
ابواب جهاد معذور افراد کا جہاد میں شریک نہ ہونا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:شانے کی ہڈی یا تختی لاؤ آپ نے اس پر یہ آیت لکھی: {لَا يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95]حضرت عبد الله بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے عرض کرنے لگے کیا میرے لیے (عدم شرکت کی اجازت ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:{غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95]معذور لوگوں کے علاوہ گھروں میں بیٹھنے والے اور اپنے مالوں اور نفسوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں)اس باب میں حضرت ابن عباس ، جابر اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح اور بواسطہ سلیمان تیمی ابو اسحاق کی روایت سے غریب ہے۔ شعبہ اور ثوری نے بھی اسے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ لِأَهْلِ العُذْرِ فِي القُعُودِ،حدیث نمبر ١٦٧٠)
والدین کو چھوڑ کر جہاد کے لیے جانا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر جہاد (میں جانے کی)اجازت مانگنے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں۔ اس نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا تو ان کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو (یعنی ان کی خدمت ہی تمہارے لیے جہاد ہے) اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت مذکور ہے۔یہ روایت حسن صحیح ہے، ابو العباس، نابینا شاعر ہیں اور مکی ہیں ۔ ان کا نام سائب بن فروخ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ خَرَجَ فِي الغَزْوِ وَتَرَكَ أَبَوَيْهِ،حدیث نمبر ١٦٧١)
ایک شخص کول شکر پر امیر مقرر کرنا حجاج بن محمد ابن جریح سے اللہ تعالیٰ کے قول {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]،سے متعلق نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک چھوٹے لشکر کا امیر بناکر بھیجا ابن جریج کہتے ہیں مجھے یعلی بن مسلم نے بواسطہ سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بات کی خبر دی ۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابن جریح کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُبْعَثُ وَحْدَهُ سَرِيَّةً،حدیث نمبر ١٦٧٢)
آدمی کا تنہا سفر کرنا نا پسندیدہ ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا اگر لوگ تنہا سفر کے نقصان کو جانتے جیسا کہ میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو اکیلا سفر نہ کرتا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُسَافِرَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ١٦٧٣)
حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک سوار شیطان ہے دو سوار دو شیطان ہیں۔اور تین سوار ، سوار ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق یعنی عاصم کی روایت سے پہچانتے ہیں اور عاصم محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمرو کے صاحبزادے ہیں۔ حدیث عبد الله بن محمد حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُسَافِرَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ١٦٧٤)
جنگ کے موقعہ پر جھوٹ اور دھوکہ دہی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:جنگ ایک دھوکہ ہے،اس باب میں حضرت علی، زید بن ثابت، عائشه ، ابن عباس ابو ہریرہ، اسماء بنت یزید ، کعب بن مالک اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الكَذِبِ وَالخَدِيعَةِ فِي الحَرْبِ،حدیث نمبر ١٦٧٥)
غزوات نبوی کی تعداد حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان سے پوچھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی جنگیں لڑیں۔انہوں نے فرمایا: انیس غزوات،میں نے عرض کیا آپ کتنے غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے؟ فرمایا: سترہ غزوات میں، میں نے پوچھا پہلا غزوہ کونسا تھا؟ فرمایا:ذات العشيره،یا ذات العسیره ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَمْ غَزَا،حدیث نمبر ١٦٧٦)
لشکر کی صف بندی اور تیاری حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقعہ پر ہمیں رات کو ترتیب دیا۔ اس باب میں حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں میں(امام ترمذی) نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ اور فرمایا محمد بن اسحاق کو عکرمہ سے سماع حاصل ہے۔ جب میں (امام ترمذی) امام بخاری سے ملا تو وہ محمد بن حمید رازی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے پھر انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفِّ وَالتَّعْبِئَةِ عِنْدَ القِتَالِ،حدیث نمبر ١٦٧٧)
لڑائی کے وقت دعا حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کے خلاف دعا مانگتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا:یا اللہ! کتاب کے اتار نے والے، جلد حساب لینے والے، دشمن کے لشکر کو شکست دے اور ان کے قدم اکھیڑ دے ۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ القِتَالِ،حدیث نمبر ١٦٧٨)
چھوٹے جھنڈے حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم مکہ مکرمہ داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف یحیی بن آدم کے واسطہ سے شریک کی روایت سے پہچانتے ہیں۔میں (امام ترمذی) نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے اسے صرف اسی روایت سے پہچانا متعدد راویوں نے بواسطہ شریک، عمار، اور ابو زبیر،جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کی دستار مبارک سیاہ رنگ کی تھی۔امام بخاری فرماتے ہیں اصل حدیث یہی ہے،دھن ، قبیلہ بجیلہ کا ایک خاندان ہے۔ عمار دھنی سے عمار بن معاویہ دھنی مراد ہیں، ان کی کنیت ابو معاویہ ہے۔ یہ کوفی ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَلْوِيَةِ،حدیث نمبر ١٦٧٩)
بڑے جھنڈے حضرت یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم فرماتے ہیں۔مجھے محمدبن قاسم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں پوچھوں۔انہوں نے فرمایا آپ کا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور صوف سے بنا ہوا مربعہ صورت میں تھا،اس باب میں حضرت علی، حارث بن حسان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ابو یعقوب ثقفی کا نام اسحق بن ابراہیم ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے ان سے روایت کی ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّايَاتِ،حدیث نمبر ١٦٨٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا جب کہ چھوٹے جھنڈے کا رنگ سفید تھا۔ یہ حدیث اس طریق یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّايَاتِ،حدیث نمبر ١٦٨١)
خصوصی نشان مهلب بن ابو صفرہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:اگر دشمن تم پر شبخون مارے تو کہو۔حم لَا يُنْصَرُونَ، اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔بعض حضرت نے ابو اسحق سے سفیان ثوری کی روایت کی طرح نقل کی ہے، البتہ! بعض نے ان سے بواسطہ مهلب بن ابی صفرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعَارِ،حدیث نمبر ١٦٨٢)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مبارک حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنی تلوار حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تلوار جیسی بنائی اور سمرہ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جیسی بنائی ہے اور وہ قبیلہ بنو حنیفہ کی تلواروں کی مثل تھی،یہ حدیث غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں یحیی بن سعید قطان نے عثمان بن سعد مکاتب کے بارے میں کلام کیا اور اسے حفظ کے اعتبار سے ضعیت کہا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٦٨٣)
جنگ کے موقعہ پر روزہ افطار کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام مرظہران پر پہنچ کر ہمیں دشمن کے ملنے کی خبر دی ۔ اور روزہ افطار کرنے کا حکم فرمایا۔ تو ہم سب نے روزہ افطار کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الفِطْرِ عِنْدَ القِتَالِ،حدیث نمبر ١٦٨٤)
خطرہ کے وقت نکلنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مندوب نامی گھوڑے پر سوار ہوئے (اور دشمن کی تلاش میں تشریف لے گئے واپسی پر)فرمایا کوئی خطرہ نہیں اور میں نے اس گھوڑے کو چال میں دریا پایا،اس باب میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخُرُوجِ عِنْدَ الفَزَعِ،حدیث نمبر ١٦٨٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(ایک مرتبہ)مدینہ طیبہ میں خطرہ پیدا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا مندوب نامی گھوڑا عاریتاً لیا (اور دشمن کی طرف نکلے واپسی پر)فرمایا ہم نے کوئی خطرہ نہیں دیکھا اور ہم نے اسے چال میں دریا پایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخُرُوجِ عِنْدَ الفَزَعِ،حدیث نمبر ١٦٨٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے جری(نڈر)،سب سے سخی،اور سب سے بہادر تھے،ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے،ان لوگوں نے کوئی آواز سنی، چناں چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لٹکائے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک ننگی پیٹھ والے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں کے پاس پہنچے اور فرمایا: تم لوگ فکر نہ کرو، تم لوگ فکر نہ کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے چال میں گھوڑے کو سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الخُرُوجِ عِنْدَ الفَزَعِ،حدیث نمبر ١٦٨٧)
لڑائی کے وقت ثابت قدمی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے ایک آدمی نے پوچھا اے ابو عمارہ کیا تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔انہوں نے کہا نہیں خدا کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ چند جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیریں جبکہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر برساتے ہوئے ان سے جا ملے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر مبارک پر سوار تھے اور حضرت ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب نے اس کی لگام پکڑ رکھی تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا (پوتا) ہوں،اس باب میں حضرت علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّبَاتِ عِنْدَ القِتَالِ،حدیث نمبر ١٦٨٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے حنین کے دن اپنے آپ کو دیکھا تو اس وقت دونوں گروہ پیٹھ پھیر رہے تھے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سو آدمی بھی نہ تھے۔یہ حدیث حسن صحیح عبید اللہ کی روایت سے غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّبَاتِ عِنْدَ القِتَالِ،حدیث نمبر ١٦٨٩)
تلوار اور اس کا جڑاؤ حضرت ھود بن عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہم اپنے دادا مزیدہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ کی تلوار پر سونے اور چاندی کا جڑاؤ کیا ہوا تھا۔طالب کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے چاندی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تلوار کے قبضہ پر چاندی کی ٹوپی تھی۔اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور رہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ھود کے دادا کا نام مزیدہ عصری تھا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّيُوفِ وَحِلْيَتِهَا،حدیث نمبر ١٦٩٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مبارک کے قبضہ پر چاندی چڑھائی گئی تھی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔بواسطہ حمام اور قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یونہی مروی ہے۔بعض نے بواسطہ قتادہ، حضرت سعید بن ابو حسن رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ پر چاندی کی ٹوپی تھی۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّيُوفِ وَحِلْيَتِهَا،حدیث نمبر ١٦٩١)
زرہ پہننا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔جنگ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو زرہ تھیں آپ نے چٹان پر چڑھنے کا ارادہ فرمایا لیکن ایسا نہ ہو سکا تو آپ حضرت طلحہ کو نیچے بیٹھا کر اوپر تشریف لے گئے۔ یہاں تک کہ چٹان پر پہنچ گئے۔ راوی فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا طلحہ نے(جنت یا شفاعت) واجب کرلی۔اس باب میں حضرت صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف محمد بن اسحق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الدِّرْعِ،حدیث نمبر ١٦٩٢)
خود پہننا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سرانور پر خود تھی۔آپ سے عرض کیا گیا ابن خطل کعبۃ اللہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اسے قتل کردو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم مالک کے سوا جو زہری سے راوی ہیں کسی بڑے کو نہیں جانتے جس نے اسے روایت کیا ہو۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي المِغْفَرِ،حدیث نمبر ١٦٩٣)
گھوڑوں کی فضیلت حضرت عروه بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلائی یعنی ثواب اور غنیمت قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے۔اس باب میں حضرت ابن عمر، ابو سعید، جریرہ، ابو ہریرہ، اسماء بنت یزید،مغیرہ بن شعبہ، اور جابر رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے عروہ سے ابن ابی جعد بارقی مراد ہیں۔ عروہ بن جعد بھی کہا جاتا ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ فقہی مسئلہ ثابت ہوا کہ امام (عادل ہو یا غیر عادل) کی معیت میں قیامت تک کے لیے جہاد مقرر ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٦٩٤)
پسندیدہ گھوڑے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی برکت خالص سرخ رنگ میں ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق.یعنی شیبان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٦٩٥)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین گھوڑا سیاہ رنگ کا گھوڑا ہے جس کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ کچھ سفید ہوں پھر وہ جس کی پیشانی اور پاؤں بھی سفید ہوں لیکن دائیں پاؤں میں سفیدی نہ ہو اگر سیاه رنگ کا نہ ہو تو ان ہی صفات والا سیاہی مائل سرخ رنگ کا گھوڑا ہو۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٦٩٦ و حدیث نمبر ١٦٩٧)
محمد بن بشار نے بواسطہ وهب بن جریر اور یحیی بن ایوب یزید بن ابو حبیب سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٦٩٦ و حدیث نمبر ١٦٩٧)
نا پسندیدہ گھوڑے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا گھوڑا ناپسند فرمایا جس کے تین پاؤں سفید ہوں اور ایک سیاہ ہوں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شعبہ نے بواسطہ عبداللہ بن یزید خثعمی ابو زرعہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ھرم ہے۔ عماره بن قعقاع فرماتے ہیں مجھے ابراہیم نخعی نے فرمایا جب مجھ سے حدیث بیان کرتے ہو تو ابو زرعہ سے نقل کیا کرو۔کیونکہ انہوں نے ایک مرتبہ مجھ سے حدیث بیان کی پھر میں نے کئی سال بعد اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک حرف بھی کم نہ کیا ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ مَا يُكْرَهُ مِنَ الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٦٩٨)
گھڑ دوڑ کرانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکے پھلکے کیے گئے گھوڑوں کو حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑا یا ان دونوں جگہوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا اور جن گھوڑوں کو ہلکے پھلکے نہیں کیا گیا تھا انہیں ثنیتہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑایا یہ ایک میل کا فاصلہ تھا۔ میں بھی گھوڑا دوڑانے والوں میں تھا میرا گھوڑا مجھے لے کر دیوار پھلانگ گیا تھا۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ ، جابر ، انس اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ثوری کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ،حدیث نمبر ١٦٩٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقابلہ صرف تیر،اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں :یہ حدیث حسن ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ،حدیث نمبر ١٧٠٠)
گدھوں سے گھوڑیوں پر جفتی کرانا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے مامور بندے تھے۔آپ نے ہمیں دوسروں کے مقابلہ میں صرف تین چیزوں کے ساتھ خاص کیا، ہمیں حکم فرمایاکہ ہم کامل وضو کریں،صدقہ نہ کھائیں، اور گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی نہ کرائیں۔ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث مروی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری نے اسے ابو جہضم سے روایت کرتے ہوئے کہا بواسطہ عبید اللہ بن عبد الله بن عباس حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔میں (امام ترمذی)نے امام بخاری سے سنا فرماتے تھے حدیث ثوری غیر محفوظ ہے ثوری سے اس میں خطا ہوئی۔صحیح روایت وہ ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث بن سعید نے بواسطہ ابو جہضم اور عبد الله بن عبید اللہ بن عباس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ تُنْزَى الحُمُرُ عَلَى الخَيْل،حدیث نمبر ١٧٠١)
مسلمان فقراء کے وسیلہ سے طلب فتح حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہیں کمزور اور غریب لوگوں کے سبب رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِفْتَاحِ بِصَعَالِيكِ المُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٧٠٢)
گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے ان مسافروں کا ساتھ نہیں دیتے جن میں کتا ہو اور نہ ہی ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ جن میں گھنٹی ہو۔اس باب میں حضرت عمر، عائشہ ، ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَجْرَاسِ عَلَى الخَيْلِ،حدیث نمبر ١٧٠٣)
فوج کا سپہ سالار حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے ایک پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دوسرے پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر لشکر مقرر فرمایا۔ اور فرمایا جب جنگ شروع ہو تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سب پر امیر ہونگے۔راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا تو اس میں سے ایک لونڈی لی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق شکایت کی، میں یہ خط لیکر حاضر ہوا آپ نے خط پڑھا تو چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، پھر فرمایا: تیرا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ و رسول کو اس سے محبت ہے میں نے عرض کیا میں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں ہیں میں تو صرف قاصد ہوں اس پر آپ خاموش ہو گئے، اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف احوص بن جواب کی روایت سے پہچانتے ہیں۔(دیشی بہ) کا مطلب چغلی کھانا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ مَنْ يُسْتَعْمَلُ عَلَى الحَرْبِ،حدیث نمبر ١٧٠٤)
حاکم وقت کی ذمہ داری حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! تم سب نگران ہو اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا وہ آدمی جو لوگوں پر امیر مقرر ہے وہ ذمہ دار ہے۔اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا،عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران و ذمہ دار ہے اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔غلام اپنے مالک کے مال کا نگران ہے۔ اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔سنو! تم سب (اپنے اپنے دائرہ اختیار میں)ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس سے متعلق امور کا سوال ہوگا۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، انس، اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔حدیث ابو موسیٰ غیر محفوظ ہے۔ حدیث انس بھی غیر محفوظ ہے۔ابراہیم بن بشار رمادی نے بواسطه سفیان بن عینیہ ، برید ابن عبد الله بن ابی برده اور ابو بردہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے مرسل روایت کیا ہے،یہ اصح ہے۔امام بخاری فرماتے ہیں۔ اسحق بن ابراہیم نے بواسطه معاذ بن هشام، ھشام اور قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس چیز کے متعلق پوچھے گا جس کا اسے نگران بنایا۔میں(امام ترمذی) نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں یہ غیر محفوظ ہے۔صحیح روایت وہ ہے جسے معاذ بن هشام نے بواسطہ ھشام ، قتادہ اور حسن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِمَامِ،حدیث نمبر ١٧٠٥)
حاکم کی اطاعت حضرت ام الحصین احمسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا کہ آپ پر چادر مبارک تھی جسے آپ نے بغل مبارک کے نیچے سے لپیٹ رکھا تھا۔ فرماتی ہیں میں نے آپ کے بازو کے پٹھے کو حرکت کرتے دیکھا آپ نے فرمایا اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اگرچہ تم پر مقطوع الاعضا حبشی غلام ہی مقرر کیا جائے۔اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو! جب تک کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق حکم جاری کرے ۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور عریاض بن ساریہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اورام حصین سے متعدد طرق سے مردی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي طَاعَةِ الإِمَامِ،حدیث نمبر ١٧٠٦)
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر حاکم کی بات سننا اور ماننا فرض ہے چاہے پسند کرےیا نہ کرے جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے ۔اگر وہ گناہ کا حکم دیتا ہے تو اب نہ سننا فرض ہے اور نہ ماننا ،اس باب میں حضرت علی ، عمران بن حصین اور حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنهم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الخَالِقِ،حدیث نمبر ١٧٠٧)
چوپایوں کو آپس میں لڑانا اور چہرے پر نشان لگانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو لڑانے سے منع فرمایا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ البَهَائِمِ وَالضَّرْبِ وَالوَسْمِ فِي الوَجْهِ،حدیث نمبر ١٧٠٨)
حضرت مجاہد سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور لڑانے سے منع فرمایا۔ اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ مذکور نہیں، کہا گیا ۔یہ حدیث قطبہ کی روایت سے اصح ہے۔شریک نے بواسطہ اعمش، مجاہد اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی،أبو یحییٰ کا واسطہ مذکور نہیں،ابو معاویہ نے بواسطہ اعمش اور مجاہد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔اس باب میں حضرت طلحہ ، جابر، ابو سعید اور عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ البَهَائِمِ وَالضَّرْبِ وَالوَسْمِ فِي الوَجْهِ،حدیث نمبر ١٧٠٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر نشان لگانے اور مارنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ البَهَائِمِ وَالضَّرْبِ وَالوَسْمِ فِي الوَجْهِ،حدیث نمبر ١٧١٠)
حد بلوغ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک جنگ کے موقعہ پر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اس وقت میری عمر چودہ برس تھی تو آپ نے مجھے (جہاد کے لیے) قبول نہ فرمایا پھر آئندہ سال مجھے ایک لشکر میں پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے مجھے قبول فرما لیا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے،پھر انہوں نے حکم جاری فرمایا کہ پندرہ برس کی عمر والے کے لیے مال غنیمت سے حصہ مقرر کیا جائے،ابن ابی عمر سے بواسطہ سفیان بن عیینہ، عبید اللہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔البتہ!انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لڑکوں اور مجاہدوں کے درمیان حد ہے۔یہ مذکور نہیں کہ آپ نے مال غنیمت سے حصہ مقرر کرنیکا حکم فرمایا،حدیث اسحاق بن یوسف حسن صحیح،سفیان ثوری کی روایت سے غریب ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِّ بُلُوغِ الرَّجُلِ، وَمَتَى يُفْرَضُ لَهُ،حدیث نمبر ١٧١١)
مقروض شهید حضرت عبدالله بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ کے راستے میں لڑنا اور اللہ پر ایمان لانا تمام اعمال سے افضل ہے۔ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! بتائیے!اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو میرے گناہ مٹ جائیں گے؟نبی کرم صلی اللہ علیہ حکم نے فرمایا :ہاں! اگر تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس طرح شہید ہو کہ صبر کرنے والا اور ثواب کی نیت رکھنے والا ہو آگے بڑھنے والا ہو پیچھے ہٹنے والا نہ ہو۔پھر آپ نے پوچھا تم نے کیسے کہا تھا؟اس نے عرض کیا اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو جاؤں تو میرے گناہ مٹ جائیں گے؟آپ نے فرمایا ہاں، تیرے گناہ مٹ جائیں گے بشرطیکہ تو صبر کرنے والا اور نیک نیت ہو اور پیٹھ نہ پھیرے مگر قرض کی معافی نہیں۔مجھے یہ بات حضرت جبریل علیہ السلام نے بتائی ہے ۔ ان باب میں حضرت انس ،محمد بن جحش اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔بعض لوگوں نے اسے حضرت سعید مقبری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل روایت کیا ہے،یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی دوسرے لوگوں نے اس کی مثل حدیث بواسطہ عبد اللہ بن ابو قتادہ اور ابو قتادہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔یہ روایت بواسطه سعید مقبری حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اصح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُسْتَشْهَدُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ،حدیث نمبر ١٧١٢)
شہداء کو دفن کرنا حضرت هشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زخموں کی شکایت کی گئی آپ نے فرمایا کشادہ قبریں کھودو!(میت کے ساتھ)احسان کرو اور ایک ایک قبر میں دو دو تین تین شہداء کو دفن کرو!زیادہ قرآن پڑھے ہوئے کو آگے رکھو! راوی فرماتے ہیں میرے باپ کا بھی انتقال ہوا تھا تو انہیں دو آدمیوں سے آگے رکھا گیا ۔اس باب میں حضرت خباب و جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سفیان وغیرہ نے اسے بواسطہ ایوب اور حمید بن ہلال ھشام بن عامر سے روایت کیا ہے۔ ابو الدھماء کا نام قرفہ بن بُھَیس ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِ الشُّهَدَاءِ،حدیث نمبر ١٧١٣)
مشورہ کرنا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بدر کے دن قیدی لائے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام سے) پوچھا ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ (راوی نے طویل واقعہ ذکر کیا۔ اس باب میں حضرت عمر، ابو ایوب، انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔حضرت ابو عبیدہ کو اپنے والد سے سماع حاصل نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي المَشُورَةِ،حدیث نمبر ١٧١٤)
کافر قیدی کی لاش کی قیمت لینا صحیح نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مشرکین نے ایک مشرک کی لاش خریدنا چاہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے سے انکار فرما دیا۔اس حدیث کو ہم صرف حکم کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ حجاج بن ارطاۃ نے بھی اسے حکم سے روایت کیا ہے۔احمد بن حسن فرماتے ہیں۔ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے سنا کہ ابن ابی لیلی کی حدیث کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ابن ابی لیلیٰ سچے ہیں۔ لیکن ان کی صحیح اور ضعیف روایت میں امتیاز نہیں ہو سکتا میں ان سے کوئی روایت نہیں لیتا۔وہ سچے ہیں۔لیکن بسا اوقات ان سے سند میں خطا واقع ہو جاتی ہے۔نصر بن علی نے بواسطہ عبد الله بن داؤد سفیان ثوری کا قول نقل کیا وہ فرماتے ہیں۔ ابن ابی لیلیٰ اور عبد اللہ بن شبرمہ ہمارے فقیہ ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ لَا تُفَادَى جِيفَةُ الأَسِيرِ،حدیث نمبر ١٧١٥)
جنگ سے بھاگنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں بھیجا ہم (میدان سے) بھاگ کھڑے ہوئے اور مدینہ طیبہ جا پہنچے ہم نے یہ بات مخفی رکھی اور کہا ہم ہلاک ہو گئے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم بھاگنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم پناہ لینے والے ہو،اور میں تمہارا مدد گار ہوں ۔یہ حدیث حسن ہے ۔ ہم اسے صرف یزید بن ابو زیاد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ «بَلْ أَنْتُمُ العَكَّارُونَ» عکار وہ شخص ہے جو حصول مدد کے لیے اپنے امام کی طرف بھاگ کھڑا ہو لڑائی سے بھاگنا مراد نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الفِرَارِ مِنَ الزَّحْفِ،حدیث نمبر ١٧١٦)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں جنگ احد کے دن میری پھوپھی ، میرے والد کو ہمارے قبرستان میں دفن کرنے کے لیے لائیں اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی شہیدوں کو ان کی شہادت گاہ پر واپس لے جاؤ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے،اور نبیح ثقہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِ القَتِيلِ فِي مَقْتَلِهِ،حدیث نمبر ١٧١٧)
سفر سے واپس آنے والوں کا استقبال حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف نکلے سائب فرماتے ہیں میں بھی لوگوں کے ساتھ گیا اس وقت میں بچہ تھا،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي تَلَقِّي الغَائِبِ إِذَا قَدِمَ،حدیث نمبر ١٧١٨)
مال فئی۔ حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے قبیلہ بنو نضیر کا مال ان چیزوں میں سے تھا جواللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کے بغیر دیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ۔اس لیے یہ مال خالص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ اور آپ سے سال بھر گھر والوں کے خرچہ میں صرف فرماتے اور جو کچھ بچ جاتا اسے اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں پر خرچ فرماتے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الجهاد، بَابُ مَا جَاءَ فِي الفَيْءِ،حدیث نمبر ١٧١٩)
Tirmizi Shareef : Abwabul Jihad
|
Tirmizi Shareef : ابواب الجھاد
|
•