asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabud Diyaat

From 1314 to 1413

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطاء میں بیس اونٹ اور بیس اونٹنیاں ایک سالہ بیس اونٹ دو سالہ بیس اونٹ تین سالہ اور بیس اونٹ چار سالہ ﴿کل ایک سو اونٹ﴾دیت مقرر فرمائی۔ ابو ہشام رفاعی نے بواسطہ ابن ابی زائدہ اور ابو خالد احمر حجاج بن ارطاۃ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت مذکور ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کو ہم صرف اسی طریق سے مرفوعاً جانتے ہیں اس سے مرفوعاً بھی مروی ہے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اہل علم کا اتفاق ہے کہ دیت تین سالوں میں ہر سال ایک تہائی کے حساب سے لی جائے نیز فرماتے ہیں کہ قتل خطاء کی دیت عاقلہ پر ہے بعض علماء کے نزدیک عاقلہ سے مرد کی طرف سے رشتہ دار مراد ہیں۔ امام شافعی اور مالک رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں دیت مردوں پر ہے عورتوں اور بچوں پر نہیں ان میں سے ہر ایک پر ایک چوتھائی دینار جرمانہ کیا جائے بعض نے نصف دینار کہا ہے اگر دیت پوری ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ باقی دیت رشتہ داروں میں سے زیادہ قریب کے قبیلہ پر ڈالی جائے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۸،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الْإِبِلِ،جلد۱ص۶۹۷،حديث نمبر ١٣٨٦)

باب مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الإِبِلِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , وعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ , قَال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ , قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ , وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا , وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ , وَعِشْرِينَ جَذَعَةً , وَعِشْرِينَ حِقَّةً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْقُوفًا , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الدِّيَةَ تُؤْخَذُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ , فِي كُلِّ سَنَةٍ ثُلُثُ الدِّيَةِ , وَرَأَوْا أَنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى الْعَاقِلَةِ , وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ الْعَاقِلَةَ قَرَابَةُ الرَّجُلِ مِنْ قِبَلِ أَبِيهِ , وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الدِّيَةُ عَلَى الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ مِنَ الْعَصَبَةِ , يُحَمَّلُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ رُبُعَ دِينَارٍ , وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِلَى نِصْفِ دِينَارٍ , فَإِنْ تَمَّتِ الدِّيَةُ , وَإِلَّا نُظِرَ إِلَى أَقْرَبِ الْقَبَائِلِ مِنْهُمْ فَأُلْزِمُوا ذَلِكَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1386

عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے وہ مقتول کے ورثا کے حوالہ کیا جائے وہ اگر چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور اگر چاہیں دیت لے لیں۔ اور یہ (دیت)تیس تین سالہ تیس چار سالہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں اور اگر صلح کر لیں تو وہی ہے جس پر صلح کر لی اور یہ دیت کے سخت ہونے کی وجہ سے ہے عبداللہ بن عمرو کی روایت غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۸،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الْإِبِلِ،جلد۱ص۶۹۷،حديث نمبر ١٣٨٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , أَخْبَرَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ , فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا , وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ , وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً , وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً , وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً , وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ , وَذَلِكَ لِتَشْدِيدِ الْعَقْلِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1387

نقد کی صورت میں دیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم دیت مقرر فرمائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۹،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِم،جلد۱ص۶۹۸،حديث نمبر ١٣٨٨)

باب مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , " عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ".

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1388

سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی بواسطہ سفیان بن عیینہ عمرو بن دینار اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں ابن عیینہ کی روایت میں اس سے زیادہ کلام ہے ہم نہیں جانتے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے محمد بن مسلم کے علاوہ کسی اور نے یہ حدیث روایت کی ہو بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک دیت دس ہزار درہم ہیں سفیان ثوری اور اہل کوفہ﴿ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ﴾ اسی کے قائل ہیں امام شافعی فرماتے ہیں دیت میں اونٹوں کا دینا ہی صحیح سمجھتا ہوں اور وہ سو اونٹ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۳۹،مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِم،جلد۱ص۶۹۸،حديث نمبر ١٣٨٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الدِّيَةَ عَشْرَةَ آلَافٍ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَعْرِفُ الدِّيَةَ إِلَّا مِنَ الْإِبِلِ , وَهِيَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1389

ایسے زخم کی دیت جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے۔ عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زخموں میں ہڈی کھل جائے ان میں پانچ پانچ اونٹ دیت ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے کہ ایسے زخموں میں پانچ اونٹ دیت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۰،مَا جَاءَ فِي الْمُوْضِحَةِ،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُوضِحَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْمَوَاضِحِ , خَمْسٌ خَمْسٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , أَنَّ فِي الْمُوضِحَةِ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1390

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے ایک انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں، اس باب میں حضرت ابو موسٰی اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح غریب ہے، بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۱،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الأَصَابِع،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩١)

باب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الأَصَابِعِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو النَّحْوِيِّ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي دِيَةِ الْأَصَابِعِ , الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ , عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ لِكُلِّ أُصْبُعٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي مُوسَى , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1391

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ یعنی چھنگلی انگلی اور انگوٹھا ﴿دیت میں﴾ برابر ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۱،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الأَصَابِع،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ " , يَعْنِي: الْخِنْصَرَ , وَالْإِبْهَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1392

دیت معاف کرنا حضرت ابو السفر سے روایت ہے قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے استغاثہ کرتے ہوئے عرض کیا امیر المومنین اس نے میرا دانت توڑا ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا عنقریب ہم تجھے راضی کریں گے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھے اپنے ساتھی کا اختیار ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کا بدن زخمی ہو جائے اور وہ معاف کر دے اللہ تعالٰی اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرماتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے انصاری نے کہا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے حضرت ابو درداء نے فرمایا میرے کانوں نے سنا اور دل نے محفوظ رکھا اس پر انصاری نے کہا میں اسے معاف کرتا ہوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یقیناً میں تمہیں محروم نہیں کروں گا اور آپ نے اس کے لیے کچھ مال کا حکم دیا، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ ابو السفر کو حضرت ابو درداء سے سماع حاصل ہے ابوالسفر کا نام سعید بن احمد ہے۔ ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے۔ ﴿جامع ترمذی شریف،کتاب الذیت،باب۹۴۲،مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ،جلد۱ص۶۹۹،حديث نمبر ١٣٩٣﴾

باب مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق , حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، قَالَ: دَقَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي , قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ , وَأَلَحَّ الْآخَرُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَبْرَمَهُ , فَلَمْ يُرْضِهِ , فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ , وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَهُ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ , فَيَتَصَدَّقُ بِهِ , إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً " , قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , وَوَعَاهُ قَلْبِي , قَالَ: فَإِنِّي أَذَرُهَا لَهُ , قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ لَا أُخَيِّبُكَ , فَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي السَّفَرِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ , وَيُقَالُ: ابْنُ يُحْمِدَ الثَّوْرِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1393

کسی کا سر پتھر سے کچلنے والے کی سزا۔ حضرت انس سے روایت ہے ایک لڑکی باہر نکلی وہ زیور پہنے ہوئے تھی ایک یہودی نے اسے پکڑا اس کا سر پتھر سے کچل دیا اور زیور اتار لیا راوی فرماتے ہیں وہ اس حالت میں پائی گئی کہ اس میں جان باقی تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تو آپ نے اس سے پوچھا تجھے کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے قتل کیا ؟ لڑکی نے سر سے اشارہ کیا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ آپ نے یہودی کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا راوی فرماتے ہیں وہ یہودی پکڑا گیا اور اس نے اعتراف کر لیا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں قصاص صرف تلوار سے ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۳،مَا جَاءَ فِيمَنْ رُضِخَ رَأْسُهُ بِصَخْرَةٍ،جلد۱ص۷۰۰،حديث نمبر ١٣٩٤)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ رُضِخَ رَأْسُهُ بِصَخْرَةٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ , فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ , وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ , قَالَ: فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ , فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَكِ , أَفُلَانٌ؟ " قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا , قَالَ: " فَفُلَانٌ , حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ " , فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا: أَيْ نَعَمْ , قَالَ: فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ , فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1394

قتل مومن حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کے نزدیک مسلمان کے قتل سے دنیا کا ختم ہو جانا زیادہ بے وقعت ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ، یعلیٰ بن عطا اور عطاء حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی غیر مرفوع حدیث روایت کی۔ ابن ابی عدی کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے، اس باب میں حضرت سعد ابن عباس ابو سعید، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور بریدہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت کو ابن ابی عدی نے بواسطہ شعبہ یعلیٰ بن عطاء سے یوں ہی غیر مرفوع روایت کیا سفیان ثوری نے بھی یعلیٰ بن عطاء سے اسی طرح موقوف روایت کیا حدیث مرفوع سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۴،مَا جَاءَ فِي تَشْدِيدِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ،جلد۱ص۷۰۰،حديث نمبر ١٣٩٥)

باب مَا جَاءَ فِي تَشْدِيدِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَعْدٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ مَسْعُودٍ , وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , فَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مَوْقُوفًا , وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1395

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون (قتل) کا فیصلہ کیا جائے گا،حدیث عبداللہ حسن صحیح ہے۔ کئی افراد نے اعمش سے اسی طرح مرفوع روایت کی بعض نے اعمش سے غیر مرفوع حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٦)

باب الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا , وَرَوَى بَعْضُهُمْ , عَنْ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1396

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) بندوں کے درمیان سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1397

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی مومن کے قتل میں شریک ہوں تو یقیناً اللہ تعالٰی ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۵،الْحُكْمِ فِي الدِّمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٨)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْحَكَمِ الْبَجَلِيُّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , وَأَبَا هُرَيْرَةَ , يَذْكُرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ , وَأَهْلَ الْأَرْضِ , اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ , لَأَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1398

باپ بیٹے کو قتل کرے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹے سے باپ کا قصاص لیتے تھے لیکن باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیتے تھے اس حدیث کو سراقہ کی روایت سے ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اس کی سند صحیح نہیں اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کیا اور مثنیٰ بن صباح کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ابو خالد احمر نے اس کو بواسطہ حجاج بن ارطاۃ عمرو بن شعیب بواسطہ والد ان کے دادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کیا اس حدیث میں اضطراب ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ باپ بیٹے کو قتل کرے تو قصاص نہ لیا جائے اور اگر تہمت لگائے تو حد قائم نہ کی جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٣٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ أَمْ لاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ , قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الْأَبَ مِنَ ابْنِهِ , وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ مِنْ أَبِيهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُرَاقَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ , رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ , وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ , وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ , أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , مُرْسَلًا , وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , أَنَّ الْأَبَ إِذَا قَتَلَ ابْنَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ , وَإِذَا قَذَفَ ابْنَهُ لَا يُحَدُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1399

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہ لیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1400

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہ کیا جائے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ میں بعض اہل علم نے کلام کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۶،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتَلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ اَمْ لَا،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ , وَلَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا , إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1401

تین باتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے۔ تین صورتوں کے علاوہ ان کا خون حلال نہیں۔ شادی شدہ زانی۔ قتل کرنے والا اور دین اسلام کو چھوڑنے اور( مسلمان )جماعت سے الگ ہونے والا (مرتد) اس باب میں حضرت عثمان، حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۷،مَا جَاءَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِي مُسْلِمٍ إِلَّابِإِحْدَى ثَلٰثٍ،جلد۱ص۷۰۲،حديث نمبر ١٤٠٢)

باب مَا جَاءَ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي , وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ , وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ , الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عُثْمَانَ , وَعَائِشَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1402

معاہدہ کو قتل کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو جو کسی معاہد (جس سے معاہدہ ہو) کو قتل کرے جس کے لیے اللہ اور رسول کا ذمہ ہو اس نے اللہ تعالٰی کا ذمہ توڑ دیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آتی ہوگی۔ اس باب میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث حضرت ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور آپ سے مختلف طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً،جلد۱ص۷۰۳،حديث نمبر ١٤٠٣)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهِدَةً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الْبَصْرِيُّ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ , وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1403

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عامریوں کو مسلمان کی دیت دلوائی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں سے عہد تھا ، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو سعید بقال کا نام سعید بن مرزبان ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۴۹،جلد۱ص۷۰۳،حديث نمبر ١٤٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَى الْعَامِرِيَّيْنِ بِدِيَةِ الْمُسْلِمِينَ , وَكَانَ لَهُمَا عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَأَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1404

مقتول کے ولی کو اختیار ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالٰی نے جب اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں فتح عطا فرمائی تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا جس کا کوئی رشتہ دار قتل ہو جائے وہ معاف کرنے یا قتل کرنے میں سے جس کو بہتر سمجھے اختیار کرے اس باب میں حضرت وائل بن حجر، انس ابو شریح اور خویلد بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٥)

باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِيِّ الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ , وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1405

حضرت ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا لوگوں نے نہیں بنایا جو شخص اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ نہ تو اس میں خونریزی کرے اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی بہانہ بنانے والا یہ عذر پیش کرے کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی تو حلال کیا گیا تھا تو (بات یہ ہے کہ ) اللہ تعالٰی نے میرے لیے حلال کیا لوگوں کے لیے نہیں اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی حلال کیا تھا پھر یہ تا قیامت حرام ہے (اس کے باوجود) پھر تم نے اے خزاعہ کی جماعت ہزیل کہ ایک شخص کو قتل کیا میں اس کا خون بہا دیتا ہوں اس کے بعد جن کا رشتہ قتل ہو جائے انہیں دو باتوں میں بہتر بات کا اختیار ہے یا قتل کریں یا دیت لے لیں یہ حدیث اور حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے شیبان نے بھی اس کو یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی مثل روایت کیا ابو شریح خزاعی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس کا کوئی عزیز قتل ہو جائے اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا معاف کر دے اور دیت لے لے۔ بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٦)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ , مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا , وَلَا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا , فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ " , فَقَالَ: " أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي , وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ , وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ , ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ هُذَيْلٍ , وَإِنِّي عَاقِلُهُ , فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلُوا , أَوْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَيْضًا , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا , وَرُوِي عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ , فَلَهُ أَنْ يَقْتُلَ , أَوْ يَعْفُوَ , أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ ". وَذَهَبَ إِلَى هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1406

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک آدمی قتل کیا گیا قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ کیا گیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچ کہتا ہے اور اس کے باوجود تو نے اس کے قصاص میں قتل کر دیا تو تو جہنم میں جائے گا اس پر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا وہ رسی سے باندھا ہوا تھا اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکالا گیا تو وہ رسی والا (ذالنسعہ) مشہور ہو گیا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۰،مَا جَاءَ فِي حُكْمِ وَلِي الْقَتِيلِ فِي الْقِصَاصِ وَالْعَفْوِ . جلد۱ص۷۰۳، حديث نمبر ١٤٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى وَلِيِّهِ , فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ قَوْلُهُ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " , فَخَلَّى عَنْهُ الرَّجُلُ , قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ , قَالَ: فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ , قَالَ: فَكَانَ يُسَمَّى: ذَا النِّسْعَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالنِّسْعَةُ حَبْلٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1407

مثلہ کی ممانعت حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو امیر لشکر بنا کر بھیجتے تو اسے خاص طور پر اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں سے بھلائی کرنے کی وصیت کرتے آپ فرماتے اللہ تعالٰی کے نام سے اس کے راستے میں کفار سے جہاد کرو۔ خیانت نہ کرو عہد شکنی نہ کرو مثلہ نہ کرو (اعضاء جسم نہ کاٹو) اور بچوں کو قتل نہ کرو اس حدیث میں ایک واقعہ ہے، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود شداد بن اوس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے اہل علم نے مثلہ کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۱،مَاجَاءَ فِي النَّهْي عَنِ الْمُثْلَةِ،جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ , أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ , وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا , فَقَالَ: " اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ , اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا , وَلَا تَغْدِرُوا , وَلَا تُمَثِّلُوا , وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا " , وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَأَنَسٍ , وَسَمُرَةَ , وَالْمُغِيرَةِ , وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ , وَأَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْمُثْلَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1408

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے ہر چیز میں احسان کو لازم رکھا لہذا جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو۔ جب ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے کرو جب تم میں سے کوئی ذبح کرنا چاہے تو چھری تیز کر لے اور ذبیحہ کو آرام دے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ابوالاشعث کا نام شرجیل بن اُدہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۱،مَاجَاءَ فِي النَّهْي عَنِ الْمُثْلَةِ،جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤٠٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ , فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ , وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ , وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ , وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ: شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1409

جنین کی دیت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے دوسو کنیں تھیں ایک نے دوسرے کو پتھر یا خیمہ کی لکڑی دے ماری جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنین (پیٹ کے بچے) کی دیت ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور اسے عورت کے خاندان کے ذمہ قرار دیا۔ حسن کہتے ہیں زید بن حباب نے بواسطہ سفیان۔ منصور سے یہ حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۲،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ۔ جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤١٠)

باب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ , أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ , فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ , أَوْ أَمَةٌ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ ". قَالَ الْحَسَنُ , وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ , وقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1410

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ دیا اس نے عرض کیا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی چلایا اس قسم کے بچے کی دیت نہیں لی جا سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شاعروں کی سی باتیں کرتا ہے بےشک اس کی دیت ایک غرہ ہے غلام ہو چاہے لونڈی اس باب میں حمید بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے بعض علماء فرماتے ہیں غرہ سے مراد غلام یا لونڈی یا پانچسو درہم ہیں بعض فرماتے ہیں گھوڑا یا خچر بھی اس میں داخل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۲،مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ۔ جلد۱ص۷۰۵،حديث نمبر ١٤١١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ , أَيُعْطَى مَنْ لَا شَرِبَ , وَلَا أَكَلَ , وَلَا صَاحَ , فَاسْتَهَلَّ , فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ: بَلْ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ , أَوْ أَمَةٌ ". وَفِي الْبَاب , عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ , وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْغُرَّةُ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ , أَوْ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ , وقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1411

کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم سے پوچھا کیا آپ کے پاس ایسی تحریر ہے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جاندار کو پیدا کیا مجھے تو وہی معلوم ہے جو اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو سمجھ عطا فرماتا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں ہے راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا دیت قیدی کا چھڑانا اور یہ کہ کسی کافر کے بدلے میں مسلمان کو نہ قتل کیا جائے، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث علی حسن صحیح ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے فرماتے ہیں کافر کے بدلے مومن کو قتل نہ کیا جائے بعض علماء فرماتے ہیں ذمی کافر کے بدلے مسلمان قتل کیا جائے گا پہلا قول اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۳،مَا جَاءَ لَا يُقْتَلْ مُسْلِمُ بِكَافِرٍ،جلد۱ص۷۰۶،حديث نمبر ١٤١٢)

باب مَا جَاءَ لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَنْبَأَنَا مُطَرِّفٌ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ سَوْدَاءُ فِي بَيْضَاءَ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , قَالَ: " لَا , وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ , وَبَرَأَ النَّسَمَةَ , مَا عَلِمْتُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ " , قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: " الْعَقْلُ , وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ , وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالُوا: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْمُعَاهِدِ , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1412

حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اس اسناد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت حسن ہے یہودی اور نصرانی کی دیت میں علماء کا اختلاف ہے بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہیں امام مالک، شافعی اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں یہودی اور عیسائی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے سفیان ثوری اور اہل کوفہ رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۳،مَا جَاءَ لَا يُقْتَلْ مُسْلِمُ بِكَافِرٍ،جلد۱ص۷۰۶،حديث نمبر ١٤١٣)

باب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْكُفَّارِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ , وحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " , وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دِيَةُ عَقْلِ الْكَافِرِ , نِصْفُ دِيَةِ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ إِلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ , وَبِهَذَا يَقُولُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ. وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ قَالَ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ: أَرْبَعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ , وَدِيَةُ الْمَجُوسِيِّ: ثَمَانُ مِائَةِ دِرْهَمٍ , وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيُّ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1413

غلام کو قتل کرنا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے اور جس نے غلام کے اعضاء کاٹے ہیں ہم اس کے اعضا کاٹیں گے یہ حدیث حسن غریب ہے بعض تابعی علماء جن میں حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں اسی طرف گئے ہیں۔ بعض علماء جن میں حضرت حسن بصری اور عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ بھی شامل ہیں فرماتے ہیں آزاد اور غلام کے درمیان خون اور زخم میں قصاص نہیں ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں مالک اپنے غلام کو قتل کرے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے دوسرے کے غلام کا قاتل قصاص میں قتل کیا جائے یہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ رحمہم اللہ کا قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۴،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ عَبْدَهُ،جلد۱ص۷۰۷،حديث نمبر ١٤١٤)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ عَبْدَهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ , وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ , مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِلَى هَذَا , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ , وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قِصَاصٌ فِي النَّفْسِ , وَلَا فِيمَا دُونَ النَّفْسِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا قَتَلَ عَبْدَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ , وَإِذَا قَتَلَ عَبْدَ غَيْرِهِ قُتِلَ بِهِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1314

خاوند کی دیت سے عورت کا حصہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے دیت مرد کے قبیلہ پر ہیں اور عورت خاوند کی دیت سے وارث نہیں ہوتی یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان کلابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف لکھا اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کا وارث بناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۵،مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا -جلد۱ص۷۰۷،حديث نمبر ١٤١٥)

باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , وَأَبُو عَمَّارٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ , وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا , حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1315

قصاص حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے کسی دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا اس نے ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے یہ لوگ اپنا جھگڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے آپ نے فرمایا تم میں سے ایک اپنے بھائی کو اس طرح کاٹ کھاتا ہے جس طرح اونٹ کاٹ کھاتے ہیں تمہارے لیے دیت نہیں اس پر اللہ تعالٰی نے آیت کریمہ نازل فرمائی ؛؛ والجروح قصاص ؛؛(سورہ مائدہ آیت نمبر ٤٥)( زخموں میں بدلہ ہے) اس باب میں حضرت یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ دونوں بھائی ہیں عمران بن حصین کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۶،مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٤١٦)

باب مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَال: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَنَزَعَ يَدَهُ , فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ , فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ , كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ , لَا دِيَةَ لَكَ " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45. قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1316

تہمت میں قید کرنا حضرت بہز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگانے کی سزا میں قید کر دیا پھر اسے چھوڑ دیا، اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث بہز حسن ہے اسماعیل بن ابراہیم نے بہز بن حکیم سے یہ روایت اس سے زیادہ طویل اور مکمل روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۷،مَا جَاءَ فِي الْحَبْسِ فِي التُّہْمَةِ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٤١٧)

باب مَا جَاءَ فِي الْحَبْسِ فِي التُّهْمَةِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ , ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بَهْزٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1317

حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں حاتم بن سیاہ مروزی نے اضافہ کیا ہے، معمر کہتے ہیں: زہری سے مجھے حدیث پہنچی ہے، لیکن میں نے ان سے نہیں سنا کہ انہوں نے اس حدیث یعنی «من قتل دون ماله فهو شهيد» ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“ میں کچھ اضافہ کیا ہو، اسی طرح شعیب بن ابوحمزہ نے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن عبدالرحمٰن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز سفیان بن عیینہ نے بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد الله عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں سفیان نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل کا ذکر نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۸،مَا جَاءَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شهيدٌ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٣١٨)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ المَرْوَزِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» وَزَادَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ المَرْوَزِيُّ فِي هَذَا الحَدِيثِ، قَالَ مَعْمَرٌ بَلَغَنِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ زَادَ فِي هَذَا الحَدِيثِ «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»، [ص: ٢٩] وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1318

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ۲- بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے، ۳- اس باب میں حضرت علی، سعید بن زید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور حضرت جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۸،مَا جَاءَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شهيدٌ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٤١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ , وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُقَاتِلُ عَنْ مَالِهِ وَلَوْ دِرْهَمَيْنِ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1319

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس سند سے بھی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۸،مَا جَاءَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شهيدٌ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٤٢٠)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , قَالَ سُفْيَانُ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا , قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1320

حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابراہیم بن سعد سے کئی راویوں نے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۸،مَا جَاءَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شهيدٌ،جلد۱ص۷۰۸،حديث نمبر ١٤٢١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ , وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ , وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ , وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا , وَيَعْقُوبُ هُوَ: ابْنُ إبرَاهِيمَ بنِ سَعْدِ بنِ إبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ الرحمنِ بنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1321

قسامت حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن سہیل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید باہر نکلے خیبر میں پہنچے تو ایک دوسرے سے جدا ہو گئے پھر حضرت محیط نے حضرت عبداللہ بن سہیل کو مقتول پایا۔ چنانچہ وہ خود حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہیل رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عبدالرحمٰن ان میں سے چھوٹے تھے انہوں نے گفتگو کرنا چاہی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑے کی بڑائی کا خیال رکھو۔وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دوسرے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی پھر یہ بھی ان کے ساتھ بولنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہیل کے قتل کا ذکر کیا آپ نے فرمایا تم پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ اپنے ساتھی یا ان کے قاتل کے مستحق ہو جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم کیسے قسم کھائیں جبکہ ہم موجود نہیں تھے آپ نے فرمایا تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم کو بری کر دے کہنے لگے ہم کفار کی قسمیں کیسے قبول کریں۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دیکھی تو اپنی طرف سے دیت عطا فرمائی۔ حسن بن علی خلال بواسطہ یزید بن ہارون یحیٰی بن معبد بشیر بن یسار اور سہیل بن ابی حثمہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت نقل کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے قسامت کے بارے میں اہل علم کا اس پر عمل ہے بعض فقہاء مدینہ کے خیال میں قسامت سے قصاص آتا ہے بعض اہل کوفہ اور دیگر علماء فرماتے ہیں قسامت سے قصاص واجب نہیں ہوتا صرف دیت واجب ہوتی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الدیت،باب۹۵۹،مَا جَاءَ فِي الْقَسَامَةِ،جلد۱ص۷۱۰،حديث نمبر ١٤٢٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْقَسَامَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ , وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ , حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ , ثُمَّ إِنَّ مُحَيِّصَةَ وَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا قَدْ قُتِلَ فَدَفَنَهُ , ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ , وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ , قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرْ لِلْكُبْرِ " , فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ , ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا , فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ , فَقَالَ لَهُمْ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ , أَوْ قَاتِلَكُمْ " , قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ , قَالَ: " فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا " قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ , فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْقَسَامَةِ , وَقَدْ رَأَى بَعْضُ فُقَهَاءِ الْمَدِينَةِ الْقَوَدَ بِالْقَسَامَةِ , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ: إِنَّ الْقَسَامَةَ لَا تُوجِبُ الْقَوَدَ , وَإِنَّمَا تُوجِبُ الدِّيَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabud Diyaat, Hadees No. 1322

Tirmizi Shareef : Abwabud Diyaat

|

Tirmizi Shareef : ابواب الدیات

|

•