
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جبریل امین نے نے دو مرتبہ بیت اللہ شریف کے پاس میری امامت کی ، پہلی مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو گیا عصر اس وقت پڑھی جب ہر شئے کا سایہ اس کی مثل ہو گیا پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج غروب ہوا ، اور روزہ دار نے روزہ افطار کیا پھر عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے پر پڑھی صبح کی نماز طلوع فجر کے وقت ادا کی جس وقت روزہ دار پر کھانا حرام ہو جاتا ہے دوسری مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوجاتا ہے اور یہ وہ وقت ہے جس میں پہلی مرتبہ عصر کی نماز ادا کی تھی ، پھر ہر شئے کا سایہ دو مثل ہونے پر نماز عصر پڑھی ، مغرب پہلے وقت پر ادا کی عشاء کی نماز رات کا ایک تہائی گزرنے پر پڑھی ، پھر صبح کی نماز کس وقت پڑھی جب زمین روشن ہوگئی ، اس کے بعد حضرت جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ سے پہلے انبیاء کا وقت نماز یہی ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے اس باب میں حضرت ابوہریرہ بریدہ ، ابو موسیٰ ، ابو مسعود ، ابو سعید ، جابر ، عمرو بن حزم ، براء اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جبریل علیہ السلام نے میری امامت کی ،، پھر حضرت ابن عباس کی روایت کی طرح تفصیل بیان کی ، البتہ اس میں یہ نہیں کہ ،، کل جس وقت نماز عصر ادا کی تھی ،، اوقات کے بارے میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث عطاء بن ابی رباح عمرو بن دینار ، ابو زبیر نے بھی وہب بن کیسان کی مثل روایت کی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت ابن عباس کی حدیث حسن ہے ، امام بخاری کے نزدیک حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اوقات کے بارے میں اصح ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نماز کا ایک وقت آغاز ہے اور ایک وقت انتہا ، ظہر کا ابتدائی وقت سورج کا زوال ہے اور آخری وقت جب وقت عصر داخل ہو جائے عصر کا ابتدائی وقت جب یہ وقت (عصر کا ) داخل ہو جائے اور آخری وقت جب سورج کا رنگ پیلا پڑ جائے مغرب کا پہلا وقت غروب آفتاب ہے اور آخری وقت شفق کا غائب ہونا ، عشاء کا وقت شفق کے غائب ہوتے شروع ہوتا ہے اور نصف رات کو آخری وقت ہے صبح کا پہلا وقت طلوع فخر ہے اور انتہائی وقت طلوع آفتاب ہے اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں ، اوقات نماز کے بارے میں مجاہد سے اعمش کی روایت ، اعمش سے محمد بن فضیل کی روایت سے اصح ہے اس روایت میں محمد بن فضیل سے غلطی واقع ہوئی۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں ، کہا جاتا تھا کہ نماز کا ابتدائی اور آخری وقت ہوتا ہے ،، اس کے بعد محمد بن فضیل کی اعمش سے منقول روایت کے ہم معنی ذکر کیا ہے۔ سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں ، ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا ہمارے پاس ٹھہرو اللہ نے چاہا (تو تم کو معلوم ہو جائیگا ) پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا انہوں نے طلوع فجر کے وقت صبح کی اقامت کہی ، پھر حکم دیا تو زوال شمس کے وقت ظہر کی اقامت کہی اور نماز ظہر ادا کی پھر عصر کے لئے اس وقت اقامت کہی اور نماز پڑھی جب سورج ابھی سفید اور بلند تھا ، مغرب کے لئے غروب آفتاب کے وقت حکم دیا ، عشاء کے لئے شفق کے غائب ہونے کا وقت بتایا پھر دوسری صبح کا حکم فرمایا ، اور صبح کو روشن کر کے پڑھا ظہر کے لئے حکم فرمایا اور اسے خوب ٹھنڈا کیا ، پھر عصر کی اقامت کا حکم دیا اور ابھی سورج اپنے آخری کنارے پر تھا کہ آپ نے نماز عصر ادا فرمائی مغرب کے لئے شفق کے غائب ہونے سے کچھ پہلے ، حکم فرمایا پھر عشاء کا حکم دیا اور تہائی رات کے گزرنے پر یہ نماز ادا کی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا نماز کے اوقات پوچھنے نے والا کہاں ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا حضور ! میں حاضر ہوں ، آپ نے فرمایا ان دو (دونوں کی) نمازوں کے درمیان کا وقت ،نماز کا وقت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، شعبہ نے بھی اسے علقمہ بن مرثد کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ (ترمذی شریف ،کتاب الصلاۃ ،أَبْوَابُ الصَّلَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٤٩،و حدیث نمبر ١٥٠،و حدیث نمبر ١٥١،و حدیث نمبر ١٥٢)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھاتے اور عورتیں واپس لوٹ جاتیں ، انصاری (راوی) کہتے ہیں عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ، اس باب میں حضرت ابن عمر ، انس اور قیلہ بنت مخرمہ سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، متعدد صحابہ کرام ، جن میں حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں ، اور تابعین نے یہی قول اختیار کیا ہے ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی مسلک ہے کہ وہ صبح کی نماز اندھیرے میں پسند کرتے ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّغْلِيسِ بِالفَجْرِ،حدیث نمبر ١٥٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صبح کو سفید کیا کرو کیونکہ اس میں ثواب زیادہ ہے اس باب میں حضرت ابو برزہ جابر اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، شعبہ اور سفیان ثوری نے یہ حدیث محمد بن اسحٰق سے اور محمد بن عجلان نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے ، متعدد صحابہ کرام اور تابعین نے صبح کو سفید کر کے پڑھنے کو اختیار کیا ، سفیان ثوری (اور امام اعظم کا) یہی قول ہے ، امام شافعی ، احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں ، کہ اسفار کے معنی زیادہ روشنی کے نہیں ، بلکہ یہ کہ صبح کے طلوع ہونے میں شک باقی نہ رہے ، ان حضرات کے نزدیک اس کا مطلب نماز میں تاخیر نہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِسْفَارِ بِالفَجْرِ،حدیث نمبر ١٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق و عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر ظہر کی نماز زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا ، اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ ، خباب ، ابو برزہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت ، انس اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن ہے ، اور صحابہ کرام اور بعد والوں کے نزدیک یہ مختار ہے ، علی بن مدینی نے یحیٰی بن سعید کا قول نقل کیا کہ شعبہ نے حکیم بن جبیر کے روایت میں ان کی اس حدیث کے باعث کلام کیا جو انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو لوگوں سے سوال کرے حالانکہ اس کے پاس بقدر ضرورت موجود ہے الخ ، یحییٰ کہتے ہیں سفیان اور زائدہ نے ان سے روایت کی ہے اور یحییٰ بن معین نے ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں سمجھا امام بخاری فرماتے ہیں بواسطہ حکیم بن جبیر اور سعید بن جبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تعجیل ظہر کے بارے میں حدیث مروی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے زوال کے وقت ظہر کی نماز ادا فرمائی ،، یہ حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعْجِيلِ بِالظُّهْرِ،حدیث نمبر ١٥٥،و حدیث نمبر ١٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی زیادہ ہوجائے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی حرارت سے ہیں اس باب میں حضرت ابو سعید ، ابوذر ، ابن عمر ، مغیرہ ، قاسم بن صفوان اپنے والد سے ابو موسیٰ ، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت مروی ہے لیکن وہ صحیح نہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے علماء کی ایک جماعت نے گرمیوں میں تاخیر ظہر کو پسند کیا ہے ابن مبارک ، احمد اور اسحٰق (نیز امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) کا یہی قول ہے ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ظہر کی نماز کو وہاں ٹھنڈا کیا جائے جہاں مسجد میں لوگ دور دور سے آتے ہوں ، لیکن اکیلا نمازی اور محلے کی مسجد میں گرمیوں میں ٹھنڈا نہ کرنا زیادہ محبوب ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ، جن لوگوں نے گرمیوں میں تاخیر ظہر کا قول کیا ہے ان کا قول اتباع سنت کے زیادہ لائق ہے اور امام شافعی کی یہ بات کہ رخصت دور سے آنے والوں کے لئے ہے اور اس لیے کہ لوگوں کو دقت نہ ہو ، حضرت ابوذر کی حدیث اس کے خلاف ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے حضرت بلال نے نماز ظہر کی اذان کہی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ٹھنڈا کرو ، پھر ٹھنڈا کرو ، اگر امام شافعی کی دلیل صحیح ہو تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کیا مطلب ؟ کیوں کہ سفر میں وہ مجتمع تھے ، دور سے آنے کی احتیاج نہیں تھی ،، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے حضرت بلال ہمراہ تھے انہوں نے اقامت کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا ،، ظہر کو ٹھنڈا کرو ،، حضرت ابوذر فرماتے ہیں یہاں تک (ٹھنڈا کیا) کہ ہم نے ٹیلوں کے سایہ کو دیکھا پھر حضرت بلال نے تکبیر کہی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور فرمایا ، گرمی کی شدت جہنم کے حرارت سے ہے پس نماز کو ٹھنڈا کیا کرو ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الحَرِّ،حدیث نمبر ١٥٧ و حدیث نمبر ١٥٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب دھوپ آپ (حضرت عائشہ) کے حجرا میں آ چکی تھی اور سایہ حجرہ سے باہر نہ گیا تھا ، اس باب میں حضرت انس ، ابو ارویٰ ، جابر اور رافع بن خدیج سے بھی روایات مروی ہیں ، رافع بن خدیج سے ایک روایت تاخیر عصر کے بارے میں بھی ہے اور وہ صحیح نہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، بعض صحابہ کرام نے اسے اختیار کیا ان میں سے حضرت عمر ، عبداللہ بن مسعود ، عائشہ ، انس رضی اللہ عنہم ہیں ، اور کئ تابعین نے عصر کو جلدی پڑھنا پسند کیا اور تاخیر کو مکروہ سمجھا عبداللہ بن مبارک ، امام شافعی ، احمد اور اسحٰق کا بھی یہی مسلک ہے۔ علاءبن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر میں حاضر ہوئے حضرت انس نماز پڑھ کر واپس آئے تھے آپ کا گھر بھی مسجد کے پڑوس میں تھا انہوں نے فرمایا اٹھو اور عصر کی نماز ادا کرو ، علاء بن عبدالرحمن کہتے ہیں ہم نے اٹھ کر نماز ادا کی ، واپسی پر آپ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کی انتظار کرتا ر ہے یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان ہو تو اٹھ کر چار ٹھونگیں ہمارے اور اللہ تعالی کا ذکر بہت کم کرے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ العَصْرِ،حدیث نمبر ١٥٩ و حدیث نمبر ١٦٠)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تم سے زیادہ جلدی پڑھتے تھے اور تم عصر کی نماز میں ان سے زیادہ جلدی کرتے ہو ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابن جریج نے بھی بواسطہ ابن ابی ملیکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ صَلَاةِ العَصْرِ،حدیث نمبر ١٦١،و حدیث نمبر ١٦٢،و حدیث نمبر ١٦٣)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت ادا فرماتے جب سورج غروب ہو کر پردوں کے پیچھے چھپ جاتا ، اس باب میں حضرت جابر ،، زید بن خالد ، انس ، رافع بن خدیج ، ابو ایوب ، ام حبیبہ ، اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث موقوفًا آپ سے مروی ہے اور وہ اصح ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، سلمہ بن اکوع کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین نے تعجیل مغرب کو پسند کیا اور تاخیر کو مکروہ سمجھا ، یہاں تک کہ بعض علماء نے مغرب کے لئے صرف ایک ہی وقت کا قول کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ، جہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے نماز پڑھنے کا ذکر ہے ابن مبارک اور امام شافعی کا (ایک قول میں) مسلک یہی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ المَغْرِبِ،حدیث نمبر ١٦٤)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں ،، میں اس نماز کے وقت کا تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھتے جس وقت تیسری رات کا چاند غروب ہو تا ہے ،، ابو بکر محمد بن ابان نے بواسطہ عبدالرحمن بن مہدی ، ابو عوانہ سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ہشیم نے بواسطہ ابی بشیر اور حبیب بن سالم حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کی لیکن اس سند میں بشیر بن ثابت کا ذکر نہیں ، ابو عوانہ کی حدیث ہمارے نزدیک اصح ہے کیونکہ یزید بن ہارون نے بواسطہ شعبہ اور ابو بشر ، ابو عوانہ کی روایت کے ہم مثل حدیث روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ صَلَاةِ العِشَاءِ الآخِرَةِ،حدیث نمبر ١٦٥،و حدیث نمبر ١٦٦
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کی نماز تہائی رات یا نصف رات تک دیر سے پڑھنے کا حکم دیتا ،، اس باب میں حضرت جابر بن سمرہ ، جابر بن عبد اللہ ، ابو برزہ ، ابن عباس ، ابو سعید خدری ، زید بن خالد ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، اکثر صحابہ کرام اور تابعین نے تاخیر کو اچھا سمجھا ہے ، امام احمد اور امام اسحٰق کا بھی یہی قول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر ١٦٧)
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم عشاء سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کو مکروہ سمجھتے تھے ، اس باب میں حضرت عائشہ عبداللہ بن مسعود اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مروی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، ابو برزہ کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر علماء نے نماز عشاء سے پہلے سونے کو مکروہ کہا اور بعض نے رخصت دی ہے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں اکثر احادیث میں کراہت کا ذکر ہے اور بعض نے رمضان میں نماز عشاء سے پہلے سونے کی رخصت دی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ قَبْلَ العِشَاءِ وَالسَّمَرِ بَعْدَهَا،حدیث نمبر ١٦٨)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں گفتگو فرمایا کرتے اور میں ان کے ہمراہ ہوتا ، اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو ، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے حسن بن عبید اللہ نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ابراہیم ، علقمہ ، قیس جعفی (یا ابن قیس) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک طویل واقعہ میں روایت کیا ہے ، صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے علماء کا نماز عشاء کے بعد گفتگو ( کے جواز و عدم جواز ) میں اختلاف ہے ایک جماعت نے اسے مکروہ سمجھا اور بعض نے مشروط اجازت دی ، یعنی علم یا ضروری حاجات کے بارے میں گفتگو ہو سکتی ہے اکثر احادیث میں رخصت کا بیان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ عشاء کے بعد گفتگو صرف منتظر نماز یا مسافر کے لئے جائز ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي السَّمَرِ بَعْدَ العِشَاءِ،حدیث نمبر ١٦٩)
حضرت ام فروہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا فرماتی ہیں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون ساعمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نماز کو اول وقت میں ادا کرنا ۔ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں " مجھے رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی ! تین کاموں میں دیر نہ کرو ۔ (۱) نمازہ کا جب وقت ہو جائے ، (۲) جنازہ جب حاضر ہو. (۳) بیوہ کیلئے جب رشتہ مل جائے امام ترندی فرماتے ہیں ام فروہ کی یہ حدیث صرف عبد الله بن عمر عمری کے واسطہ سے مروی ہے اور وہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے ،، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ التحیہ والتسلیم نے فرمایا اول وقت میں نماز ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا (کا سبب) ہے اور آخر وقت (میں) معافی (کا ذریعہ) ہے اس باب میں حضرت علی ، ابن عمر ، عائشہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ،، رسول اکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر دو مرتبہ بھی نماز آخر وقت میں نہیں پڑھی" امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں نماز کا اول وقت افضل ہے اور آخر وقت کی بہ نسبت اول وقت کی فضیلت پر حضور صل الله علیہ وسلم ، حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہا کا عمل دلیل ہے کیونکہ آپ ہمیشہ افضل عمل ہی کو اختیار فرماتے اور فضیلت کو ترک نہ فرماتے۔ آپ اول وقت میں نماز پڑھتے تھے ، ابو ولید مکی نے امام شافعی سے اسی طرح بیان کیا۔ ابو عمر و شیبانی کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا،، کون سا عمل افضل ہے ؟؟ آپ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا حضور نے فرمایا ،، اپنے وقت پر نماز ادا کرنا ، فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، یارسول اللّٰہ ! اور کیا چیز ؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ نیکی" میں نے عرض کیا ،، اور کیا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا ، امام تریدی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے مسعودی ، شعبہ ، شیبانی اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث ولید بن عیزار سے روایت کی ہے ۔،، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الوَقْتِ الأَوَّلِ مِنَ الفَضْلِ،حدیث نمبر ١٧٠ و حدیث نمبر ١٧١،و حدیث نمبر ١٧٢،و حدیث نمبر ١٧٤،و حدیث نمبر ١٧٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے نماز عصر رہ گئی گویا کہ اس کی اولاد اور مال بلاک ہو گئے اس باب میں حضرت بریدہ اور نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے زہری نے بھی اسے بواسطہ سالم ان کے والد سے روایت کیا ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّهْوِ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ العَصْرِ،حدیث نمبر ١٧٥)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، اے ابوذر ! میرے بعد کچھ امراء ہوں گے جو نماز کو( مختار وقت سے) مردہ کر کے پڑھیں گے لہذا تم وقت پر نماز ادا کرنا پس اگر تو نے وقت پر( امام کے ساتھ ) نماز اداکرلی تو یہ نفلی ہو جائیں گے ورنہ تو نے (کم از کم) اپنی نماز کو محفوظ کر لیا۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے ،کئی علماء کا یہی قول ہے کہ جب امام نماز میں تاخیر کرے تو وقت پر نماز پڑھ لی جائے، پھر امام کے ساتھ نماز ادا کی جائے پہلی نماز فرض شمار ہوگی ۔ ابو عمر جونی کا نام عبد الملک بن جبیب ہے۔۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الصَّلَاةِ إِذَا أَخَّرَهَا الإِمَامُ،حدیث نمبر ١٧٦)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت میں نماز سے سو جانے کا ذکر کیا آپ نے فرمایا تنگی سو جانے میں نہیں بلکہ جاگنے میں ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز (کا پڑھنا) بھول جائے ، یاوہ نماز سے سو جائے توجب یاد آئے پڑھ لے اس باب میں حضرت ابن مسعود ابو مریم ، عمران بن حصین ، جبیر بن مطعم، ابو جحیفہ ، عمرو بن امیہ ضمری اور ذی خیر (نجاشی کا بھتیجا )، رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو بیدار ہونے یا یاد آنے کے وقت نماز کا وقت نہ ہو مثلاً طلوع شمس یا غروب آفتاب کا وقت ہو تو بعض کے نزدیک اسی وقت ادا کرے ، امام احمد ، اسحق ، شافعی اور مالک رحمہم اللہ کا یہی قول ہے اور بعض علماء نے فرمایا سورج کے نکل آنے یا مغروب ہو جانے کے بعد پڑھے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّوْمِ عَنِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ١٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی نماز( پڑھنا) بھول جائے، یاد آتے ہی ادا کرے۔ اس باب میں حضرت سمرہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترندی فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب کوئی نماز بھول جائے تو یاد آتے ہی وقت ہو یا نہ ہو پڑھ لے امام احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے حضرت ابو بکرہ سے مروی ہے کہ وہ نماز عصر سے سو گئے غروب آفتاب کے وقت بیدار ہوئے اور نماز ادا نہ کی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا امام ترمذی فرماتے ہیں اہل کو نہ کا یہی مسلک ہے جبکہ ہمارے اصحاب (شافعی مسلک رکھنے والوں) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قول کو اختیار کیا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَنْسَى الصَّلَاةَ،حدیث نمبر ١٧٨)
حضرت ابو عبیدہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں انہوں نے (عبداللہ ابن مسعود) نے فرمایا مشرکوں نے جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ اللہ علیہ سلم کو چار نمازوں سے مصروف رکھا (یعنی خندق کھودنے کے باعث چار نمازیں وقت پر نہ پڑھی جاسکیں) یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا حضور صل اللہ علیہ وسلم نےحضرت بلال رضی اللہ عنہ کو قرمایا انہوں نے اذان اور اقامت کہی آپنے ظہر کی نماز ادا فرائی پھر اقامت کہی اور آپنے عصر کی ناز پڑھی پھر اقامت کہی آپ نے مغرب کی نماز ادافرمائی پھر اقامت کہی آپنے عشاء کی نماز پڑھی ، اس باب میں حضرت ابو سعید و جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن سعود کی روایت میں سند کے لحاظ سے کوئی حرج نہیں البتہ ابو عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود سماع نہیں کیا یہی مسئلہ علماء نے فوت شدہ نمازوں میں اختیارکیا ہے کہ فوت شدہ نمازوں میں سے ہر ایک کے لئے تکبیر کہے اور اگر نہ کہے تو بھی جائز ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، آپ خندق والے دن (غزوہ احزاب میں) کفار کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا،، یا رسول اللہ ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی اور سورج ڈوب رہا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نے بھی نہیں پڑھی فرماتے ہیں پھر ہم دادئ بطحان میں اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب نے وضو کیا ،، پھر صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے بعد نماز عصر ادا کی اور پھر مغرب کی نماز ادا فرمائی ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف،ابواب الصلوۃ،حدیث نمبر ١٧٩،و حدیث نمبر ١٨٠)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں وسطیٰ نماز سے مراد عصر کی نماز ہے ،،، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " صلوۃ وسطیٰ ،، سے مراد نماز عصر ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اس باب میں حضرت علی، عائشہ حفصہ ابوہریرہ اور ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں محمد بن اسماعیل بخاری نے علی بن عبداللہ کا قول نقل کیا کہ حضرت سمرہ سے حسن کی روایت حسن ہے اور انہیں سماع حاصل ہے امام ترمزی فرماتے ہیں صلوۃ وسطیٰ کے بارے سمرہ کی حدیث حسن ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا یہی قول ہے حضرت زید بن ثابت اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں صلوۃ وسطیٰ سے مراد ظہر کی نماز ہے جبکہ حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے نزدیک اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ حبیب بن شہید کہتے ہیں مجھے محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت حسن سے پوچھو انہوں نے حدیث عقیقہ کس سے سُنی (فرماتے ہیں) میں نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا میں نے سمرہ بن جندب سے سنی ہے امام ترندی فرماتے ہیں مجھے امام بخاری نے علی بن عبد اللہ اور قریش بن انس کے واسطے سے خبر دی ہے امام بخاری، علی کا قول نقل کرتے ہیں کہ حدیث سمرہ صحیح ہے اور اسی سے انہوں نے استدلال بھی کیا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،حدیث نمبر ١٨١،و حدیث نمبر ١٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے کئی صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی ہیں رضی اللہ عنہم) اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین ہیں اسی سے سنا کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک (نفلی) نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت علی ، ابن مسعود ، ابو سعید ، عقبہ بن عامر ، ابو ہریرہ، ابن عمر ، سمرہ بن جندب، سلمہ بن اکوع ) زید بن ثابت ، عبد اللہ بن عمرو ، معاذ بن عفراء ، صنابحی (صنابحی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع حاصل نہیں) عائشہ ، کعب بن مرہ ، ابوامامہ ، عمرو بن عبسہ، یعلٰی بن امیہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کی حضرت عمر (رضی اللہ عنہم سے روایت صحیح ہے ۔ اکثر صحابہ کرام اور بعد کے فقہاء کا یہی مسلک ہے کہ صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک نماز (نوافل ) پڑھنا منع ہے البتہ قضاء نمازیں ان دونوں وقت میں پڑھ سکتا ہے، علی بن مدینی کہتے ہیں یحیٰی بن سعید نے شعبہ کے واسطہ سے کہا ہے کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین حدیثیں سنی ہیں ایک حدیث عمر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور صبح کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ دوسری حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ، تیسری حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کہ قاضی تین ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّلَاةِ بَعْدَ العَصْرِ وَبَعْدَ الفَجْرِ،حدیث نمبر ١٨٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصرکے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں کیونکہ آپ کے پاس مال آیا اور آپ (اس کی تقسیم کے باعث ) ظہر کے دوسنتیں نہ پڑھ سکے ، لہذا انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر (دوبارہ) کبھی آپ نے ان کو اس وقت نہیں پڑھا۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ام سلمہ، میمونہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمزی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے اور کئی راویوں سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دور کعتیں پڑھیں ، اور یہ اس روایت کے خلاف ہے کہ آپ نے عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور حضرت ابن عباس کی حدیث اصح ہے کہ آپ نے فرمایا حضور نے پھر کبھی ایسا نہیں کیا۔ حضرت زید بن ثابت سے حدیث ابن عباس کے ہم معنی روایت منقول ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس باب میں کئی روایات منقول ہیں۔ آپ فرماتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی عصر کے بعد میرے ہاں تشریف لاتے دو رکعتیں ادا فرماتے حضرت عائشہ سے بواسطه ام سلمہ (رضی اللہ عنہما) مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر اور صبح کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ سورج طلوع یا غروب نہ ہو جائے ، اکثر علماء کا اجماع ہے کہ ان دونوں وقتوں میں نماز (نفل) پڑھنا کروہ ہے۔ البتہ مکہ مکرمہ میں طواف کے بعد کی اجازت متشنٰی ہے کیونکہ اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہے بعض صحابہ کرام اور بعد کے فقہاء یہی فرماتے ہیں۔ امام شافعی ، احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے جبکہ بعض صحابہ کرام اور بعد کے فقہاء کے نزدیک مکہ مکرمہ میں بھی ان در اوقات میں نماز مکروہ ہے ، سفیان ثوری ، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ،حدیث نمبر ١٨٤)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دو اذانوں (اقامت و اذان ) کے درمیان نماز ( کی اجازت) ہے جو چاہے (پڑھے) اس باب میں حضرت عبد اللّٰہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، امام تریدی فرماتے ہیں عبد اللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے مغرب کی نماز سے پہلے ( اذان کے بعد ) نماز پڑھنے میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک نہیں پڑھنی چاہئیے جبکہ کئی صحابہ کرام سے روایت ہے کہ وہ مغرب کی نماز سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں " پڑھ لے تو اچھا ہے اور یہ ان کے نزدیک مستحب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ المَغْرِبِ،حدیث نمبر ١٨٥)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی الہ عیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل صبح کی ایک رکعت پالے اس نے صبح پالی اور جس کو غروب آفتاب سے قبل عصر کی ایک رکعت مل جائے اس نے عصر کو پا لیا ۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ہمارے اصحاب ، امام شافعی احمد اور اسحٰق یہی کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک حدیث کا حکم اصحاب عذر کے لئے ہے مثلاً کوئی شخص سو گیا۔ یا بھول گیا اور طلوع و غروب کے وقت بیدار ہوا یا اسے نماز یاد آگئی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ العَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ،حدیث نمبر ١٨٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ شریف میں دونمازوں ظہر اور عصر نیز مغرب و عشاء کو جمع کیا، حالانکہ نہ تو حالت خوف تھی اور نہ ہی بارش سعید بن جبیر فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا۔ اس سے حضور کا کیا ارادہ تھا ؟ آپ نے فرمایا ،، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حرج سے بچانے کا ارادہ فرمایا۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمزی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس آپ سے کئی طرق کیساتھ مروی جابر بن زید ، سعید بن جبیر اور عبداللہ بن شفیق عقیل نے اسے روایت کیا ہے اسکے علاوہ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بلا عذر دو نمازوں کو جمع کیا وہ کبیرہ گناہ کے ایک دروازہ سے داخل ہوا امام تریدی فرماتے ہیں حنش بن قیس ( ابو علی رحبی) علماء حدیث کے نزدیک ضعیف ہے امام احمد نے اسے ضعیف قرار دیا ۔ اہل علم کا اس بات پر عمل ہے کہ دو نمازیں یا تو سفر میں جمع کی جاسکتی ہیں یا میدان عرفات میں بعض تابعین نے مریض کو دو نمازیں جمع کرنے کی رخصت دی ہے ۔ امام احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک بارش کی وجہ سے بھی دو نمازوں کو جمع کیا جاسکتا ہے امام شافعی، احمد اور اسحٰق کا یہی مسلک ہے البتہ امام شافعی کے نزدیک بیمار کو اس بات کی اجازت نہیں۔ ف : دو نمازوں کو عذر کی وجہ سے جمع کیا جا سکتا ہے لیکن پہلے وقت میں دو نمازوں ( مثلاً ظہر کے وقت عصر کی نماز بھی ہو۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ،حدیث نمبر ١٨٧ و حدیث نمبر ١٨٨)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم بوقت صبح بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور میں نے اپنا خواب بیان کیا آپ نے فرمایا، یہ سچا خواب ہے تم حضرت بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے ان کو وہ کلمات، بتاتے جاؤ جو آپ کو (خواب میں) بتائے گئے اور وہ ان کلمات کے ساتھ لوگوں کو نماز کی طرف بلائیں، راوی فرماتے ہیں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کی اذان سنی تو سیدھے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیطرف چل پڑے (جلدی کیوجہ سے) آپ اپنی چادر کو گھسٹتے جارہے تھے اور کہ رہے تھے یارسول اللہ ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپکو دین حق دیکر بھیجا میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے راوی کہتے ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کاشکر ہے یہ زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن زید کی حدیث حسن صحیح ہے ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحٰق کے واسطہ سے یہی حدیث مکمل اور طویل ذکر کی ہے اور اسمیں اذان کا واقعہ ذکر کیا ہے اور اس میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور تکبیر کے ایک ایک مرتبہ کا بھی ذکر ہے عبد اللہ بن زید سے ابن عبد ربہ مراد ہیں جنکو عبد رب بھی کہا جاتا ہے ان سے حدیث اذان کے علاوہ کوئی دوسری صحیح حدیث ہم نہیں جانتے عبداللہ بن زیدبن عاصم مازنی (عبادبن تمیم کے چاچا ) نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب لوگ مدینہ طیبہ میں آئے تو باہم مجمع ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے ان کو بلانے کا کوئی انتظام نہ تھا ایک دن انہوں نے باہم مشورہ کیا بعض نے کہا عیسائیوں کی طرح ناقوس بنالیں (ایک بڑی اور ایک چھوٹی لکڑی)بعض نے کہا یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ رکھ لیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم کوئی آدمی مقدر نہیں کر لیتے جو نماز کے لئے پکارے راوی فرماتے ہیں رسول اللّٰہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال اٹھو ! اور لوگوں کو نماز کے لئے پکارو۔ امام ترندی فرماتے ہیں یہ حدیث ، ابن عمر کی حدیث کی بہ نسبت حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بَدْءِ الْأَذَانِ،حدیث نمبر ١٨٩ و حدیث نمبر ١٩٠)
حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے نبی کریم صل اللہ علیہ سلم نے بٹھایا اور اذان کا ایک ایک حرف سکھایا۔ ابراہیم کہتے ہیں ہماری اذان کی طرح بشرکہتے ہیں میں نے کہا مجھے بھی بتائیں پس انہوں نے ترجیع کے ساتھ اذان بیان کی۔ امام ترمزی کہتے ہیں، اذان کے بارے میں ابو محذورہ کی حدیث صحیح ہے اور کئی طرق سے آپ سے مروی ہے مکہ مکرمہ میں اسی پر عمل ہے اور یہی امام شافعی کا مسلک ہے۔ ف :: ترجیح کے معنی کلمات شہادت کو پہلے پست آواز اور پھر بلند آواز سے کہنا ہے علماء احناف فرماتے ہیں کہ اذان میں ترجیع نہیں حضرت عبداللہ بن زید آہستہ آہستہ کلمات بولتے جاتے تھے اور حضرت بلال بلند آواز سے اذان کہتے اس لئے یہ صرف اس وقت محض تعلیم کے لئے تھا ،، (مترجم) حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے انہیں، اذان انیس کلمات اور تکبیر سترہ کلمات سکھائی ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابو محذورہ کا نام سمرہ بن مغیر ہے بعض علماء نے اس پر عمل کیا ہے، ابو محذورہ سے ہی روایت ہے کہ وہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْجِيعِ فِي الأَذَانِ،حدیث نمبر ١٩١ و حدیث نمبر ١٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات در دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہنے کا حکم دیا گیا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت انس کی حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے اور امام مالک ، شافعی احمد اور اسحٰق کا بھی یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي إِفْرَادِ الإِقَامَةِ،حدیث نمبر ١٩٣)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان اور اقامت دو دو مرتبہ تھی (یعنی کلمات دودو مرتبہ ) امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن زید کی حدیث کو اعمش نے بواسطہ عمرو بن مرہ اور عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے حالت خواب میں اذان دیکھی اور یہی حدیث اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے شعبہ نے بواسطه عمرو بن مرہ ، عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اصحاب کرام سے روایت کی حدیث اس حدیث کی بنسبت صحیح ہے جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بواسطہ عبدالرحمن بن زید سے روایت کی ہے کیونکہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو عبداللہ بن زید سے سماع حاصل نہیں بعض علماء فرماتے ہیں اذان اور اقامت دونوں کے کلمات دو دو مرتبہ ہیں ، سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ (امام اعظم ابو حنیفہ اور آپ کے متبعین رحمہم اللہ ) کا یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الإِقَامَةَ مَثْنَى مَثْنَى،حدیث نمبر ١٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا " اے بلال! جب تم اذان کہو تو کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہو اور اقامت کہتے ہوئے جلدی جلدی کہو اور اذان واقامت کے درمیان اتنا وقفہ کرو کہ کھانا کھانے والا کھانے سے ، پانی پینے والا پینے سے اور قضائے حاجت کو جانے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے اور مجھے دیکھے بغیر نماز کے لئے) کھڑے نہ ہو۔ عبد بن حمید نے بواسطہ یونس بن محمد عبدالمنعم سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ہے امام ترمزی فرماتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند یعنی عبد المنعم کی روایت سے پہچانتے ہیں اور وہ مجہول سند ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرَسُّلِ فِي الأَذَانِ،حدیث نمبر ١٩٦،و حدیث نمبر ١٩٦)
حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں میں نے حضرت بلال کو دیکھا وہ اذان کہہ رہے تھے اور اپنے چہرے کو دائیں بائیں پھیرتے تھے آپنے کانوں میں انگلیاں ڈالی ہوئی تھیں اس وقت نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم چمڑے کے بنے ہوئے ایک سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نیزہ لیکر آپکے پاس سے نکلے اور اسے چٹیل میدان میں گاڑ دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر منہ کر کے نماز پڑھی سامنے سے کتے اور گدھے گزررہے تھے آپ سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے گویا کہ میں آپ کی پنڈلیوں کی چمک (اب بھی) دیکھ رہا ہوں ، حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ وہ حلہ ،،جری ،، تھا امام ترمذی فرماتے ہیں ابو جحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مؤذن اذان پڑھتے وقت اپنی انگلیاں کانوں میں ڈالے بعض کہتے ہیں اقامت میں بھی اسی طرح کرے ، اوزاعی اس کے قائل ہیں ابو جحیفہ کا نام وہب بن عبد اللہ السوائی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الإِصْبَعِ فِي الأُذُنِ عِنْدَ الأَذَانِ،حدیث نمبر ١٩٧)
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف صبح کی نماز میں تثویب کیا کرو۔ اس باب میں حضرت ابومحذوره رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث بلال کو ہم صرف ابو اسرائیل ملائی کی روایت سے جانتے ہیں اور ابو اسرائیل کو حکم بن عتیبہ سے سماع حاصل نہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابو اسرائیل نے حسن بن عمارہ کے واسطہ سے حکم بن عتیبہ سے روایت کی ہے۔ ابور اسرائیل کا نام اسماعیل بن ابو اسحٰق ہے اور وہ محد ثین کے نزدیک قوی نہیں۔ تثویب کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں " تثویب صبح کی اذان میں " الصلوۃ خیر من النوم کہنے کا نام ہے، ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے امام اسحٰق تثویب کے بارے میں کچھ اور کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں یہ ایک ایسا کام ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں نے شروع کیا کیونکہ جب مؤذن اذان دیتا تو لوگ (مسجد کو جانے میں )تاخیر کرتے تو پھر مؤذن اذان و اقامت کے دوران کہتا، فقد قامت الصلوة ، حی علی الصلوة " اور حی علی الفلاح " نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کی طرف آؤ اور بھلائی کی طرف آؤ ) امام ترمذی فرماتے یہ تثویب جو امام اسحٰق نے بیان کی اسے علماء نے مکروہ کہا اور یہ بدعت ہے ، ابن مبارک اور احمد نے تثویب کی جو تفسیر کی ہے کہ مؤذن صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کہے یہ قول صحیح ہے اس کو تثویب کہا جاتا ہے اور بعض علماء نے اسے ہی پسند فرمایا اور جائز کیا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ صبح کی اذان میں ( الصلوۃ خیر من النوم) کہا کرتے تھے حضرت مجاہد سے روایت ہے فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوا اذان ہو چکی تھی اور ہم نماز پڑھنا چاہتے تھے مؤذن نے تثویب کہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر تشریف لے آئے اور فرمایا ہمیں اس بدعتی کے پاس سے لے چلو اور آپ نے نماز نہ پڑھی (امام ترمذی فرماتے ہیں) اس تثویب کو حضرت عبداللہ بن عمر نے ناپسند کیا کیونکہ یہ بعد کے لوگوں نے شروع کی تھی ف :: تثویب کے معنی رجوع کرنا اور اصطلاع میں اذان کے بعد دوبارہ لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ کرنا ہیں علماء کے نزدیک تثویب تمام نمازوں میں مستحب ہے کیونکہ یہ دور غفلت ہے اور لوگوں دنیاوی امور میں مشغولیت کیوجہ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّثْوِيبِ فِي الفَجْرِ،حدیث نمبر ١٩٨)
حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں، مجھے رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے لئے اذان کہنے کا حکم دیا۔ میں نے اذان کہی پھر جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا تمہارے بھائی صدائی نے اذان کہی ہے اور جو اذان کہے وہی اقامت بھی کہے اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں زیاد کی (اس) حدیث کو ہم صرف افریقی کے واسطہ سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ، یحیی بن سعید قطان وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا۔ امام احمد فرماتے ہیں میں افریقی کی روایت کو نہیں لکھتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری کو دیکھا وہ افریقی کی تقویت فرماتے تھے اور کہتے وہ مقارب الحدیث ہے اکثر علماء کا اس مسئلہ پر عمل ہے کہ جو اذان کہے وہ اقامت کہیے۔ ف :: مؤذن کی اجازت اور رضامندی سے دوسرا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے حدیث میں بلا اجازت اور رضامندی کی ممانعت ہے نیز بہتر یہی ہے کہ مؤذن ہی اقامت کہے ،، (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ،حدیث نمبر ١٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ، صرف باوضو شخص ہی اذان کہے، ابن شہاب کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز کے لئے وہی ندادے جو باوضو ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے حضرت ابوہریرہ کی وہ روایت جسے ابن وہب نے مرفوعاً بیان نہیں کیا، وہ ولید بن مسلم کی روایت کی بنسبت اصح ہے نہ زہری کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع حاصل نہیں ہے بے وضو اذان کہنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں مکروہ ہے امام شافعی اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے جبکہ بعض علماء نے رخصت دی ہے سفیان ثوری، ابن مبارک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَذَانِ بِغَيْرِ وُضُوءٍ،حدیث نمبر ٢٠٠ و حدیث نمبر ٢٠١)
سماک بن حرب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا مؤذن ، اقامت میں تاخیر کرتا یہاں تک کہ جب آپ کو آتے ہوئے دیکھتا تو نماز کے لئے اقامت کہتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں جابر بن سمرہ کی حدیث حسن ہے ۔ اور سماک کی روایت کو ہم صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں۔ بعض علماء کا یہی مسلک ہے کہ مؤذن، اذان کا زیادہ مالک ہے ۔ اور امام اقامت کا زیادہ حقدار ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الإِمَامَ أَحَقُّ بِالإِقَامَةِ،حدیث نمبر ٢٠٢)
حضرت سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ سلم نے فرمایا حضرت بلال رات کو ہی اذان دے دیتے ہیں پس تم ابن ام مکتوم کی اذان سنتے تک کھایا پیا۔ کرو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت ابن مسعود، عائشہ انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے علماء کا رات کو اذان دینے میں اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں اگر رات کو ہی (صبح کی )اذان دے دی جائے تو جائز ہے لوٹائی نہ جائے۔ امام مالک ، ابن مبارک ، امام شافعی، امام احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک رات کو دی ہوئی اذان لوٹائی جائے ۔ سفیان ثوری کا یہی مسلک ہے حماد بن سلمہ نے بواسطه ایوب نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہےکہ حضرت بلال نے رات کو ہی اذان دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اذان کہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ بندہ (حضرت بلال ) وقت اذان سے غافل ہوگیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح روایت وہ ہے جسے عبید اللہ بن عمرو وغیرہ نے بواسط نافع حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ حضرت بلال رات کو ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا ابن ام کلثوم کی اذان تک کھایا پیا کرو عبدالعزیزبن ابو رواد نے نافع سے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے ایک مرتبہ رات کو ہی اذان دے دی تو آپ نے لوٹانے کا حکم دیا۔ اور یہ صحیح نہیں کیونکہ نافع نے حضرت عمر سے بلا واسطہ بیان کیا ۔ (حالانکہ درمیان میں واسطہ ہے ) شاید حماد بن سلمہ نے ابن عمر کا اثر ہی مراد لیا ہو صحیح روایت وہ ہے جسے عبید اللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع کے واسطہ سے اور زہری نے بواسطہ سالم حضرت ابن عمر سے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بلال رات کو ہی اذان دے دیتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اگر حماد کی روایت صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی مطلب نہ ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بلال رات کو ہی اذان دے دیا کرتے ہیں ، یعنی ان کی عادت ہی یہ ہے اگر آپ لوٹانے کا حکم فرماتے تو یہ نہ کہتے کہ وہ رات کو ہی اذان دے دیا کرتے ہیں، علی بن مدینی کہتے ہیں۔ حماد بن سلمہ کی روایت غیر محفوظ ہے اور اس میں حماد بن سلمہ سے خطا و اقع ہوئی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَذَانِ بِاللَّيْلِ،حدیث نمبر ٢٠٣)
حضرت ابوالشعثاء سے روایت ہے کہ ایک آدمی عصر کی اذان کے بعد مسجد سے باہر گیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ،، اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح حدیث ہے صحابہ کرام اور بعد کے فقہاء کا اسی مسئلے پر عمل ہے کہ کوئی شخص اذان کے بعد بلا عذر باہر نہ جائے ، بے وضو ہونا ، یا کوئی ضروری کام عذر ہے ابراہیم نخعی فرماتے ہیں ، اقامت سے پہلے پہلے جا سکتا ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ اس کے لئے ہے جو باہر جانے کے لئے (معقول) عذر رکھتا ہو ، ابو الشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے ، اور وہ اشعث بن ابو ا لشعثاء کا والد ہے ، اشعث نے بھی یہ حدیث اپنے والد ابو الشعثاء سے روایت کی ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الخُرُوجِ مِنَ المَسْجِدِ بَعْدَ الأَذَانِ،حدیث نمبر ٢٠٤)
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور میرا چچا زاد بھائی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے ، تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جب تم سفر کرو تو اذان کہو ، اقامت کہو اور تم میں سے بڑا امام بنے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے ، انہوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا بعض کہتے ہیں اقامت کافی ہے ، کیونکہ اذان اس کے لئے ہے جو لوگوں کو جمع کرنا چاہتا ہو ، پہلا قول اصح ہے اور امام احمد اور اسحٰق اسی کے قائل ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَذَانِ فِي السَّفَرِ،حدیث نمبر ٢٠٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ،، جو آدمی سات سال ثواب کی نیت سے اذان کہے ، اس کے لئے جہنم سے براءت لکھ دی جاتی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت ابن مسعود ثوبان ، معاویہ ، انس ، ابوہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، ابن عباس کی حدیث غریب ہے ابو ثمیلہ کا نام یحیٰی بن واضح ہے اور ابو حمزہ سکری کا نام محمد بن میمون ہے جابر بن زید جعفی کو علمائے حدیث نے ضعیف کہا اور یحییٰ بن سعید و عبدالرحمن نے اسے چھوڑا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے جارود سنا انہوں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر جابر جعفی نہ ہو تا تو اہل کوفہ حدیث کے بغیر ہوتے اور اگر حماد نہ ہو تے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأَذَانِ،حدیث نمبر ٢٠٦)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " امام ضامن ہے اور موزن امانتدار ہے ؟ اے اللہ ! ائمہ کی راہ نمائی فرما، اور موذنوں کو بخش دے ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں حضرت عائشہ ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں سفیان ثوری ، حفص بن غیاث اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث بواسطه اعمش و ابو صالح ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کہا میں نے ابو صالح کے واسطہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ نافع بن سلیمان نے یہ حدیث ، محمد بن ابوصالح اور ابوصالح کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی امام ترمذی فرماتے ہیں ، میں نے ابو زرعہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ابو ہریرہ سے ابو صالح کی روایت، حضرت عائشہ سے روایت کی نسبت سے اصح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا کہ بواسطہ ابو صالح حضرت عائشہ کی روایت اصح ہے علی بن مدینی سے مذکور ہے کہ ابو صالح کی روایت نہ تو حضرت ابو ہریرہ سے ثابت ہے اور نہ حضرت عائشہ سے (رضی اللہ عنہما )۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الإِمَامَ ضَامِنٌ، وَالمُؤَذِّنَ مُؤْتَمَنٌ،حدیث نمبر ٢٠٧)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذان سن کر وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے اس باب میں حضرت ابو رافع ابوہریرہ ، ام حبیبہ ، عبد الله بن عمرو عبد الله بن ربیعہ عائشہ ، معاذ بن انس اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں، ابو سعید کی حدیث حسن صحیح ہے ، معمر اور کئی دوسرے راویوں نے اسی طرح زہری سے روایت کیا ۔ عبد الرحمن بن اسحٰق نے بھی زہری سے یہ حدیث سعید بن مسیب کے واسطہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، مالک کی روایت اصح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَذَّنَ المُؤَذِّنُ،حدیث نمبر ٢٠٨)
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لطائف پر عامل بنا کر بھیجتے وقت) مجھ سے آخری وعدہ یہ لیاکہ میں ایسا مؤذن مقرر کروں جو اذان پر اجرت نہ لے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں عثمان کی حدیث حسن ہے علماء کا اس پر عمل ہے اور انہوں نے اذان پر اجرت کو مکروہ کہا اور مؤذن کے لئے ثواب کی نیت سے اذان دینے کو مستحب قراردیا۔،، ف :: متاخرین فقہاء نے لوگوں میں سستی دیکھ کر اجرت کی اجازت دی ہے اسی پر فتویٰ ہے اگر لوگ بطور خود مؤذن کو دیں تو یہ با لا اتفاق جائز ہے اجرت نہیں نہیں بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۳۲ (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ المُؤَذِّنُ عَلَى الأَذَانِ أَجْرًا،حدیث نمبر ٢٠٩)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اذان سن کر یہ کہے ،، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں میں اللہ تعالی کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں ،، اللہ تعالی اس کے گناہ بخش دیتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اور ہم اسے لیث بن سعد بواسطہ حکیم بن عبداللہ قیس کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَذَّنَ المُؤَذِّنُ،حدیث نمبر ٢١٠)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے اس کے لئے قیامت کے دن شفاعت واجب ہو جائے گی( دعا یہ ہے ) اے اللہ ! اس جامع دعا اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب ! حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں وہ مقام محمود عطا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ لیا " امام ترمذی فرماتے ہیں محمد بن منکدر کی حدیث کے مقابلے میں حدیث جابر حسن غریب ہے ہمیں نہیں معلوم کہ شعیب بن ابو حمزہ کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت کیا ہو۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مِنْهُ أَيْضًا،حدیث نمبر ٢١١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا، اذان اور اقامت کے درمیان (مانگی جانے والی ) دعا، رد نہیں ہوتی، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن ہے ، ابو اسحٰق ہمدانی نے بھی اس کی مثل زید بن مریم کے واسطہ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔،، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ،حدیث نمبر ٢١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں شب معراج نبی کریم صل اللہ علیہ سلم پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں پھر آواز دی گئی,, اۓ ! محمد صل اللہ علیہ وسلم میرے ہاں کی بات نہیں بدلتی اور آپکے لئے ان پانچ کے بدلے میں پچاس کا ثواب ہے ۔ اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت ، طلحہ بن عبید اللہ ابو قتاده ابوذر ، مالک بن صعصعہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح غریب ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ،حدیث نمبر ٢١٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم علیہ التحیة والتسلیم نے فرمایا، پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک ، ان کے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔ اس باب میں حضرت جابر - انس، اور حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی الہ تعالی عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ،حدیث نمبر ٢١٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جماعت کے ساتھ نماز کی فضیلت اکیلے پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ ہے اس باب میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، ابی بن کعب معاذ بن جبل ، ابوسعید ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، نافع نے بھی حضرت ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے کہ باجماعت کی فضیلت اکیلے پڑھنے سے ستائیں درجے زیادہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عام رواۃ نے پچیس درجات کا قول نقل کیا صرف حضرت ابن عمر نے ، ستائیسں درجات کہا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الجَمَاعَةِ،حدیث نمبر ٢١٥ و حدیث نمبر ٢١٦)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض نوجوانوں کو لکڑیوں کا انبار جمع کرنیکا حکم دوں پھر نماز کا حکم فرماؤں نماز کے لئے اقامت کہی جاۓ پھر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جونماز کیلئے حاضر نہیں ہوتے، اس باب میں حضرت ابن مسعود، ابو درداء ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اور کئی صحابہ سے مروی ہے کہ جو شخص اذان سن کر اسے قبول نہ کرے (یعنی مسجد میں نہ آئے) اسکی نماز (کامل) نہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں یہ تاکید سختی اور تنبیہ۔ پر مبنی ہے اور کسی کیلئے بلا عذر ترک جماعت کی رخصت نہیں امام مجاہد فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھاگیا کہ ایک شخص دن بھر روزہ رکھتا اور ساری رات نوافل ادا کرتا ہے لیکن جمعہ اور جماعت میں حاضر نہیں ہوتا( اسکا حکم کیا ہے ،) آپ نے فرمایا وہ جہنم میں جائیگا مجاہد فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی ، جمعہ اور جماعت سے اعراض کرتے ہوئے ان کے حق کو کم سمجھتے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہیں ہوتا وہ جہنمی ہے ) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَا يُجِيبُ،حدیث نمبر ٢١٧،و حدیث نمبر ٢١٨)
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ مسجد خیف میں صبح کی نماز پڑھی سلام پھیرنے کے بعد آپ نے مڑ کر دیکھا تو آخر میں دو آدمی بیٹے ہوئے تھے جنہوں نے باجماعت نماز ادا نہیں کی تھی آپ نے فرمایا " انکو میرے پاس بلاؤ ،، انہیں اس حالت میں لایا گیا کہ (خوف سے) انکے کاندھے کانپ رہے تھے آپ نے فرمایا " ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کس چیز نے روکا انہوں نے عرض کیا ،، یا رسول الله! ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ چکے تھے ،، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" ایسا نہ کیا کرو اگر تم اپنی منزل میں نماز پڑھ لو اور پھر مسجد میں آؤ ، تو جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو یہ نفل ہو جائیں گے اس باب میں حضرت محجن اور یزید بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے) امام ترمذی فرماتے ہیں یزید بن اسود کی حدیث حسن صحیح ہے ، اور متعدد علماء کا یہی قول ہے سفیان ثوری، امام شافعی ، احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں جب کوئی شخص عٰلیحدہ نماز پڑھ لے پھر جماعت کو پائے تو تمام نماز کو با جماعت لوٹائے (نفل پڑھے) اگر مغرب کی نماز اکیلے پڑھی پھر جماعت کو پایا تو ایک رکعت اور ملاکر شفع کرلے ( یہ نماز نفل ہوگی) اور جو عٰلیحدہ پڑھی فرض شمار ہوگی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي وَحْدَهُ ثُمَّ يُدْرِكُ الجَمَاعَةَ،حدیث نمبر ٢١٩)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت نماز پڑھ چکے تھے ، آپ نے فرمایا ,, تم میں سے کون اس کے ساتھ شریک ہو کر ثواب کی تجارت کرتا ہے ایک آدمی اٹھا اور اس کے ساتھ مل کر نماز ادا کی ، اس باب میں ابو امامہ ابوموسیٰ اور حکم بن عمیر رضی الہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابو سعید کی حدیث حسن ہے بہت سے صحابہ کرام اور تابعین اسی کے قائل ہیں کہ کسی مسجد میں دوبارہ جماعت کے قیام میں کوئی حرج نہیں ، امام احمد اور اسحٰق بھی یہی کہتے ہیں بعض دوسرے علماء کے نزدیک (پہلی جماعت کے بعد آنے والے لوگوں ) کو اکیلے اکیلے نماز پڑھنی چاہئے، سفیان ثوری، ابن مارک مالک اور امام شافعی نے یہی نظریہ اختیار کیا ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الجَمَاعَةِ فِي مَسْجِدٍ قَدْ صُلِّيَ فِيهِ مَرَّةً،حدیث نمبر ٢٢٠)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عشاء کی جماعت میں حاضر ہونے والے کے لئے نصف رات قیام کا ثواب اور صبح وعشاء دونوں کو باجماعت پڑھنے والے کے لئے پوری رات کے قیام کا ثواب ہے اس باب میں حضرت ابن عمر، ابوہریرہ ، انس ، عمارہ بن ابی رویبد جندب، ابی بن کعب ، ابو موسیٰ ، اور بریدہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی ، وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے پس تم اس کو اپنے ذمہ میں عہد شکن نہ سمجھو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عثمان ، حسن صحیح ہے عبد الرحمن بن ابی عمرہ کے واسطہ سے بھی یہ حدیث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے موقوفًا روایت کی گئی ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی تاریکیوں میں مساجد کی طرف کثرت سے جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کے حصول کی خوش خبری دو ۔ یہ حدیث غریبہے, (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ العِشَاءِ وَالفَجْرِ فِي الجَمَاعَةِ،حدیث نمبر ٢٢١ و حدیث نمبر ٢٢٢، و حدیث نمبر ٢٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مردوں کی سب سے اچھی صف پہلی صف ہے اور سب سے بری صف آخری ہے جب کہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بُری صف پہلی صف ہے اس باب میں حضرت جابر ابن عباس ، ابو سعید ، ابی بن کعب ، عائشہ ، عرباض بن ساریہ اور انس رضی الله عنهم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے دو مرتبہ بخشش طلب کرتے اور آپ نے فرمایا،، اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا اجر ہے پھر وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں اسحاق بن موسیٰ انصاری نے بواسطہ معن مالک اور قتیبہ نے بواسطہ مالک سمی اور ابوصالح ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل حدیث روایت کی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّفِّ الأَوَّلِ،حدیث نمبر ٢٢٤،و حدیث نمبر ٢٢٥،و حدیث نمبر ٢٢٦)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی فرما یا کرتے تھے ایک دن آپ باہر تشریف لائے تو ایک آدمی کو دیکھا جس کا سینہ آگے کو بڑھا ہوا تھا آپ نے فرمایا تمہیں لازماً اپنی صفیں سیدھی رکھنی ہوگی ورنہ ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالی تمہارے چہروں کو نہ بگاڑ دے اس باب حضرت جابر بن سمره ، براء جابربن عبدالله انس ، ابو ہریرہ اور عائشہ رضی الله عنم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں نعمان بن بشیر کی حدیث حسن صحیح ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپنے فرمایا تکمیل نماز سے صفوں کا سیدھا رکھنا بھی ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ ایک شخص کو صفیں سیدھی کرنے کیلئے مقر فرماتے اور اس وقت تک تکبیر نہ کہتے جبتک وہ اطلاع نہ دیدیتا کہ صفیں سیدھی ہوگئی ہیں حضرت علی وعثمان رضی اللہ عنہما اس بات کا خاص خیال رکھتے اور فرمایا کرتے صفیں سیدھی رکھو ،، حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے ،، اسے فلاں آگے ہوجا اسے فلاں پیچھے ہوجا- (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٢٢٧)
حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا میرے قریب عقلمند اور سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں آپس میں اختلاف نہ کرو کہیں تمہارے دل نہ مختلف ہو جائیں اور بازاروں میں شور و شغب سے گریز کرو۔ اس باب میں حضرت ابی بن کعب ابو مسعود ، ابوسعید، براء اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ اپنے قریب مہاجرین اور انصار کی صفیں پسند فرماتے تھے تا کہ وہ آپ سے (سیرت طیبہ کو) محفوظ رکھیں ، خالد حذاء سے مراد خالد بن مہران ہے جس کی کنیت ابوالمنازل ہے (امام ترمذی فرماتے ہیں )، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا کہ خالد حذاء نے کبھی جوتے نہیں گانٹھے البتہ وہ ایک موچی کے پاس بیٹھتے تھے اس لئے اس نسبت سے مشہور ہوئے ابو معشر کا نام زیاد بن کلیب ہے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى،حدیث نمبر ٢٢٨)
عبد الحمید بن محمود کہتے ہیں ہم نے ایک حاکم کی اقتداء میں نماز پڑھی لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہم نے مجبور ہو کر ستونوں کے درمیان نماز ادا کی ، جب ہم نمانہ پڑھ چکے تو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا " ہم عہد رسالت میں اس سے بچا کرتے تھے ۔ اس باب میں حضرت قرہ بن ایاس مزنی سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے ، بعض علماء نے ستون کے درمیان صف بندی کو مکروہ کہا ہے ، امام احمد اور اسحٰق بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے ،، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّفِّ بَيْنَ السَّوَارِي،حدیث نمبر ٢٢٩)
ہلال بن یساف کہتے ہیں ہم مقام رقہ میں تھے کہ زیاد بن ابی جعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اٹھا کہ ایک شیخ وابصہ بن معبد اسدی کے پاس لے گئے۔ اور کہا ( زید نے ) کہ مجھ سے اس بزرگ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اسے نمانہ لوٹانے کا حکم فرمایا ، اور اس بات کو وہ (بزرگ) سن رہے تھے۔ اس باب میں حضرت علی بن شیبان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں وابصہ کی حدیث حسن ہے اور علماء کی ایک جماعت نے صف کے پیچھے تنہا آدمی کی نماز کو ناجائز کہا اور اسے لوٹانے کا حکم دیا ۔ امام احمد اور اسحٰق کا بھی یہی مسلک ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک یہ نماز جائز ہے سفیان ثوری، ابن مبارک اور امام شافعی اسی بات کے قائل ہیں۔ اہل کوفہ کی ایک جماعت کا بھی وابصہ بن معبد کی حدیث پر عمل ہے اور وہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز کو واجب الاعادہ سمجھتے ہیں حماد بن سلیمان ، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع بھی ان ہی قائلین میں سے ہیں۔ حدیث حصین کو ہلال بن یساف سے متعدد راویوں نے ابو احوص بواسطه زیاد بن ابی جعد و وابصہ کی حدیث کی مثل روایت کیا حصین کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہلال نے وابصہ سے ملاقات کی ۔ محدثین کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عمرو بن عمر نے بواسطہ ہلال بن یساف اور عمر و بن راشد، وابصہ سے جو حدیث روایت کی وہ اصح ہے ، جب کہ بعض کے نزدیک وابصہ بن معبد سے حصین کی روایت بواسطہ ہلال بن یساف اور زیاد بن جعد ، اصح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں عمر و بن مرہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ روایت میرے نزدیک اصح ہے کیوں کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ بھی (دوسری اسناد سے) مروی ہے۔ حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی، تو اسے بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز لوٹانے کا حکم فرمایا. امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے بواسطہ جارود وکیع کا قول سنا کہ اگر کوئی شخص صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے تو اسے لوٹائے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ٢٣٠،و حدیث نمبر ٢٣١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا توحضور اللہ علیہ وسلم نے میرے کمر کو پیچھے کی طرف سے پکڑ کر مجھے داہنی طرف کر دیا۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے صحابہ کرام اور بعد کے علماء کا اسی پر عمل ہے کہ جب کوئی آدمی (اکیلا ) امام کے ساتھ کھڑا ہو تو اسے داہنی طرف کھڑا ہونا چاہئے، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي وَمَعَهُ رَجُلٌ،حدیث نمبر ٢٣٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جب ہم تین آدمی ہوں تو ایک آگے کھڑا ہو۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث سمرہ غریب ہے اور علماء کا اسی پر عمل ہے کہ جب تین آدمی ہوں تو دو امام کے پیچھے کھڑے ہوں حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے علقمہ اور اسود رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھائی تو ایک آپ کی دہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف کھڑا ہوا ۔ اور اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ بعض لوگوں نے اسماعیل بن مسلم کے حفظ میں کلام کیا ہے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الرَّجُلَيْنِ،حدیث نمبر ٢٣٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کوکھانے پر بلایا جو آپ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد آپ نے فرما یا اٹھو ہم تمہارے ساتھ نماز پڑھیں حضرت انس فرماتے ہیں میں اٹھ کرایک چٹائی لے آیا جو بکثرت استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی میں نے اس پر پانی چھڑ کا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے میں اور ایک یتیم (انس کے بھائی) آپ کے پیچھے صف باندھی جبکہ بڑھیا (دادی)، ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اور پھر واپس تشریف لے گئے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کی دائیں جانب کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھے کھڑی یو بعض لوگوں نے اس حدیث کی رو سے صف کے پیچھے تنہا آدمی کی نماز کو جائز کہاوہ کہتے ہیں کر بچے پر نماز فرض نہیں لہذا حضرت انس تنها نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ بات صحیح نہیں کیونکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس یتیم بچے کے ساتھ ملاکر اپنے پیچھے کھڑا کیا اگر حضور صل للہ علیہ وسلم کے نزدیک اس بچے کی نماز معتبر نہ ہوتی آپ اسے حضرت انس کیساتھ کھڑ ا نہ فرماتے بلکہ دہنی جانب کھڑا کرتے۔ موسیٰ بن انس نے بھی اپنے والد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان کواپنی دائیں طرف کیا ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان کے لئے برکت کے طور پر دو رکعت نماز پڑھی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي وَمَعَهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ،حدیث نمبر ٢٣٤)
اوس بن ضمعج کہتے ہیں میں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن پاک کو سب سے اچھا پڑھنے والا، امامت کرائے اگر قرآت میں برابر ہوں تو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر اس میں بھی برابر ہو تو جس نے ہجرت میں تقدیم حاصل کی اگر ہجرت کرنے میں بھی مساوی ہوں تو جو زیادہ عمر رسیدہ ہو وہ امامت کرائے، کسی کی اجازت کے بغیر اس کی مقررہ امامت کی جگہ پر امامت نہ کی جائے اور کسی کے گھر میں اس کی با عزت جگہ پر بلا اجازت بیٹھنا بھی نہیں چاہیئے ، محمود کہتے ہیں، ابن نمیر نے اپنی روایت میں،، اقد مہم سنا " کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ اس باب میں حضرت ابو سعید، انس بن مالک، مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہم سے روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابو مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں قرآن پاک اچھا پڑھنے والا اور سنت کا زیادہ علم رکھنے والا شخص امامت کا زیادہ مستحق ہے نیز انہوں نے کہا گھر والا امامت کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے بعض علماء کہتے ہیں گھر والا اجازت دے تو غیر کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں لیکن بعض نے اسے مکروہ کہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر والے کا نماز پڑھانا سنت ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ کوئی شخص کسی دوسرے متعینہ امامت میں امام نہ بنے اور نہ ہی کسی کے گھر میں کی باعزت جگہ پر بلا اجازت بیٹھے (اس ارشاد سے ) میں سمجھتا ہوں کہ اگر اجازت مل جائے تو یہ ان تمام باتوں کی اجازت ہوگی اور صاحب خانہ کی اجازت سے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر ٢٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا،، جب تم میں سے کوئی امامت کر ائے تو ہلکی پھلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں بچے بھی ہوتے ہیں بوڑھے بھی کمزور بھی ہوتے ہیں بیمار بھی۔ اور جب اکیلا ہو تو جیسے جی چا ہے پڑھے ۔ اس باب میں حضرت عدی بن حاتم ، انس ، جابر بن سمرہ ، مالک بن عبد الله، ابوواقده ، عثمان بن ابو عاص، ابو مسعود جابر بن عبد اللہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور یہی اکثر علماء کا مختار مذہب ہے کہ امام کو چاہیے کہ وہ کمزور بوڑھے اور مریض کی تکلیف کے خوف سے لمبی نماز نہ پڑھائے ابو زناد کا نام عبد اللہ بن ذکوان ہے ۔ اور اعراج سے مراد عبد الرحمن بن ہرمز مدینی ہیں، جن کی کنیت ابو داؤد ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ ہلکی مگر مکمل نماز پڑھنے والے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ،حدیث نمبر ٢٣٦،و حدیث نمبر ٢٣٧)
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی کنجی وضو ہے اسکی تحریم تکبیر (اولٰی) ہے اور اس کی تحلیل، سلام پھیرنا ہے اس آدمی کی نماز (کامل)نہیں جس نے سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھی فرض ہوں، یا کوئی دوسری نماز ۔ اس باب میں حضرت علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سند کے لحاظ سے زیادہ کھری اور ابوسعید کی حدیث کے مقابلے میں اصح ہے ہم اسے اس سے پہلے وضو کے مسائل میں لکھ چکے ہیں صحابہ کرام اور بعد کے علماء کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک ، شافعی احمد اور اسحٰق کہتے ہیں کہ تحریم نماز، تکبیر ہے اور تکبیر کے بغیر آدمی نماز میں داخل نہیں ہوتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے محمد بن ابان سے عبد الرحمن بن مہدی کا قول سنا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے ننانوے اسماء حسنہ کیساتھ نماز شروع کرے لیکن تکبیر نہ کہے توجائز نہیں اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہو جائے تو میں اسے حکم دونگا کہ وضو کرکے اپنی جگہ واپس آئے اور سلام پھیرے بیشک حکم رسول اپنی جگہ( برقرار) ہے ابونضرہ کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے ،،، ف : اللہ اکبر کی جگہ کوئی دوسرا لفظ جو خاص تعظیم الہی کا مفہوم دے کہنے سے نماز ہو جائے گی لیکن ایسا کرنا مکروہ تحریمہ ہے، فتاوئے عالمگیری و دیگر کتب فقه (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الصَّلَاةِ وَتَحْلِيلِهَا،حدیث نمبر ٢٣٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تکبیر کہتے وقت انگلیاں کشادہ رکھتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوہریرہ کو ابن ابوذہب اور سعید بن سمعان کے واسطہ سے کئی راویوں نے روایت کیا ہے (اور اس میں یہ الفاظ ہیں) نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو کھول کر اٹھاتے یہ روایت ، یحییٰ بن یمان کی روایت سے اصح ہے ۔ اور اس حدیث میں یحیٰی بن یمان سے خطا واقع ہوئی۔ حضرت سعید بن سمعان کہتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ، " اپنے ہاتھوں کو کھولتے ہوئے اٹھاتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، امام بخاری نے فرمایا کہ یحیٰی بن یمان کی حدیث کی بنسبت یہ حدیث میرے نزدیک اصح ہے اور یحییٰ کی روایت خطاء ہے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابٌ فِي نَشْرِ الْأَصَابِعِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر ٢٣٩،و حدیث نمبر ٢٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رضائے الہی کے لئے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی اس کے لئے دو نجاتیں لکھی گئیں ایک نجات جہنم سے ، اور دوسری منافقت سے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حضرت انس سے موقوفاً روایت کی گئی ہے۔ مسلم بن قتیبہ بواسطہ طعمہ بن عمرو کے علاوہ کوئی دوسرا راوی ہمارے علم میں نہیں ، جس نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہو۔ یہ حدیث ، حبیب بن ابوحبیب بجلی نے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اس کی سند یوں ہے ہناد نے بواسطہ وکیع خالد بن طہمان - جبیب بن ابوحبیب بجلی، حضرت انس سے موقوفًا روایت کی، اسماعیل بن عیاش نے اس حدیث کو عمارہ بن غزیہ اور انس بن مالک کے واسطہ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ۔ یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ہے عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کو نہیں پایا۔امام ترمذی فرماتے ہیں کہ فرمایا محمد بن اسماعیل نے کہ:حبیب بن ابی حبیب کی کنیت أبو کشوثا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے ابو عمیرہ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابٌ فِي فَضْلِ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى،حدیث نمبر ٢٤١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑا ہوتے تو تکبیر کہہ کر اس طرح پڑھتے ,, سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك و تعالیٰ جدُک ولالہ غیرک ،،، پھر کہتے "اللہ اکبر کبرًا ،، پھر پڑھتے ،، اعوذ بالله لسميع العليم من الشيطن الرجيم من همزه ونفخہ و نفثہ ،، اس باب میں حضرت علی ، عبد اللہ ابن مسعود، عائشہ ، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فر ماتے ہیں اس باب میں ابو سعید کی حدیث زیادہ مشہور ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث پر عمل کیا لیکن اکثر علماء فرماتے ہیں کہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم سے اس طرح مروی ہے کہ سبحانک اللہم الخ پڑھتے تھے اس کے بعد اللہ اکبر کبیرًا نہیں پڑھتے تھے ، حضرت فاروق اعظم اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ اکثر تابعین و دیگر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ ابو سعید کی حدیث میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید نے علی بن علی کے بارے میں کلام کیا ، امام احمد فرماتے ہیں، یہ حدیث صحیح ، نہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت "سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالی جدک و لاالہ غیرک ،، پڑھا کرتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ۔ حارثہ کے حفظ میں کلام کیا گیا ہے ، ابو رجال کا نام محمد بن عبد الرحمن ہے۔، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٢٤٢ و حدیث نمبر ٢٤٣)
حضرت عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا اے بیٹے ! یہ بدعت ہے بدعت سے بچو نیز فرمایا میں نے صحابہ کرام کو اس سے زیادہ کسی بدعت سے بغض رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور یہ بھی کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن ان میں سے کسی کو یہ (بسم اللہ جہراً ) کہتے ہوئے نہیں سنا لہذا تم بھی جہرًا نہ کہو اور جب نماز پڑھو تو صرف الحمد لله رب العالمین سے (قرات ) شروع کرو، امام ترمذی فرماتے ہیں عبد اللہ بن مغفل کی حدیث حسن ہے اور اکثر اصحاب رسول جن میں خلفاء راشدین بھی ہیں اور تابعین کا اسی پر عمل ہے ۔ سفیان ثوری، ابن مبارک احمد، اسحٰق ( اور امام ابوحنیفہ ( " بسم الله الرحمن الرحيم ،،، کو اونچی آواز سے پڑھنا جائز نہیں قرار دیتے بلکہ فرماتے ہیں آہستہ پڑھنی چاہیے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،باب ما جاء في ترك الجهر ب {بسم الله الرحمن الرحيم} بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الجَهْرِ بِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]حدیث نمبر ٢٤٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " بسم اللہ الرحمن الرحیم ،، کے ساتھ نماز شروع فرماتے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند قوی نہیں اور کچھ صحابہ کرام کا یہی خیال ہے ان میں سے حضرت ابو ہریرہ ابن عمر ابن عباس ، ابن زبیر رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ بعض تابعین بھی بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے کے قائل ہیں ۔ امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے اسمٰعيل بن حماد، ابوسلیمان کے بیٹے ہیں اور ابو خالد سے مراد ابو خالد والبی ہیں ، ان کا نام ہر مز ہے اور وہ کوفہ ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،باب من رأى الجهر ب {بسم الله الرحمن الرحيم}بَابُ مَنْ رَأَى الجَهْرَ بِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]حدیث نمبر ٢٤٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی الله عنهم " الحمد الله رب العالمین سے قرآت شروع فرمایا کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ بعض صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے فقہاء کا اسی پر عمل ہے، امام شافعی فرماتے ہیں اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ سورۃ فاتحہ سے نماز شروع کرتے اور دوسری سورت سے اسے پہلے پڑھتے یہ مطلب نہیں کہ وہ بسم الله الرحمن الرحیم بالکل نہیں پڑھتے تھے، امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ بسم اللہ سے ابتداء کی جائے اور جہری نمازوں میں اسے اونچی آواز سے پڑھا جائے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،باب في افتتاح القراءة ب {الحمد لله رب العالمين}بَابٌ فِي افْتِتَاحِ القِرَاءَةِ بِ {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ} [الفاتحة: 2]حدیث نمبر ٢٤٦)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس کی نماز (کامل) نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، عائشہ ، انس ابوقتادہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عباده حسن صحیح ہے ، اکثر صحابہ کرام کا اسی پر عمل ہے ان میں سے حضرت عمر بن خطاب جابر بن عبد الله ، عمران بن حصین و غیر ہم بھی ہیں یہ کہتے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ، ابنِ مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ،حدیث نمبر ٢٤٧)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرمانے ہیں ،میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر المغضوب علیہم والا الضالیں پڑھا اور آواز کو کھینچ کر آمین کہا ، اس باب میں حضرت علی اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں وائل بن حجر کی حدیث " حسن ہے اور کئی صحابہ، تابعین اور بعد کے (کچھ) فقہاء کا یہی نظریہ ہے کہ " آمین ، بلند آواز سے کہی جائے اور آہستہ نہ کہی جائے ، امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے ، شعبہ نے اس حدیث کو بواسطہ مسلمہ بن کہیل ، حجر ابو عنبس اور علقمہ بن وائل ، حضرت وائل بن حجر سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " غیر المغضوب علیہم ولا الضالين" پڑھ کر آمین آہستہ کہی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، میں نے امام بخاری سے سُنا آپ فرماتے تھے ، سفیان کی حدیث ، شعبہ کی حدیث سے اصح ہے شعبہ نے کئی جگہ خطاء کی حجر ابوعنبس کہا۔ جبکہ وہ حجر بن عنبس ہیں جن کی کنیت ابو السکن ہے ، شعبہ نے سند میں علقمہ بن وائل کا ذکر کیا حالانکہ علقمہ نہیں بلکہ حجر بن عنبس نے وائل بن حجر سے روایت کیا ، تیسری خطایہ کہ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ آمین کہی حالانکہ وہاں بلند آواز سے پڑھنے کے الفاظ ہیں ،امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابو ذرعہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے سفیان کی حدیث اصح ہے اور کہا کہ علاء بن صالح اسدی نے سلمہ بن کہیل سے سفیان کی روایت کی مثل روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اس کی سند یہ ہے ابو بکر محمد بن ابان نے بواسطہ عبداللہ نمیر ، علاءبن صالح اسدی ، سلمہ بن کہیل ، حجر بن عنبس ، وائل بن حجر سے حدیث سفیان بواسطہ سلمہ بن کہیل کی مثل روایت کی ہے۔ ف :: بلند آواز سے آمین تعلیم کے لیے تھی ، اس لئے آہستہ آمین کہنا مستحب ہے ،(مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ،حدیث نمبر ٢٤٨،و حدیث نمبر ٢٤٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تم تبھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافق ہو جائے ، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّأْمِينِ،حدیث نمبر ٢٥٠)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد کئے ، عمران بن حصین نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہم نے ایک سکتہ (آپ سے) یاد کیا۔ (فرماتے ہیں،) پھر ہم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مدینہ طیبہ میں لکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ سمرہ کی یاد صحیح ہے حضرت سعید فرماتے ہیں ہم نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ یہ دو سکتے کیا ہیں، تو آپ نے فرمایا نماز میں داخل اور قرآت سے فارغ ہوتے وقت پھر فرمایا اور جب ،،، ولا الضالین" پڑھے قتادہ کو پسند تھا کہ جب قرآت سے فارغ ہو لیں تو سکتہ کریں یہاں تک کہ سانس واپس آجائے ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں " سمرہ کی حدیث حسن ہے اور کئی علماء کا یہی قول ہے کہ امام کے لئے نماز کے آغاز اور قرات کے خاتمہ پر کچھ دیر ٹھرنا مستحب ہے امام احمد، امام اسحٰق ، اور ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّكْتَتَيْنِ،حدیث نمبر ٢٥١)
قبیصہ بن ہلب رضی اللہ عنہما اپنے والد سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے اور بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے اس باب میں حضرت وائل بن حجر ، غطیف بن حارث، ابن عباس ، ابن مسعود ، اور سہل بن سہل رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں " ہلب کی حدیث حسن ہے بعض صحابہ کرام ، تابعین اور دیگر فقہاء کا یہی مسلک ہے کہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے ، بعض کہتے ہیں ناف کے اوپر رکھے ، اور بعض کے نزدیک ناف کے نیچے رکھے ۔ ان کے نزدیک دونوں جگہ گنجائش ہے۔ ہلب کا نام یزید بن قنافہ طائی ہے، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَضْعِ اليَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٢٠٥٢)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ( نماز میں ) نیچے جھکتے اور اوپر اٹھتے وقت نیز قیام اور وقعود کے وقت تکبیر کہا کرتے تھے، اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، انس، ابن عمر : ابو مالک اشعری ، ابو موسیٰ ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، عبد اللہ بن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، اور اس پر صحابہ کرام ، حضرت ابوبکر عمر، عثمان اور علی مرتضیٰ وغیرہ ہم رضی اللہ عنہم کا عمل ہے تا بعین اور عام فقہاء و علماء کا بھی یہی مسلک ہے۔ ،،، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم (سجدہ کے لئے) جھکتے ہوئے تکبیر فرمایا کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، صحابہ کرام اور بعد کے علماء کا یہی قول ہے ، کے نمازی رکوع اور سجود کے لئے جھکتے ہوئے تکبیر کہے ،، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر ٢٥٣،و حدیث نمبر ٢٥٤)
حضرت سالم اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے راوی ہیں کہ انہوں نے نبی پاک صلی الہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ نماز شروع فرماتے وقت ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھاتے اسی طرح رکوع کے لئے جاتے اور اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھاتے ، ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ دو سجدوں کے درمیان ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں ہم سے فضل بن صباح بغدادی نے بواسطہ سفیان بن عیینہ ، زہری سے اسی سند کے ساتھ ابن ابی عمر کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ اس باب میں حضرت عمر، علی وائل بن حجر، مالک بن حویرث ، انس، ابو ہریرہ ، ابوحميد ابواسيد سهل بن سعد، محمد بن مسلمہ ، ابو قتادہ ، ابو موسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام مثلاً ابن عمر بن جابر بن عبد الله، ابو ہريره ، انس ، ابن عباس، عبد اللہ بن زبیر و غیر ہم رضی اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں۔ تابعین میں سے حسن بصری، عطاء ، طاؤس ، مجاہد، نافع، سالم بن عبد اللہ، سعید بن جبیر ، ر حمہم اللہ کا یہی مسلک ہے عبداللہ بن مبارک ، شافعی، احمد اور اسحٰق کا بھی یہی نظریہ ہے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں رفع یدین والی حدیث ثابت ہے جسے زہری نے بواسطہ سالم ان کے والد سے روایت کیا ابن مسعود کی حدیث کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا، ثابت نہیں۔ ،،، حضرت علقمہ سے روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں رسول اللہ صل للہ علیہ سلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ؟ پھر آپ نے نماز پڑھی اور صرف تکبیر اولیٰ میں ہاتھ اٹھائے- اس باب میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود کی حدیث حسن ہے اور کئی صحابہ کرام اور تابعین اسی بات کے قائل ہیں، سفیان ثوری، اور اہل کوفہ (امام اعظم اور آپ کے متبعین ) کا بھی یہی مسلک ہے۔ ف :: ابتدائے اسلام میں تکبیر اولیٰ کے علاوہ بھی ہاتھ اٹھائے جاتے تھے لیکن بعد میں نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، اور فرمایا ، کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع دین کرتے ہوئے دیکھتا ہوں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دم ہیں نماز میں آرام کیا کرو صحیح مسلم ، مزید تحقیق کے لئے ملاحظہ کیجئے ،، جاء الحق ،، مصنفہ حکیم الامت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ رَفْعِ اليَدَيْنِ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر ٢٥٥،و حدیث نمبر ٢٥٦،و حدیث نمبر ٢٥٧)
رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا تمہارے لئے سُنت ہے پس گھٹنوں پر ہاتھ رکھا کرو ،، اس باب میں حضرت سعد ، انس ، ابوحمید ، ابواسید ، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عمر حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام تابعین اور بعد کے لوگوں کا اسی پر عمل ہے اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں البتہ ابن مسعود اور آپکے بعض احباب کے بارے میں ہے کہ وہ تطبیق کرتے تھے یعنی دونوں ہاتھوں کو باہم ملاکر رانوں کے درمیان چھپا دیتے، اہل علم کے نزدیک تطبیق منسوخ ہے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم تطبیق کرتے تھے پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔،، حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت قتیبہ نے بواسط ابوعوانہ ابویعفور اور معصب بن سعد، بیان کی،۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَضْعِ اليَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ فِي الرُّكُوعِ،حدیث نمبر ٢٥٨،و حدیث نمبر ٢٥٩)
عباس بن سہل کہتے ہیں، ابوحمید ، ابواسید ، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کرنے لگے۔ ابوحمید نے کہا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں (پھر انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا ) آپ نے رکوع فرمایا ، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا گویا کہ آپ نے ان کو پکڑا ہوا ہے آپ نے ہاتھوں کو کمان کی طرح رکھتے ہوئے پہلوؤں سے جدا رکھا۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے اور علماء کا یہی مختار ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ میں اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْه فِي الرُّكُوعِ،حدیث نمبر ٢٦٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، تم میں سے کوئی جب رکوع کرے اور اس میں تین مرتبہ،، سبحان ربی العظیم " کہے اس کا رکوع مکمل ہو گیا اور یہ (تین مرتبہ ) کم از کم ہے اور جب سجدہ کرے اور سجدے میں تین مرتبہ( سبحان ربی الا علی) کہے اس کا سجدہ مکمل ہو گیا اور یہ ( تعداد سب سے کم درجہ ہے اس باب میں حضرت حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود کی سند متصل نہیں ہے عون بن عبد اللہ بن عتبہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی، علماء کا اسی پر عمل ہے کہ وہ رکوع اور سجود میں تسبیحات تین مرتبہ سے کم نہ پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں ۔ ابن مبارک کا قول ہے کہ امام کو پانچ تسبیحات پڑھنی چاہئیں تاکہ مقتدی تین تسبیحیں پا سکے ۔ اسحٰاق بن ابراہیم نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نےنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ رکوع میں " سبحان ربی العظیم ،، اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے آیت رحمت پر پھرتے اور دعا مانگتے اور عذاب کی آیت پر ٹھہرتے اور پناہ مانگتے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں. یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور ہم سے محمد بن بشار نے بواسطہ عبدالرحمن بن مہدی ، حضرت شعبہ سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ مذکورہ حدیث اس طرح بھی مروی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر ٢٦١،و حدیث نمبر ٢٦٢،و حدیث نمبر ٢٦٣)
رکوع اور سجدہ میں تلاوت قرآن کی ممانعت حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے مخلوط اور زرد رنگ کے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہنے نیز رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن صحیح ہے ، صحابہ کرام اور تابعین فقہاء کا یہی قول ہے ، کہ وہ رکوع اور سجدہ میں قرآت کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ القِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر ٢٦٤)
رکوع اور سجدہ میں پیٹھ سیدھی نہ رکھنا حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نماز کافی (جائز)نہیں جس کے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ،، اس باب میں حضرت علی ، ابن شیبان ، انس ، ابوہریرہ ، اور رفاعہ زرقی سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں، ابو مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے ، کہ آدمی رکوع اور سجدہ میں پیٹھ سیدھی رکھے ، امام شافعی، احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں ، جو آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھے گا اس کی نماز اس حدیث کی رو سے فاسد ہے ۔ ابو معمر کا نام عبد اللہ بن سخبرہ ہے اور ابومسعود انصاری بدری ہیں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر ٢٦٥)
رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم، رکوع سے سر اٹھاتے وقت پڑھتے ( سمع اللہ لمن حمدہ الخ) اللہ تعالیٰ نے سنا جس نے اس کی تعریف کی اے ہمارے رب ! اور تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے، اس قدر تعریف کہ آسمان و زمین، جو کچھ حکم ان کے درمیان ہے اور جو اس کے بعد تو چاہے ۔ اس سے بھر جائیں اس باب میں حضرت ابن عباس ، ابن ابی اوفیٰ ، ابو جحیفہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الفاظ فرض اور دونوں کے لئے ہیں لیکن بعض اہل کوفہ( امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ بھی ان میں ہیں) کہتے ہی یہ کلمات نفل نماز میں پڑھے، فرضوں میں نہ کہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر ٢٦٦)
اسی عنوان کا دوسرا باب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام ،، سمیع اللہ لمن حمیدہ ،، کہے تم ،، ربنا ولک الحمد ،، کہو کیوں کہ جس کی بات فرشتوں کی بات کے موافق ہوگئی ،، اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ، بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ جب امام ،، سمیع اللہ لمن حمیدہ ،، کہے پیچھے والے ،، ربنا ولک الحمد ،، کہیں ، امام احمد کا بھی یہی قول ہے ابن سیرین وغیرہ کہتے ہیں مقتدی یہ دونوں کلمات کہے جس طرح امام کہتا ہے امام شافعی اور اسحٰق کا یہی مسلک ہے۔ ف :: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک امام صرف ،، سمیع اللہ لمن حمیدہ ،، کہے اور مقتدی صرف ،، ربنا ولک الحمد کہے ،، (مترجم) (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ آخَرُ مِنْهُ،حدیث نمبر ٢٦٧)
سجدے میں گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھے جائیں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلے اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ۔ آپ سجدہ فرماتے وقت ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھتے اور اٹھتے وقت پہلے ہاتھ اٹھاتے ، حسن بن علی نے اپنی روایت میں یزید بن ہارون کے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں، کہ شریک نے عاصم بن کلیب سے صرف یہی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے شریک کے سوا کسی دوسرے نے اس کو روایت نہیں کیا ۔ اکثر علماء کا اس حدیث عمل ہے کہ سجدہ کے لئے جاتے وقت گھٹنے پہلے اور ہاتھ بعد میں رکھے اور اٹھتے وقت اس کے خلاف کرے ، ہمام نے یہ حدیث عاصم سے مرسل روایت کی، اور وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ اليَدَيْنِ فِي السُّجُودِ،حدیث نمبر ٢٦٨)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے (یعنی ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے رکھے ) امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ غریب ہے اس حدیث کو ہم ابوزناد سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، عبد اللہ بن سعید مقبری نے بھی بواسطہ سعید مقبری ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا - عبد اللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن قطعان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔،، (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مِنْهُ آخَرُ،حدیث نمبر ٢٦٩)
پیشانی اور ناک پر سجدہ کرنا حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے وقت ناک اور پیشانی کو زمین پر ٹکا دیتے۔ ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے ، اور ہتھیلیوں کو کاندھوں کے مقابل رکھتے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، وائل بن حجر اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی حمید حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک پر سجدہ کرے اور صرف پیشانی پر سجدہ بعض کے نزدیک کافی ہے۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک جب تک دونوں پر سجدہ نہ کرے کفایت نہیں کرتا ۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّجُودِ عَلَى الجَبْهَةِ وَالأَنْفِ،حدیث نمبر ٢٧٠)
سجدے میں چہرہ کہاں رکھا جائے ابو اسحٰاق کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازب رضی الله عنہ سے پوچھا ،، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سجدے میں چہرہ کہاں رکھتے تھے ،، انہوں نے فرمایا ،، دونوں ہتھیلیوں کے درمیان ،، اس باب میں حضرت وائل بن حجر اور ابو حمید رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں حدیث براء ، حسن غریب ہے اور بعض علماء کا یہی مختار ہے کہ ہاتھ کانوں کے قریب ہوں۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ أَيْنَ يَضَعُ الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِذَا سَجَدَ،حدیث نمبر ٢٧١)
سات اعضاء پر سجدہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک سنا کہ ،، جب بندہ سجدہ کرتا ہے اس کے ساتھ سات اعضاء (یعنی) چہرہ ، دونوں ہاتھ ، گھٹنے اور پاؤں سجدہ کرتے ہیں اس باب میں حضرت ابن عباس ، ابوہریرہ ، جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث عباس حسن صحیح ہے اور علماء کا اسی پر عمل ہے ،، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور کپڑوں و بالوں کو (نماز میں) نہ سمیٹنے کا حکم فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّجُودِ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ،حدیث نمبر ٢٧٢ و حدیث نمبر ٢٧٣)
سجدے میں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھنا عبید اللہ اپنے والد عبد الله بن اقرم حزاعی سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مقام نمرہ کے ایک چٹیل میدان میں تھا دریں اثنا کچھ سوار گزرے میں نے اچانک دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس) این بحینہ ، جابر ، احمد بن جزء ، میمونہ ، ابوحميد ، ابواسید ابو مسعود ، سہل بن سعد - محمد بن مسلمہ ، براء بن عازب ، عدی بن عمیرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ عبد اللہ بن اقرم کی حدیث حسن ہے اور ہم اسے داؤد بن قیس کے واسطہ سے ہی پہچانتے ہیں ۔ عبد اللہ بن اقرم سے اس کے علاوہ کوئی حدیث مروی نہیں۔ اسی مسئلے پر علماء کا عمل ہے احمد بن جزء ، ایک صحابی تھے اور ان سے ایک ہی حدیث مروی ہے ، عبد اللہ بن ارقم زہری ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے۔ عبداللہ بن ارقم خزاعی سے بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ (ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب، مَاجَاءَفِی التَّجَافِیْ فِی السُّجُوْدِ ؛حدیث نمبر ٢٧٤)
سجدے میں اعتدال حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے اور اپنے بازوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔ اس باب میں حضرت عبدالرحمن بن شبل ، براء ، انس ابوحمید اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے کو مکروہ جانتے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں کوئی نماز میں کتے کی طرح بازو نہ بچھائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ؛ ۲۰۱ ؛ مَاجَاءَفِی الْاِعْتَدَالِ فَی السُّجُوْدِ ؛حدیث نمبر ٢٧٥ و حدیث نمبر ٢٧٦)
سجدے میں ہاتھوں کا بچھانا اور پاؤں کا کھڑا کرنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سجدہ میں) ہاتھوں کو بچھانے اور پاؤں کے کھڑا کرنے کا حکم فرمایا عبداللہ نے بواسطہ معلیٰ ؛ حماد بن مسعدہ ؛ محمد بن عجلان ؛ محمد بن ابراہیم ؛ عامر بن سعد ؛ سے یہی حدیث روایت کی ؛ لیکن اس میں حضرت سعد کا ذکر نہیں ہے ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں ؛ یحییٰ بن سعید قطعان اور کئی دوسرے راویوں نے اسے بواسطہ محمد بن عجلان اور محمد بن ابراہیم ؛ حضرت عا مر بن سعد سے روایت کیا یہ حدیث مرسل ہے ؛ اور وہیب اصح ہے ؛ اس مسئلہ پر علماء کا اجماع ہے ؛ اور ان سب نے اسے پسند کیا ہے, (ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۰۲ ؛ مَاجَاءَفِیْ وَضْعِ الْیَدَیْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَیْنِ فِی السُّجُوْدِ ؛ حدیث نمبر ٢٧٧ و حدیث نمبر ٢٧٨)
رکوع اور سجدے سے اٹھتے وقت کمر سیدھی رکھنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ، قومہ ، سجدہ اور جلسہ تقریباً برابر برابر ہوتے تھے ، اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، محمد بن بشار نے بواسطہ جعفر اور شعبہ ، حکم سے اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث براء حسن صحیح ہے۔ (ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۰۳ ؛ مَاجَاءَفِیْ اِقَامَتِ الصُّلْبِ اِذَارَفَعَ رَاسَہٗ مِنَ السُّجُوْدِ والرُّکٔوْعِ حدیث نمبر ٢٧٩ و حدیث نمبر ٢٨٠)
رکوع اور سجدہ میں امام سے سبقت نہ کرنا حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ رکوع سے سر اٹھاتے اور جب تک سجدے میں نہ چلے جاتے ، ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کو ٹیڑھا نہ کرتا ، اس کے بعد ہم سجدہ کرتے ، اس باب میں حضرت انس معاویہ ، ابن مسعدہ ، (صاحب الجیوش ) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث براء حسن صحیح ہے ، علماء کا یہ قول ہے کہ مقتدی ، امام کی پیروی کریں ، امام کے بعد رکوع کریں اور امام کے بعد ہی رکوع سے کھڑے ہو ں ، اس مسئلہ میں علماء متفق ہیں ،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۰۴ ؛ مَاجَاءَفِیْ کَرَاہِیَتِہ اَنْ یُبَادِرَالْامَامُ فِی الرُّکُوْعِ والسُّجُوْدِ ؛ حدیث نمبر ٢٨١)
دو سجدوں کے درمیان اقعاء ممنوع ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے علی ! میں تیرے لئے وہ بات پسند کرتا ہوں جو مجھے اپنے لئے پسند ہے اور وہ بات تیرے لئے بھی نا پسند کرتا ہوں جسے اپنے لئے اچھا نہیں سمجھتا سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کیا کرو ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف ابو اسحٰق بواسطہ حارث ہی کی روایت سے معروف ہے بعض علماء نے حارث اعور کو ضعیف قرار دیا ہے اکثر علماء کا اس حدیث پر عمل ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ جانتے ہیں اس باب میں حضرت عائشہ ، انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ،، ف :: اقعاء کتے کی طرح بیٹھنے کو بھی کہتے ہیں یعنی سرین اور ہاتھ زمین پر رکھ کر پنڈلیاں کھڑی کرنا اور پاؤں کھڑے کر کے ایڑیوں پر سرین رکھنے کو بھی اقعاء کہتے ہیں (مترجم) (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۰۵ ؛ مَاجَاءَفِیْ کَرَاہِیَتِہ الْاِقْعَاءِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ ؛ حدیث نمبر ٢٨٢)
اقعاء کی اجازت حضرت طاؤس کہتے ہیں ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اقعاء (دونوں قدموں پر بیٹھنے)کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ سنت ہے طاؤس کہتے ہیں ہم نے کہا یہ ؛ تو انسان کے لئے باعث مشقت ہے " آپ نے فرمایا ، نہیں بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ؟ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے بعض صحابہ کرام کا اس حدیث پر عمل ہے وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ مکہ مکرمہ کے بعض فقہاء کا بھی یہی مسلک ہے، لیکن اکثر علماء کے نزدیک اقعاء مکروہ ہے ،، ف : بایں ہمہ یہاں ا اقعاء سے مراد سرینوں پر بیٹھنامراد نہیں بلکہ پاؤں کھڑے کر کے ان پر بیٹھنا ہے اور یہ حنفی مسلک کے مطابق مکروہ ہے ، (مترجم)، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۰۶ ؛ فِی الرُّخْصَةِ فِی الاِقْعَاءِ ، حدیث نمبر ٢٨٣)
سجدوں کے درمیان کیا پڑھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے ، اے اللہ ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما ، میرے نقصان کی تلافی فرما مجھے ہدایت دے اور مجھےرزق عطا فرما۔،،، حسن بن علی خلال نے بواسطہ یزید بن ہارون ، زید بن حباب کامل ابوالعلاء سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے امام شافعی، احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے اور وہ اسے فرضوں اور نفلوں (دونوں نمازوں ) میں جائز قرار دیتے ہیں بعض محدثین نے اس حدیث کو کامل ابوالعلاء سے مرسلًا روایت کیا ہے،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۰۷ ؛ مَا يَقُولُ بَينَ السَّجْدَتَيْنِ ؛حدیث نمبر ٢٨٤،و حدیث نمبر ٢٨٥)
سجدے میں سہارا لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں شکایت کی کہ ؛ انہیں سجدے کے حالت میں کشادہ ہوتے وقت مشقت اٹھانی پڑتی ہے آپ نے فرمایا" اپنے گھٹنوں( پر کہنیاں رکھ کر ان) سے مدد نے لیا کرو، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو صالح کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ کی حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے سفیان بن عینیہ اور دیگر کئی راویوں نے سمی بواسط نعمان ابن ابی عیاش سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، لیث کی روایت کے مقابلے میں ان حضرات کی روایت اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۰۸ ؛ مَا جَاءَ فِی الْاعْتِمَادِ فِی السُّجُودِ ؛حدیث نمبر ٢٨٦)
سجدے سے اٹھنے کا طریقہ حضرت مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جب آپ طاق (پہلی اور تیسری) رکعات میں ہوتے تو جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے ، کھڑے نہ ہوتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کا یہی عمل ہے اور ہمارے اصحاب بھی یہی کہتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۰۹ ؛ كَيْفَ النُّھُوْضُ مِنَ السُّجُودِ ؛حدیث نمبر ٢٨٧)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم (بغیر بیٹھے ) اپنے قدموں کے اگلے حصہ پر کھڑے ہوتے ، امام ترمزی فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر اہل علم کا عمل ہے۔ نمازی کا قدموں کے اگلے حصے پر کھڑا ہونا انہیں پسند. خالد بن ایاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ، اور اسے خالد بن الیاس بھی کہا جاتا ہے۔ صالح مولی توءمہ سے مراد صالح بن ابی صالح ہے اور ابوصالح کا نام نبہان مدنی ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۱۰ ؛ مِنْہُ اَیْضًا ؛حدیث نمبر ٢٨٨)
تشہد کا بیان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تشہد کی تعلیم دی کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ پڑھیں ؛؛التحیات لِلَّه الخ ؛؛ تمام قولی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہو۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالے کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں اس باب میں حضرت ابن عمر ؛ جابر ؛ ابو موسیٰ ؛ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حضرت ابن مسعود سے کی طرق سے مروی ہے اور تشہد کے بارے میں وارد احادیث میں سے یہ اصح ہے ؛ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ، اور سفیان ثوری ، ابن مبارک ، احمد اسحٰق (اور امام اعظم رح) کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۱۱؛ مَا جَاءَ فی التَشَهُدْ ؛حدیث نمبر ٢٨٩)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم ، ہمیں اسی طرح تشہد سکھاتے جس طرح آپ ہمیں قرآن پاک کی تعلیم فرماتے ہیں چنانچہ آپ نے تشهد اس طرح سکھایا " التحیات المباركات الخ ؛؛ امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، عبد الرحمن بن حمید رواسی نے بھی اس کو ابو زبیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایمن بین نابل نے بواسطه ابوزبیر، جابر سے یہ حدیث روایت کی لیکن وہ غیر محفوظ ہے ، امام شافعی کا تشہد میں حضرت ابن عباس کی حدیث پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۲؛مِنْہُ اَیْضًا ؛ حدیث نمبر ٢٩٠)
تشہد آہستہ پڑھنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ؛ تشہد آہستہ پڑھنا سنت ہے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۱۳؛مَا جَاءَ انّه يُخْفِی التَّشَهُد ؛حدیث نمبر ٢٩١)
تشہد میں کس طرح بیٹھے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مدینہ طیبہ میں آیا اور( دل میں) کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا جب آپ تشہد کے لئے بیٹھے تو آپ نے بایاں پاؤں بچھا کر ران پر بایاں ہاتھ رکھا۔ اور داہنا پاؤں کھڑا کیا ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک ، اور اہل کوفہ (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے متبعین ) کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۴؛كيف الجُلُوسُ فی التشهد ؛حدیث نمبر ٢٩٢)
عنوان بالا کا دوسرا باب عباس بن سہل ساعدی فرماتے ہیں ابوحمید ابواسید سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ (چاروں ) ایک جگہ جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کرنے لگے ۔ ابو حمید نے کہا؛ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جانتا ہوں آپ تشہد کے لئے بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا دیا اور دائیں پاؤں کا اگلا حصہ قبلہ رخ کر لیا کہ دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، علماء کا یہی قول ہے امام شافعی ، احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ آخری قعدہ میں سرین پر بیٹھے ابو حمید کی حدیث سےانہوں نے استدلال کیا اور کہا پہلے قعدہ میں بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۵؛ مِنْہُ اَیْضًا ؛حدیث نمبر ٢٩٣)
تشہد میں اشارہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نماز میں ( تشہد کے لئے) بیٹھتے وقت دایاں ہاتھ داہنے گھٹنے پر رکھتے اور انگشت شہادت کو اٹھا کر اشارہ فرماتے جبکہ بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر بچھا کر رکھتے ۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن زبیر ؛ نمیر خزاعی ابوہریرہ ، ابوحمید اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر، حسن غریب ہے اور ہمیں یہ حدیث عبید اللہ بن عمر سے صرف اسی طریق سے معلوم ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے وہ تشہد میں اشارہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۶؛ مَا جَاءَ فِی الْإِشَارَةِ فِی التَشَهْدِ ؛حدیث نمبر ٢٩٤)
سلام پھیرنا نماز حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے ( دونوں طرف یہ کلمات ) فرماتے ؛؛ السلام علیکم ورحمتہ اللہ ؛؛ اس باب میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؛ ابن عمر ، جابر بن سمره ، براء ، عمار ، وائل بن حجر ، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ، سفیان ثوری، ابن مبارک ، احمد اسحٰاق ، ( اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ) بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۷ ؛ مَا جَاءَ فِی التَّسليم فِی الصَّلوة ؛حدیث نمبر ٢٩٥)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک ہی سلام سامنے کی طرف پھیرتے پھر تھوڑا سا دائیں طرف مائل ہو جاتے اس باب میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، ام المومنین کی حدیث کو مرفوعاً ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں ، امام بخاری فرماتے ہیں زبیر بن محمد سے اہل شام منکر احادیث روایت کرتے ہیں اہل عراق کی روایات اس سے اچھی ہیں۔ امام بخاری نے امام احمد بن حنبل کا قول نقل فرمایا کہ زہیر بن محمد جس سے اہل شام روایات نقل کرتے ہیں وہ نہیں جس سے اہل عراق کی روایات منقول ہیں وہ دوسرا شخص ہے۔ نام میں ردو بدل ہو گیا۔ بعض علماء نے سلام کے بارے اس قول کو اختیار کیا لیکن ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اصبح روایات ، دو سلاموں کے بارے" صحابہ کرام، تابعین اور دیگر فقہاء کا یہی قول ہیں۔ بعض صحابہ کرام نے فرض نمازوں میں ایک سلام کو جائز کہا امام شافعی فرماتے ہیں۔ چاہے ایک طرف سلام پھیرے یا دونوں طرف اسے اختیار ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۸ ؛ مِنْہُ اَیْضًا ؛ حدیث نمبر ٢٩٦)
سلام کو نہ کھینچنا سنت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ سلام کا حذف( نہ کھینچتا ) سنت ہے ۔ علی بن حجر نے ابن مبارک کا قول نقل کیا کہ حذف کا مطلب " زیادہ نہ کھینچنا ہے " امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اہل علم نے اسے پسند کیا ، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ تکبیر جزم ہے اور سلام بھی جزم ہے (زیادہ نہ کھینچے جائیں ) ہقل ، اوزاعی کا کاتب تھا۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۱۹ ؛ مَا جَاءَ أَنَّ حَذْفَ السَّلَامِ سُنَة ؛حدیث نمبر ٢٩٧)
سلام کے بعد کیا پڑھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ دعا پڑھنے کا اندازہ بیٹھتے ؛اللہم انت السلام الخ ؛؛ ہناد نے بواسطه مروان بن معاویه مذکوره بالا سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی، اور اس میں " تبارکت یا ذا الجلال والاکرام؛؛ کے الفاظ ہیں ، اس باب میں حضرت ثوبان، ابن عمر ، ابن عباس ، ابوسعيد ، ابو ہریرہ ؛ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ بنی پاک صلے اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام کے بعد پڑھتے لا الہ الا الله الخ ۔؛؛ یہ بھی مروی ہے کہ سبحان ربك الخ پڑھتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے پھرنے کا ارادہ فرماتے تین مرتبہ ؛؛ استغفراللہ ؛؛ پڑھ کر اس طرح دعا مانگتے اللہم انت ا لسلام الخ ؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اور ابو عمار کا نام شداد بن عبداللہ ہے (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۰ ؛مَا يَقُولُ إِذا سَلَّمَ مِنَ الصَّلوة ؛ حدیث نمبر ٢٩٨ و حدیث نمبر ٢٩٩ و حدیث نمبر ٣٠٠)
دائیں اور بائیں طرف پھرنا قبیصہ بن ہلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے اور پھر دونوں جانب یعنی دائیں اور بائیں پھر جاتے ، اس باب میں حضرت عبدالله بن مسعود ، انس، عبد الله بن عمرو ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ہلب حسن ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ دائیں یا بائیں جس طرف چا ہے پھرے ، دونوں طریقے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں. اگر دائیں طرف ضرورت سمجھے ادھر پھر جائے ، اور اگر بائیں طرف حاجت ہو ادھر منہ پھیر لے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۱ ؛ مَا جَاءَ فِی الْإِنْصِرَافِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَعن يَسَارِه .حدیث نمبر ٣٠١)
نماز پڑھنے کا طریقہ رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے رفاعہ کہتے ہیں ہم بھی آپکے ہمراہ تھے کہ ایک شخص جو بدوی معلوم ہوتا تھا۔ آیا اس نے ایک خفیف سی نماز پڑھی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا،لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ؛ وہ شخص چلا گیا (دوبارہ) نماز پڑھی پھر حاضر ہوا اور سلام عرض کی ، آپنے پھر سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ۔ واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ؛؛ دو یا تین مرتبہ اسی طرح ہوا کہ وہ حاضر ہو کر سلام عرض کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا جواب دیکر اسے فرماتے جاؤ اور نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ؛؛ لوگوں کو یہ بات نا پسند آئی اور گراں معلوم ہوئی کہ جو شخص خفیف نماز پڑھے اسکی نماز ادا ہی نہ ہو۔ آخرکار اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے سکھائیے میں انسان ہوں ، مجھ سے درستگی بھی ہوتی ہے اور غلطی بھی کرتا ہوں ،، آپ نے فرمایا ،، ہاں جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اس طرح وضو کرو ، جس طرح تمہیں اللہ تعالی نے حکم دیا پھر اذان کہو ، اقامت بھی کہو اگر قرآن پاک یاد ہو تو پڑھو ورنہ اللہ تعالی کی حمد ،تکبیر اور تسبیح و تہلیل کرو ، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں مطمئن ہو جاؤ پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کروں اور سجدے میں اعتدال قائم رکھو ، پھر اٹھ کر اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہو جاؤ جب تم نے اس طرح کر لیا تمہاری نماز مکمل ہوگئی اگر اس میں کچھ کمی رہ گئی نماز ناقص ہوگی ؛ رفاعہ فرماتے ہیں صحابہ کرام کو یہ بات پہلی بات کی بنسبت زیادہ آسان معلوم ہوئی کہ کچھ کمی رہ جانے سے نماز ناقص رہی ہے بالکل ضائع نہیں ہوتی ، اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور عمار بن یاسر رضی الله عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے اور رفاعہ سے کئ طرق سے مروی ہے؛ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے ایک شخص آیا اس نے نماز پڑھی اور پھر بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا ؛؛ لوٹ جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز ادا نہیں کی ؛؛ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح (دوبارہ) نماز ادا کی ، پھر حاضر ہوا اور سلام پیش کیا آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا ؛ لوٹ جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ؛ یہاں تک کہ تین مرتبہ آپ نے اسے لوٹایا پھر اس نے عرض کیا ؛؛ اللہ کی قسم جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ، لہٰذا مجھے سکھلا ئیے ؛؛ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب تم نماز کے لیے کھڑا ہو تو (پہلے) تکبیر کہہ پھر قرآن پاک سے جو یاد ہو ،پڑھ پھر اطمینان سے رکوع کر پھر سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا پھر نہایت سکون و اطمینان سے سجدہ کر پھر سجدے سے سر اٹھا پوری نماز میں اسی طرح کر ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن نمیر نے بواسطہ عبید اللہ بن عمرو ، سعید مقبری ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا لیکن ابو سعید کا ذکر نہیں کیا بواسطہ عبید اللہ بن عمر ، یحیٰی بن سعید کی روایت اصح ہے ، سعید مقبری کو حضرت ابو ہریرہ سے سماع حاصل ہے، اور انہوں نے بواسطہ اپنے والدین بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ، ابو سعید مقبری کا نام کیسان ہے اور سعید مقبری کی کنیت ابو سعید ہے ،،، محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں میں نے سنا کہ ابو حمید ساعدی نے دس صحابہ کرام جن میں ابو قتادہ بن ربعی بھی تھے میں بیٹھ کر کہا ،، میں تم سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں ،، انہوں نے کہا (کس طرح؟) نہ تو تم ہم سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ صحبت سے مشرف ہوئے اور نہ ہی ہم سے زیادہ بارگاہ رسالت میں حاضری دیتے رہے ، ابو حمید ساعدی نے کہا کیوں نہیں ! انہوں نے کہا ، اچھا بیان کیجیے ، ابو حمید ساعدی نے فرمایا ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا ارادہ فرماتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے اور پھر ہاتھوں کو کاندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھاتے پھر ، اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے ، پیٹھ سیدھی رکھتے اور سر کو نہ تو بالکل جھکاتے اور نہ بلند رکھتے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھتے پھر ؛ سمیع اللہ لمن حمیدہ ؛؛ کہتے ہوئے ہاتھوں کو اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ہڈی اپنی جگہ پہنچ جاتی پھر سجدہ کرتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے اور ؛؛ اللہ اکبر ؛؛ کہتے ہاتھوں کو بغلوں سے دور رکھتے اور پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے پھر بایاں پاؤں ٹیڑہا کر کے اس پر بیٹھتے اور اس طرح اعتدال سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ لوٹ جاتی پھر سجدہ کے لئے جھکتے ؛؛ اللہ اکبر ؛؛ کہتے پھر بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھتے اور اس اعتدال کے ساتھ بیٹھتے کہ ہر جوڑ اپنی جگہ قائم ہو جاتا ، پھر اٹھ کر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں وہی عمل کرتے جو پہلی رکعت میں کیا یہاں تک کہ جب دونوں سجدوں سے اٹھتے تکبیر فرماتے ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھاتے جیسے کہ شروع نماز میں اٹھائے تھے یہی عمل دہراتے رہتے یہاں تک کہ آخری رکعت کو پہنچ جاتے تو بایاں پاؤں پیچھے ہٹا لیتے اور سرین کے بل بیٹھ جاتے پھر سلام پھرتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ؛؛ دو سجدوں سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھاتے ،، کا مطلب یہ ہے ، کہ جب دو رکعتوں کے بعد اٹھ کر کھڑے ہوتے ، محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں میں نے دس صحابہ کرام جن میں ابو قتادہ بن ربعی بھی تھے کی موجودگی میں ابو حمید ساعدی سے سنا اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی روایت کہ ہم معنی مذکور ہے البتہ اس میں ابو عاصم نے بواسطہ عبدالحمید بن جعفر یہ الفاظ زائد نقل کئے ؛؛ پھر ان سب نے کہا تو نے سچ کہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یو نہی نماز ادا فرمائی۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۲؛ مَا جَاءَ فِیْ وَصْفِ الصَّلٰوةِ،حدیث نمبر ٣٠٢،و حدیث نمبر ٣٠٣،و حدیث نمبر ٣٠٤،و حدیث نمبر ٣٠٥)
صبح کی نماز میں قراءت حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں " والنخل باسقات ، پڑھتے ہوئے سنا اس باب میں حضرت عمرو بن حریث جابر بن سمرہ عبد الله بن سائب، ابو برزہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے کہ آپ نے صبح کی نماز میں سورۃ واقعہ پڑھی ، روایت ہے کہ آپ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیات پڑھا کرتے تھے ۔ علاوہ ازیں " اذ الشمس کورت" کی قرأت بھی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابوموسٰی کو لکھا کہ صبح کی نماز میں طوال مفصل سوره حجرات سے سورہ بروج تک) سے پڑھا کرو ، امام ترمذی فرماتے ہیں علماء کا اس پر عمل ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۳؛ مَا جَاءَ فی الْقِرٓاَءةِ فِی الصُّبْحِ ؛حدیث نمبر ٣٠٦)
ظہر و عصر کی قراءت حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم ظہر وعصر کی نمازوں میں( سورۃ البروج)سورۃ الطارق ؛؛ اور اس قسم کی دوسری سورتیں نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ اس باب میں حضرت خباب ابوسعيد ابوقتاده ، زيد بن ثابت اور براء رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں جابر بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں ر تنزیل السجدہ ؛؛ کی مقدار قرآت فرمائی ۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ ظہر کی پہلی رکعت میں تیسں آیات اور دوسری رکعت میں پندرہ آیات کا اندازہ قرآت فرماتے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ظہر کی نماز میں اوساط مغفل (سورہ بروج سے لم یکن الذین کے آخرتک) پڑھا کریں۔ بعض علماء کہتے ہیں عصر کی قرآت مغرب کی قرأت کی طرح ہے ۔ یعنی قصار مفصل (لم یکن الدین سے لے کر آخر قرآن تک ) پڑھی جائے۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " عصر اور مغرب کی نمازیں قرات کے اعتبار سے برابر ہیں۔ نیز فرمایا کہ ظہر کی قرات عصر کی قرات سے چار گنا زیادہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۴؛مَاجَاءَ فی القِرَاَءَةِ فِی الظُّهْرِ وَالعَصْرِ ؛حدیث نمبر ٣٠٧)
قراءت مغرب حضرت ابن عباس اپنی والدہ ام الفضل (رضی اللہ عنہم) سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا؛؛ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک پر (بوجہ بیماری) پٹی باندھے ہوئے ہمارے ہاں تشریف لائے اور مغرب کی نماز پڑھائی جس میں سورہ مرسلات پڑھی؛ اس کے بعد آپ نے تادم وصال کوئی نماز نہیں پڑھائی ۔ اس باب میں حضرت جبیر بن مطعم ، ابن عمر، ابوایوب؛ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورۃ اعراف پڑھی ، سورہ طور بھی مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مغرب کی نماز میں قصار مفصل پڑھا کریں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ آپ نے مغرب کی نماز میں قصار مفصل کی قراءت کی ، امام ترمذی فرماتے ہیں اہل علم کا اسی پر عمل ہے ابن مبارک اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں ، امام شافعی فرماتے ہیں امام مالک سے جو منقول ہے کہ مغرب کی نماز میں لمبی سورت جیسے سورہ طور اور مرسلات وغیرہ پڑھنی مکروہ ہے تو میں اسے مکروہ نہیں سمجھتا بلکہ میرے نزدیک مغرب کی نماز میں ان کا پڑھنا مستحب ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۵؛ فِی القِرَاَءةِ فی الْمَغْرِبِ ؛حدیث نمبر ٣٠٨)
نماز عشاء کی قرارت حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ سلم عشاء کی نماز میں سورہ ؛؛والشمس وضحٰہا ،؛؛ اور اس مقدار کی دیگر سورتیں پڑھا کرتے تھے اس باب میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث بریدہ حسن ہے علاوہ ازیں حضور صلے اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عشاء کی نماز میں سورہ (والتین )پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ آپ عشاء کی نماز میں اوساط مفصل کی سورتوں مثلاً " سورہ منافقون" وغیرہ میں سے پڑھتے تھے۔ صحابہ کرام اور تابعین عظام کے بارے میں اس سے کم اور زیادہ پڑھنے کی روایات ہیں گویا کہ ان کے نزدیک اس امر میں گنجائش ہے ۔ اس قرآت کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حسن قول مروی ہے وہ یہ ہے کہ آپ " والشمس وضحٰہا ؛؛ اور والتین والزیتون " پڑھا کرتے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں سورہ " والتین " پڑھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۶؛ مَا جَاءَ فِی الْقَرَاءَتِ فِیْ صَلٰوةِ الْعِشَاءِ ؛حدیث نمبر ٣٠٩،و حدیث نمبر ٣١٠)
قرأۃ خلف الامام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور آپ پر تلاوت بھاری ہو گئی جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم امام کے پیچھے پڑھتے ہو، حضرت عبادہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ! اللہ کی قسم ،، ہم پڑھتے ہیں) آپ نے فرمایا۔ صرف سورہ فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ اس کی نماز ( کامل) نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ عائشہ ، انس، ابو قتادہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبادہ حسن ہے ۔ زہری نے بھی یہ حدیث بواسطہ محمود بن ربیع، حضرت عبادہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز ( کامل ) نہیں یہ اصح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا قرآۃ خلف الامام کے بارے میں اس حدیث پر عمل ہے مالک بن انس، ابن مبارک ، شافعی ، احمد بن حنبل اور اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں کہ قرأت خلف الامام جائزہ ہے۔(لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور دیگر علماے کرام دوسری حدیثوں کے سبب امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے بھی قائل نہیں ہیں) (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۷؛مَا جَاءَ فِی الْقِرَأَۃِخَلْفَ الْإِمَامِ ؛؛٣١١)
جہری نماز میں قراۃ خلف الامام کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہری نماز سے فارغ ہوکر فرمایا ؛؛ کیا تم میں سے کسی نے اب میرے ساتھ قرآت کی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ " آپ نے فرمایا ؛؛ تب ہی تو میں کہتا ہوں کہ مجھ سے قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جاتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں یہ سننے کے بعد صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہری نمازوں میں قرآت سے رک گئے ۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے اور عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے بعض اصحاب زہری نے اس حدیث کو اس اضافہ کے ساتھ روایت کیا ؛؛ امام زہری نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ بات سننے کے بعد لوگ قرآت سے رک گئے امام ترمذی فرماتے ہیں ، کہ اس حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے قرآت خلف الامام کے قائلین پر اعتراض ہو سکے کیونکہ حضرت ابو ہریرہ نے ہی اس حدیث کو بھی روایت کیا اور اس حدیث کو بھی جس میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز پڑھی اور میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی وہ نا مکمل نماز ہے اس پر حضرت ابوہریرہ کے شاگرد نے کہا ؛؛ کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ؛ آپ نے فرمایا ؛ اپنے دل میں پڑھ لیا کرو ؛ ابو عثمان نہدی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اعلان کرنے کا حکم دیا کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز ( مکمل) نہیں ہوتی محدثین نے پسند کیا ہے کہ جب امام قرآت بالجہر کر رہا ہوں اس وقت مقتدی کو قرآت نہیں کرنی چاہیے بلکہ امام کے سکتوں کا خیال رکھنا چاہیے ؛ قرآت خلف الامام میں علماء کا اختلاف ہے ، اکثر صحابہ کرام تابعین اور بعد کے فقہاء کے نزدیک یہ جائز ہے امام مالک ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد بن حنبل ، اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں ، میں امام کے پیچھے قرات کرتا تھا اور دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے ، البتہ کوفہ کی ایک جماعت نہیں پڑھتی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی نماز جائز ہے علماء کی ایک جماعت نے سورہ فاتحہ کے ترک کے بارے میں شدت سے کام لیا ، اور کہا کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں چاہے اکیلا ہو یا امام کے پیچھے ، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا اور عبادہ بن صامت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول پر عمل کیا کہ سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نماز (کامل) نہیں ہوتی ، امام شافعی اور اسحٰاق وغیرہما کا یہی قول ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو (تو فاتحہ ضروری ہے) اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو دلیل بنایا ؛؛ کہ جس نے ایک رکعت نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی ، سوائے اس کے کہ امام کے پیچھے ہو ؛؛ پس اس صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کیا کہ یہ (بغیر فاتحہ نماز کا نہ ہو نا) اس وقت ہے جب اکیلا ہو ، امام ترمذی فرماتے ہیں اس کے باوجود امام احمد نے قراۃ خلف الامام کو اختیار اور یہ کہ آدمی سورہ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو ،،، ف : امام ترمذی کی اس تمام بحث سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف قوی ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدی کو سورۃ الفاتحہ کی بھی قرآت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ امام کی قرات ہی مقتدی کی قرات ہے اور علیحدہ نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز نامکمل رہتی ہے مطلقاً قرآت فرض ہے اور فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے،، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جس نے ایک رکعت بھی سورہ فاتحہ کے بغیر پڑھی اس نے (مکمل) نماز نہیں پڑھی ، البتہ امام کے پیچھے ہو تو جائز ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۲۸؛مَا جَاءَ فِیْ تَركِ الْقَرَأَۃ خَلْفَ الإِمَامِ اِذَا جَهَرَ بالقِرَأةِ ؛؛حدیث نمبر ٣١٢ و حدیث نمبر ٣١٣)
مسجد میں داخل ہوتے وقت کیا کہا جائے حضرت خاتون جنت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے وقت صلوۃ وسلام کے بعد یہ دعا مانگتے ، اے رب میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور باہر تشریف لاتے وقت صلوۃ وسلام کے بعد یوں دعا مانگتے ،، اے رب میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے ،، علی بن حجر اسماعیل بن ابراہیم کا قول نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے مکہ مکرمہ میں عبد الله بن حسین سے ملاقات کی وقت اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ،جب آپ داخل ہوتے الخ ، اس میں بھی وہی دعا ہے صرف صلوٰۃ و سلام اور استغفار کا ذکر نہیں، اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث فاطمہ ، حسن ہے اس کی سند متصل نہیں کیونکہ فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چند ماہ بعد ہی حضرت خاتون جنت کا وصال ہوگیا تھا۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ، باب ۲۲۹؛مَا يَقُولُ عِندَ دُخُوله المسجد ؛؛ حدیث نمبر ٣١٤،و حدیث نمبر ٣١٥)
تحیتہ المسجد کی دورکعتیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو بیٹھنے سے پہلے اسے دور کعتیں ادا کر لینی چاہئیں۔ اس باب میں حضرت جابر، ابوامامہ ، ابوہریرہ ، ابوذر اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو قتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے محمد بن عجلان اور کئی دوسرے راویوں نے بھی اسے عامربن عبد اللہ بن زبیر سے مالک بن انس کی روایت کی مثل روایت کیا ہے سہیل بن ابی صالح نے اس حدیث کو بواسطه عامر بن عبد الله بن زبیر اور عمر و بن سلیم حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا اور یہ حدیث غیر محفوظ ہے ۔ ابو قتادہ کی حدیث صحیح ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ہمارے اصحاب کا اس حدیث پر عمل ہے اور وہ مستحب جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص مسجد میں آئے اور کوئی عذر نہ ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (تحیتہ المسجد ) ادا کرے ، علی بن مدینی کہتے ہیں حدیث سہیل خطاء ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ علی بن مدینی کا یہ قول مجھے اسحٰاق بن ابراہیم نے بتایا۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۰؛ مَا جَاءَ إِذَا دَخَلَ أَحَدَكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيرُكَعُ رَكَعَتَيْنِ ؛حدیث نمبر ٣١٦)
قبرستان اور حمام کے سوا تمام زمین مسجد ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛ قبرستان اور حمام کے سوا تمام روئے زمین مسجد ہے اس باب میں حضرت علی ؛ عبد اللہ بن عمرو ، ابو ہریرہ ، جابر، ابن عباس، حذیفہ انس ، ابوامامہ اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں۔ یہ سب فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میرے لئے تمام روئے زمین مسجد اور پاکیزہ بنادی گئی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابوسعید کی حدیث ، عبد العزیز بن محمد سے دو روایتوں کے ساتھ مروی ہے بعض نے ابو سعید کا ذکر کیا اور بعض نے نہیں کیا۔ اس حدیث( کی سند) میں اضطراب ہے۔ سفیان ثوری نے بواسطہ عمرو بن یحییٰ ان کے والد سے مرسل روایت کی ، حماد بن سلمہ نے بواسطه عمرو بن یحٰیی اور یحییٰ حضرت ابو سعید رضی اللہ اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی۔ محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ عمرو بن یحییٰ اور یحیٰی مرسل روایت نقل کی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ عام روائتیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، لیکن اس روایت میں حضرت ابو سعید کا ذکر نہیں ، گویا کہ سفیان ثوری کی روایت بواسطه عمرو بن یحییٰ و یحییٰ ، زیادہ ثابت اور اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۱؛ مَا جَاءَ أَنَّ الْأَرْضُ كُلَّهَا مَسْجِِدٌ اِلاَّ الْمَقْبَرَةَ والْحَمَّامَ ؛حدیث نمبر ٣١٧)
تعمیر مسجد کی فضیلت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص اللہ تعالے( کی رضا )کے لئے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے اس کی مثل (مکان) بنائے گا۔ اس باب میں حضرت ابو بکر ؛ عمر ، علی عبد الله بن عمرو ، انس، ابن عباس، عائشہ ، ام حبیبہ، ابوذر عمرو بن عبسہ، وائلہ بن اسقع ابو ہریرہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث عثمان حسن صحیح ہے نبی کریم صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ جس نے اللہ تعالی( کی رضا ) کے لئے چھوٹی یابڑی مسجد بنائی اللہ تعالے اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔ قتیبہ بن سعید نے بواسطہ نوح بن قیس، عبد الرحمٰن (قیس کا غلام) اور زیاد نمیری ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کی مثل روایت نقل کی محمود بن لبید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور محمود بن ربیع نے بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی یہ دونوں اس وقت چھوٹے بچے تھے ، اور مدینہ طیبہ کے رہنے والے تھے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۲؛ مَا جَاءَ فِی فَضْلِ بُنْيَانِ الْمَسْجِدِ ؛حدیث نمبر ٣١٨ و حدیث نمبر ٣١٩)
قبر پر مسجد بنانا منع ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبور کی زیارت کرنے والی عورتوں قبروں پر مسجد بنانے اور چراغ جلانے والوں پر لعنت بھیجی ہے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکو ر ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عباس کی حدیث حسن ہے، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۳ ؛ مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِيَةِ أَنْ يَتَّخَذَ عَلَى الْقَبْرِ مَسْجِدًا۔حدیث نمبر ٣٢٠)
مسجد میں سونے کا حکم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں؛ ہم عہد رسالت میں مسجد میں سویا کرتے تھے اس وقت ہم جوان تھے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے علماء کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( مسجد کو رات اور دن کے سونے کی جگہ ہی نہ بنالے (یعنی عادت نہ بنالے ) بعض علماء کا حضرت ابن عباس کے قول پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۴؛مَا جَاءَ فِی النَّوْمِ فِی الْمَسْجِدِ ؛حدیث نمبر ٣٢١)
مسجد میں خرید و فروخت ؛ گمشدہ چیز کا اعلان اور شعر گوئی ممنوع ہے عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں (برے) اشعار کہنے ، خرید و فروخت اور جمعہ کی نماز سے قبل حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت بریدہ ، جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث حسن ہے اور عمرو بن شعب محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں میں نے امام احمد اسحٰاق اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو دیکھا کہ وہ عمر بن شعیب کی حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں امام بخاری نے مزید فرمایا کہ شعیب بن محمدنے عبداللہ بن عمرو سے سنا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں جس نے عمرو بن شعیب کی اس حدیث میں کلام کیا۔ اور اس کو ضعیف قرار دیا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دادا کے صحیفہ سے روایت کرتے ہیں گویا کہ ان لوگوں کے نزدیک عمر و بن شعیب نے یہ حدیث اپنے دادا سے نہیں سنی علی بن عبداللہ کہتے ہیں یحییٰ بن سعید سے مذکور ہے کہ عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے علماء کی ایک جماعت نے مسجد میں خرید وفروخت کو مکروہ کہا ہے امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں ۔ بعض تابعی علماء سے اس بارے میں اجازت کی روایت ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری حدیث میں مساجد میں" (اچھے )شعر کہنے کی اجازت منقول ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۵؛ مَا جَاء فیْ كَرَاهِيَةِ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وَ اِلنْشَادِ الضَّالَّةِ والشِّعْرِ فِی الْمَسْجِدِ .حدیث نمبر ٣٢٢)
وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بنی خدرہ اور بنی عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے بنوخنده سے تعلق رکھنے والے نے کہا وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے دوسرے نے کہا وہ مسجد قبا ہے پھر وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مسئلہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا وہ یہی (یعنی مسجد نبوی ہے) اور اس میں بہت سی بھلائیاں ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابوبکر نے علی بن عبد اللہ کا قول نقل کیا وہ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید سے محمد بن ابی یحیٰی اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اس کا بھائی انیس بن ابی یحیٰی سے اثبت ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ، باب۲۳۶؛ مَا جَاءَ فِی المَسْجِدِ الَّذِى اُسِّسَ عَلَى التَّقوىٰ ؛حدیث نمبر ٣٢٣)
مسجد قباء میں نماز کا ثواب حضرت اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے روایت کرتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسجد قباء میں نماز( کا ثواب) عمرہ کے برابر ہے۔ اس باب میں حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اسید کی حدیث حسن غریب ہے، اور اس حدیث کے سوا ، اسید بن ظہیر سے کوئی صحیح روایت معروف نہیں۔ اور ہم اس حدیث کو صرف ابو اسامه بواسطه عبد الحميد بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، ابوالابر کا نام زیاد مدینی ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۷؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلٰوةِ فِیْ مَسْجِدِ قُبَاءَ ؛حدیث نمبر ٣٢٤)
کونسی مسجد افضل ہے ؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز (کا ثواب) مسجد حرام کے سوا دیگر مساجد میں ایک ہزار نمازوں (کے ثواب )کے برابر ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں قتیبہ نے اپنی حدیث میں عبید اللہ سے روایت نہیں کیا بلکه بواسطه زید بن رباح ، ابو عبد الله اغر سے روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابو عبداللہ اغر کا نام سلمان ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث دیگر کئی طرق سے بھی مروی ہے اس باب میں حضرت علی میمونہ، ابوسعید جبیر بن مطعم ، عبد اللہ بن زبیر، ابن عمر اور ابو ذر رضی اللہ عنہم سے بھی روایت منقول ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد ، مسجد حرام مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے سوا کسی (مسجد) کی طرف (کثرت ثواب کی نیت سے ) قصداً سفر نہ کیا جائے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، ف : حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں بعض علماء کا یہ استدلال کے مشائخ کی زیارت اور علماء صلحاء کی قبور کی زیارت اس حدیث کی رو سے منع ہے ، صحیح نہیں بلکہ میرے نزدیک قبور صلحاء و علماء کی زیارت کا حکم دیا گیا ہے جس طرح حدیث میں آتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۸؛ مَا جَاءَ فِی أَي الْمَسَاجِدِ أَفْضَلُ ؛حدیث نمبر ٣٢٥ و حدیث نمبر ٣٢٦)
مسجد کی طرف جانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛؛ نماز کھڑی ہو جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ ( درمیانی چال) چلتے ہوئے سکون کے ساتھ آؤ جو مل جائے پڑھ لو جو رہ جائے( بعد میں اٹھ کر) پوری کرلو ؛؛ اس باب میں حضرت ابو قتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت ، جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں مسجد میں جانے کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض کے نزدیک اگر تکبیر اولیٰ کے فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیزی سے جانا چاہیئے یہاں تک کہ بعض سے دوڑ کر آنا بھی منقول ہے بعض نے تیز چلنا مکروہ خیال کیا اور عام اندازہ اور وقار کے ساتھ چلنے کو پسند کیا امام احمد اور اسحٰق کا بھی یہی قول ہے وہ دونوں فرماتے ہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل ہے ۔ امام اسحٰق فرماتے ہیں اگر تکبیر اولیٰ کے نکل جانے کا خوف ہو تو تیز چلنے میں کوئی خرج نہیں۔ زہری نے بواسطہ سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت مرفوعاً نقل کی ، عبدالرزاق نے بواسطہ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی طرح نفل کیا ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے اصح ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان ، زہری، سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی کے ہم معنی روایت مرفوعاً نقل کی۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ، باب۲۳۹؛ مَا جَاءَ فِی المَشْيِ إلَى الْمَسْجدِ ؛حدیث نمبر ٣٢٧،و حدیث نمبر ٣٢٨،و حدیث نمبر ٣٢٩)
مسجد میں بیٹھ کر انتظار نماز کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نماز میں ہی (شمار) ہوتا ہے جب تک نماز کی انتظار کرتا رہے اور جب تک کوئی مسجد میں رہے فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت مانگتے رہتے ہیں جب تک اسے حدث نہ ہو۔ "اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرمایا۔ حضر موت کے ایک شخص نے عرض کیا " اے ابو ہریرہ ! حدث کیا ہے ، آپ نے فرمایا ہوا کا خارج ہونا ، اس باب میں حضرت علی ، ابوسعید، انس، عبد اللہ بن مسعود اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف ،، کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۰؛ مَا جَاءَ فِی الْقُعُودِ فِی الْمَسْجِدِ لِانْتِظارِ الصَّلوة مِنَ الْفَضْلِ ؛حدیث نمبر ٣٣٠)
چٹائی پر نماز پڑھنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے، اس باب میں حضرت ام حبیبہ، ابن عمر ، ام سلمہ، عائشہ میمونہ ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ام کلثوم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع حاصل نہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کا بھی یہی قول ہے امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چٹائی پر نماز پڑھنا ثابت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ؛؛ خمرہ ؛؛ چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۱؛ مَاجَاء فِی الصَّلٰوةِ عَلَى الخُمْرَةِ ؛حدیث نمبر ٣٣١)
ٹاٹ پر نماز پڑھنا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ٹاٹ پر نماز ادا فرمائی۔ اس باب میں حضرت انس اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں، ابوسعید کی حدیث حسن ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے، البتہ علماء کی ایک جماعت نے زمین پر نماز پڑھنے کو اچھا سمجھا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۲؛ مَا جَاءَ فِى الصَّلٰوةِ عَلَى الْحَصِير ؛حدیث نمبر ٣٣٢)
فرش پر نماز پڑھنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل کر رہتے تھے یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے (مزاحًا) فرماتے ، دور اے نمیر ! تمہارے نغیر (ایک پرندہ ) کو کیا ہوا حضرت انس فرماتے ہیں ہمارے فرش پر پانی چھڑکا گیا اور آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس، حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے کہ وہ فرش اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ امام احمد اور اسحٰق کا یہی مسلک ہے ابوالیتاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۳؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلٰوةِ عَلَى الْبُسُطِ ؛ حدیث نمبر ٣٣٣)
باغ میں نماز پڑھنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، باغ میں نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے ابو داؤد کہتے ہیں۔ " حیطان“ کا معنیٰ ؛؛ بساتین (باغ ) ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث معاذ غریب ہے ، اور ہم اسے صرف حسن بن ابی جعفر کی روایت سے جانتے ہیں ، ابن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف کہا ہے ، ابو زبیر کا نام محمد بن مسلم بن تدرس ہے ، اور ابو طفیل کا نام عامر بن واثلہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۴ ؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلٰوةِ فی الْحِيطَانِ ؛حدیث نمبر ٣٣٤)
سترہ رکھنا حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے راوی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛؛ جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی طرح (سترہ ) رکھے تو چا ہیئے کہ وہ نماز پڑھ لے، اور اس کے آگے سے گزرنے والے کی پرواہ نہ کرے ۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ سہل بن ابی حثمہ ؛ ابن عمر، سبره بن معبد ، ابو جحیفہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث طلحہ حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے اور علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ امام کا سترہ مقتدیوں کے لئے بھی کفایت کرتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ، باب۲۴۵؛ مَا جَاءَ فِیْ سُتْرَةِ المُصَلِّيْ ؛حدیث نمبر ٣٣٥)
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت حضرت بسر بن سعید سے روایت ہے کہ خالد جہنی نے ایک شخص کو ابو جہیم کے پاس یہ بات پوچھنے کے لئے بھیجا کہ انہوں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے نمازی کے آگے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ ابو جہیم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ ہو کہ اس کی سزا کیا ہے تو وہ چالیس( سال یا مہینہ یادن) انتظار کرتا اور یہ اس کے لئے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ ابو نضر کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں چالیس دن فرمایا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ اس باب میں حضرت ابو سعید خدری، ابو ہریرہ ؛ ابن عمر ؛ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ابو جہیم کی حدیث حسن صحیح ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ تم میں سے کسی ایک کو سو سال کھڑا رہنا اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے نمازی بھائی کے آگے سے گزرے علماء کا اسی پر عمل ہے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانتے ہیں لیکن اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۶ ؛ مَا جَاءَ فِىْ كَرَاهِيَةِ المُرُورِ بيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِىّ ؛حدیث نمبر ٣٣٦)
تمانہ کو کوئی( گزرنے والی ) چیز نہیں توڑتی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں میں ایک گدھی پر فضل بن عباس کے پیچھے تھا۔ ہم منٰی میں پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے۔ فرماتے ہیں ہم اتر کر صف میں جاملے گدھی ان کے سامنے سے گزری، پس ان کی نماز نہیں ٹوٹی، اس باب میں حضرت عائشہ ، فضل بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا یہی مسلک ہے کہ کسی (گز رنے والی) چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی - سفیان ثوری، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ) رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۷؛ مَا جَاءَ لَا يَقْطَعُ الصَّلوةَ شَیْءٌ ؛حدیث نمبر ٣٣٧)
کتے ، گدھے اور عورت کے سوا کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو۔ اور اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی یا درمیانی لکڑی ، (راوی کو شک ہے ) کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کو سیاہ کتا، عورت اور گدھا توڑ دیتے ہیں عبداللہ بن صامت فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا سیاہ کتے اور سفید کتے میں کیا فرق ہے ؟ آپ نے فرمایا اے بھتیجے ! تو نے مجھ سے اسی طرح سوال کیا ہے جس طرح میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہے ۔ اس باب میں حضرت ابوسعید، حکم غفاری، ابوہریرہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ذر صحیح حسن ہے بعض علماء کا یہی خیال ہے کہ گدھا، عورت اور سیاہ کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں سیاہ کتے کے گزرنے سے نماز کے ٹوٹنے میں تو مجھے شک نہیں البتہ گدھے اور عورت کے بارے میں مجھے شک ہے امام اسحٰاق فرماتے ہیں نماز صرف سیاہ کتے کے گزرنے سے ہی ٹوٹتی ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۸؛ ما جَاءَ أَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلوةَ إِلَّا الْكَلْبُ وَالْحِمارُ وَالْمَرْأَةُ. حدیث نمبر ٣٣٨)
ایک کپڑے میں نماز پڑھنا حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بنی پاک صلے اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، جابر ، سلمہ بن اکوع ، انس ، عمرو بن ابی اسید ابوسعید ، کیسان، ابن عباس عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر ، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث عمر بن ابی سلمہ، حسن صحیح ہے، اکثر صحابہ کرام ، تابعین اور دیگر فقہاء کا اس پر عمل ہے ، وہ فرماتے ہیں. ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، بعض علماء فرماتے ہیں، آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۳۹؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلوةِ فِی الثَّوَبِ الوَاحِدِ ؛ حدیث نمبر ٣٣٩)
تبدیلی قبلہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ تشریف لا نے کے بعد چھ یا سات ماہ بیت المقدس کیطرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ کعبتہ اللہ کیطرف منہ کرنا پسند فرماتے تھے اس پر اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی( قدنری تقلب وجہک الخ ) بیشک ہم نے آپکے چہرہ اقدس کو بار بار آسمان کیطرف اٹھے دیکھا پس ہم آپ کو ضرور اس قبلہ کیطرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں لہذا آپ اپنا چہرہ اقدس کو مسجد حرام کیطرف پھیر دیں ) آپنے کعبتہ اللہ کی طرف منہ پھر لیا اور یہی بات آپکو پسند تھی ایک آدمی نے آپکے ساتھ عصر کی نماز پڑھی پھر وہ انصار کی ایک قوم کے پاس سے گزرا وہ نماز عصر میں ، بیت المقدس کی طرف منہ کئے رکوع کر رہے تھے اس صحابی نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صل اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے راوی کہتے ہیں وہ لوگ حالت رکوع ہی میں کعبتہ اللہ کیطرف متوجہ ہو گئے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر ابن عباس عمارہ بن اوس ، عمرو بن عوف مزنی، اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں براء بن عازب کی حدیث حسن صحیح ہے سفیان ثوری سے بواسطہ ابو اسحاق بھی مروی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ، صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۴۰؛ مَا جَاءَ فِی ابْتِدَاءِ الْقِبْلَةِ ؛حدیث نمبر ٣٤٠ و حدیث نمبر ٣٤١)
مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ۔ محمد بن ابی معشر سے بھی اسی کی مثل مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ سے یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے، بعض علماء نے ابو معشر کے حفظ میں کلام کیا ہے ان کا نام نجیح ہے اور وہ بنی ہاشم کے غلام ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں " میں ان سے کوئی روایت نہیں لیتا۔ اگر چہ کئی لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ امام بخاری مزید فرماتے ہیں ' عبداللہ بن جعفر مخرمی کی روایت بواسطه عثمان بن محمد اخنس سعید مقبری اورابوہریرہ رضی اللہ ، ابو معشر کی حدیث سے اقوی اور اصح ہے ؛؛ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے عبداللہ بن جعفر کو مخرمی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ مسور بن مخرمہ کی اولاد سے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ان میں سے حضرت عمر بن خطاب ، حضرت علی ابن طالب اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب تو مغرب کو اپنی دائیں جانب اور مشرق کو اپنی بائیں طرف کرے اور قبلہ رخ ہو کہ کھڑا ہو تو ان دونوں کے درمیان قبلہ ہے ابن مبارک فرماتے ہیں یہ بات اہل مشرق کے لئے ہے، ابن مبارک نے بائیں طرف کو اہل مرو کے لئے اختیار کیا ہے۔ ف : مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہونا اہل مدینہ کے لئے ہے،، (مترجم) (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۵۱؛ مَا جَاءَ أَنَّ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبلة ؛حدیث نمبر ٣٤٢،و حدیث نمبر ٣٤٣،و حدیث نمبر ٣٤٤)
بادلوں کے سبب اگر کوئی غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھے تو اس کا حکم حضرت ربیعہ فرماتے ہیں ہم ایک اندھیری رات میں نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کے ہم سفر تھے ہمیں جہت قبلہ نہ معلوم ہوسکی تو شخص نے جدھر منہ آیا نماز پڑھ لی صبح کوہم نے یہ واقعہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( فاینما تو لو فثم وجه اللّٰہ ) جدھر منہ کرو ادھر ہی اللہ کی رحمت ہے ) امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح نہیں، ہم اسے صرف اشعث سمان کی روایت سے جانتے ہیں اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے وہ فرماتے ہیں اگر کسی نے ابر میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی بعدمیں علم ہوا کہ وہ قبلہ رخ نہیں تھا تو اسکی نماز جائز ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحٰق رحمہم الله کا بھی یہی قول ہے ۔،، ف : اگر کوئی آدمی وہاں موجود ہو تو اس سے پوچھے ورنہ سوچ بچار کر کے جدھر غالب گمان ہو منہ کر کے نماز پڑھ لے اگر بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ اگر نہیں تو بھی نماز ہو جائے گی لیکن اگر غور و فکر کے بغیر کسی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور وہ قبلہ نہیں تھا تو لوٹانی پڑے گی (مترجم) (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۵۲ ؛ مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يُصَلِّى لِغَيرِالقبلَةِ فِي الْغَيْمِ ؛حدیث نمبر ٣٤٥)
کس مقام پر نماز پڑھنا مکروہ ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ کوڑے کرکٹ کی جگہ میں جانوروں کے ذبح کرنے کی جگہ میں، قبرستان میں، راستے کے درمیان میں حمام میں ، اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور کعبتہ اللہ کی چھت پر ۔،، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم معنی روایت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمائی ہے اس باب میں حضرت ابو مرثد ، جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر کی سند قوی نہیں زید بن جبیرہ کے حفظ میں کلام کیا گیا ہے۔ لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کی مثل بواسطہ عبد الله بن عمر عمری، نافع ، ابن عمر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے حضرت ابن عمر کی حدیث ، لیث بن سعد کی حدیث کے مقابلہ میں اشبہ اور اصح ہے ، عبد الله بن عمر عمری کو بعض محمد تین یحییٰ بن سعيد قطان وغیرہ نے حفظ کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے ،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۵۳؛ مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِيَةِ مَا يُصَلَّےَ اِلَيْهِ وَفِيْهِ ؛؛حدیث نمبر ٣٤٦ و حدیث نمبر ٣٤٧)
بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز کا حکم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛؛ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نہ پڑھو ،، ابو کریب نے بھی متعدد راویوں کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے اس باب میں حضرت جابر بن سمرہ ، براء سبره بن معبد جہنی ، عبد اللہ بن مغفل ، ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں ، بواسطه ابوصالح ، ابوحصین کی حدیث غریب ہے، اسرائیل نے اسے بواسطہ ابوحسین ابو صالح ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔ ابو حصین کا نام عثمان بن عاصم اسدی ہے ،، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے ، ابو التیاح کا نام یزید بن حمید ہے ،، (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۵۴؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلوةِ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَاَعْطَانِ الْاِ بِلِ ؛؛ حدیث نمبر ٣٤٨ و حدیث نمبر ٣٤٩ و حدیث نمبر ٣٥٠)
سواری پر نماز پڑھنا اس کا رخ جدھر بھی ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں فرماتے ہیں مجھے نبی پاک صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کو بھیجا جب میں آیا تو آپ سواری پر مشرق کی طرف منہ کئے نماز پڑھ رہے تھے ۔ اور سجدہ کے لئے رکوع کی بنسبت کچھ زیادہ جھکتے تھے ۔ اس باب میں حضرت انس ، ابن عمر ، ابوسعید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے اور آپ سے کئی طرق سے مروی ہے عام علماء کا اس پر عمل ہے اس میں علماء کا اختلاف نہیں وہ سب سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے سواری کا منہ قبلہ کی طرف ہو یا کسی دوسری طرف ،، (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۵۵؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلاةِ عَلَى الدَّابَّةِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهٖ،،حدیث نمبر ٣٥١)
سواری کو سترہ بنانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ یا کجاوے کی طرف نماز پڑھی۔ (یعنی اسے سترہ بنایا ) اور آپ سواری پر نماز پڑھتے وہ جدھر بھی متوجہ ہوتی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کا یہی نظریہ ہے کہ وہ اونٹ کو سترہ بناکر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ،؛؛ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب۲۵۶؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلوة إِلَى الرَّاحِلَةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٥٢)
جب شام کا کھانا حاضر ہوا اور نماز قائم ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شام کا کھانا حاضر ہو؛ اور جماعت کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ اس باب میں حضرت عائشہ، ابن عمر ، سلمہ بن اکوع اور اس ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس ، حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام ، حضرت ابوبکر صدیق ، عمر فاروق اور ابن عمر( و غيرهم) رضی اللّٰہ عنہم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں وہ دونوں فرماتے ہیں پہلے کھانا کھایا چاہے اگر یہ نماز باجماعت فوت ہو رہی ہو۔ جارود کہتے ہیں میں نے وکیع سے سنا۔ وہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کھانا اسوقت پہلے کھایا جائے جب خراب ہونیکا خطرہ ہو “ امام ترمزی فرماتے ہیں، بعض صحابہ کرام اور دیگر فقہاء کا قول اتباع کے زیادہ لالٔق ہے کیونکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز کے لئے کھڑا نہ ہو جب اس کا دل کسی اور چیز میں مشغول ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہمارے دل میں کچھ کھٹکتا ہو تو ہم نماز کے لئے نہیں کھڑے ہوتے ؛؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز کھڑی ہو جائے توپہلے کھاناکھا لو حضرت ابن عمر نے اس حالت میں کھانا کھایا کہ آپ امام کی قرات سن رہے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں ہم سے یہ بات ہناد نے بواسطہ عبدہ ، عبیداللہ ، نافع اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان فرمائی،،، (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ؛ باب ۲۵۷ ؛ مَا جَاءَ اِذَا حَضَرَ الْعَشَآءُ وَأُقِيْمَتِ الصَّلاٰةُ فَابْدَءُوْابا العَشَآءِ ؛؛حدیث نمبر ٣٥٣ و حدیث نمبر ٣٥٤)
اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو چاہئے کہ (تھوڑی) دیر سوجائے تا کہ اس سے نیند چلی جائے کیونکہ جب کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آجائے تو ہو سکتا ہے وہ بخشش مانگنے کی بجائے اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو ۔ اس باب میں حضرت انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے ۔،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۵۸؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلٰوةِ عِنْدَ النُّعَاسِ ؛ حدیث نمبر ٣٥٥)
مہمان ، میزبان کی اجازت بغیر نماز نہ پڑھائے ابو عطیہ کہتے ہیں مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آتے اور احادیث بیان فرماتے ، ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے کہا " آگے ہو جائیے، انہوں نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک آگے ہو جائے پھر میں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی قوم کے پاس ملاقات کے لئے جائے تو (از خود) ان کا امام نہ بن جائے بلکہ انہی میں سے کوئی امامت کرائے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے اکثر صحابہ کرام و تابعین کا اس پر عمل ہے ، وہ فرماتے گھر والا ، آنے والے کی بنسبت امامت کا زیادہ حقدار ہے بعض علماء فرماتے ہیں، صاحب منزل اجازت دے تو کوئی حرج نہیں۔ امام اسحٰق نے اس بارے میں سختی سے کام لیا اور اسی حدیث کو اپناتے فرمایا ؛؛ صاحب منزل کی اجازت سے بھی نہ پڑھائے ؛ اسی طرح مسجد کا حکم ہے کہ آنے والے کی بجائے وہاں کے باشندوں میں سے کوئی پڑھاۓ ؛؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۵۹؛ مَا جَاءَ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يُصَلِ بِهِم ؛حدیث نمبر ٣٥٦)
امام کا صرف اپنے لئے دعا مانگنا حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کسی شخص کو دوسرے کے گھر بلا اجازت جھانکنا جائز نہیں اگر دیکھا تو گویا کہ اندر ہی چلا گیا۔ اور کوئی شخص قوم کا امام بنے تو اپنے آپ کو دعا کے ساتھ مخصوص نہ کرے کہ دوسروں کے لئے نہ مانگے ، ایسا کرنا خیانت ہے ۔ اور کوئی شخص پاخانہ و پیشاب کے دباؤ کیوقت نمانہ کے لئے کھڑا نہ ہو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ثوبان حسن ہے یہ حدیث بواسطه معاویه بن صالح ، سفر بن نسیر، یزید بن شریح ، ابوامامہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ، یزید بن شریح نے اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً روایت ہے بواسطہ ابوحی سوذن ، حضرت ثوبان کی روایت سے یزید بن شریح کی حدیث سند کے لحاظ سے اجود اور زیادہ مشہور ہے ۔،، (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۰؛ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْضَ الْإِمَام نفسه بالدُّعَاءِ ؛حدیث نمبر ٣٥٧)
مقتدیوں کے ناپسندیدہ امام کا حکم حضرت حسن فرماتے ہیں میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے فرمایا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے تین آدمیوں پر لعنت بھیجی ہے تو شخص کسی قوم کی امامت کرائے اور وہ اسے نہ چاہتے ہوں، وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوندہ اس سے ناراض ہو۔ اور وہ شخص جو حی علی الفلاح (اذان) سنے اور جواب نہ دے (یعنی نماز کے لئے حاضر نہ ہو ) اس باب میں حضرت ابن عباس ، طلحہ عبد اللہ بن عمرو اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس صحیح نہیں کیونکہ یہ حضرت حسن سے مرسلًا بھی مروی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں محمد بن قاسم کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے کلام کیا اور اسے ضعیف قرار دیا۔ اور وہ حافظ بھی نہیں، بعض علماء نے اس بات کو نا پسند کیا کہ کوئی شخص اس حالت میں امامت کرائے کہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں ۔ البتہ جب امام ظالم نہیں ہوگا تو گناہ ناپسند کرنیوالوں پر ہوگا امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں ایک یادو یا تین آدمیوں کاناپسندکرنا معتبر نہیں جب تک قوم ناپسند نہ کرے؛؛ عمرو بن حارث بن مصطلق فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ دو آدمیوں کو سب سے زیادہ عذاب ہوگا ۔ خاوند کی نافرمان عورت اور قوم کی پسند بغیر امامت کرنے والا ۔ جریر نے منصور کا قول نقل کیا کہ ہم نے امام کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا۔ اس سے مراد ظالم امام ہیں، اگر وہ سنت کو قائم رکھے گا تو گناہ ناپسند کرنے والوں پر ہوگا۔؛؛ ابو غالب کہتے ہیں میں نے ابو امامہ سے روایت سنی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں بڑھتی، بھاگا ہوا غلام جب تک واپس نہ آجائے وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو اور کسی قوم کا امام جسے وہ نا پسند کرتے ہوں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق حسن غریب ہے ابو غالب کا نام جزور ہے ۔؛؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۱ ؛ مَا جَاءَ مَنْ امَّ قَوْمًا وَهُم لَہ كَارِهُونَ ؛؛حدیث نمبر ٣٥٨ و حدیث نمبر ٣٥٩ و حدیث نمبر ٣٦٠)
امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر ہی پڑھیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر نیچے تشریف لے آئے اور زخمی ہو گئے تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی چنانچہ ہم نے بھی آپ کی اقتداء میں بیٹھ کر ہی نماز ادا کی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بے شک امام اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو ۔ جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو ۔ جب رکوع سے اٹھے تم بھی اٹھو۔ جب وہ ؛؛ سمع اللہ لمن حمدہ ؛؛ کہے تم " ربنا ولك الحمد ؛؛ کہو جب وہ سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ابو ہریرہ جابر ابن عمر اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام نے اس حدیث پر عمل کیا ان میں سے حضرت جابر بن عبدالله اسید بن حضیر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم بھی ہیں امام احمد اور اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ امام بیٹھ کر پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر پڑھیں، ان کی نماز بیٹھ کر جائز نہیں ، سفیان ثوری ، مالک بن انس ابن مبارک اور شافعی رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۲؛ مَا جَاءَ فِیْ إِذَا صَلَى الْاِمَامُ قَاعِدًا فَصَلُّوْا قُعُودًا ؛؛حدیث نمبر ٣٦١)
عنوان بالا کا دوسرا باب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے مرض وصال میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا فرمائی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح غریب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تم بھی بیٹھ کر ہی پڑھو۔ ام المومنین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وصال میں باہر تشریف لائے حضرت ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، آپ نے ایک پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا فرمائی، لوگ حضرت ابو بکر کی اقتداء کر رہے تھے جب کہ خود حضرت ابوبکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدی تھے حضرت عائشہ ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا فرمائی ،،، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وصال میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی اس وقت آپ نے ایک کپڑا بغلوں کے نیچے سے نکال دائیں بائیں ڈال رکھا تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث حسن صحیح ہے یحییٰ بن ایوب نے بواسطہ حمید حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے بواسطہ حمید کئی راویوں نے یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن اس میں ثابت کا واسطہ نہیں، جس روایت میں ثابت کا واسطہ ہے وہ اصح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۳؛ مِنْہُ حدیث نمبر ٣٦٢،و حدیث نمبر ٣٦٣)
امام کا دورکعتوں کے بعد بھول کر کھڑا ہوجانا شعبی فرماتے ہیں ہمیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ عنہ نے نماز پڑھائی ، دو رکعتوں کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے اس پر لوگوں نے ( سبحان اللہ ) کہا اور خود حضرت مغیرہ نے بھی؛؛ سبحان اللہ؛؛ کہا اختتام نماز پر سلام کے بعد آپ نے سہو کے دو سجدے کئے در آں حالیکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے پھر ان سے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (اس صورت میں) ایسا ہی کیا تھا جیسا عمل انہوں (حضرت مغیرہ ) نے کیا۔ اس باب میں حضرت عقبہ بن عامر ، سعد اور عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حضرت مغیرہ بن شعبہ سے کئی طرق سے مروی ہے ابن ابی لیلیٰ کے حفظ میں بعض علماء نے کلام کیا ہے امام احمد فرماتے ہیں ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ، امام بخاری فرماتے ہیں وہ صدوق تھے لیکن میں ان سے روایت نہیں کرتا کیونکہ وہ صحیح اور سقیم احادیث میں تمیز نہیں کرتے ۔ اور اس قسم کے تمام راویوں سے میں روایت نہیں کرتا ، یہ حدیث حضرت مغیرہ سے کئی طرق سے مروی ہے ، سفیان نے بواسطہ جابر مغیرہ بن شبیل، قیس بن حازم، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جابر جعفی کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے یحییٰ بن سعید عبد الرحمن بن مہدی و غیر ہمانے اس کو ترک کیا اس حدیث پر علماء کا عمل ہے کہ جب کوئی شخص دورکعتوں کے بعد( بلا تشہد) کھڑا ہو جائے تو وہ اپنی نماز جاری رکھے اور (آخر میں) سہو کے دو سجدے کر لے بعض کہتے ہیں سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے اور بعض کے نزدیک سلام کے بعد ہے جو سلام سےپہلے کے قائل ہیں انکی حدیث اصح ہے جسطرح کہ زہری اور یحییٰ بن سعید انصاری ہے۔ بواسطه عبد الرحمن اعرج ، عبد اللرین بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،، زیاد بن علاقہ کہتے ہیں ہمیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ دو رکعتوں کے بعد آپ کھڑے ہو گئے، اور واپس نہ بیٹھے پیچھے والوں نے ؛؛ سبحان الله " کہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ کھڑے رہو ۔ فارغ ہوئے تو آپ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا اور فرمایا رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ سے کئی طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۴؛ مَا جَاءَ فِی الإِمَامِ يَنْهَضُ فِی الركْعَتَيْنِ نَاسِيًا ؛؛حدیث نمبر ٣٦٤،و حدیث نمبر ٣٦٥)
پہلے قعدہ کا اندازہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے بعد ایسے بیٹھتے گویا کہ آگ میں گرم کئے ہوئے پتھر پر تشریف فرما ہیں (یعنی مختصر وقت)، شعبہ کہتے ہیں؛ پھر سعید نے اپنے ہونٹوں کو ہلایا میں نے کہا پھر کھڑے ہو جاتے ، سعد نے کہا ہاں پھر آپ کھڑے ہو جاتے ؛ امام ترمزی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے مگر ابو عبیدہ کو اپنے والد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں، پہلا قعدہ لمبا نہ کیا جائے، اور اس میں تشہد پر اضافہ نہ کیا جائے اگر اضافہ کر لیا تو سجدہ سہو لازم ہوگا، شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب۲۶۵ ؛ مَا جَاءَ فِی مِقْدَارِ الْقُعُودِ فِی الركعتينِ الْأَوَّلَيْنِ ؛؛حدیث نمبر ٣٦٦)
نماز میں اشارہ کرنا حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے اشارے سے جواب دیا ابن عمر فرماتے ہیں میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ صہیب نے فرمایا انگلی سے اشارہ کیا اس باب میں حضرت بلال ابوہریرہ انس اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا ؛؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں تمہارے سلام کا جواب کس طرح دیا کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاتھ سے اشارہ فرماتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حدیث صہیب حسن ہے ہم اسے صرف لیث بواسطہ بکیر کی روایت سے پہچانتے ہیں زید بن اسلم نے بھی حضرت ابن عمر سے روایت کیا فرماتے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب وہ مسجد بنی عوف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بحالت نماز سلام عرض کرتے تو آپ کس طرح جواب دیتے، انہوں نے فرمایا آپ اشارے سے جواب دیتے " امام ترمزی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں کیونکہ واقعہ صہیب اور واقعہ بلال دونوں الگ الگ ہیں اگر چہ حضرت ابن عمر ان دونوں سے روایت کرتے ہیں ہو سکتا ہے آپ نے ان دونوں سے سنا ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۶۶؛مَا جَاءَ فِی الإِشَارَةِ فِی الصَّلوة،حدیث نمبر ٣٦٧ و حدیث نمبر ٣٦٨)
مردوں کے لیے تسبیح اور عورتوں کے لیے ہاتھ پر ہاتھ مارنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد " سبحان اللہ ؛؛ کہہ کر اور عورتیں ہاتھ پر ہاتھ مار کر امام کو (بھول پر؛؛ مطلع کریں ؛اس باب میں حضرت علی ، سہل بن سعد، جابر، ابوسعید اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنیکی اجازت چاہتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ " سبحان اللہ ؛؛ فرماتے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛؛کتاب الصلوۃ ؛؛باب۲۶۷؛مَا جَاءَ أَنَّ التَّبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيْقَ لِلنِّسَآءِ ؛؛حدیث نمبر ٣٦٩)
نماز میں جمائی لینا مکروہ ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو روکنے کی کوشش کرے۔ اس باب میں حضرت ابو سعید خدری ، اور عدی بن ثابت کے دادا رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کی ایک جماعت نے نماز میں جمائی لینے کو مکر وہ کہا ہے ابراہیم فرماتے ہیں میں کھانسی کے ذریعے جمائی کو روکتا ہوں۔(جامع ترمذی شریف؛؛کتاب الصلوۃ ؛؛باب۲۶۸؛ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ التَّثَاوُبِ فِی الصَّلوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٧٠)
کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا ثواب زیادہ ہے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا ، کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے اور بیٹھنے والے کے لئے اس سے نصف ثواب ہے۔ حالت نیند میں نماز پڑھنے والے کے لئے بیٹھنے والے کے مقابلے میں نصف ہے اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر، انس، اور سائب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ابراہیم بن طہمان سے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ مروی ہے البتہ اس کے الفاظ مختلف ہیں اور وہ یہ ہیں عمران بن حصین فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیمار کی نماز کے بارے میں پوچھا آپنے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر (اشارے سے) پڑھو - ہناد نے بواسطہ وکیع اور ابراہیم بن طہمان، حسین معلم سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ کسی نے حسین معلم سے ابراہیم بن طہمان کی مثل روایت کی ہو ۔ ابو اسامہ اور دوسرے کئی راویوں نے حسین معلم سے عیسیٰ بن یونس کی روایت نقل کی ۔ علماء کے نزدیک یہ حدیث نفل نماز کے بارے میں ہے۔ حسن فرماتے ہیں، آدمی نفل نماز کھڑے ہو کر، بیٹھ کر ، اور لیٹ کر تینوں صورتوں میں) پڑھ سکتا ہے۔ بیمار اگر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں دائیں پہلو پر لیٹ کر پڑھے بعض کا قول ہے کہ پیٹھ کے بل لیٹ کر پاؤں قبلہ رخ کرے ، سفیان ثوری ،اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بیٹھنے والے کے لئے نصف ثواب اس صورت میں ہے ، جب صحیح اور غیر معذور ہو . اگر بیماری وغیرہ کے عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے ، تو اس کے لئے بھی اتنا ہی ثواب ہے جتنا کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے لئے ہے بعض احادیث میں اسی طرح ہے جس طرح سفیان ثوری نے فرمایا۔ (جامع ترمذی شریف؛؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۶۹؛ مَا جَاءَ أَنَّ صَلٰوةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِن صَلٰوةِ الْقَآئِمِ ؛؛حدیث نمبر ٣٧١ و حدیث نمبر ٣٧٢)
بیٹھ کر نفل پڑھنے کا حکم ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا ۔ البتہ آپ نے وصال مبارک سے ایک سال قبل (نوافل) بیٹھ کر پڑھنے شروع کئے اور سورت کو اس ترتیل سے پڑھتے کہ وہ قرآن پاک کی نہایت لمبی سورت سے بھی زیادہ طویل ہو جاتی ۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حفصہ حسن صحیح ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھتے ۔ جب قرأت سے تیس یا چالیس آیات باقی رہتیں کھڑے ہو جاتے قرآت فرماتے پھر رکوع میں جاتے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کہ شروع فرماتے پھر جب کھڑے ہو کر قرآت کرتے تو اسی حالت میں رکوع اور سجدہ بھی کرتے اور اگر قرآت بیٹھ کر فرماتے تو رکوع و سجدہ بھی اسی صورت میں کرتے امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں دونوں حدیثوں پر عمل ہے ، گویا کہ ان کے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور ان پر عمل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے اور اسی صورت میں قرآت کرتے ، جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں کھڑے ہو جاتے اسی حالت میں قرآت فرماتے اور رکوع و سجود بھی اسی صورت میں کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی یہی عمل فرماتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عبد اللہ بن شقیق فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا بعض اوقات آپ رات کو کھڑے ہو کر لمبی نماز پڑھتے اور بعض مرتبہ بیٹھ کہ طویل نماز ادا فرماتے جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو اسی حالت میں رکوع و سجود بھی کرتے اور بیٹھ کر قرآت ہوتی تو رکوع و سجدہ بھی اسی صورت میں فرماتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۷۰؛ فِیْ مَنْ يَتَطَوَّعُ جَالِسًا ؛؛حدیث نمبر ٣٧٣ و حدیث نمبر ٣٧٤ و حدیث نمبر ٣٧٥)
بوجہ عذر مختصر نماز پڑھنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز میں بچے کے رونے کی آواز سُنتا ہوں ، تو اس خوف سے نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ کہیں اس کی ماں فتنے میں نہ مبتلا ہو جائے اس باب میں حضرت ابوقتاده ، ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث انس حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۷۱؛ مَا جَاءَاَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَليہ وَسَلِّم َ قَالَ اِ نِّیْ لَاَسْمَعُ بُكَآءَ الصَّبِيِّ فِی الصَّلاةِ فَاُخَفِّفُ ؛؛حدیث نمبر ٣٧٦)
بالغہ عورت کی نماز کے لیے دو پٹہ ضروری ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی ، اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ عورت حب بالغ ہو جائے اور نماز پڑھے تو ننگے بالوں سے نماز جائز نہیں ہو گی ، امام شافعی کا یہی قول ہے ، وہ فرماتے ہیں عورت کے جسم سے کچھ حصہ بھی ننگا ہو نماز نہ ہوگی ، نیز آپ فرماتے ہیں اگر اس کے قدم کا پچھلا حصہ کھلا رہ جائے تو نماز ہو جائے گی۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ؛باب۲۷۲؛ مَا جَاءَ لَا تُقْبَلُ صَلوةُ الْحَائِضِ الَّا بِخِمَارٍ ؛؛ حدیث نمبر ٣٧٧)
نماز میں سدل مکروہ ہے نوٹ : رومال، مفلر اور چادر وغیرہ کو گلے میں اسطرح ڈالا جائے کہ دونوں سرے لٹک رہے ہوں اور ایک کنارہ دوسری طرف نہ ڈالا گیا ہو تو یہ سدل ہے اسیطرح کوٹ وغیرہ کو کاندھوں پر ڈالنا اور آسینوں میں بازو نہ ڈالنا بھی سدل ہے ۔ (مترجم) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ ، بواسطه عطاء صرف اسی سند یعنی عسل بن سفیان کی روایت سے معروف ہے علماء کا سدل کے بارے میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک نماز میں سدل مکروہ ہے وہ فرماتے ہیں یہ یہود کا طریقہ ہے بعض علماء فرماتے ہیں سدل اسی صورت میں مکروہ ہے جب اسپر ایک ہی کپڑا ہولیکن قمیض کے او پر ہوتو کوئی حرج نہیں امام احمد کا یہی قول ہے ابن مبارک کے نزدیک بھی نماز میں سدل مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۷۳؛ مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِيَةِ السَّدْلِ فِی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٧٨)
نماز میں کنکریوں کا ادھر ادھر کرنا مکروہ ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو کنکریوں کو ادھر ادھر نہ کرے کیونکہ رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں کنکریاں صاف کر نے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اگر ضروری ہو تو ایک مرتبہ کر لیا کرو امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اس باب میں حضرت علی بن ابی طالب، حذیفہ ، جابر بن عبد اللہ اور معیقیب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو ذر کی حدیث حسن ہے یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کنکریاں صاف کرنا مکروہ جانتے تھے ، اور آپ نے فرمایا اگر تیرے لئے ضروری ہے تو صرف ایک مرتبہ کر، گویا کہ آپ کی طرف سے ایک دفعہ کی اجازت ہے ، اور اس پر علماء کا عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛باب۲۷۴؛ مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِيَةِ مَسْحِ الحَصٰى في الصَّلٰوة ؛؛حدیث نمبر ٣٧٩،و حدیث نمبر ٣٨٠)
نماز میں پھونک مارنا منع ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ہمارے ایک افلح نامی غلام کو دیکھا کہ وہ سجدے میں پھونکیں مارتا ہے آپ نے فرمایا " اے افلح ! تیرا منہ خاک آلود ہو ، احمد بن منیع کہتے ہیں عباد بن عوام ، نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ جانتے تھے، اور فرماتے تھے ، پھونکنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں ہمارا بھی یہی مسلک ہے امام ترمذی فرماتے ہیں بعض نے ابو حمزہ سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں غلام کا نام " رباح » ذکر کیا گیا ہے ؛؛ حماد بن زید نے میمون ابو حمزہ سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی البتہ اس میں غلام کا نام ؛؛رباح؛؛ مذکور ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ام سلمہ کی سند کچھ نہیں اور میمون ابو حمزہ کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے نماز میں پھونکنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس صورت میں دوبارہ نماز پڑھے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی بات کے قائل ہیں بعض علماء کے نزدیک نماز میں پھونکنا مکروہ ہے؛ اس لیے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ، امام احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۷۵؛ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِی الصَّلوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨١ و حدیث نمبر ٣٨٢)
نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے بعض علماء کے نزدیک نماز میں اختصار مکروہ ہے اختصار کے معنی کو لہو پر ہاتھ رکھنا ہیں بعض علماء نے نماز کے علاوہ چلنے میں بھی اختصار کو مکروہ کہا، روایت ہے کہ شیطان اس طرح چلتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب۲۷۶؛ مَا جَاءَ فِی النَّهْيِ عَنِ الِْاخْتِصَارِفی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨٣)
نماز میں بالوں کا بندہا ہوا ہونا حضرت ابو رافع کا حضرت حسن بن علی پر گزر ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنے بالوں کو پچھلی طرف سے گوندھ رکھا تھا۔ ابو رافع نے بال کھول دیئے اس پر حسن نے غصہ کے ساتھ ان کی طرف دیکھا تو ابو رافع نے کہا نماز ادا کریں اور غصے نہ ہوں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا " یہ شیطان کا حصہ ہے اس باب میں حضرت ام سلمہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی رافع حسن ہے ، اور علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک نماز میں بالوں کا باندھا ہوا ہونا مکروہ ہے ، عمران بن موسیٰ قرشی مکی ہیں، اور ایوب بن موسیٰ کے بھائی ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛؛ کتاب الصلوۃ ؛؛ باب۲۷۷؛ مَا جَاءَ فِیْ كَرَاهِبَة ک٘نِ الشَّعْرِ فِی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨٤)
نماز میں خشوع حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز( نفل ) دو رکعتیں ہیں ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے ، خشوع، عاجزی، سکون اور اپنے رب کی طرف ہاتھوں کو اس طرح اٹھانا کہ ان کا اندرونی حصہ منہ کی طرف رہے اور پھر کہنا ( اے رب! جس نے ایسا نہ کیا وہ ایسا ہے ایسا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابن مبارک کے غیر نے کہا جس نے ایسا نہ کیا اس کی نماز ناقص ہے امام ترمذی فرماتے ہیں امام بخاری کا قول ہے کہ شعبہ نے اس حدیث کو عبد ربہ بن سعید سے روایت کرتے ہوئے چند جگہ خطاء کی۔ عمران بن ابی انہیں کی جگہ انس بن انیسں کہا ، عبد اللہ بن حارث کہا، حالانکہ عبد الله بن نافع بن عميا ، ربیعہ بن حارث، سے راوی ہیں ، اسی طرح شعبہ نے کہا عبد الله بن حارث نے بواسطہ مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جب کہ صحیح یہ ہے کہ ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب بواسطه فضل بن عباس ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں امام بخاری فرماتے ہیں ۔ لیث بن سعد کی حدیث ، حدیث شعبہ سے اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛؛کتاب الصلوۃ ؛؛باب۲۷۸؛ مَا جَاءَ فِی التَّخَشُّعِ فِی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨٥)
نماز میں تشبیک مکروہ ہے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کر کے مسجد کا قصد کرتے ہوئے باہر آئے تو ہرگز اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں نہ ڈالے ، امام ترمذی فرماتے ہیں کعب بن عجرہ کی حدیث کو کئی راویوں نے ابن عجلان سے حدیث لیث کی مثل روایت کیا ہے ، شریک نے محمدبن عجلان اور ان کے والد کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے ۔ حدیث شریک غیر محفوظ ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۷۹؛ مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ التَّشْبِيکِ بَيْنَ الْأَصَابِع فی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨٦)
طویل قیام حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسی نماز افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا طویل قنوت (لمبےقیام) والی نماز اس باب میں حضرت عبدالله بن حبشی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر، حسن صحیح ہے اور حضرت جابر بن عبد اللہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۸۰؛ مَا جَاءَ فِی طُولِ الْقِيَامِ فِی الصَّلٰوۃِ ؛حدیث نمبر ٣٨٧)
رکوع اور سجدہ کی کثرت معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان سے ملاقات کی اور پوچھا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع بخشے اور جنت میں داخل فرمائے حضرت ثوبان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا " سجدہ لازم پکڑو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا آپ فرماتے تھے جب کوئی شخص اللہ تعالے کے لئے سجدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سجدہ کے سبب اس کا درجہ بند کرتا اور گناہ مٹا دیتا ہے معدان کہتے ہیں پھر میں نے ابو داؤد سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا۔ جو ثوبان سے کیا تھا انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ سجدہ لازم پکڑو اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی ارشاد پاک سنا یا جو حضرت ثوبان نے بتایا تھا۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابو فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت ثوبان اور ابو درداء کی حدیث کثرت سجود کے بارے میں صحیح حسن ہے اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک طویل قیام افضل ہے جبکہ بعض رکوع و سجود کی کثرت کو افضل قرار دیتے ہیں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں قسم کی حدیثیں مروی ہیں چنا نچہ) امام احمد نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ امام اسحٰق فرماتے ہیں کہ دن کو لمبا قیام اور رات کو کثرت سے رکوع و سجود افضل ہیں سوائے اس کے کسی شخص نے عبادت کے لئے رات کا کچھ حصہ مقرر کر رکھا ہو۔ پس میرے ( امام اسحٰق ) کے نزدیک اس میں رکوع و سجود کی کثرت افضل ہے کیونکہ وہ وقت معینہ بھی پورا کرتا ہے اور رکوع وسجود کی کثرت سے مزید نفع بھی حاصل کرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں اور امام اسحٰق نے یہ بات اس لئے فرمائی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اسی طرح بیان کی گئی کہ آپ رات کو لمبا قیام فرماتے تھے ، لیکن دن کو طویل قیام کے بارے میں آپ سے کچھ منقول نہیں ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۸۱؛ مَا جَاءَ فِی كَثْرَةِ الرُّكوعِ وَالسُّجُودِ ؛؛حدیث نمبر ٣٨٨،و حدیث نمبر ٣٨٩)
نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو سیاہ (موزیوں) سانپ اور بچھو کو قتل کرنے کا حکم فرمایا ، اس باب میں حضرت ابن عباس اور ابو رافع رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ، امام احمد اور اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں ۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنا مکروہ ہے ، ابراہیم رحمت اللہ نے فرمایا (یہ) نماز میں شغل ہے پہلا قول اصح ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۸۲؛ مَا جَاءَ فِی قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِی الصَّلٰوةِ ؛حدیث نمبر ٣٩٠)
سلام سے پہلے سجدہ سہو عبد الله بن بحینہ اسدی (حلیف بنی عبد المطلب) سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں قعدے کی بجائے کھڑے ہو گئے جب آپ نماز پوری کر چکے تو دو سجدے کئے ہر سجدہ میں تکبیر فرمائی ۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابھی سلام نہیں پھیرا تھا۔ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدے کئے یہ سجدے اس بیٹھنے کے بدلے میں تھے جس میں بھول واقع ہوئی تھی ۔ اس باب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اور سائب فارسی رضی اللہ عنہما سلام سے پہلے سجدہ سہو کرتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن بحینہ حسن ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے ، اور امام شافعی رحمۃ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ، وہ فرماتے ہیں سجدہ سہو سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دیگر احادیث کے لئے ناسخ ہے نیز آپ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل اسی طرح تھا ۔ امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں جب کوئی شخص( بھول کر) دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کرے جس طرح حدیث ابن بحینہ کا تقاضا ہے ، عبد اللہ بن بحینہ کے والد کا نام مالک اور والدہ کا نام بحینہ ہے اس لئے یہ عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں مجھے اسحٰق بن منصور سے بواسطہ علی بن مدینی اسی طرح معلوم ہوا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں سجدہ سہو کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے سلام سے پہلے کیا جائے ، یا بعد میں ۔ بعض کے نزدیک سلام کے بعد کیا جائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ، ( امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کا یہی مسلک ہے) بعض علماء فرماتے ہیں سلام سے پہلے سجدہ کیا جائے اکثر فقہاء مدینہ اسی کے قائل ہیں مثلاً یحییٰ بن سعید اور ربیعہ وغیر ہما امام شافعی رحمتہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر نمازہ میں کچھ زیادتی ہوگئی ہو تو سلام کے بعد اور اگر نقصان ہوا ہو تو سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے ۔ مالک بن انس رضی اللہ عنہ کا یہی نظریہ ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں سجدہ سہو کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو جو روایتیں ہیں سب کو اپنے اپنے مقام پر رکھا جائے ، آپ فرماتے ہیں جب دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو تو حدیث ابن بحینہ پر عمل کرتے ہوئے سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے اگر ظہر کی نماز پانچ رکعتیں ادا کیں تو سلام کے بعد سجدہ کرے ظہر اور عصر میں دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے ہر ایک کو اپنے اپنے مقام پر رکھا جائے جس سہو میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کچھ بھی منقول نہیں وہاں سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا جاۓ امام اسحٰاق کا سجدہ سہو میں وہی نظریہ ہے جو امام احمد کا ہے البتہ آپ فرماتے ہیں جہاں کوئی روایت نہیں وہاں دیکھا جائے اگرنماز میں زیادتی واقع ہوئی تو سلام کے بعد اور اگر نقصان ہے تو سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۸۳؛ مَا جَاءَ فِی سَجَدَ تَیِ السَّهُوِ قَبلَ السَّلَامِ ؛؛حدیث نمبر ٣٩١)
سلام اور کلام کے بعد سجدہ سہو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں ادا فرمائیں عرض کیا گیا " کیا نماز میں اضافہ ہو گیا یا آپ سے بھول واقع ہو گئی اس کے بعد آپ نے سجدہ سہو فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام کرنے کے بعد سجدہ سہو فرمایا اس باب میں حضرت معاویہ عبداللہ بن جعفر اورابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت منقول ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد سجدہ سہو فرمایا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ایوب اور کئی دوسرے راویوں نے اسے ابن سیرین سے روایات کیا ہے حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے ، وہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھے ، جائز ہے آخر میں سجدہ سہو کرلے اگر چہ چوتھی رکعت کے بعد قعدہ نہ کیا ہو۔ امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں جب کسی نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں اور وہ چوتھی رکعت میں تشہد کی مقدار نہیں بیٹھا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، سفیان ثوری اور بعض اہل کونہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب ۲۸۴؛ مَا جَاءَ فِیْ سَجْدَتَىِ السَّهُوِ بَعدَ السَّلَامِ والكلام ؛؛حدیث نمبر ٣٩٢۔و حدیث نمبر ٣٩٣،و حدیث نمبر ٣٩٤)
سجدہ سہو میں تشہد حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور اس میں بھول واقع ہو گئی تو آپ نے سجدہ سہو کیا، پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیرا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ابن سیرین نے ابو قلابہ کے چچا ابو مہلب سے اس کے علاوہ روایت کیا ہے محمد بن سیرین نے اس حدیث کور خالد حذاء اور ابوقلابہ کے واسطہ سے ابو مہلب سے روایت کیا ابو مہلب کا نام عبد الرحمن بن عمرو ہے اور معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے ، عبد الوہاب ثقفی ہشیم اور دیگر کئی رواۃ نے بواسطہ خالد حذاء ، ابوقلابہ سے یہ حدیث طویل نقل کی ہے ، اور وہ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعتوں کے بعد سلام پھیرا ، تو ایک شخص جیسے خرباق (اور ذوالیدین بھی) کہا جاتا تھا کھڑا ہوا - الخ( الحدیث ) علماء نے سجدہ سہو کی تشہد میں اختلاف کیا ہے بعض فرماتے ہیں۔ تشہد پڑھ کر سلام پھیرتے اور بعض کا قول ہے کہ سجدہ سہو میں نہ تشہد ہے ، نہ سلام اور جب سلام سے پہلے سجدہ کریں تو تشہد نہ پڑھیں ۔ امام احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے دونوں فرماتے ہیں جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا تو تشہد نہ پڑھے۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب۳۸۵؛ مَا جَاءَ فِی التَّشَهُدِ فِیْ سَجْدَةِ السَّهُوِ ؛؛حدیث نمبر ٣٩٥)
نماز میں زیادتی اور کمی شک حضرت عیاض بن ہلال فرماتے ہیں میں نے ابو سعید سے پوچھا ؛؛ بعض اوقات ؛؛ ہمیں نماز پڑھتے ہوئے پتہ نہیں چلتا کہ کس قدر پڑھی ہے اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت ابوسعید نے فرما یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور یہ نہ معلوم ہو کہ کتنی پڑھی ہے ، تو اسے چاہیئے کہ بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے ۔ اس باب میں حضرت عثمان ، ابن مسعود، عائشہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی سعید حسن ہے اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی آپ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو ایک یا دورکعتوں میں شک ہو تو ایک ہی شمار کر لے اگر دو اور تین میں شک ہو تو دو شمار کرے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرلے امام ترمذی فرماتے ہیں اسی پر ہمارے اصحاب کا عمل سے بعض علماء فرماتے ہیں جب نماز میں شک ہو جائے اور یہ نہ معلوم ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو نماز دوبارہ پڑھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز میں آتا ہے اور اسے شک میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی رکعت پڑھی ہیں اگر ایسی صورت پیدا ہوجائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لیا کرو ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی بھول جائے اور اسے نہ معلوم ہو سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو دو ہی سمجھے اگر دو اور تین میں شک ہو تو دو ہی خیال کرے اگر تین اور چار میں شک ہو تو تین رکعات شمار کرے اور آخر میں سلام سے پہلے دو سجدے کرلے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت عبد الرحمٰن بن عون رضی اللہ عنہ سے اس طریق کے علاوہ بھی مروی ہے ، زہری نے بواسطہ عبید اللہ، عبداللہ بن عتبہ اور ابن عباس ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۸۶؛ فِیْمَنْ يَشُكُ فِی الزَّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ ؛حدیث نمبر ٣٩٦،و حدیث نمبر ٣٩٧،و حدیث نمبر ٣٩٨)
ظهر و عصر میں دورکعتوں کے بعد سلام پھیردینا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ تو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ کو نسیان ہوگیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ذوالیدین کی بات صحیح ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ؟ اس پر آپ نے کھڑے ہو کر دوسری دو رکعتیں بھی پڑھیں آخر میں سلام پھیرا اور تکبر کہکر سجدے میں تشریف لے گئے عام سجدے جتنا یا اس سے طویل سجدہ فرمایا پھر تکبیر کہکر سجدے سے سر اٹھایا اور پھر پہلے کی طرح دوسرا سجدہ بھی کیا اس باب میں حضرت عمران بن حصین ، ابن عمر، اور ذوالیدین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے علماء کا اس حدیث پر عمل کے بارے میں اختلاف ہے بعض اہل کوفہ کہتے ہیں جب نماز میں گفتگو کرلی چاہئے بھول کر نادانی سے یا جس طرح بھی ہو ، دوبارہ نماز پڑھے وہ فرماتے ہیں یہ حدیث ، نماز میں کلام کے ناجائز ہونے سے پہلے کی ہے، امام شافعی اس حدیث سے اصح ہے جس میں فرمایا گیا کہ بھول کرکھانا کھانے والے پر قضاء نہیں کیونکہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا۔ امام شافعی فرماتے ہیں ان علماء نے روزہ دار کے کھانے کے بارے میں حدیث ابوہریرہ کی بنا پر( جان بوجھ کر) اور نسیان کا فرق کیا ہے امام احمد حدیث ابو ہریرہ کے ضمن میں فرماتے ہیں اگر امام نے نماز میں کلام کیا اور وہ سمجھا کہ نماز مکمل ہو گئی ہے پھر معلوم ہوا کہ ابھی نماز مکمل نہیں ہوئی تو اس صورت میں نماز پوری کرے اور اگر مقتدی نے کلام کیا اور اسے معلوم ہے کہ اس کے ذمہ کچھ نماز باقی ہے تو اس کو چاہئے کہ نئے سرے سے شروع کرے امام محمد نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں فرائض کم اور زیادہ ہوتے رہتے تھے حضرت ذوالیدین کو کلام کرتے وقت یقین تھا کہ ان کی نماز مکمل ہو گئی ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے اور کسی کو اس معنی میں کلام کرنے کا حق نہیں جس کے تحت حضرت ذوالیدین نے کلام فرمایا، کیونکہ آج نہ تو فرائض میں زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کمی ۔ امام اسحٰق کا بھی یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۸۷؛ مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يُسَلِمُ فی الرکعَتَيْنِ من الظهر والعصر ؛؛حدیث نمبر ٣٩٩)
جوتوں سمیت نماز پڑھنا سعيد بن یزید ابو مسلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعلین مبارک پہنے نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ۔ اس باب میں حضرت عبد الله بن مسعود، عبد الله ابن ابی جیبه ، عبد الله بن عمرو عمرو بن حریث ، شداد بن اوس ، اوس ثقفی ، ابوہوریرا اور اور بنی شیبہ کے ایک آدمی عطاء سے بھی روایت مذکور ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۸۸؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلاةِ فِی النِّعَالِ ؛حدیث نمبر ٤٠٠)
صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے اس باب میں حضرت علی، انس ابو ہریرہ ابن عباس اور خفاف بن ایماء بن رخصة ، غفاری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمزی فرماتے ہیں حدیث براء حسن صحیح ہے صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض صحابه کرام و تابعین اس کے پڑھنے کے قائل ہیں ۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے ، امام احمد اور اسحٰاق فرماتے ہیں ، صبح کی نماز میں قنوت نہ پڑھی جائے، البتہ جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو امام کو چاہئے کہ وہ اسلامی لشکر کے لئے دعا مانگے. (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۸۹؛ مَا جَاءَ فِی الْقُنوتِ فِی صَلٰوةَ الْفَجْرِ ؛حدیث نمبر ٤٠١)
ترک قنوت ابو مالک اشجعی کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا ابا جان ! آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر صدیق عمر فاروق عثمان غنی کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں اور یہاں کوفہ میں حضرت علی بن ابی طالب کے پیچھے پانچ سال آپ نماز پڑھتے رہے کیا وہ قنوت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے ! یہ بدعت ہے "صالح بن عبد الله نےبواسطه ابوعوانہ ، ابو مالک اشجعی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے.،اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری فرماتے ہیں صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بھی اچھا ہے اور نہ پڑھنا بھی البتہ انہوں نے پڑھنے کو پسند فرمایا ہے امام مبارک کے نزدیک صبح کی نماز میں قنوت نہیں ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ابو مالک اشجعی کا نام سعد بن طارق بن اشیم ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۲۹۰؛ فِیْ تَرْكِ الْقُنُوْتِ ؛؛حدیث نمبر ٤٠٢،حدیث نمبر ٤٠٣)
نماز میں چھینک آنا معاذ بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔وہ فرماتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی مجھے نماز میں چھینک آئی تو میں نے پڑھا تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں بہت تعریف پاکیزہ اور با برکت تعریف جیسے ہی رب چاہے اور راضی ہو، نماز کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھےکی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ، نماز میں کون کلام کر رہا تھا ؟ کسی نے جواب نہ دیا آپ نے دوبارہ وہی سوال دہرایا پھر بھی جواب نہ ملا تیسری مرتبہ آپ نے پھر پوچھا تو رفاعہ بن رافع بن عفراء نے عرض کیا " یا رسول اللہ ! میں تھا ، آپ نے فرمایا " تو نے کیا کہا تھا ؟ فرماتے ہیں میں نے وہی کلمات دہرائے تو نبی کریم صل للہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تیس سے زائد فرشتوں نے ان کلمات کو اوپر لے جانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی، اس باب میں حضرت انس ، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں ، حدیث رفاعہ حسن ہے گویاکہ بعض علماء کے نزدیک یہ حدیث نوافل کے بارے میں ہے کیونکہ متعدد تابعین فرماتے ہیں جب فرض نماز میں چھینک آئے تو صرف دل سے شکر الہی بجا لائے ، اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ ؛ باب ۲۹۱؛مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يَعْطِسُ فِی الصَّلاة؛؛حدیث نمبر ٤٠٤)
نماز میں کلام کا منسوخ ہونا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں گفتگو کیا کرتے تھے ایک جگہ کھڑے ہوئے دو شخص باہم گفتگو کرتے پھر آیت کریمہ نازل ہوئی ؛؛ وقوموالِلَّلہِ قٰنیتین ؛؛اور اللہ کے لئے با ادب کھڑے ہو جاؤ ) اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، اور گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث زید بن ارقم ، حسن صحیح ہے اور اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر کلام کرے وہ دوبارہ نماز پڑھے۔ سفیان ثوری اور ابن مبارک اسی کے قائل ہیں بعض علماء فرماتے ہیں قصداً گفتگو سے اعادہ نماز ہے لیکن بھول اور لاعلمی کی بناپرگفتگو سے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۲۹۲؛ فِیْ نَسْخِ الْكَلامِ فِی الصَّلوةِ ؛؛حدیث نمبر ٤٠٥)
تو بہ کے وقت نماز حضرت اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں میں نے حضرت علی کرم اللّٰہُ وجہہ الکریم سے سنا آپ نے فرمایا ؛ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تواللہ تعالے مجھے جس قدر چاہتا نفع عطا فرماتا اور جب میں کسی صحابی سے حدیث سنتا تو اسے قسم دیتا اگر وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا (ایک مرتبہ ) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اور آپ نے سچ فرمایا، فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب کوئی شخص گناہ کرتے پھر با وضو ہو کر نماز پڑھے اور گناہوں کی بخشش مانگے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے پھر آپ نے آیت پڑھی " والذین اذافعلوا؛؛ الخ "" جو لوگ بے حیائی کا ارتکاب کریں یا اپنے ظلم پر نفس کریں پھر اللہ تعالے کو (یاد کریں) اس باب میں حضرت ابن مسعود ، ابودرداء ، انس ابو امامہ ، معاذ ، واثلہ اور ابولیسر ؛ کعب بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن ہے ، اور ہم اسے صرف اسی طریق یعنی عثمان بن مغیرہ کی روایت سے ہی پہچانتے ہیں شعبہ وغیرہ نے اسے آسمان سے ابو عوانہ کی حدیث کی مثل مرفوعاً روایت کیا ، سفیان ثوری اور مسعر نے اس کو موقوفًا روایت کیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچا یا مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۲۹۳؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلوةِ عِندَ التَّوْبَةِ ؛؛حدیث نمبر ٤٠٦)
بچے کو کتنی عمر میں نماز کا کہا جائے عبد الملک بن ربیع بن سبره بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بچے کو سات سال کی عمر میں نماز سکھاؤ اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر مارو - اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ،حدیث سبرہ حسن صحیح ہے ، اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں ، یہ دونوں فرمائے ہیں دس سال کی عمر کے بعد جتنی نمازیں ترک کرے " ان کی قضاء ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں، سبرہ سے مراد سبره ابن معبد جہنی ہیں ابن عوسجه بھی کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلاۃ ؛ باب ۲۹۴؛ مَا جَاءَ مَتَى يُؤْمَرُ الصَّبِيُّ بِالصَّلوةِ ؛حدیث نمبر ٤٠٧)
تشہد کے بعد بے وضو ہو جانا حضرت عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص آخری قعدہ میں سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہو جائے اس کی نماز جائز ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند قوی نہیں اس میں اضطراب ہے ، بعض علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں تشہد کا اندازہ بیٹھنے کے بعد سلام سے پہلے بے وضو ہو جائے تو نماز پوری ہو جائے گی ، بعض علماء فرماتے ہیں جب تشہد سے پہلے یا سلام سے پہلے بے وضو ہو جائے تو دوبارہ نماز پڑھے ، امام شافعی اسی کے قائل ہیں امام احمد فرماتے ہیں تشہد کے بغیر سلام پھیر لیا تو بھی جائز ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نماز کی تحلیل سلام ہے اور تشہد اس سے کم اہمیت رکھتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ نے نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں پڑھا، اسحٰق بن ابراہیم کا قول ہے کہ تشہد پڑھا لیکن سلام نہیں پھیرا تو بھی جائز ہے انہوں نے حضرت ابن مسعود کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد سکھا کر فرمایا اس سے فراغت پر آپ نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ، عبد الرحمن بن زیاد افریقی ہے اور اسے بعض محدثین، یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل وغیرہ ہما نے ضعیت کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب؛۲۹۵؛ مَا جَاءَ فِی الرَّجُلِ يُحْدِثُ بَعْدَالتشهد ؛؛حدیث نمبر ٤٠٨)
بارش کے سبب خیمہ میں نماز پڑھنا حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ بارش ہو گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہے خیمہ میں نماز پڑھ لے اس باب میں حضرت ابن عمر سمرہ ، ابو ملیح بواسطہ ان کے والد اور عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر ، حسن صحیح ہے اور علماء نے بارش اور کیچڑ کے سبب ، جماعت اور جمعہ کے ترک کی اجازت دی ہے۔ امام احمد اور اسحٰق اسی کے قائل ہیں ؛ میں ( امام ترمذی ) نے ابو زرعہ سے سناوہ فرماتے ہیں عفان بن مسلم نے عمر و بن علی سے حدیث روایت کی ، ابو ذرعہ کہتے ہیں میں نے بصرہ میں ان تینوں ، علی بن مدینی ، ابن شاذکونی ، اور عمر و بن علی سے بڑھ کر کسی کو زیادہ حفظ والا نہیں دیکھا ، ابوملیح بن اسامہ کا نام عامر ہے اور زید بن اسامہ بن عمیرہزلی بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب؛۲۹۶؛ مَا جَاءَ إِذَا كَانَ الْمَطَرُ فَالصَّلاةُ فی الرحال ؛حدیث نمبر ٤٠٩)
نماز کے بعد تسبیحات پڑھنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں فقراء کی ایک جماعت بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی " یارسول الله ! مالدار لوگ ہماری طرح نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں مزید برآں وہ مالدار ہونے کی وجہ سے غلام آزاد کرتے اور صدقات دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نماز پڑھ کر یہ کلمات کہو " سبحان اللہ؛ تینتیس (۳۳) مرتبہ؛ الحمد لله؛ تینتیس (۳۳) مرتبہ " اللہ اکبر چونتیس (۳۴) مرتبہ اور " لا الہ الا اللہ دس (۱۰) مرتبہ ۔ ان کلمات سے تم آگے بڑھنے والوں کا ثواب پالوگے اور پیچھے والے تم سے آگے نہ بڑھ سکیں گے ۔ اس باب میں کعب بن حجرہ ، انس عبد الله بن عمرو، زید بن ثابت ابودرداء ، ابن عمر اور ابو ذر رضی الہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن غریب ہے ، ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس مسلمان میں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ہر نماز کے بعد ۳۳ مرتبه «سبحان الله " ۳۳ مرتبہ، الحمداللہ" ۳۴ مرتبہ " اللہ اکبر ؛؛ کہنا اور سوتے وقت یہ تینوں کلمات دس دس مرتبہ کہنا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب؛۲۹۷؛ مَا جَاء فِی التَّسْبِيْحْ وإدْبَارِ الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٤١٠)
کیچڑ اور بارش میں سواری پر نماز پڑھنا عمرو بن عثمان بواسطه والد اپنے دادا یعلٰی بن مرہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک تنگ جگہ میں پہنچے ، جب نماز کا وقت ہواتواوپر سے بارش شروع ہوگئی، اور نیچے کیچڑ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر اذان دی اور اقامت کہی اپنے جانور پر کچھ آگے بڑھے اور اشارے سے نماز پڑھائی ، سجدے کے لئے رکوع سے ذرا زیادہ جھکتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ، عمرو بن رماح بلخی اس حدیث میں منفرد ہے ، اور کئی علماء نے اس سے روایت کیا ہے حضرت انس بن مالک کے بارے میں بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ نے پانی اور کیچڑ کے موقعہ پر سواری پر نماز پڑھی۔ علماء کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب ۲۹۸؛ مَا جَاءَ فِی الصَّلٰوةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِی الطِّيْنِ وَالْمَطَرْ ؛حدیث نمبر ٤١١)
نماز میں تکلیف اٹھانا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ پاؤں مبارک پھول گئے عرض کیا گیا ، کیا آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ آپ کے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دیئے گئے ، آپ نے فرمایا " کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؛؛اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث مغیرہ بن شعبہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب۲۹۹؛ مَا جَاءَ فِی الْإِجْتِهَادِ فِی الصَّلٰوةِ ؛؛حدیث نمبر ٤١٢)
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کی باز پرس ہوگی ، حریث بن قبیصہ کہتے ہیں میں مدینہ طیبہ آیا تو میں نے دعا مانگی " اے اللہ ! مجھے نیک ہم مجلس عطا فرما" فرماتے ہیں پھر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور کہا میں نے اللہ تعالٰی سے اچھے ہم نشین کا سوال کیا تھا (سوپالیا ) آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں تا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع عطا فرمائے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہوگا وہ نماز ہے اگر یہ صحیح ہوا تو کامیابی اور نجات ہے اور یہ ٹھیک نہ ہوا تو نا کام ہوا اور نقصان اٹھا یا اگر فرض نماز میں کچھ کمی رہ گئی تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے پھر اس سے فرض کی کمی پوری کی جائے گی پھر تمام اعمال کا یہی حال ہوگا ۔ اس باب میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ اس طریق سے حسن غریب ہے یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی دوسرے طریقوں سے بھی مروی ہے۔ بعض اصحاب حسن نے بواسطہ حسن قبیصہ بن ذویب سے اس حدیث کے علاوہ روایت کیا ہے مشہور قبیصہ بن حریث ہے ، انس بن حکیم اسی کے ہم معنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب۳۰۰؛ مَا جَاءَ انَ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ العبد يوم القيمة الصلوة ؛حدیث نمبر ٤١٣)
دن رات میں بارہ سنتوں کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بارہ سنتوں کی پابندی کی اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں مکان بنائے گا ( تفصیل یہ ہے) چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں، اس کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دورکعتیں فجر سے پہلے ۔ اس باب میں حضرت ام حبیبہ ابوہریرہ ، ابو موسیٰ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں، حدیث عائشہ ، اس طریق سے غریب ہے اور مغیره بن زیاد کے تحفظ میں بعض علماء نے کلام کیا ہے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں (سنت) ادا کرے اس کے لئے جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ۔ چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں آئندہ صبح کی نماز سے پہلے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں، بواسطه عنبسہ ام حبیبہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے ، عنبسہ سے یہ کئی طریقوں سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ؛باب۳۰۱؛ مَا جَاءَ فِی مَنْ صَلّٰى فِی یَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَیْ عَشرةَ رَكَعَة مِنَ السُّنَةِ مَالَہُ مِنَ الْفَضْلِ ؛؛حدیث نمبر ٤١٤،و حدیث نمبر ٤١٥)
سنت فجر کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بہتر ہیں ۔ اس باب میں حضرت علی ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عائشہ حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل نے صالح بن عبد الله ترمذی سے بھی اسے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۳۰۲؛ مَا جَاءَ فِی رَكَعَتِيَ الْفَجْرِ مِنَ الْفَضْلِ ؛حدیث نمبر ٤١٦)
صبح کی سنتوں میں اختصار قراءت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں ایک مہینے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ملاحظ کرتا رہا، آپ صبح کی سنتوں میں " قل یا ایہا الکفرون" اور قل ہو اللہ احد " پڑھتے تھے ۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود انس، ابوہریرہ، ابن عباس ، حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر، حسن ہے اور ہم اسے بواسطه سفیان ثوری ، ابو اسحٰق سے صرف ابواحمد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ لوگوں میں ابو اسحٰق سے اسرائیل کی روایت معروف ہے ، بواسطہ ابو احمد ، اسرائیل سے یہ حدیث بھی مروی ہے ابواحمد زبیری ثقہ حافظ ہیں میں (امام ترمزی) نے بندار سے سنا فرماتے ہیں میں نے ابو احمد زبیری سے بہتر حفظ والا کوئی نہیں دیکھا ان کا نام محمد بن عبد اللہ زبیری اسدی کوفی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۰۳؛ مَا جَاءَ فِی تَخْفِيفِ ركعتی الفجرِ والقراءة فيهما ؛حدیث نمبر ٤١٧)
سنت فجر کے بعد گفتگو کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتیں پڑھ کر اگر " مجھ سے کوئی کام ہوتا تو کلام کرتے ، ورنہ نماز کے لئے تشریف لے جاتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین نے ذکر اللہ اور ضروری گفتگو کے علاوہ طلوع فجر کے بعد فرض پڑھ کر گفتگو کو مکروہ کہا ہے ۔ امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۰۴؛ مَا جَاءَ فِی الْكَلَامِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ؛حدیث نمبر ٤١٨)
صبح صادق کے بعد صرف دو رکعتیں ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، طلوع فجر کے بعد صرف دو رکعتیں نماز ہے ۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر غریب ہے اور ہم اسے قدامہ بن موسیٰ کی روایت سے پہچانتے ہیں ان سے کئی راوی روایت کرتے ہیں، اس مسئلے پر علماء کا اجماع ہے کہ طلوع فجر کے بعد صبح کی دو رکعتوں سے زائد پڑھنا مکمروہ ہے ، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد صرف صبح کی دو رکعتیں ، (سنتیں ) ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۰۵؛ مَا جَاءَ لَا صَلٰوةَ بَعدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ اِلاَّ ركْعَتين ؛حدیث نمبر ٤١٩)
صبح کی سنتیں پڑھ کر لیٹ جانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم سے کوئی صبح کی سنتیں پڑھ لے تو اسے (کچھ دیر) دائیں پہلو پر لیٹ جانا چاہیئے۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ جب کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتیں گھر میں پڑھتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے ، بعض علماء نے اسے مستحب کہا ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۰۶؛ مَا جَاءَ فِی الْأِضْطِجَاءِ بَعْدَ رَ كَعتيَ الْفَجْرِ ؛؛ حدیث نمبر ٤٢٠)
جماعت کھڑی ہو تو دوسری کوئی نماز جائز نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہو اس وقت صرف فرض نماز ہی پڑھی جاسکتی ہے اس باب میں حضرت بحینہ ، عبداللہ بن عمرو ، عبد الله بن سرجس ، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ حسن ہے اور اسی طرح ایوب وورقاء بن عمر، زیاد بن سعد ، اسمعیل بن مسلم ، اور محمد بن حجاده نے بواسطه عمر و بن دینار اور عطاء بن یسار ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے حماد بن زیاد اور سفیان بن عینیہ نے بھی عمرو بن دینار سے غیر مرفوع روایت نقل کی ہے ۔ مرفوع حدیث ہمارے نزدیک اصح ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث دیگر کئی طریقوں سے بھی مروی ہے عیاش بن عباس قتبائی نے اسے بواسطہ ابو سلمہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اس حدیث پر صحابہ کرام اور تابعین کا عمل ہے ، کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے اس وقت فرضوں کے سوا دوسری کوئی نماز نہ پڑھی جائے ، سفیان ثوری، ابن مبارک ، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحٰق کا یہی قول ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۳۰۷؛ مَا جَاءَ إِذَا أَقِيمَتِ الصَّلٰوةُ فَلَا صلٰوةَ إلاَّ الْمَكْتُوْبَةْ ؛ حدیث نمبر ٤٢١)
فرضوں کے بعد سنت فجر کی قضاء کا حکم محمد بن ابراھیم اپنے دادا حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جماعت کھڑی ہوئی تو میں نے بھی آپ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی پھر جب حضور نے پلٹ کر دیکھا تو میں نماز پڑھ رہا تھا ،آپ نے فرمایا ٹھر جا اے قیس ! دو نمازیں اکٹھی ؟ میں نے عرض کیا ،، یا رسول اللہ ! میں فجر کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکتا تھا آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث محمد بن ابراھیم اسی طرح صرف سعد بن سعید کی روایت سے معروف ہے ، سفیان بن عینیہ کہتے ہیں عطاء بن ابی رباح نے سعد بن سعید سے سنی ہے یہ حدیث مرسل روایت کی گئی ہے اہل کوفہ میں ایک جماعت کا اس حدیث پر عمل ہے کہ وہ صبح کی قضاء شدہ سنتوں کو فرضوں کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں سعد بن سعید ، یحیٰی بن سعید انصاری کے بھائی ہیں اور حضرت قیس ، یحییٰ بن سعید کے دادا ہیں کہا جاتا ہے وہ قیس بن عمرو ہیں اور قیس بن قہب بھی کہا جاتا ہے اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے ، محمد ابراہیم تمیمی کو حضرت قیس سے سماع حاصل نہیں ہے ، بعض محدثین نے حدیث سعد بن سعید کے واسطہ سے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپنے قیس کو دیکھا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ؛باب ۳۰۸؛ مَا جَاءَ فِی مَنْ تَفُوتُهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ يُصَلِيهِمَا بَعْدَ صَلٰوةِ الصُّبْحِ ؛؛ حدیث نمبر ٤٢٢)
صبح کی فوت شدہ سنتیں طلوع آفتاب کے بعد پڑھنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کی سنتیں نہ پڑھی ہوں، طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لے امام ترمذی فرماتے ہیں اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا بعض علماء کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اسحٰق اور ابن مبارک اسی کے قائل ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں عمر و بن عاصم کلابی کے سوا کوئی دوسرا راوی ہمیں معلوم نہیں جس نے ہمام سے یہ حدیث اسی کے سند کے ساتھ روایت کی ہو "قتادہ کی روایت بواسطہ نضربن انس ، بشیر بن نھیک اور حضرت ابوہریرہ، معروف ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے صبح کی نماز سے ایک رکعت سورج کے چڑھنے سے پہلے پا لی ، اس نے صبح کی نماز پالی۔ ف: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صبح کی سنتیں قضاء ہو جانے سے نفل بن جاتی ہیں چاہے تو طلوع آفتاب کے بعد پڑھے چاہے نہ پڑھے (مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ؛باب ۳۰۹؛ مَا جَاءَ فِیْ اِعَا دَتِهِمَا بَعْدَ طُلُوعِ الشمس ؛؛حدیث نمبر ٤٢٣)
ظہر سے پہلے چار سنتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دور کعتیں (سُنت) پڑھا کرتے تھے ، اس باب میں حضرت عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن ہے ، سفیان فرماتے ہیں ہم حارث کی حدیث سے پھر عاصم بن ضمرہ کی حدیث کی فضیلت جانا کرتے تھے ۔ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے وہ اسے پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں رات اور دن کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں ہر دو رکعت کے درمیان فصل ہے امام شافعی اور امام احمد اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۱۰؛ مَا جَاءَ فِی الأَربَعِ قَبْلَ الظُّهر؛حدیث نمبر ٤٢٤)
ظہر کے بعد دو رکعتیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو رکعتیں (نفل ) ظہر سے پہلے اور دو سنتیں بعد میں پڑھیں اس باب میں حضرت علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۳۱۱؛ مَا جَاءَ فِی الرَّكْعَتَيْنِ بَعدَ الظُّهْرِ ؛حدیث نمبر ٤٢٥)
ظہر کی چار سنتیں رہ جائیں تو فرضوں کے بعد پڑھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی ظہر سے پہلے چار سنتیں نہ پڑھتے تو انہیں بعد میں پڑھ لیتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے ابن مبارک سے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں، قیس بن ربیع نے بواسطہ شعبہ، خالد حذاء سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے ، شعبہ سے قیس بن ربیع کے سوا دوسرا کوئی راوی ہمیں معلوم نہیں، عبد الرحمن بن ابی لیلٰے سے بھی اسی کے ہم معنی روایت مرفوعاً منقول ہے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور چار رکعتیں ( دوسنت دو نفل) اس کے بعد پڑھیں اللہ تعالٰی ا سے آگ پر حرام کر دیگا امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن غریب ہے، اور دوسری طریقوں سے بھی مروی ہے۔ عنبسہ بن سفیان کہتے ہیں میں نے اپنی ہمشیرہ ام المومنين ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ فرماتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعت کی حفاظت کی اس پر جہنم کی آگ کو حرام کیا گیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ، اور قاسم عبدالرحمٰن کے صاحب زادے ہیں ان کی کنیت ابو عبدالرحمن ہیں اور وہ عبدالرحمن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے غلام ہیں ثقہ ہیں ، شامی ہیں، اور ابو امامہ کے شاگرد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۱۲؛ مِنْہُ آخَرُ ؛ حدیث نمبر ٤٢٦،و حدیث نمبر ٤٢٧ و حدیث نمبر ٤٢٨)
عصر سے پہلے چار سنتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں ادا فرماتے تھے۔ اور ان میں ایک سلام کے ذریعے فصل کیا کرتے تھے یہ سلام مقربین فرشتوں اور ان کے متبعین مسلمانوں اور مومنوں کے لئے ہوتا ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی روایات ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی حسن ہے اور اسحٰق بن ابراہیم نے ان کے درمیان فصل کو پسند نہیں کیا اور اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں سلام سے مراد تشہد ہے امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک دن اور رات کی دو دو رکعتیں ہیں اور ان میں فصل کرنے کو وہ پسند کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عصر سے پہلے چار سنتیں پڑھنے والے پر الله تعالے رحم فرمائے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث غریب حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۱۳؛ مَا جَاءَ فِی الْأَرْبَعِ قَبلَ الْعَصْرِ ؛حدیث نمبر ٤٢٩ و حدیث نمبر ٤٣٠)
مغرب کی سنتیں اور ان کی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دو رکعتوں اور صبح کی سنتوں میں " سورہ کافرون " اور "سورہ اخلاص" پڑھتے ہوئے سنا ۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن مسعود ، حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عبد الملک بن معدان کی روایت سے جانتے ہیں ، انہوں نے عاصم سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب۳۱۴؛ مَا جَاءَ فِی الرَّكْعَتَيْنِ بَعَدَ المَغْرِبِ والقرأة فيهما ؛حدیث نمبر ٤٣١)
مغرب کی سنتیں گھر میں پڑھنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب کے بعد کی دو رکعتیں گھر میں پڑھیں ۔ اس باب میں حضرت رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے ،، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جو آپ دن رات میں پڑھا کرتے تھے دور کعتیں ظہر سے پہلے اور دو بعد میں ، دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان فرمایا ، کہ آپ دو رکعتیں فجر سے پہلے بھی پڑھتے تھے یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم معنی مرفوع حدیث نقل کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، (جامع ترمذی شریف ؛ کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۱۵؛ مَا جَاءَ أَنَّہُ يُصَلِيهِمَا فِي الْبَيْتِ ،حدیث نمبر ٤٣٢،و حدیث نمبر ٤٣٣،و حدیث نمبر ٤٣٤)
مغرب کے بعد چھ نفلوں کا ثواب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص مغرب کے بعد چھ نفل اس طرح پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے اس کے لئے یہ نوافل بارہ سالوں کی عبادت کے برابرہ شمار ہوں گئے امام ترمذی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مغرب کے بعد بیس رکعات پڑھیں ، اللہ تعالے اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ غریب ہے اور ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے پہچانتے ہیں جسے انہوں نے عمر بن ابی خثعم سے روایت کیا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے محمد بن اسمعیل بخاری سے سنا انہوں فرمایا عبداللہ بن ابی خثعم منکر حدیث ہے اور آپ (امام بخاری) نے اسے بہت ضعیف قراریا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاہ ؛ باب ۳۱۶؛ مَا جَاءَ فِی فَضْلِ التَّطوع وَسِتِّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ المغرب ؛ حدیث نمبر ٤٣٥)
عشاء کے بعد کی دو رکعات عبد الله بن شقیق فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا؛ آپ ظہر سے پہلے اور بعد دو دو رکعتیں مغرب کے بعد دو ، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ اس باب میں حضرت علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں عبداللہ بن شقیق کی حضرت عائشہ سے نقل کردہ روایت حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب ۳۱۷؛ مَا جَاءَ فِی الرَّكْعَتَيْنِ بَعْد الْعِشَآءِ ؛حدیث نمبر ٤٣٦)
رات کے نوافل دو دو ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز (نفل) دو دو رکعتیں ہیں ۔ اور جب صبح ہونے لگے تو ایک اور ملاکر وتر بنالے اور (اس طرح) وتروں کو رات کی آخری نماز بنالے۔ اس باب میں حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے اور اس پر علماء کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو کر کے پڑھی جائے سفیان ثوری، ابن مبارک شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف ؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۱۸؛ مَا جَاءَ أَنَّ صَلٰوةَ اللَّيْلِ مَثْنٰى مَثْنٰى ؛ حدیث نمبر ٤٣٧)
رات کی نماز کی فضیلت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ رمضان شریف کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد بہترین نماز ، رات کی نماز ہے ۔ اس باب میں حضرت جابر، بلال اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابی ہریرہ سیدہ حسن ہے ابو بشر کا نام جعفر بن ایاس ہے اور وہ جعفر بن ابی وحشیہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلوۃ ،باب ۳۱۹ ؛ مَا جَاءَ فِی فَضْلِ صَلٰوةِ اللَّيْلِ ؛؛ حدیث نمبر ٤٣٨)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ابواسامہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان شریف کی نماز کس طرح ہوتی تھی ؟ آپ نے فرمایا ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں رات کو گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے،( آٹھ نفل تین وتر) چار رکعتیں نہایت عمده اور طویل پھر چار نہایت عمدہ اور طویل اور پھر تین رکعتیں وتر ام المؤمنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ، اۓ عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتا ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ف : یہ گیارہ رکعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سال بھر کا معمول تھا صرف رمضان کا نہیں جس طرح ام المؤمنین نے فرمایا اس لیے اس سے آٹھ تراویح ثابت کرنا صحیح نہیں، (مترجم ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھتے ، اور ایک ملا کر انہیں وتر بنا دیتے ، جب ان سے فارغ ہوتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے ۔ قتیبہ نے مالک بن شہاب سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاۃ ؛باب ۳۲۰؛ مَا جَاءَ فِي وَصْفِ صَلٰوةِ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَم بِاللَّيْل ؛حدیث نمبر ٤٣٩ و حدیث نمبر ٤٤٠ و حدیث نمبر ٤٤١)
رات کو تیرہ رکعات پڑھنا حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہا فرماتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھتے تھے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ جامع ترمذی شریف ، کتاب الصلوۃ ، باب ۳۲۱؛ مِنْہُ ؛؛حدیث نمبر ٤٤٢)
نو رکعات پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھا کرتے تھے. اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، زید بن خالد اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں ، امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ اس طریق سے حسن غریب ہے ،، سفیان ثوری نے اعمش سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے اس کی سند یہ ہے محمود بن غیلان بواسطہ یحییٰ بن آدم و سفیان اعمش سے راوی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز زیادہ سے زیادہ تیرہ رکعتیں )وتروں کو ملاکر) اور کم از کم نورکعات مع وتر منقول ہیں؛؛ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں اگر کبھی حضور علیہ السلام رات کو نیند کے غلبہ کی وجہ سے نماز (تہجد) نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعات پڑھتے ، امام ترمذی فرماتے ہیں ، یہ حدیث حسن صحیح ہے ؛؛ حضرت بہنر بن حکیم کہتے ہیں زراہ بن اوفٰی بصرہ کے قاضی تھے اور بنی قشیر کی امامت کرتے تھے، ایک دن آپ نے صبح کی نماز میں آیت کر یمہ" فاذا نقر فی الناقور الخ الایہ ؛؛ پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ بڑا تنگی کا دن ہوگا، پڑھی تو روح پرواز کر گئی اور آپ گر پڑے، بہنر بن حکیم فرماتے ہیں میں بھی ان کو اٹھانے والوں میں تھا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں سعد بن ہشام ، عامر انصاری کے بیٹے ہیں اور ہشام بن عامر صحابی تھے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلاہ؛باب ۳۲۲؛ مِنْہُ ؛حدیث نمبر ٤٤٣ و حدیث نمبر ٤٤٤ و حدیث نمبر ٤٤٥)
اللہ تعالٰے ہر رات خاص توجہ فرماتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر رات اللہ تعالیٰ کی (خاص ) رحمت ، رات کی پہلی تہائی کے آخر تک اترتی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اسے قبول کروں کون ہے جو مانگے اسے عطا کروں کون ہے جو بخشش مانگے اسے بخش دوں۔ صبح صادق تک یہی کیفیت رہتی ہے اس باب میں حضرت علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی جبیر بن مطعم ابن مسعود ، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے ، حضرت ابو ہریرہ سے کئی دوسرے طریقوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا آخری تہائی باقی رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ ؛باب ۳۲۳؛ مَا جَاءَ فِی نُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُل لَيْلَةٍ ؛حدیث نمبر ٤٤٦)
رات کی قرأت حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا ، میں آپکے پاس سے گزرا اور آپ پست آواز سے قراءت کر رہے تھے انہوں نے عرض کیا ، میں اسکو سناتا تھا جس سے محو گفتگو تھا، آپنے فرمایا کچھ اونچا رکھو۔ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ سے فرمایا میں آپکے پاس سے گزرا تو آپ بآواز بلند قراءت کر رہے تھے ، انہوں نے عرض کیا ، میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں آپ نے فرمایا کچھ پست رکھو۔ اس باب میں حضرت عائشہ ، ام ہانی ، انس ، ام سلمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں؛؛ حضرت عبد اللہ بن ابی قیس نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی قرأت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا دونوں قسم کی قرآت ہوتی تھی بسا اوقات آپ پست آواز سے پڑھتے اور بعض اوقات بلند آواز سے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس مسئلے میں گنجائش رکھی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی قتادہ غریب ہے اور اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند روایت کیا جبکہ اکثر راویوں نے بواسطہ ثابت ، عبد اللہ بن رباح سے مرسل روایت کیا ہے ،،، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) رات کو صرف ایک آیت کے ساتھ ہی قیام فرمایا ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے ؛؛؛ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الصلوۃ؛باب ۳۲۴؛ مَا جَاءَ فِی قِرَاءَةِ اللَّيْلِ ؛؛حدیث نمبر ٤٤٧ و حدیث نمبر ٤٤٨ و حدیث نمبر ٤٤٩)
میں نفل پڑھنے کی فضیلت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا فرضوں کے سواء افضل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ۔ اس باب میں حضرت عمر بن خطاب ، جابر بن عبد الله ، ابوسعيد ابو ہریرہ ، ابن عمر، عائشہ ، عبد الله بن سعد اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہم سے بھی روایت مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث زید بن ثابت حسن ہے اس حدیث کی روایت میں اختلاف ، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر نے مرفوعاً روایت کیا جب کہ بعض نے موقوف روایت کی ۔ مالک نے ابو نضر سے موقوفاً روایت کی ہے حدیث مرفوع اصبح ہے ؛؛ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛ کتاب الصلاۃ ، باب ۳۲۵؛ مَا جَاءَ فِی فَضْلِ صَلٰوةِ التَّطَوُّعِ فی الْبَيْتِ ؛حدیث نمبر ٤٥٠ و حدیث نمبر ٤٥١)
Tirmizi Shareef : Abwabus Salat
|
Tirmizi Shareef : أبواب الصلاة
|
•