asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabus Siyari

From 1548 to 1618

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

لڑائی سے پہلے دعوت اسلام حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک اسلامی لشکر نے جس کے امیر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے ایران کے ایک محل کا محاصرہ کر لیا لوگوں نے کہا اے عبداللہ کیا ہم جنگ کے لیے نہ کھڑے ہو جائیں تو حضرت سلمان نے فرمایا مجھے ان کو اسلام کی دعوت دے لینے دو جس طرح میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت اسلام دیتے سنا ہے چنانچہ حضرت سلمان ان کے پاس آئے اور فرمایا میں تم ہی میں سے ایک فارسی آدمی ہوں تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں اگر تم اسلام قبول کر لو تو تمہارے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو ہمارے لیے ہے اور تم پر بھی وہی بات لازم ہوگی جو ہم پر لازم ہے اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہو گے تو ہم تمہیں اسی پر چھوڑیں گے لیکن تمہیں ذلت قبول کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں جزیہ دینا ہوگا، راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں فارسی زبان میں فرمایا اور تم قابل تعریف نہ ہو گے اور اگر تم نے جزیہ کا بھی انکار کیا تو ہم تم سے برابری کے ساتھ لڑیں گے انہوں نے کہا ہم جزیہ دینے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم تم سے لڑیں گے مسلمانوں نے کہا اے ابو عبداللہ کیا ہم ان سے لڑائی نہ لڑیں آپ نے فرمایا نہیں راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں تین دن اسی طرح دعوت دی پھر فرمایا جہاد کے لیے بڑھو پس ہم ان کی طرف بڑھے اور وہ فتح کر لیا، اس باب میں حضرت بریدہ، نعمان بن مقرن ،ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث سلمان حسن ہیں ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے پہچانتے ہیں میں نے امام بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو البختری نے حضرت سلمان کو نہیں پایا کیونکہ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو نہیں پایا جبکہ حضرت سلمان ان سے پہلے انتقال فرما چکے تھے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم اسی طرف گئے ہیں لڑائی سے پہلے اسلام کی طرف بلایا جائے اسحٰاق بن ابراہیم بھی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں اگر انہیں پہلے دعوت دی جائے تو یہ اچھا ہے اور رعب کا باعث ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس دور میں دعوت اسلام کی ضرورت نہیں امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ اب بھی کسی کو دعوت دی جائے امام شافعی فرماتے ہیں دشمن کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے جنگ نہ لڑی جائے جب تک کہ وہ جلدی نہ کریں اور اگر انہیں دعوت نہ دی گئی تو انہیں پہلے ہی دعوت اسلام پہنچ چکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۷،مَا جَاءَ فِي الدَّعُوةِ قَبْلَ الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۶۸،حديث نمبر ١٥٤٨)

1. باب مَا جَاءَ فِي الدَّعْوَةِ قَبْلَ الْقِتَالِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ " أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، قَالَ: وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ: وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: لَا، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: انْهَدُوا إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1548

جس بستی میں مسجد ہو وہاں کسی کو قتل نہ کیا جائے حضرت ابن عصام مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور انہیں شرف صحبت حاصل ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کو بھیجتے تو ان سے فرماتے جب کہیں مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اور یہ ابن عیینہ کی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۴۸،جلد۱ص۷۶۹،حديث نمبر ١٥٤٩)

باب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1549

شبخون مارنا اور لوٹ مار کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں رات کے وقت پہنچے اور آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے اس پر حملہ نہ کرتے صبح ہوئی تو یہودی بیلچے اور ٹوکرے لے کر کام کاج کے لیے نکلے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکارنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،اللہ اکبر،، خیبر ویران ہوا ہم جب کسی میدان میں اترتے ہیں تو ڈرے ہوئے لوگوں کی صبح کیا ہی بری ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَات حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1550

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک ٹھہرتے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،حضرت انس سے حمید کی روایت بھی صحیح ہے اور علماء کی ایک جماعت نے رات کو جانے اور حملہ کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض نے ناپسند کیا ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ فرماتے ہیں دشمن پر رات کو حملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں،، وَاَفَقَ مُحَمَّدُ الْخَمِيسَ،، کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ لشکر بھی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، يَعْنِي بِهِ: الْجَيْشَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1551

آگ لگانا اور توڑ پھوڑ کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دیے اور کاٹے اور یہی مقام بویرہ ہے اس پر اللہ تعالٰی نے آیت نازل فرمائی" تم نے کھجوروں کے جن درختوں کو کاٹا اور جن کو ان کی جڑوں پر چھوڑ دیا تو یہ اللہ کے حکم سے ہے اور اس لیے کہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے(حشر،٥) اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت اسی طرف گئے ہیں اور انہوں نے درخت کاٹنے اور قلعوں کی توڑ پھوڑ میں کچھ حرج نہیں جانا بعض کے نزدیک یہ مکروہ ہے امام اوزاعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھل دار درخت کاٹنے یا عمارت تباہ کرنے سے منع فرمایا اور آپ کے بعد مسلمان اسی پر عمل پیرا رہے امام شافعی فرماتے ہیں دشمن کی زمین میں آگ لگانے درخت کاٹنے اور پھل توڑنے میں کوئی حرج نہیں امام احمد فرماتے ہیں بعض مقامات پر یہ ضروری ہوتا ہے لیکن بے فائدہ نہ جلایا جائے امام اسحٰاق فرماتے ہیں جلا دینا سنت ہے جب دشمن کے لیے زیادہ مؤثر سزا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۰،فِی التَّحْرِيْقِ وَالتَّخْرِيْبِ،جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر١٥٥٢)

باب فِي التَّحْرِيقِ وَالتَّخْرِيبِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَتَخْرِيبِ الْحُصُونِ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَنَهَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَنْ يَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا، أَوْ يُخَرِّبَ عَامِرًا، وَعَمِلَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ بِالتَّحْرِيقِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ وَقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ، وقَالَ أَحْمَدُ: وَقَدْ تَكُونُ فِي مَوَاضِعَ لَا يَجِدُونَ مِنْهُ بُدًّا، فَأَمَّا بِالْعَبَثِ، فَلَا تُحَرَّقْ، وقَالَ إِسْحَاق: التَّحْرِيقُ سُنَّةٌ إِذَا كَانَ أَنْكَى فِيهِمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1552

مال غنیمت حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھے دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی ہے یا فرمایا میری امت کو دیگر امتوں پر فضیلت بخشی اور ہمارے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا، اس باب میں حضرت علی، ابوذر، عبداللہ بن عمرو، ابو موسٰی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو امامہ حسن صحیح ہیں یہ سیار، بنو معاویہ کے غلام سیار کہلاتے ہیں ان سے سلیمان تیمی عبداللہ بن بحیر اور کئی دوسرے حضرات نے روایت لی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے (۱) مجھے جامع کلام عطا کی گئی (۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (۳) میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی(۴) تمام زمین میرے لیے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنائی گئی(۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا (۶) اور مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۱،مَا جَاءَ فِی الْغَنِيمَةِ،جلد۱ص۷۷۱،حديث نمبر ١٥٥٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْغَنِيمَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، أَوْ قَالَ: أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَأَحَلَّ لِيَ الْغَنَائِمَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَيَّارٌ هَذَا يُقَالُ لَهُ: سَيَّارٌ مَوْلَى بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1553

گھڑ سوار کا حصہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کے لیے دو حصے اور پیدل کے لیے ایک حصے کے طور پر تقسیم فرمائی۔ محمد بن بشار نے بواستہ عبدالرحمٰن ابن مہدی، سلیم بن اخضر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، اس باب میں حضرت مجمع بن جاریہ ،ابن عباس اور ابن ابی عمرہ( والد سے) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں سوار کے لیے تین حصے ہیں ایک اس کا اپنا حصہ اور دو حصے گھوڑے کے لیے اور پیدل کے لیے ایک حصہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۲،فِی سهمِ الخَيْلِ،جلد۱ص۷۷۲،حديث نمبر ١٥٥٤)

باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الْخَيْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ بِسَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ بِسَهْمٍ ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، سَهْمٌ لَهُ، وَسَهْمَانِ لِفَرَسِهِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1554

چھوٹے لشکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین ساتھی چار ہیں بہترین چھوٹا لشکر وہ ہے جو چار سو افراد پر مشتمل ہو، بہترین لشکر وہ ہے جو چار ہزار افراد پر مشتمل ہو اور بارہ ہزار کا لشکر کمی کے باعث مغلوب نہیں ہوگا، یہ حدیث حسن غریب ہے، جریر بن حازم کے علاوہ کسی بڑے نے اسے مسند نہیں بیان کیا یہ حدیث بواسطہ زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے حبان بن علی عنزی نے بواسطہ عقیل، زہری ،عبید اللہ بن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا لیث بن سعد نے بواسطہ عقیل اور زہری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۵۳،مَا جَاءَ فِی السَّرايا،جلد۱ص۷۷۲،حديث نمبر ١٥٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا يُسْنِدُهُ كَبِيرُ أَحَدٍ غَيْرُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1555

مال غنیمت میں سے کس کس کو حصہ دیا جائے یزید بن ھرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر استفسار کیا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو شریک جنگ کرتے تھے اور کیا آپ ان کو مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ عورتوں کو جنگ میں شریک کرتے تھے ہاں آپ انہیں شریک جنگ فرماتے تھے وہ بیماروں کا علاج معالجہ کرتیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ دے دیا جاتا لیکن ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا، اس باب میں حضرت انس اور ام عطیہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور شافعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں عورت اور بچے کے لیے حصہ مقرر کیا جائے امام اوزاعی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں بچوں کے لیے حصہ مقرر فرمایا اور مسلمان حکمرانوں نے ہر اس بچے کا حصہ مقرر کیا جو دارالحرب میں پیدا ہوا امام اوزاعی فرماتے ہیں نبی اکرم نے خیبر میں عورتوں کا حصہ مقرر فرمایا اور بعد میں مسلمانوں نے اس کو اپنایا۔ ہمیں علی بن خشرم نے بواسطہ عیسیٰ بن یونس، امام اوزاعی کے اس کی خبر دی،،، یحذین من الغنیمۃِ،، کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ دے دیا جاتا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۴،مَنْ يُعْطَى الْفَئُ،جلد۱ص۷۷۳،حديث نمبر ١٥٥٦)

باب مَا جَاءَ مَنْ يُعْطَى الْفَيْءُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ " وَكَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ، فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُسْهَمُ لِلْمَرْأَةِ وَالصَّبِيِّ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصِّبْيَانِ بِخَيْبَرَ، وَأَسْهَمَتْ أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ "، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ بِخَيْبَرَ، وَأَخَذَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ "، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يَقُولُ: يُرْضَخُ لَهُنَّ بِشَيْءٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يُعْطَيْنَ شَيْئًا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1556

کیا غلام کو حصہ دیا جائے گا حضرت عمیر مولٰی ابو اللحمِ فرماتے ہیں میں اپنے آقا کے ہمراہ خیبر کی لڑائی میں شریک ہوا، تو لوگوں نے میرے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی کہ یہ غلام ہے فرماتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی میں شریک ہونے کا حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی میں اسے زمین پر گھسیٹنے لگا اور میرے لیے کچھ گھریلو سامان دینے کا حکم فرمایا میں نے آپ کے سامنے ایک تعویذ کا مضمون بیان کیا جس سے میں دیوانوں کا علاج کیا کرتا تھا تو آپ نے مجھے اس کا بعض حصہ چھوڑنے اور بعض باقی رکھنے کا حکم دیا، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے، بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ غلام کا حصہ مقرر نہ کیا جائے لیکن اسے کچھ نہ کچھ دے دیا جائے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۵،هَلْ يُسْهَمُ الْعَبْدِ،جلد۱ص۷۷۳،حديث نمبر ١٥٥٧)

باب هَلْ يُسْهَمُ لِلْعَبْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: " شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِي، فَقُلِّدْتُ السَّيْفَ، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يُسْهَمُ لِلْمَمْلُوكِ، وَلَكِنْ يُرْضَخُ لَهُ بِشَيْءٍ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1557

کیا ذمی کو حصہ دیا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف تشریف لے گئے یہاں تک کہ جب آپ وبر کی پتھریلی زمین پر پہنچے تو ایک مشرک آدمی آپ سے ملا جس کی بہادری اور شجاعت کا چرچہ تھا آپ نے اس سے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا واپس چلا جا میں مشرک سے مدد نہیں لیتا اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے یہ حدیث حسن غریب ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں ذمی لوگوں کا حصہ مقرر نہ کیا جائے اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں بعض علماء کے نزدیک اگر وہ مسلمانوں کی حمایت میں دشمن قوم سے لڑتے ہیں تو ان کا حصہ مقرر کیا جائے گا، زہری سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ایک جماعت کا جو مسلمانوں کی حمایت میں لڑی تھی حصہ مقرر فرمایا اس کی خبر ہمیں قتیبہ بن سعید نے بواسطہ عبدالوارث بن سعید اور عزرہ بن ثابت زہری سے دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۶،مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ -جلد۱ص۷۷۴،حديث نمبر ١٥٥٨)

باب مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ، لَحِقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَذْكُرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَسْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " ارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يُسْهَمُ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِنْ قَاتَلُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ الْعَدُوَّ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنْ يُسْهَمَ لَهُمْ إِذَا شَهِدُوا الْقِتَالَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ. (حديث مرفوع) وَيُرْوَى عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْهَمَ لِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ قَاتَلُوا مَعَهُ "، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1558

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر میں حاضر ہوا تو آپ نے خیبر کے فاتحین کے ساتھ ہمیں بھی حصہ عنایت فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں سواروں کے لیے حصہ مقرر ہونے سے پہلے جو شخص مسلمانوں کے ساتھ ملے اس کے لیے حصہ مقرر کیا جائے گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۶،مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ -جلد۱ص۷۷۴،حديث نمبر ١٥٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا مَعَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: مَنْ لَحِقَ بِالْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَنْ يُسْهَمَ لِلْخَيْلِ، أُسْهِمَ لَهُ، وَبُرَيْدٌ يُكْنَى أَبَا بُرَيْدَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُهُمَا

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1559

مشرکین کے برتن استعمال کرنا حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوسیوں کے برتن استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں دھو کر پاک کرو اور ان میں کھانا پکاؤ اور آپ نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا یہ حدیث ابو ثعلبہ سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ابو ادریس خولانی نے اسے ابو ثعلبہ سے روایت کیا ابو قلابہ کو ابو ثعلبہ سے سماع نہیں انہوں نے بواسطہ ابو اسماء ابو ثعلبہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ان کے برتنوں میں کھائے آپ نے فرمایا اگر دوسرے برتن میسر ہوں تو ان میں نہ کھاؤ ورنہ انہیں دھو کر ان میں کھا لو یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۷،مَا جَاءَ فِي الْاِنْتِفَاعِ بِاٰنِيَةِ الْمشركين،جلد۱ص۷۷۵،حديث نمبر ١٥٦٠)

باب مَا جَاءَ فِي الاِنْتِفَاعِ بِآنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ؟ فَقَالَ: " أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا، وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبُعٍ وَذِي نَابٍ "، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَال: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ قَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1560

فوجیوں کو انعام دینا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر شروع شروع میں حملہ کرنے والوں کو چوتھائی اور واپس لوٹتے وقت حملہ کرنے والوں کو ایک تہائی حصہ زائد دیتے تھے، اس باب میں حضرت ابن عباس، حبیب بن مسلمہ،، معن بن یزید ،ابن عمر اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث عبادہ حسن ہے بواسطہ ابو سلام ایک نامعلوم صحابی سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار اپنے حصے سے زیادہ لی اور اسی کے متعلق آپ نے احد کے دن خواب میں دیکھا تھا یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اسی طریق یعنی ابن ابی الزناد کی روایت سے پہچانتے ہیں اہل علم کا خمس( پانچویں حصے) کے دینے میں اختلاف ہے مالک بن انس فرماتے ہیں مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام جنگوں میں بطور زائد کچھ دیا ہو البتہ بعض غزوات کے بارے میں خبر پہنچی ہے اور یہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے چاہے لڑائی کے شروع میں دے یا آخر میں ابن منصور کہتے ہیں میں نے امام احمد سے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے شروع میں خمس دینے کے بعد چوتھائی حصہ بطور انعام دیا اور واپسی پر تیسرا حصہ انعام میں دیا تو انہوں نے فرمایا خمس نکال لیتے تھے پھر بقیہ میں سے انعام دیتے لیکن اس سے تجاوز نہ فرماتے یہ حدیث ابن مسیب کے قول کی تائید کرتی ہے کہ خمس میں سے انعام دیا جاتا ہے امام اسحٰاق بھی یہی کہتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۵۸،فِی النَّفْلِ،جلد۱ص۷۷۶،حديث نمبر ١٥٦١)

باب مَا جَاءَ فِي النَّفَلِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُنَفِّلُ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَمَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفَلِ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ وَآخِرِهِ، قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَّلَ إِذَا فَصَلَ بِالرُّبُعِ بَعْدَ الْخُمُسِ، وَإِذَا قَفَلَ بِالثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ "، فَقَالَ: يُخْرِجُ الْخُمُسَ ثُمَّ يُنَفِّلُ مِمَّا بَقِيَ، وَلَا يُجَاوِزُ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا الْحَدِيثُ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: النَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ إِسْحَاق: هُوَ كَمَا قَالَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1561

مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کے پاس گواہ بھی ہوں مقتول کا سامان اسی کے لیے ہے، اس حدیث میں ایک واقعہ ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان یحیٰی بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی، اس باب میں حضرت عوف بن مالک، خالد بن ولید، انس اور سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو محمد سے نافع مولا ابو قتادہ مراد ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی، شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں امام کو اختیار ہے کہ اسے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نکال لے سفیان ثوری فرماتے ہیں نفل یہ ہے کہ امام کہے جسے جو چیز مل جائے وہ اس کی ہے اور جو کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے تو یہ جائز ہے اس میں خمس نہ ہوگا اسحٰاق فرماتے ہیں سامان قاتل کا ہوگا لیکن جب زیادہ ہو تو امام کو اس سے پانچواں حصہ نکالنے کا حق ہے جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۵۹،مَا جَاءَ فِی مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُہُ،جلد۱ص۷۷۷،حديث نمبر ١٥٦٢)

باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَنَسٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لِلْإِمَامِ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ السَّلَبِ الْخُمُسَ، وقَالَ الثَّوْرِيُّ: النَّفَلُ، أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ: مَنْ أَصَابَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ، فَهُوَ جَائِزٌ، وَلَيْسَ فِيهِ الْخُمُسُ، وقَالَ إِسْحَاق: السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا كَثِيرًا، فَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْهُ الْخُمُسَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1562

تقسیم سے پہلے مال غنیمت فروخت کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مالی غنیمت خریدنے سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۰،فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الْمَغَانِمَ حَتّٰى تُقْسَمَ،جلد۱ص۷۷۷،حديث نمبر ١٥٦٣)

باب فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1563

حاملہ قیدی عورتوں سے صحبت ناجائز ہے حضرت ام حبیبہ بنت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدی عورتوں سے بچہ جننے سے پہلے جمع کرنے سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث عرباض غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے امام اوزاعی فرماتے ہیں جب کوئی آدمی قیدی لونڈی خرید لے اور وہ حاملہ ہو تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بچہ جننے سے پہلے اس کے ساتھ جمع نہ کیا جائے اوزاعی فرماتے ہیں آزاد عورتوں کے بارے میں سنت یہ ہے کہ انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا جائے پھر ہم بستر ہوں مجھے علی بن خشرم نے بواسطہ عیسیٰ بن یونس اوزاعی سے ان تمام باتوں کی خبر دی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السی،باب۱۰۶۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ وَطْیِ الْحَبَالٰى مِنَ السَّبَايَا،جلد۱ص۷۷۸،حديث نمبر ١٥٦٤)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ وَطْءِ الْحَبَالَى مِنَ السَّبَايَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ وَهْبٍ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ أَبَاهَا أَخْبَرَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثُ عِرْبَاضٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ مِنَ السَّبْيِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَأَمَّا الْحَرَائِرُ، فَقَدْ مَضَتِ السُّنَّةُ فِيهِنَّ بِأَنْ أُمِرْنَ بِالْعِدَّةِ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1564

مشرکین کے کھانے حضرت قبیصہ بن ھلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسائیوں کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تیرے دل میں نصرانیوں کے کھانے سے شکوک و شبہات پیدا نہ ہو یہ حدیث حسن ہے محمود کہتے ہیں عبید اللہ بن موسیٰ نے بواسطہ اسرائیل سماک، قبیصہ اور ان کے والد ھلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی محمود نے بواسطہ وھب بن جریر شعبہ سماک مری بن قطری اور عدی بن حاتم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اہل کتاب کا کھانا جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۲،مَا جَاءَ فِی طَعَامِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۷۸،حديث نمبر ١٥٦٥)

باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى؟ فَقَالَ: " لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. قال مَحْمُودٌ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى: عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. قَالَ مَحْمُودٌ: وَقَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1565

قیدیوں کو الگ الگ کرنا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جو شخص ماں اور بچے کو الگ الگ کرے گا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے احباب کے درمیان جدائی ڈال دے گا، اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث غریب ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ وہ قیدی ماں اور بیٹے، باپ اور بیٹے نیز بھائیوں کے درمیان تفرقہ کو مکروہ جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۳،فِی كَرَاهِيَةِ التَّفْرِيقِ بَينَ السَّبْيِ،جلد۱ص۷۷۹،حديث نمبر١٤٦٦)

باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْىِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ، بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَبَيْنَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ سَمِعْتُ البُخَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1566

قیدیوں کو قتل کرنا اور فدیہ لینا حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر اترے اور فرمایا اپنے صحابہ کرام کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں قتل یا فدیہ کا اختیار دیجئے مگر اس شرط پر کہ آئندہ سال اتنے ہی صحابہ کرام شہید ہوں گے صحابہ کرام نے کہا ہمیں فدیہ لینا اور اپنا قتل ہونا پسند ہے اس بات میں حضرت عبداللہ بن مسعود انس ابوبرزہ اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن ثوری کی روایت سے غریب ہے ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے پہچانتے ہیں ابو اسامہ نے بواسطہ ہشام ابن سیرین عبیدہ اور علی مرتضٰی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ہم معنی حدیث روایت کی ابن عون نے بواسطہ ابن سیرین عبیدہ اور علی مرتضٰی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ابو داؤد حفری کا نام عمر بن سعد ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۴،مَا جَاءَ فِی قَتْلِ الْاُسَارٰى وَالْفِدَاءِ،جلد۱ص۷۷۹،حديث نمبر ١٥٦٧)

باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْىِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ، بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَبَيْنَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ سَمِعْتُ البُخَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1567

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مسلمان قیدیوں کو ایک مشرک قیدی کے بدلے چھڑایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ابو قلابہ کے چچا ابو المھلب ہیں اور ان کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے قیدیوں میں سے جس کو چاہے (فدیہ لئے بغیر )چھوڑ دے جس کو چاہے قتل کر دے اور جس سے چاہے فدیہ لے، بعض علماء نے فدیہ پر قتل کو ترجیح دی ہے اوزاعی فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے،،، فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً الخ ،، فَاقْتُلُوھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ،، اس کی ناسخ ہے۔ ھناد نے بواسطہ ابن مبارک اوزاعی سے ہمیں اس کی خبر دی اسحٰاق بن منصور کہتے ہیں میں نے امام احمد سے پوچھا کفار قیدی بن کر آئیں تو آپ کے نزدیک ان کو قتل کرنا بہتر ہے یا فدیہ لینا فرمایا اگر وہ فدیہ دے سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر قتل کیے جائیں تو میں اس میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتا اسحٰاق فرماتے ہیں خون بہانہ مجھے زیادہ پسند ہے بشرط ہے کہ اس میں عام دستور کی مخالفت نہ ہو مجھے اس پر زیادہ ثواب کی امید ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۴،مَا جَاءَ فِی قَتْلِ الْاُسَارٰى وَالْفِدَاءِ،جلد۱ص۷۷،حديث نمبر ١٥٦٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنَ الْأُسَارَى، وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ، وَيَفْدِي مَنْ شَاءَ، وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سورة محمد آية 4، نَسَخَتْهَا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ سورة البقرة آية 191، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِذَا أُسِرَ الْأَسِيرُ، يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا، قَالَ إِسْحَاق: الْإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَيَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا، فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1568

عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غزوات میں ایک مقتولہ عورت ملی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا، اس باب میں حضرت بریدہ رباح (رباح بن ربیع بھی کہا گیا ہے ) اسود بن سریع ابن عباس اور سعد بن جثامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا مکروہ ہے سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں بعض علماء نے شبخون مارنے نیز عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دی ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں یہ دونوں حضرات شبخون مارنے کی اجازت دیتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۵،مَا جَاءَ فِی النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَآءِ وَالصِّبْيَانِ،جلد۱ص۷۸۰،حديث نمبر ١٥٦٩)

باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، " وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ: رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1569

حضرت سعد بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنے بڑوں کے تابع ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۵،مَا جَاءَ فِی النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَآءِ وَالصِّبْيَانِ،جلد۱ص۷۸۰،حديث نمبر ١٥٧٠)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ خَيْلَنَا أُوطِئَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادِهِمْ، قَالَ: " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1570

کفار کو نہ جلانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور دو قریشیوں کا نام لے کر فرمایا اگر فلاں فلاں کو پاؤ تو انہیں جلا دینا پھر جب ہم نے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں کو جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کے ساتھ صرف اللہ تعالٰی ہی عذاب دیتا ہے لہذا اگر انہیں پاؤ تو قتل کر دینا، اس باب میں حضرت ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے محمد بن اسحٰاق فرماتے ہیں اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک اور شخص کا واسطہ ہے دوسرے لوگوں نے بھی لیث کی روایت کی طرح روایت کیا ہے لیث بن سعد کی روایت اشبہ اور اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۶،جلد۱ص۷۸۱،حديث نمبر ١٥٧١)

باب حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا، فَاقْتُلُوهُمَا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، بَيْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1571

مال غنیمت میں خیانت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ تکبر خیانت اور قرض سے پاک ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب االسیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْغُلُولِ حَدَّثَنِي أبو رجاء قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1572

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی روح جسم سے اس حال میں جدا ہوئی کہ وہ تین چیزوں خزانہ خیانت اور قرض سے پاک ہو وہ جنت میں داخل ہوگا سعید نے اسی طرح کنز( خزانہ ) فرمایا اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں کبر (تکبر ) کا لفظ نقل کیا اور معدان کا واسطہ بھی ذکر نہیں کیا سعید کی روایت اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكَنْزِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: " الْكَنْزُ "، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: " الْكِبْرُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1573

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ فلاں شخص شہید ہوا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت سے ایک چادر چرائی تھی پھر فرمایا اے عمر اٹھو اور تین مرتبہ اعلان کرو جنت میں صرف ایماندار لوگ داخل ہوں گے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۷،مَا جَاءَ فِی الْغُلُولِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ، قَالَ: " كَلَّا، قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا، قَالَ: قُمْ يَا عُمَرُ، فَنَادِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ "، ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1574

عورتوں کی جنگ میں شرکت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور چند دوسری انصار خواتین کو لڑائی میں ساتھ لے جاتے وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی، اس باب میں حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۸،مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النِّسَآءِ فِی الْحَرْبِ،جلد۱ص۷۸۲،حديث نمبر ١٥٧٥)

باب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، يَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1575

مشرکین کے تحائف قبول کرنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف بھیجے تو آپ نے قبول فرمائے دیگر بادشاہوں نے بھی آپ کے پاس تحائب بھیجے آپ نے انہیں بھی قبول فرمایا، اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن غریب ہے ثویر ابو فاختہ کے بیٹے ہیں ان کا نام سعید بن علاقہ ہے اور کنیت ابو جہم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۶۹،مَا جَاءَ فِی قُبُولِ هَدَا يَا الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٦)

باب مَا جَاءَ فِي قَبُولِ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ كِسْرَى أَهْدَى لَهُ فَقَبِلَ، وَأَنَّ الْمُلُوكَ أَهْدَوْا إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُمْ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1576

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور تحفہ بھیجی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسلام لائے ہو کہا نہیں فرمایا مجھے مشرکین کے تحائف قبول کرنے سے روکا گیا ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ زبدالمشرکین سے مشرکین کے تحائف مراد ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکین کی تحائف قبول فرمایا کرتے تھے اس حدیث میں کراھیت مذکور ہے ہو سکتا ہے یہ بعد کا واقعہ ہو پہلے آپ قبول فرماتے ہوں بعد میں منع کر دیا گیا ہو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۶۹،مَا جَاءَ فِی کراھیۃ هَدَا يَا الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٧)

باب فِي كَرَاهِيَةِ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، يَعْنِي: هَدَايَاهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ، وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1577

سجدۂ شکر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی جس سے آپ کو مسرت ہوئی تو آپ سجدے میں گر پڑے، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ سجدۂ شکر جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۰،مَا جَاءَ فِی سَجْدَةِ الشُّكْرِ،جلد۱ص۷۸۳،حديث نمبر ١٥٧٨)

باب مَا جَاءَ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ، فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ، وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1578

عورت اور غلام کا کسی کو امان دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت بھی اپنی قوم کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے اس باب میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، ۳- کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے خاوند کے دو رشتہ دار مردوں کو پناہ دی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو تم نے پناہ دی ہم نے بھی پناہ دی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ انہوں نے عورت کی کسی کو پناہ دینے کو جائز قرار دیا ہے امام احمد اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں کہ عورت اور غلام کا پناہ دینا درست ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے غلام کا پناہ دینا جائز رکھا ہے ابو مرہ عقیل بن ابی طالب کے مولا ہیں انہیں ام ہانی کا مولا بھی کہا جاتا ہے ان کا نام یزید ہے حضرت علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ان میں سے ادنی بھی پناہ دے سکتا ہے اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کا پناہ دینا سب کی طرف سے جائز ہے (امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ کے نزدیک شرط یہ ہے کہ پناہ دینے والا جنگ میں شریک ہو۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۱،مَا جَاءَ فِی اَمَانِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ،جلد۱ص۷۸۴،حديث نمبر ١٥٧٩)

باب مَا جَاءَ فِي أَمَانِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَأْخُذُ لِلْقَوْمِ "، يَعْنِي: تُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَكَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ قَدْ سَمِعَ مِنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَجَازُوا أَمَانَ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق: أَجَازَ أَمَانَ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَأَبُو مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَيْضًا وَاسْمُهُ يَزِيدُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ أَجَازَ أَمَانَ الْعَبْدِ، رُوِيَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ مَنْ أَعْطَى الْأَمَانَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَهُوَ جَائِزٌ عَلَى كُلِّهِمْ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1579

عہد شکنی سلیم بن عامر فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا حضرت امیر معاویہ ان کے شہروں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ جب معاہدہ ختم ہو تو ان پر غارت گری کرے اچانک ایک آدمی کو چار پائے یا گھوڑے پر دیکھا وہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر ! عھد پورا کرو عھد شکنی نہ کرو کیا دیکھتے ہیں کہ یہ شخص عمر بن عبسہ ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ اس معاہدے کو نہ توڑے اور نہ باندھے جب تک کہ اس کے مدت ختم نہ ہو جائے یا وہ برابری کے بنیاد پر اس کی طرف پھینک نہ دے فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ گئے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۲،مَا جَاءَ فِی الْغَدْرِ،جلد۱ص۷۸۴،حديث نمبر ١٥٨٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَال: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ "، قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1580

قیامت کے دن عہد شکن کا جھنڈا الگ ہوگا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا نصف کیا جائے گا، اس باب میں حضرت علی، عبداللہ بن مسعود ،ابو سعید خدری اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۳،مَا جَاءَ أَنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ القِيٰمَةِ - جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨١)

باب مَا جَاءَ أَنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ "، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1581

ثالث کے حکم پر راضی ہونا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احزاب کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے تیر لگا تو لوگوں نے بطور علاج بازو کے درمیان سے رگ کاٹی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس جگہ سے داغ دیا لیکن ان کا ہاتھ پھل گیا تو آپ نے چھوڑ دیا اور پھر خون جاری ہو گیا آپ نے دوبارہ داغا تو پھر پھول گیا یہ دیکھ کر حضرت سعد نے دعا مانگی یا اللہ جب تک بنو قریظہ سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے میری جان نہ نکالنا اس پر رگ کا خون تھم گیا اور اس سے ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا یہاں تک کہ وہ بنو قریظہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے آپ نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا انہوں نے فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد مارے جائیں اور عورتیں زندہ چھوڑ دی جائیں تاکہ مسلمان ان سے مدد حاصل کریں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے بارے میں تمہارا حکم اللہ کے فیصلے کے مطابق ہے وہ چار سو تھے جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے رگ پھر کھل گئی اور ان کا وصال ہو گیا اس باب میں حضرت ابو سعید اور عطیہ قرظی سے روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٢)

باب مَا جَاءَ فِي النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَتَرَكَهُ، فَنَزَفَهُ الدَّمُ، فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ "، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1582

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کر دو اور نابالغ بچوں کو زندہ رہنے دو بچے وہ ہیں جن کے زیر ناف بال نہ آئے ہوں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے حجاج بن ارطاۃ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ، وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ "، وَالشَّرْخُ: الْغِلْمَانُ الَّذِينَ لَمْ يُنْبِتُوا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1583

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قریظہ کے دن ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے گئے تو جس کے زیر ناف بال اُگے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اُگے تھے اسے چھوڑ دیا میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اُگے تھے چنانچہ مجھے بھی چھوڑ دیا گیا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ احتلام اور عمر کا پتہ نہ چلے تو بالوں کا اگنا علامت بلوغ ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۴،مَا جَاءَ فِی النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ،جلد۱ص۷۸۵،حديث نمبر ١٥٨٤)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الْإِنْبَاتَ بُلُوغًا، إِنْ لَمْ يُعْرَفْ احْتِلَامُهُ وَلَا سِنُّهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1584

قسم کا پورا کرنا حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا جاہلیت کے عہد پورے کرو کیونکہ اسلام اسے اور مضبوط کرتا ہے لیکن اسلام میں آنے کے بعد کوئی نیا معاہدہ نہ کرو، اس باب میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، ام سلمہ، جبیر بن مطعم، ابو ہریرہ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۵،مَا جَاءَ فِی الْحِلْفِ،جلد۱ص۷۸۶،حديث نمبر ١٥٨٥)

باب مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ، يَعْنِي: الْإِسْلَامَ، إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1585

مجوس سے جزیہ لینا حضرت بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں مقام مناذر میں جز بن معاویہ کا منشی تھا کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ دیکھو تمہارے پاس جو جو مجوسی ہیں ان سے جزیہ لو کیونکہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٦)

باب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ، انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1586

حضرت مجالہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا ہے اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ، حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1587

حضرت سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور حضرت عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۶،فِی أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِي،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٨)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ، وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنْ الْفُرْسِ "، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: هُوَ مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1588

ذمیوں کے مال سے کس قدر لینا جائز ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ایک قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اور نہ وہ ہمارا مالی حق ادا کرتے ہیں اور نہ ہی ہم ان سے لیتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ دینے سے انکار کریں تو زبردستی لے لو، یہ حدیث حسن ہے لیث بن سعد نے بھی اسے یزید بن حبیب سے روایت کیا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑائی کے لیے جاتے وقت ایسی قوم کے پاس سے گزرتے جن سے کھانے پینے کی چیزیں نہ خرید سکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ زبردستی کیے بغیر بیچنے پر راضی نہ ہو تو زبردستی لے لو بعض احادیث میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا حکم دیتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۷،مَا جَاءَ مَا يَحِلُّ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّۃِ،جلد۱ص۷۸۷،حديث نمبر ١٥٨٩)

باب مَا يَحِلُّ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَيْضًا، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْرُجُونَ فِي الْغَزْوِ، فَيَمُرُّونَ بِقَوْمٍ وَلَا يَجِدُونَ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَشْتَرُونَ بِالثَّمَنِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا "، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِنَحْوِ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1589

ہجرت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت نہیں ہاں جہاد اور نیت باقی ہے جب تمہیں جہاد کی طرف بلایا جائے تو نکل پڑو، اس باب میں حضرت ابو سعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، سفیان ثوری نے منصور بن معتمر سے جس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۷۸،مَا جَاءَ فِی الْہجْرَةِ،جلد۱ص۷۸۸،،حديث نمبر ١٥٩٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، نَحْوَ هَذَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1590

بیعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالٰی کے اس قول لقد رضی اللہ(سورہ فتح ١٨)الخ کے متعلق مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ بھاگنے پر بیعت کی تھی موت پر بیعت نہیں کی تھی . اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع، ابن عمر ،عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں بواسطہ عیسیٰ بن یونس اور اوزاعی یحییٰ بن ابی کثیر سے بھی یہ حدیث مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں ابو سلمہ کا واسطہ مذکور نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩١)

باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18، قَالَ جَابِرٌ" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعُبَادَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1591

حضرت یزید بن ابو عبید کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم نے حدیبیہ کے دن کس بات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی انہوں نے فرمایا موت پر، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1592

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سننے اور ماننے پر آپ کی بیعت کیا کرتے تھے آپ ہم سے فرماتے جس قدر تم طاقت رکھتے ہو اطاعت کرو ،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَيَقُولُ لَنَا: " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلَاهُمَا.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1593

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر موت کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، یہ حدیث حسن صحیح ہے دونوں حدیثوں کا مطلب صحیح ہے بعض صحابہ کرام نے موت پر بیعت کی اور انہوں نے عرض کیا ہم مرتے دم تک آپ کے سامنے رہیں گے اور دوسروں نے بیعت کرتے ہوئے عرض کیا ہم نہیں بھاگیں گے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۷۹،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -جلد۱ص۷۸۸،حديث نمبر ١٥٩٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ: قَدْ بَايَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الْمَوْتِ، وَإِنَّمَا قَالُوا: لَا نَزَالُ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى نُقْتَلَ، وَبَايَعَهُ آخَرُونَ، فَقَالُوا: لَا نَفِرُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1594

بیعت توڑنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی قیامت کے دن تین قسم کے آدمیوں سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ان میں سے ایک آدمی وہ ہے جس نے امام کے ہاتھ پر بیعت کی اگر اس نے کچھ دیا تو بیعت پوری کی ورنہ چھوڑ دی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۰،فِی نَكْثِ البَيْعَةِ،جلد۱ص۷۸۹،حديث نمبر ١٥٩٥)

باب مَا جَاءَ فِي نَكْثِ الْبَيْعَةِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1595

غلام کی بیعت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک غلام آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا غلام ہونا معلوم نہ ہوا جب اس کا آقا آیا تو آپ نے فرمایا اسے مجھ پر بیچ دو چنانچہ آپ نے دو سیاہ فام غلاموں کے بدلے اسے خرید لیا اس کے بعد آپ اس وقت تک بیعت نہ فرماتے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ آیا وہ غلام تو نہیں اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، حدیث جابر حسن غریب صحیح ہے ہم اسے صرف ابو الزبیر کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعَةِ الْعَبْدِ،جلد۱ص۷۸۹،حديث نمبر ١٥٩٦)

باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الْعَبْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ؟ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1596

عورتوں کی بیعت حضرت امیمہ بنت رقیقہ فرماتی ہیں میں نے چند عورتوں کے ہمراہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا آپ نے فرمایا جتنے عمل کی تم طاقت اور قدرت رکھو میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ مہربان ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بیعت کیجیے سفیان کہتے ہیں ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم سے مصافحہ کیجئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سو عورتوں سے بھی میری بات وہی ہے جو ایک عورت سے ہے، اس باب میں حضرت عائشہ،، عبداللہ بن عمرواور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر کی روایت سے پہچانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی دوسرے حضرات نے محمد بن منکدر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۲،مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النِّسَآءِ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٧)

باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النِّسَاءِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَنَا: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ "، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنَا، قَالَ سُفْيَانُ: تَعْنِي: صَافِحْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ لِأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأُمَيْمَةُ امْرَأَةٌ أُخْرَى لَهَا حَدِيثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1597

اصحاب بدر کی تعریف حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم آپس میں گفتگو کیا کرتے تھے کہ بدر کے دن اصحاب بدر اصحاب طالوت کی طرح تین سو تیرہ تھے، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری وغیرہ نے اسے ابو اسحٰاق سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۳،مَا جَاءَ فِی عِدَّةِ اصْحَابِ بَدْرٍ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٨)

باب مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ أَصْحَابِ أَهْلِ بَدْرٍ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " كُنَّا نَتَحَدَّثُ: أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ، ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1598

خمس (پانچواں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفد سے فرمایا میں تمہیں مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اس حدیث میں قصہ ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے قتیبہ نے بواسطہ حماد بن زید اور ابو جمرہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۴،مَا جَاءَ فِی الْخُمْسِ،جلد۱ص۷۹۰،حديث نمبر ١٥٩٩)

باب مَا جَاءَ فِي الْخُمُسِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: " آمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ "، قَالَ: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1599

تقسیم سے پہلے مال غنیمت لینا حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے مال غنیمت لینے میں جلدی کی اور گوشت پکایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے لوگوں میں تھے آپ ہنڈیوں کے پاس سے گزرے تو ان کے الٹا دینے کا حکم دیا چنانچہ وہ الٹا دی گئیں پھر ان کے درمیان تقسیم فرمایا اور ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، سفیان ثوری نے بواسطہ والد اور عبایہ رافع بن خدیج سے روایت کیا لیکن درمیان میں عبایہ کے والد کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ وکیع سفیان سے ہمیں اس کی خبر دی اور یہ اصح ہے عبایہ بن رفاعہ نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے روایت کیا اس باب میں حضرت ثعلبہ بن حکم، انس، ابو ریحانہ، ابو درداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابو ہریرہ اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۵،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٠)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ، فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَاطَّبَخُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ، فَمَرَّ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ، وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَجَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1600

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تقسیم سے قبل مال غنیمت میں سے کچھ لیا وہ ہم میں سے نہیں، یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۵،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1601

اہل کتاب کو سلام کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصارٰی کو سلام کرنے میں ابتدا نہ کرو جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو تو اسے تنگ راستے میں چلنے پر مجبور کر دو۔ اس باب میں حضرت ابن عمر، انس، ابو بصرہ غفاری (صحابی رسول علیہ السلام) سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے. (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْلِيمِ عَلٰى أَهْلِ الْكِتَبِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٢)

باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1602

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی یہودی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ (السام علیکم ) تم پر موت ہو ) کہتا ہے تم اس کے جواب میں صرف ،،علیک،، (تجھ پر ہو ) کہا کرو۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْلِيمِ عَلٰى أَهْلِ الْكِتَبِ،جلد۱ص۷۹۱،حديث نمبر ١٦٠٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ: عَلَيْكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1603

مشرکین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تو لوگوں نے سجدوں کے ذریعے پناہ ڈھونڈی لیکن لشکر نے ان کے قتل میں جلدی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں نصف دیت دینے کا حکم فرمایا اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں بیزار ہیں فرمایا تاکہ وہ مشرکین کی مشابہت نہ اختیار کریں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۷،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۹۲،حديث نمبر ١٦٠٤)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ؟ قَالَ: " لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا "،

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1604

ہناد نے بواسطہ عبدہ اور اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم سے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح روایت کیا اس میں جریر کا ذکر نہیں یہ اصح ہے، اس باب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے، اکثر اصحاب اسماعیل نے اسماعیل اور قیس بن ابی حازم کا ذکر کیا لیکن جریر کا واسطہ ذکر نہیں کیا حماد بن سلمہ نے بواستہ حجاج بن ارطاۃ اسماعیل بن ابی خالد اور قیس، جریر سے ابو معاویہ کی روایت کی طرح نقل کی میں نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے سنا فرماتے تھے صحیح یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیس کی روایت مرسل ہے سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا مشرکین کے ساتھ رہائش نہ رکھو اور نہ ان کے ساتھ مجلس رکھو پس جو شخص ان کے ساتھ مقیم ہوا یا ان کی مجلس اختیار کی وہ ان کی مثل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۷،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ،جلد۱ص۷۹۲،حديث نمبر ١٦٠٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ وَهَذَا أَصَحُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَى سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُجَامِعُوهُمْ، فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ، فَهُوَ مِثْلُهُمْ ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1605

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انشاء اللہ اگر میں (ظاہر زندگی سے) زندہ رہا۔ ( ورنہ تو آپ آج بھی زندہ ہیں) تو یہود و نصارٰی کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۸مَا جَاءَ فِی اِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٧)

باب مَا جَاءَ فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1606

جزیرہ عرب سے یہود و نصارٰی کا اخراج حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں یہود و نصارٰی کو جزیرہ عرب سے ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمانوں کو رہنے دوں گا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۸۸مَا جَاءَ فِی اِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٧)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1607

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت خاتون جنت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تشریف لائی اور پوچھا آپ کا وارث کون ہوگا آپ نے فرمایا میری بیوی اور بچے خاتون جنت نے فرمایا تو پھر میں اپنے والد کی وارث کیوں نہیں ہوتی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ہماری (انبیاء کی) وراثت نہیں ہوتی پس میں ان کو نان و نفقہ دوں گا جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیا کرتے تھے اور ان پر خرچ کروں گا جن پر آپ خرچ کرتے تھے، اس باب میں حضرت عمر ،طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث ابو ہریرہ حسن اس طریق سے غریب ہے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے اسے بواسطہ محمد بن عمرو اور ابو سلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسند بیان کیا ہے یہ حدیث بواسطہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ قَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي قَالَتْ: فَمَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1608

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے حضرت فاطمہ رضی الله عنہا حضرت ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میرا کوئی وارث نہیں ہو گا“، فاطمہ رضی الله عنہ بولیں: اللہ کی قسم! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چنانچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: «لا أكلمكما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں) یہ حدیث کئی سندوں سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦٠٩)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَا أُورَثُ "، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى: مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي: فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1609

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی تشریف لائے پھر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما باہم جھگڑتے ہوئے تشریف لائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں تمہیں اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہے کیا تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں تم اور یہ حضرت عباس اور حضرت علی دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تم اپنے بھتیجے کا ترکہ مانگنے لگے اور یہ اپنی زوجہ کے والد کا ترکہ مانگتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہیں اللہ جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے نیکوکار راہ ہدایت پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے اس حدیث میں طویل قصہ ہیں یہ حدیث حسن صحیح حضرت مالک بن انس کی روایت سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۸۹،مَاجَاءَ فِي تَرَكَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم،جلد۱ص۷۹۳،حديث نمبر ١٦١٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1610

فتح مکہ کے لیے اعلان مکہ حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آج کے بعد قیامت تک مکہ مکرمہ پر جہاد نہیں ہوگا، اس باب میں حضرت ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ زکریا بن ابی زائدہ کی روایت ہے اور شعبی سے روایت کرتے ہیں ہم اسے زکریا کی روایت سے ہی پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۰،مَا جَاءَ قَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَنَّ هَذِهِ لَا تُغْزَى بَعْدَ الْيَوْمِ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١١)

باب مَا جَاءَ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذِهِ لاَ تُغْزَى بَعْدَ الْيَوْمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: " لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَمُطِيعٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، فَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1611

لڑائی کے مستحب اوقات حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوا جب صبح طلوع ہوتی تو آپ سورج طلوع ہونے تک ٹھہر جاتے طلوع آفتاب کے بعد لڑائی لڑتے دوپہر کو رک جاتے سورج کے ڈھلنے پر عصر تک لڑتے پھر رک جاتے نماز عصر کے بعد پھر لڑتے اور کہا جاتا اس وقت مدد کی ہوائیں چلتی ہیں اور مسلمان نماز میں اپنے لشکروں کی کامیابی کی دعائیں مانگتے تھے نعمان بن مقرن سے یہ حدیث اس سند سے زیادہ متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے قتادہ نے نعمان بن مقرن کا زمانہ نہیں پایا نعمان کا خلافت عمر میں انتقال ہو چکا تھا۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۱،مَا جَاءَ فِی السَّاعَةِ الَّتِی يُسْتَحَبُّ فِيهَاالْقِتَالُ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١٢)

باب مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْقِتَالُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ، قَاتَلَ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يُقَاتِلُ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ، وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1612

حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن کو ہرمزان کی طرف بھیجا الخ طویل حدیث ذکر کی نعمان بن ہرمزان فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوا جب آپ شروع دن میں لڑائی نہ لڑتے تو سورج کے ڈھلنے کا انتظار فرماتے ہوائیں چلتیں اور مدد اترتی، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔علقمہ بن عبداللہ بکر بن عبداللہ مزنی کے بھائی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۱،مَا جَاءَ فِی السَّاعَةِ الَّتِی يُسْتَحَبُّ فِيهَاالْقِتَالُ،جلد۱ص۷۹۵،حديث نمبر ١٦١٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1613

بد فالی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدفالی شرک ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اللہ تعالی اسے توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سنا فرماتے تھے سلیمان بن حرب اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ،،وَمَامِنَّا الخ ،، میرے نزدیک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اس باب میں حضرت سعد، ابو ہریرہ، حابس التمیمی، عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے پہچانتے ہیں شعبہ نے بھی اسے سلمہ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٤)

باب مَا جَاءَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ سُلَيْمَانُ: هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: " وَمَا مِنَّا ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1614

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بد فالی کی کوئی حقیقت نہیں لیکن فال مجھے پسند ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ فال کیا ہے فرمایا اچھی بات،، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1615

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت سے باہر نکلتے تو آپ کو یہ الفاظ سننا اچھا معلوم ہوتا،، یا راشد( اے ٹھیک راستہ پانے والے) یا نجیح( اے کامیاب )یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف، ابواب السیر،باب۱۰۹۲،مَا جَاءَ فِی الطِّيَرَةِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ، أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1616

جہاد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت۔ حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے وقت خاص اس کی ذات کے بارے میں تقوٰی اور مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کے نصیحت فرماتے اور فرماتے اللہ کے نام سے اس کے راستے میں لڑو اللہ کا انکار کرنے والوں سے لڑو مال غنیمت میں خیانت نہ کرو عہد شکنی نہ کرو مثلہ نہ بناؤ (اعضاء نہ کاٹو) اور بچوں کو قتل نہ کرو جب مشرک دشمن سے مقابلہ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ ان میں سے جس بات کو مان جائیں قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک لو انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اپنا وطن چھوڑ کر اس جگہ جا بسیں جہاں مہاجرین رہتے ہیں انہیں یہ بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں تو انہیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی امور ہوں گے جو مہاجرین کے ذمہ ہیں اور اگر وہاں جانے سے انکار کر دیں تو انہیں بتا دو کہ تم لوگ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو تم پر وہی حکم جاری ہوگا جو دیہاتی مسلمانوں پر ہے مال غنیمت اور فے میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا جب تک کہ جہاد نہ کرو اگر وہ ان باتوں سے انکار کرے تو ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ لوگ تم سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ چاہیں تو انہیں اللہ اور رسول کا ذمہ نہ دو بلکہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو اس لیے کہ ہمارے لیے اپنا اور ساتھیوں کا ذمہ توڑنا اللہ و رسول کی ذمہ کے توڑنے سے بہتر ہے اور جب کسی قلع کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ انہیں اللہ تعالٰی کے فیصلہ کے مطابق اتارو تو انہیں نہ اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالٰی کے فیصلہ کو پہنچو گے یا نہیں اور اس کی مثل ذکر کیا اس باب میں حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے۔ محمد بن بشارنے بواسطہ ابو احمد اور سفیان علقمہ بن مرثد سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر وہ انکار کرے تو ان سے جزیہ لو اگر اس سے بھی انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ تعالی سے مدد مانگو وکیع اور کئی دوسرے حضرات نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے محمد بن بشار کے غیر نے بھی عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت کرتے ہوئے جزیہ کا ذکر کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۳،مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٧)

باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: " اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، أَيَّتُهَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ وَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالتَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُوا كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ مَا يَجْرِي عَلَى الْأَعْرَابِ، لَيْسَ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا، فَإِنْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ، لِأَنَّكُمْ إِنْ تَخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا أَوْ نَحْوَ هَذَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ: " فَإِنْ أَبَوْا، فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَذَكَرَ فِيهِ أَمْرَ الْجِزْيَةِ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1617

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ آور ہوتے تھے اگر اذان سنتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ایک دن آپ انتظار میں تھے کہ ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا،، اللہ اکبر اللہ اکبر ،، آپ نے فرمایا دین فطرت پر ہے اس نے کہا ،،اشھد ان لا الہ الا اللہ،، آپ نے فرمایا دوزخ سے نجات پائی حسن فرماتے ہیں ہم سے ولید نے اسی سند کے ساتھ اس کی مثل حماد بن سلمہ سے یہ حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۹۳،مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۹۶،حديث نمبر ١٦١٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُغيِرُ إِلَّا عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ "، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ "، قَالَ الْحَسَنُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الَإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1618

Tirmizi Shareef : Abwabus Siyari

|

Tirmizi Shareef : ابواب السیر

|

•