث نمبر ١١٤٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الضَّرَائِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ»: حَدِيثُ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مُرْسَلًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1140

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کے نکاح میں دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں انصاف نہ کرے۔ تو وہ روز قیامت مفلوج پہلو کے ساتھ آئے گا۔ ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے یہ حدیث سند بیان کی ہشام نے قتادہ سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی کہ۔ کہا جاتا ہے،،ہمیں یہ حدیث مرفوعًا صرف ہمام کی روایت سے معلوم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْوِيْةِ بَيْنَ الضَّرَاءِرِ، جلد۱ص۵۸۴،حدیث نمبر ١١٤١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ»: «وَإِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الحَدِيثَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ»، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، وَهَمَّامٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1141

مشرک میاں بیوی سے ایک مسلمان ہو جائے تو کیا حکم ہے۔ عمر بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ ابو العاص بن ربیع کی طرف لوٹایا،،اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ کہ اگر عورت پہلے مسلمان ہو جائے پھر اس کی عدت ہی میں اس کا خاوند مسلمان ہو جائے تو اس مدت میں شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ مالک بن انس،اوزاعی،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ المُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ»: " هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ المَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا وَهِيَ فِي العِدَّةِ أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي العِدَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1142

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو چھ سال بعد پہلے نکاح کے ساتھ ابو العاص بن ربیع کی طرف لوٹایا اور جدید نکاح نہیں کیا اس حدیث کی سند میں کوئی حرج نہیں لیکن متن حدیث غیر معروف ہے شاید داؤد بن حصین کی حفظ کی وجہ سے یوں ہو گیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٣)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ، وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا»: «هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ، وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ وَجْهَ هَذَا الحَدِيثِ، وَلَعَلَّهُ قَدْ جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1143

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک شخص مسلمان ہوا پھر اس کی بیوی بھی اسلام لے آئی تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بھی میرے ساتھ مسلمان ہو چکی ہے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی طرف لوٹا دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے میں نے عبد بن حمید سے سنا فرماتے ہیں میں نے یزید بن ہارون کو محمد بن اسحٰاق سے یہ حدیث اور حجاج کی روایت جو انہوں نے باواسطہ عمرو بن شعیب اور ان کے والد ،ان کے دادا اسے مرفوعًا روایت کی۔ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ ابوالعاص کی طرف لوٹایا یزید بن ہارون فرماتے ہیں حدیث ابن عباس سند کے اعتبار سے زیادہ کھڑی ہے اور عمل عمرو بن شعیب کی روایت پر ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٤)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتْ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ «فَرَدَّهَا عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ " سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَذْكُرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ هَذَا الحَدِيثَ، وَحَدِيثُ الحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ، وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ»، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: «حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَجْوَدُ إِسْنَادًا، وَالعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1144

عورت کا مہر مقرر نہ ہو اور شوہر مر جائے تو اس کا حکم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی لیکن نہ تو مہر مقرر کیا گیا اور نہ ہی جماع کیا کہ وہ مر گیا ( تو اس کا کیا حکم ہے ؟) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر مہر ہے نہ کم ہوگا نہ زیادہ۔ اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے ترکہ بھی۔ معقل بن سنان اشجعی نے اٹھ کر کہا ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔ اس بات پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔ اس باب میں حضرت جراح رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ حسن بن علی خلال نے بواسطہ یزید بن ہارون عبدالرزاق اور سفیان، منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری،احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام جن میں حضرت علی بن ابی طالب۔ زید بن ثابت۔ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں۔ نے فرمایا۔ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور مہر مقرر نہ کیا جائے تو جماع سے پہلے فوت ہونے کی صورت میں اس کے لیے ترکہ بھی ہوگا اور عدت بھی گزارے گی لیکن مہر کی حقدار نہیں۔ امام شافعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں اگر بروع بنت واشق والی روایت ثابت بھی ہو جائے تو بھی حجت وہی بات ہوگی۔ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ امام شافعی کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے مصر جا کر رجوع کر لیا اور روایت بروع بنت واشق کے مطابق قائل ہو گئے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَجُ الْمَرْأَةَ فَيَمُوتُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ لَهَا،جلد۱ص۵۸۶،حدیث نمبر ١١٤٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ المَرْأَةَ فَيَمُوتُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ لَهَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا العِدَّةُ، وَلَهَا المِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ»، فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَفِي البَاب عَنْ الجَرَّاحِ. حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ.:حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ، إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ المَرْأَةَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ قَالُوا: لَهَا المِيرَاثُ، وَلَا صَدَاقَ لَهَا، وَعَلَيْهَا العِدَّةُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ: «لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ لَكَانَتِ الحُجَّةُ فِيمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَرُوِي عَنِ الشَّافِعِيِّ، «أَنَّهُ رَجَعَ بِمِصْرَ بَعْدُ عَنْ هَذَا القَوْلِ، وَقَالَ بِحَدِيثِ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ»

Tirmizi Shareef, Abwabun Nikah, Hadees No. 1145

Tirmizi Shareef : Abwabun Nikah

|

Tirmizi Shareef : أبواب النكاح

|

•