
قربانی کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالٰی کے ہاں انسان کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے ،پس دل کی خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو، اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہشام بن عروہ کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو المثنٰی کا نام سلیمان بن یزید ہے ابن ابی فدیک ان سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے بارے میں فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے نیکی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ ہر سینگ کے بدلے نیکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۰۸،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٣)
دو مینڈہوں کی قربانی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہی مائل سفید دو مینڈھے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے بسم اللہ پڑھ کر تکبیر کہی اور ان کی گردن پر اپنا پاؤں مبارک رکھا، اس باب میں حضرت علی، عائشہ ،ابوہریرہ ،جابر، ابو ایوب ابو درداء، ابو رافع ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٤)
حضرت حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے پس میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف شریک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ میت کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک میت کی طرف سے صدقہ دینا زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے اور اگر کرے تو اس سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ تمام کا تمام صدقہ کر دے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٥)
کس جانور کی قربانی مستحب ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے موٹے تازے نر دنبے کی قربانی دی۔ وہ سیاہی میں کھاتا سیاہی میں چلتا اور سیاہی میں دکھتا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف حفص بن غیاث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۰،مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَضَاحِى،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٦)
کس جانور کی قربانی ناجائز ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو نہ اس کانے جانور کی جس کا کانا پن ظاہر ہو اور نہ اس بیمار جانور کی قربانی کی جائے جس کی بیماری ظاہر ہو اور نہ ایسے دبلے پتلے کی جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ ھناد نے بواسطہ ابن ابی زائدہ، شعبہ، سلیمان بن عبدالرحمٰن عبید بن فیروز اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف بواسطہ عبید بن فیروز حضرت براء بن عازب کی روایت سے جانتے ہیں علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۱،مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٧)
کس جانور کی قربانی مکروہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کے کان آگے یا پیچھے سے کٹے ہوئے ہوں یا پھٹے ہوئے ہوں یا ان میں سوراخ ہو۔ حسن بن علی نے بواسطہ عبید اللہ بن موسیٰ، اسرائیل، ابو اسحٰاق، شریح بن نعمان اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی لیکن اس میں اضافہ یہ ہے آپ نے فرمایا مقابلہ وہ ہے جس کا کان کنارے سے کٹا ہوا ہو۔ مدابرہ وہ ہے جس کے کان کو پچھلی طرف سے کاٹا گیا ہو شرقاء وہ ہے جس کا کان پھٹا ہوا ہو اور حرقاء وہ ہے جس کے کان میں سوراخ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے شریح بن نعمان صائدی کوفی ہیں اور شریح بن حارث کندی کوفی ہیں اور قاضی ہیں ابو امیہ ان کی کنیت ہے۔ شریح بن ہانی کوفی ہیں اور ہانی کو شرف صحبت حاصل ہے یہ تمام ہم عصر ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۲،مَا يَكْرَهُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٨)
چھ مہینے کی بھیڑ کی قربانی حضرت ابو کباش فرماتے ہیں میں چھ ماہی بھیڑیں بغرض تجارت مدینہ طیبہ لایا وہ کسادبازاری کا شکار ہو گئیں۔ پھر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا چھ مہینے کی بھیڑ (مینڈھا جو اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال کا نظر آتا ہو) کی قربانی اچھی ہے ابو کباش کہتے ہیں (یہ سن کر) لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا، اس باب میں حضرت ابن عباس ،ام بلال، بنت ہلال، بلال، جابر ،عقبہ بن عامر، اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ غریب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے کہ چھ ماہی مینڈھے کی قربانی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٤٩٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ آپ کے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ تقسیم کے بعد ایک چھ یا سات ماہ کا بچہ رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ وکیع فرماتے ہیں جذعہ چھ یا سات ماہ کا ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس طریق کے علاوہ بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ایک جذعہ باقی رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ ہم سے یہ حدیث محمد بن بشار نے یزید بن ہارون اور ابو داؤد سے بیان کی۔ یہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے ہشام بن دستوائی نے بواسطہ یحیٰی بن کثیر،بعجہ بن عبداللہ بن بدر اور عقبہ بن عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٥٠٠)
Tirmizi Shareef : Abwabul Adahiyya
|
Tirmizi Shareef : ابواب الاضاحی
|
•