
نسب اور رضاعت سے حرمت برابر ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جو (رشتہ)نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔ اس باب میں حضرت عائشہ،ابن عباس،اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں یہ حدیث صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۷۹،مَا جَاءَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسبِ،جلد۱ص۵۸۷،حدیث نمبر ١١٤٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جو کچھ پیدائش سے حرام کیا وہ رضاعت سے بھی حرام کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حدیث علی بھی حسن صحیح ہے۔ عام صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ ہم اس مسئلہ میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۷۹،مَا جَاءَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسبِ،جلد۱ص۵۸۷،حدیث نمبر ١١٤٧)
رضاعت سے مرد کا تعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تمہارے پاس آنا چاہیے۔ کیونکہ وہ تمہارے چاچا ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چاچا ہیں انہیں تمہارے پاس آنا چاہیے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے رضاعی رشتہ والے مرد کے سامنے ہونے کو مکروہ کہا ہے۔ بعض علماء نے اجازت دی پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۰،مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٤٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ سے پوچھا گیا ایک شخص کی دو بیویوں میں سے ایک نے کسی لڑکی کو اور دوسری نے کسی لڑکے کو دودھ پلایا کیا اس لڑکے کے لیے وہ لڑکی حلال ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ کیونکہ۔،، منی،، تو ایک ہی ہے "لبن الفحل" (مرد کے دودھ) سے بھی یہی مراد ہے۔ اور اس باب میں یہی اصل ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۰،مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٤٩)
ایک یا دو گھونٹ دودھ چوسنے سے حرمت نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،ایک یا دو گھونٹ چوسنے سے نکاح حرام نہیں ہوتا ،،اس باب میں حضرت ام الفضل اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت زبیر اور ابن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں محمد بن دینار نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ،عبداللہ بن زبیر اور زبیر،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا اس میں محمد بن دینار اور محمد زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے۔ یہ غیر محفوظ ہے،بواسطہ ابن ابی ملکہ اور عبداللہ بن زبیر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قرآن میں دس دفعہ پینے سے حرمت کا حکم نازل ہوا جو واضح ہے پھر پانچ کا حکم محسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ کا رہ گیا جو معلوم ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور وہ حکم اسی طرح برقرار ہے۔ اسحاق بن موسیٰ انصاری نے بواسطہ معن،مالک،عبداللہ بن ابی بکر اور عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ حدیث روایت کی،اسی پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دیگر ازواج مطہرات فتویٰ دیا کرتی تھی۔ امام شافعی اور اسحٰق کا یہی قول ہے امام احمد نے حدیث کے مطابق فرمایا کہ ایک یا دو مرتبہ چوسنے سے نکاح حرام نہیں ہوتا۔ نیز فرماتے ہیں اگر کوئی شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پانچ بار دودھ چوسنے کے قول کو اپنائے تو یہ بھی قوی ہے۔ اور اس میں کچھ کہنا بزدلی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین علماء فرماتے ہیں رضاعت کم ہو یا زیادہ ہو پیٹ میں پہنچنے سے نکاح حرام ہو جاتا ہے۔ صوفیان ثوری امام مالک بن انس۔ اوزاعی،عبداللہ بن مبارک،وکیع اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۱،مَا جَاءَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا المصَّتَانِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٥٠)
رضاعت میں ایک عورت کی گواہی حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک سیاہ فام عورت ہمارے ہاں آئی اور اس نے کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا پھر ایک سیاہ فام عورت نے آکر کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اور وہ جھوٹ کہتی ہے فرماتے ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رخ پھیر لیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگیا اور کہا بلا شبہ وہ جھوٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسی (بیوی) کو کیسے رکھ سکتے ہو جبکہ اس عورت کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ تم اسے چھوڑ دو،حدیث عقبہ بن حارث حسن صحیح ہے،متعدد افراد نے اسے بواسطہ ابن ابی ملیکہ عقبہ بن حارث سے روایت کیا لیکن انہوں نے نہ تو عبید بن ابی مریم کا واسطہ ذکر کیا اور نہ ہی اسے چھوڑو کے الفاظ مذکور ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ انہوں نے رضاعت کے بارے میں ایک عورت کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے،ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رضاعت میں ایک عورت کی گواہی جائز ہے۔ لیکن اس سے قسم لی جائے۔ احمد اور اسحٰق بھی یہی کہتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک رضاعت میں ایک عورت کی گواہی ناکافی ہے زیادہ ہونی چاہیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ سے عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ مراد ہیں۔ ان کی کنیت ابو محمد ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں طائف کا قاضی مقرر کیا تھا۔ ابن جریج ابن ابی ملیکہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے تیس صحابہ کرام کو پایا۔ ابن جریج مزید فرماتے ہیں کہ میں نے جارود بن معاذ سے سنا انہوں نے وکیع سے نقل کیا کہ حکم اور فیصلہ کے لیے رضاعت میں ایک عورت کی گواہی کافی نہیں لیکن عورت کو چھوڑ دینا ہی تقوٰی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۲،مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الوَاحِدَةِ فِی الرَّضَاعِ،جلد۱ص۵۹۰،حدیث نمبر ١١٥١)
دو سال سے کم عمر میں رضاعت سے حرمت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت سے نکاح اسی وقت حرام ہوتا ہے جب بچہ کی آنتیں صرف پستانوں کے دودھ سے کھیلیں اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ رضاعت سے حرمت نکاح اسی وقت ہے جب بچہ دو سال سے کم عمر کا ہو دو سال پورے ہونے پر رضاعت سے حرمت ثابت نہ ہوگی فاطمہ بنت منذر بن زبیر بن عوّام ہشام بن عروہ کی زوجہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۳،مَا جَاءَ انَ الرَّضَاعَةَ لا تُحَرِّمُ اِ لَّا فِی الصَّغْرِ دُوْنَ الحَوْلَيْنِ،جلد ۱ص۴۵۹، حدیث نمبر ١١٥٢)
حق رضا عت کی ادائیگی حجاج اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حق رضاعت کسی چیز سے ادا ہو سکتا ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مملوک غلام یا لونڈی،یہ حدیث حسن صحیح ہے،یحیٰی بن سعید قطان حاتم بن اسماعیل اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ اور حجاج،حجاج اسلمی سے اسی طرح مرفوعًا روایت کی ہے۔ سفیان بن عینیہ نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ،اور حجاج،حجاج اسلمی سے مرفوعاً روایت کیا،حدیث ابن عینیہ غیر محفوظ ہے صحیح روایت وہ ہے جسے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے واسطہ سے روایت کیا ہشام بن عروہ کی کنیت ابو المنذر ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو پایا ہے،امام ترمذی فرماتے ہیں کہ جملہ کہ،،کون سی چیز حق رضاعت کو دور کر سکتی ہے،سے مراد حق رضاعت ہے یعنی جب تو نے دودھ پلانے والی کو ایک غلام یا لونڈی دے دی تو اس کا حق ادا کر دیا۔ ابو طفیل سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک خاتون آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک بچھائی وہ اس پر بیٹھ گئے جب وہ چلی گئی تو کہا گیا یہ وہ خاتون (حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا) ہیں جنہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۴،مَا يُذْهِبُ مَذَمَّةَ الرّضَاعِ،جلد۱ص۵۹۱،حدیث نمبر ١١٥٣)
شوہر والی لونڈی آزاد کی جائے تو اس کا حکم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں بریرہ کا خاوند ایک غلام تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دیا تو انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور اگر ان کے خاوند آزاد ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ اختیار نہ دیتے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں بریرہ کے خاوند آزاد تھے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا،،حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا (اول حدیث) حسن صحیح ہے،ہشام بن عروہ نے بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بریرہ کے شوہر غلام تھے عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے بریرہ کے خاوند کو دیکھا وہ غلام تھے۔ اور ان کا نام مغیث تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی مروی ہے۔ بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب کوئی لونڈی کسی آزاد آدمی کے نکاح میں ہو پھر وہ آزاد کر دی جائے تو اسے کوئی اختیار حاصل نہیں اختیار اس صورت میں ہے جب وہ کسی غلام کی نکاح میں ہو اور آزاد کی جائے امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ متعدد افراد نے بواسطہ اعمش ابراہیم اور اسود،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا ابو عوانہ نے یہ حدیث بواسطہ اعمش،ابراہیم اور اسود،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی،اسود نے کہا بریرہ کے خاوند آزاد تھے،بعض تابعی علماء اور بعض کے اہل علم جیسے حضرت سفیان ثوری،اور اہل کوفہ رحمہم اللّٰہ کا اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جس دن بریرہ آزاد کی گئیں،ان کے خاوند بنی مغیرہ کے سیاہ فام غلام تھے قسم بخدا ! (اب ایسا معلوم ہوتا ہے) گویا کہ میں مدینہ طیبہ کے راستوں اور ان کے ارد گرد ان کے ساتھ پھر رہا ہوں ان کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے ہیں۔ اور وہ بریرہ کو راضی کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ انہیں اختیار کرے لیکن بریدہ نے ایسا نہ کیا،،یہ حدیث حسن صحیح ہے سعید بن ابی عروبہ سے مراد،سعید بن مہران ہیں ان کی کنیت ابو لنضر ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٦)
لڑکا صاحب فراش کیلئے ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا صاحب فراش کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے،اس باب میں حضرت عمر،عثمان،عائشہ،ابو امامہ،عمر بن خارجہ،عبداللہ بن عمرو،براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے زہری نے اسے بواسطہ سعید بن مسیب اور ابو سلمہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۶،مَا جَاءَ انَّ الوَلَدَ لِلْفَرَاشِ،جلد۱ص۵۹۳،حدیث نمبر ١١٥٧)
کسی عورت کو دیکھے اور وہ بھلی معلوم ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت دیکھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور اپنی حاجت پوری کی پھر تشریف لے گئے۔اور فرمایا عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے بس اگر تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو چاہے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی چیز ہے جو اس (دوسری )کے پاس ہے،، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث جابر حسن صحیح غریب ہے۔ ہشام بن ابی عبداللہ صاحب دستوائی ہیں انہیں ہشام بن سنبر کہا جاتا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرَى الْمَرأَة فَعَجِبُہُ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٥٨)
خاوند کے حقوق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی دوسرے کے لیے سجدہ کرنے کا حق دیتا،تو عورت کو حکم دے تاکہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے،اس باب میں حضرت معاذ بن جبل،سراقہ بن مالک بن جعشم،عائشہ،ابن عباس،عبداللہ بن ابی اوفٰی،طلق بن علی،ام سلمہ،انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن اس طریق یعنی بواسطہ محمد بن عمرو اور ابو سلمہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٥٩)
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت (صحبت) کے لیے بلائے تو اسے اس کے پاس جانا چاہیے اگرچہ تنور پر ہی کیوں نہ ہو،،یہ حدیث غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٦٠)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،جو عورت اس حال میں مرے کے اس کا خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی،، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٦١)
بیوی کے حقوق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین اخلاق والا سب سے کامل مومن ہے۔اور تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں،،اس باب میں حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۹،مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَة عَلَى زَوْجِهَا،جلد۱ص۵۹۵،حدیث نمبر ١١٦٢)
سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں میں حجت الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ نے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا اور کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن لو ! میں تمہیں عورتوں کے حق میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں وہ تمہارے پاس مقید ہیں تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو البتہ یہ کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کی مرتکب ہوں،اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں میں عٰلیحدہ چھوڑ دو،(اگر نہ مانے) پھر ہلکی مار مارو پس اگر تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کوئی راستہ تلاش نہ کرو سن لو ! تمہاری عورتوں پر اور عورتوں کے تمہارے ذمہ کچھ حقوق ہیں۔ تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو تمہارے ناپسندیدہ لوگوں سے پامال نہ کرائیں۔ اور ایسے لوگوں کو تمہارے گھروں میں نہ آنے دے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، تمہاری ذمہ ان کا یہ حق ہے کہ ان سے بھلائی کرو،عمدہ لباس اور اچھی غذا دو،یہ حدیث حسن صحیح ہے،"عوان عندکم"کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۹،مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَة عَلَى زَوْجِهَا،جلد۱ص۵۹۵،حدیث نمبر ١١٦٢)
عورت سے غیر فطری حرکت کرنا منع ہے حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ایک اعرابی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی ایک جنگل میں ہوتا ہے اور اس سے خفیف سی ہوا نکلتی ہے وہاں پانی کی قلت ہوتی ہے (تو کیا کریں ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی ہوا نکلے تو وہ وضو کرے اور عورتوں سے غیر محل میں جمع نہ کرو اللہ تعالٰی حق بات سے حیا نہیں فرماتا۔اس باب میں حضرت عمر،خزیمہ بن ثابت،ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، حدیث علی بن طلق حسن ہے،امام بخاری فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی بن طلق کی یہی ایک روایت مجھے معلوم ہے،اور میں طلق بن علی سحیمی سے یہ روایت نہیں پہچانتا گویا کہ امام بخاری کے خیال میں یہ کوئی دوسرے صحابی ہیں۔ وکیع نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے،، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶،حدیث نمبر ١١٦٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو تو وضو کرے اور عورتوں سے غیر محل میں جماع نہ کرو،یہ علی،علی بن طلق ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶،حدیث نمبر ١١٦٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد یا عورت سے غیر فطری عمل کرے،یہ حدیث حسن غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶, حدیث نمبر ١١٦٦)
عورتوں کو زینت کے ساتھ باہر جانا منع ہے حضرت میمونہ بن سعد (حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ) سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،خاوند کے سوا دوسروں کے لیے زینت کے ساتھ دامن گھسیٹتے ہوئے (اترا کر) چلنے والی عورت قیامت کی تاریکی کی طرح ہے جس میں کوئی روشنی نہ ہو،،اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے،اور (ویسے) وہ سچے ہیں، شعبہ اور ثوری نے ان سے (احادیث) روایت کی ہے،بعض حضرات کے نزدیک یہ موسیٰ بن عبیدہ سے مرفوعاً مروی نہیں ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِمَةٍ خُرُوجِ النِّسَاءَ في الزِّیْنۃِ،جلد۱ص۵۹۷،حدیث نمبر ١١٦٧)
غیرت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالٰی اپنی شایان شان غیرت فرماتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالٰی اس بات پر غیرت فرماتا ہے کہ مومن حرام کام کا مرتکب ہو،،اس باب میں حضرت عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن غریب ہے بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر،ابو سلمہ،اور عروہ اور اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی،دونوں حدیثیں صحیح ہیں،حجاد صواف،حجاج بن ابی عثمان ہیں،ابو عثمان کا نام میسرہ ہے،حجاج کی کنیت ابو الصلت ہے،یحیٰی بن سعید قطان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، ہمیں ابوبکر عطار نے بواسطہ علی بن عبداللہ مدنی خبر دی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے حجاج صواف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ ذہین دانا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۲،مَا جَاءَ فِي الْغَيْرَةِ،جلد۱ حدیث نمبر ١١٦٨)
عورت کا اکیلے سفر کرنا منع ہے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر تنہا کرے،اس کے باپ،بھائی،خاوند،بیٹے اور محرم میں سے کوئی ایک اس کے ساتھ ہونا چاہیے،اس باب میں حضرت ابوہریرہ،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ محرم کے بغیر عورت کے سفر کو مکروہ جانتے ہیں جو عورت مالدار ہو اور اس کا محرم کوئی نہ ہو تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ حج کرے یا نہ ؟ بعض علماء فرماتے ہیں اس پر حج فرض نہیں کیونکہ محرم بھی،، سبیلً(قدرت) میں داخل ہے،اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،،جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں،لہذا محرم کے بغیر عورت کو مکہ مکرمہ پہنچنے کی طاقت نہیں،سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے،بعض علماء فرماتے ہیں راستہ پر امن ہو تو وہ لوگوں کے ہمراہ حج کے لیے جا سکتی ہے،مالک بن انس اور شافعی رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۳،فِی كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ المََْااَةُ وَحْدَهَا،جلد۱ص۵۹۸،حدیث نمبر ١١٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت محرم کے بغیر ایک دن رات کا (بھی) سفر نہ کریں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۳،فِی كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ المََْااَةُ وَحْدَهَا،جلد۱ص۵۹۸،حدیث نمبر ١١٧٠)
خاوند کی عدم موجودگی میں کسی عورت کے پاس جانے کی ممانعت۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،وہ تو موت ہے،، اس باب میں حضرت عمر،جابر اور عمر بن عاص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث عقبہ بن عامر حسن صحیح ہے،عورتوں کے پاس جانے کی کراہت اس حدیث کے مطابق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرد کسی تنہا عورت کے پاس ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے،،حمو،،کے معنی،،خاوند کے بھائی،کے ہیں گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اپنی بھاوج کے پاس تنہا ٹھہرنے سے منع فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۴،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَاتِ،جلد۱ص۵۹۹،حدیث نمبر ١١٧١)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جن عورتوں کی خاوند موجود نہ ہوں ان کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تمہاری رگو میں خون کی طرح دوڑتا ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ایسا ہی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرے لیے بھی لیکن اللہ تعالٰی نے اس پر میری مدد فرمائی اور میں اس سے محفوظ ہو گیا۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ بعض محدثین نے مجالد بن سعید کے حفظ میں کلام کہا ہے،میں نے علی بن خشرم سے سنا وہ فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد،،ولٰکِنَ اللّٰہ الخ،، کی تفسیر میں فرمایا یعنی میں اس سے محفوظ ہو گیا ہوں سفیان فرماتے ہیں شیطان مسلمان نہیں ہوتا،، مغیبات،، مغیبتہ۔ کی جمع ہے اور یہ وہ عورت ہے جس کا خاوند گھر میں موجود نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۴،جلد۱ص۵۹۹،حدیث نمبر ١١٧٢)
عورت کا پردہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے جب باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے،، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۶،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٣)
خاوند کو پریشان کرنا منع ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کو دکھ پہنچاتی ہے تو بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے اللہ تجھے غارت کرے اسے ایذا نہ پہنچا تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آئے گا۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔اسماعیل بن عیاش کی شامیوں سے روایت زیادہ درست ہے۔ لیکن حجاز اور عراق والوں سے وہ منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۷،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٤)
Tirmizi Shareef : Abwabur Reza A
|
Tirmizi Shareef : أبواب الرضاع
|
•