
نیکی اور صلہ رحمی کے ابواب ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا حضرت بهز بن حکیم بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں کس کے ساتھ اچھا سلوک کروں ؟ فرمایا اپنی ماں سے، پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنی ماں سے، پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنی ماں سے۔ پوچھا پھر کس سے؟ فرمایا اپنے باپ سے، پھر حسب مراتب قریبی رشتہ داروں سے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، عبدالله بن عمرو، عائشہ اور ابو دردا رضی الله عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔بہز بن حکیم ، معاویہ بن حیدہ قشیری کے بیٹے ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اور محدثین کے نزدیک یہ ثقہ ہیں۔ ان سے معمر، سفیان ثوری، حماد بن سلمہ اور کئی دوسرے ائمہ راوی ہیں۔ (ترمذی شریف،أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٧)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!افضل اعمال کونسے ہیں؟فرمایا وقت پر نمانہ ادا کرنا۔میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کونسا ہے ؟ فرمایا ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کونسے اعمال ہیں ؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ بھی جواب دیتے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شیبانی، شعبہ اور کئی دوسرے حضرات نے اسے ولید بن عیراز سے روایت کیا ہے۔ بواسطہ ابو عمرو ، شیبانی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ ابو عمرو شیبانی کا نام سعد بن ایاس ہے۔ (ترمذی شریف، أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٨)
حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے۔اور اللہ تعالے کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر، شعبہ، یعلی بن عطاء اور عطاء حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس کے ہم معنی حدیث غیر مرفوع(موقوف) روایت کی۔ اصحاب شعبہ نے بھی اسی طرح بواسطہ شعبہ یعلی بن عطاء اور عطاء ، حضرت عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفا روایت کیا، خالد بن حارث کے علاوہ شعبہ سے کسی اور نے مرفوع روایت نہیں کیا۔خالد بن حارث ثقہ ہیں ۔ قابل اعتماد ہیں۔ میں(امام ترمذی) نے محمد بن مثنیٰ سے سنا فرماتے ہیں میں نے بصرہ میں خالد بن حارث جیسا اور کوفہ میں عبداللہ بن ادریس جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ (ترمذی شریف، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الفَضْلِ فِي رِضَا الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٩٩)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور عرض کیا۔ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں مجھے اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تیری مرضی اسے ضائع کرے یا محفوظ رکھے۔ سفیان نے (راوی)، کبھی والد کا لفظ کہا اور کبھی والدہ کا یہ حدیث صحیح ہے۔ ابو عبد الرحمن سلمی کا نام عبدالله بن حبیب ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الفَضْلِ فِي رِضَا الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٠)
ماں باپ کی نافرمانی۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں کبیرہ گناہوں سے بھی بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا اللہ تعالی کے ساتھ کس کو شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا راوی فرماتے ہیں آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ کر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا نیز جھوٹی گواہی( یا فرمایا) جھوٹی بات آپ مسلسل فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ سکوت فرماتے۔ اس باب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو بکرہ کا نام نفیع ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عُقُوقِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠١)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہ کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عُقُوقِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٢)
باپ کے دوستوں کی عزت کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا۔ بہترین نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں سے اچھا سلوک کرے، اس باب میں حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي إِكْرَامِ صَدِيقِ الوَالِدِ،حدیث نمبر ١٩٠٣)
خالہ کے ساتھ نیکی کرنا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خالہ ماں کے قائم مقام ہے۔اس حدیث میں طویل واقعہ ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ہے؟ عرض کیا وہ نہیں، فرمایا تمہاری خالہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں ، آپ نے فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو، اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان بن عیینہ ، محمد بن سوقہ اور حفص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کا واسطہ مذکور نہیں۔ ابو معاویہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ ابو بکر بن حفص عمر بن سعد بن ابی وقاص کے صاحبزادے ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرِّ الخَالَةِ،حدیث نمبر ١٩٠٤)
ماں باپ کی دعا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دعائیں بلا شک و شبہ قبول ہوتی ہیں مظلوم کی دعا ،مسافر کی دعا اور بیٹے کے خلاف باپ کی بددعا،حجاج صواف نے یہ حدیث یحییٰ بن کثیر سے ھشام کے روایت کے ہم معنی بیان کی۔ ابو جعفر جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔ انہیں ابو جعفر موذن کہا جاتا ہے۔ ہمیں ان کا نام معلوم نہیں ۔ یحیی بن ابی کثیر نے ان سے اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٥)
حقوق والدین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیٹا اپنے والد کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ مگر یہ کہ اسے غلام پائے تو خرید کر آزاد کر دے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف سھیل بن ابی صالح کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ سفیان اور کئی دوسرے حضرات نے یہ حدیث سھیل سے روایت کی۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الوَالِدَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٠٦)
قطع رحمی حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے علم کے مطابق ابو محمد عبدالرحمن سب سے اچھے اور سب سے زیادہ صلہ رحم ہیں۔ حضرت عبد الرحمن نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے۔میں رحمن ہوں میں نے رحمت کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام سے مشق کیا۔ پس جو اسے ملائے گا میں اسے ملائے رکھوں گا اور جو اس کو قطع کرے گا اس سے قطع تعلق کروں گا۔اس باب میں حضرت ابو سعید، ابن ابی اوفی، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں ۔حدیث سفیان زہری سے صحیح ہے۔ معمر نے بھی یہ حدیث بواسطہ زہری، ابو سلمہ اور رداد الیثی، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نقل کی ۔معمر اسی طرح کہتے ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں حدیث معمر میں غلطی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٧)
صلہ رحمی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدلہ دینے والا صلہ رحم نہیں بلکہ صلہ رحم وہ ہے کہ جب قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت سلمان اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٨)
حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قاطع رحم جنت میں داخل نہیں ہوگا۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ،حدیث نمبر ١٩٠٩)
اولاد کی محبت حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر تشریف لے آئے کہ آپ اپنے نواسوں میں سے ایک کو گود میں لیے ہوئے تھے۔ اور فرمارہے تھے بے شک تمہارا کام بخیل، بزدل اور جاہل بنانا ہے۔ اور بلاشبہ تم اللہ تعالیٰ کے پھولوں میں سے ہو۔اس باب میں حضرت ابن عمر اور اشعت بن قیس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابراہیم بن میسرہ سے ابن عیینہ کی حدیث ہم صرف ان ہی سے پہچانتے ہیں۔خولہ سے عمر بن عبد العزیز کا سماع ہم نہیں جانتے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي حُبِّ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩١٠)
اولاد پر شفقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں۔حضرت حسن یا حسین کا بوسہ لے رہے تھے۔ تو انہوں نے عرض کیا میرے دس بیٹے ہیں۔میں نے ان میں سے کسی کو بھی نہیں چوما رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اس باب میں حضرت انس ، عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن کا نام عبدالله بن عبد الرحمن ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩١١)
لڑکیوں پر خرچ کرنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں وہ ان سے اچھا سلوک کرے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، عقبہ بن عامر، انس ، جابر ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے سعد بن ابی وقاص، مالک بن وہیب ہیں۔لوگوں نے اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کیا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا پھر اس نے ان پر صبر کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بچیوں کی پرورش کی میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح داخل ہوں گے آپ نے اپنی دوانگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ محمد بن عبید نے محمد بن عبد العزیز سے اس سند کے ساتھ اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی اور کہا ابو بکر بن عبید اللہ بن انس جب کہ صحیح عبید اللہ بن ابو بکر بن انس ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک عورت جس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں۔ میرے پاس آئی اور کچھ مانگا میرے پاس صرف ایک کھجور تھی میں نے وہ اسے دے دی اس نے وہ کھجور دونوں بچیوں میں تقسیم کردی اور خود کچھ نہ کھایا پھر اٹھ کر چلی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے واقعہ عرض کیا ۔ آپ نے فرمایا جو شخص ان لڑکیوں کے ساتھ آزمایا جائے قیامت کے دن اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں، یا تین بہنیں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں،اور وہ ان کے ساتھ نیکی کرے اور ان کے بارے میں خدا سے ڈرے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى البَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ،حدیث نمبر ١٩١٦)
یتیم پر رحم کرنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان یتیم کے کھانے پینے کی کفالت کرے اللہ تعالیٰ ضرور اسے جنت میں داخل کرے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔ اس باب میں حضرت مرہ فہری، ابوہریرہ، ابو امامہ، اور سھل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ حنش سے حسین بن قیس مراد ہیں۔یہ ابو علی رحبی ہیں۔ سلیمان تیمی ،حنش کہتے ہیں اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اليَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ،حدیث نمبر ١٩١٧)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والے جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب ہوں گے۔ آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اليَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ،حدیث نمبر ١٩١٨)
بچوں پر رحم کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ایک بوڑھا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے آیا۔ لوگوں نے اسے جگہ دینے میں دیر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور بڑوں کی عزت نہ کی۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ، ابو ہریرہ، ابن عباس، اور ابو امامہ رضی رضی اللہ عنہم سے بھی سے بھی روایات ہیں۔یہ حدیث غریب ہے۔ زربی حضرت انس بن مالک وغیرہ سے سن کر احادیث نقل کرتا ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩١٩)
حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ پہنچانے. (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩٢٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب سے روایت حسن صحیح ہے۔ عبد اللہ بن عمرو سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کہ وہ ہم میں سے نہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری سنت اور طریقے پر نہیں ۔ علی بن مدینی یحیی بن سعید سے نقل کرتے ہیں کہ سفیان ثوری اس تفسیر کا انکار کرتے تھے۔سو ہم میں سے نہیں یعنی ہماری ملت سے نہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ،حدیث نمبر ١٩٢١)
لوگوں پر رحم کرنا حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اس باب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف، ابو سعید ،ابن عمر ،ابوہریرہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے ابو القاسم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو فرماتے ہوئے سنا رحمت بد بخت ہی کے دل سے نکالی جاتی ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ابو عثمان جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ہمیں ان کا نام معلوم نہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ یہ موسیٰ بن ابو عثمان کے والد ہیں، جن سے ابو الزناد راوی ہیں۔ ابو زناد نے بواسطہ موسیٰ بن ابو عثمان ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا اللہ تعالی تم پر رحمت فرمائے گار رحم، رحمن کی جڑ رگ سے ہے۔(رحمن سے مشتق ہے)جو اس کو ملائے گا اللہ تعالیٰ کا وصل پائے گا۔ اور جو اسے قطع کرے گا اللہ تعالیٰ سے اسکا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-أبواب البر والصلة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ١٩٢٤)
خیر خواہی حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کی بیعت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ،حدیث نمبر ١٩٢٥)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دین، خیر خواہی ( کا نام) ہے۔ تین مرتبہ فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!کس کی خیر خواہی ؟ آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، ائمہ اسلام اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ یہ حدیث حسن ہے،اس باب میں حضرت ابن عمر، تمیم داری،جریر،حکیم بن ابو یزید. بواسطہ والد ثوبان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّصِيحَةِ،حدیث نمبر ١٩٢٦)
مسلمان کی مسلمان پر شفقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس کی خیانت کرتا ہے نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ( دل کی طرف اشارہ فرمایا) کسی انسان کے لیے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٧)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن دوسرے مومن کے لیے دیوار کی طرح ہے کہ ایک حصہ دوسرے کی تقویت کا باعث ہے۔یہ حدیث صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت علی اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا آئینہ ہے۔اگر اس میں کوئی برائی دیکھے تو اسے مٹا دے، یحییٰ بن عبید اللہ کو شعبہ نے ضعیف کہا ہے۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي شَفَقَةِ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٢٩)
مسلمان کی پردہ پوشی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی کسی مسلمان سے کوئی دنیوی سختی دور کرے اللہ تعالٰی اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور فرمائے گا۔ اور جب آدمی دنیا میں کسی تنگدست کو آسانی پہنچائے ۔ اللہ تعالٰی اسے دنیا و آخرت میں خوش حال فرمائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی مدد میں رہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے ابو عوانہ اور کئی دوسرے حضرات نے اسے بواسطہ اعمش اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت نقل کیا ۔ حدیث عن ابی صالح " ( مجہول الفاظ)کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّتْرِ عَلَى المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣٠)
مسلمان سے مصیبت دور کرنا حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص اپنے بھائی کی عزت کو تنگی سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ سے بچائے گا۔ اس باب میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّبِّ عَنْ عِرْضِ المُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣١)
ترک تعلقات کی ممانعت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے ( ناراض رہے) کہ دونوں کی ملاقات ہو تو یہ ادھر منہ پھیرے اور وہ ادھر منہ پھیر ہے۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ ، ھشام بن عامر اور ابو ہند داری رضی اللہ عنہم سے بھی یہ روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الهَجْرِ لِلْمُسْلِمِ،حدیث نمبر ١٩٣٢)
مسلمان بھائی کی غم خواری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔حضرت سعد نے فرمایا آؤ میں اپنا مال تقسیم کر کے آدھا تمہیں دے دوں۔اور میری دو بیویاں ہیں میں ایک کو طلاق دیتا ہوں۔جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لینا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد اور مال میں برکت فرمائے۔ مجھے بازار کا راستہ بتاؤ انہوں نے بازار کا راستہ بتا دیا وہ بازار سے اس دن اس حالت میں واپس آئے کہ ان کے پاس پنیر اور گھی تھا جسے وہ پہلے سے زیادہ لائے تھے اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ ان پر زردی کے نشان ہیں فرمایا کیا بات ہے؟ عرض کیا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا مہر مقرر کیا ہے عرض کیا ایک گٹھلی بھر سونا، حمید کہتے ہیں یا عرض کیا گٹھلی کے ہم وزن سونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کے ساتھ ہی ہو۔یہ حدیث حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں گھٹلی بھر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے۔اسحاق فرماتے ہیں پانچ درہم ہوتا ہے۔ مجھے امام ترمذی کو احمد بن حنبل اور اسحاق رحمہما اللہ سے اسحاق بن منصور نے اس بات کی خبر دی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مُوَاسَاةِ الأَخَ،حدیث نمبر ١٩٣٣)
غیبت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! غیبت کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ پوچھا بتائیے! اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو پھر بھی غیبت ہے؟فرمایا اگر وہ بات اس میں ہے جو تو کہ رہا ہے تو یہ غیب ہے۔ اور اگر اس میں نہیں تو تو نے بہتان باندھنا۔اس باب میں حضرت ابو برزہ، ابن عمر اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الغِيبَةِ،حدیث نمبر ١٩٣٤)
حسد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا نہ قطع تعلق کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھرو نہ ایک دوسرے سے بغض و عداوت رکھو اور نہ آپس میں حسد کرو۔ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے رہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق ، زبیر بن عوام، ابن عمر، ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَسَدِ ،حدیث نمبر ١٩٣٥)
حضرت سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما)سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشک صرف دو آدمیوں پر جائز ہے۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا وہ رات اور دن اس میں سے راہ خدا وندی میں خرچ کرتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا وہ اس کے ساتھ رات اور دن نمازوں میں قیام کرتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عبد الله بن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الحَسَدِ ،حدیث نمبر ١٩٣٦)
باہمی دشمنی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے۔ کہ نمازی اس کی پوجا کریں لیکن وہ انہیں لڑنے پر اکساتا ہے۔ اس باب میں حضرت انس اور سلیمان بن عمرو بن احوص(بواسطہ والد ) رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ابوسفیان کا نام طلحہ بن نافع ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّبَاغُضِ ،حدیث نمبر ١٩٣٧)
حضرت حمید بن عبد الرحمن اپنی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں ۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں۔وہ اچھی بات کہے یا دوسرے تک پہنچائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ البَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٣٨)
باہم صلح کرانا حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ تین باتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔ خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے ۔ لڑائی کے موقعہ پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا، محمود نے اپنی روایت میں" لَا يَحِلُّ الكَذِبِ" کی جگہ" «لَا يَصْلُحُ الكَذِبُ" کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ اسماء کی حدیث سے ہم اسے صرف ابن خثیم کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ داؤد بن ابی ہند نے یہ حدیث شهر بن حوشب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ حضرت اسماء کا واسطہ مذکور نہیں ہمیں ابو کریب نے بواسطہ ابن ابی زائدہ ، داؤد بن ابی ہند سے اس کی خبر دی۔اس باب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ البَيْنِ،حدیث نمبر ١٩٣٩)
خیانت اور دھوکہ حضرت ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی کو ضرر پہنچائے اللہ تعالی اسے تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ اور جو کسی کو مشقت میں ڈالے اللہ تعالے اسکو مشقت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِيَانَةِ وَالغِشِّ،حدیث نمبر ١٩٤٠)
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مومن کو تکلیف پہنچائے یا دھوکہ دے وہ ملعون ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الخِيَانَةِ وَالغِشِّ،حدیث نمبر ١٩٤١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرئیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا وہ اسے وارث بنا کر چھوڑیں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٢)
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے ان کے گھر بکری ذبح کی گئی۔جب آپ تشریف لائے تو پوچھا کیا تم نے اپنے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا ہے(دو مرتبہ پوچھا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے متواتر پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے، اس باب میں حضرت عائشہ، ابن عباس ، عقبہ بن عامر، ابو هريره ، انس، عبد الله بن عمرو،مقداد بن اسود ، ابو شریح اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے۔ بواسطہ مجاہد حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما سے بھی سے مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھیوں کے حق میں بہتر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے،ابو عبد الرحمن حبلی کا نام عبدالله بن یزید ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الجِوَارِ،حدیث نمبر ١٩٤٤)
خادم سے اچھا سلوک کرنا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائیوں کو جوانی کی حالت میں تمہارا ما تحت بنایا پس جس کا مسلمان بھائی اس کے ماتحت ہوتا ہے چاہیے کہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھانا اور لباس میں سے لباس دے اور اسے ایسی تکلیف نہ ہو جو اس پر غالب ہو جائے اگر ایسی تکلیف دے تو اس کی مدد بھی کرے ۔ اس باب میں حضرت علی ، ام سلمہ، ابن عمر، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الخَدَمِ،حدیث نمبر ١٩٤٥)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔یہ حدیث غریب ہے ایوب سختیانی اور کئی دوسرے حضرات نے فرقد سبخی کے بارے میں ان کے حفظ کی بنا پر کلام کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الخَدَمِ،حدیث نمبر ١٩٤٦)
خادم کو مارنا اور گالی دینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت ابو القاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی جبکہ وہ اس سے بری ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس قائل پر حد قائم کرے گا البتہ یہ کہ وہ غلام ایسا ہی ہو جیسا اس نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت سوید بن مقرن اور عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ ابن ابی نعم، عبدالہ الرحمن بن ابی نعم بجلی ہیں ان کی کنیت ابوالحکم ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الخَدَمِ وَشَتْمِهِمْ،حدیث نمبر ١٩٤٧)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا۔ اے ابو مسعود!جان لو ابو مسعود جان لو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول کرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ آپ نے فرمایا البتہ اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قادر ہے،جتنا تو اس پر قادر ہے۔حضرت عبد الله بن مسعود فرماتے ہیں۔اس کے بعد میں نے کبھی بھی غلام کو نہیں مارا ۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابراہیم تیمی،ابراہیم بن یزید بن شریک ہیں ۔ (ترمذی شریف-بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الخَدَمِ وَشَتْمِهِمْ،حدیث نمبر ١٩٤٨)
خادم کو معاف کر دینا حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا۔ عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!میں خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ آپ خاموش رہے پھر عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خادم کو کتنی بار معاف کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"ہر روز ستر مرتبہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ عبد الله بن وھب نے ابو ہانی خولانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے، اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے یہ حدیث عبداللہ بن وہب سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن سند میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے بجائے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کا نام بیان کیا ہے. (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي العَفْوِ عَنِ الخَادِمِ،حدیث نمبر ١٩٤٩)
خادم کا ادب حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مار رہا ہو اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو اس سے اپنے ہاتھ اٹھائے، ابو ہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے ابو ہارون عبدی کو ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ فرماتے ہیں ابن عون برابر ابو ہارون عبدی سے روایت کرتے رہے۔یہاں تک کہ ان انتقال ہو گیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ ماجا فی ادب الخادم،حدیث نمبر ١٩٥٠)
اولاد کو ادب سکھانا حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ناصح بن علاء کوفی، محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔یہ حدیث اسی طریق سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک دوسرے ناصح بصری شیخ ہیں۔ وہ عمارہ بن ابو عمارہ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس ناصح سے اثبت ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩٥١)
حضرت ایوب بن موسیٰ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی والد اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے بہتر عطیہ نہیں دیتا۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عامر بن ابو عامر خزار کی روایت سے پہچانتے ہیں،ایوب بن موسیٰ، ابن عمرو بن سعید بن العاص ہیں۔میرے(امام ترمذی)کے نزدیک یہ حدیث مرسل ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الوَلَدِ،حدیث نمبر ١٩٥٢)
ہدیہ قبول کرنا اور اسکا بدلہ دینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ دیا کرتے تھے، اس باب میں حضرت ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے۔ ہم اسے صرف عیسیٰ بن یونس کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبُولِ الهَدِيَّةِ وَالمُكَافَأَةِ عَلَيْهَا،حدیث نمبر ١٩٥٣)
محسن کا شکریہ ادا کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ،حدیث نمبر ١٩٥٤)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جو آدمی لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ،حدیث نمبر ١٩٥٥)
نیکی کے کام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے۔کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر ہٹانا اور ہڈی (وغیرہ) ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود ، جابر، حذیفہ ، عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ابو زمیل سماک بن ولید حنفی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ المَعْرُوفِ،حدیث نمبر ١٩٥٦)
عاریت دینا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے دودھ یا ورق (رقم) کی عاریت دی یا سیدھا راستہ بتایا۔اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ، ابو اسحق کی روایت سے غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ منصور بن معتمر اور شعبہ نے اسے طلحہ بن مصرف سے روایت کیا۔اس باب میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ورق کی عاریت دینے سے مراد یہ ہے کہ روپے پیسے کا قرض دینا۔ هَدَى زُقَاقًا" کا مطلب راستہ دکھانا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِنْحَةِ،حدیث نمبر ١٩٥٧)
راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے کانٹے دار شاخ دیکھی اس نے اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالی نے اس کا یہ عمل قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا ۔ اس باب میں حضرت ابو برزہ، ابن عباس اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ،حدیث نمبر ١٩٥٨)
مجالس امانت کے ساتھ ہیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی بات کہہ کر چلا جائے تو وہ امانت ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے ابن ابی ذہب کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ المَجَالِسَ أَمَانَةٌ،حدیث نمبر ١٩٥٩)
سخاوت حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس وہی کچھ ہے جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیا ہے۔کیا میں اس سے بھی دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں( دینا) بند نہ کرو ورنہ تم پر بھی بندش کی جائے گی۔اس باب میں حضرت عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ ہے بواسطه ابن ابی ملیکہ اور عباد بن عبد الله بن زبیر،حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ،کئی لوگوں نے اسے ایوب سے روایت کیا لیکن حضرت عباد بن عبد اللہ بن زبیر کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ،حدیث نمبر ١٩٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا سخی اللہ تعالیٰ سے قریب،جنت سے قریب ہے اور لوگوں سے قریب ہوتا ہے۔بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ، جنت سے دور، لوگوں سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو جاہل سخی، بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ہم بواسطہ یحیی بن سعید اور اعرج، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو صرف سعید بن محمد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اس حدیث کی روایت میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے بواسطه یحی بن سعید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل مروی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ،حدیث نمبر ١٩٦١)
بخل حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مومن میں یہ دو عادتیں نہیں ہو سکتیں۔بخل اور بداخلاقی۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات مذکور ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٢)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مکار، بخیل ، اور احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہوں گے، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن شریف بزرگ ہوتا ہے اور بدکار دھوکہ باز بخیل ہوتا ہے۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي البَخِيلِ،حدیث نمبر ١٩٦٤)
اہل و عیال پر خرچ کرنا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کا اہل وعیال پر خرچ کرنا صدقہ ہے ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو ، عمرو بن امیہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ،حدیث نمبر ١٩٦٥)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بہترین دینار وہ ہے جسے آدمی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے اور وہ دینار جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی سواری پر خرچ کرے اور وہ دینار جسے کوئی شخص اللہ تعالی کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرج کرے ابو قلابہ فرماتے ہیں آپ نے اہل و عیال سے شروع فرمایا پھر فرمایا اس شخص سے زیادہ باعظمت کون ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرج کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب ان کو پاک دامن رکھتا ہے اور اس کے ذریعے انہیں غنی کرتا ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ،حدیث نمبر ١٩٦٦)
مهمان نوازی حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شحض کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے اسے اپنے مہمان کی اچھی طرح مہمان نوازی کرنا چاہیے صحابہ کرام نے پوچھا پر تکلفت مہمانی کب تک ہے آپ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات ضیافت تین دن رات تک ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے اور جس کا اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ كَمْ هِيَ،حدیث نمبر ١٩٦٧)
حضرت ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن ہے۔ پر تکلف مہمان نوازی ایک دن رات ہے اور اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے اتنا ٹھہرنا جائز نہیں جس سے صاحب خانہ تنگ ہو جائے۔ اس باب میں حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مروی ہیں ۔ ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، «الحرج» کا معنی «الضيق» (تنگی ہے) اور «حتى يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ كَمْ هِيَ،حدیث نمبر ١٩٦٨)
بیوہ اور یتیم کی خبر گیری کرنا حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ اور محتاج کی خبر گیری کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ یا اس شخص کی طرح جو دن کو روزہ رکھتا ہے۔اور رات کو نماز میں کھڑا رہتا ہے ۔ انصاری نے بواسطہ معن، مالک، ثور بن زید اور ابوالغیث،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل حدیث روایت کیا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ابو الغیث کا نام سالم مولی عبد الله بن مطیع ہے، ثور بن یزید شامی ہیں ۔ اور ثور بن زید مدنی ہے (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ عَلَى الأَرْمَلَةِ وَاليَتِيمِ،حدیث نمبر ١٩٦٩)
خندہ پیشانی اور خوش روئی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے یہ بھی ایک نیکی ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئے۔اور یہ کہ تو اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دے ۔ اس باب میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقَةِ الوَجْهِ وَحُسْنِ البِشْرِ،حدیث نمبر ١٩٧٠)
سچ اور جھوٹ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سچ کو لازم پکڑو بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور اسکا قصد کرتا رہتا ہے۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے اجتناب کرو بے شک جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسکا ارادہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔اس باب میں حضرت ابوبکر، عمر، عبداللہ بن شخیر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کی بو کی وجہ سے اس آدمی سے ایک میل دور چلے جاتے ہیں یحییٰ فرماتے ہیں۔ عبدالرحیم بن ہارون نے اس کا اقرار کیا اور کہا ہاں ، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ عبد الرحیم بن ہارون اس میں متفرد ہیں ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧٢،و حدیث نمبر ١٩٧٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کر لی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ،حدیث نمبر ١٩٧٣)
بے حیائی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بناتی ہے۔ اور حیاء جس چیز میں آتا ہے اسے مزین کر دیتا ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ،حدیث نمبر ١٩٧٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ فاحش تھے اور نہ بتکلف فحش اختیار کرنے والے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ،حدیث نمبر ١٩٧٥)
لعنت بھیجنا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ، غضب اور دوزخ کی پھٹکارہ نہ بھیجو۔اس باب میں حضرت ابن عباس، ابو ہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت طعن کرنے والا، بہت لعنت کرنے والا ، بے حیاء اور بیہودہ بکنے والا کامل مومن نہیں ہو سکتا، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس طریق کے علاوہ بھی مروی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے ہوا پر لعنت بھیجی آپ نے فرمایا ہوا کو گالی نہ دو یہ تو پابند حکم ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے جو اس کی مستحق نہیں تو لعنت اس کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم بشر بن عمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اس کو مسند بیان کیا ہو۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ،حدیث نمبر ١٩٧٨)
نسب کی تعلیم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا نسب کی اتنی تعلیم (ضرور)حاصل کرو جس کے ذریعے اپنے رشتہ داروں سے مل سکو کیونکہ صلہ رحمی اپنے لوگوں سے محبت ، دولت کی زیادتی اور عمر کی بڑھنے کا سبب ہے۔یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ النَّسَبِ ،حدیث نمبر ١٩٧٩)
اپنے بھائی کے لیے پس پشت دعا کرنا حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دعا اس سے زیادہ جلد مقبول نہیں ہوتی جس قدر غائب کی دعا غائب کے حق میں مقبول ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ افریقی کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے ۔ اور یہ عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الغَيْبِ،حدیث نمبر ١٩٨٠)
گالی دینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں وہ ان میں سے ابتداء کرنے والے پر ہے۔ جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ اس باب میں حضرت سعد، ابن مسعود اور عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨١)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کو گالی نہ دو اس طرح زندوں کو ایذاء پہنچاؤ گے۔اصحاب سفیان کا اس حدیث میں اختلاف ہے بعض نے حفری کی روایت کی مثل روایت کی اور بعض نے بواسطہ سفیان، زیاد بن علاقہ سے روایت کی ۔ میں امام ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ کے پاس ایک آدمی سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کرتے تھے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨٢)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ اور اسے قتل کرنا کفر ہے، زبید کہتے ہیں میں نے ابو وائل سے پوچھا تم نے عبداللہ سے سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں"۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ ،حدیث نمبر ١٩٨٣)
اچھی بات کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں بالا خانے ہیں جن کے بیرونی حصے اندر سے اور اندر کے حصے باہر سے نظر آتے ہوں گے۔ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کس کے لیے ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے ، ہمیشہ روزہ رکھے اور رات کو نماز ادا کرے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ۔یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرت عبد الرحمن بن اسحق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ ،حدیث نمبر ١٩٨٤)
نیک غلام کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک کے لیے کیا اچھی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بھی کرے اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرے۔کعب فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المَمْلُوكِ الصَّالِحِ ،حدیث نمبر ١٩٨٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جو مشک کے ٹیلے پر ہوں گے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا قیامت کے دن وہ غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کیا۔ وہ شخص جس نے قوم کی امامت کی اور وہ قوم اس پر راضی ہو۔ اور وہ آدمی جو رات دن میں پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف سفیان کی روایت سے پہچانتے ہیں، ابو الیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ المَمْلُوكِ الصَّالِحِ،حدیث نمبر ١٩٨٦)
لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو تم جہاں بھی ہو۔ گناہ کے بعد نیکی کرو وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ ابو احمد و ابو نعیم اور سفیان حبیب سے اسی سند سے اس کے ہم معنی ذکر کیا ہے۔محمود کہتے ہیں ہم سے وکیع نے بواسطہ سفیان،حبیب بن ابی ثابت،میمون بن ابی شبیب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ محمود فرماتے ہیں حضرت ابوذر کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاشَرَةِ النَّاسِ،حدیث نمبر ١٩٨٧)
بدگمانی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گمان سے بچو کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں(امام ترمذی) نے عبد بن حمید سے سنا وہ اصحاب سفیان سے نقل کرتے ہیں کہ سفیان نے فرمایا گمان دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم کا گمان گناہ ہے جب کہ دوسری قسم گناہ نہیں،گمان کرے پھر اسے زبان سے ظاہر کرے تو یہ گناہ ہے اور دل میں گمان ہو۔ لیکن زبان پر نہ لائے تو یہ گناہ نہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي ظَنِّ السُّوءِ،حدیث نمبر ١٩٨٨)
مزاح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملے جلے رہتے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے ابو عمیر!تمہارے تغیر کو کیا ہوا(تغیر ایک چھوٹا پرندہ)۔ ہناد نے بواسطہ وکیع،شعبہ اور ابو التیاح، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابو التیاح کا نام یزید بن حمید ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سچی بات ہی تو کہتا ہوں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔(تدا عبنا)یعنی آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے جانور مانگا آپ نے فرمایا میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوٹنیاں ہی تو اونٹ کو جنتی ہیں۔یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے دو! کانوں والے! محمود کہتے ہیں ابو اسامہ نے فرمایا کہ آپ نے اس طرح ان الفاظ کے ساتھ مزاح فرمایا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِزَاحِ،حدیث نمبر ١٩٩١)
جھگڑا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے باطل جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اس کے لیے بہشت کے کنارے پر مکان بنایا جائے گا۔اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے اس کے لیے جنت کے در میان مکان بنایا جائیگا اور خوش اخلاق کے لیے جنت کے اوپر والے حصہ میں مکان بنایا جائیگا۔یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے پہچانتے ہیں جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے یہ گناہ کافی ہے کہ تم مسلسل جھگڑتے رہو۔ یہ حدیث غریب ہے۔اس طرح ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے (مسلمان) بھائی سے جھگڑا نہ کرو، مزاح نہ کرو اور نہ اس سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرو!یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المِرَاءِ،حدیث نمبر ١٩٩٥)
خاطر مدارات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی میں آپ کی خدمت میں موجود تھی۔آپ نے فرمایا قبیلہ کا یہ بیٹا یا فرمایا، قبیلہ کا یہ بھائی کیا ہی برا ہے، پھر اسے اجازت مرحمت فرمائی، اور اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اس کے بارے یہ بات فرمائی تھی پھر آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو فرمائی۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! وہ شخص بدترین ہے جسے لوگ محض اس کی فخش کلامی سے بچتے ہوئے چھوڑ دےیا رخصت کردیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُدَارَاةِ،حدیث نمبر ١٩٩٦)
دوستی اور دشمنی میں میانہ روی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعا بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دوست سے کچھ ہلکی محبت رکھو ہو سکتا ہے کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے۔ اور دشمن سے دشمنی میں بھی میانہ روی اختیار کر ممکن ہے کسی دن وہ تمہارا دوست بن جائے۔یہ حدیث غریب ہے۔اس سند سے ہم اس کو صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ایوب سے یہ حدیث دوسری اسناد سے بھی مروی ہے۔حسن بن ابو جعفر نے اسے روایت کیا لیکن ضعیف ہے ۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ صحیح یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاقْتِصَادِ فِي الحُبِّ وَالبُغْضِ،حدیث نمبر ١٩٩٧)
غرور و تکبر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔ اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، ابن عباس ، سلمہ بن اکوع اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ١٩٩٨)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا، ایک آدمی نےعرض کیا مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے اچھے ہوں اور جوتا اچھا ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» (سورۃ آل عمران: ۱۹۲) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ١٩٩٩)
حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنا درجہ بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ تکبر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اسے وہ مصیبت پہنچتی ہے جو متکبرین کو پہنچتی ہے،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ٢٠٠٠)
حضرت نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ میں تکبر ہے۔ حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوا میں نے چادر پہنی اور بکری کا دودھ دوہا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جو آدمی یہ امور سر انجام دے اس میں کسی قسم کا تکبر نہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الكِبْرِ،حدیث نمبر ٢٠٠١)
خوش اخلاقی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامےت کے دن مومن کی میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے حیا بدگو سے نفرت فرماتا ہے۔اس باب میں حضرت عائشہ، ابو ہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٢)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو چیزیں میزان میں رکھی جائیں گی ان میں اچھے اخلاق سب سے زیادہ بھاری ہوں گے۔ بے شک خوش اخلاق آدمی اچھے اخلاق کے ذریعے روزہ دار اور نمازی کا درجہ پالیتا ہے ۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سے اعمال ہیں جو لوگوں کو بکثرت جنت میں لے جائیں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا خوف (تقوی)اور اچھے اخلاق اور ان چیزوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا جو زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں تو فرمایا منہ(زبان) اور شرمگاہ یہ حدیث صحیح غریب ہے۔اور عبد اللہ بن ادریس، یزید بن عبد الرحمن اودی ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٤)
احمد بن عبدہ نے بواسطہ ابو وہب حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔انہوں نے خوش اخلاقی کی تعریف میں فرمایا کشادہ روئی۔خوب بھلائی کرنا اور تکلیف دور کرنا خوش اخلاقی ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الخُلُقِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٥)
احسان کرنا اور معاف کرنا حضرت ابو الاحوص اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک آدمی کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا پھر وہ میرے ہاں سے گزرتا ہے کیا میں اسے اس کا بدلہ دوں! آپ نے فرمایا: نہیں! بلکہ اس کی مہمان نوازی کرو فرماتے ہیں آپنے مجھے میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر پوچھا کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کیا ہر قسم کا مال ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ اور بکریاں عطا فرمائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر اس کا ان کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔اس باب میں حضرت عائشہ ، جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے۔اقرہ،کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مہمان نوازی کرو! قرء،ضیافت کے معنی میں ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،حدیث نمبر ٢٠٠٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہر ایک کی رائے پر نہ چلو یعنی یوں نہ کہو کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی کریں گے بلکہ اپنے آپ پر اعتماد و اطمینان رکھو، اگر لوگ بھلائی کریں تو بھلائی کرو اور اگر برائی کریں تو ظلم نہ کرو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،حدیث نمبر ٢٠٠٧)
بھائیوں سے ملاقات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایک منادی پکارتا ہے تو پاک ہو،تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہو اور تو نے جنت میں اپنی جگہ بنالی۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ ابو سفیان کا نام عیسی بن سنان ہے ۔ حماد بن سلمہ نے بواسطہ ثابت ، ابو رافع اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٨)
حیاء حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے،بے حیائی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جاتا ہے،اس باب میں حضرت ابن عمر ، ابوبکرہ ، ابو امامہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ ،حدیث نمبر ٢٠٠٩)
توقف اور عجلت حضرت عبد اللہ بن سرجس المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا طریقہ ، توقف اور میانہ روی ، نبوت کا چو بیسواں حصہ ہے۔اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنما سے بھی روایت مذکو رہے۔ قتیبہ نے بواسطہ نوح بن قیس ، عبد اللہ بن عمران اور عبد الله بن سرجس ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی عاصم کا واسطہ مذکور نہیں نصر بن علی کی روایت صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبد القیس سے فرمایا تم میں دو ایسی خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ بردباری اور توقف(جلد بازی نہ کرنا)اس باب میں حضرت اشج عصری رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١١)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کام میں جلد بازی نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔یہ حدیث غریب ہے۔ بعض لوگوں نے عبدالمھیمن بن عباس کے بارے میں کلام کیا اور انہیں حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأَنِّي وَالعَجَلَةِ،حدیث نمبر ٢٠١٢)
نرمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصہ سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصہ سے محروم رکھا گیا۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، جریر بن عبد الله اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّفْقِ ،حدیث نمبر ٢٠١٣)
مظلوم کی دعا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا مظلوم کی دعا سے ڈرنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالٰی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو معبد کا نام نافذ ہے۔ اس باب میں حضرت انس ابو ہریرہ، عبد اللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ المَظْلُومِ،حدیث نمبر ٢٠١٤)
اخلاق نبوی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی آپ نے مجھے کبھی اف تک بھی نہیں کہا۔کسی کام کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوش خلق تھے۔ میں نے اون اور ریشم سے مخلوط اور محض ریشمی کپڑے کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایا ۔ میں نے مشک اور عطر کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارکہ سے زیادہ خوشبودار نہیں پایا، اس باب میں حضرت عائشہ اور براء رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٢٠١٥)
حضرت ابو عبد اللہ جدلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مبارکہ کے بارے میں پوچھا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ نہ تو طبعا فحش گو تھے نہ بتکلف فحش کہنے والے آپ بازاروں میں شور کرنے والے بھی نہ تھے۔اور آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر فرماتے ،یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابو عبد اللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے،عبد الرحمن بن عبد بھی کہا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٢٠١٦)
حسن وفا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مجھے جس قدر رشک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر ہوا اتنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ پر نہیں ہوا ۔ حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کثرت سے ذکر فرماتے اور اگر بکری ذبح کرتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو تلاش کرتے اور ان کے ہاں ہدیہ بھیجتے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ العَهْدِ،حدیث نمبر ٢٠١٧)
بلند اخلاق حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہیں اور میرے نزدیک تم میں سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے زیادہ دور ہونے والے وہ لوگ ہیں جو بہت بولنے والے،لوگوں سے زبان درازی کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم!بہت باتوں اور زبان دراز کا تو ہمیں علم ہے" المُتَفَيْهِقُونَ،بلا احتیاط بولنے والے کون ہیں؟فرمایا تکبر کرنے والے۔اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ۔ یہ حدیث حسن اس طریق سے غریب ہے ۔الثَّرْثَارُ بہت کام کرنے والا المُتَشَدِّقُ گفتگو کے ذریعے لوگوں پر فخر کرنے والا۔بعض لوگوں نے یہ حدیث بواسطه مبارک بن فضاله محمد بن منکدر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ عبدربہ بن سعید کا واسطہ مذکور نہیں یہ زیادہ صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الأَخْلَاقِ ،حدیث نمبر ٢٠١٨)
لعن طعن کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے بعض لوگوں نے یہ حدیث اس سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت بھیجنے والا ہو ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّعْنِ وَالطَّعْنِ،حدیث نمبر ٢٠١٩)
زیادہ غصہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیاده نہ ہو تاکہ یاد رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کھانا۔آپ نے یہ بات چند مرتبہ دہرائی کہ غصہ نہ کھانا۔ اس باب میں حضرت ابوسعید اور سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے ۔ ابو حسین کا نام عثمان بن عاصم اسدی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ الْغَضَبِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٠)
حضرت سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص غصہ پی لے حالانکہ وہ اس کے نفاذ پر قادر ہو۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کرے۔یہ حدیث حسن غریب۔ (ترمذی شریف-بَابٌ فِي كَظْمِ الغَيْظِ،حدیث نمبر ٢٠٢١)
بڑوں کی تعظیم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو نوجوان کسی بوڑھے کے سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس جوان کے لیے کسی کو مقر فرما دیتا ہے جو اسکے بڑھاپے کے دور میں اس کی عزت کرےگا۔یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی شیخ یزید بن بیان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ابو الرجال انصاری دوسرے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجْلَالِ الكَبِيرِ،حدیث نمبر ٢٠٢٢)
دو باہم ناراض آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر غیر مشرک کی بخشش ہوتی ہے۔البتہ! ایسے دو آدمی جو آپس میں ناراض ہو کر جدا ہو گئے ہوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں کو واپس کر دو یہاں تک کہ صلح کرلیں۔یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں کی صلح کرنے تک چھوڑ دو " مہاجرین" سے ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنے والے مراد ہیں۔یہ اس کی مثل ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَهَاجِرَيْنِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٣)
صبر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انصار کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا آپ نے عطا فرمایا۔ پھر مانگا آپ نے دوبارہ عطا فرمایا،اس کے بعد فرمایا میرے پاس جو کچھ مال ہوگا میں اسے تم سے روک کر ہرگز جمع نہیں کروں گا۔جو بے نیازی اختیار کرے گا اللہ تعالٰی اسے بے نیاز کر دے گا۔جو مانگنے سے بچے گا اللہ تعالٰی اسے بچائے گا،جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا فرمائیگا اور کسی کو صبر سے اچھی اور کشادہ چیز نہیں دی گئی،اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مالک سے یہ حدیث «فَلَنْ أَدَخَرَهُ،دال اور ذال دونوں کے ساتھ مروی ہے۔یعنی ایک ہیں کہ میں تم سے روک کر نہیں رکھوں گا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَهَاجِرَيْنِ ،حدیث نمبر ٢٠٢٤)
دو منہ والا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالی کے نزدیک بدترین آدمی وہ ہے جس کے دو منھ ہو یعنی ایک کے ساتھ اور بات دوسرے کے ساتھ اور بات کرنے والا، اس باب میں حضرت عمار اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الوَجْهَيْنِ،حدیث نمبر ٢٠٢٥)
چغل خور حضرت همام بن حارث فرماتے ہیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو ان سے کہا گیا کہ یہ شخص لوگوں کی باتیں حاکموں تک پہنچاتا ہے ۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سفیان کہتے ہیں"قتات"چغل خور کو کہتے ہیں،یہ حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی شریف-بَابُ ماجاء فی النمام،حدیث نمبر ٢٠٢٦)
کم گوئی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں۔فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کے شعبے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے ابو غسان محمد بن مطرف کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ العی " قلت، کلام، البذاء فحش گوئی، البیان ، کثرت کلام، جس طرح ان خطباء کی عادت ہے۔ کہ خطبہ دیتے وقت بات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اور لوگوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي العی ،حدیث نمبر ٢٠٢٧)
بعض بیان جادو ہوتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں دو آدمی آئے اور انھوں نے تقریر کی لوگ ان کی گفتگو سے تعجب کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتا ہے ۔ اس باب میں حضرت عمار، ابن مسعود اور عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنَّ مِنَ البَيَانِ سِحْرًا،حدیث نمبر ٢٠٢٨)
تواضع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔عفو و درگزر سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے۔اور جو تواضع کرے اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ اس باب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف، ابن عباس اور ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّوَاضُعِ،حدیث نمبر ٢٠٢٩)
ظلم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ظلم، قیامت کے اندھیروں سے ہے۔اس باب میں حضرت عبد الله بن عمرو، عائشہ، ابو موسیٰ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث ابن عمر کی روایت سے غریب ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي الظُّلْمِ،حدیث نمبر ٢٠٣٠)
نعمت میں عیب جوئی نہ کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا خواہش ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابو حازم اشجعی ہیں۔ ان کا نام سلمان مولی عزہ اشجعیہ ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ العَيْبِ لِلنِّعْمَةِ،حدیث نمبر ٢٠٣١)
مومن کی تعظیم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو ئے اور بلند آواز سے پکار کر فرمایا۔ اے وہ گروہ جو زبان سے اسلام لائے لیکن انکے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا مسلمانوں کو ایذا نہ دو ان کو عیب مت لگاؤ اور ان کے عیبوں کے پیچھے مت پڑو!جو آدمی اپنے مسلمان بھائی کے عیوب تلاش کرتا اللہ تعالٰی اس کے عیب کے پیچھے پڑتا ہے یعنی ظاہر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے عیوب کے پیچھے پڑا اسے ذلیل کیا۔اگر چہ وہ اپنی منزل میں ہو،نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن کعبہ شریف کی طرف دیکھا اور فرمایا تو کسی قدر با عظمت ہے اور تیری عزت کتنی عظیم ہے۔ لیکن مومن کی عزت اللہ تعالی کے نزدیک تیری عزت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔اسحق بن ابراہیم سمرقندی نے اسے حسین بن واقد سے اسکے ہم معنی روایت کیا۔بواسطہ ابو برزہ سلمی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہم معنی مروی ہے ۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ المُؤْمِنِ ،حدیث نمبر ٢٠٣٢)
تجربات حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لغزش کھانے والا ہی برباد ہوتا ہے۔اور تجربہ کار ہی دانا ہوتا ہے۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّجَارِبِ ،حدیث نمبر ٢٠٣٣)
جو چیز نہیں دی گئی اس کا ظاہر کرنے والا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جو کچھ عطیہ دیا گیا پھر وہ غنی ہوگیا تو چاہیے کہ بدلہ دے اور جس کو کچھ نہ ملا وہ زبان سے تعریف کرے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکریہ ادا کر دیا۔اور جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی،اور جس نے اپنے آپ کو ایسے لباس سے آراستہ کیا جو اسے نہیں دیا گیا وہ جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے،اس باب میں حضرت اسما بنت ابو بکر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔یہ حدیث حسن غریب ہے۔من کتم فقد کفر،سے مراد ناشکری ہے۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ،حدیث نمبر ٢٠٣٤)
نیکی کے ساتھ تعریف کرنا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے نیکی کرنے والے سے کہا اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا فرمائے۔اس نے پوری تعریف کی۔یہ حدیث حسن جید غریب ہے،ہم اسے اسامہ بن زید کی روایت سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔بواسطہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل مروی ہے۔میں(امام ترمذی)نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے،ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا،ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا: اسے ایک دینار دے دو، خازن نے کہا: میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہوگئے اور فرمایا: اسے دینار دے دو، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا، خط میں لکھا تھا: میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا: تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا۔ (ترمذی شریف-بَابُ مَا جَاءَ فِي المُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ،حدیث نمبر ٢٠٣٥)
Tirmizi Shareef : Abwabul Birri Wassilati
|
Tirmizi Shareef : ابواب البر والصلۃ
|
•