
کتے کے شکار کردہ جانور کو کھانے کے احکامات حضرت عائذاللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے ابو ثعلبہ خشنی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم شکاری لوگ ہیں آپ نے فرمایا جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو پس وہ تمہارے لیے شکار کو پکڑ رکھے تو اسے کھاؤ میں نے عرض کیا اگرچہ مار ڈالے فرمایا اگرچہ مار ڈالے میں نے عرض کیا ہم تیر انداز ہیں آپ نے فرمایا تمہاری کمان میں جو چیز تمہاری طرف لوٹائے اسے کھاؤ میں نے عرض کیا ہم سفر والے ہیں یہود و نصاری اور مجوسیوں کے پاس سے گزرتے ہیں ان کے برتنوں کے علاوہ ہمیں کوئی برتن نہیں ملتا تو کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اگر اور برتن نہ پاؤ تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں کھاؤ اور پیو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں، یہ حدیث حسن ہے اور عائذ اللہ سے ابو ادریس خولانی مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۰،مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لَا يُؤْكَلُ،جلد۱ص۷۳۳،حديث نمبر ١٤٦٤)
حضرت علی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے سدھاۓ کتوں کو شکار پر چھوڑتے ہیں آپ نے فرمایا جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگرچہ مار ڈالیں؟ فرمایا اگرچہ مار ڈالیں جب تک کوئی دوسرا کتا اس کے ساتھ شریک نہ ہو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم بغیر پر کے تیر پھینکتے ہیں (اس کا کیا حکم ہے ) آپ نے فرمایا جسے وہ پھاڑ دے کھاؤ اور جسے چوڑائی کی طرف سے لگے اسے نہ کھاؤ۔ محمد بن یحییٰ نے بواسطہ محمد بن یوسف اور سفیان منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی البتہ اتنا اضافہ ہے کہ آپ سے تیر کے بارے میں پوچھا گیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۰،مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لَا يُؤْكَلُ،جلد۱ص۷۳۳،حديث نمبر ١٤٦٥)
مجوسی کے کتے کا شکار کردہ جانور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجوسی کے کتے کے شکار سے روکا گیا ہے یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اکثر علماء کا اس پر عمل ہے اور مجوسی کے کتے کا شکار کھانے کی اجازت نہیں دیتے قاسم بن ابو بزہ سے قاسم بن نافع مکی مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۱،مَا جَاءَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِی،جلد۱ص۷۳۴،حديث نمبر ١٤٦٦)
باز کا شکار کیا ہوا جانور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا جو کچھ وہ تمہارے لیے پکڑ رکھے اسے کھا لو اس حدیث کو ہم صرف بواسطہ مجاہد شعبی کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ باز اور شکرے کے شکار کردہ جانور کو کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے مجاہد فرماتے ہیں باز وہ پرندہ ہیں۔ جس سے شکار کرتے ہیں یہ ان جوارح میں سے ہے ان کے بارے میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے اور جن جوارح تو تم کھاؤ اس سے وہ کتے اور پرندے مراد ہیں جن کے ساتھ شکار کیا جاتا ہے بعض اہل علم نے شکار کردہ جانور میں سے کچھ کھا جانے کی صورت میں بھی باز کا شکار جائز رکھا ہے وہ فرماتے ہیں باز کا کھانا یہ ہے کہ وہ جواب دے بعض علماء نے اس صورت میں شکار کو مکروہ کہا ہے اکثر فقہاء فرماتے ہیں باز کا شکار کھائے اگرچہ وہ اس میں سے کچھ کھا لے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۲،فِی صَيْدِ الْبُزَاةِ،جلد۱ص۷۳۴،حديث نمبر ١٤٦٧)
تیر لگے ہوئے شکار کا غائب ہو جانا حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں شکار پر تیر پھینکتا ہوں دوسرے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے تیر نے اسے مارا ہے اور تم اس میں کسی درندے کا نشان نہ دیکھو تو اسے کھا لو یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے شعبہ نے یہ حدیث ابو بشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے بواسطہ سعید بن جبیر حضرت عدی بن حاتم سے روایت کی دونوں روایتیں صحیح ہیں اس باب میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۳،فِی الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٦٨)
تیر لگے ہوئے شکار کا پانی میں گرنا حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا جب تیر پھینکو تو بسم اللہ پڑھ لیا کرو اگر اسے مرا ہوا پاؤ تو کھا لو البتہ اگر اس حالت میں پاؤ کے وہ پانی میں گر گیا ہے تو نہ کھاؤ کیونکہ نامعلوم اسے پانی نے مارا ہے یا تمہاری تیر نے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۴،فِی مَنْ يَرْمِی الصَّيْدَ فَيَجِدُهُ مَيْتًا فِی الْمَاءِ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٦٩)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سدھا ہوئے کتے کے شکار کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا جب بسم اللہ پڑھ کر اپنا سدھا ہوا کتا شکار پر چھوڑو تو جو کچھ تمہارے لیے اٹھا لائے اسے کھاؤ اور اگر اس نے کھایا ہو تو اب نہ کھاؤ۔ کیونکہ اس نے اپنے لیے اٹھا رکھا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ہمارے کتے دوسرے کتوں سے مخلوط ہو جائیں تو کیا حکم ہے فرمایا تو نے اپنے کتوں پر بسم اللہ پڑھی ہے دوسروں کے کتوں پر تو نہیں سفیان ثوری فرماتے ہیں اس کا کھانا مکروہ ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔کہ جب شکار اور ذبیحہ پانی میں گر جائے تو نہ کھایا جائے بعض علماء ذبیحہ کے بارے میں فرماتے ہیں حلقوم کٹنے کے بعد پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو اسے کھایا جائے ابن مبارک کا یہی قول ہے کتا شکار سے کچھ کھا لے تو اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے اکثر علماء فرماتے ہیں اگر کتا اس سے کھائے تو اب اسے نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اس سے کھانے کی اجازت دی ہے اگرچہ کتے نے اس سے کھایا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۴،فِی مَنْ يَرْمِی الصَّيْدَ فَيَجِدُهُ مَيْتًا فِی الْمَاءِ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٧٠)
بے پر کے تیر کا شکار حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر سے شکار کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا جس کو اس کی دھار دار نوک سے مارو اسے کھاؤ اور جسے چوڑائی کی طرف سے مارو وہ مردار ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان، زکریا شعبی اور عدی بن خاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف، ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۵،مَا جَاءَ فِی صَيْدِ الْمِعْرَاضِ،جلد۱ص۷۳۶،حديث نمبر ١٤٧١)
سفید پتھر سے ذبح کرنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری قوم کے ایک شخص نے ایک یا دو خرگوش شکار کیے پھر ان کو سفید پتھر سے ذبح کر کے لٹکایا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو اس کے بارے میں حکم پوچھا آپ نے ان کے کھانے کی اجازت دے دی، اس باب میں محمد بن صفوان، رافع اور عدی بن حاتم سے بھی روایات مذکور ہیں، بعض علماء نے سفید پتھر سے ذبح کرنے کی اجازت دی ہے اور خرگوش کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھا یہ اکثر اہل علم کا قول ہے، بعض علماء نے خرگوش کا کھانا مکروہ کہا ہے شعبی کے شاگردوں نے اس حدیث کی روایت میں اختلاف کیا ہے داؤد بن، ابو ہند بواسطہ شعبی محمد بن صفوان سے روایت کرتے ہیں اور عاصم احوال بواسطہ شعبی صفوان بن محمد یا محمد بن صفوان سے روایت کرتے ہیں محمد بن صفوان زیادہ صحیح ہے جابر جعفی بواسطہ شعبی حضرت جابر بن عبداللہ سے قتادہ کی روایت کی مثل روایت کرتے ہیں ہو سکتا ہے شعبی نے ان تمام سے روایت کیا ہو محمد فرماتے ہیں۔ حضرت جابر سے شعبی کی روایت غیر محفوظ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۹۹۶،فِی الذِّبْحِ بِالْمَرْوَةَ،جلد۱ص۷۳۶،حديث نمبر ١٤٧٢)
نشانہ قائم کر کے مارے ہوئے جانور کا حکم حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے،، مجثمہ،، کے کھانے سے منع فرمایا اور یہ وہ جانور ہے جس کو کھڑا کر کے تیر کا نشانہ بنائیں۔ اس باب میں حضرت عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابو داؤد کی روایت غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٣)
ام حبیبہ بنت عرباض بن ساریہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر نوک دار دانتوں والے درندوں، ناخنوں والے پرندوں گھریلو پالتو گدھے کے گوشت ،،مجثمہ،، دوسرے سے اچکے ہوئے جانو کے کھانے اور نئی حاصل ہونے والی حاملہ لونڈی سے بچہ پیدا ہونے سے قبل جمع کرنے سے منع فرمایا۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں یہ قطعی ممانعت ہے ابو عاصم سے مجثمہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجثمہ یہ ہے کہ شکار یا کسی اور چیز کو کھڑا کر کے اس پر تیر انداز ی کی جائے۔ خلیسہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کسی درندے یا بھیڑیے سے کوئی جانور پکڑا جائے تو وہ ذبح کرنے سے پہلے ہی ہاتھ میں مر جائے یہ خلیسہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو پکڑ کر نشانہ بنانے سے منع فرمایا ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٥)
جانور کے پیٹ کے بچہ کا ذبح کرنا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاملہ جانور کا ذبح حمل کی ذبح کو بھی کفایت کرتا ہے، اس باب میں حضرت جابر، ابو امامہ، ابو درداء اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں اسی طریق کے علاوہ بھی حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ابو وداک کا نام جبر بن نوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۸،فی ذَكٰوةِ الْجَنِينِ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٦)
کچلی والا درندہ اور پنجوں والا پرندہ کھانا منع ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا۔ سعید بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے کہا سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو ادریس خولانی کا نام عائذ اللہ بن عبداللہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر گھریلو گدھے خچروں کے گوشت کچلی والے درندے اور پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، عرباض بن ساریہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث جابر حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والا درندہ حرام قرار دیا ہے یہ حدیث حسن ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٩)
زندہ جانوں سے گوشت کاٹنا حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو کیا دیکھا کہ وہاں کے لوگ زندہ اونٹوں کے کوہان اور زندہ دنبوں کی چکیاں کاٹتے ہیں آپ نے فرمایا زندہ جانور سے جو حصہ کاٹا جائے وہ مردار ہے۔ ابراہیم بن یعقوب نے بواسطہ ابو النضر عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف زید بن اسلم کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا اس پر عمل ہے ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۰،مَا جَاءَ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيَّ فَهُوَمَيِّتٌ،جلد۱ص۷۳۹،حديث نمبر ١٤٨٠)
حلق اور لبہ میں ذبح کرنا حضرت ابوالعشراء اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ذبح صرف حلق اور لبہ( سینے سے اوپر کی جگہ جہاں سے اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں) میں ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم ران میں بھی نیزہ مارو تو جائز ہے ،احمد بن منیع، یزید بن ہارون سے نقل کرتے ہیں کہ ضرورت کے وقت ایسا کر سکتے ہیں، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے پہچانتے ہیں بواسطہ ابوالعشراء ان کے والد سے ہم اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری روایت نہیں جانتے ابو العشراء کے نام میں اختلاف ہے بعض نے اسامہ بن قحطم بتایا ہے یسار بن برز بھی کہا جاتا ہے۔ ابن بلز اور عطارد بھی کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح،باب۱۰۰۱،فِي الذَّكٰوةِ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨١)
گرگٹ کو مارنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پہلی ضرب میں گرگٹ کو ہلاک کیا اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں اگر دوسری ضرب سے مارے تو اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں اگر تیسری وار سے مارے تو اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں، اس باب میں حضرت ابن مسعود، حضرت سعد ،عائشہ اور ام شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۲،فِی قَتْلِ الْوَزَغِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٢)
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سانپوں کو قتل کرو بالخصوص وہ سانپ جن پر گرگل کے پتوں جیسی نشان ہوں اور جن کی دم کٹی ہوئی ہو کیونکہ یہ آنکھوں کو اندھا کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، عائشہ، ابو ہریرہ، اور سہیل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے بواسطہ ابن عمر، ابولبابہ (رضی اللہ عنہم) سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے بعد گھر کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ان کو عوام( بڑی عمر والے) کہتے ہیں بواسطہ ابن عمر حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ان سانپوں کو مارنا مکروہ ہے جو پتلے ہوں چاندی کی طرح چمکتے اور چلنے میں بل نہ کھاتے ہوں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے گھروں میں عمار (سانپ) ہیں پس ان پر تین مرتبہ تنگی کرو (یعنی انہیں کہو تم تنگی میں ہو اگر دوبارہ آؤ گے تو ہم تم پر تنگی کریں گے پھر ہمیں ملامت نہ کرنا) اگر اس کے بعد ظاہر ہوں تو انہیں ہلاک کر دو عبید اللہ بن عمر نے بواسطہ صیفی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے مالک بن انس نے بواسطہ صیفی اور ابوالسائب مولیٰ ہشام بن زہرہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ انصاری نے بواسطہ کا معن ، مالک سے روایت کرتے ہوئے ہم سے یہ حدیث بیان کی عبید اللہ بن عمر کی روایت سے یہ اصح ہے محمد بن عجلان نے صیفی سے مالک کی روایت کی طرح نقل کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٤)
حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گھر میں سانپ نظر آئے تو اسے کہو ہم تمہیں نوح اور سلیمان بن داؤد (علیہم السلام) کے عہد کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں تکلیف نہ پہنچانا اس کے بعد بھی نہ نکلے تو اسے قتل کر دو، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے ثابت بنانی کی روایت سے صرف اسی طریق یعنی ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٨٥)
کتوں کو ہلاک کرنا حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کتے اور مخلوق کی طرح ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ان تمام کو ہلاک کر دینے کا حکم دیتا پس ان میں سے خالص سیاہ کتوں کو مار ڈالو، اس باب میں حضرت ابن عمر، جابر، ابو رافع اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے بعض احادیث میں مروی ہے خالص سیاہ کتا شیطان ہے اور یہ وہ کتا ہے جس میں بالکل سفیدی نہ ہو بعض علماء نے خالص سیاہ کتے کے شکار کردہ جانور کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۴،مَا جَافِی قَتْلِ الْكِلابِ،جلد۱ص۷۴۱،حديث نمبر ١٤٨٦)
کتا رکھنے والے کی نیکیوں میں کمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا حفاظت کرنے والے کتے کے علاوہ کتا پالا اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کے برابر کم کیا جاتا ہے ،اس باب میں حضرت عبداللہ بن مغفل، ابو ہریرہ، حضرت سفیان اور ابن ابی زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور جانوروں کی حفاظت والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم فرمایا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا حضرت ابوہریرہ تو کھیتی کی حفاظت والے کتے کی بھی استثناء کرتے ہیں حضرت ابن عمر نے فرمایا اس لیے کہ ان کی کھیتی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٨)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان لوگوں میں سے ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس سےدرخت کی شاخوں کو ہٹا رہےتھے اور آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اگر کتے اللہ تعالٰی کی مخلوق میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں ہلاک کرنے کا حکم دے دیتا ان میں سے خالص سیاہ کتوں کو ہلاک کر دو اور جتنے گھر والے کتوں کی پرورش کرتے ہیں ان کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے البتہ شکاری کتے یا کھیتی باڑی اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت ہے، یہ حدیث حسن ہے بواسطہ حسن اور عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت اور کھیتی باڑی کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے یہ حدیث صحیح ہے،عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے کہ انہوں نے کتا پالنے کی اجازت دی ہے اگرچہ کسی کے پاس ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ اسحٰاق بن منصور نے بواسطہ حجاج بن محمد اور ابن جریج عطاء سے ہمیں اس کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٩٠)
بانس وغیرہ سے ذبح کرنا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم دشمن سے ملتے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتی جانور کیسے ذبح کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو کھا لو جب تک دانت اور ناخن نہ ہوں عنقریب میں اس کے بارے میں تم سے بیان کروں گا دانت اس لیے کہ ہڈی ہیں اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ محمد بن بشار نے بواسطہ یحیٰی بن سعید سفیان ثوری سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بواسطہ عبایہ بن رفاعہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی اس میں عبایہ کے بعد ان کے والد کا ذکر نہیں یہ اصح ہیں عبایہ کو رافع سے سماع حاصل ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ ہڈی اور دانت سے ذبح کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۶،فِی الذَّ كَاةِ بِالْقَصَبِ وَغَيْرِهٖ،جلد۱ص۷۴۳،حديث نمبر ١٤٩١)
بدکے ہوئے جانور کو مارنا حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے قوم کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک گیا۔ ان کے پاس گھوڑا نہیں تھا ایک آدمی نے تیر پھینکا تو اللہ تعالٰی نے اسے روک دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان چوپایوں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح وحشی پن ہوتا ہیں پس جو جانور اس طرح کرے تو تم بھی ایسا ہی کیا کرو۔ محمد بن غیلان نے بواسطہ وکیع سفیان، ان کے والد عبایہ بن رفاعہ اور ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں عبایہ کے بعد ان کے والد کا واسطہ مذکور نہیں یہ زیادہ صحیح ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے شعبہ نے بواسطہ سعید بن مسروق سفیان کی روایت سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۷،مَا جَاءَ فِی الْبَعِيرِ إِذَ نَدَّ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٢)
Tirmizi Shareef : Abwabus Saidi Waz Zabayihi
|
Tirmizi Shareef : ابواب الصید والذبائح
|
•