asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabur Reza A

From 1146 to 1174

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

نسب اور رضاعت سے حرمت برابر ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جو (رشتہ)نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔ اس باب میں حضرت عائشہ،ابن عباس،اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں یہ حدیث صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۷۹،مَا جَاءَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسبِ،جلد۱ص۵۸۷،حدیث نمبر ١١٤٦)

أبواب الرضاع - أَبْوَابُ الرَّضَاعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ» وَفِي البَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ.: «حَدِيثُ عَلِيٍّ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1146

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جو کچھ پیدائش سے حرام کیا وہ رضاعت سے بھی حرام کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حدیث علی بھی حسن صحیح ہے۔ عام صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ ہم اس مسئلہ میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۷۹،مَا جَاءَ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسبِ،جلد۱ص۵۸۷،حدیث نمبر ١١٤٧)

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الوِلَادَةِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1147

رضاعت سے مرد کا تعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تمہارے پاس آنا چاہیے۔ کیونکہ وہ تمہارے چاچا ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے  مرد نے نہیں پلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چاچا ہیں انہیں تمہارے پاس آنا چاہیے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے رضاعی رشتہ والے مرد کے سامنے ہونے کو مکروہ کہا ہے۔ بعض علماء نے اجازت دی پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۰،مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٤٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الفَحْلِ حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ - بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ»، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي المَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ: كَرِهُوا لَبَنَ الفَحْلِ، وَالأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي لَبَنِ الفَحْلِ وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1148

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ سے پوچھا گیا ایک شخص کی دو بیویوں میں سے ایک نے کسی لڑکی کو اور دوسری نے کسی لڑکے کو دودھ پلایا کیا اس لڑکے کے لیے وہ لڑکی حلال ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ کیونکہ۔،، منی،، تو ایک ہی ہے "لبن الفحل" (مرد کے دودھ) سے بھی یہی مراد ہے۔ اور اس باب میں یہی اصل ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۰،مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارِيتَانِ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً، وَالأُخْرَى غُلَامًا، أَيَحِلُّ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالجَارِيَةِ؟ فَقَالَ: «لَا، اللِّقَاحُ وَاحِدٌ»: «وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الفَحْلِ، وَهَذَا الأَصْلُ فِي هَذَا البَابِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1149

ایک یا دو گھونٹ دودھ چوسنے سے حرمت نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،ایک یا دو گھونٹ چوسنے سے نکاح حرام نہیں ہوتا ،،اس باب میں حضرت ام الفضل اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت زبیر اور ابن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں محمد بن دینار نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ،عبداللہ بن زبیر اور زبیر،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا اس میں محمد بن دینار اور محمد زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے۔ یہ غیر محفوظ ہے،بواسطہ ابن ابی ملکہ اور عبداللہ بن زبیر۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قرآن میں دس دفعہ پینے سے حرمت کا حکم نازل ہوا جو واضح ہے پھر پانچ کا حکم محسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ کا رہ گیا جو معلوم ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور وہ حکم اسی طرح برقرار ہے۔ اسحاق بن موسیٰ انصاری نے بواسطہ معن،مالک،عبداللہ بن ابی بکر اور عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ حدیث روایت کی،اسی پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دیگر ازواج مطہرات فتویٰ دیا کرتی تھی۔ امام شافعی اور اسحٰق کا یہی قول ہے امام احمد نے حدیث کے مطابق فرمایا کہ ایک یا دو مرتبہ چوسنے سے نکاح حرام نہیں ہوتا۔ نیز فرماتے ہیں اگر کوئی شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پانچ بار دودھ چوسنے کے قول کو اپنائے تو یہ بھی قوی ہے۔ اور اس میں کچھ کہنا بزدلی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین علماء فرماتے ہیں رضاعت کم ہو یا زیادہ ہو پیٹ میں پہنچنے سے نکاح حرام ہو جاتا ہے۔ صوفیان ثوری امام مالک بن انس۔ اوزاعی،عبداللہ بن مبارک،وکیع اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۱،مَا جَاءَ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا المصَّتَانِ،جلد۱ص۵۸۸،حدیث نمبر ١١٥٠)

بَابُ مَا جَاءَ لَا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا المَصَّتَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا المُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا المَصَّتَانِ» وَفِي البَاب عَنْ أُمِّ الفَضْلِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ العَوَّامِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ. وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا المَصَّتَانِ»، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ البَصْرِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الحَدِيثِ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: «الصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ " وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «أُنْزِلَ فِي القُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ» حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاقَ. وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا المَصَّتَانِ»، وقَالَ: «إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا»، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الجَوْفِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالأَوْزَاعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ المُبَارَكِ، وَوَكِيعٍ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ. عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ قَدْ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ،وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: «أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1150

رضاعت میں ایک عورت کی گواہی حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک سیاہ فام عورت ہمارے ہاں آئی اور اس نے کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا پھر ایک سیاہ فام عورت نے آکر کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اور وہ جھوٹ کہتی ہے فرماتے ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رخ پھیر لیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگیا اور کہا بلا شبہ وہ جھوٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسی (بیوی) کو کیسے رکھ سکتے ہو جبکہ اس عورت کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ تم اسے چھوڑ دو،حدیث عقبہ بن حارث حسن صحیح ہے،متعدد افراد نے اسے بواسطہ ابن ابی ملیکہ عقبہ بن حارث سے روایت کیا لیکن انہوں نے نہ تو عبید بن ابی مریم کا واسطہ ذکر کیا اور نہ ہی اسے چھوڑو کے الفاظ مذکور ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ انہوں نے رضاعت کے بارے میں ایک عورت کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے،ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رضاعت میں ایک عورت کی گواہی جائز ہے۔ لیکن اس سے قسم لی جائے۔ احمد اور اسحٰق بھی یہی کہتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک رضاعت میں ایک عورت کی گواہی ناکافی ہے زیادہ ہونی چاہیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ سے عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ مراد ہیں۔ ان کی کنیت ابو محمد ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں طائف کا قاضی مقرر کیا تھا۔ ابن جریج ابن ابی ملیکہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے تیس صحابہ کرام کو پایا۔ ابن جریج مزید فرماتے ہیں کہ میں نے جارود بن معاذ سے سنا انہوں نے وکیع سے نقل کیا کہ حکم اور فیصلہ کے لیے رضاعت میں ایک عورت کی گواہی کافی نہیں لیکن عورت کو چھوڑ دینا ہی تقوٰی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۲،مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الوَاحِدَةِ فِی الرَّضَاعِ،جلد۱ص۵۹۰،حدیث نمبر ١١٥١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ المَرْأَةِ الوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ قَالَ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، وَهِيَ كَاذِبَةٌ، قَالَ: «فَأَعْرَضَ عَنِّي»، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: «وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»- وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ «دَعْهَا عَنْكَ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَجَازُوا شَهَادَةَ المَرْأَةِ الوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ " وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الرَّضَاعِ وَيُؤْخَذُ يَمِينُهَا»، «وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ»، " وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ المَرْأَةِ الوَاحِدَةِ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ " سَمِعْتُ الجَارُودَ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الحُكْمِ وَيُفَارِقُهَا فِي الوَرَعِ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1151

دو سال سے کم عمر میں رضاعت سے حرمت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت سے نکاح اسی وقت حرام ہوتا ہے جب بچہ کی آنتیں صرف پستانوں کے دودھ سے کھیلیں اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ رضاعت سے حرمت نکاح اسی وقت ہے جب بچہ دو سال سے کم عمر کا ہو دو سال پورے ہونے پر رضاعت سے حرمت ثابت نہ ہوگی فاطمہ بنت منذر بن زبیر بن عوّام ہشام بن عروہ کی زوجہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۳،مَا جَاءَ انَ الرَّضَاعَةَ لا تُحَرِّمُ اِ لَّا فِی الصَّغْرِ دُوْنَ الحَوْلَيْنِ،جلد ۱ص۴۵۹، حدیث نمبر ١١٥٢)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا فِي الصِّغَرِ دُونَ الحَوْلَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ المُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ، وَكَانَ قَبْلَ الفِطَامِ»:- هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا مَا كَانَ دُونَ الحَوْلَيْنِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الحَوْلَيْنِ الكَامِلَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا «وَفَاطِمَةُ بِنْتُ المُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ العَوَّامِ وَهِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1152

حق رضا عت کی ادائیگی حجاج اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حق رضاعت کسی چیز سے ادا ہو سکتا ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مملوک غلام یا لونڈی،یہ حدیث حسن صحیح ہے،یحیٰی بن سعید قطان حاتم بن اسماعیل اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ اور حجاج،حجاج اسلمی سے اسی طرح مرفوعًا روایت کی ہے۔ سفیان بن عینیہ نے بواسطہ ہشام بن عروہ،عروہ،اور حجاج،حجاج اسلمی سے مرفوعاً روایت کیا،حدیث ابن عینیہ غیر محفوظ ہے صحیح روایت وہ ہے جسے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے واسطہ سے روایت کیا ہشام بن عروہ کی کنیت ابو المنذر ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو پایا ہے،امام ترمذی فرماتے ہیں کہ جملہ کہ،،کون سی چیز حق رضاعت کو دور کر سکتی ہے،سے مراد حق رضاعت ہے یعنی جب تو نے دودھ پلانے والی کو ایک غلام یا لونڈی دے دی تو اس کا حق ادا کر دیا۔ ابو طفیل سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک خاتون آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک بچھائی وہ اس پر بیٹھ گئے جب وہ چلی گئی تو کہا گیا یہ وہ خاتون (حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا) ہیں جنہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۴،مَا يُذْهِبُ مَذَمَّةَ الرّضَاعِ،جلد۱ص۵۹۱،حدیث نمبر ١١٥٣)

بَابُ مَا جَاءَ مَا يُذْهِبُ مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ فَقَالَ: «غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ وَحَقَّهَا، يَقُولُ: إِذَا أَعْطَيْتَ المُرْضِعَةَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَهَا. وَيُرْوَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -- إِذْ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّانُ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى هَؤُلَاءِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ. وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَى أَبَا المُنْذِرِ، وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنَ عُمَرَ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1153

شوہر والی لونڈی آزاد کی جائے تو اس کا حکم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں بریرہ کا خاوند ایک غلام تھا  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دیا تو انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور اگر ان کے خاوند آزاد ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ اختیار نہ دیتے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المَرْأَةِ تُعْتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الحَمِيدِ، عَنْ -- هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا «فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1154

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں بریرہ کے خاوند آزاد تھے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا،،حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا (اول حدیث) حسن صحیح ہے،ہشام بن عروہ نے بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بریرہ کے شوہر غلام تھے عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے بریرہ کے خاوند کو دیکھا وہ غلام تھے۔ اور ان کا نام مغیث تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی مروی ہے۔ بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب کوئی لونڈی کسی آزاد آدمی کے نکاح میں ہو پھر وہ آزاد کر دی جائے تو اسے کوئی اختیار حاصل نہیں اختیار اس صورت میں ہے جب وہ کسی غلام کی نکاح میں ہو اور آزاد کی جائے امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ متعدد افراد نے بواسطہ اعمش ابراہیم اور اسود،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا ابو عوانہ نے یہ حدیث بواسطہ اعمش،ابراہیم اور اسود،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی،اسود نے کہا بریرہ کے خاوند آزاد تھے،بعض تابعی علماء اور بعض کے اہل علم جیسے حضرت سفیان ثوری،اور اہل کوفہ رحمہم اللّٰہ کا اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، «فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» هَكَذَا رَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، وَرَوَى عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ وَكَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ وَقَالُوا: إِذَا كَانَتِ الأَمَةُ تَحْتَ الحُرِّ فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ -" وَرَوَى الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، «فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الحَدِيثَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ، قَالَ الأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا «وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1155

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جس دن بریرہ آزاد کی گئیں،ان کے خاوند بنی مغیرہ کے سیاہ فام غلام تھے قسم بخدا ! (اب ایسا معلوم ہوتا ہے) گویا کہ میں مدینہ طیبہ کے راستوں اور ان کے ارد گرد ان کے ساتھ پھر رہا ہوں ان کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے ہیں۔ اور وہ بریرہ کو راضی کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ انہیں اختیار کرے لیکن بریدہ نے ایسا نہ کیا،،یہ حدیث حسن صحیح ہے سعید بن ابی عروبہ سے مراد،سعید بن مہران ہیں ان کی کنیت ابو لنضر ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الْآمَةِ تُعتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ،جلد۱ص۵۹۲،حدیث نمبر ١١٥٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ لِبَنِي المُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ بَرِيرَةُ، وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ المَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتَرَضَّاهَا لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةُ هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِهْرَانَ، وَيُكْنَى أَبَا النَّضْرِ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1156

لڑکا صاحب فراش کیلئے ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا صاحب فراش کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے،اس باب میں حضرت عمر،عثمان،عائشہ،ابو امامہ،عمر بن خارجہ،عبداللہ بن عمرو،براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے زہری نے اسے بواسطہ سعید بن مسیب اور ابو سلمہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۶،مَا جَاءَ انَّ الوَلَدَ لِلْفَرَاشِ،جلد۱ص۵۹۳،حدیث نمبر ١١٥٧)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الوَلَدَ لِلْفِرَاشِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ» وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1157

کسی عورت کو دیکھے اور وہ بھلی معلوم ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت دیکھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور اپنی حاجت پوری کی پھر تشریف لے گئے۔اور فرمایا عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے بس اگر تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو چاہے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی چیز ہے جو اس (دوسری )کے پاس ہے،، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث جابر حسن صحیح غریب ہے۔ ہشام بن ابی عبداللہ صاحب دستوائی ہیں انہیں ہشام بن سنبر کہا جاتا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۵،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرَى الْمَرأَة فَعَجِبُہُ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٥٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرَى المَرْأَةَ تُعْجِبُهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَخَرَجَ، وَقَالَ: «إِنَّ المَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ: «حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ» وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ هُوَ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1158

خاوند کے حقوق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی دوسرے کے لیے سجدہ کرنے کا حق دیتا،تو عورت کو حکم دے تاکہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے،اس باب میں حضرت معاذ بن جبل،سراقہ بن مالک بن جعشم،عائشہ،ابن عباس،عبداللہ بن ابی اوفٰی،طلق بن علی،ام سلمہ،انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن اس طریق یعنی بواسطہ محمد بن عمرو اور ابو سلمہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٥٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى المَرْأَةِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» وَفِي البَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1159

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت (صحبت) کے لیے بلائے تو اسے اس کے پاس جانا چاہیے اگرچہ تنور پر ہی کیوں نہ ہو،،یہ حدیث غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٦٠)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1160

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،جو عورت اس حال میں مرے کے اس کا خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی،، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۸،مَا جَاءَ فِی حَقِّ الزَّوْحِ عَلَى الْمَرْأَةِ،جلد۱ص۵۹۴،حدیث نمبر ١١٦١)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ مُسَاوِرٍ الحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1161

بیوی کے حقوق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین اخلاق والا سب سے کامل مومن ہے۔اور تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں،،اس باب میں حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۹،مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَة عَلَى زَوْجِهَا،جلد۱ص۵۹۵،حدیث نمبر ١١٦٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ المَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ المُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ» وَفِي البَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1162

سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں میں حجت الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ نے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا اور کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن لو ! میں تمہیں عورتوں کے حق میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں وہ تمہارے پاس مقید ہیں تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو البتہ یہ کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کی مرتکب ہوں،اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں میں عٰلیحدہ چھوڑ دو،(اگر نہ مانے) پھر ہلکی مار مارو پس اگر تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کوئی راستہ تلاش نہ کرو سن لو ! تمہاری عورتوں پر اور عورتوں کے تمہارے ذمہ کچھ حقوق ہیں۔ تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو تمہارے ناپسندیدہ لوگوں سے پامال نہ کرائیں۔ اور ایسے لوگوں کو تمہارے گھروں میں نہ آنے دے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، تمہاری ذمہ ان کا یہ حق ہے کہ ان سے بھلائی کرو،عمدہ لباس اور اچھی غذا دو،یہ حدیث حسن صحیح ہے،"عوان عندکم"کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۸۹،مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَة عَلَى زَوْجِهَا،جلد۱ص۵۹۵،حدیث نمبر ١١٦٢)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ، وَوَعَظَ، فَذَكَرَ فِي الحَدِيثِ قِصَّةً، فَقَالَ: «أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ، لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي المَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ»: " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «عَوَانٌ عِنْدَكُمْ»، يَعْنِي: أَسْرَى فِي أَيْدِيكُمْ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1163

عورت سے غیر فطری حرکت کرنا منع ہے حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ایک اعرابی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی ایک جنگل میں ہوتا ہے اور اس سے خفیف سی ہوا نکلتی ہے وہاں پانی کی قلت ہوتی ہے (تو کیا کریں ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی ہوا نکلے تو وہ وضو کرے اور عورتوں سے غیر محل میں جمع نہ کرو اللہ تعالٰی حق بات سے حیا نہیں فرماتا۔اس باب میں حضرت عمر،خزیمہ بن ثابت،ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، حدیث علی بن طلق حسن ہے،امام بخاری فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی بن طلق کی یہی ایک روایت مجھے معلوم ہے،اور میں طلق بن علی سحیمی سے یہ روایت نہیں پہچانتا گویا کہ امام بخاری کے خیال میں یہ کوئی دوسرے صحابی ہیں۔ وکیع نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے،، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶،حدیث نمبر ١١٦٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ فِي الفَلَاةِ فَتَكُونُ مِنْهُ الرُّوَيْحَةُ، وَيَكُونُ فِي المَاءِ قِلَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الحَقِّ» وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.: «حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ» وسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: «لَا أَعْرِفُ لِعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ الوَاحِدِ، وَلَا أَعْرِفُ هَذَا الحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ السُّحَيْمِيِّ» وَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّ هَذَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1164

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو تو وضو کرے اور عورتوں سے غیر محل میں جماع نہ کرو،یہ علی،علی بن طلق ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶،حدیث نمبر ١١٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوْ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1165

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد یا عورت سے غیر فطری عمل کرے،یہ حدیث حسن غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ اتيَانِ النِّسَاءِ في ادْبَارِهِنَّ،جلد۱ص۵۹۶, حدیث نمبر ١١٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ» وَعَلِيٌّ هَذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1166

عورتوں کو زینت کے ساتھ باہر جانا منع ہے حضرت میمونہ بن سعد (حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ) سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،خاوند کے سوا دوسروں کے لیے زینت کے ساتھ دامن گھسیٹتے ہوئے (اترا کر) چلنے والی عورت قیامت کی تاریکی کی طرح ہے جس میں کوئی روشنی نہ ہو،،اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے،اور (ویسے) وہ سچے ہیں، شعبہ اور ثوری نے ان سے (احادیث) روایت کی ہے،بعض حضرات کے نزدیک یہ موسیٰ بن عبیدہ سے مرفوعاً مروی نہیں ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِمَةٍ خُرُوجِ النِّسَاءَ في الزِّیْنۃِ،جلد۱ص۵۹۷،حدیث نمبر ١١٦٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الزِّينَةِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الرَّافِلَةِ فِي الزِّينَةِ فِي غَيْرِ أَهْلِهَا كَمَثَلِ ظُلْمَةِ يَوْمِ القِيَامَةِ لَا نُورَ لَهَا»: «هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ صَدُوقٌ» وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1167

غیرت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالٰی اپنی شایان شان غیرت فرماتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالٰی اس بات پر غیرت فرماتا ہے کہ مومن حرام کام کا مرتکب ہو،،اس باب میں حضرت عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن غریب ہے بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر،ابو سلمہ،اور عروہ اور اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی،دونوں حدیثیں صحیح ہیں،حجاد صواف،حجاج بن ابی عثمان ہیں،ابو عثمان کا نام میسرہ ہے،حجاج کی کنیت ابو الصلت ہے،یحیٰی بن سعید قطان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، ہمیں ابوبکر عطار نے بواسطہ علی بن عبداللہ مدنی خبر دی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے حجاج صواف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ ذہین دانا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۲،مَا جَاءَ فِي الْغَيْرَةِ،جلد۱ حدیث نمبر ١١٦٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الغَيْرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ، وَالمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ المُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ» وَفِي البَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الحَدِيثُ. " وَكِلَا الحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ، وَالحَجَّاجُ الصَّوَّافُ هُوَ الحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، وَأَبُو عُثْمَانَ: اسْمُهُ مَيْسَرَةُ، وَالحَجَّاجُ يُكْنَى أَبَا الصَّلْتِ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ". حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ العَطَّارُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ المَدِينِيِّ قَالَ: سَأَلْتَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ القَطَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ؟ فَقَالَ: ثِقَةٌ، فَطِنٌ كَيِّسٌ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1168

عورت کا اکیلے سفر کرنا منع ہے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر تنہا کرے،اس کے باپ،بھائی،خاوند،بیٹے اور محرم میں سے کوئی ایک اس کے ساتھ ہونا چاہیے،اس باب میں حضرت ابوہریرہ،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ محرم کے بغیر عورت کے سفر کو مکروہ جانتے ہیں جو عورت مالدار ہو اور اس کا محرم کوئی نہ ہو تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ حج کرے یا نہ ؟ بعض علماء فرماتے ہیں اس پر حج فرض نہیں کیونکہ محرم بھی،، سبیلً(قدرت) میں داخل ہے،اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے،،جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں،لہذا محرم کے بغیر عورت کو مکہ مکرمہ پہنچنے کی طاقت نہیں،سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے،بعض علماء فرماتے ہیں راستہ پر امن ہو تو وہ لوگوں کے ہمراہ حج کے لیے جا سکتی ہے،مالک بن انس اور شافعی رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۳،فِی كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ المََْااَةُ وَحْدَهَا،جلد۱ص۵۹۸،حدیث نمبر ١١٦٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ المَرْأَةُ وَحَدَهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوْ ابْنُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا» وَفِي البَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا تُسَافِرُ المَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: يَكْرَهُونَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ العِلْمِ فِي المَرْأَةِ إِذَا كَانَتْ مُوسِرَةً وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ، هَلْ تَحُجُّ؟ -- فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَجِبُ عَلَيْهَا الحَجُّ لِأَنَّ المَحْرَمَ مِنْ السَّبِيلِ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97]، فَقَالُوا: إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ فَلَا تَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: إِذَا كَانَ الطَّرِيقُ آمِنًا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ فِي الحَجِّ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1169

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت محرم کے بغیر ایک دن رات کا (بھی) سفر نہ کریں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۳،فِی كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ المََْااَةُ وَحْدَهَا،جلد۱ص۵۹۸،حدیث نمبر ١١٧٠)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1170

خاوند کی عدم موجودگی میں کسی عورت کے پاس جانے کی ممانعت۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،وہ تو موت ہے،، اس باب میں حضرت عمر،جابر اور عمر بن عاص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث عقبہ بن عامر حسن صحیح ہے،عورتوں کے پاس جانے کی کراہت اس حدیث کے مطابق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرد کسی تنہا عورت کے پاس ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے،،حمو،،کے معنی،،خاوند کے بھائی،کے ہیں گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اپنی بھاوج کے پاس تنہا ٹھہرنے سے منع فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۴،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَاتِ،جلد۱ص۵۹۹،حدیث نمبر ١١٧١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى المُغِيبَاتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الحَمْوَ، قَالَ: «الحَمْوُ المَوْتُ» وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ العَاصِ.: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ»، " وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «الحَمْوُ»، يُقَالُ: هُوَ أَخُو الزَّوْجِ، كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1171

عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جن عورتوں کی خاوند موجود نہ ہوں ان کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تمہاری رگو میں خون کی طرح دوڑتا ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ایسا ہی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرے لیے بھی لیکن اللہ تعالٰی نے اس پر میری مدد فرمائی اور میں اس سے محفوظ ہو گیا۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ بعض محدثین نے مجالد بن سعید کے حفظ میں کلام کہا ہے،میں نے علی بن خشرم سے سنا وہ فرماتے ہیں سفیان بن عیینہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد،،ولٰکِنَ اللّٰہ الخ،، کی تفسیر میں فرمایا یعنی میں اس سے محفوظ ہو گیا ہوں سفیان فرماتے ہیں شیطان مسلمان نہیں ہوتا،، مغیبات،، مغیبتہ۔ کی جمع ہے اور یہ وہ عورت ہے جس کا خاوند گھر میں موجود نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۴،جلد۱ص۵۹۹،حدیث نمبر ١١٧٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلِجُوا عَلَى المُغِيبَاتِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ»، قُلْنَا: وَمِنْكَ؟ قَالَ: «وَمِنِّي، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ»: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»، «وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ»، وسَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ خَشْرَمٍ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ»، يَعْنِي: أَسْلَمُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالشَّيْطَانُ لَا يُسْلِمُ، «وَلَا تَلِجُوا عَلَى المُغِيبَاتِ»، وَالمُغِيبَةُ: المَرْأَةُ الَّتِي يَكُونُ زَوْجُهَا غَائِبًا، وَالمُغِيبَاتُ: جَمَاعَةُ المُغِيبَةِ "

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1172

عورت کا پردہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے جب باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے،، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۶،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «المَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1173

خاوند کو پریشان کرنا منع ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کو دکھ پہنچاتی ہے تو بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے اللہ تجھے غارت کرے اسے ایذا نہ پہنچا تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آئے گا۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔اسماعیل بن عیاش کی شامیوں سے روایت زیادہ درست ہے۔ لیکن حجاز اور عراق والوں سے وہ منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الرضاع،باب۷۹۷،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٤)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الحَضْرَمِيِّ، عَنْ - مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الحُورِ العِينِ: لَا تُؤْذِيهِ، قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكَ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا ": «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ»، «وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّامِيِّينَ أَصْلَحُ، وَلَهُ عَنْ أَهْلِ الحِجَازِ وَأَهْلِ العِرَاقِ مَنَاكِيرُ»

Tirmizi Shareef, Abwabur Reza A, Hadees No. 1174

Tirmizi Shareef : Abwabur Reza A

|

Tirmizi Shareef : أبواب الرضاع

|

•