
جس پر حد واجب نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا سونے والا یہاں تک کہ بیدار ہو جائے، بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور پاگل جب تک کہ عقل نہ آجائے، اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے حدیث علی اسی طریق سے حسن غریب ہے اور آپ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے بعض علماء سے بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے کہ الفاظ بھی مذکور ہیں حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کا حضرت علی سے سماع ہمارے علم میں نہیں یہ حدیث بواسطہ عطاء بن سائب ابو ظبیان اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اعمش سے بواسطہ ابو ظبیان اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل ہے ابو ظبیان کا نام حصین بن جندب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۰،مَا جَاءَ فِيمَنْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ،جلد۱ص۷۱۱،حديث نمبر ١٤٢٣)
حدود کا ساقط کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دور کرو اگر اس کے لیے کوئی راستہ ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دو امام کا غلطی سے معاف کر دینا غلطی سے سزا دینے سے بہتر ہے۔ ہناد نے بواسطہ وکیع یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی روایت کے ہم معنی غیر مرفوع ذکر کیا اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث حضرت عائشہ کو مرفوعاً ہم صرف محمد بن ربیعہ کی روایت سے پہچانتے ہیں وکیع نے یزید بن زیاد سے اس کے ہم معنی غیر مرفوع روایت کیا وکیع کی روایت اصح ہے متعدد صحابہ کرام سے اس کے ہم معنی مذکور ہے یزید بن زیاد دمشقی حدیث میں ضعیف ہے یزید بن زیاد کوفی اس سے اثبت و اقدم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۱،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحُدُودِ،جلد۱ص۷۱۱،حديث نمبر ١٣٢٤)
مسلمان کی پردہ پوشی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی مسلمان سے دنیاوی مصائب میں سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالٰی اس سے قیامت کے دن مصیبت دور فرمائے گا جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالٰی بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں رہے، اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ کو اسی طرح متعدد افراد نے بواسطہ اعمش اور ابو صالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ابو صالح نے اسی طرح روایت بیان کی۔ ہمیں عبید بن اسباط بن محمد نے بواسطہ والد اعمش سے اس کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۲،مَا جَاءَ فِي السِّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ،جلد۱ص۷۱۲،حديث نمبر ١٤٢٥)
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ہلاک کرے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو آدمی کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی کوئی مصیبت دور فرمائے گا جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۲،مَا جَاءَ فِي السِّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ،جلد۱ص۷۱۲،حديث نمبر ١٤٢٦)
حدیں تلقین کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک سے فرمایا،، مجھے آپ کے متعلق پہنچنے والی خبر صحیح ہے ؟ انہوں نے عرض کیا (یا رسول اللہ) آپ کو میرے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا کہ تم فلاں کی لونڈی سے صحبت کر بیٹھے ہو انہوں نے عرض کیا ,,جی ہاں,, پھر انہوں نے چار مرتبہ گواہی دی ازاں بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں رجم کیا گیا اس باب میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث ابن عباس حسن ہے شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ سماک بن حرب حضرت سعید بن جبیر سے مرسل روایت کی ہے حضرت ابن عباس کا واسطہ مذکور نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۳،مَا جَاءَ فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٣٢٧)
معترف اپنے اقرار سے پھر جائے تو حد ساقت ہو جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز اسلمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ انہوں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے آپ نے رخ پھیر لیا پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے آپ نے رخ انور پھیر لیا وہ تیسری جانب سے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوا چوتھی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کرنے کا حکم دیا چنانچہ انہیں پتھریلی زمین کی طرف لے جا کر سنگسار کیا گیا جب انہیں پتھروں سے تکلیف پہنچی تو بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے پاس اونٹ کا جبڑا تھا اس نے اس سے ان کو مارا اور لوگوں نے بھی مارا حتیٰ کہ فوت ہو گئے لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے پتھروں اور موت کے تکلیف محسوس کی تو بھاگ گئے آپ نے فرمایا تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا یہ حدیث حسن ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے بواسطہ ابو سلمہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے ہم معنیٰ مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۴،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ اِذَا رَجَعَ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٤٢٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر زنا کا اعتراف کیا آپ نے اعراض فرمایا اس نے پھر اعتراف کیا آپ نے پھر توجہ نہ فرمائی یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم پاگل ہو ؟ عرض کیا نہیں پوچھا شادی شدہ ہو عرض کیا جی ہاں پھر آپ کے حکم سے اسے عید گاہ میں سنگسار کیا گیا جب پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگ گیا لیکن پکڑا گیا اور پھر پتھر مارے گئے یہاں تک کہ مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات فرمائے لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ زنا کا معترف جب اپنے خلاف چار مرتبہ شہادت دے اس پر حد قائم کی جائے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں ایک مرتبہ بھی گواہی دے تو حد لگائی جائے امام مالک بن انس اور شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں ان لوگوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی روایت سے استدلال کیا کہ دو آدمی بارگاہ نبوی میں اپنا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا ہے( طویل حدیث ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اے انیس ! اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ کی قید نہیں لگائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۴،مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحَدِّ عَنِ الْمُعْتَرِفِ اِذَا رَجَعَ،جلد۱ص۷۱۳،حديث نمبر ١٤٢٩)
حدود میں سفارش کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں متفکر ہوئے جس نے چوری کی تھی کہنے لگے اس کے متعلق بارگاہ رسالت میں کون سفارش کرے۔ سب نے کہا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں۔ کے سوا کون اس کی جراءت کر سکتا ہے چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا کیا تم حدوداللہ میں سفارش کرتے ہو پھر آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی معزز چوری کرتا اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا اس پر حد قائم کرتے اللہ کی قسم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ اس باب میں حضرت مسعود بن عجماء( ابن اعجم بھی کہا جاتا ہے) ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مذکور ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب،۹۶۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَن يُشْفَعَ في الْحُدُودِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٠)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی رجم کیا اگر مجھے اللہ کی کتاب میں زیادتی ناپسند نہ ہوتی تو میں اسے مصحف میں لکھ دیتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کچھ آنے والے لوگ اسے کتاب اللہ میں نہ پا کر اس کا انکار نہ کر جائیں۔ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے حدیث عمر حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۶،مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ تحقيقِ الرَّجْمِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣١)
تحقیق رجم حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا آپ پر کتاب اتاری اور جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا مجھے ڈر ہے کہ کہیں طویل عرصہ گزرنے پر کوئی کہنے والا کہے ہم اللہ تعالٰی کی کتاب میں رجم (کا حکم نہیں پاتے) پس وہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں،، سن لو ! بے شک رجم اس زانی پر ثابت ہے جو شادی شدہ ہو اس پر گواہی قائم ہو جائے یا حمل ہو جائے یا خود اعتراف کر لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۶،مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ تحقيقِ الرَّجْمِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٢)
شادی شدہ ( زانی ) کو سنگسار کرنا حضرت ابوہریرہ زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ یہ تینوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے ان میں سے ایک آپ کی طرف بڑھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کو اللہ تعالی کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اس کے مخالف نے جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا بھی کہا یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجئے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے میرا لڑکا اس کے ہاں مزدوری کرتا تھا تو اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا لوگوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے بیٹے پر رجم کا حکم آتا ہے پس میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک غلام فدیہ میں دے دیا پھر اہل علم سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا تمہارے بیٹے پر درے اور ایک سال تک جلا وطن کر دینا ہے اور اس شخص کی عورت پر سنگساری ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا سو بکریاں اور غلام تجھے واپس ملے گا اور تیرے لڑکے پر سو درے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے (پھر فرمایا) اے انیس اس آدمی کی بیوی کے پاس جاؤ اگر اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ انیس اس کے پاس گئے اس نے اقرار کیا تو انہوں نے اسے رجم کیا۔ اسحٰاق بن موسیٰ انصاری بواسطہ معن، مالک ابن شہاب اور عبید اللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ و زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث نقل فرماتے ہیں۔ قتیبہ بواسطہ لیث، ابن شہاب سے اپنی سند سے حدیث مالک کے ہم معنی روایت نقل کی اس باب میں حضرت ابوبکر عبادہ بن صامت، ابو ہریرہ، ابو سعید، ابن عباس جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ،سلمہ بن محبق، ابو برزہ،اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی روایت حسن صحیح ہے مالک بن انس، معمر اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ زہری اور عبید اللہ بن عبداللہ اور حضرت ابو ہریرہ و زید بن خالد رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کیا ہے اس اسناد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا اگر لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے فروخت کر دو اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔ سفیان بن عیینہ بواسطہ زہری اور عبید اللہ،حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے ابن عیینہ نے دونوں حدیثیں حضرت ابوہریرہ ،زید بن خالد اور شبلی رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہوا سفیان بن عیینہ نے ایک حدیث کو دوسری میں داخل کر دیا۔ صحیح وہ ہے جو زبیدی یونس بن یزید اور زہری کے بھتیجے نے بواسطہ زہری اور عبید اللہ حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لونڈی زنا کرے الخ۔ زہری بواسطہ عبید اللہ اور شبل بن خالد عبداللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لونڈی زنا کرے الخ، محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا شبل عبداللہ بن مالک اوسی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یہ صحیح ہے حدیث ابن عیینہ غیر محفوظ ہے انہی سے شبل بن حامد مذکور ہے جو غلط ہے صحیح نام شبل بن خالد ہے شبل بن خلید بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيْبِ،جلد۱ص۷۱۶،حدیث نمبر ١٤٣٣)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے سیکھو اللہ تعالٰی نے عورتوں کے لیے راستہ مقرر کر دیا شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو سو درے اور پھر رجم ہے اور اگر دونوں غیر شادی ہوں تو سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کرنا ہے یہ حدیث صحیح ہے بعض صحابہ کرام جن میں حضرت علی بن ابی طالب، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہم) بھی شامل ہیں اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ شادی شدہ کو درے بھی مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے بعض علماء اسی کی طرف گئے ہیں امام اسحٰاق رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے بعض صحابہ کرام جن میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور دوسرے حضرات بھی شامل ہیں فرماتے ہیں شادی شدہ کو صرف سنگسار کرنا ہے درے مارنا نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ماعز وغیرہ کے قصہ میں اسی طرح مذکور ہیں کہ آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے درے مارنے کا حکم نہیں دیا بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان پوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيْبِ،جلد۱ص۷۱۶،حديث نمبر ١٤٣٤)
بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا اور کہا میں حاملہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو جب بچہ پیدا ہو جائے تو مجھے بتانا انہوں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس پر اس کے کپڑے باندھ دیے گئے پھر آپ نے سنگساری کا حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ) آپ نے اسے سنگسار بھی کیا اور اس پر جنازہ بھی پڑھا آپ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر ستر اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان سب کو کافی ہو، کیا تم نے اس سے افضل چیز پائی کہ اس نے اپنی جان اللہ تعالٰی کے لیے قربان کر دی، یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۸،جلد۱ص۷۱۸،حديث نمبر ١٤٣٥)
اہل کتاب کو سنگسار کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک عورت کو سنگسار کیا اس حدیث میں واقعہ ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۹،مَا جَاءَ فِي رَجُمِ أَهْلِ الْكِتَابِ،جلد۱ص۷۱۵،حديث نمبر ١٤٣٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو سنگسار کیا، اس باب میں حضرت ابن عمر، براء، جابر ابن ابی اوفٰی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں جابر بن سمرہ کی روایت حسن غریب ہے اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں کہ جب اہل کتاب کا جھگڑا ہو اور وہ اپنا مقدمہ مسلمان حکام کے پاس لائیں تو ان کے درمیان قرآن و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے ساتھ فیصلہ کیا جائے، امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں ان پر زنا کی حد نہ لگائی جائے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۶۹،مَا جَاءَ فِي رَجُمِ أَهْلِ الْكِتَابِ،جلد۱ص۷۱۹،حديث نمبر ١٤٣٧)
جلا وطن کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درے مارے اور جلا وطن کیا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی درے مارے اور جلا وطن کیا ،اس باب میں حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر غریب ہے متعدد افراد نے اسے عبداللہ بن ادریس سے مرفوعاً روایت کیا بعض نے عبداللہ بن ادریس سے ہی یہ حدیث روایت کی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے درے مارے اور جلا وطن کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درے مارے اور جلا وطن کیا۔ ابو سعید اشج نے عبداللہ بن ادریس سے اسی طرح نقل کیا ابن ادریس کے علاوہ بھی یہ حدیث عبید اللہ بن عمر سے اسی طرح مروی ہے محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جلا وطن کرنا ثابت ہے حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد، عبادہ بن صامت اور دیگر صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا صحابہ کرام جن میں حضرت ابوبکر، عمر، علی ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرھم( رضی اللہ عنہم) شامل ہیں کا اس پر عمل ہے متعدد فقہاء تابعین سے بھی اسی طرح منقول ہے سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۰،مَا جَاءَ فِی النَّفِي،جلد۱ص۷۱۹،حديث نمبر ١٤٢٨)
حدود کفارہ گناہ ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ نے فرمایا مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے اور زنا کے مرتکب نہیں ہو گے پھر آپ نے آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا تم میں سے جس نے اپنا عہد پورا کیا اس کا ثواب اللہ تعالٰی کی ذمہ ہے جس نے ان میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا پھر اسے سزا دی گئی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو ان میں سے کسی کا مرتکب ہوا پھر اللہ تعالٰی نے اس کی پردہ پوشی فرمائی وہ اللہ تعالٰی کے سپرد ہے چاہے اسے عذاب دے اور چاہے بخش دے, اس باب میں حضرت علی، جریر بن عبداللہ اور حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عبادہ بن صامت حسن صحیح ہے، امام شافعی فرماتے ہیں اس باب میں حد اپنے اہل کے لیے کفارہ ہے اس سے احسن حدیث میں نے نہیں سنی نیز فرماتے ہیں جو گناہ کرے پھر اللہ تعالٰی اس پر پردہ ڈال دے تو مجھے پسند ہے کہ وہ بھی اپنے گناہ کو چھپائے اور اپنے رب سے توبہ کرے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ ان دونوں حضرات نے ایک آدمی کو اپنا گناہ چھپانے کا حکم دیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۱،مَا جَاءَ أَنَّ الْحُدُودَ كَفَارَةٌ لِأَهْلِهَا،جلد۱ص۷۲۰،حديث نمبر ١٤٣٩)
لونڈیوں پر حد قائم کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کا ارتکاب کرے اسے کتاب اللہ کے مطابق تین مرتبہ تک درے مارے اگر چوتھی مرتبہ زنا کا ارتکاب کریں تو اسے فروخت کر دے اگرچہ بالوں کی رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو اس باب میں حضرت زید بن خالد اور بواسطہ شبل عبداللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس کے مطابق عمل ہے کہ مالک خود اپنے غلام پر حد قائم کر سکتا ہے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ حاکم کے حوالہ کرے خود حد نہ لگائے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۲۱) (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۰۱،حديث نمبر ١٤٤٠)
لونڈیوں پر حد قائم کرنا حضرت ابو عبدالرحمٰن سلمی سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا لوگو ! اپنی شادی شدہ اور کنوارے غلاموں پر حد قائم کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اسے درے لگاؤں میں اس کے پاس آیا تو کیا دیکھا کہ اس کے ہاں نیا نیا بچہ پیدا ہوا ہے مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو وہ میرے ہاتھوں ہلاک ہو جائے گی یا (فرمایا) مر جائے گی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۲،مَا جَاءَ فِی أَقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْإِمَاءِ،جلد۱ص۷۲۱،حديث نمبر ١٤٤١)
نشہ والے کی حد حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حد میں چالیس جوتے مارے مسعر فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ شراب کی حد ماری تھی ،اس باب میں حضرت علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابو ہریرہ ،سائب ،ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابو سعید کی روایت حسن ہے، ابو صدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے۔ جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۳،مَا جَاء فِي حَدِّ السَكَرَانِ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے تقریبا چالیس بار مارا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے ہلکی حد اسی درے ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام اور تابعین اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی سزا اسّی کوڑے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۳،مَا جَاء فِي حَدِّ السَكَرَانِ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٣)
شرابی کی سزا تین مرتبہ تک کوڑے اور چوتھی مرتبہ پر قتل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب پینے والے کو کوڑے مارو اگر چوتھی مرتبہ ہے تو قتل کرو ،اس باب میں حضرت ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس ،جریر، ابو رمد بلوی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں ثوری نے بھی اسی طرح بواسطہ عاصم اور ابو صالح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ابن جریج اور معمر نے بواسطہ سہیل بن ابی صالح اور ابو صالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں اس باب میں ابو صالح کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔ قتل کا حکم شروع شروع میں تھا بعد میں منسوخ ہو گیا محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ محمد بن منکدر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پیئے اسے کوڑے مارو چوتھی مرتبہ پیئے تو قتل کر دو۔ فرماتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی تو آپ نے اسے درے مارے قتل نہیں کیا زہری نے بواسطہ قبیصہ بن ذویب،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کیا فرماتے ہیں قتل کا حکم اٹھا دیا گیا۔ اور رخصت دی گئی عام علماء کا اس پر عمل ہے کہ ہم اس بارے میں پہلے اور پچھلے علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے اس بات کو ایک دوسری حدیث سے بھی تائید حاصل ہے جو مختلف طرق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا توحید و رسالت کی گواہی دینے والے مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے حلال ہے کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے شادی شدہ ہو کر زنا کرے اور اپنے دین کو چھوڑ دے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۴،مَا جَاءَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ،جلد۱ص۷۲۲،حديث نمبر ١٤٤٤)
کس قدر چوری پر ہاتھ کاٹا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زائد پر ہاتھ کاٹتے تھے، حدیث عائشہ حسن صحیح ہے یہ حدیث متعدد طرق سے بواسطہ عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے بعض نے بواسطہ عمرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین درہم مالیت کی ڈھال چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا۔ اس باب میں حضرت سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل ہیں انہوں نے پانچ درہم پر ہاتھ کاٹا حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے انہوں نے چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹا حضرت ابوہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ان دونوں نے فرمایا پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے بعض فقہاء تابعین کا اس پر عمل ہے۔ امام مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے آپ نے فرمایا ایک دینار یا دس درہم سے کم پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا حالانکہ قاسم کو آپ سے سماع نہیں بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں دس دراہم سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۵،مَا جَاءَ فِی کمْ تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ،جلد۱ص۷۲۳،حديث نمبر ١٤٤٦)
چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکانا عبدالرحمٰن بن محیریز سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا کہ آیا یہ سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ کے حکم سے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف بواسطہ عمر بن علی مقدمی, حجاج بن ارطاۃ کی روایت سے جانتے ہیں عبدالرحمٰن بن محیریز، عبداللہ بن محیریز کے بھائی ہیں اور شامی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۶،مَا جَاءَ فِي تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ،جلد۱ص۷۲۴،حديث نمبر ١٤٤٧)
خائن،اچکے اور لٹیرے کا حکم حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا خیانت کرنے والے اچکے اور لٹیرے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے مغیرہ بن مسلم نے بواسطہ ابو زبیر،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ابن جریج کی روایت کے ہم معنی نقل کیا مغیرہ بن مسلم بصری ہیں عبدالعزیز قسملی کے بھائی ہیں، علی بن مدینی نے یہی کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۷،مَا جَاءَ فِي الْخَائِنِ وَالْمُخْتَلِسِ وَالْمُنْتَهِب،جلد۱ص۷۲۵،حدیث نمبر ١٤٤٨)
درخت پر پھل اور گابھے کی چوری پر ہاتھ کاٹنا نہیں۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ درخت پر لٹکے ہوئے پھل اور گابھے کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں، بعض محدثین نے بواسطہ یحییٰ بن سعید، محمد بن یحیٰی بن حبان اور ان کے چچا واسع بن حبان حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے لیث بن سعد کی روایت کے ہم معنیٰ بیان کیا، مالک بن انس اور کئی دوسرے حضرات نے یہ حدیث بواسطہ یحیٰی بن سعید، محمد بن یحییٰ بن حبان اور رافع بن خدیج، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ واسع بن حبان نقل کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۸،مَا جَاءَ لَا قَطْعَ فِی ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ،جلد۱ص۷۲۵،حديث نمبر ١٤٤٩)
جہاد کے موقع پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جہاد میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند کے ساتھ اس کے معنی روایت نقل کی بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام اوزاعی بھی ان میں شامل ہیں ان کے نزدیک میدان جہاد میں دشمن کے سامنے حد قائم کرنا جائز نہیں،ممکن ہے وہ شخص دشمن سے جا ملے البتہ جب امام دارالحرب سے دارالسلام میں واپس آئے تو اس وقت مجرم پر حد قائم کرے امام اوزاعی نے اسی طرح فرمایا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۷۹،مَا جَاءَ أَنْ لَا يُقْطَعَ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ،جلد۱ص۷۲۵،حديث نمبر ١٤٥٠)
بیوی کی لونڈی سے صحبت کرنا حضرت حبیب بن سالم سے روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کیا تھا انہوں نے فرمایا میں اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اگر اس کی بیوی نے اپنی لونڈی سے صحبت اس کے لیے حلال کی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر حلال نہیں کی تھی تو اسے رجم کر دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۰،مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِامْرَاَتِهٖ،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥١)
علی بن حجر نے بواسطہ ھُشیم ،ابو بشر اور حبیب بن سلیم، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اس کے معنی روایت کیا اس باب میں حضرت سلمہ بن محبق سے بھی اس کے ہم معنی مذکور ہے۔ اس کی سند میں اضطراب ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں قتادہ نے حبیب بن سالم سے یہ حدیث نہیں سنی۔ انہوں نے اسے خالد بن عرفطہ سے روایت کیا ہے۔ ابو بشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی بلکہ خالد بن عرفطہ سے روایت کیا ہے علماء کا اس آدمی کے بارے میں اختلاف ہے جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے متعدد صحابہ کرام سے جن میں حضرت علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں، مروی ہے کہ اس پر رجم ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس پر حد نہیں تعزیر ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت کو اپنایا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۰،مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِامْرَاَتِهٖ،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٢)
جس عورت سے زبردستی زنا کیا جائے اس کا حکم عبدالجبار بن وائل بن حجر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت زنا پر مجبور کی گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد نہ لگائی اور مرد پر حد قائم کی راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آیا آپ نے اس کو مہر دینے کا فیصلہ کیا یا نہیں یہ حدیث غریب ہے اس کی سند متصل نہیں یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں عبدالجبار بن وائل بن حجر نے نہ تو اپنے والد سے کچھ سنا اور نہ ان کا زمانہ پایا کہا جاتا ہے یہ اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد پیدا ہوئے بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ مجبور کی گئی عورت پر حد نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۱،مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٣)
علقمہ بن وائل کندی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت نماز پڑھنے کے ارادے باہر نکلی ایک آدمی اسے ملا اور اس نے اسے ڈھانک لیا پھر اس سے اپنی حاجت پوری کی وہ چلائی لیکن وہ چلا گیا ایک دوسرا آدمی گزرا تو اس عورت نے کہا فلاں آدمی نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے پھر وہ مہاجرین کی ایک جماعت کے پاس سے گزری اور کہا فلاں نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے وہ گئی اور اس آدمی کو پکڑ لائے جس کے متعلق اس عورت کا گمان تھا کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے جب اس کے سامنے لائے تو اس نے کہا ہاں یہی ہے پھر وہ اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے جب آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اصل زانی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! اس عورت سے میں نے زنا کیا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے فرمایا جاؤ اللہ تعالٰی نے تمہیں بخش دیا ہے۔ پہلے آدمی سے اچھا کلام کیا اور زانی کے بارے میں فرمایا اسے سنگسار کرو پھر فرمایا اس نے ایسی تو بہ کی اگر تمام اہل مدینہ یہ توبہ کریں تو ان سے قبول کی جاتی یہ حدیث حسن غریب ہے علقمہ بن وائل بن حجر کو اپنے والد سے سماع حاصل ہے عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۱،مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا،جلد۱ص۷۲۶،حديث نمبر ١٤٥٤)
چوپائے سے بدفعلی کرنے کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو چوپائے سے بدفعلی کرتے پاؤ اسے قتل کر دو اور جانور کو بھی ہلاک کر دو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا چوپائے کا کیا قصور ؟ آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا لیکن میرا خیال ہے آپ ایسے جانور کا گوشت کھانا یا اس سے نفع اٹھانا کہ جس کے ساتھ ایسا عمل کیا گیا ناپسند کرتے تھے، اس حدیث کو ہم صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے پہچانتے ہیں سفیان ثوری نے بواسطہ عاصم اور ابی رزین، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ جو آدمی چوپائے سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں۔ محمد بن بشارنے بواسطہ عبدالرحمٰن بن مہدی سفیان ثوری سے اس کی خبر دی اور یہ پہلی حدیث سے اصح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۲،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقَعُ عَلَى الْبَهِيمَةِ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٥)
لواطت کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو قوم لوط جیسا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔ اس باب میں حضرت جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ہم اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں محمد بن اسحٰاق نے اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا اور فرمایا قوم لوط کا سا عمل کرنے والا ملعون ہے قتل کا ذکر نہیں کیا۔ نیز یہ بھی مذکور ہے کہ چوپائے سے بدفعلی کرنے والا بھی ملعون ہے۔ بواسطہ عاصم بن عمر، سہیل بن ابی صالح اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاعل اور مفعول (دونوں) کو قتل کر دو۔ اس حدیث کی اسناد میں کلام ہے ہم نہیں جانتے کہ اسے عاصم کے سوا کسی اور نے سہیل بن ابی صالح سے روایت کیا ہو۔ عاصم بن عمر حفظ کے اعتبار سے حدیث میں ضعیف ہے۔ لوطی کی سزا میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک شادی شدہ ہو یا کنوارا اس پر رجم ہے یہ امام مالک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا قول ہے بعض فقہاء تابعین جن میں حضرت حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطاء بن ابی رباح رحمہم اللہ شامل ہے فرماتے ہیں لواطت کرنے والے کی حد وہی حد ہے جو زانی کی ہے،سفیان ثوری اور اہل کوفہ رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۳،مَا جَاءَ فِي حَدِ اللُّوْطِیْ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قوم لوط کے عمل کا ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اس طریق یعنی بواسطہ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۳،مَا جَاءَ فِي حَدِ اللُّوْطِیْ،جلد۱ص۷۲۸،حديث نمبر ١٤٥٧)
مرتد کی سزا حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت کو جو اسلام سے پھر چکی تھی جلا دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق قتل کرتا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔ میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کی سزا نہ دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی تو فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صحیح کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے مرتد کے بارے میں اہل علم کا اس پر عمل ہے عورت اسلام کو چھوڑ جائے تو اس کے بارے میں اختلاف ہے علماء کی ایک جماعت کہتی ہے اسے بھی قتل کیا جائے امام اوزاعی احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے جبکہ ایک جماعت کہتی ہے اسے قید کیا جائے قتل نہ کیا جائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۴،مَا جَاءَ فِی الْمُرْتَدِ،جلد۱ص۷۲۹،حديث نمبر ١٤٥٨،حديث نمبر ١٤٥٨)
مسلمان پر ہتھیار اٹھانا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے ہم پر (مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں اس باب میں حضرت ابن عمر ،ابن زبیر، ابو ہریرہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابو موسٰی کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۵،مَا جَاءَ فِيمَن شَهَرَ السّلاحَ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٥٩)
جادوگر کی سزا حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جادوگر کی سزا تلوار کی ایک مار ہے اس حدیث کو ہم مرفوعاً صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اسماعیل بن مسلم مکی حفظ کے اعتبار سے حدیث میں ضعیف ہے اسماعیل بن مسلم عبدی بصری کے بارے میں وکیع فرماتے ہیں یہ ثقہ ہیں۔ یہ حسن سے بھی روایت کرتے ہیں یہ صحیح ہے کہ یہ روایت حضرت جندب سے موقوف ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس حدیث پر عمل ہے مالک بن انس کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں اگر جادوگر کا عمل کفر تک پہنچ جائے تو اسے قتل کیا جائے ورنہ نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۶،مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّاحِرِ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٦٠،حديث نمبر ١٤٦١)
خائن کی سزا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے مال غنیمت میں چوری کرتا پاؤ اس کا سامان جلا دو۔ صالح (راوی) کہتے ہیں میں مسلمہ کے پاس گیا ان کے پاس سالم بن عبداللہ بھی تھے انہوں نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے خیانت کی تھی سالم نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اس کا سامان جلانے کا حکم دیا۔ اس کا سامان جلایا گیا تو اس میں سے ایک قرآن شریف بھی ملا حضرت سالم نے فرمایا اسے فروخت کر دو اور قیمت صدقہ کرو یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے اور یہ ابو واقد لیثی منکر الحدیث ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ بھی خیانت کرنے والے کے بارے میں روایات ہیں لیکن آپ نے اس کا سامان جلانے کا حکم نہیں دیا امام بخاری فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۷،مَا جَاءَ فِي الْغَالِّ مَا يُصْنَعُ بِهِ،جلد۱ص۷۳۱،حديث نمبر ١٤٦١)
کسی کو ہجڑا کہنے کی سزا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کسی دوسرے کو،،اے یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس درے مارو اور جب کہے اے ہجڑے تب بھی بیس درے لگاؤ، اور جو محرم عورت سے زنا کرے اسے قتل کر دو۔ اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابراہیم بن اسماعیل کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طرق سے مروی ہے براء بن عازب اور قرہ بن ایاس روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہمارے اصحاب کے نزدیک اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جو آدمی جان بوجھ کر کسی محرم عورت کے پاس جائے (یعنی زنا کرے) تو اسے قتل کیا جائے امام احمد فرماتے ہیں ماں سے نکاح کرنے والے کو قتل کیا جائے امام اسحٰاق فرماتے ہیں جو کسی محرم عورت سے نکاح کرے اسے بھی قتل کیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لِلْآخِرِ يَا مُخَنَّثِ،جلد۱ص۷۳۱،حديث نمبر ١٤٦٢)
تعزیر حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا۔ (کسی دوسری سزا میں) دس کوڑوں سے زائد نہ مارے جائیں ابن لہیعہ نے اس حدیث کو بکیر سے روایت کیا لیکن غلطی کی اور کہا عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ بواسطہ والد۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یہ سند غلط ہے صحیح وہ ہے جو لیث بن سعد نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ اور ابو بردہ بن نیار، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ،یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے پہچانتے ہیں علماء کا تعزیر کے بارے میں اختلاف ہے تعزیر کے ضمن میں سب سے بہتر یہی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الحدود،باب۹۸۹،مَا جَاء فِي التَّعْزِيرِ،جلد۱ص۷۳۲،حديث نمبر ١٤٦٣)
Tirmizi Shareef : Abwabul Hudoodi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الحدود
|
•