asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabus Saidi Waz Zabayihi

From 1464 to 1492

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

کتے کے شکار کردہ جانور کو کھانے کے احکامات حضرت عائذاللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے ابو ثعلبہ خشنی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم شکاری لوگ ہیں آپ نے فرمایا جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو پس وہ تمہارے لیے شکار کو پکڑ رکھے تو اسے کھاؤ میں نے عرض کیا اگرچہ مار ڈالے فرمایا اگرچہ مار ڈالے میں نے عرض کیا ہم تیر انداز ہیں آپ نے فرمایا تمہاری کمان میں جو چیز تمہاری طرف لوٹائے اسے کھاؤ میں نے عرض کیا ہم سفر والے ہیں یہود و نصاری اور مجوسیوں کے پاس سے گزرتے ہیں ان کے برتنوں کے علاوہ ہمیں کوئی برتن نہیں ملتا تو کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اگر اور برتن نہ پاؤ تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں کھاؤ اور پیو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں، یہ حدیث حسن ہے اور عائذ اللہ سے ابو ادریس خولانی مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۰،مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لَا يُؤْكَلُ،جلد۱ص۷۳۳،حديث نمبر ١٤٦٤)

باب مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لاَ يُؤْكَلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ. ح وَالْحَجَّاجُ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ , قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ , وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ , فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ " , قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ , قَالَ: " وَإِنْ قَتَلَ " , قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ: " مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ " , قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ , وَالنَّصَارَى , وَالْمَجُوسِ , فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ , قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا , فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ , ثُمَّ كُلُوا فِيهَا , وَاشْرَبُوا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَعَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ: أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , وَاسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: جُرْثُومٌ , وَيُقَالُ: جُرْثُمُ بْنُ نَاشِبٍ , وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1464

حضرت علی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے سدھاۓ کتوں کو شکار پر چھوڑتے ہیں آپ نے فرمایا جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگرچہ مار ڈالیں؟ فرمایا اگرچہ مار ڈالیں جب تک کوئی دوسرا کتا اس کے ساتھ شریک نہ ہو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم بغیر پر کے تیر پھینکتے ہیں (اس کا کیا حکم ہے ) آپ نے فرمایا جسے وہ پھاڑ دے کھاؤ اور جسے چوڑائی کی طرف سے لگے اسے نہ کھاؤ۔ محمد بن یحییٰ نے بواسطہ محمد بن یوسف اور سفیان منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی البتہ اتنا اضافہ ہے کہ آپ سے تیر کے بارے میں پوچھا گیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۰،مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لَا يُؤْكَلُ،جلد۱ص۷۳۳،حديث نمبر ١٤٦٥)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابًا لَنَا مُعَلَّمَةً , قَالَ: " كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنْ قَتَلْنَ , قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ , مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا " , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ , قَالَ: " مَا خَزَقَ فَكُلْ , وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْمِعْرَاضِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1465

مجوسی کے کتے کا شکار کردہ جانور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجوسی کے کتے کے شکار سے روکا گیا ہے یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں اکثر علماء کا اس پر عمل ہے اور مجوسی کے کتے کا شکار کھانے کی اجازت نہیں دیتے قاسم بن ابو بزہ سے قاسم بن نافع مکی مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۱،مَا جَاءَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِی،جلد۱ص۷۳۴،حديث نمبر ١٤٦٦)

باب مَا جَاءَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ , وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ: الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1466

باز کا شکار کیا ہوا جانور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا جو کچھ وہ تمہارے لیے پکڑ رکھے اسے کھا لو اس حدیث کو ہم صرف بواسطہ مجاہد شعبی کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ باز اور شکرے کے شکار کردہ جانور کو کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے مجاہد فرماتے ہیں باز وہ پرندہ ہیں۔ جس سے شکار کرتے ہیں یہ ان جوارح میں سے ہے ان کے بارے میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے اور جن جوارح تو تم کھاؤ اس سے وہ کتے اور پرندے مراد ہیں جن کے ساتھ شکار کیا جاتا ہے بعض اہل علم نے شکار کردہ جانور میں سے کچھ کھا جانے کی صورت میں بھی باز کا شکار جائز رکھا ہے وہ فرماتے ہیں باز کا کھانا یہ ہے کہ وہ جواب دے بعض علماء نے اس صورت میں شکار کو مکروہ کہا ہے اکثر فقہاء فرماتے ہیں باز کا شکار کھائے اگرچہ وہ اس میں سے کچھ کھا لے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۲،فِی صَيْدِ الْبُزَاةِ،جلد۱ص۷۳۴،حديث نمبر ١٤٦٧)

باب مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْبُزَاةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَهَنَّادٌ , وَأَبُو عَمَّارٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْبَازِي , فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يَرَوْنَ بِصَيْدِ الْبُزَاةِ وَالصُّقُورِ بَأْسًا , وقَالَ مُجَاهِدٌ: الْبُزَاةُ هُوَ: الطَّيْرُ الَّذِي يُصَادُ بِهِ مِنَ الْجَوَارِحِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ سورة المائدة آية 4 فَسَّرَ الْكِلَابَ وَالطَّيْرَ الَّذِي يُصَادُ بِهِ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي صَيْدِ الْبَازِي , وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ , وَقَالُوا: إِنَّمَا تَعْلِيمُهُ إِجَابَتُهُ , وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ , وَالْفُقَهَاءُ أَكْثَرُهُمْ قَالُوا: يَأْكُلُ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1467

تیر لگے ہوئے شکار کا غائب ہو جانا حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں شکار پر تیر پھینکتا ہوں دوسرے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے تیر نے اسے مارا ہے اور تم اس میں کسی درندے کا نشان نہ دیکھو تو اسے کھا لو یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے شعبہ نے یہ حدیث ابو بشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے بواسطہ سعید بن جبیر حضرت عدی بن حاتم سے روایت کی دونوں روایتیں صحیح ہیں اس باب میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۳،فِی الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٦٨)

باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ سَهْمِي , قَالَ: " إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ مِثْلَهُ , وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ , وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1468

تیر لگے ہوئے شکار کا پانی میں گرنا حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا جب تیر پھینکو تو بسم اللہ پڑھ لیا کرو اگر اسے مرا ہوا پاؤ تو کھا لو البتہ اگر اس حالت میں پاؤ کے وہ پانی میں گر گیا ہے تو نہ کھاؤ کیونکہ نامعلوم اسے پانی نے مارا ہے یا تمہاری تیر نے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۴،فِی مَنْ يَرْمِی الصَّيْدَ فَيَجِدُهُ مَيْتًا فِی الْمَاءِ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٦٩)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا فِي الْمَاءِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ , فَقَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْ , إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ , فَلَا تَأْكُلْ , فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1469

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سدھا ہوئے کتے کے شکار کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا جب بسم اللہ پڑھ کر اپنا سدھا ہوا کتا شکار پر چھوڑو تو جو کچھ تمہارے لیے اٹھا لائے اسے کھاؤ اور اگر اس نے کھایا ہو تو اب نہ کھاؤ۔ کیونکہ اس نے اپنے لیے اٹھا رکھا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ہمارے کتے دوسرے کتوں سے مخلوط ہو جائیں تو کیا حکم ہے فرمایا تو نے اپنے کتوں پر بسم اللہ پڑھی ہے دوسروں کے کتوں پر تو نہیں سفیان ثوری فرماتے ہیں اس کا کھانا مکروہ ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔کہ جب شکار اور ذبیحہ پانی میں گر جائے تو نہ کھایا جائے بعض علماء ذبیحہ کے بارے میں فرماتے ہیں حلقوم کٹنے کے بعد پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو اسے کھایا جائے ابن مبارک کا یہی قول ہے کتا شکار سے کچھ کھا لے تو اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے اکثر علماء فرماتے ہیں اگر کتا اس سے کھائے تو اب اسے نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اس سے کھانے کی اجازت دی ہے اگرچہ کتے نے اس سے کھایا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۴،فِی مَنْ يَرْمِی الصَّيْدَ فَيَجِدُهُ مَيْتًا فِی الْمَاءِ،جلد۱ص۷۳۵،حديث نمبر ١٤٧٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْكَلْبِ يَأْكُلُ مِنَ الصَّيْدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ , قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ , وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ , فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ , فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَتْ كِلَابَنَا كِلَابٌ أُخَرُ , قَالَ: " إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ , وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ " , قَالَ سُفْيَانُ: أَكْرَهُ لَهُ أَكْلَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , فِي الصَّيْدِ وَالذَّبِيحَةِ , إِذَا وَقَعَا فِي الْمَاءِ أَنْ لَا يَأْكُلَ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الذَّبِيحَةِ: إِذَا قُطِعَ الْحُلْقُومُ , فَوَقَعَ فِي الْمَاءِ فَمَاتَ فِيهِ , فَإِنَّهُ يُؤْكَلُ , وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْكَلْبِ إِذَا أَكَلَ مِنَ الصَّيْدِ , فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , فِي الْأَكْلِ مِنْهُ , وَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ مِنْهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1470

بے پر کے تیر کا شکار حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر سے شکار کا حکم پوچھا آپ نے فرمایا جس کو اس کی دھار دار نوک سے مارو اسے کھاؤ اور جسے چوڑائی کی طرف سے مارو وہ مردار ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان، زکریا شعبی اور عدی بن خاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث صحیح ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف، ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۵،مَا جَاءَ فِی صَيْدِ الْمِعْرَاضِ،جلد۱ص۷۳۶،حديث نمبر ١٤٧١)

باب مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْمِعْرَاضِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ , فَقَالَ: " مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ , وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ " , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1471

سفید پتھر سے ذبح کرنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری قوم کے ایک شخص نے ایک یا دو خرگوش شکار کیے پھر ان کو سفید پتھر سے ذبح کر کے لٹکایا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو اس کے بارے میں حکم پوچھا آپ نے ان کے کھانے کی اجازت دے دی، اس باب میں محمد بن صفوان، رافع اور عدی بن حاتم سے بھی روایات مذکور ہیں، بعض علماء نے سفید پتھر سے ذبح کرنے کی اجازت دی ہے اور خرگوش کھانے میں کچھ حرج نہیں سمجھا یہ اکثر اہل علم کا قول ہے، بعض علماء نے خرگوش کا کھانا مکروہ کہا ہے شعبی کے شاگردوں نے اس حدیث کی روایت میں اختلاف کیا ہے داؤد بن، ابو ہند بواسطہ شعبی محمد بن صفوان سے روایت کرتے ہیں اور عاصم احوال بواسطہ شعبی صفوان بن محمد یا محمد بن صفوان سے روایت کرتے ہیں محمد بن صفوان زیادہ صحیح ہے جابر جعفی بواسطہ شعبی حضرت جابر بن عبداللہ سے قتادہ کی روایت کی مثل روایت کرتے ہیں ہو سکتا ہے شعبی نے ان تمام سے روایت کیا ہو محمد فرماتے ہیں۔ حضرت جابر سے شعبی کی روایت غیر محفوظ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۹۹۶،فِی الذِّبْحِ بِالْمَرْوَةَ،جلد۱ص۷۳۶،حديث نمبر ١٤٧٢)

باب مَا جَاءَ فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ صَادَ أَرْنَبًا أَوِ اثْنَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ , فَعَلَّقَهُمَا حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَرَافِعٍ , وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُذَكِّيَ بِمَرْوَةٍ , وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا , وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُهُمْ أَكْلَ الْأَرْنَبِ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ الشَّعْبِيِّ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ , فَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَرَوَى عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَفْوَانَ أَصَحُّ , وَرَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , وَيُحْتَمَلُ أَنَّ رِوَايَةَ الشَّعْبِيِّ عَنْهُمَا , قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدِيثُ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , غَيْرُ مَحْفُوظٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1472

نشانہ قائم کر کے مارے ہوئے جانور کا حکم حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے،، مجثمہ،، کے کھانے سے منع فرمایا اور یہ وہ جانور ہے جس کو کھڑا کر کے تیر کا نشانہ بنائیں۔ اس باب میں حضرت عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابو داؤد کی روایت غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٣)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الْمَصْبُورَةِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ: وَهِيَ الَّتِي تُصْبَرُ بِالنَّبْلِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ , وَأَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1473

ام حبیبہ بنت عرباض بن ساریہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر نوک دار دانتوں والے درندوں، ناخنوں والے پرندوں گھریلو پالتو گدھے کے گوشت ،،مجثمہ،، دوسرے سے اچکے ہوئے جانو کے کھانے اور نئی حاصل ہونے والی حاملہ لونڈی سے بچہ پیدا ہونے سے قبل جمع کرنے سے منع فرمایا۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں یہ قطعی ممانعت ہے ابو عاصم سے مجثمہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجثمہ یہ ہے کہ شکار یا کسی اور چیز کو کھڑا کر کے اس پر تیر انداز ی کی جائے۔ خلیسہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کسی درندے یا بھیڑیے سے کوئی جانور پکڑا جائے تو وہ ذبح کرنے سے پہلے ہی ہاتھ میں مر جائے یہ خلیسہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , غَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَهْبٍ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَاريةَ، عَنْ أَبِيهَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ , وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ , وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ , وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ , وَعَنِ الْخَلِيسَةِ , وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ " , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سُئِلَ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ , قَالَ: أَنْ يُنْصَبَ الطَّيْرُ , أَوِ الشَّيْءُ فَيُرْمَى , وَسُئِلَ عَنِ الْخَلِيسَةِ , فَقَالَ: الذِّئْبُ , أَو السَّبُعُ يُدْرِكُهُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهُ مِنْهُ فَيَمُوتُ فِي يَدِهِ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1474

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو پکڑ کر نشانہ بنانے سے منع فرمایا ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۷)مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَکْلِ الْمَصْبُورَةِ،جلد۱ص۷۳۷،حديث نمبر ١٤٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1475

جانور کے پیٹ کے بچہ کا ذبح کرنا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاملہ جانور کا ذبح حمل کی ذبح کو بھی کفایت کرتا ہے، اس باب میں حضرت جابر، ابو امامہ، ابو درداء اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں اسی طریق کے علاوہ بھی حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ابو وداک کا نام جبر بن نوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۸،فی ذَكٰوةِ الْجَنِينِ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٦)

باب مَا جَاءَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مُجَالِدٍ. ح قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ جَابِرٍ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَأَبُو الْوَدَّاكِ اسْمُهُ: جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1476

کچلی والا درندہ اور پنجوں والا پرندہ کھانا منع ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا۔ سعید بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے کہا سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو ادریس خولانی کا نام عائذ اللہ بن عبداللہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٧)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِي مِخْلَبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ: عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1477

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر گھریلو گدھے خچروں کے گوشت کچلی والے درندے اور پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، عرباض بن ساریہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث جابر حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٨)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: يَوْمَ خَيْبَرَ , الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ , وَلُحُومَ الْبِغَالِ , وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ , وَذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ وقَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1478

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والا درندہ حرام قرار دیا ہے یہ حدیث حسن ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۹۹۹،في كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِىْ مِخْلَبٍ،جلد۱ص۷۳۸،حديث نمبر ١٤٧٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1479

زندہ جانوں سے گوشت کاٹنا حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو کیا دیکھا کہ وہاں کے لوگ زندہ اونٹوں کے کوہان اور زندہ دنبوں کی چکیاں کاٹتے ہیں آپ نے فرمایا زندہ جانور سے جو حصہ کاٹا جائے وہ مردار ہے۔ ابراہیم بن یعقوب نے بواسطہ ابو النضر عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف زید بن اسلم کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا اس پر عمل ہے ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۰،مَا جَاءَ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيَّ فَهُوَمَيِّتٌ،جلد۱ص۷۳۹،حديث نمبر ١٤٨٠)

باب مَا قُطِعَ مِنَ الْحَىِّ فَهُوَ مَيِّتٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ , وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ , فَقَالَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ " , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ: الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1480

حلق اور لبہ میں ذبح کرنا حضرت ابوالعشراء اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ذبح صرف حلق اور لبہ( سینے سے اوپر کی جگہ جہاں سے اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں) میں ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم ران میں بھی نیزہ مارو تو جائز ہے ،احمد بن منیع، یزید بن ہارون سے نقل کرتے ہیں کہ ضرورت کے وقت ایسا کر سکتے ہیں، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے پہچانتے ہیں بواسطہ ابوالعشراء ان کے والد سے ہم اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری روایت نہیں جانتے ابو العشراء کے نام میں اختلاف ہے بعض نے اسامہ بن قحطم بتایا ہے یسار بن برز بھی کہا جاتا ہے۔ ابن بلز اور عطارد بھی کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح،باب۱۰۰۱،فِي الذَّكٰوةِ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨١)

باب مَا جَاءَ فِي الذَّكَاةِ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ , قَالَ: " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ " , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: هَذَا فِي الضَّرُورَةِ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي الْعُشَرَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ , وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي الْعُشَرَاءِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اسْمُهُ أُسَامَةُ بْنُ قِهْطِمٍ , وَيُقَالُ: اسْمُهُ يَسَارُ بْنُ بَرْزٍ , وَيُقَالُ: ابْنُ بَلْزٍ وَيُقَالُ: اسْمُهُ عُطَارِدٌ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1481

گرگٹ کو مارنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے پہلی ضرب میں گرگٹ کو ہلاک کیا اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں اگر دوسری ضرب سے مارے تو اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں اگر تیسری وار سے مارے تو اس کے لیے ایسی ایسی نیکیاں ہیں، اس باب میں حضرت ابن مسعود، حضرت سعد ،عائشہ اور ام شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۲،فِی قَتْلِ الْوَزَغِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٢)

باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْوَزَغِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً بِالضَّرْبَةِ الْأُولَى , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً , فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً , فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَسَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ شَرِيكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1482

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سانپوں کو قتل کرو بالخصوص وہ سانپ جن پر گرگل کے پتوں جیسی نشان ہوں اور جن کی دم کٹی ہوئی ہو کیونکہ یہ آنکھوں کو اندھا کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں، اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، عائشہ، ابو ہریرہ، اور سہیل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے بواسطہ ابن عمر، ابولبابہ (رضی اللہ عنہم) سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے بعد گھر کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ان کو عوام( بڑی عمر والے) کہتے ہیں بواسطہ ابن عمر حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ان سانپوں کو مارنا مکروہ ہے جو پتلے ہوں چاندی کی طرح چمکتے اور چلنے میں بل نہ کھاتے ہوں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٣)

باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحُبْلَى " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَعَائِشَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِي لُبَابَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ حَياتِ الْبُيُوتِ وَهِيَ: الْعَوَامِرُ " , وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا , وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنَّمَا يُكْرَهُ مِنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ قَتْلُ الْحَيَّةِ الَّتِي تَكُونُ دَقِيقَةً , كَأَنَّهَا فِضَّةٌ , وَلَا تَلْتَوِي فِي مِشْيَتِهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1483

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے گھروں میں عمار (سانپ) ہیں پس ان پر تین مرتبہ تنگی کرو (یعنی انہیں کہو تم تنگی میں ہو اگر دوبارہ آؤ گے تو ہم تم پر تنگی کریں گے پھر ہمیں ملامت نہ کرنا) اگر اس کے بعد ظاہر ہوں تو انہیں ہلاک کر دو عبید اللہ بن عمر نے بواسطہ صیفی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے مالک بن انس نے بواسطہ صیفی اور ابوالسائب مولیٰ ہشام بن زہرہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ انصاری نے بواسطہ کا معن ، مالک سے روایت کرتے ہوئے ہم سے یہ حدیث بیان کی عبید اللہ بن عمر کی روایت سے یہ اصح ہے محمد بن عجلان نے صیفی سے مالک کی روایت کی طرح نقل کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۴۰،حديث نمبر ١٤٨٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ صَيْفِيٍّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِبُيُوتِكُمْ عُمَّارًا , فَحَرِّجُوا عَلَيْهِنَّ ثَلَاثًا , فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ صَيْفِيٍّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ صَيْفِيٍّ , عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر , وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ صَيْفِيٍّ , نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1484

حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گھر میں سانپ نظر آئے تو اسے کہو ہم تمہیں نوح اور سلیمان بن داؤد (علیہم السلام) کے عہد کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں تکلیف نہ پہنچانا اس کے بعد بھی نہ نکلے تو اسے قتل کر دو، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے ثابت بنانی کی روایت سے صرف اسی طریق یعنی ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۳،فِی قَتْلِ الْحَيَّاتِ،جلد۱ص۷۳۰،حديث نمبر ١٤٨٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ: قَالَ أَبُو لَيْلَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ظَهَرَتِ الْحَيَّةُ فِي الْمَسْكَنِ , فَقُولُوا لَهَا: إِنَّا نَسْأَلُكِ بِعَهْدِ نُوحٍ , وَبِعَهْدِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ , أَنْ لَا تُؤْذِيَنَا , فَإِنْ عَادَتْ فَاقْتُلُوهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1485

کتوں کو ہلاک کرنا حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کتے اور مخلوق کی طرح ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ان تمام کو ہلاک کر دینے کا حکم دیتا پس ان میں سے خالص سیاہ کتوں کو مار ڈالو، اس باب میں حضرت ابن عمر، جابر، ابو رافع اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے بعض احادیث میں مروی ہے خالص سیاہ کتا شیطان ہے اور یہ وہ کتا ہے جس میں بالکل سفیدی نہ ہو بعض علماء نے خالص سیاہ کتے کے شکار کردہ جانور کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۴،مَا جَافِی قَتْلِ الْكِلابِ،جلد۱ص۷۴۱،حديث نمبر ١٤٨٦)

باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْكِلاَبِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ , وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا , فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي رَافِعٍ , وَأَبِي أَيُّوبَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ شَيْطَانٌ , وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ الَّذِي لَا يَكُونُ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْبَيَاضِ , وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَيْدَ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1486

کتا رکھنے والے کی نیکیوں میں کمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا حفاظت کرنے والے کتے کے علاوہ کتا پالا اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کے برابر کم کیا جاتا ہے ،اس باب میں حضرت عبداللہ بن مغفل، ابو ہریرہ، حضرت سفیان اور ابن ابی زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٧)

باب مَا جَاءَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ , وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ , نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1487

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور جانوروں کی حفاظت والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم فرمایا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا حضرت ابوہریرہ تو کھیتی کی حفاظت والے کتے کی بھی استثناء کرتے ہیں حضرت ابن عمر نے فرمایا اس لیے کہ ان کی کھیتی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب الشکار،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ , إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ , أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ " , قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ , فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَهُ زَرْعٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1488

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان لوگوں میں سے ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس سےدرخت کی شاخوں کو ہٹا رہےتھے اور آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اگر کتے اللہ تعالٰی کی مخلوق میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں ہلاک کرنے کا حکم دے دیتا ان میں سے خالص سیاہ کتوں کو ہلاک کر دو اور جتنے گھر والے کتوں کی پرورش کرتے ہیں ان کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے البتہ شکاری کتے یا کھیتی باڑی اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت ہے، یہ حدیث حسن ہے بواسطہ حسن اور عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٨٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , قَالَ: إِنِّي لَمِمَّنْ يَرْفَعُ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ , لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا , فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ , وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا , إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ , إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ , أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ , أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1489

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت اور کھیتی باڑی کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے یہ حدیث صحیح ہے،عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے کہ انہوں نے کتا پالنے کی اجازت دی ہے اگرچہ کسی کے پاس ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ اسحٰاق بن منصور نے بواسطہ حجاج بن محمد اور ابن جریج عطاء سے ہمیں اس کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۵،مَن أَمْسَكَ كَلَبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ اَجْرِہٖ،جلد۱ص۷۴۲،حديث نمبر ١٤٩٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا , إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ , أَوْ صَيْدٍ , أَوْ زَرْعٍ , انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّهُ رَخَّصَ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ , وَإِنْ كَانَ لِلرَّجُلِ شَاةٌ وَاحِدَةٌ , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ بِهَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1490

بانس وغیرہ سے ذبح کرنا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم دشمن سے ملتے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتی جانور کیسے ذبح کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو کھا لو جب تک دانت اور ناخن نہ ہوں عنقریب میں اس کے بارے میں تم سے بیان کروں گا دانت اس لیے کہ ہڈی ہیں اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ محمد بن بشار نے بواسطہ یحیٰی بن سعید سفیان ثوری سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بواسطہ عبایہ بن رفاعہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی اس میں عبایہ کے بعد ان کے والد کا ذکر نہیں یہ اصح ہیں عبایہ کو رافع سے سماع حاصل ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ ہڈی اور دانت سے ذبح کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۶،فِی الذَّ كَاةِ بِالْقَصَبِ وَغَيْرِهٖ،جلد۱ص۷۴۳،حديث نمبر ١٤٩١)

باب مَا جَاءَ فِي الذَّكَاةِ بِالْقَصَبِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا , وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ , مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا , أَوْ ظُفُرًا , وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ , وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ , عَنْ أَبِيهِ , وَهَذَا أَصَحُّ , وَعَبَايَةُ , قَدْ سَمِعَ مِنْ رَافِعٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يَرَوْنَ أَنْ يُذَكَّى بِسِنٍّ , وَلَا بِعَظْمٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1491

بدکے ہوئے جانور کو مارنا حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے قوم کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک گیا۔ ان کے پاس گھوڑا نہیں تھا ایک آدمی نے تیر پھینکا تو اللہ تعالٰی نے اسے روک دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان چوپایوں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح وحشی پن ہوتا ہیں پس جو جانور اس طرح کرے تو تم بھی ایسا ہی کیا کرو۔ محمد بن غیلان نے بواسطہ وکیع سفیان، ان کے والد عبایہ بن رفاعہ اور ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں عبایہ کے بعد ان کے والد کا واسطہ مذکور نہیں یہ زیادہ صحیح ہے اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے شعبہ نے بواسطہ سعید بن مسروق سفیان کی روایت سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الصید والذبائح ،باب۱۰۰۷،مَا جَاءَ فِی الْبَعِيرِ إِذَ نَدَّ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْبَعِيرِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ إِذَا نَدَّ فَصَارَ وَحْشِيًّا يُرْمَى بِسَهْمٍ أَمْ لاَ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ , وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ , فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ , فَحَبَسَهُ اللَّهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ , فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا "، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ , عَنْ أَبِيهِ , وَهَذَا أَصَحُّ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Saidi Waz Zabayihi , Hadees No. 1492

Tirmizi Shareef : Abwabus Saidi Waz Zabayihi

|

Tirmizi Shareef : ابواب الصید والذبائح

|

•