asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

Abwabul Ashribati

From 1861 to 1896

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

شرابی کا حکم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔جو شخص دنیا میں شراب پیے اور اس عادت میں مر جائے تو آخرت میں نہیں پئے گا۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ابوسعید، عبد الله بن عمرو، عباده، ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ مالک بن انس نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسے موقوف روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٦١)

باب مَا جَاءَ فِي شَارِبِ الْخَمْرِ حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعُبَادَةَ، وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا فَلَمْ يَرْفَعْهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1861

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب پیے اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔دوبارہ پیے تو پھر چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں پھر اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور اگر پھر پیے تو اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں اور اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔اور اگر چوتھی مرتبہ یہی حرکت کرے تو اللہ تعالٰی اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں فرماتا اور اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں فرماتا اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا۔پوچھا گیا اے ابو عبدالرحمن نہر خبال کیا ہے تو حضرت ابن عمر رضی الله عنها نے فرمایا۔دوزخیوں کی پیپ کی ایک نہر ہے۔یہ حدیث حسن ہے حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،أَبْوَابُ الْأَشْرِبَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٦٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبْ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ "، قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ؟، قَالَ: " نَهْرٌ مِنْ صَدِيدِ أَهْلِ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1862

ہر نشہ آور چیز حرام ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کے نبیذ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ پینے کی ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٣)

باب مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1863

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عمر، علی، ابن مسعود، ابوسعید ابو موسیٰ، اشج عصری ، دیلم، میمونہ، عائشه، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ ، عبد الله بن مغفل ، ام سلمہ، بریده ، ابو ہریرہ ،وائل بن حجر اور قرہ مزنی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ بواسطہ ابو سلمہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی مذکورہے۔ دونوں روایتیں صحیح ہیں متعدد افراد نے بواسطہ محمد بن عمرو ، ابو سلمہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ بواسطہ ابو سلمہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَالْأَشَجِّ الْعُصَرِيِّ، وَدَيْلَمَ، وَمَيْمُونَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَقُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، وعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَكِلَاهُمَا صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1864

جس کا زیادہ پینا نشہ لائے اسکا تھوڑا پینا بھی حرام ہے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز کا زیادہ پینا نشہ لائے اس کا تھوڑا پینا بھی حرام ہے۔ اس باب میں حضرت سعد، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، اور خوات بن جبیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٥)

باب مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ، وَخَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1865

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔جس سے ایک فرق (تین صاع کا پیمانہ)نشہ لائے اس سے ایک چلو بھر بھی حرام ہے۔ ایک راوی نے "الحَسْوَةُ" کا لفظ کہا۔ (مطلب ایک ہے) یہ حدیث حسن ہے۔لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابو عثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی روایت کی مثل نقل کی۔ ابو عثمان انصاری کا نام عمرو بن سالم ہے۔ عمر بن سالم بھی کہا گیا ہے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، حدیث نمبر ١٨٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ أَحَدُهُمَا فِي حَدِيثِهِ الْحَسْوَةُ مِنْهُ حَرَامٌ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ رِوَايَةِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1866

سبز گھڑے کی نبیذ حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا آپ نے فرمایا ہاں، طاؤس نے کہا اللہ کی قسم میں نے ابن عمر سے یہ سنا ہے۔ اس باب میں ابن ابی اوفی ، ابوسعید، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي نَبِيذِ الجَرِّ، حدیث نمبر ١٨٦٧)

باب مَا جَاءَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسُوَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1867

کدو کے خول چوبی برتن اور سبز روغنی گھڑے میں نبیذ بنانے کی ممانعت۔ حضرت زاذان فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا۔اپنی زبان میں بتائیے اور ہماری زبان میں اس کی وضاحت کیجیے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے حنتم سے منع فرمایا اور یہ سبز روغنی گھڑا ہوتا ہے۔کدو سے یعنی کدو کے خول سے منع فرمایا اور نقیر سے منع فرمایا اور یہ کھجور کی جڑ ہوتی ہے جس کو اندر سے کھودا جاتا ہے یا کھجور کی چھال سے بنایا جاتا ہے۔مزفت سے منع فرمایا اور یہ رال کا روغنی برتن ہے اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم فرمایا،اس باب میں حضرت عمر ، علی، ابن عباس، ابو سعید، ابوہریرہ، عبد الرحمن بن یعمر، سمره، انس،عائشہ، عمران بن حصین ، عائذ بن عمرو، حکم غفاری اور میمونہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، حدیث نمبر ١٨٦٨)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ زَاذَانَ يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ، أَخْبِرْنَاهُ بِلُغَتِكُمْ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمَةِ وَهِيَ الْجَرَّةُ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَهِيَ الْقَرْعَةُ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَهُوَ أَصْلُ النَّخْلِ يُنْقَرُ نَقْرًا أَوْ يُنْسَجُ نَسْجًا، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَهِيَ الْمُقَيَّرُ، وَأَمَرَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، وَسَمُرَةَ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، وَمَيْمُونَةَ قَالَ أَبُو عِيسی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1868

برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت حضرت سلیمان بن بریدہ (رضی اللہ عنہما) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شراب کے برتنوں سے روکا کرتا تھا۔بیشک برتن نہ تو کسی چیز کو حلال کرتا ہے اور نہ حرام اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ، حدیث نمبر ١٨٦٩)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ، وَإِنَّ ظَرْفًا لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1869

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے شکایت کی کہ ہمارے پاس اور برتن نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اب کوئی حرج نہیں۔اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، ابو ہریرہ، ابو سعید اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ أَنْ يُنْبَذَ فِي الظُّرُوفِ، حدیث نمبر ١٨٧٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الظُّرُوفِ " فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْأَنْصَارُ، فَقَالُوا: لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ، قَالَ: فَلَا إِذَنْ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1870

مشکیزے میں نبیذ بنانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنایا کرتے تھے۔اس کا وہ حصہ دھاگے سے باندھ دیا جاتا جہاں سے پانی لینے کے لیے سوراخ ہوتا ہے۔ہم صبح کے وقت نبیذ بناتے اور آپ شام کو نوش فرماتے،شام کو نبیذ بناتے اور آپ بوقت صبح نوش فرماتے۔ اس باب میں حضرت جابر، ابوسعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔یونس بن عبید کی روایت سے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الِانْتِبَاذِ فِي السِّقَاءِ، حدیث نمبر ١٨٧١)

باب مَا جَاءَ فِي الاِنْتِبَاذِ فِي السِّقَاءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ تُوكَأُ فِي أَعْلَاهُ لَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً وَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1871

جن غلوں سے شراب بنائی جاتی ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بے شک گندم سے شراب ہے۔جو سے شراب ہے، کھجور سے شراب ہے۔انگور سے شراب ہے۔ اور شہد سے شراب ہے۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٢)

باب مَا جَاءَ فِي الْحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الْخَمْرُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ،

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1872

حضرت ابن حضرت عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں گندم سے شراب ہے۔آگے یہی حدیث مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ، وَرَوَى أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا " فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1873

احمد بن منبع نے بواسطہ عبداللہ بن ادریس ابو حیان تیمی،شعبی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ گندم سے شراب ہے۔یہ ابراہیم بن مہاجر کی روایت سے اصح ہے۔علی بن مدینی کہتے ہیں۔یحیی بن سعید نے کہا کہ ابراہیم بن مہاجر قوی نہیں تھے ۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ،حدیث نمبر ١٨٧٤)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا بِهَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَمْ يَكُنْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ بِالْقَوِيِّ الْحَدِيثِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَيْضًا عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1874

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے ہے۔یعنی کھجور اور انگور سے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو کثیر سحیمی،وہ غبری ہیں۔ان کا نام یزید بن عبد الرحمن بن غفیلہ ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الخَمْرُ، حدیث نمبر ١٨٧٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةُ وَالْعِنَبَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ هُوَ الْغُبَرِيُّ وَاسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1875

کچی پکی کھجور ملانا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ البُسْرِ وَالتَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨٧٦)

باب مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1876

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں ملانے نیز کچی انگور اور کھجور ملانے سے منع فرمایا نیز سبز روغنی گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت انس ، جابر، ابو قتاده، ابن عباس، ام سلمہ اور معبد بن کعب ( بواسطہ والدہ ) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ البُسْرِ وَالتَّمْرِ، حدیث نمبر ١٨٧٧)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا، وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَنَهَى عَنِ الْجِرَارِ أَنْ يُنْبَذَ فِيهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَمَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1877

سونے اور چاندی کے برتنوں میں پانی پینا حضرت ابن ابی لیلی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے پانی مانگا تو ایک آدمی چاندی کے برتن میں پانی لایا آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا میں نے اس کو منع کیا تھا لیکن اس نے نہ مانا (حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور حریر و دیباج( ریشمی کپڑے) پہننے سے منع فرمایا اور فرمایا یہ ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں،اس باب میں حضرت ام سلمہ ، براء اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، حدیث نمبر ١٨٧٨)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1878

کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ پوچھا گیا کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو فرمایا یہ تو اس سے زیادہ سخت ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٧٩)

باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الشُّرْبِ، قَائِمًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا "، فَقِيلَ: الْأَكْلُ، قَالَ: " ذَاكَ أَشَدُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1879

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے، ۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۳- ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَال: " كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبُو الْبَزَرِيِّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُطَارِدٍ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1880

حضرت جارود بن معلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت ابوسعید، ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اسی طرح کئی حضرات نے یہ حدیث بواسطہ سعید، قتادہ، ابو مسلم اور جارود،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔بواسطہ قتاده، یزید بن عبد الله بن شخیرہ، ابو مسلم اور جاردو ، نبی کریم صلی الله سے روایت کی ۔ بواسطه قتاده، یزید بن عبد الله بن شخیرہ ، ابو مسلم اور جاردور ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔ جارود بن معلی کو ابن العلاد کہا جاتا ہے۔ ابن معلی صحیح نام ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا حدیث نمبر ١٨٨١)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، عَنْ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ الْجَارُودِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ الْجَارُودِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " وَالْجَارُودُ هُوَ ابْنُ الْمُعَلَّى الْعَبْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُقَالُ الْجَارُودُ بْنُ الْعَلَاءِ أَيْضًا، وَالصَّحِيحُ ابْنُ الْمُعَلَّى.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1881

کھڑے ہو کر پینے کی اجازت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زمزم کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔ اس باب میں حضرت علی ، سعد، عبد الله بن عمرو اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٢)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1882

حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد، دادا سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر (دونوں طرح) پیتے دیکھا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا، حدیث نمبر ١٨٨٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1883

برتن میں سانس لینا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی نوش فرماتے وقت تین سانس لیتے اور فرماتے کہ یہ زیادہ خوشگوار اور سیراب کرنے والا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ھشام، دستوائی بواسطہ ابو عصام، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ عزرہ بن ثابت بواسطه ثمامہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے پانی پینے میں تین سانس لیا کرتے تھے۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٤)

باب مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَيُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ: هُوَ أَمْرَأُ وَأَرْوَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَى عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1884

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ اونٹ کی طرح ایک ہی سائنس سے نہ پیو۔ بلکہ دو یا تین مرتبہ سانس لے کر پیو،پانی پیتے وقت بسم اللہ پڑھو اور فراغت پر . الحمد للہ کہو۔یہ حدیث غریب ہے۔ یزید بن سنان جزری، ابو فروہ رہاوی ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب الاشربة،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ ابْنٍ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَلَكِنْ اشْرَبُوا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ هُوَ أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1885

دو بار سانس لیکر پینا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی پیتے وقت دو مرتبہ سانس لیا کرتے تھے یہ حدیث غریب ہے۔ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے پہچانتے ہیں۔امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے عبد الله بن عبدالرحمن سے پوچھا کہ رشدین بن کریب زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب؟ انہوں نے فرمایا کس بات نے انہیں قریب کیا۔میرے نزدیک رشید بن کریب ارجح ہیں میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔محمد بن کریب رشیدین بن کریب کی بنسبت ارجح ہیں۔ میری امام ترمذی کی رائے ابو محمد عبدالله بن عبد الرحمن کی رائے کے مطابق ہے کہ رشدین بن کریب ارجح اور اکبر ہیں۔انہوں نے حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما کو پایا اور انکی زیارت کی۔یہ دونوں بھائی ہیں اور دونوں کے پاس منکر روایات ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا ذُكِرَ مِنَ الشُّرْبِ بِنَفَسَيْنِ، حدیث نمبر ١٨٨٦)

باب مَا ذُكِرَ مِنَ الشُّرْبِ بِنَفَسَيْنِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، قُلْتُ: هُوَ أَقْوَى أَمْ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ؟، فَقَالَ: مَا أَقْرَبَهُمَا وَرِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُهُمَا عِنْدِي، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا، فَقَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُ مِنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ وَالْقَوْلُ عِنْدِي مَا قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُ وَأَكْبَرُ، وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَآهُ وَهُمَا أَخَوَانِ وَعِنْدَهُمَا مَنَاكِيرُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1886

پانی میں پھونکنا منع ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونکنے سے منع فرمایا ایک آدمی نے عرض کیا اگر برتن میں تنکا وغیرہ دیکھوں فرمایا اسے گرا دو۔ اس نے کہا میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا فرمایا پیالہ اپنے منہ سے دور کر دو اور سانس لے کر پھر پیو، یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ، حدیث نمبر ١٨٨٧)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى الْجُهَنِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشُّرْبِ "، فَقَالَ رَجُلٌ: الْقَذَاةُ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ، قَالَ: " أَهْرِقْهَا "، قَالَ: فَإِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، قَالَ: " فَأَبِنْ الْقَدَحَ إِذَنْ عَنْ فِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1887

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ، حدیث نمبر ١٨٨٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1888

برتن میں سانس لینا مکروہ ہے حضرت عبد الله بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص پانی پیتے وقت برتن میں سانس نہ لے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ، حدیث نمبر ١٨٨٩)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1889

مشکیزہ (وغیرہ) اوندھا کر کے پانی پینا منع ہے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مشکیزہ (وغیرہ) ٹیڑھا کر کے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے، اس باب میں حضرت جابر، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ، حدیث نمبر ١٨٩٠)

باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً أَنَّهُ " نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1890

مندرجہ بالا مسئلہ میں اجازت حضرت عیسی بن عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس کھڑے ہوئے اور اسے ٹیڑھا کر کے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا۔اس باب میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ عبد اللہ بن عمر (راوی) کو حفظ کے اعتبار سے ضعیف کہا گیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ انہیں عیسیٰ سے سماع حاصل ہے یا نہیں ؟ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ، حدیث نمبر ١٨٩١)

باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ فَخَنَثَهَا ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ عِيسَى أَمْ لَا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1891

حضرت عبد الرحمن بن ابو عمرہ اپنی دادی کبشہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا ۔ (اس کے بعد) میں نے اٹھ کر مشکیزہ کا وہ حصہ (تبرکا رکھنے کے لیے) کاٹ لیا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یزید بن یزید عبد الرحمن بن یزید بن جابر کے بھائی ہیں اور ان سے پہلے فوت ہوئے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ، حدیث نمبر ١٨٩٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةَ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْهُ مَوْتًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1892

پینے میں دائیں طرف والے زیادہ حقدار ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ لایا گیا۔ جس میں پانی ملایا گیا تھا آپ کی داہنی جانب ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے نوش فرما کر (پہلے) اعرابی کو دیا اور فرمایا دایاں پھر دایاں ( زیادہ مستحق ہیں) اس باب میں حضرت ابن عباس ، سہل بن سعد، ابن عمر، اور عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْأَيْمَنِينَ أَحَقُّ بِالشُّرْبِ، حدیث نمبر ١٨٩٣)

باب مَا جَاءَ أَنَّ الأَيْمَنَ أَحَقُّ بِالشَّرَابِ حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1893

پلانے والا آخر میں پئے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیے۔ اس باب میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ سَاقِيَ القَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا، حدیث نمبر ١٨٩٤)

باب مَا جَاءَ أَنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1894

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب پانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام پانیوں میں میٹھا اور ٹھنڈا پانی زیادہ پسند تھا۔کئی افراد نے ابن عیینہ سے اسی طرح یعنی بواسطہ معمر، زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا لیکن صحیح وہ ہے جو زہری نے مرسلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت کیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واسطہ مذکور نہیں) (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٩٥)

باب مَا جَاءَ أَىُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ مِثْلَ هَذَا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1895

حضرت زہری سے روایت ہے۔بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا پانی بہتر ہے؟ فرمایا میٹھا اور ٹھنڈا۔عبد الرزاق نے بواسطہ معمر اور زہری ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے ابن عیینہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَيُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ١٨٩٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: الْحُلْوُ الْبَارِدُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ.

Tirmizi Shareef, Abwabul Ashribati, Hadees No. 1896

Tirmizi Shareef : Abwabul Ashribati

|

Tirmizi Shareef : ابواب الاشربۃ

|

•