
مشتبہ اشیاء کا ترک حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال بھی واضح ہیں اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ جن سے اکثر لوگ ناواقف ہیں کہ آیا وہ حلال چیزوں سے ہیں یا حرام اشیاء سے جس نے ان کو چھوڑا اس نے اپنا دین اور عزت محفوظ کر لی اور جو ان میں سے کسی کا مرتکب ہوا قریب ہے کہ وہ حرام کا ارتکاف کرے جیسا کہ باڑھ کے قریب چرانے والے کو جانوروں کے چرا گاہ میں چلے جانے کا خدشہ رہتا ہے سن لو ! ہر بادشاہ کے لیے ایک باڑھ ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی کی باڑھ (ممنوعات) اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ ہناد نے بواسطہ وکیع،زکریا بن زائدہ اور شعبی ،حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور متعدد افراد نے اسے بواستہ شعبی،حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۱،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الشَّبُهَاتِ، جلد ۱ص۶۱۸،حدیث نمبر ١٢٠٥)
سود کھانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے دینے والے،گواہوں پر اور اس کے لکھنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس باب میں حضرت عمر،علی اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۲،مَا جَاءَ فِی أَكْلِ الرِّبٰوا،جلد۱ص۶۱۸،حدیث نمبر ١٢٠٦)
جھوٹ اور فریب کاری کی مذمت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا،اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا،کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا،،اس باب میں حضرت ابوبکرہ ایمن بن حریم اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث انس حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ، باب۸۲۳،مَا جَاءَ فِي التَّغْلِيظِ فِی الْكِذْبِ وَالزُّوْرِ وَنَحْوَهُ،جلد۱ص۶۱۹،حدیث نمبر ١٢٠٧)
تاجروں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تجار کا خطاب دینا حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور (اس وقت) ہم دلال کہلاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے تاجروں کی جماعت ! شیطان اور گناہ (دونوں) بیع کے وقت حاضر ہوتے ہیں بس تم اپنی خرید و فروخت کو صدقہ سے ملاؤ ،، اس باب میں حضرت براء بن عازب اور رفعہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں حدیث قیس بن ابو غرزہ حسن صحیح ہے۔ منصور،اعمش،حبیب بن ابی ثابت اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث بواسطہ ابو وائل، حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی۔ ہم قیس کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف یہی روایت پہچانتے ہیں۔ یناد نے بواسطہ ابو معاویہ، اعمش اور شقیق بن سلمہ حضرت قیس بن ابی غرزہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث بیان کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢٠٨)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچا اور ایماندار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء،صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا، سوید نے بواسطہ ابن مبارک اور سفیان۔ ابو حمزہ سے اسی اسناد سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی حدیث ثوری سے پہچانتے ہیں۔ ابو حمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصری شیخ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢٠٩)
اسماعیل بن عبید بن رفاعہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید گاہ کی طرف نکلے۔ آپ نے لوگوں کو خرید و فروخت کرتے دیکھ کر فرمایا۔ اے تاجروں کی جماعت ! انہوں نے لبیک کہتے ہوئے اپنی گردنیں اور نگاہیں آپ کی طرف اٹھائیں۔ آپ نے فرمایا تاجر، قیامت کے دن نافرمان اٹھائے جائیں گے البتہ جو ڈرا، نیکو کار ہوا اور سچ کہا ، یہ حدیث صحیح ہے اسماعیل بن عبید کو اسماعیل بن عبید اللہ بن رفاعہ بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢١٠)
سودے پر جھوٹی قسم کھانا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ تو نامراد ہوئے اور نقصان میں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت احسان جتانے والا، تہبند،(شلوار وغیرہ) نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ سودے کو رواج دینے والا،،اس باب میں حضرت ابن مسعود،ابو ہریرہ،ابو امامہ بن ثعلبہ،عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث ابوذر حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۵،مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةِ كَاذِبًا،جلد۱ص۶۲۰،حدیث نمبر ١٢١١)
صبح سویرے تجارت کے لیے نکلنا حضرت صخر غامدی سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی،،یا اللہ ! میری امت کے اوقات صبح میں برکت عطا فرما۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارکہ تھا کہ جب کوئی چھوٹا یا بڑا لشکر بھیجتے تو صبح صبح بھیجتے۔ صخر ایک تاجر آدمی تھے وہ بھی اپنے تاجروں کو صبح سویرے بھیجتے اس سے وہ دولت مند ہو گئے۔ اور ان کا مال بڑھ گیا،اس باب میں حضرت علی،بریدہ،ابن مسعود،انس،ابن عمر ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،صخر غامدی کی روایت حسن ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صخر غامدی کی اس کے علاوہ کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں۔ سفیان ثوری نے بواسطہ سعبہ یعلٰی بن عطاء سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۶،مَاجَاءَ فِی التَّكْبِيْرِ بِالتِّجَارَةِ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٢)
ایک مقررہ مدت کہ وعدہ پر خریداری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موٹے قطری کپڑے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تو پسینہ آنے کے باعث وہ بھاری ہو جاتے۔ ایک یہودی کے پاس شام سے قیمتی چادریں آئیں تو میں نے عرض کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بھیج کر قیمت میسر آنے تک کی مہلت پر اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو کیا ہی اچھا ہے) چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس کسی کو بھیجا تو اس نے کہا میں ان کا مقصد سمجھتا ہوں ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ میرا مال یا (کہا) میرے درہم لے جائیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جھوٹ کہا اسے معلوم ہے کہ میں ان (سب ) سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ اچھا امانت ادا کرنے والا ہوں،اس باب میں حضرت ابن عباس،انس اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث عائشہ حسن صحیح غریب ہے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابو حفصہ سے اسے روایت کیا ہے،میں (امام ترمذی) نے محمد بن فراس بصری سے سنا انہوں نے ابو داؤد طیالسی سے نقل کیا کہ ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں تم سے اس وقت تک یہ حدیث بیان نہیں کروں گا جب تک کہ تم اٹھ کر حرمی بن عمارہ کہ سر کو بوسہ نہ دو راوی کہتے ہیں۔ حرمی اس وقت مجلس میں موجود تھے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وصال فرمایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ بیس صاع غلہ کے عوض رہن تھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال کے لیے لیا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں ایک دفعہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور باسی چربی لے گیا،اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع طعام کے عوض رہن تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل و عیال کی خاطر لیے تھے۔ اور ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آل محمد کے پاس کسی شام کو، ایک صاع کھجور اور ایک صاع غلہ نہیں ہوا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو ازواج مطہرات تھیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٥)
شرائط نامہ لکھنا عبدالمجید بن وہب سے روایت ہے کہتے ہیں عداء بن خالد بن ہودہ نے مجھے کہا کیا میں تمہیں وہ مکتوب پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھا،میں نے کہا،،ہاں کیوں نہیں،،چنانچہ انہوں نے ایک مکتوب نکالا جس میں لکھا تھا،،یہ (اس بات کی) تحریر ہے کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی جس میں نہ بیماری ہے نہ دہوکہ ہے اور نہ وہ حرام سے ہے۔ مسلمان کا مسلمان سے سودا ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ ان سے متعدد محدثین نے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۸،مَا جَاءَ فِي كِتَابَةِ الشُّرُوْطِ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٦)
ناپ تول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا تم ایسے دو کاموں (ناپ تول) کہ نگران بنائے گئے ہو،جن میں تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے۔ اس حدیث کو ہم صرف حسین بن قیس کی روایت سے مرفوعاً پہچانتے ہیں۔اور حسین بن قیس کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسناد صحیح کے ساتھ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۹،مَا جَاءَ فِي الْمَكَيَالِ وَالمِيزَانِ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٧)
نیلام کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹاٹ اور پیالہ بیچتے ہوئے فرمایا اس ٹاٹ اور پیالے کو کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کیا میں ایک درہم میں ان دونوں کو لیتا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زائد کون دیتا ہے ؟ (دو مرتبہ فرمایا) تو ایک شخص نے دو درہم دے کر وہ دونوں چیزیں خرید لیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف احضر بن عجلان کی روایت سے پہچانتے ہیں،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے عبداللہ حنفی،ابوبکر حنفی ہیں بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مال غنیمت اور ترکہ کی نیلامی میں کوئی جرم نہیں۔ معتمر بن سلیمان اور کئی دوسرے محدثین نے یہ حدیث احضر بن عجلان سے روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۰،مَا جَاءَ فِی بْیْعِ مَن يَزِيدُ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٨)
مدبر غلام کو بیچنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر بنایا (یعنی یہ کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد رہے۔ مترجم) پھر وہ مر گیا اور اس نے اس غلام کے سوا کچھ مال نہ چھوڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بیچا اور نعیم بن نحام نے اسے خرید لیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ قبطی غلام تھا، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال اس کا انتقال ہوا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ ان کے نزدیک مدبر کے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر کے نزدیک مدبر کی بیع مکروہ ہے۔ سفیان ثوری مالک اور اوزاعی اسی کے قائل ہیں۔ ف:: امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک مدبر کی بیع جائز نہیں۔ آپ نے اس حدیث کا مطلب یوں بیان کیا کہ یہاں مطلق مدبر نہیں بلکہ مقید مدبر مراد ہے یعنی جس کو مالک نے کہا کہ اگر میں اس بیماری سے یا اس مہینے میں انتقال کر جاؤں تو تو آزاد ہے۔ اس صورت میں اس کی بیع جائز ہے۔ کیونکہ دوسری روایت سے عدم جواز ثابت ہے (لمعات) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ الْمُدَبَّرْ،جلد۱ص۶۲۴،حدیث نمبر ١٢١٩)
تجارتی قافلہ کے شہر میں پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنا منع ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلہ پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنے کو منع فرمایا،اس باب میں حضرت علی،ابن عباس،ابو ہریرہ ابو سعید،ابن عمر اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ تَلَقِّى الْبُيُوْءِ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ تجارت کی پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنے سے منع فرمایا اور اگر کسی نے ان سے ملاقات کر کے سامان خریدا تو بیچنے والے کو بازار پہنچ کر (سودا برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے۔ یہ حدیث ایوب کی روایت سے غریب ہے۔ حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے شہر سے باہر جا کر تجارتی قافلہ سے ملاقات کو مکروہ کہا کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا دھوکہ ہے۔ امام شافعی اور ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے۔ ف: تاجر باہر سے جو غلہ لا رہے ہیں ان کے شہر میں پہنچنے سے قبل باہر جا کر خریدنے کی ممانعت دو وجہ سے ہے ایک یہ کہ اہل شہر کو غلہ کی ضرورت ہے اور یہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ غلہ ہمارے قبضہ میں ہوگا نرخ زیادہ کر کے بیچیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ غلہ لانے والے تجار کو شہر کا غلط نرخ بتا کر خریدے اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو ممانعت نہیں۔ (بہار شریعت،ج،۱،ص۱۰۴) مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ تَلَقِّى الْبُيُوْءِ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢١)
شہری،دیہاتیوں کا سودا نہ بیچیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری،دیہاتی کا سودا نہ بیچے،اس باب میں حضرت طلحہ،انس،جابر،ابن عباس حکیم ابن یزید،بواسطہ، عمر بن عوف مزنی (کثیر بن عبداللہ کے دادا) اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۳،مَا جَاءَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری،دیہاتی کا سودا نہ بیچے لوگوں کو (اس حالت میں) چھوڑ دو (کہ) اللہ تعالی بعض کے ذریعہ بعض کو رزق پہنچائے۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ حدیث جابر بھی حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ انہوں نے شہری کے لیے دیہاتی کا سودا بیچنے سے منع فرمایا جبکہ بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک یہ مکروہ ہے اگر بیچا تو جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۳،مَا جَاءَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٣)
محاقلہ و مزابنہ کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابن عمر،ابن عباس،زید بن ثابت،سعد،جابر،رافع بن خدیج،اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے بیچا جائے۔ اور درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو توڑی ہوئی کھجوروں کے بدلے بیچنا مزابنہ ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے انہوں نے محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۴،مَا جَاءَ فِي النَّہيِ عَنِ المُحَاقَلَةِوَالْمُزَابَنَةِ،جلد۱ص۶۲۶،حدیث نمبر ١٢٢٤)
حضرت عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابو عیاش نے حضرت سعد سے گیہوں کو جو کے بدلے بیچنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا افضل کیا ہے ؟ ابو عیاش نے عرض کیا گیہوں افضل ہے تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ حضرت سعد نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجوریں خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے استفسار فرمایا کیا تازہ کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ،،جی ہاں ،، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سودے سے منع فرمایا۔ وکیع نے بواسطہ مالک اور عبداللہ بن یزید، ابو عیاش سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں۔ ہم نے حضرت سعد سے پوچھا۔ پھر اس کی ہم معنی حدیث نقل کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے۔ امام شافعی اور ہمارے اصحاب بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۴،مَا جَاءَ فِي النَّہيِ عَنِ المُحَاقَلَةِوَالْمُزَابَنَةِ،جلد۱ص۶۲۶،حدیث نمبر ١٢٢٥)
کھجوریں پکنے سے پہلے بیچنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے پختہ ہونے سے پہلے بیچنے کی ممانعت فرمائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٦)
اسی اسناد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی کا خوشہ (پک کر) سفید ہونے اور آفت سے محفوظ ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا اس باب میں حضرت انس،عائشہ،ابو ہریرہ،ابن عباس جابر،ابو سعید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے،انہوں نے پھلوں کو پختہ ہونے سے قبل بیچنے کو مکروہ کہا ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کسی کے قائل ہیں۔ (امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور سیاہ ہونے سے پہلے اور دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٧)
حاملہ کا حمل بیچنے کی ممانعت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کا حمل بیچنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ اس سے اولاد کی اولاد مراد ہے۔ علماء کے نزدیک یہ بیع فسخ ہے کیونکہ یہ دھوکے کی بیع ہے۔ شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ ایوب اور سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عبدالوہاب ثقفی وغیرہ نے بواسطہ۔ سعید بن جبیر اور نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسے مرفوعًا روایت کیا،اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۶،مَا جَاءَ فِی النَّهِيِ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ،جلد۱ص۶۲۸،حدیث نمبر ١٢٢٩)
دہوکہ کی بیع ناجائز ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دہوکہ کی بیع (مثلاً معدوم،مجہول اور غیر مقدور شے کی بیع) اور کنکری کی بیع سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر،ابن عباس،ابو سعید اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے،کہ دہوکہ کی بیع مکروہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں پانی میں مچھلی۔ بھاگے ہوئے غلام اور اڑتے ہوئے پرندے کا بیچنا اور اس قسم کے دیگر سودے دھوکہ کی بیع میں داخل ہیں۔ کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے۔ کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے میں جب تیری طرف کنکری پھینکوں تو تیرے اور میرے درمیان بیع واجب ہو جائے گی۔ یہ بیع منابذہ کہ مشابہ ہیں اور جاہلیت کے سودوں میں سے ایک سودا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۷،مَا جَاءَ فِى كَرَاهِيَة بَيعِ الْغُرَرِ،جلد۱ص۶۲۷, حدیث نمبر ١٢٣٠)
ایک سودے میں دو سودے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو،اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی شخص کہے میں تجھ پہ یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادہار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور (اس طرح) وہ کسی ایک معاملہ پر جدا نہ ہو اور اگر ایک عقد پر الگ ہو جائے تو کچھ حرج نہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں سودوں سے جو منع فرمایا اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کہے میں اپنا یہ مکان تجھ پر اتنے روپے میں اس شرط پر بھیجتا ہوں کہ تو مجھے اپنا غلام اتنی رقم میں دے دے۔ جب تیرا غلام میرا ہو جائے گا تو تو میرے گھر کا مالک ہو جائے گا۔ یہ ایسی بیع پر علیحدگی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں۔ ان میں سے ایک بھی نہیں جانتا کہ اس کی چیز کس کے بدلے گئی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۸،مَا جَاءَ فِی النَّہيِ عَنْ بَيعَتَيْنِ فِی بَيْعَةٍ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣١)
جو چیز پاس نہ ہو اس کا بیچنا حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایک شخص میرے پاس آ کر مجھ سے وہ چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید کر اس پر بیچوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے مت بیچو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٢)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہیں،،یہ حدیث حسن ہے اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٣)
عوف اور ہشام بن حسان بواسطہ ابن سیرین حکیم بن حزام سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ابن سیرین نے بواسطہ ایوب سختیانی اور یوسف بن ماہک،حکیم بن حزام سے اس طرح روایت کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی شرط پر بیع،بیع میں دو شرطیں،(اور ایک شرط بھی) غیر مقبوضہ چیز سے نفع اور غیر مملوکہ چیز کا بیچنا۔ (یہ سب) ناجائز ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،اسحاق بن منصور فرماتے ہیں۔ میں نے امام احمد سے پوچھا قرض کے ساتھ بیع کی ممانعت کا کیا مطلب ہے۔ ؟ انہوں نے فرمایا یہ کہ کسی کو قرض دے کر پھر کوئی چیز اس سے زائد قیمت پر اس پر بیچے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کو قرض دے کر کہے اگر تجھے میسر نہ ہوا تو یہ تیرے اوپر بیع ہے۔ اسحاق فرماتے ہیں میں نے امام احمد سے پوچھا کہ جس چیز کا ضامن نہ ہو اس کی بیع،،سے کیا مراد ہے۔ انہوں نے فرمایا یہ میرے نزدیک صرف کھانے میں ہے۔ یعنی جب تک قبضہ نہ ہو۔ اسحاق فرماتے ہیں یہ ہر ناپی اور تولی جانے والی چیز میں ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں جب کوئی شخص یہ کہے کہ میں تجھ پر یہ کپڑا بیچتا ہوں۔ مگر اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہے۔ تو یہ ایک بیع میں دو شرطوں کی مثال ہے۔ اور اگر کہے میں تجھ پر بیچتا ہوں۔ لیکن اس کی سلائی مجھ پر ہے یا کہے اس کی دھلائی میری ذمہ ہے تو کچھ حرج نہیں۔ یہ ایک شرط ہے۔ اسحاق فرماتے ہیں حدیث حکیم بن حزام حسن ہے۔ اور متعدد طرق سے مروی ہے ایوب سختیانی اور ابو بشر نے بواسطہ یوسف بن ماہک،حضرت حکیم بن حزام سے اسے روایت کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٤)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز کے فروخت کرنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔ وکیع نے یہ حدیث بواسطہ یزید بن ابراہیم، ابن سیرین اور ایوب،حکیم بن حزام سے روایت کی لیکن یوسف بن ماہک کا ذکر نہیں کیا۔ عبدالصمد کی روایت اصح ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے بواسطہ یعلٰی بن حکیم۔ یوسف بن ماہک ، عبداللہ بن اصمہ اور حضرت حکیم بن حزام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس کا بیچنا مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٥)
حق ولاء کا بیچنا اور رہبہ کرنا منع ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء کو بیچنے اور رہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف بواسطہ عبداللہ بن دینار،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے پہچانتے ہیں،اہل علم کا اس پر عمل ہے، یحییٰ بن سلیم نے اسے بواسطہ عبید اللہ ابن عمر۔ نافع اور ابن عمر،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے ولاء کے بیچنے اور رہبہ کرنے سے منع فرمایا،لیکن یہ وہم ہے یحییٰ بن سلیم کو اس میں وہم ہوا۔ عبدالوہاب ثقفی،عبداللہ بن نمیر اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ عبید اللہ بن عمر،عبداللہ بن دینار اور ابن عمر رضی اللہ عنہما،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا یحییٰ بن سلیم کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيع الولاء وَھِبَۃِ،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٦)
جانور کو جانور کے بدلے ادہار بیچنا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت ابن عباس،جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث سمرہ حسن صحیح ہے حسن رحمۃ اللہ کا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع (بھی) صحیح ہے۔ علی بن مدینی وغیرہ نے یونہی کہا ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا جانور کو جانور کے بدلے بیچنے کے بارے میں اس حدیث پر عمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اور امام احمد رحمہ اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی اور اسحاق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع، باب۸۴۱، مَا جَاءَ فِی کَرَاهِيَةِ بَيعِ الْحَيَوَانِِ بالْحَيَوَان نَسِيئَةً،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جانور کے بدلے دو جانور ادھار بیچنا صحیح نہیں البتہ دست بدست بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع، باب۸۴۱، مَا جَاءَ فِی کَرَاهِيَةِ بَيعِ الْحَيَوَانِِ بالْحَيَوَان نَسِيئَةً،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٨)
دو غلاموں کے بدلے ایک غلام خریدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک غلام آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا غلام ہونا ظاہر نہ ہوا۔ اتنے میں اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو سیاہ فام غلاموں کے بدلے خرید لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے اس وقت تک بیعت نہ لیتے جب تک اس سے پوچھ نہ لیتے کہ آیا وہ غلام تو نہیں ؟ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلاموں کے بدلے دست بدست بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ ادھار میں اختلاف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۲،مَا جَاءَ فِی شِرَاءِ الْعَبْدِ بِالْعَبَدَينِ،جلد۱ص۶۳۲،حدیث نمبر ١٢٣٩)
گیہوں کے بدلے گیہوں کا بیچنا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے،چاندی چاندی کے بدلے،کھجور کھجور کے بدلے،گندم گندم کے بدلے،نمک نمک کے بدلے،اور جو،جو کے بدلے برابر برابر بیچے جائیں،بس جس نے زیادہ دیا زیادہ دیا اس نے سود کا ارتکاب کیا۔ چاندی کے بدلے سونا دست بدست جیسے چاہو بیچو۔ کھجور کے بدلے گندم ہاتھوں ہاتھ جیسے جی چاہے بیچو اور کھجور کے بدلے جو،دست بدست جس طرح چاہو بیچو،اس باب میں حضرت ابو سعید ابو ہریرہ اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث عبادہ حسن صحیح ہے،بعض رواۃ نے یہ حدیث خالد سے اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ جو کے بدلے گندم ہاتھوں ہاتھ جس طرح چاہو بیچو،بعض نے اس حدیث میں بواسطہ خالد ابو قلابہ سے یہ اضافہ نقل کیا کہ جو کے بدلے گیہوں جیسے چاہو بیچو،اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ گندم کے بدلے گندم اور جو کے بدلے جو برابر برابر بیچے جائیں،جنس مختلف ہو تو کمی زیادتی سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ سودا نقد ہو،اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا یہی قول ہے سفیان ثوری شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں،امام شافعی فرماتے ہیں اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ گندم کے بدلے جو دست بدست جیسے چاہو بیچو،علماء کی ایک جماعت نے جو کے بدلے گیہوں بڑھا کر بیچنے کو مکروہ کہا ہے،حضرت مالک بن انس رحمہم اللہ کا یہی قول ہے،پہلا قول زیادہ صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۳،مَا جَاءَ إِنَ الْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَكَرَاهِيَةِ التَفَاضُلِ فِيهِ،جلد۱ص۶۳۳،حدیث نمبر ١٢٤٠)
بیع صرف حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میرے ان دونوں کانوں نے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر بیچو،ایک کو دوسرے کے بدلے زائد نہ کیا جائے اور ان میں سے کسی غائب کو موجود کے بدلے نہ بیچو،اس باب میں حضرت ابوبکرہ عمر عثمان،ابو ہریرہ،ہشام بن عامر،براء،زید بن ارقم،فضالہ بن عبید،ابوبکرہ،ابن عمر،ابو درداء اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو سعید حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے،البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی،کم و بیش بیچنے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے بشرطیکہ نقد سودا ہو،نیز آپ فرماتے ہیں سود،ادھار میں ہوتا ہے آپ کے بعض تلامذہ سے بھی یونہی منقول ہے،یہ بھی روایت ہے کہ جب حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک بیان کیا تو آپ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا،پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے،سفیان ثوری،ابن مبارک شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ سے منقول ہے کہ بیع صرف میں کوئی اختلاف نہیں،، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں مقام بقیع میں دیناروں کے بدلے اونٹ بیچتا اور ان کی جگہ چاندی لے لیتا۔اور کبھی چاندی کے بدلے بیچتا اور اس کی جگہ دینار لے لیتا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت کے ساتھ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کو ہم مرفوعًا صرف بواسطہ سماک بن حرب اور سعید بن جبیر،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے جانتے ہیں،بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے میں کوئی حرج نہیں،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اسے ناپسند کیا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤٢)
حضرت مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوا آگے بڑہا کہ کون مجھے دیناروں کے بدلے درہم دیتا ہے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہنے لگے مجھے اپنا سونا دکھاؤ پھر تھوڑی دیر بعد آنا جب ہمارا خادم آجائے تو ہم تمہیں تمہارے درہم دے دیں گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہرگز نہیں قسم بخدا ! یا تو اس کے درہم ابھی دو یا اس کا سونا واپس کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے چاندی سود ہے مگر یہ کہ دست بدست ہو،گندم،گندم کے بدلے سود ہے،مگر نقد ہو،جو کے بدلے سود ہے البتہ ہاتھوں ہاتھ ہو،اور کھجور کے بدلے کھجور (بھی) نقد نہ ہو تو سود ہے،یہ حدیث حسن صحیح ہے،علماء کا اس پر عمل ہے،"اِلَّا ھَاءَوھاَء"َ کا مطلب،،ہاتھوں ہاتھ ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤٣)
پیوند کاری کے بعد کھجوروں اور مالدار غلام کی خریداری حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کھجور کا درخت پیوند کاری کے بعد خریدے اس کا پھل بیچنے والے کے لیے ہے۔ البتہ یہ کہ خریدار شرط کر لے اور جو شخص مالدار غلام بیچے اس کا مال بھی بیچنے والے کے لیے ہے۔ مگر یہ کہ خریدار شرط کر لے۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ متعدد طرق سے بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھجور کا درخت پیوند کاری کے بعد خریدا تو پھل بیچنے والے کے لیے ہوگا مگر یہ کہ خریدار شرط کر لے۔ (اسی طرح) مالدار غلام خریدا تو اس کا مال بھی بیچنے والے کا ہوگا اگر خریدار شرط نہ کرے۔ نافع نے بواسطہ ابن عمر،حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جس میں کھجور کا ذکر ہے غلام کا نہیں۔ اور دوسری روایت بھی انہی سے مروی ہے۔ جس میں غلام کا ذکر ہے کھجور کا نہیں۔ عبید اللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں۔ بعض نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر سے یہ حدیث مرفوعًا روایت کی۔ عکرمہ بن خالد نے بواسطہ ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سالم کی روایت کی طرح بیان کیا بعض اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے،امام بخاری فرماتے ہیں حدیث زہری بواسطہ سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۵،مَا جَاءَ فِی ابْتِيَاءِ النَّخْلِ بَعْدَالتَّابِيْرِ وَ الْعَبْدِ وَلَهُ مَالٌ،جلد۱۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٤)
بائع اور مشتری کو افتراق سے پہلے اختیار ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیچنے اور خریدنے والا جب تک جدا نہ ہو انہیں اختیار ہے،یا یہ کہ وہ آپس میں اختیار کی شرط کر لیں،نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی چیز خریدتے اور آپ بیٹھے ہوتے تو اٹھ کھڑے ہوتے تاکہ سودا مکمل ہو جائے، اس میں حضرت ابو برزہ،عبداللہ بن عمرو،سمرہ،ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں جدائی سے گفتگو کا انقطاع نہیں بلکہ جسمانی افتراق مراد ہے بعض علماء فرماتے ہیں گفتگو میں جدائی مراد ہے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی راوی ہیں اور وہ حدیث کا مفہوم زیادہ جانتے ہیں۔ اور آپ کا معمول یہ تھا کہ جب بیع مکمل کرنا چاہتے تو چل دیتے تاکہ بیع نافذ ہو جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٥)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیچنے اور خریدنے والا جدا ہونے سے پہلے با اختیار ہیں اگر انہوں نے سچ کہا اور بیچی جانے والی چیز کا عیب بیان کیا تو ان کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپا دیں تو ان کی بیع کی برکت دور کر دی جاتی ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابو برزہ اسلمی سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کا سودا کر کے آپس میں جھگڑ پڑے اور وہ کشتی میں سوار تھے۔ ابو برزہ اسلمی نے فرمایا میں نے تمہیں جدا ہوتے نہیں دیکھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والا جدا ہونے سے پہلے مختار ہیں۔ بعض علماء کوفہ اور دوسرے حضرات کے نزدیک گفتگو کا انقطاع مراد ہے،سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے مالک بن انس سے بھی یہی منقول ہے حضرت ابن مبارک سے منقول ہے آپ نے فرمایا میں اسے کیسے رد کروں جبکہ اس کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث موجود ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس مذہب کو قوی قرار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پاک۔ "مگر اختیار کی بیع" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدنے والے کو بیع واجب ہونے کے بعد اختیار دے دیا (تو وہ بیع اور توڑ سکتا ہے لیکن ) جب وہ بیع کو قبول کر لے تو اب جدا ہونے کی صورت میں توڑنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ امام شافعی وغیرہ نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے جسمانی جدائی کے قائلین کو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت سے بھی تائید حاصل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٦)
حضرت عمر بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع اور مشتری کو جدا ہونے سے پہلے اختیار ہے البتہ اختیاری بیع ہو(تو افتراق کے بعد بھی اختیار باقی رہے گا) اور کسی کے لیے اپنے ساتھی سے محض خوف فسخ کی بنا پر جدا ہونا جائز نہیں یہ حدیث حسن ہے۔ اور اس حدیث سے،،بیع کہ بعد فسخ بیع کے ڈر سے جدا ہونا،، مراد ہے،اگر انقطاع کلام مراد ہوتا اور بیع کے بعد اسے فسخ کا اختیار نہ ہوتا تو اس حدیث کا کوئی مطلب نہیں بنتا کے کہ بیع کی واپسی کے ڈر سے جدا ہونا حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٧)
حدیث نمبر،۱۲۵۴ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیع سے آپس کی رضامندی کے ساتھ جدا ہوں یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ،باب۸۴۷،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٤٨) حدیث نمبر،۱۲۵۵
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عربی کو بیع کے بعد فسخ کا اختیار دیا،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ،باب۸۴۷،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٤٩)
جو آدمی بیع میں دھوکہ کھاجاۓ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص خرید و فروخت میں کمزور تھا اور وہ خرید فروخت کرتا تھا چنانچہ اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے منع کر دیجئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر منع کر دیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت سے رک نہیں سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو سودا دست بدست ہے اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ حسن صحیح غریب ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کمزور عقل والے کو خرید و فروخت سے روکا جائے امام احمد اور اسحٰق رضی اللہ عنہماکا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آزاد بالغ آدمی کو روکا نہیں جا سکتا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَخْدَعُ فِی الْبَيعِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥٠)
دوہے بغیر جانور بیچنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا اسے اختیار ہے کہ دوہنے کے بعد چاہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کر دے۔ اس باب میں حضرت انس اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۹،مَا جَاءَ فِی الْمَصَرَّاةِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا اسے تین دن تک اختیار ہے اگر واپس کرے تو گندم کے علاوہ کوئی دوسرا غلہ ایک صاع دے،یہ حدیث حسن صحیح ہے ہمارے اصحاب کا اس پر عمل ہے،امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی ان میں شامل ہیں، ف: اس صورت میں خریدار کو واپس کرنے کا حق نہیں البتہ جو نقصان ہے وہ بائع سے لے سکتا ہے۔ (بہار شریعت حصہ ۱۱ ص ۷۳ بحوالہ در مختار ) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۹،مَا جَاءَ فِی الْمَصَرَّاةِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥٢)
جانور بیچتے وقت سواری کے شرط کرنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر تک سواری کی شرط کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ بیع میں شرط کرنے کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ ایک شرط ہو۔ امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں بیع میں شرط کرنا جائز نہیں اور مشروط بیع پوری نہ ہوگی۔ (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مسلک کیا ہے،مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۰،مَا جَاءَ فِی اشْتِرَاطِ ظُھْرِ الدَّابَّةِ عِنْدَ الْبَيْعِ،جلد۱ص۶۴۰،حدیث نمبر ١٢٥٣)
رہن سے نفع اٹھانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن جانور پر سوار ہو سکتا ہے۔ اور اس کا دودھ پی سکتا ہے اور اس کا خرچ سواری کرنے والے اور دودھ پینے والے پر ہوگا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف عامر شعبی کی روایت سے مرفوعاً ہم جانتے ہیں۔متعدد لوگوں نے اسے بواسطہ اعمش اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے،جبکہ بعض علماء کے نزدیک رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا درست نہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۱،الانتفاء بالرهن،جلد۱ص۶۴۰،حدیث نمبر ١٢٥٤)
سونے اور نگینے والا ہار خریدنا حضرت فضالہ بن عبید سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا اس میں سونا اور نگینے جڑے ہوئے تھے جب میں نے انہیں الگ کیا تو بارہ دینار سے زیادہ (سونا) پایا، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا الگ کیے بغیر ہار نہ بیچا جائے۔ قتیبہ نے بواسطہ ابن مبارک،ابو شجاع سعید بن زید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں مرصع تلوار یا چاندی کا جڑاؤ کیا ہوا کمر بند یا اس قسم کی دوسری اشیاء چاندی الگ کیے بغیر نہ بیچی جائیں۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۲،مَا جَاءَ فِی شِرَاءِ الْقِلَادَةِ وَفِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ،جلد۱ص۶۴۱،حدیث نمبر ١٢٥٥)
شرط ولاء کی ممانعت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو بیچنے والوں نے ولاء کی شرط لگائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے خرید لو حق ولاء تو اس کے لیے ہے۔ جو اس کی قیمت دے یا اس کا مالک بن جائے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ منصور بھی معتمر کی کنیت ابو عتاب ہے۔ ابو عطار بصری،علی بن مدینی سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تجھے منصور سے روایت بیان کی جائے تو تو نے اپنا ہاتھ بھلائی سے بھر دیا اب ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہ کر یحییٰ فرماتے ہیں میں ابراہیم نخعی اور مجاہد کی روایت میں منصور سے اثبت کسی کو نہیں پاتا امام بخاری نے بواسطہ عبداللہ بن ابو اسود، عبدالرحمن بن مہدی سے نقل کیا کہ اہل کوفہ میں،، منصور،،اثبت ہیں۔ ف : کسی نو مسلم نے دوسرے آدمی سے کہا کہ میں مر جاؤں تو تو میرا وارث ہے اور مجھ سے کوئی جنایت وہ تو دیت تجھے دینی پڑے گی اس نے قبول کر لیا یہ موالات ہے اسی کو ولاء کہتے ہیں۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۳،مَا جَاءَ فِی اشْتَرَاطِ الْوَلَاءِ وَالزَّجُرِعَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۴۱،حدیث نمبر ١٢٥٦)
تجارت میں نفع حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا انہوں نے جانور خریدا اور اس میں ایک دینار کا نفع حاصل کیا۔ اور اس کی جگہ دوسرا جانور خرید کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ساتھ ہی دینار بھی پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا بکری کی قربانی کرو اور دینار صدقہ کر دو۔ حدیث حکیم بن حزام کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں میرے (امام ترمذی) کے نزدیک حبیب بن ثابت کو حکیم بن حزام سے سماع نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۴،جلد۱ص۶۴۲،حدیث نمبر ١٢٥٧)
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری خریدوں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو بکریاں خرید لیں پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی جبکہ دوسری بکری اور ایک دینار لے کر حاضر خدمت ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا دیتے ہوئے) فرمایا اللہ تعالٰی تمہارے داہنے ہاتھ کے سودے میں برکت دے اس کے بعد حضرت عروہ کناسۂ کوفہ کی طرف جاتے تو بہت بڑا نفع حاصل کرتے پس آپ کوفہ کی دولت مندوں میں سے ہو گئے۔ احمد بن سعید نے بواسطہ حبان،سعید بن زید اور زبیر بن خریت، ابو لبید سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ بعض علماء اس حدیث کی طرف گئے ہیں امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں جبکہ بعض اہل علم نے اس حدیث کو نہیں لیا۔ امام شافعی انہی لوگوں میں شامل ہیں سعید بن زید،حماد بن زید کے بھائی ہیں،ابو لبید کا نام لمازہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۴،جلد۱ص۶۴۲،حدیث نمبر ١٢٥٨)
مکاتب کے پاس ادائیگی کے لیے مال ہو تو کیا حکم ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مکاتب کو دیت یا ترکہ ملے تو اتنے ہی حصے کا مالک ہوگا جس قدر وہ اب تک آزاد ہو چکا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا جب مکاتب کو دیت دی جائے۔ تو جتنا حصہ آزاد ہے اتنے حصے کی دیت آزاد کی دیت کے حساب سے اور باقی حصہ غلام کی دیت کے حساب سے دی جائے۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث ابن عباس حسن ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے بواسطہ عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا خالد حذاء نے اسے بواسطہ عکرمہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول نقل کیا۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے جبکہ اکثر صحابہ اور بعد کے علماء کے نزدیک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہو وہ غلام ہی ہے۔ سفیان ثوری،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٥٩)
عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص نے اپنے غلام کو سو اوقیہ پر مکاتب بنایا اب اس پر دس اوقیہ یا (فرمایا) دس درہم باقی رہ گئے پھر وہ عاجز ہو گیا تو وہ غلام ہی رہے گا یہ حدیث غریب ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ مکاتب اس وقت تک غلام ہیں جب تک اس کے ذمہ کچھ بھی باقی ہے۔ حجاج بن ارطاۃ نے عمرو بن شعیب سے اس کی مثل بیان کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٦٠)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی عورت کے مکاتب کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ اپنی مکاتب کی تمام رقم ادا کر سکے تو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء کے نزدیک اس کا مطلب تقوٰی و احتیاط ہے ورنہ جب تک وہ ادائیگی نہ کرے آزاد نہ ہوگا اگرچہ اس کے پاس اتنی رقم ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٦١)
کوئی شخص مفلس مقروض کے پاس اپنا مال پائے تو کیا حکم ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مفلس ہو جائے پھر کوئی آدمی اپنا مال بعینہٖ اس کے پاس پائے تو وہ دوسروں کی بنسبت اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ اس باب میں حضرت سمرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں کچھ علماء فرماتے ہیں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہے۔ اہل کوفہ کا یہی قول ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۶،مَا جَاءَ إِذَا أَفْلَسَ لِلرَّجُلِ غَرِيمٌ فَیَجَدُ عِندَہُ مَتَاعَہُ،جلد۱ص۶۴۴،حدیث نمبر ١٢٦٢)
مسلمان کسی ذمی کو شراب بیچنے کے لیے نہ دے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی۔،، سورہ مائدہ ،،نازل ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم لڑکے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اس کو بہا دو،، اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ ابو سعید کی روایت حسن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد طرق سے اس کے ہم معنی مروی ہے۔ بعض علماء اس کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک شراب کو سرکہ بنانا مکروہ ہے۔ اور یہ اسی وجہ سے مکروہ ہے اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ مسلمان کے گھر شراب رکھی ہے حتٰی کہ وہ سرکہ بن جائے۔ بعض علماء نے اجازت دی ہے جبکہ اسے سرکہ بنا ہوا پائیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۷،مَا جَاءَ وَ النَّھْيِ لِلْمُسلِمِ أَن يَدْفَعَ إلَى الذِّمِّى الْخَمَرَ يَبِيْعُهَالَہُ،جلد۱ص۶۴۴،حدیث نمبر ١٢٦٣)
ادائیگی امانت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کر دو اور جو تم سے خیانت کرے اس سے (بھی) خیانت نہ کرو،یہ حدیث حسن غریب ہے بعض علماء اس حدیث کی طرف گئے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی آدمی کی کوئی چیز دوسرے کے پاس امانت ہو اور وہ ادا نہ کرے اس کے بعد اس کی کوئی چیز اس کے ہاتھ آ جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس چیز میں سے اتنا روک لے جتنا اس پہلے نے لیا ہے۔ بعض تابعین نے اس کی اجازت دی ہے سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ نیز فرماتے ہیں۔ اگر اس کے ذمہ درہم ہوں اب اس کے ہاتھ اس کے دینار آ جائیں۔ تو وہ درہموں کے بدلے دینار روک لے البتہ اگر اس کے قبضہ میں اس کے درہم آ جائیں تو ان میں سے اس قدر لے سکتا ہے جس قدر اس امانت دار کے ذمہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۸،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٤)
مستعار چیز قابل واپسی ہے حضرت امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا مستعار چیز قابل واپسی ہے،ضامن ذمہ دار ہے،اور قرض ادا کیا جائے۔ اس باب میں حضرت سمرہ۔ صفوان بن امیہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو امامہ حسن ہیں۔ حضرت ابو امامہ سے اس طریق کے علاوہ بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۹،مَا جَاءَ أَنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٥)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز ہاتھ نے لی وہ اس پر واجب ہے یہاں تک کہ ادا کرے۔ قتادہ فرماتے ہیں۔ پھر حضرت حسن بھول گئے اور فرمایا وہ تیرا امین ہے۔ اس پر کوئی ضمانت نہیں یعنی ادھار لینے والا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء اسی طرف گئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ادھار لینے والا ضامن ہوگا۔ امام شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء فرماتے ہیں۔ عاریتًا،چیز لینے والے پر ضامن نہیں مگر یہ کہ صاحب امانت کے قول کی مخالفت کرے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔ امام اسحاق بھی یہی فرماتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۹،مَا جَاءَ أَنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٦)
ذخیرہ اندوزی حضرت معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا گنہگار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔راوی (محمد بن ابراہیم) کہتے ہیں میں نے حضرت سعید بن مسیب سے پوچھا اے ابو محمد ! آپ بھی تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا معمر بھی تو ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ زیتون اور جھڑے ہوئے پتوں وغیرہ کا احتکار کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت عمر علی۔ ابو امامہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث معمر حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ انہوں نے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کو مکروہ کہا ہے۔ بعض علماء نے غیر طعام کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں روئی اور بکری کی کھال یا اس قسم کی دوسری اشیاء کو ذخیرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ف : غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں غلہ میں ممانعت کی صورت یہ ہے،کے گرانی کے زمانہ میں غلہ خرید کر روک رکھنا اور نہ بیچنا کہ لوگ خوب پریشان ہوں گے تو نہایت مہنگا بیچوں گا اگر یہ صورت نہ ہو تو کچھ حرج نہیں۔ (بہار شریعت حصہ ۱۱ ص۱۰۵) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۰،مَا جَاءَ فِی الاحْتِكَارِ،جلد۱ص۶۴۶،حدیث نمبر ١٢٦٧)
دودھ دھوئے بغیر جانور بیچنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجارتی قافلہ سے آگے جا کر نہ دھوکہ کے لیے جانور کے تھنوں میں دودھ نہ روک رکھو اور ایک دوسرے کا بھاؤ تیز نہ کرو۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہیں۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے ایسے جانور کا بیچنا مکروہ قرار دیا ہے جس کے تھنوں میں دودھ روکا جائے اور اس کا مالک اسے کئی دن نہ دوہہ کر تھنوں میں دودھ روکے رکھے اور اس سے خریدار دھوکہ کھائے یہ فریب اور دھوکہ کی ایک قسم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ المُحَفَّلَاتِ،جلد۱ص۶۴۷،حدیث نمبر ١٢٦٨)
مال مسلم ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے وہ اللہ تعالٰی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اشعث بن قیس فرماتے ہیں اللہ تعالٰی کی قسم یہ تو مجھ سے ہی متعلق ہے واقعہ یہ ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی اس نے (میرے حصے کا) انکار کیا تو میں اسے بارگاہ نبوی میں لے آیا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں،آپ نے یہودی سے فرمایا قسم کھاؤ۔ میں نے عرض کیا حضور یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا،اس پر اللہ تعالٰی نے آیت نازل فرمائی،،ان الذين يشتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ أَيْمَانِھِمَ ثَمَنًّا قَلِيلًا الخ،،(جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی (حقیر) قیمت لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ) اس باب میں حضرت وائل بن حجر۔ ابو موسیٰ۔ ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۲،مَا جَاءَ فِی الْيَمِينِ الْفَاجِرَة بَقَتَطِعُ بِهَا مَالَ المُسلِم،جلد۱ص۶۴۷،حدیث نمبر ١٢٦٩)
بائع اور مشتری کا اختلاف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے تو بائع کا قول معتبر ہوگا اور مشتری کو اختیار ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے عون بن عبداللہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔بواسطہ قاسم بن عبدالرحمٰن بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ یہ بھی مرسل روایت ہے ابن منصور فرماتے ہیں میں نے احمد سے پوچھا اگر بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے اور گواہ نہ ہوں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا بیچنے والے کی بات معتبر ہے۔ یا دونوں اپنی اپنی بات واپس لے لیں،امام اسحاق فرماتے ہیں جس کا صرف قول ہوگا اسے قسم کھانی پڑے گی۔ بعض تابعین سے جن میں شریح بھی ہیں یہی منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البجوع،باب۸۶۳،مَا جَاءَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيْعَانِ۔ جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧٠)
ضرورت سے زائد پانی بیچنا حضرت ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت جابر،بہیسہ بواسطہ والد،ابوہریرہ،عائشہ،انس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ایاس حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ پانی بیچنا مکروہ ہے۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ بھی اس میں شامل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۴،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ فَضَلِ المَاءِ، جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زائد پانی نہ روکا جائے تاکہ گھاس میں کمی نہ ہو یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو المنہل کا نام عبد الرحمن بن مطعم کوفی ہے ، اور وہی ایک ہے جس سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا،اور ابو الیمل سیار بن بن سلامہ بصری ابو برزہ اسلامی کا ساتھی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۴،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ فَضَلِ المَاءِ، جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧١)
جفتی کرانے کی اجرت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جفتی کرانے کی اجرت سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابوہریرہ،انس اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ ایک جماعت نے (مقرر کیے بغیر) انعام قبول کرنے کی اجازت دی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۵،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَّةِ عَسْبِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ کلاب کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جفتی کرانے کی اجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نر جانور لوگوں کو عاریتاًدے دیتے ہیں پھر لوگ خود ہی بطور انعام کچھ دیتے ہیں۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انعام لینے کی اجازت دے دی۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن حمید کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۵،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَّةِ عَسْبِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٤)
کتے کی قیمت حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی کھینچنے والے کی کمائی ناپاک ہے زانیہ کی اجرت ناپاک ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے۔ اس باب میں حضرت عمر۔ ابن مسعود۔ جابر۔ ابو ہریرہ،ابن عباس،ابن عمر،اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث رافع حسن صحیح ہے،اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ کتے کی قیمت مکروہ ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۶،مَا جَاءَ فِی ثَمَنِ الْكَلْبِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٥)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت۔ زانیہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۶،مَا جَاءَ فِی ثَمَنِ الْكَلْبِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٦)
سینگی لگانے والے کی کمائی بنو حارثہ کے بھائی ابن محیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی کھینچنے کی اجرت لینے کی اجازت چاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا۔ لیکن وہ مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کو چارہ کھلاؤ۔اور اپنے غلام کو کھانا دو۔ اس باب میں حضرت رافع بن خدیج ابو جحیفہ جابر،اور سائب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث محیصہ حسن ہے اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں اگر سینگی کھینچنے والا مجھ سے اجرت مانگے تو میں اسے منع کر دوں گا۔ انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۷،مَا جَاءَ فِیْ كَسْبِ الْحَجَّامِ،جلد۱ص۶۵۰،حدیث نمبر ١٢٧٧)
سینگی لگانے کی اجرت لینے کی اجازت حمید سے روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی اجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی کھچوائی اور ابو طیبہ نے کھینچی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو صاع (غلہ) کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی، چنانچہ انہوں نے ابو طیبہ کے خراج سے کچھ کم کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے بہترین علاج سینگی لگوانا ہے (سینگی لگوانا کے مطلب حجامت کیا جاتا ہے یعنی جسم سے کچھ غیر ضروری خون نکالا جاتا ہے یہ ایک سنت طریقے کا علاج ہے)یا (فرمایا بہترین دوائی سینگی لگوانا ہے، اس باب میں حضرت علی،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث انس حسن صحیح ہے،بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے سینگی لگانے کی کمائی کو جائز کہا ہے،امام شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۸،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي كَسَب الحَجَّامِ،جلد ۱ص۶۵۰،حدیث نمبر ١٢٧٨)
کتے اور بلی کی قیمت لینا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا،اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے،یہ حدیث اعمش سے بواسطہ ان کے بعض اصحاب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے،اس حدیث کی روایت میں اعمش پر راویوں کا اضطراب ہے،علماء کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت لینا مکروہ کہا ہے،جبکہ بعض نے اس کی اجازت دی ہے،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں،ابن فضیل نے بواسطہ اعمش اور ابن حازم،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طریق کے علاوہ بھی روایت کیا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۹،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ثَمَن الكَلْبِ والسِّنَّوْرِ،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٧٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا،یہ حدیث غریب ہے عبدالرزاق کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا عالم ہمارے علم میں نہیں جس نے عمر بن زید سے روایت کیا ہو، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۹،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ثَمَن الكَلْبِ والسِّنَّوْرِ،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے علاوہ کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا،یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں،ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے،شعبہ بن حجاج نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مثل مرفوعاً مروی ہے،اس کی سند بھی صحیح نہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۰،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٨١)
گانے والی لونڈیوں کی خرید و فروخت منع ہے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو نہ خریدو اور نہ ہی انہیں گانا سکھاؤ ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے،اسی قسم کی تجارت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی،من یشتری لہوالحدیث الخ ،، اس باب میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے،حدیث ابو امامہ کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں،بعض علماء نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا اور انہیں ضعیف کہا وہ شامی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيعِ الْمُعَنِّيَاتِ،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٢)
غلام بیچتے وقت دو بھائیوں یا ماں بیٹے میں تفریق کرنا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے ماں اور بیٹے کے درمیان تفریق کی اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے عزیزوں کے درمیان تفریق کرے گا یہ حدیث غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُّفَرَّقَ بَيْنَ الأخَوَينِ وَبَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْع،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام بطور ہدیہ عطا فرمائے جو آپس میں بھائی تھے،میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے علی ! تمہارا ایک غلام کیا ہوا ؟ فرماتے ہیں میں نے واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے واپس لو،(دو مرتبہ فرمایا) یہ حدیث حسن غریب ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے قیدیوں کو بھیجتے وقت تفریق کو بھی مکروہ کہا ہے،لیکن بعض علماء نے ان قیدیوں کو جو سرزمین اسلام میں پیدا ہوئے،جدا کرنے کی اجازت دی ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے،ابراہیم سے منقول ہے انہوں نے ماں بیٹے کو بیچتے وقت جدا کیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا،آپ نے فرمایا میں نے اس عورت سے اس کے متعلق اجازت لی اور وہ اس پر راضی ہو گئی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُّفَرَّقَ بَيْنَ الأخَوَينِ وَبَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْع،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٤)
غلام خریدنا پھر نفع کے بعد عیب پر مطلع ہونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خراج،ضمانت کے سبب ہے،یہ حدیث حسن ہے،اور اس کے علاوہ بھی مروی ہے اور علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۳،مَا جَاءَ فِي مَنْ يَشْتَرِى الْعَبْدَويَسْتَغِلَّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِہٖ عَيْبًا،جلد۱ص۶۵۳،حدیث نمبر ١٢٨٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خراج،ضمانت کے سبب ہے،یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے صحیح غریب ہے،امام بخاری نے عمر بن علی کی روایت سے اسے غریب کہا ہے،حالانکہ مسلم بن خالد نجی نے اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا،جریر نے بھی ہشام سے روایت کیا،کہا گیا ہے کہ جریر کی روایت میں تدلیس ہے انہوں نے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا،،ضمانت کے سبب خراج،کا مطلب یہ ہے،کہ ایک شخص نے اس کو بیچا اور اس سے نفع اٹھایا پھر اس میں عیب نکل گئی تو اس کو واپس کر دے نفع خریدار کے لیے ہوگا،اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہوتا تو خریدار کا مال ضائع ہوتا،اس قسم کی دوسرے مسائل جن میں ضمانت کے سبب سے خراج ہے،یہی صورت ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۳،مَا جَاءَ فِي مَنْ يَشْتَرِى الْعَبْدَويَسْتَغِلَّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِہٖ عَيْبًا،جلد۱ص۶۵۳،حدیث نمبر ١٢٨٦)
مسافر کا راستہ کے باغ سے پھل کھانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو اس سے کھا سکتا ہے لیکن باندھ کر نہ لے جائے،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو،عباد بن شرجیل،رافع بن عمر،عمیر مولٰی ابی لحم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابن عمر غریب ہے،اس طریق سے ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے پہچانتے ہیں،بعض علماء نے مسافر کو پھل کھانے کی اجازت دی ہے البتہ بعض نے قیمت ادا کیے بغیر،(کھانے کو) مکروہ کہاں ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٧)
حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں،انصار کی کھجوروں پر پتھر مار رہا تھا،وہ مجھے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا،،رافع ! تم ان کی کھجوروں پر پتھر کیوں مار رہے تھے،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھوک کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پتھر نہ مارو جو گر جائے کھا لیا کرو اللہ تعالٰی تمہیں سیر و سیراب کر دے گا، یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٨)
عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو ضرورت مند،(بھوکا) اس سے کھائے اور باندھ کر نہ لے جائے تو اسے کوئی ڈر نہیں، یہ حدیث حسن ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٩)
خرید و فروخت میں استثناء کی ممانعت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ مخابرہ اور غیر معلوم چیز کی استثناء سے منع فرمایا یہ حدیث حسن صحیح اس طریق یعنی بواسطہ یونس بن عبید اور عطاء، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے، ف: محاقلہ اور مزابنہ کی تعریف حدیث نمبر ۱۲۳۰ میں گزر چکی ہے مخابرہ زمین بٹائی پر دینے کو کہتے ہیں ، (مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۵،مَا جَاءَ فِي النَّھْي عَنِ الثُّنْيَا،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩٠)
قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے وہ اسے قبضہ کرنے سے پہلے نہ بیچے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے،اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اکثر علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے خریدار کے قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کو مکروہ کہا ہے،بعض علماء نے قبضہ سے پہلے ایسی اشیاء کے بیچنے کی اجازت دی ہے جن کا وزن اور ناپ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کھائی پی جاتی ہے ، علماء کے نزدیک صرف کھانے پینے کی چیزوں میں سختی ہے، امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۶،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتّٰى يَسْتَوْفِيَہٗ،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩١)
اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ کوئی دوسرے کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے،اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ثمرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت نہ لگائے،بعض علماء کے نزدیک اس حدیث میں بیع سے،قیمت لگانا مراد ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۷،مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْبَيْعِ عَلٰى بَيْعِ أَخِيہِ،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩٢)
شراب بیچنے کی ممانعت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنے زیر نگرانی یتیموں کے لیے کچھ شراب خریدی تھی (اور ابھی حرام نہیں ہوئی تھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بہا دو اور مٹکے توڑ دو،اس باب میں جابر،عائشہ،ابو سعید،ابن مسعود ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں،ثوری نے حدیث ابو طلحہ بواسطہ سدی اور یحییٰ بن عباد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ابو طلحہ ان کے پاس تھے،اور یہ حدیث،لیث کی روایت سے اصح ہے ، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا شراب کا سرکہ بنایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،نہیں،،یہ حدیث حسن صحیح ہے،، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی،شراب نچوڑنے والا،نچڑ وانے والا،پینے والا،اٹھانے والا،جس کے لیے اٹھائی جائے،پلانے والا،بیچنے والا،اس کی قیمت کھانے والا،خریدنے والا اور جس کے لیے خریدی جائے،یہ حدیث،حضرت انس کی روایت سے غریب ہے،حضرت ابن عباس،ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنھم سے بھی اس کی مثل مروی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٥)
مالک کی اجازت بغیر دودھ دھونا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی( کسی کے ) موشیوں پر گزرے تو اگر ان کا مالک موجود ہو اور وہ اجازت (بھی) دے دے تو اس کا دودھ دھو کر پیے،اور اگر وہاں کوئی نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دے اگر جواب آئے تو اس سے اجازت لے اگر کوئی جواب نہ دے تو دھو کر پیے لیکن ساتھ نہ لے جائے، اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو سعید رضی اللہ عنھم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث سمرہ،حسن غریب صحیح ہے،اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے،امام احمد اور اسحٰاق اس کے قائل ہیں،علی بن مدینی فرماتے ہیں حسن کا سمرہ سے سماع صحیح ہے،بعض محدثین نے سمرہ سے حسن کی روایت میں کلام کیا ہے،اور فرمایا کہ وہ سمرہ کے صحیفہ سے روایت کرتے ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۹،مَا جَاءَ فِي اخْتِلَافِ المَوَاشِي بِغَيْرِاِذْنِ الأَرباب،جلد۱ص۶۵۷،حدیث نمبر ١٢٩٦)
مردار کی کھال اور بتوں کا بیچنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت ہے انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول (جل جلالہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم) نے شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام فرمائی،عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مردار کی چربی کا کیا حکم ہے، کیونکہ اس سے کشتیوں پر ملا جاتا ہے اور چمڑوں پر بطور تیل استعمال کی جاتی ہے،اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛؛نہیں؛؛ یہ بھی حرام ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی یہود کو ہلاک کرے اللہ تعالٰی نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے اس باب میں حضرت عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے،اور اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۰،مَا جَاءَ فِي بَيْعِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالْأَصْنَامِ،جلد۱ص۶۵۷،حدیث نمبر ١٢٩٧)
ہبہ واپس لینے کی ممانعت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفات ذیمہ کا اپنا نا ہمارے (مسلمانوں کے) شایان شان نہیں ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے والا اس کتے کی مثل ہے جو اپنی قے چاٹ لے،اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کو جائز نہیں کہ عطیہ دے کر واپس کرے البتہ باپ اپنے بیٹے کو عطیہ دے کر واپس لے سکتا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ مِنَ الْهِبَةِ،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٢٩٨)
محمد بن بشار نے بواسطہ ابن ابی عدی حسین معلم،عمرو بن شعیب اور طاؤس،حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی، حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے،بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے محرم رشتہ دار کو عطیہ دے اسے واپس لوٹانے کا کوئی حق نہیں،اور کسی غیر کو دیا تو واپس لے سکتا ہے،بشرط کہ اس کا بدلہ نہ لیا ہو،سفیان ثوری رحمہم اللہ کا یہی قول ہے،کسی کے لیے دیا ہوا عطیہ واپس لینا جائز نہیں البتہ والد اپنے بیٹے کو عطیہ دے تو واپس لے سکتا ہے،امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث سے استدلال کیا کہ باپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص عطیہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ مِنَ الْهِبَةِ،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٢٩٩)
عرایا اور اس کی اجازت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا البتہ عرایا والوں کو اندازہ کے مطابق بیچنے کی اجازت دی،اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،محمد بن اسحٰاق نے زید بن ثابت کی روایت اسی طرح بیان کی ایوب،عبید اللہ بن عمر اور مالک بن انس نے بواسطہ نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا اس اسناد سے بواسطہ ابن عمر،محمد زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق(ساٹھ صاع) سے کم میں عرایا کی اجازت دی ہے،یہ روایت محمد بن اسحٰاق کی روایت سے اصح ہے۔ نوٹ: عرایا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو اپنے باغ میں سے کھجور کھانے کے لیے دے پھر اس کو موہوب کا آنا جانا دشوار گزرے تو وہ اس کے بدلے اس کو اتاری ہوئی کھجوریں دے دے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم ہونے کی صورت میں عرایا کو بھیجنے کی اجازت دی ہے، امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے پانچ وسق یا اس سے کم کو بیچنے کی اجازت فرمائی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠١)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ کے بدلے اور عرایا کے بیچنے کی اجازت فرمائی،یہ حدیث حسن صحیح ہے،حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے،بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی ان میں شامل ہیں،وہ فرماتے ہیں،بیع عرایا ممنوعہ سودوں مثلاً بیع محاقلہ اور مزابنہ (وغیرہ) سے مستثنٰی ہے،ان علماء نے حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایت سے استدلال کیا لیکن شرط یہ ہے کہ پانچ وسق سے کم ہو،بعض علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سہولت کا ارادہ فرمایا کیونکہ انہوں نے شکایت کی کہ ہم عرایا کے پھل خریدنے کے لیے کھجوریں ہی رکھتے ہیں،لہذا آپ نے انہیں اجازت دے دی کہ پانچ وسق سے کم ہونے کی صورت میں خریدیں اور تازہ کھجوریں کھائیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٢)
رافع بن خدیج اور سہیل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی کچے پھل خشک کھجوروں کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا لیکن عرایا والوں کو اس کی اجازت دی،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ انگور کے بدلے خشک انگور بیچنے اور تخمینہ کے ساتھ کسی قسم کا پھل بیچنے سے (بھی) منع فرمایا یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے ، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٣)
دلالی میں قیمت زیادہ لگانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں نجش نہ کرو، اس باب میں حضرت ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے،علماء کا اس پر عمل ہے کہ نجش مکروہ ہے،نجش یہ ہے کہ کوئی ماہر تجارت آئے اور خریدار کی موجودگی میں تاجر کے پاس آ کر سامان کی اصل قیمت سے زیادہ مول لگائے اور مقصد خریدنا نہ ہو بلکہ محض خریدار کو دھوکہ دینا چاہتا ہو،یہ دھوکہ کی ایک قسم ہے،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،اگر کوئی آدمی نجش کرے تو وہ اپنے اس فعل کے سبب گنہگار ہوگا لیکن بیع جائز ہے کیونکہ بیچنے والے نے نجش نہیں کیا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۳،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَة النَّجْش،جلد۱ص۶۶۰،حدیث نمبر ١٣٠٤)
وزن میں زیادہ دینا سوید بن قیس سے روایت ہے کہ میں اور مخرفہ عبدی مقام ہجر سے کپڑے بیچنے کے لیے لائے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور سلوار کا بھاؤ کرایا میرے پاس ایک تولنے والا بیٹھا تھا جو اجرت پر تولہ کرتا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تول اور جھکتا ہوا تول. اس باب میں حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے حدیث سوید حسن صحیح ہے،اہل علم وزن میں جھکاؤ کو پسند کرتے ہیں،شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ سماک،ابو صفوان سے روایت کرتے ہوئے پوری حدیث بیان کی. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۶۶۱،مَا جَاءَ فِي الرُّحْجَانِ فِي الْوَزْنِ،جلد۱ص۶۶۱،حدیث نمبر ١٣٠٥)
تنگ دست کو مہلت دینا اور اس سے نرمی برتنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جب کہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اس باب میں حضرت ابو یسر،ابو قتادہ حذیفہ،ابو مسعود اور عبادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۵،مَا جَاءَ فِي انْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهٖ،جلد1ص۶۶۱)
تنگ دست کو مہلت دینا اور اس سے نرمی برتنا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی البتہ یہ کہ وہ ایک امیر آدمی تھا جب لوگوں سے لین دین کا معاملہ کرتا تو اپنے غلاموں کو حکم دیتا تاکہ تنگدست سے درگزر کریں،اللہ تعالٰی نے فرمایا ہم اس بات کے اس سے زیادہ حقدار ہیں لہذا اس سے درگزر کرو، یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۵،مَا جَاءَ فِي انْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهٖ،جلد1ص۶۶۱،حدیث نمبر ١٣٠٧)
مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے،اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگا دیا جائے تو وہ پیچھا کرے،اس باب میں حضرت ابن عمر اور حضرت شرید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۶،مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيَ أَنہٗ ظُلْمٌ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣٠٨)
مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے،اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگا دیا جائے تو وہ پیچھا کرے،اس باب میں حضرت ابن عمر اور شرید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اس کا مطلب یہ ہے، کہ جب تم میں سے کسی کو مالدار سے اصولی قرض پر مامور کیا جائے تو وہ ذمہ داری کو قبول کر لے بعض علماء فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی مالدار کے حوالہ کر دیا جائے اور وہ اسے قبول کرلے تو حوالہ کرنے والا بری ہو گیا اب قرض مانگنے والے کو حوالہ کرنے والے سے مانگنے کا کوئی حق نہیں،امام شافعی،امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے،بعض اہل علم فرماتے ہیں اگر مالدار کے مفلس ہو جانے کے باعث قرض مانگنے والے کا حال تلف ہوتا ہے،تو اسے پہلے مقروض کے پاس جانے کا حق ہے،ان علماء نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے قول سے استدلال کیا وہ فرماتے ہیں مسلمان کا مال تلف نہیں ہو سکتا،اسحاق فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرض خواہ کو دوسرے شخص کے حوالہ کر دیا جائے اور وہ اسے مالدار سمجھے لیکن وہ مفلس نکل آئے تو (اس صورت میں) مسلمان کا مال ضائع نہ ہوگا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۶،مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيَ أَنہٗ ظُلْمٌ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣٠٩)
بیع منابذہ اور ملا مسہ کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملا مسہ سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابو سعید اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے،اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کہے جب میں تیری طرف کوئی چیز پھینکوں تو تیرے اور میرے درمیان بیع واجب ہو جائے گی اور ملامسہ یوں کہنا ہے کہ جب میں کسی چیز کو ہاتھ لگاؤں تو سودا ہو گیا اگرچہ اس میں سے کوئی چیز نہ دیکھتا ہو جیسے کوئی چیز غلاف وغیرہ میں ہو یہ دور جاہلیت کی بیع ہے اس لیے اس سے منع فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۷،ما جاء فِي الْمُنَابَذَہْ وَالْمُلَامَسَۃِ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣١٠)
غلہ اور کھجور میں بیع سلف(پیشگی قیمت ادا کرنے)کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں بیع سلف کرتے تھے،آپ نے فرمایا جو بیع سلف کرے تو وہ معلوم پیمانہ اور معلوم وزن میں معلوم وقت تک کرے،اس باب میں حضرت ابن ابی اوفٰی اور حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک غلے،کپڑے اور ان دوسری چیزوں میں جن کی مقدار اور صفت معلوم ہو،بیع سلف جائز ہے،جانوروں کی بیع سلف میں اختلاف ہے بعض صحابہ اور تابعین اہل علم کے نزدیک ان میں بھی جائز ہے،امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہُ اسی کے قائل ہیں،البتہ بعض علماء نے جانوروں میں بیع سلف کو مکروہ کہا ہے،سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ف: بیع میں اگر ایک طرف عین ہو اور دوسری طرف ثمن ہوں اور ثمن کا فورًا دینا ضروری ہو تو یہ بیع سلم ہے،لہذا بیع سلم میں جس کو خرید ا جاتا ہے وہ بائع کے ذمہ دین ہے،اور مشتری ثمن کو فی الحال ادا کرتا ہے،(بہار شریعت ج۱۱ص۱۷۳) مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۸،جلد۱ص۶۶۳،حدیث نمبر ١٣١١)
مشترکہ زمین سے کوئی اپنا حصہ بیچنا چاہے تو اس کا حکم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کا باغ میں کوئی شریک ہو وہ شریک پر پیش کیے گئے بغیر اپنا حصہ نہ بیچے،اس حدیث کی سند متصل نہیں،میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا آپ فرماتے تھے سلیمان یشکری حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں انتقال ہوگیا،قتادہ اور ابو بشر نے بھی سلیمان سے کچھ نہیں سنا،البتہ ہو سکتا ہے عمرو بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان سے کچھ سنا ہو،قتادہ،سلیمان یشکری کے صحیفہ سے حدیث بیان کرتے تھے،ان کے پاس حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب تھی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۹،مَا جَاءَ فِي اَرْضِ الْمُشْتَرَكِ يُرِيدُبَعْضُہُم بَيْعِ نَصِيْبَهٖ،جلد۱ص۶۶۳،حدیث نمبر ١٣١٢)
مخابرت اور معاومت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،مزابنہ مخابرہ اور معاومہ سے منع فرمایا،اور عرابا کی اجازت دی،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۰،مَا جَاءَ فِي الْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَة،جلد۱ص۶۶۴،حدیث نمبر ١٣١٣)
چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چیزوں کا نرخ بڑھ گیا تھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر فرمائیں، آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی نرخ مقرر کرنے والا،تنگ کرنے والا،کشادہ کرنے والا اور رزق دینے والا ہے اور مجھے تمنا ہے کہ میں اللہ تعالٰی سے اس حالت میں ملوں کہ تم میں سے کوئی اپنے خون اور مال کا مجھ سے طلبگار نہ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۱،جلد۱ص۶۶۴،حدیث نمبر ١٣١٤)
بیع میں دھوکہ دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلہ کے ایک ڈھیر سے گزرے آپ نے دست مبارک اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیوں میں تراوٹ آگئی آپ نے فرمایا اے غلہ کے مالک یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس پر بارش کا پانی پڑ گیا ہے آپ نے فرمایا تم نے اسے اوپر کیوں نہیں کیا تاکہ لوگ دیکھتے، پھر فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم سے نہیں،اس باب میں حضرت ابن عمر،ابوحمراء،ابن عباس،بریدہ،ابو بردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک،(خرید و فروخت میں) دھوکا و فریب حرام ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْغَشِّ فِي الْبُيُوْعِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٥)
اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا پھر اس سے بہتر جوان اونٹ اس کو دیا اور فرمایا تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو ادائے قرض میں اچھے ہیں اس باب میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں،حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے شعبہ اور سفیان نے اسے سلمہ سے روایت کیا بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ اونٹ (وغیرہ) کہ ادھار لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے،امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں،بعض علماء کے نزدیک یہ مکروہ ہے. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٦)
اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ہمیشہ کی طرح ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت سختی سے قرض (کی واپسی) کا تقاضا کیا صحابہ کرام نے اسے کچھ کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو حق والے کو کچھ کہنے کی گنجائش ہے،آپ نے فرمایا اونٹ خرید کر اس کو دے دو صحابہ کرام نے تلاش کیا لیکن اس کے اونٹ،(جیسا نہ ملا بلکہ اس) سے افضل ملا آپ نے فرمایا یہی خرید کر اسے دے دو تم میں اچھا وہ ہے جو قرض کی ادائیگی کرنے میں اچھا ہو، محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر اور شعبہ،سلمہ بن کہیل سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٧)
اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا پھر آپ کے پاس زکٰوۃ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس شخص کو جوان اونٹ دے کر قرض ادا کر دوں،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے تو ان میں اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ ملتا ہے آپ نے فرمایا وہی دے دو بے شک وہی لوگ اچھے ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی طرح کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٨)
قرض کا تقاضا کیسے ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بیچنے میں نرمی کرنے والے خریدنے میں نرمی برتنے والے اور قرض کے تقاضہ میں نرمی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، یہ حدیث غریب ہے بعض لوگوں نے اسے بواسطہ یونس اور سعید مقبری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۴،جلد۱ص۶۶۶،حدیث نمبر ١٣١٩)
قرض کا تقاضا کیسے ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے تم سے پہلے ایک آدمی کو بخش دیا وہ بیچنے خریدنے اور تقاضائے قرض میں نرمی اختیار کرتا تھا،یہ حدیث غریب صحیح طریق سے حسن ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۴،جلد۱ص۶۶۶, حدیث نمبر١٣٢٠)
مسجد میں خرید و فروخت کا حکم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں بیچتا یا خریدتا ہے کہو اللہ تعالٰی تیری تجارت کو نفع مند نہ کرے اور جب کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز تلاش کرتے دیکھو تو کہو اللہ تعالٰی اسے تیری طرف واپس نہ لوٹائے . حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن غریب ہے،بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ مسجد میں خرید و فروخت مکروہ ہے،امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے البتہ بعض علماء نے مسجد میں خرید و فروخت کی اجازت دی ہے بشرطیکہ سامان باہر ہو،) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۵،النَّھيِ عَنِ البَيعِ فِي الْمَسْجِدِ،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر١٣٢١)
Tirmizi Shareef : ABWABUL BOYU
|
Tirmizi Shareef : ابواب البیوع
|
•