asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabus Siyari

From 1548 to 1551

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

لڑائی سے پہلے دعوت اسلام حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک اسلامی لشکر نے جس کے امیر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے ایران کے ایک محل کا محاصرہ کر لیا لوگوں نے کہا اے عبداللہ کیا ہم جنگ کے لیے نہ کھڑے ہو جائیں تو حضرت سلمان نے فرمایا مجھے ان کو اسلام کی دعوت دے لینے دو جس طرح میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت اسلام دیتے سنا ہے چنانچہ حضرت سلمان ان کے پاس آئے اور فرمایا میں تم ہی میں سے ایک فارسی آدمی ہوں تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں اگر تم اسلام قبول کر لو تو تمہارے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو ہمارے لیے ہے اور تم پر بھی وہی بات لازم ہوگی جو ہم پر لازم ہے اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہو گے تو ہم تمہیں اسی پر چھوڑیں گے لیکن تمہیں ذلت قبول کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں جزیہ دینا ہوگا، راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں فارسی زبان میں فرمایا اور تم قابل تعریف نہ ہو گے اور اگر تم نے جزیہ کا بھی انکار کیا تو ہم تم سے برابری کے ساتھ لڑیں گے انہوں نے کہا ہم جزیہ دینے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم تم سے لڑیں گے مسلمانوں نے کہا اے ابو عبداللہ کیا ہم ان سے لڑائی نہ لڑیں آپ نے فرمایا نہیں راوی فرماتے ہیں آپ نے انہیں تین دن اسی طرح دعوت دی پھر فرمایا جہاد کے لیے بڑھو پس ہم ان کی طرف بڑھے اور وہ فتح کر لیا، اس باب میں حضرت بریدہ، نعمان بن مقرن ،ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث سلمان حسن ہیں ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے پہچانتے ہیں میں نے امام بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو البختری نے حضرت سلمان کو نہیں پایا کیونکہ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو نہیں پایا جبکہ حضرت سلمان ان سے پہلے انتقال فرما چکے تھے صحابہ کرام اور دیگر اہل علم اسی طرف گئے ہیں لڑائی سے پہلے اسلام کی طرف بلایا جائے اسحٰاق بن ابراہیم بھی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں اگر انہیں پہلے دعوت دی جائے تو یہ اچھا ہے اور رعب کا باعث ہے بعض علماء فرماتے ہیں اس دور میں دعوت اسلام کی ضرورت نہیں امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ اب بھی کسی کو دعوت دی جائے امام شافعی فرماتے ہیں دشمن کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے جنگ نہ لڑی جائے جب تک کہ وہ جلدی نہ کریں اور اگر انہیں دعوت نہ دی گئی تو انہیں پہلے ہی دعوت اسلام پہنچ چکی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۷،مَا جَاءَ فِي الدَّعُوةِ قَبْلَ الْقِتَالِ،جلد۱ص۷۶۸،حديث نمبر ١٥٤٨)

1. باب مَا جَاءَ فِي الدَّعْوَةِ قَبْلَ الْقِتَالِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ " أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، قَالَ: وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ: وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: لَا، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: انْهَدُوا إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1548

جس بستی میں مسجد ہو وہاں کسی کو قتل نہ کیا جائے حضرت ابن عصام مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور انہیں شرف صحبت حاصل ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کو بھیجتے تو ان سے فرماتے جب کہیں مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اور یہ ابن عیینہ کی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر ،باب۱۰۴۸،جلد۱ص۷۶۹،حديث نمبر ١٥٤٩)

باب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1549

شبخون مارنا اور لوٹ مار کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں رات کے وقت پہنچے اور آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے اس پر حملہ نہ کرتے صبح ہوئی تو یہودی بیلچے اور ٹوکرے لے کر کام کاج کے لیے نکلے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکارنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،اللہ اکبر،، خیبر ویران ہوا ہم جب کسی میدان میں اترتے ہیں تو ڈرے ہوئے لوگوں کی صبح کیا ہی بری ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَات حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1550

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک ٹھہرتے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،حضرت انس سے حمید کی روایت بھی صحیح ہے اور علماء کی ایک جماعت نے رات کو جانے اور حملہ کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ بعض نے ناپسند کیا ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ فرماتے ہیں دشمن پر رات کو حملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں،، وَاَفَقَ مُحَمَّدُ الْخَمِيسَ،، کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ لشکر بھی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،ابواب السیر،باب۱۰۴۹،فِی الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ، جلد۱ص۷۷۰،حديث نمبر ١٥٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، يَعْنِي بِهِ: الْجَيْشَ.

Tirmizi Shareef, Abwabus Siyari, Hadees No. 1551

Tirmizi Shareef : Abwabus Siyari

|

Tirmizi Shareef : ابواب السیر

|

•