
سنت طلاق حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی انہوں نے فرمایا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو انہوں نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے رجوع کا حکم فرمایا۔یونس کہتے ہیں میں نے پوچھا کیا یہ طلاق شمار ہوگی ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا اس سوال سے خاموش رہو دیکھو اگر وہ (بولنے سے) عاجز ہو یا بیوقوفی سے طلاق دے تو وہ طلاق شمار نہیں کی جائے گی ؟ (یعنی وہ طلاق واقع ہوگی) (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق والعان،عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،مَا جَاءَ فِی طلاقِ السُنَّةِ،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٥)
حضرت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اپنی زوجہ کو حالت حیض میں طلاق دی اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے( اس کا حکم ) پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں رجوع کرنے کا حکم دو پھر پاکیزگی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں،حضرت ابن عمر سے یونس بن جبیر اور سالم دونوں کی روایات صحیح ہیں۔ متعدد طرق سے یہ حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین علماء کا اس پر عمل ہے اس پاکیزگی میں طلاق دینا سنت ہے جس میں جماع نہ کیا ہو۔ بعض علماء فرماتے ہیں پاکیزگی کی حالت میں تین طلاقیں دے تو وہ بھی سنت طلاق ہوگی۔ امام شافعی اور امام احمد کا یہی قول ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں تین طلاقیں نہیں بلکہ صرف ایک طلاق دینا سنت ہے۔ ثوری اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں،حاملہ عورت کو جس وقت شاہیے طلاق دے، امام شافعی احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں مہینے میں ایک طلاق دے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق والعان،عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،مَا جَاءَ فِی طلاقِ السُنَّةِ،جلد۱ص۶۰۰،حدیث نمبر ١١٧٦)
طلاق بائن عبداللہ بن یزید بن رکانہ بواسطہ والد اپنی دادا رکانہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی عورت کو طلاق بائن دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے کیا نیت تھی ؟ عرض کیا،،ایک طلاق کی نیت،،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کی قسم ؟ میں نے عرض کیا ہاں خدا کی قسم،، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی ہوگی جو تم نے نیت کی۔ اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا طلاق بائن میں اختلاف ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے،کہ یہ ایک ہی طلاق ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے تین قرار دیے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں طلاق دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے ایک کی نیت کرے تو ایک تین کی نیت ہو تو تین واقع ہونگی۔ اور اگر دو کی نیت ہو تو صرف ایک واقع ہوگی۔ ثوری اور اہل کوفہ رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے مالک بن انس رحمہم اللّٰہ فرماتے ہیں اگر عورت کے پاس گیا ہے تو تین طلاقیں شمار ہوں نگی۔ امام شافعی فرماتے ہیں۔ ایک کی نیت سے ایک واقع ہوگی اور وہ رجوع کر سکتا ہے۔ دو کی نیت ہو تو دو اور تین کی نیت کرے تو تین طلاق واقع ہوں نگی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الطلاق والعان،باب۷۹۵،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُطَلِقُ أَمْرَاتَه البتة،جلد۱ص۶۰۱،حدیث نمبر ١١٧٧)
بیوی کو؛ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ؛ کے الفاظ کہنا حماد بن زید فرماتے ہیں میں نے ایوب سے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ حسن کے سوا کسی اور نے، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے،کے الفاظ کو تین طلاق قرار دیا ہو انہوں نے فرمایا،،میں حسن کے سوا کسی کو نہیں جانتا پھر فرمایا،،اے اللہ ! بخشش فرما ،، مگر وہ جو مجھ سے قتادہ نے بواسطہ کثیر مولا بن سمرہ ابو سلمہ اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ تین طلاقیں ہیں۔ ایوب فرماتے ہیں میں نے کثیر مولا سمرہ سے ملاقات کر کے۔اس کے بارے میں پوچھا تو انہیں اس بات کی خبر دی انہوں نے فرمایا،،کثیر بھول گئے،،اس حدیث کو ہم صرف بواسطہ سلیمان بن حرب حماد بن زید کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم سے سلیمان بن حرب نے حماد بن زید سے یہ حدیث روایت کی۔ لیکن حضرت ابو ہریرہ پر موقوف ہے، امام بخاری کے نزدیک یہ مرفوع نہیں۔ علی بن نصر،حافظ اور صاحب حدیث ہیں، اہل علم کا ان الفاظ،تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں،میں اختلاف ہے،بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی ہیں ،،نہیں فرمایا،،ایک طلاق واقع ہوگی،متعدد تابعین اور دیگر علماء کا بھی یہی قول ہے،حضرت عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں فیصلہ وہی ہوگا جو عورت کرے گی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مرد جب عورت کو طلاق کا اختیار دے اور عورت اپنے نفس کو تین طلاقیں دے ، جبکہ خاوند انکار کرے اور کہے میں نے تو صرف ایک طلاق کا اختیار دیا ہے تو اس صورت میں خاوند کو قسم دی جائے گی اور قسم کے ساتھ مرد کا قول ہی معتبر ہوگا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل ہے،مالک بن انس فرماتے ہیں فیصلہ وہی ہوگا جو عورت کرے امام احمد کا یہی قول ہے،امام اسحاق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول اختیار فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق والعان،باب۸۰۰،مَا جَاءَ فِي أَمْرُكِ بَيَدِكَ،جلد۱ص۶۰۲،حدیث نمبر ١١٧٨)
بیوی کو طلاق کا اختیار دینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اختیار کیا کیا یہ طلاق تھی ؟ (یعنی طلاق نہ تھی) بندار نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن مہدی،سفیان،اعمش،ابوضحٰی اور مسروق،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی مثل حدیث روایت کی، یہ حدیث حسن صحیح ہے اختیار دینے میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اگر وہ عورت اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک بائن طلاق واقع ہوگی۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک طلاق رجعی ہوگی۔ اور اگر شوہر کو اختیار کرے تو کوئی چیز نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اگر اپنے نفس کو اختیار کرے تو ایک بائنہ طلاق اور اگر خاوند کو اختیار کرے تو ایک رجعی طلاق واقع ہوگی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اگر خاوند کو اختیار کرے تو ایک اور اگر اپنے آپ کو اختیار کرے تو تین طلاقیں ہوگی۔ اکثر فقہا صحابہ کرام اور تابعین نے اس باب میں حضرت عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا قول اختیار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول اپنایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق والعان،باب۸۰۱،مَا جَاءَ فِي الْخِيَارِ،جلد۱ص۶۰۳،حدیث نمبر ١١٧٩)
تین طلاق والی کے لیے گھر اور نفقہ نہیں فاطمہ بن قیس سے روایت ہے فرماتی ہیں عہد رسالت میں میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے نہ تو گھر ہے اور نہ نفقہ،مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ایک عورت کی بات سے کتاب و سنت کو نہیں چھوڑ سکتے۔ نہ معلوم اسے یاد رہا یا بھول گئی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطلقہ ثلاثہ کو گھر اور نفقہ دیتے تھے، تین طلاق والی کے لیے گھر اور نفقہ نہیں۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں میں فاطمہ بن قیس کے پاس گیا اور ان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بارے پوچھا انہوں نے فرمایا میرے خاوند نے مجھے بائن طلاق دی تھی میں نے ان سے گھر اور نفقہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور نفقہ نہ دیا حدیث ابو ابو داؤد میں ہے حضرت فاطمہ نے فرمایا مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر ایام عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کا یہی قول ہے حسن بصری،عطاء بن ابو رباح،اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں،احمد اور اسحاق بھی یہی کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں اگر خاوند رجوع کا مالک نہ ہو تو مطلقہ عورت کے لیے گھر اور نفقہ نہیں، بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی ہیں فرماتے ہیں تین طلاق والی عورتوں کے لیے گھر اور نفقہ ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں اس کے لیے گھر ہے لیکن نفقہ نہیں۔ مالک بن انس ، لیث بن سعد اور شافعی کا یہی قول ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہم نے قرآن کے مطابق اس کے لیے سکنٰی (گھر) کہا قول کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ انہیں گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں۔ مگر یہ کہ وہ بے حیائی کا ارتکاب کریں بے حیائی سے مراد یہ ہے کہ شوہر سے بد کلامی کریں۔ امام شافعی فاطمہ بن قیس کے واقعہ سے استدلال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سکنٰی مقرر نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے خاوند سے بد کلامی کی امام شافعی فرماتے ہیں فاطمہ بن قیس کے واقعہ پر مشتمل حدیث کی رو سے ایسی عورت کے لیے نفقہ بھی نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق والعان،باب۸۰۲،مَا جَاءَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَانَّا لَا سُکْنٰى لَهَا وَلَا نَفَقَةَ،جلد۱ص۶۰۴،حدیث نمبر ١١٨٠)
نکاح سے پہلے طلاق نہیں حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں اس کے لیے نہ نذر ہے نہ آزاد کرنا اور نہ ہی طلاق،،اس باب میں حضرت علی،معاذ،جابر،ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث عبداللہ بن عمرو حسن صحیح ہے،اور اس باب میں مروی روایات میں یہ نہایت حسن ہے،اکثر صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے حضرت علی بن ابی طالب ابن عباس،جابر بن عبداللہ،سعید بن مسیب،حسن،سعید بن جبیر،علی بن حسین شریح،جابر بن زید،اور متعدد فقہاء تابعین سے یہی مروی ہے،امام شافعی بھی یہی فرماتے ہیں،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،آپ نے فرمایا کسی قبیلہ کی طرف منسوخ عورت کی شرط سے طلاق واقع ہو جائے گی،(یعنی یہ کہ فلاں قبیلہ کی عورت سے نکاح کروں تو طلاق ہے اس صورت میں طلاق ہو جائے گی) ابراہیم نخعی،شعبی اور دیگر اہل علم سے مروی ہے،کہ اگر کوئی وقت مقرر کرے گا طلاق ہو جائے گی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا یہی قول ہے۔ کہ جب کسی خاص عورت کا نام لے یا کوئی وقت مقرر کرے یا کہے اگر میں فلاں شہر کی عورت سے نکاح کروں (تو اسے طلاق ہے) ان صورتوں میں نکاح کرتے ہی طلاق ہو جائے گی۔ ابن مبارک نے اس باب میں سختی کی۔ اور فرمایا میں نہیں کہتا کہ حرام ہے واقعہ یہ ہے کہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے طلاق کی قسم کھائی کہ نکاح نہیں کروں گا۔ پھر اسے نکاح کا خیال آیا کیا اس کے لئے اجازت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس کی اجازت دی ہے۔ ابن مبارک نے فرمایا اگر اس میں مبتلا ہونے سے پہلے اس قول کو سچ سمجھتا تھا تو اختیار کر سکتا ہے۔ اور جو شخص پہلے پسند نہیں کرتا تھا مبتلا ہونے کے بعد ان کا قول اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے اجازت نہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں اگر نکاح کریں تو میں اسے عورت کو جدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسحٰاق فرماتے ہیں میں حدیث ابن مسعود کی رو سے کسی کی طرف منسوب عورت کے متعلق جواز کا حکم دیتا ہوں اور میں نہیں کہتا کہ وہ عورت اس پر حرام ہے غیر منصوبہ کے بارے میں بھی اسحٰاق نے گنجائش دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۳،مَا جَاءَ لَاطَلَاقَ قَبلَ النِّكَاحِ،جلد۱ص۶۰۵،حدیث نمبر ١١٨١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں ابو عاصم نے مظاہر سے ہمیں اس کی خبر دی۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ حدیث عائشہ غریب ہے ہم اسے صرف مظاہر بن اسلم کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ مظاہر کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث معلوم نہیں۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین علماء کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۴،مَا جَاءَ أَنَّ طَلَاقَ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ،جلد۱ص۶۰۰, حدیث نمبر ١١٨٢)
دل میں طلاق کا خیال لانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے میری امت کی وہ خیالات اور وسوسے معاف کر دیے جو ان کے دل میں تو پیدا ہوں لیکن نہ تو زبان پر لائیں اور نہ ہی ان پر عمل پیرا ہوں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے،علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی آدمی دل میں طلاق کا خیال کرے تو کچھ نہیں جب تک زبان پر نہ لائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۵،مَا جَاءَ فِيمَنْ يُحَدِثُ نَفَسُهُ بطلاقِ امْرَاَتِهٖ،جلد۱ص۶۰۶،حدیث نمبر ١١٨٣)
طلاق میں سنجیدگی اور مذاق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن میں حقیقت بھی حقیقت ہے اور مذاق بھی مذاق ہے۔ نکاح۔ طلاق اور رجعت۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے عبدالرحمٰن سے مراد ابن حبیب بن ادرک ہے اور میرے نزدیک ابن ماھک سے مراد یوسف بن ماہک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۶،مَا جَاءَ فِی الْجَدِّ وَالهَزْلِ فِي الطَّلَاقِ،جلد۱ص۶۰۰, حدیث نمبر ١١٨٤)
خلع کرنا ربیع بنت معوذ بن عفرا ء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خلع کیا تو انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا (راوی کہتے ہیں) انہیں حکم دیا گیا،کہ ایک حیض عدت گزاریں،اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں،ربیع بنت معوذ کی صحیح روایت یہ ہے کہ انہیں ایک عدت گزارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد رسالت میں ثابت بن قیس کی زوجہ نے خلع کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ خلع والی عورت کی عدت میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء فرماتے ہیں ایسی عورت کی عدت ایک حیض ہے اسحٰق فرماتے ہیں اگر کسی کا یہ مذہب ہو تو یہ قوی مذہب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۷،مَا جَاءَ فِي الْخُلَعِ،جلد۱ص۶۰۷،حدیث نمبر ١١٨٥)
خلع حاصل کرنے والی عورتیں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خلع کرنے والی عورتیں۔ منافق ہیں، یہ حدیث اس طریق سے غریب ہیں۔ اس کی سند قوی نہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا،، جو عورت بلاوجہ اپنے شوہر سے خلع حاصل کرے وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۸،مَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِعَاتِ،جلد۱ص۶۰۸،حدیث نمبر ١١٨٦)
محمد بن بشار نے بواسطہ عبدالوہاب ثقفی، ایوب،ابو قلابہ اور ابو اسماء حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو عورت بلاوجہ اپنی خاوند سے خلع طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ یہ حدیث بواسطہ ایوب،ابو قلابہ،اور اسماء حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ بعض نے اس سند کے ساتھ ایوب سے غیر مرفوع روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۸،مَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِعَاتِ،جلد۱ص۶۰۸،حدیث نمبر ١١٨٧)
عورتوں سے حسن سلوک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،عورت پسلی کی طرح ہیں اگر اسے سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا۔ اور اگر اسی طرح چھوڑ دے گا تو اس کی کجی کے باوجود اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ اس باب میں حضرت ابوذر۔ سمرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۰۹،مَاجَاءَ فِی مُدَارَاةِ النِّسَآءِ، جلد۱ص۶۰۹،حدیث نمبر ١١٨٨)
باپ کے کہنے پر طلاق دینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میرے نکاح میں ایک عورت تھی اور اس سے مجھے محبت تھی۔ میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے چنانچہ انہوں نے مجھے طلاق دینے کا حکم دیا میں نے انکار کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ ذکر کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عبداللہ بن عمر ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو ،، ہم اسے صرف ابن ابی ذہب کی روایت سے پہچانتے ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۰،مَاجَاءَ فِی الرَّجُلِ يَسْألُہُ اَبُوْهُ ان يُطَلِقَ امْرَاَتَهُ،جلد۱ص۶۰۹،حدیث نمبر ١١٨٩)
ایک عورت دوسری کو طلاق نہ دلوائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہچانتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق طلب نہ کرے تاکہ وہ چیز اٹھائے جو اس کے برتن میں ہیں۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۱،مَا جَاءَ لَا تَسْأَلُ المَرَأَةَ طَلَاقَ اُخْتِھَا، جلد۱ص۶۰۹،حدیث نمبر ١١٩٠)
دیوانہ اور بے سمجھ کی طلاق کا حکم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیوانہ جس کی عقل مغلوب ہو چکی ہو،کی طلاق کے علاوہ ہر طلاق واقع ہوتی ہے۔ ہم اس حدیث کو مرفوعًا صرف عطاء بن عجلان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ اور عطاء بن عجلان ضعیف ذاہب الحدیث ہیں۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ دیوانہ مغلوب العقل کی طلاق جائز نہیں۔ مگر وہ دیوانہ جسے کبھی کبھی ہوش آجاتا ہو۔ اس نے حالت افاقہ میں طلاق دی تو واقع ہو جائے گی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۲،مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْمَعْتُوةِ،جلد۱ص۶۱۰،حدیث نمبر ١١٩١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں (اسلام سے قبل) لوگوں کا یہ طریقہ تھا کہ کوئی شخص جتنی بار چاہتا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا پھر عدت میں رجوع کر کے اسے اپنی بیوی بنا لیتا اگرچہ سو یا اس سے زیادہ مرتبہ طلاق دی ہو۔ حتیٰ کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا خدا کی قسم ! نہ تو میں تجھے طلاق دونگا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ ہی تجھے کبھی پناہ دوں گا۔ عورت نے پوچھا وہ کیسے ؟ اس نے کہا تجھے طلاق دوں گا جب عدت پوری ہونے لگے گی رجوع کر لوں گا۔ وہ عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئی اور واقعہ سنایا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ سے واقعہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سکوت فرمایا یہاں تک کہ قرآن کی ایت نازل ہوئیں۔ (ترجمہ) طلاق دو مرتبہ ہے اس کے بعد یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے،، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے اس کے بعد لوگوں نے طلاق دینی شروع کی۔ اس نے بھی جس نے پہلے سے دی تھی۔ اور اس نے بھی جس نے نہیں دی تھی۔ ابو کریب نے بواسطہ محمد بن عطا ء، عبداللہ بن ادریس اور ہشام بن عروہ،حضرت عروہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں یعلٰی بن شبیب کی روایت سے یہ اصح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان، باب۸۱۳،جلد۱ص۶۱۰،حدیث نمبر ١١٩٢)
حاملہ عورت کی عدت حضرت ابو سنابل بن بعکک سے روایت ہے سبیعہ کے ہاں ان کے خاوند کے انتقال کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ پیدا ہوا نفاس سے پاک ہوئیں۔ تو نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ لوگوں کو یہ بات بری معلوم ہوئی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ نکاح کرے تو ٹھیک ہے کیونکہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔ احمد بن منیع نے بواسطہ حسن بن موسیٰ اور شیبان،منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ اس باب میں حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت منقول ہے۔ حدیث ابو سنابل مشہور اس طریق سے غریب ہے۔ ہم ابو سنابل سے اسود کے لیے کوئی روایت نہیں پہچانتے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ ابو سنابل۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد نکاح کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی عدت پوری نہ ہو۔ سفیان ثوری،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء فرماتے ہیں۔ زیادہ تاخیر والی عدت گزارے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۴،مَا جَاء فِی الْحَامِلِ الْمُتَوَفّٰی عَنْهَازَوْجُھَا،جلد۱ص۶۱۱،حدیث نمبر ١١٩٣)
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ،ابن عباس اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں مذاکرہ کیا۔ جس کا خاوند مر جائے اور اس کے بعد اس کا بچہ پیدا ہو کہ وہ کتنی عدت گزارے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا دو عدتوں میں سے لمبی عدت گزارے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ وضع حمل حلال ہو جائے گی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کا ہم نواہوں پھر انہوں نے کسی کو حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ انہوں نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کہ ہاں ان کے شوہر کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد بچہ پیدا ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دوسری جگہ) نکاح کی اجازت مرحمت فرمائی،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۴،مَا جَاء فِی الْحَامِلِ الْمُتَوَفّٰی عَنْهَازَوْجُھَا،جلد۱ص۶۱۱،حدیث نمبر ١١٩٤)
بیوہ کی عدت حضرت حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابو سلمہ نے انہیں ان تینوں احادیث کی خبر دی فرماتے ہیں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت ابو سفیان کی وفات پر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے ایک خوشبو جس میں خلوق یا کوئی زردی تھی منگا کر ایک لڑکی کو لگائی۔ اور پھر اپنے رخساروں پر ملی اور فرمایا قسم بخدا ! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے صرف خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن (سوگ منائے) (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۵،مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا،جلد۱ص۶۱۲،حدیث نمبر ١١٩٥)
زینب بن ابو سلمہ فرماتی ہیں زینب بنت جحش کہ بھائی کی وفات پر میں ان کے پاس گئی انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمایا قسم بخدا ! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں لیکن (اس لیے لگا رہی ہوں کہ) میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ کسی مومنہ عورت کے لیے میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں۔ صرف اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ منائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۵،مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا،جلد۱ص۶۱۲،حدیث نمبر ١١٩٦)
زینب کہتی ہیں میں نے اپنی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا فرماتی ہیں ایک عورت بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئی۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری لڑکی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمایا ،،نہیں،،پھر فرمایا یہ چار ماہ دس دن ہیں۔ اور جاہلیت میں تم ایک سال گزارنے پر مینگنیاں پھینکتی تھیں،، اس باب میں حضرت فریعہ بنت مالک بن سنان۔(حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ) اور حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، حدیث زینب حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ بیوہ عورت اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے بچے۔ سفیان ثوری، مالک،شافعی،احمد،اسحاق،(اور امام اعظم ابو حنیفہ) رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۵،مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا،جلد۱ص۶۱۲،حدیث نمبر ١١٩٧)
ظہار والے کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرنا سلمہ بن صخربیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو کفارہ ظہار ادا کرنے سے پہلے جماع کرے، فرمایا،،ایک کفارہ ہے،،یہ حدیث غریب ہے اکثر علماء کا اس پر عمل ہے،،سفیان ثوری، مالک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں ادائیگی کفارہ سے قبل جماع کیا تو دو کفارے ادا کرنے پڑیں گے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان، باب۸۱۶،مَا جَاءَ فِی الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ اَن يُّكَقِر،جلد۱ص۶۱۳َ،حدیث نمبر ١١٩٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد ادائیگی کفارہ سے قبل جماع کیا اور پھر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع بھی کر لیا (اب کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالٰی تجھ پر رحم فرمائے تو نے ایسا کیوں کیا ؟ عرض کیا،،میں نے چاندنی میں اس کی پازیب دیکھی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اب اللہ تعالٰی کا حکم پورا کرنے۔ (کفارہ ادا کرنے) سے پہلے اس کے پاس نہ جانا،، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان، باب۸۱۶،مَا جَاءَ فِی الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ اَن يُّكَقِر،جلد۱ص۶۱۳َ،حدیث نمبر ١١٩٩)
کفارۂ ظہار ابو سلمہ اور محمد بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ بنو بیاضہ کہ ایک فرد سلمان بن صخر انصاری نے اپنی بیوی سے کہا تو رمضان تک میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ نصف رمضان گزرنے پر ایک رات اس سے صحبت کر لی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کرو،، انہوں نے عرض کیا،، میرے پاس غلام نہیں،،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ انہوں نے کہا۔ مجھے اس کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ،،انہوں نے عرض کیا۔ مجھے اس کی بھی طاقت نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فروہ بن عمرو سے فرمایا یہ کھجوروں کا ٹوکرا انہیں دے دو عرق ایک ٹوکرا ہوتا ہے جس میں پندرہ یا سترہ صاع کھجور یں آتی ہیں یہ ساٹھ مسکینوں کا کھانا ہوا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ سلیمان بن صخر کو سلیمان بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے۔ کفارۂ ظہار میں علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان، باب۸۱۷،مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الظهار،جلد۱ص۶۱۴،حدیث نمبر ١٢٠٠)
عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا (قریب نہ جانے کی قسم کھائی) اور ان کو اپنے اوپر حرام کیا پھر (قسم توڑ کر) حرام کو حلال کیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا،،اس باب میں حضرت ابو موسیٰ اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں،مسلمہ بن علقمہ کی ( مذکورہ بالا )روایت کو علی بن مسہر وغیرہ نے بواسطہ داؤد اور شعبی ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا روایت کیا۔ اس میں حضرت مسروق اور عائشہ رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں۔مسلمہ بن عقیل کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ ایلایہ ہے کہ،،کوئی شخص چار ماہ یا اس سے زیادہ تک اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائے،،اور چار ماہ گزرنے پر عورت کے قریب نہ جائے تو کیا حکم ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین علماء فرماتے ہیں جب چار مہینے گزر جائیں تو وہ ٹھہر جائے یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔ مالک بن انس،شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے کچھ صحابہ کرام اور دوسرے علماء فرماتے ہیں چار ماہ گزرنے پر ایک بائنہ طلاق واقع ہوگی۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ (امام اعظم ابو حنیفہ) رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۸،مَا جَاء في الإيلاء،جلد۱ص۶۱۴،حدیث نمبر ١٢٠١)
لعان کرنا حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر کے دور میں مجھ سے لعان کرنے والے (بیوی خاوند) کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا ان میں تفریق کر دی جائے یا نہیں۔ مجھے اس کا جواب نہ آتا تھا اس لیے میں اپنی جگہ سے اٹھا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مقام کی طرف گیا اور اندر جانے کی اجازت چاہی مجھے بتایا گیا کہ وہ اس وقت قیلولہ کر رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری گفتگو سن لی اور فرمایا ابن جبیر آجاؤ یقیناً تم کسی کام کے لیے ہی آئے ہوں گے۔ فرماتے ہیں میں اندر داخل ہوا (تو دیکھا کہ) آپ کجادے کا پالان بچھائے لیٹے ہوئے ہیں میں نے پوچھا اے ابو عبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کو جدا جدا کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا۔سبحان اللہ ! ہاں،، فلاں بن فلاں نے یہ مسئلہ سب سے پہلے پوچھا وہ حاضر بارگاہ نبوی ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے اگر ہم سے کوئی اپنی بیوی کو بے حیائی کے کام میں دیکھے تو کیا کرے اگر بولتا ہے تو بہت بڑی بات کے ساتھ متکلم ہوتا ہے۔ اور اگر خاموش رہتا ہے تو بھی ایک عظیم بات سے چپ رہتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اور کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا جس بات کا میں نے آپ سے پوچھا تھا میں خود اس میں مبتلا ہوں۔ اس پر سورہ نور کی آیات نازل ہوئیں،، والذین یرمون ازواجہم الخ،،(جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو) آپ نے اس آدمی کو بلایا یہ آیات اسے پڑھ کر سنائیں۔ اور وعظ و نصیحت فرمائی اور بتایا کہ عذاب آخرت کے مقابلے میں دنیا کا عذاب ہلکا ہے۔ اس نے عرض کیا اللہ کی قسم ! میں نے اس پر جھوٹ نہیں کہا۔ پھر اس عورت کو بلایا اسے وعظ و نصیحت فرمائی اور بتایا کہ عذاب آخرت کے مقابلے میں دنیاوی عذاب ہلکا ہے۔ اس نے عرض کیا اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اس نے سچ نہیں کہا راوی فرماتے ہیں آپ نے مرد سے گواہی شروع کی اس نے چار بار خدا کی قسم کے ساتھ گواہی دی کہ وہ سچوں سے ہے۔ اور پانچویں بار یہ کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر خدا کی لعنت ہے۔ پھر عورت سے گواہی شروع کی اس نے چار مرتبہ قسم کے ساتھ گواہی دی کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا عذاب ہو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تفریق فرما دی۔ اس باب میں حضرت سہیل بن سعد۔ ابن عباس۔ حذیفہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۹،مَا جَاءَ فِی الِّعَانِ،جلد۱ص۶۱۵،حدیث نمبر ١٢٠٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اور بچہ ماں کے حوالے کر دیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۱۹،مَا جَاءَ فِی الِّعَانِ،جلد۱ص۶۱۵،حدیث نمبر ١٢٠٣)
بیوہ عدت کہاں گزارے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پوچھنے حاضر ہوئیں کہ وہ اپنے خاندان بنی خدرہ کے پاس واپس چلی جائیں۔ ان کے خاوند اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے تھے کہ مقام قدوم پر انہوں نے ان کو گھیر کر شہید کر دیا۔ فریعہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے مکان اور نفقہ نہیں چھوڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (چلی جاؤ) فرماتی ہیں میں واپس لوٹی حتیٰ کہ میں ابھی حجرہ یا مسجد ہی میں تھی کہ آپ نے مجھے آواز دی یا کسی کو حکم فرمایا اور مجھے بلایا گیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے کیا کہا تھا ؟ فرماتی ہیں میں نے اپنے خاوند کا سارا واقعہ دوبارہ سنایا آپ نے فرمایا تم اپنے گھر ٹھہری رہو یہاں تک عدت پوری ہو جائے۔ حضرت فریعہ فرماتی ہیں پھر میں نے اس کے گھر چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ایک آدمی بھیج کر مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے آپ کو خبر دی چنانچہ آپ نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ محمد بن بشار نے بواسطہ یحییٰ بن سعید۔ سعد ابن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ عدت ختم ہونے سے قبل عورت کے اپنے خاوند کے گھر سے نکلنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ سفیان ثوری ،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی نظریہ ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء فرماتے ہیں۔ عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اگرچہ اپنے خاوند کے گھر نہ گزارے پہلا قول اصح ہے ، (جامع ترمذی شریف،کتاب الطلاق ولعان،باب۸۲۰،مَا جَاءَ أَيْنَ تََعْتَدُّ الْمُتَوَفّٰى عَنْهَا زَوْجُهَا،جلد۱ص۶۱۷،حدیث نمبر ١٢٠٤)
Tirmizi Shareef : Abwabut Talaq Wal Leaan
|
Tirmizi Shareef : أبواب الطلاق واللعان
|
•