asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Adahiyya

From 1493 to 1500

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

قربانی کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ تعالٰی کے ہاں انسان کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے ،پس دل کی خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو، اس باب میں حضرت عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہشام بن عروہ کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ابو المثنٰی کا نام سلیمان بن یزید ہے ابن ابی فدیک ان سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے قربانی کے بارے میں فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے نیکی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ ہر سینگ کے بدلے نیکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۰۸،مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَضْحِيَةِ،جلد۱ص۷۴۴،حديث نمبر ١٤٩٣)

باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأُضْحِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ , وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فِي الْأُضْحِيَّةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " , وَيُرْوَى بِقُرُونِهَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1493

دو مینڈہوں کی قربانی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہی مائل سفید دو مینڈھے اپنے دست مبارک سے ذبح کیے بسم اللہ پڑھ کر تکبیر کہی اور ان کی گردن پر اپنا پاؤں مبارک رکھا، اس باب میں حضرت علی، عائشہ ،ابوہریرہ ،جابر، ابو ایوب ابو درداء، ابو رافع ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٤)

باب مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ , ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ , وَسَمَّى , وَكَبَّرَ , وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبِي رَافِعٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي بَكْرَةَ أَيْضًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1494

حضرت حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دو مینڈھوں کی قربانی دیا کرتے تھے ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے پس میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف شریک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ میت کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک میت کی طرف سے صدقہ دینا زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے اور اگر کرے تو اس سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ تمام کا تمام صدقہ کر دے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۰۹،فِی الْأَضْحِيَةِ بِكَبْشَيْنِ،جلد۱ص۷۴۵،حديث نمبر ١٤٩٥)

باب مَا جَاءَ فِي الأُضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ حَنَشٍ , عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ , أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ " , فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَمَرَنِي بِهِ يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُضَحَّى عَنِ الْمَيِّتِ , وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُضَحَّى عَنْهُ , وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: " أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُتَصَدَّقَ عَنْهُ , وَلَا يُضَحَّى عَنْهُ , وَإِنْ ضَحَّى , فَلَا يَأْكُلُ مِنْهَا شَيْئًا , وَيَتَصَدَّقُ بِهَا كُلِّهَا " , قَالَ مُحَمَّدٌ , قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ , قُلْتُ لَهُ: أَبُو الْحَسْنَاءِ مَا اسْمُهُ , فَلَمْ يَعْرِفْهُ , قَالَ مُسْلِمٌ اسْمُهُ: الْحَسَنُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1495

کس جانور کی قربانی مستحب ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے موٹے تازے نر دنبے کی قربانی دی۔ وہ سیاہی میں کھاتا سیاہی میں چلتا اور سیاہی میں دکھتا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف حفص بن غیاث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۰،مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَضَاحِى،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٦)

باب مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ , فَحِيلٍ يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ , وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ , وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1496

کس جانور کی قربانی ناجائز ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو نہ اس کانے جانور کی جس کا کانا پن ظاہر ہو اور نہ اس بیمار جانور کی قربانی کی جائے جس کی بیماری ظاہر ہو اور نہ ایسے دبلے پتلے کی جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ ھناد نے بواسطہ ابن ابی زائدہ، شعبہ، سلیمان بن عبدالرحمٰن عبید بن فیروز اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ہم اسے صرف بواسطہ عبید بن فیروز حضرت براء بن عازب کی روایت سے جانتے ہیں علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۱،مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٧)

باب مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , رَفَعَهُ , قَالَ: " لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا , وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا , وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا , وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي " , حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ , عَنْ الْبَرَاءِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1497

کس جانور کی قربانی مکروہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کے کان آگے یا پیچھے سے کٹے ہوئے ہوں یا پھٹے ہوئے ہوں یا ان میں سوراخ ہو۔ حسن بن علی نے بواسطہ عبید اللہ بن موسیٰ، اسرائیل، ابو اسحٰاق، شریح بن نعمان اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی لیکن اس میں اضافہ یہ ہے آپ نے فرمایا مقابلہ وہ ہے جس کا کان کنارے سے کٹا ہوا ہو۔ مدابرہ وہ ہے جس کے کان کو پچھلی طرف سے کاٹا گیا ہو شرقاء وہ ہے جس کا کان پھٹا ہوا ہو اور حرقاء وہ ہے جس کے کان میں سوراخ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے شریح بن نعمان صائدی کوفی ہیں اور شریح بن حارث کندی کوفی ہیں اور قاضی ہیں ابو امیہ ان کی کنیت ہے۔ شریح بن ہانی کوفی ہیں اور ہانی کو شرف صحبت حاصل ہے یہ تمام ہم عصر ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی ،باب۱۰۱۲،مَا يَكْرَهُ مِنَ الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۶،حديث نمبر ١٤٩٨)

باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَضَاحِي حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ وَهُوَ الْهَمْدَانِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ , وَالْأُذُنَ , وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ , وَلَا مُدَابَرَةٍ , وَلَا شَرْقَاءَ , وَلَا خَرْقَاءَ " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَلِيٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , وَزَادَ , قَالَ: " الْمُقَابَلَةُ: مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا , وَالْمُدَابَرَةُ: مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ , وَالشَّرْقَاءُ: الْمَشْقُوقَةُ , وَالْخَرْقَاءُ: الْمَثْقُوبَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى , وَشُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ كُوفِيٌّ وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , وَشُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ الْكِنْدِيُّ أَبُو أُمَيَّةَ الْقَاضِي , قَدْ رَوَى عَنْ عَلِيٍّ , وَكُلُّهُمْ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ , قَوْلُهُ أَنْ نَسْتَشْرِفَ: أَيْ أَنْ نَنْظُرَ صَحِيحًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1498

چھ مہینے کی بھیڑ کی قربانی حضرت ابو کباش فرماتے ہیں میں چھ ماہی بھیڑیں بغرض تجارت مدینہ طیبہ لایا وہ کسادبازاری کا شکار ہو گئیں۔ پھر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا چھ مہینے کی بھیڑ (مینڈھا جو اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال کا نظر آتا ہو) کی قربانی اچھی ہے ابو کباش کہتے ہیں (یہ سن کر) لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا، اس باب میں حضرت ابن عباس ،ام بلال، بنت ہلال، بلال، جابر ،عقبہ بن عامر، اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ غریب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفًا بھی مروی ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے کہ چھ ماہی مینڈھے کی قربانی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٤٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فِي الأَضَاحِي حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي كِبَاشٍ , قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ , فَكَسَدَتْ عَلَيَّ , فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نِعْمَ " أَوْ: " نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ " , قَالَ: فَانْتَهَبَهُ النَّاسُ قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَأُمِّ بِلَالِ ابْنَةِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِيهَا , وَجَابِرٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا , وَعُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ هُوَ: ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1499

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ آپ کے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ تقسیم کے بعد ایک چھ یا سات ماہ کا بچہ رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ وکیع فرماتے ہیں جذعہ چھ یا سات ماہ کا ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس طریق کے علاوہ بھی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ایک جذعہ باقی رہ گیا فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم خود اس کی قربانی کر دو۔ ہم سے یہ حدیث محمد بن بشار نے یزید بن ہارون اور ابو داؤد سے بیان کی۔ یہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے ہشام بن دستوائی نے بواسطہ یحیٰی بن کثیر،بعجہ بن عبداللہ بن بدر اور عقبہ بن عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب الاضاحی،باب۱۰۱۳،فِی الْجَذَاءِ مِنَ الضَّانِ في الْأَضَاحِی،جلد۱ص۷۴۷،حديث نمبر ١٥٠٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا , فَبَقِيَ عَتُودٌ , أَوْ جَدْيٌ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ وَكِيعٌ , الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ: يَكُونُ ابْنَ سَنَةٍ أَوْ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا , فَبَقِيَ جَذَعَةٌ , فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا أَنْتَ "،

Tirmizi Shareef, Abwabul Adahiyya, Hadees No. 1500

Tirmizi Shareef : Abwabul Adahiyya

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاضاحی

|

•